SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 15.

سکوت قسط نمبر:۱۵

ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔

آشکار

کسی نے چپکے سے نقابِ شب اتار دی،

چھپی ہوئی تھی جو حقیقت، وہ

آشکار تھی۔

وہ جس کو دل نے عمر بھر اپنا خدا کہا،

وہ ایک وہم تھا، فقط اک انتظار تھی۔

قدم قدم پہ روشنی کا گمان تھا لیکن،

ہر ایک راہ کسی تیرگی کا غار تھی۔

وہ مسکراتا رہا اور راز چھپاتا رہا،

نگاہِ شوق مگر سب سے ہوشیار تھی۔

جو زخم دل نے زمانے سے بھی چھپا رکھے،

انہی کی درد بھری داستاں شعار تھی۔

کسی کے عشق کی تعبیر خاک میں بکھری،

کسی کی جستجو فتح و وقار تھی۔

نقاب گرنے کا لمحہ عجیب لمحہ تھا،

جہاں فریب بھی زندہ تھا، سچ بھی یار تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

اسلام آباد

وہ اس وقت اپنے آفس میں بیٹھا تھا۔ فائلوں کے ڈھیر اس کے سامنے اَنچھوئے سے رکھے تھے، جبکہ وہ لیپ ٹاپ پر تیزی سے انگلیاں چلاتے ہوئے کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔ آنکھیں بغور سکرین پر ٹکی تھیں۔ اس نے ایک بٹن دبایا، پھر فوراً ہی ہیڈفون کانوں پر چڑھا کر دم سادھ گیا۔

“مصطفیٰ زیدی سے بولو، دو دن بعد فرینکفرٹ آ جائے۔”

ہیڈفون کے ذریعے اس کے کانوں میں دلاور کی آواز گونجی۔

“لیکن اس نے تو کل آنا تھا، پھر پرسوں کیوں؟”

احمد کی آواز پر مزاحم مزید چوکنّا ہوا۔

“تم زیادہ سوال مت پوچھو۔ سائفر کو اور بھی بہت کام ہوتے ہیں۔ تم بس اسے بتا دینا کہ پرسوں جرمنی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچ جائے، میرے آدمی اسے وہیں ملیں گے۔”

“کتنے بجے؟”

“ٹھیک بارہ بجے۔ کوڈ یاد کر لو، ڈیلر نمبر 104 “#55″۔ اور مصطفیٰ سے کہنا، کوئی گارڈ لے کر آنے کی ضرورت نہیں، ورنہ نظروں میں آ جائے گا ۔ میں کسی قسم کے شکوک نہیں چاہتا۔”

“ٹھیک ہے، میں بول دوں گا۔”

دلاور نے کال کاٹی تو مزاحم نے کانوں سے ہیڈفون ہٹایا اور گہری سانس خارج کرتے ہوئے نظریں سکرین پر جما دیں۔ اب سامنے سکرین پر احمد کے ٹائپ کردہ میسیجز صاف دکھائی دے رہے تھے۔

اس نے کسی اَن جان نمبر پر دلاور کی بتائی بات اور کوڈ سینڈ کیا تھا۔ مزاحم نے فوراً نمبر اور کوڈ نوٹ کیا تھا۔

وہ ایک دو پل سکرین کو دیکھتا رہا، پھر لیپ ٹاپ بند کرتے ہوئے پہلی فرصت میں ازمیر کو فون کیا، جو تیسری بیل پر ہی اٹھا لیا گیا تھا۔

“ہممممم۔”

موبائل فون سے ازمیر کی آواز ابھری۔

“ازمیر، دو دن بعد دبئی کا ایک اسمگلر فرینکفرٹ ائیرپورٹ آنے والا ہے۔ یہی بہتر طریقہ ہے سائفر تک پہنچنے کا۔”

“کتنے بجے؟”

اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

“بارہ بجے۔”

ازمیر کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔

“The Bird is going to be caged.”

اس نے کہا تو دوسری طرف مزاحم بھی مسکرا دیا۔

اب اصل کھیل شروع ہونے والا تھا۔

وہ مسکراتے ہوئے سوچتا ہے اور قدم دائم کے کمرے کی طرف بڑھا دیتا ہے۔

ابھی وہ موبائل جیب میں رکھ کر چہرہ اوپر اٹھاتا ہی ہے کہ نظریں سامنے سے آتی صاحبہ پر پڑیں، اور وہیں اس کی مسکراہٹ فوراً سمٹی۔ دماغ کی سِٹی گُل ہوئی تھی۔

وہ فوراً آنکھیں پھاڑتے ہوئے واپس پیچھے مڑا اور تیز تیز قدم لیتا آگے بڑھتا گیا۔

“یا اللّٰہ! یہ آپ نے کہاں پھنسا دیا۔”

وہ آنکھیں میچتے ہوئے ہولے سے بڑبڑایا اور ریسپشن کے ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا۔

“یا اللّٰہ! پلیز، وہ یہاں نہ آئے… پلیز۔”

اس نے دل میں کہتے ہوئے ہلکا سا چہرہ موڑ کر پیچھے دیکھا۔

صاحبہ بائیں جانب جاتی راہداری میں مُڑ گئی تھی۔

“شکر اللّٰہ کا۔”

وہ فوراً کہتے ہوئے واپس دائم کے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ اب کی بار اس کی رفتار تیز تھی اور دل سو کی سپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔

ہسپتال کی بوسیدہ فضا نے قہقہہ لگاتے ہوئے اس کی دور جاتی پشت دیکھی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھڑام سے کھلتے دروازے کی آواز پر دائم ہڑبڑا کر آنکھیں کھولتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔

“یہ۔۔۔ یہ جو ابھی یہاں آئی تھی، وہ کون ہے؟”

اس نے سیدھا ان کے سر پر پہنچتے ہوئے تیزی سے پوچھا، جس پر وہ چونک گئے تھے۔

دائم نے حیرت سے پھٹی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھا، پھر مدھم آواز میں جواب دیا۔

“لڑکی تھی۔”

ازمیر، جو تیز دھڑکتے دل کے ساتھ ان کے جواب کا انتظار کر رہا تھا، ان کی بات پر گنگ رہ گیا۔ دماغ کھول اٹھا تھا۔

“یہ۔۔۔”

اس نے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا۔

“یہ آنکھیں میرے پاس بھی ہیں۔ مجھے بھی نظر آیا تھا کہ وہ لڑکی ہے۔”

اس نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

“لیکن وہ لڑکی آپ کی کیا لگتی ہے؟”

وہ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔

دائم نے منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔

“وہ۔۔۔”

ازمیر کا دل دھک دھک دھڑک رہا تھا۔

“وہ میری بیٹی تھی۔ پلویشا دائم شاہ۔”

دائم نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، جبکہ ازمیر دھک سے رہ گیا۔ دل نے ایک بیٹ مِس کی تھی۔ ان کی طرف اٹھا ہاتھ نیچے ڈھلک گیا۔

“کیا یار، انکل!”

وہ افسردگی سے کہتا ہوا کرسی پر جا بیٹھا۔

“کیا ہوا تمہیں؟ خوشی نہیں ہوئی کہ میری بیٹی واپس آ گئی؟”

دائم اس کے تاثرات سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

ان کی بات پر ازمیر کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔ پھر کھولتے دماغ کے ساتھ اس نے دائم کو دیکھا۔

“صرف خوشی؟ ارے، اتنا خوش ہوں کہ دل چاہ رہا ہے شادیانے بجاؤں۔”

اس نے ہاتھوں سے تیز تیز اشارے کرتے ہوئے کہا اور پانی کی ٹھنڈی بوتل اٹھا لی۔

دائم حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا، جو اپنے کھولتے دماغ کو ٹھنڈا پانی پی کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“تم ٹھیک ہو؟”

دائم کو اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔

ازمیر نے کچھ نہ کہا۔ وہ بیچارگی سے بوتل کو دیکھ کر رہ گیا۔

وہ کیسے بتاتا کہ جس لڑکی کی آمد کے قصیدے کل وہ انہیں سنا رہا تھا، وہ انہی کی بیٹی ہے۔

“آہ، صاحبہ آہ۔۔۔ تم ازمیر کو کہیں کا نہیں چھوڑتیں۔”

وہ سوچ کر رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی

خوبصورت بادلوں سے ڈھکا استنبول کا آسمان، استقلال سٹریٹ پر چلتے لوگوں کے ہجوم کو مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ لمبی سٹریٹ کے دونوں طرف موجود دکانیں مصروف زندگی کا پتہ دے رہی تھیں۔ کچھ لوگ شاپنگ کر رہے تھے، کچھ گھومنے نکلے تھے، تو کچھ اپنی اپنی دکانوں میں بیٹھے گاہکوں کو ڈیل کر رہے تھے۔

انہی گاہکوں میں وہ بھی شامل تھیں۔ دلارے اور اس کی بہترین دوست نورے۔

“یہ کیسا لگ رہا ہے؟”

دلارے نے نفیس سا بریسلٹ اپنی نازک کلائی پر رکھتے ہوئے پوچھا تو نورے کی آنکھیں چمکی تھیں۔

“ماشاءاللّٰہ! بہت خوبصورت لگ رہا ہے۔ یہ لے لو۔”

دلارے مسکرا دی، جبکہ نورے گہری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“دلارے۔۔۔”

وہ دونوں شاپ سے وہ بریسلٹ لے کر سٹریٹ پر چلنے لگیں، جب نورے نے مدھم آواز میں اسے پکارا تھا۔

“ہممم؟”

اس نے سیدھا چلتے ہوئے کہا۔

“تم مرزا کو کب بتاؤ گی کہ تم اس سے محبت کرتی ہو؟”

دلارے رک گئی۔ گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی، مگر اس نے چہرہ نورے کی جانب نہیں موڑا۔ وہ سیدھ میں دیکھتی رہی۔

“دلارے، بتاؤ۔ اسے کب بتاؤ گی تم؟”

نورے اس کے سامنے آ ٹھہری۔ وہ دونوں ایک طرف کھڑی تھیں۔ یہاں سے ہجوم انہیں ڈسٹریکٹ نہیں کر سکتا تھا۔

“م۔۔۔ مجھے ڈر لگتا ہے، نورے۔”

وہ نظریں جھکاتے ہوئے بولی تو نورے نے گہرا سانس بھرا۔

“جب محبت کرنے سے نہیں ڈری، تو بتانے سے کیوں ڈر رہی ہو، میری جان؟”

دلارے کرب سے مسکرائی اور نظریں اٹھا کر نورے کو دیکھا۔

“مجھے ڈر بتانے سے نہیں لگتا۔ ڈر ریجیکٹ ہونے سے لگتا ہے۔”

نورے تھم گئی۔ وہ اس کی نیلی آنکھوں میں ابھرتی نمی دیکھ سکتی تھی۔

“مجھے بچپن سے بہت پیار ملا ہے، نورے۔ اللّٰہ سے، بابا سے، فیروزے حانم سے، تم سے، تبریز سے، حاکم سے۔۔۔ سب سے۔ اتنی محبت کے بعد اگر مجھے دکھ ملا، تو شاید میں ڈھے جاؤں۔ مجھے گرنے سے ڈر لگتا ہے، نورے۔ مجھے ٹوٹنے سے ڈر لگتا ہے۔”

نورے کا دل ڈوب کر ابھرا۔ اس نے اس کا ہاتھ تھاما اور نرمی سے دبایا۔

“تم نہیں ٹوٹو گی، دلارے۔ تم ہمت کرو۔”

نورے نے تسلی بخش لہجے میں کہا تو دلارے نے اثبات میں سر ہلایا۔

“ہممم۔۔۔ اب کی بار مجھے ایک قدم لینا ہی ہو گا۔ میں اس بار حاکم سے بات کروں گی اور اسے سب بتا دوں گی۔”

“ان شاء اللّٰہ۔”

نورے مسکرا دی اور مسکراہٹ ضبط کی۔

“ان شاء اللّٰہ۔”

دلارے نے جھینپ کر کہا تو نورے کا قہقہہ بلند ہوا۔

“اللّٰہ اللّٰہ! دلارے سلیم کو شرمانا بھی آتا ہے!”

وہ ہنستے ہوئے زور سے بولی۔ دلارے کانوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔

“اللّٰہ اللّٰہ! دلارے سلیم شرما گئی!”

نورے اب اس کے پیچھے جاتے ہوئے ہنستے ہنستے بول رہی تھی، جبکہ دلارے مسکراتے ہوئے اسے سن رہی تھی۔

آسمان نے ان دونوں کی شرارتوں پر بے اختیار “ماشاءاللّٰہ” کہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

اس نے آرام سے لیپ ٹاپ بند کیا اور فون جیب سے نکالتے ہوئے نمبر ٹائپ کر کے فون کان سے لگا لیا۔

کتابیں دم سادھے اس ترک مرد کو دیکھ رہی تھیں، جس کے چہرے پر محبت کی چمک ہنوز برقرار رہتی تھی۔

“مرحبا۔”

کال اٹینڈ ہوتے ہی مرزا نے اپنے خوبصورت ترک لہجے میں دوسری طرف موجود تبریز سے کہا تھا۔

“میں جرمنی آ رہا ہوں۔ ہاں ہاں، خیریت ہے، تم پریشان مت ہونا۔ میں بس انفارم کر رہا ہوں۔ ٹھیک ہے پھر، اللّٰہ راضی ہو تم سے۔”

اس نے آخری کلمات کہتے ہوئے فون کان سے ہٹایا اور سکرین پر جگمگاتے “تبریز حاکم” کے نام کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرایا تھا۔

اس نے کبھی تبریز کو باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی۔ اس نے تبریز کو بورڈنگ بھیج دیا تھا تاکہ جو ٹراماز اس نے جھیلے تھے، وہ تبریز نہ جھیلے۔

وہ بے اختیار سکرین پر لکھے “تبریز حاکم” پر اپنے لب رکھ گیا۔

مرزا حاکم کو اپنی فیملی کے ہر فرد سے بے انتہا محبت تھی۔

اس نے گہری سانس بھری اور فون واپس ٹیبل پر رکھتے ہوئے اپنی کنپٹی مسلی۔

پھر انٹرکام اٹھاتے ہوئے اس نے چند بٹنز دبائے۔

“ہاں، میری جرمنی کی ٹکٹ بک کرواؤ۔”

اس نے دھیرے سے عزیز کو کہا۔

“اچھا سنو۔”

عزیز، جو “یس سر” بولتے ہوئے انٹرکام رکھنے ہی والا تھا، مرزا کے پکارنے پر رکا۔

“جی سر، بولیں۔”

“صاحبہ آفس نہیں آئی اب تک؟”

اس نے مدھم مسکراہٹ سے پوچھا۔

“نہیں سر۔ ان کے بابا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔”

مرزا کی مسکراہٹ سمٹی۔

“What?”

“کب ہوا؟ کیسے؟”

عزیز نے حیرت سے انٹرکام کان سے ہٹاتے ہوئے ماؤتھ پیس کو دیکھا تھا۔

اس کو کیوں جھٹکا لگ رہا ہے؟

وہ سوچ کر رہ گیا۔

“سر، آج صبح ہوا ہے۔ صاحبہ میم نے فون پر بتایا تھا۔”

“ہاسپٹل کا نام بتاؤ۔”

مرزا فوراً سیدھا ہوتے ہوئے پوچھتا ہے تو عزیز نے ہاسپٹل کا نام بتا دیا۔

“ڈرائیور سے کہو فوراً گاڑی نکالے۔”

مرزا نے تیز لہجے میں کہتے ہوئے انٹرکام کان سے ہٹایا اور اسے وہیں ٹیبل پر پھینکتے ہوئے عجلت میں دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

کتابیں حیرت کا مجسمہ بنے اس کی عجلت دیکھ کر رہ گئی تھیں۔

ترک مرد گھٹنوں تک عشق میں ڈوب چکا تھا، ہنہہ۔

انہوں نے ناک سکیڑتے ہوئے سوچا اور آنکھیں موند گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

ازمیر، جو کرسی پر بیٹھا پانی کی بوتل گھور رہا تھا، اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پر سانس روک گیا۔

بلاک ہیل کی مدھم آواز نے اس کے دل کی بیٹ مِس کی تھی۔

“بابا، آپ کو ڈسچارج کر۔۔۔”

وہ جو سنجیدگی سے بولتی ہوئی ان کی طرف بڑھ رہی تھی، نظریں کرسی پر بیٹھے وجود پر پڑیں تو وہ چونک گئی۔

چہرے پر ناسمجھی پھیل گئی۔

وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظریں خود پر پڑتے دیکھ ازمیر کھڑا ہوا۔ ہمیشہ کی طرح اسے دیکھتے ہوئے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔

صاحبہ نے ناسمجھی سے دائم کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیے۔

“یہ حارث کا بیٹا ہے، ازمیر علی۔”

انہوں نے تعارف کروایا تو ازمیر صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گیا۔

حارث کے ذکر پر صاحبہ نے بے اختیار نظریں اس کی جانب موڑی تھیں۔ ازمیر بدقت مسکرا کر رہ گیا، صاحبہ ایک پل کو اسے دیکھتی رہی ،ناجانے کیوں اسے دیکھتے اس کا دل تیز دھڑکا تھا ۔وہ نظریں دوبارہ موڑ گئی ۔ 

“ازمیر، یہ میری بیٹی ہے۔ پلویشا۔”

ازمیر نے اب کی بار گہری مسکراہٹ سے دائم کو دیکھا تھا، جبکہ صاحبہ سنجیدگی سے دائم کی جانب آ گئی۔

“بابا، ڈاکٹر سے بات ہو گئی ہے میری۔ انہوں نے آپ کو ڈسچارج کر دیا ہے، اب آپ گھر جا سکتے ہیں۔”

اس نے ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے نرمی سے کہا۔

ازمیر چپ چاپ کھڑا باپ بیٹی کو دیکھ رہا تھا۔ اسے بے اختیار صاحبہ پر رشک آیا تھا، جس کے پاس “بابا” پکارنے کے لیے کوئی تھا۔

دائم نے اسے اپنے ساتھ بیٹھتے دیکھ ہمت کرتے ہوئے اٹھنا چاہا تو بے اختیار کمر میں درد اٹھا۔

“آہ۔۔۔”

“سمبھال کر۔”

ان کے کراہنے پر بیک وقت صاحبہ اور ازمیر نے کہا تھا۔

“سمبھال کر، بابا۔”

ازمیر، جو آگے بڑھتے ہوئے دائم کو پکڑنے ہی والا تھا، صاحبہ کی آواز پر رک گیا۔

دائم مسکرا کر صاحبہ کو دیکھ رہے تھے اور وہ اب انہیں آرام سے بیٹھنے کا کہہ رہی تھی۔

ایک پل کو ازمیر نے خود کو تیسرا فرد محسوس کیا تھا۔

اس نے مدھم مسکراہٹ سے ان دونوں کو دیکھا اور دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

دائم نے نامحسوس انداز میں اسے جاتا دیکھا اور پھر سے نظریں صاحبہ کی جانب موڑ دیں۔

کھڑکی سے آتی روشنی باپ بیٹی کو دیکھ کر رہ گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہسپتال کی راہداری میں خاموشی پھیلی تھی۔ صرف ایک آدھ نرس ہی ان کے پاس سے ہو کر گزرتی تو سلام کرتی، جس کا وہ تینوں بیک وقت سر خم کر کے جواب دیتے تھے۔

وہ وہیل چیئر پر بیٹھے تھے۔ ان کے دائیں جانب صاحبہ سست رفتار سے چل رہی تھی، جبکہ ازمیر ان کی پشت پر وہیل چیئر تھامے آگے بڑھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں سنجیدگی پھیلی تھی۔

“ازمیر، تم مصروف تو نہیں ہو آج؟”

دائم نے کب سے پھیلی خاموشی توڑی تو ازمیر نے گہری سانس بھری۔

“نہیں انکل، میں مصروف نہیں ہوں۔ آپ بے فکر رہیں۔”

اس کے “انکل” کہنے پر صاحبہ نے بے اختیار اس کی طرف دیکھا تھا۔ ازمیر نے اس کا دیکھنا صاف محسوس کیا تھا۔ وہ بمشکل خود کو اس کی طرف دیکھنے سے باز رکھے ہوئے تھا۔

صاحبہ نے ایک پل کو اسے دیکھا اور دوبارہ چہرہ موڑ گئی کہ نظریں سامنے سے آتے مرزا پر گئیں تو وہ چونک گئی۔ وہ انہی کی جانب بڑھ رہا تھا۔

صاحبہ نے چونک کر اسے دیکھا ۔ دائم نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔

جبکہ ازمیر علی، اسے صاحبہ کی طرف بڑھتا دیکھ، تھم گیا تھا۔ اس کے جبڑے بھنچ گئے، جبکہ دور اندر سے دل بے اختیار انجانے خوف میں مبتلا ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اگلے بیس منٹ میں عزیز کے بتائے گئے ہسپتال پہنچا تھا۔ ریسپشن سے صاحبہ کا پتہ کرتا، وہ جیسے ہی دائم کے کمرے کے سامنے والی راہداری میں آیا، اسے سامنے سے ہی وہ آتی نظر آئی۔

صاحبہ کو دیکھتے ہی بے اختیار وہ مسکرایا تھا، مگر ازمیر پر نظریں پڑتے ہی وہ رک گیا۔ دل کو دھڑکا سا لگا تھا۔ نہ جانے کیوں بے اختیار دل میں خوف پیدا ہوا، مگر وہ دل کو ڈپٹتے ہوئے ان کی طرف بڑھ گیا۔

“السلام علیکم!”

اس نے مہذب لہجے میں سلام کیا اور ان کے سامنے جا ٹھہرا۔

صاحبہ نے سر کے خم سے جواب دیا، جبکہ ازمیر نے جواب دینا ہی مناسب نہ سمجھا۔

“وعلیکم السلام۔”

دائم نے سنجیدگی سے جواب دیا اور ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

دائم کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے صاحبہ ان کے سامنے آئی۔

“بابا، یہ میرے باس ہیں۔ مرزا حاکم۔”

اس نے مسکرا کر باپ سے ان کا تعارف کروایا۔ جہاں مرزا مسکرا کر رہ گیا، وہیں ازمیر کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر اس کا دماغ تلملا اٹھا تھا۔

“او، اچھا اچھا۔”

اب کی بار دائم نے مسکرا کر مرزا کو دیکھا اور اپنا ہاتھ بڑھایا۔

مرزا نے ایک پل کو ناسمجھی سے ان کے بڑھے ہاتھ کو دیکھا، پھر مطلب سمجھتے ہی جھک گیا۔

انہوں نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔

اور یہاں بس تھی۔

ازمیر علی سر جھٹک کر رہ گیا۔ دل چاہا مرزا حاکم کو دنیا سے اسی وقت رخصت کر دے۔

“بابا، آپ پارکنگ کی طرف جائیں، میں ابھی آتی ہوں۔”

صاحبہ نے کہا تو ازمیر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

“کیا مطلب؟”

اس نے بے اختیار ہو کر اتنے ترش لہجے میں پوچھا کہ ایک پل کو وہ تینوں چونک گئے۔

ازمیر کو خود بھی اپنی بے اختیاری پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔

“میرا مطلب ہے کہ میں انہیں لے جاؤں؟”

صاحبہ نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تھا۔

“جی، آپ انہیں پارکنگ کی طرف لے جائیں۔ میں ابھی آتی ہوں۔”

ازمیر بدقت مسکرایا، سر خم کیا اور وہیل چیئر آگے بڑھا گیا۔

مرزا کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے ایک نظر اس پر ڈالی۔

اس ایک نظر میں وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ چکے تھے۔ دونوں کے چہرے ایک دوسرے کو دیکھتے سرد ہوئے تھے۔

ہسپتال کی چھت نے ان دونوں کو سرد آہ بھرتے دیکھا تھا۔

ازمیر اور دائم وہاں سے چلے گئے تو وہ فرصت سے اس کی طرف مڑی۔

“مجھے عزیز نے بتایا کہ آپ کے بابا کا ایکسیڈنٹ ہوا، تو میں اسی سلسلے میں آیا تھا۔ اب کیسے ہیں انکل؟”

“بہتر ہیں وہ، الحمدللّٰہ۔”

اس نے سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ مسکرا دیا۔

“اللّٰہ انہیں مکمل صحت یاب کرے گا، ان شاء اللّٰہ۔”

“ان شاء اللّٰہ۔ میں دو تین دن نہیں آ سکوں۔۔۔”

“No problem.”

اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بول پڑا تو وہ چپ ہو گئی۔

“میں بھی آج جرمنی روانہ ہو جاؤں گا۔”

“خیریت؟”

بے اختیار صاحبہ کے لبوں سے سوال پھسلا تو مرزا کے دل نے شکر پڑھا تھا۔

“جی، خیریت ہے۔ میرا بھائی وہیں رہتا ہے، اسی کے پاس جا رہا ہوں۔ دو دن تک واپس آ جاؤں گا۔”

“ٹھیک ہے۔”

وہ نرمی سے مسکرا دی تو وہ بھی مسکرا دیا۔

اسے دیکھ کر وہ دل سے مسکراتا تھا۔

“اللّٰہ حافظ۔”

مرزا نے کہا۔

“اللّٰہ حافظ۔

وہ پلٹ گیا۔ صاحبہ اس کی جاتی پشت دیکھتی رہی، پھر گہری سانس بھری اور پارکنگ کی طرف بڑھ گئی۔

راہداری ایک بار پھر خاموش ہو گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی چرچراتے ٹائروں کے ساتھ اس بڑے سے گھر کے سامنے رکی۔

ازمیر اور صاحبہ نے خاموشی سے سفر طے کیا تھا۔ صرف دائم تھے جو ہر دو منٹ بعد کچھ نہ کچھ بتاتے رہتے، جسے وہ دونوں سُن کر اَن سُنا کر دیتے تھے۔

ایک وقت ایسا آیا کہ جب وہ خود ہی بولتے بولتے تھک گئے تو بدمزہ سے ہو کر رہ گئے۔

“یہ تم دونوں نے کیوں چپ اور سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے؟”

انہوں نے ازمیر کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

ان کے سوال پر بے اختیار پیچھے بیٹھی صاحبہ نے سامنے شیشے میں نظر آتی اس کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا تھا۔

“ایسی بات نہیں ہے، بابا۔”

صاحبہ نے نظریں موڑتے ہوئے کہا تو ازمیر نے نامحسوس انداز میں شیشہ بائیں جانب موڑ دیا۔ اب وہ صاحبہ کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔

صاحبہ نے بغور اس کا یہ عمل دیکھا تھا اور مدھم سا مسکرا دی۔

اب دائم کے ساتھ صاحبہ بھی بات کر رہی تھی، جبکہ وہ مکمل چپ چاپ باپ بیٹی کو سن رہا تھا۔

اس نے قدم باہر رکھے اور سامنے ایستادہ خوبصورت گھر کو دیکھا۔

وہ پہلی بار یہاں آئی تھی۔

انتیس سالہ زندگی کے اذیت ناک پل اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم کر رہ گئے تھے۔

“اندر چلو، صاحبہ۔”

پاس سے آتی دائم کی مدھم آواز پر وہ اپنی یادوں کے بھنور سے باہر نکلی۔

اس نے ایک بار مڑ کر دائم کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں اسے التجا نظر آئی تھی۔

وہ گہری سانس بھر کر رہ گئی اور اپنے قدم اندر کی جانب بڑھا دیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاؤنج میں مکمل خاموشی پھیلی تھی۔ وہیل چیئر پر بیٹھا دائم خاموشی سے صوفے پر بیٹھے ازمیر کو دیکھ رہا تھا۔

صاحبہ اندر کچن میں تھی۔

“ازمیر۔” اُنہوں نے دھیرے سے اُسے پکارا، تو اُس نے اُن کی جانب دیکھا۔ اُس کی آنکھیں نہ جانے کیوں سرخ ہو رہی تھیں۔

“ہممم؟”

“تم کیوں پریشان ہو؟”

ازمیر نے ایک پل اُنہیں دیکھا۔ “آپ ٹھیک ہیں نا؟ کہیں درد تو نہیں ہے؟”

دائم مسکرا دیا۔ “مجھے کہیں درد نہیں ہے۔ تم مجھے یہ بتاؤ، تم کیوں پریشان ہو؟”

“کچھ نہیں، بس یوں ہی تھکاوٹ ہو رہی ہے۔”

ازمیر نے گہرا سانس بھرتے جواب دیا۔

دائم نے اثبات میں سر ہلایا۔ “اچھا، اِدھر آؤ میرے پاس۔”

“کیوں؟”

“آؤ تو ذرا۔”

ازمیر ناسمجھی سے اُٹھا اور اُن کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھ گیا۔

دائم نے عقیدت سے اُس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا اور پیشانی پر بوسہ دیا۔

“تم میرے بیٹے ہو، میری طاقت ہو۔ تمہارا مقام انمول ہے، اور انمول شے کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔”

دائم کے لفظ تھے یا کیا، ازمیر ساکت ہو چکا تھا۔

بے اختیار آنکھوں میں گلابی سا پانی چمکا، جسے وہ آنکھیں میچے چھپا گیا۔ دل پر سے بھاری بوجھ ہٹ گیا تھا۔

“لگتا ہے ایکسیڈنٹ سے دماغ ہل گیا ہے۔” اُس نے اپنا بھرم قائم رکھنا چاہا۔

“ہاں، واقعی میرا دماغ ہل گیا ہے۔” اُنہوں نے بھرم رکھ لیا۔

ازمیر مسکرا دیا۔ اُس کی ساری پریشانی دور جا سوئی تھی، مگر اگلے ہی پل قدموں کی آواز پر اُس کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔

“بابا، آپ کے لیے سوپ لائی ہوں۔”

وہ اُن سے مخاطب ہوتی اُن تک آئی اور میز پر ٹرے رکھ دی۔

ازمیر کی نظریں بھٹکتی ہوئی اُس کے چہرے پر جا ٹکیں۔

گھٹنوں کے بل بیٹھی، وہ ٹرے سے سوپ نکالتی دائم کے سامنے رکھ رہی تھی۔ سفید، مومی چہرہ نرم و ملائم نظر آتا تھا۔

صاحبہ نے ایک کافی کا کپ اُٹھاتے اُس کے سامنے رکھا، تو دونوں کی نظریں ملیں۔ ازمیر نظریں چرا گیا۔

“بابا، سوپ گرم ہے۔”

دائم چمچ منہ کے قریب لے جانے لگے، جب صاحبہ نے اُنہیں روکا۔ وہ مسکرا دیے۔

اُس نے اپنی کافی میں چینی ڈالنے کے لیے شوگر پاٹ کا ڈھکن ہٹایا اور میز پر رکھنا چاہا، جب وہ نیچے گر کر میز کے نیچے چلا گیا۔

“اہو۔”

وہ آہستگی سے کہتی میز کے نیچے ہاتھ لے گئی۔

ازمیر، جو اُس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا، اُسے میز کے نیچے سر لے جاتا دیکھ بے اختیار اپنا ہاتھ میز کے کنارے پر رکھ دیا۔

دائم نے مدھم مسکراہٹ سے اُس کی یہ حرکت نوٹ کی تھی۔

صاحبہ نے ڈھکن اُٹھایا اور سر باہر لائی، وہیں ازمیر بھی اپنا ہاتھ ہٹا گیا۔

“آپ چینی لیں گے؟”

اب کی بار وہ اُس سے مخاطب ہوئی، تو ازمیر کا دل شدت سے دھڑکا۔ وہ سنجیدگی سے اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔

وہ سرعت سے نفی میں سر ہلا گیا۔

“ازمیر، پرسوں زونیرہ کی برسی ہے۔”

“مجھے یاد ہے۔” اُس نے ہولے سے جواب دیا، تو جہاں دائم مسکرائے، وہیں صاحبہ نے بے اختیار اُسے دیکھا تھا۔

“تم کہیں بیزی تو نہیں ہوگے؟”

“سوری انکل، مجھے آؤٹ آف کنٹری جانا ہے۔ میں پرسوں رات کو آپ کے پاس آ جاؤں گا۔”

وہ کافی کے سپ لیتا نرمی سے بولا، تو دائم سر ہلا کر رہ گئے۔

“ٹھیک ہے۔ اللّٰہ تمہیں کامیاب کرے۔”

صاحبہ، جو اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی، دونوں کی کیمسٹری دیکھ سر جھٹک کر رہ گئی۔

“ٹھیک ہے انکل، میں چلتا ہوں۔ آپ اپنا دھیان رکھیے گا۔”

ازمیر نے اُٹھتے ہوئے کہا، تو دائم مسکرا دیے۔

ازمیر اُن کے سامنے جھکا، تو دائم کو حیرت کا جھٹکا لگا۔ وہ کبھی اُن کے سامنے یوں نہیں جھکا تھا۔

ازمیر، جو صاحبہ کے سامنے خود کو باادب ظاہر کرنے کے لیے اُن کے سامنے جھکا تھا، اُن کی حیرت پر اندر سے تلملا اُٹھا۔

دائم نے ایک نظر اپنی طرف دیکھتی صاحبہ کو دیکھا، پھر ازمیر کو، جس کی آنکھوں میں وارننگ تھی۔ وہ مسکراہٹ ضبط کرتے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئے۔

“اللّٰہ کی امان میں جاؤ۔”

“شکریہ، انکل۔”

وہ سنجیدگی سے کہتا دروازے کی جانب بڑھ گیا، جبکہ دائم کا دل چاہا قہقہہ لگا کر ہنسیں۔

“ایسے حیران ہو رہے تھے، جیسے پہلی بار کسی کو تمیز دکھاتے دیکھا ہو۔”

پارکنگ کی طرف بڑھتا وہ خود سے بول رہا تھا۔

“اِس منحوس مرزا حاکم کو تو بڑے پیار سے تھپتھپا رہے تھے، میری باری ہاتھ دکھتا تھا، ہنہہ۔”

اپنی کار میں بیٹھتا وہ تلخی سے سوچتا ہے اور گاڑی سٹارٹ کر دیتا ہے۔

خوبصورت گھر نے مسکراتے ہوئے اُس کی گاڑی کو گھر کی حدود سے دور جاتے دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی۔

استنبول میں رات اُتر آئی تھی۔ اُس تنگ گلی کے اِس چھوٹے سے گھر میں داخل ہوتے، تم اُس کے کمرے میں قدم رکھو، تو اُس کی آواز تمہیں صاف سنائی دے گی۔

“السلام علیکم۔”

دلارے نے تیز دھڑکتے دل کے ساتھ مرزا کو فون کیا تھا، جو پہلی ہی گھنٹی پر اُٹھا لیا گیا تھا۔

“وعلیکم السلام۔”

فون سے مرزا حاکم کی آتی گھمبیر آواز نے دلارے کے تیز دھڑکتے دل کی رفتار مزید بڑھا دی تھی۔ وہ بہت عرصے بعد اُسے فون کر رہی تھی۔

“کیسے ہو تم؟”

“میں ٹھیک ہوں، تم کیسی ہو؟” مرزا کی آواز میں نرمی تھی۔

“اللّٰہ کا رحم ہے۔” دلارے نے مسکرا کر کہا۔

“سلیم صاحب کیسے ہیں؟”

“تم اُنہیں نانا کی جگہ سلیم صاحب کیوں بلاتے ہو؟” دلارے نے سوال کے جواب میں سوال کیا، تو مرزا مسکرا دیا۔

“تم اُنہیں نانا کی جگہ بابا کیوں کہتی ہو؟”

دلارے نے نچلا لب کاٹا، پھر نیلی آنکھوں میں چمک عود آئی۔

“ٹھیک ہیں، وہ بھی۔۔۔ تمہیں یاد کرتے ہیں۔”

“میں بھی تم لوگوں کو بہت یاد کرتا ہوں۔”

“سچی؟”

“مچی۔”

مرزا کے جواب پر دلارے نے دل تھاما تھا۔ دونوں طرف گہری خاموشی پھیل گئی۔ کچھ پل بعد مرزا کی آواز ابھری۔

“تم نے کچھ کہنا ہے؟”

دلارے نے بے اختیار لب کاٹے۔

“ا۔۔۔ ای۔۔۔ ایک بات کہنی تھی۔” اُس نے بمشکل اپنی بات مکمل کی تھی۔

“کہو، میں سن رہا ہوں۔”

مرزا کی آواز میں بے حد اپنائیت تھی۔ دلارے کو بے اختیار اپنے گال سرخ ہوتے محسوس ہوئے تھے۔ اعتراف کبھی آسان نہیں ہوا کرتے۔

“م۔۔۔ میں۔۔۔ نے کہنا تھا کہ۔۔۔”حا۔۔۔ حاکم، می۔۔۔ میں۔۔۔”

“میں ترکی آ جاؤں؟” مرزا نے فوراً کہا، تو وہ رک سی گئی۔

“کیا مطلب؟” اُسے لگا مرزا طنز کر رہا ہے۔

“اصل میں، مجھے بھی تمہیں کچھ بہت ضروری بتانا ہے، جو فون پر نہیں بتا سکتا۔ آمنے سامنے ہونا ضروری ہے۔ تو میں ایسا کرتا ہوں، دو دن بعد ترکی آ جاتا ہوں۔”

مرزا نے بات ختم کی، جبکہ وہ بالکل ساکت سی بیٹھی رہ گئی۔

“(آمنے سامنے ہونا ضروری ہے۔)” مرزا کی بات پر دل شدت سے دھڑکا تھا۔ کیا وہ بھی۔۔۔؟ دلارے نے حیرت سے گنگ ہوتے سوچا تھا۔

“کیا تم سن رہی ہو؟”

“ہ۔۔۔ ہاں، میں سن رہی ہوں۔”

“تو بتاؤ، میں ترکی آ جاتا ہوں۔ تم بھی تب بتا دینا مجھے اپنی بات۔۔۔ یا ابھی بتانی ہے؟”

وہ کتنی نرمی سے بات کرتا تھا۔ دلارے نے مسکراتے ہوئے سوچا۔

“ہاں، تم ترکی آ جاؤ۔ میں نے بھی ضروری بات کرنی ہے۔”

“ٹھیک ہے پھر۔ میں ایک یا دو دن بعد آ جاؤں گا۔ میں آنے سے پہلے تمہیں بتا دوں گا۔”

“ٹھیک ہے۔ اللّٰہ ہر زمان سنن لیدھر۔” (اللّٰہ ہمیشہ تمہارے ساتھ ہے۔)

“اللّٰہ ہر زمان سنن لیدھر۔” جواباً مرزا نے بھی کہا۔

مرزا نے فون کان سے ہٹایا اور سکرین دیکھی، جس پر انگلش میں لکھا”Dil ” جگمگا رہا تھا۔ اُسے دلارے سے بے انتہا محبت تھی۔

دلارے نے فون کان سے ہٹایا اور سکرین پر جگمگاتا “حاکمِ قلب” نام دیکھ مسرت سے مسکرائی۔ وہ مرزا حاکم سے عشق کرتی تھی۔

آسمان نے کرب سے اُن دونوں کو دیکھا تھا۔ دونوں کے جذبات میں صدق تھا، بس اُن دونوں کی تقدیر میں مختلف راہیں تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

رات کے سائے اسلام آباد پر چھا چکے تھے۔ پورا شہر مصنوعی روشنیوں سے جگمگا اُٹھا تھا۔

وہ ابھی ابھی شاور لے کر آیا تھا۔ دائم کے گھر سے وہ سیدھا مزاحم کے گھر گیا تھا۔ وہاں اُن دونوں نے پورا منصوبہ ترتیب دیا تھا۔ وہاں سے وہ آدھا گھنٹہ پہلے گھر پہنچا تھا، اور اب وہ فریش ہو کر لاؤنج میں آیا تھا۔

سامنے ہی زریاب بڑی سی ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہی تھی۔ لاؤنج نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔

“السلام علیکم۔” اُس نے اُن کے ساتھ بیٹھتے کہا۔

“وعلیکم السلام۔”

“کیا دیکھ رہی ہیں؟”

“بس یوں ہی وقت گزاری کر رہی ہوں۔” زریاب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

ازمیر بھی مسکرا دیا۔

“آج دائم انکل کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔” اُس نے سرسری طور پر بتایا، جبکہ زریاب کو دھچکا لگا۔

“کیا؟ کب؟ کیسے؟”

“ریلیکس، مام۔ اب وہ ٹھیک ہیں۔”

“لیکن تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟” زریاب نے خفگی سے پوچھا تھا۔

“اِس لیے تاکہ آپ پریشان نہ ہو جائیں۔”

“ازمیر، کیسی باتیں کرتے ہو تم؟ بھئی حد ہے۔ مجھے ابھی اُس کے پاس لے کر جاؤ، پتا نہیں اب کس حال میں ہوگا وہ۔”

زریاب اُٹھتے ہوئے بولی، جب ازمیر نے اُن کا ہاتھ تھام لیا۔

“مام، وہ اب ٹھیک ہیں۔ آپ پریشان نہ ہوں۔”

“میں کیسے پریشان نہ ہوں؟ میرے چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے وہ۔”

ازمیر مسکرا دیا۔

“اور تم اُسے اکیلا چھوڑ کر آ گئے ہو، حد ہے ازمیر۔”

ازمیر کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ اُس نے دھیرے سے گردن موڑ لی۔

“اُن کی بیٹی اُن کے پاس ہے۔” اُس نے ہلکے سے بتایا، جبکہ اُس کے ذکر پر دل دھڑکا تھا۔

زریاب نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا۔

“کیا مطلب؟”

“مطلب یہ کہ اُن کی بیٹی اُن کے ساتھ ہے۔”

زریاب تھم گئی۔ ازمیر نے بغور اُن کا تھمنا دیکھا تھا۔

“پ۔۔۔ پلویشا واپس آ گئی ہے؟” اُنہوں نے ہولے سے پوچھا تھا۔

“ہممم۔”

“پلویشا، دائم کے ساتھ ہے؟”

“ہممم۔”

زریاب حیرت سے ازمیر کو دیکھتی رہی، جب دیکھتے ہی دیکھتے اُن کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

ازمیر کو بے انتہا حیرت ہوئی۔ پلویشا کی واپسی پر اُنہیں کیوں خوشی سے رونا آ رہا ہے؟ وہ سوچ کر رہ گیا۔

“اللّٰہ تیرا شکر ہے۔” وہ اب اللّٰہ کا شکر ادا کر رہی تھیں۔

“دائم تو بہت خوش ہوا ہوگا۔”

“جی۔۔۔ وہ بھی بہت خوش تھے۔” ازمیر نے دھیرے سے جواب دیا اور ریموٹ اُٹھا لیا۔

“اللّٰہ کا شکر ہے، باپ بیٹی میں سب ٹھیک ہو گیا۔” زریاب نے خوشی سے کہا تھا۔

ازمیر پوچھنا چاہتا تھا کہ وہ باپ سے ناراض کیوں تھی، مگر وہ دل پر جبر کرتا نظریں ٹی وی پر مرکوز کر گیا۔

“تم ملے اُس سے؟ کیسی ہے وہ؟”

ازمیر کو بے اختیار کھانسی آئی۔

“مجھے کیا پتا، مام، کیسی ہوگی وہ؟” اُس نے ناک سکیڑتے پوچھا، تو زریاب سر جھٹک کر رہ گئی۔ وہ کیسے بھول گئی تھی، ازمیر اپنے سوا کسی کو کہاں دیکھتا تھا۔

اُنہوں نے گہری سانس بھری اور اُٹھ کھڑی ہوئیں۔

“خیر، میں نماز پڑھنے جا رہی ہوں۔ تم بھی جلدی سو جانا۔”

“ہممم۔”

اُن کے جانے کے بعد ازمیر نے ایک نظر اُن کی پشت دیکھی۔ گلے میں گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی۔

اُس کا دل بغاوت پر اُتر رہا تھا اور وہ کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔ اُس نے افسوس سے سوچا اور نیوز چینل لگا لیا۔

مگر سامنے نشر ہوتی نیوز پر وہ حیرت زدہ رہ گیا۔ آنکھیں آخری حد تک کھل گئی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا موبائل یوز کر رہا تھا۔ ڈرائیور سست رفتاری سے گاڑی چلاتا اُس کے گھر کی طرف رواں تھا۔

اُس نے آخری میسج ٹائپ کیا اور سینڈ کرتے، بیک بٹن دباتے فیس بک اوپن کی۔

بھوری آنکھوں میں تھکن نمایاں تھی۔ ابھی وہ اُنہیں تھکی نظروں سے سکرین پر جمائے ہوئے تھا، جب ایک ویڈیو پر وہ تھم گیا۔ حیرت کا زور دار جھٹکا تھا جو اُسے لگا تھا۔

“ناظرین! ہم کو بتاتے چلیے کہ مشہور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ازمیر عباس علی اور آرکیٹکٹ مرزا حاکم پورے سوشل میڈیا پر #Brothers (ہیش ٹیگ برادرز) کی سرخیاں بکھیر رہے ہیں۔”

مرزا حاکم پھٹی آنکھوں سے سکرین پر نظر آتا اپنا اور ازمیر کا انٹرویو دیکھ رہا تھا، ساتھ اینکر کی جوشیلی آواز بھی سن رہا تھا۔

یہی حال اپنے لاؤنج میں بیٹھے ازمیر کا بھی تھا۔

“وہ۔۔۔ اور میرا بھائی؟ لعنت ہو تم سب پر!”

وہ اُن سب پر لعنت بھیجتے جیب سے اپنا فون نکال گیا اور #Brothers سرچ کیا۔

فوراً ہی ہر طرف اُن دونوں کے انٹرویو کی ویڈیوز سامنے آنے لگیں، جہاں وہ دونوں مسکرا کر جواب دیتے مثالی بھائی نظر آ رہے تھے۔ اُن دونوں کا یہ انٹرویو وائرل ہو گیا تھا، جس کی وجہ سے اب وہ پورے سوشل میڈیا پر “ہیش ٹیگ برادرز” کے نام سے مشہور ہو رہے تھے۔

“کہاں سے اُس کا بھائی نظر آتا ہوں؟”

“کہاں سے اُس کا بھائی نظر آتا ہوں؟”

دونوں نے بیک وقت منہ کے زاویے بگاڑتے کہا تھا۔

عزیز، مرزا کی بات پر چونک کر مڑا۔

“سب ٹھیک ہے، سر؟”

“یہ دیکھو! یہ بری بری باتیں ہر طرف گردش کر رہی ہیں۔”

وہ دانت پیستے عزیز سے کہتا ہے اور اُس کے سامنے موبائل کی سکرین کر دیتا ہے۔

عزیز نے دیکھا، جہاں وہ دونوں ساتھ بیٹھے بے انتہا خوبصورت لگ رہے تھے۔ عزیز نے مسکراہٹ ضبط کرتے مرزا حاکم کو دیکھا۔

“سب ٹھیک تو ہے، سر۔ اِس میں کون سی بڑی بات ہے؟”

“کیا خاک سب ٹھیک ہے!” وہ دھاڑا تھا۔ “کہاں سے میں اُس شخص کا بھائی نظر آتا ہوں؟ نہ اُس میں مینرز ہیں، نہ بات کرنے کی تمیز۔۔۔ اور میں اُس کا بھائی؟ حد ہے بھئی!”

مرزا تلملا تے دماغ کے ساتھ کہتا گیا، جبکہ عزیز کو ہنسی آ رہی تھی۔

“پورا کا پورا سوشل میڈیا ہی پاگل ہے۔”

وہ فون بند کرتے کہتا ہے اور سر سیٹ کی پشت سے ٹکا دیتا ہے۔ اُس نے آج سے پہلے کبھی اتنی بری خبر نہیں سنی تھی۔

گاڑی کی سیٹوں نے ہنستے ہوئے اُس تلملاتے حاکم کو دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کہاں سے اُس کا بھائی نظر آتا ہوں؟”

وہ کھولتے دماغ کے ساتھ خود سے بولا۔ نظریں اب بھی سکرین پر تھیں۔

“نہ تو اُس کے پاس میری جیسی خوبصورت شکل ہے، نہ ہی دماغ۔۔۔ اور میں اُس کا بھائی؟ لعنت ہے بھئی!”

وہ کھولتے دماغ سے کہتا ہے اور فون جیب میں ڈال دیتا ہے۔

“بیڑا غرق ہو سوشل میڈیا کا!”

وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ اُس نے آج سے پہلے اتنی فضول خبر کبھی نہیں سنی تھی۔

ٹی وی کی سکرین نے مسکراہٹ ضبط کرتے اُس کی جاتی پشت دیکھی تھی۔

اِن دونوں کو چھوڑ، تم ٹی وی پر نظریں مرکوز کرو تو تم مسکرا دو گے۔

وجیہہ چہرے، تھری پیس سوٹ پہنے، اپنی پُروقار شخصیت کے ساتھ دونوں ایک ہی صوفے پر براجمان ہوئے واقعی بھائی نظر آتے تھے۔ “ہیش ٹیگ برادرز” اِن دونوں کے لیے ہی بنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرینکفرٹ

گاڑی زیورخ کے خاموش علاقے میں تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ وہ ستائشی نظروں سے دور دراز تک پھیلے درختوں اور سبزہ زار زمینوں کو دیکھ رہا تھا۔ یہ سب اسٹیفن کی ملکیت تھیں۔ مصطفیٰ کو بے اختیار اُس کی دولت پر حیرت ہوئی تھی۔

گاڑی جیسے ہی اُس سفید بنگلے کی حدود میں داخل ہوئی، وہ گھر کو دیکھ کُلس کر رہ گیا۔

“کمبخت بہت امیر ہے۔”

اُس نے تلخی سے سوچا تھا۔

گاڑی کا دروازہ کھلا اور وہ باہر آیا، پھر گارڈز کے ہمراہ گھر کے اندر قدم بڑھا گیا۔

لاؤنج میں داخل ہوتے ہی وہ سامنے بیٹھی شخصیت کو دیکھ ساکت ہو گیا۔

بلیک تھری پیس سوٹ پہنے، پُروقار شخصیت کا مالک وہ پاکستانی آدمی اسٹیفن تھا؟ اُسے حیرت ہوئی تھی۔

فیض اُسے دیکھتا اُٹھا اور اُس کے سامنے آ گیا۔

“السلام علیکم، مصطفیٰ زیدی۔”

سفید عرب لباس کے ساتھ سر پر رومال باندھے، نیلی آنکھوں، ہلکی داڑھی مونچھ اور دراز قد والا مصطفیٰ عرب شہزادہ نظر آتا تھا۔ فیض نے اُسے ستائشی نظروں سے دیکھا تھا۔

“وعلیکم السلام، وعلیکم السلام۔”

وہ خوشی سے دو دفعہ کہتا اُس سے مصافحہ کرتا ہے۔

“تمہارا کمرہ تیار ہے، تم تھوڑی دیر آرام کر لو۔”

فیض نے اُسے کہا، تو وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔ پیچھے ایک گارڈ اُس کے دو بریف کیس اُٹھائے اُس کے ساتھ چلتا اُسے راستہ دکھانے لگا۔

گارڈز کے ہمراہ وہ چلتا ہوا اوپری منزل کے آخری کمرے کے سامنے جا ٹھہرا۔ گارڈ نے دروازہ کھولتے اُس کے بریف کیس بیڈ پر رکھ دیے اور باہر چلا گیا۔ مصطفیٰ نے دروازہ بند کیا اور گہری سانس بھری، پھر واش روم میں گھس گیا۔

واش روم میں آتے ہی اُس نے ایک نظر خود کو دیکھا، پھر فوراً سے سفید گاؤن اوپر کرتے نیچے پہنی جینز میں سے اپنا فون نکالا۔

“ہاں مزاحم، میں پہنچ گیا ہوں۔”

اُس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ فون کان سے لگاتے کہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے صبح کا منظر گھوم گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جرمنی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر معمول کا رش تھا۔ کچھ لوگ اِدھر اُدھر گھومتے اپنی فلائٹ کے وقت کا انتظار کر رہے تھے، تو کچھ لوگ اِس سرزمین پر قدم رکھ رہے تھے۔ اُنہی میں وہ بھی کھڑا تھا۔۔۔ مصطفیٰ زیدی۔

دو بریف کیس دونوں ہاتھوں میں اُٹھائے وہ کب سے کسی کے آنے کا انتظار کر رہا تھا، جب اچانک کوئی اُس کے سامنے آ ٹھہرا۔

سیاہ جینز شرٹ پہنے، سر پر پی کیپ جمائے وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“مصطفیٰ زیدی؟” اُس نے دھیرے سے پوچھا۔

مصطفیٰ نے تنقیدی نظروں سے اُسے دیکھا اور اثبات میں سر ہلا دیا۔

“ڈیلر نمبر 104#55؟”

مصطفیٰ نے کندھے ڈھیلے چھوڑ دیے اور دوبارہ اثبات میں سر ہلا دیا۔

ازمیر نے اُسے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا اور آگے آگے چلنے لگا۔ مصطفیٰ بھی اُس کی پیروی کرتا اُس کے پیچھے چل دیا۔

وہ دونوں ایک وی آئی پی روم کے سامنے رکے، تو ازمیر نے اُس کے لیے دروازہ کھولتے اُسے راستہ دیا۔ مصطفیٰ اچھنبے سے اندر قدم رکھ گیا۔ دروازہ پیچھے سے بند ہو گیا۔

“دروازہ کیوں بند کیا ہے؟” مصطفیٰ بھونڈی اُردو بولتا مُڑا تھا۔

ازمیر اُسے سرد نگاہوں سے دیکھتا رہا اور قدم اُس کی طرف بڑھائے۔

مصطفیٰ اُسے اپنی طرف آتا دیکھ حراس ہوا اور بریف کیس خود سے لگا لیا۔

“کیا بدتمیزی ہے یہ؟ کون ہو ت۔۔۔”

اُس کے سارے الفاظ منہ میں رہ گئے، جب دائیں جانب سے پڑنے والا گھونسا اُسے دن میں تارے دکھا گیا۔

وہ دھڑام سے زمین پر گرا۔

“واؤ۔۔۔ بہت اچھا فائٹر ہوں میں۔”

اچانک سے مزاحم نمودار ہوتے بولا اور ہاتھ کی مٹھی پر پھونک ماری۔ ازمیر سر جھٹک کر رہ گیا۔

“اِس کو ہینڈل کرو۔”

اُس نے کہا اور ایک طرف پڑے اپنے بیگ سے سامان نکالنے لگا۔

مزاحم اُس کے سامنے بیٹھا، تو وہ سہم کر پیچھے ہوا تھا۔

“کس حوالے سے جا رہے ہو تم زیورخ؟”

“تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں کہیں ن۔۔۔”

مزاحم نے اُس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اُسے زور سے تھپڑ دے مارا۔ اُس کا کان سنسنا کر رہ گیا تھا۔

ازمیر نے مزاحم کی طرف پسٹل اچھالی، جسے وہ تھام گیا۔

“اب اگر سوال گندم اور جواب چنا دیا، تو بھیجا اُڑا دوں گا۔”

اُس نے پسٹل کی نال اُس کی کنپٹی پر رکھتے کہا، تو وہ خوف سے اثبات میں سر ہلا گیا۔

ازمیر بیگ اُٹھاتا واش روم میں گھس گیا۔

مزاحم نے فرصت سے خوف زدہ مصطفیٰ کو دیکھا تھا۔

“گارڈز کے بنا اسمگلر تو بھیگی بلی ہوتے ہیں۔”

وہ سوچ کر رہ گیا۔

“چل، بتا کیوں جا رہا تھا زیورخ؟”

“س۔۔۔ سونے کی۔۔۔ کی سپلائی کروانے۔”

“کہاں؟”

“سعودی عرب۔”

مزاحم نے لعنت برساتی نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔

“سائفر سے پہلے کبھی ملے ہو؟”

“ن۔۔۔ نہیں۔”

“پھر اب وہ تم سے ملنے پر راضی کیسے ہوا؟”

“وہ نہیں ہوا۔۔۔ مجھے اسٹیفن اُس سے ملوائے گا۔”

“کیا مطلب؟” مزاحم چونکا۔ “تم سائفر کے پاس نہیں جاؤ گے؟”

“نہیں تو۔”

“پھر کس کے پاس جا رہے ہو؟”

“اسٹیفن کے پاس۔”

مزاحم کا سر چکرا کر رہ گیا۔

“مجھے پوری بات بتاؤ، بنا اٹکے۔”

مصطفیٰ نے تھوک نگلا تھا۔

“میں اسٹیفن کے پاس جا رہا ہوں۔ سائفر اسٹیفن کا خاص آدمی ہے۔ اسٹیفن اُسے میرے پاس بیچنے والا ہے۔”

مزاحم نے اثبات میں سر ہلایا، وہیں ازمیر واش روم کا دروازہ کھول کر باہر آیا۔

مزاحم نے اُسے ایک نظر دیکھا، تو وہیں تھم گیا۔

وہ بالکل عرب شہزادہ نظر آتا تھا۔

“ہمارے پاس پانچ منٹ ہیں۔ تم اِسے لے کر اپارٹمنٹ چلے جاؤ۔ میں وہیں جا کر بات کروں گا۔”

ازمیر کہتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا، تو مزاحم سکتے سے باہر آیا۔

ازمیر دروازہ کھولتے باہر نکل گیا۔

“تیرا فون کدھر ہے؟” مزاحم نے تیوریاں چڑھاتے پوچھا، تو وہ آنکھیں میچ گیا، پھر مجبور نظروں سے اُسے دیکھتا اپنا فون جیب سے نکال کر اُسے دے گیا۔

مزاحم نے اُس کا فون جیب میں رکھا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔

مصطفیٰ نے زہرخند نظروں سے اُس کی پشت کو گھورا تھا اور اُس سائفر سے ملنے کی سوچ پر لعنت بھیجی تھی۔

ازمیر نے فون کان سے ہٹاتے خود کو شیشے میں دیکھا۔ اُس کے بریف کیس میں بہت سے خفیہ کیمرے اور انجیکشنز رکھے تھے۔ اُس کے دائیں ہاتھ میں پہنی گھڑی میں ٹریکر لگا تھا۔ وہ اپنی پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا۔

اُس نے فون واپس جیب میں رکھا اور خود پر آخری نظر ڈالتے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرینکفرٹ

کمرہ نیم اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ کھلی کھڑکی سے آتی سورج کی روشنی اُسے روشن کرنے میں ناکام معلوم ہوتی تھی۔ وہ نڈھال سا کرسی سے بندھا بیٹھا تھا۔ کب سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے اُس کا جسم اکڑ گیا تھا۔

وہ ابھی نیم غنودگی میں جانے ہی والا تھا، جب اچانک سے دروازہ کھلا اور وہ تیزی سے اُس کے نزدیک آیا۔

“یہ فون پر بات کر اور بتا کہ تو اپنی منزل پر پہنچ گیا ہے۔”

مزاحم اُس کے سر پر کھڑا ہوتا تیز لہجے میں بولا اور فون پر نمبر ڈائل کرنے لگا۔ بہت دیر سے احمد کی کالز آئے جا رہی تھیں۔

مصطفیٰ نے حراساں نظروں سے اُس پاکستانی غنڈے کو دیکھا تھا۔

“یہ لے، بات کر۔۔۔ اور اگر کوئی ہوشیاری کی، تو بھیجا اُڑا دوں گا۔”

اُس نے مصطفیٰ کی کنپٹی پر پسٹل رکھتے ہوئے کہا، تو مصطفیٰ نے تھوک نگلا۔

فون پہلی ہی گھنٹی پر اُٹھا لیا گیا تھا۔ مزاحم نے فون اُس کے کان سے لگا رکھا تھا اور سپیکر آن تھا۔

“السلام علیکم۔”

احمد نے تیزی سے پوچھا، تو مصطفیٰ کو رونا آیا۔ بے اختیار اُس نے آج کے منحوس دن پر لعنت بھیجی تھی۔

“وعلیکم السلام۔”

اُس نے آنکھیں میچتے جواب دیا۔

“تم اتنی دیر سے کہاں غائب ہو؟ میں نے اتنی بار کالز کی ہیں۔”

“م۔۔۔ میں پہنچ گیا ہوں۔”

“تمہاری سائفر سے ملاقات ہوئی؟”

مصطفیٰ نے مزاحم کو دیکھا، تو بدلے میں مزاحم نے اُسے گھوری سے نوازا۔

“ن۔۔۔ نہیں ہوئی ابھی ملاقات۔۔۔ کل ہوگی۔”

“واپس کب آنے کا ارادہ ہے تمہارا؟” احمد نے تشویش سے پوچھا۔

“ارادہ تو آج یا کل کا تھا۔ سائفر سے مل کر سیدھا دبئی لوٹ جانا تھا۔”

وہ بظاہر احمد سے بات کرتا، التجائیہ نظروں سے مزاحم کو دیکھ رہا تھا۔

“ٹھیک ہے پھر، اللّٰہ حافظ۔”

مصطفیٰ کے دل نے شدت سے کہا کہ اُسے مدد کے لیے بلائے، مگر کنپٹی پر محسوس ہوتی ٹھنڈی نال نے اجازت نہیں دی، تو وہ بس “ہممم” کر کے رہ گیا۔

مزاحم نے اُس کا فون واپس اپنی جیب میں رکھا اور اُس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

“کل تمہیں ائیرپورٹ چھوڑ آؤں گا۔”

اُس نے سنجیدگی سے کہا، تو مصطفیٰ کے اندر آگ لگی تھی۔

“کہہ تو ایسے رہا ہے جیسے دعوت پر لے کر آیا تھا مجھے۔۔۔ ہنہہ۔”

“ایسے گھور کیا رہے ہو؟”

مزاحم نے ترش لہجے میں پوچھا، تو وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔

“بات سنو۔”

مصطفیٰ نے اُس کی جاتی پشت دیکھ کر کہا، تو وہ بنا رکے اُس کی طرف مڑا۔

“مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔ کچھ کھانے کو تو لا دو۔”

“لا دیتا ہوں۔”

“ایک منٹ، سنو۔”

وہ سنجیدگی سے کہتا پلٹنے ہی لگا تھا، جب مصطفیٰ نے دوبارہ اُسے بلایا۔

“جی، سناؤ۔”

وہ تیزی سے پلٹتا کڑے تیوروں کے ساتھ بولا، تو مصطفیٰ سہم گیا، پھر دھیرے لہجے میں پوچھا۔

“تم کون لوگ ہو؟”

“اغوا کون کرتے ہیں؟”

“غنڈے۔”

“تو میں وہی ہوں۔۔۔ اور غنڈے بندہ بھی پھڑکا دیتے ہیں، اِس لیے زیادہ مجھے ’سنو سنو‘ کہا، تو میری گارنٹی نہیں ہے۔ کیا پتا میں بھی پھڑکا دوں تمہیں۔”

مزاحم نے چھبتے لہجے میں کہا اور پلٹ گیا۔

مصطفیٰ بند دروازے کو دیکھ کر رہ گیا۔

نیم اندھیرے کمرے کا اندھیرا اُسے وحشت زدہ کرنے لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرینکفرٹ

سارا دن وہ کمرے میں ہی رہا تھا۔ کمرے میں اُس نے کوئی مشکوک حرکت نہیں کی تھی، کیونکہ سی سی ٹی وی کیمروں کا خدشہ تھا۔ وہ یہاں دو روز کے لیے آیا تھا۔ اُس کے پاس پورے دو روز تھے۔

“یہ میرا شوٹنگ ایریا ہے۔”

فیض نے ٹیرس پر آتے اشتیاق سے بتایا، تو ازمیر ستائشی نظروں سے دیکھتا لبوں کو گول کر گیا۔

وہ اُسے ہوم وزٹ دے رہا تھا۔ ازمیر اُس کے اخلاق اور حرکات دیکھ حیرت زدہ ہوا تھا۔ آخر اتنا بڑا مافیا اُسے اپنے پرسنل گھر کا ٹور کیوں دے رہا تھا؟ وہ سوچ کر رہ گیا۔

ازمیر نے ایک نظر اُسے دیکھا۔

“سائفر کتنے عرصے سے تمہارے لیے کام کر رہا ہے؟”

فیض نے ایک نظر اُسے دیکھا، پھر مسکرا دیا اور نظریں تا حدِ نگاہ پھیلے سبزہ زار پر مرکوز کیں۔

“وہ میرے لیے پچھلے سولہ سال سے کام کر رہا ہے۔ میرا بہت۔۔۔ بہت وفادار آدمی ہے۔”

“پھر تم اُسے بیچ کیوں رہے ہو؟” ازمیر نے حیرت سے پوچھا۔

فیض ایک دو پل خاموش رہا، پھر جب بولا تو آواز مدھم تھی۔

“میں اُسے بیچ نہیں، آزاد کر رہا ہوں۔”

ازمیر تھم گیا۔

“مطلب؟”

فیض ہنس دیا۔

“مطلب جاننا تمہارا کام نہیں ہے۔ آؤ، میں تمہیں اپنی آرٹ گیلری دکھاتا ہوں۔”

اُس نے ازمیر کو دیکھتے کہا، تو وہ اثبات میں سر ہلا گیا۔ اُسے نہ جانے کیوں اُس کی آنکھوں میں کرب دکھائی دیا تھا۔ بے بسی محسوس ہوئی تھی۔

وہ دونوں ٹیرس سے چلے گئے۔

ڈوبتے سورج نے فیض کے رازوں پر پردہ رکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرینکفرٹ میں گہری رات ہوتے ہی شہر مصنوعی روشنیوں سے جگمگا اُٹھا تھا۔ آدھی رات کے وقت شاہراہوں پر تیزی سے دوڑتی گاڑیاں، ریسٹورنٹس میں لوگوں کا ہجوم اور مالز میں رش مصروف اور عیاش زندگی کا پتا دیتے تھے۔

ایسے میں اِن سب سے دور فرینکفرٹ کے اُس رہائشی علاقے میں گہری خاموشی پھیلی تھی۔ اگر تم قطار میں بنے اُن چھوٹے چھوٹے گھروں میں سے اُس سرمئی رنگ والے چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں داخل ہو، تو لاؤنج میں سے آتی آواز صاف سنائی دے گی۔

“سائفر کب آنے والا ہے؟”

مزاحم نے فون پر ازمیر سے پوچھا۔

اُن دونوں نے دو روز کے لیے یہ اپارٹمنٹ رینٹ پر لیا تھا۔ مالکِ مکان صرف دو روز کے لیے رینٹ پر دینے پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے اُن دونوں کو دگنی قیمت دینی پڑی تھی۔

“وہ کل ،رات کے وقت آئے گا۔”

مزاحم سے دور اپنے واش روم میں کھڑا ازمیر فون کان سے لگائے دھیرے لہجے میں بولا۔

“اسٹیفن کو تم پر شک تو نہیں ہوا؟”

“نہیں۔۔۔ اور تمہیں پتا ہے وہ کون ہے؟”

“نہیں۔”

“وہ پاکستانی ہے۔”

“واٹ؟” مزاحم کی آواز میں حیرت در آئی۔

“ہاں، وہ پاکستانی ہے۔”

“یہ تو واقعی بہت حیرت زدہ کر دینے والی بات ہے۔ وہ اتنا بڑا مافیا بنا کیسے؟”

“یہ تو میں نہیں جانتا، لیکن ایک بات مجھے بہت عجیب لگی ہے۔”

ازمیر نے پریشانی سے کہا۔

“کیا؟” مزاحم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا۔

“بظاہر اسٹیفن، جو کہ جرمنی کا بہت بڑا مافیا ہے، جس کے انڈر بہت سے لوگ کام کرتے ہیں۔۔۔ وہ اپنی شخصیت اور اِن باتوں کے بالکل الٹ ہے۔”

“کیا مطلب؟”

“مطلب یہ کہ اُس میں کہیں سے مافیا والا اٹیٹیوڈ اور رویہ نہیں ہے۔ یہ عام سے شہری کی طرح بی ہیو کرتا ہے۔ یہ بالکل بھی خطرناک نہیں ہے۔”

“تو یہ تو اچھی بات ہوئی نا، ازمیر۔ تم زیادہ مشکل میں نہیں پڑو گے۔”

مزاحم نے ہلکے پھلکے لہجے میں جواب دیا۔

“نہیں، یہ اچھی بات نہیں ہے مزاحم۔۔۔ یہ عجیب بات ہے۔”

ازمیر کے لہجے میں سنجیدگی تھی۔

“عجیب کس لحاظ سے؟”

“یہ میں نہیں جانتا، مگر نہ جانے کیوں مجھے اُس کے اخلاق اچھی وائبز نہیں دے رہے۔ اُس کی باتیں بہت۔۔۔”

ازمیر ایک پل کو چپ ہوا۔

“۔۔۔اُس کی باتیں مجھے ڈسٹرب کر دیتی ہیں۔”

“ازمیر، تم کیوں اُس کے بارے میں زیادہ سوچ رہے ہو؟”

مزاحم نے کہا، تو ازمیر نے کندھے ڈھیلے چھوڑ دیے۔ کچھ باتیں انسان کبھی کسی کو نہیں سمجھا سکتا۔

“ہاں۔۔۔ شاید میں اوور تھنکنگ کر رہا ہوں۔”

مزاحم مسکرا دیا۔

“تم بس اپنے مقصد پر فوکس کرو۔ یہ بتاؤ، گھر میں خفیہ کیمرے لگا دیے ہیں؟”

“ہاں، میں نے لگا دیے ہیں۔ تم کنیکٹ ہو جاؤ۔”

“میں ابھی کنیکٹ ہوتا ہوں۔ تم اپنا خیال رکھنا۔ اللّٰہ ہمیں کامیاب کرے گا۔”

“ان شاء اللّٰہ۔”

ازمیر نے فون کان سے ہٹا دیا، تو مزاحم نے گہری سانس بھری۔

پھر لیپ ٹاپ آن کرتے اُس نے ازمیر کے لگائے گئے کیمروں کو اپنی سکرین سے کنیکٹ کیا۔ اب وہ اُس کا پورا گھر دیکھ سکتا تھا۔

ازمیر علی اپنا جال بچھا چکا تھا۔

گہری رات اُن دونوں کے راز سمیٹتی مزید گہری ہوتی جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کب صبح ہوئی اور کب دن ڈھلا، کچھ حساب نہ تھا۔ وہ دونوں لاؤنج کے دروازے میں کھڑے تھے۔ فیض مسکراتے ہوئے، جبکہ ازمیر سنجیدگی سے کھڑا اُس کی گاڑی کو بنگلے کی حدود میں داخل ہوتا دیکھ رہا تھا۔

آسمان پر چمکتا چاند خاموش نظروں سے اُنہیں دیکھ رہا تھا۔

ازمیر پچھلے پانچ منٹوں سے اپنے باپ کے قاتل کے اپنے سامنے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ اُس کے چہرے پر سرد مہری چھائی تھی، جبکہ دل دھک دھک کر رہا تھا۔

“ٹین۔”

اُن کی گاڑی پارکنگ کی طرف گئی۔

“ایٹ۔”

گاڑی کا دروازہ کھلا۔

“سکس۔”

قیمتی بوٹ باہر نکلا۔

“فور۔”

وہ گاڑی سے نکلا۔ اُن کی طرف اُس کی پشت تھی۔

“ٹو۔”

وہ مڑا اور دونوں ہی ساکت ہو گئے۔

“ون۔”

وہ سنجیدگی سے چلتا ہوا اُن تک آ رہا تھا۔

ازمیر نے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔ سائفر اُس کے سامنے تھا۔

اِس سے پہلے وہ کچھ کہتا کہ۔۔۔

“یہ کیا بکواس ہے؟”

فیض دھاڑا تھا۔

ازمیر نے چونک کر اُسے دیکھا، جو شعلہ بار نظروں سے سامنے کھڑے مرد کو دیکھ رہا تھا۔

دلاور نے سنجیدگی سے فیض کو دیکھا اور جیب سے ایک لیٹر نکالتے فیض کی جانب بڑھایا۔

فیض شدتِ طیش میں وہ جھپٹتا ہے۔

“میں نے پہلے ہی کہا تھا، میں منظرِ عام پر نہیں آؤں گا۔”

اِس ایک سطر نے فیض کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔ وہ کاغذ مٹھی میں دبا گیا۔

“سائفر سے کہنا، اُس نے اچھا نہیں کیا۔”

وہ دانت پیستے دلاور کو دیکھ کر بولا، تو ازمیر نے کندھے ڈھیلے چھوڑ دیے۔

وہ سائفر تک اتنی آسانی سے کیسے پہنچ سکتا تھا؟ وہ سوچ کر رہ گیا۔

فیض غصے کی حالت میں مُڑ گیا، تو وہ بھی دلاور پر آخری سرد نگاہ ڈالتے مُڑ گیا۔

دلاور نے اُن کی پشت دیکھی اور مسکرا دیا۔

(“تم جاؤ گے پھر زیورخ؟”

“میں اُن کی بات جھٹلا نہیں سکتا۔”

“مطلب تم منظرِ عام پر آ جاؤ گے؟”

مرزا مسکرایا تھا۔

“میں اُن کی بات جھٹلا نہیں سکتا، اِس لیے خود میرا پیغام چل کر زیورخ جائے گا۔”

دلاور اُس کی بات سمجھتے سر جھٹک کر رہ گیا۔

“میں زیورخ جاؤں گا، مگر اپنی خوشی کے لیے۔۔۔ نہ کہ اُن کے ہاتھوں تباہ ہونے کے لیے۔”

“ٹھیک ہے پھر، تم پرسوں روانہ ہو جانا۔”

“ہممم۔”)

دلاور نے مسکراتی نظروں سے آخری نظر اُس بنگلے پر ڈالی اور مُڑ گیا۔

رات کے سائے مزید گہرے ہوتے گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شہر میں معمول کی چہل پہل لگی تھی۔ ہر کوئی اپنے اپنے ٹھکانے کی طرف جاتا مصروف تھا۔ پورا شہر مصنوعی روشنیوں سے چمک رہا تھا، لیکن اُس روشنی سے دور وہاں گھپ اندھیرا تھا۔

اُس نے ہلکی آواز کے ساتھ دروازہ کھولا اور چھوٹی فلیش لائٹ کی روشنی کی مدد سے اپنے قدم سیڑھیوں پر رکھے۔

سیڑھیاں نیچے کی طرف جا رہی تھیں۔ شاید وہ بیسمنٹ تھا۔ وہ ایک ایک قدم لیتا سیڑھیاں اُتر رہا تھا۔

بھاری بوٹوں کی دھمک، خاموش جگہ میں گونجتی شور پیدا کر رہی تھی۔

فلیش لائٹ کی مدھم روشنی میں تم بغور اُسے دیکھو، تو تمہیں وہ نظر آئے گا۔

سیاہ تھری پیس سوٹ کے ساتھ قیمتی بوٹ اُس شخصیت کو واضح بیان کرتے تھے۔ ہاتھ میں قیمتی گھڑی پہن رکھی تھی، جبکہ آنکھوں میں ایک الوہی سی چمک تھی۔

وہ سیڑھی کا آخری زینہ اُترتے گراؤنڈ پر آیا۔ اُس کے ناک کے نتھنوں سے مانوس خوشبو ٹکرائی۔ اُس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

اُس نے دھیرے سے ہاتھ اوپر لے جاتے بلب کی ڈوری کھینچی، تو کمرہ ایک پل میں سفید روشنی سے نہا گیا۔

کمرے میں نظر آتے سامان کو دیکھ تم سانس روک جاؤ گے۔

ہر طرف ڈالرز کی گڈیاں سجی رکھی تھیں۔ ایک طرف سونے کی اینٹوں کے بہت سے ریکس بھرے ہوئے تھے۔ کہیں کوئی سونے کی مورتی رکھی تھی، تو کہیں ہیروں کے پیکس رکھے تھے۔

اصلی سونے اور ہیروں کی چمک اُس کی بھوری آنکھوں کی چمک کے سامنے کچھ نہ تھی۔

مرزا حاکم ہلکا سا مسکرایا اور آگے بڑھتے اپنا ہاتھ سونے کی اینٹوں پر پھیرا۔

وہ فرینکفرٹ ضرور آیا تھا، مگر اپنی خوشی سے ملنے۔

پچھلے سولہ سالوں سے کمایا گیا جائز اور ناجائز مال اُس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔

وہ اُس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو خرید سکتا تھا۔ اُس کے ذریعے اُس کی ایک رعایا تھی، جس پر وہ حکومت کر سکتا تھا۔

مرزا حاکم اپنی متاعِ جاں کو دیکھ مسکرایا۔ ایک پل گزرا، پھر دوسرا پل۔۔۔ اور پھر اُس مسکراہٹ میں کرب ہی کرب نظر آیا۔

وہ ایک گہرا سانس بھرتے واپس اپنے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھا گیا۔

واپس اوپر آتے اُس نے دروازہ بند کیا اور پیچھے ہٹا۔

بظاہر وہ بُک ریک تھے، مگر حقیقت میں وہ خفیہ دروازے تھے۔ تبریز حاکم کے نام کمپنی، جس میں وہ فرٹیلائزرز کا کاروبار کرتا تھا، اُس میں مرزا حاکم کا بھی آفس تھا۔ اُس نے اُسی آفس کے اندر خفیہ دروازہ بنایا تھا، جو نیچے بیسمنٹ کے ایک خفیہ کمرے کی طرف لے جاتا تھا۔

تبریز اِس بات سے نا آشنا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اُس کی چھوٹی سی کمپنی میں اربوں کھربوں سے بھی اوپر کا مال روپوش ہے۔

مرزا نے گہرا سانس خارج کیا اور تبریز کے گھر جانے کے لیے روانہ ہو گیا۔ وہ آج رات اُسی کے گھر رہنے والا تھا۔

فرینکفرٹ کی ہوا نے ناک سکیڑتے اُس کی پشت دیکھی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب سے دلاور گیا تھا، فیض لاؤنج میں بیٹھا ڈرنک کر رہا تھا۔ اُس نے ازمیر کو بھی آفر کی تھی، مگر اُس نے منع کر دیا تھا۔

اُس نے نامحسوس انداز میں اُس کی ڈرنک میں ڈرگز کی ہائی ڈوز شامل کر دی تھی، جس سے وہ مزید مدہوش ہوتا ہوش کھوتا جا رہا تھا۔ جب وہ بے ہوش ہو گیا، تو اُس نے گارڈز کو کہہ کر اُسے اُس کے کمرے میں سُلا دیا تھا اور خود بھی اپنے کمرے میں چلا گیا۔

اُس کے پاس یہ آخری رات تھی اور اُسے اُسی رات میں کچھ نہ کچھ کرنا 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گہری رات کا وقت تھا۔ پورے شہر میں رات ہوتے ہی مصنوعی روشنیاں جگمگا اُٹھی تھیں۔ اُس بڑے سے بنگلے میں اندھیرا پھیلا تھا، صرف لان میں جلتے سفید بلبوں کی مدھم روشنی ہی پھیلی تھی۔

اُس نے آہستگی سے دروازہ کھولا اور باہر نکلا۔ اُس کے ہاتھ میں اُس کا اپنا بریف کیس تھا۔ لمبی راہداری بالکل خالی تھی۔ وہ چوکنا ہوتا اپنے قدم تیسری منزل پر موجود واحد کمرے کی طرف بڑھا گیا۔

وہ ہر قدم پھونک پھونک کر لے رہا تھا۔ انداز مکمل جاسوس کی طرح تھا۔

اُس نے کمرے کے دروازے کے سامنے ٹھہر کر ایک بار گہری سانس بھری، پھر دروازہ کھول کر فوراً آگے بڑھا۔

کنٹرول روم میں بیٹھا آدمی، جو کہ آدھی نیند میں تھا، دروازہ کھلنے کی آواز پر ابھی مڑا ہی تھا کہ ازمیر نے پھرتی سے اُس کے منہ پر ہاتھ جماتے اُس کی گردن میں انجیکشن گھسیرا۔

آدمی کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔ اب وہ اگلے چوبیس گھنٹوں تک سویا ہی رہے گا۔

ازمیر اُسے زمین پر دھکا دیتے اُس کی کرسی پر بیٹھا اور گھر کے اندر کی CCTV فوٹیج دیکھنے لگا۔ اُس میں ازمیر صاف اُسی کمرے کی طرف بڑھتا نظر آ رہا تھا۔ ازمیر نے بٹن دباتے یہ فوٹیج ڈیلیٹ کر دی اور سارے کیمرے شٹ ڈاؤن کر دیے۔ پھر وہ اٹھا اور آہستگی سے چلتا اُس کمرے سے باہر آیا ہی تھا کہ اُسے سامنے سے ایک گارڈ گزرتا دکھائی دیا۔ وہ فوراً پلر کے پیچھے ہو گیا تھا۔

گارڈ دائیں جانب جاتی راہداری میں مُڑ گیا، تو ازمیر نے فوراً اپنے قدم سیڑھیوں کی جانب بڑھائے۔ اُس وقت گارڈ دوسری منزل پر نہیں تھے۔ وہ فیض کے کمرے کی جانب بڑھا، مگر اُس کے کمرے کے سامنے ایک گارڈ کھڑا تھا۔

ازمیر نے سامنے رکھا قیمتی گلدان دیکھا اور اُسے ٹانگ مارتے نیچے گرا دیا، پھر پلر کے پیچھے چھپ گیا۔

گارڈ فوراً چوکنا ہوتے گلدان والی راہداری کی جانب آیا۔

نیم اندھیرے اور خاموشی میں ہر طرف ہیبت طاری تھی۔

ازمیر نے فوراً جیب سے ایک اور انجیکشن نکالا۔

ابھی گارڈ ازمیر کے سامنے سے گزرا ہی تھا کہ اُس نے پھرتی سے انجیکشن اُس کی گردن میں گھسیرا۔ گارڈ کا جسم بے دم ہوتا ڈھلک گیا، تو اُس نے اُسے گھسیٹتے ہوئے پلر کے ساتھ ڈال دیا۔ اگلے ہی سیکنڈ ازمیر فیض کے کمرے کی جانب چل دیا۔

وہ جلدی جلدی لوہے کی پتلی سلاخ دروازے کے پن ہول تالے میں لگاتا لاک کھول رہا تھا۔

“کلک” کی آواز سے دروازہ کھلا، تو ازمیر فوراً اندر گیا اور دروازہ بند کر دیا۔

ایک گہرا سانس تھا، جو اُس نے اندر قدم لیتے ہی لیا تھا۔

فیض سامنے ہی سینے تک لحاف اوڑھے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا۔

ازمیر پھرتی کے ساتھ اُس کی الماری کی جانب بڑھ گیا اور خالی بریف کیس ساتھ زمین پر رکھ دیا۔

الماری کے پہلے حصے کے دونوں خانے خالی تھے، جبکہ تیسرے خانے میں فائلز پڑی تھیں۔ ازمیر نے وہ بریف کیس میں ڈالیں۔

پھر اُس نے لاکر کھولا۔ لاکر کی دراز میں مختلف چابیاں اور کچھ USBs رکھی تھیں۔ اُس نے USBs بھی بریف کیس میں ڈال لیں۔ دوسرا حصہ مکمل خالی تھا۔

وہ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا اور اُس کی درازیں کھول کھول کر چیک کرنے لگا۔ وہ بھی خالی تھیں۔

ازمیر اِن سب پر لعنت بھیجتے بریف کیس اٹھاتا اُس کے سر پر جا ٹھہرا اور بریف کیس نیچے رکھ دیا۔ پھر بیڈ سٹول پر پڑا اُس کا فون اٹھایا۔ اُس نے سوئے ہوئے فیض کا انگوٹھا فنگر پرنٹ سینسر پر لگاتے موبائل اَن لاک کیا اور واٹس ایپ چیک کرنے لگا۔

اب کی بار اُسے حیرت ہوئی تھی۔ وہاں صرف دلاور کا نام سیو تھا۔ کال لاگ میں بھی دلاور کا نام سیو تھا۔ گیلری مکمل طور پر خالی تھی۔

ازمیر فیض پر سو بار لعنت بھیج کر رہ گیا۔ پھر موبائل واپس رکھتے وہ پلٹا۔ پورا کمرہ چھان مارا تھا، مگر سائفر سے متعلق کوئی شے اُس کے ہاتھ نہیں لگی تھی۔

ازمیر نے نیچے پڑا بریف کیس بند کیا اور کمرے کے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

پیچھے فیض بے ہوشی کی نیند میں گم ہی رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *