انصاف
(اپنا انصاف حاصل کرنے کے لیے خود ہی لڑنا پڑھتا ہے یہ در در کی ٹھوکریں کھانے سے کوئی انصاف نہیں ملتا)
ازقلم: رمشا بھٹّی
rimshabhatti457
گھر بیٹھی ماں دروازہ تکتی رہتی ہے ،
اپنی بیٹیوں کے گھر آنے کا انتظار کرتی رہتی ہیں،
باہر کی دنیا میں دندناتے پھرتے ہیں درندے ،
ایسے درندوں ،حیوانوں سے ڈرتی ہیں مائیں ،
وہ جو معصوم سی موم کی گڑیا ہوتی ہیں ،
اپنے گھر کی عزت ،رونق ہوتی ہیں،
جب یہ لڑکیاں گھر سے باہر نکلتی ہیں،
تو کسی کی گندی نظروں ،کسی کے حوس کا نشانہ بنتی
ہیں ،
یہ جو زمانے کا فرعون آج دندناتا پھرتا ہے ،
وہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ اُس کے گھر بھی اک پھول کھلتا ہے ،
آخر کب تک ڈرتی رھیں گی مائیں ۔
آخر کب تک ان پھولوں کو مرجھاتے رھیں گے یہ فرعون ،
اے مضبوط لڑکی،ہمت کرو ،آگے بڑھو ،
مضبوط بنو ، آگے بڑھو ۔
اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو اپنے جوتے سے کچلتی ہوئی آگے بڑھو ۔
آخر کب تک سہتی رہو گی ، زمانے کے ظُلم ،
اپنے حق کے لیے آواز اٹھاؤ ،خود آگے بڑھو ،
اگر کوئی دیکھے تمہیں حوس بھری نگاہوں سے،
تو اپنے ان ناخنوں سے منہ نوچ لو ان حیوانوں کا،
کبھی ظلم نہ سہنا ،اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا ،
اگر کوئی کوشش کرے تمہاری آواز دبانے کی،
تو پھر بھی انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑی رہنا،
مگر کبھی ظلم مت سہنا ،
ہم اتنے مظلوم نہیں ہوتے جتنا ہم خود کو سمجھتے ہیں ۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ ہم پر ظلم کر سکے ، جب تک ہم خود مظلوم بن کر ظلم سہتے رہیں گے ، تو پھر ظالم تو ظلم ہی کریں گے ۔ ہم کسی کو اتنا بھی حق کیوں دیں کہ کوئی ہمیں مرجھادے ۔۔
یہ کراچی کا ایک سنسان علاقہ تھا ، جہاں سےلوگوں کا بہت ہی کم گزر ہوتا تھا ۔ صبح کے تقریبن 7 بج رہے تھے۔ کہ ایک راہگیر وہاں سے گزرنے لگا کہ اچانک اُس کی نظر سڑک کے کنارے کچرے کے ڈھیر پر پڑی لاش پر گئی ۔ وہ لاش کے قریب آیا تھا مگرلاش سے اتنی بو آ رہی تھی کہ وہ شخص ایک سیکنڈ بھی وہاں ٹک نہ سکا ۔
وہ گھبراتا ہوا کچھ دور آتے ہی پولیس کو اطلاع کرتے ہی اورکچھ لوگوں کو اکٹھا کر چکا تھا۔۔ کچھ ہی دیرمیں پولیس کی گاڑیاں پورے علاقے کو اپنے گیرے میں لے چکی تھیں انسپکٹر ارحم خان گاڑی سے باہر نکلتا بھیڑ کو چیرتا ہوا اُس لاش تک پُہنچا ۔۔اس لڑکی کو دیکھ کر ہر کسی کے چہرے پر خوف اور افسوس کے آثار نمودار تھے۔
پر اُن میں سے کوئی اس لڑکی کونہیں جانتا تھا ۔۔ جب اس لڑکی کو کچرے کے ڈھیر سے نکالا گیا تو اس کا چہرہ بہت بری حالت میں تھا اور اس لڑکی کا گوشت گل سڑ چکا تھا ، اسپکٹر ارحم ہر چیز کو نوٹ کرتا اُس لاش کے پاس ایک گھٹنے کے بل بیٹھا تھا۔۔ لڑکی کو بہت بے دردی سے مارا گیا تھا۔۔ اُسی وقت میڈیا بھی اپنے کیمرے ہاتھ میں لیے کھڑی تھی۔۔ پولیس اہلکار شواہد اکٹھے کرنے لگے، گواہوں سے بیان کیا گیا اور پھر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بیج دیا گیا تھا ۔۔ جبکہ ارحم کے پاس یہی سوال تھا کہ آخر کون تھی یہ لڑکی اور کس نے اس لڑکی کا یہ حال کیا تھا ، ارحم کی نظر بھیڑ میں کھڑے ایک شخص پر پڑی ۔۔ جس نے ماسک سے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا اور سر پر پہنی کیپ سے اُس کی صرف آنکھیں چمک رہی تھیں ۔۔ارحم بھیڑ کو چیرتا ہوا اُس تک پہنچا تھا لیکن تب تک وہ غائب ہو چکا تھا ۔۔
لیونگ روم میں دیوار پر لگی اسکرین سے نیوز اینکر کی آواز گونج رہی تھی ،صوفے پر بیٹھی عورت کافی سنجیدہ لگ رہی تھی جبکہ ساتھ بیٹھی لڑکی سیاہ شرٹ اور سیاہ ہی ٹراؤزر میں ملبوس کمر تک آتے سیاہ بال،براؤن آنکھوں پر چشمہ لگائے موبائل یوز کررہی تھی ، روشنی میں صاف واضح ہوتی اُس کی گندمی رنگت ، وہ وقفے وقفے سے اسکرین پر نظر ڈال دیتی ،
ناظرین آپ کو ایک اہم خبر سے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ کراچی کے ایک سنسان علاقے میں ایک بچی کی لاش ملی ، بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ،
“یا اللہ رحم کیسے لوگ ہیں،، خوف خدا ختم ہو گیا ہے ان حیوانوں میں ، پتہ نہیں اس بچی کے گھر والوں پر کیا قیامت آ پڑی ہو گی،، یا اللہ اس بچی کو انصاف ملنا چاہیے,یا اللہ سب بچیوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا آمین”.
” امی غریبوں کو انصاف نہیں ملتا ، جب یہ اپنے حق کےلیے آواز اٹھاتے ہیں تو انہیں خاموش کروا دیا جاتا ہے”..
“نہیں مہرماہ کوئی تو ایسا ہوگا خدا کا بندہ جو ان مظلوموں کے حق میں آواز اٹھائے گا “۔
” آج تک تو کوئی ایسا مسیحا آیا نہیں امی تو اب کیا خاک آئے گا؟ اور امی یہ ریپ کیسز کی شرح بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہے ، آئے دن یہی سننے کو ملتا ہے ، پر انصاف کتنوں کو ملتا؟ بالفرض اگر ریپ کیسز کی شرح %10 بھی ہے تو ان میں سے انصاف صرف اور صرف %3 سے %4 لوگوں کو ملتا ہے بشرط یہ کہ عوام بھی ساتھ آواز اٹھاتی ہے!! باقی کے %7 لوگوں کا کیا ؟جن میں سے کچھ لوگ تو عزت اور بدنامی کے ڈر سے آگے نہیں بڑھتے۔ تو کچھ لوگوں کے کیسز سالوں سالوں چلتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے ہی رخصت ہو جاتے ہیں بنا انصاف حاصل کئے،اور کچھ لوگوں کو خاموش کرواکر اُن کےکیسز کی رپوٹ کہیں دفن ہی کر دی جاتی ہیں اور کچھ لوگ دوسروں سے مدد مانگتے اور در در کی ٹھوکریں ہی کھاتے رہ جاتے ہیں،
پر ان سب میں اُن معصوم بچیوں اور لڑکیوں کا کیا جن کی زندگی جہنم بن کر رہ جاتی ہے “۔۔
وہ اتنا لمبا لیکچر دے کر اپنے کمرے میں جا چکی تھی ، جبکہ اُس کی ماں اب اپنی بیٹیوں کے لئے پریشان ہو رہی تھی ،اُس عورت کے پاس تو شوہر کا بھی سہارا نہیں تھا، وہ اپنی سوچوں میں گم تھیں کہ موبائل بجنے کی آواز پر وہ چونک گئی تھیں ۔
” عشوہ بیٹاجلدی آؤ ایزل کی کال آ رہی ہے! “
“جی جی امی بس آئی! ” عشوہ اندر داخل ہوئی تھی۔۔ گوری رنگت ،سیاہ آنکھیں جن میں چمک تھی ، سیاہ گیلےکمر تک آتے بال ،اُس نے موبائل اٹھا کر کال ریسو کرتی کان سے لگایا تھا۔۔ ” اسلام و علیکم! کیسی ہو ایزل؟ “
“وعلیکم اسلام ، الحمداللہ ، کہاں تھی تم کب سے کال کر رہی میں ؟ “
“یار سوری میں کچھ کام میں مصروف تھی اس لئے ، خیر تم بتاؤ کیسے یاد کیا تم نے آج مجھے ایزل صاحبہ!”
“تم اتنے دنوں سے کالج کیوں نہیں آرہی عشوہ ؟”
“یار بس ایسے ہی دل نہیں کر رہا تھا ۔ کل سے انشاء اللہ ضرور آؤں گی۔”
“اچھا صحیح ہے پھر کل کالج میں ہی ملتےہیں بائے۔”
” ارے پر ایزل تمہیں مجھے سے کیا بات کرنی تھی۔”
“ہیلو۔۔۔ہیلو! واہ کال ہی کٹ کر دی عجیب ہنہہہہہہ ،،”
بہرحال ٹھیک دو دن بعد وہی وقت اور وہی جگہ کچرے کا ڈھیر ، اور وہی حالت جو دو دن پہلے اُس لڑکی کی تھی بلکہ یہ کہا جاۓ کہ اُس سے بھی
بہت بری حالت میں وہ لاش پڑی تھی، سب سے عجیب بات یہ کہ اُس لاش سے ایک خط نکلا تھا جس پر لکھا تھا ،
” میں اپنا جُرم قبول کرتا ہوں میں وہی قاتل ہوں جس نے اس لڑکی کو اپنی حوس کا نشانہ بنایااور قتل کیا اور مجھے میرے جُرم کی سزا اپنے ہی ہاتھوں مل چکی ہے” ،
کمرہ نیم تاریخی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔کھڑکیوں سے آتی مدھم سی چاند کی روشنی نے کمرے کے کچھ حصے کو روشن کیا ہوا تھا۔۔کمرے کی ہر چیز ساکت معلوم ہوتی تھی ۔۔ ایسے میں وہ بیڈ پر سو رہا تھا۔۔کروٹیں بدلتا اس کا وجود بے چین تھا۔
“نہیں تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔میں ۔۔۔میں آ رہا ہوں۔”
اُس کی پیشانی پر اُبھری شکنیں چاند کی مدھم سی روشنی میں واضح ہو رہی تھی۔
نیند میں جیسے کسی سے باتیں کر رہا ہو۔۔کسی کے بچھڑنے کا دکھ ،ایک پچھتاوا، ایک زخم جو زندگی بھر نہیں مٹ سکتا تھا۔۔کسی کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگی تھی۔۔ کوئی مدد کے لیے پُکار رہا تھا۔
“بچاؤ ۔۔۔۔۔ بچاؤ۔۔۔ مُجھے” وہ دردناک آوازیں اس کے سماعت سے گزرتی پورے وجود کو ہلا چکی تھی۔
مشائم ۔۔۔۔۔مشائم۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا تھا۔
اُس کا دایاں ہاتھ ہوا میں ساکت رہ گیا ہو۔۔جیسے وہ کسی کو روک رہا ہو۔ آنکھوں میں خوف تھا ،درد تھا۔
اُس نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔۔وہ اٹھ کر اب واشروم میں گیا تھا ۔ وہ آئینے کے سامنے کھڑا اپنے عکس کو بڑے غور سے دیکھنے لگا۔۔ اُس کی آنکھیں لال انگار ہونے لگی تھی۔اس کی آنکھوں میں پہلے کی نسبت ڈروخوف کی جگہ اب انتقام کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔۔ اگر کوئی اس وقت ان آنکھوں میں دیکھ لیتا تو اس پر وحشت طاری ہو جاتی۔
“طلاق دو جلال اس کو اور دونوں منہوس ماں بیٹی کو میرے گھر سے باہر نکالو “۔۔ ادھیڑ عمر کی عورت نے اپنے بیٹے کو حکم صادر کیا ۔
” نن۔۔۔نہیں پلیز ۔۔۔۔پلیز مجھے طلاق مت دیں جلال۔۔
خدا کا واسطہ پلیز ۔” وہ کوئی پینتالیس یا پچاس سال کا بے حس انسان جس کے قدموں میں پڑی روتی ہوئی کمزور اُس شخص سے رحم کی بھیک مانگ رہی تھی ۔ گھر کے ایک کونے میں کھڑی ڈری سہمی وہ معصوم سی بچی روتی ہوئی اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔
“میں جلال الدین اکبر اپنے پورے ہوش و حواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔۔”
“نن۔۔۔نہیں ۔۔۔نہیں ایسا مت کرو جلال میں کہاں جاؤ گی اپنی بیٹی کو لے کر۔۔ “
“ارے کمبخت ماری کہیں بھی چلی جاؤ “۔ وہ عورت اپنے منہ سے زہر اگلنے لگی تھی۔۔
“میں طلاق دیتا ہوں ۔۔ میں طلاق دیتا ہوں” ۔۔ وہ رامین اور اُس کی معصوم سی بیٹی کو گھسیٹا ہوا گھر سے باہر نکال چکا تھا۔۔ دروازہ بند ہو چکا تھا ۔ رات کا وقت تھا رامین دروازے کو ہی تکنے لگی تھی ۔ دور کہیں سوچو میں گُم ۔
“جلال میرے بڑے بھائی کی طرح ہے بہت خوش رکھے گا ہماری رامین کو اور اُس کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد مرحا کی ذمےداری میری”۔۔ بھابھی کی باتیں اُس کی کانوں میں گونجنے لگی تھی ۔۔
” ابا۔۔۔۔ ابا دروازہ کھولو، مرحا دروازہ بجانے لگی تھی۔”
رامین اپنی جگہ سے اٹھتے ہی مرحا کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھنے لگی۔۔
“امی ہم کہاں جا رھے ہیں اور ابا نے ہمیں گھر سے باہر کیوں نکال دیا ؟بتائیے نہ امی! “وہ اپنی ماں کا پلو کھینچتی روتی ہوئی پوچھنے لگی تھی ۔۔ پر رامین ایک ٹرانس سی کیفیت میں آگے بڑھنے لگی تھی ۔۔
دونوں ماں بیٹی رکشے میں بیٹھ چکی تھی ۔۔ کوئی 20 سے 25 منٹ کی مسافت کے بعد دونوں ماں بیٹی ایک گھر کے سامنے کھڑی ہو کر بيل بجانے لگی
“کون آ گیا اس وقت ! اندر سے آواز آئی تھی..”
مگر رامین خاموش رہی ۔۔
“رامین تم اس وقت ؟ ” دروازہ کھولتے ہی رامین کو اپنے سامنے کھڑی دیکھ بھابھی پریشان ہوئی تھی ۔۔
“بھابھی جلال نے مجھے طلاق دے دی..” رامین روتی ہوئی بولی ۔۔
“اچھا اندر آؤ۔۔ تم بیٹھو میں تمہارے لیے پانی لاتی ہوں.”
” آگئی تم ہمارے سینے پر مونگ تلنے! اپنی اس بیٹی کی وجہ سے اپنا گھر اُجار آئی ! اس کا باپ تو مر گیا پر اس کمبخت کو چھوڑ گیا ہماری زندگی جہنم بنانے کے لیے۔” کمرے سے نکلتی ہوئی بڑی بھابھی نے رامین کو نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
“بھابھی میری بیٹی کو کچھ نہ بولیں اور میں طلاق لے کر نہیں آئی جلال نہ مجھے طلاق دی ہے ..” رامین اپنی بیٹی کو خود سے لگاتے ہوئے بولی۔۔
“خاموش اب مجھے کسی کی آواز نہ آئے ۔۔ رامین تم مرحا کو اپنے کمرے میں لے کر جاؤ۔۔ ” رامین کے بڑے بھائی نے غصے میں کہا تھا ۔
اور رامین اپنی بیٹی کو لے اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔
“یار عشوہ بلال اب مجھ سے بات نہیں کر رہا..” ایزل روہانسی ہوئی تھی ۔۔
“اب کیا چاہتا ہے وہ ؟ ” عشوہ آج کافی دنوں بعد کالج آئی تھی۔
“اُسے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے۔ پر۔۔”
“پر کیا ایزل؟ ” عشوہ نے سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا۔۔
” پندرہ دن پہلے میں نے اُسے پچاس ہزار بھیجے ہیں ۔۔ اور اب اُسے ایک لاکھ روپے چاہیے۔۔”
“تم نے اسے پچاس ہزار کیوں بھیجے ؟ اور اب تم اُسے ایک لاکھ بیجھو گی؟” عشوہ شاک سی کیفیت میں بولی۔۔۔
“یار عشوہ تم میری ہیلپ کرو گی پلیز؟ ۔میں اب مما سے پیسے نہیں لے سکتی ۔۔ میرے پاس ابھی 20 ہزار ہیں کیا تم مجھے کچھ منتھ کے لیے 80ہزار دے سکتی ہو
پلیز ؟؟؟ “
“ایزل تم پاگل ہو چکی ہو اُس لڑکے کے پیچھے مطلب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا وہ خود کیوں نہیں کماتا اور تم سے کیوں مانگتا ہے پیسے؟؟ اور تم پاگلوں کی طرح پیسوں پر پیسے بھیجے جا رہی ہو!! نہ ہی تم اُسے اور اُس کے خاندان کو اچھے سے جانتی ،اور نہ ہی کبھی تم دونوں فیس ٹو فیس ملے ہو،، ایک تو یہ سوشل میڈیا کی محبتیں میری سمجھ سے باہر ، اور ایک یہ نمونہ جو تم سے پیسے مانگتا رہتا ہے ! “عشوہ قدرے جھنجھلا کر بولی تھی۔۔۔
“تم نے کبھی محبت نہیں کی نہ عشوہ! “
“میں پناہ مانگتی ہوں ایسی حرام محبت کے شر سے جو مجھے رسوا کرے۔۔” عشوہ نے جواب دیا ۔۔۔
“اچھا عشوہ آج شام میں تمہارے گھر آؤ گی ! “
“اوکے آ جانا مگر مجھ سے پیسوں کی کوئی امید مت رکھنا۔”
جبکہ ایزل اُس کی منتیں کرتی رہی ۔
یار کیا کروں اب ایزل شام تک آئے گی اور پھر مہرماہ آپی کے اتنے سوالات ۔۔عشوہ گھر آتی پریشان سی بیڈ پر بیٹھی گہری سوچ میں گم تھی ۔۔
“عشوہ کھانا کھا لو! ” مہرماہ کمرے میں آئی تھی۔۔
” آپی کیا ہم آج ایمان آپی کے گھر چلیں؟ “
“اچھا بیٹا جی! ایمان آپی سے ملنا ہے ! یہ پھر ؟”مہرماہ مسکراتی ہوئی بولی تھی۔۔۔
“یار آپی! ” عشوہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔۔
“تمہارے لیے ایک گڈ نیوز ہے! “
“کیا بتائیں نہ آپی؟”
“علی بھائی اور ایمان آپی تمہاری اور زین کی شادی کی ڈیٹ فیکس کرنے آ رھے ہیں ۔”
جواب میں عشوہ اپنا منہ پھلائے بیٹھ گئی ۔
“ہاہااہاہاہا کیا ہوا عشوہ ؟”مہرماہ اُس کو محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگی۔۔
“آپی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ۔۔ میرے کچھ خواب ہیں اور میری اسٹڈیز کا کیا؟ جانتی ہوں زین نے وعدہ کیا تھا جب ہمارا نکاح ہوا تھا تو زین نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ میرا ساتھ دیں گے۔۔ پر آپی!!”
“پر کیا عشوہ؟ “مہرماہ نے اُلجھ کر کہا۔۔۔
“آپی مجھ سے بڑی تو آپ ہیں نا تو پہلے آپ کی شادی ہونی چاہیے اور آپ کو پتا ہے ایزل کہتی ہے کہ مہرماہ آپی کی شادی ہوئی نہیں اور تمہارا نکاح ہو گیا ہے ۔۔”
پر مہرماہ کے پاس کوئی جواب نہ تھا وہ خاموش رہی ۔۔
اسپتال کے کوریڈور میں بڑے بڑے قدم اٹھاتا ہوا سیاہ تھری پیس سوٹ میں ملبوس وہ شخص ایک کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔ کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔ کھڑکیوں کے پردے آدھے ہٹے ہوئے تھے ۔۔ کمرے کے بیچوں بیچ بیڈ پر ایک وجود تھا ۔ وہ چلتا ہوا اُس تک آیا تھا ۔ اور اُس کے سرہانے پھول رکھ کر وہ کھڑکی کے قریب آیا تھا ۔گندمی رنگت ۔ روشنی میں اُس کی ہیزل آنکھیں چمکنے لگی تھی۔۔
کہ اتنے میں اُس کی جیب میں پڑا موبائل تھر تہرانے
لگا ۔۔
“ہیلو!! ہاں بولو اذہان ؟”
“یار جاذب تم ابھی آفس آ سکتے ہو ؟ “
“اوکے میں آتا ہوں ،”جاذب موبائل جیب میں رکھتا باہر نِکل چکا تھا ۔
کچھ ہی دیر میں جاذب ہمدان آفس میں اذہان کے سامنے کھڑا تھا ۔۔
“ہاں اب بتاؤ اتنا جلدی کیوں بلایا تم نے ؟ “جاذب کرسی پر بیٹھتے بولا۔۔۔
“تمہارے لیے دو گڈ نیوز ہیں!” اذہان کی کانچ سی آنکھیں چمک رہی تھیں ۔
“کیا؟ “جاذب کے لہجے میں بیزاریت در آئی۔۔۔
“توبہ !مطلب بندہ تھوڑی excitement بھی دیکھا سکتا ہے،”
جواب میں جاذب نے اُسے غوری سے نوازا تھا ۔
“استغفراللہ! اب اتنا بھی پیار سے مت دیکھو مجھے شرم آ رہی ،” اذہان یہ کہتے ہی دونوں ہتھیلیوں میں منہ چھپا چکا تھا۔۔۔
“اوکے پھر تم شرماتے رہو میں چلتا ہوں !! فی امان اللہ،”
جاذب اُٹھ کر جانے لگا تھا کہ اذہان بھاگتا ہوا اُسے روکنے لگا پر وہ بھی جاذب ہمدان تھا ۔۔
“اگر تمہیں اپنی جان پیاری ہے تو میرا راستہ چھوڑ دو،”
جاذب یہ کہتا جا چکا تھا ۔۔۔
جبکہ اذہان کچھ نہیں بولا کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ جاذب کو اس وقت کہاں ہونا چاہیے ۔۔۔کھڑوس !!!
یہ کہتے ہی اذہان بھی جاذب کے پیچھے لپکا تھا۔۔۔
“ارے رُکو میں بھی آ رہا ,”
تھانے کے کمرے میں ہلکی روشنی تھی ۔ میز پر فائلوں کا ڈھیر پڑا تھا ۔۔ انسپکٹر ارحم کرسی پر بیٹھا کوئی فائل غور سے پڑھ رہا تھا ۔۔ اُس کی پیشانی پر شکنيں تھی۔۔ پنکھا آہستہ آہستہ گھوم رہا تھا۔۔ مگر کمرے کی فضا میں پھر بھی ایک عجیب سا تناؤ تھا۔۔ ارحم اس کیس کی کڑیاں جوڑنے لگا تھا ۔۔ وہ ماسک والا شخص ، پھر یہ ریپ کے ہر کیس میں قاتل کے ٹھیک دو دن بعد وہی حالت اور وہی جگہ ہوتی ۔۔ سب سے خوفناک بات تو یہ تھی کہ ہر کسی کی موت ویسے دی جاتی جیسے وہ قتل کرتے تھے۔۔۔ اور پھر اُن سب سے خط ملنا اور ہر قاتل کا سائن ۔۔ اور یہ ایک دو کیسز نہیں تھے پچھلے کچھ مہینوں سے یہ کوئی ۹ کیس تھا۔۔ بہرحال ارحم دوبارہ فائل پڑھنے لگا تھا۔۔۔
“اسلام و علیکم سر!! ” ایک پولیس اہلکار کمرے میں داخل ہوا تھا،
“وعلیکم السلام ، ہاں بولو!! ” ارحم فائل پر نظریں جمائے گویا ہوا۔۔۔
“سر وہ کوئی عورت آئی ہیں وہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں،”
“اوکے بیج دو انہیں!”
“اسلام و علیکم انسپکٹر صاحب ،”وہ کوئی ۳۰ سے ۳۵ سالہ عورت تھی ۔۔
“وعلیکم السلام جی بیٹھیے ،”ارحم نے اُسے بیٹھنے کو کہا۔۔
“سر میرا نام عنایہ میں جس اسکول میں ٹیچنگ کر رہی وہاں میری کلاس میں ایک بچی ہے حورین،” وہ بولتے بولتے رکی تھی ۔۔
“جی میں سن رہا مس عنایہ ؟” ارحم با غور اُس کا چہرہ دیکھ کر بولا۔
“جہاں تک مجھے لگتا ہے حورین کے ساتھ فزیکلی غلط کیا گیا ہے ۔”
“اور یہ بات آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہیں مس عنایہ؟” ارحم نے الٹا اُس سے سوال کیا ،،
“کچھ دنوں سے حورین بہت ڈسٹرب ہے ۔ کلاس میں ایکٹیو نہیں رہتی پہلے کی نسبت ۔ اور ہر وقت ڈرتی رہتی ہے اگر کچھ پوچھو تو رونے لگ جاتی ہے ۔۔ کچھ دنوں پہلے اُس کے بیگ سے یہ سب ڈرائنگ ملی ہیں ،”
مس عنایہ نے اپنے پرس سے کچھ کاغذ نکال کر ارحم کی سامنے رکھے ۔۔
جس پر حورین نے کوئی تصویر بنائی تھی ۔۔ تصویر میں ایک چھوٹی سی بچی تھی اور کچھ دور مونسٹر کی تصویر تھی جس پر گندے تایا ،گندے مونسٹر لکھا تھا ۔۔
“اور بھی بہت کچھ لکھا تھا ۔۔۔ اور جب میں نے پوچھا کہ حورین یہ سب کیا ہے تو وہ رونے لگ گئی ,”
“تو آپ نے اُس کے پرنٹس سے کیوں بات نہیں کی ،”
“حورین کی ماں نے دوسری شادی کر لی ہے اور father جوب پر جاتے ہیں تو حورین اپنی دادی کے ساتھ رہتی ہیے ۔۔میں نے بہت بار حورین کے father سے بات کی پر وہ اس بات کو serious ہی نہیں لے رھے ،”
“پر مس عنایہ يہ کوئی ثبوت نہیں کہ ایک بچی تصویر میں کچھ بھی بنائے اور ہم اُس کو ریپ کیسز کا نام تو نہیں دے سکتے ہیں ،”
جواب میں مس عنایہ نے اپنے پرس سے ایک فائل نکال کر میز پر رکھی تھی۔۔
“ولید کو گرفتار کرنے سے پہلے مجھے حورین سے بات کرنی ہے۔”فائل پڑھنے کی بعد ارحم نے مس عنایہ سے کہا،
جواب میں مس عنایہ نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے پولیس کی گاڑیاں تنگ گلیوں میں داخل ہوئی تھیں ۔۔ پولیس اہلکار ایک گھر کے باہر کھڑے ہو گئے تھے۔۔ارحم گاڑی سے نکلا تھا جس کے ساتھ حورین بھی تھی ۔۔ ارحم گھر میں داخل ہوا تھا کہ صحن میں چارپائی پر بیٹھا شخص اپنی بڑی بڑی مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا ۔۔۔
Under arrest!!!
ارحم کے پیچھے سے دو اہلکار ولید کی جانب بھرتے ہیں۔۔۔
“ولید تمہیں ریپ کے کیس میں گرفتار کیا جاتا ہے،”
ولید انسپکٹر کے ساتھ کھڑی حورین کو دیکھ بھاگنے لگتا ہے پر پولیس اہلکار اُسے پکڑ کر ہاتھ میں ہتھکڑی لگالی جاتی ہے
مس عنایہ بہت خوش ہوتی ہیں ۔۔ ولید کی گرفتاری پر۔
“تو مس عنایہ ! ” ارحم عنایہ کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
“جی جی انسپکٹر بہت شکریہ آپ کا کہ آپ نے میری بات پر یقین کیا میں امید کرتی ہوں کہ اس درندے کو بہت جلد سزا ملے گی۔۔”
پولیس اسٹیشن آتے ہی ولید کو جیل میں ڈال دیا گیا اور اُس کی اچھی خاصی چھترول ہونے لگی ۔۔۔
حورین کے ابو پاس پچھتاوے اور ندامت کے سوا کچھ نہ تھا ۔
اور مس عنایہ حورین کو اپنے ساتھ لیے جا چکی تھیں ۔ایک امید کے ساتھ کہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا ۔۔۔
ارحم ایک ہاتھ میں فائل پکڑے میز پر بیٹھا تھا ۔۔ ” انسپکٹر صاحب میرے ابا کو چھوڑ دیں پلیز!
میرے ابا کا کوئی قصور نہیں ہے وہ بچی ہی جھوٹ بول رہی ہے پلیز سر!!” ولید کا بیٹا آتے ہی ارحم کے قدموں میں بیٹھ کر مصنوعی رونے لگا تھا ۔۔
“اٹھو یہاں سے!” ارحم کو یہ سب ناگوار گزرا تھا۔
“سر آپ کے لیے چائے ، ناشتہ منگواؤ!” یہ کہتے ہی اُس نے ایک بڑی رقم ارحم کے آگے رکھی تھی ۔۔
ارحم نے اپنی گن نکالتے ہی اُس کے ہاتھ پر فائر کی۔۔
اُس کے ہاتھ سے پھوار کی طرح خون نکلا تھا ایک دل خراش آواز پورے پولیس اسٹیشن میں گونجی تھی ۔ سب اہلکار بھاگتے ہوئے آئے تھے ۔۔
“لے جاؤ اس کمینے انسان کو اور یہاں سے خون صاف کرو،” ارحم دھارا تھا۔۔
“بڑا آیا مجھے رشوت دینے والا ۔۔ انسپکٹر ارحم ان کاغذ کے چند نوٹوں پر اپنا ایمان نہیں بھیجتا۔”
“مم۔۔۔مجھے جانے دو پلیز ،،” وہ اپنا وجود پیچھے کی طرف گھسیٹتی رہی ۔۔ جبکہ وہ ہنستا ہوا چھوٹے چھوٹے قدم اُس کی طرف بڑھا رہا تھا ۔۔۔
“پلیز مجھے گھر جانے دو ،” وہ روتی ہوئی بولی تھی۔۔
“ہاہاہاہا اگر تمہیں جانے ہی دینا ہوتا تو اتنی محنت سے کیوں لے آیا !” وہ اب میرب کے بہت قریب آچکا تھا ۔۔
میرب کا ہاتھ زمین پر پڑے بیگ سے ٹکرایا ۔ وہ بیگ ٹٹولنے لگی کہ اُس کا ہاتھ ایک قینچی پر لگا۔۔ وہ بیگ سے قینچی نکالتی اپنے پیچھے چھپا گئی۔۔
وہ جیسے ہی میرب کے قریب آیا ،،، میرب نے پوری قوت کے ساتھ قینچی سے اُس کی ٹانگ پر وار کیا ۔۔
آہ!! اُس کی چینخ نکلی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس کی ٹانگ سے خون رسنے لگا۔۔
میرب نے بنا دیرکئے قینچی سے اُس شخص کی چہرے پر وار کیا ۔۔ جو سیدھا اُس کی آنکھ میں جا لگی۔ خون تیزی سے نکلنے لگا۔۔
اُس شخص کی دل خراش آواز پورے میں گونجی تھی۔۔
میرب اٹھتی وہاں سے بھاگنے لگی ۔۔ لیکن پھر بھی وہ شخص میرب کے پیچھے بھاگا تھا۔۔
بھاگتے بھاگتے میرب ایک فولادی شہ سے ٹکرائی۔۔سیاہ ہوڈی پہنے ، چہرہ ماسک میں چھپا تھا، سر پر سیاہ کیپ تھی ۔۔ چہرے پر صرف اُس کی چمکتی ہوئی آنکھیں نظر آ رہی تھیں ۔۔کسی کی ہمت نہ تھی ان آنکھوں میں دیکھنے کی۔۔۔
“مجھے جانے دو پلیز!” میرب اُس کے سامنے رونے لگی تھی۔۔
“نہ۔۔۔نہ رو کیوں رہی ہیں آپ ؟ یہ لیں آپ کو رولانے والے کو بھی رونے کا حق ہے ،” وہ گن میرب کے ہاتھ میں دیتا کُرسی پر بیٹھ چکا تھا۔۔ میرب نے دونوں ہاتھوں سے گن کو مضبوطی سے پکڑا تھا۔۔
“نن۔۔نہیں مجھے مت مارنا۔!” وہ اپنی زخمی آنکھ پر ہاتھ رکھے درد سے تڑپتا بولا تھا ۔۔
ہوا میں ٹھاااا کی آواز گونجی تھی اور وہ شخص اپنے انجام کو پُہنچا تھا۔۔۔
آ آ آ آ ۔۔۔۔۔۔ میرب زور دار چیخی تھی وہ چیختے ،روتے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔۔ آج اُس کی ہنسی سب کچھ غائب ہو چکا تھا۔ہمیشہ کے لئے پر وہ پر سکون تھی ۔۔ اُسے انصاف مل چکا تھا ۔۔
کُرسی پر بیٹھا شخص مطمئن سا اُسے دیکھ رہا تھا ۔۔ پر اُس نے میرب کو چُپ نہیں کروایا رونے دیا کبھی کبھی رونے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے ۔۔۔
وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھا اور جانے لگا تھا ۔۔ کہ پیچھے سے میرب نے اُسے آواز دی ۔۔۔
“کون ہیں آپ اور میری مدد کیوں کی ؟” وہ چیختی ہوئی بولی…..
“کیونکہ آپ کو مدد کی ضرورت تھی ۔۔ پر میرے خیال سے آپ کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔
خیر آپ نے قینچی کا استعمال اچھا کیا ۔۔ امپرسیو ،،
چلیں میں آپ کو گھر تک چھوڑ دوں ،” یہ کہتے وہ آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
وہ مجرم کی ایسی کمزوریاں سامنے رکھتا تھا جس سے وہ اپنا جُرم قبول کرتے تھے۔۔ بقول اُس کے معصوم چہرے کے پیچھے ایک چیر پھاڑ دینے والا بھیڑیا تھا۔جو بہت بے رحم تھا۔۔
تھانے سے آتے ہی کچن میں کھڑا کھانا پکانے میں مصروف تھا ، کہ اُسے اپنے پیچھے سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔۔ ارحم نے پیچھے مڑ کر دیکھا مگر وہاں کوئی نہ تھا ۔۔ وہ ہاتھ میں بیلن لیے کچن سے باہر نکلا ہی تھا کہ لیونگ روم میں اُسے کوئی بیٹھا ہوا نظر آیا وہ اُس شخص کی پُشت ہی دیکھ سکا۔۔
ارحم دبے پاؤں سے ہاتھ میں بیلن لیے لیونگ روم میں داخل ہوا ہی تھا کہ دروازے کےاوپر لٹکی پانی سے بھری بالٹی اُس پر گری تھی۔۔ ارحم پورا بھیگ چکا تھا ،بیلن اُس کے ہاتھ سے نیچے جا گرا ،
“ویلکم ۔۔ویلکم انسپکٹر ارحم ،”
“واٹ دا ہیل! آخر تم ہو کون؟ اور میرے گھر کے اندر آنےکی ہمت کیسےکی تم نے،” ارحم نے جیب سے اپنی گن نکال کر چلتا ہوا اب اُس شخص کے سامنے کھڑا ہوا ۔
” تم!!! ” صوفے پر بیٹھے شخص کو دیکھ ارحم کے چودہ طبق روشن ہو گئے ،
صوفے پر بیٹھے شخص نے کندھے اُچکائے تھے ، چہرے پر ماسک ، پیشانی پر سیاہ بکھرے بال ، ہیزل آنکھیں چمک رہی تھیں ،
“پھر کیسا لگا انسپکٹر صاحب مجھے اپنے گھر میں دیکھ کر!!” لائٹر کو انگلیوں میں گھومتا ہوا بولا ۔
ارحم کو پیٹرول کی بو آنے لگی وہ اپنے کپڑے سنگھنے لگا ، ایک سیکنڈ لگا تھا اُسے سمجھنے میں کہ بالٹی میں پانی نہیں پیٹرول تھا ،
” ماسک ہٹاؤ اپنا اور خود کو قانون کے حوالے کر دو،” ارحم اُس کے سامنے گن تانے کھڑا تھا،
“اتنی بھی جلدی کیا ہے انسپکٹر صاحب ، ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے، ابھی آگے دیکھنے کو بہت کچھ ہے ۔”
وہ لائٹر آن کرتا مسکرایا تھا۔۔
“میں نے کہا اپنا جُرم قبول کرو اور خود میں قانون کے حوالے کر دو،”
“کون سا جُرم ؟ میری نظر میں تو یہ کوئی جُرم نہیں ،”
اُس شخص نے اپنے چہرے سے ماسک ہٹایا تھا ،
“جاذب ہمدان! “ارحم کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا ،
ہاہاہاہا!! “کیسا لگا سرپرائز!”،
ارحم ابھی بھی شوک تھا۔۔
“چلو اپنی آخری خواہش بولو!” وہ لائٹر کو تیزی سے انگلیوں میں گھومتا ہوا بولا ،
“جاذب ہمدان کے ہاتھوں موت ،”ارحم مسکراتا جاذب کو دیکھنے لگا ۔
“بکو مت!!” جاذب ایک ہی چست میں ارحم تک پہنچتا اُس کا گلا دبوچنے لگا ، ارحم کو سانس لینا مشکل ہو گیا تھا۔
“جاذب ہمدان نے آج تک کسی کا قتل نہیں کیا ، اور اگر تمہیں سزا دینے پر آیا تو تم موت کے لئے ترسو گے ۔”
یہ کہتے ہی جاذب نے ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا۔
ارحم لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
کہ اچانک پورے میں اندھیرا ہوا تھا ،
“جاذب ہمدان اپنی قبر کا بندوبست کر لینا پھانسی کے پھندے پر لٹکانے کا وعدہ میرا،”
ہاہااہاہاہا! اندھیرے میں جاذب کا قہقہہ گونجا تھا۔۔
“اتنی آسانی سے نہیں بھاگ سکتے تم،” کہ اگلے ہی لمحے پورے میں روشنی ہوئی تھی،
ارحم اٹھاتا ہوا جاذب کی پیچھے بھاگا تھا، مگر بے سُود وہ جا چکا تھا۔۔
“رامین تمہیں ہارون بھُلا رھے ہیں! “
“جی بھابھی میں ابھی آئی ،” رامین کچن میں کھڑی برتن دھو رہی تھی ۔۔کچھ دیر میں رامین ہارون بھائی کے کمرے میں کھڑی تھی۔۔۔
“جی بھائی آپ نے مجھے بھلایا؟”
“ہاں بیٹھو یہاں!” انہوں نے کُرسی کی طرف اشارہ کیا ۔۔ “رامین اس ہفتے تمہارا خلیل سے نکاح ہے ۔۔ اُمید کرتا ہوں تمہیں ہمارے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔”رامین بے یقینی سے اپنے بھائی کو دیکھنے لگی۔۔
“بھائی آپ جانتے ہیں خلیل ایک نفسیاتی اور جواری انسان ہے آپ کیسے میرا نکاح طے کر سکتے ہیں۔ اور میں کبھی شادی نہیں کروں گی ،” رامین کا سر چکرانے لگا تھا۔۔
“نہیں اب وہ سب برے کام چھوڑ چکا ہے ،”بھائی نے نظریں چراتے ہوئے کہا ۔۔
“مطلب آپ چاہتے ہیں کہ تیسری بار بھی میری زندگی جہنم بن جائے ،”
“بس میں نے جو کہہ دیا وہی ہو گا اس ہفتے تمہارا نکاح ہے ،” بھائی غصے سے باہر نکل گئے ۔۔
رامین کے آنسو بہنے لگے ۔۔۔ بے بسی کی انتہا تھی۔۔
رات ہوتے ہی رامین مرحا کو ساتھ لیے گھر سے نکلی تھی ۔۔
“امی اب ہم کہاں جائیں گے؟” مرحا نے اپنی ماں کی طرف دیکھا ۔۔۔
“اللّٰہ کی زمین بہت بڑی ہے مرحا کہیں نہ کہیں تو ہمیں پناہ مل ہی جائے گی،”
رامین اپنی بیٹی کو لیے ایک NGO کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔ آخر وہ ماں ہی تو تھی جس نے اپنی اولاد کے لئے اتنا بڑا قدم اٹھایا تھا ۔۔ بہرحال دونوں ماں بیٹی نے اندر قدم رکھا تھا ۔۔ ایک نئی جگہ اور نئی دنیا میں ایک اُمید کے ساتھ کہ آگے زندگی آسان ہو ہی جائے گی۔۔۔
“تمہیں اس بات کا علم بھی ہے کہ تمہارا دشمن مارگلہ کے گھنے جنگلوں میں چھپ کر بیٹھا ہے !تمہارے تایا کے فارم ہاؤس میں ۔”اذہان کہتے میز پر رکھے چپس کھانے لگا۔۔۔
“چھپ کر بیٹھا ہے نہیں ، چھپ کر بیٹھا تھا ۔۔”یہ کہتے ہی جاذب اذہان کی ہاتھ سے چپس لیتا کھانے لگا۔۔۔
اذہان کو تو جیسے گلے میں پھندا پڑگیا ہو ۔ وہ کھانسنے لگا ۔۔۔ یہاں تک کہ اُس کی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے۔۔
یہ لو پانی پیو ! اور خود چپس کھانے لگا ۔۔
“تمہیں کیا لگتا ہے اذہان میں اپنے دشمن کو اتنی آسانی سے چھوڑ دوں گا ۔جب وہ کمینہ انسان جیل سے فرار ہوا تھا میں نے اسی دن خود سے وعدہ کیا تھا کہ مشائم کے ایک ایک آنسوؤں کا بدلہ لے کر رہو گا ۔”
ماضی :
” بھائی ۔۔۔۔ بھائی ۔۔۔ کہاں ہیں آپ؟ “مشائم پورے گھر میں ڈھونڈنے لگی۔۔
“یہاں ہوں گڑیا کچن میں،” جاذب کچن میں کھڑا چائے بنانے میں مصروف تھا۔۔۔
“یار بھائی میں کب سے آپ کو ڈھونڈھ رہی!” مشائم کچن میں داخل ہوتے بولی ۔۔۔
“اچھا مشائم تم نے پیکنگ کر لی ؟” جاذب اب کپ میں چائے انڈیلنے لگا۔۔۔
“وہ بھائی میں کہہ رہی تھی کہ میں تایا کے گھر رہ جاتی تو!”
“نہیں تم میرے ساتھ ہی چل رہی ہو جرمنی۔۔ اب اور کوئی بحث نہیں۔”جاذب کپ لے کر جا چکا تھا ۔۔
میں نہیں جاؤں گی میں یہی رہوں گی میرا یہاں NGO ہے ۔اور وہ معصوم بچے جنہیں دیکھ کر میرا دن اچھا گزرتا ہے تو پھر میں یہ سب چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں۔۔۔میں تایا جان سے بات کروں گی وہ ضرور بھائی کو منا لیں گے ۔۔۔
“جاذب بیٹا مشائم اگر نہیں جانا چاہتی تمہارے ساتھ تو چھوڑ دو میں ہوں خیال رکھنے کے لیے اپنی بیٹی کا ۔” تایا جان نے بناوٹی مسکراہٹ کے ساتھ بات کی۔۔۔
“نہیں تایا جان میں مشائم کو ایسے نہیں چھوڑ سکتا اکیلا اور وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہے تو میں اسے چھوڑنے کا رسک نہیں لے سکتا ۔”
بہرحال جاذب جرمنی جا چکا تھا اور مشائم اپنی اسٹڈی اور NGO میں مصروف ہو چکی تھی ۔۔ تایا کی فیملی بھی جاذب کے گھر رہنے آ گئی تھی ۔۔ جاذب مشائم سے ناراض تھا مگر وہ ہر روز کانٹیکٹ میں رہتا ۔۔
یہاں تک کہ اذہان مشائم کی پل پل کی خبر جاذب تک پہنچاتا۔ ایسے ہی مہینوں گزر گئے ۔۔تایا جان کا بیٹا طلال مشائم کو پسند کرنے لگا ۔۔۔اور یہ بات مشائم بھی جانتی تھی۔۔
یہ سردیوں کی شام تھی جب مشائم کو اپنی دوست کے گھر جانا تھا ۔۔۔
مشائم پیلے کلر کی فروک میں بےحد حسین لگ رہی تھی۔
“کیا ہوا مشائم کہیں جا رہی ہو؟” طلال اُسے کھڑا دیکھ پوچھنے لگا ۔۔
“جی طلال بھائی مجھے منزہ سے ملنے جانا تھا پر !”
“اگر تمہیں ٹھیک لگے تو میں چھوڑ دیتا ہوں منزہ کے گھر؟”
“جی صحیح ۔۔ مشائم مان گئی تھی ،” اور یہی اُس کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔۔
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف چل دیئے ۔۔
“طلال بھائی ہم کس راستے سے چل رھے ؟” منزہ کا گھر تو پیچھے ہی رہ گیا ۔۔ مشائم اب صحیح معنوں میں پریشان ہوئی تھی ۔۔
گاڑی ایک فارم ہاؤس میں آ کر رکی ۔۔
“ارے پہلے باہر تو آؤ مشائم ! طلال مسکراتا ہوا بولا۔”
جب مشائم باہر نکلی تو اُسے ایک عجیب سے احساس نے آ گیرا ۔۔۔
” نن ۔۔۔۔نہیں مجھے یہاں سے جانا ہے طلال بھائی آپ مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ؟”
“مشائم پہلے میری بات تو سنو وہ آگے بڑھتا مشائم کا ہاتھ پکڑنے لگا ۔۔ “
“چھوڑیں میرا ہاتھ!” مشائم نے اپنے لمبے ناخنوں سے طلال کا منہ نوچ ڈالا ۔۔۔
جس سے طلال کچھ پیچھے ہٹا تھا ۔۔
“یہ کیا بتمیزی ہے”
مشائم سیڑھیوں پر بھاگتی خود کو ایک کمرے میں بند کر چکی تھی ۔۔۔
“دروازہ کھولو! ورنہ میں تمہارا وہ حال کروں گا کہ پوری زندگی یاد رکھو گی ۔”
اندر کمرے میں مشائم گھبراتی ہوئی کوئی راستہ ڈھونڈنے لگی۔۔ کانپتے ہاتھوں سے جاذب کو کال کی ۔۔ بیل جاتی رہی پر بے سود ۔۔۔ “بھائی پلیز!”
بہرحال کال اٹھا لی گئی تھی ۔۔
“ہیلو مشائم بیٹا سب خیریت آپ کی اتنی کالز آئی ہیں؟؟ جاذب پریشان سا بولا۔۔”
“بھ۔۔۔بھائی ۔۔ مجھے بچا لیں پلیز ۔۔۔ وہ۔ ۔۔۔۔ وہ طلال بھائی !” وہ کسی چھوٹے بچی کی طرح رونے لگی ۔۔۔
“کیا طلال؟ مشائم آپ کہاں ہیں بیٹا بتائیے ۔”جاذب جو ابھی آفس سے تھکا ہوا گھر آیا تھا پریشان ہوتا ہوا دوسرے موبائل سے اذہان کو کال کرتا مشائم کے بارے میں بتانے لگا ۔۔
طلال نے دروازہ توڑ کر اندر آتا مشائم کو ایک تھپڑ رسید کیا جس سے مشائم سنبھل نہ سکی اور فرش پر جا گری موبائل ہاتھ سے نکلتا دور جا گرا ۔۔۔
“ہیلو ۔۔۔ مشائم ۔۔۔”
” بچاؤ مجھے! بھائی ۔”
لمبی خاموشی!!!
مشائم کھڑکی سے نیچے جا گری اور پھر سب ختم ۔۔۔
طلال مشائم کو دیکھتا بھاگ گیا ۔۔
کچھ ہی دنوں میں طلال کو جیل ہو گئی۔۔ اور مشائم کومہ میں جا چکی تھی۔۔
ماضی کی تلخیاں کبھی ختم نہیں ہو سکتی تھیں ۔۔ ہیزل آنکھوں میں پانی نکلنے لگا ۔۔ جاذب مشائم کے پاس بیٹھا تھا ۔۔ جہاں بیڈ پر ایک وجود پڑا تھا ۔۔
عشوہ مغرب کی نماز کے بعد بیٹھی کہ موبائل کی ringtone پورے کمرے میں گونجنے لگی ۔۔۔ عشوہ نے کال اٹھائی ۔۔۔
“ہیلو اسلام و علیکم آنٹی ؟”
“وعلیکم السلام عشوہ بیٹا ۔۔ کیا ایزل آپ کے گھر آئی ہے؟” آنٹی کی آواز گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔
“نہیں آنٹی آج تو ایزل کالج بھی نہیں آئی تھی۔”
“اچھا صحیح بیٹا میں پوچھتی شاید کسی دوست کے گھر چلی گئی ہو ۔”
“جی بہتر۔۔”عشوہ موبائل رکھتی اپنی سوچومیں گُم بیٹھی تھی ۔۔
“عشوہ تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی ابھی آتے ہوں گے تمہارے سسرال والے!”
“وہ۔۔۔۔۔وہ آپی ایزل گھر نہیں ہے ،”
“کیا مطلب گھر کیوں نہیں ہے اُسے تو اس وقت گھر ہونا چاہیے !”
“مہرماہ آپی لگتا ہے ایزل کو بلال نے اغوا کر لیا ہے۔۔”
“کیا؟ “مہرماہ کو صحیح معنوں میں جھٹکا لگا ۔۔
“کون بلال ؟”عشوہ مجھے پوری بات بتاؤ!! تعجب بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
“آپی ایزل سوشل میڈیا پر ایک لڑکے کو پسند کرتی تھی اور یہ بات آنٹی کو بھی معلوم تھی۔۔ وہ لڑکا آئے دن ایزل سے پیسوں کا مطالبہ کرتا۔۔ اور ایزل اُس کی محبت میں پیسے بھیجوا دیتی اور ایزل کی ہر پکچر اُس لڑکے کے پاس ہیں ۔۔۔ کچھ دنوں پہلے اُس لڑکے کو ایک لاکھ روپے چاہیے تھے ایزل نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ ہمارے گھرآئے گی مگر اُس دن کالج کے بعد ہم دونوں کی کوئی بات نہیں ہوئی !”
“اوہ میرے خدا ! مجھے ایزل کی امی کا نمبر دو۔مجھے اپنا موبائل دو میں بات کرتی ہوں ایزل کی امی سے ۔؟”
عشوہ نے موبائل دیا۔۔
“ہیلو ! اسلام و علیکم آنٹی ایزل گھر آ گئی؟” مہرماہ نے فکرمندی سے پوچھا !
“ہاں بیٹا ایزل ابھی ہی گھر آئی ہے ،” دوسری طرف سے جواب ملا ۔۔۔
“اچھا صحیح اللہ حافظ!! ” مہرماہ موبائل رکھتی کھڑی ہوئی۔۔” چلو عشوہ جلدی تیار ہو ابھی آ جائیں گے تمہارے سسرال والے ۔”
” عشوہ بچہ کیسی ہیں آپ؟” علی بھائی نے پوچھا ۔۔۔
“جی الحمدللہ علی بھائی میں بہت اچھی۔۔”
“آج کل تم اسٹیٹس نہیں لگاتی ؟”علی بھائی نے پوچھا دراصل دونوں کرکٹ کے دیوانے تھے ۔۔۔
“وہ بس ایسے ہی علی بھائی ،”عشوہ اب کیا کہتی کہ سسر کے دیکھنے سے ہی تو اسٹیٹس لگانا چھوڑ دیا
شرم کے مارے ۔۔۔۔
“عشوہ وہ لڑکی ہے جس کا سسر بھائی اور ساس بہن ہے اور شوہر تو پھر رہنے دو ، عشوہ کا بھانجا “۔۔۔ہاہاہا مہرماہ کے ساتھ سب ہنسنے لگے ۔۔۔
“تو کیا ہوا رشتے میں بھانجا ہوں ایسے تو میری بيوی مجھ سے بہت چھوٹی ہے ۔۔۔ زین نے عشوہ کی سائڈ لی”
جسے سن کر عشوہ کھل اٹھی ۔۔۔
کچھ دنوں بعد جب عشوہ کالج کے باہر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی کہ اچانک ایک گاڑی منظر کے سامنے آ رکی۔۔ اور گاڑی جیسے چلی تو عشوہ وہاں سے غائب تھی۔۔۔
“مہرماہ بیٹا ٹائم دیکھو ابھی تک عشوہ گھر نہیں آئی۔”
“امی ٹریفک ہی اتنی ہوتی ہے ،آ جائے گی آپ پریشان نہ ہوں ۔”
“نہیں مہرماہ عشوہ تو آ جاتی ہے ،”
“امی ۔۔۔ میری پیاری امی آپ اتنا پریشان نہ ہوں میں کال کرتی ہوں ٹھیک ہے!” مہرماہ اپنی امی کے پاس بیٹھتی ہوئی بولی۔۔۔
دوپہر سے شام ڈھلنے کو تھی پر عشوہ کا کچھ پتا نہ چلا ۔۔پولیس تک کو انفارم کر دیا زین نے پر عشوہ نہ ملی ۔۔ مہرماہ پریشان سے موبائل میں کوئی نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔ اور کچھ ہے دیر میں کال اٹھا لی گئی ۔۔
“ہیلو کون ؟”دوسری طرف سے حسین آواز سماعت سے ٹکرائی تھی۔۔
“وہ ۔۔۔۔وہ جاذب عشوہ کا کچھ پتا نہیں چل رہا وہ کالج گئی اورپھر آ ئی ہی نہیں ہے۔” مہرماہ روتی ہوئی بولی۔۔
“مہرماہ تم؟” دوسری طرف اُسے اپنی کانوں پر یقین نہیں آیا کہ یہ مہرماہ ہی تھی۔!!
“پلیز جاذب عشوہ!” مہرماہ بس اتنا کہتی رونے لگی ۔۔۔
“اچھا۔۔۔ اچھا ۔۔ ریلکس میں آ رہا ہوں تم اپنا خیال رکھو۔۔”جاذب کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں ۔۔ جاذب چابیاں اٹھاتا گاڑی کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
دن ڈھلتے ہی رات کی سیاہی ہر سو پھیل گئی تھی ۔۔ شہر سے دور ایک ادھُوری بلڈنگ کھڑی تھی۔۔ جو صدیوں پرانی تھی۔۔ وہ بلڈنگ کھنڈر ہو چکی تھی۔۔ ایسے میں بلڈنگ کے دوسرے فلور پر ایک بے سُدھ وجود پڑا تھا ۔۔ دیواریں اتنی چھوٹی کہ نہ ہونے کے برابر ۔۔۔
وہی سگریٹ کے دھوئیں اڑاتا شخص کُرسی پر بیٹھا تھا۔
عشوہ کی آنکھ کھلی تو سامنے بیٹھا شخص شیطانی مسکراہٹ کی ساتھ اُسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
“تم کون ہو ؟ اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو!” عشوہ اپنے اردو گرد دیکھنے لگی ۔۔اُس کے وجود میں ایک خوف کی لہر دوڑی تھی ۔۔۔
“ہیلو!!! مجھے تو تم جانتی ہو گی ؟ ارے نہیں۔۔۔ نہیں۔۔ مجھے تو تمہاری دوست جانتی ہے ۔۔ اوہ سوری ۔۔۔ سوری۔۔ جانتی ہے نہیں جانتی تھی۔” اُس نے تھی پر زور لگایا تھا ۔۔
“تت۔۔۔ ۔تم بب۔۔۔ بلال ہو۔؟”
“ہاہاہا ۔۔۔ اُمید نہیں تھی کہ تم مجھے پہچان لو گی ۔”
“ایزل کہاں ہے۔”عشوہ اپنی جگہ سے اٹھتی ہوئی بولی۔۔
“اُسے تو میں نے مار دیا ۔” ایک پل کو بھی اُس کی شیطانی مسکراہٹ میں کمی نہیں آئی تھی۔۔ “اور اب تمہیں بھی مار دوں گا ۔”
“مگر مرنے سے پہلے یہ تو سنو کہ تمہاری عزیز دوست کیسے مری ،”عشوہ وہاں سے بھاگنے کے لئے راستہ ڈھونڈنے لگی ۔۔۔
” تمہاری عزیز مرحوم دوست آج تک مجھے تمہاری تصویریں بھیجتی آئی ہے ، اور میں پاگل تمہارے حُسن میں۔”
جبکہ عشوہ بھت بنی کھڑی تھی ۔۔ اُسے یقین نہیں آیا تھا اُس درندے کی باتوں پر ۔۔۔
“نہیں تم جھوٹ بھول رھے ھو۔” عشوہ روتی ہوئی بولتی۔۔
“ٹھیک ہے پھر خود ہی دیکھ لو ” بلال نے موبائل اُس کی طرف کیا تھا ۔۔ ایک ایک تصویر اُس کی آنکھوں کے سامنے آنے لگی تھی ۔۔۔ عشوہ کو سانس لینا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔ کیا کسی پر بھروسہ کرنے کی اتنی بڑی سزا ہوتی ہے ؟ آخر اُس کے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا ۔۔ کیوں اتنی مخلصی کے بدلے دھوکہ ملا۔۔۔
بلال اٹھا تھا اُس کے ہاتھ میں ایک ایسڈ تھا جسے پکڑے وہ عشوہ کی طرف بھرنے لگا ۔۔
“نن۔۔۔۔ نہیں ایسا مت کرنا ۔” عشوہ اندھا دھند بھاگنے لگی ۔۔ پر کچھ آگے جاتے اُس کے قدم رکے تھے ۔۔ آگے کھائی تھی اور پیچھے وہ درندہ ۔۔۔ عشوہ کبھی بلال کو دیکھتی تو کبھی اندھیری کھائی ۔۔
اور دیکھتے دیکھتے عشوہ کھائی میں جا گری ۔۔
آ آ آ آ آ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک دل خراج چینخ پورے میں گونجی تھی۔۔
پہلے تو بلال چونکہ تھا کہ یہ تو میرے آنے سے پہلے ہی اوپر جا نکلی۔۔ پھر وہی شیطانی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔۔۔
“چلو میرا کام تو آسان ہوا،” ہاہاہاہا ۔۔ وہ کسی پاگل کی طرح ہنسنے لگا تھا۔۔۔
دوسری طرف جاذب عشوہ کو ڈھونڈتا ہوا اُسی لوکیشن پر پُہنچا تھا۔۔۔
“عشوہ۔۔۔عشوہ۔۔۔”جاذب آوازیں دیتا ہوا سیکنڈ فلور پر آیا۔۔ وہاں عشوہ کا دوپٹہ اور بیگ پڑا تھا پر عشوہ۔۔ عشوہ کہاں تھی۔۔جاذب پریشان سا دیکھنے لگا ۔
کہ ایک کونے پر چھوٹی کانچ کی ٹوٹی بوتل پڑی ہوئی نظر آئی۔جاذب موبائل کی ٹارچ آن کرتا وہاں دیکھنے لگا۔۔
جاذب نے بوتل اٹھائی ہی تھی کہ اُس کی نظر نیچے کھائی پر پڑی۔ ٹارچ کی مدد سے اُس نے وہاں دیکھنا چاہا ہی تھا کہ اُس کے فون پر کال آئی ..
اذہان کالنگ!” ہیلو جاذب بات سنو ابھی تم جہاں بھی ہو جلدی نکلو وہاں سے انسپکٹر ارحم آ رہا ہے تمہیں ڈھونڈتے۔” اذہان کی آواز میں گھبراہٹ طاری تھی۔۔
“فور گاڈز سَیک یار ! فلحل میرے لئے سب سے اہم عشوہ کی زندگی ہے سمجھے! اور مجھے اب تمہاری ایک بھی کال نہ آئے۔” وہ دھارا تھا۔۔
“ہائے اللّٰہ جی میرے نازک حسین کان ۔۔ لوگوں کا بس نہیں چلتا ورنہ بہرا ہی کر دیں۔”
پر بے سُود آگے سے کوئی جواب نہ ملا۔۔۔
” ہیلو!! ہیلو!! جاذب بات تو سن یار ۔” اذہان نے کان سے موبائل ہٹا کر دیکھا ۔۔بہرحال کال کٹ کر دی گئی تھی ۔۔
جاذب اب ٹارچ کی مدد سے کھائی میں دیکھنے لگا کہ وہاں اُس کی نظر عشوہ پر پڑی ۔۔
“اوہ میرے خدا یہ تو عشوہ ہے ۔” جاذب اندھا دھند کھائی کے پاس بھاگا تھا۔۔۔
جاذب مشكلوں سے عشوہ کو وہاں سے نکال کر ہسپتال لے آیا تھا ۔۔۔ کچھ ہی دیر مہرماہ روتی ہوئی بکھری حالت میں آئی تھی۔۔ رونے سے اُس کی آنکھیں سوجھ گئی تھی۔۔
” عشوہ کیسی ہے!! وہ جاذب سے پوچھنے لگی۔۔
ہیزل آنکھیں ، براؤن آنکھوں سے ٹکرائی تھیں ۔۔ پر دونوں آنکھوں میں درد اور تکلیف کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔۔
“مریض اب خطرے سے باہر ہے۔” ڈاکٹر صاحب آتے ہی کہنے لگے ۔۔۔
عشوہ کی پوری فیلمی وہاں موجود تھی۔۔
“ڈاکٹر صاحب مجھے اپنی بیٹی سے ملنا ہے پلیز مجھے جانے دیں ۔”عشوہ کی امی روتی ہوئی بولیں۔
“جی آپ کچھ دیر میں مل سکتی ہیں ۔۔”یہ کہتے ڈاکٹر صاحب جا چُکے تھے۔۔۔
زین جاۓ نماز پر بیٹھا روتا ہوا عشوہ کی زندگی کی دعائیں کر رہا تھا۔۔
جاذب کھڑا عشوہ کی امی سے باتیں کر رہا تھا جبکہ مہرماہ نے اُسے کتنے ٹائم بعد دیکھا تھا وہ شخص کتنا بدل گیا تھا ۔۔۔ اگر یہاں جاذب اور مہرماہ کھڑے تھے تو اُس کی ایک ہی وجہ تھی کہ دونوں ماضی کو پیچھے چھوڑ آئے تھے۔۔
“جاذب ہمدان آپ کو گرفتار کیا جاتا ہے”۔انسپکٹر ارحم جاذب کے سامنے ہتھکڑیاں لیے کھڑا تھا۔۔
جاذب ارحم کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔
“تمہاری گرفتاری کے آرڈرز آئے ہیں۔”
جاذب کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی گئی تھیں ۔
سب نے روکنے کی کوشش کی مگر اب کوئی فائدہ نہیں تھا جاذب بہت پہلے ہی اپنا جُرم قبول کر چکا تھا۔۔۔ جاتے ہوئے جاذب کی نظریں مہرماہ پر تھیں ۔۔ جو روتی ہوئی نفی میں سر ہلا رہی تھی۔۔۔
کچھ دنوں بعد جاذب کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا ۔۔ ہر نیوز چینل پر جاذب ہمدان کا نام تھا ۔۔
عدالت :
” تمام شواھد اور بیانات کو مدنظر رکھتے ہوۓ عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ملزم جُرم کا مرتکب پایا گیا ہے اور قانون کے مطابق سزائے موت دی جائے گی۔۔” ہر کوئی افسردہ تھا ۔۔ کورٹ میں مہرماہ بھی آئی تھی ۔۔ وہ آج یہاں جاذب کے لئے کیوں آئی تھی ! یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔ ایک بچھڑ جانے کا خوف جس کا مہرماہ نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔۔
جاذب ان سب لمحوں میں کچھ نہیں بولا ۔۔ صرف خاموش رہا ۔۔۔
جاذب جیل میں تھا جب ارحم اُس سے ملنے آیا ۔۔ “مہرماہ آئی تھی تم سے ملنے پر عشوہ کے لیے چلی گئی ۔۔ تمہارا پوچھ رہی تھی وہ ۔۔ ” ان لمحوں میں ارحم جاذب پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔۔
آئندہ اپنی اس گندی زبان سے مہرماہ کا نام بھی لیا تو یہی زندہ گاڑ دوں گا ۔اور اب تم جا سکتے ہو یہاں سے۔۔” جاذب ارحم کی طرف دیکھتا دانت پیستے بولا۔
“تمہاری آخری خواہش ؟”ارحم نے کہا ۔۔
“مجھے عشوہ اور مہرماہ سے ملنا ہے ۔” جاذب اب کی بار ارحم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔۔
“اوکے نو پروبلم!”
“جاذب ماضی کی جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں۔۔ میں آج اُن سب کو کلیئر کرنا چاہتا هوں ۔”
“میں نے کہا دفعہ ہو جاؤ یہاں سے !”جاذب دھارا تھا۔۔۔
“آج میں چپ نہیں رہوں گا ۔” وہ بھی ارحم تھا اپنی بات پوری کر کے رہتا تھا۔۔۔
“اُس دِن جو ہوا تھا وہ سب سچ نہیں وہ میسجز وہ تصویریں سب ایک پلاننگ تھی صائم کی۔۔ اور اُن سب میں اُس نے میرا نام یوز کیا ۔۔ تاکہ ہماری دوستی ختم ہو جائے ۔۔ ان سب میں مہرماہ کا کوئی قصور نہیں تھا وہ آج بھی تم سے ہی محبت کرتی ہے۔۔”
“اور تمہارے پاس کیا ثبوت ہے؟”
“ہاں ہے میرے پاس ثبوت!! ” ارحم نے ایک ویڈیو آن کی تھی جسے دیکھ جاذب کو یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ پر وہ خاموش رہا ۔۔ کیوں کہ اب وقت گزر چکا تھا بس باتیں رہ گئی تھیں ۔۔۔۔
ارحم ویڈیو دکھاتا جانے لگا تھا ۔۔
“مجھ سے ایک وعدہ کرو؟ “جاذب ارحم کی پُشت دیکھتا بولا تھا۔۔
“کیا؟” ارحم نے جاذب کی طرف دیکھا۔۔۔
“عشوہ کو تم انصاف دلاؤ گے۔۔ اور صرف عشوہ ہی نہیں ایسی بہت سی لڑکیاں جو ان سب کا شکار ہوئی پر اُن سب کو انصاف کیوں نہیں ملا ؟ کیوں اُن سب کو ایک تحفظ نہیں دیا جاتا؟ کیوں وہ بدنامی کی ڈر سے چپ ره جاتی ہیں؟ کیا تم ان سب کو انصاف دلاؤ گے اور اُن سب کو ایک تحفظ دو گے ۔۔” جاذب نے سوالیہ نظروں سے ارحم کی طرح دیکھا؟
“میں ارحم خان جاذب ہمدان سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی آخری سانس تک ہر مظلوم کے حق میں آواز اٹھاؤ گا اور اُسے انصاف بھی ضرور ملے گا ،” ارحم نے جاذب کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔
جواب میں جاذب مسکرایا تھا۔۔
“جاذب ہمدان ابھی بھی تمہارے پاس وقت ہے یہاں سے فرار ہونے کا چلے جاؤ ۔” ارحم نے جاذب کی کاندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
ہاہااہاہاہا!! اُس کا قہقہہ پورے کمرے میں گونجا تھا۔۔
“نہ۔۔نہ ۔۔نہ۔ میرے معصوم چہرے پر مت جانا ۔
اندر سے میں چیر پھاڑ دینے والا بھیڑیا ہوں۔۔ جو بہت بے رحم ہے ۔۔”
ہیزل آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔۔
ارحم ایک پل کو اُس سے نظریں چرا گیا ۔۔
عشوہ کو ویل چیئر پر لایا گیا تھا۔۔ عشوہ کی حالت قدرے بہتر تھی۔۔۔
“کیسی ہیں آپ عشوہ بچہ؟” جاذب محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔
“جی جاذب بھائی میں بہت اچھی۔” عشوہ کی مسکراہٹ ہمیشہ کے لئے غائب ہو گئی تھی۔۔ آنکھیں ویران اور بنجر تھی،
“عشوہ تمہیں پتہ ہے ہم اتنے مظلوم نہیں ہوتے جتنا ہم خود کو مظلوم سمجھتے ہیں ۔۔”
عشوہ با غور جاذب کا چہرہ دیکھنے لگی ۔۔۔۔
“کسی میں اتنی ہمت تو نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ہم پر ظلم کرے ؟؟ اور اتنا کمزور کیوں بننا کہ لوگ ہمیں ڈراتے رھیں ! ہم سب کو تو مضبوط بننا چاہیے کہ اگر کوئی ہم پر ظلم کرے تو ہم آواز اٹھا سکیں ؟”
“ہمیشہ یاد رکھنا ہمیں کسی کو اتنا حق بھی نہیں دینا چاہیے کہ وہ ہم پر ظلم کر سکے ۔”
عشوہ رو دی تھی جاذب کے لئے ۔۔۔” بھائی ؟ ” عشوہ کے پاس کوئی الفاظ نہ تھے۔۔ جاذب کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا تھا ۔۔
“چلو ملاقات کا وقت ختم ہوا ،” پولیس اہلکار آتے ہی عشوہ کو لے جانے لگا ۔۔ عشوہ نے ایک خط جاذب کے ہاتھ میں رکھا تھا ۔۔ جاذب نے سوالیہ نظروں سے عشوہ کی طرف دیکھا ۔۔
“اُن میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ آپ کو اس حالت میں دیکھتی ،” جاذب کی آنکھوں میں پانی بھر گیا تھا سامنے کا منظر دھندلا ہو چکا تھا۔۔۔۔
مگر جاذب نے خط نہیں پڑھا تھا اگر وہ خط پڑھ لیتا تو سب کچھ بہت مشکل ہو جاتا ۔۔
دو پولیس اہلکار جاذب کو اپنے ساتھ لے گئے ۔۔ خط وہی میز پر پڑا رہا۔۔ شاید قدرت کو یہی منظور تھا۔۔۔
جاذب کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ
دی گی تھی۔۔ پر ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری تھی۔۔
The end …..
عشوہ اور ایزل کے مجرم کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اُسے سزائے موت سنا دی گئی ۔۔ ارحم نے اپنا وعدہ پورا کیا تھا۔۔۔ اور عشوہ کو آخر کار انصاف ملا ۔۔
کچھ عرصہ بعد:
تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔۔۔ مشائم کومہ سے باہر نکل آئی تھی۔۔۔ مشائم کی شادی اذہان سے ہو چکی تھی آج مشائم اپنے ہمسفر ، اپنے محرم کے ساتھ تھی ۔۔ ایک تحفظ کیساتھ۔۔ رامین عزت اور سکون سے اپنی بیٹی کے ساتھ زندگی گزارنے لگی تھی۔۔۔ مہرماہ کچھ حسین یادوں کے سہارے اپنی زندگی میں آگے بھرنے لگی تھی۔۔ جاذب کی یادیں زندگی بھر اُس کے ساتھ تھیں ۔۔
ان سب کرداروں کی زندگی اتنی آزمائش اور مشکلات سے گزری پر آخری میں صرف ایک اُمید تھی ان سب کے پاس اور وہ سب ایک اُمید کے ساتھ اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے ۔۔۔ ایک انصاف کے ساتھ۔۔
ختم شدہ
