سکوت قسط نمبر:۵
ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔
اسلام آباد
شام آہستہ آہستہ اسلام آباد کو اپنے حصار میں لے رہی تھی، فضا میں سرد ہواؤں کی لہریں ایک خوشگوار ساز پیدا کر رہی تھیں۔
وہ پورے وقار کے ساتھ ایک ایک قدم لیتا، حاکم ہائی رائز کی اس شاندار عمارت سے باہر جا رہا تھا۔
ایک ہاتھ میں فون پکڑے وہ میسج ٹائپ کر رہا تھا، جبکہ دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں تھا۔
“سر، آپ اے جی ڈی اے کمپنی کے ساتھ پروجیکٹ کینسل کر رہے ہیں؟”
ساتھ چلتے عزیز نے مؤدب انداز میں پوچھا۔
“بلکل،” وہ مصروف سے انداز میں جواب دیتا، پارکنگ ایریا میں آتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
عزیز ایک پل کے لیے تو رک کر اس کی پشت کو گھور کر رہ گیا، مگر اگلے ہی پل دوبارہ سے اس کے پیچھے چل پڑا۔
“سر، ریسن بھی تو ہو گا نا کوئی؟”
مرزا حاکم اس کی آواز پر ضبط سے آنکھیں میچ لیتے ہے ، لیکن پھر گہرا سانس لیتے ہوئے، وہ چہرے پر مسکراہٹ لیے پلٹتا ہے۔
“آئی ایم ریلی سوری عزیز سر، میں آپ کو ریسن نہیں بتا سکتا کیونکہ میرا دل نہیں چاہ رہا۔ اب اگر آپ کی اجازت ہو تو میں گھر جاؤں؟”
عزیز اس کی بات سنتا، گڑبڑ کر پیچھے ہوا۔
“نہیں نہیں، سر، آپ جائیں،” وہ شرمندگی سے سر جھکاتا، پلٹ گیا۔
جبکہ مرزا گاڑی کا پیچھلا دروازہ کھول کر اندر براجمان ہوا تو ڈرائیور نے گاڑی باہر کے راستے پر موڑی۔
مرزا حاکم نے موبائل کوٹ کی جیب میں رکھ کر دو انگلیوں سے کنپٹی مسلی ، یہ عزیز اسی طرح اکثر دماغ چاٹ جاتا تھا ۔
مرزا نے سر سیٹ کی پشت سے لگائے آنکھیں موند لی تو بند آنکھوں پر ایک منظر لہرایا: صبح کا منظر۔
میٹنگ روم میں بیٹھے دس لوگوں میں گیارہواں مرد مرزا حاکم تھا، جس کی اس کمپنی کے ساتھ میٹنگ تھی۔
پہلے پہل تو مرزا اس کمپنی کے ساتھ کام کرنے پر راضی نہیں ہوا، پر جب رحمان صاحب نے بہت اصرار کیا تو وہ راضی ہو گیا۔
مگر شرط تھی کہ پہلے وہ آئے گا اور آپ کے کام کرنے کے طریقے کا مشاہدہ کرے گا۔
اگر فوائد نظر آئیں تو ٹھیک، ورنہ انکار۔
اب اسی وجہ سے یہ میٹنگ ارینج کی گئی تھی اور اب وہ بغیر کسی دلچسپی کے، سنجیدہ نظروں سے شعیب صاحب کی باتیں سن رہا تھا۔
بلیک تھری پیس سوٹ پہنے ، ٹانگ پر ٹانگ چھڑائے، ایک ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھے اور بے زاری کے ساتھ آرام آرام سے ٹانگ جھلاتے، وہ کسی تاثر کے بغیر سامنے سکرین کو یا کبھی شعیب کو دیکھ رہا تھا، جو بھرپور انرجی کے ساتھ مرزا حاکم کو راضی کرنے میں جتا ہوا تھا۔
جبکہ رحمان صاحب کچھ پریشان تاثر لیے بیٹھے تھے، ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں جمیں تھیں۔
پورے روم میں صرف شعیب صاحب کی آواز گونج رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلا۔
سب کی گردنیں بیک وقت دروازے کی جانب مڑی، سوائے مرزا حاکم کے، مگر وہ دیکھ سکتا تھا کہ آنے والے کو دیکھ کر سب کی رنگت اڑی تھی۔
بلاک ہیل کی ہلکی مدھم آواز کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی اور مرزا حاکم کے ساتھ سے گزری۔
مرزا نے اس کی پشت دیکھی، اسے لڑکی کی پشت پر بکھرے بال نظر آئے، لمبے سیدھے بال۔
اچانک وہ مڑی، مرزا حاکم نے تاثرات تبدیل نہ کیے، البتہ مسلسل جھلاتی ٹانگ کو بریک لگی تھی ۔
“مس صاحبہ، آپ کے یوں مداخلت کرنے کی وجہ جان سکتے ہیں ہم؟”
اب اس سے مداخلت کی وجہ پوچھی جا رہی تھی اور وہ آہستہ آہستہ لب ہلاتی جواب دے رہی تھی۔
مرزا حاکم نے اس کے لہجے میں اطمینان دیکھا، کسی کو آرام سے ڈھیر کر دینے کا اطمینان۔
وہ اپنا چار سالہ سفر بتا رہی تھی…
وہ شعیب کے کارنامے سامنے رکھ رہی تھی…
وہ الطاف کی سیاہ کاریوں سے سب کو آگاہ کر رہی تھی۔
مرزا حاکم کی نظریں اس کے چاند کی طرح دمکتے چہرے پر ٹکی باغور اس کا جائزہ لے رہیں تھی ۔
وہ سامنے بیٹھی عورت کو جواب دے رہی تھی، مرزا حاکم کو اس کا مصنوعی معصومیت والا انداز اپنانا ناجانے کیوں بھایا تھا۔
اور اب وہ میز پر جھکی، ان سب کو ان کی اوقات یاد دلا رہی تھی… رحمان صاحب کو چیلنج کر رہی تھی۔
یک دم صاحبہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری:
“جب میری خاموشی ٹوٹتی ہے تو تخت لرز جاتے ہیں!”
اور یہاں پر مرزا حاکم اس کی شیطانی مسکراہٹ دیکھ کر مدھم سا مسکرایا۔
آہ… سامنے کھڑی لڑکی، آخر کیا چیز تھی؟ مرزا حاکم دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا، وہ پہلی بار کسی لڑکی کو اتنی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
وہ سیدھی ہوئی، فائلز اٹھائیں اور اسی کی طرف آنے لگی۔
مرزا بغیر اس سے نظریں ہٹائے مسکراتے ہوئے دیکھتا گیا۔
صاحبہ کی بھوری آنکھیں مرزا کی بھوری آنکھوں سے ملیں اور…
تاریخ کے پنوں پر یہ لمحہ امر ہو گیا۔
اس نے اسے اپنے ساتھ سے گزر کر باہر جاتے ہوئے دیکھا اور تب اس کی کیفیات کا بیڑا غرق رحمان صاحب کی آواز نے کیا، جو غضب سے اب سب پر چھڑائی کر رہے تھے۔
“واہ، رحمان صاحب، آپ کے ساتھی کافی وفادار ہیں آپ کے ساتھ!”
رحمان صاحب نے تلملا کر اسے دیکھا، مطلب اس سے بھی جھاڑ کھانا باقی تھی۔
“ویل، میری طرف سے انکار ہے، ایکسکیوزمی!”
وہ شائستہ انداز میں انکار کرتا ہوا باہر کی جانب چل پڑا۔
گاڑی کے ہارن سے وہ واپس حال میں لوٹا اور آنکھیں وا کر گیا ۔
تھوڑی دیر پہلے والی مسکراہٹ کی جگہ آزردگی اور تھکن نے لے لی تھی۔
وہ دو انگلیوں سے اپنا ماتھا سہلانے لگا اور گہرا سانس خارج کر کے دوبارہ آنکھیں موند گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترکی۔
دلارے جائے نماز پر بیٹھی، تسبیح پڑھ رہی تھی۔ ایک ایک دانہ گراتی، وہ زیر لب درود پڑھ رہی تھی۔ آج چہرے پر لٹیں نہیں جھول رہی تھیں بلکہ ایک بڑی شال کے حالے میں نیلی آنکھوں والا چہرہ دمک رہا تھا۔
اس نے چاروں طرف صلوات پھیرنے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے:
“یا ربّی، میرے بابا کو صحت دے، ان کا سایہ ہمیشہ میرے سر پر سلامت رکھنا،” دلارے مدھم آواز میں بڑبڑا رہی تھی۔
“مجھے اپنے سے جوڑے رکھ…”
وہ آنکھیں بند کیے اسی طرح سرور سے اپنے رب کو پکار رہی تھی۔
اور آخر میں، “میں…”
وہ اتنا کہہ کر ایک پل کو رکی اور پھر اس کے کہے گئے الفاظ وفا کی کتابوں کے اوراق میں چھپ گئے:
“میں مرزا حاکم کو تجھے امانت میں دیتی ہوں۔”
دلارے نے پانچ وقت کی نمازوں میں، تہجد کے سجدوں میں اور ہر بار رب کو یاد کرنے کے بعد ہمیشہ کہی جانے والی دعا پھر سے دہرائی اور چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
بابا، کچھ وقت بعد دلارے اپنے کمرے سے باہر آتے ہوئے، سامنے راکنگ چئیر پر بیٹھے سلیم صاحب کو دیکھتی ہے ، اور ان کی طرف آتی ہے، جو کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔
دلارے ان کے سامنے زمین پر بیٹھ کر، ان گھٹنوں پر ہاتھ رکھے، ان کی آنکھوں میں دیکھتی ہے، تو وہ کتاب ساتھ رکھی میز پر رکھتے ہوئے جھک کر اس کی پیشانی کو چُومتے ہوئے کہتے ہیں:
“جی بابا کی جان۔”
“میں فیروزے حانم کے گھر جاؤ؟”
اس نے انہیں مسکرا کر پوچھا۔
“آج جاب پر نہیں جائے گی آپ؟”
“نہیں، میں نے نورے کو کہہ دیا ہے، وہ آج ریسٹورینٹ میں میری شفٹ بھی پوری کر دے گی۔”
“ٹھیک ہے بیٹا، مگر رات ہونے سے پہلے آجانا ہمم…”
انہوں نے عقیدت سے اس کے ہاتھوں کو اپنے ماتھے پر لگاتے ہوئے کہا۔
وہ ہوں بہو ان کی بیٹی کی طرح دکھتی تھی جو اپنے شوہر سمیت ایکسیڈینٹ میں چل بسی تھیں، اور اب سلیم صاحب کی زندگی کا محور صرف مرزا اور دلارے تھے، مگر دلارے سے انہیں شدید لگاؤ تھا، مرزا سے بھی زیادہ۔
“اپنا خیال رکھیے گا، میں آیاز (کھلونے کی دکان پر کام کرنے والا چھوٹا بچہ) کو یہاں رکنے کا کہ جاتی ہوں۔ اللّٰہ حافظ۔”
وہ اٹھتے ہوئے بولی اور قدم باہر کی جانب بڑھا دیے۔
(فیروزے حانم دلارے کے نانا کی پچپن سالہ بہن تھیں۔ وہ ایک نیک اور با رعب عورت تھیں، ان کا چھوٹا گھر دلارے کے گھر سے پندرہ منٹ کے فاصلے پر تھا۔ اور دلارے ہر آئے دن ان کے گھر جاتی تھی۔ وہ فیروزے حانم سے بے انتہا محبت کرتی تھی، ان کی ہر چھوٹی چھوٹی چیز کا خیال رکھتی تھی، چونکہ فیروزے حانم نے شادی نہیں کی تھی، اسی وجہ سے دلارے اپنی آدھی سیلری فیروزے حانم کو دیا کرتی تھی۔)
وہ ایک بھوری لکڑی کے چھوٹے سے دروازے کے سامنے کھڑی تھی۔ وہیں ازلی حلیہ، پیلے فراق پر ہم رنگ سکارف، جس کی دونوں سائیڈز آگے کو جھول رہی تھیں، اور پچھلا کونا آدھے بالوں کو چھپائے ہوئے تھا۔ سامنے سے دو لٹیں چہرے پر جھول رہی تھیں۔
“اسلام علیکم فیروزے حانم!”
دروازہ کھلتے ہی، ایک بوڑھی عورت نمودار ہوتے ہی، دلارے مسکرا کر سلام کہتی ہے۔
“واعلیکم اسلام، دلارے! کافی عرصے بعد آئی ہو۔”
وہ دراز قد، دلارے کو خود سے لگاتے، اندر کی طرف جاتے ہوئے کہتے ہیں۔
“بس یوں ہی، اصل میں کچھ عرصہ پہلے مرزا آیا ہوا تھا اور پھر اس کے جانے کے بعد میری طبعیت ٹھیک نہیں تھی، اس لیے اتنے دن نہیں آ سکی۔”
دلارے اوپن کچن کی طرف جاتے ہوئے کہتی ہے۔
“مجھ سے بھی مل کر گیا تھا مرزا، اب تو اس نے اپنے ننھیال چکر لگانا ہی چھوڑ دیا ہے۔ کافی عرصے بعد آتا ہے،” فیروزے حانم نے صوفے پر بیٹھے کہا اور اپنے سامنے اوپن کیچن میں فریج کھولے، کھڑی دلارے کو دیکھنے لگی۔
“دلارے، میرے لیے آدھا کپ چائے کا بنانا، ابھی صبح ہی میں نے پی ہے،” انہوں نے چائے بناتی دلارے سے کہا۔
“ٹھیک ہے، اچھا، مجھے یہ بتائیں آج بچے نہیں آئے قرآن پڑھنے؟” دلارے نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔
“نہیں، آج میں نے خود منع کر دیا تھا۔ کل کافی دیر پڑھتے رہے تھے، اس لیے میں نے آج انہیں چھٹی دی ہے تاکہ اکتا نا جائیں اور انہیں علم ہو کہ دین جبر کا نام نہیں ہے،” فیروزے حانم نے مسکرا کر کہا اور اپنی خوبصورت نواسی کو دیکھا، جو نانا کو بابا اور نانا کی بہن کو حانم بولتی تھی۔
یہ لیں!
وہ ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ دیتے ہوئے، ان کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھی۔
“آپ کو پتہ ہے، میں نے کل فیروزی نگینہ تراشہ تھا، رات کے وقت، اور مجھے آپ یاد آ رہی تھی۔ میرا اتنا دل کر رہا تھا نا، آپ کے پاس آنے کا، ایک تو پتہ نہیں، راتوں کو ہی شدت سے کسی سے ملنے کا دل کیوں چاہتا ہے،” دلارے انہیں بتاتے ہوئے آخر میں چڑ کر کہتی ہے۔
“کیونکہ رات کو ہی انسان کو شدت سے تنہائی کا احساس ہوتا ہے،”
فیروزے حانم نے دلارے کی نیلی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
دلارے ایک پل کو کچھ بول نہ سکی، پھر چپ چاپ اپنا سر ان کے کندھے پر رکھتے ہوئے آنکھیں سامنے دیوار پر گاڑ دی، جبکہ فیروزے حانم نے اس کے ٹھنڈے سرخ و سفید ہاتھ کو اپنے نرم گرم ہاتھوں میں لے لیا۔
“فیروزے حانم، ایک سوال پوچھوں؟”
“پوچھو، میری جان۔”
“انسان کو سب سے زیادہ اذیت کیا چیز دیتی ہے؟”
“دیکھو دلارے، تکلیفوں کے اذیتوں کے اور بھی بہت طریقے ہیں، بہت سی کتابیں ایسی ہیں جس میں اذیتوں کے ان گنت فلسفے ملیں گے، لیکن اگر میں اپنی زندگی کے تجربے سے بتاؤں تو ‘بے بسی’…”
انہوں نے نرمی سے اس کے سر پر بھوسہ دیتے ہوئے کہا۔
“اور بے بسی کیا ہوتی ہے، فیروزے حانم؟”
“زندگی کے کسی موڑ پر انسان خود کو بہت کمزور محسوس کرتا ہے، دلارے۔ جب ایسا وقت آ جائے کہ اس کے اندر کچھ بھی کرنے کی سکت نہ ہو، وہ وقت بے بسی کا ہوتا ہے۔
بے بسی انسان کو مار دیتی ہے۔ جب آپ کچھ کرنا چاہتے ہو مگر وہ کر نہ پاؤ، کسی کو چھوڑنا چاہو مگر چھوڑ نہ پاؤ، دل کو ہرانا چاہو مگر ہرا نہ پاؤ، جب کوئی انسان بہت بری طرح آپ کا صبر آزمائے مگر آپ اس کے سامنے کچھ بھی بولنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، جب آپ کا محبوب انسان آپ کو روند کے چلا جائے مگر آپ اس سے اتنی شدّت سے محبت کرتے ہو کہ اس سے اپنی ناقدری کا بدلہ بھی نہ لے سکو، یہ بہت برے وقت ہوتے ہیں، دلارے۔ یہ بہت اذیت دیتے ہیں،”
وہ نہایت نرمی سے اسے سمجھاتے ہوئے بولی۔
“اور بے بسی کی سب سے بری قسم کون سی ہے؟”
دلارے نے سر اٹھا کر ان کی آنکھوں میں دیکھا۔
“بے بسی کی سب سے بری قسم ‘انتظار’ ہے۔”
وہ دلارے کی گہری نیلی آنکھوں میں دیکھتی ہوئے بولی۔
ان کا جواب سن کر دلارے کا دل دھک سے بیٹھا، آنکھوں کی پتلیاں گویا ساکت ہو گئی تھیں۔
“انتظار کیسے بری قسم ہوا، فیروزے آنٹی؟”
وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی۔
“انتظار انسان کو رفتہ رفتہ ختم کرنا شروع کرتا ہے، دلارے۔ کسی پسندیدہ چیز کو پانے کا انتظار، کامیابی ملنے کا انتظار، ایک بلند سٹیٹس آچیو کرنے کا انتظار، ہسپتال کی راہداری میں بیٹھ کر ڈاکٹر کی آخری بات سننے کا انتظار، مخلص دوست ملنے کا انتظار، کسی کی محبت ملنے کا انتظار، یا کسی کی محبت کے اعتراف کا انتظار…
ہر انتظار آپ کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے، یہ آپ کو امید تھماتا ہے، صرف تھوڑے عرصے کا تصور دکھا کر اور آپ کی آدھی زندگی اس تھوڑے عرصے کے ختم ہونے کے انتظار میں گزر جاتی ہے۔
انہوں نے رک کر ایک پل کا توقف کیا ۔
آپ اندر سے اس انتظار کی آگ میں جل، جل کر راکھ ہو جاتے ہیں اور پھر بالآخر اس انتظار کے بعد، آپ کے سامنے آپ کا محبوب آپ کے ہی قدموں میں گر کر آپ سے کی گئی اپنی محبت کا اعتراف بھی کر لے ،
ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ تب تک ہم اپنے تمام جذبات گنوا چکے ہوتے ہیں، تب کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں رہتی، دلارے کسی بھی چیز کی۔”
فیروزے حانم کی بات دلارے کو ٹھیک سے سمجھ میں نہ آئی، اسے ان کی باتیں اچھی نہیں لگ رہی تھیں۔ ان کی اکثر باتوں سے وہ اختلاف کرتی تھی، اور یہ بات بھی انہیں باتوں میں شامل کرتے ہوئے وہ اثبات میں سر ہلاتی، اپنا سر ان کے کندھے پر ٹکا گئی۔
“میں یہ کبھی نہیں کہوں گی، دلارے، کہ وقت آنے پر تمہیں میری بات سمجھ آئے گی، کیونکہ میں کبھی نہیں چاہوں گی کہ تم اس وقت سے گزرو ۔
لازمی نہیں ہر بات ہم سمجھیں، بعض باتوں میں ساری زندگی بھی انجان رہیں تو بہتر ہے، اس لیے زیادہ سوچنے مت بیٹھ جانا اب،”
وہ ایک بار پھر اس کے سر پر بھوسہ دیتے ہوئے نرمی سے سمجھانے لگیں۔
وہ جان گئی تھیں کہ ان کی باتیں دلارے کے سر کے اوپر سے گزر گئی ہیں۔
“اچھا، ویسے میں نے آپ کو کچھ بتانا تھا،”
دلارے چہکتے ہوئے ان سے دور ہوتی بولی۔
“کیا؟”
“میں نے آپ کے لیے ایک نہایت خوبصورت انکل پسند کیا ہے، ہیں بھی سنگل، بتائے بات بڑھاؤ آگے۔”
“لاحول ولاقوۃ، حد ہے، دلارے! زرا شرم نہیں تم میں؟”
“بھئی، اس میں شرم والی کیا بات ہے، اب اتنے خوبصورت انکل کو یوں ہی ہاتھ سے جانے دوں؟ آپ بس اپنی رضامندی دے مجھے۔”
“دلارے، تم نے آج پٹنے کا پروگرام بنایا ہوا ہے۔”
“کیا بھئی، پچھلے انکل بھی ہاتھ سے نکل گئے تھے، اور اب آپ ان کی باری بھی مجھے پیٹنے کا کہہ رہی ہیں؟”
اپنی باتوں پر غور کرو تو پتہ چلے، نا؟
کیا اول فول بولے جا رہی ہو، انکل پسند کر لیا ہے، مطلب حد ہو گئی۔
“اچھا، تو اب سمجھی، آپ انکل پر راضی نہیں ہیں، اچھا، شادی پر تو راضی ہیں نا، میری پیاری خالہ؟”
دلارے پیار سے ان کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی اور معصومیت سے آنکھیں ٹپکائیں۔
“تم نہیں سدھرنے والی، میں کہتی ہوں، سلیم کو تمہارے لیے کوئی لڑکا پسند کرتے ہیں ہم۔”
“اللّٰہ اللّٰہ، فیروزے حانم، موڈ ہی خراب کر دیا آپ نے تو!”
یکدم دلارے منہ بناتی ہوئی صوفے سے اٹھی اور کیچن کی جانب بڑھ گئی۔
فیروزے حانم اس کی فر فر چلتی زبان کو بریک لگانے کے بعد اب مسکرا رہی تھی، جبکہ ان کا زہن اپنے کمرے کی الماری کے سب سے آخری خانے میں پڑے ایک لکڑی کے چھوٹے سے صندوق میں الجھ گیا تھا۔
ترکی کی فضا نے افسردہ ہو کر فیروزے حانم کے خیالات دیکھے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
رات کے گیارہ بجے مرزا چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اپنے محل جیسے گھر میں داخل ہوا تو سامنے ہی لاونج میں اسے وہ بیٹھا نظر آیا۔ نیلی بیگی جینز پر وائٹ شرٹ پہنے وہ مسکرا کر مرزا حاکم کو دیکھ رہا تھا، انداز ایسا تھا جیسے نہ جانے کتنے وقت سے وہاں بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔ یک دم مرزا کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“تبریز، تم کب آئے؟؟” مرزا مسکراتے ہوئے اس تک آیا اور اسے گلے سے لگایا اور یوں ہی لگائے کھڑا رہا۔
انتیس سالہ تبریز حاکم اپنے بڑے بھائی مرزا حاکم سے الگ ہوتے ہوئے مسکرا کر بولا، “دو گھنٹے سے آیا ہوا ہوں۔” وہ صوفے پر جاتے ہوئے بولا۔
“صوفیہ اور عصام کو کیوں نہیں لائے ساتھ؟” مرزا اسے صوفے پر بیٹھا دیکھ کر سوالیہ آئبرو اٹھا کر پوچھا۔
“بس ویسے ہی۔” تبریز نے کندھے اچکا دیے۔
مرزا ایک پل کے لیے تو اپنے چھوٹے بھائی کی بھوری آنکھوں میں دیکھتا رہا، پھر جیسے بات سمجھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم لیتا اس تک آیا اور اس کے ساتھ ہی جڑ کر بیٹھ گیا۔
“تبریز، تمہاری اور صوفیہ کی کسی بات پر لڑائی ہوئی ہے، رائٹ؟” مرزا نے سنجیدگی سے پوچھا۔
“ہمم۔” تبریز نے نظریں جھکائے، سر ہلایا۔ وہ اپنے بڑے بھائی سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا۔
“اور تم نے کیا کہا اسے؟”
“اس نے شروعات کی تھی، حاکم۔ غلطی بھی اسی کی تھی۔” تبریز نے چڑتے ہوئے کہا۔
“میں نے پوچھا، تم نے اسے کیا کہا بدلے میں؟” مرزا حاکم نے زور دیتے ہوئے کہا۔
“میں بس تھوڑا سا چلا کر گھر سے باہر نکل گیا، جب رات کو واپس آیا تو وہ عصام کو لے کر جا چکی تھی۔” تبریز نے خفگی سے کہا، جیسے بات ختم کی ہو۔
“صحیح۔ دیکھو تبریز، اگر تم یہ امید کرتے ہو کہ تم دونوں کے معاملے میں نہیں آؤں تو تمہاری بھول ہے، کیوں کہ تم دونوں کے علاوہ ایک اور زندگی بھی تم دونوں کے ساتھ ہے جو محض تین سال کا ہے۔” مرزا نے آہستہ مگر مضبوط آواز میں کہنا شروع کیا۔
“صوفیہ کی چھوٹی سی غلطی اور تمہارا تھوڑا سا چلانا اس کا پورا فیچور تباہ کر دے گا۔ وہ ہر دوسرے روز ماں باپ کو چلاتے دیکھے گا تو خوف اس کے اندر پناہ لے لے گا، اور جانتے ہو کس چیز کا خوف؟” مرزا نے آنکھیں تبریز کی آنکھوں میں گاڑتے ہوئے پوچھا، جو نفی میں سر ہلا گیا۔
“باپ کا خوف، ماں کا خوف۔ شروع میں وہ تم دونوں سے ڈرے گا، سامنے آنے سے ڈرے گا، کوئی بات شئیر کرنے سے ڈرے گا، فیلنگز بتانے سے ڈرے گا۔ اس طرح وہ تمام باتیں اپنے اندر ہی رکھتا جائے گا جو اسے اندر سے کھوکھلا اور شدید ٹرامیٹک کر دیں گی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ یہ ڈر بالکل ختم ہو جائے گا اور اس کی جگہ ناپسندیدگی لے لے گی۔ وہ تم دونوں کو ناپسند کرے گا جتنا ہو سکے تم دونوں سے لڑے گا، چڑچڑا سا رہے گا اور یوں دونوں ماں باپ اسے بدتمیز کنسیڈر کریں گے، اور پھر ناپسندیدگی کی جگہ نفرت لے لے گی۔” مرزا نے مدھم آواز میں کہا۔
“نفرت؟؟؟” تبریز پہلی بار چونکا۔ “اولاد ماں باپ سے کیسے نفرت کر سکتی ہے؟”
“بلکل ٹھیک کہا، اولاد کو ماں باپ سے محبت ہوتی ہے، مگر بعض اوقات اولاد ماں باپ سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ اور جانتے ہو، جب کوئی بچہ اپنے ماں باپ سے نفرت کرنے لگ جائے، سمجھ جانا اس کا آدھا وجود اندر سے گل سڑ گیا ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔” مرزا نے آہستہ آواز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“وہ کیسے؟” تبریز نے چونکتے ہوئے پوچھا۔
“جب بچہ چھوٹا ہوتا ہے تو اسے بہت زیادہ پیار، محبت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسے کوئی سننے والا چاہیے ہوتا ہے اور یہ چیزیں سب سے زیادہ ماں باپ سے وصول کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ مگر جب بچہ کا بچپن ماں باپ کی لڑائیاں دیکھتے گزرتا ہے، اور خاص طور پر ایسی لڑائیاں جو ان بریک ایبل چین کی طرح ہوں، یعنی لڑائی پھر صلح، لڑائی پھر صلح، یہ مسلسل دہرایا جانے والا عمل بچہ کو کنفیوز اور بے حس کر دیتا ہے۔ پھر چاہے اس کے سامنے ماں باپ کو یا باپ ماں کو قتل کر دے، اسے فرق نہیں پڑتا کیونکہ پتہ ہوتا ہے آخر میں سب ایک جیسا ہو جانا ہے۔” مرزا ایک پل کو رکا۔
“پھر وقت کے ساتھ ساتھ، جب وہ باہر کی دنیا دیکھتا ہے، وہاں کے بچوں کو جو اپنے ماں باپ کے ساتھ خوش ہوتے ہیں، ان بچوں کو جو دوستوں کے ساتھ خوش ہوتے ہیں، یا پھر کسی بھی خوش انسان کو، تو انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا کے سب سے غمگین اور دکھی انسان وہیں ہے اور سب کا قصور وہ اپنے ماں باپ پر ڈالتے ہیں۔ ان کا یہ پرسپیکٹو ہوتا ہے کہ اگر ہمیں اچھے ماں باپ ملتے تو آج ہم بھی خوش ہوتے۔ یوں ان کے دل میں ماں باپ کے لیے نفرت کا بیج جنم لینے لگتا ہے۔”
“اور دوسری طرف، اولاد جب جوان ہونے لگتی ہے تو ماں باپ کی ایکسپیکٹیشنز اولاد سے مزید بڑھ جاتی ہیں، پھر جب دیکھتے ہیں کہ ان کی اولاد آگے جا کر ان کا سہارا بنے گی تو وہ اولاد سے محبت کرنے لگتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں، اب چاہے جتنی محبت اولاد کو مل جائے، ان کے اندر کے خلش کو کم نہیں کر سکیں گی، کیونکہ انہوں نے اپنی عمر کا سب سے قیمتی حصہ بغیر محبت کے گزارا ہوتا ہے۔” مرزا کی آواز مدھم اور سنجیدہ تھی۔
تبریز نے گہری نظروں سے سامنے بیٹھے مرد کو دیکھا۔
” تیسری بات،” مرزا نے آخر میں مسکرا کر کہا، “عورت جذباتی ہوتی ہے، اسے اچھے سے پتہ ہوتا ہے کہ اس کی غلطی ہے، مگر بعض اوقات بس یہ چاہتی ہے کہ اس کا پارٹنر اس سے جیتنے کی نہیں، اسے سمجھنے کی کوشش کرے۔ اور شوہر کو چاہیے بھی کہ وہ بیوی کے سامنے ہار جایا کرے، کیونکہ یقین مانو، تبریز، جو اپنی عورت کے سامنے ہار جایا کرتے ہیں وہیں حقیقت میں فاتح ہوتے ہیں۔ بیوی کو سمجھو، چاہے وہ تمہیں نا سمجھے، تم سمجھو، تم سنو، تم محبت کرو۔ کیونکہ یاد رکھنا، عورت بہت غیرت مند ہوتی ہے، جو چیز اسے ملتی ہے اسے سود سمیت واپس لوٹاتی ہے، اور وہ بھی دگنا کر کے۔ محبت دو گے تم سے، عشق کرے گی۔ اس لیے اپنی عورت سے بنا کر رکھو، اسے سمیٹ کر رکھو، ٹاکسک ہے، بدتمیز ہے یا جیسی بھی ہے، یاد رکھو، شوہر کی محبت اسے بدل دے گی۔”
“اور آخری بات، انسان کے بچے بن جاؤ۔” آخر میں مرزا نے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
تبریز جو سانس روکے اپنی بھائی کی باتیں سن رہا تھا، آخری بات پر ہنس دیا۔
“ویسے ایک بات ہے حاکم،” تبریز نے سڑھیاں چھڑتے مرزا حاکم کی پشت دیکھ کر بلند آواز میں کہا۔
“جستغ؟” مرزا رکا اور پلٹ کر اسے دیکھا۔
“نہایت رومینٹک شوہر بنو گے تم، یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں مست
قبل کے بہترین زن مرید، بھئی کب کرو گے تم شادی؟” تبریز نے نچلا لب دانتوں تلے دبائے شرارت سے کہا تھا۔
جس پر مرزا استغفار پڑھتا آگے بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
حارث اپنے آفس میں بیٹھا ایک فائل کے اوپر پنسل سے نشان لگا رہا تھا۔ وہ آج کل بہت پریشان تھا، ابھی بھی وہ ماتھے پر شکن لیے فائل پر نظریں مرکوز کیے بیٹھا تھا کہ اسے اپنے فون پر ایک میسج ٹون سنائی دی۔ اس نے ساتھ رکھا موبائل اٹھایا تو ایوب کا میسج آیا ہوا تھا۔ اس نے کر پڑھنا شروع کیا۔
جیسے جیسے وہ میسج پڑھتا گیا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ رینگنے لگی۔ وہ فوراً سے اٹھا اور تیز تیز قدم لیتا لطیف صاحب کے آفس کی طرف جانے لگا۔
اس نے مسکراتے چہرے کے ساتھ آفس کے سامنے رک کر دروازہ ناک کیا اور اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوا۔
“لطیف صاحب، آپ سے ایک بات کرنی ہے،” حارث میز کے قریب جاتے ہوئے بولا۔
“ہمم، بولو حارث، کیا بات ہے؟” لطیف صاحب نے اسے دیکھتے ہوئے، کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ تو حارث کرسی پر ٹک گیا۔
“سر، ایوب نے بتایا ہے کہ سائفر اسلام آباد میں رہتا ہے،” حارث نے مسکراتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا۔
“واٹ؟” لطیف صاحب نے ماتھے پر شکن لیے پوچھا۔
“جی سر، وہ اسلام آباد میں رہتا ہے، اور ایوب کہہ رہا تھا کہ بہت جلد ہم اسے ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔”
“اسے کیسے پتہ یہ سب؟” لطیف صاحب نے سخت لہجے میں کہا۔
“ابھی ڈیٹیلنگ تو نہیں لی میں نے، مگر مجھے خوشی ہے کہ ہم اپنے مقصد سے صرف ایک ہی قدم پیچھے ہیں۔”
“ہمم، ٹھیک کہا تم نے،” لطیف صاحب نے اسے بغیر دیکھے کہا۔
حارث کو ان کا رویہ تھوڑا روڈ لگا، اس لیے وہ بغیر کچھ کہے، ان سے اجازت لیتا آفس سے باہر آ گیا اور اپنے کیبن کی طرف بڑھ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
سردی سے بھرپور گہری سیاہ رات میں، سیاہ ہی آسمان پر وہ مغرور چاند پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ سکوت کے عالم میں صرف ہلکی ہلکی ہوا اور پتوں کی سرسراہٹ کی آواز آتی تھی، اور ان آوازوں میں دو انسانوں کی مدھم آواز فضا میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔
وہ دونوں ٹیرس پر کھڑے، ریلنگ سے کہنیاں ٹکائے، دور آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھتے باتوں میں مصروف تھے۔ چاند کی روشنی اور ٹیرس پر جلتے ہلکے پیلے بلب کی روشنی پر، حاکم خاندان کے دونوں سپوتوں کا چہرہ جگمگا رہا تھا۔
“نانا کے گھر کب گئے تھے تم؟” تبریز نے اس کی طرف نظروں کا رخ کرتے پوچھا۔
“تقریباً دو ہفتے پہلے گیا تھا،” مرزا نے ہنوز چاند کو دیکھتے جواب دیا۔
“کیسے ہیں وہ؟”
“ٹھیک نہیں ہیں، انہیں گھٹنے میں درد ہوتا ہے اور سانس کا بھی مسئلہ ہے۔”
“یا میرے خدا! انہوں نے بتایا کہ کس ڈاکٹر سے رابطہ کیا ہے انہوں نے؟”
“انہوں نے مجھے اپنے گھٹنے اور سانس دونوں کے مطلق کوئی بات نہیں بتائی، ڈاکٹر کے بارے میں خاک بتاتے،” مرزا سر جھٹکتے ہوئے بولا۔
“واٹ؟ تو تمہیں کیسے پتہ چلا حاکم؟” تبریز تو گویا حیران ہو گیا۔
“اولاد ہوں میں ان کی اور اندھی محبت ہے، مجھے ان سے ان کی تکلیف بھی نہ دیکھ سکوں تو لعنت ہے اولاد ہونے پر،” مرزا نے تبریز کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“تو تم واپس کیوں آ گئے؟ وہیں رہ لیتے، کچھ دن ان کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے، حاکم۔”
“پرسوں دوبارہ جاؤ گا، فکر مت کرو، یہاں بس دو تین کام وائینڈ اپ کرنے آیا تھا۔”
“یہ صحیح ہے، میں بھی چکر لگاؤں گا اُدھر، اور دلارے؟ وہ کیسی ہے، اب تو بڑی ہو گئی ہو گی۔” تبریز نے مسکرا کر اپنے بڑے بھائی کو دیکھا جو کہ دلارے کے ذکر پر مسکرا دیا تھا۔
“ہمم، ٹھیک ہے، وہ بھی بڑی ہو گئی ہے، مگر صرف قد میں، حرکتیں اب بھی بچوں والی ہیں،” مرزا نے مسکرا کر جواب دیا۔
“بچوں والی حرکتیں کرتی؟ پچھلے سال تو میرا چکر لگا تھا نانا کے گھر، اتنی سمجھدار ہو گئی، وہ تو…” تبریز نے چونکتے ہوئے کہا۔
“تو تمہیں یہ غلط فہمی کیوں ہوئی کہ وہ تمہارے سامنے بچوں والی حرکتیں کرے گی، تبریز حاکم؟” مرزا نے جتاتی ہوئی مسکراہٹ سے تبریز کو دیکھا۔
ایک پل کو تبریز حاکم کے سارے الفاظ دم توڑ گئے، وہ ہونک بنا اپنے سامنے کھڑے مرزا حاکم کو دیکھے گیا۔
جب کہ مرزا حاکم مدھم آواز میں گنگنانے لگا تھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی، جو کہ اس کی عظیم صفت تھی۔
“خیر، تم یہ بتاؤ، تمہاری فلائٹ کب کی ہے؟” مرزا نے تبریز کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا اور قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھا دیے۔
“پرسوں کی ہے،” تبریز بھی اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا۔
“ٹھیک، اور جاتے ہی تم شرافت سے سب سے پہلے بیوی کو منانے جاؤ گے۔”
“توبہ، توبہ، ٹھیک ہے، چلا جاؤں گا،” تبریز نے کلستے ہوئے جواب دیا۔
اور عصام کو میر۔۔۔
گہری ہوتی رات اور بڑھتی ہوئی سردی میں ان کی آوازیں دور جاتی محسوس ہو رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھبی کھبی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں کہ انسان شدت سے چاہتا ہے کہ وہ لمحات وہیں رک جائیں، وقت وہیں تھم جائے، مگر نہ تو لمحات رکتے ہیں اور نہ ہی وقت، مگر انسان وہیں پر رک جاتا ہے، تھم جاتا ہے، جکڑ لیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
(فجر کے وقت دلارے اپنے نیم روشن کمرے میں ایک طرف جائے نماز بچھائے یک ٹک بیٹھی، انگلیوں کی پوروں پر تسبیح پڑھ رہی تھی۔ فجر کا وقت بیت رہا تھا، مؤذن کی اذان ختم ہو رہی تھی، سبحان اللّٰہ کی تسبیح اس کی انگلیوں کی پوروں پر آگے بڑھے جا رہی تھی، مگر وہ تو ایسے تھی جیسے بہت عرصہ سے ایک ہی جگہ رکی ہوئی تھی، بلکل تھم چکی ہو، جیسے……)
بعض دفعہ ایسے لمحات بھی آتے ہیں کہ ان کے بعد انسان کسی موڑ پر بھی نہیں رکتا، بس چلے جاتا ہے اور چلے جاتا ہے، ایک کبھی نہ رکنے والے سفر کی چاہت اس کے اندر جنم لے لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(صاحبہ شاہ اپنی فلاور شاپ پر بیٹھی، لیپ ٹاپ پر مختلف کمپنیز میں جاب کے لیے آپلائی کر رہی تھی۔ اس کے انداز میں گہری سنجیدگی اور تیزی تھی، ریکس میں رکھے پھول بالکل خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے، باہر ساکت کھڑا وجود آنکھوں میں نمی لیے افسوس سے اسے دیکھ رہا تھا، مگر وہ پورے انہماک سے اپنے کام پر لگی ہوئی تھی۔ دوبارہ سے ایک نئے سفر کا آغاز ہو جیسے……)
کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو انسان کی راہ کا تعین کیے بنا ہی جا چکے ہوتے ہیں، جبکہ پیچھے انسان نہ تو ٹہرنے کے قابل بچتا ہے اور نہ سفر کرنے کے۔۔۔۔
(اپنے آفس کے گلاس وال کے سامنے کھڑا مرزا حاکم سگار کے گہرے کش لگاتا، اسلام آباد کی رونقوں کو تکے جا رہا تھا، بڑھتی ہوئی شام میں اسلام آباد روشنیوں میں نہاتا جا رہا تھا، دور آسمان پر بھی سیاہی قطرہ قطرہ پھیلتی جا رہی تھی۔ جبکہ وہ آخری کش لیتا سگار ڈسٹ بین میں پھینکتا، واپس اپنی کرسی پر براجمان ہوا، کیوں کہ اسے ابھی بہت سے کام کرنے تھے۔ وہ چاہ کر بھی نہ تو رک سکتا تھا اور نہ ہی اپنا کام چھوڑ سکتا تھا……)
بعض اوقات ایسے لمحات بھی آتے ہیں جو جانے سے پہلے انسان کے زہن پر بہت گہری چھاپ چھوڑ جاتے ہیں، اور انسان ساری عمر اسی گہری چھاپ کے ساتھ جیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
(پورے کمرے میں صرف زیرو بلب کی مدھم روشنی پھیلی تھی، گہری ہوتی رات میں خاموشی بڑھتی جا رہی تھی، اور اسی خاموشی میں خلل اچانک چیخ مار کر اٹھنے والے نفس نے ڈالی تھی۔ سخت سردی میں بھی پسینے سے شرابور، وہ اکتیس سالہ ازمیر ہونکوں کی طرح بیڈ پر بیٹھا تھا۔ اس نے بے بسی سے باہر پھیلتی رات دیکھی، راتیں بدل گئی تھیں، انسان بدل گئے تھے، مگر ازمیر کے زہن پر لگی چھاپ اب بھی تازہ تھی……)
اور بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو گزر جانے سے پہلے دل کو زرا سی دیر کے لیے جگمگاتے ہیں، جیسے رات کے آخری پہر میں چراغ کی لرزتی ہوئی شعاع۔ ان لمحوں میں وفا بستی ہے، اور ایک باریک دھندلی بے وفائی کی لکیر، ایسی لکیر جو پہلے نظر سے دور رہتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ دل کو چھبتی رہتی ہے۔ وہ لمحات جو خوبصورتی کا لبادہ اوڑھے آئے تھے، جانے سے پہلے حقیقت کا تمانچا بڑی بے دردی سے مار کر جاتے ہیں۔ یہ احساس دلاتے ہیں کہ جو دل تھاما گیا تھا وہ پوری طرح پکڑا کبھی نہیں گیا تھا، اور یہیں نا مکمل لمس، یہیں آدھا سچ، یہیں خاموش دھوکہ بہت اذیت ناک درد بن جاتا ہے، جو نہ تو ختم ہوتا ہے اور نہ بھڑکتا ہے، بس آہستہ آہستہ دل میں سانس لیتا رہتا ہے۔ اور شاید اسی کو سوزِ وفا کہتے ہیں، سوزِ وفا ، یعنی وفا کا جلتا ہوا درد۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
اس نے دھیرے سے اپنی آنکھوں کو وا کیا ، دھندلی ہوتی بصارت سے وہ کچھ بھی دیکھنے سے قاصر تھی سو دوبارہ آنکھیں موند گئی ۔
سورج کی سنہری کرنیں کھڑکی سے چھن کر کمرے میں پڑ رہی تھیں ۔
اس نے پھر سے اپنی آنکھیں کھولی تو اب کی بار منظر صاف تھا اس کی نظر باکل سامنے سفید کوری چھت پر گئی کسی بھی داغ سے پاک سفید چھت کو نا جانے کتنے پل ساکت ہوئی دیکھتی رہی کے اس نے آہستہ سے اپنی نظریں بائیں جانب کھڑکی کی طرف موڑی سورج کی کرنیں اس کے چہرے پر پڑیں اور اس کی آنکھوں کو چھندیا گئی ، اس نے نظروں کا ذاویہ موڑتے اپنے دائیں جانب دیکھا تو تھکا تھکا سا دماغ ایک پل کو ساکت ہوا تھا ، اس کی نظر اس کے بلکل ساتھ رکھے چھوٹے سے سٹول پر گئی جس پر دوائیوں کے ڈھیر لگے تھے ساتھ میں ایک سٹینڈ رکھا تھا جس پر لٹکی بوتل اس کے ہاتھ پر لگی ڈرپ سے اٹیچ تھی ، ساتھ رکھی اس بڑی مشین پر آہستہ آہستہ سے اوپر نیچے جاتی لکیریں اس کے زندہ ہونے کا ثبوت دیتی تھی ۔
ابھی وہ مزید نظروں کا زاویہ موڑتی کے اچانک ردوازہ کھلا ، اس کا رخ دروازہ کی طرف تھا اس لیے وہ آنے والے کو دیکھ سکتی تھی ۔
ایک نوجوان نرس اس سے پہلے پوری اس تک پہنچتی اس کی کھلی آنکھوں کو دیکھ کر یکدم خوشی سے باہر کی جانب بھاگی ۔
وہ خالی خالی ہوتے زہن کے ساتھ اس نرس کی حرکت دیکھ کر رہ گئی اور ہنوز اسی طرح پڑی رہی ۔
یکا یک دروازہ پھر کھلا اور اب کی بار ایک سفید کوٹ پہنے بڑی عمر کے مرد آئے ،صرف دیکھنے سے نہیں وہ واقعی میں ڈاکٹر تھے ۔
ان کی فیملی کو انفارم کر دو کہ انہیں ہوش آ گیا ہے ، اور آپ بیٹا اب کیسا فیل کر رہی ہیں ، ڈاکٹر ساتھ کھڑی نرس کو باہر بھیج کر اسے دیکھتے پیار سے بولے پیار سے بولے ۔
اس نے نظریں سامنے کھڑے مرد کے چہرے پر گاڑیں اور یوں ہی دو تین پل ساکت پلکوں سے انہیں دیکھتی رہی اور اچانک اس کے زہن میں جھماکہ ہوا ، سامنے کھڑا مرد ڈاکٹر ظہیر تھا ۔
کیسا فیل کر رہی ہو آپ سر میں میں درد ہو رہا ؟
وہ بس انہیں دیکھے گئی کہ اچانک پھر سے دروازہ کھلا ڈاکٹر ظہیر جو کے اس کے سامنے کھڑے تھے دروازہ کھلنے کی آواز پر اس کے سامنے سے ہٹے تو منظر واضع ہوا بیڈ پر لیٹی لڑکی کی نظریں دروازے کی جانب اٹھی اور وہی ساکت ہو گئی وہ یک ٹک سامنے دیکھتی زیر لب بڑبڑائی ۔
ڈاکٹر طاہر!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈسپنسری کے سامنے کھڑے دوائیاں لے رہے تھے، سفید شلوار کمیز پہنے، اپنی بارعب شخصیت کے باعث وہ بے انتہا باوقار لگ رہے تھے، مگر صرف باہر سے، کیونکہ اندر سے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔
لڑکے نے ان کے سامنے مطلوبہ دوائی پیش کی، اس سے پہلے کہ وہ اسے اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتے، ایک نرس بھاگتی ہوئی ان کے پاس آئی۔
“ڈاکٹر طاہر، وہ… وہ پلویشا میم کو ہوش آ گیا ہے!” اس نے ہانپتے ہوئے کہا۔
یہ سنتے ہی ڈاکٹر طاہر ایک پل کو ساکت ہوئے اور پھر اگلے ہی پل وہ روم نمبر اا کی جانب بھاگے۔ انہوں نے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا، سامنے ڈاکٹر ظہیر اپنی جانب پشت کیے کھڑے تھے۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ سامنے سے ہٹے اور ڈاکٹر طاہر کی نظر سیدھا سامنے گئی۔
وہ بیڈ پر لیٹی، ہسپتال والے کپڑوں میں تھی، بالوں کی ڈھیلی سی پونی تھی اور سر پر پٹی بندھی تھی، بائیں ہاتھ کے بازو اور کلائی پر بھی پٹی تھی، دائیں ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی، جبکہ گردن، تھوڑی اور چہرے پر زخموں کے نشانات تھے۔ ڈاکٹر طاہر کے سامنے اس کی زندگی تنکوں میں بکھری پڑی تھی۔
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتے رہے کہ ان کی نظر اس کے ہلکے سے ہلتے لبوں پر گئی۔
“ڈاکٹر طاہر…” پلویشا ساکت نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے ہولے سے بڑبڑائی۔
ڈاکٹر طاہر آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے بیڈ کے قریب آئے اور تھوڑا فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے اسے دیکھتے رہے۔
“پلویشا اب بہتر ہے، لیکن چونکہ پچھلے ایک ماہ سے یہ کوما میں تھی، اس لیے واپس اپنی روٹین کی طرف آنے میں وقت لگے گا۔ باقی، اسے ہوش آ گیا ہے، اللہ آگے بہتری کرے گا۔” ڈاکٹر ظہیر نے ڈاکٹر طاہر کو دیکھ کر کہا۔
پلویشا کی نظریں ڈاکٹر طاہر پر جم گئی تھیں، اور ڈاکٹر طاہر کو پلویشا کے سوا کوئی نظر ہی نہیں آ رہا تھا۔
“چلیں ڈاکٹر طاہر، آپ پلویشا سے ایزی ہو کر مل لیں، مگر پلیز احتیاط کیجیے گا۔” ڈاکٹر ظہیر نے ڈاکٹر طاہر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر چلے گئے۔
اب کمرے میں صرف دو نفس رہ گئے تھے: بیڈ پر ساکت لیٹی پلویشا اور اس سے کچھ فاصلے پر کھڑے ڈاکٹر طاہر۔
ڈاکٹر طاہر دو قدم چل کر پلویشا کے بیڈ کے پاس آئے، وہیں اس کے ساتھ ٹک کر بیٹھ گئے اور نظر بھر کر اسے دیکھنے لگے۔
“اس ایک ماہ میں، میں روز تمہارے لیے مرا ہوں، پلویشا، اور روز اٹھا ہوں صرف تمہاری خاطر، میری جان۔” ڈاکٹر طاہر نے آنکھوں میں نمی لیے کہا، جبکہ پلویشا صرف کھوئی کھوئی نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
ڈاکٹر طاہر نے اپنی نم آنکھوں کو پونچھتے ہوئے پلویشا کے سر پر بھوسہ دینے کے لیے آگے بڑھے۔
“دور ہٹں!!!!!”
پلویشا جو ڈاکٹر طاہر کو دیکھ رہی تھی، انہیں قریب آتے دیکھ کر یک دم اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا۔ یکایک اس کے ذہن میں مناظر ابھرے اور اس کی آنکھیں بے حد خوف سے پھٹی ۔ اس سے پہلے کہ وہ اس کے سر پر بھوسہ دیتے، وہ پوری شدت سے چیخ پڑی:
“دور ہٹو ! میرے قریب مت آؤ! دور ہٹو !” وہ ہزیانی انداز میں چیختی، پھٹی پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ گلے میں شدید درد اٹھا تھا۔
“پلویشا، کچھ نہیں ہے، پلیز ریلیکس!” ڈاکٹر طاہر نے آنسو ضبط کرتے ہوئے بیڈ پر مسلسل سر ہلاتے، جارحانہ انداز میں چیختی پلویشا کو ریلیکس کرنے کی کوشش کی۔
“میں نے کہا، دور ہٹو ! بچاؤ، ڈاکٹر طاہر، ڈاکٹر طاہر!” وہ شدت سے چیختی، آنکھیں بند کیے ڈاکٹر طاہر کو پکارنے لگی، جبکہ وہ اس کے ہاتھ تھام کر اسے چپ کرانے کی کوشش میں لگے تھے۔
“میں نے کہا، چھوڑو مجھے!” وہ گھومتے سر کے ساتھ اور دماغ میں ابھرتے مناظر کے باعث پراسس نہیں کر پا رہی تھی کہ اس کے سامنے کون ہے۔ بس ہزیانی انداز میں چلائی جا رہی تھی اور مسلسل بیڈ سے اترنے کی کوششیں کر رہی تھی۔ اچانک اس کے سر میں ایک کرنٹ دوڑا، وہ بائیں ہاتھ سے اپنا سر تھام گئی۔
“آہاہاہاہا… درد! بے انتہا درد!” اس کے سر کے پچھلے حصے میں دوڑ گیا۔ وہ درد سے نڈھال ہوئی اور بے سدھ ہوتے ہوئے لیٹ گئی، اور پھر درد کی شدت سے زور زور سے ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔ آنسو بہنے لگے۔
“پلویش، پلویش بیٹا، آرام سے بیٹھو!” ڈاکٹر طاہر نے اس کی خراب ہوتی حالت دیکھ کر اسے ریلیکس کیا۔ اتنے میں شور کی آواز سنتے، ڈاکٹر ظہیر بھی آ گئے۔ انہوں نے درد سے کراہتی پلویشا کو نیند کا انجیکشن لگایا۔
“دور ہٹو ! میں نے کہا دور ہٹ!” وہ شل ہوتے دماغ سے کہتی، ہوش سے بے گانی ہو گئی۔
ڈاکٹر طاہر نے اس کی بند آنکھوں کو دیکھا، زخمی چہرے پر آنسوں کے نشانات اب بھی گیلے تھے۔ وہ جلدی سے آگے بڑھے اور اپنے ہاتھوں سے انہیں صاف کیا۔
“ابھی پلویشا کو بہت وقت لگے گا ریکور ہونے میں۔ یہ عمل قدرتی ہے، آپ یوں پریشان نہ ہوں، آپ تو خود ڈاکٹر ہیں۔”
ڈاکٹر ظہیر نے ڈاکٹر طاہر کو لیے اپنے آفس میں آئے اور انہیں پانی دینے کے بعد احترام سے کہا:
“میں شل ہو گیا ہوں، ظہیر! شل… میرا دماغ، میرا دل، سب بالکل ساکت محسوس ہو رہے ہیں۔ مجھے نہیں پتہ میں کیسے ری ایکٹ کروں۔”
ڈاکٹر طاہر نے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
“آپ زیادہ مت سوچیں، ڈاکٹر طاہر، وہ ٹھیک ہو جائے گی، اللہ مدد کرے گا۔ وہ اب ہوش میں آ گئی ہے، دو تین دنوں میں ٹھیک ہو جائے گی، اور آپ پلیز زیادہ سٹریس مت لیجئے گا۔”
ڈاکٹر ظہیر نے انہیں سمجھاتے ہوئے آخر میں ڈاکٹر طاہر کے ہی انداز میں ڈپٹتے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر طاہر اس کی بات پر ہلکا سا مسکرا دیے اور سر کرسی کی پشت سے لگا کر آنکھیں موند گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
آج آسمان پر بادلوں کا راج تھا اور ہلکی ٹھنڈی ہوا موسم کو اور بھی خوشگوار بنا رہی تھی۔ مارگلہ ہلز کی خوبصورتی اس حسین موسم میں مزید نکھر رہی تھی۔
اسی ماحول میں “حاکم ہائی رائز” کی عمارت اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ ایستادہ تھی۔ ہر طرف ورکرز کام میں مصروف تھے۔ کانفرنس روم کی شیشے کی کھڑکیوں سے مارگلہ ہلز کی روشنی سیدھی میز پر گر رہی تھی۔ میز کے چاروں طرف اسٹارٹ اپ کی ٹیم اپنے لیپ ٹاپ اور نوٹ بکس کے ساتھ بیٹھی تھی۔ کمرے میں ہلکی سی کافی کی خوشبو اور وائٹ بورڈ پر اسکچ شدہ فلور پلان کی خوشبو مکس ہو رہی تھی۔
مرزا حاکم سیدھی وضع قطع کے ساتھ ٹیم ممبران کے سامنے کھڑے تھے۔ چہرے پر اعتماد بھری مسکان تھی اور آنکھوں میں وہ تیز نظر جو ہر تفصیل کو نوٹ کر لیتی ہے۔
“ہم یہاں صرف ایک جگہ ڈیزائن نہیں کر رہے،” مرزا حاکم نے اپنی گہری آواز میں کہا، “ہم ایک ایسی جگہ بنا رہے ہیں جو لوگوں کو متاثر کرے، جو ان کے کام اور تخلیقی صلاحیت کو بڑھائے۔”
ٹیم کے لوگ نوٹ لے رہے تھے، اور مرزا نے وائٹ بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فلور پلان کے زاویے اور روشنی کی پوزیشننگ سمجھانی شروع کی:
“یہاں نیچرل لائٹ کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہوگا۔ دیکھیں، یہ کونر – اگر ہم گلاس پارٹیشن لگائیں، تو توانائی اور پازیٹیویٹی دونوں کا بہاؤ بڑھے گا۔ اور یہ دیواریں، نیوٹرل ٹون کے ساتھ سافٹ ٹیکسچر میں ہوں گی – تاکہ جو بھی روم میں داخل ہو، اسے ایک پر سکون اور پیداواری ماحول محسوس ہو۔”
ایک ٹیم ممبر نے پوچھا، “اور میٹنگ ایریا کا کیا تصور ہوگا؟”
مرزا نے ہلکی سی مسکان کے ساتھ کہا، “میٹنگ ایریا… سادہ اور فنکشنل ہوگا، لیکن خوبصورتی ضائع نہیں ہوگی۔ فرنیچر ماڈیولر ہوگا، تاکہ لچک ہو۔ ہر پیس کا ڈیزائن مقصد کے تحت ہوگا۔ میں کمپرومائز قبول نہیں کرتا – معیار اور جمالیات دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔”
ان کی آواز میں ایک اثر و رسوخ تھا جو روم کے ہر کونے میں محسوس ہو رہا تھا۔ ہر لفظ، ہر اشارہ، ٹیم کو ایک مشن اور فوکس کے ساتھ متاثر کر رہا تھا۔
میٹنگ کا ماحول پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ تخلیقی توانائی سے بھرپور تھا۔ مرزا حاکم کے مکالمے اور اندازِ بیان نے ٹیم میں اعتماد اور جوش پیدا کیا، اور اسٹارٹ اپ کے پروجیکٹ کا وژن اب ہر ایک کے ذہن میں صاف اور واضح ہو گیا تھا۔
“عزیز، اگلی میٹنگ کس وقت ہے؟” وہ کانفرنس روم سے نکلتے ہی اپنے قدم ہیڈ آفس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔
“سر، تین گھنٹے کے بعد ہے،” عزیز جو اس کے ساتھ ہی نوٹ پیڈ اُٹھائے ایک قدم پیچھے چل رہا تھا، فوراً جواب دیتا ہے۔
“صحیح! اور آج انٹرویوز تھے، وہ لیے ہیں تم نے؟” وہ اپنے آفس میں آتے ہی اپنی کرسی کی طرف بڑھا۔
“جی سر، لے لیے ہیں، میں نے صرف تین لوگ سلیکٹ کیے ہیں فائنل انٹرویو کے لیے۔”
“رائٹ، پندرہ منٹ بعد ان کو انٹرویو کے لیے بھیجنا۔”
“اوکے سر،” عزیز ہامی بھرتا ہوا باہر کی طرف روانہ ہوا، جبکہ مرزا لیپ ٹاپ کھولے اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد۔
“شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ پولیس اسٹیشن کے باہر پڑی زرد روشنی دروازے کے نیچے سے اندر گر رہی تھی۔ اندر داخل ہوتے ہی باسی کاغذوں اور پرانی لکڑی کی ملی جلی بو تمہارا استقبال کرے گی۔
اس کے برعکس، ملاقاتی کمرے میں تناؤ پھیلا تھا۔ کمرے میں جلتے پیلے بلب کی روشنی سے ماحول مزید پراسرار ہو رہا تھا۔ کمرے کے وسط میں بھوری لکڑی کی میز تھی اور دونوں اطراف کرسیاں تھیں، جن میں سے ایک پر وہ بیٹھے تھے۔
قیدیوں والا میلا لباس پہنے، جھریوں زدہ چہرہ اور بے رنگ آنکھیں۔ ان کی حالت دیکھ کر ہر گز یہ گمان نہ ہوتا تھا کہ کبھی یہ ملک کا بہت بڑا بزنس ٹائیکون، بادشاہوں والی زندگی گزار رہا ہو گا۔
آہ! سائفر واقعی موت سے کٹھن سزا دیتا تھا۔
یک دم، ملاقاتی کمرے کا دروازہ مدھم آواز سے کھلا اور وہ اندر داخل ہوا۔
بلیک تھری پیس سوٹ، بال جیل سے سیٹ کیے، خوشبوؤں سے رچا بسا وجود سیاہ آنکھوں اور وجہیہ چہرہ والا ازمیر علی، سنجیدہ تاثرات لیے، ہاتھ میں ایک فائل پکڑے، کمرے میں داخل ہوتا ہے اور اسی کے پیچھے ایک پولیس اہلکار بھی کمرے میں داخل ہوتا ہے۔
“تم جا سکتے ہو،” ازمیر فائل میز پر رکھتا ہے اور کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنے پیچھے کھڑے پولیس اہلکار سے کہتا ہے، جو فوراً تعابداری سے چلا جاتا ہے۔
“دیکھو وکیل صاحب، مجھے کسی بھی حال میں یہاں سے نکالو، میں اب اور یہاں نہیں رہ سکتا۔”
پینتیس سالہ درانی بے زاری سے کہتا ہے، پچھلے ہفتے ہی اس کی ملاقات اس کے باپ سے ہوئی تھی، جن کا کہنا تھا کہ درانی کا کیس کوئی بھی وکیل لینے کے لیے تیار نہیں ہے، مگر وہ یقین دلا کر گئے تھے کہ وہ کسی نا کسی وکیل کا بندوبست کر ہی لے گے۔
ازمیر ریلیکس ہوئے، کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے، ٹانگ پر ٹانگ چھڑائے، بائیں ہاتھ کی پہلی دو انگلیوں کو کرسی کے ہتھے پر اوپر نیچے کرتے، اپنی سیاہ چمکتی آنکھیں اس پر گاڑے ہوئے تھا۔
“آپ کو اتنا یقین کیسے ہے کہ میں آپ کو ان سب جھمیلوں سے نکال لوں گا؟” یک دم ازمیر ایک آئی برو اچکائے سوال پوچھتا ہے۔
“ظاہر سی بات ہے بابا، کسی ایرے غیرے وکیل کو تو بھیجنے سے رہے،” درانی نے گویا ناک سے مکھی اڑائی۔
“خیر، پھر ان سب حالات سے نکلنے کے لیے، آپ کو اپنے وکیل کو اعتماد میں لینا ہو گا اور اس کے ساتھ کاپریٹ کرنا ہو گا،” ازمیر ٹانگ سے ٹانگ ہٹاتا آگے کو ہوا، سنجیدگی سے گویا ہوتا ہے اور فائل کھولتے ہوئے اپنے کوٹ کی جیب سے پین نکالتا، اور اس پر الفاظ گھسیٹتے بولتا ہے۔
“ہاں ہاں، ٹھیک،” درانی صاحب نے کندھے اچکاتے کہا۔
“تو پھر سب سے پہلے تو مجھے یہ بتائے، اب تک کہاں، کہاں آپ اسمگلنگ کر چکے ہیں؟”
“زوروچی، بھارت اور سعودی،” درانی آگے کو ہوتا فوراً جواب دیتا ہے، اسے اپنے وکیل کے ساتھ کاپریٹ کرنا تھا۔
پیلے بلب کی روشنی اور پراسرار ماحول میں، وہ دونوں اب ایک نئی کاروائی میں لگ چکے تھے۔
“اور کس، کس چیز کی؟” ازمیر اس کی باتیں پیپر پر نوٹ کرتا پوچھتا ہے۔
“زوروچی میں اسلحہ کی اسمگلنگ کی تھی، بھارت اور سعودی میں ڈرگز اسمگل کیا تھا،” درانی ہلکے پھلکے انداز میں جواب دیتا ہے۔
“آپ کے ساتھ جو لوگ انوالو تھے، ان کا نام بتائے۔”
“درشن، شیکھر، سلیمان آفندی ، اور یہی اپنا بزنس مین احمد لغاری یہ سب اسمگلنگ میں پارٹنر تھے میرے ۔”
“آپ کو ان میں سے کسی پر شک، کہ ان میں سے ہی کسی نے آپ کے خلاف ریپورٹ کی ہے؟”
“نہیں، ان میں سے کسی پر شک نہیں ہے مجھے،” درانی یقین سے بولا۔
“کسی اور پر؟” ازمیر فائل سے نظریں اٹھائے اسے دیکھتے بولا۔
“نہیں، مجھے کسی پر شک نہیں ہے،” درانی اٹل لہجے میں بولا۔
ازمیر کی سیاہ چمکتی آنکھیں اس پر ٹکی، اسے درانی کی آنکھوں میں یقین نظر آیا۔
“بلکل، آپ کو کسی پر شک نہیں، کیوں کہ آپ اسے جانتے ہیں جس نے آپ کے الیگل کاموں کی ریپورٹ لیک کی ہے،” ازمیر مسکراتے ہوئے بولا۔
“بلکل وکیل صاحب، میں اسے جانتا ہوں،” درانی زہر خند لہجے میں بولا۔
“کون؟”
“سائفر، وہی (گالی) ہے، ان سب کے پیچھے۔”
“آپ کو کیسے پتہ کہ سائفر ہی ہے اس سب کے پیچھے؟” ازمیر نے اسے پر سوچ نظروں سے دیکھتے پوچھا۔
“کیوں کہ میں نے اسے مال دینے سے انکار کر دیا تھا، اس لیے اس حرام زادہ نے یہ کام سر انجام دیا ہے۔”
“سائفر سے آپ کی آواز آخری بار کب ہوئی تھی؟”
ازمیر کی بات سنتے، درانی ایک پل کو تو خاموش رہا، پھر پراسرار ماحول میں اس کا بے سرا قہقہ بلند ہوا اور وہ ہنستہ چلا گیا۔
“واہ! تم آخری ملاقات کی بات کر رہے ہو، میں اس سے پہلی بار بھی نہیں ملا،” ازمیر کی سنجیدہ مگر چھبتی نظریں خود پر محسوس کرتے، وہ اپنی ہنسی کو قابو میں کرتے بولا۔
“کیا مطلب؟”
“مطلب کہ اسے آج تک میں نے تو کیا، کسی نے بھی نہیں دیکھا سوائے اس کے پالتو دلاور کے، اس (گالی) کے ذریعے ہی ہم اس سے رابطہ کرتے ہیں۔”
ازمیر نے اس کی باقاعدہ تیسری گالی پر آنکھوں کو زور سے میچا۔ سامنے بیٹھا اتنا پڑھا لکھا انسان اپنی زبان اور لہجے سے ایک جاہل گنوار لگ رہا تھا۔
“مجھے پوری طرح سے سمجھائے بغیر پہلیاں بھجائے اور اپنی زبان کے تیور دیکھائے،” ازمیر چبا چبا کر گویا ہوا۔
درانی اس کی بات سمجھتے ہوئے اسے تنظیہ گھور کر دیکھتا ہے، “اس وکیل میں کچھ زیادہ ہی نخرے تھے،” وہ بے زاری سے سوچتے ہوئے آگے کو ہوئے اور بولنا شروع کیا۔
“پہلی بات، سائفر ایک بھید ہے۔ ایک ایسا راز جسے کوئی نہیں جانتا، اور نہ ہی کسی نے اسے دیکھا ہے، بلکہ دیکھنا تو دور، کسی نے آج تک اس کی آواز بھی نہیں سنی۔ جتنے بھی اسمگلر ہیں، اس کے دائیں ہاتھ دلاور کے ذریعے ہی اس سے رابطہ کرتے ہیں، وہی اس کے پیغام ہم تک پہنچاتا ہے۔
اور دوسری اہم بات، سائفر خود اسمگلر نہیں ہے اور نہ ہی ہم سب کو اون کرتا ہے۔ وہ صرف ایک راستہ ہے، وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ اسمگلنگ کرنے میں ٹرانسپورٹ کا کام کرتا ہے، اور اس کے بدلے میں بہت موٹی رقم وصول کرتا ہے۔
اسے کمیٹمینٹ توڑنے والوں سے سخت چڑ ہے۔ اکثر غیر ملکی اسمگلرز اس سے رابطہ کرتے ہیں کہ انہیں فلاہ مال چاہیے تو وہ ان کو پرووائیڈ بھی کرتا ہے، جو مال دینے سے انکار کرے وہ جبر نہیں کرتا، مگر جو کہنے کے بعد میں مکر جائے، پھر وہ اسے نہیں چھوڑتا۔
میں نے بھی اسے کہا تھا کہ مال دوں گا، مگر پھر مجھے لالچ آ گیا اور میں نے سٹیفن کو مال دے دیا، اور اب اس کی تیار کردہ آگ میں جل رہا ہوں۔”
درانی ازمیر کو پوری بات بتاتا، آخر میں جل کر بولا۔
“وہ سب تو ٹھیک ہے، مگر آپ سب اس پر کیسے یقین کر سکتے ہیں، جب کہ آپ میں سے کوئی بھی اس کے بارے میں نہیں جانتا؟”
ازمیر نے پورے تحمل سے اس کی بات سنی اور اپنا سوال اس کے سامنے پیش کیا۔
“ابھی کہا نا، میں نے وہ کمیٹمینٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتا ، جس طرح اسے ہماری دھوکہ دہی پسند نہیں، اس نے بھی آج تک ہمارے ساتھ کسی قسم کا دھوکہ نہیں کیا۔ سائفر کے پاس صرف پیغام پہنچانا ہوتا ہے کہ مال سپلائی کروانا ہے، آگے کا سارا کام وہ خود دیکھ لیتا ہے، اپنے کام میں بہت پرفیکٹ ہے وہ۔”
درانی آخر میں بے اختیاری میں اس کی تعریف کرتا بولا۔
“اچھا، کب سے کر رہا ہے وہ یہ کام؟”
“مجھے تو ابھی سات سال ہوئے ہیں اس کے ساتھ، مگر وہ بہت پہلے سے یہ کام کر رہا ہے۔ بوڑھا کسی بھی وقت ٹپک سکتا ہے۔”
ازمیر گہرا سانس بھرتا، پیچھے کو ہوا، اور کنپٹی مسلتے ہوئے اس نے فائل بند کی۔
خیر ، دلاور کا نمبر ہے آپ کے پاس ؟
نہیں میرے پاس نہیں ہے احمد لغاری کے پاس ہے یہ رابطے والے کام وہی دیکھتا تھا ، درانی نے ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے ، ازمیر گہرا سانس بھرتے آگے کو ہوا
“اچھا، تو یہ بتاؤ، میری پہلی سماعت کب ہو گی؟” درانی اس کی جانے کی تیاری دیکھ بے تابی سے پوچھتا ہے۔
“مجھے کیا معلوم،” ازمیر فائل اٹھاتے چونک کو بولا۔
“کیا مطلب؟ کیا معلوم؟ سماعت کے بنا ہی جیل تڑوا کر مجھے یہاں سے نکالو گے یا جج کو یہاں لاؤ گے؟” درانی نے دانت پیستے کہا۔
“آپ کو کیوں لگتا ہے میں آپ کو یہاں سے نکالو گا؟” ازمیر بے زاری سے بولتا ہے۔
“ہوش میں تو یا سائفر کا سنتے ہی پھٹ گئی ہے!” درانی نے غراتے ہوئے کہا، اسے سامنے بیٹھے وکیل کے تیور ٹھیک نہیں لگے تھے۔
“میں بلکل ہوش میں ہوں، لیکن آپ بلکل ہوش میں نہیں ہیں۔ آپ کو یہاں سے نکالنا میرا کام نہیں، آپ کے وکیل کا ہے،” ازمیر پہلی بار مُسکراتے ہوئے بولا۔ اس کی مسکراہٹ میں شیطانی چھپی تھی۔
“کیا مطلب، میرا وکیل؟ تم ہو میرے وکیل!” وہ یک دم دھاڑے تھے۔
“میں نے آپ سے کہا میں آپ کا وکیل ہوں؟” ازمیر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“تم۔۔۔ نے تو کہا وکیل پر۔۔۔”
“بلکل، میں نہ کہا تھا، آپ اپنے وکیل کو اعتماد میں لیجے گا، جو شاید ابھی آنے ہی والا ہو گا،” ازمیر ان کی لڑکھڑاتی ہوئی بات کو بیچ میں کاٹتے ہوئے بولا۔
درانی صاحب کو کمرے کی چھت خود پر گرتی محسوس ہوئی۔ واقعی، اس نے تو ایک بار نہیں کہا تھا کہ وہ اس کا وکیل ہے، یہ تو انہوں نے خود ہی اخذ کر لیا تھا۔
“دیکھو، تم مجھے دھوکہ نہیں دے سکتے۔ میں نے تمہیں ساری انفارمیشن دے دی ہیں، اسمگلرز کے نام بتا دیے ہیں، مجھے مزید مصیبت میں نا پھنساو!” درانی صاحب کو اپنی موت ایک قدم کی دوری پر نظر آئی۔ سائفر موت نہیں دیتا تھا، مگر اسمگلرز ضرور مار دیتے تھے۔
“میں نے آپ کو دھوکہ نہیں دیا، درانی صاحب، میں تو صرف یہاں آپ سے ملاقات کے لیے آیا تھا۔ اب آپ سے ملاقات اتنی فائدہ مند ہو گی، یہ نہیں معلوم تھا،” ازمیر شرافت سے کہتا، کرسی سے اٹھتا، قدم دروازے کی جانب بڑھا گیا۔
درانی حیرت سے اس کی پشت کو دیکھتے رہے گئے۔
ملاقات، وہ صرف ملاقات کے لیے آیا تھا ، وہ غراتے ہوئے اب اس کو گالیوں سے نواز رہے تھے مگر ملاقات کرنے والا جا چکا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
مرزا حاکم کے آفس میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ بکس ریک میں رکھی تاریخی کتابیں اسے منہ چڑاتے دیکھ رہی تھیں۔
وہ گلاس وال کے سامنے کھڑا، اسلام آباد کی رونقوں میں کھویا ہوا تھا کہ اچانک خاموشی میں خلل پیدا کرتے ہوئے دروازہ ہلکی سی دستک سے کھلا۔
کتابوں نے نظروں کا زاویہ دروازے کی جانب موڑا اور پھر جیسے بد مزہ ہوتے ہوئے، گہری سانس بھر کر رہ گئیں۔
“سر، یہ کچھ فائلز ہیں جنہیں آپ نے اپروو کرنی ہیں اور یہ انٹرویو میں ولنگ ممبرز کی فائلز ہیں،” عزیز آفس میں داخل ہوتے ہوئے مرزا حاکم کی پشت کو دیکھتے کہتا ہے اور فائلز میز پر رکھ دیتا ہے۔
مرزا گہری سانس خارج کرتے ہوئے پلٹا اور اپنی کرسی پر براجمان ہوا۔
“سعید نے پوجیکٹ ٹو کے ڈیزائن مکمل کر لیے ہیں؟” وہ ایک فائل ہاتھ میں لیے اپنے سامنے مؤدب سے کھڑے عزیز کو دیکھ کر سوال کرتا ہے۔
“نہیں سر، وہ کہہ رہے تھے آج رات سات بجے تک وہ مکمل کر دیں گے۔”
“ٹھیک ہے، تم ممبر ون کو اندر بھیجو۔”
“راجر باس،” عزیز اثبات میں سر ہلاتا اور باہر چلا گیا۔
عزیز کے کمرے سے جاتے ہی ایک بار پھر خاموشی پھیل گئی۔ کتابوں نے بھی مایوسی سے آنکھیں بند کر لیں۔
مرزا نے پین اٹھایا اور فائل پر مارک کرنے لگا۔
ابھی دو ہی جگہوں پر وہ نشان لگا پایا تھا کہ پین نے لکھنے سے انکار کر دیا۔ وہ جھنجھلا کر اور پین اٹھانے کے لیے کرسی کو دائیں جانب تھوڑا سا گھما کر ٹیبل ڈرار کھولنے کے لیے جھکا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس،” وہ اسی طرح سر نیچے جھکائے جواب دیتا ہے۔
دروازہ آہستہ سے کھلتا ہے اور کوئی اندر داخل ہوتا ہے۔ بلاک ہیل کی مدھم پرسوز آواز کمرے میں گونجی، گہری خاموشی میں ارتعاش پیدا کر گئی ۔
ہیل کی خوشگوار آواز سنتے کتابیں پٹ سے آنکھیں کھولتی ہیں اور نظروں کا زاویہ ایک بار پھر دروازے کی جانب موڑتی ہیں، اور اس بار ان کے چہرے پر دلچسپ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔
ابھی وہ پین اٹھا لینے کے بعد واپس کرسی سیدھی کرتا ہی ہے کہ سامنے سے آتے وجود کو دیکھ کر مرزا حاکم ایک پل کے لیے ساکت ہو جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عزیز مرزا حاکم کے آفس سے باہر آتا ہے اور اپنے قدم دائیں جانب بنے روم کی طرف بڑھا دیتا ہے۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر دائیں جانب سنگل صوفے پر بیٹھی لڑکی پر پڑتی ہے۔
اس نے ہلکی بھوری سکرٹ کے ساتھ وائٹ بٹن شرٹ اور ہلکا بھورا ہی اوور کوٹ زیب تن کر رکھا تھا۔ سلکی بھورے بال ڈھیلے میسی جھوڑے میں قید تھے اور سامنے سے دو لٹیں چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔
“Boss is waiting for you, Miss Sahiba Shah.”
عزیز نے ٹانگ پر ٹانگ چھڑائے، موبائل پر سکرول کرتی ہوئی صاحبہ شاہ کو دیکھ کر کہا۔
صاحبہ نے نظریں اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے کم عمر نوجوان کو دیکھا، درمیانہ قد، کالی جینز پر وائٹ ٹی شرٹ، صاف شفاف چہرے پر موٹی فریم والا نظر کا چشمہ لگائے، وہ مسکرا کر یا یوں کہنا بہتر ہو گا کہ دانت دکھاتے اسے دیکھ رہا تھا۔
صاحبہ اس پر سنجیدہ نظر ڈالتی ہے، اٹھتی ہے اور قدم باہر کی جانب بڑھا دیتی ہے۔
مرزا حاکم کے آفس کے سامنے رک کر اس نے ہلکی سی دستک دی اور فوراً جواب ملنے پر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ وائٹ بلاک ہیل کی مدھم آواز پورے کمرے میں گونجی۔
ہیل کی خوشگوار آواز سنتے کتابیں پٹ سے آنکھیں کھولتی ہیں اور نظروں کا زاویہ ایک بار پھر دروازے کی جانب موڑتی ہیں، اور اس بار ان کے چہرے پر دلچسپ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔
ڈرار سے ایک سیاہ مگر قیمتی پین اٹھاتے ہوئے مرزا مڑتا ہی ہے کہ سامنے سے آتی صاحبہ شاہ کو دیکھ کر وہی ساکت ہو جاتا ہے ، مگر صرف ایک پل کے لیے اگلے ہی لمحے وہ چہرے پر اپنی ازلی مسکراہٹ سجا جاتا ہے ۔
صاحبہ شاہ یوں ہی سنجیدگی سے اس کی ٹیبل سے ایک قدم دور رک جاتی ہے۔
“گڈ مارننگ،” صاحبہ شائستگی سے کہتی ہے، اس کی آواز سننے میں نرم محسوس ہوتی تھی۔
“گڈ مارننگ، Miss Sahiba. Have a seat,” مرزا مسکرا کر ہاتھ کے اشارے سے اسے میز کے دوسری جانب رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے۔
صاحبہ کرسی پر بیٹھتی ہے اور ہاتھ میں پکڑی بلیو کور والی فائل مرزا حاکم کو دے دیتی ہے۔
مرزا کے پیچھے گلاس وال سے نظر آتے سبز سبز پہاڑ انتہائی خوبصورت دکھائی دے رہے تھے، گہرے بادلوں کا ان کے گرد احاطہ، ان پہاڑوں کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔
“اوکے، تو آپ کے نزدیک ایک بہترین PR manager میں کیا کوالٹیز ہونی چاہیے؟” مرزا اس کی فائل کو واپس سے بند کر کے ایک جانب رکھتے ہوئے پوچھتا ہے۔
صاحبہ جو گلاس وال سے نظر آتے حسین منظر کو دیکھ رہی تھی، نظروں کا زاویہ مرزا حاکم کی طرف موڑتی ہے۔
مرزا حاکم کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے، ٹانگ پر ٹانگ چھڑائے، مسکرا کر اپنے سامنے بیٹھی خوبصورت لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔
صاحبہ ایک پل کے لیے اسے دیکھتی ہے اور پھر سنجیدگی سے گویا ہوتی ہے ۔
“میرے نزدیک ایک بہترین PR manager میں کوالٹیز نہیں، کوالٹی ہونی چاہیے۔”
“اوکے ویل! تو وہ کون سی کوالٹی ہے؟” مرزا اس کی بات پر چیلنج دیتے لہجے میں بولا۔
“Loyalty.”
جواب فوراً آیا۔
“Explain me.”
مرزا دائیں ہاتھ کی کہنی کرسی کے دائیں ہنڈل سے ٹکاتے، اسی ہاتھ کی بند مٹھی ہونٹوں پر ٹکائے، اسے پر سوچ نظروں سے دیکھتا ہے۔
“اپنی کمپنی، اپنے باس اور اپنے عہدے کے ساتھ وفاداری ہی ایک بہترین PR manager کی نشانی ہوتی ہے، حالات چاہے جیسے بھی ہو جائیں، ایک PR manager کو اپنی کمپنی کے شانہ بہ شانہ ساتھ رہنا ہو گا۔”
“اور اگر باس کرپٹ ہو تو؟” مرزا تنظیہ سوال پوچھتا ہے۔
“تب یہ دیکھو کہ کرپشن کس کے ساتھ ہوئی ہے،” صاحبہ چمک بھری مسکراہٹ لیے اسے دیکھ کر کہتی ہے۔
“اگر عوام کے ساتھ کرپشن کی جائے تو؟”
“اپنے باس کا ساتھ دینا چاہیے کیوں کہ عوام کے گناہ گار کو پکڑنے کے لیے بہت سی فورسسز تیار ہوتی ہیں۔”
“اور اگر ایمپلوئے کے ساتھ کرپشن کی جائے تو؟”
“تو باس کو کرپشن کا اصلی مطلب اور طریقہ سیکھا کر ریزائن لیٹر تحفہ میں پیش کر کہ اپنا راستہ الگ کر لینا چاہیے۔”
صاحبہ کا جواب سنتے کتابیں فخر سے جتاتی مسکراہٹ سے اس آدھے ترک کو دیکھتی ہیں، جبکہ مرزا بے ساختہ ہنس دیتا ہے۔
سامنے بیٹھی لڑکی حاضر جواب تھی۔
“تو مس صاحبہ، آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ میری امیج سنبھالنے کے لیے بہترین آپشن ہیں؟”
“کیوں کہ میں صرف لوگوں کو نہیں، ان کے نظریے بھی سمجھتی ہوں۔”
“اوکے! میری ریپوٹیشن کے لیے سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ثابت ہو گا ؟”
“لوگوں کا انداز۔۔۔ اور میں لوگوں کا انداز آپ کی فیور میں بدل دوں گی۔”
مرزا حاکم ہنوز اس کی طرف دیکھتے ہوئے سوال در سوال پوچھتا ہے۔ وہ اسے کنفیوز کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر سامنے والی ہر انداز میں ڈھیٹ تھی اور یہ بات مرزا حاکم کو بھا رہی تھی۔
کتابیں دلچسپی کے ساتھ وہ سوال جواب کا سلسلہ دیکھ رہی تھی ، ان کی نظریں گیند کی طرح ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی ۔
“اگر یہ بزنس، آپ کے آئڈیاز سب کچھ فیل ہو جائیں تو پھر کیا کریں گی؟”
“فیل ہونا ایک سگنل ہے۔۔۔ نئے راستے کھولنے کا اور میں ہمیشہ نئے راستے ڈھونڈ لیتی ہوں۔”
“فیوچر میں خود کو کس مقام پر دیکھنا چاہتی ہیں؟”
“وہ مقام جہاں ہر پروبلم میرے لیے چیلنج اور ہر سلیوشن میرے کنٹرول میں ہو۔”
صاحبہ مسکرا کر کہتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتی ہے۔
وہ شاید نہیں، یقیناً مرزا حاکم کو لا جواب کر چکی تھی۔
کتابوں کی گردن میں تو جیسے سڑیا لگ گیا تھا، ایک عرصے سے وہ اس آدھے ترک کو نا جانے کتنے لوگوں کو لاجواب کرتے دیکھ رہی تھیں۔ آج پہلی بار اس کی زبان تالو سے چپکتے دیکھ، انہیں بے حد خوشی ہوئی ۔
مرزا اسے سراہتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹاتے، اپنا ہاتھ انٹر کام کی طرف بڑھاتا ہے۔
“ایکسی لینٹ، مس صاحبہ” ۔
“ایک منٹ۔۔۔” مرزا جو ابھی انٹر کام اٹھا کر کان سے لگانے ہی والا تھا، صاحبہ کی آواز پر چونک کر اسے دیکھتا ہے۔
“پہلے آپ یہ دیکھ لیجیے،” صاحبہ کوٹ کی جیب سے ایک لیٹر نکال کر اس کی طرف بڑھاتی ہے۔
مرزا نا سمجھی سے اس کے ہاتھ سے لیٹر تھامتا ہے اور کھول کر اس کے اندر موجود کاغذ نکالتا ہے اور اسے پڑھنے لگتا ہے۔
دھچکا تو مرزا حاکم کو اب لگا تھا۔ بھنویں سکیڑے، ایک ایک کر کے اس پر لکھے اصول پڑھتا ہے۔
“یہ کانٹریکٹ پیپر ہیں، مسٹر حاکم! جو میری طرف سے آپ کے اور میرے بیچ میں ہو گا، اس میں کچھ اصول درج ہیں جنہیں آپ کو فالو کرنا پڑے گا،” صاحبہ پیپر پر نظریں جمائے مرزا کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہتی ہے۔
رول نمبر 1: میں اپنے آئڈیاز سامنے رکھنے میں آزاد رہوں گی، مجھ پر کسی قسم کا پریشر نہیں ڈالا جائے گا۔
رول نمبر 2: تین سال تک میں ہی آپ کی کمپنی کی PR manager رہوں گی، ادروائز اگر میں چاہوں تو خود یہ کمپنی چھوڑ سکتی ہوں۔
رول نمبر 3: کوئی ذاتی جملہ، رویہ یا تنظ جو احترام کو ٹھیس پہنچائے، ناقابلِ قبول ہو گا۔
رول نمبر 4: پرسنل لائف سے ریلیٹڈ بات اور معاملات پر تبصرے یا مداخلت نہیں کی جائے گی۔
رول نمبر 5: غیر ضروری تاخیر اور بغیر شیڈول رابطہ پیشہ ورانہ بد نظمی تصور کیا جائے گا۔
رول نمبر 6: ہمارے درمیان پیشہ ورانہ رشتہ برقرار رہے گا، ذاتی حدود سے تجاوز ممنوع ہے۔
رول نمبر 7: جو ذمہ داریاں طے کی گئی ہوں گی صرف وہیں سر انجام دی جائیں گی، کوئی بھی اضافی کام بغیر رضامندی شامل نہیں کیا جائے گا۔
رول نمبر 8: آپ سے پوری امید کی جائے گی کہ آپ اوپر درج ہر باؤنڈری کا احترام کریں گے بغیر آفینسو ہوئے۔
رول نمبر 9: ان تمام اصولوں میں سے کسی ایک بھی اصول کو توڑنے پر میری سیلری دو گنا بڑھا دی جائے گی۔
رول نمبر 10: میرے ساتھ ہر حال میں پراپر کاپریش کی جائے گی۔
“ادروائز، میری طرف سے کبھی آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا اور نہ ہی کبھی آپ مایوس ہوں گے، میں اپنا کام پوری لایولیٹی سے سر انجام دوں گی اور اپنی ہر کہی گئی بات پر پورا اتروں گی۔”
مرزا کو یہ ساری صورتحال پراسس کرنا دشوار لگ رہی تھی۔ کبھی یہ صورتحال اس پر آئی ہی کہاں تھی؟
وہ ہونق بنا کاغز ہاتھ میں لیے کئی پل بیٹھا رہا ۔
کاغذ میز پر رکھتے، وہ گہری سانس بھرتا، دوبارہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتا ہے اور سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھتا ہے، جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
مرزا نے اس کی بے تاثر بھوری آنکھوں میں جھانکا، اس کی آنکھوں کا رنگ؛ مرزا کو لگا جیسے اس نے یہ پہلے بھی کہیں دیکھ رکھا ہو۔
“مسٹر حاکم، آپ نے کیا سوچا؟”
مرزا، صاحبہ کی سنجیدہ آواز پر، اپنے خیالوں سے باہر نکلتا ہے۔
“اگر میں سائن نہ کروں تو؟”
“تو میں راستہ بدل لوں گی۔”
اس کے جواب پر مرزا دائیاں آئی برو اچکاتا ہے۔
کتابیں سانس روکے مرزا کو دیکھ رہی تھیں، کیونکہ وہ جانتی تھیں یہ آدھا ترک کبھی اس کی بات نہیں مانے گا۔
مرزا کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹاتے آگے کو ہوا، ایک سنجیدہ نگاہ صاحبہ پر ڈالی، اور پھر وہی نگاہ بھرپور مسکراہٹ میں پھیل گئی۔
اس نے پین اُٹھایا اور کاغذ کے آخر میں اپنے نام کی مہر لگائی۔
کتابیں حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھیں، جہاں انہیں بے انتہا خوشی ہوئی، وہی حیرت بھی ہوئی، مطلب آدھا ترک مان گیا ؟ واقعی؟
“یہ لیجیے، مس صاحبہ،” مرزا نے مسکراتے ہوئے کاغذ اس کی جانب بڑھایا اور انٹر کام کان سے لگاتے عزیز کو باقی دو کینڈیڈیٹ کو واپس بھیجنے کا کہہ کر اسے اپنے آفس میں بلایا۔
“یس سر، عزیز اجازت منلے،” پر مرزا کی میز تک آیا۔
“انہیں ان کا آفس دکھا دو اور کام بھی سمجھا دو، یہ آج سے ہی جوائن کر رہی ہیں،” مرزا عزیز کو دیکھتے مسکرا کر کہتا ہے۔
عزیز نے پورے دانتوں کی نمائش کرواتے صاحبہ کو دیکھا تھا ۔
صاحبہ کانٹریکٹ پیپر اور اپنی فائل اٹھاتے ہوئے عزیز کے ساتھ ہی کمرے سے چلی جاتی ہے۔
مرزا حاکم بند دروازے کو دیکھ کر گہرا سانس بھر کر رہ جاتا ہے۔
ریکس میں رکھی کتابیں آپس میں سرگوشیاں کرنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور
گہری شام لاہور کو آہستہ آہستہ اپنے اندھیرے میں چھپا رہی تھی، حبس زدہ سا ماحول پھیلا ہوا تھا، فضا میں جیسے عجیب سی گھٹن چھائی ہوئی تھی۔
یہی عجیب سی گھٹن ہسپتال کے راہداری میں چلتے ڈاکٹر طاہر کو محسوس ہو رہی تھی، انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں دو کافی کے کپ تھام رکھے تھے اور ان کے قدم روم نمبر 11 کی جانب رواں تھے۔
انہوں نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔
کمرا باہر کے اندھیرے کے برعکس روشنی میں نہایا ہوا تھا، وہ سامنے ہی بیڈ پر بے سدھ، گہری نیند کی وادیوں میں تھی۔
ڈاکٹر طاہر قدم قدم چلتے اس تک آئے اور اس کے بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ کر نظریں اس کے چہرے پر گاڑیں۔
آج دوپہر کو ہی گھر کے تمام افراد پلویشا کے ہوش میں آنے کا سن کر اسے دیکھنے آئے تھے، ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا، مگر پلویشا کو سوتا پا کر وہ بہت ساری دعاؤں سے نواز کر واپس اپنے راستے روانہ ہو گئے تھے۔
ڈاکٹر طاہر نے کافی کا کپ میز پر رکھتے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر بندھی پٹی کے اوپر ہی بھوسہ دیا۔
وہ “ڈاکٹر” تھے، ان کی اپنی ایک زندگی تھی، ان کے سر پر بہت سی زمہ داریوں کی تلوار لٹک رہی تھی، مگر وہ پچھلے ایک مہینے سے اپنا پیشہ، اپنی ذات، اپنی زمہ داریوں کو فراموش کیے ہوئے تھے۔ اگر کوئی مقصد پیچھے رہ گیا تھا تو وہ پلویشا دائم تھی، کسی کی فکر تھی تو وہ پلویشا دائم تھی۔ وہ ٹوٹ چکے تھے، پلویشا کے ساتھ ہوئے حادثے کے لیے نہیں بلکہ پلویشا کے زخموں کو دیکھ کر، اس کا درد محسوس کر کے، ان سے پلویشا کو اتنی تکلیف میں نہیں دیکھا جا رہا تھا۔
وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھے جا رہے تھے اور ، بکھری بکھری سی پلویشا دائم کو دیکھ کر ڈاکٹر طاہر کے ذہن میں ایک ماہ پہلے کے منظر گھوم گئے۔۔۔
ایک ماہ پہلے
رات کے اندھیرے اور لاہور کی روشنیوں میں گھری سڑک پر ان کی کار تیز رفتار آگے بڑھ رہی تھی۔
“میں پہنچنے ہی والا ہوں، تم لوگ ریڈی ہو نا؟” چلتی کار میں ڈاکٹر طاہر کی آواز گونجی۔
“جی، ہم ریڈی ہیں،” فون کے اس پار موجود پلویشا کی آواز گاڑی میں گونجی۔
“چلو، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ۔”
ڈاکٹر طاہر، جو ابھی فون رکھنے ہی والے تھے، پلویشا کی آواز سنتے دوبارہ اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
“جی۔”
“وہ آپ نا۔۔۔” وہ جو پلویشا کی بات غور سے سن رہے تھے، یک دم انہیں ایک گاڑی کے چڑچڑاتے ٹائروں کی آواز اور پلویشا کی دلخراش چیخ سنائی دی۔
اس کی چیخ سنتے انہیں اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا، سٹیرنگ ان کے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا ٹھا۔
“پلویشا؟؟؟ پلویشا، کیا تم سن رہی ہو؟”
وہ لڑکھڑاتی کار کو ایک طرف کھڑا کرتا، مسلسل اسے آوازیں دے رہے تھے، مگر دوسری طرف تو جیسے سکوت چھا گیا تھا۔
انہیں اپنا دل رکتا محسوس ہو رہا تھا، وہ فوراً فون بند کرتے دوبارہ کار اسٹارٹ کر کے پارلر کی جانب کار بھگا لے گئے۔
گہری ہوتی رات نے افسردگی سے ڈاکٹر طاہر کو دیکھا تھا ۔
شاہ ہاوس میں، جہاں ابھی چار گھنٹے پہلے خوشیوں کا سماں تھا، وہ اب سوگواریت میں بدل گیا تھا۔
سارے مہمان جا چکے تھے، شاہ ہاؤس کے مکین پلویشا کی گمشدگی پر دہل کر رہ گئے تھے۔
پلویشا کا فون پارلر کے دائیں جانب مڑتی سڑک پر گرا ملا تھا، مگر پلویشا کا کہیں بھی نام و نشان نہیں تھا۔ وہ قہر ڈھاتی دلہن نا جانے کہاں غائب ہو گئی تھی۔
“اے ایس پی صاحب، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کار کو گزرتے کسی نے نہ دیکھا ہو؟” لاونج میں پھیلے سکوت کو ابراحیم صاحب کی آواز نے توڑا۔
صائم اور حارث پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر پلویشا کو ڈھونڈتے پھر رہے تھے، سمعیہ اور تائی جان تو بے جان سی ہوئی لاونج میں رکھے بڑے صوفے پر بیٹھی تھیں، جبکہ ردا اور محراب ایک جانب کھڑی بے آواز آنسو بہا رہی تھیں۔
“دیکھیے، ابراحیم صاحب، جس سڑک پر پلویشا میڈم کو اغوا کیا گیا ہے، اس جگہ کے آس پاس کہیں بھی CCTV کیمراز نہیں لگے تھے۔ اس طرح گاڑی کہاں گئی، یہ بتانا مشکل ہے۔”
“لیکن سر، یہ لازمی تو نہیں نا کہ پلویشا کو اغوا ہی کیا گیا ہے؟” ردا نے آنسو صاف کرتے اے ایس پی صاحب سے پوچھا۔
“بلکل بیٹا، ہم یہ بات ابراحیم صاحب کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر شاہ صاحب (ڈاکٹر طاہر) نے کہا ہے انہوں نے فون پر خود پلویشا کے قریب کسی کار کے رکنے کی آواز سنی تھی۔”
پھر اے ایس پی صاحب۔۔۔
اس سے پہلے ابراحیم صاحب کچھ کہتے، ان کی نظر لاونج کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ڈاکٹر طاہر پر پڑی۔
ڈھلکا وجود، شکستہ قدم اور تھکا ہوا ذہن، انہوں نے پارلر کے اردگرد، ہر جگہ چھان ماری تھی، مگر پلویشا کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔
ان کی زبان پر مسلسل پلویشا کی واپسی کی دعائیں تھیں۔
ابراحیم صاحب کی نظروں کا زاویہ دروازے کی جانب محسوس کرتے، لاونج میں موجود سب لوگوں نے دروازے کی جانب دیکھا۔
“طاہر، پلویشا کا۔۔۔”
اس سے پہلے تائی جان اٹھ کر ڈاکٹر طاہر کی طرف آئی، ڈاکٹر طاہر کی جیب میں ان کا فون بجنے لگا۔
انہوں نے سپاٹ تاثرات کے ساتھ جیب سے فون نکالا۔
ڈاکٹر ظہیر، کالنگ لکھا دیکھ کر ان کے چہرے پر بے زاری پھیل گئی۔ وہ بلکل بھی اس وقت کسی سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
ڈاکٹر طاہر ضبط سے کال اٹھا کر کان سے لگا گئے۔
“اسلام علیکم، ڈاکٹر طاہر! ابھی ابھی پلویشا کو یہاں زخمی حالت میں لایا گیا ہے ، ہم نے انہیں وارڈ میں داخل کر دیا ہے آپ آجائے ، ڈاکٹر ظہیر نے تحمل سے کہا ، جبکہ انکے الفاظ نے ڈاکٹر طاہر کو ساکت کر دیا تھا ۔
ڈاکٹر طاہر کو یوں ہی ساکت کھڑا دیکھ کر لاونج میں موجود ہر جان سانس روک چکی تھی۔
“میں ابھی آ رہا ہوں!” ڈاکٹر طاہر، ہوش کی دنیا میں آتے ہی، اجلت میں کہتے فوراً باہر کی جانب بھاگے۔
“بھائی صاحب، کیا بات ہے؟” ابراحیم اور اے ایس پی بھی تقریباً بھاگنے کے انداز میں ان کے پیچھے گئے۔
“یا اللّٰہ خیر کرنا!” تائی جان بے دم سی صوفے پر ڈھھے گئی۔
لاونج میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
ڈاکٹر ظہیر کی ہسپتال ، شاہ ہاسپیٹل سے بیس منٹ کے فاصلے پر تھی ، چونکہ ڈاکٹر طاہر اور ڈاکٹر ظہیر ایک دوسرے کو بہت پہلے سے جانتے تھے اس لیے انہوں نے پلویشا کو بھی دیکھ رکھا تھا ، جب ایک آدمی پلویشا کو دلہن کے لباس میں زخمی حالت میں لایا تو وہ اسے دیکھتے ہی پہچان گئے اور فوراً انہیں وارڈ میں بھیج کر پہلی فرصت میں ڈاکٹر طاہر کو کال کی تھی ۔
ڈاکٹر طاہر روم نمبر 11 کے باہر بے چین سے کھڑے تھے، جب کہ ڈاکٹر ابراحیم اور اے ایس پی صاحب ہسپتال کے سٹاف سے پلویشا کو لانے والے کے مطلق استفسار کر رہے تھے۔
روم نمبر 11 کا دروازہ کھلتا ہے اور ڈاکٹر ظہیر کے ساتھ ایک فیمیل ڈاکٹر باہر آتے ہیں۔
“کیا ہوا ہے پلویشا کو، ظہیر؟ وہ ٹھیک ہے نا؟” ڈاکٹر طاہر بے چینی سے ان کی جانب بڑھتے ہیں۔
ڈاکٹر ظہیر نے گہری سانس بھرتے ساتھ کھڑی فیمیل ڈاکٹر کو اشارہ کیا تو وہ وہاں سے چلی گئی۔
“ظہیر، کیا ہوا ہے پلویشا کو؟ وہ ٹھیک ہے نا؟”
ڈاکٹر ظہیر نے ان کی حالت پر آنکھوں کو سختی سے میچ کر کھولتے اپنی بات شروع کی:
“دیکھیے ڈاکٹر طاہر، پلویشا ٹھیک ہے۔۔۔ مگر سر پر گہری چوٹ لگی ہے، جس کی وجہ سے وہ۔۔۔ وہ کوما میں جا چکی ہیں۔”
ڈاکٹر طاہر کو لگا جیسے ہسپتال کی چھت ان کے سر پر آن گری ہے۔ وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹے۔
ڈاکٹر ظہیر نے آگے بڑھ کر انہیں تھاما۔
“ڈاکٹر طاہر، آپ پریشان نہ ہوں، وہ ایک ہفتہ میں بھی ہوش میں آ سکتی ہیں یا زیادہ سے زیادہ کچھ ماہ ہی لگیں گے۔”
ڈاکٹر طاہر نے انہیں نگاہیں چراتے دیکھ کر شکوہ کناں نظروں سے انہیں دیکھا۔
“ظہیر، مجھے پوری بات بتاؤ!” وہ خود کو کمپوزڈ کرتے رعب دار آواز میں بولے۔
ڈاکٹر ظہیر نے گہری سانس لیا۔
“دیکھیے ڈاکٹر طاہر۔۔۔ ڈاکٹر یاسمین (فیمیل ڈاکٹر) کا کہنا ہے۔۔۔ There were attempts to rape her — just attempts.”
ڈاکٹر ظہیر کی بات سنتے ، ڈاکٹر طاہر کے اندر باہر سکوت چھا گیا۔ ہر قسم کی آوازیں جیسے دم توڑ گئی تھیں۔ انہوں نے بے تاثر نظریں ظہیر کی جانب موڑیں۔
“اللّٰہ نے رحم کیا ہے، پلویشا ٹھیک ہے!”
ڈاکٹر طاہر کے کانوں میں جیسے پگھلا سیسہ انڈیل دیا گیا تھا، کتنے ہی پل وہ ساکت وجود کے ساتھ وہی ٹہرے، کوئی حساب نہ تھا۔
پلویشا کے ساتھ یہ سب ۔۔۔۔۔۔انہیں اپنے پورے وجود میں چونٹیاں رینگتی محسوس ہوئی ۔
کئی ساعتوں بعد وہ بغیر کوئی جواب ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں، مگر اگلے ہی پل وہ لڑکھڑا کر دیوار کا سہارا لیتے ہیں۔
ڈاکٹر ظہیر جو کب سے نم آنکھوں کے ساتھ ڈاکٹر طاہر کو دیکھ رہے تھے، دیوار کا سہارا لیتا دیکھ آگے بڑھتے ہیں۔
“ڈاکٹر طاہر، آپ پلیز ریلیکس ہو جائیں۔”
ڈاکٹر ظہیر نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا۔
ڈاکٹر طاہر نے بے تاثر نگاہیں اٹھا کر اوپر کی جانب دیکھا۔
ان کی، چیخ چیخ کر اپنی تکلیف کی گواہی دیتی، اذیت سے بھری، کرب زدہ، صبر کی آخری حد کو چھوتی نگاہیں اوپر کہیں۔۔۔ بہت دور، چھت کے اس پار، آسمان کے اس پار، نا جانے کتنے جہانوں کے اس پار، مگر شہ رگ سے بھی زیادہ قریب رب پر جمی تھیں۔
ڈاکٹر طاہر کا دل دھاڑیں مار مار کر رونے کا کر رہا تھا، زبان شکوہ کرنے کے لیے جی جان سے بے چین تھی، ذہن مایوسی کے گہرے بادلوں میں گم ہوتا محسوس ہو رہا تھا، آنکھیں شکوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ لیکن کئی پل بعد انہوں نے اسی طرح چھت کو دیکھتے زیر لب دہرایا:
“اسلمت لرب العالمین”
(میں فرماں بردار ہو گیا، تمام جہانوں کے رب کے لیے)
ڈاکٹر طاہر کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور گال پر پھسلتا چلا گیا۔ وہ ٹوٹ گئے تھے، مگر انہیں اپنے رب کے فیصلوں پر یقین کرنا تھا۔ دل زخم زخم ہوا، ان کے سامنے کھڑا تھا، ذہن مطمئن نہیں تھا، روح چھلنی تھی، ان کی ذات ان کے خلاف کھڑی تھی، مگر انہیں مضبوط ہونا تھا، انہیں مضبوط ہونا تھا کیوں کہ وہ صاحب قرآن تھے۔
انہوں نے اپنے گال سے آنسو صاف کیا اور گہری سانس بھرتے دیوار چھوڑی، انہیں بغیر سہارے کے کھڑا ہونا تھا، پلویشا کے لیے انہیں کھڑا ہونا ہی تھا۔
انہوں نے ساتھ کھڑے ڈاکٹر ظہیر کو دیکھا۔
“پلویشا کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے، ظہیر۔ اسے تم خود ڈیل کرو، میں زرا ابراحیم اور اے ایس پی کو گھر بھیج دوں۔”
ڈاکٹر طاہر نے ڈاکٹر ظہیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا، اور کچھ بھی سنے بغیر ڈاکٹر ابراحیم کی جانب بڑھ مڑ گئے، تو ڈاکٹر ظہیر بھی دائیں جانب مڑتی راہداری کی طرف قدم بڑھا گئے۔
روم نمبر 11 کے دروازے نے سرد آہ بھرتے انہیں جاتے دیکھا تھا۔
حال:
اپنے خیالات سے باہر آتے ڈاکٹر طاہر نے اپنے سامنے گہری نیند میں سوئی لڑکی کو دیکھا۔
انہوں نے گہری سانس بھرتے کافی کا کپ اٹھایا، لبوں سے لگایا، اور مسکرا کر اس کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے ناخن پر پیار سے اپنی شہادت کی انگلی پھیرتے بلکل مدھم مدھم سا بولنے لگے۔
وہ پچھلے ایک ماہ سے ہر روز کی طرح اب پلویشا کے سوئے ہوئے وجود کے ساتھ کافی انجوائے کرتے، باتیں کر رہے تھے، دن کی پوری کاروائی سنا رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
