بشر ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۱۳
سب گھوم پھر کر واپس ہوٹل پہنچے تو بے اختیار سب ایک ساتھ ہی ہیوک کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
کمرے میں داخل ہوئے تو ہیوک آرام سے بستر پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ کسی کے-ڈرامے کی مدھم آواز پورے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔
آگئے سب؟ ا نے سکون سے پوچھا۔
ہاں۔۔۔ سوہان تقریباً اچھلتا ہوا اس کے برابر بستر پر جا بیٹھا۔ اتنا مزہ آیا نا آج۔۔۔۔
ابے، تو یہاں کیا کر رہا ہے؟ تائیجون نے فوراً ٹوکا۔ جا پہلے کپڑے بدل کر آ۔
ابھی نہیں… بعد میں۔
ابھی یہ پوری داستان سنائے گا ہیوک کو، پھر جائے گا۔ جے کیونگ نے کہا۔
رین یون نے غور سے ہیوک کو دیکھا۔
اب طبیعت کیسی ہے؟
بہتر ہوں۔
سیونگ نے بھنویں سکیڑیں۔ ہوٹل کے اسٹاف نے بتایا تھا تم باہر گئے تھے؟
ہیوک کا دل ایک لمحے کو دھڑکا مگر اس کے چہرے پر کوئی اثر نہ آیا۔
ہاں، وہ بالکل معمول کے لہجے میں بولا، کمرے میں بند بند سا محسوس ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر باہر چہل قدمی کرنے چلا گیا تھا۔
اس کا جھوٹ اتنا پرسکون اور بے ساختہ تھا کہ سب نے فوراً مان لیا۔
ویسے بھی اگر اس کی جگہ سوہان، تائیجون، جے کیونگ یا سومن ہوتا تو اب تک سوالوں کی پوری عدالت لگ چکی ہوتی۔
جھوٹ تو نہیں بول رہے نا؟ سوہان نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
ہر کوئی تیری طرح نہیں ہوتا۔ سومن نے فوراً جواب دیا۔
میری طرح ہو بھی نہیں سکتا۔ سوہان نے فخر سے گردن اکڑائی۔ اتنا پیارا اور کیوٹ جو ہوں۔
اب میں کچھ بولوں گا تو فساد ہو جائے گا۔
مت بول۔ جے کیونگ نے فوراً کہا۔
ہاں، جا رہا ہوں میں اب۔ سونے۔
جلدی جا۔
نہیں جا رہا اب۔
ابے پاگل۔۔۔۔
تو پاگل۔۔۔۔
یہ کوئی وقت ہے بحث کرنے کا؟ ہان وو نے بے زاری سے کہا۔
سومن نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اچھا؟ بحث کرنے کا بھی کوئی وقت ہوتا ہے؟
ہاں ہوتا ہے نا۔۔ سوہان فوراً بولا۔
سیونگ نے پوچھا، کب؟
فارغ وقت میں۔
جو کہ سوہان کے پاس بہت زیادہ ہے۔ سومن نے سنجیدگی سے کہا۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد پورا کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔
صحیح بات ہے۔ تائیجون نے ہنستے ہوئے کہا۔
سوہان نے منہ بنایا۔
کیا تم سب کو صرف میں ہی ملتا ہوں؟
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے، ہاں۔ جے کیونگ نے جواب دیا۔
ہیوک کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ آئی۔
جلتے ہیں نا سب تم سے۔
سوہان فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔
ہاں صحیح بولا ایک دم صحیح بولا۔۔۔
ہاں، سومن نے سنجیدگی سے سر ہلایا، جل جل کے میں تو کالا ہو گیا۔۔۔
کہاں؟ تائیجون نے حیرت سے اسے دیکھا۔ تو تو گورا ہے۔
اسی لیے تو کہا کہ جَل کر کالا ہو گیا۔۔۔۔
مطلب جل ہی نہیں رہا۔ ہان وو نے فلسفیانہ انداز میں نتیجہ نکالا۔
جے کیونگ نے فوراً کہا آپ سے کسی نے مطلب پوچھا تھا؟
میں نے نالج کے لیے بتایا۔
واہ، کیا نالج دی ہے۔ میں قربان۔ تھینک یو۔ سومین نے کہا
سیونگ نے آخرکار تنگ آکر سب کو دیکھا۔
ہو گیا تم لوگوں کا؟ اب جا کر سو جاؤ۔
یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ رین یون بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔
گڈ نائٹ۔ ہان وو بھی ہاتھ ہلاتا ہوا روانہ ہو گیا۔
میں بھی جا رہا ہوں۔ جے کیونگ نے کہا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
میرا یہاں اب کیا کام؟ سومن نے شانے اچکائے۔ میں بھی چلا۔۔۔
چند لمحوں بعد کمرے میں صرف ہیوک، تائیجون اور سوہان رہ گئے تھے۔
اب تو نکل۔ تائیجون نے سوہان کی طرف دیکھا۔
نہیں۔
ابے جا نا۔ کل ساری کہانی سنا دینا۔ ابھی سونے دے مجھے۔
تو سو جا، میں سائیڈ پر بیٹھا ہوں۔
ابے نکل۔۔۔۔
اس نے واقعی سوہان کو بازو سے پکڑ کر باہر دھکیلا اور دروازہ بند کر دیا۔
کمرے میں اچانک خاموشی اتر آئی۔
تائیجون واپس آ کر بستر پر بیٹھا تو اس کی نظر ہیوک کے موبائل پر پڑی۔
بے دھیانی میں اس نے فون اٹھا لیا۔
اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
اسکرین پر گوگل میپس کھلا ہوا تھا۔
اور سرچ ہسٹری میں ایک ہی چیز نمایاں تھی۔
شاپنگ مال کا لوکیشن۔
تائیجون نے آہستہ سے سر اٹھا کر حیوک کو دیکھا۔
یہ کیا ہے؟
ہیوک کا دل دھڑک اٹھا مگر چہرہ بدستور پرسکون رہا۔
کچھ نہیں۔
میرے ماتھے پر چے لکھا ہے؟
ہیوک خاموش رہا۔
تائیجون نے فون اس کے سامنے کر دیا۔
اب بتائے گا… کہاں گیا تھا؟
ہیوک نے فوراً فون اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کی۔
کچھ نہیں…
کچھ نہیں؟ تائیجون نے اسکرین اُس کے سامنے کر دی۔ یہ کیا ہے پھر؟ پیکیجز مال؟ اور یہ لوکیشن ابھی تک کھلی ہوئی ہے۔
ہیوک نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔
غلطی ہو گئی تھی۔
وہ اتنی جلدی میں واپس آیا تھا کہ گوگل میپ بند کرنا ہی بھول گیا تھا۔
میں بس ایسے ہی چلا گیا تھا۔
ایسے ہی؟
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔
تم بیمار تھے۔ پھر اکیلے ہوٹل سے نکلے۔ پھر سیدھا مال گئے۔ اور اب کہہ رہے ہو ایسے ہی؟
ہیوک خاموش رہا۔
تائیجون نے بازو باندھ لیے۔
دیکھ بھائی… میں سوہان نہیں ہوں۔ مجھے بہکانے کے لیے دو لفظ کافی نہیں ہوتے۔
ہیوک کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
یہ تو سچ ہے۔
موضوع مت بدلو۔
بدل نہیں رہا۔
تو بتاؤ۔
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
آخرکار ہیوک نے آہستہ سے کہا،
میں کسی سے ملنے گیا تھا۔
تائیجون چند سیکنڈ اُسے گھورتا رہا۔
پھر ایک دم سیدھا بیٹھ گیا۔
کیا؟
ہیوک نے سر جھکا لیا۔
میں کسی سے ملنے گیا تھا۔
کسی سے؟
ہاں۔
لڑکی تھی؟
ہیوک نے جواب نہیں دیا۔
تائیجون کی آنکھیں پھیل گئیں۔ اوہ میرے خدا…
اتنا اوور ری ایکٹ مت کر۔
میں ری ایکٹ نہ کروں؟ تائیجون تقریباً سرگوشی میں چلایا۔
تم؟ ہیوک؟
ہاں میں۔
تُم اور لڑکی سے ملنا گئے۔۔۔؟؟ حیرت کی بات ہے۔۔ تُجھے تو لڑکیاں میں انٹریسٹ نہیں تھا۔۔۔ ابھی اچانک یہ کونسی لڑکی آگئی۔۔ وہ بھی پاکستان میں۔۔۔ تو تو لڑکیوں کے معاملے میں ہمیں لیکچر دیتا تھا۔۔۔ کہ لڑکی سے دور رہو لڑکی ہی تو ہے کیا خاص ہے اس میں، اور ابھی خود لڑکی کے چکر میں پڑ گیا۔۔
میں لیکچر نہیں دیتا۔
دیتے ہو۔۔
نہیں دیتا۔
دیتے ہو۔۔
تائیجون…
اچھا ٹھیک ہے۔۔ وہ فوراً سنجیدہ ہو گیا۔
اس نے فون ایک طرف رکھا اور پوری توجہ ہیوک پر مرکوز کر دی۔
نام کیا ہے؟
ہیوک نے نظریں چرا لیں۔
کہاں ملی؟ کون ہے؟ کِسی ہے۔۔۔؟؟
خاموشی۔
ٹائیجون نے مشکوک انداز میں آنکھیں سکیڑیں، ڈیٹنگ ویٹنگ کا چکر ہے کیا؟
ہیوک تقریباً اچھل پڑا۔ کیا؟ نہیں۔۔۔۔
پھر؟
ڈیٹنگ، ویٹنگ… کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ جھنجھلا گیا۔ پاگل ہے کیا؟ میں کیوں اسے ڈیٹ کروں گا؟ تجھے پتہ نہیں ہے کیا؟ ہمیں اجازت نہیں ہے ڈیٹنگ کرنے کی۔
ابے مینیجر کو کون بتائے گا؟ ٹائیجون نے کندھے اچکائے۔ چپکے چپکے۔ آخر جب لڑکی پسند آ ہی گئی تو کیا کر سکے دِل پر کب کِسی کا اختیار ہوتا ہے۔…
چپ رہ۔۔۔۔ ہیوک نے فوراً بات کاٹی۔
ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا میں۔
پھر ملنے کیوں گیا تھا؟ جب کوئی چکر نہیں تو۔۔ اس بار سوال سیدھا تھا۔
ہیوک چند لمحے خاموش رہا۔
ویسے ہی۔
ویسے ہی؟
تائیجون نے ایسے دہرایا جیسے دنیا کا سب سے ناقابلِ یقین جواب سن لیا ہو۔
ہاں۔ اور پرسوں بھی ملنے جانا ہے۔
ہیوک کے چہرے پر ایک لمحے کو جھینپ سی ابھری۔
ٹائیجون نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
واہ بھائی صاحب واہ اس کی آواز میں طنز نمایاں تھا۔ لڑکی پسند بھی نہیں آئی۔۔ ڈیٹ بھی نہیں کرنا۔ لیکن ملنے ضرور جانا ہے۔
کس نے کہا پسند نہیں آئی؟
جملہ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
اور نکلتے ہی ہیوک کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔
ٹائیجون چند سیکنڈ اسے گھورتا رہا۔
پھر آہستہ آہستہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
اوہ… وہ لمبا سانس لے کر بولا۔ مطلب پسند آ گئی ہے؟
نہیں… نہیں… ہیوک فوراً گھبرا گیا۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
تو کیا مطلب تھا؟
بس… اس نے بے بسی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔ وہ اچھی ہے۔
تائیجون خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
لیکن ڈیٹ وغیرہ کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہیوک نے جلدی سے وضاحت کی۔ ویسے بھی وہ پاکستانی ہے…
اس کی آواز آہستہ پڑ گئی۔
اور ہم صرف کچھ ہی دنوں کے لیے یہاں ہے۔۔۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
اس بار تائیجون نے مذاق نہیں کیا۔
اس نے سر ہلایا۔
ہاں… اس کے لہجے میں پہلی بار سنجیدگی آئی۔
یہ بھی ہے۔
وہ بستر کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
مسئلہ تو ہے…
اس نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اور کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ نہیں۔
ہیوک خاموش رہا۔
مینیجر سے تو پھر بھی چھپا سکتے ہیں۔
تائیجون ہلکا سا ہنسا۔
کمپنی سے بھی شاید۔
پھر اس کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
لیکن دو ملکوں کے فیصلوں سے کیسے لڑیں گے؟
ہیوک کے ہاتھ بے اختیار آپس میں جڑ گئے۔
اس نے خود بھی یہی سوچا تھا۔
بار بار سوچا تھا۔ وہ لڑکی اسے اچھی لگی تھی۔
شاید ضرورت سے زیادہ اچھی۔
مگر حقیقت اپنی جگہ موجود تھی۔
وہ پاکستان کی تھی۔
اور وہ…
چند دن بعد واپس چلا جانے والا تھا۔
کچھ فاصلے صرف میلوں میں نہیں ناپے جاتے۔
کچھ فاصلے نقشوں، زبانوں، وقت اور قسمت کے درمیان ہوتے ہیں۔
اور ایسے فاصلے طے کرنا ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
+++++++++++++++
صبح کا آغاز ہمیشہ کی طرح شور شرابے سے ہوا۔
اصل میں شور شرابے کا آغاز سوہان سے ہوا تھا۔
اُٹھ جاؤ سب….
اُس کی بلند آواز پورے فلور میں گونجی۔
ہم لاہور گھومنے آئے ہیں یا سونے؟
ساتھ والے کمرے سے سومین کی غصے بھری آواز آئی۔
میں آ رہا ہوں… پہلے تو چپ ہو جا!
نہیں…
پھر میں بھی نہیں اُٹھ رہا۔۔۔
ٹھیک ہے، میں تمہارے کمرے میں آ رہا ہوں۔۔۔
مت آنا۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور پھر کسی کے بھاگنے کی۔
چند سیکنڈ بعد پورا کوریڈور قہقہوں سے گونج اٹھا۔
ناشتے کے وقت سب ایک بار پھر اکٹھے بیٹھے تھے۔
ہیوک حسبِ معمول پرسکون انداز میں کافی پی رہا تھا۔
جبکہ تائیجون بار بار اُسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
ہیوک نے اُسے کئی بار نظر انداز کیا۔
مگر آخرکار بول ہی پڑا۔
کیا مسئلہ ہے؟
کچھ نہیں۔
پھر ہنس کیوں رہے ہو؟
ویسے ہی۔
ہیوک نے فوراً سمجھ لیا۔
یہ کل رات والی بات کی وجہ سے تھا۔
اور یہی وجہ تھی کہ اُس نے تائیجون کو سخت نظروں سے گھورا۔
مگر اُس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
ناشتہ ختم ہوتے ہی منیجر نے اعلان کیا۔
آج ہم لاہور فورٹ جائیں گے۔
فورٹ؟۔جےکیونگ نے پوچھا۔
لقلعہ؟
جی۔
اصلی والا؟ سوہان نے پوچھا۔۔۔
نہیں، کارٹون والا۔ سومین نے خشک لہجے میں جواب دیا۔
چند سیکنڈ خاموشی رہی۔
پھر سب ہنس پڑے۔
حتیٰ کہ ہان وو بھی۔ سوہان نے منہ بنا لیا۔
میں صرف پوچھ رہا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔
شہر کی مصروف سڑکیں ایک بار پھر اُن کے سامنے تھیں۔
راستے بھر منیجر لاہور کی تاریخ بتاتا رہا۔
جبکہ سوہان ہر دو منٹ بعد نیا سوال پوچھتا رہا۔
یہ عمارت کتنی پرانی ہے؟
کیا یہاں بھوت بھی ہوتے ہیں؟
بادشاہ واقعی اتنے بڑے محلوں میں رہتے تھے؟
اگر میں بادشاہ ہوتا تو…
تم بادشاہ نہیں ہوتے۔ سومین نے فوراً ٹوکا۔
کیوں؟
کیونکہ تو دو دن میں خزانہ ختم کر دیتا۔۔۔
سب ہنس پڑے۔
تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک عظیم الشان تاریخی عمارت کے سامنے رُک گئی۔ لاہور قلعہ۔ بلند دیواریں۔ سرخ اینٹیں۔ وسیع دروازے۔ اور سینکڑوں سال پرانی تاریخ۔
سب گاڑی سے اُتر کر خاموشی سے سامنے دیکھنے لگے۔
واہ…
رین یون کے منہ سے بےاختیار نکلا۔
واقعی منظر حیران کن تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ وقت میں سینکڑوں سال پیچھے آ گئے ہوں۔
ہان وو نے بلند دیواروں کی طرف دیکھا۔
یہ واقعی اتنا پرانا ہے؟
جی۔۔منیجر نے جواب دیا۔
مغل بادشاہوں کے دور سے۔
اتنی بڑی عمارت اُس زمانے میں کیسے بنائی ہوگی؟
تائیجون نے حیرت سے پوچھا۔
لوگوں نے محنت کی ہوگی۔
سیونگ بولا۔
یا پھر تمہارے خیال میں ایلینز نے بنائی تھی؟
میں نے ایسا کب کہا؟
ابھی نہیں۔ لیکن پانچ منٹ بعد کہہ دیتے۔
قلعے کے اندر داخل ہوتے ہی سب کی نظریں ادھر اُدھر گھومنے لگیں۔
کسی جگہ سنگِ مرمر کا کام تھا۔ کہیں خوبصورت محرابیں۔ کہیں وسیع صحن۔ کہیں قدیم کمروں کے آثار۔
اور سب سے زیادہ حیران سوہان تھا۔
وہ تقریباً ہر چیز کی تصویر لے رہا تھا۔
یہ دیکھو۔۔۔
کلک۔
یہ بھی دیکھو۔۔۔
کلک۔
اوہ یہ تو بہت زبردست ہے۔۔۔۔
کلک۔
وہ لوگ چلتے چلتے شیش محل تک پہنچے۔
اندر داخل ہوتے ہی سب رک گئے۔
دیواروں اور چھت پر ہزاروں چھوٹے چھوٹے شیشے جڑے ہوئے تھے۔
ہر شیشہ الگ زاویے پر لگا تھا۔
کھڑکیوں سے آنے والی سورج کی روشنی جب اُن پر پڑتی تو پورا کمرہ جگمگا اٹھتا۔
یوں لگتا تھا جیسے دیواروں میں ستارے قید ہوں۔
ہلکی سی حرکت سے روشنی مختلف سمتوں میں بکھر جاتی۔
ہر طرف چمکتے ہوئے ننھے ننھے عکس نظر آتے۔
اوہ… جےکیونگ نے آہستہ سے کہا۔
یہ تو واقعی خوبصورت ہے۔
ہیوک بھی خاموشی سے اردگرد دیکھ رہا تھا۔
پھر نہ جانے کیوں اُسے ماہم کی بات یاد آ گئی۔
میرے پاس اور بھی ہے کہنے کو… اتنا کہ ایک دن بھی گزر جائے تو میرے اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی…
وہ چند لمحوں کے لیے گم سا ہوگیا۔
ہیوک؟
تائیجون کی آواز پر وہ چونکا۔
ہاں؟
کہاں کھو گئے؟
کہیں نہیں۔
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔
پھر ہلکا سا مسکرایا۔
اور ہیوک فوراً سمجھ گیا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔
کچھ مت کہنا۔
میں نے کچھ کہا؟
تمہارے چہرے پر لکھا ہوا ہے۔
اچھا؟
ہاں۔
تائیجون ہنس پڑا۔
اور ہیوک بےاختیار مسکرا دیا۔
مگر دل کے کسی کونے میں ایک اور خیال موجود تھا۔
پرسوں۔
وہ دوبارہ ماہم سے ملنے والا تھا۔
اور نہ جانے کیوں…
اُسے اُس ملاقات کا انتظار لاہور کی سیر سے بھی زیادہ تھا۔
+++++++++++++++
رات کا وقت تھا۔ کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ رین یون بےچینی سے کبھی دراز کھولتا، کبھی الماری، اور کبھی میز کے اردگرد نظریں دوڑاتا۔ وہ کافی دیر سے اپنے ایئرپوڈز تلاش کر رہا تھا مگر وہ کہیں نہیں مل رہے تھے۔
سیونگ بستر پر ٹیک لگائے موبائل استعمال کر رہا تھا۔ اس نے رین یون کو اس طرح پریشان گھومتے دیکھا تو پوچھا،
کیا ڈھونڈ رہے ہو؟
ایئرپوڈز ڈھونڈ رہا ہوں۔
بیگ میں چیک کرو، کیا پتا نکالنا بھول گئے ہو۔
ہاں، دیکھتا ہوں۔
رین یون نے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا۔ ویسے بھی وہ اپنا آدھے سے زیادہ سامان ہمیشہ بیگ میں ہی رکھتا تھا۔
اس نے زپ کھولی ہی تھی کہ اس کی نظر ایک کتاب پر جا ٹھہری۔
وہی کتاب… جو اُس لڑکی نے اسے دی تھی۔
کتاب دیکھتے ہی جیسے وقت چند لمحوں کے لیے رک گیا۔ اُس کے کانوں میں پھر وہی آواز گونجی۔
یہ آپ کا انعام ہے… ایک دفعہ اس کتاب کو ضرور پڑھیے گا۔
رین یون نے آہستہ سے کتاب ہاتھ میں اٹھا لی۔
وہ اسے پڑھنا بھی چاہتا تھا…
اور اس سے ڈرتا بھی تھا۔
مگر آخر کس بات کا خوف تھا؟
سیونگ نے اسے خاموش کھڑا دیکھا تو دوبارہ پوچھا،
کیا ہوا؟ مل گیا کیا؟
رین یون نے نظریں کتاب سے ہٹائے بغیر دھیمی آواز میں کہا،
ملتی ہی تو نہیں وہ…
کیا؟
نہ میں اُس کی یاد سے پیچھا چھڑا پارہا ہوں… اور نہ میں اُس کے دیے ہوئے انعام کو سینے سے لگا پا رہا ہوں۔
سیونگ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیا بول رہے ہو؟
مگر رین یون کی توجہ کہیں اور تھی۔ وہ اب بھی کتاب کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
چند لمحوں بعد اس نے آہستہ سے پوچھا،
کیا وہ مجھے مل نہیں سکتی؟
اگر میں یہ کتاب پڑھ لوں… تو کیا وہ مجھے مل جائے گی؟
اب جا کر سیونگ کو سمجھ آیا کہ رین یون کس کی بات کر رہا ہے۔
وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اتنا وقت گزر جانے کے باوجود… رین یون اُسے بھول نہیں پایا تھا۔
سیونگ نے گہرا سانس لیا۔
وہ تمہیں اتنی پسند کیوں ہے، رین یون؟ کتنی بدتمیز لڑکی تھی وہ۔ لہجہ دیکھا تھا اس کا؟ جس طرح تم سے بات کرتی ہے… تمہیں اُس کی باتیں تکلیف نہیں دیتیں؟
رین یون کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری۔
نہیں۔۔۔ کہ اگر وہ لاکھ بار مجھے نظر انداز کرے… مجھے ٹھکرائے… مجھے تکلیف پہنچائے… تب بھی میں اُسے ہر بار کی طرح پہلے جیسی محبت کی نگاہ سے ہی دیکھوں گا۔
سیونگ نے اُسے گھورتے قدرے جھنجھلا کر بولا۔۔
تم واقعی پاگل ہو گئے ہو۔ اچھا یہ بتاؤ… آخر اچھا کیا لگتا ہے تمہیں اُس میں۔۔۔
رین یون نے نظریں جھکا لیں۔
سب کچھ۔ اُس کا سب کچھ ہی مُجھے کو اچھا لگتا ہے۔۔۔
سیونگ نے بےبسی سے سر ہلایا۔
پہلے اپنے ایئرپوڈز ڈھونڈو اور پھر خاموشی سے آ کر سو جاؤ۔
رین یون نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اس نے کتاب کو احتیاط سے واپس بیگ میں رکھا اور آ کر بستر پر لیٹ گیا۔
چھت کو تکتے ہوئے اُس نے دھیمی آواز میں کہا،
اگر مینیجر ساتھ نہ ہوتے… تو میں واپس اسلام آباد چلا جاتا۔ اور شاید وہیں رہ جاتا۔
سیونگ نے اُس کی طرف دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں وہی اداسی تھی جو ہر رات اُس لڑکی کی یاد کے ساتھ جاگ اٹھتی تھی۔
سو جاؤ، رین یون۔ وہ آہستہ سے بولا۔ زیادہ مت سوچو۔
++++++++++++
سوہان حسبِ معمول آج بھی چند منٹ میں گہری نیند سو چکا تھا۔
کمرے کی روشنی مدھم تھی۔
ٹیبل لیمپ کی زرد روشنی صرف بستر کے ایک حصے تک پھیل رہی تھی۔
سومین نے خاموشی سے بیگ کھولا اور قرآنِ مجید نکال لیا۔
اب یہ اس کی عادت بنتی جا رہی تھی۔
ہر رات چند آیات۔
اور پھر گھنٹوں سوچنا۔
اس نے وہی صفحہ کھولا جہاں گزشتہ رات پڑھنا چھوڑا تھا۔
نظریں اگلی آیت پر جا کر رک گئیں۔
❝ ان کے دلوں میں بیماری ہے، اور اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ ❞ ( سورۃ البقرہ، آیت ۱۰)
سومین نے آیت ایک بار پڑھی۔ پھر دوبارہ۔ پھر تیسری بار۔
اس بار اُس کی پیشانی پر ہلکی سی شکن نمودار ہوئی۔
دلوں میں بیماری… وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔
یہ کیسی بیماری ہے؟
فوراً ہی اُسے اندازہ ہوگیا کہ یہاں جسمانی بیماری کی بات نہیں ہو رہی۔ یہ کوئی اور چیز تھی۔
شاید… انسان کے اندر کی کوئی خرابی۔
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔
پھر اُس کی نظریں آیت کے اگلے حصے پر گئیں۔
اور اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی…
یہ حصہ پڑھ کر وہ رک گیا۔
اس نے خود سے کہا۔
اگر خدا ہے… تو وہ بیماری کیوں بڑھائے گا؟
چند لمحے وہ یہی سوچتا رہا۔
پھر اچانک اُسے اپنی زندگی کے کچھ لوگ یاد آگئے۔
ایسے لوگ… جو شروع میں صرف ایک چھوٹا سا جھوٹ بولتے تھے۔ پھر دوسرا۔ پھر تیسرا۔ پھر آہستہ آہستہ جھوٹ اُن کی عادت بن جاتا تھا۔
یہاں تک کہ ایک وقت آتا تھا جب وہ خود بھی اپنے جھوٹ پر یقین کرنے لگتے تھے۔
اور اگر کوئی اُنہیں سچ بتانے کی کوشش کرتا…
تو وہ ناراض ہو جاتے۔ انکار کر دیتے۔ یا مذاق اُڑاتے۔
سومین نے آیت دوبارہ پڑھی۔
دلوں میں بیماری…
اور وہ بڑھ گئی…
اچانک ایک خیال اُس کے ذہن میں آیا۔
شاید… یہ سزا شروع میں نہیں ہوتی۔
شاید پہلے انسان خود راستہ چنتا ہے۔
پھر بار بار وہی راستہ اختیار کرتا ہے۔
اور آخرکار اُس کے اندر وہ خرابی اتنی مضبوط ہو… جاتی ہے کہ واپس آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
جیسے… کوئی شخص روز جھوٹ بولے۔
پھر ایک دن سچ سننا ہی پسند نہ کرے۔
یا کوئی شخص روز تکبر کرے۔
پھر ایک دن اُسے اپنی غلطی دکھائی دینا ہی بند ہو جائے۔
وہ خاموش ہوگیا۔ یہ خیال دلچسپ تھا۔ بہت دلچسپ۔
کیونکہ اگر ایسا ہے… تو پھر “بیماری بڑھنا” شاید اچانک نہیں ہوتا۔ بلکہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ انسان کے اپنے انتخابوں کے نتیجے میں۔ لیکن پھر بھی…
سومین نے انگلی سے آیت کے الفاظ پر ہلکا سا ہاتھ پھیرا۔
کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔
وہ چند لمحے رکا۔ پھر آہستہ سے بولا،
لیکن یہ سب اتنے یقین سے کیسے کہا جا رہا ہے؟
یہی چیز اسے بار بار قرآن کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی تھی۔
قرآن پِھر سے دعویٰ کر رہا تھا۔
ایسا دعویٰ جو کسی انسان کے لیے کرنا آسان نہیں۔
کیونکہ کوئی انسان یقین سے نہیں جان سکتا کہ دوسرے کے دل میں کیا چل رہا ہے۔
سومین کرسی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
اگر خدا موجود نہیں…
تو پھر قرآن اتنے اعتماد سے انسان کے اندر کی باتیں کیوں کر رہا ہے؟
پچھلی آیت نے بھی اسے ایسے ہی حیران کیا تھا پچھلی آیت میں بھی قرآن دعویٰ کر رہا تھا۔۔۔
سومین کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اُس کی نظریں اگلی آیت پر جا کر رک گئیں۔
❝ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، تو کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ ❞
— سورۃ البقرہ، آیت ۱۱
سومین نے آیت پڑھی۔
پھر دوبارہ پڑھی۔
اور اس بار اُس کے ہونٹوں پر ہلکی سی حیرانی نمودار ہوئی۔
“یہ تو…”
وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔
“یہ تو آج بھی ہوتا ہے۔”
اس نے قرآن بند نہیں کیا۔
بلکہ کرسی پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
کیونکہ اس بار سوال کچھ مختلف تھا۔
پچھلی آیات دلوں کی بات کر رہی تھیں۔
منافقوں کی۔
جھوٹ کی۔
لیکن یہ آیت…
یہ انسان کے اپنے بارے میں تصور کی بات کر رہی تھی۔
سومین نے آہستہ سے سوچا،
“فساد پھیلانے والا کوئی خود کو فساد پھیلانے والا کیوں کہے گا؟”
اور فوراً ہی جواب بھی ذہن میں آیا۔
“شاید اس لیے کہ اُسے لگتا ہی نہیں کہ وہ غلط ہے۔”
یہ خیال آتے ہی وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔
کیونکہ حقیقت میں اُس نے زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے تھے جو جان بوجھ کر خود کو برا کہتے ہوں۔
اکثر لوگ خود کو اچھا سمجھتے تھے۔
یہاں تک کہ غلط کام کرنے والے بھی۔
کوئی ظلم کرتا تھا تو اُسے انصاف کا نام دے دیتا تھا۔
کوئی جھوٹ بولتا تھا تو اُسے مصلحت کہہ دیتا تھا۔
کوئی دوسروں کو تکلیف دیتا تھا تو کہتا تھا کہ وہ اُن کی بھلائی کے لیے کر رہا ہے۔
سومین نے آیت دوبارہ پڑھی۔
“ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔”
وہ چند لمحے سوچتا رہا۔
پھر اُس کے ذہن میں ایک عجیب سا سوال آیا۔
“اگر کوئی شخص واقعی یہ سمجھتا ہو کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے…”
“تو کیا وہ پھر بھی غلط ہو سکتا ہے؟”
یہ سوال اُسے دلچسپ لگا۔
کیونکہ نیت اور حقیقت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
ممکن ہے کوئی انسان پوری سچائی سے یقین رکھتا ہو کہ وہ لوگوں کی مدد کر رہا ہے…
مگر حقیقت میں نقصان پہنچا رہا ہو۔
اور ممکن ہے کوئی شخص خود کو ہیرو سمجھ رہا ہو…
جبکہ باقی سب اُس کے اعمال کا نقصان اٹھا رہے ہوں۔
سومین نے لمبی سانس لی۔
پھر اُس کی نظریں آیت کے الفاظ پر جم گئیں۔
اسے محسوس ہوا کہ قرآن یہاں صرف منافقوں کی بات نہیں کر رہا۔
بلکہ انسان کی ایک کمزوری کی بات کر رہا ہے۔
وہ کمزوری جس میں انسان اپنے آپ کو دھوکا دے لیتا ہے۔
دوسروں کو نہیں…
خود کو۔
اور شاید یہی سب سے خطرناک دھوکا ہے۔
کیونکہ جب انسان جانتا ہو کہ وہ غلط ہے تو واپسی کا راستہ موجود رہتا ہے۔
لیکن جب انسان غلطی کو ہی سچ سمجھنے لگے…
تو پھر مسئلہ شروع ہوتا ہے۔
سومین نے کرسی کی پشت سے سر ٹکا دیا۔
اُسے اچانک ایک بات محسوس ہوئی۔
اب تک قرآن جن لوگوں کا ذکر کر رہا تھا…
وہ خود کو برے لوگ نہیں سمجھتے تھے۔
وہ خود کو مومن کہتے تھے۔
وہ خود کو سچا سمجھتے تھے۔
اور اب…
وہ خود کو اصلاح کرنے والا بھی کہہ رہے تھے۔
گویا مسئلہ صرف جھوٹ بولنے کا نہیں تھا۔
مسئلہ خود کو پہچاننے کا بھی تھا۔
کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر سومین نے زیرِ لب کہا،
“اگر کوئی انسان خود کو دھوکا دے سکتا ہے…”
وہ رکا۔
“تو پھر سب سے مشکل کام شاید دوسروں کو پہچاننا نہیں…”
“خود کو پہچاننا ہے۔”
یہ کہہ کر اُس نے نظریں دوبارہ قرآن پر ڈال دیں۔
اب وہ جاننا چاہتا تھا کہ اگلی آیت میں قرآن اس دعوے کا کیا جواب دیتا ہے۔ کیونکہ اگر یہ لوگ خود کو اصلاح کرنے والا سمجھتے تھے…
تو قرآن اُن کے بارے میں کیا کہنے والا تھا؟
سومین کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا۔
پھر اُس کی نظریں اگلی آیت پر جا کر رک گئیں۔
سومین نے آیت دوبارہ پڑھی۔
❝ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، تو کہتے ہیں: ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ ❞
وہ کچھ لمحے خاموش بیٹھا رہا۔
یہ تو ہر دور کا مسئلہ لگتا ہے۔
اس نے آہستہ سے کہا۔
کیونکہ اپنی زندگی میں بھی اُس نے ایسے لوگ دیکھے تھے جو ہمیشہ یہی سمجھتے تھے کہ وہ صحیح ہیں۔
حالانکہ باقی سب اُن سے اختلاف کرتے تھے۔
مگر پھر اُس کے ذہن میں فوراً ایک سوال آیا۔
لیکن یہاں فساد کون طے کرے گا؟
اگر ایک شخص کہتا ہے کہ وہ اصلاح کر رہا ہے…
اور دوسرا کہتا ہے کہ وہ فساد کر رہا ہے…
تو صحیح کون ہے؟
سومین نے کرسی پر پہلو بدلا۔
یہی تو مسئلہ تھا۔
ہر انسان خود کو ہی صحیح سمجھتا ہے۔
جنگیں بھی اسی وجہ سے ہوتی ہیں۔
نظریات بھی اسی وجہ سے ٹکراتے ہیں۔
ہر فریق سمجھتا ہے کہ وہ دنیا بہتر بنا رہا ہے۔
اور دوسرا فریق نقصان پہنچا رہا ہے۔
وہ چند لمحے خاموش رہا۔ پھر اُسے ایک بات محسوس ہوئی۔
اب تک کی آیات میں قرآن صرف اُن کے اعمال پر بات نہیں کر رہا تھا۔
بلکہ اُن کے اندر کی کیفیت پر بھی بات کر رہا تھا۔
وہ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔.وہ خود کو مصلح کہتے ہیں۔.وہ سمجھتے ہیں کہ وہ درست ہیں۔
گویا قرآن اُن کے بارے میں ایسی چیزیں بتا رہا تھا جو باہر سے نظر نہیں آتیں۔
سومین نے آہستہ سے کہا۔۔۔
اگر یہ صرف کسی فلسفی کی کتاب ہوتی…
تو وہ کہتا۔ میرے خیال میں یہ لوگ غلط ہیں۔
اگر کوئی مورخ لکھ رہا ہوتا…
تو وہ کہتا شاید یہ لوگ غلط تھے۔
لیکن قرآن کا انداز مختلف تھا۔
وہ “شاید” نہیں کہتا۔
وہ اعلان کرتا ہے۔ یقین کے ساتھ۔
جیسے لکھنے والے کو پوری حقیقت معلوم ہو۔
سومین نے ایک لمبی سانس لی۔
یا تو یہ کتاب واقعی اُس ہستی کی طرف سے ہے جو انسانوں کو اُن سے بہتر جانتی ہے…
وہ رکا۔
یا پھر یہ اپنے بارے میں بہت بڑا دعویٰ کر رہی ہے۔
پھر اُس نے دوبارہ آیت کی طرف دیکھا۔
اور اس بار اُس کی دلچسپی فساد کے لفظ سے زیادہ ایک اور چیز میں تھی۔ یہ اعتماد۔ یہ یقین۔ یہ انداز۔
کیونکہ جتنا وہ قرآن پڑھ رہا تھا…
اتنا ہی اُسے محسوس ہو رہا تھا کہ یہ کتاب قاری سے صرف اتفاق نہیں مانگتی۔ یہ اُسے چیلنج بھی کرتی ہے کہ وہ فیصلہ کرے: کیا واقعی کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن دونوں کو جانتی ہے؟
اور یہی سوال تھا جس کا جواب سومین ابھی تک تلاش کر رہا تھا۔۔۔
+++++++++++++
ہیوک کو رات میں ماہم کا میسج آیا تھا، لیکن وہ اُس وقت سو چکا تھا۔ صبح اُٹھ کر جب اُس نے میسج دیکھا تو فوراً پریشان ہو گیا۔
اب میں کیسے جا سکتا ہوں؟ اُس نے بےچینی سے سوچا۔
پرسوں تو اُس نے کسی بہانے سے بات ٹال دی تھی، مگر اب کیا کرے؟ کب تک بہانے بناتا رہے گا؟
اسی پریشانی میں اُس نے تائیجون کو سب کچھ بتا دیا۔
تائیجون بھی سوچ میں پڑ گیا۔
بھائی کو بتانا ہی پڑے گا۔ تائیجون نے آخرکار کہا۔
ورنہ تُو جا ہی نہیں سکے گا۔ ہر بار کیا بہانہ کرے گا؟
ہیوک نے لمبی سانس بھری۔
وہی تو سوچ رہا ہوں…
دونوں ابھی اسی بارے میں سوچ رہے تھے کہ اچانک دروازہ کھلا اور سوہان اندر آ گیا۔
ابے چلو۔۔۔ وہ جلدی سے بولا، پھر اچانک رک گیا۔ لیکن ایک مسئلہ ہو گیا ہے۔
ہیوک چونکا۔ کیا ہوا؟
تائیجون بھی فوراً متوجہ ہوا۔
کوئی مسئلہ ہو گیا کیا؟
سوہان نے سر ہلایا۔
نہیں، کچھ نہیں ہوا۔ بس آج ہم کہیں نہیں جا رہے۔ سب ہوٹل میں ہی آرام کریں گے۔
کیا؟ کیوں؟ ہیوک نے حیرانی سے پوچھا۔
کس نے کہا؟ تائیجون نے بھی سوال کیا۔
بھائی نے۔
لیکن کیوں؟
سوہان نے کندھے اُچکائے۔
ان کا دل نہیں کر رہا جانے کا۔ انہوں نے منع کیا تو سیونگ نے بھی منع کر دیا۔ سیونگ نے منع کیا تو سومِن نے بھی منع کر دیا۔ سومِن نے منع کیا تو ہان وو نے بھی منع کر دیا۔ ہان وو نے منع کیا تو…
بس بس۔۔۔ ہیوک نے فوراً بات کاٹی۔ سمجھ گئے ہم۔
سوہان نے مسکراتے ہوئے کہا، تو چلو پھر۔
تائیجون نے بھنویں سکیڑیں۔ ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ کہیں نہیں جا رہے۔
سوہان نے آنکھیں گھمائیں۔
ارے، ناشتہ کرنے تو جا رہے ہیں نا! نیچے ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا۔
اچھا، اچھا۔ تم جاؤ، ہم آتے ہیں۔
نہیں۔۔۔ سوہان فوراً بولا۔ میرے ساتھ چلو۔
ابے، تُو چل۔
تائیجون نے اُس کے کندھے پر اپنا بازو ڈال لیا اور
سوہان بھی کچھ بڑبڑاتا ہوا اُس کے ساتھ چل پڑا۔
ہیوک نے ایک لمحے کے لیے پھر ماہم کا میسج یاد کیا، دل میں بےچینی دوبارہ جاگ اُٹھی، مگر اگلے ہی لمحے وہ بھی اُن دونوں کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گیا۔
++++++++++++++
ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شام کے چار بج گئے، اور ہیوک تیار ہو کر جانے کے لیے کھڑا ہو گیا۔
شاید بھائی بھی، جانے انجانے میں، چاہتے ہیں کہ میں اُس سے ملوں۔ ہیوک نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تائیجون ہنس پڑا۔ ہاہا! لکی ہے تُو۔
بس، تُو یہاں سب سنبھال لینا۔
کیا سنبھال لینا؟ تائیجون فوراً بولا۔ میں بھی ساتھ جاؤں گا۔
کیوں؟
لڑکی دیکھنے۔
ہیوک نے گھور کر اسے دیکھا۔
تُو اُسے نہیں دیکھ سکتا۔ وہ نقاب کرتی ہے۔
تو کیا ہوا؟ ویسے ہی دیکھ لوں گا۔
پھر بھی نہیں۔
کیوں نہیں؟ ورنہ میں سب کو بتا دوں گا۔
ہیوک نے بے بسی سے ٹائیجون کو دیکھا۔۔۔
ابے یار! وہ اَن کمفرٹیبل فیل کرتی ہے۔
وہ کیوں؟
پتا نہیں، لیکن میں نے نوٹس کیا ہے۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے بھی بہت سوچتی ہے، گھبراتی ہے۔ شاید بہت معصوم ہے اسی لیے۔
تائیجون نے فوراً اعتراض کیا۔
معصوم؟ دنیا میں کوئی معصوم نہیں ہوتا۔ سب لڑکیاں معصوم بننے کی ایکٹنگ کرتی ہے۔۔۔
ہیوک نے سر ہلایا۔
نہیں، وہ واقعی ایسی ہے۔ تُو اگر اُس سے ملے گا تو تجھے بھی یہی لگے گا۔ اور وہ کوئی ایکٹنگ نہیں کرتی۔ نہ ہی دوسری لڑکیوں کی طرح جان بوجھ کر کیوٹ بننے کی کوشش کرتی ہے۔ اویں تو مجھے وہ پسند نہیں آئی نہ تُجھے پتہ ہے میرا۔۔۔
ہاں، یہ تو مجھے اچھی طرح معلوم ہے۔ تائیجون نے قہقہہ لگایا۔ اب تو اُسے دیکھنا اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔
نہیں! کہا نا، نہیں۔ پلیز یار، سمجھا کر۔
اچھا بابا، دور سے دیکھ لوں گا۔ پکا اُس کے قریب نہیں جاؤں گا۔
ہیوک نے گہری سانس لی۔
تم دونوں اتنے ضدی کیوں ہو؟
تم دونوں؟ تائیجون نے حیرت سے پوچھا۔
تم اور جے کیونگ۔
تائیجون فوراً ہنس پڑا۔
کیونکہ ہم میلے میں بچھڑے ہوئے جڑواں بھائی ہیں۔ اسی لیے۔
ہیوک بے اختیار ہنس دیا۔
ہاں ہاں، قسم سے وہیں لگتے ہو۔۔ اب مجھے تیار ہونے دے۔
آہاں، ہو جا تیار۔ ہم نے کون سا تجھے روکا ہوا ہے؟
مستی مت کر۔ باہر جا کر دیکھ، کوئی ہے تو نہیں؟ راستہ کلئیر ہے نا؟
تائیجون نے سیلوٹ مارنے کی ادا کی۔
جی جناب! ابھی چیک کر کے آتا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ دروازے کی طرف بڑھ گیا، جبکہ ہیوک آئینے میں خود کو دیکھتا بال ٹھیک کرنے لگا۔
++++++++++++
وہ دونوں ابھی کمرے سے نکلے ہی تھے کہ جے کیونگ بھی اپنے کمرے سے عین اُسی وقت باہر آ گیا۔ اُس نے دیکھا کہ دونوں نے جینز پہن رکھی ہے، چہروں پر ماسک لگائے ہوئے ہیں اور ٹوپیاں بھی پہنی ہوئی ہیں۔
اُنہیں اس حالت میں دیکھ کر اُسے فوراً اندازہ ہو گیا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔
چند لمحوں تک تینوں ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔
پھر جے کیونگ نے سنجیدگی سے کہا،
جو بھی بولنا، سچ بولنا۔ سچ کے سوا کچھ نہیں۔
تائیجون فوراً اُس کی طرف لپکا اور اُس کے کندھے پر اپنا بازو ڈال کر بولا،
اب چل تُو بھی ہمارے ساتھ۔
جبکہ ہیوک نے عجیب سا منہ بنا کر دونوں کو گھورا۔
جلدی چلو، نہیں تو کوئی آ جائے گا۔
یہ کہہ کر تائیجون آگے بڑھا اور ہیوک کا ہاتھ پکڑ کر اُسے بھی اپنے ساتھ گھسیٹ لیا۔
جے کیونگ ابھی تک حیران تھا۔
لیکن تم دونوں جا کہاں رہے ہو؟
چل تو سہی، سب پتا چل جائے گا۔ تائیجون نے پراسرار انداز میں کہا۔
ہیوک دونوں کو گھورتا غصے سے بولا،
وہاں پہنچتے ہی مجھ سے سو فٹ دور رہنا۔
جے کیونگ نے بھنویں چڑھا لیں۔
وہاں؟ کہاں وہاں؟
ابے، اتنے سوال مت کر۔ تائیجون نے اُس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔ خاموشی سے چل۔ میں ہوں نا، سب سنبھال لوں گا۔
بس اسی بات کا تو خطرہ ہے۔۔۔ جے کیونگ نے مشکوک نظروں سے اُسے دیکھا۔
بے عزتی مت کر میری۔ تائیجون نے ناراضی جتاتے ہوئے کہا۔ ایک تو لے کر بھی جارہا ہوں۔۔۔ اوپر سے مُجھے ہی اکڑ دیکھا رہا ہے۔۔۔
تم دونوں کی وجہ سے اگر میرے ساتھ کچھ ہوا نا، یا وہاں جا کر کوئی گڑبڑ ہوئی، تو اچھا نہیں ہوگا۔ بڑے مزے سے جو تُم دونوں میرے ساتھ جارہے ہو نہ۔۔ ہیوک پِھر غصے سے بولا۔۔۔
ارے، کیوں ہوگا مسئلہ؟
کیونکہ تُم دونوں پنوتی ہو جہاں جاتے ہو، کچھ نہ کچھ گڑبڑ کر کے آتے ہو۔ ہیوک نے ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے کہا۔ اوپر سے سب کو پتا بھی چل جاتا ہے۔
بات تو صحیح ہے۔ یہ تائیجون ہے ہی پنوٹی۔۔۔
ٹائیجون فوراََ جے کیونگ کو گھورا اس نے تُجھے بھی بولا۔۔۔
اپنے خلاف باتیں نہیں سنتے۔۔۔ جے کیونگ نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا۔۔
تو کیا صرف دوسروں کے خلاف باتیں سنوں؟ تائیجون نے بھنویں چڑھاتے ہوئے کہا۔
یہاں سب جانتے ہیں کون سب سے زیادہ بڑا والا پنوٹی ہے۔۔۔ تائیجون نے لیفٹ کا بٹن دباتے چیخ کر کہا۔۔۔
زیادہ چیخ نہیں۔۔۔ ہیوک جھنجھلائے
یہاں لیفٹ میں ہم تینوں کے سوا کوئی نہیں۔۔۔
یہاں کا مطلب ہم سب، ہم سب سارے بھائی جانتے ہیں۔۔۔ تائیجون نے وضاحت دی۔۔
ابھی میں بتاؤں۔۔؟؟ کیا ہر مصیبت کیسے تیرے پیچھے بھاگتی ہے۔۔ جے کیونگ نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔..
تائیجون کے ایسے بےشمار قصے تھے جن کی وجہ سے صرف وہ خود نہیں بلکہ پورا گروپ خطرے میں پڑ جاتا تھا۔ نہ جانے کتنی بار اس کی حرکتوں نے سب کی جان نکال دی تھی۔
کبھی کنسرٹ کے دوران جو کام اسے نہیں کرنا ہوتا تھا، وہی کر بیٹھتا۔ کبھی عین پرفارمنس کے وقت اس کا مائیک خراب ہو جاتا، اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اکثر ایسا صرف اسی کے ساتھ ہوتا تھا۔ کبھی گانے کے بول بھول جاتا اور پھر باقی ممبرز کو اپنی طرف دیکھ کر ہنسی روکنے میں مشکل پیش آتی۔ کبھی سونگ کے غلط لیریکس غلط گا لیتا جس سے سب کا دھیان بٹ جاتا۔ ایک دفعہ اسٹیج کی لائٹ اس نے ڈانس کرتے کرتے نیچے زمین پر گرا دیا تھا۔۔۔ ایک دفعہ ریہرسل میں سب کی کوریوگرافی بالکل پرفیکٹ چل رہی تھی۔ عین اُس وقت تائیجون نے غلط سمت میں ٹرن لے لیا اور سیدھا اپنے ساتھ کھڑے ممبر سے جا ٹکرایا۔ پھر کیا تھا، ایک کے بعد ایک سب کا بیلنس بگڑ گیا اور پورا گروپ ڈومینو کی طرح گرتا چلا گیا۔ جبکہ اس سارے ہنگامے کے بیچ تائیجون اکیلا سیدھا کھڑا رہ گیا، جیسے غلطی اُس نے نہیں بلکہ باقی سب نے کی ہو۔۔ ایک دفعہ ایوارڈ شو میں جیسے ہی جیتنے والے گروپ کے طور پر ایس ٹو ایس کا نام اناؤنس ہوا، پورا گروپ خوشی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن تائیجون حسبِ معمول خوشی میں اپنے ہوش کھو بیٹھا۔ وہ اچانک زور سے کھڑا ہوا تو اُس کا گھٹنا سامنے والی کرسی سے ٹکرا گیا، اور کرسی دھڑام سے آگے جا گری۔
مسئلہ یہ تھا کہ وہ کرسی کسی اور گروپ کے ممبر کی تھی، جو بےچارہ ابھی آرام سے بیٹھا ہوا تھا۔ کرسی کے ہلتے ہی وہ بھی گھبرا کر تقریباً اپنی نشست سے گر گیا۔ پورے ہال میں چند لمحوں کے لیے عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
اور سب سے بڑی مصیبت؟
سامنے موجود تمام کیمرے یہ منظر مختلف زاویوں سے ریکارڈ کر چکے تھے۔۔
اور آج تک اُس کا یہی مؤقف ہے
کرسی خود گری تھی، میں نے کچھ نہیں کیا!۔۔
ایسے بہت سے لاتعداد تائیجون کے کارنامے تھے۔۔۔ اوپر سے کچھ وہ جان بوج کر ان لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے کرتا تھا۔۔۔
مصیبت میرے پیچھے نہیں بھاگتی، میں مصیبت کے آگے بھاگتا ہوں۔۔۔
یہ سن کر جے کیونگ زور سے ہنس پڑا جبکہ ہیوک نے بےزاری سے بولا۔۔۔ چپ رہوں دونوں۔۔۔ تُم دونوں ہی پنوٹی ہو۔۔۔۔
زیادہ نہیں بولا۔۔ ابھی ہم ہوٹل سے نکلے بھی نہیں ہے۔۔ تائیجون نے ہیوک کو دھمکایا۔۔۔
پھر ہیوک خاموش ہوگیا۔۔۔
آخرکار تینوں پوری احتیاط کے ساتھ ہوٹل سے باہر نکل گئے، جیسے کسی خفیہ مشن پر جا رہے ہوں۔
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
