HIDAYAT BY RUKHSAR KHAN EPISODE 2

📖 Genre

Islamic Fiction

Crime Thriller

Psychological Suspense

Mystery

Spiritual Journey

Islamic Romance

Dark-Themed Moral Fiction

✨ Novel Tropes

Grumpy Hero × Gentle Heroine

Light vs Darkness

Hidayat After Misguidance

Broken Hero

Strong Islamic Female Lead

Redemption Arc

Hidden Secrets

Crime & Conspiracy

Faith Over Fear

Soul Healing Through Islam

Enemies of Truth

Mystery of the Past

Emotional Healing

Tawbah and Transformation

Good vs Evil

📚 Novel Description

“ہدایت”

کچھ لوگ گناہوں میں ڈوب جاتے ہیں، اور کچھ لوگ گناہوں سے نفرت کرتے ہوئے بھی اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ مگر جب اللہ کسی بندے کے لیے ہدایت کا دروازہ کھول دیتا ہے تو برسوں کی سیاہی بھی ایک لمحے میں روشنی کے سامنے ماند پڑ جاتی ہے۔

نور ایک باحیا، مضبوط ایمان رکھنے والی لڑکی ہے جو ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتی ہے۔ دوسری طرف ایک ایسا شخص ہے جس کی زندگی جرائم، رازوں اور اندھیروں میں گھری ہوئی ہے۔ اس کی روح زخموں سے چور اور دل سیاہی سے لبریز ہے۔

جب قسمت ان دونوں کے راستے آپس میں ملاتی ہے تو صرف دلوں کی کہانی شروع نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسی آزمائش جنم لیتی ہے جس میں ایمان، صبر، توبہ اور حق و باطل کی جنگ شامل ہے۔

کیا اندھیروں میں گم ہو جانے والا شخص روشنی کا راستہ پا سکے گا؟

اور کیا ہدایت واقعی ہر اس شخص تک پہنچتی ہے جسے اللہ اپنے قریب بلانا چاہے؟

“ہدایت” ایک ایسی داستان ہے جو جرم، راز، محبت، ایمان اور اللہ کی رحمت کے گرد گھومتی ہے، جہاں ہر زخم کے پیچھے ایک راز اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی کا ایک دروازہ موجود ہے۔

Tagline

“ہر سیاہی ہمیشہ نہیں رہتی، کبھی کبھی ایک ہدایت پوری زندگی بدل دیتی ہے۔” ✨📖

باب :2

ہدایت
از قلم رخسار خان

“ہدایت کیا ہے؟
ہدایت قرآن ہے۔
وہ کیسے؟
قرآن ہمیں سیدھا راستہ دکھاتا ہے جو ہمیں زمینی خدا سے مومن بنا دیتا ہے، ہمارا غرور، تکبر سب خاک ہو جاتا ہے اور بچتا کیا ہے، ایک توبہ، وہ بھی سچے دل سے مانگی گئی توبہ۔
اسی کو کہتے ہیں ہدایت۔”
*****


“انٹرویو کے 10 دن بعد”


فجر کے وقت صبح کی نیلگوں روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ وہ کھڑکی کے قریب کھڑی اذان کی آواز اور گھر سے نکلتے چند لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو ہر روز اٹھتے اور نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جاتے تھے۔ فجر کے وقت اتنا سکون ہوتا تھا کہ دل چاہتا تھا یہ وقت یہیں ٹھہر جائے، مگر وقت بھی کبھی ٹھہرتا ہے؟
وہ کریم رنگ کی فل سلیوز گول گلے والی ٹی شرٹ اور لَوَر میں ملبوس تھی۔ ساتھ ایک مرون رنگ کی پشمینہ شال اوڑھے ہوئے تھی اور اس کے بال چوٹیوں میں قید تھے۔ اس نے ایک گہری سانس لی، پاؤں میں آرام دہ سلپرز پہنے اور قدم کمرے سے ملحقہ باتھ روم کی طرف بڑھا دیے۔
اس کا کمرہ بالائی منزل پر موجود تھا۔ اس منزل پر دو بڑے کمرے تھے؛ ایک گیسٹ روم اور دوسرا اس کا اپنا کمرہ۔ وہ ایک کونے والا کمرہ تھا۔ زینے سے لے کر اس کے کمرے کے کونے تک لوہے کی سیاہ باؤنڈری بنی ہوئی تھی۔ اس کے کمرے سے باہر کے مناظر صاف نظر آتے تھے اور بے حد خوبصورت لگتے تھے۔
بالکونی میں آئیں تو اس کے کمرے کی کھڑکی کی بائیں جانب ایک کونے میں لکڑی کا کثیر منزلہ اسٹینڈ رکھا تھا۔ اس اسٹینڈ میں شیلفیں بنی ہوئی تھیں جن پر خوبصورتی اور نفاست سے اوپر نیچے چھوٹے بڑے گملے سجے تھے۔ ان گملوں میں مختلف اقسام کے رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔
وہ وضو والے کپڑے پہن کر باہر آئی، قبلے کی طرف جائے نماز بچھائی اور نیت باندھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی مدھم آواز گونجی:
“اللّٰہُ أَکْبَر”
نماز مکمل کرنے کے بعد اس نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے:
رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
“اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اسلام کی حالت میں وفات دے۔”
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ
“اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں۔”
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
“ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔”
اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا
“اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے، تو ہی اسے بہترین طریقے سے پاک کرنے والا ہے۔”
دعا مانگنے کے بعد اس کے آنسو ٹپ ٹپ گرتے رہے۔ اسے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ کب اس کی آنکھیں بھیگ گئیں اور آنسوؤں نے روانی اختیار کر لی۔
ماضی ایک ایسی سوچ، ایسا درد اور ایسا زخم ہے جو ہمیں کبھی نہیں بھولتا۔ ہم چاہے کتنی ہی کوششیں کر لیں، ماضی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے ماضی کو بھلا دیا ہے، مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہم ماضی کو نہیں بھلاتے بلکہ خود کو مصروف کر لیتے ہیں اور ان سوچوں کو اپنی فکر کا حصہ بننے کا وقت نہیں دیتے۔
مگر ہمارا سب سے بڑا دشمن فراغت ہے۔ ایک فارغ انسان اکثر ان سوچوں کے جال سے نجات حاصل نہیں کر پاتا۔ ہر شخص اپنی زندگی میں کسی نہ کسی طرح گناہوں سے آلودہ رہا ہوتا ہے۔ کوئی بھی انسان ایسا نہیں جس سے زندگی میں کبھی کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔
لیکن جو شخص سچے دل سے توبہ کر لے اور پختہ ارادہ کرے کہ دوبارہ اس گناہ کی طرف نہیں لوٹے گا، اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کو آسان اور پُرسکون بنا دیتا ہے۔ آپ اپنے اعمال درست کریں، کیونکہ اگر آپ کے اعمال نیک ہوں تو آپ ہمیشہ قلبی سکون محسوس کریں گے۔
******

رات کے سائے گہرے ہو چکے تھے جب وہ قصرِ ابراہیم، سفید محل میں داخل ہوا۔ اُس نے ایک دائرانہ نظر گھر پر ڈالی۔ سارا قصر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، جبکہ راہداری اور سِٹنگ ایریا کا نائٹ بلب اپنی زرد روشنی پھیلائے ہوئے تھا۔

اُس نے اپنے قدم سِٹنگ ایریا کی طرف بڑھائے۔ اُس نے دیکھا کہ صوفے پر اُس کے دونوں بھائی بہن دراز تھے۔ اُس نے گلا کھنکارا اور مخاطب ہوا:

“لائل، ارسلان! کیا تم دونوں کو وقت کا اندازہ نہیں؟ کتنا وقت ہو رہا ہے۔ جا کر سو جاؤ دونوں۔ اور تم ارسلان، تمہاری تو کل یونیورسٹی کھل رہی ہے، جانا نہیں کیا؟ یہ لیپ ٹاپ رکھو اور سو جاؤ۔”

اُس نے اُن دونوں کو سخت لہجے میں ہدایت دیتے ہوئے کہا۔

“بھائی! آپ کا لیکچر میرے چشمیش سر سے بھی زیادہ لمبا ہوتا ہے۔ شکر ہے آپ میرے سر نہیں، ورنہ معلوم نہیں یونیورسٹی میں زلزلہ آ جاتا۔”

وہ بے انتہا ڈھیٹ اور خود پسند تھا۔ سُننا اُس نے کسی کی بات ماننی ہی کب تھی۔ اُس نے بتیسی دکھائی اور لیپ ٹاپ بند کر کے بیگ میں رکھ لیا۔

“ہاں، بالکل صحیح کہا۔ اگر میں تمہارا سر ہوتا تو تم ڈھیٹ ابنِ ڈھیٹ نہ ہوتے۔”

اُس نے بھی سُود سمیت اُس کی بات کا جواب دیا۔

“ارے! کیا آپ دونوں ہر وقت لڑتے رہتے ہیں؟ مجھے نوٹس بنانے نہیں دیتے۔ ہر جگہ شور مچاتے ہیں، جہاں بھی میں بیٹھ جاؤں۔”

اُس نے کچھ جھنجھلاہٹ کے عالم میں لیپ ٹاپ بند کیا اور بیگ میں رکھ لیا۔

“ارے ارے!”

اُن دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
“کیا ہوا ہے میری شیرنی جیسی بہن کو؟”

بربل نے اُس کو کندھوں سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا اور پریشانی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

“بھائی! پرسوں میری فلائٹ ہے اور مجھے پڑھائی کے لیے واپس انگلینڈ جانا ہے۔ چھٹیاں ختم ہو گئی ہیں، اور میرے تھوڑے نوٹس بھی بنانے رہتے ہیں۔ میرا بالکل دل نہیں کر رہا کچھ بھی کرنے کا۔”

اُس نے بے رُخے انداز میں کہا۔

“ارے! یہ کیا بات ہوئی؟ چلو خیر، چھوڑو۔ کل ہم ریسٹورنٹ چلیں گے، فیملی ڈنر کرنے۔ اور زیادہ ٹینشن مت لو، سب ہو جائے گا اِن شاء اللہ۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ بس تم پریشان مت ہونا، تم میری شیرنی ہو لائل۔”

بربل نے اُس کی چھوٹی ناک کھینچتے ہوئے کہا۔

“اللہ بھائی! چھوڑیں میری ناک، دُکھ ہو رہا ہے۔”

اُس نے بربل کا ہاتھ ہٹایا اور وہ تینوں ایک ساتھ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔

“بھائی! میں نے آپ کا ڈنر ڈائننگ ٹیبل پر رکھ دیا ہے۔ اب آپ جا کر کھا لیں۔ ارسلان بھی آپ کے ساتھ کھائے گا کیونکہ ارسلان بھائی آپ کا انتظار کر رہے تھے۔”

اُس نے مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہوئے لیپ ٹاپ کمرے کے ایک کونے میں رکھی میز پر رکھا اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔

ارسلان اور بربل دونوں مسکرا دیے۔ اب اُن دونوں کے قدم ڈائننگ روم کی طرف تھے۔

*****

وہ ایک سیاہ کھنڈر معلوم پڑتا تھا، اُس ویران کالونی میں جہاں سارے گھر کسی بھوتیا کہانی کا حصہ معلوم ہوتے تھے۔ انہی میں سے ایک سیاہ کھنڈر نما پیلس تھا، جس کی دیواریں بلند و قامت تھیں۔

اُسی پیلس کے ایک کمرے پر نظر ڈالیں تو وہاں زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ دیواروں پر بڑی بڑی اسکرینیں اور جا بجا تصویریں آویزاں تھیں، جن پر سرخ لکیریں کھینچی گئی تھیں، جبکہ بعض تصاویر پر سرخ کراس بنا ہوا تھا۔

اُن ہی میں سے ایک دیوار کے سامنے سیاہ ہوڈی اور سیاہ لَوَر میں ملبوس ایک آدمی کھڑا تھا۔ اُس کی چوڑی پشت اور کسرتی بازو ہوڈی میں نمایاں ہو رہے تھے۔ سر پر سیاہ ہوڈی کی کیپ تھی، جس کی وجہ سے اُس کا چہرہ نظر نہ آنے والی حد تک چھپا ہوا تھا۔

اُس نے دو شیشے میں جڑی ہوئی تصاویر کو دیکھا۔ ایک بیس سالہ نوجوان کی، جس کی سرمئی آنکھیں تھیں، اور دوسری ایک نہایت خوبصورت، ماڈل جیسے چہرے والی لڑکی کی تصویر تھی۔

اُس نے اپنی گوری جلد والی انگشتِ شہادت لڑکی کی تصویر پر پھیرتے ہوئے کہا:

“ڈارلنگ، تم بہت معصوم ہو، مگر معذرت… میں ایک بے رحم بھیڑیا ہوں۔ ایسا بھیڑیا جس کی نظر ایک بار اپنے شکار پر جم جائے تو پھر کوئی شخص اُس کی نظریں اُس شکار سے ہٹا نہیں سکتا۔”

اُس کی سرد بھری مردانہ آواز اُس کھنڈر نما پیلس میں گونجی۔

“جسٹ ویٹ اینڈ واچ، پینتھر…”

اُس کے ہونٹوں پر ایک ٹیڑھی، شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔ زرد روشنی میں اُس کی رنگ فنگر میں پہنی ہوئی چاندی کی چمک دار انگوٹھی نمایاں تھی، جس پر بڑے حروف میں درج تھا:

Q.A

*******

وہ صبح سُرمئی بادلوں کی چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔ مدھم ہوا چلتے پھرتے لوگوں کے بالوں سے کھیلتی ہوئی گزر رہی تھی۔

اس نے سفید لانگ کوٹ، کریم رنگ کا ہائی نیک، سفید پینٹس اور نوکیلی سفید ہیلز پہن رکھی تھیں۔ سر پر سفید حجاب بندھا تھا جبکہ آنکھوں پر سیاہ چشمہ سجا تھا۔ وہ بے حد جاذبِ نظر لگ رہی تھی۔ اس کا گورا چہرہ ہر قسم کی آرائش سے بے نیاز اپنی فطری دلکشی میں مکمل تھا۔

اس نے آخری بار اپنے دونوں بھائیوں اور والدین پر نظر ڈالی اور پھر اپنے قدم ائیرپورٹ پر کھڑے جہازوں کی جانب بڑھا دیے۔

جہاز میں آ کر وہ اپنی کھڑکی والی نشست پر بیٹھ گئی اور سامان اوپر بنی شیلف میں رکھ دیا۔ ایک گہری سانس لے کر اس نے خود کو پُرسکون کرنے کی کوشش کی۔

چند لمحوں بعد اس کے برابر والی نشست پر ایک شخص آ کر بیٹھ گیا۔ گوری رنگت، چہرے پر سیاہ ماسک، سیاہ لیدر جیکٹ، سیاہ پینٹ اور بوٹ۔ گہرے بھورے، ریشمی اور ہلکے گھنگریالے بال دو انچ لمبی پونی میں بندھے ہوئے تھے۔

اس نے اجنبی نوجوان پر ایک سرسری نظر ڈالی اور پھر اپنے ساتھ لائی ہوئی کتاب ’’دی آرٹ آف بِیئنگ الون‘‘ کھول کر مطالعے میں مصروف ہو گئی۔

کچھ ہی دیر بعد جہاز کے روانہ ہونے کا اعلان ہوا مگر وہ بدستور پُرسکون بیٹھی رہی۔

دوسری جانب ائیرپورٹ پر کھڑے بربل، ارسلان، ابراہیم اور مسز ابراہیم بھی اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔

مگر یہ لمحے ان کی بیٹی پر کتنے بھاری گزرنے والے تھے، اس کا فیصلہ صرف آنے والا وقت ہی کر سکتا تھا۔

اس کی آنکھ الارم کی آواز پر کھلی۔ گھڑی میں صبح کے پانچ بج رہے تھے۔

وہ بستر سے اٹھی، قریب پڑی شال اپنے کندھوں پر پھیلائی اور غسل خانے کی طرف بڑھ گئی۔

نماز سے فارغ ہو کر وہ سیدھا باورچی خانے میں آئی۔

سفید دیواریں، گرے رنگ کی الماریاں، درمیان میں سیاہ سلَیب اور اس کے ساتھ جڑا چولہا۔ اوپر اوون اور ضرورت کا دیگر سامان ترتیب سے رکھا تھا۔

اس نے ریفریجریٹر کا رخ کیا۔ سیاہ فرشی شلوار قمیص زیب تن تھی جبکہ دوپٹہ سلیقے سے سر پر اوڑھا ہوا تھا۔ کانوں میں جگمگاتے باریک ہیروں کے ٹاپس اس کی نفاست کا پتا دے رہے تھے۔

اچانک باہر کڑکتی ہوئی بجلی کی آواز گونجی۔ ایک لمحے کو وہ چونک اٹھی مگر فوراً خود کو سنبھال لیا۔

اس نے پالک، آلو اور پیاز نکال کر دھوئے، باریک کاٹے اور بیسن، نمک اور دیگر مصالحوں کے ساتھ ملا کر پکوڑوں کا آمیزہ تیار کر لیا۔

چاندی رنگ کی کڑاہی میں تیل گرم ہو چکا تھا۔ اس نے آمیزے کو تھوڑا تھوڑا کر کے تیل میں ڈالنا شروع کیا جبکہ دوسرے چولہے پر چائے پک رہی تھی۔

ناشتہ تیار ہونے کے بعد وہ کشادہ ڈائننگ روم میں آئی اور میز سجا دی۔ پھر کھڑکی کے پٹ وا کر دیے۔

سب سے پہلے اس نے ڈائننگ روم سے ملحق نذرین بیگم کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

مدھم روشنی میں نذرین بیگم اپنے بستر پر بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھیں۔

’’امی، ناشتہ تیار ہے۔ ڈائننگ روم میں آ جائیے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ آخری کمرے کی طرف بڑھی، دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہو گئی۔ بتی جلا کر دونوں کو ناشتے پر آنے کا کہہ کر واپس آ گئی۔

اب ڈائننگ روم میں چاروں افراد موجود تھے۔ کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا نے کمرے کا درجۂ حرارت مزید خوشگوار بنا دیا تھا۔

’’فاطمہ، ذرا کھڑکی بند کر دو، کمرہ کچھ زیادہ ہی ٹھنڈا ہو گیا ہے۔‘‘

’’رہنے دو، میں کر دیتا ہوں۔‘‘

حمدان نے اٹھ کر کھڑکی کے پٹ بند کیے، پردے درست کیے اور واپس آ کر کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

چند ہی لمحوں بعد قہقہوں اور خوش گپیوں کے درمیان ناشتہ مکمل ہو گیا۔

آج نور کے دفتر اور فاطمہ و ارسلان کی یونیورسٹی، دونوں کی چھٹی تھی، اسی لیے کافی عرصے بعد سب سکون سے ایک ساتھ ناشتہ کر رہے تھے۔

*******


ہلکی دھوپ میں University of Oxford کا ماحول کچھ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے اپنی رفتار دھیمی کر دی ہو۔ پرانی سنگِ مرمر اور شہد رنگ پتھروں سے بنی عمارتیں دھوپ کی نرم کرنوں میں سنہری سی چمک رہی تھیں۔ بلند میناریں اور قدیم دروازے صدیوں پرانی کہانیاں اپنے سینے میں چھپائے خاموش کھڑے تھے۔
تنگ پتھریلی گلیوں پر دھوپ درختوں کی شاخوں سے چھن کر گرتی تھی، جہاں زمین پر روشنی اور سائے کے نازک نقش بکھرے نظر آتے تھے۔ دور کہیں گرجے کی گھنٹیوں کی مدھم آواز ہوا میں گھل کر ایک پُراسرار سکون پیدا کرتی تھی۔ ہوا میں پرانی کتابوں، نمی زدہ پتھروں اور ہرے بھرے لانز کی ملی جلی خوشبو بسی رہتی تھی۔
اس نے اپنے قدم اندر بڑھائے جہاں گارڈز نے شناختی کارڈ دیکھ کر اندر داخل ہونے کی اجازت دی۔ طلبہ کتابوں کے بیگ شانوں پر ڈالے سیاہ کپڑوں میں ملبوس گفتگو کرتے ماحول کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔ اس نے ایک گہری سانس بھری اور اپنے قدم دوسری منزل کی جانب جاتی سیڑھیوں پر رکھے۔ اپنی کلاس کے سامنے رک کر اس نے قدم کلاس میں بڑھائے۔
ایک خوبصورت سیاہ کوٹ پینٹ پہنے، سفید ڈریس شرٹ کے ساتھ سیاہ پوائنٹڈ ہیلز زیبِ تن کیے اور بالوں کا میسی بن بنائے ایک دلکش میڈم نے اسے مسکرا کر دیکھا اور اپنی زبان میں اس کا خیر مقدم کیا۔
ساری کلاس میں اس کی صرف ایک ہی دوست تھی، علینہ ولیمز۔ وہ ایک خوبصورت اور یتیم لڑکی تھی۔ پھر ان دونوں کی تھوڑی تھوڑی باتیں کب طویل گفتگو میں بدل گئیں، انہیں معلوم نہ ہو سکا۔
تمام لڑکے اور لڑکیاں اسے دیکھ رہے تھے۔ اس نے ایک نظر سب پر ڈالی اور اپنے قدم سب سے آخر میں بیٹھی علینہ کی طرف بڑھا دیے۔ اس کے برابر میں رکھی لکڑی کی کرسی پر وہ دراز ہوئی اور اپنا سیاہ بیگ کرسی کی پشت پر ٹانگ دیا۔ پھر وہ دونوں انگریزی زبان میں باتیں کرنے لگیں۔
اسے اپنے اوپر نظروں کا حصار محسوس ہوا مگر اس نے زیادہ غور نہ کیا۔ مگر اسے کیا معلوم تھا کہ کوئی شکاری اسے اپنا شکار بنانے کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔
وہ تو مضبوط، خود سے محبت کرنے والی، اور اپنی فیملی کے لیے اپنے دشمن کو جہنم تک پہنچا دینے والی ایک دلیر لڑکی تھی۔

******

وہ رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف کچن میں تھی جب گھبرائی ہوئی فاطمہ تیزی سے کچن میں داخل ہوئی۔ وہ ہلکے بھورے عبایے کے ساتھ کریم رنگ حجاب اور نقاب اوڑھے ہوئے تھی جبکہ پاؤں میں سفید جوتے تھے۔ فاطمہ نے پانی پینے کی غرض سے اپنا نقاب اتارا تو نور نے اسے غور سے دیکھا اور پریشانی سے پوچھا:
“کیا ہوا فاطمہ؟ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ اگر کچھ ہوا ہے تو مجھے بتاؤ۔”
“آپی… آپ وعدہ کریں امی کو نہیں بتائیں گی۔”
اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ نور کی پیشانی پر فکر کی شکنیں ابھر آئیں۔
“پہلے مجھے بتاؤ تو سہی کیا ہوا ہے، تب ہی تو کوئی حل نکال سکوں گی۔”
“وہ… وہ…”
فاطمہ ہچکیوں سے رونے لگی۔ نور نے اس کے کندھے تھام کر قدرے سخت لہجے میں کہا:
“فاطمہ! مجھے بتاؤ۔”
فاطمہ نے روتے ہوئے کہنا شروع کیا:
“آپی… وہ جو گلی کے کونے پر گھر ہے نا، فربہ آنٹی کا… ان کے بیٹے فواد نے میرا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تھی، اور میں بھاگتی ہوئی گھر آ گئی۔”
کچن کے دروازے پر کھڑے حمدان کی آنکھیں یہ سنتے ہی سرخ انگاروں کی مانند دہک اٹھیں۔ وہ ایک لفظ کہے بغیر مڑا اور مرکزی دروازے سے باہر نکل گیا۔
نور کی آنکھوں میں بھی غصہ لہرا گیا، مگر اس نے خود کو قابو میں رکھتے ہوئے کہا:
“تم جاؤ اور جا کر فریش ہو جاؤ۔ اس کو تو میں سمجھاتی ہوں کہ کسی لڑکی کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔”
وہ حمدان کے کمرے کی طرف گئی مگر دروازہ کھولنے پر کمرہ خالی ملا۔
“یہ کہاں چلا گیا؟”
ادھر حمدان گلی کے کونے والے گھر کی گھنٹی بجا رہا تھا۔
وہ سب انہیں فربہ آنٹی کہتے تھے۔ وہ خوش اخلاق اور ملنسار خاتون تھیں، جو ہر ایک سے خندہ پیشانی کے ساتھ بات کیا کرتی تھیں۔
چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور تقریباً بیس سالہ ایک دبلا پتلا نوجوان نمودار ہوا۔ اس نے سیاہ کرتا پاجامہ پہن رکھا تھا اور پاؤں میں آرام دہ چپلیں تھیں۔
وہ حیرت سے حمدان کو دیکھ ہی رہا تھا کہ حمدان نے یک دم آگے بڑھ کر اسے زور دار مکا مار دیا۔ فواد سنبھل نہ سکا اور زمین پر جا گرا۔
حمدان نے اس کا گریبان پکڑا اور تقریباً گھسیٹتے ہوئے اسے اپنے گھر لے آیا، جہاں صحن میں نور اور فاطمہ بیٹھی بات کر رہی تھیں۔
فاطمہ نے اسے دیکھا تو سہم گئی جبکہ نور نے ایک لمحے میں سارا معاملہ سمجھ لیا۔
حمدان نے اسے فاطمہ کے سامنے لا کھڑا کیا۔
نور نے فخر بھری نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا۔ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ حمدان کس لیے گیا تھا، اسی لیے وہ اب نسبتاً پرسکون تھی۔
“اس کے منہ پر اتنے تھپڑ ماروں کہ آئندہ کسی کی بہن یا بیٹی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کے قابل نہ رہے۔”
فاطمہ نے گھبرائے ہوئے انداز میں نفی میں سر ہلایا، مگر نور نے اسے ناراضی بھری نظروں سے دیکھا۔
فواد شرمندگی اور خوف کے عالم میں سر جھکائے کھڑا تھا۔
کچھ دیر بعد حمدان اسے واپس اس کے گھر لے گیا۔
دروازہ کھلنے پر فربہ آنٹی سامنے آئیں۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی بگڑی ہوئی حالت دیکھ کر ان کے منہ سے بے اختیار آہ نکل گئی اور انہوں نے ہاتھ منہ پر رکھ لیا۔
حمدان نے مضبوط لہجے میں کہا:
“آپ کا یہ بیٹا میری بہن کو تنگ کر رہا تھا۔ اور آپ جانتی ہیں کہ عزت کے معاملے میں میں کسی کا دوست یا رشتہ دار نہیں بنتا۔ اسے سمجھا دیجیے کہ آئندہ کسی کی بہن یا بیٹی کی طرف بری نظر سے نہ دیکھے۔
ایسے لوگوں کی وجہ سے ہماری مائیں اور بہنیں گھر سے باہر نکلنے میں خوف محسوس کرتی ہیں۔ لیکن میری بڑی بہن نور نے مجھے سکھایا ہے کہ جو تمہاری عزت پر وار کرے، اسے اس کے عمل کا نتیجہ ضرور دکھاؤ۔
میں آج صرف خبردار کر رہا ہوں۔ آئندہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔”
یہ کہہ کر وہ مڑا اور گلی کی طرف بڑھتا چلا گیا۔
فربہ آنٹی خاموش کھڑی اپنے بیٹے کو دیکھتی رہ گئیں جبکہ رات کی خاموشی آہستہ آہستہ پورے محلے پر اترنے لگی۔
نور ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ بیٹیوں کی بات سننا اور ان پر یقین کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ جب گھر والے اپنی بیٹیوں کا ساتھ دیتے ہیں تو ظلم کرنے والوں کے حوصلے خود بخود ٹوٹ جاتے ہیں، اور معاشرہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ محسوس ہونے لگتا ہے۔

******

آکسفورڈ یونیورسٹی سے چند قدم کے فاصلے پر واقع دی گرینڈ کیفے اپنی تاریخی عظمت اور پُرشکوہ فضا کے باعث شہر بھر میں شہرت رکھتا تھا۔ صدیوں پرانی اس عمارت میں داخل ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی حال سے نکل کر ماضی کے کسی سنہرے باب میں جا پہنچا ہو۔

بلند و بالا چھتوں سے آویزاں کرسٹل کے جھومر سنہری روشنی بکھیر رہے تھے، جبکہ گہرے رنگ کی لکڑی سے بنی میزیں اور مخملی نشستیں اس جگہ کو شاہانہ وقار عطا کر رہی تھیں۔ تازہ پیسی ہوئی کافی کی خوشبو فضا میں رچی ہوئی تھی اور پس منظر میں بجتی مدھم کلاسیکل موسیقی ماحول کو مزید دلنشیں بنا رہی تھی۔

وہ کیفے کے نسبتاً پرسکون گوشے میں واقع ایک میز پر بیٹھی تھی۔ یہ جگہ ہمیشہ سے اس کی پسندیدہ رہی تھی؛ ایسی جہاں بیٹھ کر وہ لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو تنہا محسوس کر سکتی تھی۔

ویٹر کے سامنے آتے ہی اس نے حسبِ معمول ایک گرم کیفے لاٹے کا آرڈر دیا۔ چند لمحوں بعد سفید پورسلین کے کپ سے اٹھتی خوشبودار بھاپ اس کے چہرے سے ٹکرائی تو اس کے لبوں پر بےاختیار ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔

اس نے کپ دونوں ہاتھوں میں تھاما اور ایک چھوٹا سا گھونٹ لیا۔ دودھ، کریم اور کافی کا نرم و ملائم امتزاج حلق سے اترتا چلا گیا اور اس کے وجود میں ایک مانوس سی تازگی گھل گئی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بےشمار اقسام کی کافی آزمانے کے باوجود اس کا دل آخرکار کیفے لاٹے پر آ کر ٹھہر گیا تھا۔

مگر آج کچھ مختلف تھا۔

اچانک اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی کی نظریں خاموشی سے اس کا تعاقب کر رہی ہوں۔ اس نے بےاختیار گردن موڑ کر اطراف کا جائزہ لیا، مگر ہر شخص اپنی ہی دنیا میں مگن دکھائی دیا۔ کسی کی نظریں اس پر نہیں تھیں۔

اس نے آہستگی سے سانس خارج کی اور خود کو وہم کا شکار قرار دے کر دوبارہ کپ کی طرف متوجہ ہو گئی۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ زندگی بعض اوقات انسان کے لیے ایسے موڑ سنبھال کر رکھتی ہے جن کا گمان بھی ممکن نہیں ہوتا۔

اور آج کا دن لائل ابراہیم خان کی زندگی میں ایسا ہی ایک موڑ ثابت ہونے والا تھا۔

******

وہ دونوں دفتر کے ایک گوشے میں رکھے ہوئے نفیس سوفا سیٹ پر موجود تھے۔

برہان ابراہیم خان کا دفتر اپنی پُرشکوہ سادگی کے باعث دیکھنے والے پر گہرا تاثر چھوڑتا تھا۔ سیاہ اور سفید رنگ کے امتزاج سے سجی دیواریں ایک منفرد وقار کی عکاسی کر رہی تھیں۔ ایک دیوار مکمل سفید تھی، جبکہ دوسری دیوار پر سیاہ و سفید نقش و نگار جدید طرزِ تعمیر کا احساس دلا رہے تھے۔

کمرے کے وسط سے قدرے ہٹ کر گہرے بھورے رنگ کی پالش شدہ ایل شیپ میز رکھی ہوئی تھی۔ میز کے ایک کونے پر سفید گلدان میں سیاہ اور سفید گلاب سجے ہوئے تھے۔ اس کے عقب میں رکھی ایگزیکٹو چیئر اور قریب موجود کوٹ اسٹینڈ ماحول میں ایک باوقار سنجیدگی پیدا کر رہے تھے۔ چھت میں نصب زرد روشنیوں کی مدھم چمک دفتر کو شاہانہ انداز بخش رہی تھی۔

ہیٹر کی خوشگوار حدت نے سرد موسم کے اثرات کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔ شیشے کی بڑی کھڑکیاں بند تھیں اور ان کے اطراف سیاہ پردے نہایت ترتیب سے لٹک رہے تھے۔

سوفے پر بیٹھا برہان ابراہیم خان حسبِ معمول بے حد پُروقار دکھائی دے رہا تھا۔ کریم رنگ کی پینٹ اور ہلکے رنگ کے سویٹر کے اندر سے جھانکتے سفید کالر اس کی شخصیت میں مزید نفاست پیدا کر رہے تھے۔ کمر پر بندھی سفید بیلٹ پر نمایاں برانڈ کا لوگو اور پاؤں میں پہنے مہنگے سفید بوٹس اس کے اولڈ منی انداز کی عکاسی کر رہے تھے۔ کلائی پر بندھی ونٹیج گھڑی شام کے سات بجنے کا اعلان کر رہی تھی۔

تاہم اس کی اصل کشش اس کے لباس میں نہیں، بلکہ اس کی شخصیت میں تھی۔

گہری سیاہ آنکھیں، گھنی بھنویں، لمبی پلکیں اور متناسب نقوش اسے غیر معمولی وجاہت عطا کرتے تھے۔ شہر کی نامور ماڈلز اور اداکارائیں اس کی ایک جھلک کی خواہش مند تھیں، مگر وہ ان سب چیزوں سے بے نیاز دکھائی دیتا تھا۔ گویا اس کی زندگی میں کام کے سوا کسی اور چیز کی گنجائش ہی نہ ہو۔

اس وقت بھی اس کی تمام تر توجہ اپنے سامنے بیٹھی لڑکی پر مرکوز تھی۔

ہلکے آسمانی رنگ کے سعودی عبائے، سفید حجاب اور نقاب میں ملبوس وہ لڑکی نہایت سنجیدہ انداز میں اس کی بات سن رہی تھی۔ کلائی پر سنہری گھڑی اور پاؤں میں سفید بلاک ہیلز اس کی سادہ مگر نفیس شخصیت کی عکاسی کر رہی تھیں۔

“کیا آپ اس ڈیزائن کو مزید بہتر انداز میں تیار کر سکتی ہیں؟ آپ نے بتایا تھا کہ آپ آرکیٹیکچرل ڈرائنگ میں مہارت رکھتی ہیں۔”

برہان نے اپنی مخصوص سنجیدہ آواز میں پوچھا۔

“جی، کر سکتی ہوں۔” اس نے فائل کا جائزہ لیتے ہوئے جواب دیا۔ “اس عمارت کے ڈیزائن میں صرف پارکنگ ایریا اور چند جدید آرکیٹیکچرل عناصر کی کمی ہے۔ میں ان پر کام کر سکتی ہوں، البتہ کچھ وقت درکار ہوگا۔ ان شاء اللہ کل تک ڈیزائن تیار ہو جائے گا۔”

“بہت اچھا۔ پھر کل یہ لازماً مجھے دے دیجیے گا۔ یہ منصوبہ جلد از جلد مالک تک پہنچانا ضروری ہے۔”

برہان نے کہتے ہوئے اپنا رخ میز کی جانب موڑ لیا۔ وہ اپنی چیئر پر بیٹھا، لیپ ٹاپ کھولا اور نامکمل دستاویز پر دوبارہ کام شروع کر دیا۔

وہ خاموشی سے اٹھی اور دفتر کے دروازے کی جانب بڑھ گئی۔

آج شہناز بنگش چھٹی پر تھی، اس لیے تمام ذمہ داری اسے خود نبھانی پڑ رہی تھی۔ اس نے ہلکی سی تھکی ہوئی سانس خارج کی۔ اسے اس کمپنی میں کام کرتے ہوئے تقریباً ایک ماہ مکمل ہونے کو تھا، اور اگلے مہینے کی چھ تاریخ کو اسے اپنی پہلی تنخواہ ملنے والی تھی۔

دفتر سے نکلنے سے قبل اس نے ایک نظر پلٹ کر اندر دیکھا۔

کمپنی کے سی ای او، برہان ابراہیم خان، حسبِ معمول اپنے کام میں مگن تھے۔

ویسے بھی اس کا سامنا ان سے بہت کم ہی ہوتا تھا۔

*******


وہ دفتر سے واپس آیا تو راہداری میں بچھے گہرے سرخ قالین پر خاموش قدموں سے چلتا ہوا سنگِ مرمر کی سیڑھیاں چڑھ گیا۔ اوپر کی راہداری حسبِ معمول خاموشی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ وہ چلتے چلتے آخری کمرے کے سامنے رکا، جیب سے چابی نکالی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔

کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر دیوار پر لگا سوئچ آن کیا تو چھت میں نصب لائٹس سے پھوٹتی زرد روشنی پورے کمرے میں پھیل گئی۔ اس نے اپنے بازو پر پڑا سیاہ کوٹ اتار کر بستر پر ڈال دیا، کلائی سے گھڑی اور کف لنکس اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے اور ایک لمحے کے لیے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا۔

سیاہ پینٹ کے ساتھ سفید ڈریس شرٹ اس کے مضبوط وجود پر جچ رہی تھی۔ کالر کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے اور سرخ ٹائی کی گرہ ڈھیلی پڑ چکی تھی۔ سیاہ بال بے ترتیبی سے پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے جبکہ تیز و تراشیدہ نقوش والے چہرے پر دن بھر کی تھکن کی ہلکی سی پرچھائیں دکھائی دے رہی تھی۔

وہ خاموشی سے باتھ روم کی طرف بڑھ گیا۔

اس کا کمرہ اس کی شخصیت کی طرح سادہ مگر پرشکوہ تھا۔ سیاہ اور سفید رنگوں کے حسین امتزاج نے اسے ایک منفرد وقار بخش رکھا تھا۔ دائیں اور بائیں دیواریں سیاہ رنگ کی تھیں جن پر سفید فریموں میں آویزاں تصاویر نمایاں تھیں۔ درمیان میں رکھا کنگ سائز بیڈ نفاست کی علامت تھا، جس کا خوبصورت سیاہ ہیڈ بورڈ دیوار کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔

بیڈ کے عقب کی دیوار سفید تھی جس پر ایک بڑی سی سیاہ BMW کی تصویر آویزاں تھی۔ سامنے والی سفید دیوار پر سیاہ فریموں میں مختلف انگریزی اقوال تحریر تھے۔ ایک کونے میں سیاہ رنگ کی اسٹڈی ٹیبل رکھی تھی، جس کے اوپر نصب بُک شیلف میں بے شمار کتابیں انتہائی ترتیب سے سجی ہوئی تھیں۔

یہ کمرہ محض ایک کمرہ نہیں تھا بلکہ اس کے مزاج کا عکس تھا۔

اسے زندگی میں صرف دو رنگ پسند تھے؛ سیاہ اور سفید۔

وہ اکثر کہا کرتا تھا کہ ہر انسان کے اندر ایک تاریکی موجود ہوتی ہے، اور وہی تاریکی اس کا نفس ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس پر قابو پا لیتے ہیں اور کچھ اسی کے غلام بن جاتے ہیں۔

تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہو کر باتھ روم سے باہر آیا۔ سفید ٹراؤزر اور سفید ٹی شرٹ میں ملبوس اس کا سراپا غیر معمولی طور پر پُروقار لگ رہا تھا۔ گیلے سیاہ بالوں سے ٹپکتے پانی کے قطرے پیشانی سے پھسلتے ہوئے اس کے چہرے پر بکھر رہے تھے۔

اس نے کندھے پر رکھے سفید تولیے سے بال خشک کیے، پھر برش کی مدد سے انہیں ترتیب دیا۔ کمرے کا ہیٹر آن کرنے کے بعد وہ سکون سے بستر پر دراز ہوگیا۔

آنکھیں بند کیے ابھی بمشکل پانچ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ اچانک موبائل فون سے پیغام موصول ہونے کی آواز ابھری اور خاموشی کو چیر گئی۔

اس نے آہستگی سے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایا۔

واٹس ایپ پر ایک نامعلوم نمبر سے پیغام آیا تھا۔

اس کی بھنویں ہلکی سی سکڑ گئیں۔ دل میں انجانی تشویش نے سر اٹھایا۔ چند لمحوں تک وہ اس نمبر کو دیکھتا رہا، پھر آخرکار اس نے میسج کھول لیا۔

اسکرین پر ابھرنے والے الفاظ دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں سختی اتر آئی۔

چہرے سے ساری تھکن یکسر غائب ہوگئی۔

پیغام مختصر تھا، مگر اس کے اثرات نہایت ہولناک تھے۔

کسی معصوم زندگی پر ایک بار پھر خطرہ منڈلا رہا تھا۔

کچھ درندے اپنی درندگی کی بھوک مٹانے کے لیے دوبارہ شکار کی تلاش میں نکل چکے تھے…

اور شاید اس بار وقت بہت کم تھا۔

******

دی گرینڈ کیفے سے نکلنے کے بعد اس نے کافی کا بل ادا کیا اور باہر آ گئی۔ شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ اپنے کرائے کے گھر جانے کے لیے اس نے ایک ٹیکسی بک کی، کیونکہ اس کا گھر وہاں سے تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع تھا۔

وہ سڑک کے کنارے رکھے سیاہ لوہے کے بنچ پر جا بیٹھی۔ آج وہ سیاہ کورڈ سیٹ کے اوپر سفید لانگ کوٹ پہنے ہوئے تھی۔ آسمان سے ہلکی ہلکی برف باری شروع ہو چکی تھی۔

تبھی ایک سفید رنگ کی ٹیکسی آ کر اس کے قریب رکی۔ وہ پچھلی نشست کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔ اس نے سرسری سی نظر ڈرائیونگ سیٹ پر ڈالی، جہاں سیاہ لباس میں ملبوس اور چہرے پر ماسک لگائے ایک ڈرائیور موجود تھا۔ ایک لمحے کو اسے کچھ مشکوک سا محسوس ہوا، مگر فون میں بکنگ کی تفصیلات چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ ٹیکسی وہی تھی۔

اس نے زیادہ غور کیے بغیر اسے انگریزی زبان میں چلنے کا کہا۔ گاڑی اس کے گھر جانے والی سڑک پر رواں ہو گئی۔

چند دیر بعد اس نے کھڑکی سے باہر نظر ڈالی تو اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ باہر کا منظر اس کے لیے اجنبی تھا۔ چاروں طرف بلند و بالا، شکستہ اور ویران عمارتیں کھڑی تھیں۔

ایک انجانے خوف نے اسے آ گھیر لیا۔

“گاڑی روکو!”

اس نے بلند آواز میں کہا، مگر گویا ڈرائیور نے سنا ہی نہ ہو۔

اس بار اس نے پوری قوت جمع کر کے دوبارہ کہا، مگر کوئی جواب نہ ملا۔

خوف اب اس کے وجود میں سرایت کر چکا تھا۔

چند لمحوں بعد گاڑی بے قابو ہو کر جھٹکے کھانے لگی اور ایک پرانی، ویران حویلی کے قریب جا رکی۔

لائل نے فوراً دروازہ کھولا اور پوری رفتار سے بھاگنے لگی۔

مگر وہ شخص بھی گاڑی سے نکل کر اس کے تعاقب میں دوڑ پڑا۔

ویران کھنڈرات اور سرد ہوا کے درمیان وہ جان بچانے کی کوشش میں مسلسل بھاگ رہی تھی۔ سانس پھول چکی تھی، مگر خوف اسے رکنے نہیں دے رہا تھا۔

آخرکار وہ ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔

تبھی اسے اپنے قریب کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔

اس نے چونک کر دائیں جانب دیکھا۔

ایک سرد دھاتی شے اس کے سر کے قریب تھی۔

سامنے کھڑے نقاب پوش شخص نے آہستہ سے اپنا ماسک نیچے کیا۔

گھپ اندھیرے میں صرف اس کی جھیل سی نیلی آنکھیں نمایاں تھیں۔

“اگر اس بار تم نے بھاگنے کی کوشش کی تو انجام اچھا نہیں ہوگا۔”

اس کی سرد اور سپاٹ آواز سنائی دی۔

مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے سامنے کھڑی پانچ فٹ سات انچ کی لڑکی ذرا بھی خوفزدہ نہیں تھی۔

اس نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹایا اور زہر آلود لہجے میں بولی،

“تم ایک بزدل اور نہایت گھٹیا انسان ہو۔ انسان بھی نہیں، ایک حیوان… جو اپنے بدلے کے لیے عورتوں کو نشانہ بناتا ہے۔”

اس کی آنکھوں میں نفرت صاف جھلک رہی تھی۔

“اگر تم واقعی مرد ہوتے تو مجھ سے نہیں، میرے بھائی سے مقابلہ کرتے۔ مگر افسوس…”

وہ طنزیہ انداز میں مسکرائی۔

“تم مرد ہو ہی نہیں۔”

فضا میں ایک سرد قہقہہ گونجا۔

سامنے کھڑے شخص کی آنکھوں میں خطرناک چمک ابھر آئی۔

اس نے غصے سے اس کے بال مٹھی میں جکڑ لیے، مگر اگلے ہی لمحے وہ اس کا ہاتھ روک چکی تھی۔

“تم مجھے مار نہیں سکتے، سمجھ گئے؟”

وہ اسی جرات سے بولی۔

“جس دن تم نے میرے چہرے پر ہاتھ اٹھایا، خدا کی قسم، تمہاری لاش تک کسی کو نہیں ملے گی۔”

اس نے جھٹکے سے اپنے بال اس کی گرفت سے آزاد کروائے۔

سامنے والا شخص محض معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھتا رہا۔

پھر اچانک اس کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔

اسے محسوس ہوا کہ اس کی پلکیں بوجھل ہو رہی ہیں۔

چند لمحوں بعد اس کا وجود بے جان سا ہو گیا۔

اور پھر اس کا بے ہوش جسم ایک لمبی سیاہ گاڑی کی پچھلی نشست پر ڈال دیا گیا۔

اگلے ہی لمحے وہ گاڑی رات کے اندھیروں میں کسی سیاہ بادل کی طرح غائب ہو چکی تھی۔
*******

اس کی آنکھیں ایک ایسے کمرے میں کھلیں جو سیاہی میں ڈوبا ہوا تھا۔ چاروں طرف بڑے بڑے ڈبّے اور بھاری لوہے کی راڈیں بکھری پڑی تھیں۔ اس نے پلکیں پوری طرح وا کیں تو محسوس ہوا کہ کمرے میں نصب ایک زرد رنگ کا نائٹ بلب بمشکل روشنی دے رہا تھا۔ اس کی مدھم شعاعیں اُس وسیع ہال نما کمرے میں چند قدم سے زیادہ آگے نہ بڑھ پاتی تھیں۔

اس کے پاؤں گرد آلود سفید بوٹس میں مقید تھے، جبکہ لباس مٹی اور گرد سے اَٹا ہوا تھا۔ ہاتھ پشت کے پیچھے زنجیروں سے جکڑے گئے تھے اور پاؤں میں بھی بھاری بیڑیاں پڑی تھیں۔ منہ پر چپکی ہوئی ٹیپ سانس لینا دشوار کر رہی تھی۔ الجھے ہوئے بالوں کی چند لٹیں اس کے زخموں اور مٹی سے اٹے چہرے کے گرد بکھری ہوئی تھیں۔

اچانک زنگ آلود لوہے کے دروازے کے کھلنے کی کرخت آواز فضا میں گونجی۔

اس نے چونک کر سر اٹھایا۔

دروازے سے ایک دراز قد، چوڑے کندھوں اور کَسرتی بدن والا شخص اندر داخل ہوا۔ سیاہ لباس اور سیاہ ماسک میں ملبوس وہ شخص دھیمے قدموں سے اس کی جانب بڑھا، ایک لکڑی کی کرسی کھینچی اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

اگلے ہی لمحے اس نے جھٹکے سے اس کے ہونٹوں پر لگی ٹیپ اتار دی۔

وہ درد کی ٹیس پر بے اختیار آنکھیں بھینچ گئی۔

“جانتی ہو،” وہ ہلکے مگر عجیب لہجے میں بولا، “تم مجھے بچپن سے پسند تھیں۔ میں تم سے محبت کرتا تھا۔ جب تم چھ سال کی تھیں، میں بارہ سال کا تھا۔ میں نے تمہیں پہلی بار اپنے یومِ ولادت کی تقریب میں دیکھا تھا۔”

وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر اس کی آواز میں تلخی اتر آئی۔

“مگر افسوس… تمہارے بھائی کو میری یہ محبت پسند نہ آئی۔ اس نے میرے ماں باپ کو بےدردی سے قتل کر دیا۔ اسے اتنا بھی رحم نہ آیا کہ میرے والد اس کے سگے چچا تھے۔”

اس کی مٹھی بے اختیار بھنچ گئی۔

“اُس دن کے بعد میری محبت نفرت میں بدل گئی۔ ایسی نفرت… جس نے میری زندگی جلا کر راکھ کر دی۔”

وہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔

اس نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے پر جھولتی ایک لٹ کو کان کے پیچھے کیا۔

“خیر، گھبراؤ مت۔ میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ تم صرف ایک مہرہ ہو۔ اصل مجرم تمہارا بھائی ہے۔”

اس کی آواز خطرناک حد تک پرسکون تھی۔

“وہ خود تمہاری تلاش میں یہاں آئے گا، اور جب وہ آئے گا… تو تم دونوں اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے۔”

اس کی بات ختم ہوئی تو کمرے میں ایک پراسرار خاموشی چھا گئی۔

وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہی، مگر اس کے چہرے پر خوف کے بجائے عجیب سی سنجیدگی تھی۔ گویا وہ اس کی ہر بات ذہن میں محفوظ کر رہی ہو۔

شاید وہ ڈری ہوئی تھی…

یا شاید وہ کوئی منصوبہ بنا رہی تھی۔

“ویسے،” وہ دوبارہ بولا، “میں تمہارے بھائی جیسا بے رحم نہیں ہوں۔”

اس کے لہجے میں طنزیہ نرمی در آئی۔

“میں نے تمہارے لیے کھانا منگوایا ہے۔ تمہارے پسندیدہ فرائز، پیزا برگر… اور ہاں، تمہاری پسندیدہ کیفے لاٹے بھی۔”

وہ ہلکا سا مسکرایا۔

“دیکھا؟ مجھے آج تک یاد ہے کہ تمہیں کیا پسند ہے۔”

پھر وہ ذرا جھکا۔

“البتہ ایک مسئلہ ہے۔ تمہیں میرے ہاتھوں سے کھانا پڑے گا۔ میں اپنے چہرے پر ایک خراش بھی برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے کوئی رسک نہیں۔”

چند منٹ بعد دروازہ دوبارہ کھلا۔

ایک سوٹڈ بوٹڈ آدمی اندر آیا، اس کے ہاتھوں میں خاکی رنگ کے شاپرز تھے۔ اس نے خاموشی سے وہ شاپرز ماسک پوش شخص کے حوالے کیے اور فوراً واپس چلا گیا۔

اس نے ایک برگر نکالا، ریپر کھولا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔

اس نے خاموشی سے ایک نوالہ لیا۔

آج اس قید کا دوسرا دن تھا۔

کل سے اس نے کچھ نہیں کھایا تھا، سوائے چند گھونٹ پانی کے۔

وہ مزاحمت کر سکتی تھی…

مگر اس نے نہیں کی۔

کیونکہ اسے معلوم تھا کہ بعض اوقات زندہ رہنے کے لیے وقتی طور پر جھکنا پڑتا ہے۔

اور وہ زندہ رہنا چاہتی تھی۔

صرف زندہ ہی نہیں…

بلکہ جیتنا چاہتی تھی۔

اس نے برگر اور چند فرائز کھائے، پھر پانی پیا۔

جب اس نے کیفے لاٹے اس کے قریب کی تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔

“اب بھوک نہیں ہے۔”

اس کی آواز کمزور مگر مضبوط تھی۔

“آپ ہی پی لیجیے۔”

یہ کہہ کر اس نے سر دیوار سے ٹکا دیا اور آنکھیں بند کر لیں۔

مسلسل بھوک، تھکن اور ذہنی اذیت نے اس کی قوت نچوڑ لی تھی۔ اب جب معدے میں چند لقمے اترے تھے تو جسم کچھ سکون محسوس کر رہا تھا۔

کرسی پر بیٹھا شخص کافی کا کپ قریب رکھی چھوٹی میز پر رکھ کر خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔

وقت گزرتا گیا۔

اور جب اس کی سانسیں نیند کی گہرائیوں میں اترنے لگیں تو وہ آہستگی سے اٹھا۔

اپنی سیاہ جیکٹ اتار کر اس کے کندھوں پر ڈال دی۔

پھر چند لمحوں تک اسے خاموش نگاہوں سے دیکھتا رہا۔

وہ چاہے کتنا ہی سنگ دل، ظالم اور بے رحم کیوں نہ ہو، اس ایک عورت کے سامنے ہمیشہ کمزور پڑ جاتا تھا۔

وہ دل جو دنیا والوں کے لیے پتھر بن چکا تھا، اس کے لیے اب بھی دھڑکتا تھا۔

اور شاید یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری تھی۔

******

“جاری ہے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *