SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 6۔

سکوت قسط نمبر:۶

ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔

اسلام آباد

پیر سوہاوہ (دامن کوہ سے اوپر ایک مقام) کی بلند چوٹیوں پر شام آہستہ آہستہ اُتر رہی تھی۔

ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک گھل چکی تھی اور پائن کے درختوں کی خوشبو ہر جھونکے کے ساتھ مزید واضح ہو رہی تھی۔ سورج پہاڑیوں کے پیچھے ڈوبنے لگا تو آسمان پر نارنجی، گلابی اور بیگنی رنگ ایک دوسرے میں گھلنے لگے — ایسے جیسے فطرت نے فضا پر خاموشی سے کوئی شاہکار بنا دیا ہو۔

پہاڑی کے کنارے ایک جگہ زمین ہموار تھی، جہاں گھاس کم مگر نرم محسوس ہوتی تھی۔ اسی جگہ ہلکی بھوری لکڑی کا ایک چھوٹا بینچ رکھا تھا جس پر تین لوگ آسانی سے بیٹھ جاتے۔ وہیں ازمیر اور مزاحم بیٹھے تھے، بالکل خاموش، جیسے شام کی آوازیں سن رہے ہوں۔

ان کے سامنے اسلام آباد پھیلا ہوا تھا —

روشنیوں میں نہایا ہوا، جیسے کسی بہت بڑے کایا کلپ کا حصہ ہو۔

سڑکوں پر چلتی گاڑیوں کے ہیڈلائٹس لمبی چمکتی لائنوں کی صورت نیچے پھیل رہی تھیں۔ فیصل مسجد کی سفید دیواریں دُور سے بھی پہچانی جاتی تھیں۔

وہ دونوں اکثر شام کے وقت یہاں آتے، باتیں کرتے، اپنے پلینز بناتے اور دیر تک بیٹھا کرتے تھے۔

اسی پر سکون ماحول میں مزاحم کے چھنگاڑتے فون کی آواز شامل ہو گئی۔

راہمہ کالنگ لکھا دیکھ، مزاحم نے کندھے کڑاتے اپنے ساتھ بیٹھے ازمیر کو دیکھا اور کال یس کرتے فون کان سے لگایا۔

ازمیر اس کی نوٹنکی پر سر جھٹک کہ رہ گیا ۔ 

“ہیلو، راہمہ، کیسی ہو؟” مزاحم نے خوشی سے پوچھا، مگر شاید سامنے والی کا مزاج بے انتہا گرم تھا۔

“کیسی ہوں گی، میں ہاں؟ کہاں مرے ہوئے تھے تم؟”

ازمیر جو کافی کا کپ لبوں سے لگائے مائع اپنے اندر انڈیل رہا تھا راہمہ کی غصّہ سے چنگھاڑتی آواز پر اسے اچھوکا لگا۔ ازمیر نے کھانستے ہوئے کپ اپنے اور مزاحم کے درمیان میز پر رکھا۔

“کیا ہوا ہے راہمہ؟ تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو؟” مزاحم ازمیر کی مذاق اڑاتی کھانسی پر لعنت بھیجتے، فکر مندی سے پوچھتا ہے۔

“کیا ہونا تھا مجھے، تم نے کہا تھا آج تم مجھے آفس سے پک کرو گے!” راہمہ آتش فشاں بنی مزاحم پر پھٹ رہی تھی۔ آج مزاحم نے اس سے کہا تھا کہ وہ اسے آفس سے پک کرے گا، مگر اب پورے ڈھائی گھنٹے انتظار کے بعد وہ خود ہی گھر پہنچ چکی تھی اور پہلی فرصت میں مزاحم کو کال کی تھی۔

“اوہ ایم سو، سوری راہمہ، مجھے بھول گیا تھا، تم وہی رکو، میں ابھی۔۔۔”

“کوئی ضرورت نہیں ہے آنے کی ، میں گھر آ چکی ہوں اور اب کوئی اور لڑکی ڈھونڈ لو، مجھے نہیں کرنی تم سے شادی!”

راہمہ نے اس کی بات سننے سے پہلے ہی تلملا کر فون اس کے منہ پر بند کر دیا۔

مزاحم نے فون کی سکرین کو افسوس سے دیکھا۔

“کیا کہہ رہی تھی راہمہ؟” ازمیر نے انجان بنتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔

مزاحم اس کی بات سنتے اندر تک سلگ اٹھا تھا، اسے اپنے زخموں پر نمک کا چھڑکاو محسوس ہوا تھا۔

“کہہ رہی تھی ازمیر پر سو دفعہ لعنت بھیج دینا!” مزاحم تپ کر مُسکراتے ہوئے، چبا چبا کر بولا۔

“اچھا مگر مجھے تو کچھ اور ہی سنائی دیا تھا، خیر جو بھی تھا۔” ازمیر نے اسے مزید تپاتے ہوئے کہا۔

مزاحم نے اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا کافی کا کپ دیکھا، دل چاہا سامنے بیٹھے مرد کے اوپر انڈیل دے، یا پھر پہاڑی سے نیچے پھینک دے، مگر نہیں، وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے کپڑے خراب کرنا یعنی اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنا، اور اسے نیچے گرانا یعنی اپنی قیمتی شے گنوانا۔

مزاحم بے بسی لب پیچھے کر کے رہ گیا اور گہری سانس بھرتے یک دم ازمیر کے پیٹ میں مکا رسید کیا۔

“آہاہاہاہا۔۔۔”

ازمیر اس اچانک حملے کے لیے تیار نہیں تھا، اس لیے درد سے کراہتا، دہرا ہوا، جبکہ مزاحم کے جلتے دل پر پھوار گری تھی۔ ہاں، نا تو وہ اس کی عزت پر ہاتھ ڈال سکتا تھا اور نا اس کا قتل، مگر وہ اسے خوب پیٹ سکتا تھا، کیوں کہ وہ جانتا تھا ازمیر اس پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا۔

“لعنت ہو تم پر، مزاحم!” ازمیر سیدھا ہوتا، اسے زہرخند نظروں سے دیکھ کر غرایا۔

“بہت شکریہ ازمیر!” مزاحم سینے پر ہاتھ رکھتے، تشکر سے مسکرایا۔

ازمیر اس کی ڈھٹائی پر زہر کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔

ہر طرف اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا، اور اسلام آباد کی روشنیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔

ازمیر اس پر لعنت بھیجتے سیدھا ہوا، ہی اس کی نظر سامنے ایک چھوٹے سفید پھول پر گئی۔

سفید مومی ہاتھ۔۔۔

جھکا سر۔۔۔

ہلکی بھوری آنکھیں۔۔۔

ازمیر کے زہن میں یک دم بھوری آنکھوں والی لڑکی آئی، جو دل کے تاڑ چھیر گئی تھی۔

“ویسے آج صبح سے کہاں گم تھے تم؟” وہ جو خیالوں میں غرق تھا، زاحم کی آواز پر واپس لوٹا۔

وہ واقعی اس لڑکی کو نہیں بھول سکتا تھا۔

“میں آج درانی سے ملنے گیا تھا۔” کچھ پل خاموشی کے بعد ازمیر نے سنجیدگی سے کہا۔

“درانی سے؟ تم درانی سے ملنے جیل گئے تھے؟”

“ہاں،” یک لفظی جواب۔

“کیوں؟” مزاحم حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“میں اس سے سائفر کے مطلق بات کرنے گیا تھا، اس نے بتایا۔۔۔”

پھیلتے اندھیرے میں، پتوں کی سرسراہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ اور ہوا کی سرگوشیوں میں ازمیر کی آواز گھلتی جا رہی تھی۔

حسیں پہاڑی کے اندھیرے میں، ہلکی بھوری بینچ پر بیٹھے دو نفوس ایک عجب ہی منظر پیش کر رہے تھے۔

“اوہ مائی گاڈ! اس کا مطلب، سائفر اتنا خطرناک نہیں جتنا ہم نے سمجھ رکھا ہے۔” مزاحم اس کی پوری بات سنتے ہوئے حیرت سے بولا۔

“ایکزیکٹلی! سائفر نے جتنا خود کو چھپا ہوا اور خطرناک ظاہر کیا ہے، وہ اتنا ہی ظاہر انسان ہے۔” ازمیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

“ہممم، لیکن ایک منٹ، تمہیں اتنا یقین کیسے تھا کہ درانی تمہیں سچ بتا دے گا؟”

“ظاہر سی بات ہے، وہ مجھے کھبی نہیں بتاتا، مگر وہ اپنے وکیل کو ضرور بتاتا۔” ازمیر ہنستے ہوئے کہتا اور اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔

“یعنی تم اس کے وکیل بن کر گئے تھے؟” مزاحم حیرت سے پوچھتا، اس کے ساتھ ہی کھڑا ہوا۔

“نہیں، میں بس اس کے وکیل کے آنے سے بیس منٹ پہلے اس سے ملنے گیا تھا۔ اب اگر وہ مجھے اپنا وکیل سمجھ بیٹھا تھا، تو یہ اس کی غلطی تھی، میرا کوئی قصور نہیں۔” ازمیر شرافت کی آخری حد کو چھوتے بولا۔

“ایک نمبر کے فراڈیہ ہو تم! لیکن خیر، تمہاری ملاقات فائدے مند ثابت ہوئی ہے۔”

وہ دونوں قدم واپسی کی طرف بڑھائے ہوئے تھے۔

لیکن ازمیر چھ سال پہلے ہی تو تم سے ایک تقریب میں ملاقات ہوئی تھی، وہ تمہیں پہچان کیوں نہ سکا کہ تم پراسیکیوٹر ہو یا ڈیفنس لائر۔

“جلد بازی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مار دیتی ہے، اور وہ اس وقت قید سے جلد از جلد نکلنا چاہتے تھے۔” ازمیر نے سرد آہ بھرتے کہا۔

“اوے فلاسفر، جلد بازی نہیں، صرف پانچ منٹ کی ملاقات تھی، یا شاید اس سے بھی کم، اور اب تم کوئی اعلیٰ شخصیت تو ہو نہیں کہ وہ مرتے دم تک تمہیں یاد رکھے۔” مزاحم اس کا فلسفہ سنتے جل کر بولا۔

“ہاں، مگر اب وہ مرتے دم تک میرا چہرہ یاد رکھے گا۔” ازمیر مسکراتے ہوئے بولا۔

“آہا، جناب کی اکڑ تو دیکھو مرت۔۔۔”

دور جاتے قدموں کے ساتھ ان کی آواز بھی مدھم پڑتی جا رہی تھی۔

ہلکی بھوری بینچ مکمل اندھیرے میں ڈوب چکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسلام آباد

وہ ہاتھ میں ایک فولڈر تھامے، سیدھ میں دیکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔ بلاک ہیل کی آواز ساکت راہداری میں ایک مدھم ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

اس کے قدم میٹنگ روم کی جانب رواں تھے۔

اس نے دروازے پر دستک دی۔

کم ان، اندر سے مرزا حاکم کی گھمبیر آواز آئی۔

وہ اجازت ملتے ہی دروازہ کھول کر اندر آئی، سامنے ہی وہ لمبی میز کے ساتھ کھڑا کچھ سکیچز دیکھ رہا تھا، صاحبہ کی جانب اس کی پشت تھی، مرزا حاکم کی دوسری جانب عزیز کھڑا نوٹ پیڈ پر کچھ نوٹ کر رہا تھا۔

وہ ایک ایک قدم چلتی اس تک آئی اور کچھ فاصلے پر کھڑی ہو کر اس سے مخاطب ہوئی۔

“نیو پروجیکٹ ایونٹ کے لیے جو سپیچ آپ نے دینی ہے، اس کے پوائنٹس یہ ہیں۔”

صاحبہ اس کے سامنے ایک فولڈر میں سے شیٹ نکالتے ہوئے بولتی ہے۔

مرزا حاکم ایک بار بھی اس کی جانب نہیں دیکھتا، یوں ہی چہرہ جھکائے سکیچز پر پنسل سے پوائنٹ مارکس کر رہا ہوتا ہے، جبکہ عزیز اپنا کام چھوڑ صاحبہ کو مسکرا کر دیکھ رہا ہوتا ہے۔

نئے پروجیکٹ کا شیڈول بھی تیار ہے، آپ دیکھ لیجیے گا۔

صاحبہ اسے مکمل غیر حاضر محسوس کرتے، سنجیدگی سے بولتے ہوئے واپس پلٹنے ہی والی ہوتی ہے کہ مرزا کی بات پر رک جاتی ہے۔

“یہ پڑھ کر سنائے، مس صاحبہ۔”

چہرہ ہنوز سکیچز پر ہی جھکا ہوتا ہے۔

صاحبہ گہرا سانس بھرتے واپس پلٹتی ہے اور میز تک آتی ہے۔

وہ دونوں میز کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور دونوں کا ہی چہرہ میز پر رکھی شیٹس پر جھکا ہوتا ہے۔

مرزا حاکم بظاہر نظریں سکیچز پر ہی مرکوز کیے ہوئے تھا، گر دھیان صاحبہ کی بات پر تھا، جبکہ عزیز پورے دانتوں کی نمائش کرواتا صاحبہ کو تکے جا رہا تھا۔

وہ اسے شیڈول میں موجود تمام پوائنٹس سنجیدگی سے کلئیر رہی تھی۔

“سپوز ڈییٹ، کہ اگر یہاں میڈیا آ بھی گیا تو ہمارے پاس تمام جوابات پہلے سے موجود ہوں گے اور۔۔۔”

مرزا، جو اس کی بات دھیان سے سن رہا ہوتا ہے، اچانک اس کی نظر صاحبہ کے ہاتھ پر جاتی ہے، جو پنسل پکڑے شیٹ پر مارکس کرتے بول رہی تھی۔

مرزا حاکم بے اختیاری میں زرا کی زرا نظر ساتھ کھڑی لڑکی پر ڈالتا ہے۔

سفید مومی چہرہ، اور اس پر جھولتی بھوری لٹ۔

مرزا حاکم نے سنجیدگی سے اسے دیکھا اور نظریں دوبارہ موڑ لی۔

“از اٹ کلئیر، مسٹر حاکم؟”

صاحبہ بات ختم کرتے، چہرہ اٹھائے پوچھتی ہے۔

“افکارس، یو ڈڈ گڈ جاب۔”

مرزا مسکرا کر کہتا ہے۔

“اوکے، دین سی یو لیٹر۔”

صاحبہ ہلکا سا مسکرا کر کہتی ہے اور باہر چلی جاتی ہے۔

“اگر دن میں تین بار برش کر ہی لیا ہے تو ضروری نہیں کہ انہیں میوزیم میں موجود سپیشل پیس کی طرح سجا کر کھڑے رہو۔”

صاحبہ کے جاتے مرزا نے عزیز کو ڈپٹنے والے انداز میں کہا۔

عزیز، جو ابھی صاحبہ کے جانے کے بعد دروازے کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا، مرزا کی بات پر تلملا سا گیا تھا، اور منہ بناتے دوبارہ سے اپنے کام پر لگ گیا۔

ہر جگہ نظریں ہوتی ہیں ان کی بھی ، کوئی پرائویسی ہی نہیں ہے ، وہ جل بھن کر سوچ کہ رہ گیا ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

لاہور

تایا جان میں پلویش سے مل لوں، ہلکا گلابی سوٹ اور ہم رنگ دوپٹا ہی کندھے پر ڈالے، وہ ہاف بال کیچر میں قید کیے ڈاکٹر طاہر سے پوچھ رہی تھی۔

ہممم، ڈاکٹر طاہر نے بس اثبات میں سر ہلا دیا۔

وہ لوگ روم نمبر 11 کے سامنے کھڑے تھے، تائی جان اور سمعیہ ابھی ابھی ویشا سے مل کر گئی تھی، وہ بہت دیر تک پلویش سے باتیں کرتی رہی تھی مگر پلویش نے ایک دو بار کے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ پچھلے تین دنوں سے صبح کو نرس اسے بریکفاسٹ کرواتی، اور پھر رات کو ڈنر، بیچ کے دورانیہ میں وہ بے سدھ لیٹی کھڑی کے باہر جھانکتی رہتی، نا کچھ بولتی نا سنتی، بس کھڑکی کے باہر ہی نظریں موڑے پڑی رہتی تھیں۔

ردا نے اجازت ملنے پر روم نمبر 11 کے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔

سوج کی سنہری کرنیں گلاس وینڈو سے چھن کر کمرے کو سنہرا کر رہی تھیں، وہ سامنے ہی سنگل بیڈ پر بیٹھی تھی، ٹانگے لٹکائے کھڑکی سے باہر دیکھتی۔

ردا کی جانب اس کی پشت تھی، وہ مریضوں والے لباس میں ملبوس تھی، بال ڈھیلی سی پونی میں قید تھے۔

ردا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس تک آئی۔ 

اور اس کے چہرے پر زخموں کے نشان تھے جو کافی حد تک مندمل ہو چکے تھے، ردا اس کی حالت دیکھ کر یک دم منہ پر ہاتھ رکھ گئی، دو آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلتے چلے گئے۔ وہ ایک ہاتھ سر پر رکھے اور دوسرا ہاتھ کمر پر ٹکائے خود کی آنسوں پر قابو پانے لگی۔

پلویشا ہنوز کھڑکی سے باہر ہی دیکھتی رہی، سنہری روشنی سے اس کے چہرے بھی سنہری سا لگ رہا تھا۔

ردا آنسو صاف کرتی دو قدم لیے اس تک آئی۔

پلویشا، جو ہر شے سے بیگانہ ہوئی بیٹھی تھی، اپنی نزدیک کسی کو آتے دیکھ فوراً بیڈ کے ایک طرف کھسکی۔

ردا نے اپنے قدم وہیں روک لیے تھے، اسے سمجھ ہی نا آئی وہ اب کیا کرے۔

وہ ایک دو پل تو کھڑی رہی، پھر ہمت کرتی، اس کے ساتھ ہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔ پلویشا اسے بیڈ پر بیٹھتا دیکھ اور دور ہوئی تھی، وہ سر جھکائے اس سے مزید دور ہوتی، چہرہ دوسری طرف موڑ گئی۔

“کیسی ہو پلویشا؟” ردا نے اس کی طرف دیکھتے پیار اور نرمی سے پوچھا۔

مگر پلویشا یوں ہی ایک طرف سمٹی، بے تاثر چہرے کے ساتھ چہرہ موڑے، نیچے فرش کو دیکھتی رہی۔

ردا کا دل چاہا وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے، اس کا کیا، گھر میں سے کسی نے بھی اس کی یہ حالت دیکھی نہیں تھی۔ ردا فوراً سے پہلے اٹھی اور باہر نکل گئی۔

“تایا جان، وہ تو بات تو کیا، اپنے قریب بھی نہیں آنے دے رہی ہمیں!” ردا باہر آتے روتے ہوئے بولی۔

“بچے ابھی اسے ریکور ہونے میں وقت لگے گا، آپ پریشان نا ہوں، اور یونیورسٹی جاؤ دیر ہو جائے گی،” ڈاکٹر طاہر نے پیار سے اسے خود سے لگاتے ہوئے کہا۔

ردا آنسو صاف کرتی وہاں سے چلی گئی۔

ڈاکٹر طاہر نے گہرا سانس بھرتے روم نمبر 11 کے دروازے کا ہینڈل گھمایا۔

دروازہ کھلتا چلا گیا تھا، انہیں وہ بیڈ پر ایک جانب سمٹی، سمٹی سے ٹانگے لٹکائے بیٹھی نظر آئی۔ پچھلے تین دنوں سے وہ صرف تب ہی اس کے پاس جاتے تھے جب وہ سوئی ہوئی ہوتی تھی، مگر آج اسے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنے قدم پلویشا کی طرف بڑھائے، اور اس کے بلکل سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔

اپنے اتنے قریب کسی فرد کو دیکھ کر پلویشا بے چین ہونے لگی۔ اس کے دائیں جانب دیوار تھی اور بائیں جانب ڈاکٹر طاہر نے ہاتھ بیڈ پر رکھا ہوا تھا، اور سامنے وہ خود براجمان تھے۔ اس کی تمام راہیں بند تھیں، اسے گھٹن ہونے لگی ۔ وہ ہزیانی ہوتی، چہرہ نیچے کو جھکائے، اپنے ہاتھ ایک دوسرے میں پیوست کیے جا رہی تھی۔ خوف کی ایک لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی تھی۔

“پلویشا، ادھر۔۔۔ ادھر میری جانب دیکھو۔۔۔”

ڈاکٹر طاہر نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرتے، اپنی جانب موڑنے کی کوشش کی، مگر وہ ڈھیٹ بنے چہرہ مزید جھکاتی گئی، اور ناخن اپنی ہتھیلی میں بری طرح پیوست کر دیے۔ پھر ان کی بڑھتی طاقت دیکھ، اپنے ہاتھوں سے ان کے بازو پکڑے، ان کے ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹانے کی کوششیں کرنے لگی، گھٹی گھٹی چیخیں منہ میں ہی دم توڑ رہی تھیں۔

“پلویشا، میں ہوں، میری جان، ڈاکٹر طاہر، ادھر دیکھو، پلویشا۔۔۔ ادھر دیکھو، میری طرف۔۔۔”

چھوڑو ، ہٹو دور ہٹو ۔۔۔۔۔۔، پلویشا پوری شدت سے چلائی ۔ 

پلویشا ادھر دیکھو میری جانب ، انہوں نے یک دم اس کا چہرہ اوپر کرتے، اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ پلویشا، جو اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کے بازو پکڑے احتجاج کر رہی تھی، یک دم انہیں دیکھ ٹہر سی گئی۔

“ریلیکس۔۔۔ ریلیکس، یہ میں ہوں، ڈاکٹر طاہر،” ڈاکٹر طاہر نے اسے یک ٹک اپنی طرف دیکھتا پا کر نرمی سے کہا۔

پلویشا بنا کچھ بولے انہیں دیکھے گئی ، یکایک اس کی خشک آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی ابھری، وہ ڈاکٹر طاہر تھے، وہ جن سے پلویشا ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرتی تھی۔

“ڈا۔۔۔ ڈاکٹر طا۔۔۔ ڈاکٹر طاہر؟” پورے تین دنوں بعد پلویشا کی آواز لاہور کی فضا میں گونج اٹھی۔

“بلکل، میں ہوں،” ڈاکٹر طاہر نے اس کی آواز سنتے مُسکراتے ہوئے کہا۔

پلویشا نے لبوں کو اپنے دانتوں سے کچلتے ہوئے ادھر اُدھر دیکھا۔

“ادھر بس، ادھر دیکھو، کوئی نہیں ہے یہاں پلویشا،” ڈاکٹر طاہر نے دوبارہ سے اس کی آنکھوں میں امڈ آتے خوف کو دیکھ کر اس کا چہرہ پھر اپنی طرف موڑا۔ وہ ایک ڈری سہمی بچی کی طرح دکھ رہی تھی۔

ڈاکٹر طاہر کی آنکھوں میں دیکھتے، پلویشا کی آنکھوں میں نمی بڑھی، وہ اپنے حواس میں واپس آ رہی تھی۔

یک دم، گہرے سانس بڑھتی رہی ، اور پھر لاہور کی فضا میں اس کی بلند رونے کی آوازیں گونجتی گئی ۔ 

پلویشا پھوٹ پھوٹ کر روتے ان کے کندھے پر سر رکھ گئی۔

ڈاکٹر طاہر نے اس کا سر اپنے کندھے پر ٹکاتے، اس کی پشت سہلائی۔

وہ رو رہی تھی، زارو قطار رو رہی تھی۔

“مجھے۔۔۔ درد ہو رہا ہے۔۔۔ ڈاکٹر طاہر،۔۔۔ مجھے۔۔۔ درد ہو رہا ہے،” وہ بچوں کی طرح ان کے کندھے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

“میر۔۔۔ا۔۔۔ میرا۔۔۔ سر۔۔۔ میرا سر زور سے دیوار۔۔۔ زور سے دیوار میں لگا تھا، ڈاکٹر طاہر۔۔۔ در۔۔۔ درد بے۔۔۔ انتہا درد ہو رہا ہے مجھے۔۔۔”

ڈاکٹر طاہر اس کی درد سے لبریز ہچکیوں زدہ بات سنتے نرمی سے اس کی پشت سہلا رہے تھے، وہ مطمئن تھے، کیوں کہ پلویشا اپنے اندر کا غبار باہر نکال رہی تھی۔

سورج کی کرنیں فرش پر بیٹھے دونوں نفوس پر پڑ رہی تھیں۔

پلویشا روتی گئی۔۔۔ جتنا رو سکتی تھی روتی گئی، آخر ایک وقت پر تھک گئی، اور یوں ہی سر ان کے کندھے پر ٹکائے، گہرے گہرے سانس لینے لگی۔

ڈاکٹر طاہر نے نرمی سے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھرا، اس کے چہرے آنسوں سے گیلا ہو گیا تھا اور یہی حال ڈاکٹر طاہر کے کندھے کا بھی تھا۔ انہوں نے پیار سے اس کے ماتھے پر بھوسہ دیا۔

“ابھی بھی سر میں درد ہو رہا ہے،” انہوں نے نہایت شفقت سے اس چہرے کو تھامے پوچھا۔

پلویشا ہچکی لیتی، اثبات میں سر ہلا گئی۔

“ٹھیک ہو جائے گا، میڈیسن لو گی نا تو ٹھیک ہو جائے گا،” ڈاکٹر طاہر نے اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا۔

پلویشا اثبات میں سر ہلا کر رہ گئی۔

“آج گھر چلیں گے ہم، ہمم،” ڈاکٹر طاہر نے اسے کھڑا کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جاتے کہا۔

“جاؤ، شاباش، فریش ہو جاؤ، میں نرس کو بھیجتا ہوں اندر،” ڈاکٹر طاہر نے اسے اٹیچ واشروم کے دروازے کے سامنے روکتے ہوئے کہا۔

پلویشا نے قدم واشروم کی طرف بڑھا دیے۔

ڈاکٹر طاہر نے اس کی جاتی پشت کو دیکھا۔

Thank you for being in my life.

وہ جو ابھی واشروم کا دروازہ کھول کر اندر قدم رکھنے ہی والی تھی، ڈاکٹر طاہر کے کہے گئے جملے نے اسے جکڑ لیا۔

اس نے بے اختیار مڑ کر انہیں دیکھا، وہ اسے ہی دیکھ رہے تھے، آنکھوں میں نمی لیے، نرمی سے، ان کی آنکھوں میں کچھ تھا، کچھ ایسا تاثر کہ پلویشا چونک گئی تھی۔

ڈاکٹر طاہر پلٹ گئے، جبکہ پلویشا بھی کچھ پل وہی ٹہر کر واشروم میں گھس گئی۔

سورج کی کرنیں اب بھی اسی جگہ کا احاطہ کیے ہوئے تھیں۔

دو گھنٹے بعد،

وہ اور ڈاکٹر طاہر اکھٹے لاونج میں داخل ہوئے، سامنے تائی جان، ڈاکٹر ابراہیم، سمعیہ اور ردا بیٹھی تھیں۔ پلویشا اور ڈاکٹر طاہر کو اندر آتے دیکھ سب لوگ خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔

ڈاکٹر طاہر نے کہا تھا وہ اسے خود ہی ہسپتال سے لے آئے گے، اس لیے وہ سب گھر میں ہی بیٹھے ان دونوں کا انتظار کر رہے تھے۔

“پلویشا، کیسی ہو اب؟” تائی جان آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگاتی خوشی سے بولی۔

پلویشا ان کے قریب آنے پر بے چین ہوئی تھی، مگر ڈاکٹر طاہر نے اس کا دایاں ہاتھ پکڑ رکھا تھا، جس کی وجہ سے پلویشا خاموش رہی۔ انہوں نے بتایا تھا، چاہے جتنا پینک ہونے لگے، تم نے اپنے آپ پر کنٹرول رکھنا ہے۔

“اب کیسی طبعیت ہے تمہاری؟” سمعیہ بھی اس کے قریب آتے بولی۔

“ٹھ۔۔ ٹھیک ہے،” پلویشا نے آنکھیں جھپکاتے ہوئے جواب دیا۔

ڈاکٹر ابراہیم نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر صوفے کی طرف آنے کا اشارہ کیا۔

پلویشا صوفے کی جانب بڑھ ہی رہی تھی کہ اس کی ساتھ کھڑی ردا پر گئی۔

ردا آنکھوں میں نمی لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

پلویشا ردا کو دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی، وہ اس کی کزن تھی، دوست تھی، پچھلے چھ سالوں سے اس کے ساتھ تھی۔ پلویشا اسے دیکھتی رہی اور پھر اس کی طرف بڑھتے، خود ہی اس کے گرد حصار باندھ گئی۔

پلویشا کی اس حرکت نے لاونج میں ٹہرے ہر فرد کو ساکت کیا تھا، کسی کو شک نہیں تھا کہ اس کمال کے پیچھے بھی ڈاکٹر طاہر ہی تھے۔ صرف ڈاکٹر طاہر ہی پلویشا کے مائنڈ سیٹ کو بدلنے کی طاقت رکھتے تھے، صرف وہی اس کے اندر کے طوفان کو قابو کر سکتے تھے، وہ ڈاکٹر طاہر تھے، پلویشا دائم کے ڈاکٹر طاہر۔

پلویشا کا پورا جسم کانپ رہا تھا، ردا کو محسوس ہو گیا تھا وہ بہت مشکل سے اس کے گرد حصار باندھے کھڑی ہے۔

“میں نے تمہیں بہت مس کیا پلویشا، قسم سے اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑتی،” ردا روتے ہوئے بولی۔

پلویشا اس کی بات سنتے مسکرا دی، اور آنکھیں موند گئی۔

“اچھا بھئی، اب بیٹھ جاؤ،” تائی جان ہنستے ہوئے بولی، تو پلویشا اور ردا دونوں الگ ہوتے ہوئے صوفے کی جانب بڑھی۔

“پلویشا، تم نے بھئ ہماری جان حلق میں اٹکا دی تھی،” سمعیہ مسکراتے ہوئے بولی۔

“آپ کو پتہ ہے بیٹا، میں روز ہسپتال جانے سے پہلے اس پورے مجمعے کو ساتھ لیے آپ کے پاس آتا تھا، ظہیر بیچارہ لاکھ کہتا، پیشنٹ کی حالت ابھی حساس ہے، مگر نہیں، بھی تمہیں دیکھے بغیر کوئی اپنا دن شروع نہیں کرتا تھا،” ڈاکٹر ابراہیم نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

پلویشا ان کا اتنا پیار دیکھ کر مسکرا کر رہ گئی۔

“اور تمہیں پتہ ہے ردا تو۔۔۔”

شاہ ہاوس کے مکین باتوں میں مصروف ہو چکے تھے۔

جبکہ ڈاکٹر طاہر اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہے تھے، طوفان آیا اور گزر گیا، مگر صرف ڈاکٹر طاہر جانتے تھے یہ طوفان کتنی گہری، کتنی اذیت ناک چھاپ چھوڑ کر گیا تھا۔

پلویشا نے مسکرا کر سیڑھیاں چھڑتے ڈاکٹر طاہر کی پشت دیکھی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی

استنبول میں آج ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، سڑک پر چلتے لوگوں کے ہاتھوں میں چھتریاں تھیں۔

پلیٹوں سے ٹکراتے چمچ اور بولنے کی ہلکی ہلکی آوازیں “ماوی سوفرا” ریسٹورنٹ میں ایک خوشگوار ماحول پیدا کر رہی تھیں۔ برستی بارش میں ریسٹورنٹ میں بجتا مدھم میوزک ایک الگ ہی احساس پیدا کر رہا تھا۔

“نورے، جا کر وینڈو کے پاس والی ٹیبل پر یہ آرڈر دے کر آؤ،” علی نے اسے ایک سیاہ ٹرے تھماتے کہا، جس میں سجے کھانے سے اشہتا انگیز خوشبو آ رہی تھی۔

نورے بغیر کوئی جواب دیے، علی سے ٹرے تھامتی ابھی مڑی ہی تھی کہ چونک سی گئی۔

“اللّٰہ اللّٰہ، وقاص بے !” نورے آنکھیں گھماتے ہوئے بولی، جبکہ سروس ایریا میں موجود تمام شیفز اور ویٹرز مؤدب ہو کر ٹہر گئے تھے۔

ابھی نورے آگے بڑھتی کہ وقاص بے نے اسے روکا۔

“ایک منٹ، یہ آرڈر دلارے دینے جائے گی،” چالیس سالہ سخت تاثرات والے وقاص اکرم نے کڑے تیور سے کہا۔

دلارے کے ذکر پر نورے ایک پل کے لیے گڑبڑا گئی، پر بدقت تھوک نگلتے بولی، “وقاص بے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو بتایا ہے کہ دلارے واشروم ہے۔”

نورے مسکرا کر بولی۔

وقاص اکرم نے ضبط سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا۔ لمبے سیاہ کرلی بالوں کو ڈھیلی پونی میں قید کیے، وہ مہرون اور وائٹ کامبینیشن ویٹر ڈریس میں ایک پیاری سی لڑکی تھی۔

“نورے حانم، تمہیں نہیں لگتا کہ پچھلے آدھے گھنٹے سے واشروم میں بند دلارے کا کہیں سانس نہ نکل گیا ہو؟”

تمام ویٹرز اور شیف دلچسپی سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔

نورے نے ضبط سے آنکھیں میچیں، دلارے آج پھر لیٹ ہو گئی تھی، اور باس کے پوچھنے پر نورے نے جھوٹ بول دیا کہ وہ واشروم ہے اور اب آدھے گھنٹے سے زیادہ ہو رہا تھا، مگر دلارے میڈم ابھی تک نہیں آئی تھی۔

“وقاص بے وہ…” نورے نے بات گھڑنے کی کوشش کی۔

“ہاں جی ہاں، جلدی بتاؤ نورے،” وقاص اکرم نے چبا چبا کر کہا۔

“وقاص بے وہ دلارے۔۔۔”

کیا ہوا وقاص بے ؟ اس سے پہلے نورے کچھ کہتی، پیچھے سے دلارے کی آواز ابھری۔

نورے نے خوشی جبکہ وقاص اکرم نے تلملا کر پیچھے دیکھا۔

“کیا ہوا ، آپ مجھے بلا رہے تھے؟” گیلے ہاتھوں اور چہرے کے ساتھ دلارے ان تک آتے ہوئے بولی۔

“کہا تھی آپ،” وقاص اکرم نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

“اللّٰہ اللّٰہ ، بار بار سننا اچھا لگتا ہے آپ کو۔ بتایا تو تھا آپ کو، نورے نے کہ میں واشروم گئی تھی، اب کیا یہ بھی بتا دوں کہ کیوں گئی ؟ تھی تو سنے م۔۔”

“آرے بس بس، جاؤ اور یہ آرڈر دے کر آؤ، بےوقوف!”

دلارے جو ماتھے پر لکیریں لیے خفگی سے فر فر بولتی جا رہی تھی، اس کی پوری بات سنتے وقاص اکرم ایک پل میں گڑبڑا کر اسے ڈپٹتے سروس ایریا سے رفو چکر ہوئے۔

سب بیک وقت قہقہ لگاتے ہوئے دوبارہ اپنے کاموں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ وقاص اکرم جیسے سڑیل باس کو دلارے ہی ڈیل کر سکتی تھی۔

“سو، سو، سو، سوری نورے،” نورے کو خفگی سے اپنی جانب دیکھتا پا کر دلارے اس تک بڑھتے ہوئے اس کے ہاتھ سے ٹرے لیتے ہوئے بولی، “آخری بار تھا دلارے یہ، آئندہ اگر تم لیٹ آئی تو باس سے تو بعد میں، پہلے مجھ سے پٹو گی۔”

“پکہ نہیں آؤں گی،” دلارے نچلا لب دباتے بولتی ہے۔

“جلدی نہیں آؤں گی، ہے نا؟” نورے اس کی بات سمجھتے خونخوار نظروں سے دیکھتی بولی۔

دلارے ڈھٹائی سے ہنس دیتی ہے۔

“شرم کرو دلارے،” نورے نے اسے افسوس سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“میں کیا کروں نورے، اتنی سردی میں مجھ سے نہیں اٹھا جاتا جلدی،” دلارے معصومیت سے بولی۔

“اچھا تو جب مرزا آتا ہے تب تو فجر کے وقت ہی اٹھ جاتی ہو، تب سردی نہیں لگتی،” نورے چھبتے ہوئے کہتی ہے۔

“حاکم اور وقاص بے میں فرق ہے،” دلارے مسکرا کر کہتی ہوئی باہر چلی جاتی ہے، جبکہ نورے اس کی بات پر سر جھٹک کر رہ جاتی ہے۔

دلارے اور اس کی ناکام عاشقی کسی دن نورے سے خوب پٹتی ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

لاہور

بے چینیوں اور تھکن سے بھرپور راتوں کے بعد، ایک سکون بھری رات پورے لاہور پر چھا چکی تھی۔ پورے چاند کی روشنی آسمان کو مزید خوبصورت بنائے ہوئے تھی، اور ٹھنڈی ہوا کے باعث پتوں کی سرسراہٹ کی گونج ماحول میں پھیلے سکوت کو اور بھی پر اسرار بنا رہی تھی۔

پلویشا کے گھر آنے کے تھوڑی دیر بعد ہی حارث اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ بھی آ گئے تھے۔ محراب پلویشا کو دیکھ کر جتنا خوش ہوئی، اس سے زیادہ رُوئی تھی۔ دونوں فیملیز آج سارا دن ایک ساتھ رہے، خوب باتیں کیں، خوب ہنسے، گویا ہر لحاظ سے پلویشا کو نارمل کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ یہ کوشش رات گئے تک جاری رہی اور آگے بھی جاری رہتی اگر پلویشا کو سر میں درد محسوس نہ ہوتا۔ پلویشا کو ریسٹ کرنے کا کہہ کر وہ سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے، جبکہ حارث اپنی فیملی کے ساتھ آٹھ بجے ہی واپس جا چکے تھے۔ ایک ماہ بعد جیسے سب نے سکون بھرا سانس لیا اور ایک سکون بھری نیند کے آغوش میں تھے۔

پلویشا کے کمرے میں مدھم پیلے بلب کی روشنی ہی پھیلی تھی، اور کھلی کھڑکی سے پورا چاند دکھائی دیتا تھا۔ سفید پردے ہوا سے اڑ رہے تھے۔

واشروم کا دروازہ کھلا اور وہ باہر آئی۔ بلکل سادہ سیاہ ٹراؤزر اور گھٹنوں تک آتی سادہ قمیص پہنے، وہ بیڈ کی طرف آتی ہے اور سلیپر اتارتے بیڈ پر بیٹھی۔ اس سے پہلے وہ بیڈ پر لیٹتی، کھلی کھڑکی سے آتی ہوا دیکھ، وہ کھڑی کی جانب بڑھی۔

کھڑکی کے قریب آتے ہی ہوا کے تیز جھونکے سے پلویشا کے بال پیچھے کی جانب اڑ گئے۔ اس سے پہلے وہ کھڑکی بند کرتی پلویشا کی نظریں آسمان پر پورے آب و تاب سے چمکتے چاند پر گئی۔ وہ کئی پل اسے دیکھتی رہی، پھر اسی طرح کھڑی، اپنی آنکھیں موند گئی۔

ٹھنڈی ہوا اور چمکتے چاند کی روشنی میں، رقص کرتے کھلے بال، سفید مومی چہرہ اور سیاہ لباس میں آنکھیں موندے کھڑی لڑکی کوئی اپسرا لگ رہی تھی۔

ناجانے کتنے پل پلویشا اسی طرح کھڑکی کے سامنے کھڑی رہی، کہ اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں۔ آخری نظر چاند پر ڈال کر وہ مڑی ہی تھی کہ اس کی نظر نیچے لان پر گئی۔اور یہاں پلویشا دھک سے رہ گئی، ایک دم سرسراتا ہوا تیز ہوا کا جھونکا آیا، اور وہ لڑکھڑاتی ہوئی پیچھے ہوئی اور کھڑکی کے پٹ کو تھاما۔

سے یکدم آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی، اس کی نظر نیچے لان میں بیٹھے وجود پر ٹکی تھی ۔ 

 وہ۔۔۔ وہ “صائم تھا”۔ وہ جس سے اس نے اٹھارہ سال کی عمر میں محبت کی تھی، وہ جس کے لیے اس نے اپنے دل کے دروازے کھولے تھے، وہ جس کی محبت کو دیکھ کر وہ اپنی ذات کو ٹھکرا گئی تھی، وہ جس کے سامنے وہ کھلی کتاب بن جایا کرتی تھی۔ وہ جس کی محبت میں وہ اسے اسی کھڑکی سے گھنٹوں کام کرتے دیکھا کرتی تھی، وہ جس کی محبت میں وہ اپنا ماضی بھول گئی تھی، وہ اس کی محبت تھا۔ پلویشا دائم کی پہلی محبت، وہ اسے کیسے بھول گئی تھی؟ وہ صائم کو کیسے بھول سکتی تھی؟

پلویشا ماؤف ہوتے دماغ سے سوچ رہی تھی، اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ بغیر ایک بھی پل ضائع کیے دروازے کی جانب بھاگی۔

کانوں میں مسلسل ایک ہی شخص کے جملے گونج رہے تھے:

“پلویشا، تم میرے لیے بہت خاص ہو، بہت قیمتی ہو، جسے میں کبھی کھونا نہیں چاہوں گا۔”

وہ بیڈ کی درز سے بری طرح ٹکرائی، مگر نظرانداز کیے آگے بڑھی اور دروازہ کھول کر باہر نکلی۔

“تم مجھے ہمیشہ وفادار پاؤ گی، چاہے کچھ بھی ہو جائے، میں کبھی تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔”

وہ جلد بازی میں سیڑھیوں کی جانب بڑھ رہی تھی۔

“تم جس بھی حالت میں میرے پاس آؤ گی، ٹوٹی بکھری جیسی بھی حالت ہوئی، میں تمہیں سمیٹ لوں گا۔”

وہ تیز تیز سیڑھیاں اتر رہی تھی۔

“تمہارے ساتھ کا تصور دنیا کے سب تصورات میں سے انمول ہے، اور مجھے یہ تصور حقیقت بنانا ہے۔”

آخری سیڑھی پر اس کا پاؤ مڑا، اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے نیچے بیٹھی۔ درد کی ایک لہر اس کے پورے وجود میں دوڑ گئی، مگر وہ اٹھی اور تیزی سے اپنے قدم آگے بڑھائے۔

“تم میرا سکون بن گئی ہو، پلویشا، اور میں اس سکون کو کبھی نہیں کھونا چاہتا۔”

وہ سوئمنگ پول ایریا سے ہوتے ہوئے لان کی طرف آئی۔

“میں کبھی تمہارا مقام کسی کو نہیں دوں گا، کبھی بھی نہیں۔”

وہ لان میں رکھی چیئرز کی طرف بھاگی، ہوا سے لمبے اڑتے بال پیچھے کو اڑ رہے تھے۔

“میں تم سے محبت کرتا ہوں اور ہمیشہ محبت کروں گا۔”

بھاگتے ہوئے یک دم پلویشا کے قدموں کو بریک لگی، سانس سینے میں اٹک گئی تھی، اور ٹانگیں گویا شل ہو گئی تھیں۔ وہ اتنا بھاگ آئی تھی کہ اب ایک بھی قدم لینے کی سکت نہیں بچی تھی۔

صائم، جو بلیک ٹراؤزر اور بلیک ہی ہڈی میں لیپ ٹاپ کھولے اس پر ٹائپنگ کر رہا تھا، خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتا جیسے ہی دائیں جانب دیکھا تو دھک سے رہ گیا۔

ٹھنڈی گیلی گھاس پر ننگے پاؤں، چاند کی طرح دمکتے مومی چہرے، اور پھیلی آنکھوں سے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتی، وہ اس کے سامنے کھڑی تھی۔

صائم ایک جھٹکے سے اٹھا، لیپ ٹاپ نیچے گر گیا، مگر اسے پروا نہ تھی۔ وہ کئی پل اسے دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اپنے قدم پلویشا کی جانب بڑھائے۔ 

آسمان پر موجود چاند نے خوماشی سے یہ مناظر دیکھ رہا تھا ۔ 

من من بھر کے قدم اٹھانا صائم شاہ کے لیے مشکل ہو رہا تھا، مگر وہ ایک ایک قدم اٹھاتا، اس سے دو قدموں کے فاصلے پر جا کھڑا ہوا۔

پلویشا نے ایک پل کے لیے بھی اس کے خوبصورت چہرے سے نظریں نہیں ہٹائیں۔ کھلے آسمان، پورے چاند، ٹھنڈی ہوا، اور پھیلے سکوت میں وہ سانس روکے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے، آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھتے۔۔۔

صائم شاہ اور پلویشا دائم آمنے سامنے کھڑے تھے۔

“صا۔۔۔ صائم۔”

پلویشا ہولے سے بڑبڑائی، آنکھوں میں نمی جمع ہونے لگی۔

یہ آواز سنتے ہی صائم شاہ نے ضبط سے آنکھیں میچیں۔

“صائم، ” ایک بار پھر پلویشا کی بڑبڑاہٹ لاہور کی فضا میں گونجی۔

اس کی آنکھوں میں بڑھتی نمی کو دیکھ صائم نے گہرا سانس بھرتے آنکھیں بند کیں، دوبارہ کھولی تو اس کی نظر پلویشا کے پیروں کی طرف گئی۔ سفید پاؤں ٹھنڈی گیلی گھاس پر نیلے پڑ رہے تھے۔ صائم کو اچانک فکر نے گھیر لیا۔

“پلویشا، ٹھنڈ لگ جائے گی، ادھر بیٹھو۔”

صائم نے یکدم اس کا برف کی مانند ٹھنڈا ہاتھ پکڑتے ہوئے چیئر کی طرف جاتے کہا، جبکہ اس کے منہ سے اپنا نام سنتے پلویشا نے آنکھیں موند لیں۔ ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر پھسل گیا۔

اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ صائم نے اس کے چہرے کی جانب دیکھا، پھسلتے آنسو کو دیکھ صائم کے دل میں کچھ ڈوب کر ابھرا، اس کا دل تڑپ اٹھا تھا۔

وہ اس سے ایک قدم کے فاصلے پر آتے، بے ساختہ ہی نرمی کے ساتھ اپنے دائیں ہاتھ کی پشت سے اس کے پھسلتے آنسو کو صاف کرتا چلا گیا۔

بند آنکھوں سے، اپنے رخسار پر صائم کے ہاتھ کا ٹھنڈا لمس محسوس کرتے پلویشا اندر تک کانپ گئی۔ وہ اس کے اتنے قریب تھا کہ پلویشا کو اس کے پرفیوم کی خوشبو حواسوں پر سوار محسوس ہو رہی تھی۔

پھر اسی طرح بند آنکھوں سے یکے بعد دیگرے کئی آنسوں اس کے رخساروں پر پھیسلے۔ ہر طرف سکوت چھایا ہوا تھا۔

صائم نے اپنی نظریں پلویشا کے چہرے پر گاڑ دیں، نرمی کے ساتھ اس کے رخساروں پر پھسلتے آنسوں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا۔ وہ بہت خوبصورت تھی، اسے بے حد قریب سے دیکھتے صائم شاہ نے اعتراف کیا۔ پھر یونہی اسے یک ٹک دیکھتا رہا، وہ بے اختیار ہوتا، اس کے منہ پر آئے بال نرمی سے کان کے پیچھے کیے۔

اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ کہتا، اس کی نظر پلویشا کی تھوڑی کے نیچے زخم پر گئی۔

پلویشا کی لرزتی پلکیں، کانپتا جسم اور تھوڑی پر زخم کے نشان دیکھ کر صائم ایک پل سے پہلے اس سے دور ہوا۔

صائم کے اندر جیسے آگ بھڑکی، اس نے گہرا سانس بھرتے منہ پر ہاتھ پھیرا۔ اسے فاصلے پر محسوس کرتے پلویشا نے گہرا سانس بھرتے آنکھیں کھولیں، پھر وہ شل ہوتی ٹانگوں کے ساتھ چیئرز کی جانب بڑھی، اور ایک کرسی کا سہارا لیتی وہ اس پر بیٹھ گئی۔ سارا جسم گویا شل ہو گیا تھا۔

صائم نے اسے کرسی پر بیٹھتا دیکھ خود بھی اسی کرسی پر آ بیٹھا جس پر وہ کچھ دیر پہلے بیٹھا تھا۔ کئی پل خاموشی سے کٹے، صرف پلویشا کے گہرے سانس لینے کی آواز سنائی دیتی رہی۔

“تم۔۔۔ تم آئے ہی نہیں!”

پلویشا اپنے ہاتھوں کو مسلتے، چہرہ نیچے جھکائے بولی، اور گیلی گھاس کی وجہ سے ایک پاؤ دوسرے پاؤ پر رکھ گئی۔

“آیا تھا میں۔”

صائم نے جواب دیا، اس کی نظریں سامنے تھیں، پلویشا اس کی دائیں جانب بیٹھی تھی، وہ پلویشا کو دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔

“کب؟”

“جب تم کوما میں تھی۔”

“تین دن پہلے ہوش میں آ گئی تھی۔”

پلویشا نے یونہی چہرہ جھکائے کہا۔

اس کے انداز میں کہیں سے بھی شکوہ نہیں تھا، مگر صائم کو شکوہ ہی محسوس ہوا۔ وہ کئی پل کچھ بول ہی نہ سکا۔

“خیر، تم سناؤ، کیسی طبعیت ہے اب تمہاری؟”

صائم نے اس کی طرف دیکھتے پوچھا، مگر اس کے مسلتے ہاتھوں کو دیکھ نظریں دوبارہ سامنے موڑ گئیں۔

“ٹھ۔۔۔ ٹھیک ہے۔”

ایک بار پھر ہر طرف خاموشی چھا گئی۔

“تم ابھی تک جاگ کیوں رہی ہو؟”

صائم نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔

“پورا ایک ماہ سوئی ہی تو ہوں۔”

پلویشا نے جھکے چہرے سے جواب دیا، بال اطراف میں بکھرے پڑے تھے۔

“ابھی بھی جا کر سو جاؤ، رات بہت ہو گئی۔”

صائم نے منہ پر ہاتھ پھیرتے، اٹل لہجے میں کہا۔

پلویشا نے یکدم چہرہ اٹھا کر صائم کو دیکھا۔ کیا وہ اس بات نہیں کرنا چاہتا تھا؟ کیوں ؟ وہ اسے نہیں دیکھ رہا؟ کیوں ؟ وہ اسے کیوں نہیں دیکھ رہا تھا؟

“صائم؟”

پلویشا نے کشمکش کی حالت میں اس کے چہرے پر کچھ کھوجنے کی کوشش کی۔

“ہممم۔”

صائم اس کی طرف سوالیہ نظروں سے مڑا۔

اس کے چہرے پر جو تاثر تھا، پلویشا اس سے انجان تھی۔ اس کی آنکھوں میں جو جھلک تھی، وہ آج سے پہلے پلویشا نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کا لہجہ جس قدر سنجیدہ تھا، پلویشا اس سے ناآشنا تھی۔ پلویشا اس صائم شاہ کو نہیں جانتی تھی، اور یہ بات سکوت چیخ چیخ کر کررہا تھا۔ مگر ـــــ سکوت میں چھپی آوازوں کو بھی کسی نے سنا ہے بھلا؟

“تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں ہے، اس لیے اتنی ٹھنڈ میں مت بیٹھو۔ جاؤ، سو جاؤ۔”

صائم نے خیالوں میں کھویا دیکھ، اس پر نظریں گاڑ کر بولا۔

پلویشا نے حسرت سے اس کی آواز سنی، وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا چاہتی تھی، وہ اس کو سننا چاہتی تھی۔ ڈاکٹر طاہر کے بعد صائم، وہ واحد انسان تھا جسے پلویشا نے شدت سے چاہا تھا۔ پلویشا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے سوچا، اور پھر گہرا سانس بھرتے اثبات میں سر ہلاتی، اٹھ کھڑی ہوئی اور مڑ گئی۔ اسے خود بھی سر میں درد محسوس ہو رہا تھا اور کچھ دوائیوں کا اثر تھا کہ اس کا سر بھاری بھاری ہو رہا تھا۔

صائم نے اندر کی جانب جاتی پلویشا کی پشت کو دیکھا ، اور گہرا سانس بھرتے، سر کرسی کی پشت سے ٹکائے، آنکھیں موند لیں۔

آسمان پر چمکتے چاند نے تاسف سے دور جاتی اپسرا کی پشت دیکھی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

رات کے بارہ بجے کے قریب وہ خستہ حال عمارت اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ عمارت کے اندر ہر کیبن میں اندھیرا چھایا ہوا تھا، سوائے ایک کیبن کے۔

ٹیبل لیمپ اور لیپ ٹاپ کی سکرین سے آنے والی روشنی میں وہ کیبن اندھیرے کے رعب کو توڑتے ہوئے روشن تھا۔

اسی ماحول میں خاموشی کو حارث کے چھنگاڑتے فون نے توڑا۔

“اسلام علیکم، ایوب کہاں گم تھے اتنے دنوں سے؟” کال اٹھاتے ہی حارث نے پریشانی سے پوچھا اور سر کرسی کی پشت سے ٹکایا۔

“حا۔۔۔حارث، میری بات دھیان سے سنو،” فون میں سے ہانپتی ہوئی آواز آئی۔

“ایوب۔۔۔ایوب، کیا ہوا؟ تم ٹھیک ہو؟” اس کی آواز سنتے ہی حارث پریشانی سے بولا۔

“حارث، میں تمہارے پاس ایک لنک بھیجوں گا، اسے دیکھ لو ابھی۔”

“ٹھیک ہے ایوب، مگر تمہارا سانس کیوں پھولا ہوا ہے؟”

“حارث، سائفر کے آدمی کو پتہ چل گیا ہے کہ کوئی جاسوس ان میں شامل ہے، اور ان کا پہلا شک مجھ پر گیا ہے۔ تم بس جلدی سے وہ ویڈیو دیکھ لو، اس میں سائفر ہے۔”

حارث کا سر گھومنے لگا، ایک دم شدید پریشانی نے اسے آن گھیرا، مگر اگلی بات نے تو اس کے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔

“وہ لوگ میرے پیچھے لگے ہیں، حارث۔ اگر میں واپس نہ آ سکوں تو انتظار مت کرنا میرا،” ایوب، جو فون رکھنے ہی والا تھا، ایک دم ٹہر کر پرعزم لہجے میں بولا۔

“ایوب، تم پاگل ہو گئے ہو! تم فوراً وہاں سے نکل جاؤ، تم سمجھ رہے ہو نا، ایوب؟” حارث پریشانی سے بولتا ہے۔

خاموش عمارت میں حارث کی پریشان آواز گونج رہی تھی، مگر ایوب فون بند کر چکا تھا۔

حارث پیچھے کرسی پر ڈھیر سا بیٹھ گیا۔ ایوب ویڈیو بھیجنے والا تھا، سائفر کا پردہ فاش ہونے والا تھا، مگر حارث کو لگا جیسے سب ختم ہونے والا ہو۔ ایک عجیب قسم کی پریشانی نے اسے آن گھیرا تھا۔

وہ ابھی اپنا ماتھا سہلا ہی رہا تھا کہ اس کے لیپ ٹاپ پر ایک لنک موصول ہوا۔

حارث کرسی پر سیدھا ہوتا ہے اور لنک اوپن کرتا ہے۔ لوڈنگ کا نشان سکرین پر چمکنے لگتا ہے۔

ماتھے پر ننھی ننھی پسینے کی بوندیں صاف چمک رہی تھیں، دل سو کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔ ویڈیو تھرٹی پرسینٹ لوڈ ہو چکی تھی۔

(وہ اپنی اسٹڈی میں بیٹھا ایک ایک نوٹ پر سائفر کی انفارمیشن نوٹ کر رہا تھا۔)

ویڈیو فورٹی پرسینٹ لوڈ ہو چکی تھی، حارث کا دل بے چینی سے دھڑک رہا تھا۔

(وہ پرانے کورٹ چیمبر میں بیٹھا ہر فائل میں سائفر کو کھوج رہا تھا۔)

ویڈیو سکسٹی پرسینٹ لوڈ ہو چکی تھی۔

(وہ طاہر کے ساتھ بیٹھا خوشی سے بتا رہا تھا کہ وہ سائفر کے قریب پہنچنے والے ہیں۔)

ویڈیو ایٹی پرسینٹ لوڈ ہو چکی تھی۔ حارث کے بس نہیں چل رہا تھا، وہ جلد از جلد سائفر کو دیکھنا چاہتا تھا۔

(اسے پچھلے دو سالوں کی انتھک محنت کا صلہ ملنے والا تھا، ایوب کی قربانیوں کا مداوا ہونے والا تھا۔)

ویڈیو نائنٹی تھری پرسینٹ لوڈ ہو چکی تھی، پھر نائنٹی فائیو، اور اس سے پہلے ویڈیو پوری اوپن ہوئی، حارث کو لیمپ نیچے گرنے کی آواز سنائی دی۔

ایک لمحے کا کام تھا، ویڈیو شروع ہوئی، وہی حارث نے نظریں دائیں جانب موڑیں۔

“کون ہے وہاں؟” حارث رعب دار آواز میں بولا، کیونکہ آواز ایسے تھی جیسے کسی نے جان بوجھ کر لیمپ گرایا ہو۔

“یہ بتاو، زوروچی مال پہنچ گیا؟”

حارث دو قدم آگے بڑھا کہ عمارت کے سناٹے میں لیپ ٹاپ سے آتی گھمبیر، رعب دار آواز گونجی۔ حارث کے قدم وہیں رک گئے۔

لیپ ٹاپ اور حارث دونوں کی ایک دوسرے کی طرف پشت تھی، عمارت میں مدھم روشنی چھائی ہوئی تھی۔ اگلے ہی پل حارث کو کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی، جو حارث کے قریب آ رہی تھی۔

قدموں کی آواز سنتے ہی حارث چونک گیا۔ اس نے آخری نظر پیچھے مڑ کر لیپ ٹاپ کو دیکھا، جس کی سکرین دوسری جانب تھی اور اس میں سے اب بھی ایک آواز گونج رہی تھی۔ پھر اس نے چہرہ دوبارہ سیدھا کرتے ہوئے اپنے قدم آگے بڑھا لیے، پہلے اسے چیک کرنا تھا کہ عمارت میں کون ہے۔

“کون ہے وہاں؟

کون ہے وہاں؟ کچھ بولو!”

“میں نے پوچھا کو۔۔۔”

حارث، جو آگے بڑھتے مشکوک انداز میں آوازیں دے رہا تھا، راہداری میں پہنچتے ہی رک گیا۔ اس کے سامنے کوئی کھڑا تھا۔

لبمی راہداری میں صرف ہلکے پیلے بلب کی روشنی چمک رہی تھی۔

“آپ؟” حارث کی حیران آواز ساکت راہداری میں گونجی۔

“ہاں، میں حارث، لطیف صاحب،” مسکرا کر کہتے ہوئے آگے بڑھے۔

“آپ نے تو ڈرا ہی دیا، لطیف صاحب! میں سمجھا پتہ نہیں کون آ گیا،” حارث گہرے سانس کے ساتھ ہلکے پھلے انداز میں بولا۔

“آرے، تم بھی ڈرتے ہو؟”

“آرے یوں ہی بس، لطیف صاحب۔ خیر، آپ یہاں اس وقت کیا کر رہے ہیں؟”

“آرے بھئی، ویسے ہی آ گیا، کچھ کام تھا۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو؟” لطیف صاحب نے اپنے قدم آفس کی جانب بڑھاتے کہا۔ حارث بھی ان کے پیچھے چل دیا۔

لطیف صاحب کا آفس، حارث کے کیبن سے ذرا دور تھا۔

“میں بس تھوڑا سا کام رہ گیا تھا، اسے مکمل کر رہا تھا۔”

“گڈ، کہاں تک پہنچے تم؟” لطیف صاحب آفس میں آتے ہوئے اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھے، تو حارث بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔

“بس سر، جلد ہی سائفر کا کھیل ختم ہو جائے گا،” حارث خوشی سے بولا اور ان کے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

“بہت خوب، اور یہ بتاؤ، ایوب نے تمہیں ویڈیو لنک بھیج دیا؟”

“جی سر، بھیج دیا، ابھی بس دیکھنے والا ہوں۔۔۔”

حارث جو خوشی سے بات کر رہا تھا، اچانک رک گیا، آنکھیں آخری حد تک پھیل گئی۔

“آپ کیسے معلوم کر گئے کہ ایوب نے کوئی ویڈیو لنک بھیجنا تھا؟” حارث پھنسی پھنسی آواز میں بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

“چھوڑو مجھے، ہاتھ مت لگانا، میں نے کہا چھوڑو مجھے!”

“پلویشا، کوئی نہیں ہے، آنکھیں کھولو!”

“ڈاکٹر طاہر، ڈاکٹر طاہر بچائیں، میں نے کہا چھوڑو مجھے!” وہ ہزیانی انداز میں بے تحاشہ چلا رہی تھی۔ پورے کمرے میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔

“پلویشا، ریلیکس ہو جاؤ، کوئی نہیں ہے کمرے میں،” ڈاکٹر طاہر، جو پلویشا کے کمرے کے باہر کھڑے تھے، اس کی دل دہلا دینے والی چیخیں سنتے پریشانی سے بولے۔

“میں نے کہا چھوڑووووو، چھوڑووو مجھے!”

وہ اندھیرے کمرے میں دیوار کے ساتھ سکڑی بیٹھی تھی، بند آنکھوں سے مسلسل سر ادھر ادھر ہلا رہی تھی، اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال نوچے ہوئے تھے۔

چیخوں کی آواز سنتے ہی ابراحیم، سمعیہ، ردا اور صائم بھی پلویشا کے کمرے کی طرف بڑھے، جبکہ تائی جان پلویشا کے روم کی چابیاں لینے گئی تھیں۔ رات کے ڈھائی بج رہے تھے، سب شب خوابی کے لباس میں تھے۔

“پلویشا، آنکھیں کھولو، دیکھو کوئی نہیں ہے کمرے میں!” ڈاکٹر طاہر کی بڑھتی ہوئی آواز سنتے وہ تڑپ اٹھے تھے۔

“ردا، جا کر دیکھو بھابھی کہاں رہ گئی ہیں،” ابراحیم صاحب نے پریشان سی کھڑی ردا سے کہا، جو اگلے ہی پل تائی جان کے کمرے کی طرف بڑھی۔

وہ سبہی دروازے پر جمع کھڑے تھے، جبکہ اندر وہ ہنوز چل رہی تھی۔ بالآخر تائی جان کمرے کی چابی لے آئیں، تو ڈاکٹر طاہر نے اگلے ہی پل دروازہ کھولا۔

سب بیک وقت کمرے میں داخل ہوئے۔ ابراحیم صاحب نے فوراً کمرے کی لائٹس جلائی، پورا کمرہ سفید روشنی میں نہا گیا، اور ان سب کی نظر دیوار کے ساتھ سکڑ کر بیٹھی پلویشا پر گئی۔

وہ چہرہ ہاتھوں میں گرائے، اب بھی بلند آواز میں چلا رہی تھی۔

ڈاکٹر طاہر ایک پل میں پلویشا تک پہنچے اور اس کے ہاتھوں کو تھام لیا۔

“چھوڑو مجھے، ڈاکٹر طاہر! میں نے کہا چھوڑو!” پلویشا اپنی پوری قوت لگا کر چلا رہی تھی اور ساتھ ہی اپنے ہاتھوں سے ڈاکٹر طاہر کے ہاتھ بھی ہٹانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ردا رونے لگی، سب ہونک بنے کھڑے تھے۔

ڈاکٹر طاہر نے اس کا چہرہ پکڑ کر اپنی جانب موڑا، تو پلویشا کو جھٹکا سا لگا۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اپنے سامنے ڈاکٹر طاہر کو دیکھنے لگی، وہ کچھ بھی پراسس نہیں کر پا رہی تھی۔

اس نے حیران نظریں پانی کا گلاس تھامے کھڑی سمعیہ، پریشان تائی جان اور ڈاکٹر ابراحیم، روتی ہوئی ردا، اور ایک طرف کھڑے صائم پر ڈالیں۔

صائم کو دیکھتے ہی پلویشا کو اپنی حالت کا اندازہ ہوا۔ وہ نیچے بیٹھی، آنسوں سے تڑ چہرہ لیے، بکھرے بالوں میں کوئی دیوانی لگ رہی تھی۔

“پلویشا، کوئی نہیں ہے، دیکھو صرف ہم سب ہیں!” ڈاکٹر طاہر نے اسے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا اور اس کا چہرہ اپنی طرف موڑ لیا۔

پلویشا تھوک نگلتے ان کی طرف دیکھتی ہے اور خوف سے لبریز آواز میں بولی،

“ڈاکٹر طاہر ۔۔میں ڈ۔۔ڈر گئی تھی !”

ڈاکٹر طاہر نے اس کے ماتھے پر نرمی سے بھوسہ دیا اور اپنے ساتھ لگا گئے ۔ 

“کچھ نہیں ہوتا ،پلویشا۔ اکثر ہم رات میں ڈر جاتے ہیں، میں تمہارے ساتھ سو جاتی ہوں۔”

پلویشا، جو ڈاکٹر طاہر کے مضبوط حصار میں بے آواز رو رہی تھی، اپنے ساتھ تائی جان کو بیٹھا دیکھ کر ان سے الگ ہوئی۔

تائی جان نے آگے بڑھ کر اس کے گال پر نرمی سے ہاتھ رکھا، اسے کھڑا کیا اور بیڈ کی طرف لے جانے لگی۔

“سمعیہ، پانی دو،” تائی جان نے کہا، جس نے فوراً پانی کا گلاس تھما دیا۔

“پلویشا، پانی پیو۔ آپ لوگ پریشان مت ہوں، طاہر اور پلویشا کے ساتھ ہیں، بچی بس ڈر گئی ہے،” تائی جان نے پلویشا کو پانی پیتا دیکھ کر کہا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔

سب نے ہاں میں سر ہلایا، سوائے صائم کے، جو کئی پل کانپتے ہاتھوں سے پانی پیتی پلویشا کو دیکھے گیا اور پھر بنا کچھ بولے چلا گیا۔

“مام، پلویشا ٹھیک ہے نا؟” باہر آتے ہی ردا نے پریشانی سے سمعیہ سے پوچھا۔

“وہ ٹھیک ہے بیٹا، ان حالات میں اکثر انسان ڈر جاتا ہے، تم پریشان نہ ہو، اور سو جاؤ میری جان،” سمعیہ نے نرمی سے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

اب پلویشا کے کمرے میں صرف تائی جان، ڈاکٹر طاہر اور پلویشا موجود تھے۔

پلویشا بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے بیٹھی، چہرہ جھکائے، انگلیاں چٹخا رہی تھی۔ تائی جان اس کے ساتھ کھڑی اس کی پشت سہلا رہی تھی، اور ڈاکٹر طاہر اس کے بلکل سامنے، گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے۔

کچھ پل خاموشی کے گزرے تو پلویشا نے مدھم آواز میں انہیں پکارا:

” ڈاکٹر طاہر !” 

“کہو، ڈاکٹر طاہر کی جان!”

ڈاکٹر طاہر نے نرمی سے اس کے چہرے سے بال ہٹائے اور اس کا چہرہ تھام لیا۔

“ایم سوری،” پلویشا نے شرمندگی سے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

“کس لیے؟”

“میں۔۔۔میں نے سب کو پریشان کر دیا۔”

“بالکل پریشان تو کیا تھا، جب تم بے ہوش تھی ، مگر اب ہم بالکل پریشان نہیں ہیں، تمہاری آواز راحت ہے، ہم ترس گئے تھے تمہاری آواز سننے کے لیے،” ڈاکٹر طاہر نے مسکرا کر کہا۔ تائی جان بھی مسکرا دی۔

“ٹھیک کہہ رہے ہیں، طاہر۔ ہمیں تمہاری چیخیں بھی پسند آئیں پلویشا، کم از کم تمہاری خاموشی سے تو بہتر ہیں۔

اچھا، اب تم سو جاؤ، تائی جان تمہارے ساتھ ہوں گی، اوکے؟”

پلویشا نے اثبات میں سر ہلایا، تو ڈاکٹر طاہر اٹھ کھڑے ہوئے۔

پلویشا نے یاسیت سے ان کی جاتی پشت کو دیکھا۔ اگر انہیں چھوڑ کر تم شاہ ہاؤس کے لان میں جھانکو، تو رات کے اس وقت صائم شاہ لان میں بیٹھا سگریٹ کے گہرے کش بھر رہا تھا۔

ٹانگ پر ٹانگ چھڑائے، بائیں ہاتھ کی کہنی کرسی کے ہاتھے پر ٹکائے اور دائیں ہاتھ سے سگریٹ پیتا، وہ گہری سوچ میں ڈوبا نظر آتا تھا۔

شاہ ہاؤس میں ایک بار پھر سکوت چھا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو کیسے معلوم کہ ایوب نے کوئی ویڈیو لنک بھیجنا تھا؟ حارث حیرت سے پوچھتا ہے۔

تم ہی نے تو بتایا تھا حارث، لطیف صاحب حیرت سے اسے دیکھ کر بولتے ہیں۔

میں نے۔۔۔ مگر مجھے تو خود ابھی۔۔۔

اس سے پہلے کہ حارث کچھ بولتا، اس کی جیب میں رکھا فون چھنگاڑ اٹھا۔ حارث نے ایک نظر سامنے بیٹھے لطیف صاحب پر ڈالی اور پھر فون اٹھا کر سکرین دیکھی، تو “ایوب کالنگ” لکھا آ رہا تھا۔ اس نے گہرا سانس بھرتے ہوئے کال اٹھا لی۔

تم کہاں ہو اس وقت، حارث؟ حارث کے کچھ بھی بولنے سے پہلے ایوب تیزی سے بولا۔

میں؟ اپنے آفس کیوں؟

نکلو وہاں سے، حارث! جلد از جلد، ایوب دبے دبے انداز میں چلاتا ہوا بولا۔

حارث نے پریشان نظریں لطیف صاحب کے مسکراتے چہرے پر گاڑیں۔

آرے، مگر ہوا کیا ہے، ایوب۔۔۔؟

حارث، بکواس بعد میں کرنا، تم ابھی اسی وقت آفس سے نکلو۔

اچھا، ٹھیک ہے۔ حارث اس کی پریشان بات سنتے اٹھا اور ابھی وہ مڑنے ہی لگا تھا کہ اس کے سامنے کچھ لوگ کھڑے تھے، چہرے سیاہ ماسک سے ڈھکے ہوئے۔ حارث نے حیرت سے اپنے سامنے استادہ ہٹے کٹے چار پانچ آدمیوں کو دیکھا۔

حارث! میری آواز سنائی دے رہی ہے، بھاگو وہاں سے! فون سے ابھی بھی ایوب کی آواز چھنگاڑ رہی تھی۔

ایوب، آئی ایم ٹریپڈ، حارث کی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی، اور پھر فون اس کے ہاتھ سے گر گیا۔ فون کے گرتے ہی ایوب کی آواز بھی بند ہو گئی۔

چچچ، حارث، کیا ہوا؟ فون کیوں گرا دیا؟ لطیف صاحب نے مسکرا کر حارث کی پشت کو دیکھتے کہا۔

حارث نے چٹخ کر نظروں کا زاویہ لطیف صاحب کی طرف موڑا۔

یہ سب کیا ہے، لطیف صاحب؟

حارث سخت لہجے میں بولتا ہے ۔ 

آرے، آرے حارث، غصہ کیوں ہو رہے ہو؟ ابھی تو ہم نے ساتھ میں سائفر کو پکڑنا ہے۔

لطیف، مذاق اڑاتی ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔

ایکسکیوزمی! حارث کوئی بھی بحث کیے بنا دروازے کی جانب بڑھا، لیکن سامنے کھڑے آدمیوں کو دیکھ آنکھیں غصے سے لال ہوئی۔

ہٹو میرے راستے سے!

سنا نہیں تم نے؟ میں نے کہا، ہٹو میرے راستے سے!

وہ نہیں ہٹے گے حارث، گلا کم پھاڑو! اسے چلاتے دیکھ لطیف مسکراہٹ ضبط کرتے بولا اور اٹھ کر اس کے مقابل آن کھڑا ہوا۔

لطیف ، میں نے کہا مجھے جانے دو! حارث نے دانت پیستے ایک ایک لفظ کہا ۔ 

کیوں بھئی، اگر تم چلے گئے تو ایوب کو اکیلے مرتا کیسے ، دیکھو گے نا، اس لیے تم دونوں ساتھ میں جہنم میں جاؤ۔

ایوب! کا نام سنتے ہی حارث کے سر پر دھماکہ ہوا، انہیں سارا معاملہ سمجھنے میں ایک پل بھی نہیں لگا تھا۔

آپ۔۔۔ آپ سائفر سے ملے ہوئے ہیں؟ اس نے کھوئی کھوئی آواز میں پوچھا۔

تصحیح کرو، حارث، میں سائفر کا پارٹنر ہوں۔

آپ اتنے عرصے سے سب کو دھوکہ دیتے آ رہے ہیں، آپ کا ضمیر نہیں کانپا؟ کس قدر منافق انسان ہیں آپ! حارث دھاڑتے ہوئے بولا۔

ہاں ، نہیں کانپا ضمیر؟ اور چلاؤ مت، ورنہ ایوب والا حال کریں گے تمہارا بھی۔ وہ بھی اسی طرح چلا چلا کر دین سیکھا رہا تھا ہمیں۔

کیا کیا ہے ایوب کے ساتھ؟ حارث مٹھییں پیستے بولا۔

جان کر کیا کرو گے، مرنے والا۔۔۔

وہ اپنی بات پوری کرتے حارث اگلے ہی پل ان پر جھپٹا۔

میں تمہیں چھوڑو گا نہیں، گھٹیا انسان! منافق تمہاری ہمت۔۔۔

وہ لطیف صاحب کے منہ پر مکوں کی برسات کرتے ہوئے بولا ، اور اسی دوران پیچھے کھڑے آدمی فوراً آگے بڑھے اور حارث کو اپنے شکنجے میں لے لیا۔

سالہ کو ادھ موا کر دو، مار مار کر! لطیف صاحب اپنے منہ سے نکلتے خون کو دیکھ غراتے ہوئے بولے، جبکہ سارے آدمی اگلے ہی پل حارث کو کوئی بھی موقع دیے بنا اس پر ٹوٹ پڑے۔

تم سب۔۔۔ سے اللّٰہ پ۔۔۔وچھے گا، تم س۔۔۔ب جہنم میں جاؤ گے، تم سب مرو۔۔۔ گے! حارث بے انتہا مار کھاتے غصے سے غرا رہا تھا۔

اس کی آنکھوں میں نمی تھی، اسے درد ہو رہا تھا، آخری سیڑھی پر پہنچ کر نیچے گرنے کی بے تحاشہ تکلیف ان کے وجود میں دوڑ رہی تھی۔ ایوب کی محنت زائع ہونے کی تکلیف، اپنی ان تھک محنت کو رائگاں ہوتے دیکھنے کی تکلیف، آہ! منافق انسان کو بے بس کر دیا کرتے تھے۔

چھوڑو اسے، حارث کی مدھم ہوتی سانسوں کو دیکھ لطیف صاحب نے انہیں رکنے کا کہا۔

وہ لہولہان فرش پر اوندھے منہ گرے تھے۔ لطیف قدم قدم چلتا اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا حقارت سے حارث کو دیکھ رہا تھا۔

یہ اوقات ہے تمہاری، آیا تھا سائفر سے پنگا لینے، ہنہہ!

حارث اس کی بات سنتے آنکھیں موند گیا، اور زیر لب کچھ بڑبڑایا۔

لطیف نے اس کے ہلتے لب محسوس کر اپنا چہرہ اس کی جانب جھکایا، تو اس کی سماعت میں حارث کے لفظ پڑے:

“وہ دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو اور انہیں جو ایمان لائے، مگر نہیں، وہ دھوکہ دیتے انہیں مگر اپنے ہی آپ کو، اور وہ شعور نہیں رکھتے۔۔۔”

لطیف صاحب کے کانوں میں پڑنے والی آواز ان کے لیے پھگلا سیسہ تھی ۔ انہیں اپنے رونگھٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے، اور وہ جانتے تھے کہ حارث کیا بات کر رہا تھا۔

ان کے دلوں میں مرض ہے، اور اللّٰہ نے ان کا مرض ان کے لیے بڑھا دیا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، وجہ ان کے جھوٹ کی (سورت البقرہ)۔

بکواس بند کرو، اپنی گھٹیا انسان! لطیف غراتے ہوئے کھڑا ہوا اور بوٹ سے حارث کے منہ پر ٹھوکریں مارنے لگے۔

لطیف کو لگا جیسے آگ کی تپش اس کے پورے وجود میں پھیلتی جا رہی ہو ۔ 

مجھے۔۔۔ مجھے یہ مسخ شدہ چاہیے، اس (گالی) کو اس کی اصلی حالت میں نہیں رہنے دینا تم نے۔

وہ جب اسے مار مار کر تھک گئے تو غراتے ہوئے اپنے آدمیوں سے بولے، جو اگلے ہی پل حارث کے بے جان وجود کی جانب بڑھے، اور اسے گھسیٹتے ہوئے آفس سے باہر لے جانے لگے۔

حارث نے لہولہان آنکھوں سے اپنے کیبن کی طرف جاتی راہداری کو دیکھا۔ اگلے کئی پل سلو موشن میں گزرے۔

وہ حارث کو پارکنگ ایریا میں لے آئے۔ 

(وہ چار لوگ تھے، حارث اس کی بیوی، اس کا بیٹا اور بیٹی ، لاونج میں بیٹھے ہنس رہے تھے۔)

وہ حارث کو گاڑی میں بیٹھا کر خودکار ڈرائیو کرتے پارکنگ ایریا سے باہر جا رہے تھے۔ 

(وہ ایوب کے ساتھ ہنستے ہوئے پارک میں واک کر رہا تھا۔)

وہ لوگ اس پرانی عمارت سے تھوڑا دور، ایک سنسان سڑک کے بیچوں بیچ گاڑی روک کر باہر نکلے اور حارث کو پچھلی سیٹ سے اٹھا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا رہے تھے۔ 

(وہ اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اور گود میں بیٹھی دس سالہ روتی، بلکتی محراب کو ہنستے ہوئے چپ کروا رہا تھا۔)

وہ اسے گاڑی میں بیٹھانے کے بعد دور جا رہے تھے۔

 (وہ صبح کے وقت برف کرتی سردی میں اپنے بارہ سالہ بیٹے کے ساتھ مسجد جا رہا تھا۔)

حارث کا پورا وجود خون آلود تھا، اس کی آنکھوں پر خون جم گیا تھا، اور اس نے اسی طرح ہلکی وا آنکھوں سے اپنی طرف آتے ایک تیز رفتار ٹرک کو دیکھا۔

 (وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ شاہ ہاؤس میں بیٹھے قہقہے لگا رہے تھے۔)

انہوں نے بند ہوتی آنکھوں سے ٹرک کو دیکھا اور پھر۔۔۔ تیز رفتار ٹرک پوری رفتار سے ان کی گاڑی سے ٹکرایا۔

ٹرک کے ٹکرانے کی دیر تھی، گاڑی گھومتے ہوئے دور جا گری، ہر طرف شیشے بکھر گئے، ایک کالا سیاہ دھواں گاڑی سے نکلا، اور پھر۔۔۔

ایک لمحہ۔۔۔ دوسرا لمحہ۔۔۔ اگلے ہی پل زور دار آواز سے گاڑی میں آگ لگ گئی۔

حارث کا آدھا وجود گاڑی میں تھا، جبکہ آدھا سیٹ بیلٹ لگنے کی وجہ سے باہر کو لٹکا ہوا تھا۔ اس کی ٹانگیں آگ کی لپٹوں میں آ چکی تھیں، جبکہ چہرے پر جگہ جگہ شیشے پیوست ہو چکے تھے۔

ہر طرف سکوت چھایا ہوا تھا، صرف بھڑکتی آگ کا شور سکوت کے غرور کو توڑ رہا تھا۔

حارث کی کھلی، بے جان آنکھوں میں آگ کے شعلوں کا عکس ابھرا، اور انہیں شعلوں میں ایک اور عکس نظر آیا، ایک خوبصورت چودہ سال کے لڑکے کا عکس، جس سے وہ پچھلے دس سالوں سے نہیں ملے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

ایک ہفتہ بعد 

لاونج میں بچھی، سفید چادروں پر قطار بنائے عورتیں ہاتھوں میں سپارے لیے کلام اللّٰہ پڑھ رہی تھیں۔

ایک سوگواریت سی پھیلی تھی ہر طرف، حارث کی موت سب کے لیے بہت بڑا دھچکا تھی، نہ صرف حارث کی بیوی اور بیٹی کے لیے، بلکہ شاہ ہاؤس کے ہر فرد کے لیے یہ بہت بری خبر تھی۔

محراب نے الگ، رو رو کر برا حال کر رکھا تھا، جبکہ ذریاب (حارث کی بیوی) پچھلے دو دنوں کے مقابلے میں آج بہتر حالت میں تھیں۔

“بھابی، زرا میری بات سنیے،” سمعیہ نے ایک عورت کو پانی کا گلاس تھماتی سائلہ سے کہا اور کیچن کی طرف چل دی ۔ 

“کیا بات ہے، سمعیہ؟” تائی جان نے متورم آنکھوں سے سامنے کھڑی سمعیہ کو دیکھ کر کہا، وہ دونوں اس وقت کچن میں کھڑی تھیں۔

“بھابھی، ابراحیم کہہ رہے تھے کہ حارث بھائی کا بیٹا زریاب بھابھی اور محراب کو ساتھ لے کر جائے گا، آپ نے اس بارے میں طاہر بھائی سے پوچھا ہے؟”

“ابھی تک تو نہیں، مگر تھوڑی ہی دیر میں طاہر اور ابراحیم اندر آ جائیں گے تو میں پوچھتی ہوں۔”

“یہ ٹھیک ہے،” سمعیہ نے اثبات میں سر ہلاتے کہا۔

“اچھا، سمعیہ، محراب کی طبیعت کیسی ہے اب؟” تائی جان نے اسے روک کر پوچھا۔

“بھابھی، بخار تو اتر گیا ہے، پر اب بھی وہ نڈھال سی ہے، کچھ کھایا نہیں ابھی تک اس نے۔”

“ردا اس کے ساتھ ہی ہے نا؟”

“جی، ردا اس کے ساتھ ہی ہے۔”

“اچھا، میں زرا اسے دیکھتی آؤں۔” تائی جان اور سمعیہ دونوں واپس لاونج میں آ گئیں۔

تائی جان نے ہولے سے دروازہ کھولا، تو کمرے میں پھیلے سوگوار ماحول اور اندھیرے نے ان کا استقبال کیا۔

سامنے ہی بیڈ پر وہ لیٹی تھی، جس کے ایک طرف ردا بیٹھی تھی، جو تائی جان کو دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

تائی جان قدم قدم چلتی اس تک آئی اور محراب کے سرہانے بیٹھ گئی۔

“محراب؟” انہوں نے نرمی سے اس کا نام پکارا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگیں۔

محراب نے کوئی جواب نہیں دیا، بس یوں ہی چھت کو دیکھتی رہی۔

“ردا، آپ سمعیہ سے کہہ کر محراب کے لیے کھانا لے آؤ گی؟”

“جی، تائی جان، میں لے آتی ہوں۔” ردا فوراً کمرے سے باہر چلی گئی۔

“محراب، اٹھ جاؤ، اب میرا بچہ کچھ کھا لو،” تائی جان نے نرمی سے اس سے کہا۔

وہ ہمت مجتمع کرتی اٹھ بیٹھی اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا دیا۔

“جو اللّٰہ کی مرضی ہو، اسے قبول کر لیتے ہیں، محراب، اسی میں بہتری ہوتی ہے۔”

“یہ کیا ہو گیا آنٹی؟ با با کیسے چلے گئے؟ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا، آنٹی کے بابا اب نہیں رہے، میں۔۔۔ میں کیسے رہوں گی ان کے بنا؟ ان کے بنا تو۔۔۔ م۔۔۔” محراب کچھ بھی نہ کہہ سکی، ایک بار پھر رو پڑی۔

تائی جان نے اس کے گرد حصار باندھ لیا اور نرمی کے ساتھ اس کی پشت سہلانے لگی۔

ردا کھانا لے کر اندر آئی اور اسے سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ روتی ہوئی محراب کو دیکھ کر ردا کو تکلیف ہوئی، حارث کی موت کا سن کر پلویشا کی حالت مزید خراب ہو گئی تھی، تو تائی جان نے اسے گھر ہی رکنے کا کہہ دیا تھا۔

ایک طرف پلویشا اور اب محراب ، ردا ان دونوں کی تکلیف دیکھ درد میں تھی ۔ 

“چلو، اب اچھے بچوں کی طرح آپ نے کھانا کھانا ہے،” محراب جب رو رو کر تھک گئی تو تائی جان نے اس کے سر پر بھوسہ دیتے ہوئے کہا۔

“یہ بتاؤ، آپ لوگ بھائی کے ساتھ جاؤ گے؟” تائی جان نے محراب کے منہ میں پہلا لقمہ دیتے ہوئے پوچھا۔

“مما نے کل کہا تھا کہ بھائی کے ساتھ ہی جائیں گے ہم،” محراب نے مدھم آواز میں جواب دیا۔

“آپ بھائی سے ملی ہو ؟”

” جی ملی ہوں۔ “

“بھائی کیسا ہے اب ؟”

تائی جان اسے باری باری لقمے دیتے ہوئے باتیں کر رہی تھی۔

ردا تھوڑی دیر ہی ان کے ساتھ بیٹھی، پھر وہ باہر چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

ایک خوبصورت اور فرحت‌بخش صبح اسلام آباد پر اپنے پر پھیلا چکی تھی، سورج کی کرنیں پہاڑوں پر پڑتی انہیں مزید خوبصورت بنا رہی تھی۔ اور انہی سورج کی تیز کرنوں کے باعث رئیل اسٹیٹ ایپائر کی الٹرا ماڈرن گلاس عمارت پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہی تھی۔

وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اپنے آفس کی جانب بڑھ رہا تھا، اور ساتھ چلتی لیلہ( ازمیر کی سیکرٹری ) اس کی رفتار کے ساتھ رفتار ملانے کی کوششوں میں لگی اس کے پیچھے چل رہی تھی۔

“آج کی میٹنگ کی ساری ارینجمنٹس مکمل ہو گئی ہیں؟” 

“جی سر، تمام ارینجمنٹس پوری ہو گئی ہیں۔”

“اور ثاقب کا مسئلہ حل ہوا؟”

“جی سر، وہ بھی حل ہو گیا۔”

وہ اثبات میں سر ہلاتا اپنے آفس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔

“سہیل کو میرے آفس بھیج دو،” وہ میز پر ترتیب رکھی فائلز میں سے ایک فائل اٹھاتے ہوئے بولا۔

“اوکے سر،” لیلہ فوراً سے بولی، اور باہر نکل گئی ۔ 

ازمیر کے آفس سے نکلتے ہی لیلہ نے گہرا سانس خارج کرتے قدم سہیل کے کیبن کی جانب بڑھائے۔

“مسٹر سہیل، آپ کو باس اپنے آفس میں بلا رہے ہیں،” اس نے سہیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، جبکہ اس کی آواز پر تمام ایمپلائز کی گردنیں سہیل کی جانب مڑی تھیں۔

مطلب، آج سہیل کی باری تھی—جھاڑ کھانی کی۔

“مجھے کیوں بلا رہے آفس؟” سہیل نے بے بسی سے منہ بناتے پوچھا۔

“ایک سیکنڈ، میں پوچھ کر آتی ہوں،” لیلہ شیطانیت بھری مسکراہٹ لیتے پلٹی، اور سہیل ہڑبڑاتے ہوئے اٹھا۔

“ایک منٹ، کہا بھاگے جا رہی ہو ، جا رہا ہوں نا،” سہیل چڑ کر کہتا ہوا اپنے قدم باس کے آفس کی جانب بڑھا دیتا ہے۔

ہنہہ… کل میرا مذاق اڑا رہا تھا نا، اچھا ہوا اس کے ساتھ بھی، اسے جاتے دیکھ ایک ایمپلائی نے سکون بھری مسکراہٹ سے کہا۔ بیچارہ کل ہی باس سے اچھی خاصی کلاس لے کر بیٹھا ہوا تھا، اور اوپر سے سہیل کی ہنسی… بس نا چلا، باس سمیت اسے بھی بلڈنگ سے نیچے گرا دے، پر بیچارہ بچوں کی طرح بددعائیں ہی دے سکتا تھا۔

سہیل نے آفس کے دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر باقاعدہ اعوذ باللہ پڑھا اور اس کے بعد پوری آیت لکرسی پڑھنے کے بعد گہرا سانس بھرتے دروازہ پر دستک دی ۔ 

“یس۔”

اجازت ملنے پر اس نے دروازہ کھولا، اور اس کی نظر سامنے گئی۔

ایش گرے رنگ کے تھری پیس سوٹ میں، بال جیل سے سیٹ کیے ہوئے، سیاہ چکمتی آنکھیں… آہ، کتنا سڑیل پلس وجہیہ تھا وہ۔

ازمیر علی ٹانگ پر ٹانگ چھڑائے، دائیں ہاتھ کی مٹھی تھوڑی پر جمائے سہیل کو ہی دیکھ رہا تھا ۔ 

 حد ہی ہوگئ ، تیار ایسے بیٹھا ہے جیسے ایوارڈ دے گا ، سہیل تلملا کر سوچتے اور تھوک نگلتے، قدم قدم چلتا آگے آیا اور اس کی ٹیبل سے دو قدم کے فاصلے پر رک گیا۔

“گڈ مارننگ سر،” سہیل نے مسکرانے کی سعی کرتے ہوئے کہا۔

“سامنے جو فائل کھلی ہوئی ہے، اسے پڑھو،” ازمیر بغیر مسکرائے سنجیدہ تاثرات کے ساتھ بولا۔

سہیل کے تن بدن میں کڑواہٹ پھیل گئی۔ مینرز تو گویا تھے ہی نہیں اس میں، پتہ نہیں اتنا بڑا آدمی کیسے بن گیا۔

سہیل نے ناک سکیڑے چہرہ تھوڑا سا آگے کرتے فائل دیکھنا چاہی۔

“میرا خیال ہے تمہیں تھوڑا آگے آ جانے کی زحمت کر لینی چاہیے، کیونکہ فائل تو چلنے سے رہی۔”

“سو… سوری سر،” سہیل فوراً ٹیبل کے نزدیک آتے ہوئے بولا اور فائل اٹھا کر پڑھنے لگا۔

اس نے کچھ جگہوں پر مارکنگ غلط کی ہوئی تھی اور ریٹنگ کی جگہ بھی خالی چھوڑ دی تھی۔

سیچویشن ایسی تھی جیسے میتھ کے ٹیچر کو نہایت برا ٹیسٹ دینے کے بعد اب ان کی اچھی اچھی باتیں سننی ہوں۔

“آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟” ازمیر نے نرم لہجے میں پوچھا۔ یہ ہمیشہ سے اس کا خاصیت تھی، وہ ارگیومنٹ شروع کرنے سے پہلے اگلے کو بولنے کا چانس دیتا تھا۔

“ن۔۔ و۔۔ نو سر،” سہیل نے تھوک نگلتے ہوئے کہا، جانتا تھا کچھ بھی کہے اگلا بندہ ہر دلیل رد کرے گا۔

“یہ فائل بنائی ہے آپ نے، آپ آفس میں کرتے کیا ہیں؟ آخر سارا دن بیٹھ کر… بلکہ مجھے یہ بتائیں، آپ کون سے خیالوں میں ہوتے ہیں جب کام کر رہے ہوتے ہیں؟ مارکنگ غلط کی ہوئی ہے، ریٹنگ بھی نہیں لکھی… ابھی آپ کل کہہ رہے تھے آپ نے بہت محنت سے فائل بنائی ہے، اگر محنت کی تھی تو نظر کیوں نہیں آ رہی؟” ازمیر فوراً تھوڑی سی مٹھی ہٹاتا، کڑے تیور کے ساتھ اسے دیکھتے گویا شروع ہی ہو گیا تھا۔

سہیل ضبط کرتا، ایک ایک بات پر صرف ہلکا سا سر ہی ہلا رہا تھا۔

“یہ نان سیریس بیہیویر اگر کرنا ہے تو آپ مجھے بتا دیں، میں آپ کا کسی اور کمپنی میں انٹرویو رکھوا دیتا ہوں؟”

“یس سر، میرا مطلب نہیں سر، سوری، آئندہ دھیان سے کروں گا،” سہیل نے پھسی ہوئی آواز میں کہا۔

“آپ جا سکتے ہیں اب،” ازمیر نے اسی طرح تیوری چھڑائے کہا اور ایک لیپ ٹاپ آن کر لیا۔

سہیل نے اس سڑیل کو گھوری دیکھاتے ہوئے قدم باہر کی جانب بڑھائے۔

دروازے کی طرف جاتے سہیل نے ، کندھے کڑا لیے گویا باہر جا کر کہنے والا تھا کچھ بھی نہیں ہوا لیکن ، اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا تھا دنگ رہ گیا۔

پورا سٹاف حتیٰ کہ ازمیر کی سیکرٹری بھی دروازے پر جھکی کان لگائے کھڑی تھی۔ وہ سب تقریباً کب سے ایک دوسرے پر چھڑے دروازے سے چپکے ہوئے تھے، کہ اچانک دروازہ کھلنے پر ہڑبڑا کر پیچھے ہوئے۔

سہیل نے زہر خند نظروں سے ان سب کو دیکھا جو یقیناً سب سن چکے ہوں گے۔

“تم سب سے اللہ پوچھے گا،” سہیل بے بسی سے کہتا ہوا اپنے کیبن کی طرف چل دیا، جبکہ باقی سب بیک وقت اس کی حالت پر قہقہ لگاتے اپنے اپنے کیبنز کی طرف چل دیے۔

اب انتظار کرنا تھا کہ کل کسی کی باری ہے ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

شام کے گہرے سائے پورے لاہور پر پھیل چکے تھے، پرندے گھونسلوں میں دبکے آرام فرما رہے تھے، ایک سوگوار اور حبس زدہ سا ماحول بن گیا تھا، جبکہ اس کے برعکس شہر کی روشنیوں میں اضافہ ہو چکا تھا۔

اسی سوگوار اور حبس زدہ ماحول میں شاہ ہاؤس کے لاونج میں پلویشا، ڈاکٹر طاہر اور ابراحیم کے علاوہ سارے ہی مکین خاموش بیٹھے تھے۔ پلویشا تو دوائیوں کے زیر اثر سو رہی تھی، جبکہ طاہر اور ابراحیم ائیرپورٹ گئے تھے زریاب ، محراب اور حارث کے بیٹے کے ساتھ۔

ان کی اس خاموشی کو لاونج میں داخل ہوتے ابراحیم صاحب اور طاہر نے توڑا۔

“اسلام علیکم!” دونوں نے بیک وقت کہا اور ان سب کی جانب بڑھے۔

“واعلیکم السلام، پہنچ گئے وہ سب خیریت سے؟” تائی جان نے فوراً اپنے ساتھ بیٹھتے طاہر کو دیکھ کر پوچھا۔

“بلکل، وہ لوگ جا چکے ہیں۔ حارث کا بیٹا سمجھدار ہے، ماں بہن کا خیال بہت اچھے سے رکھے گا۔” ڈاکٹر طاہر نے کنپٹی دباتے ہوئے کہا۔

“لیکن بھائی صاحب! اگر بھابھی اور محراب یہی رہتیں تو زیادہ بہتر ہوتا۔” سمعیہ نے اپنی رائے پیش کی۔

“نئی سمعیہ! یہاں حارث کی یادوں میں ماں بیٹی گھٹ گھٹ کر ختم ہو جاتی، ان کا ولی اس وقت صرف حارث کا بیٹا ہے اور ویسے بھی وہ بہت سمجھدار ہے۔ میں نے اس سے بات کر کے دیکھی ہے، ماشاءاللہ، ہوں بہو حارث کی۔۔۔” ڈاکٹر طاہر بات پوری کرتے غمگین ہو گئے۔

“طاہر، آپ پریشان نا ہوں، جو اللّٰہ کو منظور، میں چائے بنواتی ہوں۔”

“ناجانے کس کی نظر لگ گئی ہے ہمیں؟” سمعیہ نے ابراحیم صاحب کی طرف دیکھتے نم آنکھوں سے کہا۔

ردا، جو کب سے ایک طرف خاموش بیٹھی تھی، رو پڑیں۔

ابراحیم صاحب آگے بڑھتے ہوئے بیٹی کو خود سے لگا گئے۔

“بابا، حارث انکل کو ہمیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا، ہمیں تو ان کی بہت یاد آئے گی۔”

“بیٹا، اللّٰہ کو جیسے منظور، ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔” ابراحیم صاحب نے اس کے سر پر بھوسہ دیتے ہوئے کہا۔

“سمعیہ صائم کہاں ہے؟ صبح سے دیکھائی نہیں دے رہا۔” ڈاکٹر طاہر نے سمعیہ کو دیکھتے پوچھا۔

“بھائی صاحب، ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ گھر سے باہر گیا ہے، کہہ رہا تھا تھوڑی دیر میں آ جائے گا۔”

“اور پلویشا، اس کی طبیعت کیسی ہے؟”

“وہ سو رہی ہے اپنے کمرے میں۔”

“اچھا، میں زرا اسے دیکھ لوں۔” ڈاکٹر طاہر اٹھتے ہوئے بولے۔

“میری پیاری بیٹی،” ڈاکٹر طاہر نے ردا کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کے سر پر پیار سے بھوسہ دیتے ہوئے کہا اور اپنے قدم پلویشا کے کمرے کی جانب بڑھا دیے۔

انہوں نے کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھولا تو کھلتا چلا گیا، اور تیز روشنی نے ان کا استقبال کیا ۔ 

(اس رات والے واقعے کے بعد پلویشا نہ تو کمرے کی لائٹ آف کرتی تھی اور نہ ہی دروازہ لاک کرتی تھی)۔

آسمان پر پھیلے اندھیرے کے باعث پلویشا کا کمرا روشن تھا۔

وہ سامنے ہی بیڈ پر کنارے والی سائڈ پر کروٹ لیے سو رہی تھی۔

بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر گولیوں کے پتے اور تین سیرپ رکھے تھے۔ ڈاکٹر طاہر نے آزردگی سے اتنی ساری دوائیوں کو دیکھا اور قدم اس کی جانب بڑھائے۔

اس کے بالکل سامنے ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور نظریں اس کے چہرے پر جمائی۔

ڈھیلی پونی سے ڈھیروں لٹیں زرد چہرے کے اطراف بکھری پڑی تھیں، آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے ، وہ آج سے پہلے اس قدر کب بکھری تھی بھلا؟

ڈاکٹر طاہر نے آگے بڑھ کر نرمی سے اس کے ماتھے پر بھوسہ دیا، زیر لب کچھ پڑھا اور پھر اسے پلویشا پر دم کر دیا۔

پھر جس طرح سے آئے تھے، اسی طرح واپس لوٹ گئے۔

بیڈ پر لٹا وجود ویسے ہی ساکت لیٹا رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

اسلام آباد کا سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا اور سورج کے زوال کے ساتھ ہی شہر کی روشنیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ حاکم ہائی رائز کی عمارت اپنی پوری شان کے ساتھ چمک رہی تھی۔ عمارت کے اندر تمام ورکرز اپنے اپنے کام میں جتے ہوئے تھے؛ ہر طرف مضبوط کافی کی خوشبو اور لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کا مدھم شور ایک سکون‌بخش سا ماحول پیش کر رہا تھا۔

اسی خوبصورت ماحول میں وہ تینوں اپنے قدم عمارت سے باہر کی جانب بڑھا رہے تھے۔ ڈارک براؤن تھری پیس سوٹ میں ملبوس مرزا حاکم اپنی بھوری آنکھوں اور تمام تر وجاہت کے ساتھ سیدھا آگے دیکھتے ہوئے چل رہا تھا۔ مرزا حاکم کے بائیں جانب عزیز تھا اور دائیں جانب آگے بڑھتی صاحبہ شاہ۔

“صاحبہ، آپ نے تمام پوائنٹس نوٹ کرنے ہیں، اور سامنے والے کا بیہیویر بھی جج کرتے رہنا ہے،” مرزا گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔

“آل رائٹ، مسٹر حاکم،” صاحبہ سنجیدگی سے کہتی اپنی کار کی جانب بڑھی۔

صاحبہ کی بلاک ہیل کی مدھم آواز کو دور جاتا محسوس کر کے مرزا چونک کر اس کی جانب دیکھنے لگا۔

“کیا یہ الگ آئی گی میٹنگ میں؟” مرزا نے صاحبہ کو ڈرائیورنگ سیٹ پر بیٹھتے دیکھ کر ساتھ کھڑے عزیز سے پوچھا۔

“جی سر،” عزیز نے صاحبہ کو مسکرا کر دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

مرزا نے “جی سر” پر نظریں موڑ کر عزیز کو دیکھا، جو پورے دانتوں کی نمائش کرواتے ہوئے صاحبہ کو دیکھ رہا تھا۔

“حد ہے،” مرزا حاکم دھیمی آواز میں بڑبڑایا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔

مرزا حاکم کی سیاہ گاڑی اور صاحبہ شاہ کی سفید گاڑی حاکم ہائی رائز کی عمارت سے نکلتی ہوئی دور جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

وہ اپنے گیلے چہرے کو تولیے سے رگڑتے ہوئے واشروم سے باہر نکلی، وہ ابھی پانچ منٹ پہلے ہی جاگی تھی۔ باہر کے گہرے اندھیرے کے برعکس کمرا سفید روشنی سے روشن تھا۔ وہ تولیے کو بیڈ کے ایک جانب رکھتے ڈریسنگ میرر کے سامنے آ ٹہری۔

سوگوار آنکھوں تلے گہرے ہلکے، زدہ چہرہ جس کے اطراف پھیلے الجھے بال، پلویشا نے بے ساختہ خود سے نظریں چرائی تھیں۔ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اور اب اسے بے حد بھوک لگ رہی تھی۔ وہ الماری سے اپنے بھوری شال نکال کر اپنے گرد لپیٹتے ہوئے آہستہ آہستہ قدم لیتی کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آئی۔

ابھی رات کے آٹھ ہی بجے تھے، سب لوگ یقیناً رات کا کھانا کھا چکے ہوں گے۔ پلویشا کی ڈائٹ روٹین ان سب سے الگ تھی؛ اسے رات کا کھانا چھ بجے کھانا ہوتا تھا مگر آج وہ سو گئی تھی، سو اب اسے بھوک لگی تھی۔ وہ سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھا رہی تھی کہ اس کے کانوں میں ایک آواز گونجتی ہے، جو اس کے قدم وہیں ساکت کر دیتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہ ہاؤس کے لاونج میں رکھے صوفوں پر اس وقت سمعیہ، تائی جان، ردا، ابراہیم اور صائم بیٹھے تھے، وہ سب چائے پی رہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر قبرستان گئے ہوئے تھے۔

“پلویشا نے کچھ کھایا؟” ابراہیم نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے سمعیہ سے پوچھا۔

“ابھی تو سو رہی ہے وہ،” سمعیہ نے نرمی سے مسکرا کر جواب دیا۔

“آج طبعیت بہت خراب تھی اس کی،” تائی جان نے فکر مندی سے کہا۔

“ایک کام کرتے ہیں، اسے کچھ دنوں کے لیے باہر بھیج دیتے ہیں، یہاں کے ڈیپریسڈ ماحول سے دور وہ کچھ ریلیکس فیل کر لے گی وہ،” ابراہیم صاحب نے مشورہ پیش کرتے ہوئے کہا۔

“یہ ٹھیک ہے، صائم لے جائے گا اسے، ردا بھی ساتھ چلی جائے گی،” تائی جان نے مسکرا کر ردا کو دیکھا تو وہ بھی مسکرا کر رہ گئی، جبکہ صائم نے سنجیدگی سے سب کو دیکھا۔

“ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے، جب فارغ ہو جاؤ گا تو لے جاؤ گا،” صائم نے بغیر کسی تاثر کے کہتے ہوئے کپ لبوں سے لگایا، جبکہ اس کی بات سنتے سب کو جیسے چپ لگ گئی تھی۔

“تو وقت نکال لو صائم،” تائی جان نے فکر مندی سے کہا۔

“مام کہہ تو رہا ہوں، ان دنوں میں فری نہیں ہوں، سو پلیز مجھے انسسٹ نا کیا جائے۔”

“تمہیں پتا ہے نا وہ آج کل کتنا ڈیپریسڈ ہے، صائم، اس وقت وہ سب سے زیادہ اہم ہے،” تائی جان نے تھوڑی سخت آواز میں کہا۔ ردا، سمعیہ اور ابراہیم نے بھی فکر مندی سے صائم کو دیکھا۔

“مام، آخر آپ کو کیوں نہیں سمجھ آ رہا، میں فری نہیں ہوں، آپ اسے ڈرائیور کے ساتھ بھیج دے۔”

“تمیز سے بات کرو، صائم،” ابراہیم صاحب نے سخت آواز میں اسے ڈپٹتے ہوئے کہا۔

سب کو صائم کا رویہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا؛ وہ اس طرح سے بیہیو نہیں کرتا تھا۔

“تم اتنے چڑچڑے کیوں ہو رہے ہو، صائم؟ پلویشا تمہاری ذمہ داری ہے،” تائی جان نے ایک بار پھر صائم کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“فار گاڈ، سیک مام! پلویشا، پلویشا، پلویشا! بند کر دے اب یہ پلویشا نامہ، یہاں پلویشا کے سوا اور بھی بہت سے لوگ رہتے ہیں!” ایک دم صائم پھٹتے ہوئے بولا۔

اس کے انداز پر جہاں سب لوگ ساکت ہوئے تھے، وہی سیڑھیوں کے قریب آتی پلویشا کے قدموں کو بھی بریک لگی تھی، وہ اس وقت صرف صائم کی پشت دیکھ سکتی تھی۔

“بیہیو یور سیلف، صائم!” ابراہیم صاحب نے صائم کی اونچی آواز سنتے پہلے سے زیادہ سخت لہجے میں اسے روکا۔

“آپ لوگ سمجھ ہی نہیں رہے یار، جب دیکھو پلویشا کی باتیں، میں پک گیا ہوں،” صائم کھڑا ہوتا بولا۔

صائم کا رویہ پلویشا پراسس نہیں کر پا رہی تھی، آخر وہ ایسے بیہیو کیوں کر رہا تھا؟

“تم جانتے ہو نا تمہاری اور اس کی شادی ہونے والی ہے؟” تائی جان نے بیٹے کے بدلتے تیور دیکھتے کسی خدشہ کے تحت پھنسی پھنسی آواز میں پوچھا۔

“شادی ہونے والی ‘تھی’ مام، ‘ہے’ نہیں۔”

“کیا مطلب، صائم؟” تائی جان بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی صائم تک آتے بولی۔

“اتنی مشکل بات کی تو نہیں ہے، مام، میں نے جو آپ سمجھ نا سکے…”

صائم ایک دو پل ماں کی آنکھوں میں دیکھتا رہا، پھر جو اس نے کہا، تائی جان صوفے پر ڈھے سی گئی:

“یہ کہ اب میں پلویشا سے شادی نہیں کر سکتا۔”

صائم نے سپاٹ تاثرات سے یہ کہہ کر سب کو شاک میں مبتلا کر دیا تھا۔

اوپر سیڑھیوں کے پاس ٹہری پلویشا کو لگا جیسے شاہ ہاؤس کی چھت اس کے سر پر آن گری تھی، وہ لڑکھڑا کے پیچھے ہوتے دیوار کا سہارا لیتی ہے۔

“کیا بات کر رہے ہو، صائم؟” ابراہیم صاحب کھڑے ہوتے حیرت سے پوچھتے ہیں۔

“میں بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں، میں پلویشا سے شادی نہیں کر سکتا اب۔”

“لیکن کیوں، صائم؟” تائی جان نے نم آنکھوں سے صائم کو دیکھتے پوچھا۔

“آپ کو اس کی وجہ بتانے کی ضرورت ہے، مام؟” صائم نے سائڈ سمائل دیتے تنظیہ پوچھا۔

صائم کی بات کا مطلب سمجھتے سب لوگ بے ساختہ ہی گہرہ سانس بھر کر رہ گئے، جبکہ پلویشا کو لگا جیسے برچھی سیدھا دل پر آن لگی تھی۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے بس اس شخص کی پشت دیکھے جا رہی تھی۔

“صائم، تم اس کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے، وہ صرف اٹیمپٹس تھی،” تائی جان نے ایک اور کوشش کی۔

“آپ اس وقت موجود نہیں تھی، مام، اس لیے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں ہے کہ یہ صرف اٹیمپٹس تھی یا…”

اور یہاں بس تھی، پلویشا اور نہیں سن سکتی تھی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں کو کانوں پر رکھ لیا تھا، درد بے انتہا درد اس کے پورے وجود میں دوڑ گیا تھا۔ کوئی اس قدر سفاک لفظ کیسے کہہ سکتا تھا! وہ خود کو گھسیٹتے ہوئے واپس اپنے قدم اپنے کمرے کی جانب موڑ گئی۔

ایک، ایک قدم بھاری تھا، ہر قدم کے ساتھ دل کی رفتار جیسے گھٹتی ہی جا رہی تھی۔ اس نے کمرے کا دروازہ کھولا اور دروازے کا سہارا لیتی کمرے میں آئی۔

“شادی ہونے والی ‘تھی’ مام، ‘ہے’ نہیں…”

پلویشا بند دروازے کے ساتھ لگی کھڑی، گہرے سانس بھرتی سینے میں اٹکی سانس بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

میں اب پلویشا سے شادی نہیں کر سکتا…

پلویشا کی دونوں آنکھوں سے بیک وقت آنسوں نکلے اور بہتے چلے گئے، شال کہیں دور زمین پر گر گئی تھی۔

اس کی وجہ بتانے کی ضرورت ہے آپ کو…

وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی، شدتِ غم نے اسے جھکا دیا تھا۔

 اس بات کی کوئی وضاحت نہیں تھی کہ وہ اٹیمپٹس تھی یا…

پلویشا ہاتھوں کی مٹھیاں بنائے بے بسی سے زمین پر مارنے لگی۔ “یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔”

وہ چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں چھپائے پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگی۔ صائم کی باتوں سے اسے تکلیف ہوئی تھی، اس کی ایک ایک بات پلویشا کے دل پر خنجر کی طرح گھس گئی تھی، اور اندر کہیں گہرائیوں میں جا کر پناہ لے گئی۔ اس کی روح گھائل ہوئی تھی۔

پلویشا دائم دروازے کے ساتھ لگی رو رہی تھی، اس کی رونے کی آواز میں تکلیف اور درد نپہاں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

اسلام آباد میں اندھیرہ آہستہ آہستہ پھیلتا جا رہا تھا، گلاس وال ونڈو سے اندھیرے میں ڈھکتے پہاڑ ایک حسین منظر پیش کر رہے تھے۔

باہر کے اندھیرے کے برعکس، میٹنگ روم روشنی میں نہایا ہوا تھا۔ ازمیر علی اس وقت سینئیر چیئر پر بیٹھا، گلاس وال ونڈو سے نظر آتے منظر کو دیکھ رہا تھا، میز پر ایک فائل اور کچھ خاکے ترتیب سے ایک طرف رکھے تھے۔

اسکائی لائین پروجیکٹ کے حوالے سے آج اس کی میٹنگ تھی، اور ابھی میٹنگ شروع ہونے ہی والی تھی۔ وہ میٹنگ اکیلا ہی کنڈکٹ کرتا تھا، مزاحم کے بقول ازمیر واقعی میں مغرور تھا۔

وہ کسی گہری سوچ میں کھویا تھا کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ ازمیر علی نے آہستگی سے چئیر دروازے کی جانب موڑی۔

ترک نقوش کا مالک، وجہیہ سا مرزا حاکم اندر داخل ہوا۔

“اسلام علیکم!” ازمیر شائستگی سے مسکراتا ہوا کھڑا ہوا اور اس کی جانب بڑھا۔

“واعلیکم السلام!” مرزا حاکم نے بھی اسی شائستگی سے اسے ہاتھ ملایا۔

وہ دونوں دراز قد تھے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے، اپنے انداز سے اپنی امارت کا پتہ دیتے۔

ازمیر علی اور مرزا حاکم۔

گڈ ٹو سی۔۔۔

اس سے پہلے ازمیر اپنے سامنے کھڑے مرزا سے کچھ کہتا، اس کی توجہ بلاک ہیل کی مدھم پرسوز آواز کی جانب گئی۔

مرزا حاکم تھوڑا سا دائیں جانب ہوا تو ازمیر کو وہ نظر آئی: بلیک اور وائٹ چیک پرنٹ کی سکرٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ اور چیک پرنٹ کا ہی اوور کوٹ، بالوں کا ڈھیلا میسی سا جھوڑا، ہلکے نیوڈ میک اپ کے ساتھ چہرے پر جھولتی بھوری لٹیں، ہاتھ میں پکڑا نوٹ پیڈ۔ وہ بے انتہا خوبصورت تھی۔

صاحبہ کو دیکھتے ازمیر ایک پل ساکت ہوا تھا۔

سفید مومی ہاتھ۔۔۔

جھکا سر۔۔۔

بھوری آنکھیں۔۔۔

بیک وقت کئی منظر ازمیر کے سامنے گھوم گئے تھے، وہ اپنی چمکتی سیاہ آنکھوں سے یک ٹک بس بھوری آنکھوں والی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔

“یہ میری پی آر مینیجر ہیں، صاحبہ شاہ،” ازمیر کی نظروں کو زاویہ صاحبہ کی طرف دیکھتے مرزا نے کہا۔

صاحبہ شاہ، ازمیر نے زیر لب دہرایا اور پھر فوراً خود کو کمپوزڈ کرتا مرزا کی طرف دیکھا۔

“گڈ ٹو سی یو، مرزا حاکم۔ ہیو آ سیٹ۔”

“شیور۔”

لیٹس بیگن۔ مرزا اور صاحبہ اپنی اپنی چیئرز پر براجمان ہو گئے، تو ازمیر واپس سے اپنی چئیر پر بیٹھتے ہوئے آغاز کرتا ہے۔

“ایز یونو یہ ایک کمرشل ٹاور پروجیکٹ (commercial tower project) ہے اور آج کی میٹنگ کا مقصد اس کے سٹرکچر اور رولز کو فائنل کرنا ہے۔ مجھے چیزیں سیدھی اور صاف پسند ہیں، اس لیے ہم اصل بات سے شروع کریں گے۔”

ازمیر ٹانگ پر ٹانگ رکھے اپنی بات سمجھاتے ہوئے بولتا ہے، اور کن آنکھوں سے وہ اپنے کام میں محو صاحبہ کو دیکھتا ہے، جو مرزا حاکم کی کرسی سے دو کرسیاں چھوڑ کر بیٹھی، نوٹ پیڈ پر پوائنٹس نوٹ کرنے لگتی ہے۔

میٹنگ کا بنیادی مقصد:

کمرشل ٹاور کا اسٹرکچر۔

فیصلوں میں شفافیت ضروری۔

سیدھے نکات سے شروعات۔

وہ ایک ایک پوائنٹ نوٹ کر رہی ہوتی ہے۔ ازمیر خود کو ڈپٹتا اپنا پورا فوکس مرزا کی طرف کرنے کی کوشش کرتا ہے اور مرزا کے سامنے کچھ خاکے رکھتا ہے۔

“ٹاور کے تین بڑے سیکشن ہوں گے:

نیچے ریٹیل فلورز

درمیان میں کارپوریٹ دفاتر

اور اوپر پریمیم ایکزیکٹو اسٹیٹس۔

ہر سیکشن کا layout practical ہونا چاہیے، artistic نہیں۔”

ازمیر کی بات سنتے مرزا حاکم تھوڑا مسکراتا ہے اور پھر گویا ہوتا ہے:

“میں practical کو نظرانداز نہیں کرتا، مسٹر ازمیر، مگر ٹاور کو signature look بھی دینا ہو گا، ورنہ یہ کراچی یا لاہور کی عام عمارتوں جیسا لگے گا۔

I don’t want a showpiece… I want a functional landmark.”

(مجھے نمائش کی چیز نہیں چاہیے… ایک قابلِ استعمال لینڈ مارک چاہیے)

ازمیر سنجیدگی سے جواب دیتا ہے:

“Design attracts people.”

مرزا بھی دو بدو جواب دیتا ہے۔ وہ دونوں ہی اپنے نام کے ایک تھے، جھکنا کسی کی بھی خاصیت نہیں تھی۔ ان کی یہ لوجیکل بحث نا جانے کب تک جاری رہتی اگر صاحبہ نہ بولتی تو۔

“آپ دونوں ہی یہاں غلط ہیں،” صاحبہ جو نوٹ پیڈ پر پوائنٹس نوٹ کر رہی تھی، ان کی بحث سنتے آنکھیں گھما کر دونوں کو دیکھتی ہے اور بولتی ہے:

“آپ دونوں ایک ہی پہلو پر کھڑے ہیں، بس سمت مختلف ہے۔

مسٹر ازمیر چاہتے ہیں کہ لے آؤٹ پریکٹیکل ہونا چاہیے اور مسٹر حاکم چاہتے ہیں کہ لے آؤٹ آرٹسٹک ہونا چاہیے۔

آپ لوگوں کو کمبینیشن کی طرف جانا چاہیے، صرف پریکٹیکل چیزیں بوریت پیدا کرتی ہیں اور صرف آرٹسٹک استعمال میں مشکل، کیوں کہ لوگ اس جگہ کو پسند کرتے ہیں جہاں فن اور سہولت ساتھ چلیں۔”

صاحبہ کی بات ختم ہوتے روم میں ایک دو پل کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔ مرزا نے ایک ائبرو اچکائے ایک پل کے لیے آنکھیں بند کیں۔ ازمیر نے میز پر رکھے خاکوں کو دیکھ ایک نظر صاحبہ کو دیکھا، جو انہیں کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ناجانے اس کے انداز میں یا لہجہ میں ایسا کیا تاثر تھا کہ…

“آئی تھنگ شی از رائٹ،” دونوں نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھتے کہا۔

ان کے جواب پر صاحبہ واپس سے اپنے کام پر لگ گئی۔

“ویل، مسٹر ازمیر، میرے ڈیزائن already تیار ہیں۔ خوبصورتی آپ کی مہارت ہے… مگر بجٹ اور ٹائم لائن میری حدود ہیں،” ازمیر نے اس کی بات سنتے کہا۔

“اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ پروجیکٹ شہر کی پہچان بنے… تو مجھے design freedom دینی ہو گی۔”

ازمیر نے مرزا کی بات پر ایک پل کو ٹہر کر اس کی جانب دیکھا۔

“اوکے، بٹ میں ایک چیز پر زیرو کمپرومائز کرتا ہوں اور وہ ہے شفافیت۔ کوئی اچانک تبدیلی نہیں، کوئی حیران کن فیصلہ نہیں۔”

“وائے ناٹ۔”

“ڈیٹس گریٹ، سائٹ اگلے ماہ ٹرانسفر ہو جائے گی، انیشیل ایکسکیویشن ڈیڑھ مہینے میں اور سٹرکچر فریم پانچ مہینوں میں چاہیے۔”

“آل رائٹ، مسٹر ازمیر۔”

“Then deliver like an artist with discipline.”

(پھر نظم و ضبط کے ساتھ فنکار بن کر دکھائیں۔)

ازمیر مسکرا کر کہتا ہے اور کھڑا ہوتا ہے۔

“جسٹ ویٹ اینڈ واچ،” مرزا بھی مسکرا کر کہتا ہے اور اس کے ساتھ ہی کھڑا ہوا۔

اسلام آباد کے پہاڑوں نے ستائشی نظروں سے دونوں کو دیکھا تھا۔

“سی یو لیٹر،” مرزا نے اس کو ہاتھ ملاتے کہا اور مڑ گیا۔

صاحبہ نے نوٹ پیڈ بند کر کے چہرہ اٹھایا تو نظریں سامنے کھڑے ازمیر پر گئی۔ اسے ایک نظر دیکھتے صاحبہ پلٹ گئی۔

دروازہ بند ہوتے ہی ازمیر نے گہری سانس بھری ، وہ ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا کرسی پر بیٹھ گیا اور سر کرسی کی پشت سے لگاتا آنکھیں موند گیا۔

سفید مومی ہاتھ۔۔۔

جھکا۔۔۔

ابھی اس نے آنکھیں بند کی ہی تھیں کہ ازمیر کے ذہن میں منظر ابھرا۔ ازمیر نے جھنجھلا کر آنکھیں کھولی:

حد ہی ہو گئی، کام کی باتیں یاد نہیں رہتی اور ایسے خیال حفظ ہی کر لیے!

توبہ، استغفار، ازمیر تیوری چڑھائے کہتا ہے اور اٹھ کر باہر کی جانب بڑھ جاتا ہے۔

خوبصورت پہاڑوں نے ایک دوسرے کی طرف معنی خیزی سے دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

رات کے نو بج رہے تھے۔ قطرہ قطرہ، رات طویل سے طویل ہوتی جا رہی تھی۔ کھلی کھڑکی سے آتی ہوا پردوں کو جھومنے پر مجبور کر رہی تھی۔ آسمان پر وقفے وقفے سے بادل گرج رہے تھے، اور بادلوں کی گرج ماحول کو ہیبت ناک بنا رہی تھی۔

وہ ہنوز دروازے کے ساتھ لگی، گھٹنوں پر چہرہ جھکائے رو رہی تھی۔ آنسوں رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ یکا یک ہوا کا تیز جھونکا آیا، اور پلویشا کے وجود میں سنسنی خیز لہڑ دوڑ گئی۔ اس نے آنسوں سے بھیگا چہرہ اُٹھایا۔

رونے کے باعث آنکھیں لال ہو چکی تھیں، گلا سوکھ چکا تھا، مگر پلویشا اٹھی۔ ایک ہی جگہ مسلسل بیٹھنے سے ٹانگیں اکڑ گئی تھیں، مگر وہ آنسوں رگڑتی ڈریسنگ میرر کی جانب بڑھی۔ بغیر اپنا عکس دیکھے، اس نے کیچر اٹھایا اور اپنے الجھے آدھے بالوں کو کیچر میں قید کیا، پھر واپس دروازے کی جانب مڑی۔ اسے جانا تھا، اس شخص کے پاس، ایک آخری بار، ایک آخری کوشش کرنے۔

آخری کوشش کرنے میں بھلا کیا چلا جاتا؟ وہ اس کی محبت تھا، ایک وقت اس کے ساتھ گزارا تھا، ایک عمر اس کے ساتھ گزارنے کے خواب دیکھے تھے۔ وہ اس کا ہمراز تھا، اس کے سامنے کچھ بھی روپوش نہیں تھا، اور ایک عمر اس کو اپنا ہمراز بنانا تھا۔ ایسے شخص کے لیے آخری کوشش کرنے میں بھلا کیا چلا جاتا؟

پلویشا اس کے کمرے کے دروازے کے سامنے رکی اور بے تاثر نظروں سے بند دروازے کو دیکھا۔ وہ بغیر دوپٹے کے کھڑی تھی، شال بھی نہیں لی تھی۔ صائم کے ہوتے ہوئے اسے کسی چیز کا ہوش ہی نہیں رہتا تھا، اور اب ایسے شخص کے لیے آخری کوشش کرنے میں بھلا کیا چلا جاتا؟

پلویشا نے ایک پل کو سوچا اور دروازہ کھول دیا۔ کمرے میں پیلا نیم اندھیرا چھایا ہوا تھا، اور وہ سامنے ہی تھا۔ راکنگ چیئر پر دھیرے دھیرے جھولتا، سیگریٹ کے گہرے کش لگاتا۔

دروازے میں استادہ، سفید سادہ گھٹنوں تک آتی ڈھیلی شرٹ کے ساتھ سفید کھلے ٹراؤزر، ہاف بال کیچر میں قید، زرد چہرے پر مٹے مٹے آنسوں کے نشانات، اور سرخ ہوتی آنکھیں۔ پلویشا اس کے سامنے کھڑی تھی۔ صائم کو اس کی حالت دیکھ کر جہاں افسوس ہوا، وہی اندازہ بھی ہو گیا کہ وہ سب جان چکی ہے۔

پلویشا صائم کو دیکھتے آگے بڑھی، صائم بھی سگریٹ سامنے ٹرے میں پھینکتا اٹھ کھڑا ہوا۔ پلویشا اس کے بالکل قریب جا ٹہری، اتنا کہ صائم کے تیز پرفیوم کی خوشبو اس کے حواس پر چھا رہی تھی۔ ان دونوں میں پانچ انچز کا ہائٹ ڈیفرینس تھا۔ وہ یک ٹک صائم کی آنکھوں میں دیکھتی رہی۔

بادلوں کی گرج، صائم کے کمرے کی کھڑی سے آتی ہوا، پھیلے سکوت اور چھائے نیم اندھیرا، سب کچھ پلویشا کے سامنے تھا۔

“پلویش۔۔۔”

“چپ! کچھ مت بولنا، مجھے سنو…

پلویشا اس کے کچھ بھی کہنے سے پہلے بول اٹھی ۔ 

میں نے تم سے محبت کی ہے صائم ، بے انتہا کی ہے ، 

یاد کرو، تم نے کہا تھا تم محبت کرتے ہو، پر محبت یوں رسوا تو نہیں کیا کرتی، نا صائم؟” پلویشا نم آنکھوں سے سوال داغ گئی۔

“تم نے کہا تھا میں تمہارا سکون ہوں، تو کون ایسے بے چین کرتا ہے ؟” پلویشا کی دائیں آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلتا چلا گیا۔

“تم نے کہا تھا میں تمہارے لیے قیمتی ہو، تو قیمتی لوگوں کو یوں آسانی سے بے مول کر دیا کرتے ہیں ؟” پلویشا کی آواز خراش زدہ تھی۔

“تم نے کہا تھا تم میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑو گے، تو پھر یوں… یوں بیچ راہ میں چھوڑ تو نہیں دیا کرتے، نا؟” پلویشا کی آواز کانپ رہی تھی۔

“صائم… وہ… وہ حادثہ تقدیر میں لکھا ہوا تھا، وہ ہونا ہی تھا۔ میری زندگی میں وہ ازیت ناک پل آنے ہی تھے ، صرف چند ۔۔چند پلوں کے لیے تم نے میری اتنی سال کی محبت، وفا سب… سب بھلا دیا ؟”

“میری وفا کا صلہ اب تم ایسے دو گے؟” پلویشا نے آنسوں بہاتے کہا۔

“پلویشا، تم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو، ہاں، میں نے کہا تھا…”

“تو پھر اپنے کہے سے پلٹ کیوں رہے ہو صائم؟” پلویشا غراتے ہوئے بولی۔

صائم نے چونک کر اسے دیکھا، وہ پہلی دفعہ یوں چلائی تھی۔

“تو اپنے کہے سے کیوں پلٹ رہے ہو صائم شاہ؟ کہہ رہی ہوں نا، وہ حادثہ میری تقدیر میں لکھا تھا، تم کیوں ساتھ چھوڑ رہے ہو؟ وہ صرف میری آزمائش نہیں تھی، وہ تمہاری بھی آزمائش تھی!” پلویشا نے اونچی آواز میں بولتے ہوئے صائم کے سینے پر انگلی رکھ دی۔

“جب میں اس میں سروائیو کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تو تم کیوں بھاگ رہے ہو، تم کیوں ایڑیوں کے بل پلٹ رہے ہو؟”

صائم پلویشا کو دیکھے گیا، وہ ہزیانی انداز میں چلاتی لڑکی، پلویشا دائم نہیں لگ رہی تھی۔

مجھے دیکھو ، مجھے دیکھو صائم ( پلویشا اس کو دیکھتی دیوانوں کی طرح بولی ) میں تڑپ رہی ہوں ، تمہارے لفظوں کی آگ مجھے راکھ کر رہی ہے ، میں نے تم سے بہت محبت کی ہے صائم ، بہت زیادہ ، تمہیں میری تڑپ کیوں نہیں دکھ رہی ؟ 

“میں… میں نے تمہیں کہا تھا نا صائم، مجھے تکلیف مت دینا، میں پہلے ہی ٹراماز سے اُلجھتی ہوئی لڑکی ہوں، تو اب مجھے اذیت سے دوچار کیوں کر رہے ہو؟ اب میری… میری حالت تم سے کیوں نہیں دیکھی جاتی؟” پلویشا نے تھکی آواز میں غراتے ہوئے پوچھا۔

بادلوں کی گرج تیز ہوتی جا رہی تھی، جیسے بارش برسنے کو بے تاب ہو۔

“کیوں صائم؟ کیوں تم ایسا کر رہے ہو؟ میری زندگی مشکل نا کرو، میرا ایمان مت ڈگمگاو، میرے ساتھ ایسا نا کرو، پلیز صائم، میں… مروں گی نہیں… صا… صائم… میں مروں گی نہیں، پر میرے اندر محبت والا ورین ہمیشہ کے لیے مر جائے گا، میرے ساتھ ایسا نا کرو، مجھے مت چھوڑو!” پلویشا ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی۔ 

وہ اس کے سامنے ٹوٹ گئی ، گڑگڑا گئی ، منت کر گئی ۔ 

پلویشا تمہاری ساری باتیں ٹھیک ہیں، مگر اب حالات ویسے نہیں…..

پلویشا جو تڑپ کر آنکھیں چھوٹی کیے صائم کی طرف دیکھ رہی تھی، اس کی بات سنتے ایک پل کو سانس روک گئی، پھر آہستہ آہستہ آنکھیں پھیلتی گئیں، الفاظ گلے میں اٹک گئے، اور سانسیں سینے میں دب گئیں۔

وہ، دلیلیں پیش کر رہا تھا…

وہ، وضاحتیں دے رہا تھا…

وہ، حالات گنوا رہا تھا…

وہ پلویشا کو سمجھنے کی نہیں، اس سے جیتنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس کے ہلتے لب دیکھ پلویشا نے آنکھیں میچ لیں۔ دل میں درد اٹھا، پلویشا چاہتی تھی کہ وہ اسے سمجھے، مگر وہ جیت گیا تھا۔ صائم پلویشا سے جیت گیا، اس کے سامنے سب کچھ بیاں کر دیا گیا، مگر وہ پھر بھی جیت گیا اور پلویشا ہار گئی۔ پلویشا دائم اپنی محبت ہار گئی۔

صائم اب بھی کچھ بول رہا تھا، مگر پلویشا کھوئی کھوئی نظروں سے اسے دیکھتی، اثبات میں سر ہلاتی، پیچھے کی طرف قدم لیتی گئی۔ وہ ٹوٹ بکھر کر اس کے سامنے عیاں ہو گئی۔ اب بھی اس سے کچھ کہنا باقی تھا؟ نہیں، وہ یوں ہی قدم پیچھے لیتی جا رہی تھی۔

“میں اگلے ہفتے شادی کر رہا ہوں…” اس سے پہلے پلویشا دروازہ کھولتی صائم کی آواز نے اس کے قدم جکڑ لیے۔

یک دم بادلوں کا شور تھم گیا، ہر طرف سکوت چھا گیا۔

پلویشا نے آنکھیں سختی سے میچ لیں، دل میں تکلیف اٹھی۔

“مبارک ہو…” پلویشا نے شدتِ تکلیف میں غراتے ہوئے کہا۔ “میں ردا سے شادی کر رہا ہوں۔”

یک دم آسمان پر تیز بجلی چمکی، زور دار آواز کے ساتھ بادل گرجے، اور بارش پورے زور کے ساتھ برسی۔ سکوت کا زور توڑتی بارش طوفان پیدا کر گئی۔

صائم کے الفاظ تھے یا کیا، پلویشا لڑکھڑا کر دروازے کی درز تھام گئی۔ اس نے پلویشا کو جلا دیا تھا، ٹھیک ہے، مگر راکھ کو بھی بھسم کر رہا تھا، یہ تو زیادتی تھی، نا؟

(رشتوں میں ایسے ہی گو اپ نہیں کر دیا کرتے۔ سامنے والے کو چانس دیتے ہیں، اپنی بات ان کے سامنے رکھتے ہیں، ان کو اپنا درد سناتے ہیں، کوئی بھی تعلق ایسے ہی نہیں توڑ دیتے، سامنے والے کو بتاتے ہیں کہ آپ اس سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ایک آخری کوشش میں کچھ بھی نہیں چلا جاتا، آخری کوشش کرنی چاہیے۔)

پلویشا کے کانوں میں کسی کی کہی گئی آواز گونجی۔

اس نے شکوہ کناں نظروں سے سامنے کھڑے ظالم کو دیکھا۔

پلویشا چند پل اسی طرح ضبط سے کھڑی رہی، اس سے اب اور کیا کہنا بقی تھا ، کچھ بچا ہی نا تھا ، وہ مڑ کر دروازہ کھولتے ہوئے باہر چلی گئی۔

اس نے بھی آخری کوشش کی تھی۔ سچ میں، آخری کوشش کرنے میں کچھ بھی نہیں چلا جاتا۔ بس، آخری کوشش میں انسان خود کو ہار جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

مرزا حاکم اس وقت اپنے گھر کے ٹیرس پر کھڑا، ریلنگ سے ٹیک لگائے، کافی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ وہ ابھی آدھے گھنٹے پہلے ہی گھر پہنچا تھا۔

آج چاند بادلوں میں چھپا ہوا تھا، صرف سیاہ آسمان پر اکا دکا ستارے ہی نظر آ رہے تھے۔

وہ اسی طرف خیالوں میں کھویا تھا، جب اس کے ٹراؤزر کی جیب میں رکھا فون چھنگاڑ اٹھا۔

عزیز کالنگ دیکھتے، مرزا نے آنکھیں گھما کر کال اٹھائی:

— اسلام علیکم سر، اصل میں آپ سے پوچھنا تھا، کل اعجاز صاحب کے پاس کتنے بجے جائیں گے آپ؟

— یار، تم مینج کر لو، یا ایسا کرو کہ کسی اور دن کا پلان بنا لو، ابھی میں فری نہیں ہوں، — مرزا نے کافی کا مگ لبوں سے لگاتے کہا۔

— ٹھیک ہے سر، اللّٰہ حافظ۔

— اللّٰہ حافظ، — مرزا حاکم نے فون جیب میں رکھا اور اپنے قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھا دیے۔

کل ایک نئے پروجیکٹ پر کام کرنا تھا، ایک اور کٹھن سفر اس کا انتظار کر رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *