SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 7.

  سکوت قسط نمبر:۷

ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔

  لاہور

سیاہ رات کا پہرہ ہٹاتے فجر کی ساعتیں لاہور کی فضا میں بلند ہو رہی تھیں، دور کہیں مؤذن اذان دے رہا تھا، بارش بھی کب کی رک چکی تھی، اب صرف ہلکی ہلکی سرد ہوا ادھر سے ادھر جھومتی لوگوں کو ٹھٹرنے پر مجبور کر رہی تھی، مگر صرف لوگوں کو۔۔۔

کمرے میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا، صرف ڈریسنگ روم میں جلتے سفید بلب کی روشنی کمرے کو نیم روشن کیے ہوئے تھی۔ فرش پر گرم بیج براؤن رنگ کی شال ایک طرف گری پڑی تھی، بالوں والا سفید چھوٹا کیچر بیڈ کے کنارے پڑا تھا، گہری خاموشی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔

وہ بیڈ کے کنارے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی، سر پیچھے کنارے سے ٹکائے، آنکھیں موندے، دھیرے دھیرے سانسیں لے رہی تھی۔ کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا اس کے بالوں کو رقص کرنے پر مجبور کر رہی تھی، مگر وہ ساکت وجود لیے یوں ہی بیٹھی تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے اس کے کمرے کا دروازہ ہلکی آواز سے کھلا، اور کوئی اندر داخل ہوا اور قدم قدم چلتا اس کے بلکل سامنے گھٹنوں کے بل آن بیٹھا۔

—پلویشا۔۔۔

پلویشا نے کوئی جواب نہیں دیا، بس آنکھیں موندے بیٹھی رہی۔

—پلویشا، میری جا۔۔۔

—کچھ مت کہیں، کچھ۔۔۔ بھی مت کہیں۔۔۔

اس سے پہلے ڈاکٹر طاہر کچھ کہتے، پلویشا پٹ سے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھتے بول اٹھی۔

ڈاکٹر طاہر نے اس کی کھلی آنکھیں دیکھی اور دہل اٹھے، وہ سرخ انگارہ ہو رہی تھی۔

—پلویشا، اپنی آنکھیں دیکھو، یہ کیا حال کر ڈالا ہے تم نے؟

ڈاکٹر طاہر آگے بڑھ کر اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام گئے۔

پلویشا ایک دو پل انہیں دیکھتی رہی اور پھر زور زور سے قہقہے لگاتی ہنس دی۔

—آپ آنکھوں کو دیکھ رہے ڈاکٹر طاہر۔۔۔ میرا دل جل رہا ہے، ادھر۔۔۔ ادھر آگ لگی ہے۔

پلویشا بغیر روئے، بغیر چلائے، گہری آواز میں بولی۔

—یہ آگ مجھے اندر سے جلا رہی ہے، مجھے۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں اس۔۔۔ اس جلتی آگ کو کیسے بجھاؤں، ڈاکٹر طاہر! میں۔۔۔ میں جل رہی ہوں، میں جل رہی ہوں! ڈاکٹر طاہر، یہ۔۔۔ یہ دیکھے، یہ آگ، یہ آگ مجھے۔۔۔ مجھے جلا۔۔۔

—پلویشا، خدا کے لیے چپ ہو جاؤ!

پلویشا رازدانہ آواز میں دیوانوں کی طرح بولتی جا رہی تھی، جب ڈاکٹر طاہر نے نم آنکھوں سے اسے دیکھتے اسے بولنے سے روکا۔

—میں گئی تھی، ڈاکٹر طاہر۔۔۔ میں اس کے پاس گئی تھی، میں گڑگڑائی، میں روئی، میں نے منت کی، میں اس کے سامنے بکھر گئی۔۔۔

پلویشا ان کی بات نظر انداز کرتی پھر بولی، انداز ایسا تھا جیسے کوئی بہت راز کی بات بتا رہی ہو۔

—میں نے اسے بتایا، اس سے کہا میں مر جاؤں گی، اور اس نے مرنے کے لیے چھوڑ دیا؟؟

ڈاکٹر طاہر، کیا اب مجھے مر جانا چاہیے؟؟

—کسی باتیں کر رہی ہو پلویشا، تمہاری پہلے ہی طبعیت خراب ہے، مزید ہو جائے گی،

ڈاکٹر طاہر نے اس کے سرد ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا۔ انہیں سائلہ کے ذریعے ساری بات معلوم ہو گئی تھی۔

—میں نے اس سے دل سے محبت نہیں کی تھی، ڈاکٹر طاہر! نہیں، نہ میں نے اس سے دماغ سے محبت کی تھی، آرے یہ دونوں تو چیخ چیخ کر روک رہے تھے کہ، پلویشا محبت خاک کر دے گی، مت جاؤ اس راستے پر، مگر۔۔۔ میں۔۔۔ میں نے ان کی بات ٹھکرا کر صائم سے محبت کی، ڈاکٹر طاہر! میں نے اپنی روح کے ساتھ صائم سے محبت کی تھی۔۔۔ اور اب دیکھیں سامنے، وہ دیکھے، دل اور دماغ دونوں قہقہے لگا رہے ہیں! ڈاکٹر طاہر، یہ۔۔۔ یہ میری ہار پر جشن منا رہے ہیں!

ڈاکٹر طاہر بس اسے دیکھے گئے، پلویشا ان کی سن ہی نہیں رہی تھی۔

—وہ مجھ سے ہسپتال میں بھی ملنے نہیں آیا تھا، جب میں گھر آئی تب بھی نہیں، ڈاکٹر طاہر، میں۔۔۔ میں گئی تھی اس کے پاس، وہ کیوں نہیں آیا تھا؟ اس کا رویہ اتنا روکھا روکھا سا کیوں ہو گیا؟ میں نے ان باتوں پر غور بھی نہیں کیا تھا، مجھے ریڈ فلیگز نظر ہی نہیں آئے، میں۔۔۔ نے تو۔۔۔ میں نے تو اسے ہمیشہ اندھوں کی طرح دیکھا تھا، وہ جب سامنے ہوتا تھا، مجھے کسی چیز کا ہوش کہاں ہوتا تھا، ڈاکٹر طاہر۔۔۔

—مجھے لگا کہ وہ میرا ساتھ چھوڑ رہا ہے، وہ بیچ رہ میں چھوڑ دینے والوں میں سے ہے۔

—مگر آپ کو ایک بات بتاؤں؟

پلویشا بولتے بولتے ان کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھتی ہے۔ ڈاکٹر طاہر نے دیکھا، اس کی سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں میں ہلکا گلابی پانی چمک رہا تھا۔

کھلی کھڑکی سے یک دم تیز ٹھنڈی ہوا پلویشا کے بالوں کو پیچھے کی جانب اڑا گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے۔۔۔

—ڈاکٹر طاہر، وہ۔۔۔ وہ مشرک نکلا!

پلویشا اپنی پوری قوت کے ساتھ چلائی۔

ساکت فضا میں پلویشا کی چیخ گونج اٹھی تھی، ہواؤں نے یک دم رخ بدلا تھا۔

—وہ مشرک نکلا، ڈاکٹر طاہر، اس نے محبت میں شرک کیا، اس نے نظریں پھیر لی، میں مر رہی تھی، میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی، اور وہ۔۔۔ وہ زندگی گزارنے کے آپشن ڈھونڈ رہا؟

پلویشا جو پوری شدت سے چلاتی ، ڈاکٹر طاہر سے پوچھ رہی تھی، آخر میں اس کی آواز جواب دے گئی۔

—میں نے اس سے۔۔۔

پلویشا ہنوز چلائے جا رہی تھی، چلانے سے اس کی طبعیت اور بھی بگڑ سکتی تھی ، ڈاکٹر طاہر اسے چھوڑتے بھاگ کر اس کے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھے، وہاں سے انجیکشن نکالا اور پلویشا کی طرف واپس بڑھے۔ اس وقت پلویشا کو سلانا نہایت لازمی تھا۔

انہوں نے چلاتی پلویشا کو نظرانداز کرتے اس کا بازو پکڑ کر احتیاط سے انجیکشن لگا دیا۔

میں نے اس سے ۔۔۔۔۔۔

پلویشا کی آنکھیں بند ہونے لگیں، اور پھر وہ ایک طرف ڈھلک گئی۔

ڈاکٹر طاہر کی آنکھ سے ایک آنسو نکلتا ان کے گال پر پھسلتا چلا گیا۔ انہوں نے افسوس سے سامنے ٹھنڈے فرش پر بے سدھ پڑی لڑکی کو دیکھا۔ اس حادثہ کے بعد سے ہی ڈاکٹر طاہر صائم کا بدلتا رویہ محسوس کر چکے تھے، مگر وہ چپ رہے۔ پھر جب صائم پلویشا کے ہوش میں آنے کے بعد بھی ہسپتال نہیں آیا تو انہیں کوئی شک نہیں رہا کہ صائم اب پلویشا کو تکلیف دے گا۔ وہ وقت رہتے پلویشا کو پہلے ہی آگاہ کر دینا چاہتے تھے، مگر پھر حارث کی موت نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ لیکن وہ جانتے تھے، پلویشا کو آگاہی دیر سے ملتی یا جلدی، تکلیف اتنی ہی ہوتی۔

ڈاکٹر طاہر نے سسکتے ہوئے آگے بڑھ کر پلویشا کے سر پر بھوسہ دیا۔

سورج کی کرنیں آہستگی سے لاہور کے احاطوں میں پھیلنے لگیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

سورج کی سنہری کرنیں اس کی کھڑکی سے چھن کر کمرے میں بکھر رہی تھیں، ایک فرحت بخش صبح کا آغاز کرتے وہ اپنا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنا اوور کوٹ پہن رہی تھی۔

اس نے لائٹ گرے کلر کی سکرٹ زیب تن کی تھی، جس پر باریک، ڈارک براؤن کلر کی لائنوں کا جال بنا ہوا تھا، اس کے ساتھ وائٹ شرٹ تھی۔ دھوپ کے باعث آج اس نے اوور کوٹ نہیں پہنا تھا، اور بالوں کو بھی آج اس نے قید نہیں کیا تھا۔

“نحل، میرے ساتھ چلو گی؟” وہ کمرے سے باہر آتی ہوئی، کراس باڈی پرس میں اپنا موبائل فون رکھتی، کیچن میں کھڑی نحل سے بولی۔

“کدھر؟” رف سے ہلتے ہوئے کپ میں چائے ڈالتی نحل وہیں سے پوچھتی۔

“مال، میں نے کچھ چیزیں لینی ہیں۔”

“تھوڑی دیر تک چلیں گے، ابھی ادھر بیٹھو اور چائے پیو بہن۔” نحل کیچن سے دو کپ چائے لے کر آئی، اور صاحبہ کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرتی خود بھی بیٹھ گئی۔

“مجھے دیر ہوئی نا تو پٹو گی مجھ سے۔”

“اچھا بابا مار لینا، تم یہ بتاؤ تم لوگوں کا نیو پروجیکٹ کا ایونٹ کب ہے؟”

“دو دن بعد ہے، آج تو سائٹ دیکھنے جائیں گے۔”

“چلو ماشاءاللّٰہ، اللّٰہ خیر کرے گا۔” نحل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا۔

“اب اٹھو، جلدی، دیر ہو رہی ہے۔” صاحبہ فوراً سے ٹائم دیکھتے بولی۔

“اچھا، ایک منٹ ویٹ کرو، میں فٹ سے تیار ہو کر آتی ہوں۔” نحل چائے کا کپ اٹھاتے اندر کی طرف بھاگی۔

“نحل، ایسے ہی چل پڑو بھئی، تمہارا رشتہ دیکھنے نہیں جا رہے۔”

“اچھا جی، رشتہ تو تمہارا بھی نہیں دیکھنے جا رہے تو پھر خود کیوں اتنا تیار ہوئی بیٹھی ہو؟” نحل اس کی بات سنتے تلملاتی ہوئی واپس لوٹی۔

“حد ہے نحل، اب جاؤ جلدی۔” صاحبہ گہری سانس بھر کر رہ گئی۔

“میں جب تک تیار ہو کر نہیں آتی، ہلنا نہیں یہاں سے۔” نحل کمرے میں جانے سے پہلے کہنا نہیں بھولی تھی۔

صاحبہ چائے کا کپ لبوں سے لگا گئی۔

سورج کی چمکتی کرنیں اس کے چہرے پر پڑتی تھیں، اس کی بھوری آنکھوں کو انتہا کا حسین بنا رہی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولی تھیں۔ سر بھاری بھاری سا ہو رہا تھا، اور جسم ایسے شل تھا جیسے صدیوں تک ایک ہی جگہ ٹھہرا رہا ہو۔

وہ نیم وا آنکھوں سے سفید چھت کو تکے جا رہی تھی۔ کل کی رات کے مناظر کسی فلم کی طرح اس کے ذہن میں ابھر رہے تھے۔ دل میں چھبن سی پیدا ہوئی، اور ایک خاموش آنسو آنکھ سے ٹوٹ کر پسلتا چلا گیا۔

وہ آنسو اپنے ہی سفر پر گامزن تھا کہ پلویشا نے کسی کے ٹھنڈے ہاتھ کا لمس اپنے گال پر محسوس کیا۔ اس نے دھیرے سے دائیں جانب چہرہ موڑا تو وہ نظر آئے۔

ڈاکٹر طاہر اس کے بیڈ کے قریب رکھی چیئر پر براجمان تھے، اور نرمی سے اس کے گال سے آنسو صاف کر رہے تھے۔

پلویشا انہیں دیکھتے ہی آنکھیں موند گئی۔ بیک وقت کئی آنسو اس کی آنکھوں سے خاموشی سے بہتے چلے گئے، اور ڈاکٹر طاہر بھی بنا کچھ کہے آنسو صاف کرتے گئے۔

کچھ لمحوں بعد اس نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا۔

وہ بغیر کسی تاثر کے اسے دیکھ رہے تھے۔

“رو لو، میں ہوں یہاں پر،” ڈاکٹر طاہر اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے۔

پلویشا نے بس ہلکا سا سر نفی میں ہلا دیا۔

“اچھا، یہ بتاؤ… سر میں درد ہو رہا ہے؟”

پلویشا نے کہنا چاہا کہ ہاں، مگر آواز ہی نہ نکلی۔ اس نے حیرت سے ڈاکٹر طاہر کی طرف دیکھا۔

“بی بی، یہ جو آپ نے چلا چلا کر میرے کان کے پردوں سمیت لاہور کی عمارتوں کو ہلایا ہے نا، ان کی بددعا سے آواز آپ سے معذرت کر گئی ہے،” ڈاکٹر طاہر نے اس کی حیران آنکھوں کو دیکھتے ہوئے مصنوعی خفگی سے کہا۔

پلویشا نے ایک بار پھر سر اٹھا کر بولنے کی کوشش کی، مگر صرف منہ ہلا سکی۔ آواز میوٹ تھی۔ اس نے بے چارگی سے ڈاکٹر طاہر کو دیکھا، جو اسے ہی دیکھ رہے تھے۔

دونوں چند پل ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔

یکا یک پلویشا نے سر پیچھے تکیے پر گراتے ہوئے مسکرا کر رہ گئی۔

“ادھر آئینہ دیکھو، حالت دیکھو۔ وہ جو شام میں بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں نا، ان جیسی لگ رہی ہو،” ڈاکٹر طاہر نے ہنستے ہوئے چھوٹا سا آئینہ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا۔

پلویشا نے آنکھیں بند کر کے چہرہ بائیں جانب موڑ لیا۔

ڈاکٹر طاہر نے بائیں طرف آئینہ لے گئے تو وہ دوبارہ دائیں جانب منہ موڑ گئی۔

“نہیں، نہیں، دیکھو نا،” انہوں نے آئینہ واپس سائڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے پلویشا کو گھورتے ہوئے کہا۔

سورج کی چمکتی کرنیں اس کے زرد، روئے روئے چہرے پر پڑ رہی تھیں، جو اسے اور بھی زرد دکھا رہی تھیں۔

“آنکھیں دیکھو اپنی… وہ جو سائسن (ترکش ہارر مووی) کی چڑیل تھی نا، ویسی لگ رہی ہیں۔ اور یہ نڈھال جسم دیکھو، مطلب حد ہی ہو گئی۔ بی بی، پہلے صحت بنا لو، اس کے بعد محبوب کو رونا۔ ہمیں مریض پارو نہیں چاہیے،” ڈاکٹر طاہر نے ہاتھ جھلاتے ہوئے کہا، اور پلویشا کو ہنسنے پر مجبور کر دیا۔

“میوٹ ہنسی ہنستے ہوئے اور بھی بری لگ رہی ہو۔”

پلویشا ہنستی رہی، پھر یوں ہی مدھم سا مسکرا کر انہیں دیکھتی رہ گئی۔

وہ اب پلویشا کو ڈانٹتے ہوئے کچھ کہہ رہے تھے، اور پلویشا بس انہیں دیکھے جا رہی تھی۔

ڈاکٹر طاہر جو اسے ڈانٹ رہے تھے، پلویشا کو بولنے کی کوشش کرتے دیکھ چپ ہو گئے۔

پلویشا نے پوری قوت لگا کر لفظ ادا کیے:

“Th… thank… u… for being in my life…”

ڈاکٹر طاہر ساکت ہو گئے۔

انہوں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، جن میں ہلکا گلابی پانی چمک رہا تھا، اور وہ مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔

“میری جان ہو تم،” ڈاکٹر طاہر نے آگے بڑھ کر شدت سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا۔

پلویشا بس مسکرا کر انہیں دیکھتی رہی۔ دائیں آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر کنپٹی میں جذب ہو گیا۔

ڈاکٹر طاہر اس کا دایاں ہاتھ تھامے چوم رہے تھے۔

دونوں نے ہی کل کی رات کا ذکر نہیں کیا تھا۔

پلویشا نے قبول کر لیا تھا کہ صائم اب اس کا نہیں ہے۔ زندگی نے ہر بار کی طرح یہاں بھی، سوائے قبولیت کے، اسے کوئی اور آپشن دیا ہی نہیں تھا۔

وہ جانتی تھی کہ یہ تکلیف بہت دیر سے ختم ہو گی۔ اتنی آسانی سے وہ اسے نہیں بھول پائے گی، مگر اب اس میں گریہ کرنے کی سکت نہیں بچی تھی۔ اور ویسے بھی، اس شخص کے لیے رونے کی طاقت تو بالکل ہی ختم ہو چکی تھی۔

بعض دفعہ کچھ محبتوں کا نہ ملنا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہوتا ہے۔

بعض دفعہ کچھ لوگوں کا بیچ راہ میں ہی ساتھ چھوڑ جانا بہتر ہوتا ہے۔

جو محبتیں، جو لوگ زندگی میں آنے والے ہلکے سے طوفانوں کو دیکھ کر ڈگمگا جائیں، انہیں منزل تک ساتھ نہیں رکھنا چاہیے۔ انہیں جانے دینا چاہیے، چاہے جتنی تکلیف ہو، دل میں آگ ہی کیوں نہ لگی ہو۔

یاد رکھیں، اللہ کے سوا ہر چیز کی ریپلیسمنٹ ہے۔

لیکن جب اللہ ڈاکٹر طاہر جیسے لوگ آپ کی زندگی میں لے آئے—

جو طوفانوں کی زد سے نکال کر آپ کو کہیں دور لے جائیں،

جو آپ کو آپ کے رب سے ملانے کا ذریعہ بنیں—

تو پھر کسی ریپلیسمنٹ کی ضرورت نہیں رہتی۔

ایسے لوگوں کو اپنی زندگی میں دیکھ کر دل شدت سے اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ

اللہ واقعی اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔

ڈاکٹر طاہر کو نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے پلویشا نے سوچا، اور ان کا ہاتھ پکڑ کر عقیدت سے اپنی آنکھوں پر رکھ لیا۔

“ہاں، ہاں، اب مجھے مکھن لگا لو ویس…”

وہ پھر اسے جھاڑنے لگے تھے، اور پلویشا بھی چپ چاپ، نم آنکھوں سے ان کی جھاڑ کھاتی رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

اسلام آباد کی مشہور شاہراہ پر سیاہ گاڑی اپنی ازلی رفتار سے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ ڈرائیور پوری توجہ کے ساتھ کار چلانے میں مصروف تھا۔

ازمیر علی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا مصروف انداز میں فون پر ٹائپنگ کر رہا تھا کہ یکایک اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔ اسکرین پر نام کے بجائے صرف ایک نمبر جگمگا رہا تھا۔

ازمیر نے کسی تاثر کے بغیر کال اٹھائی اور فون کان سے لگا لیا۔

“اسلام علیکم، انکل!”

“وعلیکم اسلام، برخوردار! کب چکر لگا رہے ہو میرے پاس؟”

گاڑی میں پھیلی خاموشی کے باعث فون کی دوسری جانب موجود شخص کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔

“آج کل میرے پاس وقت نہیں ہے، انکل،” ازمیر نے کھڑکی سے باہر گزرتے مناظر کو دیکھتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا۔

“اتنی صاف گوئی کو ہماری زبان میں بدتمیزی کہا جاتا ہے، سوچا تمہیں بتا دوں۔”

“بہت شکریہ جناب، میری معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے،” ازمیر ڈھٹائی سے مسکرا دیا۔

گاڑی سگنل پر رک چکی تھی، آج ٹریفک کچھ زیادہ ہی تھی۔

“خیر، تم جیسے ڈھیٹ سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بتاؤ، تم کیسے ہو؟”

دوسری طرف موجود شخص نے جھنجھلاہٹ سے پوچھا۔

“میں ٹھیک ہ—”

ازمیر ابھی بات مکمل ہی کر رہا تھا کہ اس کی نظر کھڑکی سے باہر پڑی۔

سڑک کے کنارے کھڑی، کسی لڑکی سے آہستہ آہستہ لب ہلا کر بات کرتی صاحبہ نے ازمیر کو یکدم ساکت کر دیا۔

چمکتے سورج کی کرنوں میں نہائی اس اپسرا کو دیکھ کر ازمیر نے بے اختیار اور نہایت دھیرے سے اپنی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کر لی۔

“رک کیوں گئے ہو؟”

فون کی دوسری طرف سے آتی آواز نے ازمیر کو ہوش کی دنیا میں واپس کھینچ لیا۔

“میں یہ کہہ رہا تھا کہ… میں ٹھیک نہیں ہوں،”

ازمیر نے صاحبہ کو اپنی نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔

“کن فیکٹرز سے تمہیں لگا کہ تم ٹھیک نہیں ہو؟”

“معلوم نہیں… بس اندر کہیں ایک بے چینی سی پھیلی ہوئی ہے، جو سمجھ سے باہر ہے۔”

صاحبہ ساتھ کھڑی لڑکی کی بات غور سے سن رہی تھی۔ اس کے چہرے پر سوائے سنجیدگی کے کوئی تاثر نہ تھا۔ کھلے بالوں کی چند لٹیں ہلکی ہوا کے ساتھ بار بار اس کے چہرے کو چھو رہی تھیں، مگر اس نے ایک بار بھی انہیں پیچھے نہیں کیا۔

“اس بے چینی کو کم کرنے والی کوئی چیز ہے؟”

ازمیر، جو اب تک صاحبہ پر نظریں گاڑے ہوئے تھا، یہ سوال سن کر ایک لمحے کو لاجواب ہو گیا۔

“کیا تمہیں میری آواز آ رہی ہے، ازمیر؟”

“جی… جی، آ رہی ہے۔”

“تو بتاؤ، کوئی ایسی چیز ہے جو اس بے چینی کو کم کرتی ہو؟”

“ہے… ہے تو صحیح۔”

“سکون دیتی ہے تمہیں؟”

“وہ کوئی سکون پہنچانے والا گیجٹ نہیں ہے، جو سکون پہنچائے،”

ازمیر کو اس جملے میں عجیب سی ناگواری محسوس ہوئی۔

اتنے میں صاحبہ اور اس کے ساتھ کھڑی لڑکی دوسری جانب جاتے آگے بڑھ گئی ۔ 

ازمیر نے گہری سانس بھری اور کنپٹی مسل لی۔

“بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو، جملے ادھورے چھوڑ رہے ہو، آواز بھی کھائی سے آتی لگ رہی ہے… کچھ غلط وَلَط تو نہیں دیکھ لیا؟”

دوسری طرف موجود شخص نے تفتیشی انداز میں پوچھتے ازمیر کے تن بدن میں آگ لگائی تھی ۔ 

“آپ کی انہی حرکتوں کی وجہ سے آپ بیوہ ہیں، حد ہی ہو گئی!”

ازمیر نے غصے سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔

اس نے کب سے رکی ہوئی کر محسوس کرتے آگے کو ہوتے ڈرائیور جو خیالوں میں کھویا ہوا تھا۔

“تمہارا ساری زندگی سڑک پر ہی گزارنے کا ارادہ ہے کیا؟”

ازمیر نے جھاڑتے ہوئے کہا۔

“سو سوری سر!”

ڈرائیور ہڑبڑا کر گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کرنے لگا—صاف ظاہر تھا کہ وہ واقعی کہیں اور کھویا ہوا تھا۔

“حد ہی ہو گئی… لگتا ہے بس میں ہی ہوں جو حقیقی دنیا میں سفر کر رہا ہے،”

ازمیر زہر کا گھونٹ بھرتا ہوا سوچ کر رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

سمعیہ اور سائلہ اس وقت سائلہ کے کمرے میں بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں۔ ڈاکٹر طاہر اور ابراہیم ہسپتال تھے، جبکہ صائم آفس گیا ہوا تھا۔ ردا اور پلویشا اپنے اپنے کمروں میں تھیں۔

دوپہر کا وقت تھا، شاہ ہاؤس گہری خاموشی میں ڈوبا تھا، اور اسی خاموشی کے برعکس سائلہ کا کمرہ باتوں کی دھمک سے گونج رہا تھا۔

میں ایسا نہیں کر سکتی بھابھی، آپ صائم کو سمجھائیں، میں ایک بیٹی مار کر دوسری کو زندگی نہیں دے سکتی، سمعیہ نے سائلہ کا ہاتھ تھامتے آزردگی سے کہا۔

میں خود یہی نہیں چاہتی سمعیہ، صائم کا تو دماغ خراب ہو گیا ہے، میں بات کرتی ہوں طاہر س۔۔۔

ابھی تائی جان بات پوری کرنے ہی والی تھیں کہ دروازے پر دستک ہوئی۔

آ جاؤ۔

اجازت ملتے ہی دروازہ کھلا، اور گلابی رنگ کے کرتے اور کھلے ٹراؤزر پہنے، بالوں کو ڈھیلے جھوڑے میں قید کیے، وہ ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔

اسلام علیکم، پلویشا مسکرا کر کہتی ان تک آئی۔

وعلیکم اسلام، کیسا ہے میرا بچہ؟ تائی جان اسے دیکھتے مسکرا کر کہتی ہوئی اسے گلے سے لگا لیتی ہیں۔ اتنے دنوں بعد پلویشا یوں تیار ہوئی تھی۔

میں ٹھیک ہوں تائی جان، بس آپ دونوں سے بات کرنی تھی۔

سمعیہ پلویشا کو محبت سے گال پر بوسہ دیتے ہوئے اپنے ساتھ بٹھاتی ہے۔

وہ تینوں بیڈ پر بیٹھی تھیں۔

تائی جان، آپ جانتی ہیں اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے، پلویشا کچھ پل خاموش رہنے کے بعد ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہنا شروع کرتی ہے۔

اس رات جو کچھ بھی ہوا، اسے ڈیل کرنا میرے بس میں نہیں تھا، اور نہ ہی اسے ٹالنا میرے بس میں ہے۔ پلویشا ایک پل کا توقف کرتی ہے۔

اس حادثے کے بعد، اندھیرے سے، چلانے سے، گیذرنگ سے، تنہائی سے، میرا ٹراما ہٹ کر جاتا ہے۔ لوگ میرے قریب آنے لگتے ہیں تو مجھے بے چینی ہونے لگتی ہے، نا جانے کسی بھی وقت میں چلانا شروع کر دیتی ہوں، اور یہ ری ایکشنز ابھی لمبا عرصہ میرے ساتھ رہیں گے، میں جانتی ہوں۔

تائی جان اور سمعیہ نم آنکھوں سے سامنے بیٹھی لڑکی کو سن رہی تھیں۔

لیکن میں یہ بھی اچھے سے جانتی ہوں کہ آپ لوگوں کے پیار اور ساتھ سے میں بہت جلد ہیل ہو جاؤں گی، میں اس فیز سے بھی نکل آؤں گی، پلویشا نے مسکرا کر کہا۔

آمین، سمعیہ اور تائی جان نے بیک وقت زیرِ لب بڑبڑائیں۔

لیکن جب تک میں ہیل نہیں ہو جاتی، میں فی الحال کسی بھی رشتے سے نہیں جڑنا چاہتی۔

ایک دو پل کی خاموشی کے بعد پلویشا نے کہا تو تائی جان اور سمعیہ بیک وقت چونکیں۔

اصل میں، میں صائم سے شادی نہیں کرنا چاہتی، پلویشا نے انہیں ناسمجھی سے اپنی جانب دیکھتے پا کر اپنی بات واضح کی۔

تائی جان اور سمعیہ کو جھٹکا لگا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ نہیں تھا کہ پلویشا شادی سے انکار کرے گی۔ انہیں تو اس بات کا بھی علم نہیں تھا کہ پلویشا صائم کے انکار سے واقف ہے۔

مگر پلویش۔۔۔

پلیز آنٹی، میری بات سمجھنے کی کوشش کریں، پلویشا نے سمعیہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ان کی بات کاٹ دی۔

میں جانتی ہوں، کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا، مگر میں ایسا ہی چاہتی ہوں۔ میں ابھی اس حالت میں نہیں ہوں کہ کوئی بھی نیا رشتہ اپنے ساتھ باندھ کر خود کو بھی اور اگلے کو اذیت پہنچاؤں۔

مگر پلویشا، اس کا صرف یہی حل تو نہیں نا، سمعیہ نے پریشانی سے کہا۔ پہلے ہی وہ صائم کی باتوں سے پریشان تھیں اور اب پلویشا۔

بالکل، اس کا صرف یہی حل نہیں ہے، میں ایک اور حل لے کر آئی ہوں۔

کیا؟

آپ ردا اور صائم کی شادی کر دیں، پلویشا نے ایک پل کی خاموشی کے بعد دھیمی آواز میں کہا۔

تائی جان اور سمعیہ گہرا سانس بھر کر رہ گئیں۔ انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ پلویشا ایسی ہی بات کرے گی۔

پلویشا، کہنا آسان ہوتا ہے، پر بیٹا عمل مشکل ہوتا ہے۔ اس کی اور تمہاری بات تقریباً پچھلے چھ، سات سالوں سے چل رہی ہے، اور اب ایک ہی منٹ میں ردا اور صائم کو کیسے جوڑ دیں؟ تائی جان نے جھنجھلائے انداز میں کہا۔

نہیں تائی جان، سالوں کے رشتے پر چند گھنٹے بھی بھاری پڑ جاتے ہیں۔

پلویشا کی بات سنتے ہی تائی جان کے لفظ ختم ہو گئے۔ انہیں یک دم گلا پھاڑ کر پلویشا کے بارے میں بکتا اپنا بیٹا یاد آ گیا تھا۔

آنٹی، صائم آپ کے سامنے بڑا ہوا ہے، ایک ہی گھر میں آپ نے ردا اور صائم کو دیکھا ہے۔ اگر مجھے بیچ میں سے نکال کر آپ ان کا جوڑ دیکھیں تو مجھے یقین ہے آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا، اس لیے پلیز آپ مجھے ان کے بیچ میں آڑ نہ بنائیں۔

سمعیہ اور تائی جان لاجواب بنی بیٹھی تھیں، اور موقع دیکھتے پلویشا نے پھر کہنا شروع کیا۔

صائم اگر میرے نصیب میں ہوتا تو اس رات ہی مجھے مل جاتا، تائی جان۔ ردا اس کا نصیب ہے، اور اس معاملے میں اگر میں چیخ چیخ کر بھی اپنی اذیت سناتی رہوں تو میں ہی بے وقوف ہوں گی۔ جو ہو گیا سو ہو گیا۔

آپ لوگ ردا اور صائم کا ساتھ مجھے اپنے ذہن سے نکال کر دیکھیں۔ میری زندگی میں ابھی صائم کے علاوہ بھی بہت سے مسائل ہیں، پلویشا نے اپنی بات ہنسی میں اڑاتے ہوئے کہا، تو تائی جان اور سمعیہ صرف مسکرا دیں۔

اب آپ مسکرا ہی دی ہیں تو مطلب رشتہ ڈن، پلویشا نے یک دم چہکتے ہوئے کہا۔

می۔۔۔میں طاہر اور ردا سے بات تو کر لوں ایک بار، تائی جان نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

آپ اپنی بات کریں تائی جان، کیوں میری انرجی لگوا رہی ہیں؟ ویشا یک دم سر تھامتے بولی۔

اس کا انداز ایسا تھا کہ تائی جان کو بے اختیار اس پر پیار آیا۔ وہ آگے بڑھیں اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔

اللّٰہ تمہیں صبر دے میری جان، انہوں نے محبت سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔

پلویشا کچھ نہ کہہ سکی، بس مسکرا دی۔

اب مطلب دولہا دلہن کی مائیں مان گئی ہیں، اب بس دولہا دلہن کو راضی کرنا رہ گیا۔ میں ایسا کرتی ہوں، ردا سے بات کرتی ہوں، آپ اپنے بیٹے سے بات کر لیجیے گا، پلویشا نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا اور فوراً کھڑی ہو کر دروازے کی جانب مڑ گئی۔

تائی جان اور سمعیہ نے افسردگی سے اس کی جاتی پشت دیکھی تھی۔ وہ صائم سے کیا ہی بات کرتیں، اس نے کچھ کہنے کے قابل تھوڑا چھوڑا تھا۔

دوسری طرف پلویشا نے تائی جان کے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی دیوار کے ساتھ لگ کر گہرے سانس لیے۔ اسے گھٹن کا احساس ہو رہا تھا۔

اس نے اپنی آنکھوں کے آگے تیز تیز ہاتھ جھلاتے ہوئے تین چار گہرے سانس بھرے اور مٹھیاں بھینچتے قدم ردا کے کمرے کی جانب بڑھائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

دستک کی آواز پر ردا، جو ابھی ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر بیڈ پر بیٹھی جائے نماز تہہ لگا رہی تھی، چونک کر دروازے کی جانب متوجہ ہوئی اور آنے کی اجازت دی۔ مگر دروازہ کھول کر پلویشا کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ وہ مسکرا دی۔

“کیسی ہو؟”

پلویشا کمرے میں داخل ہوتے ہوئے مسکرا کر بولی۔

“ٹھیک ہوں میں، آؤ بیٹھو،”

ردا نے رندھی ہوئی آواز میں کہتے ہوئے بیڈ کی جانب اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس کا گلا خراب تھا اور چہرہ بھی ہلکا سا زرد پڑا ہوا تھا۔

پلویشا اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی اور اسے دیکھنے لگی۔

“ردا…”

پلویشا نے اسے دھیمی آواز میں پکارا تو وہ، جو چہرہ جھکائے فرش پر نظریں جمائے بیٹھی تھی، پلویشا کی طرف دیکھنے کے لیے سر اٹھا لائی۔

“میں جب یہاں آئی تھی نا ردا، میری کوئی دوست نہیں تھی… نہ یورپ میں، نہ یہاں۔ اور میرا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا دوست بنانے کا،”

پلویشا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہنا شروع کیا۔

“بات یہ نہیں تھی کہ مجھے دوست پسند نہیں تھے، بس کبھی مخلص دوست نہیں ملے تھے۔ میں نے یہاں آنے سے پہلے نہ جانے کتنے ہی دوستوں کو خیرآباد کہا تھا۔ میں نے اگر زندگی میں سب سے زیادہ سفر کسی وجہ سے کیا ہے تو وہ دوستوں کی وجہ سے کیا ہے۔”

ردا یک ٹک پلویشا کو دیکھتے ہوئے خاموشی سے سنتی رہی۔

“میری ایک دوست تھی ردا… وہ بہت معصوم تھی، اچھی بھی تھی۔ ہم دونوں ساتھ بہت انجوائے کرتے تھے۔ اسے دیکھ کر میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ہم الگ ہوں گے، مگر دیکھو، آج وہ میری دوست نہیں ہے۔ اور بات یہ نہیں کہ وہ اچھی دوست نہیں تھی… دوستی میں نے ہی توڑی تھی۔ اس بیچاری کو تو وجہ بھی معلوم نہیں ہو گی۔”

پلویشا نے پل بھر کو سانس روکی۔

“جس دن میں نے اس سے بریک اپ کیا، میں بہت روئی… بہت زیادہ۔ وہ بھی روئی تھی یا نہیں، میں نہیں جانتی، مگر میں بہت روئی تھی۔ جانتی ہو کیوں؟”

پلویشا نے ردا کو دیکھتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔

ردا نے نفی میں سر ہلا دیا۔

“اس کی معصومیت کے پیچھے،”

پلویشا نے نم آنکھوں سے مسکرا کر کہا۔

“بعض لوگوں کو اتنا بھی معصوم نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی معصومیت دوسروں کے لیے عذاب بن جائے۔”

پلویشا نے گہرا سانس لیا۔

“خیر، قصہ مختصر… اس کے بعد میں نے دوست بنانا ہی چھوڑ دیا۔ پھر میں یہاں آئی، اور تم مجھے ملیں۔ تم مجھے اچھی لگیں، مگر کبھی میں نے تمہیں دوست بنانے کا نہیں سوچا تھا۔ تمہارے ساتھ میں نے کئی راتیں جاگ کر گزاریں، ہنستے ہوئے گزاریں۔ ہم نے نہ جانے کتنے ہی لمحے شرارتوں میں گزارے۔”

پلویشا کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمک اٹھا، جبکہ ردا کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسل گیا۔

“آہستہ آہستہ تم اور میں کب اتنی اچھی فرینڈز بن گئیں، پتہ ہی نہیں چلا۔ تمہاری دوستی نے مجھے بتایا کہ مخلص لوگ واقعی مل جاتے ہیں۔”

پلویشا ایک لمحے کو رکی، پھر گہرا سانس لے کر بولی:

“وقت کے ساتھ ساتھ ہم اتنا آگے بڑھ گئے کہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کا خیال ہی نہ آیا۔ مگر دیکھو… جب ہم انجان بن گئے، تو تقدیر نے داؤ پیچ کھیلتے ہوئے مجھے پیچھے کی طرف دھکیل دیا۔ جانتی ہو مجھے کیا ملا؟”

پلویشا نے اشک بار آنکھوں سے سوال کیا۔

ردا نے دوبارہ نفی میں سر ہلا دیا۔

“ردا… ماضی میں میں نے جو ڈھونڈا، وہ مجھے بہت تکلیف دے گیا۔”

پلویشا کی آنکھوں سے بیک وقت آنسو بہنے لگے۔

ردا رونا بھول کر پلویشا کو تکنے لگی۔

“مجھے… مجھے اپنی آنکھوں میں صائم کا عکس لیے کھڑی ایک خوش باش سی ردا نظر آئی،”

پلویشا نے اٹکتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔

ردا کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا، اور دل ساکت ہو گیا۔

“تم صائم کو پسند کرتی تھیں… اور مجھے اس بات کا کبھی علم ہی نہ ہوا، کیونکہ تم نے کبھی ظاہر ہی نہیں ہونے دیا۔ اور میں اس بات پر حیران ہوں کہ تم نے مجھے اور صائم کو ایک ساتھ دیکھ کر بھی کیسے خود کو سنبھالا۔”

پلویشا کے الفاظ روتے ہوئے نکلے، تو ردا کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے۔

“تم نے صائم کو جانے دیا، اور کبھی پلٹ کر اسے نہیں دیکھا ردا۔ میں حیران ہوں کہ اتنی مخلصی دوستی میں آخر آ کیسے جاتی ہے؟ کوئی اس قدر وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟”

“تم نے ایک عرصہ روزہ رکھا، اور جب اذان کا وقت آیا تو کوئی اور اس روزے کا اجر لے کر چلا گیا۔ میں حیران ہوں ردا… تم نے کبھی اپنے طویل روزے کا شکوہ تک نہیں کیا؟”

پلویشا نے روتے ہوئے پوچھا۔

ردا بس تکلیف سے نفی میں سر ہلاتی رہ گئی۔

“تم نے اپنے کانپتے ہاتھوں کو کیسے سنبھالا ہو گا؟ بند ہوتی سانسیں کیسے قابو کی ہوں گی؟ اپنی زرد رنگت کیسے چھپائی ہو گی؟ میں حیران ہوں ردا… تم نے صائم کو میرے ساتھ ہنستے کیسے دیکھا ہو گا؟”

“تم اپنی تکلیف میں بالکل تنہا تھیں ردا… یہ بات مجھے اندر سے کھا رہی ہے۔”

پلویشا نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔

کچھ لمحوں تک کمرے میں صرف آنسوؤں کے بہنے کی سرگوشیاں گونجتی رہیں۔

“چپ کرو پلویشا، مجھے بھی رلا رہی ہو،”

ردا نے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے ڈپٹ دیا۔

مگر پلویشا روتی رہی، اور ردا کے آنسو بھی تھمنے کا نام نہ لے سکے۔

کچھ دیر بعد پلویشا نے آنسو صاف کیے اور ردا کا ہاتھ تھام کر سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔

“میری بات سنو ردا… میں یہاں تم سے معافی مانگنے نہیں آئی۔ میں تم سے کچھ اور مانگنے آئی ہوں، اور لیے بغیر نہیں جاؤں گی۔”

ردا کی آنکھوں میں ناسمجھی ابھری۔

“کچھ سال پہلے تم نے صائم کو بنا مانگے، چپ چاپ مجھے دے دیا تھا نا؟”

ردا نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“آج بھی تم چپ چاپ صائم کو واپس لے لو ردا۔”

ردا ساکت رہ گئی۔

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے پلویشا کو دیکھتی رہ گئی۔

“میں کچھ بھی نہیں سنوں گی ردا۔ پہلے بھی میں نے تم سے کچھ لیا تھا، اور آج بھی لے رہی ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے آگاہی نہیں تھی، آج ہے۔”

ردا کے پاس الفاظ نہیں بچے۔

“ردا، تم نے مجھے دوستی کا جو روپ دکھایا ہے، پلویشا اگلی سات زندگیوں تک نہیں بھولے گی۔ تم نے جس ضبط کا مظاہرہ کیا، پلویشا ساری زندگی اسے اپنانے کی خواہش مند رہے گی۔ تم نے جس طرح محبت کو جانے دیا… آج پلویشا اسے آزما رہی ہے۔ اور مجھے خود پر یقین ہے کہ میں اس میں ہاروں گی نہیں۔”

پلویشا نے مسکرا کر کہا۔

“پل… پلویشا…”

ردا کچھ کہنا چاہتی تھی کہ پلویشا نے اسے گلے سے لگا لیا۔

“کچھ مت کہنا ردا، میرے پاس سننے کی ہمت نہیں ہے۔ میں اب صرف تمہیں خوش دیکھنا چاہتی ہوں… اور وہ بھی اصل والی خوشی۔”

ردا بھی مسکرا کر اس کے گرد حصار باندھ گئی۔

(اگر انسان اللہ کی رضا پر راضی رہے، تو اللہ تعالیٰ کیوں اسے اس کا صلہ نہیں دے گا؟ اگر تم اللہ کے لیے کسی چیز کو چھوڑ دو، تو اللہ اسے کس طرح تمہارے ہی پاس لاتا ہے، تم خود بھی دنگ رہ جاؤ گی۔)

یہ الفاظ پلویشا کے کانوں میں گونجے، اور آج ردا کو دیکھ کر اس نے دل سے اعتراف کیا کہ صبر کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔

آزمائش اور اجر ایک ہی دائرے کے گرد گھومتے ہیں۔

ان کا یہ سفر کبھی نہیں رکتا۔

پلویشا کو اجر ملا تو ردا کی آزمائش شروع ہوئی، اور آج ردا کو اجر ملا تو پلویشا کی آزمائش شروع ہو گئی تھی۔

اور یقین مانو… بعض آزمائشیں انسان کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔

“اب اچھی دلہنوں کی طرح خود کی کیئر شروع کرو، چھ دن بعد شادی ہے،”

پلویشا مسکرا کر اس سے الگ ہوتے ہوئے بولی۔

ردا ہنس دی اور آنسو صاف کیے۔

“پلویشا…”

دروازے کی طرف بڑھتی پلویشا رکی اور مڑ کر ردا کو دیکھا۔

“تھینک یو…”

ردا نے مسکرا کر کہا۔

پلویشا نے جواب میں بس مسکرا دیا… اور پلٹ گئی۔

کچھ قربانیاں آپ کا بھرم رکھ لیتی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   

سورج کی نارنجی کرنیں نیلی جھیل پر پڑتی شفاف سے پانی کی چمک میں اضافہ کر رہی تھیں۔ یہ جھیل شاہ ہاؤس سے بیس منٹ کی دوری پر ایک جانب بنی تھی۔ دائیں طرف ایک پیپل کا بوڑھا درخت تھا، جس کا سایہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا، اور جھیل کے سامنے ہی سیمنٹ کے دو بینچ بنے تھے، جن میں سے ایک پر اس وقت پلویشا بیٹھی تھی۔

وہ ردا سے بات کرنے کے بعد یہاں آ گئی تھی، اور اسے یہاں آئے پندرہ منٹ ہو چکے تھے۔

پلویشا گم سم سی کیفیت میں جھیل کے پانی کو تکے جا رہی تھی۔۔۔

“پلویش، یہاں دیکھو ذرا،” صائم نے مسکراتے ہوئے جھیل کے سامنے کھڑی پلویشا کو دیکھتے کہا۔

پلویشا نے مسکرا کر رخ صائم کی جانب موڑا تو صائم کے ہاتھ میں پکڑے کیمرے نے خوبصورت جھیل کے سامنے کھڑی، سفید بیگی پینٹ، سفید ٹی شرٹ اور براؤن لیدر جیکٹ پہنے، کھلے بالوں والی انیس سالہ لڑکی کو خود میں قید کر لیا۔

“آہ صائم، دوبارہ سے کلک کرو بھئی، اور اچھے سے پک لو اب،” پلویشا نے خفگی سے کہا اور پوز بنا کر کھڑی ہو گئی۔

“یہ دیکھو،” صائم نے اس کی دو تین تصویریں لینے کے بعد اس کے قریب آتے ہوئے کہا۔

“واؤ صائم، تم اچھے فوٹوگرافر ہو،” پلویشا نے ستائشی انداز میں تصویریں دیکھتے ہوئے کہا۔

صائم جو پلویشا کے قریب کھڑا تھا، اپنے ساتھ کھڑی لڑکی کو مسکرا کر دیکھنے لگا۔

“منظر خوبصورت ہو تو مہارت آ ہی جاتی ہے۔”

صائم کی بات سنتے ہی پلویشا نے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ اس کی طرف دیکھا۔ وہ بہت قریب کھڑا تھا، تو وہ گلال چہرہ لیے اس سے دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔

اس کے کھسکنے کے انداز پر صائم کا قہقہ بلند ہوا۔

پلویشا مسکرا کر سیمنٹ کے بینچ پر بیٹھ گئی تو صائم بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔

نومبر کا مہینہ تھا، ہر طرف ہلکی ہلکی دھند تھی، وقت صبح کے سات بجے کا تھا، اور پلویشا کی فرمائش پر صائم اسے یہاں لے کر آیا تھا۔

“صائم، سمائل کرو ذرا، میں تمہاری پکس لیتی ہوں،” یکدم پلویشا کو شرارت سوجھی تو اس نے موبائل فون جیکٹ کی جیب سے نکالتے کہا۔

صائم تعابداری سے مسکرا کر سٹائل سے بیٹھ گیا، ٹانگ پر ٹانگ چڑھائی اور اپنے سامنے کھڑی پلویشا کی طرف دیکھا۔

پلویشا نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے پورے فوکس سے صائم کی تصویریں لیں۔

برے فلٹر سے صائم کی مزاحیہ شکل دیکھتے ہی پلویشا کی ہنسی چھوٹ گئی۔

“مجھے پتا تھا تم کوئی کارنامہ ہی شروع کرو گی،” صائم ہنستی ہوئی پلویشا کے قریب آیا اور فون اس سے لے کر تصویریں دیکھنے لگا۔

“تصویر تھی کہ کیا؟” صائم نے گھورتے ہوئے ساتھ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوتی پلویشا کو دیکھا۔

“کہاں سے تمہیں بنا بالوں کے نظر آتا ہوں میں، ہاں؟”

صائم مصنوعی غصے سے اس کی طرف بڑھا تو پلویشا بھاگنے والے انداز میں اس سے دور ہوئی۔

“نئی نئی، ادھر آؤ ذرا، تمہیں میں بتاتا ہوں،” صائم موقع دیکھتے ہی اس کے پیچھے بھاگا، مگر پلویشا ہنستے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

“صائم پلیز رک جاؤ، مجھ سے بھاگا نہیں جا رہا،” پلویشا نے سردی میں بھاگتے ہوئے چلا کر کہا۔

“تمہیں تو چھوڑوں گا نہیں… ویسے تم اچھے دکھ رہے تھے۔ ادھر میرے پاس آؤ، تمہارا علاج—”

پیپل کے درخت کے سائے تلے، سیمنٹ کی بینچ پر بیٹھی پلویشا نے دور جاتے ہنستے ہوئے جوڑے کو دیکھتے گہری سانس بھری اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

اس کے قدم جھیل سے دور جا رہے تھے۔۔۔

دور جاتے جوڑے کے قہقہے اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔

وہ سڑک کے کنارے سنجیدگی سے چل رہی تھی کہ یکدم سڑک کے دوسری جانب بنے میدان میں شور اٹھا۔

“آؤٹ، آؤٹ! شارخ آؤٹ ہو گیا!”

میدان میں بچے بیٹنگ کرتے ہوئے ایک بچے کے آؤٹ ہونے پر خوشی سے چلا رہے تھے۔

پلویشا وہیں کھڑے ہو کر انہیں دیکھتی رہی۔ اس کے ڈھیلے جوڑے میں قید بالوں سے چند لٹیں نکل کر چہرے پر جھول رہی تھیں، اور چہرہ بے تاثر تھا۔

شاہ ہاؤس کے وسیع لان میں تناؤ پھیلا ہوا تھا۔ فیلڈنگ کرتی ردا اپنی پوزیشن سنبھالے، بولنگ کرواتے محراب کی حرکات دیکھ رہی تھی۔ ایمپائر صائم ایک طرف کھڑے غور سے جائزہ لے رہے تھے، جبکہ پلویشا پورے فوکس سے بیٹ تھامے وکٹ کے سامنے کھڑی بال پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔

یکایک محراب کے ہاتھ سے گیند اچھلتی ہوئی پلویشا کے پاس آئی۔ پلویشا نے بلا گھمایا، مگر گیند بلے کے اوپر سے گزرتی ہوئی سیدھا وکٹ میں جا لگی۔

“آؤٹ، آؤٹ! پلویشا، اب تم آؤٹ ہو!”

محراب اور ردا اچھلتی ہوئی اس کی طرف آئیں، جبکہ پلویشا حیرت سے انہیں دیکھنے لگی۔

“جی نہیں! بال بہت فاسٹ تھی، مجھے نظر ہی نہیں آئی،” پلویشا لڑاکا انداز میں آگے بڑھی۔

“پلویشا، تم تیسری بار آؤٹ ہو رہی ہو، اب ہم نے کچھ نہیں سننا، چلو ہمیں ہماری باری دو،” ردا تیوری چڑھائے بولی۔

“اچھا ٹھیک ہے، میری بات پر یقین نہیں ہے نا، تو ایمپائر سے پوچھ لیتے ہیں،” پلویشا نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے سر تھوڑا دائیں جانب جھکایا۔

“ایمپائر صاحب، کیا میں آؤٹ ہوں؟”

پلویشا نے گہری مسکراہٹ سے صائم کی طرف دیکھا۔

ایمپائر صائم جو پوری سنجیدگی سے ایمپائرنگ کر رہے تھے، پلویشا کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ ضبط نہ کر سکے۔

“ناٹ آؤٹ!” صائم نے بلند آواز میں فیصلہ سنایا۔

“یس، یس! دیکھا، میں نے کہا تھا نا!” پلویشا بلا ہاتھ میں لیے خوشی سے گھوم گئی۔

“صائم چیٹر! تم تیسری بار جھوٹ بول رہے ہو، ہمیں کھیلنا ہی نہیں ہے۔ چلو، ردا!”

محراب اور ردا غصے سے تن فن کرتی وہاں سے چلی گئیں، تو پلویشا اور صائم کے بیک وقت قہقہے شاہ ہاؤس کی زینت بن گئے۔

“ہاں ہاں جاؤ، اب ہارنے لگے ہو تو بہانہ مل گیا، کیوں صائم؟” پلویشا ناک سکوڑتے ہوئے اس کے ساتھ آ کر کھڑی ہو گئی۔

“آجاؤ صائم، تم اور میں کھیلتے ہیں۔”

“نا بابا نا، میں نے ساری زندگی باؤلنگ کرواتے نہیں گزارنی،” پلویشا کے ارادے جان کر صائم نے فوراً ہاتھ کھڑے کر دیے، جبکہ پلویشا تیوری چڑھائے اس کے پیچھے بلا لے کر بھاگی۔

میدان میں کھیلتے بچوں کو دیکھ کر پلویشا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

وہ سرد آہ بھرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

چلتے چلتے اس کی نظر کیفے شاپ کے اندر لگی اسکرین پر پڑی۔ وہاں برستی بارش دکھائی دے رہی تھی۔ پلویشا گو مگو سی کیفیت میں وہیں کھڑی اس منظر کو دیکھتی رہی۔

“آج بہت لیٹ ہو گیا صائم، تائی جان ڈانٹ لگائے گی،” شاہ ہاؤس کی طرف جاتی سڑک پر چلتے ہوئے پلویشا نے پریشان آواز میں کہا۔

“ارے، ہم پچھلے دروازے سے چلے جائیں گے، کچھ نہیں ہو گا،” صائم نے ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے کہا۔

“لیکن اگر تم—”

اس سے پہلے کہ پلویشا بات مکمل کرتی، بارش شروع ہو گئی۔ صبح سے بادل اپنی جون پر تھے، اور اب شاید ساری حدیں توڑ کر اپنے اندر کا غبار نکال رہے تھے۔

“آہ صائم، بارش!”

پلویشا بارش میں ہاتھ پھیلائے گول گول گھومنے لگی، جبکہ صائم نے فکر مندی سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے قریب بنے گھر کے شیڈ کے نیچے لے آیا۔

“چپ کر کے کھڑی رہو، بیمار ہو گئی نا تو پورا گھر میرے پیچھے ہتھیار لے کر بھاگے گا۔”

“ہٹو صائم، مجھے بارش بہت پسند ہے،” پلویشا ہاتھ چھڑا کر سڑک کے بیچ جا کھڑی ہوئی اور ہاتھ پھیلا کر چہرہ آسمان کی طرف اٹھا لیا۔

صائم گہری سانس بھرتے ہوئے اس کے پاس گیا۔

“اچھا، پہلے یہ پہن لو، ٹھنڈ لگ جائے گی،” اس نے اپنی جیکٹ اتار کر اس کے کندھوں پر رکھ دی۔

پلویشا نے چہرہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ رات کا وقت، سٹریٹ پول کی روشنی، اور برستی بارش میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب کھڑے تھے۔

“جب جب تمہیں دیکھتا ہوں، تب تب نئے سرے سے محبت ہو جاتی ہے تم سے،” صائم نے سرگوشی نما کہا۔

پلویشا کے دل نے ایک بیٹ مس کی۔ بے اختیار اس کے دل کی رفتار تیز ہو گئی۔

“آ… چ… چلو صائم، گھر چلتے ہیں،” اس نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ ہونٹ دباتے ہوئے کہا، البتہ اپنے کندھوں پر رکھی صائم کی جیکٹ کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔

اس کی دھیمی مسکراہٹ اور سرخ ہوتے گال دیکھ کر صائم ہنستا ہوا اس کے پیچھے چل دیا۔

اسکرین پر بارش کا منظر دیکھتے ہوئے پلویشا کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسل گیا۔

وہ کس کس یاد سے پیچھا چھڑاتی، وہ کس کس یاد کو بھولتی؟

پلویشا نے آنسو صاف کیے اور قدم شاہ ہاؤس کی طرف بڑھا دیے۔

سڑک پر چلتی، گلابی سوٹ میں ملبوس لڑکی کے کانوں میں ہنوز صائم اور پلویشا کی ہنسی گونج رہی تھی، اور ہر منظر آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔      

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اسلام آباد

کنسٹرکٹیو ایریا میں اردگرد بہت سے ورکرز ہاتھوں میں نوٹ پیڈ پکڑے ادھر سے ادھر جاتے اپنا کام کر رہے تھے۔ مرزا اپنی ٹیم کے کچھ ممبرز کے ساتھ آج سائٹ کا جائزہ لینے آیا تھا، انہیں یہاں آئے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ہو گیا تھا۔

چمکتے سورج، پہاڑوں کے دلکش منظر اور پرسکون فضا میں کھڑے ازمیر اور مرزا پروجیکٹ کے حوالے سے باتوں میں مصروف تھے، ان کے ساتھ سول انجینئرز اور کنسٹرکشن ٹیم بھی موجود تھی۔

لیلہ ان سے کچھ فاصلے پر رکھی کرسی پر بیٹھی، ازمیر کا شیڈول مین ٹین کر رہی تھی کہ اس کے بالکل سامنے رکھی کرسی پر عزیز آ کر بیٹھا۔

لیلہ نے ایک نظر اپنے سامنے بیٹھے عزیز پر ڈالی اور اگلے ہی پل ایک آئبرو اچکاتے، ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی۔

عزیز جس کے ہاتھ میں کافی کا کپ تھا، اس کا اٹیٹیوڈ دیکھ چونک گیا۔ اس کو کیا صدمہ لگ گیا، عزیز سر جھٹکتے ہوئے سوچ کر رہ گیا۔

“ویسے آپ کا نام کیا ہے؟” عزیز کو ناجانے کیا سوجی کہ وہ اس کا نام پوچھ بیٹھا۔

“کیوں؟ آپ نے تاویز کروانے ہیں؟” لیلہ نے تنظیہ مسکراتے ہوئے تلملا کر جواب دیا۔

عزیز جو کافی کا گھونٹ گلے سے اتار رہا تھا، لیلہ کے جواب پر بے اختیار کھانسی کے دورے سے دوچار ہوا۔

“اف اللہ، یہاں پر جمز کیوں پھیلا رہے ہیں؟” لیلہ نے ایک ادا سے کہا۔

“توبہ توبہ، زرا مینرز نہیں ہیں آپ میں بات کرنے کے”، عزیز نے اس کی تاویز والی بات اور نخرہ دیکھ افسوس سے کہا۔

“آپ مجھے ان ڈائریکٹ بدتمیز کہہ رہے ہیں؟” لیلہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھتے ہوئے پوچھتی ہے۔

“آرے آپ تو سمجھدار بھی ہیں”، عزیز اس کے انداز کی بلکل نقل اتارتے ہوئے کہتا ہے۔

“میں اگر بدتمیز ہوں تو آپ نے تو جیسے مہذب ہونے کا ایوارڈ لے رکھا ہے”، لیلہ اس کی بات پر آگ بگولا ہوئی تھی۔

“آپ سے تو بات کرنا ہی بےکار ہے”، عزیز کو سامنے بیٹھی لڑکی کھسکی ہوئی لگی، بلکہ نئی صدی کی ساری لڑکیاں کاٹ کھانے کو ہی دوڑتی تھی، عزیز افسوس سے سوچتا ہوا وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“بلکل، آپ سے بات کر کے تو جیسے میں نے بہت بڑا پہاڑ سر کیا ہے، ہنہہ”، لیلہ بھی اسے کی جاتی پشت دیکھ کر غصے سے بولی۔

عزیز نے باقاعدہ کانوں کو چھوتے ہوئے توبہ کی تھی۔

“سٹرکچر کے مطابق اگر ہم دیکھیں تو۔۔۔”

ڈارک بلیو کلر کا تھری پیس سوٹ، بال جیل سے سیٹ کیے، اور چمکتی بھوری آنکھوں والا مرزا حاکم اپنے ساتھ کھڑے ازمیر علی سے مخاطب ہوتا ہے، جو کہ اس کی بات غور سے سن رہا ہوتا ہے۔

ان دونوں کے سامنے ایک ٹیبل رکھی تھی جس پر مختلف خاکے اور ایک بڑے چارٹ پر ٹاور کا نقشہ بنا تھا، اور دونوں ہی اس کے حوالے سے مختلف آراء پیش کرتے مصروف کھڑے تھے۔

ان دونوں کے عقب میں نظر آتے خوبصورت پہاڑ اور سورج ایک خوبصورت منظر پیش کرتے تھے۔ دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر یہ کہنا مشکل تھا کہ کون زیادہ حسین ہے۔

بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس ازمیر مرزا کی بات سن ہی رہا تھا کہ اس کی نظر سامنے نظر آتے منظر پر گئی۔

صاحبہ شاہ ہاتھ میں نوٹ بک اور پین پکڑے اپنے سامنے کھڑی کنسٹرکشن ٹیم سے بات کر رہی تھی، سورج کی سنہری کرنوں میں ڈھکی وہ اپسرا کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑنے کی طاقت رکھتی تھی۔

ازمیر علی اسے دیکھے گیا، ساتھ کھڑا مرزا کیا بول رہا ہے اسے کچھ سنائی نہ دیا۔

“یہ پوائنٹ کلئیر ہوا؟” مرزا نے اس کی طرف دیکھتے پوچھا۔

ازمیر نے آنکھیں میچتے ہمیشہ کی طرح مزاحم پر لعنت بھیجی، اگر وہ فلاورز کے لیے ضد نہ کرتا تو ازمیر کا کبھی بھی اس ساحرہ سے پالا نہیں پڑتا، “لعنت ہو تم پر مزاحم!”

“یس”، ازمیر نے اثبات میں سر ہلاتے جواب دیا تو مرزا اگلے پوائنٹ ڈسکس کرنے لگا۔ “تھرڈ فلور کے لیے جو۔۔۔”

بڑھتی مصروفیات کے ساتھ دن بھی ایک ایک پل کے ساتھ ڈھلتا جا رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی

استنبول، رات ہوتے ہی روشنیوں میں نہا گیا تھا، ریسٹورنٹ، مالز، کیفے ، شاپس ہر طرف لوگوں کا جیسے سیلاب ہی آ گیا ہو۔

اس تنگ اور چھوٹی گلی میں بھی الگ ہی رونق لگی ہوئی تھی، خریداری کرتے لوگ، سرائے میں بیٹھے باتوں اور قہقہوں میں مصروف لوگ، کھیلونو کی دکان پر رکھے چھوٹے، چھوٹے لکڑی کے کھیلونے ایک الگ ہی دنیا کا گمان دیتے تھے۔

اسی شوروگل سے بھرپور دنیا کے برعکس اس چھوٹے سے گھر میں خاموشی پھیلی تھی، اور اسی خاموشی میں ایک پرسوز سی نسوانی آواز خلل پیدا کر رہی تھی۔

دائیں جانب بنے کمرے میں، جس میں ایک طرف بڑے بڑے کارٹن رکھے تھے، بائیں جانب تاریخی کتابوں سے بھرے بک ریکس رکھے تھے، کھڑکی کے پاس دو پرانے طرز کی ہی کرسیاں اور وسط میں ایک لوہے کی قدیم زمانوں جیسی بڑی سی لوہے کی میز رکھی تھی، جس پر مختلف اوزار، کاغز، قلم، سیاہی، کچی پنسلیں، اور قیمتی پتھر ترتیب سے رکھے تھے۔

سلیم صاحب اپنی پوری توجہ سے ایک کرسی پر بیٹھے، آنکھوں پر چشمہ لگائے، ایک کاغذ پر پنسل سے ہیرے کا سکیچ بنا رہے تھے جبکہ دوسری کرسی پر بیٹھی دلارے محو سی اپنے نانا کی مہارت دیکھتی مدھم آواز میں گنگنا رہی تھی۔ 

 

                                                         Benim Askim 

(میری محبت)

                                          sen benim ruhumsun

(تم میری روح ہو)

                               Benim sessiz gecem sensin 

(تم ہی میری خاموش رات ہو)

                  Adını kalbimde bir fısıltı gibi taşırim 

(میں تمہارا نام دل میں سرگوشی کی طرح رکھتی ہوں)

                                      Benim icin sen hayatsin 

(میرے لیے، تم زندگی ہو)

                          Adın dudaklarımda bir dua gibi

(تمہارا نام میرے ہونٹوں پر دعا بن جاتا ہے)

                           Sen, ruhumun en derin sesisin

(تم میری روح کی سب سے گہری صدا ہو)

                                                Soyledigin her sey  

(جو کچھ تم نے کہا)

                                                  İstedigin her sey 

(جو کچھ تم نے چاہا)

                     Ben her zaman senin yanindayim 

(میں ہمیشہ تمہاری طرف ہوں)

                                                    Ah benim askim 

(آہ میری محبت)

ایک ہاتھ میز پر رکھے، سر اس پر ٹکائے، وہ خوبصورت آواز میں گنگنا رہی تھی، گہرے گلابی رنگ کا فراق اور سر پر ہم رنگ ہی سکارف پہنے وہ حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔

بابا، دلارے نے ایک دم چپ ہوتے سلیم صاحب کو مخاطب کیا۔

جی بابا کی جان، سلیم صاحب کاغز پر ہی نظریں جمائے پیار سے بولے۔

کوئی ایسی شے ہے جسے آپ نے بہت شدت سے چاہا ہو، دلارے سلیم صاحب پر نظریں جمائے پوچھتی ہے۔

بلکل ہے، سلیم صاحب نے ہلکا مسکرا کر جواب دیا۔

“میرے علاؤ بتائے گا ، مجھے پتہ ہے میں آپ کی جان ہوں، “دلارے ایک ادا سے مسکراتے ہوئے بولی تو سلیم صاحب ہنس دیے۔

بلکل، دلارے کے علاؤہ بھی میں نے شدت سے کسی کو چاہا ہے۔

پھر آپ کو ملی وہ شے، دلارے نے آگے کو ہوتے تجسس سے پوچھا۔

“بلکل۔”

“کیا مانگا تھا آپ نے؟”

سلیم صاحب نے دلارے کے سوال پر نظریں اٹھائے اسے دیکھا، سفید بے داغ چہرہ، جس پر دو سنہری لٹیں جھول رہی تھی، خوبصورت نیلی آنکھیں، دلکش نقوش، سلیم صاحب نے بے اختیار دل میں ماشاءاللہ پڑھا اور کاغز پنسل ایک جانب رکھا۔

میں نے اپنی دلارے کی زندگی کو مانگا تھا اللّٰہ سے، سلیم صاحب نے دلارے کے دونوں ہاتھوں کو اپنے بوڑھے، ہاتھوں میں پکڑتے کہا۔

دلارے ان کے جواب پر ساکت ہوئی تھی، نیلی آنکھوں میں حیرانی در آئی۔

کیا مطلب بابا؟

بہت سال پہلے ، ستمبر کے مہینے میں، جب تم چھ سال کی تھی، تب سڑک پار کرتے بہت بری طرح کار سے ٹکرائی تھی تم، بہت خون بہا تھا تمہارا، تمہاری حالت بہت خراب تھی میں تمہیں ہسپتال لے کر گیا، ڈاکٹرز نے کہا تھا سر پر چوٹ لگی ہے، بچی بہت چھوٹی ہے، جان بچانا مشکل ہو جائے گا مگر ہم اپنی پوری کوشش کریں گے ۔ 

سلیم صاحب کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔

میرے لیے یہ خبر تکلیف دہ تھی کیونکہ میری بیٹی اور داماد بھی حادثہ کی وجہ سے جاں بحق ہوئے تھے اور اب تمہیں بھی ویسی حالت میں دیکھ میرا دل بند ہونے لگا تھا دلارے، سلیم صاحب نے ایک پل کا توقف کیا۔

دلارے نم آنکھوں سے اپنے سامنے بیٹھے نانا کو دیکھ رہی تھی۔

ڈاکٹرز اندر تمہارا اپریشن کر رہے تھے اور میں جائے نماز پر بیٹھا بلکل چپ تھا، خوف سے میرے سارے آنسوں تھم گئے تھے اور الفاظ تو جیسے ختم ہی ہو گئے تھے، دلارے، سلیم صاحب نے ہلکی مسکراہٹ سے دلارے کو دیکھتے کہا۔

میں یوں ہی گم سم سا جائے نماز پر بیٹھا تھا دلارے، میں الفاظ تلاش کر رہا تھا کہ کن لفظوں میں اللّٰہ کو بتاؤ کہ تم میرے لیے کتنی قیمتی ہو اور کن لفظوں میں تمہیں مانگوں ۔ 

تب مجھے معلوم ہوا کہ درد کی سب سے بری کیفیت وہ ہوتی ہے جب آپ کے پاس الفاظ نا بچے اور آپ کی سب سے قیمتی شے وہ ہوتی ہے جس کے لیے آپ نماز پر بیٹھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے مگر یہ نا معلوم ہو کہ کن لفظوں میں مانگا جائے۔

میں بنا کچھ کہے ، نماز پر بیٹھا رہا، دل چیخ چیخ کر رب سے دعا کر رہا تھا مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اللّٰہ سے کن لفظوں میں تمہیں مانگو مگر میں بھول گیا کہ، دلوں کے بھید جاننے والا لفظوں کا محتاج تو تھا ہی نہیں ۔ 

خیر، میں بھی ڈھیٹ بنا بیٹھا رہا اور اندر تم زندگی اور موت سے لڑتی رہی۔ 

سلیم صاحب ایک پل کو رکے ۔ 

بہت دیر بعد اچانک ڈاکٹرز تمہارے کمرے سے باہر آئے۔

میں یوں ہی نماز پر بیٹھا رہا، سنیئر ڈاکٹر میرے ساتھ پنجوں کے بل بیٹھے اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے سرگوشی کی۔

آپ کی نواسی اب خطرے سے باہر ہے۔

الفاظ تھے یا کیا، میں بیاں نہیں کر سکا، میں فوراً سجدے میں گرا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا، جہاں کچھ وقت پہلے جس دعا کے لیے نا آنسو ساتھ دے رہے اور نا لفظ وہیں، اس بن مانگی دعا کی قبولیت پر میں سجدے میں گر پڑا تھا، دلارے، میں نے زندگی میں سب سے زیادہ شدت سے تمہاری زندگی چاہی ہے۔

دلارے کی آنکھوں سے آنسو نکلتے مومی چہرے پر پھسلتے چلے گئے، وہ آگے بڑھ کر سلیم صاحب کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور روتے ہوئے سر ان کی گود میں گئی۔

سلیم صاحب نے اپنے آنسو صاف کرتے دلارے کا چہرہ اوپر کرتے اپنے ہاتھوں میں بھرا اور سر پر محبت بھرا بھوسہ دیا۔

چلو اب مجھے دوبارہ سے وہ نظم سناؤ، سلیم صاحب نے ادھورے سکیچ والا کاغز واپس سے اپنے سامنے کرتے دلارے سے کہا۔

دلارے نے نا سمجھی سے نانا کو دیکھا تھا۔ 

 

                                             Benim askim 

                                           sen benim ruhumsun

سلیم صاحب نے مسکراتے ہوئے دلارے کو دیکھا جبکہ دلارے یک دم ہڑبڑا گئی، اسے لگا تھا سلیم صاحب کا سارا دھیان صرف سکیچ پر ہے تو وہ اپنے ہی خیالوں میں گنگنائے گئی۔

 

                                                   Benim askim 

                                                    sen benim…..

دلارے کو چپ دیکھ سلیم صاحب خود ہی نظم پڑھنے لگے تو دلارے بھی مسکرا کر ان کے ساتھ ہی پڑھنے لگی۔

 

 

                                                ruhumsun

                                               benim sessiz ……

ترکی کی فضا میں ان کی آواز گونجتی جا رہی، سرائے سے تنگ گلی، تو تنگ گلی سے استنبول میں، کھلے آسمان میں ان کی آواز اپنا احساس چھوڑتی، ایک الگ یاد بنتی غائب ہوتی جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

جیسے جیسے سورج آہستہ آہستہ، پہاڑوں کے پیچھے چھپتا اپنے زوال پر اداس ہوتا غروب ہو رہا تھا، ویسے ہی اب ہلکی ہلکی ہوا سردی پیدا کر رہی تھی۔

کنسٹرکشن ٹیم اور سیول انجینئررز جا چکے تھے، مرزا کی ٹیم اور وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی گئے تھے۔

صاحبہ جو فون پر بات کر رہی تھی، اس نے دور سے ہی ازمیر کی گاڑی کو بھی جاتے دیکھا اور دوبارہ سے فون پر متوجہ ہو گئی، ہوا سے اس کے بال لہرا رہے تھے۔

کچھ دیر بعد وہ بھی اختتامی جملہ بولتی کال کاٹ گئی اور اپنے قدم اپنی گاڑی کی جانب بڑھائے۔

اونچے خوبصورت پہاڑوں نے بھوری آنکھوں والی لڑکی کی جاتی پشت کو مسکرا کر دیکھا تھا۔

صاحبہ نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھی، ایک گہرہ سانس لینے کے بعد اس نے انگیشن میں چابی گھمایی اور گاڑی سٹارٹ کی۔

وہ آج بہت تھک گئی تھی، جس کے باعث سر میں بھی ہلکا ہلکا درد محسوس ہو رہا تھا۔

ابھی صاحبہ کی گاڑی سٹارٹ ہوئی تھی اور دو انچ کا فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ گاڑی چڑچڑاتے ٹائروں کے ساتھ رکی۔

صاحبہ کو حیرت ہوئی، اس نے دوبارہ سے گاڑی سٹارٹ کی مگر گاڑی سے آواز بھی نہ نکلی۔

صاحبہ نے آنکھیں گھماتے ہوئے دروازہ کھولا اور باہر نکلی۔

اس نے گاڑی کے سامنے سے آتے، دیکھا تو گاڑی کے بونٹ سے سیاہ دھواں نکل رہا تھا، صاحبہ سر جھٹک کر رہ گئی، اس نے قطرہ قطرہ پھیلتے اندھیرے کو دیکھا، اور اردگرد دیکھا، یہ ایریا شہر سے کچھ منٹ کے فاصلے پر تھا، اس لیے فلحال آس پاس کوئی ذی نفس موجود نہیں تھا۔

صاحبہ نے فون پر نحل کو کال کی، رنگنگ ہو رہی تھی مگر دوسری جانب سے نحل کال نہیں اٹھا رہی تھی۔

اس نے افسوس سے نحل کا نام دیکھا اور دوبارہ سے اسے کال کرنے لگی۔

صاحبہ ابھی دوبارہ کال کر رہی تھی کہ اسے ایک گاڑی رکتی دیکھائی دی۔

ڈوبتے سورج اور پہاڑوں نے پھیلتے اندھیرے میں صاحبہ کی گاڑی کے سامنے سیاہ گاڑی کو ، چونک کر رکتے دیکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

“پلویشا کا کیا کہنا ہے؟” 

تائی جان کی پوری بات سننے کے بعد ڈاکٹر طاہر نے پوچھا۔

وہ اس وقت اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھے تھے جب ان کے ساتھ بیٹھی سائلہ نے ساری بات ڈاکٹر طاہر کو بتائی۔ سائلہ اس بات سے انجان تھی کہ پلویشا صائم کی ساری باتیں سن چکی ہے، اس لیے ڈاکٹر طاہر نے بھی انہیں کوئی بات نہیں بتائی تھی۔ وہ چپ چاپ سائلہ کی بات سنتے رہے۔

پلویشا چاہتی ہے اب ردا اور صائم کی شادی کر دیں، آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟ سائلہ نے فکر مندی سے اپنے شوہر کو دیکھا۔

جیسا صائم چاہ رہا ہے، کرنے دو، اور ویسے بھی ردا ہماری ہی بچی ہے، ڈاکٹر طاہر نے کچھ سوچتے ہوئے سائلہ سے کہا۔

وہ تو ٹھیک ہے، مگر صائم چاہتا ہے اگلے ہفتے شادی ہو جائے، اتنی جلدی کیسے ہو سکتا ہے طاہر؟ حارث بھائی کو فوت ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں، تائی جان نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی۔

پلویشا کے ساتھ جو ہوا، صائم اس واقعہ سے خوف زدہ ہو گیا ہے سائلہ، بے شک اس نے پلویشا کے ساتھ جو کچھ بھی کیا ہے وہ غلط ہے، بلکل غلط ہے، مگر وہ خوف کا شکار ہو گیا ہے۔ اس لیے چاہتا ہے بس جلد از جلد سب ہو جائے، اب اور کوئی نقصان نا ہو، اس لیے اسے کرنے دو جا کرنا چاہتا ہے، ڈاکٹر طاہر نے اپنی پیشانی کو دو انگلیوں سے دباتے ہوئے کہا۔

لیکن طاہر، صائم تو محبت کرتا تھا پلویشا سے، آپ نے خود تو بتایا تھا مجھے۔

اب دیکھ لو محبت ختم ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے، ڈاکٹر طاہر نے افسردگی سے کہا تو سائلہ چپ ہو گئی۔

کچھ پل خاموشی کے گزرے تو سائلہ پھر ڈاکٹر طاہر سے مخاطب ہوئی۔

آپ صائم سے ناراض ہیں؟

وہ میرا بیٹا ہے، میں اس سے ناراض نہیں ہوں، اور نا کبھی ہو سکتا ہوں، بس اس نے مجھے ہرٹ کیا ہے سائلہ، ڈاکٹر طاہر نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ پھر ایک پل کے توقف کے بعد انہوں نے مسکرا کر سائلہ کو دیکھا جو انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔

پلویشا کہتی ہے صائم فرماں بردار اولاد ہے، ایک بہتر مسلمان ہے، ایک بہترین دوست ہے، ایک اچھا انسان ہے، بس وہ محبت میں وفادار نہیں ہے۔

ڈاکٹر طاہر کی بات پر سائلہ کی آنکھیں نم ہوئی تھیں، انہیں اپنا بیٹا عزیز تھا مگر پلویشا کی تکلیف بھی ان سے دیکھی نہیں جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

ڈوبتے سورج اور پہاڑوں نے پھیلتے اندھیرے میں صاحبہ کی کار کے سامنے ایک سیاہ کار رکتے دیکھی۔

اچانک کار کا دروازہ کھلا اور وہ باہر نکلا۔ چمکتی سیاہ آنکھیں سامنے کھڑی بھوری آنکھوں والی لڑکی پر جمائے، وہ قدم قدم چلتا اس کی جانب بڑھا۔

ازمیر کو دیکھتے یک دم پہاڑوں نے مسکرا کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا تھا۔

صاحبہ نے فون بند کیا اور نظریں سامنے سے آتے ازمیر پر ٹکائی۔

“آپ گئی نہیں ابھی تک؟” ازمیر نے اس تک آتے فوراً سے سوال داغا۔

“میری گاڑی خراب ہو گئی ہے۔” سنجیدہ سا جواب دیتے صاحبہ نے پہاڑوں کی جانب جاتے ہوئے دوبارہ سے نحل کو کال کرنے کی غرض سے فون کو آن کیا۔

صاحبہ کے جواب پر ازمیر نے کوٹ کی اندرونی جیب سے فون نکالتے مزاحم کا نمبر ڈائل کیا۔

کال پہلی ہی گھنٹی پر اٹھا لیا گیا۔

“اسل۔۔۔ “

“فوراً سے کنسٹرکٹیو ایریا کی طرف میکینکس کو بھیجو۔” بغیر سلام سنے اور اس کا جواب دیے ازمیر آرڈر دیتا ہوا کال کاٹ چکا تھا۔

پہاڑوں نے گھور کر اس سیاہ آنکھوں والے مغرور مرد کو دیکھا تھا۔

ازمیر نے خود سے تھوڑا دور کھڑی لڑکی کی پشت پر پھیلے لمبے بالوں کو دیکھا، جو ایک جگہ پر ٹک نہیں رہے تھے، اور دو قدم چلتا ہوا اس تک آیا اور اس سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہو گیا۔

“میکینک کچھ دیر میں آ جائیں گے۔” ازمیر نے سامنے پہاڑوں کے پیچھے ڈھلتے سورج کو دیکھتے کہا۔

صاحبہ، جو چوتھی بار پھر نحل کو کال کرنے ہی والی تھی، اپنے پاس ازمیر کی آواز سنتے چہرہ اٹھائے اسے دیکھا، جو سامنے دیکھ رہا تھا۔

صاحبہ چند پل اسے دیکھتی رہی اور پھر بنا کچھ بولے فون دوبارہ سے بند کیا اور اپنی نظریں بھی سامنے کی جانب موڑ گئی۔

وہ دونوں بلکل چپ سے، ایک دوسرے سے کچھ فاصلے پر کھڑے، بلکل سامنے ہی، دلکش بلند پہاڑوں کے پیچھے سورج کی آخری جھلک دیکھ رہے تھے۔

اسلام آباد کی فضا نے یہ سحر کر دینے والا منظر مسکراتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

“آپ واپس کس لیے آئے؟” کچھ پل خاموشی میں گزارنے کے بعد صاحبہ نے ازمیر کی طرف دیکھتے پوچھا۔

ازمیر، صاحبہ کے سوال پر ایک پل کو چپ رہا اور پھر چہرہ موڑ کر اپنے ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھا۔ کچھ پل اس کو دیکھتا رہا۔ صاحبہ نے بھی اس پر سے نظریں نہیں ہٹائی۔

(ازمیر فون پر بات کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا اور اسی مصروفیت میں گاڑی سٹارٹ کرتا، اس ایریا سے دور چلا گیا۔

اللّٰہ حافظ۔ تقریباً دو منٹ بات کرنے کے بعد ازمیر نے کال کاٹی اور دوبارہ سے ڈرائیونگ کرنے لگا۔ اپنی ٹیم کو وہ پہلے ہی وہاں سے بھیج چکا تھا۔

ازمیر پورے فوکس سے کار چلا رہا تھا کہ اس کی نظر سڑک کنارے ایک پھولوں کے سٹال پر گئی اور پھر اچانک ہمیشہ کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ منظر لہرائے۔

سفید مومی ہاتھ۔۔۔

جکھا۔۔۔

ازمیر نے جھٹکے سے سڑک کے بیچ کار روکی۔ اسے یاد آیا جب وہ وہاں سے جا رہا تھا، دور ٹہری صاحبہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی، یعنی وہ اکیلی کھڑی تھی۔ وہ ہر طرف چھاتے اندھیرے میں اکیلی کھڑی تھی۔

ازمیر نے کچھ بھی سوچے سمجھے بنا گاڑی واپس سے موڑی۔

پوری رفتار سے گاڑی بھگاتا ازمیر، بس اس ایریا تک پہنچنا چاہتا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کیوں، پر وہ بس یہ کنفرم کرنا چاہتا تھا کہ صاحبہ خیریت سے جا چکی ہے یا وہ اب بھی وہی اکیلی ہے۔

سڑک کے کنارے بنے درختوں نے حیرت سے اس کی تیز رفتار گاڑی کو دیکھا واپس جاتے دیکھا تھا۔)

“اصل میں مجھے کچھ کام تھا، یہاں سے گزر رہا تھا تو آپ کی رکی ہوئی گاڑی پر نظر پڑی، تو مجھے لگا شاید کوئی پرابلم ہو۔” ازمیر نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے صفائی سے جھوٹ بولا۔

پہاڑ اس کے جھوٹ بولنے منہ کے زاویے بدل گئے ۔ 

“ہممم۔” صاحبہ بس اثبات میں سر ہلا کر دوبارہ نظریں سامنے موڑ گئی۔

ازمیر نے اس کے چہرے پر جھولتی لٹوں کو دیکھا۔ (آخر وہ ان سے اتنی بے نیاز کیوں ہوتی تھی؟) ازمیر سوچ کر رہ گیا اور بے اختیار نظروں کا زاویہ موڑ گیا کہ اچانک پیچھے ایک بائیک رکنے کی آواز آئی۔ ازمیر نے مڑ کر دیکھا تو دو لڑکے جو کہ میکینک تھے بائیک سے اترے۔ ان میں سے ایک کے کندھے پر ایک بیگ لٹکا تھا۔

“آپ یہی ٹہرے میں ان کو ڈیل کرتا ہوں۔” ازمیر نے اسے وہی ٹہرنے کا کہہ کر قدم صاحبہ کی گاڑی کی طرف بڑھائے۔

صاحبہ نے بنا کسی تاثر کے مڑ کر اس کی جاتی پشت دیکھی۔ وہ ان تک پہنچ کر کچھ کہہ رہا تھا۔

میکینک گاڑی کی اگلی سائڈ کھولے گاڑی چیک کر رہے تھے اور وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، ان سے کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔

سورج کی آخری جھلک بھی ڈوب چکی تھی۔ اب صرف جامنی سا اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا۔

ازمیر نے والٹ نکالتے انہیں پے کیا تو وہ جس طرح سے آئے تھے، اسی طرح لوٹ گئے۔

ان کے جانے کے بعد ازمیر نے رخ صاحبہ کی جانب موڑا تو وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ ازمیر کے دیکھنے پر صاحبہ نے اپنے قدم اس کی جانب بڑھائے۔

اپنی طرف آتی لڑکی کے رقص کرتے بال دیکھ کر ازمیر کے چہرے پر ایک پل کو بے ساختہ سی مسکراہٹ دوڑ گئی، جسے وہ اگلے ہی پل سمیٹ گیا۔

صاحبہ قدم قدم چلتی اس کے سامنے جا ٹہری۔ ہوا نے ایک پل کو سانس روک کر آمنے سامنے کھڑے دو نفوس کو دیکھا تھا۔

اور پھر یک دم صاحبہ کی سنجیدگی کا خول چٹخ کر ٹوٹا اور ہلکی سی مسکراہٹ صاحبہ کے چہرے پر دوڑ گئی۔

“تمہارا وسیلہ بننا یاد رکھوں گی۔” صاحبہ نے مدھم مسکراہٹ سے اسے دیکھتے کہا، اور بنا اس کا کوئی جواب سنے، سامنے سے ہٹ کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئی۔ہواؤں نے الگ ہی ساز بکھیرے تھے۔ پہاڑوں نے معنی خیزی سے نظروں کا تبادلہ کیا تھا چاروں طرف پھیلے سکوت میں انجانی سی سرگوشیاں گونجنے لگی۔

جبکہ صاحبہ کے الفاظ اور مدھم مسکراہٹ پر ازمیر ساکت ہوا تھا۔

“صاحبہ مسکرائی؟” ازمیر کو دیکھ کر؟ اس احساس سے ازمیر نے چہرہ آسمان کی جانب بلند کیا اور دل ہی دل میں وسیلہ بنانے والے کو شکریہ کہا۔ اور پھر گہرہ سانس بھرتے اپنی کار کی طرف بڑھ گیا۔

صاحبہ کی کار اپنے پاس سے گزرتے دیکھ ازمیر مطمئن ہوا اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا۔

ٹھنڈی ہواؤں نے مسکرا کر ازمیر کی گاڑی دور جاتے دیکھی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

رات کے سائے لاہور میں پھیل چکے تھے اور اسی کے ساتھ شہر کی مصروفیات بھی بڑھ گئی تھی، شاہراہوں پر ٹریفک رواں دواں تھی۔

باہر کی رونق کے ساتھ شاہ ہاؤس میں بھی کافی رونق لگی تھی۔

پھولوں اور لائٹوں سے گھرے وسیع لان میں اردگرد کرسیاں اور ٹیبل ترتیب سے رکھی گئی تھی جن پر مہمان براجمان تھے، خوبصورت ڈیکوریشن ماحول میں چار چاند لگا گیا تھا۔

سٹیج پر صائم، بلیک تھری پیس پہنے، سنجیدہ تاثرات کے ساتھ بیٹھا تھا، جس کے بائیں جانب اس کا ایک کلاس فیلو بیٹھا تھا اور دائیں جانب دور کا کوئی رشتہ دار بیٹھا تھا۔

سمعیہ اور تائی جان مہمانوں کے ساتھ لگیں تھی جبکہ ابراحیم اور طاہر شادی کے معاملات دیکھ رہے تھے۔

ہر طرف شوروگل تھا۔

شاہ ہاؤس کے اندر قدم رکھوں تو وہاں بھی ڈیکوریشن کا ہلکا سا ٹچ دیا گیا تھا نیز ایک، ایک چیز پر محنت کی گئی تھی۔

“بہت خوبصورت لگ رہی ہو”، پلویشا نے ردا کو دیکھتے کہا۔

بھاری گولڈن لشکارے مارتے لہنگے میں بھاری دوپٹہ سر پر سیٹ کیے، برائیڈل میک اپ کے ساتھ تیار سی ردا بہت خوبصورت لگ رہی تھی، پر ردا کو گھر میں میک اپ آرٹسٹ تیار کرنے آئی تھی۔

“تھینک یو”، ردا نے خود کو آئینہ میں دیکھتے کہا اور پلویشا کی جانب مڑی۔

“اب جاؤ، تم بھی تیار ہو جاؤ”، ردا نے پلویشا کو دیکھتے کہا تو پلویشا اس کے گلے لگی۔

“صائم بہت اچھا شوہر بنے گا ردا، اللّٰہ اس کا اور تمہارا ساتھ تا عمر رکھے”، پلویشا نے ردا کے گرد حصار باندھتے کہا۔

“تم ویٹ کرو، میں اپنا ہلیہ بدل کر آتی ہوں”، پلویشا نے ہنستے ہوئے ردا سے الگ ہوتے کہا اور پلٹ گئی۔

ردا نے اس کی جاتی پشت دیکھی اور کمرے کی کھڑی کی جانب آئی۔

پردہ کھسکا کر دیکھا تو نیچے کی رونق دیکھ وہ مسکرا دی۔

یکایک دروازہ کھول کر تائی جان اور سمعیہ کمرے میں داخل ہوئی۔

“ماشاءاللہ، بہت پیاری لگ رہی ہو میری جان”، تائی جان نے مسکرا کر ردا کے سر پر بھوسہ دیا تو ردا مسکرا دی۔

“نکاح کا وقت ہونے والا ہے”، سمعیہ نے بیٹی کو پیار کرتے ہوئے کہا اور اس کا دوپٹہ سیٹ کرنے لگی۔

“بیٹا، پلویشا کہاں ہے؟” تائی جان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

“تائی جان وہ ریڈی ہونے گئی ہے۔”

“اچھا، تم بیٹھو، سمعیہ، ردا کے ساتھ، میں زرا نجمہ بیگم سے ہوتی آؤں۔”

“جی بھابھی، ٹھیک ہے۔”

“ردا، بیٹھ جاؤ، تھک جاؤ گی ورنہ”، سائلہ کے جانے کے بعد سمعیہ نے ردا کو بیڈ پر بیٹھاتے کہا۔

“مام، آپ نے۔۔۔”

ردا اور سمعیہ سے دور جاتے ان کی آواز بھی سماعت سے دور جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر طاہر جو کہ فہیم صاحب کے ساتھ کھڑے مسکرا کر باتوں میں مصروف تھے، ان کے آگے بڑھ جانے کے بعد گہرہ سانس لاہور کی فضا کے سپرد کیا تھا۔

انہوں نے سٹیج پر براجمان دولہے کو دیکھا، جو کہ اپنے پاس بیٹھے دوست کی بات مدھم مسکراہٹ سے سن رہا تھا۔

ڈاکٹر طاہر مسکرا کر اپنے بیٹے کو دیکھ کر رہ گئے اور قدم شاہ ہاؤس کے اندر کی جانب بڑھا دیے۔

پلویشا کے کمرے کے دروازے کے سامنے ٹہر کر انہوں نے ایک دو پل کا توقف کیا اور پھر دروازے پر دستک دی، اور اگلے ہی پل اجازت ملنے پر دروازہ کھولتے چلے گئے۔

کمرے میں قدم رکھتے ہی، سامنے نظر پڑتے وہ ایک پل کو ساکت ہوئے تھے۔

سیاہ ہیل، بلکل سیاہ، سلک کی ساڑھی جس کے کناروں پر سیاہ سٹونز کا کام تھا، کانوں میں قیمتی سیاہ نگینے، کھلے سیدھے بال، ڈارک ریڈ لپ اسٹک، اور نفاست سے کیے میک اپ میں وہ اپنا دو آتشہ روپ لیے انتہا کی حسین لگ رہی تھی۔

“کیسی لگ رہی ہوں؟” پلویشا نے ان کے پاس جاتے پوچھا، تو وہ جو اپنے خیالوں میں کھوئے تھے، پلویشا کی آواز پر واپس دنیا میں لوٹے۔

“ماشاءاللہ، بے حد حسین لگ رہی ہو پلویشا”، ڈاکٹر طاہر نے سنجیدگی سے جواب دیا اور صوفے کی جانب بڑھ گئے۔

میں خود بھی حیران رہ گئی خود کو دیکھ کر، پلویشا ڈریسنگ ٹیبل تک جاتی، اس پر رکھی قیمتی نگینہ والی انگھوٹی اٹھا کر اپنی انگلی میں پہننے لگی، انداز بے نیاز سا تھا، ڈاکٹر طاہر چپ چاپ اس کی حرکات و سکنات دیکھتے اس کی بات سن رہے تھے۔

“ویسے، بلیک کلر مجھ پر سوٹ کرتا ہے، اور آپ کو پتہ ہے میں نے ساڑھی بھی پہلی مرتبہ پہنی ہے، اور آ۔۔۔”

“کیوں خود کو تکلیف دے رہی ہو؟”

پلویشا جو اب ایک بریسلٹ اپنے ہاتھ کی زینت بناتے بول رہی تھی، اچانک ڈاکٹر طاہر کی بات پر اس کی بولتی زبان کو بریک لگی اور نظریں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا جو شکوہ کناں نظروں سے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔

پلویشا نے گہرہ سانس بھر کر قدم قدم چلتی ان تک گئی اور ان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی۔

تکلیف بہت چھوٹا لفظ ہے ڈاکٹر طاہر ، مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے ، قظرہ قظرہ کر کے میری سانسیں گھٹتی جا رہیں ہیں ، پلویشا انہیں یک ٹک دیکھتے بولی ۔ 

ڈاکٹر طاہر نے سرد آہ بھرتے پلویشا کو دیکھا تھا ۔ 

ہم کتنے خوش تھے ڈاکٹر طاہر ، اس نے کتنی شدت سے مجھے چاہا ، اس کا ہر عمل اس کی وفا کی گواہی دیتا تھا ،ہم نے کتنے پل ساتھ میں گذاررے ، کتنی باتیں کی ، پر اب صرف ایک سوال میرے پاس رہ گیا ہے ، یہ کیا ہو گیا ڈاکٹر طاہر ؟ اس کا ہنسی ، اس کی باتیں، سب میرے وجود کے اندر کہیں دب گئی ہیں اور اب نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی ، ۔ 

پلویشا کسی معصوم بچے کی طرح ڈاکٹر طاہر کی آنکھوں میں دیکھتی گلہ کر رہی تھی ۔ 

پلویشا تم رو لو ، ڈاکٹر طاہر نے اس کو اپنے آنسو ضبط کرتے دیکھ نرمی سے کہا ۔ 

“میں رو، رو کر تھک چکی ہوں” ۔ 

“لیکن میں تمہارے آنسوں سے نہیں تھکا۔ “

پلویشا نے ڈاکٹر طاہر کی بات کا کوئی جواب نہ دیا، بس یوں ہی چہرہ اوپر کو اٹھائے چھت کو گھورنے لگی۔

کئی پل خاموشی نے چپ چاپ انہیں دیکھا تھا۔

“ردا نے تمہیں خود بتایا ہے کہ وہ صائم کو پسند کرتی ہے؟”

“نہیں”، پلویشا نے مسکرا کر نفی میں سر ہلا دیا۔

“پھر تمہیں کیسے معلوم ہوا؟” ڈاکٹر طاہر نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔

“جس رات میں صائم سے بات کرنے گئی تھی، اس کے اگلے دن میں ردا کے پاس گئی، اس سے بات کرنے، وہ تب کمرے میں نہیں تھی مگر اس کے بیڈ پر اس کی ڈائری کھلی ہوئی پڑی تھی، ہے تو یہ غیر اخلاقی کام مگر میں نے وہ پڑھ لی، تب مجھے معلوم ہوا”، پلویشا نظریں جھکائے بولتی ہے۔

ڈاکٹر طاہر نے اس کا جھکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما اور پیشانی پر بھوسہ دیا۔

“ا ہا، اب چلیں، دیر ہو رہی ہے”، پلویشا یک دم اٹھتے ہوئے بولی ۔ 

ڈاکٹر طاہر نے اس کو اجلت میں دیکھا اور گہرہ سانس بھرتے وہ بھی اٹھے اور اس کے ساتھ ہی کمرے سے چلے گئے اور پیچھے گہری خاموشی چھوڑ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور

چار گھنٹے بعد۔

گہری رات کے سائے ہر طرف اپنے قدم جما چکے تھے، رات کے سناٹے میں ہر ذی نفس اپنی اپنی پناہ گاہوں میں دبکا بیٹھا تھا۔

شاہ ہاؤس کی رونق بھی ختم ہو چکی تھی، سارے مہمان جا چکے، لوگوں سا بھرا لان اب خاموش تھا، البتہ روشنی ہنوز ہر طرف پھیلی تگی۔

سکوت ہی سکوت ہر طرف پھیلا تھا، سنسناتی ہوئی ہوا کی پراسرار دھمک ماحول کو ہیبت ناک بناتی تھی۔

یہی سکوت شاہ ہاؤس کے اس کمرے میں بھی پھیلا تھا۔

گہری خاموشی، گہرا اندھیرا، کھلی کھڑکی سے آتی ٹھنڈی سرد ہوا، فرش پر ایک طرف بکھرے کانچ کے ٹکڑے اور سانس لیتے وجود کی مدھم ساز۔

سیاہ ساڑھی میں ملبوس، بیڈ پر لیٹی، ٹانگیں لٹکائے، ہاتھ بیڈ پر پھیلائے وہ یک ٹک چھت کو تکے جا رہی تھی۔

مدھم، مدھم سانسیں لیتی وہ بے جان سی لیٹی کسی اور ہی دنیا میں کھوئی لگتی تھی۔

صائم اور ردا کا نکاح ہو چکا تھا، پلویشا پورے ایونٹ میں موجود تھی، اس نے اپنی آنکھوں سے دونوں کو ایک رشتے میں بندھتے دیکھا تھا۔

یکا یکا پلویشا کے وجود میں جنبش ہوئی، وہ اٹھ کر بیٹھی، ایک دو پل، چہرہ جھکائے، زمین کو گھورتی رہی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے، اس کے قہقہے بلند ہوئے۔

سکوت نے اپنا وجود ٹوٹنے پر تنفر سے اس اپسرا کے قہقے سنے تھے۔

پلویشا ہنسی، زور، زور سے ہنسی اور اس طرح ہنستے ہنستے اس نے ایک گہرہ سانس بھرا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

آج اس کے اٹھنے کا انداز الگ تھا، وہ قدم قدم چلتی ڈریسنگ ٹیبل تک گئی اور نظریں اپنے عکس پر گاڑیں۔

وہ بے انتہا حسین تھی، آئینہ نے خود اس بات کی گواہی دی تھی۔

پلویشا ڈریسنگ پر اپنے دونوں ہاتھوں کو رکھے تھوڑا جھک کر اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی۔

باہر سے آتی لائٹوں کی روشنی میں اس کا آدھا وجود اندھیرے میں ڈوبا تھا، اس لیے اگر تم سانس روکے اس کے قریب جا کر دیکھو تو اس کی آنکھوں میں دہکتے شعلے تم صاف دیکھ سکو گے۔

پلویشا نے شعلہ بار آنکھوں سے اپنا عکس دیکھتی رہی۔

جب تمہاری سانسیں اُکھڑ رہی تھی اور ہاتھ کپکپا رہے تھے ، وہ سکون کے پل جی رہا تھا ، ید رکھنا ، وہ اپنی آنکھوں میں دیکھتی خود سے بڑبڑائی ۔ 

اور سامنے رکھی لپ اسٹک اٹھائے اپنے ہونٹوں کو اس سے مزید لال کیا۔

(چپ، بلکل آواز نا کرنا، اندھیرے میں ڈوبے وجود نے اس کے کان کے قریب جھکتے سرگوشی کی، وہ دونوں چاند کی روشنی میں ایک دوسرے کے بلکل سامنے کھڑے تھے، آنکھوں میں آنکھیں ڈالے)

وہ ایک ادا کے ساتھ اب اپنے لمبے بالوں کو برش سے سہلا رہی تھی۔

(کار میں جلتی پیلی روشنی میں پلویشا نے صائم کی آنکھوں میں دیکھا اور اسے لگا اگر نظریں ہٹائے گی تو سب منظر بے معنی ہو جائے گے)

وہ قدم قدم چلتی بیڈ تک آئی اور فرش پر رکھی اپنی ہیلز اٹھائے پہننے لگی۔

(وہ پلویشا کو بتا رہا تھا کہ وہ اس کے لیے بہت خاص ہے)

پلویشا نے ہیلز پہننے کے بعد اپنا عکس آئینہ میں دیکھا اور آئینہ خود اس کی خوبصورتی دیکھ شرما گیا۔

(وہ کھڑکی میں کھڑی اسے مسکراتی آنکھوں سے لان میں بیٹھے لیپ ٹاپ پر کام کرتا دیکھ رہی تھی)

خود کو ستائشی نظروں سے دیکھتے پلویشا نے دروازے کی جانب رخ کیا۔

(وہ اس کو بتا رہی تھی کہ وہ اسے پسند کرتی ہے اور بہت زیادہ کرتی ہے)

اس نے راہداری سے ہوتے سیڑھیوں کے جانب اپنے قدم بڑھائے۔

(وہ کبھی ساتھ نا چھوڑنے کے وعدے دے رہا تھا)

پلویشا شہانہ انداز سے ایک ایک زینہ نیچے اتر رہی تھی، آج اس کی ہر ادا نئی تھی۔ لاونج میں پھیلی خاموشی میں اس کی ہیل ٹک ٹک ایک الگ ساز پیدا کر رہی تھی ۔ 

(وہ صائم کی دلہن بنی، سڑک پر ٹہری فون پر بات کر رہی تھی)

پلویشا لاونج سے ہوتے ہوئے لان کی جانب جا رہی تھی۔

(وہ کالے سادہ لباس میں، چاند کی روشنی میں، ٹھنڈی گھاس پر ننگے پاؤں ٹہری، بند آنکھوں سے، اس کے ہاتھوں کا لمس اپنے رخسار پر محسوس کر رہی تھی)

وہ سوئمنگ پول ایریا سے گزرتے دوسری جانب جا رہی تھی، سلک کی لہلہاتی ساڑھی جھلمالا رہی تھی۔

(صائم مسکرا کر ردا کے لیے قبول ہے بول رہا تھا اور دور کھڑی یہ منظر دیکھتی لڑکی کے ہاتھ کپکپا رہے تھے، اور ٹانگیں گویا شل ہوتی جا رہی تھیں)

وہ ایک ایک قدم لیتی لان میں آئی اور اسے وہ نظر آیا، وہ قاتلانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے آگے بڑھی۔

 ( نکاح کے بعد صائم اپنی دلہن کی پیشانی پر بھوسہ دے رہا تھا اور دور کھڑکی پلویشا، کی سانسیں سینے میں دبتی گئی، منظر دھندلے ہوتے گئے، کپکپی پورے وجود میں دوڑ گئی، اس نے بے اختیار گردن مسلتے ہوئے شاہ ہاؤس کی جانب قدم موڑے، لرزتے ہاتھوں سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولتے وہ اند آئی، اور ٹیبل کی جانب بڑھی، اسے سانس نہیں آ رہا تھا، اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں ، اسے پانی پینا تھا ۔

اس نے بے اختیار گلاس میں پانی بھرا، لیکن ہاتھوں کی کپکی سے وہ چھناک سے نیچے گرتا ٹوٹا اور کانچ فرش پر پھیلتے چلے گئے۔

وہ لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے ہوئی، اس نے اسے کھو دیا، صائم ردا کو ہو گیا، وہ کسی اور کا ہو گیا، پلویشا بالوں کو سختی سے میچ نیچے بیٹھتی چلی گئی اور گہرے گہرے سانس لینے لگی۔

آج صائم شاہ اور پلویشا دائم کی کہانی کا باب ختم ہوا۔) 

صائم جسے پلویشا نے ہی یہاں بلایا تھا کچھ وقت پہلے ، اپنے سامنے کھڑی اس حسین لڑکی کے چہرے سے ایک پل کو نظریں نہیں ہٹا پایا۔

ہمیشہ کی طرح بکھرے بال، آج نفاست سے سیٹ تھے ، زرد چہرہ، آج کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑنے کی طاقت لیے کھڑا تھا، نم آنکھوں میں آج شعلے جیسی لپٹیں تھیں، کپکاتے لب آج قاتلانہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے، ملگجا سا لباس آج دلکش ساڑھی میں بدل چکا تھا، ننگے پاؤں ، اونچی ہیل میں قید تھے، پلویشا دائم کا یہ روپ پہلی بار صائم کے سامنے آیا تھا اور صائم ایک پل کو اس کا یہ روپ دیکھ ساکت ہوا تھا اور اگلے ہی پل ردا کا سوچ اس سے نظریں موڑ گیا ۔ 

اور یہ نظروں کا موڑنا پلویشا کو اندر سے گھائل کر گیا تھا ۔ 

( صائم واقعی وفادار تھا ، مگر ۔۔۔یہ وفاداری میرے لیے کیوں نا تھی ؟؟ ) پلویشا ہلکی مسکراہٹ سے سوچ کر رہ گئی اور اپنے قدم اس کے جانب بڑھائے ۔ 

“شادی کی مبارک ہو “، پلویشا اس کے سامنے ٹہرتے ہوئے بولی ۔ 

” ہممم ” ، صائم نے بس سر ہلا دیا ۔ 

صائم ، اللّٰہ تمہیں اور ردا کو ہمیشہ ایک ساتھ رکھے ، پلویشا نے اسے دیکھتے کہا تو اس کی بات پر صائم کو جھٹکا لگا ، وہ اس یہ بات کر رہی تھی ، 

صائم نے چونک کر پلویشا کو دیکھا جو کہہ رہی تھی ۔۔۔ 

تم لوگ ایک خوشحال زندگی گزارو ، تمہارے دروازے پر صرف خوشیاں ہی دستک دیں ، ایک خوبصورت بیٹا تمہاری زندگی کو مکمل کرے ، خدا تم لوگوں کا ساتھ جنت تک قائم رکھے ۔ 

صائم ہونق بنا اس کی باتیں سنتا رہا ، اس ہرگز امید نہیں تھی کہ پلویشا یہ سب باتیں بولے گی ۔ 

تم ایک اچھے انسان ہو اس بات کا مجھے یقین ہے اور اچھے شوہر بھی بنو گے ، مسقبل میں ایک بہترین باپ بنو گے ، پلویشا مسکرا کر کہتے ہوئے اس تک آئی ۔ 

مگر پلیز تم کھبی مت بھولنا کہ ۔۔۔۔پلویشا جو بول رہی تھی ایک پل کو چپ ہوئی ۔ 

صائم نے بھی سانس روک لیا ، ناجانے پلویشا اب کیا بولے ۔ 

آج پھر پورے چاند کے نیچے وہ دونوں وجود ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے ۔ 

مگر کھبی مت بھولنا کہ ۔۔۔ چٹاخ۔۔۔۔

ایک زناٹے دار تھپر لاہور کی فضا میں گونج کر رہ گیا ۔ 

صائم پھٹی پھٹی آنکھوں سے ایک ہاتھ گال ہر رکھے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا ، جس کی آنکھوں میں شعلے دہک رہے تھے ۔ 

مگر کھبی ۔۔۔بھی ۔۔۔مت بھولنا ۔۔۔۔صائم شاہ ۔۔۔۔کہ تم ایک مرتد ہو ، پلویشا دانت پیستے ایک ایک لفظ پہ زور دیتے ہوئے بولی ۔ 

اس تھپر کی گہری چھاپ ۔۔۔۔تمہیں یاد دلاتی رہے گی ۔۔۔کہ تم ۔۔ایک۔۔۔ مشرک تھے ۔ 

صائم نے غصے سے سرخ ہوتی نظروں سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا ، مٹھیاں سختی سے پیھنچ رکھی تھی ۔ 

 

“Now , enjoy the new chapter of your life..”

 

 پلویشا ایک ادا سے مسکرا کر کہتی پلٹی ، اور قدم شاہ ہاوس کی جانب بڑھائے ۔ 

پلویشا ثپاٹ تاثرات سے آگے بڑھے جا رہی تھی، صائم بھول گیا تھا شاید کہ۔۔۔

وہ پلویشا بنت دائم شاہ تھی۔

ایک سروائور جو پچھلے چودہ سالوں سے سروائو کرتی آرہی تھی۔

ایک اندھیر ماضی کو ہرا کر وہ یہاں آئی تھی۔

اپنے تمام چراغو کو جلا کر ہلکی ڈگمگاتی سی شمع پر بھی اس نے زندگی کے کئی پل جیے تھے۔

جب اتنا کچھ سروائو کر لیا تھا، تو یہ محبت کیا چیز تھی بھلا؟

وہ آگے بڑھے جا رہی تھی، ایک اور باب کو بند کرتے نئے باب کا آغاز کرنے کے لیے ۔ 

کیا تم تیار ہو نئے باب کے لیے ؟ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *