Bashar Episode 12 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۲

فاطمہ اور ماہم کے کیفے سے نکل جانے کے بعد چند لمحوں تک تینوں خاموش بیٹھے رہے۔ دروازے کا شیشہ ایک بار پھر بند ہو چکا تھا، مگر جے کیونگ کی نظریں ابھی تک وہیں جمی ہوئی تھیں۔
آخر اُس نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا۔
عجیب ضدی لڑکی ہے…
اُس کے لہجے میں جھنجھلاہٹ بھی تھی اور بے بسی بھی۔
ہیوک نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اُس کی طرف دیکھا۔
اتنی فکر مت کر۔ ماہم کا نمبر میرے پاس ہے۔ میں اُس سے میسج پر پوچھ لوں گا۔
تائیجون نے حیرت سے دونوں کو دیکھا، پھر جے کیونگ سے مخاطب ہوا۔
لیکن آخر تجھے اتنا مسئلہ کیا ہے؟ اگر وہ نہیں بتانا چاہتی تو چھوڑ دے۔ کمپنی کا نام جان کر کرے گا بھی کیا؟
جے کیونگ نے بے نیازی سے کندھے اُچکائے۔
کچھ نہیں…
پھر اُس نے ہاتھ اُٹھا کر ویٹر کو اشارہ کیا۔
بھائی… بل لے آئیے۔
یہ سنتے ہی ہیوک کے چہرے کے تاثرات یکایک بدل گئے۔
وہ چند لمحے خاموش بیٹھا رہا، پھر دھیرے سے بولا،
بل…؟
ہاں، بل۔ جے کیونگ نے بے ساختہ جواب دیا۔
ہیوک نے ہونٹ بھینچ لیے۔
بل کیسے دیں گے؟
تائیجون نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
پیسے نہیں ہیں کیا؟
ہیوک نے معصومیت سے سر ہلا دیا۔
نہیں…
کیا مطلب نہیں؟ جے کیونگ تقریباً چیخ پڑا
ہمارے پاس پاکستانی کرنسی تو ہے ہی نہیں۔
چند لمحوں کے لیے میز پر خاموشی چھا گئی،
پھر تائیجون نے دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے۔
گئی بھینس پانی میں۔ وہ بڑبڑایا۔
جے کیونگ نے فوراً اپنی جیبیں ٹٹولنا شروع کر دیں۔
جیکٹ کی اوپر والی جیب… پھر اندر والی… پھر پینٹ کی جیبیں… آخرکار اُس نے مایوسی سے ہاتھ باہر نکال لیے۔ میرے پاس بھی صرف کورین وون ہیں۔
تائیجون نے بھی جیبیں الٹ ڈالیں۔
اور میرے پاس بھی۔
اب تینوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔
ہیوک نے ماتھے پر ہاتھ رکھ لیا۔
ایک کام کرتا ہوں…
ماہم کو میسج کر دیتا ہوں۔
شاید وہ دونوں ابھی زیادہ دور نہ گئی ہوں۔
جے کیونگ نے فوراً گھور کر دیکھا۔
ابے۔۔۔ لڑکی سے پیسے مانگے گا؟
تائیجون جھنجھلایا۔۔ نہیں تو؟
تو برتن دھوئے گا؟
جے کیونگ نے اسے گھورا۔
ہر وقت مذاق  کرنا ضروری ہوتا ہے؟
میں تو حقیقت بتا رہا ہوں۔ پیسے نہیں ملے تو برتن دھونا پڑے گا۔۔۔
ہیوک نے دونوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فون نکالا اور جلدی سے ماہم کو ایک پیغام بھیج دیا۔
تینوں کی نظریں فون کی اسکرین پر جم گئیں۔
ایک منٹ… دو منٹ… کوئی جواب نہیں آیا۔
دیکھا؟ جے کیونگ نے ہاتھ پھیلا دیے۔
میں کہہ رہا تھا، وہ جا چکی ہوگی۔
ہیوک نے دوبارہ اسکرین دیکھی۔
پیغام ابھی تک سین بھی نہیں ہوا تھا۔
اس نے چند لمحے سوچا…
پھر ایک گہرا سانس لے کر کال کے بٹن پر انگلی رکھ دی۔
تینوں کی نظریں بے اختیار فون پر جم گئیں۔
تائیجون نے دھیرے سے سرگوشی کی۔
بس اٹھا لے۔
چند لمحے رنگ بجتی رہی، پھر دوسری طرف سے نرم سی آواز سنائی دی۔
السلام علیکم…
جی، بولیے؟
ہیوک نے بغیر کسی تمہید کے کہا،
واپس آؤ۔
ماہم چند لمحے خاموش رہی، پھر حیرانی سے بولی،
واپس کیوں؟
تم بس آؤ تو سہی۔
ادھر تائیجون پوری توجہ سے ہیوک کی باتیں سن رہا تھا۔ آخر اس سے رہا نہ گیا، فوراً بولا،
ابے! سیدھا سیدھا بول نا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔۔
ماہم کو تائیجون کی دھیمی آواز سنائی دی۔
کیا؟
آپ کے دوست نے کچھ کہا؟
ہیوک نے ہلکی سی کھانسی کے ساتھ بات سنبھالی۔
ہاں… وہ… ایک مسئلہ ہو گیا ہے۔
کیا ہوا؟
ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں…
چند لمحے رکا، پھر جلدی سے وضاحت دی۔
مطلب… پیسے ہیں، لیکن پاکستانی روپے نہیں ہیں۔
دوسری طرف سے ہلکی سی اوہ… کی آواز آئی۔
اوہو… تو پاکستانی کرنسی رکھنی چاہیے تھی نا آپ لوگوں کو۔
ہیوک نے بے بسی سے کہا،
ہمیں کیا پتا تھا۔
ہمیشہ مینیجر کے پاس ہوتی تھی، وہی سب مینیج کرتے تھے۔ ہمیں کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی۔
اوہ…
ماہم چند لمحے خاموش رہی۔
ہیوک نے بے صبری سے کہا،
جلدی آؤ یہاں۔ ہم بنا بل دیا گھر نہیں جا سکتے
اُس دن بھی تم نے ہی بل دیا تھا۔
اب بھی آ جاؤ۔
ماہم نے آہستہ سے جواب دیا،
لیکن… ابھی تو میں نہیں آ سکتی۔
ہیوک چونک گیا۔
نہیں آ سکتیں؟
کیوں؟
تائیجون تو جیسے اسی جواب کا انتظار کر رہا تھا۔
وہ فوراً اچھل پڑا۔
لو۔۔۔۔ لگ گئی پنوٹی۔۔۔
ماہم نے پرسکون لہجے میں کہا،
میں تو کافی دور آ گئی ہوں۔ اب واپس نہیں آ سکتی۔
ہیوک نے بے بسی سے کہا  تو پھر… اب ہم کیا کریں گے؟
دوسری طرف سے چند لمحے خاموشی رہی…
پھر ماہم کی دبی دبی سی آواز آئی۔۔۔
اب تو…
برتن ہی دھو سکتے ہیں آپ۔
تائیجون نے دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے۔
میں نے پہلے ہی کہا تھا۔۔۔۔
ہیوک نے معصوم لہجے میں پوچھا،
تم چاہتی ہو ہم برتن دھوئیں؟
ماہم فوراً بولی،
نہیں…میں نے ایسا کب کہا؟ لیکن آپ لوگوں کے پاس پیسے بھی نہیں ہیں… اور میں آ بھی نہیں سکتی…
تو پھر ایک ہی حل رہ گیا نا… برتن دھونا۔
اس کی ہنسی اب بھی بمشکل دب رہی تھی۔
ہیوک نے لمبی سانس لی۔
اچھا
ماہم نے فوراً پوچھا،
کیا اچھا؟
ہیوک نے انتہائی سنجیدگی سے جواب دیا،
دیکھتا ہوں… کرتا ہوں کچھ۔۔اگر اور کوئی راستہ نہ ہوا… تو برتن ہی دھو لوں گا۔
ماہم چند لمحے بالکل خاموش رہی۔
شاید اُسے واقعی یقین ہو گیا تھا کہ ہیوک اس کی بات مان بیٹھا ہے۔
اِدھر تائیجون مسلسل اشارے کر رہا تھا۔
ابے۔۔۔۔ کیا بول رہی ہے؟ کہہ نا واپس آ جائے۔۔۔۔
ہیوک نے فوراً فون کے مائیک پر ہاتھ رکھا اور گھور کر بولا،
چپ۔۔۔۔ اب درمیان میں مت بولنا۔۔۔۔
پھر اس نے دوبارہ فون کان سے لگایا۔
ٹھیک ہے… تم آرام سے گھر جاؤ۔ میں یہاں دیکھ لوں گا۔ اللہ حافظ۔
یہ سن کر دوسری طرف سے اچانک گھبرائی ہوئی آواز آئی۔
ارے… ارے… ایک منٹ۔۔۔۔
ہیوک رک گیا۔ جی؟
ماہم کی ہنسی اب چھپ ہی نہیں رہی تھی۔
ہم بل دے کر آئے ہیں۔
ہیوک ایک لمحے کو بالکل ساکت رہ گیا۔
کیا؟
جی ہاں۔
ماہم ہنستے ہوئے بولی،
میں تو مذاق کر رہی تھی۔۔۔
چند لمحے وہ خود بھی ہنس پڑی۔
لیکن آپ تو مجھے بلانے کی بجائے واقعی برتن دھونے پر راضی ہو گئے۔
اب تائیجون اور جے کیونگ بھی حیرت سے ہیوک کو دیکھ رہے تھے۔
ہیوک نے ایک گہری سانس لی، پھر ماتھے پر ہاتھ مارا۔
اوہ…
ماہم نے مسکراتے ہوئے کہا،
آپ کو برتن دھونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ہم نے بل کاؤنٹر پر جا کر بل دے کر آئے ہیں۔۔۔ آپ تینوں بے فکر ہو کر ہوٹل چلے جائیے۔
ہیوک کے چہرے پر جیسے جان واپس آ گئی۔
وہ بے اختیار مسکرا پڑا۔
آہ… تھینک یو… تھینک یو سو مچ۔
ماہم نے نرم لہجے میں جواب دیا۔
ویلکم۔
اللہ حافظ۔
اللہ حافظ۔
ہیوک نے فون جیب میں رکھا اور دونوں کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پر اب اطمینان تھا۔
وہ دونوں… بل دے کر جا چکی ہیں۔
تائیجون نے فوراً سکون کا سانس لیا۔۔۔
شکر۔۔۔۔ بچ گئے۔۔۔۔
جے کیونگ نے حیرانی سے پوچھا،
لیکن… انہیں کیسے پتا چلا؟
ہیوک نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
ماہم کو پہلے سے معلوم تھا۔
اچانک جے کیونگ کا چہرہ بدل گیا۔
وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا، پھر جیسے اسے کچھ یاد آیا۔
ایک سیکنڈ…
دونوں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
ہم…
اُس سامنے والی ٹیبل پر بھی تو کھا کر آئے تھے۔
اُس کا بل…؟
تائیجون کی آنکھیں پھیل گئیں۔
ابے۔۔۔۔ اتنا کچھ منگا کر کھایا…
اور اب یاد آ رہا ہے؟اوپر سے تُجھے اُس وقت یاد نہیں آیا۔۔۔ کہ ہمارے پاس پاکستانی کرنسی نہیں ہے۔۔ ہم مانگتے ہی نہیں کُچھ۔۔۔۔
جے کیونگ نے بے بسی سے کندھے اچکا دیے۔
مجھے کیا پتا… میں تو بھول ہی گیا تھا۔
ہیوک نے ماتھا سہلاتے ہوئے کہا،
اب یہ نہیں معلوم کہ انہوں نے صرف ہماری ٹیبل کا بل دیا ہے… یا تم دونوں والا بھی۔ چلو، کاؤنٹر پر جا کر پوچھ لیتے ہیں۔ اگر نہیں دیا ہوا… تو پھر بھائی کو فون کرنا پڑے گا۔ اور کوئی راستہ نہیں۔
تائیجون نے فوراً منہ بنا لیا۔
مطلب…
کھنچائی پکی۔
ہیوک ہنس دیا۔ ہاں جی۔
تینوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے کاؤنٹر تک پہنچ گئے۔
ہیوک نے مؤدبانہ انداز میں بل کے بارے میں پوچھا۔
کاؤنٹر پر موجود ملازم نے کمپیوٹر میں چند لمحے دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے بولا،
سر، آپ فکر نہ کریں۔
آپ لوگوں کی دونوں ٹیبلز کا بل پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے۔
تینوں نے ایک ساتھ ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
چند لمحے کوئی کچھ نہ بول سکا۔
سب سے پہلے تائیجون کے منہ سے نکلا۔
سچ مچ… کتنی اچھی لڑکی ہے۔
جے کیونگ نے آہستہ سے سانس خارج کی۔
یار…
ہیوک نے اس کی طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟
جے کیونگ نے نظریں جھکا لیں۔ برا لگ رہا ہے۔
کیوں؟ تائیجون نے پوچھا۔
جے کیونگ نے دھیرے سے کہا، اتنا سب کچھ ہم نے کھایا… اور بل وہ دے کر چلی گئی۔
تائیجون نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں… یہ بات تو ہے۔
ہیوک نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے اسے کہنی ماری۔
تو کس نے کہا تھا اتنا ٹھونس ٹھونس کر کھانے کو؟
تائیجون فوراً بولا،
ہاں۔۔۔۔ دو دو سنڈوچ… تین پلیٹ فرائز… اوپر سے ڈیزرٹ بھی۔
جے کیونگ نے احتجاج کیا۔
ابے۔۔۔۔ مجھے کیا معلوم تھا آخر میں یہ سین بن جائے گا۔ میں تو بالکل بھول گیا تھا کہ ہمارے پاس پاکستانی کرنسی ہی نہیں ہے۔
ہیوک نے ہنستے ہوئے سر ہلایا۔
چھوڑو…۔جو ہونا تھا، ہو گیا۔ اب چلتے ہیں ہوٹل۔ اگر بھائی کو یہ سب پتا چل گیا… تو اس سے بڑا مسئلہ کھڑا ہو جائے گا۔
تائیجون نے فوراً گردن ہلائی۔
بالکل۔۔۔۔
یہ کہتے ہی تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، اور اگلے ہی لمحے ہنستے ہوئے کیفے سے باہر نکل گئے۔ باہر شام کی ٹھنڈی ہوا ان کا استقبال کر رہی تھی، مگر تینوں کے ذہن میں ایک ہی بات گھوم رہی تھی…
پاکستان کا یہ سفر یادگار تو تھا ہی، مگر ماہم اور فاطمہ نے اسے کچھ زیادہ ہی یادگار بنا دیا تھا۔

+++++++++++

تینوں ہنستے باتیں کرتے ہوٹل کے اندر داخل ہونے ہی والے تھے کہ مرکزی دروازے کے پاس کھڑا ایک مانوس چہرہ نظر آ گیا۔
جیسے ہی اس کی نظر ان پر پڑی، اس نے مشکوک انداز میں آنکھیں سکیڑ لیں۔
کہاں گئے تھے تم تینوں؟
تائیجون نے ماتھے پر بل ڈالے، پھر مصنوعی سنجیدگی سے بولا،
ابے چوکیدار… تیرا چوکیداری کے علاوہ کوئی کام نہیں؟
ہان وو نے بالکل سنجیدہ چہرے سے جواب دیا۔
نہیں۔
ہیوک نے بات سنبھالتے ہوئے کہا،
بس… قریب والے کیفے گئے تھے۔
کیوں؟ ہان وو کا اگلا سوال فوراً حاضر تھا۔
جے کیونگ نے بے ساختہ جواب دیا،
آج سب لوگ گھومنے نہیں گئے تھے نا… تو ہمارا دل کر رہا تھا باہر نکلنے کا، اس لیے چلے گئے۔
ہان وو نے تینوں کو باری باری دیکھا۔
پھر آہستہ سے بولا، مُجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے…کہ تم لوگ جھوٹ بول رہے ہو؟
تائیجون نے فوراً انگلی اٹھا دی۔
میری بات غور سے سن… یہ چوکیداری چھوڑ دے۔
نہیں تو یہ چوکیداری ایک دن بہت مہنگی پڑے گی تجھے۔ کل کو تجھے بھی کہیں جانا پڑ سکتا ہے…
تو پھر؟ ہان وو نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا،
میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں۔ مجھے کہیں جانے کے لیے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ جہاں بھی جاؤں گا، ڈنڈے کی چوٹ میں سب کو بتا کے جاؤں گا۔۔۔۔
تائیجون نے ہونٹ بھینچے، پھر ہنستے ہوئے بولا،
ہاں… کیونکہ تُو کہیں جاتا ہی نہیں ہے۔۔۔ ڈنڈے کی چوٹ پہ بتا کہ کِسی کو جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔۔۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے لابی کی طرف بڑھ گیا۔
اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ایک منٹ اور رکا تو ہان وو مزید دس سوال پوچھ لے گا۔
ہیوک نے بھی خاموشی سے موقع غنیمت جانا اور تائیجون کے پیچھے چل دیا۔
اب وہاں صرف جے کیونگ اور ہان وو رہ گئے تھے۔
جے کیونگ نے مسکراتے ہوئے ہان وو کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
ٹینشن کیوں لیتا ہے؟ بعد میں سب بتا دوں گا۔
ہان وو نے فوراً کہا، ابھی بتا۔
دونوں ساتھ ساتھ اندر چلنے لگے۔
جے کیونگ نے لمبی سانس لی۔
ابھی تو بہت تھک گیا ہوں۔
ہان وو نے بغیر کسی تاثر کے کہا،
بات منہ سے بتانی ہے… پاؤں سے نہیں۔
جے کیونگ بے اختیار ہنس پڑا۔
پہلے تھوڑی دیر آرام کر لوں… پھر بتاتا ہوں۔
چند قدم چلنے کے بعد جے کیونگ نے باقی سب کا پوچھا۔۔۔ ویسے باقی سب کہاں ہیں؟
سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہے ہیں۔ ہان وو نے جواب دیا۔
پھر تُو؟ میں تجھے ڈھونڈ رہا تھا۔ ہان وو نے بالکل سادگی سے کہا۔ اتنی دیر ہو گئی تھی… تم کمرے سے نکلے تو واپس ہی نہیں آئے۔۔۔۔
جے کیونگ نے دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے۔
خُدا کی پناہ۔۔۔۔ تیری بیوی بھی نا… تیرے سے بہت پریشان رہے گی۔
ہان وو رک گیا۔ کیوں؟
جے کیونگ نے ہنسی روکتے ہوئے کہا،
کیونکہ اگر یہی حرکتیں اُس کے ساتھ بھی کرے گا…  ہر پانچ منٹ بعد پوچھے گا، ‘کہاں گئی؟ کیوں گئی؟ کب آئے گی؟’ تو اسے لگے گا تُو اس پر شک کرتا ہے۔
ہان وو نے فوراً سر ہلایا۔
ایسا کچھ نہیں ہے۔
جے کیونگ نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی۔ پھر اپنی یہ عادت بدل لے۔ لوگ چھوٹے بچے نہیں ہوتے… کہ ہر دو منٹ نظر نہ آئیں تو انہیں ڈھونڈنے نکل جاؤ۔
ہان وو چند لمحے خاموش رہا۔ پھر آہستہ سے بولا، ہممم
پھر دونوں ہنستے ہوئے لفٹ کی طرف بڑھ گئے،

++++++++++++
اگلی شام
شام ڈھلنے لگی تھی جب ان سب کی وین جوی لینڈ کے داخلی دروازے پر آ کر رکی۔
باہر رنگ برنگی روشنیاں ایک ایک کر کے جلنا شروع ہو چکی تھیں۔ ہر طرف بچوں کی ہنسی، رائیڈز کی آوازیں، دور سے آتی موسیقی اور لوگوں کا شور مل کر ایک زندہ سا منظر بنا رہے تھے۔
وین سے سب سے پہلے سوہان اترا۔
اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں اور پھر دونوں ہاتھ فضا میں بلند کر دیے۔
واہ۔۔
آج تو مزہ آئے گا۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ تقریباً دوڑتا ہوا اندر کی طرف بڑھا۔
اوئے۔۔۔ تائیجون نے فوراً اس کی ہوڈی پکڑ لی۔
اکیلا کہاں جا رہا ہے؟ اغوا ہو گیا تو
سوہان نے منہ بنایا۔
میں بچہ نہیں ہوں۔
ہاں… جے کیونگ نے ہنستے ہوئے کہا۔ تو جوکر ہے اب خوش
سوہان نے ناراضی سے دونوں کو گھورا۔
تم دونوں سے بات ہی نہیں کرنی۔
اور یہ کتنی دیر چلے گا؟
ہیوک نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
سوہان نے دو سیکنڈ سوچنے کی اداکاری کی۔
…پانچ منٹ۔
اس جواب پر ایک بار پھر قہقہے گونج اٹھے۔
اندر داخل ہوتے ہی سوہان کی نظریں ایک بہت بڑے جھولے پر جا ٹکیں۔
وہ اتنا اونچا تھا کہ ہر چکر کے ساتھ لوگ آسمان کی طرف اچھلتے محسوس ہوتے۔
ہم پہلے اسی پر چلیں گے۔۔۔
اس نے اعلان کیا۔
ہان وو نے اوپر دیکھا… پھر جھولے کو… پھر دوبارہ اوپر۔
نہیں۔ اس نے نہایت سکون سے کہا۔
کیوں؟ سوہان نے حیرت سے پوچھا۔
مجھے اپنی زندگی عزیز ہے۔
تائیجون فوراً بولا،
ڈر گیا۔۔۔
میں نہیں ڈرتا۔
تو آ جاؤ۔
نہیں آؤں گا۔
کیوں؟
کیونکہ میں سمجھدار ہوں۔
سمجھدار نہیں… تائیجون نے کندھا مارا۔ بزدل۔
میں تمہیں پانچ منٹ بعد یاد دلاؤں گا کہ یہ لفظ کس نے بولا تھا۔ ہان وو نے اطمینان سے جواب دیا۔
چند منٹ بعد…
رائیڈ پوری رفتار سے آسمان میں جھول رہی تھی۔
اوپر…
اور بھی اوپر…
تائیجون کی آنکھیں بند تھیں۔
اوووووووووو۔۔۔
نیچے اتارو۔۔۔۔
میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔۔۔
اس کی آواز پورے جوی لینڈ میں گونج رہی تھی۔
اس کے برابر بیٹھا سوہان الٹا زور زور سے ہنس رہا تھا۔
اور بولو…
بزدل۔۔۔۔
اب خود کیوں رو رہے ہو؟
ہیوک خاموشی سے ہینڈل مضبوطی سے پکڑے بیٹھا تھا۔
جبکہ جے کیونگ کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی تھی، مگر جیسے ہی رائیڈ نیچے آئی، اس نے گہرا سانس لیا۔
مزہ نہیں آیا۔۔۔
رائیڈ رکی تو سب لڑکھڑاتے ہوئے نیچے اترے۔
ہان وو وہیں کھڑا، دونوں ہاتھ سینے پر باندھے، انہیں دیکھ رہا تھا۔
ختم ہو گئی بہادری؟
تائیجون نے ابھی سیدھا کھڑا ہونے کی کوشش ہی کی تھی کہ فوراً بولا،
یہ رائیڈ خراب تھی۔
ہاں؟
جے کیونگ نے حیرت سے دیکھا۔
کیسے؟
بہت زیادہ اوپر جا رہی تھی۔
سوہان زور سے ہنس پڑا۔
رائیڈ اوپر ہی جاتی ہے۔۔۔
اسی لیے تو اسے بڑی رائیڈ کہتے ہیں۔۔۔
سب کی ہنسی ایک بار پھر چھوٹ گئی۔
ہیوک نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
اب اگلی رائیڈ کون سی؟
سوہان نے دور اشارہ کیا…
وہ والی۔۔۔۔
سب نے اس طرف دیکھا…
اور اگلے ہی لمحے تائیجون کے منہ سے بے اختیار نکلا،
نہیں۔۔
اس پر تو بالکل نہیں۔۔
تائیجون کی آواز سن کر سب ہنس پڑے۔
سوہان نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اور مصنوعی افسوس سے سر ہلایا۔
افسوس…
اتنی جلدی بہادری ختم ہو گئی؟
بہادری ختم نہیں ہوئی۔
تائیجون نے فوراً جواب دیا۔
عقل آ گئی ہے۔ دونوں میں فرق ہوتا ہے۔
جے کیونگ ہنسا۔
پانچ منٹ پہلے تو دوسروں کو بزدل کہہ رہے تھے۔
انسان سیکھتا رہتا ہے۔ تائیجون نے سنجیدہ چہرہ بنا کر کہا۔ میں بھی سیکھ گیا ہوں۔
ہان وو نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔
بہت جلدی سیکھ لیتے ہو۔
تجربہ بہترین استاد ہوتا ہے۔ تائیجون نے فلسفیانہ انداز اپنایا تو سوہان نے فوراً اس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
چلو… اب رولر کوسٹر۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ تائیجون نے اتنی زور سے کہا کہ قریب سے گزرتا ایک بچہ بھی پلٹ کر اسے دیکھنے لگا۔
سب اپنی ہنسی نہ روک سکے۔
آخرکار کافی بحث کے بعد فیصلہ ہوا کہ پہلے نسبتاً ہلکی رائیڈز پر جائیں گے۔
کبھی بمپر کارز… کبھی کپ اینڈ ساسر… کبھی آئینہ گھر…
آئینہ گھر میں داخل ہوتے ہی ہر طرف مختلف شکلوں کے آئینے لگے ہوئے تھے۔ کسی میں قد لمبا دکھائی دیتا، کسی میں جسم گول مٹول، تو کسی میں چہرہ عجیب و غریب انداز میں پھیل جاتا۔
سوہان تو اندر جاتے ہی ہنس ہنس کر دوہرا ہو گیا۔
ابے دیکھو! میرے پاؤں کتنے لمبے ہو گئے۔۔۔
تائیجون نے سامنے والے آئینے میں خود کو دیکھا تو اس کی گردن عجیب سی لمبی نظر آ رہی تھی۔
یہ کیا مصیبت ہے۔۔۔ میں تو زرافہ لگ رہا ہوں۔۔۔۔
جے کیونگ نے ہنستے ہوئے موبائل نکالا۔
رک… آج تمہاری نئی پروفائل پکچر یہی ہوگی۔
نہیں۔۔۔
تائیجون فوراً اس کی طرف لپکا، مگر جے کیونگ ہنستا ہوا ایک اور آئینے کے پیچھے جا چھپا۔
ادھر سومین خاموشی سے چلتا ہوا ایک ایسے آئینے کے سامنے جا رکا جو عکس کو تقریباً ویسا ہی دکھا رہا تھا۔
اس نے چند لمحے خود کو غور سے دیکھا…
پھر بالوں میں ہاتھ پھیرا، سویٹ شرٹ کی سلوٹیں سیدھی کیں اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
یار… یہ دیکھو یہ دیکھو۔۔۔
سومین کی آواز پر سب اُس کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
کیا دیکھوں۔۔۔؟؟ سوہان بولا۔۔۔
سومین نے شیشے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔ کتنا ہینڈسم لڑکا ہے یہ۔۔
سوہان نے شیشے کی طرف دیکھا جس میں اُس کا خود  شکل نظر آرہا تھا۔۔۔ ہاں واقعی۔۔۔ ہینڈسم تو ہوں میں۔۔۔
ابے وہ نہیں یہ۔۔۔ سومین نے ایک چمات لگا کر شیشے میں اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
اہ ہ ہ شی ٹو۔۔۔۔ سارا موڈ خراب کردیا۔۔۔ سوہان کہتا مُڑ گیا۔۔۔ اور اُس کی اس حرکت پر باقی سب ہسنے لگے۔۔۔
ابے چل۔۔۔ اِتنا ہینڈسم ہوں میں۔۔۔
پھر تائیجون نے بے یقینی سے سومین کی طرف دیکھا۔
کیا کہا تُو نے؟
سومین نے پورے اعتماد سے دوبارہ آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے کہا، جو حقیقت ہے، وہی۔ اوپر والے نے فرصت سے بنایا ہے مجھے۔۔۔۔
یہاں سب جانتے ہیں کہ اِدھر سب سے زیادہ ہینڈسم اور حسین ایک ہی شَخص ہے، اور وہ ہے لی سیونگ۔۔۔۔ سیونگ نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھرتے بولا۔۔۔
غلط فہمیاں ہیں لوگوں کی۔۔۔۔ رن یوں بھی پیچھے نہیں رہا جہاں بات سیونگ کی آتی تھی رن یون کا فرض بنتا تھا اُس کی ٹانگ کھینچنا۔۔۔
یہ سنتے ہی سوہان قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
تائیجون نے فوراً جواب دیا،
آئینہ گھر کے آئینوں پر زیادہ بھروسہ مت کر…
یہ بندے کو ویسے بھی عجیب دکھاتے ہیں۔
سومین نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر اپنے عکس کی طرف دیکھ کر اطمینان سے بولا،
یہ والا آئینہ تو بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے۔
سب کی ہنسی دوبارہ چھوٹ گئی، جبکہ سومین پورے سکون سے اپنے عکس کو دیکھتا رہا، جیسے واقعی دنیا کی سب سے اہم چیز یہی ہو۔
آئینہ گھر سے باہر نکلتے ہی سب کی ہنسی ابھی تک نہیں رکی تھی۔
اتنے میں سامنے ایک اسٹال نظر آیا جہاں شوٹنگ گیلری لگی ہوئی تھی۔
ہاتھ میں ایئر گن پکڑ کر غباروں پر نشانہ لگانا تھا۔
سوہان کی آنکھیں فوراً چمک اٹھیں۔
چلو… یہ کھیلتے ہیں۔۔۔۔
تائیجون نے بغیر سوچے گن اٹھا لی۔
آج تمہیں اصل ٹیلنٹ دکھاتا ہوں۔
اس نے پورے اعتماد سے نشانہ لیا…
ٹرگر دبایا…
گولی غبارے کے بجائے کافی دور لکڑی کے فریم سے ٹکرا گئی۔
ٹھک!
سٹال والا بھی چند لمحے اسے دیکھتا رہ گیا۔
سوہان ہنستے ہنستے دوہرا ہو گیا۔
یہ کون سا غبارہ تھا؟
تائیجون نے فوراً سنجیدہ چہرہ بنایا۔
میں نے وارمنگ اپ شاٹ ماری ہے۔
ہاں… جے کیونگ نے بازو باندھتے ہوئے کہا۔
اب کی بار تائیجون نے پوری توجہ سے نشانہ لیا۔
ٹھک!
دوسری گولی بھی غبارے سے کافی دور جا لگی۔
اس بار سٹال والا بھی مسکرا دیا۔
ہان وو نے پرسکون لہجے میں کہا۔ تمہارے اندر اعتماد بہت ہے۔
ہنر کم ہے۔ رن یون نے بات مکمل کی۔
اب جے کیونگ نے گن پکڑی۔
ہٹو… اب پروفیشنل آیا ہے۔۔۔
پہلا نشانہ…
پھٹ!
غبارہ پھٹ گیا۔
اوووووو۔۔۔۔
سوہان نے تالیاں بجائیں۔
آخر کسی سے تو لگا۔۔۔
جے کیونگ نے فخر سے گردن اونچی کر لی۔
دیکھا؟
ایک لگنے پر اتنا خوش ہو رہا ہے…
سیونگ نے ہنستے ہوئے کہا۔ ابھی دو باقی ہیں۔
جے کیونگ نے مسلسل دونوں غبارے پھوڑ دیے۔
تائیجون نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اوئے… گن چلانی کب سیکھی۔۔۔؟؟
ہر چیز میں نمبر ون ہوں۔ جے کیونگ نے آنکھ ماری۔
آخر میں سٹال والے نے ایک چھوٹا سا ٹیڈی بیئر اس کی طرف بڑھا دیا۔
مبارک ہو سر۔
جے کیونگ نے ٹیڈی ہاتھ میں لیا…
چند لمحے اسے گھورتا رہا…
پھر بے اختیار اس کے ذہن میں ایک ہی چہرہ آیا۔
بھوری عبایا… گلابی حجاب… اور غصے سے بھری وہ بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔۔ فاطمہ۔
اس کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔
تائیجون نے فوراً پکڑ لیا۔
ابے…
کسے یاد کر رہا ہے؟
جے کیونگ چونکا۔ ک… کسی کو نہیں۔
جھوٹ۔ تائیجون نے فوراً کہا۔
کمپنی کا نام تو نہیں ملا… ٹیڈی دینے کا تو سوچنا ہی مت۔۔۔
جے کیونگ نے جھینپتے ہوئے ٹیڈی تائیجون کے منہ پر دے مارا۔
خاموش رہ۔۔۔
اووووو۔۔۔۔ تائیجون نے ٹیڈی سینے سے لگا لیا۔
مجھے دے دیا؟
میں سنبھال کے رکھوں گا۔
پہلی محبت کی پہلی نشانی۔
اس جملے پر سب کی ہنسی دوبارہ چھوٹ گئی۔
اور جے کیونگ نے پہلی بار محسوس کیا…
کہ شاید وہ واقعی اس ضدی لڑکی کے بارے میں ضرورت سے کچھ زیادہ سوچنے لگا تھا۔
اتنے میں سامنے سے بلند موسیقی کی آواز آنے لگی۔
رنگ برنگی روشنیاں ایک جگہ جمع تھیں۔
سوہان نے گردن اُچکا کر دیکھا تو خوشی سے اچھل پڑا۔
اووووووو…
وہ دیکھو۔۔۔۔
سامنے ایک بڑی سی رائیڈ پوری رفتار سے گھوم رہی تھی۔
جھولا کبھی آسمان کی طرف جاتا اور کبھی زمین کی طرف۔
اس پر بیٹھے لوگ چیخ رہے تھے۔
سوہان نے فوراً اچھلا ہم اسی پر جائیں گے۔۔۔۔
تائیجون نے رائیڈ کو غور سے دیکھا…
پھر اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔
بھائی…
میں ابھی ابھی زندگی سے دوبارہ محبت کرنے لگا ہوں۔
مجھے معاف کر دو۔
سوہان نے اس کا بازو پکڑ لیا۔ چلو نا۔۔۔
نہیں۔۔
پلیزززز…
نہیں۔۔۔۔۔
صرف ایک بار۔۔
ایک بار میں ہی بندہ اوپر پہنچ جاتا ہے۔۔۔
جے کیونگ نے فوراً چوٹ کی۔
ڈر گیا؟
تائیجون نے گردن سیدھی کی۔
میں سمجھدار ہوگیا ہوں بھائی۔۔۔
ہان وو نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
ویسے بھی یہ مزے کا نہیں ہے۔۔۔
سوہان نے دونوں کو گھورا۔
تم دونوں بہت بور ہو۔
چلو ہیوک۔۔
ہییوک نے رائیڈ کی طرف دیکھا، پھر سوہان کی چمکتی آنکھوں کی طرف۔ ہلکا سا مسکرا کر بولا۔
چلو۔
سوہان خوشی سے تقریباً دوڑ پڑا۔
چلو۔۔۔
چند لمحوں بعد دونوں رائیڈ پر بیٹھ چکے تھے۔
نیچے کھڑے باقی سب انہیں دیکھ رہے تھے۔
تائیجون نے دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے اور اطمینان سے کہا۔
اچھا ہوا ہم نہیں گئے۔
اگلے ہی لمحے رائیڈ پوری رفتار سے اوپر اٹھی۔
سوہان کی خوشی سے بھرپور چیخ پورے جوی لینڈ میں گونج گئی۔
وااااااااااااااااااااااااہ!
جبکہ ہییوک…
چیخ تو نہیں رہا تھا…
لیکن اس نے حفاظتی ہینڈل اتنی مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کہ اس کی انگلیوں کی پوریں سفید پڑ گئی تھیں۔
نیچے کھڑا جے کیونگ یہ منظر دیکھ کر مسکرا دیا۔
لگتا ہے…
ہیوک بہادر بننے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔
تائیجون نے قہقہہ لگایا۔
اور سوہان… اسے تو لگ رہا ہے، ہوا میں اڑ رہا ہے۔۔۔
نیچے کھڑے چاروں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے۔۔۔
کچھ ہی لمحوں بعد رائیڈ آہستہ آہستہ اپنی رفتار کم کرتی ہوئی رک گئی۔
جیسے ہی حفاظتی لاک کھلا، سوہان سب سے پہلے اچھل کر نیچے اترا۔
اس کے چہرے پر بچوں جیسی خوشی تھی۔
ایک بار اور۔
اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے کہا۔
قسم سے… بہت مزہ آیا۔۔
اس کے پیچھے ہی ہیوک بھی نیچے اترا۔
چہرہ اگرچہ معمول کے مطابق پرسکون تھا، مگر چند لمحے وہ وہیں کھڑا رہا۔
تائیجون فوراً اس کے پاس آیا۔
کیوں بھائی؟
صحیح سلامت ہے نہ۔۔۔؟؟
ہیوک نے اسے ایک نظر دیکھا۔
چپ کر۔
مت پوچھ…”ل
رائیڈ شروع ہوتے ہی مجھے تیری یاد آ گئی تھی۔
تائیجون فاتحانہ انداز میں ہنسا۔
میں نے پہلے ہی کہا تھا۔
عقل نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔
ہان وو کی آنکھیں سکڑی تو نے کہا تھا۔۔؟؟
سوہان نے فوراً احتجاج کیا۔
تم لوگ ڈرامہ کر رہے ہو۔ یہ تو بہت آسان تھا۔۔۔
آسان؟ تائیجون نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
بھائی… تیرا دل لوہے کا بنا ہوا ہے کیا؟
جے کیونگ نے قہقہہ لگایا۔
نہیں… اس کا دماغ ابھی بچپن میں ہے۔ اس لیے اسے ہر خطرناک چیز میں مزہ آتا ہے۔
شکریہ۔۔۔۔
سوہان نے مسکراتے ہوئے سر جھکایا۔
میں تعریف قبول کرتا ہوں۔
ابھی وہ سیدھا بھی نہ ہوا تھا کہ ہیوک نے فوراً کہا،
ایسے… کسی کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔
ہیوک کے منہ سے یہ جملہ نکلتے ہی  سب کی نظریں بیک وقت اسی پر جم گئیں۔
تائیجون نے پلکیں جھپکائیں۔
جے کیونگ نے حیرانی سے گردن ہیوک کی طرف موڑی۔
رن یون نے ابرو سکیڑ لیے۔
سیونگ خاموشی سے ہیوک کو دیکھنے لگا۔
حتیٰ کہ ہان وو بھی چند لمحے اسے دیکھتا رہ گیا۔
ہیوک کو تب احساس ہوا کہ اس کے منہ سے کیا نکل گیا ہے۔
وہ ایک لمحے کے لیے خود بھی الجھ سا گیا۔
آخر یہ تو کورین روایت تھی… جس پر وہ سب بچپن سے عمل کرتے آئے تھے۔ احترام، سلام اور شکریہ ادا کرنے کے لیے جھکنا اُن کی عادت کا حصہ تھا۔
اور ہیوک… وہ تو ہمیشہ خود بھی سب سے خوبصورت انداز میں بو کرتا تھا۔
اور ابھی… اچانک ہیوک خود اسی عمل سے منع کر رہا تھا۔
سب کی حیران نظروں نے اسے مزید گھبرا دیا۔
اس نے فوراً بات سنبھالنے کی کوشش کی۔
میرا… میرا مطلب تھا…
ابھی ایسے بلاوجہ کیوں جھک رہا ہے؟ بس… وہی کہہ رہا تھا۔
رین يون نے آنکھیں سکیڑ دیں۔ نہیں… بات کچھ اور ہے۔
سیونگ نے فوراً اس کی تائید کی۔
ہاں… یہ وہ بات نہیں تھی جو تُو کہنا چاہ رہا تھا۔
ہان وو نے بھی بازو باندھ لیے۔
ہم تجھے کافی عرصے سے جانتے ہیں، ہیوک۔ کیا بات ہے بتا۔۔۔
اسی دوران قریب سے میٹھی خوشبو آئی۔نسوہان کی ناک بے اختیار ہوا میں ہلی۔ وہ خوشبو کا پیچھا کرتا ہوا چند قدم آگے بڑھا۔
رکو… یہ خوشبو… بھائی چھوڑو نہ اِسے یہ پاگل ہے کُچھ بھی بولتا ہے۔۔۔ چلو کُچھ کھانے چلے۔۔۔
یہ کہتے ہی وہ چل پڑا باقی سب کو بھی مجبوراً اُس کے پیچھے چلنا پڑا ورنہ وہ کہاں سے کہاں نکل جائے پتہ نہیں چلے۔۔۔
چند قدم بعد ایک بڑے سے اسٹال پر گرم گرم چُرّوس، پاپ کارن، کاٹن کینڈی اور مختلف اسنیکس رکھے ہوئے تھے۔
سوہان نے چمکتی آنکھوں سے کہا،
ہمیں یہ سب کھانا چاہیے۔
تائیجون نے فوراً ماتھا پکڑ لیا۔ ابھی آدھا گھنٹہ پہلے تو کھایا ہے۔
اور سوہان نے معصومیت سے پوچھا۔ یہ الگ کھانا ہے۔
وہ ڈنر تھا… یہ انجوائےمنٹ ہے۔
ہیوک ہنس پڑا۔
اس کے معدے کے الگ الگ خانے ہیں شاید۔
سیونگ نے بھی سر ہلایا۔
ایک کھانے کے لیے… اور ایک صرف اسنیکس کے لیے۔
رین یون نے بھی مسکراتے ہوئے کہا ہاں اور کولڈ ڈرنک، جوائس وغیرہ کا الگ۔۔۔ چلو اسی کے بہانے تُم لوگ بھی کھا لو۔۔۔۔
چند ہی لمحوں بعد سب کے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ تھا۔ کسی نے پاپ کارن لے لیے، کسی نے چُرّوس، کوئی کولڈ ڈرنک کے گھونٹ بھر رہا تھا، مگر سوہان سب پر بازی لے گیا۔ ایک ہاتھ میں کاٹن کینڈی تھی، دوسرے میں آئس کریم، اور جیب میں پاپ کارن کا پیکٹ بھی اٹکا ہوا تھا….

+++++++++++++

جوی لینڈ سے واپس آتے آتے کافی رات ہو چکی تھی۔
سب تھکے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
ہیوک نے بھی نہا کر بستر پر بیٹھتے ہی موبائل اٹھایا۔ چند لمحے سوچنے کے بعد اس نے ماہم کو میسج کیا۔
السلام علیکم… ایک بات پوچھنی تھی۔
چند ہی لمحوں بعد ریپلائی آ گیا۔
وعلیکم السلام۔
جی، پوچھیں۔
آپکی دوست کس کمپنی میں جاب کرتی ہے؟
اس بار جواب آنے میں تھوڑا وقت لگا۔
پھر ماہم نے کمپنی کا نام بھیج دیا۔
بس… یہ رہی کمپنی۔
ہیوک نے میسج پڑھا، ہلکا سا مسکرایا اور بغیر ایک لمحہ ضائع کیے وہی میسج جے کیونگ کو فارورڈ کر دیا۔
چند سیکنڈ بعد ہی جے کیونگ کی طرف سے صرف ایک جواب آیا۔
تاہم، والا ایموجی آ گیا۔
ہیوک ہنس دیا۔
ادھر ماہم کا دوبارہ میسج آیا۔
ویسے… آپ کے دوست کمپنی کا نام لے کر کریں گے کیا؟
ہیوک نے اسکرین کو چند لمحے دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے ٹائپ کیا۔
وہ تو تم خود ہی دیکھ لینا…۔لیکن ایک درخواست ہے۔
جی؟
اپنی دوست کو ابھی کچھ مت بتانا۔
چند لمحوں بعد جواب آیا۔
ٹھیک ہے… نہیں بتاؤں گی۔
ہیوک نے اطمینان کا سانس لیا۔
thank yOu۔۔۔
You’re welcome.
اس کے بعد دونوں کی گفتگو وہیں ختم ہو گئی۔

++++++++++++

ہیوک کا میسج دیکھتے ہی جے کیونگ کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ آخر کمپنی کا نام مل ہی گیا تھا۔
اس نے فوراً فون لاک کیا، اور ہان وو کی طرف مڑا
ہان وو کتاب لیے بیٹھا تھا۔
جے کیونگ نے بغیر کچھ کہے فون اس کے سامنے کر دیا۔
یہ دیکھ۔
ہان وو نے اسکرین پر نظر ڈالی۔
یہ کیا ہے؟
فاطمہ کی کمپنی کا نام۔
ہان وو نے فوراً نظریں اٹھائیں۔
پھر جے کیونگ نے شروع سے لے کر اب تک کی ساری بات اسے بتا دی۔ کیفے میں پہلی ملاقات…
بار بار کی نوک جھونک… فاطمہ کا غصہ… بل ادا کرنا… اور پھر کمپنی کا نام معلوم کرنے تک کی پوری کہانی۔
ہان وو خاموشی سے سب سنتا رہا۔
آخر میں اس نے سیدھا سوال کیا۔
اچھا… اب کمپنی جا کر کیا کرے گا؟
جے کیونگ کے ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ آگئی۔
وہ…۔میں وہاں جا کر ہی بتاؤں گا۔
پہلے یہ بتا…جاؤں گا کیسے؟
ہان وو نے فوراً جواب دیا۔
جھوٹ بول کر… جیسے ہر دفعہ جاتے ہو۔
جے کیونگ نے فوراً سر ہلایا۔
نہیں۔ اس بار نہیں۔ اگر مینیجر  کو پتہ چل گیا تو مسئلہ بن جائے گا۔ میں کسی مینیجر کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جا رہا۔
ہان وو چند لمحے سوچتا رہا۔ پھر بولا،
تو پھر… کوئی نہ کوئی بہانہ سوچنا پڑے گا۔
ہاں…
ایسا بہانہ… جس پر کسی کو شک بھی نہ ہو۔
دونوں چند لمحے خاموش بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
واضح تھا…
اگلے دن صرف کمپنی تک پہنچنا ہی نہیں، وہاں بغیر کسی شک کے پہنچنا بھی ایک الگ چیلنج ہونے والا تھا۔

++++++++++++++

اگلے چند منٹ دونوں مختلف بہانے سوچتے رہے، مگر ہر پلان میں کوئی نہ کوئی خامی نکل آتی۔
ہان وو نے اچانک کہا، ایک کام کرو… سب کو بول دو کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
جے کیونگ نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
نہیں۔ پھر مُجھے پوری طرح سے دیکھنا پڑے گا کہ میں بیمار ہوں، اور ایسا بھی ہوسکتا ہے، میرا سن کے بھائی خود روک جائیں۔۔۔
ہان وو نے اثبات میں سر ہلایا۔
یہ بات بھی ٹھیک ہے۔
پھر اس نے دوسرا مشورہ دیا۔
تو بول دو…۔شاپنگ کرنی ہے۔
جے کیونگ نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا،
مجھے؟ شاپنگ؟ پوری ٹیم کو پہلے ہی شک ہو جائے گا۔
دونوں دوبارہ خاموش ہو گئے۔
اچانک ہان وو کی آنکھوں میں چمک آئی۔
رکو… ایک کام ہو سکتا ہے۔
جے کیونگ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کیا؟
ہان وو نے آہستہ سے کہا،
ہم سب کو ساتھ لے جاتے ہیں۔
جے کیونگ کا چہرہ فوراً اتر گیا۔
پاگل ہو گیا ہے؟
مجھے اس کے کمپنی جانا ہے، بارات لے کر اُس کے گھر نہیں۔۔۔۔
ہان وو نے سر ہلایا۔
پوری بات تو سن۔ ہم سب کسی مال چلے جاتے ہیں۔
سب لوگ گھومتے رہیں گے… اور تم وہاں سے بہانہ بنا کر اس کمپنی کے آؤٹ لیٹ چلے جانا۔
جے کیونگ نے چند لمحے سوچا۔
یہ… برا آئیڈیا نہیں ہے۔
ہان وو نے مزید کہا،
کسی کو شک بھی نہیں ہوگا۔
سب یہی سمجھیں گے کہ تم بھی مال میں ہی ہو۔
جے کیونگ کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
ہاں… اور اگر آؤٹ لیٹ اسی مال میں ہوا… تو اور بھی آسان ہو جائے گا۔
ہان وو نے فوراً موبائل اٹھایا۔
پہلے یہ دیکھتے ہیں… یہ برانڈ لاہور میں کس کس مال میں ہے۔
دونوں ایک ساتھ فون کی اسکرین پر جھک گئے۔
چند لمحوں بعد ہان وو مسکرا دیا۔
مل گیا… لاہور میں اس برانڈ کے کئی آؤٹ لیٹس ہیں۔
جے کیونگ نے بے اختیار مسکرا کر دونوں ہاتھ آپس میں ملائے۔
بس… اب کل کسی طرح سب کو مال لے جانا ہے۔

++++++++++++++++

اگلی صبح…
ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں ناشتے کی میز ہمیشہ کی طرح قہقہوں سے گونج رہی تھی۔
تائیجون ایک ہاتھ سے سینڈوچ کھا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے سوہان کی پلیٹ سے فرائز اٹھا رہا تھا۔
اوئے…!
سوہان نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹکا۔
یہ میری پلیٹ ہے۔
تائیجون نے بے نیازی سے ایک فرائز منہ میں ڈال لیا۔۔
سوہان نے غصے سے منہ بنایا۔
چور… پورا چور ہے تُو۔
ادھر جے کیونگ کی پوری توجہ ناشتے پر نہیں بلکہ اپنے فون پر تھی۔
وہ بار بار اسکرین دیکھتا، پھر نظریں چرا کر ہان وو کی طرف دیکھ لیتا۔۔۔
ہان وو نے بھی خاموشی سے اثبات میں سر ہلا دیا۔
پلان ابھی بھی وہی تھا۔
اتنے میں سیونگ نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
مجھے کُچھ شاپنگ کرنی ہے، اسی لیے ہم سب ہی چلتے ہیں شاپنگ پر۔۔۔
یہ سنتے ہی جے کیونگ اور ہان وو نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ دونوں کی آنکھوں میں ایک ہی چمک تھی۔۔موقع… خود چل کر ان کے پاس آ گیا تھا۔
تائیجون نے فوراً ہاتھ اٹھایا۔
ہاں۔۔۔ چلو۔۔۔
پِھر ایک ایک کر کے سبھی نے ہاں می بھر لی،
ناشتہ ختم ہوتے ہی سب اپنے اپنے کمروں میں تیار ہونے چلے گئے۔

+++++++++++++

مال پہنچنے کے بعد سب اپنی اپنی پسند کی دکانوں کی طرف نکل گئے۔
تائیجون، سوہان اور رین یون اسپورٹس اسٹور کی طرف چلے گئے، جبکہ سیونگ کسی پرفیوم شاپ میں داخل ہو گیا۔
یہی موقع تھا۔
جے کیونگ نے آہستہ سے ہان وو کی طرف دیکھا۔
میں ابھی آیا۔
ہان وو نے صرف سر ہلا دیا۔
زیادہ دیر مت لگانا۔
جے کیونگ نے کیپ ذرا نیچے کی، ماسک درست کیا اور تیز قدموں سے اس برانڈ کے آؤٹ لیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
شوروم میں داخل ہوتے ہی اس نے ایک نظر چاروں طرف دوڑائی۔
چند سیلز ایسوسی ایٹس گاہکوں کو اٹینڈ کر رہی تھیں۔
مگر… فاطمہ کہیں نظر نہیں آئی۔
وہ سیدھا کاؤنٹر پر موجود لڑکی کے پاس جا کر رکا۔
السلام علیکم۔
وعلیکم السلام، سر۔
میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔
جی ضرور۔
کیا یہاں فاطمہ طارق کام کرتی تھیں؟
کاؤنٹر پر موجود لڑکی نے فوراً اثبات میں سر ہلایا۔
جی، کرتی تھیں۔
جے کیونگ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
اچھا… وہ یہاں کیا کام کرتی تھیں؟
لڑکی نے جواب دیا،
وہ ہمارے آؤٹ لیٹ میں سیلز ایسوسی ایٹ تھیں۔
کسٹمرز کو اٹینڈ کرتی تھیں اور پروڈکٹس گائیڈ کرتی تھیں۔
جے کیونگ نے آہستہ سے “ہممم” کہا۔
پھر پوچھا،
اور… آج نظر نہیں آ رہیں؟
لڑکی کے چہرے پر ہلکی سی اداسی آگئی۔
اصل میں… انہوں نے یہاں کی جاب چھوڑ دی ہے۔
یہ سن کر جے کیونگ چند لمحے خاموش رہ گیا۔
گویا وہ ایک قدم دیر سے پہنچا تھا۔
اس نے گہرا سانس لیا، پھر پرسکون لہجے میں بولا،
اچھا…
مجھے آپ کے منیجر… یا مالک سے ملنا ہے۔
لڑکی نے فوراً معذرت خواہانہ انداز اپنایا۔
سوری سر۔
ہم کسی بھی شخص کو بغیر اپائنٹمنٹ یا وجہ کے منیجر سے نہیں ملوا سکتے۔ یہ ہماری پالیسی ہے۔
جے کیونگ نے چند لمحے سوچا۔
پھر اس نے آہستہ سے اپنا ماسک نیچے کیا اور کیپ بھی اتار دی۔
میں… کوریا سے آیا ہوں۔ میرا نام جے کیونگ ہے۔
میں ایس ٹو ایس گروپ کا ممبر ہوں۔
کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی نے پہلے حیرانی سے اسے دیکھا۔
پھر دوبارہ…
اور اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اوہ مائی گاڈ… آپ…
واقعی…؟
جے کیونگ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
جی۔ لیکن پلیز… شور مت کیجیے گا۔
میں صرف آپ کے منیجر سے چند منٹ بات کرنا چاہتا ہوں۔
لڑکی نے جلدی جلدی سر ہلایا۔
جی… جی سر…
بس ایک منٹ۔
وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اندر آفس کی طرف چلی گئی۔
چند لمحوں بعد اندر سے دبے دبے انداز میں کسی کی حیران آواز سنائی دی۔
کیا؟ واقعی؟
اور پھر تیز قدموں کی آوازیں جے کیونگ کی طرف بڑھنے لگیں…
چند لمحوں بعد درمیانی عمر کے ایک باوقار شخص  آئے۔
انہوں نے جے کیونگ کو دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا۔
میں اس آؤٹ لیٹ کا منیجر ہوں۔
جے کیونگ نے مصافحہ کیا۔
تھینک یو۔
اگر ممکن ہو تو میں آپ سے چند منٹ اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔
ضرور۔
منیجر اسے اپنے آفس میں لے گئے۔
دروازہ بند ہوتے ہی دونوں آمنے سامنے بیٹھ گئے۔
منیجر نے مسکراتے ہوئے کہا،
جی فرمائیے۔
میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟
جے کیونگ نے بغیر وقت ضائع کیے سیدھی بات کی۔
میں چاہتا ہوں…
آپ فاطمہ طارق کو دوبارہ جاب آفر کریں۔
اور اس بار… پروموشن کے ساتھ۔
منیجر کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
انہوں نے چند لمحے خاموش رہ کر پوچھا،
کیوں؟
جے کیونگ خاموش رہا۔
منیجر نے دوبارہ کہا،
دیکھیں… یہ بزنس ہے۔ میں کسی کو صرف کسی کے کہنے پر پروموشن نہیں دے سکتا۔
جے کیونگ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
وہ کرسی پر ذرا سا آگے ہوا۔
ایک کانٹریکٹ بناتے ہیں۔
منیجر نے دلچسپی سے ابرو اٹھائے۔
کیسا کانٹریکٹ؟
جے کیونگ نے نہایت سنجیدگی سے کہا،
اس میں لکھا ہوگا…
کہ آپ فاطمہ طارق کو پروموشن کے ساتھ دوبارہ ملازمت کی پیشکش کریں گے۔
اور…
جب تک وہ خود استعفیٰ نہ دیں یا شادی نہ کر لیں، انہیں اس ملازمت سے نہیں نکالا جائے گا، بشرطیکہ وہ کمپنی کے قواعد و ضوابط کی پابندی کریں۔
بدلے میں…
میں آپ کے برانڈ کے لیے ایک ایڈ شوٹ کروں گا۔
جس طرح کا آپ چاہیں۔
آپ اسے اپنی سوشل میڈیا مارکیٹنگ میں استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک مہینے بعد۔۔۔
منیجر چند لمحے خاموش رہے۔
یہ آفر یقیناً غیر معمولی تھی۔
انہوں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی۔
اور پھر پوچھا، ایک سوال…
فاطمہ طارق آپ کی کیا لگتی ہے؟
جے کیونگ صرف مسکرا دیا۔
ہم… ڈیل کی بات کرتے ہیں۔
ایسا موقع شاید آپ کو دوبارہ نہ ملے۔
منیجر بھی ہلکا سا مسکرا دیے۔
پھر ایک اور سوال۔
ایک مہینہ بعد پوسٹ کرنے کی شرط کیوں؟
جے کیونگ نے فوراً جواب دیا،
کیونکہ اس وقت میں چھٹیوں پر پاکستان ٹرپ پر آیا ہوا ہوں۔ اگر آپ نے ایڈ فوراً پوسٹ کر دی…
تو لوگوں کو فوراً پتا چل جائے گا کہ میں پاکستان میں ہوں۔ پھر میرا باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا۔۔۔
اپنی حفاظت بھی دیکھنی ہوتی ہے۔
منیجر نے معنی خیز انداز میں مسکرا کر کہا،
اور… فاطمہ کی مدد بھی کرنی ہے۔
جے کیونگ نے ہلکی سی مسکراہٹ دباتے ہوئے جواب دیا،
آپ اپنے کام پر توجہ دیں۔ ادھر اُدھر کی باتوں میں نہ پڑیں۔
منیجر بے اختیار ہنس پڑے۔
چند لمحے سوچنے کے بعد انہوں نے میز پر پڑی فائل بند کی۔
ٹھیک ہے۔ ڈیل منظور ہے۔ ہم قانونی ٹیم سے معاہدہ تیار کروا لیتے ہیں۔ آپ دستخط کر دیں گے… اور ہم اپنی طرف سے بھی کر دیں گے۔
جے کیونگ نے اطمینان سے سر ہلایا۔
ڈن۔
منیجر نے ڈائری کھولی اور چند نوٹس لکھے۔
پھر بولے،
کل شام… پانچ بجے آ جائیے۔ ایڈ شوٹ بھی کر لیں گے… اور معاہدہ بھی سائن ہو جائے گا۔
جے کیونگ کھڑا ہو گیا۔
اوکے۔
تھینک یو۔
وہ دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ پیچھے سے منیجر کی آواز آئی۔
مسٹر جے کیونگ…
وہ رکا اور پلٹ کر دیکھا۔
منیجر نے مسکراتے ہوئے دوبارہ وہی سوال کیا۔
آخر… فاطمہ طارق آپ کی لگتی کیا ہے؟
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
جے کیونگ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ صرف اتنا کہا، کچھ نہیں…
اتنا کہہ کر وہ مڑا اور لمبے قدموں سے آفس سے باہر نکل گیا۔
کمرے میں چند لمحوں تک خاموشی چھائی رہی۔
منیجر دروازے کی طرف دیکھتا رہ گیا، پھر زیرِ لب بڑبڑایا،
کچھ نہیں کے لیے… اتنا سب کچھ؟
اس نے میز پر رکھا معاہدہ دوبارہ اٹھایا۔
ایک بار پھر پوری توجہ سے ہر شق پڑھی۔
ایک طرف برانڈ کے لیے ملک کے مشہور کے-پاپ اسٹار کا اشتہار… اور دوسری طرف صرف ایک ملازمہ کو پروموشن دے کر دوبارہ ملازمت پر رکھنا، بلکہ یہ ضمانت دینا کہ شادی سے پہلے تک اسے کوئی نوکری سے نہیں نکالے گا۔
منیجر نے بے اختیار سر ہلایا۔
عجیب آدمی ہے…
پھر ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آگئی۔
لوگ اپنے فائدے کے لیے ڈیل کرتے ہیں… اور یہ کسی اور کے فائدے کے لیے اتنی بڑی ڈیل کر گیا۔
اس نے انٹرکام اٹھایا۔
ریسپشن پر مس فاطمہ طارق کی فائل فوراً بھیجیں… اور HR کو بھی میرے آفس میں بھیج دیں۔
چند ہی منٹ بعد فاطمہ کی ایمپلائی فائل اس کے سامنے موجود تھی۔
منیجر نے فائل کھولی۔
اس کی سابقہ پرفارمنس رپورٹس، سیلز ریکارڈ اور حاضری دیکھ کر اس نے بھنویں اٹھائیں۔
ہمم… کام تو واقعی اچھا کرتی تھی۔ بس اس کے نقاب کا ایشو ہے۔۔۔
اس نے فائل بند کی اور ایچ آر کی طرف دیکھ کر بولا،
مس فاطمہ طارق سے آج ہی رابطہ کریں۔
ایچ-آر حیران رہ گیا۔
سر… انہوں نے تو خود ریزائن دیا تھا۔
پتا ہے۔
منیجر نے پرسکون لہجے میں جواب دیا۔
انہیں کہیں کہ کمپنی انہیں پروموشن کے ساتھ دوبارہ جوائن کرنے کی آفر دے رہی ہے۔ تنخواہ بھی پہلے سے بہتر ہوگی۔ اور ان کے نقاب سے بھی کمپنی کو کوئی ایشو نہیں۔۔۔
ایچ آر کی آنکھوں میں حیرت صاف جھلک رہی تھی۔
سر… اچانک؟
منیجر نے میز پر رکھا معاہدہ دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
کبھی کبھی ایک اچھے ملازم کی قدر دیر سے سمجھ آتی ہے۔
اس نے جان بوجھ کر اصل وجہ نہیں بتائی۔
وہ جانتا تھا… یہ معاہدہ اور جے کیونگ کی آمد، فی الحال صرف انہی دونوں کے درمیان رہنی چاہیے۔
دوسری طرف…
آفس سے باہر نکلتے ہوئے جے کیونگ نے جیب سے موبائل نکالا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی اطمینان بھری مسکراہٹ تھی۔
وہ آہستہ سے خود ہی بڑبڑایا،
تو میس اب آپکو اب اس دنیا میں خوشیاں نظر آنے لگے گی۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے فون دوبارہ جیب میں رکھا اور خاموشی سے عمارت سے باہر نکل گیا۔

++++++++++++++

ہان وو ایک ٹی شرٹ ہاتھ میں لیے اس کا کپڑا غور سے دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں جے کیونگ کا گارڈ اس کے قریب آ گیا۔
سر… جے کیونگ سر کو واش روم گئے کافی دیر نہیں ہو گئی؟
ہان وو نے بغیر اوپر دیکھے جواب دیا۔
مجھے کیا معلوم۔
گارڈ نے بے چینی سے کہا،
میں جا کر چیک کر آؤں؟
ہان وو نے اس کی طرف دیکھا۔
اگر وہ اندر ہوئے تو؟
گارڈ ایک لمحہ سوچا، پھر بولا،
تو… باہر کھڑا انتظار کروں گا۔
ہان وو نے پھر پوچھا،
اور اگر وہ اندر نہ ہوئے تو؟
گارڈ نے آہ بھری۔
پھر… پھر مجھے ان کے ساتھ ہی جانا چاہیے تھا۔
ہان وو نے انتہائی سنجیدگی سے کہا،
واش روم کے اندر کوئی چپکے سے گھس کر تمہارے جے کیونگ سر کو اٹھا کر نہیں لے جا رہا۔ آرام سے یہیں کھڑے رہو، آ جائیں گے۔
مگر گارڈ کی پریشانی کم نہ ہوئی۔
لیکن سر…
ہان وو نے بات کاٹ دی۔
بہت شوق ہو رہا ہے نا؟ جاؤ، جا کر دیکھ آؤ۔
گارڈ کے چہرے پر امید آ گئی۔
ہان وو نے فوراً اگلا جملہ کہا،
اور اگر تمہارے وہاں جانے کے بعد جے کیونگ سر یہاں آ گئے… تو پھر مینیجر کو جواب بھی تم خود دینا۔
گارڈ کا چہرہ فوراً اتر گیا۔
سر… آپ مجھے دھمکی دے رہے ہیں؟
ہان وو نے دوبارہ اپنی نظر ٹی شرٹ پر جما دی اور نہایت بے پروائی سے بولا،
نہیں… اب مجھے کپڑے دیکھنے دو… اور تنگ مت کرو۔
گارڈ نے بے بسی سے ایک لمبی سانس لی۔
جی سر…
اور خاموشی سے دوبارہ اپنی جگہ جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ ہان وو ایسے سکون سے شاپنگ کرنے لگا جیسے ابھی کوئی گفتگو ہوئی ہی نہ ہو۔

+++++++++++++

کچھ ہی دیر بعد جے کیونگ تیز قدموں سے واپس ان کی طرف آ گیا۔
ہان وو تب تک خاصی شاپنگ کر چکا تھا۔
کچھ کپڑے اس نے اپنے لیے لیے تھے، اور کچھ جان بوجھ کر جے کیونگ کے نام پر بھی خرید لیے تھے، تاکہ اگر کوئی پوچھے تو یہی لگے کہ دونوں اتنی دیر سے ساتھ ہی شاپنگ کر رہے تھے، نہ کہ جے کیونگ کہیں اور گیا ہوا تھا۔
جیسے ہی جے کیونگ قریب آیا، ہان وو نے اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالی۔
ہو گیا کام؟
جے کیونگ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔
ہاں…
ہان وو نے اطمینان کا سانس لیا۔
چلو پھر۔
جے کیونگ نے ایک شاپنگ بیگ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا،
کہاں؟
فوڈ کورٹ۔.ہان وو نے جواب دیا۔ ابھی سب وہیں جمع ہو رہے ہیں۔
جے کیونگ نے اثبات میں سر ہلایا۔
چلو۔
دونوں خاموشی سے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔
راستے میں جے کیونگ نے آہستہ سے پوچھا،
کسی کو شک تو نہیں ہوا؟
ہان وو نے پرسکون لہجے میں جواب دیا،
نہیں۔….
پھر ہاتھ میں موجود شاپنگ بیگز ہلکے سے اوپر اٹھاتے ہوئے بولا،
اتنی شاپنگ کر لی ہے کہ اگر کسی نے پوچھ بھی لیا تو یہی سمجھیں گے، تم مجھے کپڑے پسند کروانے میں لگے ہوئے تھے۔
جے کیونگ بے اختیار ہنس دیا۔
چند ہی لمحوں بعد دونوں فوڈ کورٹ کی طرف بڑھ گئے، جہاں باقی سب پہلے ہی ان کا انتظار کر رہے تھے۔

++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *