سکوت قسط نمبر: :۱۶
ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔
“تم سے مل کر بہت اچھا لگا مجھے۔”
وہ پارکنگ میں کھڑے تھے، جب فیض نے اُس سے مصافحہ کرتے کہا۔
ازمیر اُس کے اخلاق دیکھ اندر سے حیرت زدہ ہوتا تھا۔
“مجھے بھی اچھا لگا اسٹیفن سے مل کر۔ اچھا ہوتا سائفر سے مل لیتا تو۔۔۔”
ازمیر نے گلہ کرتے کہا، تو فیض مسکرا دیا۔
“سائفر کی وجہ سے میں معذرت خواہ ہوں۔”
ازمیر مسکرا دیا اور ہاتھ میں پکڑا ایک بریف کیس اُس کی طرف بڑھایا۔
“یہ میں تمہارے لیے تحفہ لایا تھا۔”
فیض نے وہ تھاما اور جب کھولا، تو حیرت زدہ رہ گیا۔
اندر سونے کی اینٹیں سجی رکھی تھیں۔
“اِس کی ضرورت نہیں تھی ویسے۔”
اُس نے شکریہ ادا کرتے بریف کیس گارڈ کی جانب بڑھایا، جسے وہ فوراً تھام گیا۔
“سر۔”
ابھی وہ دونوں ٹھہرے بات ہی کر رہے تھے کہ پیچھے سے ایک گارڈ عجلت میں آتا اُسے بلانے لگا۔
“ہمم۔ بولو۔”
“راہداری میں ایک گارڈ بے ہوش ملا ہے۔”
فیض نے اچھنبے سے اُسے دیکھا، جبکہ ازمیر نے تاثرات حیرت زدہ کر لیے۔
“کیوں؟ کیا ہوا ہے؟”
فیض نے تشویش سے پوچھا۔
“سر، پتا نہیں۔”
“میں آتا ہوں، تم چلو۔”
“ٹھیک ہے پھر، اسٹیفن خداحافظ۔”
ازمیر نے کہا، تو فیض سر ہلا کر رہ گیا۔
ازمیر گاڑی میں بیٹھا اور اُن کی گاڑی بنگلے کی حدود سے نکلنے لگی۔
سفید بنگلے نے سر جھٹکتے اُن کی گاڑی دور جاتے دیکھی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائیرپورٹ پر معمول کی گہما گہمی تھی۔
وہ گاڑی سے نکلا، اپنا بریف کیس نکالا اور وہاں سے آگے بڑھ گیا۔
کچھ قدم چلتے اُس نے پیچھے مُڑ کر دیکھا۔ گاڑی پیچھے مُڑ کر اُس کی نظروں سے اوجھل ہوتی جا رہی تھی۔
ازمیر نے گہرا سانس لیا، پھر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں اُس نے اپنا سفید لباس اُتارتے اُسے ڈسٹ بِین میں اچھال دیا، پھر سر پر باندھا رومال بھی اُس نے وہیں پھینک دیا۔
پھر خود کو ایک نظر دیکھتے اُس نے اپنے لینز اُتارے۔ اب وہ داڑھی مونچھ ہٹا رہا تھا۔ اُس نے سب کچھ بریف کیس میں ڈالا اور مزاحم کو کال کی۔
فون پہلی ہی گھنٹی پر اٹھا لیا گیا تھا۔
“میں ائیرپورٹ پر ہوں۔”
اُس نے اتنا کہا اور فون واپس جیب میں رکھ لیا۔
مزاحم نے ازمیر کی بات سنتے فون کان سے ہٹایا اور سامنے کرسی کے ساتھ بندھے مصطفیٰ کو دیکھا۔
“چلو، تمہیں واپس وہاں چھوڑ دوں۔”
مصطفیٰ نے زہر خند نظروں سے اُس کے ماسک میں چھپے چہرے کو دیکھا تھا، جبکہ وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیض نے ایک نظر بے ہوش پڑے گارڈ کو دیکھا۔
“کیا اِس نے ڈرنک کی تھی؟”
اُس نے ساتھ کھڑے کچھ گارڈز میں سے پوچھا۔
“نہیں سر۔ ہم میں سے کوئی بھی ڈرنک نہیں کرتا۔ یہ کل آپ کے کمرے کے سامنے پہرا دے رہا تھا۔”
فیض چونکا۔ پھر بے اختیار نظریں دائیں جانب اپنے کمرے کی طرف موڑ گیا۔ اُس کی چھٹی حس نے اُسے فوراً ریڈ الارم کی آواز سنائی تھی۔
“کنٹرول روم میں چلو۔”
وہ فوراً سے پہلے کہتا خود بھی کنٹرول روم کی طرف چل دیا۔
جیسے ہی اُنہوں نے دروازہ کھولا، فیض کے چودہ طبق روشن ہوئے۔
اندر کنٹرولر بھی بے ہوش پڑا تھا۔ ساری سکرینز شٹ ڈاؤن تھیں۔
“ڈیم اٹ! یہ کیا ہو رہا ہے؟”
وہ دھاڑا تھا۔ گارڈز سہم کر پیچھے ہوئے۔
“کون سالا یہاں آیا تھا؟ کس نے کیا ہے یہ سب؟”
وہ اب اُن سب پر چلا رہا تھا۔
“تم لوگ کس لیے ہو یہاں؟ اگر یہ سب مصطفیٰ کی موجودگی میں ہوتا تو یہ منہ دیکھ۔۔۔”
وہ ساکت ہو گیا۔
گارڈز نے چونک کر اُس کی جانب دیکھا تھا، جو برف کے مجسمے کی طرح اپنی جگہ جم گیا تھا۔
“مصطفیٰ۔۔۔”
وہ ہولے سے بڑبڑایا۔
“مصطفیٰ ائیرپورٹ سے غائب نہیں ہونا چاہیے!”
اُس نے دھاڑتے ہوئے کہا تھا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگا۔
گارڈز فوراً وہاں سے بھاگتے ہوئے مین ڈور کی طرف گئے تھے۔
وہ کمرے میں آیا اور فوراً اپنی الماری کی طرف بڑھا۔
تمام فائلز غائب تھیں۔ USBs غائب تھیں۔
فیض کو لگا، وہ عمارت کے نیچے دب گیا ہو جیسے۔ اُس کا سر چکرا کر رہ گیا۔
کوئی اُس کے گھر میں، اُس کے ناک کے نیچے سے اُسے لوٹ کر چلا گیا اور اتنا بڑا مافیا جان بھی نہ سکا۔
“میں تمہیں جان سے مار دوں گا، مصطفیٰ زیدی!”
وہ شدتِ طیش سے دھاڑا تھا۔
درختوں پر موجود پرندے اُس کی دھاڑ سے سہم کر اُڑ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مصطفیٰ گارڈز کے شکنجے میں تھا، جو اُسے لیے لاؤنج میں داخل ہو رہے تھے۔ کچھ دیر پہلے ہی ازمیر اور مزاحم اُسے ائیرپورٹ پر چھوڑ کر خود پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔ اُس سے پہلے، اُن کے جانے کے بعد سکھ کا سانس لیتے اُسے فیض کے گارڈز نے جکڑ لیا تھا۔ ایک بار پھر قیدی بن کر اُسے جی بھر کر رونے آیا تھا۔
فیض، جو صبر کے آخری پیمانے پر تھا، اپنے سامنے آتے نڈھال سے مصطفیٰ کو دیکھ کھول اُٹھا۔
وہ فوراً صوفے سے اٹھا اور اُس کی طرف بڑھا، مگر اگلے ہی پل وہ ساکت ہو گیا۔
“یہ کس حرام خور کو اٹھا لائے ہو تم سب؟”
وہ طیش سے دھاڑا تھا۔ مصطفیٰ آنکھیں میچ گیا۔
گارڈز نے حیرت سے اُس عرب مصطفیٰ کو دیکھا۔
“سر، یہ مصطفیٰ زیدی ہی ہے۔”
“لعنت ہو تم سب پر، یہ۔۔۔”
“میں اصلی مصطفیٰ زیدی ہوں!”
اِس سے پہلے فیض کچھ بولتا، مصطفیٰ نے خوف سے لبریز آواز میں کہا۔
فیض رک سا گیا۔
“کیا مطلب؟”
اُس کے سامنے خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔
مصطفیٰ نے ایک نظر اُسے دیکھا، پھر اُسے سب بتاتا گیا۔
فیض نے سر تھام لیا۔ اُس کا دماغ چکرا کر رہ گیا تھا۔ کوئی اُسے بے وقوف بنا کر چلا گیا اور وہ گدھوں کی طرح کھڑا رہ گیا۔
“لعنت ہو تم سب پر!”
وہ دھاڑا تھا۔
“تم سب گدھے ہو۔ وہ میری قیمتی چیزیں ساتھ لے گیا ہے۔ میرا پورا سیف خالی تھا۔ اگر وہ انویسٹیگیٹر ہوا، تو ہم تباہ ہو جائیں گے، ڈیم ا۔۔۔”
اِس سے پہلے وہ بات پوری کرتا، اُس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا۔
“اُسے کیسے پتا چلا کہ مصطفیٰ میرے پاس آنے والا ہے؟”
وہ خود سے بولا۔
اُس کا دماغ تانے بانے بننے لگا۔ مصطفیٰ سہمی نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اُس نے دلاور کو کال کی، جو پہلی ہی گھنٹی پر اٹھا لی گئی تھی۔
“مصطفیٰ کے رابطے کا ذریعہ کون تھا؟”
اُس نے چھوٹتے ہی سوال پوچھا۔
“احمد تھا۔”
“کون احمد؟”
“اسلام آباد کا بزنس مین ہے، احمد لغاری۔”
“وہ سالہ دھوکے باز ہے، ایک نمبر کا!”
فیض نے دانت پیستے دلاور کو ساری بات بتائی۔
“تم رکو، میں پتا کرتا ہوں۔”
“میں نہیں رکوں گا۔ اُس غدار کو پہلی فرصت میں گولی مارو!”
فیض نے پھنکارتے ہوئے کہا، پھر فون زمین پر دے مارا۔
ابھی وہ دوبارہ چیختا کہ بے اختیار اُس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا اور یہاں فیض حاکم کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔ اُس کے پورے وجود پر چونٹیاں رینگنے لگی تھیں۔ وہ برف کے مجسمے کی طرح جم گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ان دونوں نے گہری سانس بھری۔
“ویل ڈن۔” ازمیر نے مزاحم کی پشت تھپکتے ہوئے کہا، تو وہ مسکرا دیا۔
“سارا پلین تمہارا تھا۔”
“لیکن تمہارے ساتھ نے اُسے مکمل اور کامیاب بنایا ہے۔”
“ماننا پڑے گا، ازمیر علی واقعی بلا کا ذہین انسان ہے۔” مزاحم نے چلتے ہوئے خوشی سے کہا۔
“حالانکہ میں صرف سائفر سے ملاقات کرنے گیا تھا۔” ازمیر نے ہنستے ہوئے کہا، تو مزاحم بھی ہنس دیا۔
“تمہاری یہ جو صرف ملاقات ہوتی ہے نا، اگلے بندے کے چودہ طبق روشن کر دیتی ہے۔”
ازمیر نے گہری سانس بھری۔
“ویسے اسٹیفن شکل سے تو بہت شاطر اور چال باز انسان لگتا ہے۔”
“تم نے دیکھا اُسے؟”
“ہاں، کل رات ہی میں کیمراز سے کنیکٹ ہو گیا تھا۔”
“گڈ۔”
ازمیر نے اثبات میں سر ہلایا، تو مزاحم گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ نے ناک سکیڑتے ان دونوں حلال فراڈیوں کو دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں، میں کسی سے نہیں ملا ہوا۔”
احمد نے چیختے ہوئے کہا تھا۔
دلاور اُس کے سر پر کھڑا پستول اُس کی کنپٹی پر رکھے کھڑا تھا۔ اُس وقت وہ دونوں اُس کے فارم ہاؤس میں تھے۔
“تو اُس نامعلوم شخص کو کیسے پتا چلا کہ مصطفیٰ آنے والا ہے؟”
“مجھے نہیں پتا۔ اللّٰہ کی قسم، میں نہیں جانتا۔”
دلاور کو اُس کے لہجے میں سچ دکھائی دیا تھا۔ اُس نے پستول پیچھے کیا۔
“تم نے کسی سے اِس بات کا ذکر کیا تھا؟”
“نہیں، صرف تم سے فون پر بات کی تھی۔”
دلاور صوفے پر بیٹھ گیا۔ “پھر کیسے پتا چلا؟” وہ گہری نظروں سے سامنے غیرمرئی نقطے کو دیکھنے لگا۔
“جب اُس نے تمہارے سوا کسی کو کال نہیں کی، تو پھر۔۔۔” وہ رکا، پھر سیدھا ہوا۔
“کال۔۔۔ یعنی فون۔” اُس کا دماغ فوراً تانے بننے لگا۔
“تمہارا فون کہاں ہے؟” دلاور نے فوراً احمد کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کیوں؟”
“میں نے کہا، تمہارا فون کہاں ہے؟” اب کی بار دلاور نے غصّے سے کہا تھا، تو احمد آنکھیں میچ کر رہ گیا، پھر جیب سے اپنا فون نکالتے ہوئے اَن لاک کیا اور اُس کے سامنے رکھا۔
دلاور نے جھٹ سے وہ فون اُٹھایا اور سیٹنگز میں گیا۔
اُس نے فوراً سسٹمز کے آپشن کو کلک کیا تھا۔
اُس کا خدشہ درست ثابت ہوا تھا۔ ہک ہاہ۔۔۔ وہاں ایک ہِڈن سافٹ ویئر پچھلے پانچ دنوں سے ایکٹو تھا۔
“لعنت ہو تم پر، گدھے انسان! کوئی تمہارے فون کو ہیک کر چکا ہے اور تمہیں پتا بھی نہیں چلا؟” دلاور طیش سے پھنکارا تھا۔
احمد حیرت زدہ سا فون دیکھ کر رہ گیا۔
“کس کو دیا تھا تم نے اپنا فون؟”
“ک۔۔۔ کسی کو نہیں۔”
“پھر یہ سب تمہاری ماں کر گئی ہے؟” وہ دانت پیستے ہوئے پوچھتا ہے۔
“میری ماں پر مت جاؤ۔” احمد ناک سکیڑتے ہوئے بولا، تو دلاور اُس پر لعنت بھیج کر رہ گیا۔
“اب مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔”
وہ فوراً اُٹھا اور پستول جیب میں اڑس لی۔
اُسے فوراً سائفر کو اِن سب باتوں سے آگاہ کرنا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترکی
شام ڈھل رہی تھی اور باسفورس کے کنارے رکھی لکڑی کی بینچیں ٹھنڈی ہوا سے چھو کر ہلکا سا نم احساس دے رہی تھیں۔ سامنے سمندر کی لہریں خاموشی سے کنارے سے ٹکرا رہی تھیں، جبکہ دور جگمگاتی روشنیاں پانی پر لرزتی دکھائی دے رہی تھیں۔ اِس سنسان راستے پر عجیب سا سکون پھیلا ہوا تھا۔ وہ دونوں انہی بینچوں میں سے ایک پر بیٹھے تھے۔ سمندر اُن کے سامنے تھا اور خاموشی اُن کے درمیان۔
“تم گھر پر بھی تو بات کر سکتے تھے؟” دلارے نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا، تو وہ مسکرایا۔
“ہاں، کر تو سکتا تھا، مگر ہم نے انجوائے بھی تو کیا ہے۔”
وہ بھی مسکرا دی۔
وہ دونوں کئی مختلف جگہوں پر گئے تھے اور بہت مزے کیے تھے۔ ابھی بھی وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھا کر آئے تھے۔
“تم بتاؤ، پہلے تم کیا کہنا چاہتی تھی؟” مرزا نے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا، تو وہ بے اختیار سرخ ہوئی تھی۔
“پہلے تم بتا دو۔”
“لمبی بات ہے۔”
“میں سن رہی ہوں۔” دلارے نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں بہار تھی۔
مرزا ایک پل کے لیے اُسے دیکھتا ہے، پھر گہری سانس بھرتا ہے۔
“مجھے محبت ہو گئی ہے، دلارے۔۔۔”
دلارے نے سانس روک لیا۔
“صاحبہ شاہ سے۔”
وہ سانس نہیں لے سکی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا ایک پل کے لیے اُسے دیکھتا ہے، پھر گہری سانس بھرتا ہے۔
“مجھے محبت ہو گئی ہے، دلارے۔”
دلارے کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔ وہ بے اختیار سانس روک گئی۔ محبوب کا اعتراف سننا تو کبھی آسان نہیں ہوتا۔
“مجھے صاحبہ سے محبت ہو گئی ہے۔”
سمندر کی تیز سنسناتی لہریں تیزی سے اُس کے پیروں کو چھو کر جاتیں، اُسے برف کا مجسمہ بنا گئی تھیں۔ اُس کی آنکھیں خزاں کی طرح خشک ہو گئی ۔
“میں اُس سے محبت کرنے لگا ہوں۔۔۔ بے انتہا محبت۔”
دلارے سانس روکے اُسے سن رہی تھی۔
“میں۔۔۔۔۔۔”
وہ کچھ اور بھی کہہ رہا تھا۔ کیا؟ وہ نہیں جانتی تھی۔ جانتی تھی تو اتنا کہ اُس کی پوری زندگی کی ریاضت اکارت چلی گئی۔
مرزا کے جملے اُس کے آس پاس شور مچا رہے تھے۔ دل میں درد اُٹھا تھا۔ اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہوتا گیا۔
“ح۔۔۔ا۔۔۔حاکم۔۔۔”
اُس نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اُسے بلایا۔ اُس کا وجود ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔
مرزا نے چونک کر اُسے دیکھا اور اگلے ہی پل وہ ڈر گیا۔
دلارے کی حالت غیر ہو رہی تھی۔
“دلارے، کیا تم ٹھیک ہو؟” مرزا نے اُسے بازوؤں سے پکڑا تھا۔
جبکہ وہ دل پر ہاتھ رکھتی جھکتی جا رہی تھی۔ گلے میں پھنسے آنسو اندر ہی اندر گرتے، اُسے بے بس کر رہے تھے۔ اُس کی آنکھوں میں تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔
وہ دھاڑیں مار مار کر رونا چاہتی تھی، مگر اُس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔
“دلارے، اُٹھو!” وہ اُسے گود میں اُٹھا رہا تھا۔
“مجھے صاحبہ سے محبت ہو گئی ہے۔۔۔” ایک جملہ اُس کی سماعتوں میں گونجا اور۔۔۔ اُس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
رات کے سائے ہر طرف چھا چکے تھے۔ آج زونیرہ کی برسی تھی۔ دائم نے گھر میں قرآن خوانی رکھوائی تھی، جس کے سارے انتظامات صاحبہ نے خود سنبھالے تھے۔ شام کو لوگ جا چکے تھے، لیکن زریاب کچھ دیر تک دائم کے ساتھ بیٹھی رہ گئی تھی۔ وہ صاحبہ کو گلے لگا کر کافی دیر تک روئی تھی۔ صاحبہ آج بھی اُن کے لیے محراب کی طرح تھی۔ جب وہ کچھ وقت بعد چلی گئی، تو وہ بھی کچھ دیر آرام کے لیے چلی گئی تھی۔ پورے دن کی مصروفیات میں اُنہیں ابھی ساتھ بیٹھنے کا وقت ملا تھا۔
“تم بالکل رابعیہ (دائم کی پہلی بیوی) کی طرح چائے بناتی ہو۔” دائم نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
وہ دونوں اُس وقت لان میں بیٹھے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اُن کے وجود سے مس ہوتی تازگی بخش رہی تھیں۔
دائم کی بات پر وہ بھی مدھم سا مسکرا دی۔
دائم ایک دو پل اُسے دیکھتا رہا، پھر اُس نے اپنا کپ میز پر رکھا۔
“صاحبہ۔۔۔”
اُنہوں نے اُسے دھیرے سے پکارا۔
اُس نے اُن کی طرف چہرہ موڑا۔
“آئی ایم سوری۔”
اُن کا لہجہ اِلتجائیہ تھا۔ کرب زدہ تھا۔ بے بس تھا۔
صاحبہ نے کچھ نہ کہا، بس ایک دو پل اُنہیں دیکھتی رہی۔
“آئی ایم سوری۔” اب کی بار اُن کی آواز نم تھی۔
صاحبہ دھیرے سے اُٹھی اور اُن کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
“کیا آپ نے کچھ برا کیا تھا؟” اُس نے سنجیدگی سے اُن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
دائم نے ناسمجھی سے اُسے دیکھا تھا۔
“مجھے بتائیے، کیا آپ نے کچھ برا کیا تھا؟ کیا آپ چاہتے تھے کہ مجھے تکلیف ہو؟”
“نہیں، بالکل نہیں۔” وہ فوراً نفی میں سر ہلاتے بولے۔
“پھر معافی کیوں مانگ رہے ہیں؟ وہ سب ہونا ہی تھا۔ اگر میں اِن سب کرائسز میں نہ اُلجھتی، تو آج میں اتنی سٹرونگ نہ ہوتی۔ آج میرے پاس علم نہ ہوتا۔” وہ سنجیدگی سے بول رہی تھی۔
دائم اُسے دیکھ کر رہ گیا۔
“آپ میری بات لکھ لیں، ڈیڈ، میں آپ کی بیٹی ہوں۔ میں کبھی آپ سے خفا نہیں ہو سکتی۔”
“مگر تم اتنا عرصہ مجھ سے خفا رہی ہو۔” دائم نے شکوہ کیا تھا۔
صاحبہ اُن کی بات پر تھم سی گئی۔ پھر اُس نے چہرہ موڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔
“میں اُن سے بہت اٹیچ تھی۔۔۔ بہت زیادہ۔ اور اُن کی جدائی کے غم سے آج تک موو آن نہیں کر سکی۔ اِسی لیے واپس آپ کے پاس آنے سے ڈر گئی تھی، کیونکہ اب کسی اپنے کو کھونے کا دم مجھ میں نہیں رہا۔”
دائم کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور گال پر پھسلتا چلا گیا، جبکہ وہ بے تاثر چہرہ لیے بیٹھی رہ گئی۔ وہ رونا بھول گئی تھی۔
دائم نے اُس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ وہ دھیرے سے آنکھیں بند کر گئی۔
اِس سے پہلے وہ کچھ اور کہتی، دائم کو سامنے سے تیار سا ازمیر آتا دکھائی دیا۔ دائم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
صاحبہ نے دائم کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا، تو وہ اُنہی کی طرف آ رہا تھا۔
“السلام علیکم۔” وہ اُن کی طرف آتا مہذب لہجے میں بولا۔
دائم نے اُس کا مہذب انداز دیکھ مسکراہٹ دبائی تھی۔
“وعلیکم السلام۔” وہ دونوں بیک وقت بولے۔ صاحبہ اُٹھ کھڑی ہوئی۔
ازمیر کی نظریں بے اختیار اُس پر پڑی تھیں۔
“کیسے ہیں آپ، انکل؟”
وہ کرسی پر بیٹھتے بولا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں۔ بیٹا، صاحبہ، تم اِس کے لیے چائے کا انتظام کرواؤ۔” وہ صاحبہ کو دیکھ کر کہتے ہیں، جبکہ ازمیر کا دل کلس کر رہ گیا۔ وہ جب یہاں آتا تھا، سب سے پہلے اُسے چائے کا آرڈر دیتا تھا اور اب وہ اُسے ہی سنوا رہے تھے۔ حد ہے بھئی۔
“نہیں نہیں، انکل۔ اِس کی ضرورت نہیں ہے۔”
“ارے، کوئی بات نہیں۔”
صاحبہ سر ہلا کر چلی گئی، جبکہ ازمیر نے رکی سانس بحال کی۔ صاحبہ کی موجودگی میں وہ سانس لینا بھول جاتا تھا۔
“کیسے ہو تم؟” وہ مسکراتے ہوئے پوچھتے ہیں۔
ازمیر نے دانت پیسے تھے۔ “ٹھیک ہوں میں۔۔۔ ان۔۔۔کل۔” وہ توڑ کر بولا، تو دائم کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
“یار، تم کسی لڑکی کے سامنے اتنے مینرز لے آؤ گے، مجھے پتا ہوتا تو پہلے ہی کوئی بیٹی بنا لاتا۔”
وہ ہنستے ہوئے بولے تھے، جبکہ ازمیر اُن کے قہقہے سن کر خوب بد مزہ ہوا تھا۔
“وہ کوئی “کسی” نہیں ہے۔” بے اختیار وہ دانت کچکچاتے بولا، تو دائم کی ہنسی کو بریک لگی۔ وہ تھم سا گیا۔
“کیا مطلب؟”
ازمیر ہڑبڑا سا گیا۔ “مطلب کہ۔۔۔ مطلب وہ آپ کی بیٹی ہے۔ اب اُس کے سامنے آپ کی عزت افزائی تو کرنے سے رہا۔” اُس نے بروقت بات بنائی تھی۔ “لیکن مجھے لگتا ہے، آپ کو عزت راس ہی نہیں آتی۔ کیوں، صحیح کہا نا؟”
دائم اُس پر نیت ڈال کر رہ گیا۔ “شکر ہے وہ لڑکی بچ گئی، جس کے اوپر تمہاری بری نظر تھی۔ تمہارے ساتھ رہ کر بیچاری خود تو ٹراماٹائز ہوتی، اُس کا باپ اور ماں بھی ہو جاتے۔ اللّٰہ تم جیسا داماد کسی کو نہ دے۔”
وہ اپنی ہی رو میں آسمان کو دیکھتے بولے جا رہے تھے، جبکہ ازمیر، جو کب سے ہنسی ضبط کیے بیٹھا تھا، اُن کی آخری بات پر قہقہہ لگاتے ہنس دیا اور ہنستا چلا گیا۔
دائم ہونق بنے اُسے پیٹ پر ہاتھ رکھے بچوں کی طرح ہنستا دیکھ رہے تھے۔
صاحبہ، جو ٹرے میں چائے کا کپ تھامے اُسی کی طرف آ رہی تھی، اُسے ہنستا دیکھ اپنی جگہ ہی رک گئی۔
“یار، انکل، آپ۔۔۔۔۔۔ آپ کمال ہو۔” وہ ہنسی کے درمیان بولا، جبکہ دائم نے ناسمجھی سے اُسے دیکھا تھا۔
اِس سے پہلے اُسے پھر ہنسی کا دورہ پڑتا، اُس کی نظریں دائیں جانب کھڑی صاحبہ پر گئیں، اور یہاں اُس کی ہنسی کو بریک لگی۔ وہ فٹ سیدھا ہوا تھا۔
نظریں اب بھی سامنے کھڑی لڑکی پر تھیں۔ ایک دو پل کو وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے تھے، پھر وہ نرمی سے مسکرا دی۔ اُس کی مسکراہٹ دیکھ ازمیر اندر تک سرشاری ہوا تھا۔
وہ ٹرے لیے اُس تک گئی اور اُس کے سامنے چائے کا کپ رکھا۔
“ڈیڈ، میں سونے جا رہی ہوں۔ فی امان اللّٰہ۔”
وہ نرمی سے کہتی واپس مڑ گئی۔ ازمیر نے چائے کا کپ اُٹھایا اور لبوں سے لگایا۔
“یہ بتاؤ، جرمنی سے واپس کب آئے تھے؟” دائم نے پوچھا، تو ازمیر کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
“آج دوپہر کو گھر آ گیا تھا۔ پھر آفس گیا تھا، وہیں سے سیدھا آپ کی طرف آیا ہوں۔”
“اور۔۔۔۔۔۔؟”
بڑھتی رات کے ساتھ اُن کی باتیں بھی بڑھ رہی تھیں۔
آسمان مسکراتی نظروں سے اُن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترکی
اُس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں، تو نظریں سامنے بے داغ سفید چھت پر گئیں۔ اُس کی پلکیں بھاری ہو رہی تھیں۔ وہ بڑی مشکل سے آنکھیں وا کیے کئی پل چھت کو تکتی رہی۔
اُسے آنکھیں کھولتا دیکھ، وہ جو کب سے یہاں بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا، فوراً آگے کو ہوا۔
“دلارے۔۔۔”
اپنے کان کے پاس وہی من چاہی آواز سنتے وہ آنکھیں موند گئی۔ دل کو قرار ملا تھا۔
“دلارے، اب کیسا فیل کر رہی ہو؟”
مرزا اُس کے ہاتھ پر زور دیتے بولا، تو وہ آنکھیں کھول گئی۔ بیک وقت آج شام کا منظر اُس کی آنکھوں کے آگے گھوم گیا۔ دل میں درد اُٹھا تھا۔
اُس نے دھیرے سے چہرہ موڑا، تو نیلی آنکھیں اُس کی بھوری آنکھوں سے ٹکرائیں۔
اُس کے بولے گئے جملے ایک بار پھر سماعتوں میں گونجے تھے۔ وہ کرب سے مسکرائی۔
مرزا بھی مسکرا دیا۔ “تم نے مجھے ڈرا دیا تھا، دلارے۔ میں بہت پریشان ہو گیا تھا۔” وہ اب ہلکے پھلکے لہجے میں بتا رہا تھا، جبکہ وہ اُسے دیوانہ وار دیکھتی جا رہی تھی۔
“تم نے میرے بارے میں بابا کو بتایا ہے؟” اُس نے بدقت پوچھا۔
“نہیں، وہ بہت پریشان ہو جاتے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ تمہیں شدید پینک اٹیک ہوا تھا، جس کے باعث تم حواس کھوتی بے ہوش ہو گئی تھی۔ کیا تم پہلے بھی اِس طرح anxious ہوئی ہو؟” اُس نے جانچتی نظروں سے دلارے کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
دلارے کچھ پل اُسے دیکھتی رہی، پھر اثبات میں سر ہلا گئی۔
“کب؟”
“میں نے خواب دیکھا تھا۔۔۔ برا۔۔۔ بہت برا۔”
“اوہ، دلارے۔۔۔ تم بالکل بھی بہادر نہیں ہو۔”
دلارے ہنس دی۔ مرزا بھی ہنس دیا۔ دلارے نے فرصت سے اُسے دیکھا تھا۔
وہ محبوب کا اپنے محبوب کے لیے اعتراف سن کر بھی زندہ تھی۔ کیا اب بھی وہ کمزور تھی؟ اُس نے شدت سے سوچا تھا۔ وہ دھیرے سے آنکھیں موند گئی۔
اگر وہ کچھ دیر اور اُسے دیکھتی، تو ڈھے جاتی۔۔۔ اور وہ ایسا نہیں چاہتی تھی۔ اُسے اپنا بھرم رکھنا تھا۔
کمرے کی بوسیدہ فضا نے اُسے کرب سے دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترکی
وہ جب سے وہاں بیٹھی تھی، کھلی آنکھوں سے کھڑکی کے باہر نظر آتا آسمان تک رہی تھی۔
وہ کچھ دیر بعد ہی ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو کر گھر آ گئی تھی۔ پورا راستہ اُن دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ دلارے کے اردگرد خاموشی پھیلی تھی۔
سلیم صاحب کو دلارے کے بے ہوش ہونے کا پتا چلا، تو وہ بے حد پریشان ہو گئے تھے۔ فیروزے حانم بھی کافی دیر اُس کے ساتھ بیٹھی رہی تھیں۔ مرزا کو فوری طور پر کہیں جانا پڑ گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ کچھ دیر بعد ہی چلا گیا تھا۔ رات ہوتے ہی فیروزے حانم اُسے آرام کا کہہ کر اپنے گھر چلی گئی تھیں۔ سلیم صاحب کچھ وقت دلارے کے ساتھ بیٹھے رہے، منت سماجت سے اُسے سوپ پلایا اور پھر اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔
اور دلارے تب سے گم سم بیٹھی ترکی کے سیاہ ہوتے آسمان کو دیکھے جا رہی تھی۔
آسمان کی سیاہی اُسے اپنے اندر گھستی محسوس ہو رہی تھی کہ یکایک دروازہ کھلا۔
دلارے نے کوئی حرکت نہ کی۔
نورے نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی، قدم قدم چلتی اُس کے سامنے جا ٹھہری۔
“دلارے۔۔۔” اُس نے دھیرے سے اُسے پکارا۔
اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔
نورے نے تھوک نگلا۔ آج صبح ہی دلارے نے اُسے فون پر بتایا تھا کہ وہ مرزا کو سب بتانے والی ہے، اور تب سے ہی نورے کی سانس اٹکی ہوئی تھی کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے۔ اور اب اُس کی اِس حالت کو دیکھ، اُسے خطرے کی گھنٹی زور سے بجتی سنائی دے رہی تھی۔
وہ اُس کے ساتھ بیٹھی اور دھیرے سے اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ دلارے کے سرد ہاتھ نورے کے گرم ہاتھوں میں تھے۔
“کیا اُس نے انکار کر دیا ہے؟” اُس نے دھیرے سے پوچھا۔
وہ اب بھی خاموش رہی۔ کئی پل اِسی طرح سرکے، جب دلارے نے چہرہ نورے کی جانب موڑا۔ اُس کی آنکھیں خشک تھیں۔
“اُس نے مجھے سنا ہی نہیں۔” دلارے نے مدھم آواز میں کہتے ہوئے نورے کو چونکا دیا تھا۔
“کیا مطلب؟” وہ آگے کو ہوئی۔
دلارے کرب سے مسکرائی۔ “وہ صرف اپنی بات کہہ کر گیا ہے۔”
نورے نے ناسمجھی سے اُسے دیکھا۔ “تم کیا کہہ رہی ہو؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔”
وہ ایک دو پل اُسے دیکھتی رہی، پھر بمشکل گہرا سانس لیا۔
“اُس نے کہا کہ۔۔۔” اُس کی آنکھوں میں گلابی پانی چمکنے لگا۔
“اُس نے کہا کہ وہ۔۔۔ وہ صاحبہ نامی لڑکی سے محبت کرتا ہے۔” ایک آنسو آنکھ سے نکلتا اُس کے گال پر پھسلتا چلا گیا۔ نورے کے دل کو دھڑکا سا لگا تھا۔
“وہ بتا رہا تھا کہ وہ اُس سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔”
نورے کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ یہ انکار سے زیادہ تکلیف دہ تھا، کیونکہ یہ یک طرفہ تھا۔
“آہ، میری جان۔۔۔” وہ بے اختیار اُس کے گرد حصار باندھ گئی۔
“نورے۔۔۔” دلارے شدت سے اُسے پیچھے کرتی کہتی ہے۔
“نورے۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے، میری روح کا قطرہ قطرہ زمین بوس ہوتا جا رہا ہے۔ میری سانسیں آہستہ آہستہ مدھم ہو جائیں گی۔”
وہ جنونی انداز میں بول رہی تھی۔ نورے نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
“میں بھر بھری دیوار کی طرح گر گئی ہوں۔ میری اتنے سالوں کی محبت رائیگاں چلی گئی۔” اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہے رہے تھے۔
نورے آگے بڑھی۔
وہ رو دی۔ اُس کی آواز میں کرب نمایاں تھا۔ نورے مضبوطی سے اُس کے گرد حصار باندھ گئی۔
وہ روتی ہوئی ایک ہی جملہ دہرائے جا رہی تھی۔
“میری اتنے سالوں کی محبت رائیگاں چلی گئی۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
حاکم ہاؤس کے لاؤنج میں اُس وقت خاموشی پھیلی تھی۔ وہ پُرسوچ نظروں سے میز پر رکھے گلاس کو دیکھ رہا تھا۔
“میرے پیچھے کون وار کرنے کا سوچ رہا ہے؟” اُس نے دلاور کو دیکھتے ہوئے سوال پوچھا۔
“میں خود بھی سوچ رہا ہوں، آخر کون ہے جو اتنی دیدہ دلیری کے ساتھ فیض کے گھر گھس کر اُس کے ناک کے نیچے سے اپنا کام کر گیا۔”
مرزا نے سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔ “مجھے ہر حال میں پتا کر کے دو، کون ہے جو میرے پیچھے لگ پڑا ہے۔ اسلام آباد کے ہر چھوٹے بڑے انویسٹیگیٹر کی رپورٹ مجھے لا کر دو۔”
“ٹھیک ہے، میں لا دوں گا، مگر تم ابھی کچھ عرصے کے لیے اسمگلنگ کا کام روک دو۔ ہمیں چوکنا رہنا چاہیے۔”
“ہممم۔”
ایک دو پل کے لیے اُن دونوں میں خاموشی پھیل گئی۔
“سائفر۔۔۔” دلاور نے اُسے ہولے سے بلایا۔
“بولو۔”
“اگر وہ مل گیا، تو اُس کا کام تمام کر دوں؟”
“ہرگز نہیں۔” مرزا فٹ سے آنکھیں کھولتا ہے۔
“مگر اتنے شاطر انسان کا زندہ رہنا تمہارے لیے خطرہ ہے۔” دلاور کے لہجے میں منت تھی۔
“رہنے دو تم، دلاور۔۔۔ میں نہ ہی کل قاتل تھا اور نہ آج۔”
“مگر تم قتل کر چکے ہو کسی کا۔” دلاور نے چھبتے لہجے میں کہا، تو مرزا کا سانس رک گیا۔
گلے میں گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی۔واقعی وہ اپنے اندر کے معصوم مرزا کا قتل کر چکا تھا ۔
“کیا فرق پڑتا ہے، دلاور۔۔۔” وہ افسردگی سے کہتا ہے۔
“خیر، چھوڑو۔۔۔ تمہیں جو کام کہا ہے، وہ کرو۔”
دلاور نے سر جھٹکا۔
مرزا دوبارہ سے آنکھیں موند گیا۔
رات گہری سے گہری تر ہوتی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سٹڈی میں بالکل خاموشی پھیلی تھی۔
وہ کب سے بیٹھی فائلز دیکھ رہی تھی۔ فائلز میں سارا ڈیٹا موجود تھا۔ اسمگلنگ کے راستے، کرائم پارٹنرز کے نام، خفیہ مجرموں کے نام۔۔۔ ہر شے فائلز میں موجود تھی۔ راہمہ بغور ہر چیز پڑھتی، ایک بڑے سے چارٹ پر نوٹ کرتی جا رہی تھی۔
وہ لیپ ٹاپ کھولے مختلف یو ایس بیز کا ڈیٹا سکرین پر دیکھ رہا تھا۔ اُن میں تمام کانٹریکٹ پیپرز کی فائلز موجود تھیں۔ کنٹینر کہاں، کب اور کس جگہ اسمگل ہوا ہے، کتنا پروفٹ ہوا اور کتنا سرمایہ لگا، ہر چیز اُن میں موجود تھی۔ وہ سکرین پر نظریں جمائے، ایک ہاتھ سے ساتھ رکھی نوٹ بک پر بھی ڈیٹا نوٹ کرتا جا رہا تھا۔
وہ کب سے ہاتھ میں تھاما بلیک، چھوٹا سا میموری کارڈ دیکھ رہا تھا۔ وہ یہ ساتھ نہیں لایا تھا، پھر کہاں سے آیا؟
فیض حاکم اُس وقت اپنے کمرے کے صوفے پر نڈھال سا پڑا تھا۔ بربادی کا دہانہ اُس کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔
ازمیر نے گہرا سانس بھرا اور میموری کارڈ اپنے فون میں ڈالا۔
فیض کے سامنے رکھی میز پر شراب کی بوتلیں رکھی تھیں اور وہ کرب سے بیڈ سٹول کو دیکھ رہا تھا۔ اُس رات وہ میموری کارڈ اُس کے بیڈ سٹول پر پڑا تھا۔ ازمیر نے اُس کا فون اُٹھایا، تو فون کا کنارا میموری کارڈ سے مس ہوتا اُسے نیچے کی طرف دھکیل گیا۔ نیچے ازمیر کا بریف کیس کھلا رکھا تھا، وہ سیدھا اُس میں جا گرا تھا ۔
میموری کارڈ میں موجود ڈیٹا دیکھ، ازمیر ایک پل کو چونک گیا تھا۔
فیض نے کب سے آنکھیں میچ رکھی تھیں۔ بالآخر اُس کے زوال کی شروعات ہو گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعتراف
میں آج لفظوں سے حقیقت کو بیان کرتا ہوں،
میں اپنے دل کے سبھی راز آشکار کرتا ہوں۔
وہ ایک نام جو دل میں چھپا کے رکھا تھا،
اسی کو آج سرِ عام میں پکار کرتا ہوں۔
گناہ جتنے بھی تھے، سب کی ہوئی ہے پہچان،
میں اپنے دامنِ ہستی کو شرمسار کرتا ہوں۔
نہ کوئی جھوٹ بچا ہے، نہ اب کوئی پردہ ہے،
میں خود کو آج تمہارے حضور ہار کرتا ہوں۔
وہ عشق جو کبھی خاموشی میں پلتا رہا،
میں آج اس کو زبانوں کا اعتبار کرتا ہوں۔
یہ کیسا درد ہے جو مسکرا کے سہتا ہوں،
میں اپنی ہار کو بھی اپنا وقار کرتا ہوں۔
خطائیں میری تھیں، اقرار آج کرتا ہوں،
میں زندگی کو نئے سرے سے پیار کرتا ہوں۔
تمہارے سامنے دل کی ہر ایک بات کھلی،
میں آج خود کو مکمل اعتراف کرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
ازمیر نے ہاتھ میں پکڑا میموری کارڈ اپنے فون میں ڈالا۔
اُس کی نظریں سکرین پر جمی تھیں اور چہرے پر سنجیدگی چھائی تھی۔
میموری کارڈ کا ڈیٹا مختلف فولڈرز پر مشتمل تھا۔ ازمیر فولڈرز دیکھ کر چونکا تھا۔
اُس نے پہلے فولڈر پر کلک کیا اور ایک پل کو سانس روک گیا۔ وہاں دو چھوٹے بچوں کی تصویریں تھیں۔ دونوں بچے بہت خوبصورت تھے۔ اُس نے دوسرے فولڈر پر کلک کیا۔ اُس میں فیض کے ساتھ ایک کم عمر عورت کی تصویریں تھیں۔ تیسرا فولڈر “فیملی میموریز” کے نام کا تھا۔ اُس میں اُن چاروں کی ایک ساتھ لی گئی تصاویر تھیں۔ ازمیر حیرت سے اِن تصاویر کو دیکھے گیا۔
جیسے جیسے وہ سکرول کر رہا تھا، اُس کی آنکھوں میں چمک بڑھتی جا رہی تھی۔
“گائز، یہ دیکھو۔” اُس نے مزاحم اور راہمہ سے کہا۔
اُنہوں نے چونک کر مسکراتے ازمیر کو دیکھا، پھر اُٹھ کر اُس تک آئے۔
“کیا ہوا؟”
“یہ دیکھو۔ یہ اسٹیفن کے پرسنل میموری کارڈ کا ڈیٹا ہے، جس میں اُس کی اور اُس کی فیملی کی تصاویر ہیں۔” ازمیر مسکراتے ہوئے اُنہیں بتا رہا تھا۔
راہمہ اور مزاحم نے ناسمجھی سے اُسے دیکھا تھا۔
“تو اِس میں کون سی بڑی بات ہے، ازمیر؟”
ازمیر نے اُنہیں دیکھا۔ “بڑی بات یہ ہے کہ اِس سے پتا چلتا ہے کہ وہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔ یہ میموری کارڈ اُس کے لاکر میں نہیں تھا، یہ اُس کے بیڈ سٹول پر پڑا تھا۔” وہ سنجیدگی سے اُنہیں بتا رہا تھا۔
“آگ جمع کرتے کرتے وہ اندر سے تھک چکا ہے۔ تنہائی اُسے نگلنے لگی ہے۔ اِسی وجہ سے وہ میرے ساتھ بے چینوں کی طرح وقت گزارتا تھا، کیونکہ ایک لمبے عرصے سے اُس نے کسی کے ساتھ بیٹھ کر چائے تک نہیں پی۔”
“لیکن اِن سب باتوں سے کیا ثابت ہوتا ہے؟” راہمہ نے پریشانی سے پوچھا۔
“اِن سب باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسٹیفن کو ہرانا ہمارے لیے بہت آسان ہے، کیونکہ وہ اندر سے کمزور ہے۔”
راہمہ ایک دو پل اُسے دیکھتی رہی، پھر دھیرے سے مسکرائی تھی۔
“لیکن ازمیر، ہم کیسے ہرانے والے ہیں؟” مزاحم ابھی بھی ناسمجھی سے ازمیر کو دیکھ رہا تھا۔
“ہم کچھ نہیں کریں گے۔” ازمیر مسکرایا تھا۔
“کیا مطلب؟” اُن دونوں نے بیک وقت پوچھا تھا۔
“بالکل، ہم کچھ نہیں کریں گے۔ یہ سب کام وہ کرے گا جو گندم کے دانے کو بھی فصل بنا کر پیش کرتا ہے۔”
اُس نے گہری مسکراہٹ سے اُنہیں دیکھتے ہوئے کہا۔ اُس کی بات کا مطلب سمجھتے ہی وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنس دیے۔
“یعنی یہ کام سوشل میڈیا کرے گا۔” وہ تینوں بیک وقت بولے تھے۔
ایک طرف رکھی فائلز نے ناک سکیڑتے اُن کی ہنسی سنی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد
ناشتے کی ٹیبل پر خاموشی پھیلی تھی۔ ایک طرف چاروں ملازم مؤدب سے کھڑے تھے۔
“ازمیر، مجھے مال ڈراپ کرتے جانا۔”
زریاب نے جوس کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے کہا، تو ازمیر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
ایک بار پھر اُن دونوں کے درمیان خاموشی پھیل گئی۔
ازمیر نے ذرا سی نظر ناشتہ کرتی زریاب پر ڈالی، پھر تھوک نگلا۔
“ایک بات تو بتائیں، مام۔” ازمیر زریاب کو دیکھتے ہوئے پوچھتا ہے۔
“ہمم، پوچھو۔”
“صاحبہ دائم انکل سے کیوں ناراض تھی؟”
اُس کا نام لیتے ہی اُس نے بے اختیار نظریں چرائی تھیں۔
زریاب نے گہرا سانس لیا۔
“یہ تو میں بھی نہیں جانتی، بیٹا۔ بس اتنا جانتی ہوں کہ طاہر کی وفات کے بعد وہ ہم سب سے کٹ کر رہ گئی تھی۔ طاہر کی وفات نے اُسے گہرا صدمہ دیا تھا۔”
ازمیر نے چونک کر مام کو دیکھا تھا۔
“طاہر انکل کی وفات کیسے ہوئی تھی؟”
زریاب نے ازمیر کو دیکھا۔
“اُنہیں پلویشا کا غم لے ڈوبا تھا۔”
ازمیر تھم سا گیا۔ زریاب نے نظریں چرائی تھیں۔
“کیا مطلب، مام؟”
“کچھ نہیں۔ میں بس اتنا ہی جانتی ہوں۔”
زریاب نے دوبارہ ازمیر سے نظریں نہیں ملائی تھیں۔ ازمیر کو اُن کا انداز عجیب لگا تھا۔
“مام، بتائیں نا، کیا مطلب ہے آپ کی بات کا؟”
“ازمیر، تم کیوں ضد کر رہے ہو، میری جان؟”
“آپ کیوں نہیں بتا رہیں، میری مام؟”
زریاب اُسے ڈھیٹ کو دیکھ کر رہ گئی، پھر نظریں چرائیں۔
“وہ اپنی شادی سے کچھ وقت پہلے اغوا ہو گئی تھی۔”
ازمیر سنجیدگی سے مام کو دیکھ رہا تھا۔ زریاب نے ایک نظر ازمیر کو دیکھا اور پھر بنا کچھ کہے جوس کا گلاس منہ سے لگا لیا۔
“آگے بتائیں ن۔۔۔۔۔”
وہ جو ابھی کہنے ہی والا تھا، زریاب کی بات سمجھتے ہی اُسے سانپ سونگھ گیا۔ ایک لمحے میں وہ ساکت ہوا تھا۔
زریاب نے غلطی سے بھی ازمیر کی طرف نہیں دیکھا تھا۔
ازمیر کی سانس حلق میں ہی اٹک گئی۔
“م۔۔۔ میں۔۔۔ میں آپ کا گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں۔”
وہ بدقت کہتا وہاں سے اُٹھ گیا۔
زریاب نے دھیرے سے اُس کی پشت دیکھی تھی اور وہیں اُس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
وہ آج بھی اپنی اُسی قید میں قید تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاکم ہائی رائز کی عمارت صبح کے سورج کی تیز روشنی میں پوری شان کے ساتھ ایستادہ تھی۔ تمام ورکرز اپنا کام بخوبی انجام دے رہے تھے۔ وہ بھی لیپ ٹاپ کھولے تیز تیز ٹائپنگ کرتا اپنے کام میں محو تھا، جب اُسے دلارے کا خیال آیا۔
اُس کی بھوری آنکھوں میں فکر آن بسی تھی۔ اُس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور فون پر نمبر ڈائل کرنے لگا۔
فون پہلی ہی گھنٹی پر اُٹھا لیا گیا تھا۔
“السلام علیکم۔”
مرزا نے کہا، جبکہ دوسری طرف دلارے کچھ پل خاموش رہی۔ وہ اپنے بیڈ کے کنارے سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی۔
“کیا تم سن رہی ہو، دلارے؟” مرزا نے نرمی سے پوچھا، تو دلارے کرب سے مسکرائی۔
“ہاں، میں سن رہی ہوں حاکم۔”
“تم ٹھیک ہو؟”
“ہاں ناں۔”
“واقعی؟” مرزا نے فکر مندی سے پوچھا۔
“ہاں حاکم، میں ٹھیک ہوں۔”
دلارے آنکھیں کھولتی ہے اور بیڈ پر سیدھی ہو کر بیٹھتی ہے۔
“میڈیسن لی تھیں وقت پر؟”
“تم کیوں اتنی فکر کر رہے ہو؟” دلارے نے ہنستے ہوئے پوچھا تھا۔
“کیا مطلب، دلارے؟ میں تمہاری فکر نہیں کروں گا تو کون کرے گا؟”
دلارے کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ مرزا حاکم نے بنا کچھ کیے دلارے کو توڑ کر رکھ دیا تھا۔ اُسے تو شکوے کا بھی اختیار حاصل نہیں تھا۔
“ہاں، درست کہا۔”
خاموشی کے کئی پل اُن کے بیچ حائل ہو گئے تھے۔
“تم نے اُسے بتایا کہ تم اُس سے محبت کرتے ہو؟” دلارے نے آنسوؤں کے گولے کو اندر دھکیلتے ہوئے پوچھا تھا۔
مرزا، صاحبہ کے ذکر پر ایک پل کو مسکرایا تھا۔
“نہیں، ابھی نہیں بتایا۔ ہمت نہیں ہو رہی۔”
دلارے کے چہرے پر کرب پھیل گیا۔
“ہمت پیدا کرو۔ دیر کرو گے تو اُسے کھو دو گے۔”
“تم ٹھیک کہتی ہو، لیکن ناجانے کیوں میرے اندر ہمت پیدا نہیں ہو رہی۔۔۔ یعنی کہ میں کن لفظوں میں اُس سے کہوں کہ میں اُس سے محبت کرتا ہوں؟”
“تم صاف لفظوں میں اُس سے اپنی محبت کا اعتراف کرو۔”
مرزا نے سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔
“میں کوشش کروں گا۔”
“ہممم۔”
ایک بار پھر اُن دونوں کے درمیان خاموشی پھیل گئی۔
“حاکم۔”
“ہممم، بولو۔”
“تمہیں محبت کب ہوئی تھی؟”
“کچھ عرصہ پہلے۔”
دلارے کی آنکھوں سے بیک وقت کئی آنسو نکلے تھے۔ کچھ عرصے کی محبت کے سامنے اُس کی پوری زندگی کی محبت نظر انداز کی گئی تھی۔
“کیا وہ خوبصورت ہے؟”
“بہت۔”
“وہ کیسی دکھتی ہے؟”
“وہ انمول دکھتی ہے۔”
مرزا مسکرایا تھا۔
دلارے کا دل ڈوب گیا۔ آخری امید بھی ڈوب گئی۔
“اللّٰہ اُسے تمہارا مقدر بنائے۔”
اُس نے بھاری ہوتے دل کے ساتھ اُسے دعا دی تھی اور کال کاٹ دی۔
مرزا نے مسکرا کر فون کان سے ہٹایا تھا۔
اُسے واقعی دیر نہیں کرنی چاہیے۔
کتابوں نے سرگوشی کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان بہت جلد باز ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے اپنی خواہشات اور ضروریات ایک ہی پل میں پوری کر لے، اور یہی جلد بازی اُسے غلط راہوں کی طرف لے جاتی ہے۔
(وہ چپ چاپ اپنے کمرے کے بیڈ پر بیٹھا تھا۔ سامنے بڑی سی سکرین پر اُس کے بیٹوں اور بیوی کی تصاویر ڈسپلے ہو رہی تھیں۔ وہ اب تھک چکا تھا۔ اب وہ ہر زوال کے لیے تیار تھا۔)
ہم میں سے بہت سے انسان کبھی خواہشات کے لیے تڑپتے ہیں تو کبھی اکتا جاتے ہیں، مگر وہ کبھی بھی اُن کے وجود کو ختم نہیں کر سکتے۔ یہ ہمیشہ انسان کے دل میں رہتی ہیں۔
(وہ اپنے آفس میں ایک طرف جائے نماز بچھائے اُس پر سجدہ ریز تھی۔ وہ گلاس ڈور سے اُسے محویت سے تک رہا تھا۔ دور اندر اُس کا ضمیر اُسے کچوکے لگانے لگا تھا۔)
کچھ لوگ خواہشات کا گلا گھونٹ دیتے ہیں، کیونکہ وہ اندر سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ کہیں یہ اُنہیں لے نہ ڈوبے۔
(وہ خوشی سے اپنے سامنے بیٹھی نیلی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھ رہے تھے، جو اُن کے پاس جاب کے لیے آ بیٹھی تھی۔ اُس نے اپنا غم، اپنی ادھوری خواہشات پر جی بھر کر رویا تھا۔ اب وہ واپس اپنی زندگی کی طرف لوٹ آئی تھی۔)
ہم جتنی کوشش کر لیں، خواہشات کے وجود کو ختم نہیں کر سکتے۔ ہاں۔۔۔ مگر اُن کی قوت کو کم کر سکتے ہیں۔ ہر خواہش پر لبیک کہنا بند کر سکتے ہیں۔
(وہ اپنے آفس میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کر رہا تھا۔ اُس کا دل شدت سے اُسے مجبور کرتا تھا کہ وہ دائم کے گھر جائے، مگر وہ اتنے دنوں سے نہیں گیا تھا، کیونکہ اُسے اپنے دل کو واپس اپنے مقصد کی طرف متوجہ کرنا تھا۔)
مگر سوال یہ ہے کہ کیا تم میں اتنی طاقت ہے کہ تم اُنہیں نظر انداز کر سکو؟ کیا تم میں اتنی قوت ہے کہ اُن کے آگے جیت سکتے ہو؟ کیا اُنہیں پسِ پشت ڈال کر موو آن کر سکتے ہو؟
کیا تم میں اتنی طاقت ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ اُس کے ساتھ مختلف فائلز رکھی تھیں، جبکہ اُس کی نظریں کمپیوٹر کی سکرین پر جمی تھیں۔
اُس نے گہرا سانس بھرتے ہوئے کلک کیا اور سکرین پر “لوڈنگ” لکھا آنے لگا۔
جیسے ہی لوڈنگ مکمل ہوئی، اگلے ہی پل تمام ڈیٹا انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہو گیا۔ اُس نے گہرا سانس بھرتے ہوئے سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج موسم حبس آلود تھا۔ اُسے ناجانے کیوں آج کی صبح عجیب سی لگ رہی تھی۔ بھوری آنکھیں پریشان سی تھیں۔
اُس نے میز پر رکھا لیپ ٹاپ بند کیا اور سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔
دروازے پر دستک کی آواز آئی۔
“یس، کم اِن۔”
دروازہ کھلا اور بلاک ہیل کی آواز آفس میں پھیلی خاموشی میں خلل پیدا کر گئی۔
مرزا نے دھیرے سے آنکھیں کھولی تھیں۔ آج وہ بہت تھکا تھکا سا محسوس کر رہا تھا۔
صاحبہ نے ایک فائل اُس کے سامنے رکھی۔
“اِس فائل پر آپ کے دستخط چاہییں۔”
مرزا نے بنا اُس پر نظر ڈالے بال پین اُٹھایا اور دستخط کرنے لگا۔
صاحبہ نے بغور اُس کے کانپتے ہاتھ دیکھے تھے۔
“کیا آپ ٹھیک ہیں؟”
دستخط کرتے مرزا کا ہاتھ رکا۔ اُس نے چہرہ اُٹھا کر ایک پل کے لیے اُسے دیکھا۔
“ناجانے کیوں، میں آج بہتر محسوس نہیں کر رہا ہوں۔”
اُس نے صاف گوئی سے سچ بتایا، تو صاحبہ مسکرا دی۔
“آپ تھوڑی دیر کے لیے ریسٹ کر لیں۔”
اُس کی مسکراہٹ دیکھ مرزا بھی مسکرا دیا۔
“ٹھیک کہہ۔۔۔”
اِس سے پہلے وہ کچھ کہتا کہ یکایک عزیز دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا۔
مرزا نے کراہ کر آنکھیں میچ لی تھیں۔
“سر، یہ دیکھیں۔”
وہ فوراً اُس کے سر پر پہنچتا، اُس کے سامنے ٹیب کی سکرین کر گیا۔
صاحبہ نے مرزا کی حالت پر مسکراہٹ دبائی تھی، جبکہ مرزا نے کھا جانے والی نظروں سے عزیز کو گھورا تھا، پھر نظریں سکرین پر جما گیا۔
“ناظرین! آپ کو خبر دیتے چلیں کہ جرمنی کے بہت بڑے مافیا اسٹیفن زیورخ پولیس کی حراست میں آ چکے ہیں۔ اُن کے کارندوں کی لسٹ میں پاکستان کے مشہور بزنس مین کے نام سرِفہرست ہیں۔”
اینکر گلا پھاڑ کر خبر دیتی، مرزا حاکم کی پوری دنیا ساکت کر گئی تھی۔ وہ لٹھے کی مانند سفید چہرہ لیے سکرین پر نظر آتا منظر دیکھے گیا، جس میں پولیس اہلکاروں کے حلقے میں چلتا فیض حاکم پولیس موبائل میں بیٹھ رہا تھا۔
مرزا نے مٹھیاں بھینچ لیں۔
“کب کی ہے یہ نیوز؟”
اُس نے بدقت اپنے غصّے پر قابو پاتے ہوئے پوچھا تھا۔
“آج صبح چھ بجے کی یہ خبر ہے۔ میڈیا والوں کا کہنا ہے کسی نے پرائیویٹلی ڈیٹا اپ لوڈ کیا ہے۔”
اُس نے بدقت گہرا سانس خارج کیا تھا۔
“اوکے، تم جاؤ۔”
عزیز سر ہلاتا چلا گیا، تو صاحبہ بھی فائلز اُٹھاتی وہاں سے چلی گئی۔
اُن دونوں کے جاتے ہی مرزا، جو ضبط کیے بیٹھا تھا، فوراً اُٹھا اور دلاور کو کال کی تھی۔
“تم کیا مرے ہوئے تھے اتنی دیر سے؟”
وہ دانت پیستے ہوئے غرایا تھا۔
“میں نے خود ابھی نیوز دیکھی ہے۔ یہ اُسی انسان کا کام ہے۔”
“لعنت ہو تم پر، دلاور! تم ایک شخص کو ڈھونڈ نہیں سکے۔”
مرزا شدتِ ضبط سے غراتا فون بند کر گیا۔
وہ کرسی پر تھک کر ڈھے گیا۔
آنکھیں بند کیے وہ گہرے سانس لے رہا تھا۔ اُس کا باپ پچھلے چار گھنٹوں سے جیل میں ہے، اور اُسے ابھی پتا چل رہا تھا۔ حد ہے۔
ناجانے تبریز ک۔۔۔”
وہ رکا۔
مرزا جھٹ سے آنکھیں کھول گیا۔
“تبریز؟”
“اوہ خدایا! تبریز حاکم سب جان جائے گا۔”
اِس سوچ نے مرزا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ وقت پہلے
مزاحم نے جیسے ہی سارا ڈیٹا سوشل میڈیا کی کسی ایکٹو ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا تھا، اگلے ہی لمحے سوشل میڈیا پر دھوم مچ گئی تھی۔
لسٹ میں پاکستان کے بہت سے مشہور بزنس مینوں کی مکمل ہسٹری تھی۔ اسٹیفن کا چہرہ، اُس کے کام کا جال، ہر شے کھول کھول کر بیان کی گئی تھی۔
اُس نے سیکرٹ ایجنسی کے طور پر ورک کرتی ایک مشہور کمپنی میں بھی اِس ڈیٹا کی ٹِپ بھیجی تھی، جو کارآمد ثابت ہوئی تھی۔
کچھ ہی گھنٹوں میں زیورخ پولیس اور میڈیا اُس خاموش علاقے میں پھیل چکے تھے۔
فیض حاکم اِس سب کے لیے خود کو تیار کر چکا تھا۔
میڈیا اور پولیس اہلکاروں کے مجمع میں چلتے فیض حاکم نے سرد آہ بھری تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تمہارا اصلی نام کیا ہے؟”
انٹیروگیشن روم میں ہلکی روشنی پھیلی تھی۔ وہ کب سے لب سیے چپ بیٹھا تھا۔
آفیسر نے زہر خند نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔
“مجھے بتاؤ، تمہارا اصلی نام کیا ہے؟”
اب کی بار آفیسر نے غضب ناک تاثرات سے پوچھا تھا۔
وہ اب بھی خاموش رہا۔
آفیسر اُٹھا اور اُسے گریبان سے پکڑتے ہوئے آگے کھینچا۔
“جیل میں قید ہونے کے لیے تیار ہو جاؤ۔”
فیض ہنس دیا۔ وہ اتنے سالوں سے اِس پُرسکون علاقے میں قید ہی تو تھا۔
آفیسر نے چھبتی نظروں سے اُسے قہقہے لگا کر ہنستا دیکھا تھا، پھر اُٹھ کر باہر نکل گیا۔
“کیا اُس نے منہ کھولا ہے؟”
آفیسر کے باہر آتے ہی سینئر آفیسر جیک نے پوچھا۔
“نہیں سر، وہ کچھ بھی نہیں بتا رہا۔”
آفیسر نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ دونوں راہداری میں چلتے بات کر رہے تھے۔
“عدالت کا نوٹس آ گیا ہے؟”
“نہیں۔”
“ایک بار عدالت کا نوٹس آ جائے، پھر اِس مافیا کو سبق سکھاؤں گا۔”
“سر، ایک بات تو بتائیں۔”ڈیورڈ نے اُسے روکتے ہوئے کہا۔
“ہمم، پوچھو۔”
“آپ کو ٹِپ کس نے دی تھی؟”
جیک مسکرا دیا۔
“میرے شاگرد نے۔”
ڈیورڈ نے ناسمجھی سے اُسے دیکھا تھا، جو مسکرا رہا تھا۔
“تم نہیں سمجھو گے۔ تم ایک بار عدالت جاؤ اور اِس معاملے کو حل کرو۔”
جیک نے گہرا سانس بھرتے ہوئے کہا اور مڑ گیا۔
ڈیورڈ بھی اثبات میں سر ہلاتا مڑ گیا۔
خاموش راہداری میں کئی پل اُن کے الفاظ گونجتے رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“میرا باپ زندہ ہے، آپ نے مجھ سے یہ بات کیوں چھپائی؟”
تبریز دھاڑا تھا۔
مرزا حاکم پہلی ہی فلائٹ سے سیدھا تبریز کے پاس پہنچا تھا، اس سے پہلے کہ تبریز جذبات میں آ کر کوئی گڑبڑ کر دے۔
تبریز نے نیوز میں باپ کو پولیس کی حراست میں جاتے دیکھا تھا اور تب سے ہی وہ شاک میں تھا۔
“تبریز، میری بات سنو۔”
مرزا اُس کی طرف بڑھتے ہوئے کہتا ہے۔
“میرے پاس مت آئیے گا!”
وہ دور ہوا تھا۔
“آپ نے مجھ سے سچ کیوں چھپایا؟”
“کیونکہ سچ جاننا تمہارے لیے بہتر نہیں تھا۔”
مرزا اُس سے بھی بلند آواز میں غرایا۔
“اپنے باپ کے بارے میں جاننا میرے لیے ضروری تھا، بھائی!”
تبریز کا لہجہ تلخ تھا۔
صوفیہ ایک طرف کھڑی پریشانی سے دونوں بھائیوں کو دیکھ رہی تھی۔
“اچھا، جاننا ضروری تھا؟”
مرزا ابرو اچکاتے ہوئے پوچھتا ہے۔
“کیا جاننا چاہتے تھے تم؟ یہی کہ تمہارا باپ مافیا ہے؟ قاتل ہے؟ ہاں؟ تب تم خوشی سے اُن کے گرد حصار باندھ لیتے؟”
تبریز کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی۔
“اپنے باپ کو دیکھنا آسان ہوتا ہے، تبریز، مگر قاتل باپ کو دیکھنا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جب نفرت کرنے کی ہر قسم کی وجہ ہو مگر آپ اپنے اُس باپ سے محبت کرنے پر مجبور ہوتے ہو۔ یہ مجبوری انسان کو آدھ موا کر دیتی ہے۔”
تبریز کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔
“میں جانتا ہوں تمہیں تکلیف ہوئی ہے، مگر میں تمہیں اِس دگنی تکلیف سے بچانا چاہتا تھا۔ تم میرے بھائی نہیں، میرے بیٹے ہو، تبریز۔”
مرزا نے عقیدت سے کہا تھا۔
تبریز کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔
وہ قدم قدم چلتا اُس تک گیا اور اُس کے گرد حصار باندھ گیا۔ مرزا نے بھی مضبوطی سے اُس کے گرد حصار باندھ لیا۔
کئی پل وہ دونوں اسی طرح کھڑے رہے، جب مرزا اُس سے الگ ہوا۔
“ابھی یہ بات باہر نہیں آنی چاہیے کہ ہمارا اُن سے کوئی رشتہ ہے۔”
“کیا مطلب، بھائی؟”
“مطلب یہ کہ ہم منظرِ عام پر نہیں آئیں گے۔ میں خود اُن کو بچانے کی کوشش کروں گا، تم منظرِ عام پر نہیں آنے چاہیے۔”
تبریز نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
مرزا نے گہری سانس بھری۔
وہ جانتا تھا کہ وہ اپنے باپ کو اب اِن سب چیزوں سے نہیں نکال پائے گا، مگر اُسے کوشش کرنی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا حاکم نے اپنے تمام خفیہ لوگوں سے کانٹیکٹ کر لیا تھا، مگر وہ بنا منظرِ عام پر آئے فیض حاکم کو نہیں بچا سکا تھا ۔ تمام ثبوت اس کے خلاف تھے ۔
زیورخ کی عدالت نے فیض حاکم کو پاکستان کی فورسز کے حوالے کر دیا تھا اور اُسے عمر قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔
مرزا حاکم کا پور پور زخمی ہو گیا تھا۔
تبریز چاہ کر بھی باپ سے مل نہیں سکتا تھا۔
وہ دونوں بیٹے بے بسی کی انتہا پر تھے۔
ازمیر علی نے پہلا وار کر دیا تھا، جو کہ بہت کارآمد ثابت ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
