SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 8.

سکوت قسط نمبر:۸

ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔

قسط نمبر : ٣ (حصّہ اوّل) 

              

       التباس 

یہ جو کہانی ہے، مکمل سچ نہیں لگتی۔

ہر ایک لفظ میں کوئی التباس رکھا ہے۔

کچھ باتیں کہہ دی گئیں، کچھ دفن رہنے دیں،

اسی ادھورے پن میں ایک راز رکھا ہے۔

جو ہم نے دیکھا، وہی سب کچھ نہیں تھا،

پسِ منظر میں بھی اک اور احساس رکھا ہے۔

یقین کی روشنی بھی دھندلی سی لگتی ہے،

یہاں ہر سچ کے ساتھ ایک لباس رکھا ہے۔

خاموشیوں نے بہت کچھ کہہ دیا آخر،

لفظوں سے زیادہ ہم نے راز رکھا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

“تمہارا وسیلہ بننا یاد رکھوں گی۔”

 ہواؤں نے الگ ہی ساز بکھیرے تھے۔ پہاڑوں نے معنی خیزی سے نظروں کا تبادلہ کیا تھا۔ چاروں طرف پھیلے سکوت میں انجانی سی سرگوشیاں گونجنے لگیں۔

صاحبہ نے مدھم مسکراہٹ سے اسے دیکھتے ہوئے کہا، اور بنا اس کا کوئی جواب سنے، سامنے سے ہٹ کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئی۔

جبکہ صاحبہ کے الفاظ اور مدھم مسکراہٹ پر ازمیر ساکت ہو گیا تھا۔

“صاحبہ مسکرائی؟”

ازمیر کو دیکھ کر؟

اس احساس سے بے اختیار، ازمیر نے چہرہ آسمان کی جانب بلند کیا اور دل ہی دل میں وسیلہ بنانے والے کو شکریہ کہا، اور پھر گہرا سانس بھرتے ہوئے اپنی کار کی طرف بڑھ گیا۔

صاحبہ کی کار اپنے پاس سے گزرتے دیکھ کر ازمیر مطمئن ہوا، اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔

“تمہارا وسیلہ بننا یاد رکھوں گی۔”

اس کا خوبصورت مسکراتا چہرہ، اس کی وہ ہلکی بھوری آنکھیں۔

ازمیر گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے ہلکا سا مسکرا رہا تھا۔ ایک الوہی چمک اس کے چہرے پر پھیلی تھی۔

اسلام آباد کے کونے کونے میں جیسے بہار اتر آئی تھی۔

یوں ہی ڈرائیو کرتے ہوئے ازمیر کی نظر اچانک سامنے شیشے پر گئی اور… اور یک دم گاڑی کو بریک لگی۔ گاڑی جھٹکے سے رک گئی۔

ازمیر کی حیرت میں ڈوبی نگاہیں سامنے شیشے میں نظر آتی اپنی سیاہ آنکھوں پر ہی جم گئیں۔

ان میں ایک چمک تھی۔ ایک ایسی چمک جس نے ازمیر کو تھوک نگلنے پر مجبور کر دیا تھا۔

وہ اسٹیئرنگ ویل پر زور سے ہاتھ مارتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلا۔

ہر طرف پھیلتے اندھیرے میں، سنسان سڑک پر، سیاہ گاڑی کے سامنے، پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، وہ دور بلند پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا۔

ہوا سے اس کے بال دائیں جانب اڑ رہے تھے۔ سنجیدہ تاثرات، سپاٹ نظریں، اور ذہن میں باتیں کسی بھنور کی طرح گردش کر رہی تھیں۔

میں ازمیر علی ہوں۔

ایک مشہور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون اور پراسیکیوٹر۔ میری اپنی ایک دنیا ہے، اور اُس دنیا میں میرے سوا کوئی رہائشی نہیں ہے۔

میں کسی کے سامنے نہیں جھکتا، کیونکہ جھکنا میری صفات میں شامل نہیں ہے۔

میں اپنے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتا۔

میں بہت مغرور انسان ہوں، کیونکہ غرور کے لیے میرے پاس میں ہوں۔

میری انا میری پہلی محبت ہے۔

یہ سب وہ باتیں ہیں جو میں پچھلے اکتیس سالوں سے اپنے لیے سنتا آ رہا ہوں، اور نہ صرف سنتا بلکہ ایمان بھی لاتا ہوں، کیونکہ میں بالکل ایسا ہی ہوں۔

ازمیر پرسوچ نظروں سے سامنے مکمل سیاہی میں ڈوبتے آسمان کو دیکھے جا رہا تھا۔

مگر… مگر اب میں کیوں بھٹک رہا ہوں؟

میں اس کے سامنے کیسے جھک گیا؟

(پھولوں سے بھرے ریکس کے سامنے، وہ پنجوں کے بل بیٹھا ، سر جھکائے، اس دراز قد لڑکی کے سامنے جھکا تھا۔)

میری اپنی دنیا میں وہ میرا شریک کیوں بن رہی ہے؟

(مزاحم اس سے کچھ کہہ رہا تھا، مگر سفید پھولوں کو دیکھتے ہی اسے اچانک وہ یاد آ گئی تھی، جو اب ہر دو تین منٹوں کے وقفے سے یاد آیا کرتی تھی۔)

اس کی وجہ سے میری انا بغاوت پر کیوں اتر آئی ہے؟

میں تو کبھی راستہ نہیں بدلتا تھا نا؟

پھر آج بنا کچھ سوچے سمجھے، کس حق سے اس کی خیریت کو یقینی بنانے کے لیے سرپٹ دوڑا چلا آیا؟

اس کی ہلکی، بمشکل نظر آنے والی مسکراہٹ پر، میں یک دم ساتویں آسمان پر کیسے پہنچ گیا؟

وہ اچھمبے سے سوچے جا رہا تھا۔

وہ اپنی کیفیات سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

ایک عجیب سی کشمکش میں وہ پھنس گیا تھا۔

وہ ایک ایک بات یاد کرنے لگا۔

صرف ایک بار اسے دیکھنے پر جھک جانا…

بار بار اس کا یاد آنا…

اس کو دیکھتے ہی ایک عجیب سے خوف کا پیدا ہونا…

اس کو سوچتے ہی بے اختیار مسکرا دینا…

یہ میں نہیں ہوں۔ میں ڈسٹریکٹ ہو رہا ہوں۔

اپنا ریموٹ کنٹرول میں اپنے جذبات کے حوالے کر رہا ہوں۔

اس کے سحر کا قیدی بن رہا ہوں میں، اور قید میرے لیے موت ہے۔

ازمیر نے گہرا سانس خارج کیا۔

اسے اپنا ریموٹ کنٹرول واپس سے اپنے ہاتھ میں لینا تھا۔

وہ قیدی نہیں تھا۔

نہ آج، نہ کل، اور نہ ہی آنے والے وقتوں میں۔

وہ خود کے ذہن میں اپنی ایک ایک بات کو راسخ کرتا ہوا واپس سے گاڑی کی طرف مڑا۔

وہ ازمیر علی تھا…

جس کا رائٹ ہینڈ اس کا دماغ تھا۔

اس نے ہمیشہ کی طرح، آج بھی، خود کے اور اپنے دماغ کے رشتے کے بیچ حائل ہوتے دل کو واپسی کا راستہ دکھا دیا۔

مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ جب دل ضد پر اتر آئے، تو پھر اس سے بڑا ڈھیٹ کوئی نہیں ہوتا۔

بلند و بالا پہاڑوں نے اس کی گاڑی کو دور جاتے دیکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیورخ 

زیورخ سوئٹزرلینڈ کا ایک بہت بڑا شہر ہے، جو اپنی خوبصورتی، گلوبل فائننشیل سینٹر، زندگی جینے کے معیار اور بہترین کلچر کے باعث بہت مشہور ہے۔ یہاں جھیل کا پانی آئینے کی طرح آسمان کو اپنے اندر سمیٹے رکھتا تھا، اور برف پوش پہاڑ دور سے ہر سانس پر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے تھے۔ اسی شہر کی ایک پرسکون گلی میں، تقریباً چھوٹے اور خوبصورت بیلوں والے بنگلے نما گھر میں دبے پاؤں داخل ہو تو تمہیں لاؤنج سے آتی آواز صاف سنائی دیں گی۔

عصام کے ٹیچر کا فون آیا تھا۔ کل ایک ایونٹ ہے، ان کے اسکول میں وقت نکال لینا، ہم دونوں کا جانا لازمی ہے۔ ترک نقوش والی صوفیہ نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے، ٹی وی پر نظریں مرکوز کیے، ساتھ بیٹھے لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے تبریز سے کہا۔

“ہممم۔” 

تبریز نے صرف اثبات میں سر ہلایا ، البتہ نظریں اب بھی لیپ ٹاپ پر ہی جمی تھیں۔

“تمہاری آج میٹنگ تھی؟” اس نے پھر اسے مخاطب کیا۔

” ہممم۔”

“کیس رہی؟”

“ہممم۔”

صاف ظاہر تھا وہ بے دھیانی سے اس کی باتیں سن رہا تھا۔ صوفیہ نے جھنجھلا کر ریموٹ میز پر پٹخا۔

“تبریز حاکم! کیا تم میری بات سن بھی رہے ہو؟”

اس کے اتنے تلخ لہجے میں کہنے پر تبریز نے جھٹکے سے نظریں اس کی جانب موڑیں۔ وہ سخت کوفت کا شکار تھی۔

“آ رہی ہے آواز، صوفیہ۔ اتنا چلا کر کیوں بات کر رہی ہو؟”

تبریز کے نرم لہجے پر صوفیہ بھی نرم پڑی اور تھک کر گہرا سانس بھرا۔

“تبریز، کل سنڈے ہے۔ کل کر لینا یہ کام، ابھی تم مجھے ٹائم دو۔”

صوفیہ کی بات پر تبریز ایک پل کو رکا، اور پھر اس نے چہرے پر ابھر آنے والی مسکراہٹ کو چھاپا۔

“تو تمہارے خیال سے تمہیں کون سا ٹائم چاہیے؟”

تبریز کی معنی خیز بات پر صوفیہ کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس نے دانت پیستے ساتھ رکھا کشن اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا۔

“تم سے بات کرنا ہی فضول ہے۔ مرو اس لیپ ٹاپ کے ساتھ، اور خبردار روم میں داخل ہوئے تو۔ جا کر اپنے بیٹے کے ساتھ سونا آج۔”

صوفیہ تن فن کرتی وہاں سے رفوچکر ہوئی۔ وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا اور لیپ ٹاپ بند کیا۔ اب واقعی وہ کام نہیں کر سکتا تھا۔

دروازہ ہلکی آواز سے کھلا۔ وہ روم میں نیم اندھیرا کیے، بیڈ پر گردن تک لحاف اوڑھے سوئی ہوئی تھی۔

وہ قدم بہ قدم چلتا اس تک آیا، اور اس کے ساتھ جگہ بناتا بیٹھ گیا، اور اس کے ہاتھ کی پشت پر ہر انگلی ٹریس کرنے لگا۔

“صوفیہ۔”

کوئی جواب نہ آیا۔

“میری جان۔”

جواب ندارد۔

“میرا دل۔”

اب بھی خاموشی۔

“میری روح۔”

مکمل بے نیازی۔

تبریز نے اب کی بار خاموشی سے جھکتے ہوئے اس کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا اور سیدھا ہوتے ہوئے مسکراہٹ دبائی۔

“میرا عذاب۔”

“میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی، تبریز!”

وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتی ہے۔

“کہاں سے میں تمہارے لیے عذاب ہوں؟”

“مذاق کر رہا تھا میں۔ تم تو میری وہ نعمت ہو جو مجھے مفت میں… میرا مطلب، بڑی مشکلوں سے ملی ہو۔”

تبریز نے ہنستے ہوئے کہا، جبکہ صوفیہ کی اب بس ہو گئی تھی۔ اس نے بنا کچھ کہے رونا شروع کر دیا۔

“ارے… صو… صوفیہ! کیا ہو گیا ہے بھئی، رو کیوں رہی ہو؟ میں مذاق کر رہا تھا، میری جان۔”

اسے روتے دیکھ تبریز بوکھلا گیا۔ وہ آنسو بہاتی پوری شدت سے رو رہی تھی۔

“تم انتہائی برے شوہر ہو۔ مصطفیٰ بھائی بالکل ٹھیک کہتے تھے تمہارے بارے…”

“کہ میں بالکل ناکارہ انسان ہوں، فیملی پرسن تو بالکل نہیں ہوں، بیوی کو خوش تو رکھ ہی نہیں سکتا—”

اس سے پہلے صوفیہ روتے ہوئے کچھ کہتی، تبریز نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اسے خود سے لگا لیا اور اس کے جملے مکمل کرنے لگا۔

“ایک نمبر کا دیش، دیش، دیش… اور دیش ہوں۔ سوری، میں ان کی دی گئی گالیاں اپنے منہ سے نہیں بول سکتا۔”

آخر میں اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

ہفتے میں چار دن باقاعدگی سے صوفیہ اسے یاد دلاتی تھی کہ اس کے مصطفیٰ بھائی کی رائے اس کے بارے میں کیا تھی، اور کن القابات سے اسے نوازتے تھے۔ اب تو تبریز کو خود بھی حفظ ہو چکیں تھیں، تو وہ صوفیہ کو نہیں تھکاتا تھا بلکہ خود ہی دہرا دیتا تھا۔

“تبریز، تم بدتمیز انسان ہو۔ تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا میں مروں یا جیوں۔”

صوفیہ روتے ہوئے کہتی گئی، اور وہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے سنتا گیا۔

“تم ایک خودغرض انسان ہو۔ اس رات بھی تم بلا وجہ مجھ پر چلائے تھے، حالانکہ میری کوئی غلطی بھی نہیں تھی۔”

تبریز مسکرایا۔

“میں نے تو بس آدمی سے بات کی تھی، اور تم نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ خود تم ماضی میں کچھ بھی کرتے رہے ہو—”

اپنی ہی رو میں بولتی صوفیہ بھی ہڑبڑا کر رکی۔ دوسری طرف، اس کی بات سنتے ہی تبریز کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ صوفیہ کی بات تھی یا پگھلا سیسہ، وہ نام نہ دے سکا، اور سختی سے لب بھینچ گیا۔

صوفیہ نے تھوک نگلتے اس کی طرف دیکھا۔

“تب… تبریز، آئی ایم سوری۔”

اس نے کوئی جواب نہ دیا، بس اسے خود سے دور کرتے ہوئے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا۔ صوفیہ نے نم آنکھوں سے دروازے کی جانب دیکھا۔ اسے وہ سب نہیں بولنا چاہیے تھا۔

دوسری جانب 

ڈائننگ ٹیبل پر خاموشی چھائی تھی۔ وہ چپ چاپ چاولوں کی پلیٹ میں چمچ ہلا رہی تھی، جبکہ دوسری کرسی پر بیٹھی نحل لب کاٹتی پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“کیا تم ناراض ہو، صاحبہ؟” بالآخر اس نے منہ کھولا۔

“یہ سوال تم دو گھنٹے پہلے پوچھ سکتی تھیں۔ میں تمہیں کھا نہیں جاتی۔” اس نے پانی کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے بے نیازی سے کہا۔

“بتاؤ نا بھئی؟ کیا تم ناراض ہو؟ دیکھو، میں اس وقت واش روم میں تھی۔ آئندہ سے فون ساتھ لے کر جاؤں گی، پکا پرامس، پلیز صاحبہ…..”

“رکو، رکو، رکو۔ پانی پیو، نحل۔ میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔” صاحبہ نے پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھا۔

نحل نے کشمکش کی حالت میں پہلے اسے دیکھا، پھر پانی کے گلاس کو۔

اسے بت بنا دیکھ صاحبہ نے گہرا سانس بھرا۔ 

“نحل، میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔ میں جانتی ہوں، اگر اس وقت فون تمہارے پاس ہوتا تو تم میری کالز ضرور اٹھاتیں۔ مجھے تم پر یقین ہے، فکر مت کرو۔”

نحل نے خوش سے آنکھیں ٹپکائی ۔ 

“پھر مسکرا دو نا میری جان۔”

صاحبہ اس کی فرمائش پر سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔

“بھئی، تم مسکرا دو، پھر مجھے یقین آ جائے گا۔”

“لو بہن!”

صاحبہ پوری بانچھیں کھولتے ہوئے مسکرائی تو نحل کا بے ساختہ قہقہ بلند ہوا تھا۔ وہ فوراً خوشی سے اٹھی اور اس کی گردن کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے اسے گلے لگا لیا۔

“پریشان مت ہو، میں کہیں چھوڑ کر نہیں جاتی تمہیں۔” صاحبہ نے مسکرا کر اسے تسلی دی۔

“ہاں، البتہ تمہارا کوئی بھروسا نہیں ہے، مجھے چھوڑ دو۔”

نحل کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “ارے! ایسے کیسے میں تمہیں چھوڑ دوں گی؟”

صاحبہ نے مسکراہٹ دبائی۔

“جو ایک دفعہ تم سے جڑ جائے، پھر تمہیں چھوڑنا آسان نہیں ہوتا۔ اور چھوڑ بھی دیا تو بھولنا ناممکن ہے۔ تم ہمیشہ یاد رہنے والی بلا ہو۔”

نحل نے بات ختم کرتے ہوئے مسکرا کر صاحبہ کو دیکھا، جس کا چہرہ سپاٹ تھا۔

فوراً اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ یکدم نحل کو اپنی بات کا احساس ہوا۔ اسے سمجھ ہی نہ آئی کہ اب کیا کہے۔

“مجھے چھوڑ دینا آسان ہے، نحل۔ اور بھول جانا تو بہت آسان ہے۔” بے نیازی سے کہا گیا۔

اس کی بات سنتے ہی نحل کو بہت تکلیف ہوئی۔ وہ اٹھ کر نیچے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی اور صاحبہ کی گود میں دھرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ صاحبہ کے ہاتھ بہت سرد تھے، برف جیسے سرد۔

“ایسی بات نہیں ہے، صاحبہ۔ تم بہت، بہت قیمتی ہو۔ اس نے تمہاری قدر نہیں کی۔ وہ تمہارے لائق ہی نہیں تھا۔”

(صوفیہ بیڈ سے اتر کر دوبارہ لاؤنج میں آئی۔ تبریز صوفے پر بیٹھا بار بار چینل بدل رہا تھا۔ اس کے انداز میں اضطراب صاف دکھائی دیتا تھا۔

وہ چپکے سے اس کے ساتھ بیٹھی اور سر اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ تبریز نے گہرا سانس بھرا۔

“آئی ایم سوری، تبریز۔” وہ لب بھینچ گیا۔ کچھ وقت بعد بولا تو آواز رندھی ہوئی تھی۔

“میں جانتا ہوں، میں نے ماضی میں کسی کو بری طرح توڑا تھا۔” 

صوفیہ نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ ایک عورت تھی۔ وہ اس عورت کا درد سمجھتی تھی، اور تبریز کی تکلیف سے بھی خوب واقف تھی۔)

“بات یہ نہیں ہے کہ اس نے میری ناقدری کی تھی۔ بات یہ ہے کہ اس نے قدر کرنے کے بعد ناقدری کی ہے۔”

کچھ وقت بعد صاحبہ بولی تو نحل کا رواں رواں سماعت بن گیا۔ 

“میں عرش سے فرش پر گری تھی، نحل۔”

(“میں نے اسے بہت تکلیف دی ہے۔ اس تکلیف کا مداوا میں ساری زندگی نہیں کر پاؤں گا۔”)

“اس نے مجھے بہت، بہت تکلیف دی تھی۔ وہ جنت میں مجھے ساتھ لے گیا، مگر ملکہ کی جگہ کسی اور کو دے دی۔ میں کبھی نہیں بھولوں گی، کیونکہ تب پہلی بار مجھے میری ذات بےوقعت لگی تھی۔ اور جب آپ کی ذات آپ کے سامنے ہی سوالیہ نشان بن جائے نا، تو سمجھ لینا تکلیف یہاں تمام ہوئی۔”

صاحبہ کی سنجیدگی میں ایک آنچ سی تھی، جبکہ نحل کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمک رہا تھا۔

(“میں نہیں جانتا، اس نے نئی زندگی شروع کی یا نہیں، یا وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں، مگر میں چاہتا ہوں کہ وہ ٹھیک ہی ہو۔ وہ خوش ہو۔”صوفیہ اس کے کندھے پر سر ٹکائے اسے سنتی گئی۔) 

“اس نے نئی زندگی شروع کر لی۔ آج اس کا ایک بیٹا ہے۔ وہ اس کا نیا آغاز تھا۔ جبکہ میرا نیا آغاز اسے بھول جانا تھا۔ اس کو، اس کی یادوں کو، اس کی باتوں کو، ہر چیز کو بھول جانا۔ اور میں اپنی نئی زندگی کب کا شروع کر چکی ہوں۔”

(“مگر میں کیا کروں؟ میں اسے کبھی نہیں بھول سکتا۔ اس کی وہ اذیت بھری آنکھیں میرے ذہن سے چپک گئی ہیں۔”)

“میں اسے اپنی آخری سانس تک یاد رکھوں گی، کیونکہ میرے اندر ایک سوال ہمہ وقت گردش کرتا ہے کہ…. کیا اسے میری آنکھوں میں چھایا درد ایک پل کو بھی نہیں دکھا تھا؟ کیا میرا درد، میرا دکھ اتنا ارزاں تھا؟؟؟…کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔”

(“لیکن میں اسے بھول جانا چاہتا ہوں، اس کا ذکر بار بار چھیڑ کر مجھے دہری اذیت مت دیا کرو۔” تبریز کے لہجے میں منت تھی۔

“میں تمہارے ساتھ اور عصام کے ساتھ خوش رہنا چاہتا ہوں۔ تم اسے بھول جاؤ، صوفیہ، یا پھر مجھے یاد نہ دلایا کرو۔”

“مجھے معاف کر دو، تبریز۔”

صوفیہ نے تبریز کے گرد حصار باندھا اور اس کی پشت سہلاتی بولی۔ “میں آئندہ کبھی اس کا ذکر نہیں کروں گی۔ وہ جہاں ہوگی، اللہ کے رحم سے خوش ہوگی۔ تم اب اس کی فکر مت کرو۔”

گہری ہوتی رات نے کئی پل صوفیہ کے تسلی آمیز لفظ سنے تھے۔

“مووی دیکھیں؟” اس نے تبریز کے ہاتھ میں پانی کا گلاس دیتے ہوئے کہا۔

اس نے مسکرا کر اسے دیکھا، اور اسے اپنے ساتھ بٹھاتے ہوئے اس کا سر اپنے کندھے پر ٹکا دیا، اور دائیں بازو سے اس کے گرد حصار قائم کیا۔

“لیکن ابھی میری شکایت کم نہیں ہوئی۔ میں کل وہیں سے دوبارہ کانٹینیو کروں گی، تبریز حاکم۔”

اسے مووی لگاتے دیکھ صوفیہ نے ناک چڑاتے ہوئے کہا تو تبریز کا قہقہ بلند ہوا تھا۔

کچھ وقت بعد وہ دونوں محویت سے بڑی سی ٹی وی پر مووی دیکھ رہے تھے۔ صوفیہ ہر ایک، دو پل بعد کوئی تبصرہ کرتی تھی۔ تبریز آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا، مسکرا کر اس کے تبصرے سن رہا تھا۔ جبکہ دل پر بوجھ مزید بڑھ گیا تھا۔ کاش وہ اس سے معافی مانگ سکتا۔)

“لیکن اب میں آگے بڑھ آئی ہوں۔ اب وہ میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ہاں، بس ملال اس بات کا ہے کہ وہ پہلی محبت تھا۔ اور پہلی محبت پوری شدت سے کی جاتی ہے۔ اس میں انسان ٹوٹ جائے تو بعد میں جڑ تو جاتا ہے، مگر دراڑ کبھی نہیں بھر پاتی۔ وہ پہلی محبت میری ساری محبتوں کو اپنے ساتھ لے گیا ہے۔”

صاحبہ کا لہجہ ایک لمحے کے لیے بھی غمگین نہیں ہوا تھا۔ یا تو وہ روبوٹ تھی، یا جذبات اسے چھو کر بھی نہیں گزرے تھے۔ بھلا کوئی اپنا درد بنا روئے بھی سناتا ہے کیا؟

جبکہ نحل کا دل پھوٹ پھوٹ کر رونے کو چاہ رہا تھا۔ اسے افسوس ہوا اس کی سنجیدگی اور بےنیازی پر۔

“اب اٹھ جاؤ، نحل، اور کھانا کھاؤ۔ میں جانتی ہوں، تمہارے ذہن میں کھانا ہی گھوم رہا ہوگا۔”

صاحبہ کی بات پر نحل دانت کچکچا گئی۔

“بالکل، میں تو ہوں ہی بکھر… نہیں۔”

اس کے تنظ پر صاحبہ مسکراہٹ ضبط کر گئی تھی۔

“صاحبہ، تم سدھر جاؤ، ورنہ تم مج۔۔۔۔۔”

اسلام آباد کے اس چھوٹے سے گھر میں دیر تک نحل کی چک چک اور صاحبہ کی سنجیدہ باتیں فضا میں سر بکھیرتی رہیں۔

وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی، منہ پر موئسچرائزر لگاتی، اپنا عکس ہی دیکھ رہی تھی۔

کھڑکی سے جھانکتی تقدیر، کرب سے اسے دیکھے گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد 

رات کے سائے پورے اسلام آباد کو گھیر چکے تھے۔ ہر کوئی اپنے اپنے گھروں میں گھسا، اپنی زندگی اور سرگرمیوں میں مصروف تھا۔ ایسے میں اس سفید بڑے گھر کے لاؤنج میں نیم اندھیرا تھا، اور اس پر تضاد بڑی سی ٹی وی سے ابھرتی آواز کا مدھم شور تھا۔

وہ صوفے پر بیٹھا، ٹانگیں سامنے رکھی، میز پر ٹکائے، سپاٹ تاثرات کے ساتھ کوئی مووی دیکھنے میں محو تھا۔ اس نے ایک ہاتھ میں ریموٹ تھام رکھا تھا، اور اسی ہاتھ کی انگشتِ شہادت کو بار بار اضطرابی انداز میں ریموٹ پر اوپر نیچے کر رہا تھا۔

“تمہیں بہت جلد میرے حوالے کر دیا جائے گا،” (ٹی وی سے آتی آواز)

“سر، میں درد ہو رہا ہے؟”

یوں ہی سکرین پر نظریں جمائے، اس نے دوسرے ہاتھ سے اپنی کنپٹی کو مسلا ہی کہ پاس سے مام کی آواز سنائی دی۔ اس نے دائیں جانب رخ موڑا تو وہ اسی کی طرف آ رہی تھی، وہ مسکرا دیا۔

“کیا سر میں درد ہو رہا ہے؟ لاؤ، میں تھوڑا سا دبا دوں؟” انہوں نے اس کے پاس بیٹھتے مسکرا کر کہا۔

“نہیں مام، درد نہیں ہے، بس تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے تھوڑی سی۔” اس نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے عقیدت سے کہا۔

“آج کل تم ضرورت سے زیادہ مصروف ہو، ازمیر۔ اپنا خیال رکھا کرو۔”

“ہمممم۔” اس نے بس اثبات میں سر ہلا دیا۔

لاؤنج میں اب صرف ٹی وی کی ہی آواز گونج رہی تھی۔

“ازمیر!” مام نے اسے پکارا۔

“جی؟”

“ایک بات کروں تم سے۔”

اس نے ایک پل کو چہرہ موڑ کر انہیں دیکھا۔

 “بلکل، آپ بتائیں، آپ کو کیا کہنا ہے؟”

“تمہیں یاد ہے پچھلے ماہ میں مسز یوسف رضا کے بیٹے کی شادی پر گئی تھی؟”

“جی، یاد ہے۔” وہ دھیان سے ماں کو سن رہا تھا۔

“تو وہاں میں ان کی بیٹی سے ملی تھی، ساریہ۔”

“ساریہ…” ازمیر نے ایک پل سوچا، “ساریہ وہی نا جو اب ڈاکٹر ہے؟”

“بلکل وہی۔ اب ماشاءاللہ بڑی ہو گئی ہے، بہت اچھی بچی ہے۔”

“اچھا۔ “

 ازمیر صرف اتنا کہہ کر دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ اچھے سے اپنی مام کے ارادے بھانپ گیا تھا۔

“کیا اچھا، ازمیر؟ تم جانتے ہو میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں؟”

“درست کہا آپ نے۔ میں جانتا ہوں آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔” اس نے سنجیدگی سے جواب دیا، البتہ اب وہ مکمل انہیں دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔

“انہوں نے بڑی آس سے کہا کہ تم انہیں ساریہ کے لیے بہت پسند ہو، بیٹا۔ اور وہ خود بھی کتنی نیک بچی ہے۔”

“مام، آپ کے جاننے والوں میں اکثر عورتیں اپنی بیٹیوں کے لیے میری راہ تک رہی ہیں۔ آپ ایک ہی بار میں انہیں انکار کیوں نہیں کر دیتی؟” اس نے نرمی سے کہا۔ مام کے لیے وہ موم بن جاتا تھا۔

“لیکن انکار کیوں کرنا ہے، ازمیر؟”

“اس کی وجہ کم از کم آپ سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔” اس نے دوبارہ ریموٹ پر اضطرابی کیفیت میں انگلی اوپر نیچے کرنا شروع کر دی۔

اس کی بات پر انہیں چپ لگی۔ پھر جب بولی تو آواز دھیمی تھی۔

“کیا تمہیں نہیں لگتا، ازمیر، کہ اب بہت عرصہ بیت گیا ہے؟”

 اس کی انگلی ساکت ہوئی۔ “بلکل، مام، اب واقعی بہت عرصہ بیت گیا ہے۔” اس نے سنجیدگی سے کہا اور آہستہ سے چہرہ ان کی جانب موڑا۔ “اب اتنا آگے بڑھ آیا ہوں کہ ان سب چیزوں کے لیے وقت ہی نہیں بچا۔”

مام نے فکرمندی سے اسے دیکھا۔

“اگر تمہیں میری پسند سے گلہ ہے تو مجھے بتاؤ، کیا تمہیں کوئی پسند ہے؟”

“وہ آج ہی اس کی بارات نکلوا کر ہی رہتی،” اس نے سرد آہ بھرتے سوچا۔

” میں کہہ رہا ہوں کہ میرے پاس شادی کا وقت نہیں ہے، اور آپ کہہ رہی ہیں ‘کوئی پسند؟’ مطلب کے کچھ بھی۔”

” کیا تمہیں واقعی کوئی پسند نہیں؟” مام کو تعجب ہوا۔

ازمیر ابھی گہرا سانس بھر ہی رہا تھا کہ سانس حلق میں پھنس گیا۔ (“تمہارا وسیلہ بننا یاد رکھو گی، مدھم مسکراہٹ”) ایک پل میں اس کے سامنے آج کا منظر گھوم گیا۔ بے اختیار وہ آنکھیں میچے کھانسنے لگا۔

” آرام سے، کیا ہو گیا؟”

“م۔۔۔مام۔” وہ کھانسی کے دوران بولا۔ “پلیز۔۔۔ پلیز اس ٹاپک کو ابھی بند کر دیں۔” وہ نظریں چراتے ٹی وی بند کرتے ہوئے بولا۔

وہ نظریں کیوں چرا رہا تھا؟ اس کے ذہن میں سوال اٹھا۔

مام نے سرد آہ بھری۔ ان کی اولاد ڈھیٹ تھی، انہوں نے آج پھر اعتراف کیا۔

“آپ سو جائیں جا کر۔ لڑکی نہیں ہوں میں جس کی شادی کی فکر آپ کو اندر سے بیمار کر دے۔” اس نے ان کے سر پر بوسہ دیتے کہا۔

وہ بنا کچھ کہے اٹھ گئی۔ صاف اشارہ تھا کہ اب کل ہی بات ہوگی، ازمیر نے انہیں مایوس کیا تھا۔

ازمیر نے ان کی جاتی پشت دیکھی یہاں تک کہ وہ غائب ہو گئی۔

“آپ نہیں جانتی، مام، انسان کے کچھ اعمال اس کی زندگی پر گہری چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ چاہے جتنے سال بیت جائیں، وہ پہلے دن کی طرح یاد رہتے ہیں۔” ازمیر سپاٹ تاثرات کے ساتھ سوچا اور اٹھ کھڑا ہوا۔

وہ جس نیند سے بھاگ رہا تھا اب بے بس ہوا، اسی کی جانب جا رہا تھا۔ اس لیے اسے راتوں سے نفرت تھی۔

باہر رات قطرہ قطرہ اسلام آباد کو اندھیر کرتی رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیورخ

ہماری کہانی کا مرکز اس وقت Maur ہے۔ یہ زیورخ کے قریب ہی ہے مگر یہاں ایک پرسکون سا ماحول ہے۔ زیادہ آبادی اور ٹریفک نہ ہونے کے باعث ہر طرف خاموشی پھیلی تھی۔ درخت، پہاڑ اور جھیلوں سے ڈھکا علاقہ۔ اسی علاقے میں سڑک سے ہٹ کر سبز درختوں کے پیچھے ایک بہت بڑا سفید بنگلہ استادہ تھا۔ بلند اور آنکھوں کو حیران کر دینے والا سفید بنگلہ۔

دائیں اور بائیں جانب تا حد نگاہ پھیلا لان کسی اور ہی دنیا کا گماں دیتا تھا۔ پورچ میں قطار سے کھڑی پانچ مہنگی گاڑیاں اپنی مالیت کا پتہ دے رہی تھیں، اور ان کے بالکل سامنے چرچراتے ٹائروں کے ساتھ سیاہ لیموزین آ کر رکی۔

شوفر نے پچھلا دروازہ کھولا، اور وہ باہر نکلا۔

لاکھوں کی مالیت کے سیاہ بوٹ، مہنگا سیاہ تھری پیس سوٹ، دائیں ہاتھ میں پہنی گھڑی، یہ سب مادی چیزیں اس کی شکل و صورت اور پرسنالٹی کے سامنے کچھ بھی نہ تھیں۔ سپاٹ تاثرات اور آنکھوں پر سیاہ گلاسس لگائے، وہ سیدھ میں دیکھتا قدم آگے بڑھا رہا تھا۔ اس کے پیچھے ہی کچھ فاصلے پر چلتا ادھیڑ عمر کا شخص بھی اس کے قدموں کی پیروی کر رہا تھا۔

وہ لوگ انٹرنس ڈور کے سامنے آئے تو، ہاتھوں میں بندوقیں لیے سیاہ فارم گارڈ بنا کچھ بولے، سر خم کرتے راستے سے ہٹ گئے۔ یہاں پر موجود سبھی گارڈز اس سے خوب واقف تھے۔

وہ لاونج میں داخل ہوئے۔ وہ ویران تھا۔

“وہ ٹیرس پر ہیں، آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔” (ایک گارڈ نے مؤدب انداز میں اس کے سامنے آتے اسے اطلاع دی)

وہ بنا کچھ کہے ٹیرس کی طرف بڑھ گیا، جبکہ اس کے پیچھے چلتا آدمی وہیں رک گیا تھا۔

ٹیرس پر آتے ہی، وہ اسے سامنے ہی نظر آگیا۔ ہاتھوں میں Barrett M82 (M107) بندوق اٹھائے وہ کسی پرندہ کا نشانہ لے رہا تھا۔ پانچ گارڈز اس کے پیچھے کھڑے تھے جنہوں نے قدموں کی آواز پر اسے مڑ کر دیکھا تھا۔

اس نے گلاسس اتارے، گہری سانس خارج کی اور صرف ایک آنکھ سے اشارہ کیا اور وہ سر جھکائے اگلے ہی پل وہاں سے رفو چکر ہوئے۔ یہاں سب اس کے حکم کے پابند تھے، یہ ان کے عمل سے صاف ظاہر تھا۔

ان کے جانے کے بعد وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، قدم قدم چلتا، نشانہ لیتے آدمی کے ساتھ جا ٹہرا۔

“ٹھاہ۔” گولی کی بلند آواز دور دور تک گونجی تھی، اور آسمان سے ایک پھڑپھڑاتا کبوتر زمین کی نظر ہوا تھا۔

“کہا تھے اتنا عرصہ تم؟” سیاہ پینٹ اور وائٹ شرٹ والے آدمی نے بنا اس پر نظر ڈالے، بندوق سائڈ پر رکھی میز پر رکھی جس پر مزید چار بندوقیں رکھی تھیں۔

“مصروف تھا میں۔” وہ بےتاثر چہرے کے ساتھ سامنے تا حد نگاہ پھیلے سبزہ زار کو دیکھے گیا، جبکہ کن آنکھوں سے اس نے آدمی کے ہاتھوں کی جانب ضرور دیکھا تھا۔

“کیا میں جان سکتا ہوں کہ ایسی کونسی مصروفیات تھیں؟” آدمی اب Heckler & Koch PSG1 بندوق کو ایک سفید کپڑے سے صاف کر رہا تھا۔

“اور کیا میں یہ سمجھوں کہ آپ کو بالکل خبر نہیں ہوتی کہ آپ کا بیٹا کن سرگرمیوں میں مصروف ہوتا ہے؟” صاف تنظ کیا گیا۔

اس کی بات میں تلخی محسوس کرتے آدمی ایک پل کو رکا اور پھر مڑ کر اسے دیکھا۔ “میں اپنے بیٹے نہیں، سائفر کی مصروفیات کا پوچھ رہا تھا۔” لہجہ تنبہہ بھرا تھا۔

سائفر کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔ وہ مٹھییں پھینچ کر رہ گیا۔

“خیر، تمہیں اس لیے یہاں بلایا ہے کہ دبئی سے ایک ڈیلر (سمگلر) آنے والا ہے دو دن بعد۔ تو تم دو دن بعد یہاں پہنچ جانا۔” وہ اسے یہ بتا رہا تھا کہ اس سے میٹنگ سائفر کرے گا۔

“میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں منظر عام پر نہیں آنا چاہتا، میں صرف ایک بروکر ہوں۔ آپ نے شاید میری بات کو مذاق سمجھا تھا۔” اس نے پوری کوشش کی تھی کہ لہجہ میں احترام کا عنصر نمایاں ہو۔

“اور تم شاید میری بات سمجھنے سے قاصر ہو، ایک ڈرے سہمے بروکر۔” آدمی نے بندوق سے نشانہ لیتے نیازی سے تنظ کیا، جبکہ لہجہ سرد تھا۔

“آپ کچھ بھی کہہ لیں، میں اس سے نہیں ملنے والا۔” سائفر نے جیسے فیصلہ سنایا تھا۔

“ٹھاہ۔” فائر کی آواز ہر سو گونجتی گئی، اور ایک گولی تیزی کے ساتھ، مین ڈور کے پاس کھڑے گارڈ کے دل کو چیرتی ہوئی اندر گھسی۔ دیوہیکل گارڈ درد سے بلبلاتے ہوئے زمین بوس ہوا تھا۔

اسنے گہرا سانس بھرتے آنکھیں بند کیں اور پھر کھولی۔ مصنوعی حیرت سے آدمی کو دیکھا جو اب دوسری بندوق کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔

“آپ کیا واقعی اس گمان میں ہیں کہ آپ مجھے موت سے ڈرائے گے تو میں آپ کی بات مان جاؤں گا؟ “

اس کے حیرت میں ڈوبے تنظ پر آدمی نے مسکراہٹ ضبط کی اور اس کی جانب مڑا۔

“تصیح کرو، گمان نہیں حقیقت،” واضح مذاق اُڑاتا لہجہ تھا۔

آسمان پر بادل گہرے ہوتے جا رہے تھے اور موسم ہلکی نیلاہٹ بھرا ہوا تھا۔ بلندی کے مقام پر کھڑے، اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے۔

سائفر نے سوچنے کی اداکاری کرتے اپنے ہونٹ گول کیے۔

“جیسے کہ آپ کو پتہ ہے،” (وہ ایک ابرو اچکائے قدم قدم چلتا آگے آیا) “میں ہمیشہ کہتا ہوں سائفر موت نہیں دیتا، بس جینے کی وجہ چھین لیتا ہے۔” وہ اس کے بالکل سامنے جا ٹہرا۔ آدمی کی آنکھوں میں اب بھی مصنوعی حیرت تھی۔

لیکن۔۔۔ وہ آدمی کے کان کے قریب جھکا۔ آدمی ایک پل میں سانس روک گیا۔

“لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار میری بات پر یقین کر لیا جائے۔”

آدمی کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید ہوا تھا۔ اس کے لفظوں پر نہیں بلکہ اپنی شہ رگ پر محسوس ہوتی ٹھنڈی نال کی وجہ سے، جو اگر وہ ٹرگر دباتا تو ایک پل میں گولی اس کی شہ رگ کو چیر کر اس کے وجود کا اس دنیا سے نام و نشان مٹا دیتی۔

“بی۔۔۔ بی ہیو یور سیلف، سائفر!” آدمی دبے دبے انداز میں غرایا۔

“آپ تو سیریس ہو گئے، باس۔ میں تو مزاق کر رہا تھا۔” وہ تمسخر اُڑاتے ہوئے پیچھے ہوا اور ہاتھ میں پکڑی پستول کی نال کو اپنی کنپٹی پر رگڑنے لگا۔

آدمی نے زہر خند نظروں سے اسے دیکھا، بلکل ٹھیک اس کے سامنے اس وقت سائفر ہی کھڑا تھا، اس کا بیٹا نہیں۔ آدمی نے مٹھیاں پھینچتے ہوئے رخ سبزہ زار کی جانب موڑا اور گرل کو تھامے چند گہرے سانس لیے کہ یک دم اس کے زہن میں ایک بات آئی اور اسی پل چہرے پر شیطانیت پھیل گئی۔

“اُڑتے اُڑتے میرے علم میں ایک بات کا اِضافہ ہوا ہے،” (سائفر جو گرل سے کہنیاں ٹکائے سامنے دیکھ رہا تھا، ان کی بات پر مسکرا دیا) “تم آج کل بہت ہی رنگین سرگرمیوں میں مصروف ہو،” (اس کی مسکراہٹ سمٹی) “اور کافی محنت کر رہے ہو۔ اگر ان میں میری مدد درکار ہو تو…” آدمی نے دانستاً بات ادھوری چھوڑ دی۔

سائفر کے اندر یک دم غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ان کی بات میں چھپی گندگی کو وہ خوب سمجھ چکا تھا۔ وہ خود پر ضبط کیے، سامنے ہی دیکھ رہا تھا۔

اس کی بدلتی رنگت کو دیکھ کر آدمی کے اندر سرشاری پھیل گئی تھی۔ وہ دو قدم چل کر اس کے قریب ہوا۔

“کتنے پیسے چاہیے؟” سائفر کے کان میں زہریلی سرگوشی کی گئی۔

وہ ایک جھٹکے سے مڑا۔ “آپ کی ماں کو خریدوں گا تو اسی حساب سے دیجیے گا، مہنگی ہوگی،” (آپ کی ماں) “نہیں؟”

“یو بلڈی باسٹرڈ!” آدمی پوری قوت سے غرایا۔ سائفر کو گھنٹہ فرق نہ پڑا، وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے ان کی حالت سے محفوظ ہو رہا تھا۔ وہ باذی پلٹنا جانتا تھا۔

“گھٹیا شخص! تم اپنی دادی۔۔۔”

“نانانانا، وہ میری نہیں، آپ کے بیٹے کی دادی ہے، باس۔” آپ کے سامنے سائفر کھڑا ہے، اس لیے آئندہ دھیان رکھیے گا،” انہوں نے کہا اور بنا کوئی بات سنے مڑ گیا۔

آدمی زہر کے گھونٹ بھر کر رہ گیا، تھوڑی دیر پہلے جو وہ پرسکون و بے نیاز دکھائی دے رہا تھا، اب غیظ و غضب سے چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔ سائفر سکون برباد نہ کرے، بھلا سائفر کیسے ہو گا؟ انہوں نے شعلہ ٹپکاتی آنکھوں سے اس کی جاتی پشت دیکھی۔

“تمہاری ماں تو ٹھیک ہوگی اور وہ سب یاد تو ہو گا تمہیں نہیں ؟”

الفاظ تھے یا پگھلا سیسہ، سائفر کے قدم تھم گئے۔ ہر طرف سکوت چھا گیا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا سینہ چاک کر کے اس کے دل کو برچھی سے کاٹ دیا گیا ہو اور خون پوری شدت سے اس کے وجود میں پھیل رہا ہو۔

اس کے تھمتے قدم دیکھ آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ایک سفاک مسکراہٹ۔ سائفر کے دل کو آری سے وہ چیر چکے تھے، اس بات کا انہیں اچھے سے علم تھا۔

“ٹھیک….۔ہیں…وہ ۔” اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے کہا ۔ 

“اور آپ نے بھولنے ہی کب دیا ہے۔” اور آنکھوں میں کرچیاں لیے اس نے ضبط کے کڑے مراحل طے کرتے وہ مڑا ۔

“ٹھاہ۔”

اس نے پیچھے مڑتے ہی ہاتھ میں تھامے پستول کا ٹرگر دبا دیا۔ گولی ریلنگ کے ساتھ کھڑے آدمی کی دائیں بازو کے ساتھ سے گزر گئی۔ بازو میں اور گولی میں صرف ایک انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔

آدمی ہڑبڑا کے پیچھے ہوا۔ آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئی تھیں۔ بس نہ چلا، سامنے کھڑے مرد کو زندہ جلا دے!

“شاید آپ کو بھی وہ حادثہ اب تک نہیں بھولا، کس طرح میں نے، سائفر نے اس رات آپ کی جان بچائی تھی، نہیں؟”

دل میں اٹھتے کہرام کو بلائے تاک رکھتے، وہ آدمی کے تن بدن میں آگ لگانا نہیں بھولا اور پھر ایک بھی پل ضائع کیے بغیر وہاں سے غائب ہوا۔

“سالہ!” (گالی) انہوں نے اس پر سو بار لعنت بھیجتے ہوئے رخ دوبارہ سبزہ زار کی جانب موڑ دیا۔ اس واقعے کو یاد کرنے کے بعد، سوائے زہر کے گھونٹ بھرنے کے ان کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔

بارش قطرہ قطرہ برستی، ہر شے کو بھیگا رہی تھی۔ ہر طرف موسم ابرالود ہو چکا تھا۔

لمبی سنسان سڑک پر اپنی منزل کو جاتی لیموزین تیزی سے اپنا سفر طے کر رہی تھی۔ وہ جب سے کار میں بیٹھا تھا، بلکل چپ تھا۔ سر سیٹ کی پشت سے ٹکائے، بےتاثر نگاہوں سے وہ اپنی سائڈ کا شیشہ دیکھ رہا تھا۔

بارش کے بنتے بہتے قطرے ایک سینری کا منظر پیش کر رہے تھے۔ ایک قطرہ جو کہ اس کی نظروں کا محور تھا، آہستہ آہستہ پستی کی طرف بہہ رہا تھا۔ اس میں ایک اور قطرہ سمایا اور وہ پوری رفتار سے نیچے گرا۔ اس نے اپنی نظروں کا محور اب دوسرے قطرے کو بنا لیا۔

“گاڑی روکو!” پھیلے سکوت میں اس کی آواز نے دراڑ ڈالی۔ ڈرائیو کرتے دلاور نے ایک پل کو چونک کر پیچھے مڑ کر اسے دیکھا اور پھر، بنا کچھ بھی بولے، چپ چاپ گاڑی کو ایک طرف روک دیا۔

وہ گاڑی سے باہر اترا اور کچھ قدم آگے چل کر رک گیا۔ جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ بے حس و حرکت وہاں کھڑا رہا۔ بارش کے قطرے اس کے آدھے وجود کو بھیگا چکے تھے، بھیگے بال پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے، اور چہرے پر بارش کے قطرے موتیوں کی طرح سجے تھے۔

“سائفر، ہم نے آج کی فلائٹ سے ہی واپس جانا ہے۔” دلاور جو اس کے پیچھے ہی کھڑا بھیگے جا رہا تھا، سنجیدگی سے بولا۔

وہ چپ رہا۔

“تمہیں ٹھنڈ لگ جائے گی ، تم بیمار پڑ جاؤ گے۔” دلاور نے پھر اسے بولنے پر اکسایا۔

اس کی بات پر سائفر کے چہرے پر زخمی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔

“بھیگنے دو مجھے، شاید یہ بارش کا پانی اندر لگی آگ کو بجھانے میں کامیاب ہو جائے۔”

“سائفر، ہم لیٹ ہو جائیں گے، بات کو سمجھو، تم اپنے لیے مشکلات کھڑی مت کرو۔”

“وہ اتنی دور سے مجھے بلاتے ہیں، صرف یہ بتانے کے لیے کہ وہ مجھ سے زیادہ طاقتور ہیں۔”

اس کی آواز سن دلاور گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔ دلاور سائفر کو جب ایسی حالت میں دیکھتا تو کم ہی ہوتا۔ اس کی ایسی حالت اور تضاد، اس کی باتیں دلاور کا دل چیرتی تھیں۔

“وہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ان سے مقابلہ کوئی کر ہی نہیں رہا؟ وہ اپنی باتوں سے میرا وجود چھلنی کر دیتے ہیں۔ “

سائفر کی آواز سے یوں لگتا جیسے تھکاوٹ اس کے پور پور میں رچ بس گئی ہو۔

“وہ جان بوجھ کر وہی بات درمیان میں لے آتے ہیں جو مجھے اذیت دیتی ہے اور میں اب کئی دنوں تک اسی دہکتی ہوئی بھٹی میں سلگتا رہوں گا، کیوں کہ مجھے نہیں معلوم میں اس آگ کو کیسے ٹھنڈا کروں۔ ان کا ایک جملہ (“تمہاری ماں تو ٹھیک ہے نا؟”) میرے کئی دن تباہ کر دیتا ہے۔ اس سے بڑی مات وہ مجھے اور کیا ہی دیں گے۔”

دلاور کے دل کو کچھ ہوا۔ سائفر رو نہیں رہا تھا۔ لہجہ بھی غمگین نہیں تھا۔ بس اس کے وہ لفظ۔۔۔ وہ لفظ اس کی تکلیف کی شدت بتانے کو کافی تھے۔

“لیکن میں نہیں ہاروں گا۔ “

ایک پل کو بادل زور سے گرجے اور اسی ایک پل میں سائفر کا لہجہ چٹان کی مانند سخت ہوا۔

“مات ملنا میرے مقدر میں شامل نہیں ہے، کیونکہ اپنی۔۔۔ اپنی تقدیر کا کاتب میں خود ہوں۔”

دلاور نے گہرہ سانس بھرا۔ سائفر اور غم کے آگے ہار جائے، تو سائفر کسے ہوتا بھلا؟

“جب، جب وہ مجھے میرا برا ماضی یاد دلائے گا، میں اپنے احسانات انہیں یاد دلاؤں گا۔ ان کو یاد دلاؤں گا کہ وہ سائفر کے آگے بے بس ہیں، میرے محتاج ہیں وہ۔ اور ایک بات بتاؤ؟” 

سائفر نے پلٹ کر دلاور کو دیکھا، سائفر کی آنکھوں میں شعلہ دھک رہے تھے۔ یہ کچھ وقت پہلے والا سائفر نہیں تھا۔ یہ وہ سائفر تھا جس سے خود دلاور کو بھی خوف آتا تھا۔

“بتاؤ،” دلاور کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔

“انا پرست انسان کے لیے کسی کا محتاج ہونا موت برابر ہوتا ہے۔ اور میں تو کھبی موت دیتا ہی نہیں۔ میں تو بس موت کے برابر لا کھڑا کرتا ہوں۔ وہ مقام جہاں بے بسی تمام ہو۔ “

اس کے سفاک الفاظ اور اس وقت بلکل اس کی شخصیت سے میل کھا رہے تھے۔

اس پہلے وہ کچھ کہتا، سائفر گاڑی کی جانب بڑھ گیا، تو وہ بھی گہرا سانس بھرتے اس کے پیچھے ہی چل دیا۔

بارش کا زور اب بھی قائم تھا۔ وہ اب بھی پوری شدت سے برستی، ہر شے کو بھیگا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد 

خوبصورت، بلند و بالا پہاڑوں سے گھرے اسلام آباد میں ہر سو پھیلی سورج کی روشنی ہر شے کو چمکا رہی تھی۔ پھولوں کی مہک، پرندوں کی چہچہاہٹ، ہلکی مدھم ہوا کا ساز ایک تازگی فراہم کر رہا تھا۔ پانی پر پڑتی سورج کی شعائیں اسے سنہرا کر رہی تھی اور یہی سنہرا پن اس وقت اس کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔

سورج کی روشنی اس کی بھوری آنکھوں میں پڑتی، ان میں چمک پیش کر رہی تھی۔

آج اس نے ہلکے سبز رنگ کی سکرٹ کے ساتھ سفید شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔ دھوپ کے باعث اوور کوٹ اس نے نہیں پہنا تھا۔ ڈھیلے میسی جھوڑے سے نکلتی چند آوارہ لٹیں اس کے بے داغ مومی چہرے کا طواف کرتی نظر آتی تھی ۔

سرینا ہاٹل کی عمارت کے باہر کھڑی، وہ فون پر کسی سے بات کر رہی تھی۔

“Ok done. Then see you tomorrow.”

ابھی وہ بات کر کے پلٹی ہی تھی کہ عزیز اس کے پاس آتے ہوئے بولا:

“صاحبہ میم، اندر مینیجر آپ کو بلا رہا ہے۔”

“ہممم…” اثبات میں سر ہلاتی، گلاس ڈور دھکیلتی اندر آئی۔ وہ سامنے ہی ریسیپشن کے ساتھ کھڑے تھے۔ وہ ان کی طرف بڑھی۔

“صاحبہ، آپ ایک مرتبہ چل کر ارینجمنٹس دیکھ لیں”، مینیجر نے اسے دیکھتے ہی کہا۔

“ٹھیک ہے، چلیں۔ اور میں نے سٹیج کے دائیں جانب رکھے فلاورز ہٹانے کا کہا تھا، کیا وہ ہٹا دیے گئے ہیں؟”

“جی ہاں۔”

“آل رائٹ۔”

حال میں آتے ہی صاحبہ کے چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ بکھر گئی۔

“I’m glad.”

وہ مسکرا کر کہتی ہے۔

“My pleasure.”

مینیجر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھر گئی۔ صد شکر کہ اسے یہ ڈیکوریشن پسند آ گئی، ورنہ پچھلی پر اچھے خاصے نقص وہ نکال چکی تھی۔

“اوکے، تو اب ایسا کریں کہ وہاں سے وہ میز ہٹا کر…” (اس نے کونے میں رکھی میز کی طرف اشارہ کیا) “اس جگہ…” (اب اس نے بائیں جانب اشارہ کیا) “رکھ دیں۔”

“اور وہ گلاس مرر بھی وہاں سے ہٹا دیں۔ اور ایسا کریں کہ…”

وہ ہاتھ کے اشاروں سے اسے بتاتی گئی ساتھ کھڑا مینیجر صبر سے سنتا گیا۔

وہ مسکرا کر ان دونوں کو گلاس وال سے دیکھے گیا۔

وہ یہاں کسی کام کے لیے آیا تھا، کہ صاحبہ پر نظر پڑتے وہ بے ساختہ ہی وہاں کھڑے ہو کر اسے دیکھے گیا۔

“اوکے، آپ یہ سب سیٹ کروا دیں۔” وہ شائستگی سے کہتے مڑی تو نظریں سامنے پڑیں۔

بلیک تھری پیس سوٹ پہنے، پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا۔ سیاہ آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔

صاحبہ اسے دیکھتے سنجیدگی سے آگے بڑھی اور گلاس ڈور دھکیلتے اس تک گئی۔

ازمیر سیدھا ہوا۔

“یقیناً سب کچھ بہترین ہو گا۔”

“بھروسہ رکھیے۔” اس کی آواز سن کر ازمیر کا دل بے ساختہ دھڑکا تھا۔

“میں نے گیسٹس کی لسٹ بنا لی ہے، وہ آپ کے پاس فارورڈ کر رہی ہوں، آپ دیکھ لیں۔”

صاحبہ یاد آنے پر سکرٹ کی جیب سے فون نکالتے ہوئے کہتی ہے، تو وہ بھی اپنے خیالوں سے باہر آتا ہے۔

“ٹھیک ہے۔” وہ ہامی بھرتے اپنی نظریں موڑ جاتا ہے، جبکہ وہ اب اپنے فون میں لگ چکی تھی۔

وقت پھلستا چلا گیا۔ وہ سیدھ میں دیکھتا، گاہے بگاہے اپنی بائیں جانب کھڑی صاحبہ کو بھی دیکھ لیتا جو پچھلے پانچ منٹوں سے لسٹ تلاش کر رہی تھی۔

اس نے تھک کر گہرا سانس بھرا۔

“مجھے لگتا ہے، غلطی سے لسٹ ڈیلیٹ ہو گئی۔”

ازمیر نے چہرہ اس کی جانب موڑا:

“تو اب آپ دوبارہ بنائیں گی لسٹ؟”

“بلکل۔ ابھی آپ نے اپروو بھی کرنی ہے، کیا آپ کے…”

“میرے پاس وقت ہے۔” اس سے پہلے وہ جملہ مکمل کرتی، ازمیر نے فوراً کہا۔

ایک پل کو وہ دونوں خاموش ہو گئے۔ دل کی بے ساختی پر ازمیر کو جی بھر کر غصہ آیا تھا۔ اس نے بات بنانی چاہی:

“میرا مطلب کہ، میرے پاس وقت ہے، اگر آپ کو ہیلپ چاہیے تو…”

انداز سرسری سا تھا، جبکہ ضدی دل یہ تمنا کر رہا تھا کہ وہ ہاں بول دے۔

“ٹھیک ہے، آپ میرے ساتھ آئے، ہم ایک ہی دفعہ بیٹھ کر بنا لیتے ہیں۔” وہ سنجیدگی سے کہتی، مڑ گئی۔

اس نے اس کی پشت دیکھی۔ گہری مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر گئی۔ فٹ جیب سے فون نکالا۔

“Yes, b…”

“اگلے تین گھنٹے تک مجھے بلکل ڈسٹرب مت کرنا۔” وہ ہمیشہ کی طرح سامنے والے کی بات سنے بنا ہی اپنی کہہ کر کال بند کر چکا تھا، اور سرشاری کے عالم میں سکرٹ والی لڑکی کے پیچھے گیا۔

مینیجر صاحبہ کے بتائی گئی انسٹرکشنز کو فالو کرنے لگا۔ دھوپ کی حدت میں کچھ کمی آ گئی تھی۔ سست رفتار سے ڈھلتے دن کی رفتار مزید سست ہو گئی تھی۔

وہ دونوں ہاٹل کے ڈائننگ ایرایا میں، سب سے آخر میں بنی ٹیبل پر بیٹھے تھے۔ وہ ایک کاغذ پر لکھتی جا رہی تھی، جبکہ ازمیر اس کے بائیں جانب، فاصلے سے بیٹھا تھا۔

صاحبہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ وہ مکمل طور پر کاغذ کی جانب متوجہ تھی، جبکہ ازمیر فرفر نام بولتا، صرف اسے ہی دیکھے جا رہا تھا۔

اس کے چہرے پر جھولتی لٹیں اسے نظریں موڑنے کی اجازت ہی کہاں دے رہی تھیں؟

اسے دیکھتے ہی وہ اس کا اسیر ہونے لگتا تھا۔ انا ایک طرف جا سوتی تھی، اور آنکھوں میں ایک الوہی چمک جاگ اٹھتی تھی۔

“کیا یہ صرف دل کی ضد تھی؟”

اوپر لٹکا وہ قیمتی فانوس معنی خیزی سے اسے دیکھتے سوچتا ہے۔

اسے یوں ہی دیکھتے، اس نے دیکھا کہ وہ نام لکھتی اپنی کنپٹی مسل رہی تھی۔ ازمیر چونکا۔

“کیا اسے سر درد تھا؟ کیا وہ تھک گئی تھی؟” بے اختیار اسے فکر نے آن گھیرا۔

“ایک منٹ، آپ لکھیں، میں آتا ہوں۔” وہ فوراً سے کہتا، وہاں سے اٹھا۔

فانوس کو حیرت ہوئی۔ ازمیر کیوں اس کی فکر کرتا تھا، بھلا؟

اس کے جانے کی دیر تھی، وہ ٹیبل پر سر رکھ گئی۔ اسے شدید تھکاوٹ کا احساس ہو رہا تھا۔ ابھی اس نے دو تین بار ہی پلکیں جھپکائی تھیں کہ پاس آتی قدموں کی چاپ پر، وہ گہرا سانس بھرتی اٹھی اور یوں ہی سرسری نگاہ دائیں جانب ڈالی تو ایک پل کو رک سی گئی۔

وہ ہاتھوں میں دو کافی کے کپ لیے اسی کی طرف چلا آ رہا تھا۔

“یہ لیں ۔ اپنے لیے لینے گیا تھا تو سوچا، آپ کے لیے بھی لے لوں۔” وہ اس کے سامنے رکتے ہوئے بولا۔

وہ صرف پیش کر دیتا، وضاحت دینے کی کیا ضرورت تھی بھلا؟ حد ہے، ازمیر، حد! تلملا کر سوچا۔

اس نے چپ چاپ اس کے ہاتھ سے کپ تھام لیا۔

وہ بھی کرسی کھینچ کر بیٹھنے ہی لگا تھا کہ کسی شہ کی چمک آنکھوں میں پڑی ۔ اس نے پیچھے ہوتے نیچے کی جانب دیکھا تو نظر صاحبہ کے قدموں کے پاس پڑے ایک بریسلٹ پر پڑی۔ وہ تھوڑا سا میز کے نیچے گرا پڑا تھا۔

سلور کلر کی نفیس سی بریسلٹ یقیناً صاحبہ کی تھی۔ اتنا سوچنا ہی تھا کہ۔۔۔ اگلے ہی پل چمکتے فانوس نے اسے نیچے جھکتے اور پنجوں کے بل بیٹھتے دیکھا۔

صاحبہ چونکی، حیرت سے قدموں کے پاس بیٹھے ازمیر کو دیکھا۔

 اس نے سر اٹھا کر اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھا اور ہاتھ میں پکڑا بریسلٹ اس کی جانب بڑھایا۔

ایک پل کو وقت رک گیا۔ فضا ساکت ہو گئی۔ پراسرار سی خوشبو ان کے گرد پھیل گئی ۔ 

فانوس نے سرگوشی کی:

خوبصورت ملکہ تخت پر بیٹھی تھی اور بادشاہ قدموں کے پاس بیٹھا تھا۔ آہ، کیا منظر تھا!

بھوری آنکھوں میں دیکھتے سیاہ آنکھوں میں ایک تاثر ابھرا، ایک شفاف، سچا اور خوبصورت سا تاثر، جس سے خود ابھی ازمیر علی بھی ناآشنا تھا۔

اس کی سیاہ آنکھوں کو دیکھ صاحبہ کو کوئی شدت سے یاد آیا تھا۔ کتنی مشابہت رکھتی تھی یہ سیاہ آنکھیں۔

اس نے حیرت کے ملے جلے تاثرات سے اس کے ہاتھ سے بریسلٹ تھاما۔ اس کی نرم انگلیوں کا لمس اپنی انگلی پر محسوس کرتے ہی ازمیر ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔ ساری خوشبو ایک پل میں غائب ہوئی تھی ۔ 

اس نے اپنی پوزیشن دیکھی، خود کو کمپوزڈ کرتے ہوئے وہ اگلے ہی پل اٹھ گیا۔

“میرے خیال سے مجھے ابھی جانا چاہیے،” وہ بامشکل اس ساحرہ کو دیکھے بنا کہتا ہے اور فوراً سے ایکزٹ ڈور کی جانب بڑھ گیا۔دل نے ایک بار پھر اپنی مرضی کر لی تھی ۔ لعنت ہو ۔ 

وہ اسے دیکھتی رہی یہاں تک کہ وہ غائب ہو گیا۔

اس نے گہرہ سانس بھرا اور بریسلٹ کو سکرٹ کی جیب میں رکھ دیا۔

اسلام آباد کی فضا، ماضی کی یادوں سے رچی بسی خوشبو ہر شے کو مہکا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی 

استنبول کی اس تنگ گلی کی رونقیں عروج پر تھیں۔ سب مصروف سے اپنے اپنے کاموں میں لگے تھے۔ بازار میں تو گویا لوگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ آتے جاتے لوگوں میں صرف ایک بالشت کا فاصلہ معلوم ہوتا تھا۔ اسی رش میں وہ دونوں بھی تیز تیز چلتی آگے بڑھ رہی تھیں۔

“آتیس انکل راضی ہو گئے؟” شور کے باعث نورے نے سارھ چلتی دلارے سے اونچی آواز میں پوچھا۔

“مجھے نہیں لگتا۔” دلارے بھی جواب اونچی آواز میں بولی۔

“تم سلیم بابا سے بات کرو،” وہ دونوں سبزی منڈی کی طرف جاتی گلی میں مڑیں۔ “وہ آتیس انکل سے بات کریں گے۔”

“ٹھیک کہتی ہو۔۔۔” اس سے پہلے دلارے بات مکمل کرتی، کوئی اس سے ٹکرایا۔ نورے اپنی ہی رو میں بات کرتی آگے بڑھ گئی۔

“آہ، میں معذرت چاہتا ہوں بیٹا۔” وہ ضعیف تھے، اور لہجہ نرم سا تھا۔

“کوئی بڑی بات نہیں ہے۔” اس نے مسکرا کر جواب دیا تو وہ شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے مڑ گئے کہ دلارے کی نظر نیچے پڑے ان کے والٹ پر پڑی۔

اس نے فوراً وہ جھک کر اٹھایا اور پیچھے مڑی۔ رش میں دوبارہ مڑ کے ان کے پیچھے جانے میں دلارے کو دقت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

“معاف کیجئے گا محترم، آپ کا والٹ۔” وہ ان کے سامنے جاتی ہے ۔

“آہ، شکریہ میری بیٹی۔ اللّٰہ تم سے راضی ہو۔” دلارے مسکرائی اور دوبارہ پلٹ گئی۔ اب اسے نورے کو ڈھونڈنا تھا جو یقیناً لوگوں کے سیلاب میں گم ہو ہی چکی ہوگی۔

ترکی کی ہوا نے بغور اس ضعیف کو دیکھا تھا، جس نے کئی سال بعد اس سرزمین پر قدم رکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد 

رات کے اندھیر سائے پورے اسلام آباد کو اپنے گھیرے میں لے چکے تھے، سیاہ آسمان پر آدھا چاند پورے آب و تاب سے چمک رہا تھا، سرد ہوا کا مدھم ساز اور پتوں کی سرسراہٹ کا ملاپ ایک دلکش ماحول میں بدل رہا ہو جیسے۔

پورا شہر روشنیوں میں نہایا ہوا تھا، سڑکوں پر گاڑیوں کا رش، ریسٹورنٹس میں گاہکوں کی باتیں، سٹریٹ پر چلتے جوڑے، اور اسی کے ساتھ، سرینا ہوٹل کی روشنیوں سے جگمگاتی بلند و بالا عمارت—آہ، کیا منظر تھا۔

وسیع ہال میں ہر طرف روشنی پھیلی تھی، مہمان جو کے سبھی ہی بزنس کی دنیا میں مشہور شخصیات تھے، کچھ گروپس کی صورت میں کھڑے، تو کچھ ٹیبلز پر براجمان باتوں میں مصروف تھے، مؤدب ویٹرز ادھر سے اُدھر جاتے انہیں ڈرنکس دینے میں مصروف تھے۔

نیو پروجیکٹ بیگننگ کے حوالے سے یہ تقریب جسے ازمیر علی اور مرزا حاکم نے منعقد کیا تھا، پچھلے پندرہ منٹوں سے شروع تھی۔

“سر، سب گیسٹ آ گئے ہیں،” عزیز نے مرزا کے پاس جاتے دھیمی آواز میں اسے اطلاع دی۔

“ہممم،” مرزا، جو ہال کے ایک طرف کھڑا فون پر کسی کو ٹیکسٹ میسج بھیج رہا تھا، عزیز کی بات پر صرف سر اثبات میں ہلا دیا۔

“لیکن سر مسٹر ازمیر ابھی تک نہیں آئے۔”

“آ جائے گا وہ بھی، تمہیں کیوں اتنی فکر ہو رہی ہے؟” مرزا نے جھنجھلا کر کہا تو عزیز گڑبڑا گیا اور پھر اس مصروف بندے کو خاموش گھوری دیکھاتے سامنے دیکھا ہی تھا کہ نظر ٹہر سی گئی۔

سیاہ سکرٹ کے ساتھ، سفید شرٹ، اور سیاہ ہی اوور کوٹ پہنے، ہاف بال کیچر میں قید کیے جن سے چند لٹیں خوبصورت چہرے پر جھول رہی تھیں، ہلکی بھوری آنکھوں سے وہ سیدھ میں چلتی کان میں لگے ائیر پیس پر شاید کسی سے مخاطب تھی۔

وہ صبح سے ہی ارینجمنٹس دیکھ رہی تھی، میڈیا، فوٹوگرافرز، سروسز—وہ ایونٹ سے مطلق تمام کام انتہائی پرفیکشن سے سر انجام دے رہی تھی۔

“صاحبہ میم کتنی محنت کرتی ہیں،” عزیز نے مسکرا کر ساتھ کھڑے مرزا سے کہا۔

مرزا، جو ابھی بھی فون پر نظریں جمائے ہوئے تھا، عزیز کی آواز پر چونک کر سر اُٹھایا اور سامنے دیکھا تو اسے صاحبہ نظر آئی۔

وہ اب کیمرہ مین سے مخاطب تھی، سنجیدہ چہرے کے ساتھ، آہستہ آہستہ بات کرتی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔

“بلکل، صاحبہ ایک بہترین پی آر مینیجر ہیں،” مرزا نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ باس ہونے کی حیثیت سے اسے سراہا۔

“بلکل سر۔”

مرزا دوبارہ فون پر متوجہ ہونے ہی والا تھا کہ عزیز کی شریں آواز پر اسے دیکھا، جو نادیدوں کی طرح صاحبہ کو دیکھتے کسی اور ہی دنیا میں کھویا تھا۔

مرزا نے آنکھیں گھماتے ہوئے فون بند کیا، جیب میں رکھا اور عزیز کو ڈپٹتے ہوئے کہا،

“عزیز، گھور لیا ہو تو اور کام بھی کر لو۔”

مرزا کی کڑوی بات سن عزیز اپنی دنیا میں واپس آیا اور ضبط سے ساتھ کھڑے آدمی کو دیکھا،”میرے پیچھے ہی پڑا رہتا ہے ہر وقت، ہنہ۔”

“بلکل سر، جا ہی رہا تھا، آپ بھی تھوڑا سا وقت نکال لیں، یہاں آئے لوگوں کے لیے،” تنظیہ لہجہ۔

“جا رہا ہوں انہیں ڈیل کرنے،” مرزا نے عادتاً آنکھیں گھماتے کہا اور آگے بڑھ گیا، گویا اپنے وقت کا شرف بخشنے جا رہا ہو۔

کچھ وقت بعد ناٹ پیڈ پر کچھ لکھتے عزیز کی نظر مرزا پر پڑی، جو آف وائٹ تھری پیس سوٹ پہنے، اپنی تمام تر وجاہت لیے کھڑا، اب ایسے مسکرا کر ابرار صاحب سے بات کر رہا تھا، جیسے ان کے ہی انتظار میں ناجانے کب سے پلکے بچھائے بیٹھا ہو—نوٹنکی کہی کا، عزیز سر جھٹکتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

اسی وقت ہال کے داخلی دروازے سے وہ آتا دیکھائی دیا۔

بلیک تھری پیس سوٹ پہنے، بالوں کو جیل سے سیٹ کیے، سیاہ پر کشش چمکتی آنکھوں اور خوبصورت نقوش والا ازمیر علی، سیدھ میں دیکھتا اندر داخل ہوا، جس کے بائیں جانب مزاحم تھا۔

“راہمہ کب تک پہنچ جائے گی، مزاحم؟” ازمیر اندر داخل ہوتے ہوئے ساتھ چلتے مزاحم سے پوچھتا ہے۔

” آ جائے گی جلد، ہمارا پلین کامیاب رہے گا انشاء اللہ۔”

” جلد از جلد کام ہو جائے، میں زیادہ دیر نہیں رک پاؤں گا،” ازمیر نے جھنجھلا کر کہا تو مزاحم نے رک کر اسے دیکھا، جس کی سیاہ آنکھوں میں عجیب بے چینی سی بھری تھی۔

“میں ہوں نا تمہارے ساتھ، پینک مت کرنا، یہ ایونٹ تمہارے پروجیکٹ کے حوالے سے ہے ازمیر، اور یہ بہت لازمی تھا، اس لیے کالم ڈاؤن،” مزاحم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے دباؤ دیتے ہوئے کہا۔

“ہممم،” ازمیر نے سر اثبات میں ہلا دیا اور آگے بڑھ گیا۔

اسے عجیب سی وحشت گھیرنے لگی تھی، جس کی وجہ سے اس کا چہرہ مزید سنجیدہ ہو گیا۔

“یہ ازمیر ہے نا، یہ کیسے آگیا آج؟” ایک عورت نے ازمیر کو دیکھتے اپنے سامنے کھڑے مرد کو دیکھ کر پوچھا۔

دونو کے ہاتھ میں مشروب کے گلاس تھے، وہ لوگ ہال کے وسط میں کھڑے تھے۔

“کیسے نہیں آئے گا، اس کے اپنے ہی پروجیکٹ کا ایونٹ ہے،” آدمی نے بھی ازمیر کو دیکھ کر مسکرا کر کہا۔

“ویسے یہ گیدرنگز میں کیوں شامل نہیں ہوتا؟”

“معلوم نہیں، نواب زادے کے نخرے، اور ایک نمبر کا انا پرست ہے، ناک میں دم کر رکھا ہے،” اس نے۔

“خیر جو بھی ہو، ہے بہت ہینڈ سم اور وہ ترک بیوٹی بھی کافی دلچسپ ہے،” عورت نے بے باکی سے کہتے گلاس لبوں سے لگایا۔

“ہاں، بہت دلچسپ ہے، آرے یہ بھی کوئی کم نہیں، زچ کر کے رکھ دیتا ہے سالہ، انتہائی مہذب لہجے میں، تن بدن میں آگ لگا دیتا ہے، ہنہہ بڑا دلچسپ، دونوں ہی دہکتی ہوئی آگ ہیں،” مرد نے تلملا کر کہا تھا۔

“پھر تو مزا آئے گا، جب دونوں آمنے سامنے آئے گے،” عورت نے اس کی بات سنتے ٹھنڈی آہ بھرتے کہا، جبکہ مرد سر جھٹک کر رہ گیا۔

مرزا حاکم اور ازمیر علی، کتنے سڑیل تھے، اس وقت ہال میں موجود سبھی لوگ جانتے تھے۔

ازمیر کی مغروریت، صاف گوئی اور ڈھٹائی، ان سب صفات سے وہ سب آشنا تھے، اور وہی دوسری جانب، مہذب، شائستہ اور باادب مرزا حاکم جیسے بندہ سے بھی وہ باخوبی واقف تھے۔

ایک بنا مسکرائے آگ لگاتا تھا اور دوسرا مسکرا کر۔

بڑھتے وقت کے ساتھ ماحول مزید خوشگوار ہوتا جا رہا تھا۔

ازمیر اور مرزا ایک ساتھ کھڑے باتوں میں مصروف ہو چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی 

ماوی سوفرا ریسٹورنٹ میں آج خاصا رش تھا۔ رات کے اندھیرے، ریسٹورنٹ کی روشنیاں اور پسِ منظر میں بجتا ہلکا، مدھم میوزک ماحول کو پُرسکون بنا رہا تھا۔

وہ جب سے آئی تھی، مسلسل کام میں لگی ہوئی تھی۔ اس کی شیفٹ کا وقت بھی ختم ہو چکا تھا، بس تھوڑا سا کام رہ گیا تھا، پھر وہ اور نورے ساتھ ہی گھر کے لیے روانہ ہوتیں۔ ویٹریس یونیفارم کے ساتھ مہرون اسکارف میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی۔

ابھی وہ ایک ٹیبل پر گرم سوپ رکھ کر پلٹی ہی تھی کہ اس کی نظر سروس ایریا سے جھانکتی نورے پر پڑی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھتی اس کی طرف بڑھی۔

“کیا بات ہے نورے؟” دلارے اس کے سامنے آتے ہوئے بولی۔

“اف، ہٹو آگے سے، اور وہ دیکھو کتنا ہینڈسم لڑکا ہے!” نورے منہ بناتی، اسے سامنے سے ہٹا کر فوراً دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولی۔

دلارے نے اس کے ساتھ کھڑے ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی لڑکا تھا، جسے ابھی وہ سوپ دے کر آئی تھی۔ اس نے آنکھیں گھماتے ہوئے پہلے اس لڑکے کو دیکھا، پھر نورے کو، جو حسرت سے بس اسی کو دیکھے جا رہی تھی۔

“اللّٰہ تمہیں ہدایت دے نورے، بس کرو۔ خدا نخواستہ اگر اس نے تمہیں اس طرح دیکھ لیا تو کیا سوچے گا بھلا؟” 

“اللّٰہ اللّٰہ، دلارے کتنی سڑیل ہو تم!” نورے خفگی سے ناک سکیڑتے ہوئے بولی۔

وہ بنا کوئی جواب دیے فریج کھول کر اس میں سے پانی کی بوتل نکالنے لگی۔

“اچھا، ایک بات سنو۔ ویسے تم تو اس کے پاس گئی ہو کیا قریب سے بھی اتنا ہی ہینڈسم لگتا ہے وہ؟” نورے آنکھیں جھپکا کر پوچھتی ہے۔

“معاف کرنا نورے، میں نے دیکھا نہیں،” اس کے انداز پر ہنس کر کہتی ہے۔

“اللّٰہ اللّٰہ، تم نے دیکھا نہیں؟ دلارے، کہہ دو کہ تم جھوٹ بول رہی ہو!” وہ حیرت سے اس کی طرف دیکھتی ہے۔ باہر بیٹھا ترک واقعی بے انتہا خوبصورت تھا۔

“میں جھوٹ کیوں بولوں گی ، میں نے واقعی اسے نہیں دیکھا،” دلارے پلیٹوں والی ٹرالی کی طرف جاتے ہوئے بولی، تو نورے بھی اس کے پیچھے ہی چل دی۔

“مگر کیوں نہیں دیکھا؟”

“اف خدایا! جانتی تو ہو ، میں حاکم سے محبت کرتی ہوں، پھر کیوں دماغ چاٹ رہی ہو؟” دلارے تپ کر کہتی، پلیٹیں ٹرالی میں سیٹ کرنے لگی۔

“ٹھیک ہے، تم اس سے محبت کرتی ہو ، مگر اس کا یہ مطلب تھوڑی کہ انسان اندھا ہی ہو جائے،” نورے نے کلس کر کہا۔

“محبت میں اندھا ہونا پڑتا ہے ۔”

نورے جو منہ میں بڑبڑاتی ہوئی باہر جا رہی تھی، یہ سنتے ہی ٹھٹک کر مڑی۔

“کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا؟ ذرا مجھے بتانا۔”

“محبت میں نظروں کا مڑ جانا شرک ہوتا ہے۔ ہر طرف نظروں کا زاویہ موڑنے والوں کو محبت نہیں، صرف دل لگی ہوتی ہے۔ اور دلارے سلیم نے مرزا حاکم سے محبت کی ہے، دل لگی نہیں۔”

“اللّٰہ اللّٰہ، مگر صرف ایک نظر دیکھ لینے سے کوئی قیامت تو نہیں آ جاتی نا، دلارے؟ تم نے کون سا غلط نیت سے دیکھنا تھا،” نورے نے خفگی سے کہا۔

“چاہے ایک نظر دیکھو یا جی بھر کر، خیانت خیانت ہی ہوتی ہے۔ جب ایک بار کسی کو دل دے دیا، اپنی محبت کہہ دیا، تو پھر یہ ‘ایک نظر’ یا ‘سرسری نظر’ جیسی دلیل کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، نورے حانم،” دلارے سنجیدگی سے بولی۔

نورے نے ایک بھرپور نظر کام میں مصروف دلارے کو دیکھا اور اس کے قریب آ گئی۔

“دلارے،” نورے نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر پکارا۔ دلارے نے نا سمجھی سے اسے دیکھا، نورے کا انداز اسے چونکا گیا۔

“دلارے میری جان، کیا وہ بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتا ہے؟” نورے نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا، تو ایک لمحے کے لیے دلارے کچھ بول نہ پائی۔

“خاموش مت رہو ، مجھے بتاؤ۔ کیا وہ بھی تمہیں اسی طرح چاہتا ہے؟ کیا اس کی محبت میں بھی اتنی ہی شدت ہے جتنی تمہاری محبت میں ہے؟”

“نو۔۔۔ نورے، وہ—” دلارے نے کچھ کہنا چاہا، مگر نورے نے اس کی بات کاٹ دی۔

“یہ مت کہنا کہ ابھی تک مرزا نے اپنی محبت کا اعتراف نہیں کیا۔ سولہ سال کی عمر سے اس کا انتظار کر رہی ہو۔ اپنا بچپن، اپنی جوانی تم اس شخص کے نام کر رہی ہو جو سالوں بعد صرف ایک دن کے لیے تم سے ملنے آتا ہے۔ ایسے شخص کو کیوں اپنی زندگی سونپ رہی ہو؟” نورے نے آزردگی سے کہا۔

جبکہ دلارے یہ سب سنتے ہوئے گہری سانس بھر کر رہ گئی۔

“نورے، وہ بھی محبت کرتا ہے، تم کیوں اتنا سوچ رہی ہو؟” ایک کمزور سی دلیل پیش کی گئی۔

“اس کے کس عمل کو تم محبت کا نام دو گی، ؟ اس کا خیال رکھنا، تمہاری شرارتیں برداشت کرنا، تمہیں دیکھ کر مسکرانا، یا تمہیں منانا؟ کیا ان اعمال کو تم محبت کہو گی؟ یہ سب تو ایک بہت اچھا دوست بھی کرتا ہے۔ ‘دوست’—سمجھ رہی ہو نا میری بات؟”

“ہاں تو، اسی کو ہی تو محبت کہتے ہیں،” دلارے نے ایک بار پھر مرزا کے حق میں بولنے کی کوشش کی۔

“بالکل، یہ بھی محبت ہے،” نورے نے ہتھیار ڈالنے والے انداز میں کہا، تو دلارے ایک لمحے کو مسکرا دی۔

“لیکن معذرت کے ساتھ، ذرا ایک بات بتاؤ ، کیا اس محبت میں بھی وہی شدت ہے جو تمہاری محبت میں ہے؟”

نورے کے سوال پر دلارے ساکت ہو گئی۔ تمام دلیلیں دم توڑ گئیں۔ نورے بولتی چلی گئی۔

“تم خود بھی جانتی ہو کہ سچ کیا ہے، مگر تم سچ سے بھاگ رہی ہو۔ جانتے بوجھتے گہری دلدل میں دھنستی جا رہی ہو، دلارے،” نورے نے اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر دباؤ بڑھا دیا۔

“ایسا نہیں ہے نورے۔ میں جانتی ہوں وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، بس شاید۔۔۔ وہ اعتراف سے جھجک رہا ہو،” دلارے نے لب کاٹتے ہوئے کہا۔ آہ، وہ واقعی ڈھیٹ تھی۔

“آہ دلارے حانم، آہ! مرد جیسی بے باک ذات کب سے اعتراف سے جھجکنے لگی؟ کون سی دنیا میں بسیرہ کر رکھا ہے تم نے؟”

نورے نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا اور پلٹ گئی۔ وہ دلارے سے مزید بحث نہیں کر سکتی تھی، جبکہ دلارے کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو چکا تھا اور آنکھوں میں ہلکا سا گلابی پانی چمکنے لگا تھا۔

نورے ابھی سروس ایریا سے قدم باہر رکھنے ہی لگی تھی کہ اپنے پیچھے کھڑی دلارے کی بات نے اسے جکڑ لیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد 

بڑھتے وقت کے ساتھ تقریب مزید خوشگوار ہوتی جا رہی تھی۔ تقریب میں آئے تمام لوگ مسکراتے ہوئے، فلیش لائٹس اور کیمروں کے کلکس کی تیز روشنی میں، اسٹیج پر کھڑے ازمیر علی کو بولتا سن رہے تھے، جو انہیں پروجیکٹ کے حوالے سے معلومات فراہم کر رہا تھا۔

“We are delighted to present our new joint project to you today. This initiative is based on developing a modern commercial tower that will not only provide state-of-the-art office and retail spaces but also create new opportunities for businesses and investors.”

(ہمیں خوشی ہے کہ آپ سب کے سامنے ہمارا نیا جوائنٹ پروجیکٹ پیش کرنے کا موقع ملا۔ یہ منصوبہ ایک جدید کمرشل ٹاور کی تعمیر پر مبنی ہے، جو نہ صرف جدید آفسز اور ریٹیل اسپیسز فراہم کرے گا بلکہ کاروبار اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔)

ازمیر سب پر نظریں جمائے شستہ انگریزی میں بولتا جا رہا تھا، جبکہ پیچھے بڑی اسکرین پر ٹاور کے لے آؤٹس ڈسپلے ہو رہے تھے۔

“(اس منصوبے کا مقصد شہری منظرنامے کو بہتر بنانا، اقتصادی س…..)”

ازمیر جو سب کی طرف دیکھتے ہوئے عزم سے بولے جا رہا تھا، یکایک اس کی نظر اس پر پڑی۔ اور پلٹنا بھول گئی ۔ ہال کے ایک طرف، سب سے آخر میں کھڑی وہ ہاتھ میں پکڑے فون پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ اس کا آدھا وجود اندھیرے میں تھا، جبکہ فون کی اسکرین سے ابھرتی روشنی میں اس کا مومی چہرہ مزید دمک رہا تھا۔ اس پر تضاد یہ کہ اس کے چہرے پر جھولتی لٹوں نے ازمیر کے لیے یہ لمحہ اور بھی مشکل بنا دیا تھا۔

صاحبہ کو دیکھتے وہ ایک پل کو رکا، اور اگلے ہی لمحے نظروں کا زاویہ بدلتے ہوئے اپنی بات مکمل کرنے لگا، جو اب شاید آسان نہ تھا۔

(“…سرگرمیوں میں اضافہ کرنا، اور کام اور ت……”) 

ایک بار پھر اس کی نظر اس پر پر پڑی اور وہ رکا ۔ دور کھڑے مزاحم نے حیرت سے اسے دیکھا جو آج تک کھبی کوئی بات کرتے رکا نا تھا ۔ 

…تجارت کے لیے ایک پائیدار ماحول فراہم کرنا ہے۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس منصوبے میں میرے پارٹنر مرزا حاکم ہیں، جو اب آپ کو ٹاور کے ڈیزائن اور تفصیلات کے بارے میں آگاہ کریں گے۔)”

ازمیر نے دور کھڑی صاحبہ کو نظر انداز کرتے ہوئے بمشکل اپنی بات مکمل کی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے، فرق بس اتنا تھا کہ ان کے درمیان بہت سا فاصلہ تھا۔ وہ دنیا جہاں سے بے نیاز کھڑی تھی، اور ازمیر کو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔

بلند تالیوں کی آواز سے ہال گونج اٹھا۔ مرزا حاکم اپنی پُروقار شخصیت کے ساتھ اسٹیج پر آئے، اور اب کی بار سب کی دلچسپی اور مسکراہٹ کا مرکز مرزا حاکم تھے۔

“Assalam-o-Alaikum! I am pleased to guide you through the design and unique features of our commercial tower. This tower has been planned with modern architecture, efficient layouts for offices and retail units, ample parking, and sustainable facilities that meet international standards. Our aim is to provide a workspace and business environment that is functional, aesthetically pleasing, and truly beneficial for everyone involved.”

(اسلام علیکم! مجھے خوشی ہے کہ میں آپ کو ہمارے کمرشل ٹاور کے ڈیزائن اور اس کی خاص خصوصیات کے بارے میں آگاہ کروں۔ اس ٹاور کی منصوبہ بندی جدید آرکیٹیکچر کے ساتھ کی گئی ہے، جس میں آفسز اور ریٹیل یونٹس کے لیے مؤثر لے آؤٹس، وافر پارکنگ، اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سسٹین ایبل سہولیات شامل ہیں۔ ہمارا مقصد ایک ایسا کام اور کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے جو عملی، خوبصورت، اور ہر شریک کے لیے واقعی فائدہ مند ہو۔)

مرزا حاکم اسٹیج پر کھڑے ہو کر اسکرین پر ڈسپلے ہوتے ڈیزائن کو پوائنٹ آؤٹ کرتے، شستہ انگریزی میں ٹاور کا اسٹرکچر اور ڈیزائن بیان کرنے لگے۔

مزاحم نے دیکھا، ازمیر اسٹیج سے اتر کر اپنی ٹیبل کی طرف گیا، ایک کرسی کھینچی اور اس پر براجمان ہو گیا، تو وہ اس کے پاس آ گیا۔

“کیا تم ٹھیک ہو؟” مزاحم اس کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر بیٹھا۔

ہممم—صرف سر اثبات میں ہلایا گیا۔

ازمیر کی نظریں سامنے اسٹیج پر جمی تھیں، جبکہ مزاحم بغور اسی کو دیکھ رہا تھا۔ شاید نہیں، وہ یقیناً ٹھیک نہیں تھا، مگر اس بات کا اعتراف وہ کبھی نہیں کرے گا—مزاحم یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔

“خیر، کچھ ہی وقت میں میں اور راہمہ اپنا کام مکمل کر لیں گے، پھر تم یہاں سے جا سکتے ہو، ازمیر،” مزاحم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا اور دوسری طرف مڑ گیا۔

مزاحم کی بات سنتے ہی ازمیر کے سنجیدہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے گردن موڑ کر مزاحم کی پشت دیکھی، پھر نظریں واپس اسٹیج کی جانب جما لیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی 

بائیس دسمبر 2001 کی رات استنبول میں ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی — دلارے سلیم۔

نورے جو سروس ایریا سے باہر جا رہی تھی، اپنے عقب سے دلارے کی آواز سنتے ہی ٹھٹک گئی۔ اس نے نا سمجھی سے مڑ کر دلارے کو دیکھا، جو اشک بار آنکھوں سے صرف نورے کو ہی دیکھتی بول رہی تھی۔

اس نومولود بچی نے جب پہلی بار اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے نظر آنے والا چہرہ “مرزا حاکم” تھا۔

وہ بچی پہلی بار جسے دیکھ کر مسکرائی، وہ انسان “مرزا حاکم” تھا۔

اس بچی نے جب بولنا شروع کیا تو اس کے منہ سے نکلنے والا پہلا لفظ “مرزا حاکم” تھا۔

اس بچی نے پہلی بار جس کی انگلی پکڑ کر چلنا شروع کیا، وہ سہارا بھی “مرزا حاکم” تھا۔

نورے حیرت سے آنکھیں کھولے، دلارے کو بولتا سنتی رہی۔ وہ آگے بڑھ کر اس کے پاس نہیں گئی، بس وہیں کھڑی، یک ٹک اپنے سامنے کھڑی دلارے کو دیکھتی رہی، جس کی دائیں آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر رخسار پر پھسلتا چلا گیا۔

وہ ہر مہینے ترکی آتا تھا، اور اس کی غیر موجودگی میں وہ بچی ہر وقت مرزا حاکم کو پکارتی رہتی۔ ہر وقت مرزا حاکم کی باتیں کرتی، اور جب وہ ترکی آتا تو وہ اپنے پورے ماہ کی روداد مرزا حاکم کو بڑے جوش سے سناتی، اور وہ بھی ایسے سنتا جیسے اس بچی کی باتوں سے زیادہ اہم دنیا میں کوئی چیز ہو ہی نہیں۔

دلارے نے مسلسل بہتے آنسوؤں کو اپنے ہاتھ کی پشت سے صاف کیا اور مسکرا کر بولی۔ بات کرتے ہوئے وہ عادتاً ہاتھوں سے اشارے بھی کر رہی تھی، جبکہ نورے ساکت نظروں سے اسے دیکھتی جا رہی تھی۔

وہ مرزا حاکم کے ساتھ کھانا کھاتی، اس کے ساتھ گھومنے جاتی، سونے سے پہلے کئی گھنٹے اس سے باتیں کرتی، اور صبح ہوتے ہی اس کے پاس جا پہنچتی۔ وہ چھوٹی بچی نہیں جانتی تھی کیوں، مگر مرزا حاکم کو بے حد پسند کرتی تھی۔ اس بچی کی جان مرزا حاکم میں بستی تھی۔

جب وہ ففتھ کلاس میں تھی، تب ایک بار اسکول میں کھیلتے ہوئے گر پڑی اور اس کے گھٹنے زخمی ہو گئے، مگر اس نے توجہ نہ دی۔ وہ اپنی مستی میں مگن رہی۔ پھر جب چھٹی کے وقت مرزا حاکم اسے لینے آیا تو اس کی نظر بچی کے گھٹنوں کے زخموں پر پڑی، اور یہی وہ لمحہ تھا جب اس بچی نے پہلی بار مرزا حاکم کے چہرے پر انتہا کی پریشانی دیکھی۔

وہ اسے اٹھائے گھر آیا۔ اپنے ہاتھوں سے اس کے گھٹنے پر بینڈیج کی، اور تب پہلی بار مرزا حاکم نے اسے ایک پل کے لیے بھی خود سے دور نہیں کیا۔ اور اسی دن اس بچی پر یہ بھید عیاں ہوا کہ نہ صرف اس کی، بلکہ مرزا حاکم کی بھی جان اس بچی میں بستی تھی۔

دلارے ذرا سا مسکرائی، اور پھر گویا ہوئی۔

پلک جھپکتے وہ بچی ایک خوبصورت چودہ سالہ لڑکی میں ڈھل گئی۔ اب وہ لڑکی ہر وقت مرزا حاکم کے بارے میں سوچتی رہتی تھی، اس کی سوچوں کا مرکز بس وہی بن کر رہ گیا تھا۔

اسے دو ماہ ہو گئے تھے، وہ ترکی نہیں آیا تھا، اور وہ لڑکی ایک ایک دن مرزا حاکم کے آنے کا انتظار کرتی رہی۔ جب اسے احساس ہوا کہ بہت وقت بیت چکا ہے تو اس کے اندر بے چینی بڑھنے لگی۔ وہ بس جلد از جلد اسے اپنے سامنے دیکھنا چاہتی تھی۔

اور پھر ایک رات، اس سے رہا نہ گیا۔ وہ اس رات اپنے گھر کے کچن میں گئی۔ بابا، سلیم صاحب، تب سو رہے تھے۔ اس نے بنا آواز پیدا کیے فریج سے دودھ نکالا، ایک گلاس میں انڈیلا اور اوون میں رکھ کر سات منٹ تک اسے گرم کرتی رہی۔ اوون پر وقت گھٹتا جا رہا تھا، اور وہ خود کانپنے لگی تھی۔

وہ نادان بچی صرف یہ جانتی تھی کہ مرزا حاکم اسے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔

جب ٹائمر ختم ہوا تو اس نے کھولتا ہوا دودھ اوون سے نکالا اور اپنے بائیں ہاتھ پر انڈیل دیا۔ اگلے ہی لمحے اس کی دل خراش چیخیں استنبول میں گونج اٹھیں۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے ہاتھ پر تیزاب انڈیل دیا گیا ہو۔

مگر خیر، وہ کامیاب رہی تھی۔

مرزا حاکم اگلے ہی شام اس کے گھر موجود تھا۔ وہ پریشانی سے اس کے بینڈیج بندھے ہاتھ کو دیکھے جا رہا تھا، اور وہ دیوانہ وار مرزا حاکم کو تکے جا رہی تھی۔ اسے تکلیف اس بات کی ہوئی کہ مرزا حاکم خود بخار سے تپ رہا تھا، اور اتنے شدید بخار میں بھی وہ صرف دلارے کو دیکھنے چلا آیا تھا۔

مرزا کی حالت دیکھ کر وہ اپنی تکلیف بھول گئی۔ وہ نادان، محض چودہ سالہ لڑکی، صرف اسے دیکھنے کے لیے خود کو جلا بیٹھی تھی۔ اور اس چھوٹی لڑکی نے کئی بار مختلف طریقوں سے خود کو تکلیف دی تھی، صرف مرزا حاکم کے لیے۔

کیا یہ صرف پسند تھی؟

نہیں — یہ ابسیشن تھی۔

مگر وہ لڑکی یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا کر رہی ہے، کیوں کر رہی ہے۔ وہ تو بس یہ جانتی تھی کہ مرزا اس کا ہے۔ کیوں اس کا ہے؟ اس نے کبھی نہیں سوچا۔

دلارے کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا، اور نورے نم آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔

دن مہینوں میں بدل گئے، اور مہینے سالوں میں۔ وہ بڑی ہوئی۔ اب وہ پورے اٹھارہ برس کی ہو چکی تھی۔ وہ مرزا حاکم کی باتوں سے بابا کا سر کھایا کرتی تھی۔ کبھی اس کی پسند پوچھتی، تو کبھی اس کے بچپن کے قصے۔ اور بے چینی، شدت کے ساتھ مرزا حاکم کے آنے کا انتظار کیا کرتی تھی۔

وہ مرزا حاکم کے لیے جو محسوس کرتی تھی، اس احساس کو وہ کوئی نام نہیں دے پائی تھی۔

وقت کے ساتھ وہ مزید آگے بڑھی۔ اب وہ پورے بیس سال کی ہو گئی تھی۔ وہ پہلے والی جلد باز لڑکی نہیں رہی تھی، بلکہ اب اس میں ٹھہراؤ آ چکا تھا۔ اب وہ ہر وقت مرزا حاکم کے گن نہیں گایا کرتی تھی، بلکہ اس کی خاموشی مرزا حاکم کا ورد بن گئی تھی۔

اب وہ اس کی باتیں کسی سے نہیں کیا کرتی تھی۔ اب وہ مرزا حاکم کو کسی بھید کی طرح اپنے دل کی سب سے گہری تہہ میں چھپائے رکھتی تھی۔ اب اگر مرزا حاکم پورے ایک سال بعد بھی آتا، تو وہ لڑکی بہت کم اس سے بات کیا کرتی تھی۔

وہ اب اس سے فاصلہ برتنے لگی تھی۔

جانتی ہو کیوں؟

ترکی

دلارے نے سوالیہ نظروں سے نورے کو دیکھا اور بنا اس کے جواب کا انتظار کیے خود ہی بول اٹھی۔

کیوں کہ اب وہ اس احساس کو نام دے چکی تھی — “محبت”۔

وہ مرزا حاکم سے محبت کرنے لگی تھی، اور اس احساس کی آگاہی اسے ہجر دے گئی۔ ہاں، وہ اب بھی شرارتیں کرتی تھی، مگر اب ان شرارتوں میں وہ والی بات نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ اب وہ اپنی محبت کے بارے میں بات نہیں کر پاتی تھی، اب وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے سے کتراتی تھی۔ وہ اس کا ذکر کرنے سے پہلے کئی پل سوچتی تھی، کیونکہ اب وہ اپنے اندر چھپے چور سے واقف تھی، اور دلوں میں چھپے چور آپ کو کبھی سکون میں نہیں رہنے دیتے۔

دلارے نے ہچکی لیتے ہوئے کہا:

“وہ لڑکی اس بھید کو، اس چور کو کئی عرصے سے ساتھ لیے چل رہی ہے، اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ راز اسے نگلنے لگا ہے۔ یہ پوری شدت سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر وہ اسے بڑی مشکلوں سے اپنے اندر دباتی آ رہی ہے، اور اب وہ تمہارے سامنے کھڑی ہے۔”

نورے زخمی سا مسکرا دی۔ اسے دلارے کی اذیت صاف نظر آ رہی تھی۔

“میں اسے بہت چاہتی ہوں۔ میں اسے پوری شدت سے یاد کرتی ہوں۔ میری زندگی میں آنے والا ہر پہل مرزا حاکم ہے — میرا ہمراز، میرا دوست، میری محبت۔ میری ہر سانس مرزا حاکم ہے۔ وہ میری خاموش پسند ہے، میرا خاموش جنون ہے، میری خاموش محبت ہے، جسے میں نے ہر پل اپنے اندر چھپا کر رکھا ہے۔ میں ہر پل اس کی رہ تکتی ہوں کہ وہ آ جائے، مگر اب وہ نئی آتا، نورے۔”

“میرے اندر ایک مسلسل انتظار سانس لے رہا ہے، جو مجھے توڑنا چاہتا ہے، مگر میں ٹوٹنا نہیں چاہتی، نورے۔ اگر میں ٹوٹ گئی تو کبھی نہیں جڑ پاؤں گی۔”

دلارے اب مسلسل روتے ہوئے بول رہی تھی، مگر اس کے چہرے پر ایک زخمی سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔

“اس نے بچپن سے لے کر اب تک میرا ساتھ دیا ہے۔ وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہا ہے، مگر میں، دلارے سلیم، اپنی محبت، اپنے انتظار اور صبر کی جنگ تنہا لڑ رہی ہوں، اور کسی بھی صورت میں اس جنگ سے ہارنا نہیں چاہتی۔ دلارے سلیم بس مرزا حاکم چاہتی ہے۔”

“میں نے جب پہلی دفعہ نماز پڑھی تھی، مرزا حاکم کے لیے دعا کی تھی، اور اب تک میری ہر نماز، ہر سجدے میں وہ شامل ہے۔ لیکن تمہیں ایک بات بتاؤ؟”

دلارے نے ایک بار پھر ساکت کھڑی نورے کو دیکھ کر سوال کیا۔ نورے نے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا۔

“میں نے کبھی بھی دعا میں مرزا حاکم کو نہیں مانگا۔ میں نے ہمیشہ اس کے لیے مانگا، کیونکہ مجھے یقین ہے، نورے حانم — ‘یقین’ — کہ مرزا حاکم پہلے سے ہی میرا ہے۔ اور جب تم یہ کہتی ہو کہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا تو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ میرے اندر کچھ جلنے لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے میرا پورا وجود ایک آگ کی بھٹی میں سلگ دیا گیا ہو۔ وہ میری بچپن، میرے لڑکھپن، میری جوانی، وہ… وہ میری پوری زندگی کی محبت ہے۔ میں اس سے بہت محبت کرتی ہوں۔”

دلارے نے رنجیدہ لہجے میں کہتے ہوئے ہچکی لی۔

“لیکن ایک حقیقت بتاؤ؟” اس نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے پوچھا اور بنا جواب کا انتظار کیے خود ہی بول اٹھی۔

“مجھے یہ محبت خوش نہیں کرتی۔ مجھے مرزا حاکم کے لیے اپنا جنون دیکھ کر اذیت ہوتی ہے۔”

دلارے نے دھیمی آواز میں کہا، جبکہ نورے کو جھٹکا لگا۔ اسے دلارے کی بات پر یقین نہیں آیا۔

“مجھے اس چھوٹی معصوم بچی کو سوچ کر دکھ ہوتا ہے جس کا بچپن صرف مرزا حاکم کے لیے گزرا، جو پورے گھر میں اس کا نام لیتے چہچہاتی رہتی تھی۔ مجھے اس نادان لڑکی پر ترس آتا ہے، جو اتنی چھوٹی عمر میں سیلف ہارم کرنے والوں میں شمار تھی۔ مجھے… مجھے اپنا ایک ایک گزرا پل تکلیف دیتا ہے۔”

دلارے نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہچکی لیتے ہوئے کہا:

“مجھے درد ہوتا ہے، نورے۔ بہت درد ہوتا ہے۔”

دلارے نے اب کی بار نئی مسکراہٹ بکھیر دی۔ اب گہرا کرب ہر سو پھیل گیا تھا۔

“میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں، مگر… مگر میرے راہیں مسدود ہیں۔ جب اتنا آگے بڑھ آئی ہوں کہ واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”

نورلعین (عرف نورے) کے سارے الفاظ دم توڑ گئے۔ وہ بس ساکت وجود اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھتی رہی، جو کہیں سے بھی اس کی بہار جیسی دلارے نہیں لگ رہی تھی۔ اس کے سامنے تو اجڑی خزاں تھی۔

ہجر کی آگ میں جلتا، زخم زخم ہوا عشق، نورے کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔

نہیں، دلارے مرزا حاکم سے محبت نہیں کرتی۔ یہ محبت نہیں تھی، یہ عشق تھا، نورے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے سوچا، اور دلارے کو اس حالت میں دیکھ کر نورے کا دل کٹ کر رہ گیا۔

آنکھوں سے آنسو بہہ کر رخساروں پر پھسل گئے۔ اس نے اپنے قدم روتی ہوئی دلارے کی جانب بڑھائے اور پوری شدت سے دلارے کے گرد اپنا حصار باندھا۔

عشق کی آگ بہت بری طرح انسان کو سلگاتی ہے، وہ انسان کی خود کی پہچان بھی راکھ کر دیتی ہے۔ اس آگ کی جلن کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی، مگر دلارے اتنے عرصے سے اس آگ میں اندر ہی اندر سلگ رہی تھی، اور اس بات سے انجان تھی کہ یہ آگ جس کے لیے لگی ہے، وہ اس سے ناآشنا ہے۔

نورے اس کے گرد حصار باندھے کھڑی سوچ کر رہ گئی۔

عشق کے روگ نہیں لگنے چاہئیں۔ انسانوں سے عشق نہیں ہونا چاہیے، ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد 

اسلام علیکم، احمد صاحب!

احمد اپنی ٹیبل کی درمیانی کرسی پر بیٹھے، آہستہ آہستہ مشروب اپنے اندر انڈیل رہے تھے، جب ان کے پاس ایک نسوانی آواز سنائی دی۔ انہوں نے چونک کر گردن موڑ کر دیکھا، تو آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں۔

سفید ٹخنوں تک آنے والا نفیس سا فراق زیب تن کیے، سیاہ کوٹ شولڈرز پر ڈالے، کھلے سیاہ بال اور خوبصورت چہرے والی راہمہ، دلکش مسکراہٹ کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی تھی۔

“وا۔۔۔ واعلیکم اسلام،” احمد نے آنکھیں جھپکا کر خود کو کمپوزڈ کرتے ہوئے جواب دیا۔

“کیا میں یہاں بیٹھ جاؤں؟” راہمہ نے مہذب انداز میں، ان کے ساتھ رکھی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔

“جی، جی، بلکل بیٹھ جائیں،” انہوں نے مسکرا کر اجازت دی۔ تو راہمہ نے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی اور ٹانگ پر ٹانگ چھڑا لی۔

کچھ پل خاموشی کے بعد احمد نے گلا کھنکھارتے بات کا آغاز کیا:

“ویسے، میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔میرا مطلب، میں پہلی بار آپ کو دیکھ رہا ہوں۔”

“لیکن میں آپ کو پہچان گئی ہوں، اور کئی بار دیکھ بھی چکی ہوں،” راہمہ نے بات کو گول کرتے ہوئے مسکرا کر دائیں ہاتھ کی کہنی میز پر ٹکاتے جواب دیا۔

“پھر تو کافی جانکاری حاصل ہو گی ہمارے بارے میں آپ کو۔”

“نہیں، جانکاری حاصل کرنے کے لیے میرے پاس فارغ وقت نہیں ہوتا۔” راہمہ نے فخریہ انداز میں کہا۔

“ہاہاہاہا، کافی حاضر جواب ہیں آپ۔ اینی وے، آپ کیا کرتی ہیں؟”

“میں کچھ نہیں کرتی، بس امیر باپ کا پیسہ اڑاتی ہوں، دوستوں کے ساتھ وقت گزارتی ہوں، اور بس عیش کر رہی ہوں۔” راہمہ نے بے نیازی سے جواب دیا اور پورے اعتماد سے احمد کے سامنے رکھی ڈرنک اٹھا کر اپنے لبوں سے لگائی۔

راہمہ کا انداز دیکھ کر احمد محفوظ ہوا۔ وہ ایک فل ٹائم مستی میں رہنے والی لڑکی لگ رہی تھی۔ احمد اسے جج کرتے ہوئے گہرا مسکرا دیا۔

“ویسے، احمد صاحب، ایک بات تو بتائیے،” راہمہ آگے کو جھکتی، رازدانہ انداز میں گویا ہوئی۔ احمد بھی ناسمجھی سے تھوڑا آگے جھکا۔

“آپ اتنے ڈیشنگ کیسے ہو سکتے ہیں؟”

 احمد ہنس دیا۔

“کیا میں اسے اپنی تعریف سمجھوں؟”

“نہیں، کیوں کہ میں مزاق کر رہی تھی،” راہمہ پیچھے ہوتے ہوئے بولی اور اپنے سامنے رکھا احمد کا گلاس واپس سے اس کے سامنے رکھ دیا۔

اب کی بار احمد کا قہقہ بلند ہوا، اور وہ بھی ہنستے ہوئے پیچھا ہوا۔

“پھر بھی مجھے آپ کا مزاق اچھا لگا،” احمد گہری مسکراہٹ سے اسے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ گلاس کی جانب بڑھا گیا ۔

راہمہ نے گہری نظروں سے احمد کے ہاتھ کو دیکھا اور سانس روک گئی۔ زہن میں کل رات کا منظر ابھرنے لگا تھا۔

گزشتہ رات

اسلام آباد میں رات پھیل چکی تھی، اور وہ تینوں اس وقت ازمیر کی اسٹڈی میں ایک تکون کی شکل میں بیٹھے تھے، اور ان کے درمیان ایک میز رکھی تھی، جس پر مختلف قسم کے نوٹس، تصویریں، اور فلیش ڈرائیوز رکھی ہوئی تھیں۔ پھیلی خاموشی کو ازمیر کی آواز نے توڑا۔

“احمد کافی تیز تراڑ بندہ ہے، اسے ہم درانی کی طرح مینو پلیٹ نہیں کر سکتے،” ازمیر نے ایک فائل میز پر رکھتے ہوئے کہا۔

“بلکل، ہم اسے باتوں میں بھی نہیں الجھا سکتے،” مزاحم نے بھی تھک کر جواب دیا، جبکہ راہمہ ایک فائل پر نظریں جمائے، اسے پڑھنے میں مصروف تھی۔

“اس کا لیپ ٹاپ ہمارے ہاتھ لگ بھی جائے یا اس کا موبائل فون، پھر بھی یقیناً لاک ہو گا۔ اس لیے ان سب جھمیلوں میں پڑنا تو بے سود ہے،” مزاحم نے ازمیر کو دیکھتے کہا۔

ازمیر نے کرسی کی پشت سے سر لگا کر بند آنکھوں سے گہرا سانس بھرا۔

“ہائے، کاش کوئی ایسا جادو ہوتا، جس سے ہم بنا کوئی محنت کیے استعمال کرتے اور اس احمد کی ساری حرکات و سکنات دیکھ سکتے،” اس نے اتنی سیریس سیچوئشن میں بے تکی بات کی، جس نے راہمہ کے تن بدن میں آگ لگا دی۔

اس نے سر اٹھا کر مزاحم کو کچھ کہنا چاہا، جب ازمیر یک دم آنکھیں کھولتا سیدھا ہوا۔ مزاحم کی بات سنتے ہی اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا۔

“کیا کہا تم نے؟” ازمیر نے آگے ہوتے چونک کر کہا۔

“کچھ نہیں بھئی، مذاق کر رہا تھا، میں اب نہیں کروں گا۔”

“نہیں، تم نے بلکل ٹھیک کہا۔ ہمیں واقعی ایک ایسے جادو کی ضرورت ہے جو بنا محنت کیے استعمال ہو اور اس کی ہر بات سن سکیں،” ازمیر کھوئی کھوئی آواز میں بولا، جبکہ راہمہ اور مزاحم نے چونک کر اسے دیکھا۔

“لگتا ہے تھکن سے اس کے دماغ پر گہرا اثر ہو گیا ہے، راہمہ۔ میں تو کہتا ہوں اسے آرام کا کہہ کر ہم اچھی سی ڈیٹ پر چلتے ہیں۔”

“کیا تم دو منٹ چپ ہو سکتے، مزاحم؟” راہمہ نے چڑ کر کہا اور ازمیر کو دیکھنے لگی، جو گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔

مزاحم اسے گھور کر رہ گیا، “ہنہہ، سارا موڈ ہی خراب کر دیا، اور اب اس بلا کو دیکھو جو جادوگر بننے جا رہا ہے، یا اللّٰہ مجھے صبر دے میں کن لوگوں میں پھنس گیا ہوں،” اس نے باری باری دونوں کو دیکھتے، معصومیت سے دعا کی۔

جادو، جو نظر نہیں آتا مگر وجود رکھتا ہے۔ ایسا جادو جس میں محنت نہ لگے، جو آنکھوں سے اوجھل رہے مگر وجود رکھتا ہو، ازمیر بند آنکھوں سے ایک ایک بات ڈی کوڈ کرتا گیا۔

ایک جادو کا استعمال، فون کا حاصل ہونا، محنت نہ لگنا، روپوش وجود — ازمیر نے فٹ سے آنکھیں کھولی اور ان دونوں کو دیکھا، جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔

“مزاحم بلکل درست کہہ رہا تھا۔ ہم اس کا فون حاصل کر بھی لیں، تب بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ضرور اس کے فون پر پاسورڈ لگا ہو گا، اور زیادہ دیر ہم اس کا فون اپنے پاس رکھ بھی نہیں سکتے،” ازمیر نے چمکتی آنکھوں سے کہا۔

“پھر ہم کیا کریں گے، ازمیر؟” راہمہ نے ناسمجھی سے پوچھا، جس پر ازمیر مسکرا دیا۔

“جادو… ہم جادو استعمال کریں گے۔”

“اس پر تو سچ مچ تھکاوٹ گہرا اثر کر گئی ہے،” مزاحم نے ہمدردی سے سوچا۔

“ازمیر، یہ کیا بول رہے ہو؟ تم پہیلیاں مت بجھاؤ، سیدھا مدعے پر آو،” راہمہ نے تھک کر کہا۔

“دیکھو، ہمیں احمد کا فون چاہیے، کیوں کہ اس کے فون میں اسمگلرز کے بارے میں تمام انفارمیشنز ہوں گی، اور انہیں میں دلاور کا سراغ بھی شامل ہو گا، اور ہمیں بھی دلاور تک پہنچنا ہے۔ اس لیے اس کا فون بہت ضروری ہے، مگر اس کا فون حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔ ایک اور راستہ ہے جس سے ہم اس کا فون بنا حاصل کیے بھی انفارمیشنز حاصل کر سکتے ہیں، اور وہ اس طرح کہ۔۔۔”

راہمہ اور مزاحم سنجیدگی سے ازمیر کو سنتے رہے، اور جیسے ازمیر بولتا گیا، ان دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ رینگنے لگی۔

“لیکن ازمیر، ہم اسے باتوں میں کس طرح الجھائیں گے؟” مزاحم نے سوال داغا۔

ازمیر نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“بلکل مزاحم، ہم اسے باتوں میں نہیں الجھا سکتے، کیوں کہ ایک مرد دوسرے مرد کو بلکل اپنی طرف نہ تو متوجہ کر سکتا ہے اور نہ ہی باتوں میں الجھا سکتا ہے۔ یہ کام صرف ایک ہی ذات پرفیکشن سے کر سکتی ہے، اور وہ ہے۔۔۔”

ازمیر اور مزاحم نے بیک وقت مسکرا کر راہمہ کو دیکھا۔

“ایک عورت!” ان تینوں نے بیک وقت کہا اور پھر فوراً ہنس دیے۔

موجودہ وقت

وہ اپنے قدم آگے بڑھاتے ہوئے احمد کی جانب گئی، زہن میں ازمیر کی باتیں گونج رہی تھیں۔

(راہمہ اس کے سامنے ایک بہت سوشل لڑکی بن کر جائے گی، جس کی زندگی کا مقصد صرف پیسہ اڑانا ہو گا۔ اس سے احمد کے سامنے اس کا امپریشن ایک فل ٹائم مستی میں رہنے والی لڑکی کی طرح پڑے گا، جس سے آسانی کے ساتھ ٹائم پاس کیا جاتا ہے۔)

“اسلام علیکم، احمد صاحب! کیا میں یہاں بیٹھ جاؤ؟”

(راہمہ کسی بھی طرح نہ محسوس ہونے والے انداز میں اس کے گلاس میں ایک ڈرگ ڈالے گی، جو اگر احمد پیے گا تو اس سے اس کا سر بھاری اور شدید تھکاوٹ کا احساس ہو گا۔)

وہ اس کی طرف جھکی بات کر رہی تھی، اور ساتھ ہی اس نے اپنے سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے سے اپنی تیسری انگلی پر لگایا نقلی ناخن اکھیڑا، جو سیدھا اس کے گلاس میں گرا اور تیزی سے گھلتے ہوئے اس کی ڈرنک میں حل ہو گیا۔

احمد نے گلاس اپنے لبوں سے لگایا اور ڈرنک اندر ڈالی۔ راہمہ نے یک دم اٹکی سانس بحال کی اور ساتھ ہی اپنے کھلے بالوں کو کان کے پیچھے اڑا لیا۔ دور کھڑے مزاحم نے اشارہ ملتے ہی اپنے فون پر نظریں جمائیں۔

(مزاحم: تم اس کے فون پر ایک لنک بھیجو گے، وہ جیسے ہی لنک اوپن کرے گا، اس کے فون کے بیک گراؤنڈ میں ایک ایپ انسٹال ہو جائے گی، جو پورے سات دنوں تک ہر وقت ایکٹو رہے گی، مگر ظاہری طور پر نظروں سے اوجھل رہے گی۔)

“لیکن ازمیر، کیا گارنٹی ہے کہ وہ لنک اوپن کر لے گا؟” مزاحم نے پر سوچ نظروں سے ازمیر کو دیکھتے سوال پوچھا۔

“وہ لنک اوپن کرے گا، کیوں کہ وہ ایک کریمنل ہے، اور ایک کریمنل ہر وقت چوکنا رہتا ہے۔ اسے کسی بھی وقت کوئی بھی خبر مل سکتی ہے، اس لیے وہ ہمیشہ اپنے نوٹیفیکیشنز کے ساتھ مخلص رہتا ہے،” ازمیر نے جواب دیا۔

اس سے پہلے احمد کچھ کہتا، یک دم اس کی کوٹ کی جیب میں رکھا فون تھرتھرا گیا۔

“ایک منٹ،” وہ راہمہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، اپنا فون کوٹ کی جیب سے نکالا۔ سامنے ہی سکرین پر ایک لنک شو ہو رہا تھا۔ احمد نے چونک کر اس لنک کو اوپن کیا، اور فنگر پرنٹ سے فون انلاک ہو گیا۔ ابھی احمد نے سرسری سا اسے دیکھا ہی تھا کہ۔۔۔

(فرض کرو اس نے لنک اوپن کر لیا ہے، مگر اب ایپ انسٹال کی اجازت بھی چاہیے، اور احمد وہ لنک کا مقصد دیکھنے کے بعد کبھی اجازت نہیں دے گا، ازمیر نے سوچتے ہوئے کہا۔ پھر اچانک دونوں کو دیکھا۔

“ہم یہاں سب سے آسان راستہ اور ہمیشہ کیے جانے والا راستہ اپنائیں گے۔”)

احمد نے ابھی سرسری سا لنک پر نظر جمائی ہی تھی کہ اچانک ٹھنڈا مائع اس کے پورے کپڑوں پر گر گیا۔

“واٹ ربش!” وہ یک دم ہڑبڑا کر اٹھا اور فون میز پر رکھا۔

“آئی ایم رئیلی سوری سر، گلاس سلپ ہو گیا،” ویٹر نے نظریں جھکائے شرمندگی سے معافی مانگی، جبکہ احمد اب اسے سختی سے ڈانٹنے لگا۔

راہمہ کی طرف احمد کی پشت تھی۔ راہمہ نے ایک پل بھی ضائع کیے بغیر اس کا فون اپنی طرف کھسکایا اور فوراً اوپن ہوئے لنک کے سب سے نچلے اوپشن پر پریس کیا، اور وہی لوڈنگ شروع ہو گئی۔

“تھرٹی پرسینٹ… ہو جا، جلدی پلیز ہو جا!” راہمہ کا سانس اٹکا ہوا تھا۔

“سیکسٹی پرسینٹ…”

“احمق انسان!” احمد نے ویٹر پر آخری سخت نظر ڈالی اور اپنے قدم واش روم کی طرف بڑھا دیے۔ ابھی وہ چار قدم ہی چلا تھا کہ اس کا سر بھاری ہونے لگا۔

“ایٹی پرسینٹ…”

یک دم اسے احساس ہوا کہ اس کا فون اس کے پاس نہیں ہے، وہ فوراً واپس مڑا۔

“نائنٹی پرسینٹ… پلیز اللّٰہ، پلیز اور۔۔۔ یس!”

سکرین پر “ایپ انسٹالڈ” کا آپشن جیسے ہی آیا، راہمہ نے بیک بٹن پر پریس کیا اور لنک بند ہو گیا۔

اس سے پہلے کہ راہمہ سانس بحال کرتی، احمد اس کے سر پر پہنچ گیا۔

“میں دراصل اپنا فون بھول گیا تھا، وہی لینے آیا ہوں،” احمد نے بنا راہمہ کی طرف دیکھے اپنا فون میز سے اُٹھایا اور واپس اپنے قدم واش روم کی طرف بڑھا دیے۔

وہ نہیں جانتا تھا کہ اب سے اس کے فون پر آنے اور بھیجے جانے والے تمام پیغامات کوئی بہت آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔

Bird is trapped in the cage.

راہمہ اور مزاحم نے بیک وقت اپنے ایئرپیس دبا کر گہری مسکراہٹ سے نظروں کا تبادلہ کیا، لیکن وہ دونوں ہی اس بات سے انجان تھے کہ ازمیر علی اس وقت کہاں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ وقت پہلے 

مزاحم کی بات سنتے ازمیر کے سنجیدہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس نے گردن موڑ کر مزاحم کی پشت دیکھی، اور واپس نظریں سٹیج کی جانب موڑ لیں کہ اچانک ہی اس کے دائیں جانب وہ آ ٹہری۔

“ا۔۔۔ازمیر!”

اپنے کان کے قریب وہ نسوانی آواز سنتے ہی اس نے میز پر رکھے ہاتھ کی مٹھی بنا لی۔

“ازمیر!” وہ چلائی۔

اس نے جھٹکے سے گردن موڑ کر اسے دیکھا، بکھرے بال، بے ڈھنگا لباس اور سرخ ہوتی آنکھوں سے روتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ازمیر علی کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی۔ اس نے فوراً ہزیانی انداز میں ادھر ادھر دیکھا، سب مصروف تھے، مگر ازمیر نے ان سب کو اپنی جانب زہر خند نظروں سے دیکھتے پایا۔

اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا، ماضی کی اذیت ناک یاد بجلی کی طرح ازمیر کے ذہن پر برسی۔ میز پر رکھے ازمیر کے ہاتھ کپکپانا شروع ہو گئے۔ اس نے خود کو نارمل کرنے کے لیے آنکھیں بند کیں اور پھر کھولیں۔ ایک عجیب سی وحشت اسے اپنے حصار میں لینے لگی۔

وہ اپنی جگہ سے اٹھا، ہر چیز گھومتی نظر آ رہی تھی۔ اس نے پھر آنکھیں بند کیں، اور بنا کسی پر نظر ڈالے ہال سے باہر کی جانب قدم بڑھائے۔

“ازمیر، تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟” اذیت بھری نسوانی آواز۔

وہ آگے بڑھ رہا تھا، مگر وہ آواز اس کے پیچھے پیچھے خاموشی سے آ رہی تھی۔

“میں نے کیا بگاڑا تھا تمہارا؟”

وہ آواز ازمیر کے وجود پر کوڑوں کی طرح برس رہی تھی۔ اسے سینے میں درد محسوس ہو رہا تھا اور ہاتھوں کی مٹھیاں بار بار کھول کر بند کر رہا تھا۔ وہ حال سے باہر آچکا تھا اور اب کھلے آسمان تلے چلتا، سرینا ہاٹل کی حدود سے باہر جا رہا تھا۔

“سر، آپ کہاں جا رہے ہیں؟” میڈیا نے ابھی، لیلہ ازمیر کو داخلی دروازے سے باہر جاتا دیکھ بھاگ کر اس تک گئی اور اس کا رخ اپنی جانب موڑ کر بات کرنے لگی۔ وہ اسے کب سے آوازیں دے رہی تھی، مگر وہ کچھ سن ہی نہیں رہا تھا۔

ازمیر نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے لیلہ کو دیکھا، یک دم بولتی ہوئی لیلہ کی جگہ ایک بے تہاشا روتی ہوئی لڑکی نے لے لی، جو شکوہ کناں نظروں سے ازمیر کو دیکھ رہی تھی۔

ازمیر یک دم جھٹکا کھا کر پیچھے ہوا۔ وہ روتی ہوئی لڑکی اس کے چاروں طرف گھیرا بنا رہی تھی۔ لوگ، روتی بلکتی لڑکی، ہر چیز گڈ مڈ ہو رہی تھی۔

“م۔۔میرا۔۔میرا پیچھا چھوڑ دو!” ازمیر نے اپنا سینہ مسلتے رک رک کر کہا۔

“سر، آپ ٹھیک ہیں؟” ازمیر کی خراب ہوتی حالت دیکھ کر لیلہ پھر اس کے قریب آئی، مگر اگلے ہی پل ازمیر نے اسے زور دار دھکا دیا۔

“مجھ سے دور رہو! میں نے کہا، تم چلی کیوں نہیں جاتی؟ میری زندگی سے مت آنا، میرے پیچھے!”

ازمیر نے وحشی انداز میں لیلہ کو دھکا دیا اور باہر کی جانب تقریباً بھاگتے ہوئے بڑھ گیا۔

“لیلہ، کیا آپ ٹھیک ہیں؟” صاحبہ جو کسی کو فون کرنے کے لیے باہر آئی تھی، لیلہ کو نیچے گرا دیکھ اس تک پہنچی۔

“میں ٹھیک ہوں، لیکن ازمیر سر جا چکے ہیں۔ اب کیا ہوگا؟”

“آپ پریشان نہ ہوں، میں کوئی حل نکالتی ہوں۔”

“عزیز، فوراً حال کے باہر پہنچو!” کان میں لگے ایر پیس پر وہ عزیز کو بلاتی فوراً دائیں جانب بڑھ گئی۔

عزیز صاحبہ کی بات سنتے فوراً حال سے باہر آیا۔ اسے صاحبہ کی ہر بات ماننا اچھا لگتا تھا، اور اسے دیکھتے مسکراہٹ خودبخود ہی اس کے چہرے پر پھیل گئی، اتنی کہ تمام دانت دکھائی دینے لگے، جو مرزا حاکم بڑی مشکل سے برداشت کرتا تھا۔

“مس صاحبہ؟”

عزیز نے باہر آ کر دیکھا تو صاحبہ کا نام و نشان نہیں تھا، ہاں البتہ سامنے ہی زمین پر کوئی لڑکی اپنی پشت موڑ کر اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“یہ کون ہے؟” عزیز نے سوچتے ہوئے قدم اس کی جانب بڑھائے اور سامنے جا ٹہرا، اور سامنے والی کو دیکھ وہ چونک گیا۔

تم؟ یہاں زمین پر کیا کر رہی ہو؟

چیونٹیوں کی تعداد گن رہی ہوں، آؤ تم بھی شامل ہو جاؤ۔ ایک تو پاؤں میں درد کی وجہ سے اٹھا نہیں جا رہا تھا، اوپر سے عزیز کے سوال نے لیلہ کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔

ٹھیک سے بات کرنے پر ٹیکس لگتا ہے کیا؟

عزیز نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

تم خود ہی سمجھو نا، کوئی شوق سے تو نیچے نہیں بیٹھتا، ظاہر سی بات ہے انسان نیچے گرتا ہے، چوٹ لگتی ہے تب ہی وہ یوں بیٹھ جاتا ہے نا، مگر تم میں سمجھ ہو تو…

لیلہ نے یہ کہتے ہوئے اپنا پیر سہلایا۔

اوہ، اچھا۔ تو تم نیچے گری ہو، تم بھی سنبھل کر چلتی نا؟

عزیز نے معصومیت سے اسے دیکھتے کہا۔

اگلی بار تمہاری نصیحت پر ضرور عمل کروں گی، پر ابھی یہاں سے چلے جاؤ۔

لیلہ نے اس پر نیت ڈال کر کہا اور دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کا زور زمین پر ڈال کر اٹھنے کی کوشش کی۔

عزیز ٹس سے مس نہ ہوا، بس یوں ہی ڈھیٹوں کی طرح اس کے سامنے کھڑا اسے دیکھتا رہا۔

لیلہ ابھی تھوڑا سا ہی اوپر اٹھی تھی، مگر پھر دھڑام سے نیچے گری۔

اوہ، سنبھل کر!

بے اختیار عزیز کے منہ سے نکلا۔

دوسری طرف لیلہ کی آنکھوں میں اب آنسو صاف نظر آ رہے تھے، اسے پاؤں میں بہت درد ہو رہا تھا۔

عزیز ایک دو پل اسے دیکھتا رہا اور پھر ہمت کر کے گہرا سانس بھرا اور زرا سا اس کے سامنے جھک کر اپنا بازو اس کے سامنے بڑھا دیا، چہرہ سامنے کی جانب موڑ لیا۔

لیلہ نے چونک کر اپنی جانب جھکے شخص کو دیکھا پھر اس کی طرف دیکھا جو دوسری جانب دیکھ رہا تھا۔

پکڑ لو ہاتھ، تمہیں گود میں اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتا میں۔

عزیز نے کہا، اسے کوئی رسپانس نہ کرتا دیکھ کر مسکراہٹ دبا لی۔

لیلہ نے ضبط سے آنکھیں میچیں اور پھر اس کے بازو کا سہارا لیا، اپنا سارا زور عزیز کے اس بازو پر ڈالتے اٹھی اور اسی طرح عزیز کا سہارا لیتے ہوئے، وہ حال کے باہر ایک طرف بنے بینچ کی جانب جانے لگی۔

کتنی بھاری ہو تم۔

ہاں، تو کھاتے پیتے خاندان سے ہوں، تمہاری طرح فاقوں پر نہیں جی رہی۔

ہر بات کا جواب دینا ضروری ہے کیا؟

ہر بات پر سوال پوچھنا ضروری ہے کیا؟

لیلہ نے بینچ پر بیٹھتے دو بدو جواب دیا، تو عزیز دانت کچکچا کر رہ گیا اور اس کے ساتھ ہی بینچ پر کچھ فاصلے سے بیٹھ گیا، جو اب پاؤں سے سینڈل اتار کر پاؤں کا معائنہ کر رہی تھی۔

شکر الحمدللہ!

یک دم لیلہ خوشی سے چہکی تو عزیز نے چونک کر اس کے چہرے کی جانب دیکھا جو اب خوشی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

کیا ہوا؟

میرے پاؤں میں موچ آئی ہے، مطلب دو دن کی چھٹی، مطلب پورے دو دن آفس نہیں جانا پڑے گا۔

لیلہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی، جبکہ عزیز کچھ بول نہ پایا، بس ہونک بنا اسے دیکھتا رہا، شاید نہیں، سامنے بیٹھی لڑکی سچ میں کھسکی ہوئی تھی۔

بہت بہت مبارک ہو تمہیں، واقعی بہت بڑی خوشخبری ہے یہ،

صاف کہہ دیا گیا۔

شکریہ، واضح ڈھٹائی دیکھائی گئی۔

ویسے کیا تم ہمیشہ سے ایسی ہی تھی، مطلب دماغ ایسے ہی رک رک کر کام کرتا تھا؟

عزیز نے سنجیدگی سے پوچھا، تو لیلہ ایک پل کو رکی، عزیز کو دیکھا اور پھر اس کی بات سمجھتے، اپنی تیوری چھڑی، اس نے اسے گھورتے ہوئے اگلے ہی پل اس کے بازو پر زور سے دانت گاڑے۔

آہاہاہا، جنگلی چھوڑو مجھے، کیا کر رہی ہو؟

تم اسی لائق ہو، بد لحاظ انسان، لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز ہی نہیں ہے تم میں۔

لیلہ نے اپنے دانتوں کی گرفت سے اس کے بازو کو آزاد کرتے کہا۔

واہ، ماشااللہ، تم میں تو تمیز کوٹ کوٹ کر بھری ہے نا جیسے، اسی بازو کا سہارا لے کر یہاں تک پہنچی ہو، اور اسی کو زخمی کر دیا۔

عزیز نے غصے سے سرخ ہوتے کہا۔

لیلہ کچھ بول نہ پائی۔

اچھا، اب اتنی سی کاٹی پر تم لڑکیوں کی طرح تو نہیں روؤ۔

لیلہ کو اپنی حرکت پر شرمندگی ہوئی۔

اتنی سی؟ اتنی سی کاٹی تھی یہ؟ آرے آدھے بازو پر تو تمہارے یہ خونخوار دانتوں کے نشان پڑ گئے ہیں۔

عزیز نے اسے آستین اوپر چھڑاتے بازو دیکھاتے ہوئے کہا، تو لیلہ کو مزید شرمندگی ہوئی۔

س۔۔سوری…

کچھ پل بعد لیلہ نے بامشکل منہ سے آواز نکالی۔

کیا کہا؟

سوری…

لیلہ نے سر جھکائے کہا۔

مجھے آواز نہیں آ رہی، تھوڑا زور سے بولو۔

عزیز نے ہنسی دباتے ہوئے کہا، جبکہ لیلہ کی اب بس ہو گئی تھی۔

میں نے کہا، سوری!

اب کی بار لیلہ بلند آواز میں غرائی، اتنی کہ وہ خود بھی ایک دم چونک گئی، اور عزیز کا تو کان ہی سنسنا کر رہ گیا تھا۔

وہ دونوں ہونک بنے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر یک دم وہ ہنس دیے۔

یا اللّٰہ صبر دے، خیر اب تم گھر کیسے جاؤ گی؟

اپنی بہن کو فون کروں گی، وہ لے جائے گی مجھے۔

اوکے، ٹیک کیئر۔

عزیز نے مدھم مسکراہٹ سے کہا اور کھڑا ہو گیا۔

بات سنو…

ابھی وہ دو قدم ہی چلا تھا کہ پیچھے سے پکار آئی، عزیز نے رخ موڑ کر بینچ پر بیٹھی لڑکی کو دیکھا جو مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

لیلہ… لیلہ عالیان۔

اس کی بات پر عزیز ٹہر سا گیا اور پھر گہری مسکراہٹ اس کے چہرے پر رینگ گئی۔

عزیز… احمد۔

میں نے تم سے نام نہیں پوچھا تھا۔

لیلہ نے ایبرو اچکاتے کہا۔

عزیز کی مسکراہٹ سمٹی، اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ بے بسی سے دوبارہ بند کر گیا، وہ اس پر باقاعدہ نیت ڈالتے، ایک گھوری دیکھاتے تن فن کر کے وہاں سے چلا گیا۔

نوٹنکی!

لیلہ نے ناک سکیڑے، اس کی جاتی پشت دیکھی اور پھر کوٹ کی جیب سے فون نکالا۔

دوسری جانب 

مرزا حاکم اب مسکرا کر کسی گیسٹ سے بات کر رہا تھا جب صاحبہ اس تک گئی۔

“ایکسکیوز می، مسٹر حاکم، مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔” وہ شائستگی سے اسے مخاطب کرتے بولی۔

“شیور، کہیں۔” وہ گیسٹ سے معذرت کرتا، صاحبہ کی جانب متوجہ ہوا۔

“میں میڈیا والوں کو واپس بھیج رہی ہوں۔”

“کیوں؟” اس نے تعجب سے پوچھا۔

“مسٹر ازمیر جا چکے ہیں، اور اگر آپ اکیلے یہ سب ہینڈل کریں گے تو بلا وجہ ہی افواہیں گردش میں آئیں گی۔”

“پھر اب کیا کیا جائے؟”

“ہم دو دن بعد ایک انٹرویو رکھ لیتے ہیں، آپ کا اور مسٹر ازمیر کا ساتھ میں۔ آپ دونوں کو ایک ہی فریم پر دیکھانا ضروری ہے۔”

مرزا نے بغور اسے دیکھا۔ وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے، اس سے تین قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ اس کی بھوری آنکھیں دیکھ کر ایک بار پھر مرزا کو احساس ہوا جیسے وہ انہیں پہلے بھی کہیں دیکھ چکا ہے۔

“آپ مجھ پر یقین کر سکتے ہیں۔” اسے خاموش دیکھ، صاحبہ نے اسے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔ تو مرزا ہنس دیا۔

“آپ پر یقین ہے، تب ہی آپ کے اس کانٹریکٹ پیپر پر نا چاہتے ہوئے بھی سائن کیا تھا۔”

“مطلب؟” صاحبہ نے نا سمجھی سے پوچھا۔

وہ دونوں اس وقت مدھم روشنی اور مدھم اندھیرے کے ملاپ میں کھڑے، بہت ہی خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے۔

“مطلب، اس دن آپ کے سابقہ آفس میں آپ کی ٹالکنگ اسکلز اور اعتماد دیکھ کر میں متاثر ہوا تھا۔” اس نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔ اور یہی وجہ اس پیپر پر سائن کرنے کی تھی، کیونکہ ایک بہترین پی آر مینیجر کمپنی کے لیے بہت ضروری ہے۔

“ویل، مجھے بھی خود پر پورا بھروسہ تھا، کیونکہ اگر میں آپ کے مخالف کمپنی میں چلی جاتی، تو شاید آپ کو مستقبل میں مشکلات اٹھانی پڑتیں۔” اس کی بے نیازی سے کہی گئی بات پر مرزا کا قہقہ بلند ہوا۔ اس کی بات سن کر وہ بے اختیار ہنس دیتا تھا، ایک بھرپور ہنسی۔

“بلکل، میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں۔”

“کرنا بھی چاہیے، آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے اب۔”

“آہ، وہ کیا چیز تھی؟”

“لیکن خیر، آپ نے آج بہت اچھے سے سب مینج کیا ہے، گڈ جاب۔”

“وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن ٹھیک دو منٹ تک میرے بینک اکاؤنٹ میں دو لاکھ جمع کروا دے۔”

مرزا چونکا، “کیا مطلب؟” اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔

“آپ نے میرا رول توڑا ہے۔ مرزا کو جھٹکا لگا۔ مجھ سے بلا وجہ بات کرنا آلوو نہیں تھا، سو اس لیے پلیز بھرپائی کر دیجئے گا۔” وہ کہہ کر آگے بڑھ گئی۔

مرزا نے حیرت سے، گنگ چہرہ لیے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا۔

“مگر تم نے بھی بات کی ہے!” حیرت کے جھٹکے میں اس نے آپ سے “تم” کا سفر طے کیا۔

وہ رکی، پھر مڑی، مرزا کو دیکھا اور پھر اس کے چہرے پر شیطانیت بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔

“باس کی بات کا جواب نہ دیتی تو یہ بیڈ مینرز میں شامل ہوتا نا؟” اس کی مسکراہٹ مرزا کے تن بدن میں آگ لگا گئی۔

اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ۔۔۔

“آپ پھر بات کر رہے ہیں؟” اس نے معصومیت سے یاد دلایا۔

مرزا بے بسی سے مٹھیاں پھینچ گیا، اور زبردستی مسکرا کر اسے دیکھا۔

صاحبہ اثبات میں سر ہلاتی مڑ گئی۔

اس روز جو اس کی شیطانی مسکراہٹ مرزا کو دلچسپ لگ رہی تھی، آج جلتے توے پر جیسے بیٹھا گئی تھی۔

اب اسے سمجھ آئی کہ لوگ کیسا محسوس کرتے ہوں گے جب وہ یوں ہی ڈھیٹوں کی طرح مسکرا کر سامنے والے کا ضبط آزماتا تھا۔

“آہ، مکافات عمل، آہ۔”

وہ کھولتے دماغ کے ساتھ وہاں سے غائب ہو گیا۔ کچھ ہی پل بعد یہ تقریب بھی ختم ہونے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

رات گہری سے گہری ہوتی گئی اور ہر شے کو اپنے سناٹے میں ڈبو رہی تھی۔

یہی اندھیرا اس کے ہر طرف پھیلا ہوا تھا، اور اس کے دل و دماغ میں بھی اسی طرح چھایا جا رہا تھا، جیسے ہر سانس کے ساتھ کوئی بوجھ اس کے اندر گھس رہا ہو۔

وہ ڈرائیور کے ہمراہ گھر پہنچا، لیکن پورے راستے میں اسے یہی محسوس ہوتا رہا کہ ہر لمحہ خنجر اس کے دل میں بار بار گھس رہا ہے۔

کمرے کے اندھیرے میں، وہ ایک طرف زمین پر بیٹھا، گھٹنوں کو سینے سے چمٹا کر، بالوں میں انگلیاں پھنسائے کانپ رہا تھا۔

اس لمحے وہ کسی مشہور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون یا پراسیکیوٹر جیسا مضبوط انسان نہیں لگ رہا تھا؛ بلکہ ایک زخمی اور خوفزدہ وجود کی طرح، ماضی کی تلخ یادوں سے متاثر ہوا زخمی لگ رہا تھا۔  

اس کے اردگرد شور تھا، ایک بے ترتیب ہلچل، اور وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔

“کچھ نہیں ہوا… سب ٹھیک ہے… کچھ بھی نہیں ہوا…”

یہ الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے، لیکن اندر کے زخموں کو چھپانے کے لیے ناکافی تھے۔

تب اس ہنگامے میں ایک آواز نے اس کے دل و دماغ کو چونکا دیا، سرد، سرسراتی ہوئی، اور پگھلے ہوئے سیسے کی مانند۔

یہ آواز اسے یوں محسوس ہوئی جیسے موت خود وہاں موجود ہو۔

“تم ایک ریپسٹ ہو۔”

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *