بشر ( از قلم صدیقی)
قسط نمبر ۱۱
صبح کا وقت تھا…
ہوٹل کے باہر ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی… جبکہ سڑکوں پر ابھی زیادہ رش نہیں ہوا تھا۔
ہان وو ہمیشہ کی طرح جلدی اُٹھ گیا تھا۔
باقی سب ابھی سو رہے تھے…
وہ خاموشی سے ہوٹل سے باہر نکل آیا۔ ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈالے وہ آہستہ آہستہ سڑک پر چلتا رہا…
اِدھر اُدھر دیکھتا رہا،
کافی دیر چلنے کے بعد اچانک اُس کی نظر سڑک کے کونے پر موجود ایک مسجد پر جا کر رُک گئی۔
ہان وو کے قدم بےاختیار سست پڑ گئے۔
چند لمحے وہ ویسے ہی باہر کھڑا مسجد کو دیکھتا رہا…
پھر نہ جانے کیوں… وہ آہستہ آہستہ اندر چلا گیا۔
مسجد کے اندر غیرمعمولی خاموشی تھی۔
صرف چند لوگ موجود تھے…
کوئی کونے میں بیٹھا قرآن شریف پڑھ رہا تھا…
دو بزرگ آہستہ آواز میں کسی بات پر گفتگو کر رہے تھے…
اور ایک بچہ اپنے والد کے ساتھ صف کے قریب بیٹھا کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ہان وو خاموشی سے ایک دیوار کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔
وہ اِدھر اُدھر دیکھتا رہا…
پھر اُس کی نظریں مسجد کے فرش پر جم گئیں۔
اُس کے ذہن میں بےاختیار وہ دن آیا… جب اُس نے پہلی بار سجدہ کیا تھا… اور عجیب سا سکون محسوس کیا تھا۔ ایسا سکون… جو اُس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
ہان وو نے دھیرے سے سانس لی۔ پھر نظریں اٹھا کر اردگرد دیکھا۔
کوئی اُس کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔
سب اپنی اپنی عبادت میں مصروف تھے۔
چند لمحے وہ خاموش بیٹھا رہا…
پھر آہستہ سے کھڑا ہوگیا۔
اُسے خود بھی پوری طرح سمجھ نہیں آرہا تھا…
وہ کیا کرنے جا رہا ہے۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس نے وہی حرکت دہرانی شروع کر دی… پہلے سیدھا کھڑا ہوا… پھر آہستہ سے جھکا…
پھر سجدے میں چلا گیا۔
چند سیکنڈ… پھر چند اور… مگر…
کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔
نہ دل کا سکون… نہ وہ عجیب سی نرمی… نہ وہ خاموش اطمینان… کچھ بھی نہیں۔ کُچھ بھی نہیں ہوا۔۔
ہان وو نے آہستہ سے سر اٹھایا۔
اُس کی بھنویں ہلکے سے سکڑ گئیں۔
پھر اُس نے دوبارہ کوشش کی…
دوبارہ سجدہ کیا… مگر اِس بار بھی…
کچھ نہیں۔ وہ سکون… کہیں تھا ہی نہیں۔
ہان وو چند لمحے ویسے ہی فرش کو دیکھتا رہا۔
پھر دھیرے سے سیدھا بیٹھ گیا۔
اُس کے دل میں عجیب سی بےچینی آنے لگی تھی۔
اُس دن تو صرف ایک سجدے کے بعد ہی دل ہلکا ہوگیا تھا…
پھر آج کیوں نہیں…؟
کیا فرق تھا…؟
کوئی فرق نہیں تھا۔۔۔ وہ بالکل ویسے ہی کر رہا تھا لیکن وہ سکون وہ سکون کہاں تھا۔۔۔؟؟
وہ کُچھ دیر خاموشی سے وہیں بیٹھا تھا پھر اُٹھ کے مسجد سے باہر نکل گیا۔۔۔
++++++++++++
آج سب کا لاہور کی ایک نئی جگہ گھومنے جانے کا پروگرام تھا۔
صبح سے ہی سب خاصے پُرجوش تھے…
مگر اچانک سارا پلان اُس وقت بگڑ گیا جب ہیوک کی طبیعت خراب ہوگئی۔
آنکھیں ہلکی سی سوجی ہوئی تھیں…
چہرہ غیرمعمولی حد تک تھکا ہوا لگ رہا تھا…
رات بھر بخار میں تپتا رہا تھا اور شاید ٹھیک سے سو بھی نہیں پایا تھا۔
اب حالت یہ تھی کہ اُس میں اُٹھ کر بیٹھنے کی ہمت بھی مشکل سے باقی تھی۔
اور سب ہی اُس کے لیے فکرمند اُس کے کمرے میں اُس کے اِردگرد بیٹھے تھے۔۔۔۔
رین یون اُس کے قریب آیا اور ہاتھ اُس کی پیشانی پر رکھ کر بخار چیک کرنے لگا۔
تمہیں ابھی تو بخار نہیں ہے؟
ہیوک نے ہلکے سے آنکھیں کھولے۔۔
ہاں… اُتر گیا ہے… یا شاید اُتر رہا ہے… ابھی دوا لی ہے تو کم لگ رہا ہے…
اب ہمارے ساتھ کیسے جاؤ گے تم؟ سوہان نے فوراً پوچھا۔
میں نہیں جا رہا…
تائیجون نے فوراً کہا، تو پھر چھوڑو… آج کوئی نہیں جاتا… آرام کرتے ہیں سب۔
نہیں۔ ہیوک نے فوراً انکار کیا۔ تم لوگ جاؤ۔ ویسے بھی مجھے آرام کرنے کے لیے اکیلے رہنے کی ضرورت ہے۔ تھوڑی دیر اور سو جاؤں گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔
سیونگ نے سر ہلایا۔ ہاں، ہیوک ٹھیک کہہ رہا ہے۔ صرف تھکن کی وجہ سے بخار آیا ہے۔ آرام کرے گا تو بہتر ہو جائے گا۔
جے کیونگ اب بھی مطمئن نہیں لگ رہا تھا۔
لیکن اِسے اکیلا کیسے چھوڑ دیں؟
میں رُک جاتا ہوں پھر۔۔ ہان وو نے فوراً کہا۔ اِس کا خیال رکھنے کے لیے۔
یہ سنتے ہی سومین فوراََ طنزیہ انداز میں بولا۔۔
لو جی… اِس کے اندر کی ممی پھر سے جاگ گئی…
سب کی نظریں اُس کی طرف مڑ گئیں۔
ہر وقت کوئی بیمار ہوگا… کسی کو مسئلہ ہوگا… تو جناب فوراً قربانی دینے پہنچ جائیں گے…
ہان وو نے سپاٹ لہجے میں کہا، چپ رہو تم۔
جیسے ہی اُس نے یہ کہا… سوہان کی زور دار ہنسی نکل گئی۔ ہا ہا ہا! کروا لی عزت۔۔۔
سومین نے فوراً اُسے گھورا۔ تو زیادہ مت بول، ناٹے…”
اوئے۔۔۔
سوہان کی ہنسی ایک دم رک گئی۔
اوئے! پھر height پر آگیا؟
تو لمبا ہو جا۔ نہیں آؤنگا پھر میں ہائٹ پر۔۔۔
بس۔۔۔۔ سیونگ نے دونوں کو گھورتے ہوئے کہا۔
خاموش ہو جاؤ۔
دونوں فوراً چپ ہوگئے۔ کم از کم ظاہری طور پر۔
ہیوک نے کمزور سی آواز میں کہا،
تم سب چلے جاؤ۔ میں ویسے بھی ابھی سو جاؤں گا۔ کسی کو بھی میرے ساتھ رکنے کی ضرورت نہیں ہے۔
تائیجون نے اب بھی پریشانی سے پوچھا،
لیکن تمہیں کسی چیز کی ضرورت پڑ گئی تو؟
ہیوک نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔
میں مر نہیں رہا ہوں۔
رات بھر بھی اپنا خیال خود رکھ لیا تھا… ابھی بھی رکھ لوں گا۔ ساری چیزیں سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہیں۔ دوائیں… پانی… سب یہاں پڑا ہے…
یہ سنتے ہی سب کی نظریں ایک ساتھ تائیجون کی طرف مڑ گئیں۔
تائیجون فوراً چونکا۔ کیا؟
سب بدستور اُسے ہی دیکھ رہے تھے۔
اب میں نے کیا کیا ہے؟
سومین نے ابرو اُٹھائے۔
تیرا روم میٹ رات بھر بخار میں پڑا رہا…
سوہان نے بات مکمل کی۔
اور حضرت کو خبر تک نہیں ہوئی۔
اوئے۔۔۔۔
تائیجون فوراً بولا۔ میں سو رہا تھا۔۔۔
ہمیں بھی پتا ہے۔
تو پھر؟
بہت گہری نیند تھی لگتا ہے۔
میں کیا کروں؟ تائیجون نے دفاعی انداز میں کہا۔
میں سوتا ہوں تو مجھے کسی کا ہوش نہیں رہتا۔ یہ مجھے جگا دیتا۔۔۔۔
ہیوک نے کمزور سی ہنسی کے ساتھ آنکھیں بند کر لیں۔
سیونگ نے آخرکار بات ختم کی۔
بس ٹھیک ہے۔ اِسے یہیں چھوڑ دو۔
پھر اُس نے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا،
ہوٹل کے منیجر کو بتا دیتے ہیں۔ اگر اِسے کسی چیز کی ضرورت پڑی تو وہ دیکھ لے گا۔
رین یون نے سر ہلایا۔
ہاں، یہ ٹھیک ہے۔
مگر جے کیونگ اب بھی مطمئن نہیں لگ رہا تھا۔
ہم سب ہی رُک جاتے ہیں نا۔
نہیں۔ سیونگ نے صاف لہجے میں کہا۔
اِسے صرف آرام کی ضرورت ہے۔ اور آرام تبھی کرے گا جب تم سب اِس کے سر پر کھڑے نہیں رہو گے۔
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی رہی۔
پھر سب نے آخرکار مان لیا۔
ایک ایک کر کے وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔
سو جانا۔ ہان وو نے جاتے جاتے کہا۔
اور دوا وقت پر کھا لینا۔
جی امی۔ ہیوک نے آنکھیں بند کیے بند کیے جواب دیا۔
سوہان فوراً ہنس پڑا۔
دیکھا؟ میری طرح ہاں وو کی بھی عزت کوئی۔۔۔
ہاں وو خاموشی سے روم سے باہر نکل گیا۔۔
نکل۔ ہیوک نے کمزور آواز میں کہا۔ شکل نہ دکھانا ابھی۔۔۔
سب ہنستے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
دروازہ آہستہ سے بند ہوا…
اور کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
ہیوک نے تھکے ہوئے انداز میں کروٹ بدلی…
کمبل اپنے اوپر کھینچا…
++++++++++++++
کمرے سے نکلنے کے بعد بھی سب کے چہروں پر ہلکی سی فکر موجود تھی۔
آخر ہیوک اُن کے گروپ کا حصہ تھا… اور اُسے اُس حالت میں پیچھے چھوڑ کر جانا کسی کو بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
مگر دوسری طرف ہیوک کی بات بھی درست تھی۔
اُسے واقعی آرام کی ضرورت تھی۔
لِفٹ سے نیچے آتے ہوئے سوہان نے لمبی سانس لی۔
یار… مزہ نہیں آئے گا اُس کے بغیر۔
تین دن سے تمہیں صرف کھانے اور گھومنے کے علاوہ کسی چیز کی فکر نہیں تھی… سومین فوراً بولا۔
اور آج اچانک دوستی جاگ گئی؟
میں بہت اچھا دوست ہوں۔ نہ اسی لیے۔۔۔۔
ہاں اتنا اچھا کہ ہیوک اس کے ساتھ اپنا روم شیئر کرنے نہیں مان رہا تھا۔۔۔
وہ تو بس وہ ہیوک کام چور ہے اسی لیے۔۔۔ سوہان فوراََ بولا۔۔۔
دیکھو تو بول کون رہا ہے۔۔۔ یہاں سب جانتے ہیں کون کام چور ہے کون بھی نہیں ہے۔۔۔
ہاں ہیوک ہے سب کو پتہ ہے۔۔۔ سوہان کہتا بےنیازی سے آگے بڑھ گیا
پیچھے سے سب ہنس پڑے۔
پھر رین یون نے کہا۔ آج کہاں جانا ہے؟
یہ سوال سنتے ہی سب خاموش ہوگئے۔
چند لمحے بعد منیجر نے مسکراتے ہوئے کہا،
اگر لاہور کی ایک منفرد جگہ دیکھنی ہے تو آج واہگہ بارڈر چلتے ہیں۔
واہگہ بارڈر؟ ہان وو نے سوالیہ انداز میں دہرایا۔
وہ کیا ہوتا ہے؟
منیجر کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
پاکستان اور بھارت کی سرحد۔
سرحد؟
سوہان کی آنکھیں پھیل گئیں۔
وہاں لوگ گھومنے بھی جاتے ہیں؟
روز جاتے ہیں۔
کیوں؟
تقریب دیکھنے۔
اب سب کی دلچسپی بڑھ گئی تھی۔
تھوڑی ہی دیر بعد وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔
لاہور کی مصروف سڑکیں ایک بار پھر اُن کے سامنے پھیل گئی تھیں۔
راستے بھر سوہان سوالوں کی بارش کرتا رہا۔
وہاں فوجی ہوں گے؟
ہاں۔
بندوقیں بھی؟
ہاں۔
ٹینک؟
نہیں۔
افسوس…
سومین نے فوراً اُس کے سر پر ہلکا سا تھپڑ مارا۔
پکنک پر جا رہے ہیں یا جنگ دیکھنے؟
کافی دیر کے سفر کے بعد گاڑی آخرکار ایک وسیع و عریض علاقے میں داخل ہوئی۔
جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہے تھے، سڑک کے دونوں طرف لوگوں کا رش بڑھتا جا رہا تھا۔
کسی کے ہاتھ میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم تھا…
بچے اِدھر سے اُدھر بھاگ رہے تھے۔۔۔
کئی نوجوان جھنڈے کندھوں پر ڈالے نعرے لگاتے پھر رہے تھے…
اور ہر طرف ایک عجیب سا جوش محسوس ہو رہا تھا۔
گاڑی پارکنگ میں رُکی تو دور ہی سے بلند آواز میں قومی نغمے سنائی دے رہے تھے۔
دل دل پاکستان…
ہوا کے ساتھ نغمے کی آواز دور تک پھیل رہی تھی۔
یہاں تو میلے جیسا ماحول ہے…
سوہان نے حیرانی سے گردن گھماتے ہوئے کہا۔
منیجر ہنس پڑا۔
تقریب شروع ہونے سے پہلے اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔
وہ سب گاڑی سے اُتر کر آگے بڑھنے لگے۔
سامنے سرخ اینٹوں سے بنی بڑی بڑی عمارتیں تھیں جن کا طرزِ تعمیر مغلیہ دور کی عمارتوں سے ملتا جلتا تھا۔
دور سے دیکھنے پر یوں لگتا تھا جیسے کسی قلعے کے دروازے ہوں۔
ہر طرف سیکیورٹی موجود تھی۔
لوگ قطاروں میں اندر جا رہے تھے۔
کسی طرف فیملیاں تھیں…
کسی طرف سیاح…
اور کئی غیر ملکی بھی تصاویر بنا رہے تھے۔
جیسے ہی وہ مرکزی حصے میں پہنچے…
سب کے قدم بےاختیار سست پڑ گئے۔
سامنے ایک بہت بڑا میدان نما حصہ تھا۔
دونوں جانب بلند سیڑھیوں والی بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی تھیں جو چھوٹے اسٹیڈیم کا منظر پیش کر رہی تھیں۔
بیچ میں ایک چوڑی سڑک نما پٹی تھی…
جو سیدھی سامنے موجود بڑے فولادی گیٹ تک جا رہی تھی۔
اُس گیٹ کے اُس پار بھارت کی حدود شروع ہوتی تھیں۔
اور حیرت کی بات یہ تھی کہ دوسری طرف بھی تقریباً ویسا ہی منظر موجود تھا۔
وہاں بھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے…
وہاں بھی جھنڈے لہرا رہے تھے…
اور وہاں بھی تقریب کی تیاری ہو رہی تھی۔
اوہ…
تائیجون بےاختیار بول اٹھا۔
تو یہ اصل بارڈر ہے؟
جی۔ منیجر نے مسکرا کر جواب دیا۔
صرف چند قدم کے فاصلے پر دوسرا ملک ہے۔
ہان وو خاموشی سے سامنے دیکھتا رہا۔
ہوا تیز چل رہی تھی۔
جھنڈے زور زور سے لہرا رہے تھے۔
سب سے نمایاں چیز پاکستان کا بہت بڑا پرچم تھا…
جو ایک بلند و بالا ستون پر لہرا رہا تھا۔
اتنا بڑا کہ دور سے بھی فوراً نظر آ جاتا تھا۔
سورج آہستہ آہستہ ڈھلنے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
سنہری روشنی جھنڈے اور عمارتوں پر پڑ کر عجیب خوبصورتی پیدا کر رہی تھی۔
لوگوں کا شور مسلسل بڑھتا جا رہا تھا۔
کبھی نعرے لگتے… کبھی تالیاں بجتیں…
کبھی قومی نغمے گونج اٹھتے۔
سوہان نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لیے۔
قسم سے… یہ لوگ تو مجھ سے بھی زیادہ شور کرتے ہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب تمہیں کسی اور کا شور زیادہ لگا ہے۔ سومین نے فوراً کہا۔
یہ سرحد ہے؟ جے کیونگ نے حیرانی سے کہا۔ مجھے لگا تھا یہاں صرف باڑ اور سپاہی ہوں گے۔
مجھے بھی۔ ہان وو نے آہستہ سے کہا۔
سوہان تو پہلے ہی اپنے فون سے ویڈیوز بنانے میں مصروف ہوچکا تھا۔
یہ دیکھو… یہ دیکھو…!
کیا؟
یہ میری بہترین vlog بننے والی ہے۔
پہلے vlog بنانا سیکھ لو۔ تائیجون نے کہا۔
سب اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
چند لمحوں بعد اچانک ایک بلند آواز گونجی۔
اور پورے مجمع میں جوش کی لہر دوڑ گئی۔
پاکستان رینجرز کے جوان میدان میں داخل ہو رہے تھے۔
سیاہ وردی… سر پر اونچی پگڑیاں… چمکتے ہوئے جوتے… اور انتہائی پُراعتماد انداز۔
ان کے ہر قدم کے ساتھ جوتوں کی دھمک پورے میدان میں سنائی دے رہی تھی۔
ٹھاک! ٹھاک! ٹھاک!
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین ہلکی سی لرز رہی ہو۔
ہزاروں لوگ ایک ساتھ تالیاں بجانے لگے۔
نعرے بلند ہونے لگے۔
کسی طرف سے پاکستان زندہ باد۔۔۔ کی آواز آتی…
تو دوسری طرف سے جواب میں اور بلند نعرہ بلند ہو جاتا۔
جے کیونگ نے حیرانی سے چاروں طرف دیکھا۔
اتنے لوگوں کا جوش اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
دوسری طرف بھارتی سپاہی بھی اپنی جانب سے تقریب کا حصہ بن رہے تھے۔
پورا مجمع نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔
واہ۔۔۔ یہ تو فلموں سے بھی زیادہ زبردست ہے۔۔۔۔
سوہان تقریباً اپنی نشست سے اُچھلتے ہوئے بولا۔
سیونگ نے فوراً اُس کی جیکٹ پکڑ کر واپس بٹھا دیا۔
بیٹھ جاؤ۔
ابھی تم خود بارڈر پار کر جاؤ گے۔
سب ہنس پڑے۔
مگر سچ یہ تھا کہ اُن سب کی نظریں میدان سے ہٹ نہیں رہی تھیں۔
پاکستان رینجرز کے جوان انتہائی پُراعتماد انداز میں مارچ کر رہے تھے۔
ہر قدم کے ساتھ اُن کے بوٹوں کی آواز پورے میدان میں گونج رہی تھی۔
مجمع ہر قدم پر جوش سے نعرے لگا رہا تھا۔
پاکستان زندہ باد!
پاکستان زندہ باد!
جے کیونگ نے حیرت سے چاروں طرف دیکھا۔
یہ لوگ اتنے پُرجوش کیوں ہیں؟
منیجر مسکرایا۔ کیونکہ یہ صرف تقریب نہیں ہے۔
یہ لوگوں کے لیے اپنے ملک سے محبت کا اظہار بھی ہے۔
ہان وو خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
ہزاروں لوگ… مختلف عمر کے لوگ…
مگر سب ایک ہی نعرہ لگا رہے تھے۔
ایک ہی جھنڈے کے نیچے۔ ایک ہی جذبے کے ساتھ۔
کچھ لمحوں کے لیے اُسے یہ منظر عجیب حد تک خوبصورت محسوس ہوا۔
دوسری طرف بھارتی گیلریوں سے بھی شور بلند ہو رہا تھا۔
وہاں بھی لوگ اپنے جھنڈے لہرا رہے تھے۔
وہاں بھی نعرے لگ رہے تھے۔
دونوں ملکوں کے درمیان صرف چند قدموں کا فاصلہ تھا۔
مگر دونوں طرف جذبات کی شدت ایک جیسی محسوس ہو رہی تھی۔
اوہ… تائیجون نے سر ہلاتے ہوئے کہا
اچانک پورا مجمع اور زیادہ زور سے چلانے لگا۔
تقریب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہی تھی۔
دونوں جانب کے سپاہی ایک دوسرے کے سامنے آ چکے تھے۔
ان کی حرکات میں سختی تھی۔ چال میں غرور تھا۔
اور پورے ماحول میں ایک عجیب سا رعب محسوس ہو رہا تھا۔
پھر وہ لمحہ آیا جب دونوں جانب کے جھنڈے آہستہ آہستہ نیچے اُتارے جانے لگے۔
ہزاروں لوگ خاموشی سے یہ منظر دیکھنے لگے۔
سورج تقریباً غروب ہو چکا تھا۔
سنہری روشنی آسمان پر پھیل رہی تھی۔
ہوا مسلسل جھنڈوں کو لہرا رہی تھی۔
++++++++++++
ادھر واہگہ بارڈر میں سب تقریب دیکھنے میں مصروف تھے…
اور اِدھر ہوٹل کے کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
کچھ منٹ تک ہیوک ویسے ہی کمبل اوڑھے لیٹا رہا…
جیسے واقعی گہری نیند میں ہو۔
پھر آہستہ آہستہ اُس نے ایک آنکھ کھولی۔
کمرے میں خاموشی تھی۔
دروازہ بند تھا۔
اور سب جا چکے تھے۔
اگلے ہی لمحے وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
اُس کے چہرے پر نہ بیماروں والی بےبسی تھی…
نہ کمزوری…
اور نہ ہی بخار کا کوئی خاص اثر۔
وہ سیدھا بستر سے اُترا اور واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
واش روم کے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اُس نے نل کھولا۔
ٹھنڈے پانی کے چھینٹے چہرے پر مارے۔
پھر جیب سے ٹشو نکال کر آنکھوں کے نیچے رگڑنے لگا۔
آہستہ آہستہ سیاہ رنگ صاف ہونے لگا۔
اصل میں اُس نے رات کو ہی میک اپ کی مدد سے آنکھوں کے نیچے ہلکے ہلکے ڈارک سرکلز بنا لیے تھے۔
تاکہ بیمار زیادہ لگ سکے۔
چند لمحوں بعد اُس نے دوبارہ آئینے میں خود کو دیکھا۔
اب چہرہ پہلے سے کافی نارمل لگ رہا تھا۔
ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
معاف کرنا دوستو… وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔ لیکن آج مجھے واقعی اکیلا رہنا تھا۔
بخار اُسے ہلکا سا ضرور تھا…
لیکن اتنا نہیں جتنا سب کو دکھایا گیا تھا۔
باقی ساری اداکاری اُس نے خود کی تھی۔ اُسے نے سب سے کہا وہ رات بھر بخار میں تپٹا رہا لیکن اصل میں ایسا کُچھ نہیں تھا اور جو اُس کے ساتھ تائیجون رہتا اُسے تو سوتے میں آس پاس کی کوئی خبر ہو نہیں ہوتی۔۔۔ تو کوئی اُسے پکڑ نہیں پایا اور اس کی سب سے بارے وجہ یہ بھی تھی کہ ہیوک جیسے بندے پر کوئی شک نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ کیوں کہ وہ اپنے بھائیوں سے کبھی جھوٹ نہیں کہتا تھا۔۔۔ کبھی کُچھ نہیں چھپاتا تھا۔۔۔ اور وہ گروپ کا سب سے سیدھا لڑکا مانا جاتا تھا۔۔۔
اُس نے جلدی سے جیکٹ پہنی۔ فون جیب میں رکھا۔
پھر ایک بار دروازے کے سوراخ سے باہر جھانکا۔
کوریڈور خالی تھا۔
اُس نے دروازہ کھولا اور خاموشی سے باہر نکل آیا۔
لفٹ استعمال کرنے کے بجائے وہ سیڑھیوں کی طرف مُڑ گیا۔
جیسے کوئی خفیہ مشن پر نکلا ہو۔
چند منٹ بعد وہ ہوٹل کی لابی سے بھی گزر چکا تھا۔
اُس نے خاص طور پر اِدھر اُدھر دیکھ کر تسلی کی۔
نہ منیجر موجود تھا… نہ گروپ کا کوئی فرد… اور یہی وہ چاہتا تھا۔
کیونکہ آج سب واہگہ بارڈر جا چکے تھے۔
اب اُسے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔
ہیوک تیز قدموں سے ہوٹل سے باہر نکل گیا۔
لاہور کی سڑکوں پر شام کی روشنی پھیل چکی تھی۔
گاڑیاں گزر رہی تھیں…
لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے…
مگر ہیوک کا ذہن صرف ایک ہی جگہ اٹکا ہوا تھا۔
وہی کیفے… وہی میز… اور وہی لڑکی۔ ماہم۔
نہ جانے کیوں… اُسے پورا یقین تھا کہ وہ آئے گی۔
حالانکہ کوئی وعدہ نہیں تھا۔ کوئی یقین دہانی نہیں تھی۔ بلکہ اُس کی دوست تو واضح طور پر مخالف نظر آ رہی تھی۔
مگر پھر بھی… دل مسلسل ایک ہی بات کہہ رہا تھا۔
وہ آئے گی۔ ضرور آئے گی۔ شاید صرف چند منٹ کے لیے… شاید صرف یہ پوچھنے کے لیے کہ وہ کیا کہنا چاہتا تھا…
مگر آئے گی ضرور۔ ہیوک کے قدم خودبخود تیز ہوتے گئے۔
اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اُس کے دل کی دھڑکن بھی۔
کیونکہ اب اُسے صرف اُس کیفے تک پہنچنا تھا…
اور انتظار کرنا تھا۔
+++++++++++++++++
ہیوک تیزی سے چلتا ہوا آخرکار اُس کیفے کے سامنے پہنچ گیا…
راستے بھر اُس کے ذہن میں ایک ہی خیال چل رہا تھا۔
اگر وہ نہ آئی تو…؟
آخر اُس نے اُس سے صرف ایک بار ملاقات کی تھی…
اور کل بھی وہ بات مکمل کیے بغیر چلا گیا تھا۔
ممکن تھا ماہم نے اُس کی بات کو سنجیدگی سے ہی نہ لیا ہو۔
ممکن تھا وہ اُسے عجیب سمجھ کر دوبارہ آنے کا ارادہ ہی نہ رکھتی ہو۔
مگر جیسے ہی اُس نے کیفے کے شیشے والے دروازے کے اندر نظر ڈالی…
اُس کے قدم بےاختیار سست پڑ گئے۔
وہ آ گئی تھی۔
کھڑکی کے قریب والی میز پر بیٹھی ہوئی۔
آج اُس نے پچھلے دن والا عبایا نہیں پہنا تھا۔
عبایا نیا تھا… رنگ بھی مختلف تھا…
مگر پھر بھی ہیوک نے اُسے ایک ہی نظر میں پہچان لیا۔
شاید اُس کی وجہ وہ معصومیت والا انداز تھا… یا پھر وہ چھوٹی چھوٹی محتاط حرکتیں… جو صرف ماہم کی تھیں۔
اور عجیب بات یہ تھی…
ماہم بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اور پلٹ پر رکھے ٹشو سے فلاور بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
یہ دیکھتے ہی ہیوک کے دل میں عجیب سا احساس پیدا ہوا۔ اچانک اُسے واقعی برا لگا۔
وہ کافی دیر سے وہاں بیٹھی تھی۔
اور وہ خود وقت پر نہیں پہنچ سکا تھا۔
ہیوک نے فوراً قدم تیز کر دیے۔
چند ہی لمحوں بعد وہ اُس کی میز کے قریب پہنچ گیا۔
سوری… سوری…
وہ جلدی جلدی بولتے ہوئے اُس کی طرف اپنے ٹریڈتیشل انداز میں ذرا سا جھک گیا۔
ماہم فوراً چونک کر کھڑی ہوگئی۔
یہ کیا کر رہے ہیں آپ…؟
ہیوک نے شرمندگی سے گردن کھجائی۔
میں واقعی معذرت چاہتا ہوں… میں نے تمہیں انتظار کروایا…
پھر فوراً پوچھا، بہت دیر ہوگئی کیا…؟
ماہم نے ہلکے سے سر ہلایا۔
نہیں… اِٹس اوکے…
پھر اُس نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
آپ بیٹھ جائیں۔
ہیوک نے سکون کا سانس لیا اور فوراً بیٹھ گیا۔
چند لمحوں کے لیے دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی۔
ماہم کی نظریں اُس پر تھیں۔
جبکہ ہیوک جیسے اپنے الفاظ ترتیب دے رہا تھا۔
آخرکار ماہم نے ہی خاموشی توڑی۔
اب بتائیے…
کیا بتانا چاہتے تھے آپ…؟
ہیوک چند لمحے خاموش رہا۔
پھر اُس نے نظریں میز پر جھکا دیں۔
جیسے ماضی کی کسی بہت دور کی یاد کو دیکھ رہا ہو۔
تمہیں شروع سے میری کہانی سننی پڑے گی…
جب میں چھوٹا تھا… تب سے ہی خدا پر یقین رکھتا تھا میں، میری فیملی بھی خدا کے وجود پر یقین رکھتی تھی،
میری ماں اُن لوگوں میں سے تھی جو خدا کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔
وہ اکثر کہا کرتی تھیں،
“خدا سے باتیں کیا کرو… وہ سنتا ہے۔ ہماری دعائیں قبول کرتا ہے۔”
شروع میں ہماری زندگی کافی اچھی تھی۔
ہمارے گھر میں صرف چار لوگ تھے… میری ماں، میرے ابو، میری بڑی بہن اور میں۔
چھوٹی سی فیملی تھی ہماری…
مگر پھر میرے ابو کا انتقال ہوگیا۔
اور اُن کی وفات کے ساتھ ہی سب کچھ بدل گیا۔
گھر کے تمام اخراجات کا بوجھ میری ماں کے کندھوں پر آ گیا۔
میں اور میری بڑی بہن… دونوں کی ذمہ داری اب صرف اُن کے اوپر تھی۔
وہ بہت مشکل سے ہمارا خرچ اٹھاتی تھیں۔
میں نے اپنی ماں کو بےشمار راتیں روتے ہوئے دیکھا تھا…۔خدا سے دعائیں مانگتے ہوئے…۔اور زندگی کی نہ جانے کتنی تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے۔
وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں، اسی لیے اُن کے پاس کوئی اچھی ملازمت بھی نہیں تھی۔
پھر بھی وہ کسی نہ کسی طرح ہمارا گزارا کر رہی تھیں۔
کھانا پینا…۔کپڑے…۔گھر کے اخراجات…۔اور میری بہن کی تعلیم… سب کچھ۔
میں اسکول نہیں جاتا تھا۔
میری تعلیم پر کوئی خرچ نہیں آتا تھا۔
کیونکہ میری ماں کی محدود تنخواہ میں دو بچوں کی پڑھائی کا خرچ اُٹھانا ممکن نہیں تھا۔
آخرکار اُنہوں نے ایک فیصلہ کیا۔
وہ میری بہن کو پڑھائیں گی۔
کیونکہ میں پڑھائی میں بہت کمزور تھا۔
مجھے کتابوں سے کبھی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی۔
جبکہ میری بہن ہمیشہ اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کرتی تھی۔
اسی لیے میری ماں کا ماننا تھا کہ اگر میری بہن اچھی تعلیم حاصل کر لے گی…
تو ایک دن ہماری زندگی بدل جائے گی۔
اور سچ کہوں…
اُس وقت مجھے بھی اُن کا یہ فیصلہ بالکل درست لگتا تھا۔ کیوں کہ میں خود بھی پڑھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
تو آپ اپنی ماں کے کہنے پر خود کے وجود پر یقین رکھتے ہیں ؟؟ ماہم اُس کی پوری بات سن کر بولی۔۔۔
نہیں نہیں۔۔۔۔ کِسی کے کہنے پر کوئی کہاں یقین کرتا ہے ؟ جب تک خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لے یا محسوس نہ کر لے۔۔۔
ہیوک مزید آگے بولا۔۔۔
ہمارے گھر سے تھوڑی دور ایک لڑکا رہتا تھا، جنگ سوک۔ میری ہی عمر کا تھا۔ لوگ اسے پاگل کہتے تھے۔ سب اس سے دور بھاگتے تھے۔ ہمارے آس پاس کے سبھی لوگ اُس سے تنگ تھے، میرے دوست اُسے بہت تنگ کرتے ہیں اُسے پتھر مارتے اُسے پاگل سوک پاگل سوک بولتے تھے۔۔۔
میں بھی اس سے تنگ تھا… مگر زیادہ اس لیے… کہ اماں اسے روز اپنے گھر کھانا کھلاتی تھیں… اور ہمارے پاس خود گزارہ مشکل تھا… روز روز اسے گھر گھسا لینا… مجھے اچھا نہیں لگتا تھا…
ایسا نہیں تھا کہ میں پتھر دل تھا… مگر وہ پاگل جنگ سوک مجھے بالکل پسند نہیں تھا… اوپر سے محلے کا کوئی بھی اسے پسند نہیں کرتا تھا… اوپر سے میری اماں روز اسے کھانے کھلانے کے بعد ایک وون بھی دے دیتی تھیں…
اس بات پر مجھے اور غصہ آتا تھا… میری ماں سے اس بات پر میری بہت بحث ہوتی تھی، ورنہ ہر فیصلہ پر میں میری ماں کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ لیکن یہاں ہماری بہت لڑائی ہوتی تھی وہ میری سنتی ہی نہیں تھی، اُنہیں اُس پاگل سوک میں پتہ نہیں کیا نظر آتا تھا۔۔۔
ماہم خاموشی سے سنتی رہی…
پھر ایک دن ایسا ہوا…
ہیوک رکا… جیسے الفاظ کہیں اندر سے نکال کر لا رہا ہو…
اماں کی نوکری چلی گئی… جو روزانہ کا کھانا اور پہننے کے کپڑے ملتے تھے… وہ سب بند ہو گئے… کچھ ہی دنوں میں حال بہت خراب ہو گئی… اماں باہر نئی نوکری ڈھونڈتی پھرتی تھیں… اُنہیں کوئی اچھی نوکری نہیں مل رہی تھی۔۔۔ مگر جنگ سوک کو وہ کھانا دیتی رہیں…
وہ پھر رکا…
پھر ایک دن ایسا آیا کہ… گھر میں کھانے کو کچھ نہیں بچا… کچھ بھی نہیں…
ہیوک کی آواز میں بہت بےبسی تھی۔۔۔ جیسے وہ دوبارہ اپنے بچپن میں پہنچ گیا ہو۔۔۔
اماں رو رہی تھیں… پاگلوں کی طرح اپنے بال نوچ رہی تھیں… میرے سامنے خود کو قصوروار ٹھہرا رہی تھیں… اور میں کچھ نہیں کر پا رہا تھا… بالکل بے بس تھا…
اس سب میں بھی وہ ایک ہی بات کہہ رہی تھیں… مانگو… دعا کرو… خدا سے اس وقت صرف وہی ہماری مدد کر سکتا ہے، خداوند مدد کرے گا…
ہیوک کے لب پر کچھ آیا، ہنسی نہیں، درد نہیں… کچھ اور…
اس دن پہلی بار میں نے دعا مانگی تھی… کہ اگر کوئی خدا واقعی ہے… کوئی ہے تو… وہ ہماری مدد کرے…
اور پھر۔۔۔؟؟ ماہم فوراََ بولی
پھر کچھ ہی دیر بعد دروازے کی گھنٹی بجی…
دروازے پر اور کوئی بھی وہی جنگ سوک ہی تھا… وہ روز اسی وقت آتا تھا…
گھنٹی بجتے ہی میری ماں اور رونے لگیں… کہ میرے پاس اسے دینے کو کچھ نہیں ہے… میں اسے کیا دوں گی… وہ بھوکا ہے، میرے پاس اُس کو دینے کو کُچھ نہیں ہے۔۔۔
ہیوک کی مٹھی بھنچی…
مجھے اور غصہ آیا… میں جلدی سے اُٹھا دروازہ کھولا اور اس پر چیخا، بہت تیز، بہت غصے سے…
خدا کا واسطہ ہے… ہماری زندگیوں سے نکل جاؤ… دفع ہو جاؤ… بہت دور چلے جاؤ… اپنی شکل مت دکھانا یہاں… وواپس مت آنا…
میں نے اُس کا کالر پکڑ کر بہت غصے سے اُسے جھڑکا تھا،
اور جنگ سوک…
ہیوک رکا…
وہ بہت شانت تھا… بہت زیادہ شانت… اس نے مجھے کچھ نہیں کہا کُچھ بھی نہیں بس ٹھنڈی نظر مجھ پر ڈالی… اور اندر کی طرف بڑھ گیا…
میں نے پیچھے سے اس کی شرٹ پکڑ کر کھینچا… مگر وہ آسانی سے نکل گیا… میں بہت کمزور تھا… بھوک سے چور تھا میں اُسے اُس وقت روک نہیں پایا۔۔
وہ پھر میری ماں کے پاس پہنچ گیا… اور ایک پوٹلی ان کے ہاتھوں میں رکھ دی…
بولا۔۔ یہ آپ کے لیے ہے… یہ آپ کا ہی ہے…
میں حیرانی سے دیکھتا رہا…
میری ماں بولیں، یہ… یہ اتنے پیسے تمہارے پاس؟ کہاں سے آئے؟ میری ماں نے جب پوٹلی کھولی تو اُس میں بہت سارے وون تھے،
اس نے کہا، یہ آپ کا ہی دیا ہوا روز کا ایک ایک وون ہے… مجھے اسے استعمال کرنے کی کبھی ضرورت نہیں پڑی… تو واپس کر رہا ہوں…
اماں پھر رونے لگیں… اور جنگ سوک کو لپٹا لیا…
ہیوک کچھ دیر خاموش رہا…
اس لمحے مجھے عجیب سی حالت ہو گئی… وہ بہت سارے وون تھے… اماں نے اُس وون سے باہر سے کھانا منگوایا… اور ہم سب نے مل کر کھایا… جنگ سوک بھی ڈیننگ ٹیبل پر ہمارے ساتھ بیٹھا تھا…
اور پہلی بار… وہ مجھے برا نہیں لگ رہا تھا… نہ جانے کیوں… اس سے کچھ پیار آ رہا تھا… وہ چاہتا تو انہی پیسوں سے کہیں مہینوں گزارہ کر سکتا تھا… مگر اس نے سب واپس دے دیا… اور بدلے میں کیا مانگا؟
ہیوک کی آواز دھیمی ہو گئی،
نہ جانے کیوں، میں نے اس سے پوچھ لیا…
کہ یہ سارے وون تم نے ہمیں کیوں واپس کر دیے؟ انہی سے تم کہیں مہینوں آرام سے کھانا کھا سکتے تھے… کسی سے مانگنا نہیں پڑتا تمہیں…
تو اس نے پھر وہی ٹھنڈی نظروں سے مجھے دیکھا…
ہیوک چپ ہو گیا…
ماہم نے پوچھا نہیں… بس انتظار کرتی رہی…
تو اس نے مجھ سے کہا،
کھانا تو مل جاتا… مگر اس پیار کے ساتھ پروسا ہوا نہیں ملتا…
میں اسے دیکھتا رہ گیا… کچھ بول ہی نہیں سکا…
میرے پاس کہنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔
پہلی بار مجھے احساس ہوا تھا کہ شاید میں اُسے ہمیشہ غلط سمجھتا رہا تھا۔
اور نہ جانے کیوں…
اُس لمحے اپنے رویّے پر مجھے شدید شرمندگی محسوس ہوئی۔
مجھے یاد آنے لگا کہ میں نے کتنی بار اُسے دھتکارا تھا…
کتنی بار اُس کے بارے میں بُرا سوچا تھا…
اور کتنی بار صرف اِس لیے اُس سے نفرت کی تھی کہ وہ دوسروں سے مختلف تھا۔
جبکہ وہ…
وہ تو اُن سب لوگوں سے کہیں بہتر نکلا تھا جنہیں میں سمجھدار سمجھتا تھا۔
وہ پاگل نہیں تھا…
اُسے بس محبت چاہیے تھی۔
لوگوں کی توجہ چاہیے تھی…
کسی کا نرم لہجہ… کسی کی مسکراہٹ… کسی کا اپنے پاس بٹھا لینا…
بس اتنا ہی۔
وہ پاگلوں کی طرح گلیوں میں نہیں بھٹکتا تھا…
وہ تو محبت کی تلاش میں بھٹکتا تھا۔
وہ ہر اُس دروازے پر جاتا تھا جہاں اُسے امید ہوتی تھی کہ شاید آج کوئی اُسے دھتکارنے کے بجائے اپنا لے گا۔
مگر لوگ اُسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے تھے۔
کوئی اُسے پاگل کہتا…۔کوئی اُس پر ہنستا…کوئی اُسے اپنے قریب آنے نہیں دیتا تھا۔
اور وہ… ہر بار خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا تھا۔
پھر بھی اگلے دن دوبارہ لوگوں کے درمیان آ جاتا تھا۔
شاید اِس امید میں…
کہ آج کوئی اُس سے اچھے انداز میں بات کرے گا۔
آج کوئی اُسے اپنے ساتھ بٹھائے گا۔
آج کوئی اُسے یہ احساس دلائے گا کہ وہ بھی باقی انسانوں جیسا ہی ہے۔
اور آخرکار…
وہ محبت اُسے کہاں ملی؟
میرے گھر میں۔ میری ماں کے پاس۔
وہ روز ہمارے گھر صرف کھانا کھانے نہیں آتا تھا…
وہ اُس محبت کے لیے آتا تھا جو میری ماں اُسے دیتی تھیں۔
اُس احترام کے لیے… اُس شفقت کے لیے… اُس اپنائیت کے لیے…
جو پوری دنیا نے اُس سے چھین لی تھی۔
شاید اسی لیے اُس نے سالوں تک وہ ایک ایک وون سنبھال کر رکھا تھا۔
کیونکہ اُس کے لیے وہ صرف پیسے نہیں تھے…
وہ میری ماں کی محبت کی نشانی تھے۔
اور اُس دن…
مجھے پہلی بار سمجھ آیا تھا کہ بھوکا جُنگ سُک نہیں تھا۔
بھوکا تو اُس کا دل تھا… جو صرف محبت کی ایک روٹی مانگ رہا تھا۔۔۔
پھر ماہم بولی۔۔۔ تو اُس کی فیملی نہیں تھی۔۔؟؟
نہیں ایک ایکسڈنٹ کی وجہ سے اس کے گھر میں آگ لگ گئی تھی، اور سب جل کے مر گئے تھے، اُس کے بہن بھائی اور ماں باپ وہ اسی وجہ سے بچ گیا تھا کیوں کہ وہ گھر سے باہر تھا اور تب سے اس کا دِماغ وہ حادثہ برداشت نہیں کر پارہا تھا، اُس کے گھر سے اُس کی چیخنے چلانے کی آوازیں آتی تھی، تبھی لوگ اُسے پاگل کہتے تھے، مُجھے یہ سب میری ماں نے بتایا، پہلے وہ اِدھر ہمارے گلی میں نہیں رہتا تھا، کہیں اور رہتا تھا، اُس ایکسڈنٹ کے بعد یہاں آیا تھا،
تو وہ اکیلا رہتا تھا گھر میں۔۔۔ ماہم پھر بولی
ہاں۔۔ صبح وہ کہیں اپنے رشتے دار کے پاس کام کرنے جاتا تھا اور رات میں آکر اپنے گھر میں سوتا تھا۔۔۔
پھر آپکی اُس سے دوستی ہوگئی۔۔۔؟؟ ماہم بولی
ہیوک نے خاموشی سے سر ہلایا, مِگر نفی میں…
اُس دن کے بعد سے وہ ہمارے گھر کبھی نہیں آیا…
وہ یہاں سے چلا گیا تھا… پتا نہیں کہاں…
ہیوک کی آواز میں کچھ ایسا تھا جو الفاظ میں نہیں آتا…
میں نے اسے بہت ڈھونڈا… بہت زیادہ… اُس کے رشتے دار کے گھر بھی گیا… مگر وہ وہاں بھی نہیں تھا… کوئی بتا نہیں سکا کہ وہ کہاں گیا…
وہ رکا۔۔
نہ جانے وہ کہاں غائب ہو گیا…
خاموشی…
مجھے بہت رونا آیا تھا اُس وقت… شاید پہلی بار کسی کے جانے پر اتنا رویا تھا میں…
ہیوک نے ہلکے سے سانس لی۔۔۔
ابھی بھی ڈھونڈتا ہوں اسے… ابھی بھی دعا کرتا ہوں کہ جہاں بھی ہو… ٹھیک ہو… کوئی ہو اُس کے پاس… کوئی اسے اکیلا نہ چھوڑے…
اُس کی آنکھیں کہیں دور تھیں،
وہ پوری زندگی اکیلا رہا… میں چاہتا تھا کہ کم از کم آخر میں اکیلا نہ رہے… مگر میں اُس کے لیے کچھ نہیں کر پایا…
ماہم کچھ نہیں بولی۔ بس سنتی رہی۔
اُس دن کے بعد میں بہت بدل گیا تھا۔
میں نہیں جانتا تھا کہ جُنگ سُوک واقعی پاگل تھا یا دنیا اُسے سمجھنے سے قاصر تھی…
مگر ایک بات میں ضرور جان گیا تھا۔
وہ انسانوں میں محبت ڈھونڈ رہا تھا…
اور شاید خدا بھی یہی چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے محبت اور آسانی کا سبب بنیں۔
اُس دن کے بعد میں نے لوگوں کی مدد کرنا شروع کر دی۔
جو بھوکا ہوتا اُسے کھانا کھلا دیتا…
جو پریشان ہوتا اُس کی بات سن لیتا…
جو اکیلا ہوتا اُس کے پاس بیٹھ جاتا…
میں ہر اُس شخص کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرنے کی کوشش کرتا تھا جیسا میری ماں جُنگ سُوک کے ساتھ کرتی تھیں۔
کیونکہ نہ جانے کیوں…
میرے دل میں ایک عجیب سی امید پیدا ہوگئی تھی۔
ایسی امید جو سالوں گزرنے کے باوجود کبھی ختم نہیں ہوئی۔
مجھے لگتا تھا…
شاید خدا کو میرا کوئی انداز پسند آ جائے۔
شاید میری کوئی نیکی… کوئی چھوٹی سی مہربانی…
کوئی بےغرض مدد… اُسے اچھی لگ جائے۔
اور پھر…
وہ مجھے دوبارہ جُنگ سُوک سے ملا دے۔
میں نے بہت ڈھونڈا اُسے۔
بہت۔ مگر وہ کہیں نہیں ملا۔
ایسا لگا جیسے وہ اچانک اِس دنیا سے غائب ہوگیا ہو۔
لیکن آج بھی… جب میں کسی کی مدد کرتا ہوں…
جب کسی کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے…
یا جب کوئی دل سے شکریہ کہتا ہے…
تو ایک لمحے کے لیے مجھے جُنگ سُوک یاد آ جاتا ہے۔
اور میں دل ہی دل میں سوچتا ہوں…
شاید خدا مجھے ابھی آزما رہا ہے۔
شاید وہ دیکھ رہا ہے کہ میں لوگوں سے محبت صرف بدلے کی اُمید میں کرتا ہوں…
یا واقعی اُن کے لیے۔ اور شاید… کسی دن… کسی موڑ پر… کسی اجنبی چہرے میں…
مجھے جُنگ سُوک دوبارہ مل جائے۔
ماہم خاموشی سے بیٹھی رہی۔۔۔
ہیوک چند لمحے خاموش رہا۔
اُس کی نظریں سامنے دور کہیں جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ الفاظ چُن رہا ہو۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا، اور اِس سب میں… میں ایک اور چیز بھی ڈھونڈ رہا ہوں۔
ماہم نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔
کیا؟
ہیوک نے ہلکی سی سانس خارج کی۔
خدا کو…
ماہم چونکی نہیں، بس خاموشی سے سنتی رہی۔
اُس ایک خدا کو… جس نے مجھے پیدا کیا… جس نے جنگ سُوک کو پیدا کیا… جس نے میری ماں کو پیدا کیا… اور جو میری ہر دعا سنتا ہے۔
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر ماہم نے آہستہ سے پوچھا،
تو پھر آپ اُس خدا کو کیوں نہیں مانتے… جسے آپ کی ماں مانتی ہیں؟
ہیوک کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
میں مانتا ہوں…
ماہم کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔
پھر؟
ہیوک نے اپنی نظریں آسمان کی طرف اُٹھائیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ مجھے لگتا ہے خدا ایک ہے۔
ماہم خاموش رہی۔
ہیوک نے بات جاری رکھی۔
میں اب بھی چرچ جاتا ہوں… کبھی کبھی گھنٹوں وہاں بیٹھا رہتا ہوں۔
اُس کی آواز میں عجیب سی تھکن تھی۔
ایک دن میں نے پادری سے کہا کہ میں خدا سے دعا مانگنا چاہتا ہوں…
تو؟
تو اُنہوں نے کہا… یسوعؑ سے مانگو۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
میں نے اُن سے پوچھا… اگر یسوعؑ کو بھی خدا نے پیدا کیا ہے… تو پھر میں سیدھا خدا سے کیوں نہ مانگوں؟
ماہم خاموشی سے اُسے دیکھتی رہی۔
میں نے کہا… اگر خدا سب کچھ سنتا ہے… اگر وہ میرے دل کی بات جانتا ہے… تو کیا اُسے میری آواز سننے کے لیے کسی اور کی ضرورت ہے؟
پھر وہ کہنے لگے… یسوع خدا کا بیٹا نہیں… یسوع خود خدا ہے… تثلیث…
وہ رکا،
یعنی باپ بھی خدا… بیٹا بھی خدا… اور روح القدس بھی خدا… مگر یہ تینوں مل کر ایک خدا ہیں…
ہیوک کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آئی۔۔
میں نے بہت کوشش کی یہ سمجھنے کی… بہت بار سمجھایا گیا مجھے… مگر جتنا سمجھنے کی کوشش کرتا… اتنا اور الجھتا جاتا…
میرے ذہن میں بس ایک ہی سوال گھومتا رہتا تھا… کہ جو خدا ہر چیز بنا سکتا ہے… جو اتنا طاقتور ہے… اسے بیٹے کی کیا ضرورت…؟
ہیوک نے ماہم کو دیکھا
اور اگر یسوع خود خدا ہی تھا… تو اس نے صلیب پر چڑھتے وقت کہا کیوں کہ اے میرے خدا… تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا…؟
وہ آگے بولا۔۔۔
خدا… خدا کو چھوڑتا ہے…؟ خدا… خدا سے مدد مانگتا ہے…؟
ہیوک کے لہجے میں الزام نہیں تھا… بس ایک گہرا سوال تھا۔۔
یہ بات میرے دل میں کبھی نہیں اتری… کبھی نہیں…
ماہم خاموش بیٹھی رہی۔
ہیوک نے نظریں جھکا لیں۔۔۔
اسی لیے کہتا ہوں… میں خدا کو مانتا ہوں… مگر ابھی تک اُسے پوری طرح ڈھونڈ نہیں پایا… کیوں کہ خدا ایک ہے جس نے مجھے پیدا کیا تمہیں پیدا کیا ہم سب کو پیدا کیا،
اسی لیے میں کسی کے خدا کے پاس نہیں جاتا، اپنے خدا سے مانتا ہوں، مجھے جنگ سوک کے حادثے کے بعد خود پر یقین آیا،
ماہم نے ہلکے سے پوچھا…
لیکن آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں…؟ آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہے ہیں…؟
ہیوک نے سیدھا اُس کی آنکھوں میں دیکھا..
کیونکہ میں چاہتا ہوں… تم اپنے خدا کے بارے میں مجھے بتاؤ… جس سے تم دعا مانگتی ہو…
ماہم کچھ دیر خاموش رہی..
لیکن میں ہی کیوں…؟ آپ یہ بات کسی اور سے بھی پوچھ سکتے ہیں… مسجد میں کسی امام سے ملیں… وہ مجھ سے بہتر بتا سکتے ہیں…
ہیوک نے ہلکے سے سر ہلایا..
نہیں… میں جب بھی کسی مذہب کے پادری کے پاس جاتا ہوں… مجھے ایسا لگتا ہے جیسے وہ مجھے اپنی طرف کھینچ رہے ہیں… سمجھانے سے زیادہ یہ کہہ رہے ہیں کہ بس زیادہ سوال مت کرو اور آ جاؤ… اور اس سے میں اور الجھ جاتا ہوں…
ماہم نے پھر کہا..
تو میں ہی کیوں…؟ یہاں اتنے لوگ ہیں… آپ کسی سے بھی پوچھ سکتے ہیں… یہ سب بھی اُسی خدا کو مانتے ہیں جسے میں مانتی ہوں…
ہیوک چند لمحے خاموش رہا…
پھر بولا… ہاں… مانتا ہوں…
وہ رکا.. لیکن یہاں کوئی بھی مجھے بتائے… وہ مجھے اُس بارے میں سوچنے پر مجبور نہیں کرے گا… اُسے ڈھونڈنے پر مجبور نہیں کرے گا… جتنا تم کر سکتی ہو…
ماہم کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں…
مطلب…؟ میں کیسے۔۔؟؟
ہیوک نے اپنے ہاتھ میز پر رکھے..
مطلب… وہ سوچتے ہوئے بولا۔۔
اگر آپ کسی کو کسی بات پر متاثر کرنا چاہتے ہیں… تو پہلے آپ کے اندر وہ بات ہونی چاہیے… ورنہ کوئی متاثر نہیں ہوتا…
اُس کی آواز سنجیدہ تھی۔۔۔
جیسے کوئی رحم دلی کا درس دے… مگر خود اُس کے اندر وہ رحم دلی ہو ہی نہیں… تو کوئی بھی اُس کی بات نہیں مانے گا…
وہ چند لمحے رُکا، پھر ہلکا سا مسکرایا۔
جیسے میری ماں۔
ماہم کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
میری ماں ہمیشہ کہتی تھی کہ خدا سے مانگو… وہ سنتا ہے۔ اگر یہی بات کوئی عام آدمی مجھے کہتا تو شاید میں کبھی یقین نہ کرتا۔
اُس کی آواز دھیمی ہوگئی۔
لیکن میں نے اپنی ماں کو دیکھا تھا… راتوں کو روتے ہوئے… دعا کرتے ہوئے… پھر اُن دعاؤں کو پورا ہوتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔
میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ وہ ہر مشکل میں پہلے خدا کو پکارتیں… اور پھر کہیں نہ کہیں سے راستہ نکل آتا۔
ماہم خاموش بیٹھی رہی۔
اسی لیے میں نے اُن کی بات مانی۔ صرف اُن کے لفظوں کی وجہ سے نہیں… بلکہ اُن کی زندگی کی وجہ سے۔..
ماہم چند لمحے خاموش رہی، جیسے اُس کے الفاظ کو پرکھ رہی ہو۔
پھر اُس نے آہستہ سے کہا،
اچھا… تو پھر میں جو آپ سے کہوں گی، وہ آپ مان لیں گے؟
نہیں۔ ہیوک نے فوراً جواب دیا۔ مانوں گا نہیں۔
پھر اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
لیکن اُس کے بارے میں سوچوں گا ضرور۔
وہ چند لمحے رُکا، پھر بولا،
میں نے ایک بدھ راہب سے بھی بات کی تھی۔
ماہم نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
واقعی؟
ہاں۔ ہیوک نے سر ہلایا۔ کافی دیر تک۔
میں نے سوچا تھا شاید اُس کے پاس میرے سوالوں کے جواب ہوں۔ شاید وہ مجھے قائل کر لے کہ اُس کا راستہ ہی سچ ہے۔
پھر؟۔ماہم بےاختیار پوچھ بیٹھی۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
پھر کچھ نہیں۔
وہ بہت اچھا آدمی تھا۔پُرسکون بھی۔ دانشمند بھی۔
لیکن… اُس نے نگاہیں جھکا لیں۔ میرے دل نے اُس کی بات قبول نہیں کی۔
ماہم خاموشی سے سنتی رہی۔
اُس نے مجھے مزید الجھا دیا۔۔۔ اور مُجھے سمجھ آیا جس خدا کو وہ مانتے ہیں وہ خدا بھی سچا نہیں ہے۔۔۔
ماہم چند لمحے خاموش رہی۔
نظریں میز پر تھیں۔
جیسے کوئی بات کہنے سے پہلے خود سے اجازت مانگ رہی ہو۔
پھر آہستہ سے بولی…
میں نہیں جانتی… میں آپ کو کتنا سمجھا سکتی ہوں۔
ہیوک نے کچھ نہیں کہا۔ بس انتظار کرتا رہا۔۔۔
ماہم نے دھیرے سے کہا،
لیکن ایک بات پر میرا یقین بہت مضبوط ہے…
وہ چند لمحے رکی۔
آپ کا… میرا… اور اِس دنیا کے ہر انسان کا خدا ایک ہی ہے۔
ہیوک کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
ماہم آگے بولی،
وہ صرف مسلمانوں کا خدا نہیں ہے…
صرف عیسائیوں کا نہیں…
صرف کسی ایک قوم… ایک ملک… یا ایک زبان بولنے والوں کا بھی نہیں…
وہ سب کا خدا ہے۔
کیفے کے شیشوں سے شام کی نارنجی روشنی اندر آ رہی تھی۔
اور ماہم کی آواز غیر معمولی حد تک پُرسکون لگ رہی تھی۔
جس نے آپ کو پیدا کیا…
جس نے مجھے پیدا کیا…
جس نے جنگ سوک کو پیدا کیا…
اور جس نے اُن لوگوں کو بھی پیدا کیا جو شاید اُس کے وجود کو مانتے تک نہیں…
وہی ایک خدا ہے۔
ماہم چند لمحے خاموش رہی۔
نظریں اب بھی میز پر تھیں۔ جیسے الفاظ ڈھونڈ رہی ہو کہ کیسے ہیوک کو سمجھائے۔۔۔
پھر اُس نے دھیرے سے کہا،
میں آپ کو اسلام اس لیے سچا نہیں کہوں گی کہ میں مسلمان ہوں۔
اگر صرف گھر والوں کا مذہب سچا مان لینا کافی ہوتا تو دنیا کا ہر انسان اپنے ہی مذہب کو سچا سمجھتا۔
ہیوک خاموشی سے سنتا رہا۔
ماہم نے آہستہ سے کہا،
میں اسلام کو سچا اس لیے مانتی ہوں کیونکہ جتنا میں نے اسے سمجھا ہے… اتنا ہی مجھے لگا ہے کہ یہ انسانوں کی بنائی ہوئی بات نہیں ہو سکتی۔
ہیوک کی نظریں اُس پر جم گئیں۔
کیسے؟
ماہم نے چند لمحے سوچا۔ پھر بولی،
سب سے پہلے تو خدا کا تصور۔ اسلام کا خدا بہت سادہ ہے۔ اتنا سادہ کہ ایک بچہ بھی سمجھ سکتا ہے۔
وہ ایک ہے۔ نہ اُس کا کوئی باپ ہے۔ نہ بیٹا۔ نہ اُس کی کوئی ماں۔ نہ اُس کا کوئی شریک۔نہ کوئی اُس جیسا۔ وہ پیدا نہیں ہوا۔ اور نہ ہی اُس نے کسی کو اپنی ذات سے جنم دیا۔ وہ ہمیشہ سے ہے۔ اور ہمیشہ رہے گا۔
ماہم نے اُس کی طرف دیکھا۔
مجھے یہ بات بہت منطقی لگتی ہے۔
کیونکہ اگر خدا بھی کسی کا بیٹا ہو…
تو پھر سوال ختم نہیں ہوتا۔
پھر پوچھنا پڑتا ہے کہ اُس خدا کو کس نے پیدا کیا؟
اور پھر اُسے کس نے پیدا کیا؟
اور پھر اُسے کس نے؟
یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
اس لیے عقل یہی کہتی ہے کہ کہیں نہ کہیں ایک ایسی ہستی ہونی چاہیے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو۔
جو ہمیشہ سے موجود ہو۔
اور اسلام مجھے اُسی خدا سے ملواتا ہے۔
ہیوک خاموش بیٹھا رہا۔ ماہم نے بات جاری رکھی۔
دوسری بات…
اسلام میں خدا اور انسان کے درمیان کوئی دیوار نہیں۔ کوئی پادری نہیں۔ کوئی راہب نہیں۔
کوئی ایسا شخص نہیں جس کے بغیر میری دعا خدا تک نہ پہنچ سکے۔ میں رات کے تین بجے بھی اُسے پکار سکتی ہوں۔ دل میں بھی بات کروں تو وہ سن لیتا ہے۔ مجھے یہ بات ہمیشہ بہت خوبصورت لگی۔
اگر وہ میرا خالق ہے…
تو پھر مجھے اُس تک پہنچنے کے لیے کسی اور کی ضرورت کیوں ہو؟
ہیوک کے چہرے پر ہلکی سی حیرت ابھری۔
اور شاید سب سے بڑی وجہ یہ ہے… کہ جتنا میں نے اللہ کو جانا ہے… اتنا ہی مجھے محسوس ہوا ہے کہ وہ میرے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں بہت سی دعائیں مانگی ہیں۔
کچھ پوری ہوئیں۔ کچھ نہیں ہوئیں۔ پہلے مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کیوں۔
لیکن بعد میں اکثر معلوم ہوا کہ جو چیز میں مانگ رہی تھی وہ میرے لیے اچھی ہی نہیں تھی۔
اور جو چیز اُس نے دی… وہ بہتر تھی۔
میں اللہ پر صرف اس لیے یقین نہیں رکھتی کہ میری فیملی یقین رکھتی ہیں۔
میں یقین رکھتی ہوں کیونکہ میں نے اپنی زندگی میں بار بار اُس کے آثار دیکھے ہیں۔
جب کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا اور راستہ نکل آتا تھا۔
جب دل ٹوٹ جاتا تھا اور پھر سنبھل جاتا تھا۔
جب سب لوگ ساتھ چھوڑ دیتے تھے مگر پھر بھی آدمی مکمل تنہا نہیں ہوتا۔
ماہم کی آنکھوں میں عجیب سی نرمی تھی۔
آپ نے مجھ سے پوچھا تھا نا…
کہ مجھے کیوں لگتا ہے میرا رب سچا ہے؟
کیونکہ جتنا میں اُسے ڈھونڈتی ہوں…
وہ اتنا ہی مجھے اپنی طرف اشارے دیتا ہے۔
اور جتنا میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں… اتنا ہی مجھے لگتا ہے کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔
وہ ابھی مزید کہہ رہی تھی کہ اُس کے فون کی رنگٹون بجی شاید کسی کا میسج آیا تھا۔۔ ماہم نے بیگ سے اپنا فون نکالا اور میسج دیکھا پِھر وقت دیکھا۔
پھر ہلکی سی چونک کر بولی،
اوہ… ساڑھے سات بج گئے ہیں۔
ہیوک نے بےاختیار گھڑی کی طرف دیکھا۔
اتنا وقت گزر گیا؟
ماہم ہلکا سا مسکرائی۔ آپ کو اندازہ نہیں ہوا؟
ہیوک نے نفی میں سر ہلایا۔ بالکل نہیں۔
ماہم نے فون واپس بیگ میں رکھتے ہوئے کہا،
ویسے… میرے پاس ابھی اور بھی بہت کچھ ہے کہنے کو۔ بہت زیادہ۔ وہ چند لمحے رکی۔
شاید اتنا کہ ایک پورا دن گزر جائے اور میں پھر بھی اپنے رب کے بارے میں بات کرتی رہوں۔
اُس کے چہرے پر ایک عجیب سی نرمی تھی۔
میں اپنے اللہ کے بارے میں جتنا بتاؤں… کم ہے۔
میری پوری زندگی بھی گزر جائے تو شاید تب بھی میں اُس کی نعمتیں اور اُس کی رحمتیں گن نہ سکوں۔
لیکن مجھے اب جانا پڑے گا۔۔۔ میں گھر میں صرف سات بجے کا بول کر آئی تھی،
ہیوک خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا،
لیکن… مجھے ابھی تمہاری کہانی بھی سننی تھی۔
ماہم ہنس دی۔ میری کہانی کہیں بھاگ نہیں رہی۔
پھر چند لمحے سوچ کر بولی، اچھا… پھر یوں کرتے ہیں۔ کل نہیں… پرسوں ملتے ہیں۔
ہیوک نے فوراً چونکا
واقعی؟
ہاں۔
ماہم نے بیگ سے دوبارہ اپنا فون نکلا۔۔
آپ مجھے اپنا نمبر دے دیجیے۔
یہ کیفے میرے گھر سے کافی دور پڑتا ہے۔
میں آپ کو کسی اور جگہ کا لوکیشن بھیج دوں گی۔
وہاں آ جائیے گا۔
ہیوک نے فوراً جیب سے اپنا فون نکالا۔
اور اپنا ذاتی نمبر اُسے لکھوا دیا۔
ماہم نے نمبر محفوظ کیا۔
پھر بیگ بند کرتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
اللہ حافظ۔
ہیوک بھی بےاختیار کھڑا ہوگیا۔
اللہ حافظ…
ماہم دو قدم چلی۔ پھر اچانک رکی۔ اور پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا۔ جیسے اُسے کوئی اہم بات یاد آگئی ہو۔
اور ہاں…
ہیوک نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
آئندہ کسی کے سامنے مت جھکیے گا۔
ہیوک چونکا۔ کیا؟
ماہم نے بالکل سنجیدگی سے کہا،
ہم صرف ایک رب کے سامنے جھکتے ہیں۔
اُس کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں۔
کسی انسان کے سامنے نہیں۔ کسی بادشاہ کے سامنے نہیں۔۔ کسی عالم کے سامنے نہیں۔ کسی امیر کے سامنے نہیں۔ صرف اللہ کے سامنے۔
چند لمحوں کے لیے دونوں کی نظریں ملیں۔
پھر ماہم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
اللہ حافظ۔
اور اِس بار وہ واقعی مُڑ گئی۔
چند ہی لمحوں بعد کیفے کے شیشے والے دروازے سے باہر نکل گئی۔
ہیوک وہیں کھڑا رہ گیا۔
اُس کی نظریں دروازے پر جمی تھیں۔
اور ذہن…
ماہم کے آخری جملے پر۔
“ہم صرف ایک رب کے سامنے جھکتے ہیں۔”
کیوں؟۔یہ سوال فوراً اُس کے ذہن میں آیا۔
اتنا مضبوط یقین… اتنی قطعی بات… آخر کیوں؟ وہ پوچھنا چاہتا تھا۔
مگر ماہم جا چکی تھی۔
ہیوک آہستہ سے دوبارہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
اور نہ جانے کیوں…
پوری گفتگو میں سب سے زیادہ یہی ایک جملہ اُس کے دل میں رہ گیا تھا۔
“صرف ایک رب کے سامنے۔”
++++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔
