قصاص قسط نمبر:۱۷
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
اج ہیر کی مہندی تھی ۔۔ ریحان اور رخسار کا بھائی شاہان وہ اس وقت کامران منزل کے لاؤنج میں دیواروں پر زرد پھول لگنے میں مگن تھے ۔۔ ریحان پھول لگا رہا تھا اور شاہان جو کچھ دیر پہلے ہی ایا تھا کے ریحان کی مدد کر دے گا ۔۔وہ اس وقت ریحان کو ایک ایک کر کے پھولوں کی لڑیاں پکڑوا رہا تھا ۔۔مہندی سادہ سے انداز میں ہونی تھی ۔۔ ہیر اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھی پیلے رنگ کے شرارے میں پیلا ڈوبتا گلے میں ڈالے پھلوں سے سجے جھمکے کانوں میں لٹکائے اور پھولوں کا ہی ہار گلے میں ڈالے ۔۔ وہ چھوٹی سی گڑیا معلوم ہوتی تھی ۔۔۔ ہلکے گلابی رنگ کی لپسٹک ہونٹوں پر لگائے اور انکھوں میں بھر کے کاجل ڈال رکھا تھا۔۔۔ اُس نے اج بھی کوئی خاص میک آ پ نہیں کیا تھا۔ ۔۔ نکاح بھی گھر میں ہی ہونا تھا سادگی سے اور پھر ہیر خان کو زرمان راجپوت کے ساتھ رخصت کیا جانا تھا ہیر کو حیات اور رخسار لینے ائی تھی کے رسم شروع ہونے والی تھی ۔۔ ہیر نے ایک نظر خود کو دیکھا ڈوبتا ٹھیک کیا بالوں کی چوٹی اگے کو کی اور ان کے ساتھ باہر چل پڑی ۔۔ زر مان اور اس کی امی بھی اگئی تھی ۔۔ زر مان راجپوت کی طرف سے بس اُس کی ماں تھی ۔۔ اور زر مان کے کچھ دوست جو نکاح والے دن بھی گواہ کے طور پر نکاح میں شامل ہونے تھے ۔۔۔ ہیر نے باہر آ کے دیکھا۔۔ زر مان وہاں نہیں تھا ۔۔ وہ کہاں تھا دل میں سوال اٹھا ۔۔۔
پھر رخسار سے پوچھا۔۔۔ زر مان کہاں ہے ۔۔
ائے۔۔ ہائے بڑی یاد نہیں ا رہی زر مان بھائی کی تُجھے ۔۔رخسار تنگ کرنے کے لیے بولی ۔۔ ہیر نے اس کو گھور کے دیکھا ۔۔۔
اچھا ۔۔ اچھا ۔۔ کیا ہو گیا ہے ۔۔ مذاق کر رہی ہوں ۔۔ زر مان بھائی واشروم میں گئے ہیں ۔
اب کی بار ہیر نے گردن ہلا دی ۔۔
ہیر کو باہر صوفے پر لا کے بیٹھا دیا گیا ۔۔۔ کچھ دیر میں زر مان راجپوت نے اس کے ساتھ بیٹھنا تھا اور رسم شروع ہونی تھی ۔۔ہیر اب خاموشی سے بیٹھی تھی ۔۔ پاس میں بیٹھی ہیر کی دوستیں اور کچھ محلے کی لڑکیاں ٹپے گا رہی تھی ۔۔ اخر وہ دن ا ہی گئے تھی جن کا ہیر نے سوچا بھی نہیں تھا کے یہ کبھی سچ ہو گا ۔۔ لیکن ہو گیا تھا ۔۔
لیکن ہیر کو کچھ اپنے گھر میں ادھورا لگ رہا تھا ۔۔
اُس کا ایک بھائی یہاں تھا لیکن دوسرا ۔۔؟
بہنے بھائیوں کی بے رخی بھی بھلا دیتی ہے ہیر بھی بہن تھی ۔۔ وہ اٹھی ۔۔۔ اور کامران کے پاس چلی گئی ۔۔ جو دوسرے صوفے پر بیٹھے تھے ۔۔
بابا ۔۔ اس نے پاس کھڑے ہوئے کہا ۔۔
ہاں بولو ہیر ۔۔۔
بابا و۔۔وہ ۔۔ ہیر تھوڑا ڈر رہی تھی ۔۔
بولو ہیر کیا بولنا ہے ؟
بابا کیا اپ دلاور بھائی کو معاف نہیں کر سکتے بابا میری زندگی کے اہم پل ہیں یہ ۔۔ میرے ساتھ سب ہوں اور میرا ایک بھائی نہ ہو بابا یہ مجھے اچھا نہیں لگ رہا ۔۔
کامران خاموش ہو کے ہیر کی دیکھنے لگے ۔ پھر بولے ۔۔ تم نے معاف کر دیا اس کو ۔۔
ہاں بابا اخر وہ میرے بھائی ہے ۔۔ غلطیاں تو ہو جاتی ہے نہ بابا ۔۔
کامران نے کچھ دیر سوچا ۔۔۔
کل نکاح سے کچھ دیر پہلے اُس کو بولا لے گے لیکن اج نہیں ۔۔
ی۔۔ ٹھیک ہے بابا ۔۔ ہیر خاموشی سے واپس اپنی جگہ پر جا بیٹھی ۔۔۔
افق اس وقت خاموشی سے اپنے بستر پر بیٹھا تھا اب اس کی انکھوں سے انسو نہیں نکل رہے تھے لیکن ایک عجیب افسردگی تھی ۔۔ محبوب کو کسی اور کا ہوتے دیکھنے کی افسردگی ۔۔ بیڈ پہ ایک طرف کو اس کا لیپ ٹاپ پڑا تھا جس پر وہ اپنی ادھوری کہانی کو مکمل کر رہا تھا اپنی کہانی کو نہیں ۔۔۔زرمان راجپوت کی کہانی کو ۔۔اس کی خود کی کہانی تو ادھوری ہی رہ گئی تھی ۔۔ لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہانی کا اخری باب کسی اور نے لکھنا تھا اب فق جانتا تھا اج اس کی مہندی کی رسمیں تھی ہیر نے خود بتایا تھا۔۔۔بلکہ ہیر نے تو اس کو شادی پر بھی بلایا تھا لیکن اس میں ہمت ہی نہیں تھی جانے کی یا اپنے کمرے سے بھی باہر نکلنے کی اس کی ممی کتنی بار کمرے میں ائی تھی۔۔اور ابھی بھی یہی ہوا تھا انہوں نے کمرے کا دروازہ نوک کیا اور اندر داخل ہوئیں۔۔ اپنے بیٹے کو پچھلے پانچ گھنٹوں سے انہوں نے یہیں بیڈ پر ہی بیٹھے دیکھا تھا ۔۔ افق باہر ا جائیں کھانا کھا لیں بیٹا
نہیں ممی مجھے بھوک نہیں ہے اپ جائیں ۔۔ افق اپ کب تک اس طرح خود کو بھوکا رکھیں گے ۔۔
ممی مجھے نہیں پتا سچ میں مجھے بھوک نہیں ہے اگر ہوتی تو میں سچ میں اپ کے ساتھ ا کر کھانا کھاتا ۔۔۔ افق اپ کیوں خود کو برباد کر رہے ہیں ۔۔ماں شدید پریشان تھی بیٹے کی حالت دیکھ کر کل سارا دن اور پھر ساری رات رونے کی وجہ سے افق کی انکھوں کے برے حالات تھے اس کی انکھوں کے نیچے سرخ اور نیلے ہلکے پڑ چکے تھے۔۔چہرے کا رنگ بھی عجیب ہو رہا تھا اور کل سے اس نے کچھ کھایا بھی نہیں تھا وہ کمزور لگنے لگا تھا۔۔۔ماں کمرے میں ائی اور پاس ہی بیٹھ گئی۔۔افق اپ کیوں خود کو برباد کر رہے ہیں۔۔ماں نے ایک بار پھر سوال پوچھا افق نے انجانی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھا ۔۔ میں۔۔خود کو برباد۔۔ممی میں خود کو برباد نہیں کر رہا قسمت نے مجھے برباد کر دیا ہے ۔۔ ا۔۔اپ کو پتہ ہے ۔۔ میرا سر کتنا دکھ رہا ہے ۔۔ م۔۔ مجھے درد ہو رہی ہے ۔۔ ایسا لگ رہا ہے میرا سر پھٹ جائے گا ۔۔ممی وہ ایسے کیسے کر سکتی ہے میرے ساتھ ۔۔ ہاں ۔۔ بتائیں نا۔۔میں نے کبھی کسی کا برا نہیں کیا میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔۔ م۔۔ میں ہی کیوں ممی ۔۔ میری ہی محبت نے کیوں میرے ساتھ ایسا کیا میں اچھا ۔۔نہیں۔ ہوں یا میرے سے کوئی بہت بڑی غلطی ۔۔ہو گئی ہے۔۔ اب وہ انسوؤں کے درمیان کہہ رہا تھا ۔۔ ماں کو افق پاگل لگا تھا ۔۔ یہ شاید دیوانہ ۔
ممی مجھے کہیں سکون نہیں ملتا ۔۔ مجھے نیند نہیں ارہی ممی ۔۔ میں رات بھر نہیں سویا ۔۔ میرا دل بند ہو رہا ہے ۔۔ میرا یہاں اس گھر میں اس دنیا میں دم گھٹنے لگا ہے ۔۔ کیا یہاں سے ۔۔کوئی راہ فرار ہے ۔۔میرے۔۔ لیے ۔۔ ماں اب رونے لگی تھی ۔۔ اُن کا بیٹا دیوانوں سی باتیں کر رہا تھا ۔۔
اپ کو پتہ ہے ۔۔ میں مارنا نہیں چاہتا ممی ۔۔
اپ کو پتہ ہے میں جینا چاہتا ہوں ۔۔ میں مرنا نہیں چاہتا ۔۔ مجھے زندگی سے محبت ہے ممی ۔۔
مجھے بچا لیں ۔۔
میں مرنا نہیں چاہتا ۔۔ لیکن مجھے لگ رہا ہے میں مر جاؤں گا ۔۔ میرا دل بند ہو رہا ہے میرا سر پھٹ رہا ہے ۔۔
اپ ایسی باتیں کیوں کر رہے ہیں افق ۔۔ ماں کی انکھوں سے انسو گرنے لگے ۔۔
اپ کی زندگی میں کوئی اور لڑکی ا جائے گی اپ کیوں اس لڑکی کے لیے خود کو برباد کر رہے ہیں اپ ایسے تو نہیں تھے ۔۔
ہ۔۔ ہاں ۔۔م۔میں تو ایسا نہیں تھا ۔۔؟
افق حیران ہوا ۔۔ م۔۔میں ایسا کیوں بن گیا ۔
م۔۔ میں ۔۔ لے۔۔ لیکن ممی ہیر نے میری زندگی میرے سے لے لی ہے ۔۔ ممی میں برباد ہو رہا ہوں ۔۔ م۔۔ میں مر رہا ہوں ۔۔
ماں کو لگا ان کے بیٹے کا دماغ ٹھکانے پر نہیں تھا
وہ کیا پاگل ہو رہا تھا ۔۔؟ افق خود کو سنبھالے
افق اب اپنے سر کے بال کچنے لگ پڑا تھا ۔۔ م۔۔ میں ایسا تو ۔۔ نہیں تھا ۔۔ م۔۔ میں کیوں ایسا ہو گیا ۔۔ اب وہ اونچی اواز میں بولنے لگا ۔۔۔ وہ لڑکی ۔۔و۔۔ اُس نے مجھے مار دینا ہے ممی ۔۔ گھر کے ملازم دروازے میں کھڑے افق کی بگڑتی حالت دیکھ رہے تھے۔۔ انہوں نے جب بھی افق مصطفی کو اپنے سامنے کھڑے پایا تھا تو وہ ایک با روب شخصیت تھا ۔۔ ایک جانا مانا مصنف ۔۔ ایک ایسا مصنف جو اپنے الفاظوں میں محبت بھر کے ڈالتا تھا لیکن اب جب خود اسے محبت ہو گئی تھی ۔۔ وہ اپنے حواس کھونے لگا تھا ۔۔
اعلی ایک کمرے میں بیٹھا تھا ۔۔ یہ کمرا ۔۔ جانا پہچانا تھا لیکن اس کا نہیں تھا شاید ۔۔
وہ سکون سے لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا سامنے کوئی سی سی ٹی وی فور ٹچ چل رہی تھی ہیر کی مہندی کی ۔۔ ہیر خاموش جو صوفے پہ بیٹھی تھی اور یقینا زرمان راجپوت کا انتظار کر رہی تھی ۔۔ شاید بے صبری سے انتظار کر رہی تھی ۔۔ علی لیپ ٹاپ پر ہیر کو دیکھتے ہوئے ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔اخر کار تم تو شادی کرنے والی ہو۔۔یقین نہیں ارہا۔۔ لیکن میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں۔۔۔ علی سکرین پر دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
اگر مجھے ضروری کام نہ ہوتا ۔۔ تو تمھاری شادی میں چیف گیسٹ بن کر اتا ۔۔ لیکن فی الحال میں بہت بیزی ہوں ۔۔ کیا کروں وقت ہی نہیں ملا ۔۔ پھر کبھی ملاقات ہو گی ۔۔۔ علی نے لیپ ٹاپ بند کر دیا ۔۔اور پھر اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔
ہیر کب سے بیٹھی زربان راجپوت کا انتظار کر رہی تھی جب اس نے حیات کو بلایا جو اس وقت یوسف کے ساتھ کھڑی نہ جانے کن باتوں میں گم تھی اور مسکرا مسکرا کر باتیں کر رہی تھی۔۔حیات نے اس کی طرف دیکھا اور دو منٹ بعد اس کی طرف انے کا اشارہ کیا ہیر نے گھور کر اس کی طرف دیکھا تو یوسف مسکرا اٹھا جائیں اپ پہلے میری بہن کی بات سن کر ائیں۔۔یوسف نے کہا تو حیات اس کی طرف چل پڑے وہ ہیر کے پاس صوفے پر ا کر بیٹھی اور اس کا دوپٹہ پیچھے سے سیٹ کرتے ہوئے بولی اج تو تمہاری مہندی ہے اج تو کچھ سکون کر لو حد ہوتی ہے یار۔۔
ہیر نے گھور کر اسے دیکھا زیادہ بولو نہیں اور جا کر اپنے بہنوئی کو ڈھونڈ کر لاؤ۔۔واش روم گیا ہے تو اتنی دیر کیوں لگا رہا ہے انے میں سب انتظار کر رہے ہیں تم نے دیکھا نہیں ہے۔۔
سب تو انتظار نہیں کر رہے لیکن تمہیں بہت بے صبری سے انتظار ہے اپنے دلہے کا تم صبر کرو میں ذرا جاتی ہوں بلا کے لاتی ہوں۔۔
حیات اٹھ کر ابھی جانے ہی لگی جب انہوں نے زرمان کو اتے دیکھا وہ مسکراتا ہوا ہیر کی طرف ارہا تھا۔۔۔ وہ اس کے پاس ا کر بیٹھا تو ہیر نے اسے گھور کر دیکھا حد ہوتی ہے تم نے اتنی دیر کیوں لگا دی تھی۔۔وہ دراصل میں تھوڑا نروس ہو رہا ہوں۔۔ہیر نے غور سے زرمان کو دیکھا لڑکی میں ہوں اور نروس تم ہو رہے ہو
اور واش روم میں اتنی دیر کیوں کر دی۔۔۔
ہیر کیسی بات کر رہے ہیں۔
ہاں تو صحیح تو کہہ رہی ہوں ۔۔میری تو تمہیں ضرورت ہی نہیں ہے ٹوٹیوں سے شادی کر لو جا کر واش روم کی ۔۔ اس کے بات پر زرمان بے ساختہ کہکا لگا کر ہنسا تو سب نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا ۔۔مشکل سے زرمان نے اپنی ہنسی کو قابو میں کیا تھا۔۔ایک تو مجھے سمجھ نہیں اتی جب اپ غصہ کرتی ہیں تو اتنی پیاری کیوں لگتی ہیں۔۔ ایک دفعہ بن لینے دو مجھے تمہاری بیوی تمہیں میں بتاؤں گی۔۔۔
اچھا اپ مجھے کیا بتائیں گی۔۔ زرمان غور سے ہیر کا چہرہ دیکھتے پوچھ رہا تھا ہیر اس بار کچھ بھی نہیں بولی تھی کیونکہ سامنے سے کامران خان ا رہے تھے۔۔ چلو اب پہلے ہی بہت وقت ضائع ہو چکا ہے رسمیں شروع کرتے ہیں۔۔ زرمان اس وقت سفید شلوار قمیض میں ملبوس تھا۔۔زرمان نے اپنا ہاتھ اگے کیا تو ہیر نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔۔ہیر کی امی نے سفید کپڑا اٹھا کر زرمان اور ہیر کے ہاتھ پر رکھا۔۔اور پھر مہندی کی رسم شروع کی گئی ۔۔ ایک ایک کر کے سب اتے جا رہے تھے اور ہیر اور زرمان کے ہاتھ پر رکھے کپڑے پر کوئی تیل لگا رہا تھا تو کوئی مہندی۔۔ اور پھر زرمان اور ہیر کے منہ میں مٹھائی کا ٹکڑا ڈالتے اور اٹھ کر چلے جاتے۔۔اج کا دن تقریباً ایسے ہی گزرنے والا تھا اور یقینا ہیر کا وزن بہت بڑھنا تھا اتنی میٹھی چیز کھا کھا کر۔۔۔ہیر ویسے ہی میٹھا کھانے سے گریز کرتی تھی۔۔اسے زیادہ میٹھا کھانا پسند نہیں تھا لیکن اج تو رسم ہی کچھ ایسی تھی کہ میٹھا کھانا تو لازمی تھا۔۔۔ اب یوسف کی باری تھی وہ ان کی طرف آ یا اس نے رسم پوری کی اور زرمان کی طرف دیکھا۔۔ تم ہماری بہن کی ذمہ داری اٹھا تو رہے ہو لیکن تم نے اگر ذمہ داری پوری نہ کی تو تمہیں میں جیل میں ڈال دوں گا۔۔ یوسف مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا زرمان ہنس پڑا۔۔ یار ایک تو ویسے عجیب بات ہے ۔۔ میری دلہن کے تو سارے بھائی ہی بہت خطرناک ہیں ۔۔ ریحان مجھے دھمکی دیتا پھرتا تھا کہ اگر میں نے ہیر کو خوش نہ رکھا تو وہ مجھے چھوڑے گا نہیں۔۔ اور ان کا بڑا بھائی دلاور وہ تو ویسے ہی میرے پیچھے پڑا تھا اور ہیر کے بھی۔۔ اور اب اپ کی ہی باری تھی جو اپ مجھے جیل میں ڈالنے کی دھمکی دے رہے ہیں مطلب میری کوئی عزت ہی نہیں ہے میں تم لوگوں کا ہونے والا بہنوئی ہوں ۔۔ خیال کرو میرا ۔۔ یوسف مسکرا کر چلا گیا اس کے بعد حیات ائی پھر رخسار ائی۔۔ پھر ریحان کی باری تھی وہ ایا۔۔
تم یقین مانو مجھے اج اتنی خوشی ہو رہی ہے نا کہ میں تم لوگوں کو بتا نہیں سکتا ریحان رسم کرتے ہوئے بول رہا تھا۔۔میں بہت خوش ہوں تم دونوں کے لیے اخر کار زرمان تم نے اپنا وعدہ پورا کیا تم نے کہا تھا تم کبھی بھی ہیر کو استعمال نہیں کرو گے تم ہیر کو دھوکہ نہیں دو گے اور تم نے اپنا وعدہ پورا کیا۔۔ مجھے بہت خوشی ہے۔۔۔ زرمان خاموشی سے بیٹھا ریحان کی باتیں سن رہا تھا۔۔۔
میں نے پہلے تم سے وعدہ کیا تھا ریحان کہ میں ہیر کو دھوکا نہیں دوں گا اور اب میں ایک اور وعدہ کرتا ہوں کہ میں کبھی ہیر کو تنہا نہیں چھوڑوں گا ہمیشہ ان کے ساتھ رہوں گا۔۔
اہستہ اہستہ سب ا رہے تھے اور رسمیں کرتے جا رہے تھے۔۔۔ زیادہ کوئی لوگ تھے بھی نہیں گھر میں بس اپنے ہی جان پہچان والے لوگ تھے اور محلے کی کچھ انٹیاں ائی۔۔ رسمیں ختم ہوئی تو ہیر کو حیات اور رخسار اٹھا کر اس کے کمرے میں چھوڑ ائی تھی ہیر ویسے ہی اج بہت تھک چکی تھی وہ صبح سے جاگ رہی تھی اور اب تو رات ہو رہی تھی۔۔ ہیر اپنے کمرے میں ائی کپڑے بدلے فریش ہوئی اور اپنے بستر پر ا کے بیٹھ گئی۔۔ زرمان لوگ اپنے گھر جا چکے تھے ۔۔ اور اب اہستہ اہستہ سب مہمان بھی اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے ۔۔۔
رخسار اور شاہان اور اس کے امی ابو بھی گھر سے باہر نکل رہے تھے ۔۔ یوسف البتہ کچھ دیر پہلے ہی چلا گیا تھا ۔۔۔ حیات اس کے ساتھ ہی چلی گئی تھی یوسف نے کہا تھا کہ وہ اسے گھر تک چھوڑ دے گا ۔۔ ہیر خاموشی سے اپنے بیڈ پر لیٹ گئی وہ اس وقت شدید تھک چکی تھی۔۔۔
افق کو اس کی امی نے ڈپریشن کی میڈیسن دے کر سلا دیا تھا۔۔ اس کی طبیعت اب خراب ہو رہی تھی اسے اب بخار ہو رہا تھا۔۔ اس کے سر میں بھی شدید درد ہو رہی تھی افق کو پہلے بھی اکثر ڈپریشن ہوا کرتی تھی۔۔ ڈاکٹر نے اسے وہ ڈپریشن کی گولیاں بتائی تھی ۔۔لیکن ایسے ڈپریشن افق مصطفی کو زندگی میں پہلی بار ہوئی تھی کہ وہ اپنے حواس کھونے لگا تھا۔۔ وہ اپنے اپ کو بھولنے لگا تھا۔۔۔
افق کو اس کی امی نے میڈیسن دے کے سلا تو دیا تھا۔۔ لیکن افق اب نیند میں بھی خوفزدہ باتیں کر رہا تھا۔۔میں۔۔ مر ۔جاؤں گا۔۔م ۔وہ مجھے ۔۔چھوڑ گئی ۔۔ و ۔۔ اُس کو میرے ۔۔ سے محبتنہیں تھی ۔۔ افق اب نیند میں انسو بہائے جا رہا تھا نہ جانے شاید وہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا۔۔۔ شاید نیند میں ہی اسے ڈپریشن کا دورہ ایک بار پھر پڑا تھا ۔۔۔۔
قاسم خان اس وقت جیل میں بیٹھا تھا۔۔ قیدیوں کے کپڑوں میں ۔۔ قاسم کے ابو اس سے ملنے کے لیے ائے تھے ۔۔
اور اس وقت وہ قاسم کو لعنت و ملامت کر رہے تھے لیکن قاسم کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا
وہ خاموشی سے جیل کی سلاخوں کے پاس کھڑا اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا ۔۔ مجھے یقین نہیں اتا تم اتنے گر سکتے ہو تمہیں ان دنوں کے لیے تو ہم نے پال کر بڑا نہیں کیا تھا۔۔ تم نے ہمارا نام اپنا نام کچھ پلوں میں مٹی میں ملا دیا قاسم خان ۔۔ تم یہ قدم کیسے اٹھا سکتے ہو تم ڈرگ سمگل کرتے ہو ۔۔
تم ایسا کیسے کر سکتے ہو قاسم۔۔
یہ سب چھوڑیں بابا یہ بتائے قونین کیسی ہے ۔۔ قونین کیسی ہوگی وہ بیمار ہے ۔۔ تمہیں پتہ ہے ہمارے گھر میں سب سے پہلے تم نے اسے اٹھایا تھا اب تم اسے گھر میں نظر نہیں اتے وہ پورا دن روتی ہے وہ بچی ہے بہت چھوٹی ہے بول نہیں سکتی لیکن وہ تمہیں محسوس کر سکتی ہے قاسم ۔۔ اُس کو تمھاری پرواہ ہے ۔۔ وہ تمہیں اپنا باپ سمجھتی ہے۔۔ جب سے تم اسے نظر نہیں ائے وہ تب سے رو رہی ہے ۔۔۔ اس کو بخار بھی ہے موسم ویسے ہی بدل رہا ہے۔۔۔ وہ بہت چھوٹی ہے تم اس کا تو خیال کر لیتے قاسم یا پھر تم اسے لے کر ہی نہ اتے۔۔۔ اور یہ وہ پہلا لمحہ تھا جب قاسم خان کے دل میں کھنچاؤ پڑا تھا اس نے اپنے باپ کو دیکھا۔۔ میری اگلے دو دنوں میں بیل کروائیں مجھے نہیں پتا۔۔۔ اور اگر میری بیل نہ کروائی تو میں یہاں موجود سب کو مار دوں گا بابا۔۔۔ اور قونین کو کچھ ہوا ۔۔۔ تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔۔ادم خان نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔۔میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔ ادم خان کہتے ہوئے باہر چلے گئے اخر کار وہ جیسا بھی تھا تو ان کا بیٹا ہی۔۔۔ وہ بھی اکلوتا بیٹا۔۔۔ اور شاید تب ہی وہ اتنا بگڑ گیا تھا انہوں نے کبھی اس پر نظر نہیں رکھی تھی توجہ نہیں دی تھی کہتے ہیں جب بیٹے بڑے ہو رہے ہوں تو ماں باپ کو بیٹوں پر نظر رکھنی چاہیے ۔۔ اج کل کے زمانے میں ماں باپ کو اپنے بچوں پر اتنا بھروسہ ہوتا ہے کہ ان کو اپنے بچوں کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں اتا۔۔۔لیکن پھر وہی بچے بڑے ہو کر۔۔اپنے ماں باپ کی عزت کو خاک میں ملا دیتے ہیں جانے انجانے میں۔۔ غلطیاں کر دیتے ہیں ۔۔۔ قاسم خاموشی سے اب بیٹھ گیا تھا کچھ کرنے کو تو تھا ہی نہیں۔۔۔
ادم خان کو کسی بڑے وکیل کو ہائر کرنا تھا جو قاسم کو بچا سکے ۔۔ ویسے بھی ادم خان کے پاس پیسوں کی کمی نہیں تھی وہ اپنے بیٹے کو نکال سکتے تھے۔۔ اور اب انہیں قاسم کو بچانا تھا۔۔۔ لیکن اگلے دو دن میں بیل ہونا شاید ممکن نہیں تھی۔۔کل اتوار کا دن تھا۔۔ پرسوں کسی وکیل کو ادم خان ہائر کر سکتے تھے۔۔۔ اور پرسوں وکیل ہائر ہوتا تو تقریباً اگلے دو دنوں بعد ہی بیل ہونی تھی۔۔۔
کمرے میں ہلکی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، جیسے گلاب کی پنکھڑیاں ہوا میں بکھر گئی ہوں۔ سورج کی نرم کرنیں کھڑکی کے پردے سے چھن کر فرش پر پڑ رہی تھیں۔ ہیر کے ہاتھ تیزی سے بیگ میں چیزیں رکھتے جا رہے تھے—چوڑیاں، دوپٹہ، ایک چھوٹا سا پرفیوم، اور بچپن کا وہ لاکٹ جو اس کی امی نے کبھی اسکول کے پہلے دن دیا تھا۔ وہ اپنا سامان بیگ میں ڈال رہی تھی ۔۔ دل میں ہلچل تھی، چہرے پر مسکراہٹ مگر آنکھوں میں نمی چھپی ہوئی۔
دروازے پر ہلکی سی آہٹ ہوئی۔
“ہیر۔۔۔”
یہ اس کے والد کامران خان کی آواز تھی، جس میں اس کے لیے ہمیشہ ایک نرمی، ایک وقار، اور آج شاید ایک باپ کا انتہا کا پیار چُھپا تھا۔ ہیر نے سر اٹھایا، اور دروازے پر اپنے والد کو دیکھا ساتھ ہی اس کی ماں، سفید شفون کے دوپٹے میں لپٹی، آنکھوں میں ہلکی سی چمک اور لبوں پر تھکی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ کھڑی تھی۔
“بابا، اماں..” ہیر نے ہلکی سی آواز میں کہا، جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے ہوں۔
کامران آگے بڑھے۔ ان کے ہاتھ میں ہیر کا ڈوپٹہ تھا، وہی جو ہیر نے کل رات کہا تھا کہ کہیں رکھ دیا ہے۔
“یہ ڈوپٹہ رہ گیا تھا،” وہ بولے، مگر ان کی آواز میں ایک لرزش تھی۔
ہیر نے مسکرا کر وہ ڈوپٹہ لیا، مگر اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ کانپ گئے۔ “بابا، آپ رو رہے ہیں؟”
کامران نے نظریں چرا لیں۔ “نہیں بیٹا، بس… تمہاری امی کہہ رہی تھیں کہ وقت کتنا تیز گزر گیا۔ کل تک تم ہماری ننھی سی بچی تھیں، اور آج…” وہ رکے، “آج تم کسی اور کے گھر کی ہونے جا رہی ہو۔”
ہیر نے اپنا بیگ نیچے رکھا اور آہستہ سے اپنے باپ کے قریب آئی۔ اس نے ان کے ہاتھ پکڑے—وہی ہاتھ جنہوں نے کبھی اسے پنسل چلانا سکھائی تھی جنہوں نے اس کی انگلی پکڑ کر اسکول کے دروازے تک چھوڑا تھا، جنہوں نے ہر دکھ میں اس کو سہارا دیا تھا۔
“بابا…” اس نے ہلکی آواز میں کہا، “میں کہیں جا نہیں رہی، میں تو بس ایک نئے گھر جا رہی ہوں، لیکن یہ میرا پہلا گھر، میرا اصل گھر رہے
گا”
کامران کی آنکھوں سے ایک آنسو بہہ نکلا۔ وہ مسکرائے، مگر وہ مسکراہٹ جیسے دل کے کسی ٹوٹے حصے سے آئی ہو۔
ہیر، تمہیں نہیں پتا، بیٹی کی رخصتی باپ کے لیے کیسی ہوتی ہے۔ جیسے دل کا ایک حصہ اپنے ہاتھ سے نکال کر کسی اور کے سپرد کر دیا ہو۔ خوشی بھی ہے، مگر ایک عجیب سا خالی پن بھی۔”
امی نے آگے بڑھ کر دونوں کے بیچ ہاتھ رکھا۔ “کامران، بس کریں، آج کا دن ہے خوشی کا۔ ہماری ہیر کے لیے دعا کریں، دکھ نہیں۔”
پھر وہ ہیر کی طرف مڑیں، ان کے چہرے پر ممتا کی چمک تھی۔
“بیٹا، یاد ہے جب تم چھوٹی تھیں تو شادی والے گانے پر ڈانس کی ضد کرتی تھیں؟ کہتی تھیں ‘امی، میں بھی دلہن بنوں گی’۔ آج وہ دن آ گیا ہے۔”
ان کی آواز کانپ گئی۔ “بس دل نہیں مانتا کہ اب تم ہمارے گھر کی نہیں رہوگی۔ صبح تمھارے ہاتھ کی چائے کی خوشبو نہیں آئے گی، رات تمہارے ہنسنے کی آواز نہیں گونجے گی۔”
ہیر نے جھک کر اپنی ماں کو گلے لگا لیا۔
“امی، میں تو وہی رہوں گی۔ آپ کے لیے چائے اب بھی بناؤں گی، بس شاید کبھی فون پر، کبھی ویڈیو کال پر۔”
امی نے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ “تم تو کہہ دیتی ہو بیٹا، مگر ماں کا دل مانے تب نا۔”
کامران نے مسکرا کر کہا، “چلو، اب رونا بند کرو۔ میری شہزادی آج سب سے حسین لگے گی ”
انہوں نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا مخملی ڈبہ نکالا۔ ہیر نے حیرت سے دیکھا۔
“بابا، یہ کیا ہے؟”
“یہ وہ انگوٹھی ہے جو تمہاری ماں نے اپنی شادی پر پہنی تھی۔ میں چاہتا ہوں کہ آج یہ تم پہنو۔ جیسے ہماری دعائیں تمہارے ہاتھ سے جڑی رہیں۔”
ہیر نے آہستہ سے انگوٹھی لی، اپنی انگلی میں پہنی، اور پھر اپنے والد کا ہاتھ چوم لیا۔
“یہ میری سب سے قیمتی چیز ہے بابا۔ میں اسے کبھی نہیں اتاروں گی۔”
امی نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، “اب چلو بیٹا، پارلر کا وقت ہو رہا ہے۔”
ہیر نے بیگ بند کیا، اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ آئینے میں اس نے اپنی جھلک دیکھی—آنکھوں میں چمک تھی، مگر ان کے پیچھے ایک کہانی، ایک محبت، ایک جدائی تھی۔
“اماں، بابا… میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
کامران نے پیچھے سے کہا، “بالکل اپنی ماں جیسی۔”
امی نے ہلکا سا مسکرا کر کہا، “اور دل تمہارے بابا جیسا۔”
ہیر نے ایک آخری بار کمرے کے چاروں طرف دیکھا—دیوار پر وہ فوٹو جہاں وہ اپنے والد کے کندھے پر بیٹھی تھی، ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا بچپن کا گلابی ہیئر برش، بستر پر بچھی سفید چادر پر ہلکی سی لپ اسٹک کا داغ۔
“یہ سب میری یادیں ہیں، امی… میں سب ساتھ لے جا رہی ہوں۔”
امی نے مسکرا کر کہا، “بیٹیاں یادیں نہیں چھوڑتیں، وہ خود یاد بن جاتی ہیں۔”
ہیر کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی، مگر دل بھر آیا۔
اس نے دونوں کے گلے لگ کر کہا،
“میں آپ دونوں سے وعدہ کرتی ہوں، چاہے زندگی کتنی بھی بدل جائے، آپ میری دنیا رہیں گے۔”
کامران نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ “خوش رہو، بیٹا۔ تمہاری ہنسی ہمارے لیے سب سے بڑی دعا ہے۔”
امی نے آہستہ سے کہا، “اور جہاں بھی جاؤ، اپنے والدین کا مان بن کر رہنا۔”
چلو جلدی کرو پارلر کے لیے دیر ہو رہی ہے ہیر ماں کے کہنے پر ہی بالر کے لیے نکل گئی۔۔۔۔۔۔””
پارلر میں نرم خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ دیواروں پر لگے آئینوں سے روشنی منعکس ہو کر ایک خوابناک سا منظر بنا رہی تھی۔ اسی ماحول میں ہیر اپنے سفید نکاحی لباس کو بانہوں میں سمیٹے، خاموشی سے ایک صوفے پر بیٹھی تھی۔ لباس کی جھلک جیسے برف کے ذرے پر پڑنے والی دھوپ ہو — ہلکی سی چمک، معصومیت اور پاکیزگی سے بھری ہوئی۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی گھبراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں ایک الگ سی چمک بھی تھی، جیسے برسوں کی دعائیں آج رنگ لانے والی ہوں۔
پارلر کی مین میک اَپ آرٹسٹ، ناز، ہیر کے قریب آ کر مسکرائی۔
“ماشاءاللہ، دلہن تو پہلے ہی اتنی پیاری ہے، ہمیں تو بس تھوڑا سا ٹچ دینا ہے، باقی سب قدرت نے خود کر رکھا ہے۔”
ہیر نے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا، “بس دعا کریں سب اچھا ہو جائے۔”
ناز نے پیار بھری نظر سے اسے دیکھا اور بولی، “ان شاءاللہ، آپ کا نکاح ہے، اللہ کی رحمت کا دن ہے، سب اچھا ہی ہو گا۔”
ناز نے ہیر کے چہرے پر بیس لگانا شروع کی۔ جیسے جیسے اس کے ہاتھ چلتے، ہیر کا چہرہ ایک نئے رنگ میں ڈھلنے لگا۔ ہیر کے گالوں پر قدرتی لالی کو چھپانے کے بجائے ناز نے اسے ابھارا، اور ہونٹوں پر ہلکا سا گلابی رنگ دے کر اس کی معصومیت کو اور نمایاں کر دیا۔
“یہ سفید لباس تو جیسے بنا ہی اپ کے لیے ہے” ناز نے کہا، “یہ رنگ سب پر نہیں جچتا، لیکن آپ پر تو لگتا ہے جیسے روشنی خود آپ کے اردگرد گھوم رہی ہو۔”
دوسری میک اَپ آرٹسٹ، عارفہ، جو ہیر کے بال سنوار رہی تھی، بات میں شامل ہوئی۔
“میں نے اتنی دلہنیں تیار کی ہیں، مگر ایسی سادگی کم ہی دیکھی ہے۔ یہ سفید لہنگااور ہیر کی بھوری آنکھیں… کمال کا امتزاج ہے”
ہیر نے ذرا سا شرما کر نگاہیں جھکا لیں۔
“شکریہ…” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔
عارفہ نے بڑے نرمی سے اس کے بالوں کو ہلکی لہروں میں سیٹ کیا، پھر ایک سفید گجرا اس کے جوڑے کے گرد لپیٹ دیا۔ خوشبو نے لمحہ بھر میں پورے کمرے کو مہکا دیا۔
“یہ گجرا بالکل آپ کے نام جیسا ہے… ہیر، خوشبو اور نرمی سے بھرا ہوا۔”
تیاری مکمل ہونے لگی تھی۔ ناز نے آئینے کی طرف اشارہ کیا، “چلیں، دلہن جی، دیکھیں اپنا جادو۔”
ہیر نے آہستہ سے نظریں اٹھا کر آئینے میں دیکھا۔ لمحہ بھر کے لیے وہ خود کو پہچان نہ سکی۔
یہ وہی ہیر تھی، جو چند لمحے پہلے ایک عام لڑکی تھی، مگر اب جیسے کسی نوری لباس میں لپٹی ہوئی، تقدیر کی چمک بن چکی تھی۔
پارلر میں موجود تمام خواتین ایک لمحے کو رک گئیں۔
“سبحان اللہ، کیا لگ رہی ہے ہیر!”
“بالکل پری جیسی!”
ہیر کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک نمی سی بھی اتر آئی۔
یہ خوشی، یہ لمحہ — اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ تھا۔
جب وہ کھڑی ہوئی تو اس کے سفید لباس کی جھالر فرش کو چھونے لگی، اور ہر قدم کے ساتھ لگتا جیسے چاندنی بکھر رہی ہو۔ ناز نے دھیرے سے کہا،
“اب تو بس دولہے صاحب دیکھ کر بے ہوش نہ جائے، اتنی حسین لگ رہی ہیں آپ۔”
ہیر نے مسکرا کر آنکھیں بند کیں، دل ہی دل میں دعا کی “اللہ، آج کا دن میرے لیے رحمت کا بنادے۔”
کمرا ہلکی خوشبو سے بھرا ہوا تھا — دیواروں پر دلکش لائٹس جھلملا رہی تھیں، اور میز پر زرمان کی شیروانی، اس کے پالش کیے ہوئے جوتے، اور ایک چھوٹا سا عطر کی شیشی رکھی تھی۔ زرمان آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بال درست کر رہا تھا، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ، لیکن آنکھوں میں ایک انجانی سی چمک — خوشی، گھبراہٹ اور جذبات کا حسین امتزاج۔۔۔۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔ زرمان کی ماں، سفید دوپٹہ اوڑھے اندر آئیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک تھالی تھی جس میں نظر اتارنے کے لیے دیے اور پھول رکھے تھے۔ جیسے ہی ان کی نظر اپنے بیٹے پر پڑی، ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
زرمان نے پیچھے مڑ کر دیکھا، مسکرا کر بولا،
“امی… آپ کب آئیں؟”
اس کی امی نے مسکراتے ہوئے کہا،
“تب آئی جب میرا بیٹا دولہا بننے والا تھا۔”
وہ آگے بڑھیں، زرمان کے قریب آ کر رک گئیں۔ تھالی ہاتھ میں لیے، آہستہ آہستہ اس کی نظر اتاری، اور زیرِ لب دعائیں پڑھنے لگیں۔ زرمان چپ چاپ اپنی ماں کو دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں بچپن کے سارے منظر تیرنے لگے — وہ دن جب امی نے اس کے لیے اسکول کا پہلا یونیفارم تیار کیا تھا، وہ راتیں جب بخار میں جاگ کر اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھتی تھیں۔
“امی..” زرمان کی آواز ہلکی سی لرز گئی،
“آپ رو کیوں رہی ہیں؟ آج تو خوشی کا دن ہے۔”
ماں نے مسکرا کر آنسو صاف کیے،
“ارے، خوشی کے آنسو ہیں بیٹا۔ بس یوں لگ رہا ہے جیسے کل کی بات ہو، جب تُو میری انگلی پکڑ کر اسکول گیا تھا۔ اور آج… دولہا بن گیا میرا بچہ۔”
زرمان نے ہنس کر کہا،
“اب بھی آپ کا ہی بچہ ہوں، امی۔ صرف کپڑے بدل گئے ہیں۔”
ماں نے شفقت سے اس کے گال چھوئے،
“ہاں، مگر وقت بدل گیا ہے۔ اب کوئی اور تیری زندگی کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ بس یہی دعا ہے کہ وہ تجھے وہی پیار دے جو میں نے دیا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔”
زرمان نے آگے بڑھ کر ماں کے ہاتھ تھام لیے،
“، آپ فکر نہ کریں۔ میں کبھی آپ کو اکیلا نہیں ہونے دوں گا۔ آپ میری دنیا ہیں۔”
ماں کی آنکھوں میں پھر آنسو تیرنے لگے۔
“پتا ہے، زرمان، جب تو پیدا ہوا تھا نا، تو تیرے ابا نے کہا تھا، ‘یہ ہمارا راجپوت شیر ہے۔’ آج لگ رہا ہے واقعی شیر بن گیا میرا بیٹا۔”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ صرف پس منظر میں بینڈ باجے کی ہلکی آواز سنائی دے رہی تھی۔ زرمان نے گہری سانس لی، آئینے کے سامنے دوبارہ کھڑا ہوا، اپنی شیروانی کے بٹن بند کیے، اور کلائی پر گھڑی پہنی۔
ماں نے پیچھے سے اس کی پگڑی سیدھی کی،
“یہ ذرا ٹیڑھی لگ رہی تھی، اب ٹھیک ہے۔”
زرمان نے مسکرا کر کہا،
“اگر آپ نہ ہوتیں تو میں شاید دولہا کے بجائے کوئی مذاق لگتا۔”
ماں نے ہنستے ہوئے کہا،
“بس اب چل، سب نیچے انتظار کر رہے ہیں۔ مگر ایک بات یاد رکھ — اپنی بیوی کا ہاتھ تھام کر ہمیشہ اس کا سہارا بننا، جیسے آج تک تو میرا سہارا بنا رہا۔”
آپ کی دعاؤں کے بغیر تو کچھ بھی نہیں، امی
ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا،
“خوش رہ میرے بچے ۔”
کمرے میں روشنی اور جذبات ایک ساتھ بھر گئے۔ ماں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، ان کا بیٹا اب مکمل دولہا بن چکا تھا — مگر ان کے لیے وہ آج بھی وہی چھوٹا سا زرمان تھا جو ان کی آغوش میں سوتا تھا۔
ہیر سفید جوڑا پہنے، آئینے کے سامنے بیٹھی تھی۔ چہرے پر ہلکی سی شرم، آنکھوں میں خوشی نمی، اور لبوں پر ہلکی سی دعا۔ اس کا دوپٹہ نرمی سے کندھوں پر گرا ہوا تھا، اور کانوں میں چھوٹی سی جھمکیاں ہلکی روشنی میں چمک رہی تھیں۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔
ریحان اندر آیا — ہاتھ میں چائے کا کپ، اور چہرے پر ہمیشہ والی شرارت۔
بی بی دلہن، حضورِ عالی! جنابِ ہیر بی بی صاحبہ! یہ لیجیے چائے، تاکہ نکاح کے وقت نیند نہ آ جائے۔”
ہیر نے ہنستے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔ “ریحان خدا کا خوف کرو۔ آج مجھے تنگ نہ کر، پلیز۔ دل پہلے ہی دھک دھک کر رہا ہے۔”
ریحان نے مصنوعی سنجیدگی سے سر ہلایا، پھر بول اٹھا، “واہ، تو آخرکار وہ دن آ ہی گیا جب ہماری شہزادی کسی اور کی ہو جائے گی۔ اب ہم تمہیں تنگ نہیں کر سکیں گے، نہ چائے چھپائیں گے، نہ فون چوری کریں گے۔”
وہ دکھ کا ڈرامہ کرتے ہوئے دیوار کے ساتھ لگ گیا، “اب میرا کیا ہوگا؟ میں تو یتیم ہو گیا۔”
ہیر نے ہنستے ہوئے تکیہ اٹھایا اور اس کی طرف اچھال دیا۔ “ڈرامے باز! ابھی سے جذباتی ہو گئے ابھی تو نکاح ہوا بھی نہیں۔”
ریحان نے تکیہ پکڑ کر زور سے سینے سے لگایا، “یہی تکیہ اب میری بہن ہے۔ کیونکہ اصل بہن تو کسی اور کی ہو رہی ہے۔”
ہیر کے چہرے پر ایک لمحے کو مسکراہٹ رکی، پھر اس کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آگئی۔ “ریحان تمہیں پتہ ہے، تم بہت بےوقوف ہو۔”
“ہاں، پتہ ہے۔ تبھی تو تم جیسی سمجھدار بہن ملی۔”
ریحان نے کہا، اور پھر اس کے قریب بیٹھ گیا۔ کچھ لمحے خاموشی میں گزر گئے۔ کمرے کے باہر سے مہمانوں کی سرگوشیاں آ رہی تھیں، مولوی صاحب کی آواز، اور دعا کے بول۔ دل کی دھڑکنیں جیسے ہر آواز کے ساتھ تیز ہو رہی تھیں۔
ریحان نے دھیرے سے کہا، “سچ بتاؤ، ڈر لگ رہا ہے؟”
ہیر نے آہستہ سے سر ہلایا۔ “ہاں، تھوڑا۔ سب کچھ نیا ہے نا۔ امی کہہ رہی تھیں سب اچھا ہوگا، مگر دل کہتا ہے… پتہ نہیں۔”
ریحان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔ “ہیر، تم بچپن سے بہادر رہی ہو۔ یاد ہے جب میں درخت سے گرا تھا اور سب ڈر گئے تھے؟ تم ہی تھیں جو بھاگ کر ڈاکٹر لائی تھیں۔ تم نے کبھی ہار نہیں مانی۔ اب کیوں ڈر رہی ہو؟”
ہیر کی آنکھوں سے ایک قطرہ بہہ نکلا۔ “کیونکہ اب تم میرے ساتھ نہیں ہوگے۔”
ریحان ہنس دیا، مگر ہنسی میں نمی تھی۔ “ارے پاگل، میں تمہارے ساتھ ہمیشہ رہوں گا۔ جیسے دلاور بھائی سے بچنے کے لیے ہمیشہ تمھارے ساتھ رہا ہوں ۔۔ صرف گھر الگ ہو گا دل نہیں۔ ویسے بھی، جسے تم ملنے جا رہی ہو، وہ میرا بہنوئی ہے، میرا دشمن نہیں۔”
“بس دعا کرو وہ تمہیں برداشت کر سکے، کیونکہ تم تو پورا طوفان ہو۔”
ہیر نے ناک سکوڑ کر کہا، “میں تمہیں ابھی بھی مار سکتی ہوں!”
ریحان نے فوراً ہاتھ جوڑ لیے۔ “نہیں بی بی! آج نہیں! آج آپ دلہن ہیں۔ اگر میک اپ ضائع ہو گیا تو، اور پھر سارا الزام مجھ پر آئے گا۔”
ہیر زور سے ہنسی۔ “تمہیں پتہ ہے تمہاری یہ باتیں میری ساری ٹینشن دور کر دیتی ہیں۔”
ریحان نے مسکرا کر کہا، “یہی تو بھائی ہونے کا کام ہے۔”
اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔ امی اندر آئیں، ان کی آنکھوں میں خوشی اور تھوڑا سا دکھ۔ “ہیر بیٹا، سب تیار ہیں۔ مولوی صاحب بلا رہے ہیں۔”
ہیر نے سر ہلایا، مگر وہیں بیٹھی رہی۔ ریحان نے دیکھا، تو بولا، “چلو نا، کیا ہوا؟”
ہیر نے سر جھکا کر کہا، “بس، ابھی دل نہیں کر رہا اٹھنے کو۔” اور بابا نے کہا تھا دلاور بھائی کو بھی بولیں گے ۔۔ ؟ اگر وہ اگر ہے تو اُن کو میرے کمرے میں بھیج دے نہ میں اُن سے مل لوں ۔۔ کو جیسے بھی ہیں میرے بھائی ہیں ۔۔ ہیر کی امی باہر چلی گئی
ریحان نے دھیرے سے اس کی چادر سیدھی کی، پھر اس کے کان کے قریب آ کر بولا، “پتہ ہے، ابا کہتے تھے، جب لڑکیاں رخصت ہوتی ہیں نا، تو وہ صرف گھر نہیں چھوڑتیں، وہ اپنے بھائی کے بچپن کی ہنسی بھی ساتھ لے جاتی ہیں۔”
یہ کہہ کر وہ خود چپ ہو گیا۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ہیر کے چہرے پر آنسو بہنے لگے، مگر وہ مسکرا رہی تھی۔ “میں تمہیں یاد کروں گی۔”
“میں بھی۔” ریحان نے کہا، “لیکن وعدہ کرو، جب بھی تم خوش ہو، مجھے فون کرو گی۔ اور جب رو رہی ہو، تب بھی۔ کیونکہ میں وہی بھائی ہوں جو تمہارا موڈ خراب دیکھ کر خود بھی رو پڑتا ہے۔”
ہیر نے سر ہلایا۔ “وعدہ۔”
پھر اچانک ریحان نے چالاکی سے کہا، “اور ایک اور وعدہ — زر مان کے آنے کے بعد مجھے بھول مت جانا۔”
ہیر نے قہقہہ لگایا۔ “تمہیں بھولنا ناممکن ہے۔ تم تو ہر جگہ یاد رہتے ہو
ریحان نے ہاتھ جوڑ کر کہا، “بس یہی کافی ہے۔ اب چلو، ورنہ امی پھر کہیں گی کہ ریحان نے بہن کو تاخیر کروا دی۔”
دونوں اٹھے۔ ریحان نے اس کا دوپٹہ ذرا سا درست کیا حیات اور رخسار بھی کمرے میں اگئی
ریحان نے ، پھر اسے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا۔
“دیکھو، کتنا خوبصورت دن ہے، اور تم اس دن کی سب سے خوبصورت چیز ہو۔”
ہیر کے چہرے پر شرم سے مسکراہٹ آگئی
ابھی نکاح کی رسم شروع ہونے میں تھوڑی دیر تھی ریحان اس کے سر پر ہاتھ رکھتا کمرے سے باہر چلا گیا کیونکہ ہیر نے خود ہی کہا تھا کہ وہ شکرانے کے دو نفل ادا کرنا چاہتی ہے۔۔۔
حیات اور رخسار کو بھی اس میں کمرے سے باہر بھیج دیا تھا دلاور کو اس کی امی ابھی لینے گئی تھی۔۔
جو باہر لاؤنج میں صوفے پر خاموشی سے بیٹھا تھا
دلاور نے پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا اور بے ساختہ اس نے اپنی کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تھا شاید کوئی چیز تلاش کر رہا تھا۔۔
جب اس کی امی اس کے پاس ائی اور چہرے پر بنا کسی تاثر کے بولی تمہاری بہن تمہیں اندر کمرے میں بلا رہی ہے کہہ رہی ہے وہ تم سے اخری بار ملنا چاہتی ہے ویسے تم نے اس کے ساتھ اچھا تو نہیں کیا لیکن کیا کرے وہ بہن ہے نا اس کا دل بہت نازک ہے تم جا کر اس کے سر پر ایک بار شفقت بھرا ہاتھ ہی رکھتے اور اس کا بہت خاص دن ہے۔۔دلاور کچھ دیر بیٹھا رہا۔۔
پھر صوفے سے اٹھ کر ہیر کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا نکاح گھر میں ہی رکھا گیا تھا۔۔
ہیر نے نفل ادا کر لیے تھے اور اب وہ دلہن کے جوڑے میں بیٹھی جائے نماز پر دعا کر رہی تھی۔۔میں نہیں جانتی میں اپ کا کیسے شکر ادا کروں اللہ اپ نے زرمان راجپوت کو میری قسمت میں لکھ دیا ۔۔بس اج کا دن میرے لیے اچھا بنا دے۔۔بس اج کچھ بھی غلط نہ ہو۔۔
لیکن پتہ نہیں کیوں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے مجھے سمجھ نہیں ارہا میں کیا کروں۔۔جس سے میرے دل کی گھبراہٹ ختم ہو جائے۔۔میرا دل گھبرا رہا ہے جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے۔۔
بس اپ سب سنبھال لینا۔۔اس نے اپنے چہرے پر امین کر کے ہاتھ پھیرا۔۔اور تب ہی اہستہ سے دروازہ کھلا اندر دلاور خان داخل ہوا۔۔ہیر کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ہیر نے گھوم کر اس کو دیکھا دلاور چلتا ہوا اس سے کچھ فاصلے پر ایا اور وہاں کھڑا ہو گیا ہاتھ ابھی بھی کوٹ کی جیب کے اندر تھا۔۔۔میں جانتا ہوں میں نے پچھلی بار جو بھی کیا وہ غلط تھا مجھے تمہیں اس طرح نہیں مارنا چاہیے تھا ہیر۔۔
میں نے اپ کو اس کے لیے معاف کیا بھائی۔۔غلطی انسانوں سے ہی ہوتی ہے۔۔۔
تم کیوں زر مان راجپوت سے شادی کرنا چاہتی ہو ہیر۔۔
کیونکہ مجھے اس سے محبت ہے اس لیے۔۔۔
تمہیں پتہ ہے مجھے اپنی انا سے سب سے زیادہ محبت ہے میں اپنے غرور کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں تم جانتی ہو نا۔۔
لیکن مجھے یقین ہے اب اپ کچھ نہیں کریں گے بھائی۔۔۔
اور تمہارا یقین بہت غلط ہے ہیر خان۔۔مجھے تمہیں اس طرح نہیں مارنا چاہیے تھا مجھے تمہیں ایسے مارنا چاہیے تھا۔۔۔دلاور نے کہتے ہوئے اپنے کورٹ کی جیب میں سے گن باہر نکالی۔۔ہیر کے چہرے کی رنگت اڑ گئی ۔۔۔ہیر کو وقت نہیں لگا تھا سمجھنے میں کہ اس کا دل کیوں گھبرا رہا تھا اتنی خوشی کے دن میں بھی اس کا دل کیوں کچھ غلط ہونے کا اشارہ دے رہا تھا۔۔جہاں دلاور خان ہو اور وہاں مصیبت نہ ہو ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔اور یہ وہ پل تھا جب ہیر خان پچھتائی تھی کہ اس نے دلاور کو اپنی شادی پر بلایا ہی کیوں تھا۔۔
کیا وہ مرنے والی تھی دلاور نے ہیر کی طرف اپنے گن تان رکھی تھی ہیر کے سر کی طرف اس کا پورا ارادہ تھا ہیر خان کی جان لینے کا اپنی بہن کی جان لینے کا ۔۔۔
ریحان جاؤ تو ذرا جا کر ہیر کو بولا کے لاو نکاح کی رسم شروع کریں بیٹا۔۔جی بابا میں جاتا ہوں۔۔
ریحان سوفے سے اٹھا اور اٹھ کر ہیر کے کمرے کی طرف قدم بڑھا دیے۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی۔۔تم نے میری بات کیوں نہیں مانی ہیر خان۔۔دلاور دبی دبی اواز میں ہیر پر چلا رہا تھا۔۔
ریحان نے ہیر کے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔
دلاور خان نے اپنی گن کا ٹرگر دبایا۔۔نشانہ ہیر خان کا سر تھا۔۔
ریحان اندر کمرے میں داخل ہوا اور داخل ہوتے ہی زوردار اواز اس کے کانوں میں پڑی ۔۔
ٹھا ۔۔دلاور خان نے گولی چلا دی تھی۔۔۔
ریحان خان دروازے میں ہی اپنی جگہ ساکت کھڑا رہ گیا۔۔۔
گولی کی زوردار اواز پر زرمان راجپوت اور سب ہی اندر کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔۔
اور جب زرمان اندر کمرے میں داخل ہوا تو جائے نماز کے پاس ہیر کو زمین پر گرے پایا۔۔وہ بے ہوش نہیں ہوئی تھی ابھی ہوش میں تھی۔۔ گولی اس کے دل کے ذرا اوپر لگی تھی۔۔۔ گولی چلنے پر ہیر فوراًنیچے جھکی تھی۔۔۔اور دماغ میں گولی لگنے کے بجائے دل کے ذرا اوپر گولی لگی تھی کندھے کے قریب۔۔اگر گولی ذرا نیچے لگتی تو ہیر کا دل کام کرنا چھوڑ دیتا۔۔۔ وہ ابھی بے ہوش نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے کہ دلاور ایک اور گولی مارتا ریحان اور زرمان نے فوراً دلاور خان کو دبوچا تھا۔۔
زرمان نے جب دیکھا کہ دلاور کو ریحان نے پکڑ رکھا ہے اور کچھ اور لوگ بھی تھے کچھ زرمان کے دوست۔۔جنہوں نے دلاور خان کو دبوچ رکھا تھا زرمان فوراً ہیر کی طرف بڑھا۔۔۔
ہ۔۔ہیر ۔۔ہیر اٹھیں۔۔ ہیراپ ٹھیک ہیں۔۔ی۔۔یہ ک۔کیا ہو گیا ہے اٹھیں ۔۔ ہیر کو ابھی بھی تھوڑا بہت ہوش تھا۔۔اور دلاور بار بار خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔
وہ جو کرنے ایا تھا اس نے کر دیا تھا۔۔لیکن اس کا کام ابھی ادھورا تھا اس کی بہن کی سانسیں چل رہی تھی۔۔۔ ہیر نے لڑکھڑاتے لہجے میں بے ہوش ہونے سے پہلے اخری الفاظ جو بولے تھے وہ دلاور خان کے لیے ہی تھے۔۔۔
م۔۔میں اپ۔۔ کو معاف کرتی ہوں بھائی
اور ہیر بے ہوش ہو گئی تھی۔۔دلاور خان جو کب سے خود کو چھڑوانے کی کوششیں کر رہا تھا وہ بے ساختہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرا تھا۔۔
وہ جسے مارنے ایا تھا وہ اس کی دشمن نہیں۔۔اس کی دشمن تو اس کی اپنی انا تھی۔۔جس نے اسے مجبور کیا تھا اپنی ہی بہن کو مارنے کے لیے۔۔ایک لمحہ لگا تھا دلاور خان کی انا مٹی میں مل گئی تھی۔۔ وہ بے سدھ زمین پر بیٹھے بے ہوش ہیر کو دیکھ رہا تھا جس کو اب ریحان اور زرمان پکڑ کر کمرے سے باہر کی طرف بھاگے تھے۔۔ ہاں سفید رنگ ہر کسی پر نہیں جچتا۔۔کیونکہ سفید صرف نور یہ پاکیزہ رنگ ہی نہیں کفن کا رنگ بھی ہوتا ہے وہ سفید لہنگے والی اپسرہ کو گولی لگ چکی تھی وہ جس کی اج شادی تھی اب وہ موت کے موں میں جُھل رہی تھی دلاور جانتا تھا ہیر نے نہیں بچنا تھا ۔۔۔
لیکن کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
