SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 9.

سکوت قسط نمبر:۹

ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔

 لاہور 

رات کا تیسرا پہر تھا۔ ہلکی ٹھنڈی ہوا وجود کو بھلی محسوس ہوتی تھی، سائے میں گہرا سناٹا چھایا تھا۔ یوں کہ اگر تم قدم بھی دھرو تو آواز ملیوں دور جائے گی۔ اور اسی سناٹے میں اگر تم دبے پاؤں شاہ ہاؤس کے لان میں آو تو تمہیں وہ نظر آئے گی۔

وہ سفید، سادہ سے لباس اور اپنے گرد لپٹی بھوری شال زیب تن کیے، بھورے لکڑی کے صوفے پر بیٹھی، گھٹنے سینے سے لگائے۔ ہر چیز سے بے نیاز، سیاہ آسمان کو تکے جا رہی تھی۔ کھلے بال کندھوں کے نیچے سے شال میں چھپ گئے تھے جبکہ چند لٹیں اس کے چہرے کو بار بار آہستگی سے چھوتی تھی۔ اس کے چہرے پر ویرانی پھیلی تھی، اور آنکھیں کرب زدہ سی تھیں۔ یہی کرب اپنے کمرے کی کھڑکی سے اسے دیکھتے ڈاکٹر طاہر کے چہرے پر بھی پھیلا تھا۔

سیاہ آسمان نے افسردگی سے ان دونوں کو دیکھا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ڈاکٹر طاہر کی آنکھوں کے سامنے آج صبح کا منظر گھوم گیا۔

سولہ گھنٹے پہلے

ایک خوبصورت صبح پورے لاہور کو اپنے احاطہ میں لے چکی تھی۔ آج ہوا نے زور پکڑ رکھا تھا، چہچہاتے پرندے، نئی پھوٹتی کونپلیں اور خوشبودار پھولوں کی مہک ماحول کو دلکش بنا رہی تھی۔

شاہ ہاؤس میں رہنے والے تمام افراد بھی اس صبح کا آغاز کر چکے تھے۔ سربراہی کرسی پر ڈاکٹر طاہر، ان کی دائیں طرف ابراحیم اور ان کے ساتھ سمعیہ بیٹھی تھی، جبکہ ڈاکٹر طاہر کے بائیں جانب تائی جان اور ان کے ساتھ صائم، اور صائم کے ساتھ والی کرسی پر ردا بیٹھی تھی۔ سب ہلکی پھلکی باتوں کے ساتھ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔

آج صائم کی شادی کو ہوئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا، سب لوگ روٹین پر آ چکے تھے۔ پچھلے دو مہینوں نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا: پہلے پلویشا کے ساتھ پیش آیا حادثہ، اس کے کچھ ہی دنوں بعد حارث کی موت، اور پھر صائم کا فیصلہ۔ ایک کے بعد ایک ہونے والے واقعہ نے ان پر گہرا اثر چھوڑا تھا۔ ہاں البتہ اب سب کچھ بہتر ہو رہا تھا، مگر بہترین ہونے میں وقت لگے گا، یہ سب جانتے تھے۔

صائم کی شادی کے بعد سے پلویشا کافی سنجیدہ ہو گئی تھی۔ وہ سارا دن کمرے میں ہی رہتی، کمرے میں ہی کھاتی۔ گھر والوں کے ساتھ اس کا رویہ ٹھیک تھا مگر پہلے جیسی ہنستی چہچاتی پلویشا کہیں دور جا سوئی تھی۔

“صائم، آفس کیسا جا رہا ہے؟” ڈاکٹر طاہر، جو اخبار پر نظریں جمائے ہوئے تھے، ناشتہ کرتے ہوئے صائم سے پوچھا۔

“ٹھیک ہی جا رہا ہے، بابا، آپ بس دعا کریں کہ اکرم آفندی کے ساتھ میری ڈیل ڈن ہو جائے، اگر یہ ڈیل ڈن ہو جاتی ہے تو کافی منافع ہو گا۔”

“ہممم… ایسا کرنا کہ…”

اسلام علیکم!

اس سے پہلے ڈاکٹر طاہر کچھ کہتے، اپنے عقب سے آتی نسوانی آواز پر رکے۔ ڈائننگ ٹیبل پر موجود سبھی لوگ تھم گئے۔

ڈاکٹر طاہر نے اخبار سامنے میز پر رکھتے، گردن موڑ کر دیکھا تو وہ سامنے سے ہی آ رہی تھی۔

گہرے سیاہ کھلے ٹراؤزر اور گھٹنوں سے نیچے آتے کرتے میں ملبوس، دوپٹا گلے میں ڈالے اور بھوری شال کندھوں پر پھیلے ہوئے۔ بالوں کا میسی سا جھوڑا بنائے، ہلکا سا میک اپ کیے، وہ سنجیدگی سے چلی آ رہی تھی۔

“واعلیکم السلام!”

ڈاکٹر طاہر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی، اسے اتنے دنوں بعد کمرے سے باہر نکلتے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے تھے۔

“میں نے سوچا آج سب کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کروں۔”

وہ سنجیدگی سے اپنی کرسی پر بیٹھی۔

“کیوں نہیں، میری جان؟ مجھے بتاؤ، تمہارے لیے کچھ اسپیشل بنواتی ہوں۔” تائی جان نے خوشدلی سے کہا۔

پلویشا ہلکا سا مسکرائی۔ “نہیں تائی جان، میں صرف جوس لوں گی۔” اس نے شائستگی سے کہا اور رخ ڈاکٹر طاہر کی جانب کیا۔

“میں آج سے دوبارہ ہاسپیٹل جوائن کر رہی ہوں۔”

“ویل ڈن، پلویشا! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔” ابراحیم نے اسے سراہا، جبکہ باقی سب کے چہروں پر ایک بھرپور مسکراہٹ دوڑ گئی۔ مطلب پلویشا بہتر ہو رہی تھی۔

“بابا، میں نے آپ سے کہنا تھا کہ میں دو دن بعد ملک سے باہر جا رہا ہوں۔” کچھ پل خاموشی کے بعد صائم نے کہا، جبکہ کن اکھیوں سے اس نے پلویشا کو بھی دیکھا، جو نظریں ٹیبل پر کسی غیر مرئی نکتہ کو دیکھتی اور اورنج جوس پینے میں مصروف تھی۔

“ملک سے باہر؟ مگر کیوں؟” ڈاکٹر نے تعجب سے پوچھا۔

“میں اور ردا ساتھ جا رہے ہیں، ایک ہفتے کے لیے۔”

صائم کی بات پر ردا نے چور نظروں سے پلویشا کو دیکھا، مگر سامنے والی ان باتوں سے یوں بے نیاز تھی جیسے سنا ہی نہ ہو۔

“ٹھیک ہے پھر، خیر سے جاؤ۔” انہوں نے ابراحیم کی طرف دیکھا۔ “ابراحیم، تم کب آؤ گے ہاسپیٹل؟”

“آپ لوگ روانہ ہو جائیں، میں تھوڑی دیر بعد آوں گا، بھائی۔”

“ٹھیک پھر، پلویشا آ جاؤ۔” انہوں نے پلویشا کو دیکھتے کہا۔

پلویشا اٹھی اور بنا کسی کی طرف دیکھے، لاونج کی جانب قدم بڑھا گئی۔

“بھائی صاحب، بچی کا خیال رکھیں گے۔” سمعیہ نے پریشانی سے کہا۔

ڈاکٹر طاہر مسکرا دیے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اٹھ کر باہر کو چل دیے۔

وہ دونوں گاڑی میں تھے۔ گاڑی خاموشی سے آگے بڑھتی اپنا سفر طے کر رہی تھی۔ ڈاکٹر طاہر پورے انہماک سے ڈرائیو کرتے، گاہے بگاہے پلویشا کو بھی دیکھ لیتے، جو کھڑکی کی طرف چہرہ موڑے یک ٹک باہر دیکھ رہی تھی۔

کبھی درخت آتے، کبھی دکانیں۔ ہر منظر اسے پچھلے دنوں کی طرف لے جا رہا تھا۔ یوں ہی باہر دیکھتے دیکھتے خاموشی سے ایک دھند چھائی، اور اسی دھند میں منظر بدلا۔

چھ دن پہلے

فجر کی اذان ہر طرف گونج رہی تھی۔

وہ کمرے کے ایک کونے میں جائے نماز پر گم سم بیٹھی تھی، گھٹنے سینے سے لگائے، ان پر تھوڑی ٹکائے، نظریں جھکائے۔

کوئی وقت تھا جب وہ اسی طرح بیٹھ کر نہ جانے کتنی دیر اپنے خدا سے باتیں کیا کرتی تھی، اور آج…… گہری چپ۔

پلویشا کے ذہن میں صرف ایک ہی لفظ گونج رہا تھا، اور وہ تھا

“البصیر” — خوب دیکھنے والا۔

کوئی وقت تھا جب یہ لفظ سوچ کر وہ بے انتہا خوش ہوتی تھی۔ یہ احساس کہ اس کا رب ہر ظاہر و پوشیدہ کو دیکھنے والا ہے…… یہی احساس اسے امید تھماتا تھا۔

اور آج…… آج اس لفظ پر نہ جانے کیوں وہ بس خاموش بیٹھی تھی۔

لیکن وہ “السميع” — خوب سننے والا — اس کی خاموشی میں چھپی ہر بات کو بڑے پیار اور بڑے غور سے سن رہا تھا۔

دھند چھٹی تو منظر اونچے نیچے درختوں کا تھا۔

ایک دو پل بعد پھر ہر طرف دھند چھا گئی، اور منظر بدلتا چلا گیا۔

پانچ دن پہلے

دن کا دوسرا پہر تھا۔

وہ واش روم میں سنک کے سامنے کھڑی تھی۔ نظریں سامنے آئینے میں نظر آتے عکس پر جمی تھیں۔

ویران، بے تاثر سی آنکھیں چہرے کے ہر نقش کو بغور دیکھ رہی تھیں۔ آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ حلقے، زرد رنگت اور پھیلی ہوئی ویرانی۔ وہ چند ہی دنوں میں کتنی بدل گئی تھی۔

اس نے دھیرے سے انگلی اپنی گردن کی سائیڈ پر نظر آتے زخم پر پھیری، جو اب کچھ حد تک مندمل ہو چکا تھا۔

آہستہ آہستہ انگلی اوپر لے گئی اور ٹھوڑی پر موجود نیلاہٹ بھرے زخم کو چھوا۔

یوں ہی کھڑے کھڑے اس نے اپنے وجود پر پہنی شرٹ کو کندھے سے ذرا نیچے سرکایا تو وہاں گہرے زخموں کے نشان تھے، جو اب بھی سرخ تھے۔

وہ ایک ایک زخم پر اپنی سرد انگلی پھیرتی رہی، پھر نل کھول کر چہرہ پانی سے بھگو لیا۔

پلویشا کا دل شدتِ تکلیف سے چلا اٹھا تھا۔

دھند چھٹتی گئی اور اب منظر ایک صاف میدان کا تھا۔

پلویشا یوں ہی اسے تکتی رہی، اور پھر ایک بار پھر دھند چھا گئی، ہر طرف پھیلتی چلی گئی۔

چار دن پہلے

رات ہوتے ہی لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبک گئے تھے۔

اس کے کمرے میں گھپ اندھیرا تھا۔ کوئی آواز نہیں تھی، بس ایک مدھم سی بڑبڑاہٹ کسی کونے سے سنائی دیتی تھی۔

غور سے دیکھو تو بیڈ کے دائیں جانب بنی دیوار کے کونے میں وہ دبکی بیٹھی تھی۔

گھٹنے سینے سے لگائے، ہاتھ کانوں پر رکھے، بند آنکھوں سے ہانپتی، کانپتی، خود سے باتیں کر رہی تھی۔

“ک… کچھ نہیں ہے، پلویشا… سب ٹھیک ہے… سب ٹھیک ہے… کوئی نہیں ہے… یہاں کوئی نہیں ہے… تم بالکل ٹھیک ہو… کوئی… نہیں ہے…”

چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا، مگر وہ کہتی جا رہی تھی۔

اسے ان حالات سے نکلنا تھا۔

اسے اپنے خوف سے لڑنا تھا۔

ان آوازوں کو بھلانا تھا جو صرف اسے سنائی دیتی تھیں۔

ان قہقہوں سے، ان لوگوں سے، ان یادوں سے خود کو آزاد کرنا تھا۔

“تم… تم اندھیرے سے… نہیں ڈرتی، پلویشا… تم… اندھیرے سے نہیں ڈرتی…”

دھند ہٹی تو منظر شاہ ہاسپٹل کا تھا۔

گاڑی ہاسپٹل کے سامنے رکی۔ اس نے ایک نظر عمارت پر ڈالی، اور پھر دھند آہستہ آہستہ چھانے لگی۔

تین دن پہلے

شام کا وقت تھا۔

سورج کی کرنیں کھڑکی سے چھن چھن کر کمرے میں داخل ہو رہی تھیں۔

وہ آئینے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔

پھر اس نے مرہم اٹھائی، پہلے گردن کے زخم پر لگائی، پھر ٹھوڑی کے زخم پر۔

کنسیلر سے آنکھوں کے نیچے کے سیاہ حلقے چھپائے، اور آہستہ آہستہ ہلکا سا میک اپ کرنے لگی۔

اسے ان زخموں کو چھپانا تھا۔

انہیں مٹانا تھا۔

ان پر مرہم رکھنا تھا۔

مگر گھائل روح، دل اور دماغ خاموش کھڑے اپنے مرہم کی راہ دیکھ رہے تھے۔

دھند چھٹی تو اس نے ہاسپٹل کے داخلی دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔

ہر قدم کے ساتھ پھر دھند چھا گئی، اور منظر بدلتا چلا گیا۔

دو دن پہلے

رات کا دوسرا پہر تھا۔

وہ اپنے کمرے میں سٹڈی ٹیبل پر ایک ہاتھ رکھے، ذرا جھکی ہوئی کھڑی تھی۔

کبھی دل کو تھپکتی، کبھی گردن مسلتی، وہ گہرے سانس لے رہی تھی۔

آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، مگر وہ بے آواز خود سے باتیں کرتی جا رہی تھی۔

“سانس لو، پلویشا… سانس لو… گہرے سانس لو… اور خود سے کہو کہ تم ٹھیک ہو۔”

اسے اپنی اینگزائٹی خود کم کرنی تھی۔

اسے پینک نہیں ہونا تھا۔

اسے اپنی بکھرتی سانسوں کو قابو میں لانا تھا۔

اپنے شل قدموں میں پھر سے جان ڈالنی تھی۔

“سانس لیتی رہو… تم بہادر ہو… یہ ختم ہو جائے گا… یہ عارضی ہے…”

دھند ہٹی تو سامنے ڈاکٹرز، نرسز اور ریسیپشنسٹ کھڑے تھے۔

اور پھر اچانک خوشی کی ایک لہر ان سب کے درمیان دوڑ گئی۔

وہ سب خوشی سے اس سے گلے مل رہے تھے۔

اس کی واپسی پر مسکرا رہے تھے۔

وہ بھی مسکرا کر جواب دے رہی تھی۔

مگر ذہن کے پردوں پر پھر دھند چھا گئی۔

ایک دن پہلے

فجر کی اذان اس کی سماعتوں میں رس گھول رہی تھی۔

وہ جائے نماز پر بیٹھی، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، بند آنکھوں سے دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔

“یا اللہ، میں، میری زندگی، میری تمام خواہشات اور میرے تمام غم آپ کے حوالے کرتی ہوں۔

مجھے ایمان والوں میں شمار فرما دیجئے، مجھے پرنور کر دیجئے۔

مجھے شفا عطا فرمائیے، اور میری زندگی کو نئے سرے سے شروع کرنے میں میری مدد کیجئے۔

بے شک آپ بہترین کارساز ہیں۔”

وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر سجدے میں گئی۔

“پلویشا دائم آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔”

سجدے میں اپنے رب سے محبت کا اعتراف کر کے وہ اٹھی۔

چہرے پر اطمینان تھا۔

آج سکون تھا۔

وہ کل سے اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرے گی۔

وہ اپنے ایمان، اپنے توکل کو پھر سے مضبوط کرے گی۔

وہ ایک سروائیور تھی۔

اسے سروائیو کرنا تھا۔

اسے موو آن کرنا تھا۔

اور اس کی شروعات وہ اسی لمحے، اپنے رب سے دوبارہ جُڑ کر کر چکی تھی۔

دھند چھٹی اور اب منظر واضع ہوا۔ وہ اپنے آفس کے سامنے ٹہری تھی۔ دروازے پر ایک بھوری لکڑی کی نیم پلیٹ کی تختی لٹکی ہوئی تھی، جو ایک پتلی ڈوری اور کیل سے جمی ہوئی تھی، جس پر جلی حروف سے ایک نام درج تھا:

Dr. Palwisha Daeem

اپنا نام پڑھتے پلویشا کے چہرے پر ایک مدھم مسکراہٹ آئی۔ کرب، خوشی، حسرت، درد، خواہش، خواب، زندگی۔۔۔ ان سب جذبات کو ملاؤ تو وہ مسکراہٹ وجود میں آئی تھی۔

اس نے گہرا سانس بھرا اور دروازے کا ہینڈل گھمایا، وہ گھومتا چلا گیا۔ ایک جانی پہچانی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکراتی، اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ وہ کمرہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا وہ آخری بار چھوڑ کر گئی تھی۔ بھیگی آنکھوں سے اپنے قدم آگے بڑھائے۔

سامنے ٹیبل پر، آہستگی سے ہاتھ پھیرتے، وہ اپنی کرسی تک آئی۔ اس نے کرسی کے ہینڈل کو مسرت سے چھوا، ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر پھسل گیا۔

اس نے ٹیبل ڈراؤر کھول کر ایک نیلے کور والی فائل اٹھائی اور اسے کھولا:

Dr. Palwisha Daeem (Junior Doctor)

فائل کے پہلے صفحہ کے شروع میں لکھے حروف دیکھتے وہ مسکرا دی۔ ڈاکٹر بننا اس کا سب سے بڑا خواب تھا۔ ڈاکٹر طاہر کو دیکھتے، پلویشا ہمیشہ سوچتی کہ اللّٰہ اسے بھی ایسا ہی کامیاب سرجن بنائے۔ اور اب اس خواب کو پورا کرنے کا وقت آ پہنچا تھا۔ اب سے جونئیر سے سینیئر ڈاکٹر بننا تھا۔

اس نے فائل واپس رکھی، گہرا سانس بھرتے آنسو صاف کیے اور اپنا سفید کوٹ پہننے لگی۔ ڈاکٹر طاہر نے اسے صاف انسٹرکشنز دی تھیں کہ آج تین بجے تک والی شفٹ وہ پوری کرے گی۔

ابھی وہ اپنی کرسی پر بیٹھنے ہی والی تھی کہ باہر چیخو پکار کی آواز سنتے ٹھٹکی۔

یہ کون چلا رہا ہے؟ وہ سوچتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

باہر ایک عورت جس کے کپڑوں پر جگہ جگہ خون تھا، ایک لہولہان پانچ سالہ بچی کو اپنی گود میں اٹھائے، بلند آواز میں چلاتی، ڈاکٹرز کو آواز دے رہی تھی۔

“ڈاکٹر! کوئی میری بچی کو بچاؤ! ایک کار نے ٹکر ماری ہے۔ اس کا ایکسیڈینٹ ہو گیا ہے! کوئی آئے!”

نرسز اور ایک ڈاکٹر اس کی طرف بھاگتے ہوئے جا رہے تھے۔ سٹریچر لایا جا رہا تھا۔ شور، ہنگامہ، ایک منٹ میں کھلبلی سی مچ گئی تھی۔

پلویشا اپنے آفس کے دروازے میں کھڑی، یک ٹک سامنے ہی ہجوم کو دیکھ رہی تھی۔ کار، خون، لہولہان لڑکی۔۔۔ اس کے ذہن پر ہتھوڑے برس رہے تھے۔ پلکے جھپکتے، خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی، مٹھیاں پھینچ لیں۔

“ڈاکٹر پلویشا، چلیں! پیشنٹ کی حالت ناساز ہے!”

ایک نرس بھاگتے ہوئے اس تک آئی اور فوراً زخمی بچی کی طرف بھاگی۔

پلویشا کو دھڑکا سا لگا۔ اس کے اردگرد ہر چیز ساکت ہو گئی۔ رنگت برف جیسی سفید اور جسم مفلوج ہو چکا تھا۔ وہ بنا کوئی حرکت کیے، اپنی جگہ شل ہو گئی اور لب ہلکے سے ہلکے بولے:

“تم ا۔۔۔یک ڈاک۔۔۔ٹر ہو۔۔۔ پلویشا، تم ایک ڈاکٹر ہو۔”

سرسراتا ہوا جھونکا اس کے پاس سے گزر گیا۔ اس نے تھوک نگلتے، اپنے قدم لڑکی کے سٹریچر کی طرف بڑھائے۔ ابھی وہ تین قدم ہی لیے تھے کہ سٹریچر اس کے قریب آ رہا تھا۔

بچی کا نچلا وجود خون میں لت پت تھا۔ سر سے بھی روانی سے خون نکل رہا تھا، جسے ڈاکٹر اریان نے موٹے کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا۔

پلویشا نے کانپتے ہاتھ سے لڑکی کو چھونے کی کوشش کی۔ اس کی حالت غیر ہو رہی تھی اور سانس ساتھ چھوڑ رہا تھا۔

اس سے پہلے وہ اس لڑکی کو چھوتی، لڑکی ماں کی بلند چیخ پڑی اور وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی۔ سٹریچر آگے بڑھ گیا وہ پیچھے رہ گئی ۔ 

“آرے! میری بچی! اسے بچا لو! کوئی بچا لے!”

“کوئی ہے! مجھے بچاؤ!”

ہر چیز پلویشا کے اردگرد گھوم رہی تھی۔ وہ ایک ایک قدم پیچھے ہٹتی گئی۔

“اسے پکڑو! چھوڑنا نہیں! ہاہاہاہا! چلاؤ اور چلاؤ!”

اس رات کا ہر منظر گڈ مڈ ہوتا، اس کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔ بلند بے باک قہقہے، اس کی بلند رونے کی آوازیں۔ پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا۔ وہ اپنے بالوں کو دونوں ہاتھ سے جکڑتے، پیچھے دیوار سے لگ گئی۔ آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی تھیں اور سانس۔۔۔ وہ تو ناجانے کب سے ہی اندر گھٹ سی گئی تھی۔

ڈاکٹر زینب پریشانی سے اس کے پاس آئی:

“پلویشا، کیا تم ٹھیک ہو؟ ادھر آؤ!”

اس کے وجود پر چونٹیاں رینگنے لگی۔ اس نے آنکھیں میچ لیں، بال نوچنے کی حد تک انگلیوں میں پھنسا لیے۔

ڈاکٹر زینب کی آواز پر کچھ اور ڈاکٹرز اور نرسز بھی اس کے گرد جمع ہو گئے۔

“پلویشا، بیٹا کیا ہوا؟”

“ہاہاہاہا! چلاؤ اور چلاؤ! کوئی نہیں ہے یہاں تمہیں بچانے والا! مجھے چھوڑ دو! ہاہاہاہا!”

“چپ! میں نے کہا چپ ہو جاؤ!”

پلویشا پوری شدت سے چلائی۔ فضا ساکت ہو گئی۔ وہ بند آنکھوں سے پوری شدت سے چلائی:

“چھوڑو مجھے! دور رہو مجھ سے!”

تمام ڈاکٹر حیرت سے اسے دیکھے گئے۔ شور کی آواز سنتے، ڈاکٹر طاہر ان تک آئے، سب کو ہٹایا اور سامنے کا منظر دیکھ دھک سے رہ گئے۔

وہ بالوں کو جکڑے، بند آنکھوں سے ہزیانی انداز میں چل رہی تھی۔ ڈاکٹر طاہر فوراً آگے بڑھے اور اس کے دونوں ہاتھوں کو جکڑا۔

“میں نے کہا ہاتھ مت لگانا! کوئی ہے! مجھے بچاؤ!”

“پلویشا، میری جان، کوئی نہیں ہے۔ ادھر دیکھو!”

انہوں نے زبردستی اسے خود میں پھینچتے اس کی پشت سہلائی۔

“مجھے چھوڑو! کوئی ہے؟”

“میری جان، بس! کوئی نہیں ہے! کوئی بھی نہیں ہے!”

انہوں نے اسے سختی سے خود میں پھینچا، اس کا سر تھپک رہے تھے، اور وہ خود کو چھڑانے کی تگ و دو میں لگی رہی۔

“پلویشا، ادھر دیکھو، میں ہوں! ڈاکٹر طاہر!”

انہوں نے یک دم اسے جھٹکا دیتے نرمی سے کہا۔ جھٹکا لگنے پر اس کی آنکھیں کھلیں، ایک پل کے لیے رکی۔

“ڈ۔ڈاکٹر طاہر؟”

اس کے لب پھڑپھڑائے۔

انہوں نے دوبارہ خود سے لگا لیا۔

“میری جان، یہ میں ہوں، بس! ریلیکس ہو جاؤ۔”

وہ اس کی پشت سہلانے لگے، اور وہ بھی سکتے کی حالت میں ان سے لگی رہی۔

اچانک اسے محسوس ہوا وہ دونوں اکیلے نہیں تھے۔ ایک دم وہ ان سے علیحدہ ہوئی اور اسے دھچکا لگا ۔ 

کچھ ڈاکٹرز، نرسز، مریض اور ان کے گھر والے، سب دکھ بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ترحم اور ترس تھا—پلویشا دائم کے لیے۔

پلویشا کا دل چاہا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔

زلت، رسوائی، غصہ، بے بسی۔۔۔ اس ایک پل میں اس نے ہر جزبہ محسوس کیا۔ اور اگلے ہی پل، وہ بھاگی۔ اسے یہاں سے نکلنا تھا۔ اس کے قدم ہاسپیٹل کی حدود سے باہر جا رہے تھے۔ ابھی کچھ ہی وقت پہلے وہ اس ہاسپیٹل میں داخل ہو رہی تھی، اور اب وہ وہاں سے بھاگتے ہوئے جا رہی تھی۔

آنے اور جانے والی دونوں لڑکیوں میں واضح فرق نمایاں تھا۔

ڈاکٹر طاہر نے افسوس سے اس کی جاتی پشت دیکھی۔ انہوں نے اسے نہیں روکا کیونکہ وہ جانتے تھے، اب یہ قدم کبھی اس ہاسپیٹل کا رخ نہیں کریں گے۔

یک دم ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا۔ پلویشا کے آفس پر لگی تختی “ٹھاہ” کی آواز کے ساتھ نیچے گر گئی اور دو ٹکڑوں میں بٹ گئی۔

Dr. اور Palwisha علیحدہ ہو گئے۔

موجودہ وقت، ڈاکٹر طاہر بھاری دل کے ساتھ کھڑکی کے سامنے سے ہٹے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ہی پل گزرے تھے کہ ڈاکٹر طاہر اس تک آئے اور بنا کچھ کہے اس کے ساتھ بیٹھ گئے۔

“پلویشا، ادھر آؤ میرے پاس۔”

انہوں نے اسے اپنے بازو کے حصار میں لیتے ہوئے کہا۔ وہ بھی بےجان وجود کی طرح ان سے لگ گئی۔

خاموشی کے کئی پل ان کے گرد حائل ہو گئے۔ وہ بس نرمی سے اس کے سر کی پشت تھپکتے رہے، اور وہ کھلی آنکھوں سے آسمان کو تکتی رہی۔

“سب ٹھیک ہو جائے گا، میری جان۔ سب ٹھیک ہو جائے گا، اللہ پر بھروسہ کرو۔”

انہوں نے نرمی سے کہا تو پلویشا کی آنکھوں میں ہلکا سا گلابی پانی چمکا۔ وہ گہرا سانس بھرتے ہوئے سیدھی ہوئی اور ان کی طرف دیکھا۔

“آپ کو پتہ ہے، میں بہت مشکل سے دوبارہ نئے سرے سے زندگی شروع کرنے والی تھی۔”

پلویشا آنکھوں میں آنسو لیے کسی بےبس انسان کی طرح انہیں دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

“میں سب بھول گئی تھی، صائم کو، اس کے دھوکے کو، اس حادثے کو… صرف اس بنیاد پر کہ میرے پاس ابھی جینے کے لیے ایک وجہ باقی ہے۔ مجھے ابھی میرا خواب پورا کرنا ہے۔”

پلویشا کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر اس کے رخسار پر پھسلتا چلا گیا۔ آج اس آنسو میں گہرا درد چھپا تھا۔ ڈاکٹر طاہر اسے ہمیشہ کی طرح تحمل سے سنتے رہے۔

“ڈاکٹر طاہر، مجھے سینئر سرجن بننا تھا۔ مجھے… مجھے لوگوں…”

پلویشا سے آگے کچھ بھی نہ کہا گیا۔ آواز سینے میں ہی دب گئی۔ وہ بس منہ پر دونوں ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

ڈاکٹر طاہر نے اسے آج سے پہلے اتنی تکلیف میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ تب بھی نہیں جب اس کے ماں باپ اس سے دور ہوئے تھے، تب بھی نہیں جب وہ اس حادثے کے بعد روئی تھی، تب بھی نہیں جب صائم نے اسے چھوڑ دیا تھا۔

وہ ہر بار چیخ چیخ کر روتے ہوئے اپنا درد انہیں بتایا کرتی تھی، مگر آج تو شدتِ غم سے اس سے بات بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔ آج خواب ٹوٹا تھا۔

“پلویشا، میری جان۔”

انہوں نے اسے دوبارہ خود سے لگاتے ہوئے اس کے سر پر بوسہ دیا۔

“میں تھک گئی ہوں، ڈاکٹر طاہر۔ اب اور ہمت نہیں ہے۔ آپ کی پلویشا لڑتے لڑتے تھک گئی ہے۔”

وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی، جبکہ ڈاکٹر طاہر آہستہ آہستہ اس کا سر تھپکتے ہوئے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

سیاہ آسمان نے کئی پل انہیں اسی طرح دیکھا، کہ پلویشا سیدھی ہوئی۔

“آپ کو پتہ ہے اس رات کیا ہوا تھا؟”

پلویشا نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو ڈاکٹر طاہر کا دل ایک پل کو رک گیا۔ پلویشا اس نہج پر پہنچ گئی تھی جس سے وہ اتنے عرصے سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پلویشا کے مل جانے کے بعد انہوں نے پولیس کو شامل کرنے کی کوشش نہیں کی تھی، نہ ہی کسی قسم کی کارروائی کی تھی۔ صرف اس لیے کہ پلویشا جتنی جلدی ہو سکے ان حالات سے نکل آئے۔ وہ کسی صورت ملزموں کو پکڑنے کے چکر میں پڑ کر پلویشا کو بار بار وہ حادثہ یاد نہیں دلانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کبھی اس حادثے کے بابت استفسار نہیں کیا تھا، مگر آج… آج پلویشا خود ہی وہ ذکر چھیڑ بیٹھی تھی۔

“آپ کو پتہ ہے اس رات کیا ہوا تھا میرے ساتھ؟ کہاں تھی میں؟”

(“تم ایک ریپسٹ ہو۔”

وہ آواز سننی تھی اور ازمیر یک دم اٹھا۔ اس کا رخ باتھ روم کی طرف تھا۔)

“پلویشا، اس بات کو چھوڑو۔”

ان کی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوتی تھی۔

پلویشا کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ رینگ گئی، اور یکے بعد دیگرے کئی آنسو اس کی آنکھوں سے نکلے۔

(جب وہ واپس لوٹا تو باوضو تھا۔ وہ فوراً ڈریسنگ ڈرار کی جانب بڑھا، اسے کھولا اور وہاں سے ٹوپی نکالی۔ اس کے ہر انداز سے اضطراب جھلک رہا تھا۔)

“وہ چار لوگ تھے، اور آپ کی پلویشا اکیلی تھی۔”

ڈاکٹر طاہر دہل اٹھے۔ ان کا دل کانپ گیا۔

“پلویشا، خدارا چپ ہو جاؤ۔”

(وہ حالتِ سجدہ میں تھا، مگر اس اکتیس سالہ مرد کی ہچکیاں سانس روک دینے والی تھیں۔)

“وہ ہنس رہے تھے، میری بےبسی پر، میری اذیت پر… اور میں… میں ان کے پاؤں میں پڑی، گڑگڑاتی ہوئی رحم مانگ رہی تھی۔”

(مجھے معاف کر دے، اللہ۔

مجھ سے غلطی ہو گئی۔

میں شرمندہ ہوں۔

مجھ پر رحم کر، میرے مالک۔

ازمیر علی سجدے میں گرا رب کو پکارتا، روتے ہوئے رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔)

ڈاکٹر طاہر نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ اس کے منہ پر رکھنا چاہا تو وہ اچھل کر دور ہو گئی۔

“میں پوری شدت سے چیختی ہوئی مدد مانگ رہی تھی، مگر… مگر کوئی بھی نہیں آیا۔”

پلویشا کی آواز میں شکوہ تھا، اور وہ شکوہ نہ جانے کس کے لیے تھا۔

(وہ اب جائے نماز پر بیٹھا سورۂ یٰسین کی تلاوت کر رہا تھا۔ آنکھوں سے گرتے آنسو ٹپ ٹپ قرآنِ پاک کی آیات پر گر رہے تھے۔)

ڈاکٹر طاہر کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔ وہ اسے چپ کروانا چاہتے تھے، مگر آواز گلے میں پھنس گئی تھی۔

“ڈاکٹر طاہر، وہ ایک حادثہ تھا کہنا ٹھیک ہے، مگر اس حادثے سے گزرنا ایک تکلیف دہ لمحہ تھا۔”

پلویشا اب ان سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ ڈاکٹر طاہر کے آنسو بھی ان کا چہرہ بھگو رہے تھے۔

“میری جان، سب ٹھیک ہو جائے گا۔”

“ڈاکٹر طاہر… اب ہمت نہیں بچی۔ میں بہت تھک گئی ہوں۔ میں مضبوط نہیں ہوں، میں بہت کمزور ہوں… اور اب… اب بس…”

وہ ہچکیوں کے درمیان بول رہی تھی۔

(وہ بند قرآن مضبوطی سے سینے سے لگائے رب کو پکار رہا تھا۔

“اب تھک گیا ہوں، اللہ۔

اب اس گِلٹ سے آزاد کر دے۔

مجھ پر رحم کر دے، میرے اللہ۔”)

کافی دیر تک اس کی ہچکیاں لاہور کی ہوا میں گھلتی ایک غمگین سر بکھیرتی رہیں۔

وہ اب بس ان کے ساتھ لگی، چپ چاپ آنکھیں بند کیے ہوئے تھی، اور ڈاکٹر طاہر آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہے تھے۔

(اب وہ یوں ہی جائے نماز پر بیٹھا، قرآن سینے سے لگائے، پیچھے دیوار سے پشت لگائے، آنکھیں بند کیے گہرے سانس لے رہا تھا۔

پھیلتے اندھیرے میں صرف وہ قرآن تھا جو اسے روشنی دے رہا تھا۔ وہ نماز تھی جو اسے تسلی دے رہی تھی۔)

تھوڑی دیر بعد انہوں نے گہرا سانس لیا۔

“میرے ایک دوست کی بیٹی تھی۔ بہت خوبصورت اور ذہین تھی وہ۔ اسے ڈاکٹر بننا تھا۔”

ان کی بات پر پلویشا نے آہستہ سے آنکھیں وا کیں۔

“میں جب اپنے دوست کے گھر جاتا، وہ پڑھ رہی ہوتی تھی۔ دن ہو یا رات، اسے کسی چیز کا ہوش نہیں ہوتا تھا۔ اور جب میں اس سے کہتا تھا کہ عنقریب تم ہاسپٹل میں مریض کی صورت میں پائی جاؤ گی، اس لیے اتنا نہ پڑھا کرو، تو پتہ ہے وہ کیا کہتی تھی؟”

پلویشا نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا۔

“وہ کہتی تھی،

طاہر انکل، مجھے میرے خوابوں کی آگ اندر سے جلاتی ہے، اس لیے نہیں کہ مجھے راکھ کر دے، بلکہ اس لیے کہ مجھے کندن بنا دے۔”

ڈاکٹر طاہر ایک پل کو ساکت ہو گئے۔

“کیا اب وہ ڈاکٹر ہے؟”

پلویشا نے بےقراری سے پوچھا۔

“نہیں، اب وہ ایک سرکاری اسکول میں ٹیچنگ کرتی ہے۔”

پلویشا بےیقینی سے انہیں دیکھنے لگی۔

“اس نے ایف ایس سی میں ٹاپ کیا تھا۔ آؤٹ آف کنٹری اسٹڈی کی اسکالرشپ بھی ملی تھی، مگر اس کے باپ نے نہیں جانے دیا۔”

ان کی آواز نم ہو گئی۔

“وہ اپنی بیٹی کو باہر بھیجنے سے ڈرتا تھا، اور پھر اس نے اسے آگے پڑھایا ہی نہیں۔”

“ایسا کیوں کیا انہوں نے؟”

پلویشا کو اس لڑکی پر دکھ ہوا۔

“وہ ایک بزدل باپ تھا، جس کے ڈر نے اس کی بیٹی کے سارے خواب جلا دیے۔”

انہوں نے توقف کیا اور بات جاری رکھی۔

“یہ سب بتانے کا مقصد یہ تھا کہ تم نے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی ہے، پلویشا۔ دو سال اپنے ذاتی ہاسپٹل میں مریضوں کو ڈیل کیا ہے۔ انٹرن شپ تمہارے لیے نہ مشکل تھی، نہ فیس کا مسئلہ۔ تمہارے راستے میں کسی نے رکاوٹ نہیں ڈالی، بلکہ ہم سب تمہارے ساتھ کھڑے تھے۔”

پلویشا غور سے سن رہی تھی۔

“جہاں تمہارے لیے سب آسان تھا، وہاں یہ کسی کے لیے ناممکن خواب تھا۔ نہ جانے کتنی لڑکیاں ہوں گی جنہیں پڑھنے ہی نہیں دیا گیا، یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لینے دیا گیا، کبھی اخراجات آڑے آئے تو کبھی بڑوں کی اجازت۔ میں تمہیں اور انہیں کمپئیر نہیں کر رہا، کیونکہ ہر کسی کا غم مختلف ہوتا ہے۔”

پلویشا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“زندگی میں کبھی مشکلات ختم نہیں ہوتیں۔ ایک کے بعد ایک ٹراما آتا ہے۔ کسی دن تم پھر اٹھو گی، دوبارہ کوشش کرو گی، مگر پھر گر جاؤ گی۔ یہی اٹھنا، یہی گرنا… اسی کو زندگی کہتے ہیں۔”

پلویشا کے دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا تھا۔

“یہ دنیا جنت اور دوزخ کا ملاپ ہے، جہاں جنت جیسی خوشیاں بھی ملتی ہیں اور دوزخ جیسے دکھ بھی۔”

انہوں نے اس کے روئے ہوئے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔

“اس لیے تم نے ہمت نہیں ہارنی۔ چاہے جتنا کہو کہ تم تھک گئی ہو، یاد رکھنا کہ اللہ نے سورۂ بقرہ میں فرمایا ہے کہ وہ کسی جان پر اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔”

پلویشا کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ بکھر گئی۔

“جب کبھی لگے کہ اب برداشت نہیں ہو رہا، تو ان لوگوں کو ڈھونڈنا جن کے کندھے ماں باپ کے جنازوں نے جھکا دیے، جو مفلس ہیں مگر خواب رکھتے ہیں۔ تب تمہیں اندازہ ہو گا کہ تم نہ جانے کتنے لوگوں کے خواب جی رہی ہو۔”

ڈاکٹر طاہر مسکرا رہے تھے، اور پلویشا بھی زخمی مسکراہٹ کے ساتھ پلکیں جھپکا رہی تھی۔

“میری جان ہو تم۔”

انہوں نے محبت سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا اور خود سے لگا لیا۔

وہ ہمیشہ سے ایسے ہی تھے۔ پلویشا کے درد کو کم کرنا انہیں آتا تھا۔

پلویشا کو محسوس ہوا کہ انہوں نے اس حادثے کا ذکر ایک بار بھی نہیں کیا تھا، کیونکہ جس کا ذکر پلویشا کے لیے تکلیف دہ تھا، اس سے کہیں زیادہ وہ ڈاکٹر طاہر کے لیے تھا۔

ہماری تکلیف، ہمارے اپنوں کے لیے بھی کسی عذاب سے کم نہیں ہوتی۔

کچھ وقت بعد 

کمرہ پورے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، اور اسی اندھیرے میں وہ بیڈ پر چت لیٹی چھت کو دیکھ رہی تھی۔ چہرے پر ہلکی سی زخمی مسکراہٹ کئی داستانیں بیاں کر رہی تھی، اور آنکھوں کے سامنے جھومتے مناظر اسے اس جہاں سے بیگانہ کیے ہوئے تھے۔

دیکھتے ہی دیکھتے وہ مناظر ہر طرف چھانے لگے، اندھیرا غائب ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ ایک خوبصورت صبح زمین پر اتر آئی۔

آٹھ سال پہلے،

فرینکفرٹ

صبح کا ہلکا سا سنہرا نور فرینکفرٹ انٹرنیشنل اسکول کی شیشے سے بنی عمارت پر پڑ رہا تھا، جہاں ہر زاویے سے نظم و ضبط اور وقار جھلک رہا تھا۔ طلبہ کی قطاریں، اپنے قدموں کی چھن چھن کے ساتھ کلاس روم کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ ہرے بھرے راستوں کے کنارے نرم روشنی میں کھیلتی ہوئی چھائیاں، اور کھڑکیوں سے جھلکتی ہوئی تیاریوں کی گونج، اس جگہ کو نہ صرف تعلیم کا مرکز بلکہ ایک چھوٹا سا عالمی شہر بنا دیتی تھی۔ یہاں ہر بچہ اپنی محنت، اپنے خواب اور اپنی پہچان کے ساتھ قدم رکھتا تھا، اور یہ شہر کے سب سے امیر اور بااثر خاندانوں کے بچوں کے لیے ایک چھوٹی سی دنیا تھی۔

لیکچر شروع ہو چکے تھے، اور سب اپنی اپنی جماعتوں میں موجود تھے۔ وہ بھی اس وقت اپنے ڈیسک پر بیٹھی تھی، گردن جھکائے سامنے رکھی کتاب پر نظریں جمائے، اُونچی پونی ٹیل میں باندھے اس کے بھورے بال اس کی شفاف گردن کو چھو رہے تھے۔ اردگرد موجود سبھی سٹوڈنٹس ایک دوسرے سے خوشگپیو میں مصروف تھے۔

“ہئے، ایلائس، وٹس اپ؟ کیا چل رہا ہے برو؟”

“ایم فائن، تم سناؤ۔”

اس کی آواز سنتے ہی پونی ٹیل والی لڑکی نے سر اٹھایا۔ وہ اسی کی طرف آ رہا تھا۔ اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور دوبارہ نظریں جھکا لیں۔

“ہائے پل، کیسی ہو؟” وہ اس کے ڈیسک کے قریب آ گیا تھا۔

اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“میرا نام پل نہیں، پلویش ہے۔ اپنی پرناونسی ایشن ٹھیک کر لو، ایلائس۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

“ایس کیوں نہیں آئی آج؟” سامنے والے نے پھر سے اسے مخاطب کیا۔

“اس کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔” اس نے کتاب بند کی اور اٹھ کھڑی ہوئی، اس کے ساتھ سے گزر کر آگے بڑھ گئی۔

ایلائس نے مدھم مسکراہٹ سے اسے کلاس سے باہر جاتے دیکھا۔

“تم غلط جگہ ٹرائی کر رہے ہو، ایلائس؟” ڈیوڈ نامی ایک لڑکا اس کی طرف آتے ہوئے بولا۔

“او کم آن، ڈیوڈ، ٹیک اٹ ایزی۔” ایلائس نے سر جھٹکا۔

“ایلائس، تم ابھی اسے جانتے نہیں ہو، لیکن سکول میں سب اسے جانتے ہیں۔ بہت ہی کوئی سڑیل ٹائپ سی ہے۔ وہ تمہارے ٹائپ کی نہیں ہے۔”

“میں اس میں انٹرسٹڈ ہوں بھی نہیں ۔” ایلائس نے گویا ناک سے مکھی اڑائی اور اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

کلاس سے باہر نکل کر اس نے دیکھا تو وہ سامنے ہی کاریڈور میں چل رہی تھی۔

“ہئے، پل… میرا مطلب پلویش، بات تو سنو!” وہ اس کے پیچھے بھاگا۔ کاریڈور میں پہلے سے ٹہرے سٹوڈنٹس میں یک دم سرگوشیاں شروع ہو گئی۔

“اوہ مائی گاڈ، یہ ایلائس اس کے پیچھے کیوں بھاگ رہا ہے؟” ایک لڑکی نے کہا۔

“اس سے زیادہ پیاری ہوں میں۔ اوہ، ایلائس کتنا بے وقوف ہے۔”

پلویش نے رک کر اس کی طرف رخ کیا۔

“ایلائس، تم مجھے پچھلے تین دنوں سے ڈسٹرب کر رہے ہو۔ میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتی۔”

“مگر کیوں؟”

“اب اس کیوں کا کیا سین بنتا ہے؟ بس نہیں چاہتی، میں۔ پلیز مجھے ڈسٹرب نا کرو اور پلی—”

“میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔” اس نے اچانک ہی اس کے سر پر بم پھوڑا۔ وہ جو آگے بول ہی رہی تھی لفظ ختم ہو گئے۔

اس نے ایک بار بغور اسے دیکھا۔ وہ یونیفارم میں تھا: گہرے گرے رنگ کے ٹراؤزر اور نیلا بلیزر جس پر سنہری لوگو، اندر سفید شرٹ اور گہری نیلی ہی ٹائی باریک سلور لائنو کے ساتھ۔ بے حد خوبصورت نقوش، دراز قد، اور سکول کا پاپولر لڑکا۔

“تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔” ایلائس نے اسے پھر مخاطب کیا تو وہ اپنے خیالوں سے باہر آئی۔

“مگر میں نہیں کرنا چاہتی دوستی۔” وہ اتنا کہہ کر آگے بڑھ گئی، البتہ وہ پھر اس کے ہمقدم ہوا۔

“مگر کیوں؟”

“بس نہیں چاہتی!”

پلویشا کے چلتے قدموں کو بریک لگی۔ اس نے ایک پل رک کر اسے دیکھا۔

“تمہارا آخر مسئلہ کیا ہے، ایلائس؟”

“تم بس دوستی کر لو۔”

پلویشا نے برہم ہو کر کہا، وہ دونوں اکیڈمک بلاک سے باہر آ چکے تھے۔

“ایلائس، تم آخر دوستی کرنا ہی کیوں چاہتے ہو؟”

اس بار پلویشا کے جواب میں آنکھوں میں شدت تھی۔

ایلائس نے رک کر اسے دیکھا۔ سامنے کھڑی لڑکی بہت خوبصورت تھی۔ گہرے گرے رنگ کی سکرٹ جس کے نیچے بلیک opaque سوکس نے اس کی ٹانگوں کو ڈھانپا ہوا تھا، نیلا بلیزر، اور اندر وائٹ شرٹ کے ساتھ نیلی سلور لائنو والی ٹائی۔ سولہ سالہ پلویش ایلائس کے کندھوں تک آتی تھی۔

“کیا تم اسی طرح چپ کھڑے رہو گے، ایلائس؟”

“میں محبت کرتا ہوں۔” پلویشا ساکت ہوئی۔

ایلائس ایک پل کو رکا۔

“میں ایس سے محبت کرتا ہوں۔”

پلویشا کو لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی۔

“ک… کیا مطلب؟”

“مطلب یہ کہ میں ایس سے محبت کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم اس سے… مجھے ملانے میں میری مدد کرو۔”

پلویشا نے گہرہ سانس بھرا۔ “اوہ، تو یہ بات ہے۔” وہ ہنسی۔

“تو تم میرے زریعے اس تک پہنچنا چاہتے ہو؟” اس کے تن بدن میں شرارے پھوٹ رہے تھے۔

“بلکل، ٹھیک سمجھا تم نے۔”

“اوہ، تو مطلب میں تو زہین ہو گئی۔” پلویشا اسے دیکھ کر مسکرائی اور ایک قدم چل کر اس کے قریب ہوئی۔

ایلائس نے دیکھا، اس کی آنکھوں میں غیر معمولی چمک تھی۔

وہ ابھی اس کی آنکھوں کو دیکھ ہی رہا تھا کہ…

چٹاخ!

زور دار تھپر اس کے دائیں گال کو لال کر گیا۔

“لعنت بھیجتی ہوں تمہاری محبت، تمہاری دوستی اور تمہاری شکل پر!” اس نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا اور مڑ گئی۔

ایلائس ہونک بنا منہ پر ہاتھ رکھے اسے دیکھے گیا۔

“میں نے کہا تھا نا، اس سے بچ کر رہو۔ وہ تمہارے ٹائپ کی نہیں ہے۔” ڈیوڈ نے اس کندھے پر ہاتھ رکھتے ہمدردی سے کہا۔

ناجانے یہ نمونہ ڈیوڈ اب کہاں سے برآمد ہوا تھا اور اب نمک چھڑک رہا تھا۔

“تو بکواس بند کر سالہ!” ایلائس غرایا۔

وہ آگے بڑھ رہی تھی، مٹھیاں پھینچے۔

وہ فوراً کلاس میں واپس آئی اور اپنا بیگ پیک کرنے لگی۔ اسے فوراً یہاں سے نکلنا تھا۔

“ہئے، پلویش، کیا تم گھر جا رہی ہو؟” اس کی کلاس میٹ اس کی طرف آتے ہوئے بولی۔

“ہممم…”

یہ لو، لڑکی نے اس کی طرف ایک گفٹ باکس بڑھایا۔ اس نے چپ چاپ وہ تھام لیا۔

پلویش: “یہ تم…”

” دے دوں گی ایس کو۔” لڑکی کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اس نے کہا اور مڑ گئی۔

وہ ابھی راستے میں ہی تھی کہ اس نے رک کر ایک طرف رکھے ڈسٹبین کو دیکھا۔ پھر اس تک گئی اور بیگ سے گفٹ باکس نکالتے ہوئے اس نے وہ اس کے اندر ڈال دیا۔

“میرا بس چلے میں تم سب کو آگ لگا دوں!” وہ نفرت سے ایک ایک لفظ بولتی آگے بڑھ گئی۔

یہ تھی پلویشا دائم، فرینکفرٹ انٹرنیشنل سکول (FIS) میں ٹینٹھ کلاس کی سٹوڈنٹ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین سال پہلے دائم نے زونیرہ سے شادی کر لی تھی، جس کی پہلے سے ہی ایک بیٹی تھی، جسے وہ پیار سے ایس (S) بلاتی تھی۔ زونیرہ اور دائم کی ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی تھی۔ تب سے وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے۔ ملاقاتیں بڑھیں، باتیں ہوئی، وہ دونوں ایک دوسرے کو اچھے سے سمجھتے تھے۔

جب پلویشا سات سال کی تھی، اس کی ماں مر گئی تھی۔ تب سے دائم نے اکیلے ہی اسے پالا تھا، اور جب زونیرہ کو ایس پیدا ہوئی تھی، تو اس کے اگلے ہی دن اس کا باپ مر گیا تھا۔ تیرہ سال کی عمر تک وہ بن باپ کے بڑی ہوئی تھی کیونکہ زونیرہ نے شادی نہیں کی تھی۔ لیکن اب، دائم کے اصرار اور بیٹی کے خیال سے اس نے دائم سے شادی کر لی تھی۔ تب پلویشا، ایس کی ہی عمر کی تھی۔ اسے بھی باپ کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ وہ تو بھوری آنکھوں والی اپنی ہم عمر خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر ہی خوش ہو گئی تھی۔

وہ چاروں خوشی سے رہنے لگے۔ ساتھ میں ناشتہ کرتے، ساتھ میں ڈنر کرتے۔ ہفتہ کی رات کو لازمی، وہ ساتھ میں مووی دیکھتے تھے۔ ایس کا بھی پلویشا کے ساتھ ایڈمیشن کروا دیا گیا۔ پلویشا کو ایس کی صورت میں ایک بہن اور دوست مل گئی تھی۔ اس سے بڑی خوشی کیا ہوتی، ان سب کی زندگی بہت خوبصورت موسم کی طرح گزر رہی تھی۔ مگر موسم تو بدلتے رہتے ہیں نا۔

سیونتھ کلاس میں پلویشا تھرڈ آئی تھی۔ وہ بے حد خوشی سے چہکتے ہوئے گھر آئی، مگر لاونج میں ہی رک گئی۔ سامنے دائم خوشی سے ایس کے سر پر بوسہ دے رہا تھا۔ ایک پل کو پلویشا کی مسکراہٹ سمٹی، مگر اگلے ہی پل وہ خوشی سے دوڑتے ہوئے دائم کے پاس پہنچی۔

“ڈیڈ، میں سیکنڈ آئی ہوں!” اس کے چہرے سے خوشی پھوٹ رہی تھی۔

“سیکنڈ؟ سیکنڈ کیوں آئی ہو، پلویشا؟” دائم نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“ڈیڈ، پچھلی دفعہ بھی تو سیکنڈ آئی تھی۔” پلویشا نے مسکراتے ہوئے کہا اور ان کے گلے لگنے کے لیے ہاتھ کھولنے ہی والے تھی کہ۔۔۔

“ایس سے سیکھو، وہ فرسٹ آئی ہے۔ آپ کی ہی کلاس فیلو ہے، کتنا اچھا پڑھتی ہے۔” دائم نے ساتھ ایس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

پلویشا کے بڑھے ہاتھوں کی طرف اس کا دھیان ہی نہیں گیا، البتہ پلویشا کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ ساری خوشی جھاگ کی طرح بیٹھتی چلی گئی۔

“پلویشا، نیکسٹ ٹائم آپ نے فرسٹ آنا ہے۔” انہوں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

تیرہ سالہ پلویشا نے دیکھا، دائم ہنستے ہوئے ایس کو گدگدی کر رہا تھا، اور وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔

پلویشا نے تھوک نگلتے ہوئے قدم اپنے کمرے کی جانب بڑھا دیے۔ آنکھوں میں یک دم ویرانی چھا گئی تھی۔

تب پہلی بار پلویشا دائم کے دل میں کچھ چھبا تھا، جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھی، لیکن اسے نا جانے کیوں بلا وجہ ہی ایس پر غصہ آیا۔

اس دن کے بعد سے وہ unconsciously خود کا اور ایس کا موازنہ کرنے لگی۔

وہ خاموش طبع تھی، دھیرے دھیرے بات کرتی تھی، پڑھائی میں بہت اچھی تھی اور بے حد ذہین تھی۔ ایک سال میں ہی اس کی بہت اچھی فرینڈز بن گئی تھی۔ دوسری جانب پلویشا بہت باتونی تھی، تیز تیز بے ربط جملے بولتی، وہ تھکتی نا تھی، ہاں البتہ پڑھائی میں وہ بہت تیز تھی۔ فرنینڈز کا تو پوچھو مت، ایک دو ماہ سے زیادہ اس کی فرینڈ ٹہرتی نہیں تھی۔

اس نے ایک ایک بات نوٹ کرنا شروع کر دی۔ دائم جب گھر آتا تھا، وہ اب سب سے پہلے ایس کو سر پر بوسہ دیتا تھا، بعد میں پلویشا کو۔ وہ سکول جاتے وقت ایس کو پلویشا کا خیال رکھنے کا کہتا تھا، اور اسے لگتا شاید ڈیڈ کو میں نا سمجھ لگتی ہوں۔ اور اس طرح وہ اب ایس سے کھینچا کھینچا رہنے لگی۔

ڈائننگ ٹیبل پر زیادہ تر ایس سے ہی بات کرتا، اور وہ حسرت بھری نظروں سے باپ کو اور اسے دیکھتی رہتی۔ وہ ایس کے لیے اٹھنے والے اپنے جزبات سے ناواقف تھی، مگر بہت جلد یہ اس پر عیاں ہونے والا تھا۔

اتوار کی صبح وہ دونوں لان میں ٹہری ٹینس کھیل رہی تھی کہ اچانک ہی ٹینس بال ایس کی آنکھ میں جا لگی۔

بال پلویشا نے پھینکی تھی، اس لیے وہ جلدی سے ہڑبڑا کر اس کی جانب بھاگتی آئی۔

“ایس، آئی ایم رئیلی سوری، میں نے جان کر نہیں کیا۔”

مگر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع ہو گئی۔ ایس کی رونے کی آواز سن کر دائم اور زونیرہ بھی باہر آگئے۔

“کیا ہوا ایس، میری جان؟” زونیرہ پریشانی سے ایس کی جانب بڑھی۔

“کیا کیا ہے تم نے؟” دائم نے برہم ہوتے ہوئے پلویش کو دیکھتے کہا اور ایس کو چپ کروانے لگا۔

“بہت شرارتی ہوتی جا رہی ہو تم!” دائم کیا بول رہا تھا؟

پلویش کو کچھ سمجھ نا آیا، روتی بلکتی ایس، ڈانتا ہوا دائم اور پریشان زونیرہ۔ یک دم اس کی آنکھوں میں آنسو جما ہونے لگے، اور یہاں سے پلویشا کے رونے کا آغاز ہوا۔

وہ روتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ دائم نے ایک نظر مڑ کر اندر کی طرف بھاگتی پلویش کو دیکھا اور دوبارہ سے ایس کی جانب متوجہ ہو گیا۔ کاش کہ وہ جانتے کہ اب پلویشا کئی بار اتنی ہی شدت سے رونے والی تھی۔

پلویشا نے سارا دن خود کو کمرے میں بند رکھا تھا۔ جب دائم کو احساس ہوا کہ رات ہونے کو آئی ہے اور وہ اب بھی کمرے سے باہر نہیں نکلی، تو انہوں نے خود اس کے کمرے کی جانب جانے کا سوچا۔

انہوں نے ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا تھا، اور وہ بیڈ پر لحاف کے اندر گھسی سوئی ہوئی تھی۔

دائم قدم قدم چلتا اس تک گیا اور اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ وہ لحاف کے اندر سسکیوں سے رو رہی تھی۔ دائم کو بے اختیار افسوس ہوا۔

“پلویشا۔۔۔”

روتی ہوئی پلویشا نے کوئی جواب نہ دیا۔

“بیٹا، روؤ نہیں، آپ تو میری جان ہو نا؟” اس نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔

روتی ہوئی پلویشا یک دم لحاف اتارتے اٹھ بیٹھی۔ پچھلے ایک سال سے وہ اس دائم کو شدت سے یاد کر رہی تھی۔ اب اس کی اتنی محبت دیکھ کر وہ اٹھ بیٹھی اور رونے میں مزید شدت آ گئی۔

دائم آگے بڑھا اور اسے خود سے لگا لیا۔

“آ۔۔۔ آپ۔۔۔ مج۔۔۔ مجھ سے اب۔۔۔ پی۔۔۔ مجھ سے اب۔۔۔ پیار نہیں کرتے!” وہ سسکیوں کے بیچ کہتی ایک بار پھر رو دی۔

“کس نے کہا میں پیار نہیں کرتا، پلویشا؟ میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔” انہوں نے اس کی پشت سہلاتے، پریشانی سے کہا۔ انہوں نے پہلی بار اسے اتنی شدت سے روتے دیکھا تھا۔

اس نے کچھ نہ کہا، وہ بس رو رہی تھی۔ اتنے عرصے کا غبار وہ اب ایک ہی بار نکال لینا چاہتی تھی۔

“بیٹا، پلیز چپ ہو جاؤ۔”

“مجھے رونا آ رہا ہے، ڈیڈ، آپ کی وجہ سے۔” چودہ سالہ پلویشا کے لہجہ میں درد نپہاں تھا۔ وہ چپ ہو گیا۔ اس نے اسے بولنے دیا۔

“آپ نے مجھے ڈانٹا ہے۔ آپ اب مجھ سے پیار نہیں کرتے ہیں۔ آپ ایس سے پیار کرتے ہیں۔” وہ ایک بار پھر رو دی۔

دائم نے اپنی پیشانی سہلائی۔ اسے رونے کی آواز سے کوفت ہونے لگی تھی۔

“آپ کو وہ اچھی لگتی ہے، میں نہیں۔ آپ برے ڈیڈ ہیں۔”

“آپ ن۔۔۔”

“بیٹا، میں آپ دونوں سے محبت کرتا ہوں۔ یہ سب بری باتیں اپنے دماغ سے نکال دو۔”

“تو پھر آپ ہر وقت صرف ایس، ایس کیوں کرتے رہتے ہیں آپ؟ آپ ہمیشہ ایس کو مجھ سے پہلے رکھتے ہیں!” اس نے شکوہ کیا۔

اب تک اس نے ڈیڈ کے بنا زندگی گزاری تھی، پلویشا، اسے محبت کی ضرورت ہے۔

ان کی بات پر وہ رکی، پھر جب بولی تو آواز درد بھری تھی، “اس کا مطلب جن کے۔۔۔ جن کے ڈیڈ مر جاتے ہیں، وہ دوسروں کے ڈیڈ کو چھین لیتے ہیں۔”

“پلویشا، واٹ ربش!” دائم کو غصہ آیا۔ “یہ کیسی باتیں کر رہی ہو، وہ بہن ہے تمہاری!”

“میں نئی مانتی اسے بہن۔ وہ بری ہے۔ آپ اس کی وجہ سے مجھ پر غصہ کرتے ہیں!” وہ ضدی انداز میں کہتی دوبارہ رونا شروع ہو گئی۔

دائم نے افسوس سے اسے دیکھا۔ وہ کتنی پیاری، کتنی معصوم ہے پلویشا! تم بلا وجہ اس سے حسد کیوں کر رہی ہو؟

پلویشا ساکت ہوئی۔ جبکہ دائم نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔ وہ بے اختیار کنپٹی مسلتے اٹھا۔ اسے سر میں بے حد درد محسوس ہو رہا تھا۔ وہ بنا اس ساکت بیٹھی لڑکی کو دیکھے کمرے سے باہر نکل گیا۔

کافی دیر تک وہ یوں ہی بے حس و حرکت بیڈ پر بیٹھی رہی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کے لب ہلے۔

حسد۔

اس کی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوتی تھی۔ اسے سب بھول گیا، یاد رہ گیا تو صرف یہ کہ۔۔۔

وہ ایس سے حسد کرنے لگی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب وہ چپ چپ رہنے لگی تھی۔ دائم کے آفس کا کام بڑھ گیا تھا، اس لیے وہ بہت مصروف ہو گیا اور پلویشا سے دھیان تقریباً ہٹ ہی گیا۔ ہاں، البتہ پلویشا بھی اب دانستہ طور پر دائم سے دور رہنے لگی تھی۔ وہ اس کے سامنے آنے سے گریز کرتی، خود کو اس کی نگاہوں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کرتی۔

دائم کو ایس کے ساتھ دیکھتے ہی اس کی آنکھیں خود بخود نم ہو جاتیں۔ دل میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے وہ جان بوجھ کر کلاس میں کسی سے الجھ جاتی اور سامنے والے کو زخمی کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹتی تھی۔

کبھی کبھی وہ اپنے لیے ایس کی محبت دیکھ کر خود سے سوال کرتی کہ وہ کیسے اتنی پیاری لڑکی سے حسد کر سکتی ہے؟ مگر شاید یہ سب اس کے نصیب میں ہی لکھا تھا۔

بریک ٹائم میں وہ گراؤنڈ کے ایک طرف رکھی بینچ پر بیٹھی ڈرائنگ کر رہی تھی۔ چمکتی دھوپ میں اس کے بھورے بال سنہری دکھ رہے تھے۔

“ہاہاہاہا!”

وہ جو اپنی نوٹ بک پر جھکی ہوئی تھی، یک دم ساتھ سے قہقہوں کی آواز بلند ہوئی۔ اس نے رخ موڑ کر دیکھا—وہی تھی۔ دوستوں کے گروپ میں گھری، ایس دائم شاہ۔

پندرہ سالہ پلویشا پچھلے دو سالوں سے اسے اسی طرح دیکھ رہی تھی۔ ایس کے دوست بہت جلد بن جاتے تھے، وہ خوش مزاج تھی، آدھا اسکول اس کا دیوانہ تھا۔

کبھی کبھی اسے یوں دیکھتے ہوئے پلویشا شدت سے سوچتی:

میرے ساتھ لوگ زیادہ عرصہ کیوں نہیں رہ پاتے؟

اور اگر رہتے بھی ہیں تو میں ہمیشہ ان کا دوسرا آپشن ہی کیوں ہوتی ہوں؟

وہ اسے یوں ہی دیکھ رہی تھی کہ کب کوئی اس کے پاس آ کر بیٹھا—وہ جسے ہر انسان، ہر وقت، ہر لمحہ محسوس کرتا ہے، سن سکتا ہے:

“آپ کا اِنر سیلف۔”

“کیا دیکھ رہی ہو؟”

یہ آواز سنتے ہی وہ گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔

“کچھ نہیں۔”

اتنا کہہ کر وہ دوبارہ اپنی ڈرائنگ میں مگن ہو گئی۔ سفید کورے کاغذ پر پہلے ہلکے سیاہ رنگ سے طوفانی جھکڑ بنے تھے، اور اب وہ پورا کاغذ گہرے سیاہ رنگ سے بھر رہی تھی۔ وہ ایک عجیب، بے ترتیب سی ڈرائنگ تھی۔

“ارے ایس! واو!”

ایک چہچاتی ہوئی لڑکی کی آواز بلند ہوئی۔

پلویشا نے دھیرے سے رخ موڑا۔ آنکھوں میں نمی بھرنے لگی۔ وہ وہی لڑکی تھی جس سے پلویشا کی تین سال پرانی دوستی تھی—اور اب وہ ایس کے ساتھ تھی۔

“تم اسے اتنا کیوں گھور رہی ہو؟”

“تمہارا مسئلہ کیا ہے؟”

پلویشا یک دم غصے سے بولی۔

“مجھے ڈسٹرب مت کرو، اور یہاں سے جاؤ!”

“دیکھو وہ کتنی خوش ہے، برباد تو تم ہو گئی ہو۔”

پلویشا خاموش رہی۔

“اس نے تم سے سب چھین لیا ہے۔ سب۔ تم سے تمہارا باپ بھی، دوست بھی۔ اسے مر جانا چاہیے نا؟”

پلویشا کے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی۔ ضبط جواب دینے کو تھا۔

“ایس کو مار دو… وہ زندہ ن—”

“میں تمہیں جان سے مار دوں گی!”

وہ پوری شدت سے چلائی۔

“کیوں میرے دماغ میں گھستے ہو؟ مجھے اکیلا چھوڑ دو!”

وہ کھڑی ہو کر خود سے ہی چیخ رہی تھی۔ گراؤنڈ میں موجود سب لوگ حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔

“میں ایسی نہیں ہوں، سمجھے؟ میں تمہیں مار دوں گی! دفعہ ہو جاؤ! میرے پاس مت آ—”

وہ یک دم رک گئی۔ کسی خطرے کا احساس ہوا۔

اس نے تھوک نگلا، اردگرد دیکھا۔ سب اسے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کوئی عجیب مخلوق ہو۔ اس نے ضبط سے آنکھیں میچیں، آنسو اندر دھکیلے اور چند گہرے سانس لے کر اگلے ہی لمحے لوگوں کے بیچ سے گزرتی ہوئی وہاں سے فوراً چلی گئی۔

آج ایس اسکول نہیں آئی تھی۔ پلویشا اکیلی آئی تو کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔ جو بھی اسٹوڈنٹ اسے دیکھتا، دوسرے سے چہ مگوئیاں کرنے لگتا۔ کچھ لوگ اپنے فون میں لگی کسی ویڈیو کو دیکھ رہے تھے۔

وہ سب کو نظر انداز کرتی آگے بڑھتی گئی، مگر دل میں خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔ بڑے اسکولوں میں ایسی شرارتیں عام تھیں، وہ روز دیکھتی تھی—مگر آج کچھ مختلف لگ رہا تھا۔

وہ بظاہر لا تعلق سی کلاس کی طرف جا رہی تھی کہ اچانک اسے دھچکا لگا۔ اس کا خدشہ درست نکلا۔

کاریڈور میں جگہ جگہ پوسٹر لگے تھے۔

گراؤنڈ کے منظر میں، غصے سے لال چہرہ لیے پلویشا اکیلی کھڑی چیخ رہی تھی، اور ساتھ لال رنگ سے بڑے بڑے حروف میں لکھا تھا:

“Hashtag Psycho”

وہ غصے کو ضبط کرتی آگے بڑھی اور ایک ایک کر کے سارے پوسٹر نوچ ڈالے۔

اسٹوڈنٹس قہقہے لگانے لگے۔

ان ناگوار قہقہوں پر وہ مڑی اور غرائی:

“کس نے کیا ہے یہ؟”

کاریڈور میں خاموشی چھا گئی۔

“میں نے پوچھا، کس نے کیا ہے یہ؟!”

اس بار اس کی آواز اور بلند تھی۔

تب جونئیر کلاس کا ایک لڑکا آگے آیا۔

“لوئس نے کیا ہے۔”

یہ وہی تھا جسے پلویشا پہلے بری طرح پیٹ چکی تھی۔ نام سنتے ہی اس کی آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھے۔ وہ تیز قدموں سے کلاس کی طرف بڑھی اور دروازہ جھٹک کر اندر داخل ہوئی۔

ساری کلاس اس کے تیور دیکھ کر ساکت ہو گئی، مگر وہ سب کو نظر انداز کرتی آخری بینچ تک پہنچی، جہاں لوئس اور اس کے دوست موبائل میں گھسے قہقہے لگا رہے تھے۔

اس نے دیکھا—اسکرین پر وہی ویڈیو چل رہی تھی، جس میں وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی۔

اس نے لوئس کے ہاتھ سے موبائل جھپٹا۔ دونوں لڑکے گھبرا کر پیچھے ہٹ گئے۔

“یہ کیا بکواس ہے؟!”

وہ غرائی، اور لوئس کو موقع دیے بغیر اس کے منہ پر زور دار تھپڑ رسید کیا۔

کلاس میں سناٹا چھا گیا۔ لوئس بھی دنگ رہ گیا۔

“واٹ ربش، یو—”

وہ گالی دیتے ہوئے آگے بڑھا ہی تھا کہ پلویشا نے پوری شدت سے موبائل اس کے سر پر دے مارا۔

وہ لڑکھڑایا، آنکھ کے اوپر ہاتھ رکھ کر کراہا۔ پلویشا نے آگے بڑھ کر ایک اور چانٹا جڑ دیا۔

“لعنت ہو تم پر، اور تمہارے کردار پر، گھٹیا انسان!”

وہ اس کا گریبان پکڑ کر غرائی اور اسے زور سے پیچھے جھٹکا دیا۔

لوئس توازن کھو کر نیچے گرا، اور پلویشا نے اس کے پیٹ میں پوری قوت سے پاؤں رسید کیا۔ پھر وہ بغیر پیچھے دیکھے مڑ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر طرف پھیلتا اندھیرا اس کے اندر کے اندھیرے کے مقابلے میں بہت کم تھا۔

وہ خاموشی سے چل رہی تھی—

بیگ ہاتھ میں لٹکائے، ڈھیلی سی پونی باندھے، اور تھکے ہوئے قدموں کے ساتھ۔

اسکول سے نکل کر وہ کب سے یوں ہی سڑکوں پر بھٹک رہی تھی۔

اسے شدت سے رونا آ رہا تھا۔

غصہ بھی۔

اذیت سے اس کے دل پر ایک گہرا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا تھا۔

وہ کیا بنتی جا رہی تھی؟

کیا وہ واقعی پاگل ہو رہی تھی؟

یا پھر وہ حسد کی آگ میں جل رہی تھی؟

اس کے اندر گردش کرتے یہ سوالات اسے ذہنی طور پر نڈھال کر رہے تھے۔

وہ بڑی مشکل سے خود کو روکتی تھی، مگر اب سب کی خوشیاں اسے چھبنے لگی تھیں۔

ایس سے نفرت اور حسد کا احساس دل میں بڑھ رہا تھا، اور یہ آگاہی اسے خنجر کی مانند چیر رہی تھی۔

اسے بس سکون چاہیے تھا۔

اسے سونا تھا۔

گھر کا مین ڈور کراس کرتے ہوئے یہی سوچ رہی تھی،

مگر جیسے ہی لاونج میں داخل ہوئی، ٹھٹک کر رہ گئی۔

سینئر صوفے پر بیٹھا دائم،

اور بائیں جانب بیٹھی زونیرہ اور ایس۔

وہ سب شاید اس کی واپسی کے منتظر ہی تھے۔

پلویشا نے گہرا سانس بھرتے ہوئے، انہیں نظر انداز کیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی۔

دائم کی آواز نے اسے روک دیا:

“خبردار، اگر تم یہاں سے گئی!”

وہ مڑی،

اور تھکے ہوئے ذہن کے ساتھ اپنے قدم باپ کی جانب بڑھائے،

کچھ فاصلے پر جا کر ٹھہر گئی۔

“کہاں تھی اب تک؟”

دائم نے اپنا لہجہ نرم رکھا۔

“کہیں نہیں…”

(تم حسد کیوں کرنے لگی ہو؟)

سرگوشی کی مانند سنائی دی۔

“پلویشا، میں نے پوچھا ہے… کہاں تھی اب تک؟”

دائم نے زور دے کر پوچھا۔

پلویشا خاموش رہی۔

آنکھوں میں نمی جمتی چلی گئی۔

وہ کیا بتاتی؟ کہ سڑکوں پر بھٹکنا اس کا طریقہ تھا اپنے اندر کے شر سے بچنے کا۔

“ڈیڈ… مجھے نیند آ رہی ہے۔ پلیز، کل بات کریں گے…”

مسلسل سنائی دینے والی سرگوشیاں اسے اذیت دے رہی تھیں۔

“ابھی بات ہو گی۔

بتاؤ، آج اسکول میں کیا ہوا تھا؟

ویسے تو تمہارے پرنسپل سے ساری بات پوچھ چکا ہوں،

مگر تمہارے منہ سے سننا چاہوں گا۔”

“ڈیڈ، پلیز… ابھی میں بہت تھک گئی ہوں…”

پلویشا تھکن سے چور لہجے میں بولی، تو دائم کو غصہ آ گیا۔

“میں کوئی بکواس کر رہا ہوں، پلویشا؟”

دائم نے دھاڑا۔

پلویشا کے سر میں جیسے دھماکے ہونے لگے۔

دائم اب بھی کچھ کہہ رہا تھا، مگر وہ کچھ اور ہی سن رہی تھی۔

(دیکھو، حسد لوگ پر سب غصہ کرتے ہیں…)

(ایس کو دیکھو، وہ کتنی پیاری ہے… تم کیوں—)

(یہ سب ایس کی وجہ سے ہوا ہے…)

“کیا مسئلہ ہے؟

میں تمہاری جان لے لوں گی!

دفعہ ہو جاؤ یہاں سے!”

پلویشا یک دم سر تھام کر پوری شدت سے چلائی۔

“نہیں ہوں میں ایسی، سمجھے؟

میں جان لے لوں گی تمہاری!

سنا تم نے میں—”

وہ جو چیخ رہی تھی، یک دم رک گئی۔

پورے لاونج میں سناٹا چھا گیا۔

تینوں حیرت اور گونگے پن کے عالم میں اسے دیکھ رہے تھے—

جو نہ جانے کس سے مخاطب تھی۔

پلویشا کے گلے میں گلٹی ابھری اور پھر معدوم ہو گئی۔

وہ لب بھینچ کر رہ گئی۔

“م… میری طبیعت ٹھیک نہیں…

مج… مجھے نیند آ رہی ہے…”

پلویشا خفت سے چہرہ جھکائے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی،

اور اپنے پیچھے تین ساکت وجود چھوڑ گئی۔

اس رات کے بعد سے دائم، زونیرہ اور ایس نے محسوس کیا کہ وہ گم سم سی رہنے لگی ہے۔

اکیلی بیٹھے بیٹھے الجھن کا شکار ہو جاتی۔

پڑھائی جیسے محض سرسری رہ گئی تھی۔

چھوٹی چھوٹی باتوں پر تلخ ہو جاتی۔

ایس سے اس نے میل جول کم کر دیا تھا۔

دائم کو اپنی بیٹی کی حالت بری طرح پریشان کر رہی تھی۔

ایک ہی سال میں تین مرتبہ اسکول کے پرنسپل انہیں بلا چکے تھے۔

پلویشا نے تینوں بار لڑکوں کو بری طرح مارا تھا۔

کبھی بیٹھے بیٹھے کلاس میں چیخنا شروع کر دیتی تھی۔

پورے اسکول میں وہ “پاگل” کے نام سے مشہور ہو چکی تھی۔

ماہر نفسیات کے پاس لے جانے کے بعد بھی، پلویشا نے وہ واویلہ کیا کہ حد ہی نہیں رہی۔

وہ تو الجھ کر رہ گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی ابھی اس کے اسکول سے واپس آئے تھے۔

پلویشا کو اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔

آج اس نے کلاس میں بیٹھے بیٹھے اپنی ڈیسک کا تختہ اٹھا کر پوری قوت سے پھینک دیا تھا،

جو ساتھ بیٹھی لڑکی کے بازو پر جا لگا۔

پورا اسکول اس سے تنگ آ چکا تھا۔

تھکے ہوئے قدموں سے وہ لاونج میں داخل ہوئے تو سامنے صوفے پر بیٹھی زونیرہ کو دیکھ کر ٹھٹک گئے۔

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے فرش کو گھور رہی تھی۔

اس کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا،

اور اس کے کانوں میں اوپر سے آنے والی چیخوں کی آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں—

ایسی آوازیں جو کسی کو بھی بے چین کر دیں۔

دائم نے زونیرہ کو دیکھا،

اوپر پلویشا کی ہذیانی چیخیں سنیں،

اور بے بسی سے سر جھٹک کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے۔

اوپر پہنچ کر وہ بند دروازے کے سامنے رک گئے۔

“بیٹا، پلیز دروازہ کھولو…دیکھو، میں ہوں… صرف بابا…

پلیز، بیٹا…”

“میں خود کو برباد کر دوں گی! میں آگ لگا دوں گی!

میں کہہ رہی ہوں، میں خود کو مار دوں گی!”

وہ اندر ہذیانی انداز میں چیختے ہوئے چیزیں توڑ رہی تھی۔

“پلیز، ایک بار دروازہ کھول دو…مجھے پریشان مت کرو…

پلیز، میری جان…”

“میں مار دوں گی!مجھے مر جانا چاہیے!مجھے نفرت ہے آپ سے…سب سے…سارے جہاں سے…اپنے وجود سے!”

اندر سے چیزوں کے ٹوٹنے کی آوازیں اور اس کی چیخیں مسلسل آ رہی تھیں۔

دروازے پر کھڑا وہ بے بس شخص شکستہ قدموں سے پلٹا،ریلنگ تک آیااور نیچے بیٹھی اپنی بیوی کو دیکھا۔

اسی لمحے زونیرہ نے چہرہ اٹھا کر اوپر کی جانب دیکھا۔

“اب یا تو اس گھر میں میں رہوں گی،یا وہ تمہاری سائیکو، جاہل بیٹی!”

نفرت سے کہہ کر وہ اٹھی اور ایک طرف بنے اپنے کمرے میں گھس گئی۔

دروازہ زور سے بند ہوا۔

ریلنگ سے جھانکتے اس شخص نے تھک کر سر جھٹکا،

بند دروازے پر آخری نظر ڈالی،

اور آہستہ آہستہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

کچھ دیر بعد، بند دروازے کے پار سے آوازیں خاموش ہو چکی تھیں۔

اگر کمرے کی درز سے جھانکا جائے،

تو جو منظر نظر آئے—

وہ ایک لمحے کو سانس روک دے۔

وہ درہم برہم کمرے میں بیڈ کے کنارے بیٹھی کانپ رہی تھی۔

شدید کپکپاہٹ اس کے پورے وجود میں سرایت کر چکی تھی۔

ہر طرف شیشے بکھرے تھے،

سارا سامان ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا،

اور وہ محض سولہ سالہ لڑکی—

جس کی کلائیوں سے مسلسل خون بہہ رہا تھا،گردن پر بھی گہرے زخم تھے،فرش پر جگہ جگہ خون کے دھبے پھیلے ہوئے تھے—وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جکڑے، گھٹنے سینے سے لگائے، سامنے ایک غیر مرئی نقطے کو گھورتی جا رہی تھی۔

لب مسلسل ہل رہے تھے—

“میں ایسی نہیں ہوں…”

“مجھے مر جانا چاہیے…”

“میں اسی قابل ہوں…”

“کوئی میرا نہیں ہے…”

وہ مایوسی کی اتھاہ گہرائی میں ڈوب رہی تھی—

اور مایوسی…

کیا کھبی کسی کو سکون دے پائی ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زونیرہ نے پچھلے پانچ دنوں سے دائم سے بات نہیں کی تھی۔

گھر میں جیسے مکمل سکوت چھا گیا تھا۔

ڈائننگ ٹیبل پر اب کوئی اکٹھا کھانا نہیں کھاتا تھا۔

دائم، زونیرہ اور پلویشا تینوں اپنے اپنے کمروں میں کھانا کھاتے تھے،جبکہ ایس ایک ہفتے سے دوستوں کے ساتھ ٹرپ پر گئی ہوئی تھی—

جو آج ہی گھر لوٹی تھی۔

اس کے آتے ہی جیسے گھر میں اچانک رونق لوٹ آئی تھی۔

لاونج میں بیٹھے دائم اور زونیرہ، بیٹی کو دیکھتے ہی خوش ہو گئے تھے۔

وہ تینوں لاونج میں بیٹھے قہقہے لگاتے رہے،

ایس کی باتیں سنتے رہے—

اور اوپر ریلنگ کے ساتھ کھڑی پلویشا، سانس روکے، یہ منظر دیکھتی رہی۔

“ایس۔”

ایک خوبصورت، ذہین اور مکمل لڑکی۔

دائم اسے دیکھتے ہی خوش ہو جاتا تھا۔

اس کی ماں اس سے بے انتہا پیار کرتی تھی۔

پلویشا نے حسرت بھری نظروں سے اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے سوچا۔

کوئی وقت تھا جب یہاں،

پیاری سی چھوٹی سی بچی کے سامنے بیٹھے اس مرد کے ساتھ قہقہے بلند ہوا کرتے تھے—

اور آج؟

آج اس کی جگہ اس لڑکی نے لے لی تھی۔

وہ کتنی آسانی سے ریپلیس کر دی گئی تھی، نا؟

اور اس سب کی ذمہ دار اس وقت کون تھی؟

ہاں… وہی ذمہ دار ہے۔

میری حالت کی۔

میرے زخموں کی۔

“میں اسے مار دوں گی۔ ختم کر دوں گی اسے۔”

پلویشا نے آنسو بہاتے ہوئے یہ سوچا،

اور خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدھی رات کا وقت تھا۔

دائم پانی پینے کی غرض سے کچن آیا تھا،

مگر جب وہ اپنے کمرے کی طرف واپس جا رہا تھا تو اچانک کسی چیز کے زور سے گرنے کی آواز آئی۔

وہ چونک گیا،

کیونکہ آواز ایس کے کمرے سے آئی تھی۔

وہ پریشانی کے عالم میں سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

ایس کا کمرہ پلویشا کے کمرے کے بالکل ساتھ تھا۔

جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا گیا،

دبی دبی چیخیں تیز ہوتی گئیں،

اور اس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔

نا جانے کیوں، اسے اپنے چاروں طرف خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہو رہی تھیں۔

بمشکل کانپتے ہاتھوں سے اس نے ایس کے کمرے کا دروازہ کھولا،

تو وہ دھک سے رہ گیا۔

دائم کو دیکھتے ہی، بیڈ پر لیٹی ایس کے منہ پر تکیہ دبائے کھڑی پلویشا کا خون سفید ہو گیا۔

خوف سے اس کا دل پھٹنے کے قریب آ پہنچا۔

وہ بے اختیار پیچھے ہٹی،

اور ایس کھانستے ہوئے اٹھ بیٹھی، پھر بھاگ کر بیڈ سے دور جا کھڑی ہوئی۔

“ی… یہ… یہ کیا کر رہی تھی تم؟”

دائم کی آواز سرسرا گئی۔

اسے خود اپنا دل بند ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔

پلویشا لب کاٹنے لگی۔

اس کا پورا وجود لرز رہا تھا۔

وہ کچھ بھی پروسس کرنے کے قابل نہیں رہی تھی۔

“میں نے پوچھا، کیا کر رہی تھی تم؟”

اچانک دائم دھاڑا—

اتنی زور سے کہ پلویشا خوف کے مارے پیچھے دیوار سے جا لگی۔

دائم نے اس پر لعنت بھیجتے ہوئے ایس کی طرف قدم بڑھائے،

جو خوف کے مارے پلویشا کی دوسری جانب والی دیوار سے لگی کھانس رہی تھی۔

پلویشا کا دل خوف سے پھٹنے کے قریب تھا۔

اس کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں،

اور سامنے کا منظر دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو بھر آئے۔

دائم ایس کو خود سے لگائے، اسے تسلی دے رہا تھا،

کہ اسی لمحے پریشان سی زونیرہ بھی وہاں آ پہنچی۔

“کیا ہوا ہے؟

پلویشا، ایس… تم دونوں رو کیوں رہی ہو؟”

وہ دونوں کو دیکھتی، پریشانی سے بولی۔

“مام… پلویشا نے مجھے جان سے مارنے کی کوشش کی ہے!”

ایس، دائم سے الگ ہو کر، زونیرہ کی طرف بڑھی

اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔

جہاں زونیرہ کے اندر غصے کی ایک تیز لہر دوڑی،

وہیں پلویشا کو شدید دھچکا لگا۔

“م… میں… نے نہیں مارا کسی کو…”

دائم نے حیرت سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔

“دیکھ لیا ہے اپنی پاگل بیٹی کو، دائم؟

آج وہ میری بیٹی کو قتل کرنے لگی تھی!”

“ڈیڈ، ٹرسٹ… ٹرسٹ آن می…”

وہ روتے ہوئے آگے بڑھی۔

“میں نے نہیں مارا…

پتہ نہیں کیسے ہو گیا…”

“دائم، میں کہہ رہی ہوں،

اپنی اس پاگل کا علاج کرواؤ!”

پلویشا کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔

سانسیں اس کے سینے میں اٹکنے لگی تھیں،

وہ روتے ہوئے، باپ کے سامنے، اپنی صفائی پیش کر رہی تھی۔

اس نے دائم کے بازو کو حسرت سے تھام لیا

اور چہرہ اس کی طرف اٹھایا۔

“م… مجھے… مجھے ڈر لگ رہا ہے، ڈیڈ…

میں نے کچھ… کچھ نہیں کیا…”

دائم نے افسوس سے اسے دیکھا۔

“میں ایسا… میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں؟

م… تو… میں تو آپ کی پلویشا ہوں نا؟”

پلویشا رو دی۔

اس کا پورا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔

دائم کی نظروں میں اسے

حقارت اور افسوس کے سوا کچھ نظر نہ آیا،

اور زونیرہ کے منہ سے نکلا لفظ “پاگل”

اس پر ہتھوڑے کی طرح برسا۔

اس پر بے ہوشی طاری ہونے لگی۔

“ڈ… ڈیڈ… پلیز، میرا یقین کریں…

میں نے جان بوجھ کر… نہیں…”

اسے شدید چکر آنے لگے تھے۔

دائم نے خاموشی سے اپنا بازو پلویشا سے چھڑا لیا۔

بازو کا چھوٹنا تھا کہ جس سہارے پر وہ کھڑی تھی، وہی ختم ہو گیا—

اور پلویشا زمین پر دھڑام سے گر پڑی۔

زمینی سہارے لینے والوں کہ جب وہی سہارے ہی نہ رہیں…..

انہیں زمین پر گرنے سے بھلا کون روک سکتا ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے دھیرے سے آنکھیں وا کیں تو نظریں سفید، بے داغ چھت سے ٹکرائیں۔

پلکوں پر بوجھ سا محسوس ہو رہا تھا، مگر اس نے ہمت کر کے سر تھامتے ہوئے خود کو اٹھایا۔ اس کا سر بھی بھاری بھاری سا ہو رہا تھا۔

اس نے ادھر اُدھر دیکھا—یہ کمرہ اسے بالکل اجنبی لگا۔

ایک طرف رکھی الماری، اس کے ساتھ سجا ہوا ڈریسنگ ٹیبل، دائیں جانب بنا واش روم اور… اور بس۔

ایک بیڈ تھا، جس پر وہ اس وقت بیٹھی حیرت سے ہر سمت چہرہ گھمائے دیکھ رہی تھی۔

اس نے بیڈ سے اٹھنا چاہا، مگر نظر اپنے دائیں ہاتھ پر لگی ڈرِپ پر جا ٹھہری، پھر اپنے ہلکے نیلے لباس پر گئی—اور تب اسے سمجھ آیا کہ وہ کہاں ہے۔

وہ ہسپتال میں تھی۔

اس نے گہرا سانس لیا، ڈرِپ اتاری اور قدم نیچے ٹھنڈے فرش پر رکھتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

لکڑی کا گہرے بھورے رنگ کا دروازہ کھول کر وہ باہر آئی تو دنگ رہ گئی۔

سامنے گرِل تھی، اور دائیں بائیں لمبی راہداریاں—جن میں اس وقت اس کی عمر کی بہت سی لڑکیاں، ہلکا نیلا لباس پہنے، اِدھر اُدھر گھوم رہی تھیں۔

کوئی گم سم سی حالت میں بیٹھی تھی، تو کوئی بلا وجہ دھاڑیں مار رہی تھی۔

اچانک اسے ان سب سے ایک وحشت سی ہونے لگی۔

وہ تھوک نگلتے ہوئے آگے بڑھی کہ یک دم ایک لڑکی اچھل کر اس کے قریب آئی، اسے بغور دیکھا اور خاموشی سے پلٹ گئی۔

یہ سب کچھ حد درجہ عجیب لگ رہا تھا۔

یہ کیسا انوکھا ہسپتال تھا؟

وہ ڈاکٹر کی تلاش میں ادھر اُدھر دیکھتی راہداری پار کر کے ہال کی جانب آئی۔

وہاں بھی ہلکے نیلے لباس میں ملبوس بے شمار عورتیں موجود تھیں۔

وہ ان سب کا جائزہ لیتی آگے بڑھ رہی تھی کہ اچانک رُک گئی۔

اس کی نظریں سامنے دیوار پر جا ٹھہریں، اور اسے یوں لگا جیسے وہ دوبارہ کبھی سانس نہ لے پائے گی۔

اس نے شدت سے دعا کی کہ کاش یہ محض اس کا گماں ہو، مگر سامنے دیوار پر لگے بڑے سے پینا فلیکس پوسٹر پر درج الفاظ حقیقت کا ایسا تمانچہ تھے جو اس کے چہرے پر بے دردی سے آ لگا۔

“ Riverview Mental Health Hospital”

وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے بس اسے دیکھتی رہ گئی۔

“آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں؟”

اچانک اس کے قریب سے ایک نسوانی آواز سنائی دی۔

اس نے چہرہ موڑ کر سامنے دیکھا۔

“یہ… یہ کون… کون سا… ہا… ہاسپیٹل ہے؟”

وہ خوف زدہ لہجے میں پوسٹر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سامنے کھڑی نرس سے بولی۔

“مینٹل ہیلتھ ہسپتال،”

نرس نے شائستگی سے جواب دیا اور مسکرا کر اس کے قریب آ گئی۔

“آپ کو آرام کی ضرورت ہے، آئیے ابھی اپنے روم میں چلتے ہیں۔”

“مجھے نہیں کرنا آرام!”

پلویشا بدک کر پیچھے ہوئی۔

“نہ ہی مجھے یہاں رہنا ہے۔ م… میں جا رہی ہوں!”

وہ مین ڈور کی طرف بڑھی، مگر اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھ پاتی، نرس اس کا بازو تھام چکی تھی۔

“پلیز، آپ کو ابھی آرام کی—”

“میں کہہ رہی ہوں نا کہ مجھے آرام نہیں کرنا! چھوڑو مجھے!”

پلویشا برہمی سے بازو چھڑوانے لگی۔

خوف سے اس کے اعصاب جواب دینے لگے تھے۔

“میں نے کہا چھوڑو مجھے! آپ کیوں ضد کر رہی ہیں؟”

نرس انتہا درجے کی ڈھیٹ ثابت ہو رہی تھی۔

اس سے پہلے کہ پلویشا کچھ کہہ پاتی، اس نے دیکھا کہ دو دیو ہیکل عورتیں اس کے سامنے آ کر رک گئی ہیں ۔ سخت تاثرات والی وہ دونوں سفید فام عورتیں کسی پر بھی وحشت طاری کر سکتیں تھیں ۔ 

اسے اپنا خون منجمد ہوتا محسوس ہوا۔

اس نے منت بھری نظروں سے نرس کو دیکھا۔

“م… مجھے جانے دو… میں پاگل… میں پاگل نہیں ہوں… میرا یقین کرو…”

وہ رو پڑی۔

مگر وہ دونوں عورتیں آگے بڑھیں اور ایک ایک ہاتھ سے اسے مضبوطی سے تھام لیا۔

پلویشا کے اندر سنسنی سی دوڑ گئی۔

“مجھے چھوڑو! پلیز!”

وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اب چیخ رہی تھی، جبکہ وہ دونوں اسے گھسیٹتی ہوئی روم نمبر گیارہ کی جانب لے جا رہی تھیں۔

پلویشا بار بار مڑ کر کبھی نرس کو دیکھ کر چیختی، تو کبھی پوری قوت سے زور آزمائی کرنے لگتی۔

پورے ہال میں اس کی دل خراش چیخیں گونج رہی تھیں۔

“میں پاگل نہیں ہوں…”

“مجھے جانے دو…”

وہ اسے زبردستی اس کے کمرے میں لے آئیں اور بیڈ پر بٹھا دیا۔

وہ اب ان کی منتیں کرنے لگی تھی، مگر ایک عورت انجیکشن تیار کرنے لگی، جبکہ دوسری اس کے دونوں ہاتھ مضبوطی سے تھامے کھڑی تھی، اس کے تمام راستے مسدود کیے ہوئے۔

“میرے ڈیڈ کو بلاؤ! سنا نہیں تم نے؟”

پلویشا شدتِ غم سے چیخی۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ خوف سے ٹوٹے، درد سہے یا غم میں ڈوب جائے—وہ ہر طرف سے گھری ہوئی تھی۔

“کیا تم مجھے تھوڑی سی کاٹن دے سکتی ہو؟”

انجیکشن بھرتی عورت نے دوسری سے کہا۔

دوسری عورت نے جیسے ہی پلویشا کا ہاتھ چھوڑا اور پیچھے ہٹی، پلویشا نے موقع غنیمت جانا اور فوراً دروازے کی طرف لپکی۔

“کوئی ہے؟ ڈاکٹر! ڈاکٹر! “

وہ ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی پوری لابی میں بھاگ رہی تھی کہ اچانک ایک عورت اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

“مجھے یہاں کے ڈاکٹر کے پاس لے چلیے…”

اس نے امید بھری نظروں سے عورت کو دیکھا۔

“آپ جلد ان سے مل لیں گی، مگر ابھی آپ کی دوا کا وقت ہے،”عورت نے اتنا کہا ہی تھا کہ وہ دونوں عورتیں دوبارہ اس کے سر پر آن پہنچی تھیں۔

“م… میں کہہ تو… کہہ تو رہی ہوں… میں پاگل—”

پلویشا آگے کچھ نہ کہہ سکی۔

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ کیا کرے ۔ وہ اسے دوبارہ واپس سے اسی قید میں لے کر جا رہیں تھی اور اس کے پاس سوائے قید میں رہنے کے کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا ۔ 

پوری لابی میں اس کے رونے کی آواز گونجنے لگی۔

اس کی آواز میں ہر وہ جذبہ تھا جو ایک بے بس انسان کی آواز میں ہوا کرتا ہے۔

آٹھ گھنٹے پہلے ۔ 

دائم نے پریشانی سے زمین بوس ہوئی پلویشا کو دیکھا اور اگلے ہی پل اسے بازوں میں اٹھائے ہسپتال پہنچا تھا ۔ ایس اور زونیرہ بھی دائم کے ساتھ ہی آئی تھیں ۔ اور اس وقت دائم وارڈ میں کھڑا کھبی پریشانی سے بے سدھ لیٹی پلویشا کو دیکھتا تو کھبی اس کا معائنہ کرتے ڈاکٹر کو ۔ 

“مسٹر دائم! آپ میرے ساتھ آئے۔” ڈاکٹر سٹیفرڈ نے ششتہ انگریزی میں بولتے دائم کو اپنے ساتھ آنے کا کہا ۔ وہ دونوں ساتھ میں ہی ان کے آفس میں داخل ہوئے ۔ 

“یہ لیجیے۔” ڈاکٹر سٹیفرڈ نے دائم کے سامنے پانی کا گلاس رکھتے ہوئے کہا اور اپنی نشست پر بر اجمان ہوئے ۔ 

دائم کرسی پر آگے کو ہو کر بیٹھتا ایک ہی سانس میں پورا پانی پی گیا ۔ اس نے گلاس واپس رکھا اور سامنے بیٹھے ڈاکٹر کو دیکھا جو لگ بھگ چھتیس سال کا تھا اور بغور پلویشا کی ٹیسٹ فائل دیکھ رہا تھا ۔ 

ایک بے چین کر دینے والی خاموشی ان دونوں کے بیچ حاہل ہو گئی ۔ کھڑکی سے نظر آتا اندھیرا دائم کو انجانے سے خوف میں مبتلا کر رہا تھا ۔ 

“سب ٹھیک ہے نا ؟” اس نے فکرمندی سے پوچھا ۔ 

ڈاکٹر نے گہرہ سانس لیا اور فائل اور نظریں سامنے دائم پر جما دیں ۔ 

“آپ کی بیٹی کا بی ہیویر کیسا ہوتا ہے آپ سب کے ساتھ ؟ “

دائم ایک پل کو چپ ہو گیا ۔ پھر گہرا سان لیتے اس نے جواب دیا ۔ 

“کھبی ، کھبی وہ بلکل بھی بات نہیں کرتی ۔ صرف چپ چاپ اپنے کمرے میں بند رہتی ہے اور بعض اوقت اتنا اگریشن دیکھاتی ہے کہ سامنے والے کو فیزیکلی ہرٹ کر دیتی ہے ۔ “

ہممم ۔ ڈاکٹر نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور دائم کی بات فائل کے ایک کورے کاغذ پر نوٹ کی ۔ 

“ڈائٹ کیا ہے ان کی ؟ “

“اس نے پچھلے دو دنو سے کچھ نہیں کھایا ۔ اور اب وہ مسلسل بھوکی ہی رہنے لگی ہے ۔ “

“اچھا ،تو یہ بتائیں وہ جب اکیلی بیٹھی ہوں تو آپ کو ان سے کس طرح کی وائبز آتی ہیں ؟ “

دائم نے تھوک نگلا ۔ “نیگیٹو وائبز “۔

” کیوں وہ جب جب تنہا بیٹھتی ہے ، دائم ایک پل کو رکا ڈاکٹر اس کی بات سننے کے لیے منتظر تھا ۔ وہ جب تنہا بیٹھتی ہے خود سے ہی بات کر رہی ہوتی ہے ۔” 

ڈاکٹر نے گہرہ سانس بھرا ۔” کیا انہیں کوئی دیکھائی دیتا ہے ؟ “

“ہممم ۔ “

“اور کیا وہ اس سے بات کرتی ہیں ؟” 

“وہ خود سے ہی چیخنا شروع کر دیتی ہے ۔”

” لڑتی ہے ۔ “

“اور جس طرح سے وہ ری ایکٹ کرتی ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ کسی کو سن سکتی ہے اور دیکھ سکتی ہے جسے ہم نا تو سن سکتے ہیں اور نا ہی دیکھ ۔ “

 

ڈاکٹر نے افسوس کے ساتھ بھنویں اچکائی تھیں ۔ 

“وہ سیلف ہارم تو کرتی ہے لیکن وہ دوسروں کو کس نوعیت کی تکلیف دیتی ہیں ؟ “

“مطلب ؟” دائم نے نا سمجھی سے پوچھا ۔ 

“مطلب کیا انہوں نے کھبی کسی کی جان لینے کی کوشش کی ہے ؟ “

دائم کو لگا جیسے کسی نے گلے سے دبوچ کر پوچھا ہو سانس آ رہی ہے ؟ وہ اب کیا جواب دے اسے سمجھ نا آئی ۔ اس نے سر نا میں ہلا دیا ۔ 

“آپ جانتے ہیں آپ کی بیٹی کس کنڈیشن میں ہے پھر بھی آپ جھوٹ بولیں گے ؟ “

دائم کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسلتا چکا گیا ۔ بے بسی ہی بے بسی تھی ۔ 

“جی ۔ “

“آج اس نے اپنی بہن کو جان سے مارنے کی کوشش کی ہے اور کچھ روز پہلے میں نے ایک سائکاٹرسٹ کو گھر بلوایا تھا پلویشا نے اس کی بھی جان لینے کی کوشش کی تھی ۔ اور پریشان تو میں اس بات پر ہوں کہ وہ سب کرنے کے بعد جھوٹ بولتی ہے ۔ وہ کہتی ہے کہ اس نے کچھ نہیں کیا اور واقعی اس کی آنکھوں میں سچائی نظر آتی ہے مگر آنکھوں دیکھا تو کوئی نہیں جھٹلا سکتا نا ۔”

ڈاکٹر نے ہاتھ باہم آپس میں ملا دیے ۔ 

“کب سے ہو رہا ہے یہ سب ؟ “

“پچھلے دو سالوں سے ۔ “

دائم کا کہنا تھا کہ ایک بار پھر ہرر طرف سکوت چھا گیا ۔ باہر اندھیرا بھرتا جا رہا تھا ۔ 

ڈاکٹر سٹیفرڈ نے فائل بند نہیں کی۔ وہ دیر تک کھلی ہی رکھی، جیسے وہ خود بھی کسی ایک نتیجے پر پہنچنے سے ہچکچا رہا ہو۔

اس نے دائم کی طرف دیکھا، اس نظر سے نہیں جس میں فیصلہ ہو — بلکہ اس نظر سے جس میں سوال ہوں۔

“مسٹر دائم،” اس نے آہستہ کہا،

“ہم بعض اوقات ہر شور کو بیماری کا نام دے دیتے ہیں، کیونکہ خاموش اذیت کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔”

دائم چونک گیا۔

“تو… کیا وہ پاگل ہے؟”

ڈاکٹر نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔

“پاگل ایک آسان لفظ ہے۔ بہت آسان۔ مگر سچ اتنا سادہ نہیں ہوتا۔”

وہ کرسی سے تھوڑا آگے کو جھکا۔

“آپ کی بیٹی جو آوازیں سنتی ہے، وہ ضروری نہیں کہ کوئی خارجی وجود ہوں۔ اکثر یہ انسان کے اپنے اندر کی منفی سوچیں ہوتی ہیں — محرومی، غصہ، خود سے نفرت — جب یہ سب دب جائیں تو شور بن جاتے ہیں۔”

دائم کی سانس بھاری ہو گئی۔

“مگر وہ دوسروں کو نقصان پہنچا رہی ہے…”

“جی،” ڈاکٹر نے سنجیدگی سے کہا،

“اور یہی خطرہ ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ اس کے اندر اندھیرا ہے — مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکیلی اس اندھیرے سے لڑ رہی ہے۔”

اس نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر کہا:

“ہم اسے بیماری کہہ سکتے ہیں، ہم اسے ذہنی disorder بھی کہہ سکتے ہیں۔ مگر میں اسے ایک overwhelmed mind کہوں گا — جو اتنا بھر چکا ہے کہ اب خود کو بچانے کے لیے چیخ رہا ہے۔”

دائم کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔

“تو کیا اسے قید کرنا پڑے گا؟”

” اسے قید نہیں کہیں گے اور نا ہی ہم اسے سزا دے رہےہیں ۔ ہم اسے وہ جگہ دے رہے ہیں جہاں وہ خود سے لڑتے لڑتے مر نہ جائے۔”

اس نے گہرا سانس لیا۔

“اگر اسے ابھی support، therapy اور نگرانی نہ ملی تو اس کے اندر کی منفی آوازیں اس پر غالب آ جائیں گی۔ اور پھر وہ واقعی وہ بن جائے گی، جو وہ نہیں بننا چاہتی ۔ “

“اس وقت hospital admission اس لیے ضروری ہے، تاکہ وہ محفوظ رہے “— دائم نے آنکھیں میچ لیں ۔ نا جانے یہ کیسی آزمائش تھی ۔  

جب وہ وارڈ میں واپس پہنچا تو پلویشا بیڈ پر بیٹھی دیوار کو گھور رہی تھی۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں مگر خالی، جیسے وہ کسی اور دنیا کو دیکھ رہی ہو۔ اچانک اس نے زور سے سر جھٹکا۔

“خاموش ہو جاؤ!”

وہ چیخی۔

“میں نے کہا نا، مجھے مت کہو کیا کرنا ہے!”

زونیرہ خوف سے پیچھے ہٹ گئی۔

دائم کے قدم جیسے زمین میں جم گئے ہوں۔

نرسوں نے اشارے سے ڈاکٹر کو دیکھا۔

ڈاکٹر نے آہستہ سے سر ہلایا۔

دو نرسیں آگے بڑھیں۔

پلویشا نے مزاحمت کی، چیخی، ہاتھ جھٹکے۔

“ڈیڈ ! ڈیڈ ! !”

اس کی آواز میں وہی بچپن والی بے بسی تھی جس نے دائم کا دل چیر دیا۔ لیکن اس کی حالت دیکھ کر وہ فیصلہ کر چکا تھا ۔ 

 اس لمحے وہ صرف بیٹی نہیں تھی —

وہ ایک خطرہ تھی، خود اپنے لیے بھی، اور دوسروں کے لیے بھی۔

جب sedative کا اثر ہونے لگا تو پلویشا کی چیخیں مدھم ہو گئیں۔ اس کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔ آخری بار اس کی نظر دائم پر پڑی۔

اور پھر اس کی پلکیں جھک گئیں۔

دائم کوریڈور میں کھڑا سفید دیواروں کو دیکھتا رہا۔

کہیں سے trolley کی آواز آ رہی تھی، کہیں کسی مریض کی ہنسی، کہیں رونے کی دھیمی آواز۔

اس نے پہلی بار محسوس کیا —

کچھ جنگیں محبت سے نہیں جیتی جاتیں ، کچھ جنگوں میں بیٹی کو بچانے کے لیے باپ کو خود کو توڑنا پڑتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کب سے چت لیٹی چھت کو تکے جا رہی تھی۔

وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ یوں ہی کیوں لیٹی ہوئی ہے۔

پلک جھپکے بغیر وہ بس چھت کو دیکھتی رہی کہ یکایک اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی اندر داخل ہوا۔

اس نے آہستگی سے اپنے قریب آتی اس فربہ عورت کو دیکھا،

اور ایک دم اس کے ذہن میں دھماکا سا ہوا۔

وہ ہاسپٹل میں تھی۔

یہ یاد آتے ہی وہ جھٹکے سے اٹھی اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی ڈرِپ اتارتی عورت کو دیکھا۔

“میں ٹھیک ہو گئی ہوں نا؟”

اس نے کانپتی آواز میں پوچھا۔

عورت خاموش رہی،

اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا—

اشارہ اپنے ساتھ لے جانے کا تھا۔

پلویشا نے خوف کے زیرِ اثر ادھر اُدھر دیکھا۔

لابی میں ہر طرف پاگل لڑکیاں گھوم رہی تھیں۔

اس کی آنکھوں میں نمی بھرنے لگی۔

کیا وہ ان لڑکیوں کی طرح یہ بھول چکی تھی کہ اس کا نام کیا ہے؟

کیا وہ یہ بھول گئی تھی کہ اس کی شناخت کیا ہے؟

نہیں نا؟

پھر اسے یہاں کیوں قید کر دیا گیا تھا؟

وہ تو پہلے ہی اپنی سوچوں سے،

اپنے اندر کے شر سے لڑ رہی تھی۔

کیا اس میں اتنی سکت تھی

کہ ان پاگل لوگوں کو سمجھا سکے

کہ وہ پاگل نہیں ہے؟

ایک آنسو اس کے رخسار پر پھیسلتا چلا گیا۔

اسے ایک کمرے میں لایا گیا،

جہاں ایک میز تھی

اور آمنے سامنے رکھی دو کرسیاں۔

“ادھر بیٹھ جاؤ۔”

عورت نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

وہ نہیں بیٹھی۔

عورت آگے بڑھی

اور بازو سے پکڑتے ہوئے

اسے زبردستی ایک کرسی پر بٹھا دیا۔

اسے رونا آ گیا۔

کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ میں سمجھنے سے قاصر ہوں؟

ابھی اسے دو منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ اسے اپنے عقب سے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔

وہ ساکت ہو گئی۔

ایک جھٹکے سے اس نے گردن موڑ کر دیکھا—دائم کھڑا تھا،آنکھوں میں پریشانی لیے بس اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

پلویشا کچھ نہ بولی۔

بس دائم کو دیکھتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

دائم آگے بڑھا اور اسے خود سے لگا لیا۔

“ڈی… ڈیڈ…”

وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔

“انہیں لگتا ہے میں پاگل ہوں۔

میں پاگل کیسے ہو سکتی ہوں، ڈیڈ؟”

دائم بس اس کی پشت سہلاتے ہوئے کھڑا رہا۔

“مجھے یہاں ڈر لگتا ہے ۔

یہاں سب پاگل ہیں۔

یہ مجھے ہرٹ کریں گے۔

مجھے یہاں سے لے چلیں۔

آپ لے جائیں گے نا؟”

اس نے آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھا کر

آس بھری نظروں سے اسے دیکھا۔

دائم نے اس کے ہاتھ محبت سے لبوں سے لگائے،

اسے کھڑا کیا اور خود سے لگا لیا۔

“میری بیٹی ہو تم۔

تم جلد ٹھیک ہو جاؤ گی۔

تمہارے ڈاکٹر سے میری ایک میٹنگ ہے ابھی۔

بہت جلد میں تمہیں یہاں سے لے جاؤں گا، میری جان۔”

یہ کہتے ہوئے انہوں نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا—

اور پلویشا بدک کر پیچھے ہٹ گئی۔

“ب… بہت جلد؟

ک… کیا مطلب؟

مجھے ابھی جانا ہے!”

وہ حیرت سے بولی۔

“چ… چلیں، ڈیڈ۔

مجھے یہاں نہیں رہنا۔”

اس نے اس کا بازو پکڑ کر

دروازے کی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔

دائم ٹس سے مس نہ ہوا۔

پلویشا نے مڑ کر اسے دیکھا—

اور اس بار بے بسی سے رو دی۔

“میں پاگل نہیں ہوں۔

آپ یقین کیوں نہیں کر رہے؟

پلیز، مجھے یہاں نہیں رہنا۔”

دائم نے کچھ کہے بغیر

آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔

پلویشا جھٹپٹانے لگی۔

“نہیں، ڈیڈ… نہیں!

میں آپ کے ساتھ جاؤں گی۔

مجھے مت چھوڑیں، ڈیڈ!”

دائم نے اس کے بالوں پر بوسہ دیا۔

ایک آنسو اس کے بالوں میں جذب ہوا،

اور اگلے ہی لمحے وہ اس سے الگ ہو کر

دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

پلویشا کا سانس رک گیا۔

اس نے آخری حد تک پھٹی آنکھوں سے

دائم کی جاتی ہوئی پشت کو دیکھا۔

“ڈ… ڈیڈ…”

وہ بڑبڑائی—

اور اگلے ہی پل

اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے چلانے لگی۔

“ڈیڈ!

پلیز، مجھے لیتے جائیں!

آپ کو میری قسم ہے، ڈیڈ… پلیز!”

وہ لابی میں بھاگ رہی تھی۔

دائم جا رہا تھا۔

“ڈیڈ، رک جائیں!

میں ٹھیک ہوں!”

راستے میں ہی نرس نے اسے روک لیا۔

“پلیز، مجھے جانے دو!

مجھے ان کے ساتھ جانا ہے!”

“ڈیڈ، رک جائیں…”

اس نے اس کی آخری جھلک دیکھتے ہوئے کہا—

مگر وہ نہیں رکا۔

پلویشا وہیں نیچے بیٹھتی چلی گئی،

اور جتنی بلند آواز میں رو سکتی تھی،

رونے لگی۔

“تم سب مر جاؤ!

تم سب میری زندگی سے چلے جاؤ!

مجھے کوئی نہیں چاہتا!

تم سب میرے جیسی اذیت اٹھاؤ گے!

تم بھی درد سہو گے!”

وہ چیختے ہوئے بددعائیں دے رہی تھی۔

وہ پاگل نہیں تھی—

مگر اس وقت فرش پر بیٹھی،

بلند آواز میں روتی اور بلکتی پلویشا،

پاگل سے کم بھی نظر نہیں آتی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(اس دنیا میں موجود ہر انسان پر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب میدانِ جنگ میں اس کے مقابل وہ خود اپنی ذات کو پاتا ہے۔ اور یہ جنگ، تمام جنگوں سے زیادہ اذیت ناک، ہیبت ناک اور تکلیف دہ ہوتی ہے۔

کبھی خود کے لیے کسی کو ہتھیار اٹھاتے دیکھا ہے؟ کوئی اپنا دفاع خود اپنے ہی خلاف کس طرح کرے؟ )

 

وہ چپ چاپ، دم سادھے بیڈ پر بیٹھی سامنے کی بے رنگ دیوار پر کسی غیر مرئی نکتے کو تکے جا رہی تھی۔ ساتھ کھڑی نرس اس کے لیے دوائی نکال رہی تھی۔

نرس نے دوا اس کی طرف بڑھائی تو اس نے اس کے ہاتھ کو دیکھا۔ ایک لمحے میں اس ساکت وجود میں جیسے شرارے دوڑ گئے۔

“نہیں کھانی مجھے، سمجھی؟ پاگل سمجھ رکھا ہے مجھے؟”

وہ چیختی ہوئی نرس کے ہاتھ سے گولیاں جھپٹ کر نیچے پھینک گئی۔

“دفعہ ہو جاؤ یہاں سے، ورنہ سچ میں پاگل بن گئی نا تو زندہ نہیں بچو گی تم!”

نرس جس طرح آئی تھی، اسی خاموشی سے واپس لوٹ گئی۔

اس کے کچھ نہ کہنے پر پلویشا کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

“کیا میں تمہیں پاگل لگتی ہوں؟”

وہ اس کی جاتی پشت کو دیکھ کر غرائی۔

“پاگل نہیں ہوں میں، سمجھی!”

دروازہ بند ہو گیا۔

اب وہ اکیلی تھی۔

“تم سب تباہ کر دینا…”

وہی سرگوشی۔

“آہاہاہاہا!”

وہ بالوں کو جکڑتے چیخی۔

“میں آگ لگا دوں گی تمہیں! نکل جاؤ! مجھے اور ذلیل مت کرو!”

بند کمرے میں اس کی دل خراش چیخیں دیر تک دیواروں سے ٹکراتی رہیں۔

(ہمارا مقابل ہمیں دو راستے دیتا ہے:

فرار یا استقامت۔

اکثر لوگ فرار چن لیتے ہیں، سامنے کھڑے دشمن سے ہاتھ ملا لیتے ہیں، اور پھر اسی کے تابع ہو کر رہ جاتے ہیں۔

مگر کچھ لوگ مقابلہ کرتے ہیں۔

وہ زخمی ہوتے ہیں، لہو بہتا ہے، درد سہتے ہیں—اور یہ درد انہیں آدھا مار دیتا ہے۔

خود کو اپنے ہی سینے میں خنجر اترتا دیکھ کر کیا واقعی سکون ملتا ہے؟)

کھڑکی سے چھن کر آتی سورج کی روشنی اس کے زرد، بیمار چہرے پر پڑ رہی تھی۔ آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ حلقے رت جگوں کی گواہی دے رہے تھے۔ وہ سپاٹ تاثرات کے ساتھ سامنے بیٹھے انگریز ڈاکٹر کو دیکھ رہی تھی۔

“جب آپ تنہا ہوتی ہیں تو کون سی سوچیں آپ کو پریشان کرتی ہیں؟”

ڈاکٹر نے تیسری بار صبر کے ساتھ سوال دہرایا۔

وہ خاموش رہی۔

یوں بیٹھی رہی جیسے جواب دینا اس کی توہین ہو۔

ڈاکٹر نے گہرا سانس لیا۔ ابھی دباؤ ڈالنا درست نہیں تھا۔

“آپ انہیں حال کی طرف لے جائیں، کچھ فریش محسوس کریں گی،”

انہوں نے شستہ انگریزی میں نرس سے کہا۔

پلویشا فوراً اٹھی، میز پر دونوں ہاتھ رکھ کر جھکی۔

“جب تنہا ہوتی ہوں تو تمہیں چوک پر نچانے کا خیال آتا ہے۔ شکر کرو، عمل نہیں کرتی۔”

ڈاکٹر خاموش رہا۔

وہ مریض کے ذہنی عارضے کو سمجھتا تھا۔

“چپ کیوں ہو، جاہل انسان؟ کچھ بولو!”

اس کی خاموشی پلویشا کو چبھ رہی تھی۔

نرس نے نرمی سے اس کا بازو تھاما اور ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔

پلویشا بکھرے ذہن کے ساتھ مڑ گئی۔

“بدتمیز انسان… ایسے ٹریٹ کر رہا ہے جیسے میں پاگل ہوں۔”

(اس جنگ میں سب سے خطرناک ہتھیار سرگوشیاں اور وسوسے ہوتے ہیں۔

وہ مسلسل سماعت سے لپٹے رہتے ہیں، جیسے پگھلا ہوا سیسہ نرمی سے کانوں میں انڈیل دیا جائے۔

کیا تم نے کبھی یہ پگھلا ہوا سیسہ محسوس کیا ہے؟)

گہری رات میں وہ کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی۔ بے چینی اس کے حواس نگل رہی تھی، اور وہی سرگوشیاں اسے آہستہ آہستہ توڑ رہی تھیں۔

“وہاں سب خوش ہوں گے…”

“تم سے سب چھن گیا ہے…”

“تم تنہا ہو…”

“تنہا انسان کا کیا کام؟ مر جاؤ۔”

“لیکن اسے مار کر…”

“چپ ہو جاؤ!”

وہ ٹھنڈے فرش پر بیٹھ کر چیخی، روتی رہی۔

“میرا پیچھا چھوڑ دو!”

اگلے ہی لمحے نرسیں اور ایک ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوئے۔

وہ اسے اٹھا کر بیڈ کی طرف لے جا رہے تھے، مگر وہ اب بھی رو رہی تھی۔

“یہ مجھے پاگل کر رہا ہے… اسے میرے وجود سے نکالو…”

وہ دور کھڑا افسوس سے اسے دیکھ رہا تھا۔

اگر وہ وہی کر لیتی جو وہ کہہ رہا تھا، تو شاید اتنی تکلیف نہ سہنی پڑتی۔

کیا تم اسے پہچانتے ہو؟

(وقت کے ساتھ ساتھ تم تھک جاؤ گے ۔ رونا ، چیخنا ، انکار ، اقرار ، سب بے معنی ہو جائے گا ۔ تم اس جنگ کے عادی ہو جاؤ گے ۔ اب وہ پھگلا سیسہ تمہیں زخم نہیں دے گا ۔ وہ ہر ہتھیار ، یادیں ، وسوسے ، خوف تنہائی کا انجام غرض ہر ہتھیار سے تمہیں لہولہان کرے گا مگر تم ۔۔۔۔تم ساکت ہو جاؤ گے ۔ تمہارے اندر سکوت چھا جائے گا ۔ )

وہ پچھلے تین دنوں سے کچھ نا بولی تھی ۔ چپ چاپ دوائی کھا لیتی ۔ ڈاکٹر بول بول تھک جاتا مگر اس کا سکوت نا ٹوٹتا ۔ اپنے سکوت کی اندرونی تہہ میں چھپے شور کو وہ چپ چاپ سنتی رہتی تھی ۔ اب اس کے پاس کوئی لفظ نا تھا بولنے کو ۔ لفظ اسے خیرآباد کہہ چکے تھے ۔ 

(اور جب ہر طرف سکوت چھا جائے تو کھبی مت سمجھنا کہ واقعی ہر طرف خاموشی ہے ۔ بلکہ دم سادھے سننا ۔ تمہیں سکوت میں چھپی وہ چیخیں ، وہ درد ، اور آہ و ابکا سنائی دے گی کہ تم دہل اٹھو گے ۔ اس لیے یاد رکھنا ، چاہے تم چلاؤ ، تم درد کا اعلان کرو یا پھر چپ چاپ ایک خول میں بند ہو جاؤ ، تم نے اب بھی ثابت قدم رہنا ہے ۔ تم نے اپنے نفس میں چھپے شر کو ہرانا ہے ۔ ہر سو پھیلے باطنی اندھیرے کو ، ایمان کی رائی برابر لو سے جلانا ہے ۔  

لیکن ـــــــ اب سوال یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔کیا تم میں اتنی طاقت ہے ؟ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو ماہ بعد 

ایک خوبصورت اور خوشگوار صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔ بچے سکول تو مرد حضرات کمانے کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔ ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف تھا۔ اسی مصروف سی صبح میں وہ بھی ناشتہ کرنے میں محو تھے۔

گہری خاموشی ان تینوں کے درمیان حائل تھی۔ اس رات کے بعد کوئی پہلے جیسے نہیں رہا تھا۔ پلویشا کے جانے کے بعد سے ہی دائم چپ چپ رہنے لگا تھا۔ بلا ضرورت بات تو کیا، ایک لفظ بھی نہ بولتا تھا۔

آہ! جب لفظ تھے تب پلویشا اس مقام تک پہنچ گئی اور اب لفظ نہیں تھے تو۔۔۔ تو ایس غم سے دوچار ہو چکی تھی۔ دائم اسے نظر انداز کرنے لگا تھا، اور ایس کے پاس اس رات کے بعد ہمت نہیں بچی تھی کہ وہ دائم سے کچھ کہہ سکے۔

“تھوڑا سا تو کھا لیں”، زونیرہ نے فکر مندی سے کہا، “دائم کو صرف کافی پینے کے بعد اٹھتا دیکھ…”

“بس کافی ہے”، وہ سنجیدگی سے کہتا، دروازے کی جانب مڑ گیا تو زونیرہ اسے دروازے تک چھوڑنے کے لیے اٹھ کر اس کے پیچھے گئی۔

“آج بھی دیر سے گھر آئے گے آپ؟”

“کام زیادہ ہوا تو دیر سے آؤں گا۔”

“ٹھیک۔”

بلکل خاموشی سے چلتے وہ پارکنگ ایریا تک آئے۔

“اچھا، ایک کام کرنا کہ۔۔۔”

اس سے پہلے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا، اس کی نظر سامنے سے آتے وجود پر گئی اور ساکت ہو گئی۔

زونیرہ نا سمجھ رہی، جبکہ دائم حیرت سے اسے اپنے قریب آتے دیکھ رہا تھا، یہاں تک کہ وہ اس کے سامنے آ ٹہرا۔

گرے تھری پیس پہنے، سیاہ آنکھوں کے ساتھ اور با رعب پرسنالٹی کے ساتھ، دائم کے سامنے کھڑا تھا۔

“بھائی!” ایک لفظ کہا اور اگلے ہی پل وہ اپنے بڑے بھائی طاہر شاہ کے گرد حصار باندھ گیا۔

“کیسے ہو دائم؟” ظاہر نے اس کے شانے پر ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔

“ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟ بلکہ، آپ اندر آئے پہلے۔” پورے دو ماہ بعد دائم نے مسکراتے ہوئے طاہر سے کہا اور اسے اندر آنے کا کہا۔

وہ دونوں اندر کی جانب بڑھے تو طاہر کی نظر زونیرہ پر پڑی۔

“یہ زونیرہ ہے، بھائی۔”

“اچھا اچھا! کیسی ہو آپ؟” طاہر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے کہا۔

“ٹھیک بھائی صاحب”، زونیرہ نے بھی دائم کی طرح اسے بھائی کہا تو طاہر ہنس دیا۔

“آجاؤ، اندر چلتے ہیں”، اس نے ان دونوں میاں بیوی کو دیکھ کر کہا اور وہ تینوں اندر بڑھ گئے۔

ایس، جو کہ اب بے دلی سے بریڈ کھا رہی تھی، اپنے لاونج میں سے آتی آوازوں کو سن کر ٹھٹکی۔

“ڈیڈ تو آفس گئے ہیں، پھر یہ۔۔۔” وہ سوچتی ہوئی اٹھی اور لاونج کی جانب بڑھی۔

“ابراھیم کیسا ہے، بھائی؟” وہ لاونج میں داخل ہوئی تو دائم طاہر سے پوچھ رہا تھا۔

“اسلام علیکم!” اس نے جھجھکتے ہوئے سلام کیا تو وہ تینوں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔

“واعلیکم السلام، کیسے ہو بچے؟”

“ٹ۔۔ٹھیک۔” اس نے سوالیہ نظروں سے دائم کو دیکھا۔

“یہ میرے بھائی ہیں، آپ کے تایا۔”

“اوہ، اچھا!” ایس کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ بکھر گئی۔ وہ بھی دائم کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔ اتنے میں زونیرہ طاہر کے لیے پانی لے کر آئی اور اسے دینے کے بعد وہ ایس کے ساتھ بیٹھ گئی۔

سنگل صوفے پر طاہر، جبکہ تھری سیٹر صوفے پر دائم، زونیرہ اور ایس بیٹھے، کافی دیر تک باتوں میں مصروف رہے۔

طاہر اور دائم کو باتوں میں مگن دیکھ زونیرہ شائستگی سے اٹھ گئی تاکہ دونوں کو پرسنل اسپیس دے سکے، تو ایس بھی نا محسوس انداز میں اس کے پیچھے ہی چل دی۔

اب لاونج میں صرف دائم اور طاہر ہی رہ گئے تھے۔

“یہ پلویشا کہاں ہے؟ اور اب اس کی طبعیت کیسی ہے؟”

ان کی بات پر دائم ایک پل کو چپ ہوا، تھوڑی دیر پہلے والی مسکراہٹ کی جگہ اب پریشانی نے لے لی۔

“کیا ہوا؟ وہ ٹھیک ہے نا؟”

“بھائی، وہ۔۔۔ اس کی طبعیت۔۔۔”

یک دم سے ماحول میں تناؤ پھیل گیا۔ دائم شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔

“کیا ہو گیا ہے دائم؟ تم پریشان کیوں ہو رہے ہو اتنا؟ آرام سے بتاؤ، بلکہ رہنے دو، اسے سکول سے آ جانے دو، میں خود اس سے بات کر لوں گا۔”

طاہر کی بات پر دائم نا جانے کیوں شرمندہ ہوا تھا۔

“بھائی صاحب، وہ پلویشا۔۔۔”

“دائم، اب تم مجھے بھی پریشان کر رہے ہو، آرام سے بتاؤ کیا ہوا۔” طاہر آگے کو ہوتے دائم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے، تسلی آمیز لہجے میں کہتا ہے۔

“بھائی، پلویشا ہاسپیٹل میں ایڈمٹ ہے۔”

طاہر کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس کے دل کو کچھ ہوا۔ فوراً سے چہرے پر پریشانی پھیل گئی۔

“وہ اتنی بیمار کیسے پڑ گئی؟ دائم اور کون سے ہاسپیٹل میں؟ اور۔۔۔ کب سے؟”

دو ماہ پہلے اس نے جو آخری کال دائم کو کی تھی، اس میں اس نے یہی بتایا تھا کہ پلویشا کی طبعیت کچھ خراب رہتی ہے۔ لیکن بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ ہاسپیٹل میں ایڈمٹ؟

طاہر کی حیرت ختم نہیں ہو رہی تھی۔

طاہر فوراً صوفے سے اٹھا۔

“تم مجھے پہلے ہاسپیٹل لے چلو، دائم، اور پوری تفصیل بتاؤ اسے، کیا بیماری لاحق ہے؟”

دائم کچھ نہ بولا اور نہ ہی اٹھا۔ اس کا رویہ طاہر کو کھٹکھا رہا تھا۔ انہوں نے گہرا سانس لیتے خود کو نارمل کیا۔

اب کی بار جب بولا تو لہجہ نرم تھا، البتہ واپس بیٹھے نہیں۔

“پوری بتاؤ مجھے۔”

“بھائی، پلویشا کی حالت بہت خراب تھی۔” دائم نے طاہر کے چہرے پر کچھ کھوجنا چاہا، مگر وہ نارمل رہا۔

“اس وقت وہ ہاسپیٹل میں ایڈمٹ ہے۔” دائم ایک پل کو رکا اور پھر ہمت کرتے کہہ ڈالا:

“مینٹل ہیلتھ ہاسپیٹل میں ایڈمٹ ہے۔”

ماحول میں آکسیجن کی کمی محسوس ہونے لگی اور یوں لگا جیسے کوئی زہریلی گیس طاہر کے وجود میں گھستی جا رہی ہو۔ وہ کچھ نہ بولا، اسے سمجھ نہ آئی کیا بولے۔ وہ بس ساکت نظروں سے دائم کو دیکھ رہا تھا۔

“بھائی، اس کی حالت اب بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔”

“وہ مینٹل ہاسپیٹل میں ہے؟” کچھ وقت بعد طاہر کی سرسراتی ہوئی سرگوشی سن کر دائم نے سر جھکا دیا۔

“تمہیں اندازہ ہے تم نے کیا کہا ہے؟” طاہر کے لہجے میں ایک آنچ تھی۔

“بھائی، وہ۔۔۔ “

“تمہاری جرت کیسے ہوئی میرے خاندان کی بچی کو تم نے اس ہاسپیٹل میں ایڈمٹ کروا دیا؟”

لاونج میں طاہر کی دھاڑ گونجی تو اندر ایک کمرے میں کھڑی ایس اور زونیرہ بھی کانپ اٹھی۔ انہوں نے حیرت سے پہلے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر فوراً پریشانی سے لاونج کی طرف آئی، جہاں طاہر حیرت سے صوفے پر بیٹھے دائم کو دیکھتے برہمی سے پوچھ رہا تھا۔

“تم نے کس سے پوچھ کر یہ قدم اٹھایا، دائم شاہ؟”

“بھائی، اس کی حالت ٹھ۔۔۔۔ “

“وہ اس حالت تک پہنچی ہی کیوں؟” طاہر غرایا۔

زونیرہ اور ایس ایک طرف کھڑی اسے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تو بہت نرم مزاج شخص تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ وہ طاہر تھا جو اپنے خاندان کے لیے سلطنت کو بھی الٹ سکتا تھا۔

“بھائی، وہ کچھ بتاتی ہی نا تھی۔” دائم نے کھڑے ہوتے ایک اور کوشش کی تو طاہر زخمی سا مسکرایا۔

“کتنی بار اس سے پوچھا تم نے؟”

دائم کے حلق میں کچھ اٹکا۔

“بتاو دائم، کتنی مرتبہ تم اس کے پاس گئے؟ اس سے کتنی بار پوچھا کہ اسے کیا چیز ہرٹ کر رہی ہے؟ جواب دو، چپ مت رہو!”

“بھائی، آپ مجھے الزام دے رہے ہیں؟” دائم نے برہمی سے کہا۔

“خبردار!” طاہر نے اسے انگلی دیکھاتے کہا۔ “خبردار اگر مجھ سے بحث کی یا اپنی غلطی کو ماننے سے انکار کیا!”

دائم چپ ہو گیا۔ وہ بڑے بھائی سے واقعی بحث نہیں کر سکتا تھا۔

“کون سا ہاسپیٹل ہے؟”

“ریور ویو مینٹل ہیلتھ ہاسپیٹل۔”

طاہر لعنت بھیجتی نظروں سے دائم کو دیکھ کر دروازے کی جانب بڑھا تو سامنے زونیرہ سے لپٹی ڈری سہمی ایس دکھائی دی۔

وہ مسکرا کر اس تک گیا اور اسے خود سے لگاتے، پیشانی پر بوسہ دیا۔

“ڈر کیوں گئی ہو بھئی؟ میں بیٹیوں سے بڑا پیار کرتا ہوں، تم پریشان نہ ہو۔”

ان کے نرمی سے کہنے پر وہ مسکرائی۔ طاہر نے اس کا کندھا تھپتھپاتے، اپنے قدم باہر کی طرف بڑھا دیے۔

ان کے جانے کی دیر تھی، وہ صوفے پر ڈھیر سا گیا۔ زونیرہ نے اس کے سامنے پانی کا گلاس بڑھایا تو وہ گلاس تھامتا، ایک کی باری میں سارا پانی پی گیا۔

کسی نے کچھ نہ کہا۔ کچھ کہنے کے لیے بچا ہی کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *