گرداب ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۶
باب چہارم: دوہرا چہرہ
امن کی پلکیں دھیرے دھیرے کھلیں۔
روشنی ہلکی تھی، شاید شام کا وقت تھا۔
اُس نے چونک کر اُٹھنے کی کوشش کی مگر جسم کی کمزوری اُسے فوراً واپس لیٹا دیا۔۔۔ سر میں شدید درد تھا اور پورا جسم بخار میں ٹاپ رہا تھا..
تبھی، ماتھے پر کسی چیز کی ٹھنڈک محسوس ہوئی
آہستہ سے نگاہ دائیں طرف موڑی تو… امّل کو پایا۔
وہ اُس کے سر پر جھکی ہوئی، تھندے پانی کی پٹّی کر رہی تھی۔
اُس کے چہرے پر پریشانی، محبت اور آنکھوں میں نیند کی سرخی تھی۔
پھر امن کی نظریں دھیرے سے یُسرہ پر پڑیں، جو ایک طرف باؤل لیے کھڑی تھی۔۔۔
امّل…
امن کی آواز کمزور، مگر ہوش میں تھی۔۔
امّل چونکی،
بھائی! آپ کو ہوش آ گیا؟! آپ ٹھیک ہو؟
امن نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا۔
چند لمحے خاموشی کے گزرے… پھر اُس نے ایک سانس لے کر کہا
امّل… مجھے کچھ یاد آیا ہے۔
یُسرہ اور امّل دونوں چونکیں۔
کیا بھائی؟ کیا یاد آیا؟ امل فوراََ بولی
ماما… پاپا…
کیا بھائی؟ کیا بچپن کا کوئی منظر یاد آیا؟ یا… سب کچھ یاد آ گیا؟
امن نے آنکھیں بند کر لیں، پلکوں کے کونے گیلی ہونے لگے۔
سب کچھ تو نہیں… بس…
وہ پھر رُک گیا۔
ایک جھجک… ایک خوف…
کیا امّل کو یہ سب بتانا ٹھیک ہو گا؟
کہ ماما پاپا کا کوئی معمولی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا بلکہ سوچی سمجھی سازش تھی۔۔۔ امل کا یہ سب سننے کے بعد کیا ریکشن ہوگا۔۔۔
امّن کی آنکھیں امّل کی طرف اٹھیں، اُس کی چھوٹی بہن، جس کے چہرے پر معصوم سوال جھلک رہے تھے۔۔
اس نے آہستہ سے کہا
کچھ۔۔۔ کچھ چیزیں یاد آئی ہے۔۔۔
بھائی۔۔ انشا اللہ ایک ڈن آپ کو سب کچھ یاد آجائے گا۔۔۔ لیکن بھائی آپ کو اکیلے نہیں جانا تھا باہر… اُوپر سے آپ نے اپنے پرسنل گارڈز کو بھی ساتھ نہیں لے گئے…
اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو؟
امّل کی آواز میں فکرمندی، ناراضی اور آنکھوں میں بےاختیار آنسو تھے۔
آپ اتنی لاپرواہی کیوں کرتے ہیں؟
اس کی پلکیں بھیگنے لگیں۔
سوری۔۔۔ وہ صرف اتنا ہی کہہ پایا۔
یہ کہہ کر اُس نے ایک گہری سانس لی۔۔
پھر نظر امّل کے چہرے پر جم گئی۔
امّل… بس تُم مُجھے ایسے ہی سپورٹ کرتی رہنا۔۔۔ ہر حال میں کچھ بھی ہو بس اپنے بھائی کا ساتھ دینا۔۔
اس کی پلکیں لرزیں… اور لب بھی۔
ہمیشہ… وہ آہستہ سے بولی، میں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی بھائی۔۔ آپ غلط کرو یا صحیح۔۔ میں ہمیشہ آپکو ہی ڈیفنس کرونگی۔۔ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہی کھڑی رہوں گی۔۔۔
امن کا دل ایک پل کو تھما، اور پھر جیسے دھڑکنے لگا… نئی امید سے۔
پیچھے کھڑی لڑکی کے بھی لب بہت ہی دھیرے سے ہلے۔۔ میں بھی۔۔۔
++++++++++++
اندھیرا… دیواروں پر کالی اسکرینز…
کیٹی آہستگی سے ریپر کے سامنے آ کر رُکی۔
یسریٰ کی دی گئی معلومات اب وہ ریپر کے سامنے رکھ رہی تھی
سر… امن کو ہوش آ چکا ہے۔
ریپر کرسی پر جھکا، جیسے کوئی پرانا راز دوبارہ جاگا ہو۔
ایک انگلی اسکرین پر رکھی، جس پر امن کا لائیو فوٹیج چل رہا تھا، بےہوشی سے بیداری کی طرف آتا ہوا، مگر اب… وہی آنکھیں بدل چکی تھیں۔
ریپر نے خاموشی سے کہا
اس کا وقت ہو چکا ہے۔ ایک ہار، یادداشت کی تھی…
دوسری ہار… جذبات کی ہوگی۔
اس نے انگلی سے ایک اور اسکرین پر کلک کیا..
امّل کی تصویر اُبھری…
ریپر نے کیٹی کی طرف دیکھے بغیر کہا
اب تمہیں معلوم ہے نہ آگے کیا کرنا ہے؟؟
کیٹی نے ایک نظر ریپر کو دیکھا جی یہ کہتی وہ نکل گئی۔۔۔
++++++++++++
امّل جا چکی تھی۔
کمرے میں مدھم روشنی، ایک آدھ لیمپ جل رہا تھا۔
یُسرٰی کمرے کو ترتیب دے رہی تھی۔ ہلکے یہ سب اس کا کام نہ تھا پھر بھی وہ کر رہی تھی۔۔۔ وہ یہی سب تو کرنے آئی تھی یہاں۔۔۔
امن، بیڈ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
اس کے ہاتھ میں دلیے کا باؤل تھا، مگر نظریں یُسرٰی کے ہاتھوں کی حرکت پر جمی تھیں۔
چند لمحے بعد اس نے نظریں نہ ہٹاتے ہوئے کہا
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے…
کہ تم یہاں کسی مقصد کے تحت آئی ہو؟
یُسرٰی کی انگلیاں دوا کے ڈبے میں رک گئیں۔
وہ آہستہ سے مڑی… کس مقصد کے تحت؟؟
یہ تو تمہیں پتہ ہوگا.. امن کی نظر اب بھی اُس پر ہی تھی۔۔۔
یُسرٰی آہستہ سے مسکرائی، پھر بولی
مجھے تو نہیں معلوم کہ میں یہاں کس مقصد کے تحت آئی ہوں، آپ کو کیا لگتا ہے میں یہاں کس مقصد کے تحت آئی ہوں۔۔۔
امن آہستہ سے مسکرایا۔۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے تُم یہاں مُجھے ایمپریس کرنے آئی ہو اور دیکھو ابھی بھی تُم وہ کام کر رہی ہو جو کام تُمہارا نہیں ہے۔۔۔
یُسرٰی نے دوا کا ڈبہ واپس سمیٹا اور دھیمی آواز میں بولی، میں اگر اِمپرَیس کرنے آئی ہوتی… تو دلیہ نہیں، کافی لے کر آتی۔
امن نے چمچ باؤل میں رکھ کر اُس نے آہستہ کہا
تو مطلب… اُس دِن تُم کافی لے کر آئی تھی مطلب اُس دِن تُم مُجھے ایمپریس کرنے آئی تھی؟
نہیں تو۔۔۔ وہ فوراً بولی۔۔۔ وہ تو میرا کام تھا۔۔۔
بھلا مُجھے آپکو ایمپریس کر کے کیا ملے گا۔۔۔
وہ تو تمہیں معلوم ہوگا۔۔۔ امن نے سنجیدگی سے کہا
اچھا یہ بھی آپ ہی بتا دیں کہ مجھے کیا ملے گا۔۔؟؟ آپکو ایمپریس کر کے۔۔۔
وہ میں سوچ کر بتاؤ گا۔۔۔
اس نے باؤل سائڈ ميز پر رکھتے ہوئے کہا
ختمِ کرلیا دلیہ؟؟ اور کچھ چاہیے؟؟
یسریٰ نے امن سے پوچھا۔۔ اور دلیہ کا باؤل اٹھا لیا۔۔۔
نہیں۔۔۔ بس تُم مُجھے ایمپریس کرنے کے چکر میں میرے آگے پیچھے پھرنا چھوڑ دو۔۔۔۔ امن نے سنجیدگی سے کہا اور کمبل ٹھیک کرتا لیٹنے لگا۔۔
یسریٰ نے خفکی سے امن کو گھورا۔۔۔
میں آپکو ایمپریس کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے ٹھیک ہے، جاؤ اب۔۔۔۔
امن بیڈ پر لیٹ گیا اور آنکھیں بند کرلی۔۔۔
ہنہ۔۔۔ یہ خاموش ہی زیادہ اچھے لگتے ہیں۔۔۔
وہ خود سے بڑبڑاتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔
+++++++++++++
اندھیرے میں کمپیوٹر اسکرین کی روشنی میں
ریپر بیٹھا، یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹس لسٹ کھولے ہوئے تھا
ایک فوٹو پر کرسر رُکا ہوا تھا
Amal Eman — Chemistry Dept.
ریپر کی انگلیاں کی بورڈ پر چلی۔۔۔
یونیورسٹی کی ویب سائٹ ہیک،
کلاس کا جعلی میسج خود generate،
صرف ایک نمبر پر بھیجا گیا — امل کا۔
اس کی آواز دھیمی سرگوشی میں گونجی
اب تم خود چلو گی…
اپنی تباہی کی طرف۔۔۔
قدم بہ قدم،
اپنی مرضی سے۔۔۔۔۔
++++++++++
کمرے میں ہلکی مدھم روشنی ہے، موبائل کی چمک اُس کے چہرے پر پڑ رہی تھی
امل انسٹاگرام پر کسی میک اپ ٹیوٹوریل میں کھوئی ہوئی تھی، جب اچانک موبائل پر یونیورسٹی کا میسج آیا
کل آپ کی کیمسٹری کلاس ہے، اور ہر اسٹوڈنٹ کی حاضری لازمی ہے۔
امل نے چونک کر موبائل کو گھورا۔ اب یہ کیا مصیبت ہے… وہ کچھ لمحے ساکت بیٹھی رہی
پھر جیسے کوئی پرانا جملہ ذہن میں گونجا۔۔۔
افتحار صاحب کی آواز
جب تک الیکشن نہیں ہو جاتے، تم کسی صورت یونیورسٹی نہیں جاؤ گی،
امل نے پلکیں جھپکیں، موبائل سائیڈ پر رکھا،
وہ جب سے یونیورسٹی نہیں گئی تھی جب سے امن پولیس اسٹیشن گیا تھا۔۔
کوئی نہیں… صبح بھائی سے پوچھ لوں گی۔
وہ کروٹ لے کر لیٹ گئی،
اور دوبارہ انسٹاگرام کی دنیا میں کھو گئی۔۔۔
+++++++++
صبح کی روشنی کھڑکی سے چھن چھن کر اندر آ رہی تھی۔ سب ناشتے کی میز پر موجود تھے
افتخار صاحب کے ہاتھ میں اخبار تھا،
انیسہ بیگم نے چائے کی پیالی تھام رکھی تھی۔۔۔
امل خاموشی سے بیٹھے چمچ ہلا رہی تھی،
امن کے چہرے پر زردی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں نیند کا بوجھ، اور اب بھی اس کا سر کچھ بوجھل تھا،
نہات بھی موجود تھا، بازو پر بلَسٹر،
میں گھر کیسے پہنچا؟ امن نے دھیمے آواز میں کہا
اخبار سے نظریں ہٹائے بغیر افتخار صاحب بولے
کسی گارڈ نے آئرہ گارڈ کو کال کی… وہ تمہیں اسپتال لے آئی۔ پھر اُس نے ہمیں اطلاع دی۔
ڈاکٹرز نے بتایا کہ تمہیں انجیکشن دیا گیا تھا… بے ہوشی کا۔ کچھ دیر میں ہوش آجائے گا۔۔۔وہاں چھوڑنا محفوظ نہیں تھا… ہم تمہیں گھر لے آئے۔
امن نے آہستہ سے کہا۔لیکن درد… اور یہ بخار؟
نہات نے لقمہ دیا۔ سائیڈ ایفیکٹ ہو گا انجیکشن کا۔
اچھا…
افتخار صاحب نے نگاہ اُس پر گاڑی،
تم بہت لاپروا ہو، امن… اپنے معاملے میں۔۔
ہم نے گارڈز کس لیے رکھوائے تھے؟
انہیں ساتھ لے کر نکلنا چاہیے تھا تمہیں…
ہم سے ہی غلطی ہو گئی، جو تمہیں بلوا لیا…
ہم خود آ جاتے تو یہ سب نہ ہوتا۔
جو ہونا ہوتا ہے… وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔
اس میں کسی کی غلطی نہیں، دادا۔
اتنے میں امل نے آہستہ سے کہا۔بھائی…؟
ہاں، بولو۔
یونیورسٹی سے میسج آیا ہے…
آج کیمسٹری کی کلاس ہے، سب کی حاضری لازمی ہے۔
افتخار صاحب نے فوراً سختی سے کہا
ہم نے تم سے کہا تھا… الیکشن کے بعد یونیورسٹی جانا۔۔۔
کیا؟ امن چونکا۔
تم اتنے دنوں سے یونیورسٹی نہیں جا رہی؟
نہیں بھائی… وہ آہستہ سے بولی،
دادا کیوں؟ آپ اسے کیوں روک رہے ہیں؟
افتخار صاحب نے گہری نگاہ سے امن کو دیکھا،
تم اپنی بہن کو جانتے ہو، امن۔ یونیورسٹی میں ہزار طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ہزار باتیں کریں گے تمہارے خلاف… وہ سن کر آئے گی، پھر ڈسٹرب ہو جائے گی ۔۔اور ریپر…؟ اس کا خطرہ اب بھی ہے۔
ریپر سے اسے کیا خطرہ ہو سکتا ہے؟ اس کا سیاست سے کیا لینا دینا…؟ وہ تو مجھے مارنا چاہتا ہے… امن نے سنجیدگی سے کہا
تو پھر نہات پر حملہ کیوں کیا اُس نے؟
جب سیدھی راہ سے کام نہیں بنے گا، تو ریپر اُلٹے راستے سے وار کرے گا۔
امل کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، مگر وہ تمہاری بہن ضرور ہے۔ جیسے نہات پر حملہ ہوا، ویسا ہی اِس پر بھی ہو سکتا ہے۔
ہم کیوں خطرہ مول لیں؟
اور بیٹیوں کے معاملے میں… ہم خطرہ نہیں لیتے، امن۔
انیسہ بیگم فوراً بول اٹھیں ہاں، ہاں رہنے دے تو نہ جا۔۔۔۔
امن نے تھوڑے وقفے کے بعد کہا
نہات پر حملہ اس لیے ہوا کیونکہ وہ میرے ساتھ کام کرتا ہے… وہ میرا پرسنل اسسٹنٹ ہے۔
اور مجھے لگتا ہے ریپر کا مقصد کچھ اور ہے…
وہ مجھے مارنا نہیں چاہتا،وہ مجھ سے… کچھ اور چاہتا ہے۔
نہات فوراً بولا بھائی، مجھے بھی یہی لگتا ہے…
لیکن وہ چاہتا کیا ہے؟
امل زیرِ لب بولی۔۔ خبیث… منحوس… اللہ پوچھے گا اُس سے۔
کسی کو ایسے نہیں بولتے، امل… امن نے نرمی سے کہا تمہیں یونیورسٹی جانا ہے؟ واقعی کوئی اہم کام ہے تو چلی جاؤ۔۔۔ یا اگر تُمہارا دِل چاہ رہا ہے تو بھی چلی جاؤ ریپر سے ڈر کر گھر میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
جی بھائی ٹھیک ہے۔۔۔ وہ کہتی اُٹھ گئی اور اپنے روم کی طرف بڑھ گئی۔۔
یُسرٰی، جو ایک کونے میں خاموش کھڑی تھی۔۔
امل کے پیچھے جانا چاہتی تھی،
مگر یہاں جو باتیں ہو رہی تھیں… وہ سنی جانی چاہیئں تھیں۔
امن کچھ بولنے ہی والا تھا کہ اس کی نظر یُسرٰی پر پڑ گئی۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ تم شیف ہو نا؟ تو اس وقت کچن میں ہونا چاہیے تھا… کچن کے علاوہ تم ہر جگہ کیوں نظر آتی ہو؟
یسرٰی کچھ کہنے والی تھی کہ انیسہ بیگم بول اٹھیں
اے ہاں، وہ اسی لیے… کہ اِسے کھانا بنانے کے سوا کچھ اور آتا ہی نہیں۔ جب رخسانہ اِسے لے کر آئی تھی، تب یہاں پہلے سے دو شیف موجود تھیں۔
اسی لیے اِسے ہم نے اَمل کے لیے رکھ لیا۔۔
اُسے تو روز روز کچھ نیا، کچھ انوکھا کھانے کا دل کرتا ہے، جو اُن دونوں کو سمجھ ہی نہیں آتا۔
یہی سمجھتی ہے، اور سچ تو بناتی بھی بہت اچھا ہے۔۔۔
دادی… امن نے انیسہ بیگم کو آنکھوں ہی آنکھوں سمجھایا ( ایک تو انیسہ بیگم کو تو ہر کسی پر ترس آ جاتا ہے… جب وہ شیف تھی تو پھر اِسے رکھا ہی کیوں؟)
اے چپ رہ، گھر کے معاملات میں نہ بول۔۔۔ انیسہ بیگم نے سختی سے کہا
امن نے تھکا ہوا سا سر ہلایا۔۔۔۔ مجال ہے جو انیسہ بیگم کبھی جو اُس کی بات کو سمجھ جائے
ٹھیک ہے، پھر آپ جاکے دیکھیں، امل یونی جا رہی ہے یا نہیں۔
انیسہ بیگم بڑبڑاتی ہوئی اٹھیں ہاں، ہاں…
اب امن کی نگاہ یُسرٰی کی طرف پلٹی۔۔۔
جاؤ… میرے لیے کچھ بنا کر لاؤ۔
میں بھی دیکھوں، کیسی شیف ہو تم۔
جی… یسرٰی خاموشی سے پلٹ گئی۔۔
بھائی… کیا بات ہے؟ نہات نے نرمی سے پوچھا،
امن کی نظریں میز پر جم گئیں۔ پھر اچانک اس نے سر اٹھایا، اور براہِ راست افتخار صاحب کی طرف دیکھا۔
دادا؟ آپ نے ظفر کو پیسے دیے؟ رشوت؟
فضا میں جیسے ساکت لمحہ اتر آیا۔ افتخار صاحب نے نہایت ٹھہرے ہوئے انداز میں، بنا پلک جھپکائے، وہی مشہور سیاسی انداز میں کہا
بالکل بھی نہیں۔
جھوٹ کہتے ہوئے اُن کے چہرے پر ذرہ برابر شکن نہ تھی۔ وہی پرسکون لہجہ، وہی گہری آنکھیں، جنہیں سچ چھپانے کی پرانی عادت تھی۔
دادا؟،
ہم نے پیسے نہیں دیے۔ تمہیں یقین نہیں تو خود معلوم کرلو۔
اور… آپ نے کہا تھا کہ میرے ماں باپ کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا؟
ہاں۔
امن کا سانس بھاری ہوگیا۔ لفظ اس کے ہونٹوں سے آہستہ آہستہ پھسلے، جیسے ہر حرف ایک یاد کو جنم دے رہا ہو۔
نہیں دادا… اُن کا ایکسیڈنٹ نہیں… اُن کا قتل ہوا تھا۔
نہات کا چمچ ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا۔ وہ چونک کر بولا بھائی! آپ کو یاد آ گیا؟
ہاں… کل رات… حادثہ ہوا… اور مجھے ایک لمحہ یاد آگیا… بس اتنا ہی۔
افتخار صاحب نے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹائی، اور گہری سانس لے کر بولے، دیکھو امن… ہم نے تم سے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔ تمہیں جو یاد تھا، ہم نے وہی دُہرایا۔ ڈاکٹروں نے منع کیا تھا کہ تمہیں صدمہ نہ دیا جائے… اگر ہم وہ سب کچھ بتاتے، تو شاید تمہارا دماغ اس کا بوجھ نہ اٹھا پاتا۔
نہات آہستہ سے بولا
بھائی… اُسی حادثے کی وجہ سے تو آپ کی یادداشت چلی گئی تھی۔ اور ابھی تک پوری واپس نہیں آئی… کیا آپ کو بچپن کا کچھ یاد آیا؟ اسکول، امی ابو، کے ساتھ گزرا ہُوا لمحہ؟
امن نے آہستہ سے سر ہلایا۔
نہیں… بس کل رات… صرف وہی منظر… وہ چیخ… وہ اگ کے شولے یاد آئے
نہات نے نظریں جھکا لیں۔ امن کو پوری طرح کچھ یاد نہیں آیا تھا وہ یہ سُن اداس ہوگیا تھا۔۔
تو… کس نے قتل کیا؟
امن کی نظریں اب دادا پر مرکوز تھیں۔
فکر نہ کرو… افتخار صاحب نے ٹھہرے انداز میں کہا، ہم نے بدلہ لے لیا ہے۔ ارتضیٰ تھا…مرتضیٰ کا بھائی… جائیداد کے لالچ میں اندھا ہو گیا تھا۔
کیا؟ امن کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔
ہاں… اسے جیل بھجوا دیا۔ اپنا خون تھا… مار تو نہ سکتے تھے… مگر اُس نے جیل میں خودکشی کر لی… اور اُس کی بیوی بھی صدمے سے چل بسی۔
امن کی نگاہیں میز پر جم گئیں… دل ابھی تک ماننے کو تیار نہ تھا۔
مجھے یقین کیوں نہیں آ رہا؟ آپ مجھے سے جھوٹ تو نہیں کہہ رہے؟
افتخار صاحب کی آواز میں اب خفگی تھی، شاید تھکن بھی۔ ہاں، تمہیں ہم جھوٹے لگتے ہیں نا؟ جاؤ… خود پتہ کرلو… چاہو تو پولیس اسٹیشن چلے جاؤ… یا چھوٹے دادا سے پوچھ لو۔
ہم صرف سیاست میں تھوڑے سے خودغرض ہیں… کیونکہ سیاست میں ایسا ہی چلتا ہے۔
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم قاتل ہیں، یا جھوٹے۔
یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے اُٹھے، اور نکل گئے…
نہات نے آہستہ سے پوچھا
بھائی…؟
everything is okay۔۔
امن نے سر نہیں ہلایا۔ نہ ہاں، نہ ناں۔
بس ایک لمحے کو خاموشی طاری ہو گئی…
پھر اُس نے آہستہ سے ظریں اُٹھائیں، اور نہات کے چہرے پر جم گئیں۔ اُس کی آنکھیں سرخ تھیں۔۔۔
نہ نیند سے، نہ رو لینے سے… بلکہ اُس اندر کی آگ سے جو انسان کو باہر سے نہیں، اندر سے جلا دیتی ہے۔
کچھ بھی… اوکے نہیں ہے، نہات…
امن کی آواز بہت مدھم تھی، لیکن ہر لفظ اپنی پوری شدت سے گونجا۔
جس لمحے سے مجھے وہ یاد واپس آئی ہے نا…
میں سو نہیں پایا۔
وہ رُکا… جیسے لفظوں کا بوجھ اٹھانا بھی مشکل ہو رہا ہو۔
وہ رات…بو وہ منظر…
جیسے میرے دل پر کسی نے دوبارہ چلایا ہو…
جیسے میں دوبارہ اُس لمحے میں تھا…
اور میں…
ہمیشہ کی طرح کچھ بھی نہیں کر سکا۔
اُس نے نظریں نیچے کر لیں، جیسے خود سے نظریں ملانا بھی گوارا نہ ہو۔
نہات کی آنکھوں میں بےبسی چھلکنے لگی۔
وہ اپنے مضبوط، خاموش بھائی کو ٹوٹتا ہوا دیکھ رہا تھا، اور اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ایسے لمحوں میں کیا کہا جاتا ہے۔
امن کے لفظوں میں وہ بوجھ تھا… جو برسوں سے دل میں دبا تھا، اور اب جب وہ یاد واپس آئی،
تو زخم پھر سے تازہ ہو گئے تھے۔
کچھ زخم… وقت نہیں بھرتا۔۔۔
بس ہمیں اُن کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔
لیکن جب وہ زخم دوبارہ کُھل جائیں…
تو ہر سانس… چبھتی ہے۔
کچھ ہی لمحے گزرے تھے کہ یُسریٰ، دوبارہ ڈائننگ ٹیبل پر نمودار ہوئی۔ اُس کے ہاتھ میں سفید ٹرے تھی، اور ٹرے میں رکھے دو کپ… جن سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔
امن اُس کی آمد سے چونکا۔ جلدی سے اپنی آنکھوں کی تھکن چھپائی اور خود کو نارمل کرتے ہوئے نظریں یُسریٰ کی طرف موڑیں۔
تم پھر آ گئی؟
اتنی جلدی بن بھی گیا؟ نہات نے حیرت سے پوچھا۔
یُسریٰ نے کندھے ہلائے۔ ہاں، اور نہیں تو کیا؟ پھر اُس نے نرمی سے ایک کپ ٹرے سے اٹھا کر نہات کے سامنے رکھا۔ یہ آپ کے لیے…
اور دوسرا کپ امن کے سامنے رکھتے ہوئے وہ تھوڑا سا جھک کر بولی اور یہ… آپ کے لیے۔۔۔
امن نے کپ کو دیکھا، پھر اُسے۔ مگر میں نے تو تمہیں ‘کچھ’ بنانے کا کہا تھا۔
یُسریٰ نے بےحد معصومیت سے کہا تو وہی تو بنایا ہے… کافی۔۔۔
میں نے ‘کھانے’ کا کچھ بنانے کو کہا تھا۔
کیا آپ اس وقت واقعی کچھ کھاتے؟ یسریٰ نے نرمی سے سوال کیا
امن تھوڑا چونکا، پلکیں سکیڑیں۔ کیا مطلب ہے تمہارا؟
مطلب یہ کہ… آپ ناشتہ کر چکے ہیں، تو ناشتے کے بہانے تو کچھ بننے سے رہا… اور دوپہر کے کھانے میں ابھی دیر ہے۔ اب اگر میں کچھ اور بناتی بھی، تو آپ شاید اسے چھوتے بھی نہیں… اس لیے، کافی۔ کیونکہ اس وقت اگر آپ کچھ پی سکتے ہیں، تو صرف یہی۔
نہات نے کا گھ سونٹ لیتے ہوئے سر ہلایا،
کتنی ریسرچ کر رکھی ہے بھئی بھائی پر… اُس نے آہستگی سے کہا۔
یسریٰ نہات کی اچانک بات پر کچھ پل کو بوکھلا سی گئی۔ اُسے ایک لمحے کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے۔ نظریں چُرائیں۔ لبوں پر ایک بےچین سی مسکراہٹ آئی، جو فوراً غائب بھی ہو گئی۔۔۔
ہمم… تنگ مت کرو نہ اسے۔۔۔ اَمن نے نرمی سے ٹوکا،
نہات کچھ بولا نہیں، بس خاموشی سے کافی پنی لگا۔۔
امن کافی کا سیپ لیٹے پھر بولا۔۔۔ تو تم نے ٹھان لی ہے کہ مجھے ایمپریس کر کے ہی دم لینا ہے؟
یُسرٰی کو جیسے اچانک جھٹکا سا لگا تھا۔
ایک لمحے کو اُس کے چہرے پر حیرت کا عکس پھیل گیا، پلکیں جھپکنا بھی بھول گئی وہ۔
کیا وہ پھر سے مذاق کر رہا ہے؟ کیا واقعی سنجیدہ ہے؟
ایک تو اُس کے لہجے اور چہرے سے اُسے کبھی کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔
وہ مذاق بھی سنجیدگی سے کرتا تھا۔
نہ چہرے پر کوئی شوخی، نہ لبوں پر مسکراہٹ،
نہ آنکھوں میں کوئی چمک…
بس ایک سیدھی، ساکت سی نظر،
جب کہ نِہات مذاق کرتا، یا اُسے تنگ کرتا،
تو اُس کے چہرے پر صاف صاف لکھا ہوتا تھا کہ وہ مذاق کر رہا ہے۔
آنکھوں میں شوخی ہوتی، لبوں پر دبی دبی سی مسکراہٹ،
اور آواز میں وہ مخصوص شرارت۔۔۔
مگر یہ شخص؟
اَمن؟
نہ چہرے پر ہنسی،
نہ آنکھوں میں چمک،
نہ لہجے میں کوئی اتار چڑھاؤ، جیسے وہ ہر بات ایک ہی لہجے میں کرتا ہو، چاہے مذاق ہو یا اعتراف۔
اُسے سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ کب وہ سنجیدہ ہے اور کب بس… اُسے الجھا رہا ہے۔
یُسرٰی کو لگا جیسے وہ لفظوں کے کانٹے چن رہی ہو
ہر جملے کو پرکھ رہی ہو،
ہر نظر کو تول رہی ہو…
مگر جواب پھر بھی صفر۔
اتنی حیران کیوں ہو رہی ہو؟
تم نے ہی تو کہا تھا… کہ اگر ایمپریس کرنے کی کوشش کرتی تو کافی لاتی۔ لو… اب لا کر پلا بھی رہی ہو۔
یُسرٰی نے گھبرا کر نظریں نیچی کیں،
پھر جلدی سے کہا، نہیں… میرا مطلب وہ نہیں تھا…
اللہ… میرا کہنا یہ تھا کہ…
ہاں، ہاں، بولو… میں سن رہا ہوں۔
کیا مطلب تھا تمہارا؟ امن نے یسریٰ کی طرف نظرے جمائے کہا
یُسرٰی کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے، کیسے کہے۔
کیا وضاحت دے؟
بالآخر، ہمت کرکے کہنے لگی
میرا مطلب یہ تھا کہ میں آپ کو ایمپریس کیوں کروں گی؟ آپ سے میرا کیا رشتہ ہے؟
نہات نے بے ساختہ ہنسی دباتے ہوئے کہا
ارے! رشتہ بنانے کے لیے ہی تو ایمپریس کر رہی ہو۔۔۔
(وہ خود بھی حیران تھا کہ امن، جو صرف اُس اور اَمل کے ساتھ ہی casual ہوتا تھا،
آج کسی اور سے بھی چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا! فحال امن کو تھوڑا سا ریلکس کرنے کا یہی ایک راستہ تھا۔۔ یسریٰ کو تنگ کرنا۔۔۔)
یُسرٰی نے فوراً پلٹ کر جواب دیا میں ان سے رشتہ کیوں بناؤں گی؟
نہات نے دھیمے مسکراہٹ کے ساتھ یسریٰ کو دیکھا۔۔
کیا میں ‘کیوں’ کا جواب دے دوں؟
یُسرٰی نے دونوں ہاتھوں سے کانوں کو پکڑ کر کہا
ایک منٹ… ایک منٹ… آپ دونوں مجھے جان کر تنگ کر رہے ہیں، نا
امن نے سنجیدہ انداز میں کہا
نہیں، میں تو بس اپنے سوال کا جواب چاہتا ہوں۔
یُسرٰی پھر بولی،
ابھی اگر آپ سیاستدان نہ ہوتے نا،
اور یُسرٰی آپ کے گھر میں کام نہ کر رہی ہوتی،
تو یُسرٰی آپ کو بتاتی، وہ بھی اچھی طرح۔۔۔
نہات نے منہ چھپا کر زور سے ہنسی دبائی
ارے بھئی! چِڑیا تو ناراض ہو گئی۔۔
امن نے بھی مسکرا کر سر جھٹکا اوہ ہو…
یُسرٰی نے فوراً گردن گھما کر نہات کو گھورا چِڑیا کسے کہا؟
نہات نے بے فکری سے کہا آپ کو۔۔۔۔
یُسرٰی کے چہرے پر ایک دم ناراضی چمکی،
تم چِڑیا، تُمہارا سارا خاندان چِڑیا۔۔۔۔
نہات نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں ہین۔۔۔۔
نِہات نے انتہائی معصومیت سے بولا
بھائی یہ لڑکی تو خاندان پے جارہی ہے۔۔۔
غلط بات ہے، یُسرٰی خاندان کو بیچ میں نہیں لیتے۔۔۔
یُسرٰی نے ناراضی اور معصوم غصے کے بیچ کہا
تو پھر اِس نے مجھے چِڑیا کیوں کہا؟
نِہات نے کندھے اچکائے کیونکہ تم ہو… چِڑیا۔۔۔
یُسرٰی نے ناک پھُلا کر، بازو سینے پر باندھتے ہوئے کہا
یُسرٰی بھی پھر تمہیں اور تمہارے سارے خاندان والے کو چِڑیا بولے گی۔۔۔ ہنہ۔۔۔۔
اَمن کی ہنسی دبی دبی سی نکلی، مگر وہ فوراً چہرے کو سنجیدہ بنا لیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
نِہات بے ساختہ ہنسا، بھائی کیا پاگل پیس ہے یہ۔۔
امن بھی اب دھیمِ سے مُسکرا رہا تھا۔۔۔ اور وہ منہ فولاتی یہاں سے نکل گئی۔۔۔ امن کا موڈ ٹھیک کرنے آئی تھی خود کا موڈ خراب کروا کر چلی گئی۔۔۔
امن نے کافی کا آخری گھونٹ لیا…
کافی تو واقعی اچھی بنی ہے۔۔۔۔ امن نے اعتراف کیا
واقعی۔۔۔۔ نہات نے بھی تقیق کی۔۔۔
یسریٰ کے ہاتھوں میں جادو تو تھا۔۔۔
++++++++++++++
کمرے میں ہلکی سی تاریکی تھی۔
پردے گِرے ہوئے تھے، صرف ایک کونے میں رکھا ٹیبل لیمپ جل رہا تھا جس کی مدھم زرد روشنی میں ریپر کا چہرہ نیم سائے میں ڈوبا ہوا تھا۔
اس کا رنگ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔
دانت بھینچے گئے تھے اور انگلیاں کرسی کے بازو پر انگلیوں کی پوروں سے چٹخ رہی تھیں۔
کیٹی کمرے میں قدرے فاصلے پر کھڑی تھی۔
نہایت سنجیدگی سے، دبے لہجے میں بولی
ریپر … امل یونیورسیٹی نہیں گئی۔۔۔
ریپر نے چونک کر گردن موڑی۔
آنکھوں میں وہی پرانی سفاکی… اور ماتھے پر ایک دم سلوٹیں نمودار ہوئیں۔
کیا؟
آواز میں حیرت کم، غصہ زیادہ تھا۔
ہاں، یسریٰ نے بتایا۔
افتخارِ صاحب نے اُسے منع کر دیا ہے۔۔۔
اُنہیں شک ہو گیا تھا… اور امل ڈر رہی ہے۔
اب وہ الیکشن کے بعد ہی گھر سے باہر نکلے گی۔
ڈر؟
ریپر کے لہجے میں ایک سرد ہنسی سی شامل ہو گئی۔
مجھ سے ڈر رہی ہے وہ؟
کیٹی نے آہستگی سے سر ہلایا۔
جی… اُس ڈر ہے کہ… آپ اُس پر بھی حملہ کروا سکتے ہیں۔
چند لمحے خاموشی چھائی رہی۔
پھر اچانک، کرسی پر بیٹھے ریپر نے مٹھیاں بھینچیں اور کرسی کے کونے پر جھکتے ہوئے غرایا
Shit…!!
اب وہ گھر سے نکلے گی ہی نہیں،
تو ہم اُسے اغوا کیسے کریں گے؟
فضا میں تناؤ کی شدت بڑھ گئی۔
مُجھے نہیں معلوم جیسے بھی کر کے اُسے میرے پاس لاؤ۔۔
کیٹی نے محتاط انداز میں ایک قدم آگے بڑھایا
ریپر… اُس کے گھر میں بہت سیکیورٹی ہے۔
گھر سے اغوا کرنا بہت رسکی ہوگا۔
ہم پکڑے جا سکتے ہیں۔۔۔۔
ریپر نے اس بار کرسی سے اُٹھتے ہوئے میز پر گھونسہ مارا۔
مجھے نہیں معلوم کیسے کرو…
چاہے گھر سے کرو یا اُس کے کمرے سے،
لیکن اُسے لے کر آؤ! کسی بھی قیمت پر۔
ریپر نے اچانک گردن اُٹھائی۔ آواز دبی ہوئی تھی مگر ایک زہریلی سرد مہری سے لبریز
امل گھر سے نہیں نکل رہی نا؟
کیٹی نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا۔
ریپر کی آنکھوں میں ایک خبیث سی چمک ابھری۔
وہ سیدھا ہوا، کرسی کی پشت پر ہاتھ ٹکایا اور پھر ایک ایک لفظ چبا کر بولا تو اُسے گھر سے ہی اٹھا لو۔۔۔۔اور اِس میں یسریٰ کی مدد لو۔
کیٹی کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔
ی۔۔۔ یسریٰ؟ وہ واقعی حیران تھی۔ مگر وہ تو اُن کے ساتھ۔۔
اور اسی لیے۔۔۔ ریپر نے بات کاٹی۔
کیوں کہ وہ اُن کے قریب ہے۔ اُن کے گھر کے اندر ہے۔
جو کام باہر سے نہ ہو سکا، اب اندر سے ہوگا۔۔۔
اور اگر ہم نے امل کو اُس کے ہی کمرے سے اٹھا لیا۔۔۔
وہ لمحہ بھر کو رُکا، پھر سرگوشی جیسی آواز میں کہا
تو ریپر کا خوف لوگوں کی رگوں میں اُتر جائے گا…
کیٹی نے آہستہ سے پوچھا
اگر یسریٰ نے انکار کر دیا تو…؟
ریپر کا چہرہ مزید تاریک ہو گیا۔
پھر اُسے مجبور کرو… اُس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
کیٹی نے سر ہلایا اور یہاں سے نکل گئی۔۔
+++++++++++
کمرہ نیم تاریک تھا، باہر سورج کی روشنی شیشے سے چھن کر اندر آ رہی تھی، لیکن کمرے کے اندر تینوں چہروں پر اک عجیب بے چینی کا سایہ تھا۔
کیٹی نے سرد لہجے میں کہا کال ملاؤ اسے…
ٹویٹی، جو اب تک اپنے فون میں لگی ہوئی تھی، چونک کر بولی، کیسے…؟
وہی… یُسرٰی کو۔
کیٹی کی آواز میں اک تحکمانہ کرختگی تھی۔ جیسے کوئی ضدی شہزادی اپنے ادھورے حکم کو مکمل کر رہی ہو۔
ذوزی نے گردن ٹیڑھی کر کے کیٹی کو دیکھا،
کیوں؟ اُس نے کیا کیا؟
کیٹی نے ایک گہری سانس لی۔ پلکیں اٹھائیں، اور آہستہ سے بولی، اللہ کرے وہ کچھ کر ہی دے … ریپر ہر معاملے میں اُسے گھسا رہا ہے۔ مجھے تو عجیب سا ڈر لگنے لگا ہے…
ٹویٹی نے فون ایک طرف رکھا اور کچھ تمسخرانہ انداز میں ہنسی،نتمہیں ڈر لگ رہا ہے؟ یا تم جَیلَس ہو رہی ہو یُسرٰی سے…؟
میں؟ کیٹی کی ہنسی کھوکھلی سی تھی، جیسے کسی نے اُس کے زخم پر نمک چھڑکا ہو۔
میں کیوں جیلَس ہوں گی اُس سے؟ وہ میرے مقابلے کی ہی نہیں… میں کہاں، وہ کہاں…
زوزِی نے آنکھوں میں شرارت لیے کہا،
مگر ہمیں تو لگ رہا ہے کہ تم ہو رہی ہو…
کیٹی نے دانت پیستے ہوئے کہا،
بکواس مت کرو… زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں… اور فون ملاو۔
ٹویٹی نے مسکراتے ہوئے ہاتھ اٹھا دیے،
اچھا اچھا… غصہ کیوں کر رہی ہو۔۔۔
کمرے میں تھوڑی ہی دیر بعد یُسرٰی کی آواز گونجی،
ہاں، بولو؟
آواز میں سادگی تھی، لیکن ساتھ ساتھ ایک غیر محسوس بے نیازی بھی۔ جیسے اُسے معلوم ہو کہ کون فون کر رہا ہے اور کیوں۔
کیٹی کے چہرے پر پل بھر کو بے چینی جھلکی، اُس نے نگاہوں سے ٹویٹی کو خاموش رہنے کا اشارہ دیا، پھر خود بولی تُم سے ایک کام ہے …؟
یُسرٰی دوسری طرف خاموش ہوئی، جیسے حیرت ہوئی ہو…
کیا کام ؟ تُم لوگوں کا تو كام کر رہی ہوں میں۔۔۔
ہمارا نہیں ریپر کا۔۔۔ کیٹی نے سرد لہجے میں کہا
وہی ریپر کا کام، تمہارا کام نہیں ہے؟
کیٹی نے دانت کہا پیسے، بات سنو اِدھر میری… ریپر کا حکم ہے، ہمیں اَمل کو اغواہ کرنا ہے۔
ہاں معلوم ہے… تو کرو۔
کیٹی کی آنکھوں میں غصہ اب دھواں بن کے اٹھ رہا تھا۔یُسرٰی۔۔۔ وہ دھاڑی، یہ مذاق نہیں ہے۔
یُسرٰی نے ٹھنڈے لہجے میں کہا ہاں یُسرٰی ہی بول رہی ہوں… بولو۔
یُسرٰی… ہمیں تمہاری مدد چاہیے اَمل کو اغواہ کرنے میں۔
نہیں بھئی، نہیں۔ یُسرٰی یہ سب کام نہیں کرتی۔
یہ باس کا حُکم ہے۔ کیٹی نے وارن کیا۔۔
تو جو میرا کام ہے، میں وہی کروں گی۔
تمہارے پاس خاندان کے نام پر ایک ہی شَخص موجود ہے، یُسرٰی۔ کیٹی نے یسریٰ کو دھمکانا چاہا۔۔
ہاں تو؟ یسریٰ نے آرام سے کہا اتنی معصوم اور شریف وہ تھی نہیں جتنی بنتی تھی۔۔۔
اوہ… کیسی پاگل لڑکی ہو تم۔۔ کیٹی نے غصے سے کہا
اب پارا ہائیں یسریٰ کا ہُوا تھا۔۔
پھر یُسرٰی کو پاگل بولا؟ تم پاگل، تمہارا سارا خاندان پاگل… یُسرٰی یہ سب نہیں کرے گی۔ اور نہ تمہاری بات مانے گی۔ جاؤ کسی اور کے پاس… ہش ہش۔۔۔
کیٹی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ میرا نام کیٹی ہے میں سچ کی بلی نہیں ہوں جو تُم ایسے مُجھے بھاگا رہی ہو۔۔۔
ایک ہی بات ہے۔۔۔ یسریٰ نے ناگواری سے کہا
یُسرٰی، زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے… میں جو کہتی ہوں، وہی کرو۔۔۔
یُسرٰی کی آواز اب ایک دم بدل گئی،نرم، لیکن ٹھوس… مجھے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے… اگر ریپر میری ایک بات مان لے، تو میں اَمل کو خود تم لوگوں کے پاس لے آؤں گی۔
کیٹی نے چونک کر کہا کیا؟ ریپر تمہاری بات مانے؟
یُسرٰی نے سنجیدگی سے کہا ۔۔ ہاں… اور اگر نہیں، تو جاؤ، جو کرنا ہے کر لو۔ اور ہاں، میں ایک بات صاف کر دوں…یُسرٰی کا کوئی خاندان نہیں ہے۔ یُسرٰی اکیلی ہے۔۔۔
تمہاری دادی؟ وہ حیرانی ہوئی۔۔
وہ میری سگی دادی نہیں ہیں… وہ تب ہمارے گھر کام کرتی تھیں جب میرا خاندان زندہ تھا۔ اُن کا خاندان ہے، یُسرٰی کا نہیں۔ یسریٰ کا کوئی خاندان نہیں ہے یسریٰ اکیلی ہے،
تو وہ تمہارے ساتھ کیوں رہتی ہیں؟
بس… ترس کھاتی ہیں مجھ پر۔ اور میں اُنہیں استعمال کرتی ہوں… یُسرٰی صرف لوگوں کو استعمال کرتی ہے۔
لیکن اُس لمحے…
یُسرٰی کی آنکھوں میں ایک تیز چمک ابھری۔
کسی کی موجودگی کا احساس ہوا…
کوئی اُس کے بہت قریب تھا…
کسی کی خوشبو نے اُس کے ہوش اُڑا دیے…
وہ پلٹی۔۔۔
اور وقت ٹھہر گیا۔
سامنے، دروازے کے پاس… وہ کھڑا تھا۔
سیاہ لباس میں، خاموش، چہرے پر وہی سنجیدگی لیے
کیا اُس نے سب سن لیا؟؟
یُسرٰی کا دل یک دم جیسے سینے سے باہر نکلنے کو تھا۔ دھڑکنیں بے ترتیب تھیں، سانس حلق میں اٹک گئی تھی۔ لمحہ بھر کو اُسے کچھ سنائی دینا بند ہو گیا… اور پھر… صرف ایک آواز سنائی دی۔
کِس سے بات کر رہی تھی؟
اَمن نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
یُسرٰی لاشعوری طور پر ایک قدم پیچھے ہوئی۔
وہ پھر ایک قدم آگے بڑھا۔
یُسرٰی نے پھر پیچھے قدم لیا…
لیکن اب پیچھے دیوار تھی۔
فاصلے ختم ہو چکے تھے۔
اور جیسے مقدر نے فیصلہ دے دیا ہو۔۔
یُسرٰی ہار گئی… اَمن جیت گیا۔
کس سے بات کر رہی تھی؟ امن دوبارہ پوچھا
یُسرٰی کے ہونٹ خشک، آواز دھیمی تھی دوست سے۔
کس کو استعمال کر رہی ہو، یُسرٰی؟
اُس کی آنکھیں یُسرٰی کے دل میں اترتی جا رہی تھیں۔
وہ فرار چاہتی تھی، لیکن لفظوں کی زنجیر میں جکڑی ہوئی تھی۔
کسی کو نہیں…
اَمن نے ایک قدم مزید قریب ہو کر، سرگوشی کے انداز میں کہا کیا میں تمہاری بات دہراؤں؟
یُسرٰی نے سر جھکاتے ہوئے نہیں…
پھر؟
وہ لمحہ… لمحہ نہیں تھا، کوئی قید خانہ تھا جس میں یُسرٰی کی سچائی گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی۔
دنیا اُسے چور بولے
دنیا اُسے جاسوس کہے
دنیا اُسے مجرم سمجھے
دنیا اُسے خودغرض جانے
دنیا اُسے کوسے
دنیا اُسے برا بھلا کہے
تو اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا…
لیکن یہ شخص…
یہ اُسے کچھ نہ کہے
یہ اُسے چور نہ سمجھے
یہ اُسے جاسوس نہ سمجھے
یہ اُسے مجرم نہ جانے
یہ اُسے خودغرض نہ بولے…
یُسرٰی نے آنکھیں بند کر کے، جیسے خود سے نفرت کرتے ہوئے کہا
کسی کو نہیں۔۔۔
وہ کچھ پل اُسے دیکھتا رہا… ‘ٹھیک ہے‘… بس اتنا کہا اور یہاں سے نکل گیا…
یُسرٰی… وہ تمہیں کبھی قبول نہیں کرے گا… (دادو کی آواز اُس کے کانوں میں گونجی…)
اَمن کو جھوٹے لوگوں سے سخت نفرت ہے۔۔۔
پھر وہ مسکرائی…
‘میں اُسے اپنے قابل بنا دوں گی، دادو…’ وہ خود سے بولی اور فون کو دوبارہ کان سے لگایا…
جہاں کیٹی کی آواز اُبھر رہی تھی… یُسرٰی، سب ٹھیک ہے؟؟’
یُسرٰی نے گہرا سانس لیا، جیسے اپنا بکھرا وجود سمیٹ رہی ہو۔
ہاں… سب ٹھیک ہے۔ میں آرہی ہوں ریپر سے میں خود بات کرونگی۔۔۔
+++++++++++++++
یُسرٰی نے جیسے ہی اِفتخار محل کے بڑے، گہرے سناٹے میں لپٹے دروازے سے باہر قدم رکھا، اُس کے قدم رُک گئے۔ سامنے لان کی روشنیوں وہ آتی دیکھائی دی آیرا…
آیرا قریب آتے ہی بولی:
سر کہاں ہیں؟ اُنہیں بل ماؤ۔
یُسرٰی نے ایک گہری، سپاٹ نظر آیرا پر ڈالی۔
نوکر نہیں ہوں میں تمہاری۔
لہجے میں کچھ ایسا تھا، جو آیرا کو لمحہ بھر کو چپ کرا گیا۔
What??
آیرا بھونچکا رہ گئی۔
میرے ساتھ آؤ۔
وہ بولی اور آگے بڑھی، ایرا کو درائنگ روم کے باہر کھڑے رہنے کا اشارہ کیا، اور خود اندر داخل ہوگئی۔
درائنگ روم کی روشنیوں میں امن بیٹھا تھا۔ اُس کے سامنے ایک نسبتاً اجنبی چہرہ۔۔ ارباز۔
یُسرٰی نے نرمی سے، لیکن گہری نگاہ کے ساتھ کہا
آیرا آئی ہے… کیا آپ کو جانا ہے؟
امن نے گردن موڑی۔ ایک پل کو سوچا، پھر دھیرے سے بولا:
نہیں… اُس کو باہر ہی کہیں بٹھا دو، میں ان سے فارغ ہو کر ملتا ہوں۔
ارباز نے مسکرا کر ہاتھ بڑھایا
آپ بےفکر رہیں، میرا کام تو مکمل ہو چکا ہے… اب آپ اُن سے مل لیں۔
پھر وہ جھکا، اور قدرے رازداری سے بولا
ویسے بھی… آپ کے لیے یہی بہتر ہے کہ میرا نام پردے میں ہی رہے۔ ریپر کو میرے تعلق کا علم ہوا تو خطرہ بڑھ جائے گا… اور سیاست میں راز ہی طاقت ہے، سر۔
امن کی نگاہیں جیسے کسی دُور خلا میں دیکھنے لگیں۔
تم میرے پارٹی میں سرمایہ کاری کیوں کرنا چاہتے ہو؟ تمہیں تو پتہ ہے کہ اِس پارٹی کو… اور مجھے…
ریپر سے خطرہ ہے۔
ارباز کے چہرے پر ایک خفیف سا تبسم ابھرا۔
کیونکہ خطرہ وہیں ہوتا ہے جہاں اثر ہوتا ہے، سر…
اور آپ… اثر رکھتے ہیں۔
اور سر۔۔۔ میں کاروباری آدمی ہوں، امن۔ خطرے کے بغیر کوئی منافع نہیں ملتا۔ ریپر کو صرف سیاستدانوں سے نفرت ہے… کاروباری لوگ اُسے تب تک بُرے نہیں لگتے، جب تک وہ اُس کے سامنے نہ آئیں۔ بس… میرا نام پارٹی سے جوڑیئے گا مت۔ باقی فنڈز، سوشل میڈیا سپورٹ، یہاں تک کہ خفیہ تعلقات تک، سب آپکے۔
امن نے گہری سانس لی۔ تمہیں مجھ پر یقین ہے؟
ارباز نے مسکرا کر کہا نہیں۔ مجھے اپنی چالوں پر یقین ہے۔
یُسریٰ دروازے پر کھڑی یہ مکالمہ سُن رہی تھی۔ دل میں ایک اور دھڑکا بجا… امن کی دنیا، رشتوں سے زیادہ سودے بازی کی دنیا تھی۔
اور وہ چاہتی تھی کہ امن اُس دنیا سے نکل آئے… صرف اُس کے لیے۔
مجھے صرف فنڈز چاہیے… بس۔
میڈیا کی حمایت، خفیہ تعلقات یا کسی طاقتور کی پشت پناہی نہیں۔
ارباز نے نرم لہجے میں مسکرایا، جیسے وہ امن کی سادگی پر دل ہی دل میں ہنسا ہو۔
امن صاحب… آپ اچھے انسان ہیں، شاید بہت اچھے۔
لیکن یہ سیاست ہے، یہاں صرف اچھا ہونا کافی نہیں ہوتا… یہاں یا تو آپ کسی کے پیادے بنتے ہیں، یا بادشاہ۔ اور بادشاہ ہمیشہ پیادوں کی قربانی دے کر بنتا ہے۔
امن کی آنکھوں میں لمحہ بھر کو الجھن اُتری، جیسے کوئی کٹھن بات سُن لی ہو۔
میری جنگ اقتدار کے لیے نہیں…
میرے لوگ میرے نظریے پر یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے میرا اخلاص کافی ہے۔
اخلاص، نیت، سچائی… یہ سب اچھی باتیں ہیں،
لیکن الیکشن بینرز سے نہیں جیتے جاتے، بیلنس شیٹس سے جیتے جاتے ہیں۔
آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ میرا نام خاموشی سے رکھیں…
باقی… سب میں سنبھال لوں گا۔
پھر اُس نے میز پر پڑے چیک بُک کی طرف اشارہ کیا۔
یہ سیاست ہے امن، یہاں خلوص سے جیتنے والوں کو یا تو قتل کر دیا جاتا ہے… یا استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ آپ کیا بننا چاہتے ہیں؟
یُسریٰ جو اب تک چُپ کھڑی تھی، آہستہ سے بولی
اور اگر امن صاحب ان دونوں میں سے کچھ بھی نہ بننا چاہے…؟
ارباز نے لمحے بھر کو اُس کی طرف دیکھا…
تو پھر وہ سیاست کا نہیں، قربانی کا بکرا بنے گے…
امن نے گہری نظرے ارباز پر ڈالی پھر بولا
تم میرے ساتھ ہو، تو میرے طریقے سے کام کرو۔
ورنہ… تم جا سکتے ہو،۔
اور ایسے امن، ایک پل میں بےایمان لوگوں کو اپنی زندگی سے بےدخل کر دیتا تھا۔
یہ سُن کے یسریٰ کا دل زور سے دھڑکا…
اسی بات سے تو وہ ڈرتی تھی۔۔
امن کے اصولوں سے، اُس کے فیصلوں کی کاٹ سے۔
وہ جانتی تھی…
جس نے کبھی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بےایمان چہروں کو نکال پھینکا،
وہ کل کو اُس کی سچائی جان کر شاید اُسے بھی اپنی زندگی سے بےدخل کر دے۔وہ کبھی اُسے اس کی سچائی کے ساتھ قبول نہیں کرے گا۔۔۔
ارباز نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ٹھیک ہے… سمجھ گیا۔ آپ… میری اُمیدوں پر پورے اُترے۔
امن نے چونک کر اُسے دیکھا،
ارباز کے چہرے پر اُس خاص قسم کا فخر جو کسی راز سے پردہ اُٹھا دے
اتنے سب کچھ کے بعد بھی آپ اپنی جگہ قائم ہیں…
نہ دباؤ میں آئے، نہ جھکے…
نہات نے بتایا تھا… لیکن مجھے یقین نہیں آیا۔
میں نے کہا، چلو آزما لیتے ہیں۔۔۔
شاید وہ بھی باقی سیاستدانوں کی طرح نکلے…
لیکن نہیں…
ارباز نے میز پر ہلکا سا انگلی سے ٹھک ٹھک کی، جیسے کوئی آخری مہریں ثبت کر رہا ہو۔
آپ خطرناک آدمی ہیں، امن…
کیونکہ آپ خریدے نہیں جا سکتے۔
اور جو خریدے نہ جا سکیں، وہ یا تو مار دیے جاتے ہیں…یا تاریخ بنا دیتے ہیں۔
امن خاموش رہا،
میں اب جان گیا ہوں… آپ کو سپورٹ کرنا نقصان نہیں، سرمایہ کاری ہے…
اور میری عادت ہے، وقت پہ صحیح جگہ پیسہ لگانے کی۔
فکر نہ کریں… آپ کا نام بھی محفوظ، میری سپورٹ بھی محفوظ…
میں آپکے ساتھ ڈیل کرنے کے لئے تیار ہوں آپکی مرضی پر۔۔۔
ٹھیک ہے میں سوچ کر جواب دونگا۔۔۔۔ امن نے بس اتنا کہا اور ارباز امن سے ہاتھ ملتا یہاں سے نکل گئی۔۔۔یسریٰ ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔۔۔امن کا رُخ اب اُس کی طرف ہُوا۔۔۔
تُم سے میں نے کیا کہا تھا؟ اور یہ تُم نے کیا کہا؟ اُس کا مطلب؟
یُسرٰی نے چند لمحے خاموشی اختیار کی، پھر نظریں جھکائے آہستگی سے بولی سوری…
کچھ پل کی خاموشی دونوں کے درمیان چاہ گئی پھر یسریٰ نے سر جھکائے اور کہا
میں ایرا کو بھیجتی ہوں۔۔۔ اتنا کہا اور نکل گئی۔۔۔
++++++++++++++++
آپ بُرا نہ مانے تو ایک بات بولو؟ ایرا نے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی کہا۔۔۔
امن نے نظریں میز پر رکھے چیک بُک سے ہٹا کر اُس کی طرف دیکھا، ہلکا سا سر ہلایا۔
ہمم… پوچھو۔۔
وہ لڑکی کون تھی؟
کون لڑکی؟
جو ابھی باہر گئی ہے… جس نے مجھے اندر آنے کا کہا
یُسرٰی۔ شیف اسسٹنٹ ہے۔ دادی نے رکھا تھا۔
اچھا ۔۔۔ لیکن وہ اندر اتنی دیر کیا کر رہی تھی؟
امن نے مختصر سا جواب دیا
کچھ بھی نہیں۔ کھڑی تھی۔
سر، وہ ایک ملازمہ ہے… اور شاید آپ انویسٹر سے بات کر رہے تھے۔
آپ کو معلوم ہے ریپر آپ کے پیچھے ہے… اور آپ نے ایک ملازمہ کے سامنے سب باتیں کر ڈالیں؟
امن نے پرسکون لہجے میں کہا ہاں۔
اوہ… تو کوئی پرانی ملازمہ ہوگی؟ تبھی آپ کو اُس پر اتنا اعتماد ہے؟
امن نے چند لمحے خاموشی اختیار کی، پھر دھیرے سے بولا پرانا نیا… یہ فرق دل کے فیصلوں میں نہیں چلتا۔ مجھے اُس کے پاس سے… اچھی وائب آتی ہے۔
آیرا کی بھنویں تن گئیں، کیا مطلب؟ اچھی وائب؟
یعنی اُس کے پاس بیٹھ کے منفی محسوس نہیں ہوتا۔
اگر منفی ہوتا… تو وہ یہاں، میرے آس پاس… ہوتی ہی نہیں۔ اور ویسے بھی…
میں ریپر کے خلاف کوئی خفیہ جنگ نہیں لڑ رہا… جو مجھ پر سایوں کا خوف ہو۔
میرا اندر… میرے باہر جیسا ہی ہے۔
مُجھے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
اور تمہیں کیسے پتہ میں انویسٹرز سے بات کر رہا تھا؟
وہ باہر کسی ملازم نے بتایا یسریٰ تو اندر ہی رہ گئی تھی۔۔
لو دیکھ لو گھر کے ہر ملازم کو پتہ ہے کہ میں انویسٹرز سے بات کر رہا تھا۔۔۔ مُجھے اس سب معاملے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔
آیرا خاموش ہو گئی۔ جیسے اُس کے پاس اب کوئی دلیل نہ تھی۔ کچھ لمحے گزرے، پھر وہ بولی
ٹھیک ہے، جو آپ کو مناسب لگے۔
بس بتائیں… مجھے یہاں کیوں بلایا؟
امن نے سامنے صوفے کی طرف اشارہ کیا بیٹھو تو۔
آیرا بیٹھ گئی۔۔جی؟
امن کا لہجہ اب بالکل مختلف تھا۔
جب میرا ایکسیڈنٹ ہوا…
تو تم مجھے ہسپتال لے کر گئی تھیں؟
آیرا چونکی،جی… ہاں۔
جب تم وہاں پہنچیں…
تو میں کہاں تھا؟
کیا میرے علاوہ کوئی اور وہاں موجود تھا؟
آیرا نے ذہن پر زور دیا،
نہیں۔ مجھے جب کال آئی، میں فوراً پہنچی… آپ گاڑی میں تھے، بےہوش پڑے ہوئے۔ ڈرائیور کو گولی لگی تھی، اور باقی سارے گارڈز بھی زخمی تھے۔
امن نے گہری سانس لی۔ اچھا…شکریہ۔
آپ کو اکیلے نہیں نکلنا چاہیے تھا…
آیرا کی آواز میں شکایت بھی تھی اور تشویش بھی۔
وہ اب اُس کے بالکل سامنے بیٹھی تھی، جیسے کوئی سپاہی اپنے بادشاہ کو بلا اجازت میدان میں اُترتے دیکھ لے، اور اب اُسے روکنا چاہے، چاہے نرمی سے ہی سہی۔
ہاں… معلوم ہے مجھے۔ امن نے دھیمے سے کہا
ہم آپ کی حفاظت کے لیے رکھے گئے ہیں، سر۔
آیرا اب سنجیدہ تھی، اُس کے الفاظ میں جذبہ تھا،
میں اور ارحم… ہر وقت آپ کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
صبح ہو یا رات کے تین بجے،
بس ایک کال، اور ہم آپ کے پاس موجود ہوں گے۔
لیکن آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا،
پولیس کے ہوتے ہوئے بھی… آپ خطرے میں تھے۔۔
امن چند لمحے اُسے دیکھتا رہا۔۔ہمم
امن نے دھیرے سے سر ہلایا،۔آئندہ خیال رکھوں گا۔۔۔
پھر اُس نے ذرا سا رُک کر، اُسی مخصوص انداز میں، کہا اچھی سیکیورٹی گارڈ ہو تم۔ اپنے کام کے ساتھ وفادار ہو۔۔۔
آیرا کا چہرہ لمحہ بھر کو سپاٹ ہوا۔
لیکن پھر اُس نے نظریں جھکا لیں،، جیسے کوئی جنگجو جسے بس اتنا ہی سننا تھا کہ بادشاہ اُس کی وفاداری پہ مسکرا دیا ہے۔
امن دیکھ نہ سکا ماسک کے پیچھے وہ اُس کا چہرا بلش کر رہا تھا۔۔۔
+++++++++++++
یُسریٰ نے دھیرے سے نظریں اُٹھائیں۔
بادلوں کی اوٹ سے جھانکتی شام کی کرنوں نے اُس کے چہرے پر ایک روحانی سا عکس ڈال دیا تھا۔ لبوں پر لرزش تھی، اور آنکھوں میں وہی اٹل یقین، جو صرف اُسی کے پاس تھا۔
بولو… منظور ہے؟ امن میرا، امل تمھاری۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ اگر آمَن سیاست چھوڑ دیتا ہے، تو میں اُسے چھوڑ دوں گا۔۔۔ صرف تمہارے لیے۔ لیکن جب تک وہ سیاست نہیں چھوڑتا جب تک میں جو چاہوں اُس کے ساتھ کر سکتا ہوں۔۔۔ ریپر کی سرد ٹھنڈائی آوازِ گونجی ۔۔۔
یسرٰی کے لبوں پہ ہلکی مسکراہٹ آئی، جیسے دل نے پہلی بار سُکھ کا سانس لیا ہو۔
ڈِیل۔۔۔
ریپر نے تلخی سے آنکھیں سکیڑیں،
کیسی خودغرض محبت ہے تُمہاری۔۔۔؟
یسرٰی نے نظریں جھکائیں، مگر لہجے میں بےنیازی کی تپش تھی۔
ہاں، میں خودغرض ہوں۔ مجھے بس ‘میں’ نظر آتی ہوں۔۔۔ میرا دل۔۔۔ اور وہ۔
میں اُسے پانا چاہتی ہوں۔۔۔ اپنے لیے۔۔۔ اور صرف اپنے دل کے لیے۔۔۔
ریپر کی آنکھوں میں کوئی پرانی یاد چمکنے لگی۔
اور وہ؟ اُس کا کیا؟ اُس کے دل کا کیا…؟
یسرٰی نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر دھیرے سے بولی۔۔
اگر اُس کا سوچا… تو خود کو مٹانا پڑے گا۔
میں دو کناروں پر نہیں کھڑی رہ سکتی۔
یا وہ… یا میں۔
میری محبت… میری اپنی بقا کے خلاف جا چکی ہے۔
اور میں اب مزید بکھرنے کی ہمت نہیں رکھتی۔۔۔
ریپر نے اُسے دیکھا، جیسے ایک آئینہ… جو صرف درد کی عکاسی کرتا ہو
بادلوں کے پیچھے چھپتا سورج جیسے تھک کر اپنی روشنی واپس لے رہا تھا،
اور یُسرٰی… وہ وہیں کھڑی تھی،
جیسے اُس کے اندر ایک آخری چراغ ابھی بجھنا باقی ہو۔
ریپر چند لمحے اُسے تکتا رہا…
پھر آہستگی سے سر جھٹکا، اور بولا
تم نے جو مانگا، وہ مل گیا۔
اب دیکھیں… تُمہاری یہ خودغرض محبت امن کو کیا بناتی ہے… یا کیا چھین لیتی ہے۔
وہ پلٹا گیا اور یسریٰ اُسے جاتے دیکھتی رہی۔۔۔
+++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
