SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 14

سکوت قسط نمبر:۱۴

ازقلم اُفق ہاشمی ۔۔

سید حارث علی اور عباس علی دو جڑواں بھائی تھے۔ عباس نے اپنی خالہ زاد رقیہ سے شادی کی تھی، جبکہ حارث نے پھپھو کی بیٹی، زریاب سے شادی کی تھی۔

دونوں بھائیوں کی زندگی بہت پُرسکون گزر رہی تھی۔

لیکن اُن کی شادی کے ایک ماہ بعد اُن کے والد اِس دنیا سے رخصت ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد ماں بھی چل بسی۔

عباس آرمی میں تھا، جبکہ حارث نے انویسٹیگیشن آفیسر کے پیشے کو ترجیح دی تھی۔ عباس کو شادی کے ایک سال بعد اللّٰہ نے بیٹے سے نوازا تھا، جس کا نام اُس نے ازمیر عباس علی رکھا تھا۔ ازمیر ایک سال کا تھا جب عباس شہادت کا رتبہ پاتے اِس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔ رقیہ کے لیے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ اُسے عباس سے بے پناہ محبت تھی اور اُسی غم میں رہتے رہتے وہ بیمار پڑ گئی۔ اُسی بیماری میں وہ بھی چل بسی۔

تب حارث کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ اُس نے ازمیر کو اپنے بیٹے کی طرح رکھا تھا۔ جب ازمیر تین سال کا تھا، تب حارث کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی۔ حارث اور زریاب جتنا رب کا شکر کرتے، کم لگتا تھا۔ وہ چاروں اپنی زندگی میں بہت خوش تھے۔

حارث کو ازمیر سے بے پناہ محبت تھی۔ اُس کی ہر شے کو مانا گیا، سراہا گیا۔ ازمیر دن بولتا، تو ماں، بیٹی اور باپ پر لازم تھا رات کو دن ہی سمجھیں۔ اور یہی لاڈ اور محبت اُسے خود سر کر گئی تھی۔ اُس کے اندر انا بڑھ گئی تھی۔

تیرہ سال کی عمر میں وہ فرینکفرٹ گیا تھا۔ وہاں وہ حارث کے کزن قاسم کے گھر رہتا تھا۔ قاسم کا ایک ہی بیٹا تھا، مزاحم۔ قاسم ازمیر کو اپنے بیٹے کی طرح ہی ٹریٹ کرتا تھا۔ اُس کی پڑھائی پر نظر، ہر شے کا خیال رکھتا تھا۔

مزاحم اور ازمیر میں بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ وہ دونوں ایک سکول میں پڑھتے تھے۔ اُن کی کلاس میں ایک لڑکی، ایلن، ازمیر کی ڈیسک میٹ تھی۔ وہ بہت معصوم اور کیوٹ تھی۔ ازمیر کو بالکل محراب کی طرح لگتی تھی۔ لیکن ایلن جتنی معصوم ازمیر کے سامنے تھی، اُتنی ہی پٹاخہ مزاحم کے لیے تھی۔ کبھی کبھی تو مزاحم کو لگتا، اُس نے ایلن کا قرضہ دینا ہو جیسے۔

“سر، مزاحم چیٹنگ کر رہا ہے۔”

“سر، مزاحم سو رہا ہے۔”

“سر، مزاحم ببل گم کھا رہا ہے۔”

ہر وقت مزاحم کے پیچھے پڑی رہتی تھی۔ ازمیر، مزاحم اور ایلن کا اپنا گروپ تھا۔ وہ تینوں ایک ساتھ پڑھتے، ایک ساتھ کھیلتے تھے۔ کسی کو اُن سے کوئی سروکار نہیں تھا اور نہ ہی اُنہیں کسی سے سروکار تھا۔

یہ اُس وقت کی بات ہے، جب ایک صبح اُن تینوں نے کلاس بنک کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ازمیر سب سے پہلے سکول کی چھت پر جا نکلا تھا، مگر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔

وہاں سینئر کلاس کے کچھ لڑکے گھیرا بنائے سموکنگ کر رہے تھے۔

“What happened?” 

چودہ سالہ ازمیر حیرت سے اُنہیں دیکھتا اُن کے سر پر جا پہنچا۔

لڑکے اُس کی آواز سن کر چونک گئے۔ یک دم اُنہوں نے پریشانی سے اُسے دیکھا۔

“ہم لوگ فن کر رہے ہیں۔” ایک لڑکے نے سنبھلتے ہوئے جواب دیا۔

 “بٹ یہ بری چیز ہوتی ہے۔”

 ازمیر نے سگریٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“تمہیں کس نے کہا؟”

“ڈیڈ نے کہا ہے۔” اُس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

“Oh come on!

 ایسا تو سب کہتے ہیں۔ تمہارے ڈیڈ بھی تمہاری عمر میں کرتے تھے۔”

“واٹ ؟ سچ میں؟” 

ازمیر کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔

“ہاں، بالکل۔ تمہاری عمر میں سب کرتے ہیں، پھر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ ایک گیم کی طرح ہے۔”

ازمیر نے اُنہیں یوں دیکھا جیسے اُن کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

“یہ لو، ٹرائی کرو۔” ایک لڑکے نے اُس کی طرف سگریٹ بڑھایا۔

ازمیر ایک دفعہ ٹرائی کرنے سے کیا ہی ہو گا۔ میکس بھی تو کرتا تھا۔ ازمیر نے امریکن ایکٹر کے ایک سین، جس میں وہ کول بن کر سموکنگ کر رہا تھا، کو یاد کرتے اُن کے ہاتھ سے سگریٹ تھام لیا اور لبوں سے لگا لیا۔

کڑوا دھواں جیسے ہی اُس کے اندر گیا، وہ کھانستے ہوئے سگریٹ کو دور کر گیا۔

“یہ تو بہت کڑوی ہے۔” اُس نے منہ کا زاویہ بگاڑتے کہا۔

“پہلی بار کڑوی لگتی ہے، لیکن پھر بعد میں یہ اچھی لگے گی۔”

ازمیر نے دوبارہ سے ایک کش لیا۔ وہ اپنی عمر کے حساب سے بہترین انداز میں کش لگا رہا تھا۔ لڑکوں نے سراہتی نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔

دو تین بار کے بعد ازمیر کو وومیٹنگ ہونے لگی۔ اُس نے سگریٹ واپس پھینک دیا۔

“میں جا رہا ہوں۔”

وہ اُن کے پاس سے اُٹھا اور واپس سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔

“اگر اِس نے پرنسپل کو بتا دیا، تو ہم سب پھنسیں گے۔” ایک لڑکا اُس کے جاتے ہی پریشانی سے بولا۔

“نہیں، وہ نہیں بتائے گا، کیونکہ اُس نے خود بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر کی ہے۔ ریلیکس ہو جاؤ۔”

دوسرے لڑکے نے اُسے تسلی دیتے کہا اور واپس سے سب اپنے کارناموں میں لگ گئے تھے۔

وقت گزرتا گیا اور ازمیر بڑا ہوتا گیا۔

سکول میں سینئرز کی فیرویل پارٹی تھی۔ رات کے وقت سبھی بچے اور ٹیچرز سکول کے گراؤنڈ میں جمع تھے۔ ہر طرف رونق تھی۔

وہ بھی اِن سب سے دور ایک گوشے میں کھڑا کولڈ ڈرنک پی رہا تھا۔ اُسے پارٹیز میں، ایونٹس میں بہت مزا آتا تھا۔ بے ہنگم بجتے میوزک کے ساتھ وہ لپ سنگ کرتے گنگنا رہا تھا کہ اچانک اُسے یاد آیا، ابھی اُس نے عشاء کی نماز نہیں پڑھی تھی۔

وہ بہت بری طرح بدمزہ ہوا۔

بے دلی کے ساتھ اُس نے گلاس واپس میز پر رکھا اور دائیں جانب مڑ گیا۔

اگر آج چھوڑ بھی دوں تو کیا ہی ہو جائے گا۔ روز تو پڑھتا ہوں۔ اُس نے دل میں سوچا اور پھر بے نیازی سے واپس اپنی ٹیبل تک آ گیا۔ یہ پہلی بار تھا جب ازمیر نے نماز چھوڑی تھی اور اِسی طرح آہستہ آہستہ وہ اپنی نمازیں چھوڑنے لگا۔

کبھی اُسے وقت نہیں ملتا تھا، کبھی وہ اپنے کلاس فیلوز کی کمپنی انجوائے کر رہا ہوتا تھا۔

اُسے یہ ڈانس، گانا بجانا، ڈسکو پارٹیز بہت دلچسپ لگنے لگی تھیں، اور یہی دلچسپی اب اُلٹی راہ پر چل پڑی تھی۔

وہ گھر لیٹ آنے لگا تھا۔ قاسم انکل جب اُسے کہہ کہہ کر تھک گئے، تو اُنہوں نے مجبوراً حارث سے رابطہ کیا اور ازمیر کے رویے کی پوری ڈیٹیل حارث کے گوش گزار کی تھی۔

حارث نے اُسی وقت ازمیر کو فون کیا تھا اور اُسے کچھ دنوں کے لیے پاکستان واپس بلایا تھا۔

ازمیر حیرت زدہ سا پاکستان جانے کے لیے آمادہ ہو گیا تھا۔ وہ اِس بات سے انجان تھا کہ قاسم انکل نے حارث کو سب بتا دیا ہے۔

خاموش لاؤنج میں قدم رکھتے ہی اُسے سکون سا محسوس ہوا تھا۔ ائیرپورٹ پر اُسے ڈرائیور لینے آیا تھا۔

اُس نے ڈرائیور کو منع کیا تھا کہ وہ حارث کو نہیں بتائے گا کہ ازمیر پاکستان پہنچ گیا ہے۔ وہ مام ڈیڈ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔

مگر جیسے ہی اُس نے اُن کے کمرے کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا، خود شاک میں چلا گیا۔

اندر سے حارث اور زریاب کی آواز وہ سن سکتا تھا۔

“عباس کی امانت ہے وہ۔ میں اُسے روزِ محشر کیا منہ دکھاؤں گا کہ میں اُس کے بیٹے کی حفاظت نہیں کر سکا؟ حالانکہ اپنی طرف سے میں نے کبھی ازمیر میں اور محراب میں کوئی فرق نہیں کیا۔ اُسے اپنے سگے بیٹے کی طرح پیار دیا ہے میں نے۔۔۔”

ازمیر نے بے اختیار ہینڈل گھماتے دروازہ کھولا اور پھٹی پھٹی نظروں سے سامنے کھڑے حارث کو دیکھا، جو صوفے پر بیٹھی زریاب سے مخاطب تھا۔

ازمیر کو اپنے سامنے دیکھتے وہ چونک گئے، پھر بے اختیار اُنہیں اپنی باتوں کا احساس ہوا۔

“ازمی۔۔۔”

“آپ کیا کہہ رہے تھے؟” اُس نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔

“ازمیر، اِدھر آؤ۔ کیسے ہو میرے شیر؟” حارث جواب دینے کے بدلے اُسے پیار سے پکارتا ہے۔

“میں نے پوچھا، ابھی آپ کیا کہہ رہے تھے؟” ازمیر نے ضبط سے دانت پیستے پوچھا۔

زریاب صوفے سے اُٹھی اور اُس تک آئی۔ “بیٹا، کچھ نہیں کہہ رہے تھے حارث۔ آپ یہ بتاؤ، سفر کیسا رہا؟”

“مجھے جواب چاہیے!” ازمیر پوری شدت سے دھاڑا۔

حارث نے گہرا سانس بھرا اور سنجیدہ نظروں سے کئی پل اُسے دیکھتا رہا۔

“میں یہ کہہ رہا تھا کہ میں روزِ محشر عباس علی کو کیا منہ دکھاؤں گا کہ اُس کے بیٹے ازمیر عباس علی کا ٹھیک سے خیال نہیں رکھ سکا۔”

حارث کے اعتراف پر ازمیر کے دل کو دھڑکا سا لگا۔

“آپ میرے ڈیڈ نہیں ہیں۔۔۔” اُس کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمکنے لگا۔ “آپ میرے اصلی بابا نہیں ہیں۔۔۔” وہ روتے ہوئے ایک قدم پیچھے لے گیا۔

“ہاں، میں تمہارا اصلی باپ نہیں ہوں۔ لیکن کیا میں نے تم سے محبت نہیں کی؟ کیا تمہیں اپنے بیٹے کی طرح ٹریٹ نہیں کیا؟” حارث نے کرب زدہ لہجے میں پوچھا۔

زریاب پریشانی سے کبھی ازمیر کو دیکھتی، تو کبھی حارث کو دیکھتی۔

“آپ اتنا عرصہ مجھ سے جھوٹ بولتے رہے ہیں؟ مجھے بے وقوف بناتے رہے ہیں؟” وہ دکھی لہجے میں پوچھتا ہے۔

“کیا اِن سب باتوں کے آگے میری محبت تم بے مول کر دو گے، ازمیر ؟”

حارث نے نم آواز میں کہا، تو ازمیر ایک پل کو ساکت ہوا۔

اُس کا دل چاہا جا کر حارث کے گرد مضبوط حصار باندھ لے، مگر دماغ نے کہا، پلٹ جاؤ۔

ازمیر بنا کچھ کہے وہاں سے پلٹ گیا۔ زریاب پریشانی سے اُس کے پیچھے گئی تھی، جبکہ حارث تھکے ہوئے انداز میں صوفے پر جا بیٹھا تھا۔

یہ آخری بار تھا جب اُنہوں نے ازمیر کو دیکھا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جب سے واپس فرینکفرٹ آیا تھا انتہائی چڑچڑا اور بے چین سا تھا ۔ حارث نے ایک بار بھی اسے روکنے کی کوشش نہیں تھی اور ازمیر کی انا خود رکنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔

 وقت کے ساتھ ساتھ اس کا چڑچڑا پن شدید غصے میں بدلنے لگا تھا ۔ کھبی کس لڑکے سے جا کر لڑتا تو کھبی کسی اور لڑکے سے جا کر لڑتا تھا ۔ 

اس کے اندر آگ لگی تھی کہ حارث نے اسے کیوں نہیں روکا؟ اور اسی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی غرض سے وہ روز کلب جانے لگا۔ ڈرنکس کرنے لگا ۔ لڑکیوں سے دوستی کرنے لگا ۔ 

وہ پوری طرح سے بدلتا جا رہا تھا۔ مزاحم اور ایلن اسے جتنا کالم ڈاؤن کرنے کی کوشش کرتے تھے وہ اتنا ہی بڑھ چڑھ کر عیاشیاں کرتا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج کی تیز روشنی اس کے چہرے پر پڑی تو اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولیں ۔ سر بھاری بھاری سا ہو رہا تھا اور یوں لگتا تھا آنکھو پر منوں بوجھ لاد دیا گیا ہو ۔ 

وہ کسمستا ہوا اٹھا۔اسے اپنے حواسوں میں آنے میں وقت لگ رہا تھا ۔ اس نے ادھر اُدھر آنکھیں گھمائی ۔ کمرہ بالکل خالی تھا صرف ایک بیڈ تھا جس پر وہ ابھی نیم آنکھیں وا کیے بیٹھا تھا ۔ 

اس نے کنپٹی مسلتے اٹھنا چاہا ۔۔۔۔تو دھک سے رہ گیا ۔

وہ اس وقت شرٹ لیس صرف شارٹس پہنے ہوئے تھا۔  

اس نے بے اختیار نظریں دوبارہ کمرے میں گھمائی ۔ ایک پل میں وہ اپنے حواسوں میں آیا تھا ۔ 

اس نے فٹ بیڈ سے قدم نیچے اتارے اور ایک طرف گرے اپنے کپڑے اٹھا کر پہہنے لگا ۔ 

ابھی وہ شرٹ کے بٹن بند کر ہی رہا تھا کہ نظریں سامنے بیڈ سٹول پر پڑے تہ شدہ کاغذ پر گئی ۔

اس نے فوراً وہ کاغز اٹھایا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا ۔ 

“تم نے میرے ساتھ جو کچھ کیا ہے میں اس کے لیے تمہیں کھبی معاف نہیں کروں گی۔” 

کاغذ تھامے ازمیر وہ ایک جملہ پڑھ کر ساکت ہوا تھا۔  

“اس نے کیا کیا ؟”

وہ سوچنے لگا مگر اسے کچھ بھی یاد نہیں آ رہا تھا ۔ 

وہ کاغذ پینٹ کی جیب میں ڈالتا باہر کی طرف قدم بڑھا گیا ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

اس نے جیسے ہی لاونج میں قدم رکھے قاسم کی آواز پر رک گیا ۔ 

وہ کسی سے فون پر بات کرتے ازمیر کے لا پتہ ہونے کی خبر دے رہے تھے۔ ازمیر کشمکش کی حالت میں آگے بڑھا۔ قاسم کی اس کی طرف پشت تھی ۔ اپنے عقب سے آتی قدموں کی آواز پر قاسم مڑا تو ازمیر کو اپنے سامنے دیکھ گہرا سانس بھر کر رہ گئے ۔ 

“جی جی سر بس تھینکس،ازمیر گھر آ گیا ہے۔”

انہوں نے فون کان سے ہٹاتے ازمیر کو دیکھا ۔

“کہاں تھے تم؟” 

“دوستوں کے ساتھ گیا تھا۔” وہ بہانہ بناتے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا جبکہ قاسم اس کی بات پر تلملا اٹھا ۔ 

“تمہارے سارے دوستوں سے تمہارے بارے میں پوچھا تھا ،تم ان کے ساتھ نہیں تھے۔”

ازمیر جھجھلا کر مڑا ۔ “یار انکل پلیز میں تھک گیا ہوں اور ویسے بھی اگر کچھ وقت کے لیے غائب ہوا تھا تو کوئی بڑی بات نا تھی” 

“تم پچھلی ایک رات سے غائب تھے ازمیر “۔ 

انہوں نے شاک کے عالم میں بتایا تو ازمیر تھم سا گیا۔  

ایک رات؟ اس نے سکتے کی حالت میں قاسم کو دیکھا ۔ کاغذ پر لکھی تحریر کسی تمانچہ کی طرح اسے چہرے پر لگی تھی۔  

ہاں تو۔۔۔تو۔۔۔۔اس نے کچھ کہنا چاہا مگر حلق سے الفاظ نا نکلے ۔ وہ چپ چاپ بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔ 

شاور کے نیچے کھڑا وہ سوچ سوچ کر بے حال ہو رہا تھا ۔ 

کل دن کے بارا بجے وہ مزاحم کے ساتھ سائکٹرسٹ کے پاس گیا تھا ۔ پھر پورا دن گھر پر ہی تھا اس کے بعد وہ حسب معمول رات کے وقت کلب چلا گیا تھا ۔ اس نے وہاں بہت ڈرنک کی تھی کچھ وقت بے ہنگم بجتے میوزک پر ناچتا رہا تھا۔ پھر آگے کیا ہوا ؟ اسے کچھ یاد نہیں تھا ۔ 

مزاحم اس کے کمرے کا دروازہ بجا بجا کر تھک گیا مگر اس نے نہیں کھولا ۔ 

وہ اس وقت کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ 

اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہیں کچھ غلط ہے مگر۔۔۔ مگر کہاں ؟ 

آخر ایک وقت جب وہ سوچ سوچ کر تھک گیا تب اس نے ہر بات پر لعنت بھیجی اور واپس سے اپنی روٹین پر آنے لگا ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قاسم نے ایک بزنس پارٹی رکھی تھی۔ اُس کے تمام دوست، بزنس مین، وومینز اور کچھ پاکستانی رشتہ داروں نے بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

وہ اور مزاحم ایک طرف کھڑے مشروب پیتے سب کو تنقیدی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

“تم اُس رات کہاں تھے، ازمیر؟”

کب سے پھیلی خاموشی کو مزاحم نے توڑا، تو ازمیر نے ایک نظر اُسے دیکھا۔

گلے میں گلٹی اُبھر کر معدوم ہوئی۔ “ایک کام سے گیا تھا کہیں۔” اُس نے آسانی سے جھوٹ بولا۔

مزاحم سر جھٹک کر رہ گیا۔ “تم اور ایلن بہت عجیب ہو۔ کبھی بھی، کہیں بھی غائب ہو جاتے ہو۔”

“ایلن؟” ازمیر چونکا۔ “وہ کہاں ہے؟”

“وہ بھی اُسی رات سے غائب ہے ج۔۔۔”

ابھی مزاحم بول ہی رہا تھا کہ اچانک پولیس موبائلز کے سائرن بجنے لگے۔ مدھم میوزک سائرن کی تیز چھنگھاڑ کے سامنے دب کر رہ گیا۔

سب نے بیک وقت چونک کر ایکزٹ ڈور کی جانب دیکھا، جہاں سے سینئر آفیسر کے ہمراہ کچھ اہلکار ازمیر کی جانب بڑھ رہے تھے۔

“مسٹر ازمیر عباس علی آپ ہیں؟”

اُس نے دھیرے سے اثبات میں سر ہلایا۔

“آریسٹ ہِم۔” اُس کے جواب پر وہ ایک اہلکار کو اشارہ کرتا ہے، تو اہلکار ہتھکڑی پکڑے اُس کی طرف بڑھا۔

“ایکسکیوز می! واٹ دا ہیل! یہ کیا ہو رہا ہے؟” اِس سے پہلے ازمیر کو ہتھکڑی لگتی، قاسم فوراً سے آگے بڑھا۔

“ہمارے پاس آریسٹ وارنٹ ہے۔” آفیسر نے سنجیدگی سے بتایا۔

“مگر کیوں؟ کس کیس کے حوالے سے؟” قاسم نے سختی سے پوچھا، تو آفیسر نے ایک نظر ازمیر کو دیکھا۔

“اِنہیں ریپ کیس کے تحت آریسٹ کیا جا رہا ہے۔”

قاسم کو سانپ سونگھ گیا۔

ہر طرف چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ ازمیر کی رنگت لٹھے کی مانند سفید ہو گئی تھی وہ مجسمہ بنے اپنی جگہ جم گیا

 

“واٹ؟” مزاحم چیخا تھا۔

“کس نے کروائی ہے رپورٹ؟” قاسم طیش سے بولا۔

“میں نے۔”

اِس سے پہلے آفیسر کچھ بولتا، ایکزٹ ڈور سے ایک نسوانی آواز ابھری۔

سب لوگ اُس آواز کی جانب متوجہ ہوئے۔

وہ قدم قدم چلتی ساکت کھڑے ازمیر کے بالکل سامنے جا ٹھہری، جو اُسے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

“ازمیر عباس علی نے میرا ریپ کیا ہے۔۔۔ اور میرے پاس اِس بات کا ثبوت بھی ہے۔” ایلن نے غم اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے ازمیر کو دیکھتے بلند آواز میں بتایا۔

ازمیر کے دل کو دھڑکا سا لگا۔ وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔

“ج۔۔۔ جھوٹ ہے یہ۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔” اُس نے بمشکل اونچی آواز میں کہا۔

ایلن نے گہرا سانس بھرا اور اپنے موبائل میں کچھ تلاش کرنے لگی۔

پھر اُس نے موبائل کی تصویر مزاحم کے سامنے کی۔ وہ ایلن کی medical examination report کی تصویر تھی۔ مزاحم رپورٹ دیکھ کر سکتے میں آ گیا۔

ازمیر نے جھٹ ایلن کے ہاتھ سے موبائل جھپٹا اور تصویریں دیکھنے لگا، جہاں culprit کے خانے میں اُس کا نام لکھا تھا۔

“یہ جھوٹ ہے! میں نے کچھ نہیں کیا!” اُس نے موبائل طیش کے عالم میں زمین پر دے مارا۔

“میرے پاس میری پریگننسی رپورٹ بھی ہے، ازمیر علی!”

ایلن اِس سے بھی زیادہ طیش میں دھاڑی۔ ازمیر کا سر چکرا کر رہ گیا۔

ہر طرف ہوتی ہوٹنگ، چہ مگوئیاں اُسے پاگل کر رہی تھیں۔

“تم اُس رات نشے میں تھے، ازمیر۔ تم نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے۔”

“تم نے ایسا کیوں کیا، ازمیر؟” ایلن اب روتے ہوئے بول رہی تھی۔ اُس کی روتی آنکھیں ازمیر کا دل دہلا رہی تھیں، لیکن وہ مان ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ ایک ریپسٹ ہے۔

ٹھیک ہے، وہ کلب جاتا تھا، ڈرنکس کرتا تھا، لڑکیوں سے دوستیاں تھیں، مار مپیٹ کرتا تھا۔۔۔ مگر ریپ؟؟؟ وہ ریپسٹ نہیں ہو سکتا تھا۔

“میں نے کیا بگاڑا تھا تمہارا؟”

“تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا، ازمیر؟”

ایلن شدتِ غم سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

ازمیر کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اُس میں سما جائے۔

“میں نے کچھ نہیں کیا، ایلن۔۔۔ پلیز ٹرسٹ می۔”

اُس نے مدھم لہجے میں اُس سے کہا، تو اہلکار اُس کے قریب آتا اُسے ہتھکڑی لگانے لگا۔

“میں نے کچھ نہیں کیا!” وہ پوری شدت سے دھاڑا۔

اُس نے ایک نظر ایلن کی روتی آنکھوں کو دیکھا۔ وہ آنکھیں جھوٹ نہیں بول سکتی تھیں۔ ازمیر بے اختیار نظریں چرا گیا۔

“ازمیر، ابھی تم خاموش رہو۔” مزاحم نے آنسو بہاتے ہوئے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “میں تمہارے ساتھ ہوں۔”

ازمیر کو لگا، اکیلے جہان میں کوئی اپنا بھی ہے۔

“مزاحم، میں نے کچھ نہیں کیا۔”

“میں تمہارے ساتھ ہوں۔” اُس نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ اُس کا نظریں چرانا تھا کہ ازمیر کو لگا، اب بھری دنیا میں وہ اکیلا رہ گیا ہے۔

اگلے کئی پل سلو موشن میں گزرے تھے۔

وہ چیخ رہا تھا، جھٹپٹا رہا تھا۔ وہ سب کو بتا رہا تھا اُس نے کچھ نہیں کیا۔

لوگ اُس کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔

پولیس اہلکاروں کے درمیان چلتا، ہتھکڑی لگے ہاتھوں والا ازمیر بے بسی کے عروج پر تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انٹیروگیشن روم کی سفید روشنی سیدھا ازمیر کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔

وہ بے چینی سے بیٹھا ٹانگیں ہلا رہا تھا۔

خاموش کمرے میں دروازہ کھلنے کی آواز نے خلل ڈالا۔ اُس نے دیکھا، دروازے سے ایک انگریز آفیسر اور ساتھ میں ایلن اندر داخل ہوئے ہیں۔

آفیسر کے ہاتھ میں ایک فائل تھی۔

ازمیر نے زہر خند نظروں سے ایلن کو دیکھا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایلن اُس پر اِس قدر گھٹیا الزام لگائے گی۔

آفیسر ٹیبل کی دوسری طرف والی کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا اور ایلن بھی ساتھ رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اُس کی آنکھیں رو رو کر سوج چکی تھیں۔

“مسٹر ازمیر، کیا آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟”

آفیسر نے شستہ انگریزی میں پوچھا تھا۔

“جب تک میرا وکیل نہیں آتا، میں تم گدھوں کے منہ نہیں لگنا چاہتا۔” اُس نے پھاڑ کھاتے لہجے میں کہا۔

آفیسر نے ضبط سے آنکھیں میچی تھیں۔ پھر اُس نے ایلن کو اشارہ کیا۔

“اُس رات یہ بھی اُسی کلب میں تھا، جس کلب میں میں تھی۔” ایلن نے بولنا شروع کیا، تو ازمیر نے مٹھیاں بھینچ لیں۔

“یہ بہت زیادہ ڈرنک کر رہا تھا۔ آدھی رات سے زیادہ وقت ہو گیا تھا۔ کلب تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ میں نے دیکھا، ازمیر چینجنگ ایریا کی طرف جا رہا ہے۔ یہ اُس وقت مکمل نشے میں چور تھا۔ مجھے اِس کی فکر ہونے لگی، تو میں بھی اِس کے پیچھے گئی۔ مجھے نہیں پتا تھا یہ میرے ساتھ وحشیانہ رویہ اپنائے گا۔۔۔”

ایلن اب پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

ازمیر، جو کب سے ضبط کیے بیٹھا تھا، اُس کی آخری بات پر تلملا اُٹھا۔ پھر وہ اُٹھا اور میز پر دونوں ہاتھ رکھے وہ روتی ایلن کے قریب جھکا۔

“اگر اُس رات واقعی میں ازمیر علی تمہارے ساتھ ہوتا، تو تم آج زندہ سلامت یہاں نہ بیٹھی ہوتیں۔” وہ چبا چبا کر بولا۔

ایلن کو اُس وقت اُس کی سرخ ہوتی آنکھوں سے بے اختیار خوف محسوس ہوا۔

آفیسر نے اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اُسے پرے دھکیلا۔

“مسٹر ازمیر، آپ کا ہر ایکشن نوٹ کیا جائے گا۔ پلیز، بی ہیو یور سیلف۔”

آفیسر نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا، تو ازمیر نے اُس کی بات پر لعنت بھیجی۔

“مجھے میرے وکیل سے ملنا ہے۔ ابھی اِسی وقت اُنہیں اندر بھیجو اور تم دونوں دفع ہو جاؤ۔”

وہ یوں بولا جیسے باپ کے گھر میں بیٹھا ہو۔

آفیسر نے اُس پر نیت ڈالتے اپنی فائل اُٹھائی اور ایلن کو ساتھ لیے وہاں سے روانہ ہو گیا۔

ازمیر نے تھک کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا دی۔

“تم نے ریپ کیا ہے۔۔۔”

“تم نے میرے ساتھ یہ کیوں کیا؟”

“آہہہہہ۔۔۔!” وہ طیش سے غراتے ٹیبل کو ٹانگ مارتے ایک طرف دھکیل گیا۔

“میں نے ریپ نہیں کیا۔۔۔ میں کہہ رہا ہ۔۔۔”

یک دم اُس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔ وہ اپنی جگہ تھم گیا۔

اُسے یاد آیا، وہ لڑکھڑاتے قدموں سے چینجنگ ایریا کی طرف گیا تھا۔

ازمیر کے پورے وجود میں چونٹیاں رینگنے لگی تھیں۔ اُس نے بے اختیار تھوک نگلتے اپنی تمام سوچوں کو جھٹکا۔

“نہیں۔۔۔ میں ایسا نہیں کر سکتا۔”

وہ دل ہی دل میں خود سے بڑبڑائے گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ازمیر کو تین دن کی بیل ملی تھی۔ قاسم نے حارث کو ابھی کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ اپنے طریقے سے اِس معاملے کو حل کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہا تھا۔

وہ دونوں اِس وقت پراسیکیوٹر جیمز کے آفس میں بیٹھے تھے۔

چھوٹے سے آفس میں جلتے سفید بلب کی روشنی ہر طرف پھیلی تھی۔ فائلوں کے ڈھیر ریک میں سجے پرانی داستانوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھے۔

“تمہارا نام کیا ہے؟” جیمز اُس کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا۔

“ازمیر عباس علی۔”

“عمر؟”

“انیس سال۔”

“سٹیٹس؟”

“سٹوڈنٹ ہوں۔ لا پڑھ رہا ہوں۔” اُس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

“مجھے بتاؤ، بیس جنوری کے دن تم کہاں تھے؟ کیا کرتے رہے؟ ڈیٹیلز میں بتاؤ۔” جیمز نے باہم ہاتھ ملاتے پوچھا۔

ازمیر ایک پل تو خاموش رہا، پھر دھیرے سے کہنا شروع کیا۔

“میں اُس دن یونیورسٹی نہیں گیا تھا۔ گھر پر ہی رہا تھا۔ پھر ہر روز کی طرح رات کو میں کلب چلا گیا۔ اُس دن میں بہت اپ سیٹ تھا، اِس لیے میں نے بہت زیادہ ڈرنک کر لی تھی۔ پھر میں کچھ وقت نشے میں ڈانس کرتا رہا تھا۔ اُس کے بعد مجھے صرف یہ یاد ہے کہ میں۔۔۔” اُس نے تھوک نگلا۔ “میں چینجنگ ایریا کی طرف گیا تھا۔”

اُس نے بے بسی سے جیمز کو دیکھا۔

“یہ بھی تو ہو سکتا ہے، ازمیر، کہ تم نے نشے کی حالت میں کوئی غلط قدم اُٹھا لیا ہو۔”

پراسیکیوٹر نے دیکھا، ازمیر کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمکنے لگا۔

“م۔۔۔ میں ریپسٹ نہیں ہوں۔ مجھے ٹریپ کیا جا رہا ہے۔ آپ کو سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا؟” اُسے اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوتی تھی۔

جیمز نے اُس کے سامنے پانی کا گلاس رکھا، تو وہ جھٹ سے اُسے اُٹھاتا غٹا غٹ پی گیا۔

“تمہیں کسی پر شک ہے؟”

ازمیر نے دھیرے سے نفی میں سر ہلا دیا۔

“ازمیر، سارے ثبوت تمہارے خلاف ہیں۔ تم خود بھی یہی کہہ رہے ہو، تم چینجنگ ایریا کی طرف گئے تھے۔ CCTV فوٹیج بھی وہی ثابت کر رہی ہے جو کچھ ایلن نے بتایا ہے۔ تمہاری دلیلیں ایلن کے ثبوتوں کے آگے کچھ نہیں ہیں۔ عدالت ثبوت پر یقین کرتی ہے، اور بدقسمتی سے تمہارے پاس کوئی alibi بھی نہیں ہے۔”

جیمز نے اُسے سمجھانا چاہا۔

“تم خود کو گلٹی قبول کر لو۔ کم از کم تمہیں صرف ڈیڑھ سال یا دو سال کی جیل ہو گی۔”

ازمیر کو لگا، اُس کے سر پر آفس کی چھت آن گری ہو جیسے۔

“آپ ہوش میں تو ہیں؟ جیل چلا جاؤں؟ صرف دو سال؟”

وہ حیرت سے بولا۔

“دو سال کہنے میں ‘صرف’ ہیں۔ میں قیدی بن جاؤں بنا کچھ کیے؟ ناممکن۔ اگر آپ نہیں لڑنا چاہتے، تو مجھے صاف صاف منع کر دیں۔ میں کسی اور وکیل سے رابطہ کر لوں گا۔”

ازمیر کی بات پر جیمز گہرا سانس بھرتے اُٹھا اور قدم قدم چلتا اُس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔ اب وہ دونوں آمنے سامنے تھے۔

“کل عدالت میں تمہاری سماعت ہے۔ تم خود کو بے قصور ثابت کرنا چاہتے ہو، تو مجھے بتاؤ، تمہیں کس پر شک ہے؟ کون ہے جو تمہیں ٹریپ کرنا چاہتا ہے؟ کیا کسی سے دشمنی ہے تمہاری؟”

“کسی ایک سے ہو تو بتاؤں نا میں۔” ازمیر طنزیہ بولا۔

“پھر سب کے نام بتاتے جاؤ مجھے۔”

اُنہوں نے فوراً کاغذ اور پنسل اُٹھا لی۔

“آپ میرے ساتھ ایلن کے گھر چلیں۔” اُس نے سنجیدگی سے کہا، تو پراسیکیوٹر سر جھٹک کر رہ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“میں سچ کہہ رہی ہوں۔”

ایلن نے اشک بہاتی آنکھوں سے اپنے سامنے بیٹھے پراسیکیوٹر جیمز کو دیکھتے کہا، تو ساتھ بیٹھا ازمیر تلملا اُٹھا۔

کل اُس کی سماعت تھی۔ وہ ایلن کے پاس اِس لیے آیا تھا تاکہ ایلن سے پوچھ سکے، وہ اُس پر الزام کیوں لگا رہی ہے؟

“تم جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہو، ایلن۔” وہ چبا چبا کر بولا۔

“ازمیر، پلیز سٹاپ۔” جیمز نے اُسے گھورتے ہوئے کہا اور دوبارہ سے ایلن کی جانب متوجہ ہوا۔

“ایلن، آپ کو پتا ہے نا یہاں غلط allegation لگانے پر کتنے سال جیل ہوتی ہے؟”

ایلن نے تڑپ کر سر اُٹھایا۔ “میں allegation نہیں، سچ بتا رہی ہوں۔ میرا ریپ ہوا ہے۔ ایک لڑکی اتنی بڑی بات جھوٹ میں کیوں کہے گی؟”

جیمز نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

“کیا تم مجھے بتا سکتی ہو، اُس نے تمہیں کہاں کہاں چھوا تھا؟”

جیمز کی بے باک بات پر جہاں ایلن کو سانپ سونگھ گیا، وہیں ازمیر کا چہرہ یک دم سرخ ہوا تھا۔

“What the hell?” 

 وہ دھاڑتے ہوئے جیمز سے پوچھتا ہے۔

“ازمیر، تمہیں defend کرنے کے لیے مجھے یہ سوالات بھری عدالت میں پوچھنے پڑیں گے۔”

جیمز سنجیدگی سے بولا۔

“بالکل نہیں۔” ازمیر نے دانت پیستے کہا۔ “تم عدالت میں کسی قسم کا کوئی بھی گند ایلن پر نہیں اچھالو گے، سمجھے پراسیکیوٹر جیمز؟”

اُس نے تنے ہوئے جبڑوں سے کہا، تو ایلن نے بے اختیار نظریں اُس کے چہرے پر گاڑ دیں۔ بہت کچھ دل میں ڈوب کر ابھرا تھا۔

“تو مجھے بتاؤ، ازمیر، میں کیا کروں؟” جیمز بھی ضبط سے بولا۔

ازمیر نے جواب دینے کے بجائے ایک نظر ایلن کو دیکھا۔ وہ اُسے ہی دیکھ رہی تھی۔

اُس کی روتی ہوئی آنکھوں کو دیکھ ازمیر کو اپنے وجود میں سنسنی خیز لہر دوڑتی محسوس ہوئی تھی۔

“(ایک لڑکی اتنی بڑی بات جھوٹ میں کیوں کہے گی؟)”

ایلن کا کچھ دیر پہلے کہا جانے والا جملہ اُس کے اردگرد شور مچا رہا تھا۔

ایلن کہتی تھی، اُسی نے یہ سب کیا ہے۔ اُس کا اپنا دماغ کہتا تھا، اُس نے واقعی نشے کی حالت میں غلط قدم اُٹھا لیا تھا۔ مگر دل۔۔۔ دل تھا جو ماننے کو تیار ہی نہ تھا۔

ازمیر نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے صوفے سے اُٹھا۔

“I۔۔۔ I am sorry, Ellen I am sorry”

 اُس نے شکستہ لہجے میں کہا۔ اندر سے بہت کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا تھا۔

جہاں جیمز اُس کے اعتراف پر گہری سانس بھر کر رہ گیا، وہیں ایلن اب رونے لگی تھی۔

ازمیر بنا اُن دونوں پر نظریں ڈالے دروازے کی جانب بڑھ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“تمام ثبوتوں اور گواہوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت اِس فیصلے پر پہنچتی ہے کہ مجرم ازمیر عباس علی نے ڈرگز کے نشے کے زیرِ اثر متاثرہ ایلن کے ساتھ زیادتی کی ہے۔”

بلیک کلر کی پینٹ اور بلیک ہی ٹی شرٹ میں ملبوس، چہرے پر ماسک لگائے وہ جج کا فیصلہ سن رہا تھا۔

“عدالت ازمیر علی کو دو سال جیل میں رہنے کی سزا سناتی ہے اور ی۔۔۔”

ازمیر نے کراہ کر آنکھیں میچ لیں۔

“مسٹر ازمیر، کیا آپ بتائیں گے کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟”

میڈیا والوں کی آوازیں، ہجوم، ایلن کی درد بھری آنکھیں، اُس کا کلب جانا۔۔۔ سب آپس میں گڈمڈ ہوتا جا رہا تھا۔

اُسے کچھ یاد تھا، تو یہ کہ اُس نے ریپ کیا ہے۔

“وہ ایک قیدی ہے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

JVA Frankfurt am Main I کی دیواریں دور سے ہی خوف پیدا کرتی تھیں۔ اونچی سرمئی دیواروں کے اوپر لپٹی خاردار تاریں اور ہر کونے پر کھڑے خاموش گارڈ ایسے لگتے تھے جیسے اس جگہ سے امید کا آخری نشان بھی چھین لیا گیا ہو۔ اندر کی فضا ہمیشہ بوجھل رہتی تھی؛ لوہے کے دروازوں کے بند ہونے کی آوازیں، لمبی سنسان راہداریوں میں گونجتے قدم، اور قیدیوں کی دبی ہوئی سرگوشیاں ہر وقت ایک عجیب بے چینی پیدا کرتی تھیں۔ یہاں ہر قیدی کی آنکھوں میں الگ کہانی تھی، کوئی غصے سے بھرا ہوا، کوئی ٹوٹا ہوا، اور کوئی صرف زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہوا۔

 

 

 

انیس سالہ ازمیر اپنے سیل کے کونے میں خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جبکہ سامنے رکھی ٹھنڈی چائے کو وہ کافی دیر سے چھو بھی نہیں رہا ۔ اس کے سارے حوصلہ ،ساری ہمت چٹخ کر رہ گئی تھی۔ جیل کے دوسرے قیدی اسے عجیب نظروں سے دیکھتے تھے، جیسے وہ کسی بھی لمحے اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔ جب بھی راہداری میں قدموں کی آواز گونجتی، ازمیر بے اختیار سر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھنے لگتا۔ اسے ہر لمحہ یہی خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں اگلا دروازہ اس کے سیل کا نہ کھلے۔

 

 

رات ہوتے ہی جیل کا ماحول اور زیادہ سنگین ہو جاتا تھا۔ کہیں دور دو قیدیوں کے جھگڑے کی آواز آتی، پھر کسی گارڈ کی سخت چیخ، اور اس کے بعد دوبارہ خاموشی۔ یہاں خاموشی بھی سکون نہیں دیتی تھی بلکہ ایسا لگتا تھا جیسے دیواریں خود قیدیوں کے راز سن رہی ہوں۔ گارڈز کے چہرے پتھر کی طرح بے حس تھے؛ نہ ہمدردی، نہ غصہ، صرف حکم اور نگرانی۔

 

 

ازمیر نے آہستہ سے اپنی پیشانی دیوار سے لگا دی۔ اسے اپنی ماں کی آواز یاد آ رہی تھی، اپنے گھر کا کمرہ، اور وہ زندگی جو شاید اب ہمیشہ کے لیے اس سے دور جا چکی تھی۔ اچانک برابر والی کوٹھڑی سے کسی قیدی کی ہنسی سنائی دی، ایک ایسی ہنسی جس میں پاگل پن اور دھمکی دونوں شامل تھے۔ ازمیر نے گھبرا کر آنکھیں بند کر لیں، کیونکہ اسے پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ اصل سزا صرف جیل کی دیواریں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ خوف ہوتا ہے جو انسان کے اندر زندہ رہتا ہے۔

 

 

جیل میں کوئی بھی قیدی کسی بھی وقت موقع دیکھتے دوسرے قیدی پر ٹوٹ پڑتا تھا۔ یہاں ہر قیدی بس اپنا غصہ دوسروں پر نکالنے کے لیے تیار رہتا تھا ۔ 

 

 

اس رات ازمیر کو کپڑے دھونے والے حصے سے واپس اپنی بیرک کی طرف جانا تھا۔ راہداری تقریباً سنسان تھی۔ صرف اوپر جلتی زرد روشنی اور دیواروں پر پڑتے سائے ماحول کو اور زیادہ خوفناک بنا رہے تھے۔ ازمیر نے قدم تیز کیے، مگر اچانک سے کسی نے اس کا راستہ روک لیا۔

وہ تین قیدی تھے، جن کی نظریں کئی دنوں سے اس کا پیچھا کر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک لمبا، گنجا آدمی آگے بڑھا اور ازمیر کے سینے پر انگلی رکھ کر بولا، 

“بڑا خاموش رہتا ہے نا تو؟سمجھتا کیا ہے خود کو؟”

ازمیر نے گھبرا کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر دوسرے قیدی نے اس کا بازو سختی سے پکڑ لیا۔ اگلے ہی لمحے ایک زور دار مکا اس کے چہرے پر پڑا۔ اس کا سر جھٹکے سے دیوار سے ٹکرایا۔ پورا وجود سنسنا اٹھا تھا ۔ کانوں میں سیٹیوں جیسی آواز گونجنے لگی۔

“یہاں تیرے جیسے لوگ عزت سے نہیں رہتے…”

 ایک قیدی نے غصے سے کہا اور اسے پیٹ میں لات ماری۔

ازمیر زمین پر گر گیا۔ اس نے خود کو سمیٹنے کی کوشش کی مگر وہ تینوں اس پر ٹوٹ پڑے۔ کسی نے اس کی گردن پکڑی، کسی نے جیکٹ کھینچی، اور مسلسل لاتیں اس کے جسم پر برسنے لگیں۔ درد اتنا شدید تھا کہ اس کی سانس رکنے لگی۔ راہداری میں صرف ان کی گالیاں اور ازمیر کی دبی ہوئی کراہیں سنائی دے رہی تھیں۔ 

اس سے پہلے وہ اسے مار مار کر ادھ موا کرتے ۔۔۔

“رُکو! فوراً پیچھے ہٹو!”

 اچانک سے ایک اہلکار کی آواز گونجی ۔ 

سب چونک گئے۔ ایک جرمن اہلکار تیزی سے ان کی طرف آ رہا تھا، اس کے ہاتھ میں ڈنڈا تھا اور چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔ اس کے پیچھے دو اور گارڈ بھی دوڑ رہے تھے۔

“دیوار کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ!”

 اہلکار نے دھاڑ کر کہا۔

ایک قیدی نے بھاگنے کی کوشش کی مگر گارڈ نے فوراً اسے پکڑ کر دیوار سے دے مارا۔ دوسرے اہلکار نے ازمیر کے اوپر جھکے قیدی کو زور سے پیچھے کھینچا۔ چند لمحوں میں سارا منظر بدل گیا۔ ابھی جو راہداری غنڈوں کے قبضے میں لگ رہی تھی، اب وہاں صرف اہلکاروں کی سخت آوازیں گونج رہی تھیں۔

ازمیر بمشکل اٹھ پایا۔ اس کے ہونٹ پھٹ چکے تھے، ناک سے خون بہہ رہا تھا، اور سانس کانپ رہی تھی۔ وہ دیوار کا سہارا لے کر کھڑا ہوا تو ایک اہلکار نے اس کے کندھے کو تھاما۔

“میڈیکل روم لے جاؤ اسے۔” ایک گارڈ نے دوسرے سے کہا۔

ازمیر نے خاموشی سے سر جھکا لیا۔ اس کی آنکھوں میں خوف اب پہلے سے کہیں زیادہ گہرا ہو چکا تھا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس جیل میں ہر دن زندہ بچ جانا بھی قسمت کی بات تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گھپ اندھیرے اور گہری خاموشی میں مدھم سسکیاں لوہے کی دیواروں سے ٹکراتی پورے سیل میں گونج رہی تھیں۔

تم دبے پاؤں، بنا شور کیے، اگر کان لگاؤ تو اُس کی بڑبڑاہٹ تمہیں حیرت میں ڈال دے گی۔

سجدے میں گرا ازمیر اپنے رب کو پکار رہا تھا۔

“I am sorry اللّٰہ پاک۔۔۔ I am sorry” 

۔ میں بھٹک گیا تھا۔ میں نے تجھے پشت دکھائی، تو تُو نے مجھے مجھ سے بھی غافل کر دیا۔ اللّٰہ پاک، sorry۔۔۔”

شدتِ غم سے روتا ازمیر بس یہی جملے دہرائے جا رہا تھا۔

وہ پچھلے نو ماہ سے اِس جیل میں قید یہی سوچ رہا تھا کہ آخر یہ سب کیسے ہوا؟

یہ سوال ہر وقت اُس کے آس پاس گردش کرتا رہتا تھا۔

اور آج ایک انجانے سے خواب نے اِس سوال کا جواب دے دیا تھا۔

اُس نے خواب میں دیکھا، ایک کم سن بچہ مسجد میں جائے نماز بچھائے انگلیوں کے پوروں پر تسبیح پڑھ رہا ہے۔ وہ قیدی کا لباس پہنے کئی پل اُس بچے کو دیکھتا رہا۔ بچے کی ازمیر کی طرف پشت تھی۔ ازمیر دھیرے دھیرے چلتا اُس کے سامنے جا ٹھہرا۔ بچے نے سر اُٹھا کر جب اُسے دیکھا، تو قیدی ازمیر برف کا مجسمہ بن کر رہ گیا۔ سات سالہ پُرنور ازمیر نے اکیس سالہ مایوس ازمیر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

وہ ہڑبڑا کر نیند سے اُٹھا۔ پورا وجود پسینے سے بھیگ چکا تھا، جبکہ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے سامنے دیوار کو دیکھتا رہا۔

“نماز۔۔۔؟ قرآن۔۔۔؟ اللّٰہ۔۔۔؟”

اُس نے ایک ایک کر کے تینوں کے نام لیے، اور سارا معمہ اُس کے سامنے سلجھ کر رہ گیا۔

اُس نے اپنی عیاشیوں میں، اپنی مستیوں میں اپنے رب کو بھلا دیا تھا، اور اُسے بھنک بھی نہ پڑی تھی۔

وہ کب سیدھا چلتے چلتے غلط راہ کی طرف مڑ گیا، اُسے پتا ہی نہ چلا تھا۔

اُسے تو اُن سالوں میں یاد بھی نہ رہا تھا کہ نماز بھی ہے۔۔۔ قرآن بھی ہے۔۔۔ اللّٰہ بھی ہے، جسے وہ بھول چکا تھا۔

وہ تو پانچ وقت کا نمازی تھا، بچپن سے تہجد پڑھتا تھا، پھر وہ کیسے راستہ بھٹک گیا؟ کب اُس نے اپنا سینٹر اللّٰہ کے علاوہ اپنی خواہشات اور مستیوں کو بنا لیا؟

سوچوں کے حملے سے متاثر ہوتا، گھائل ازمیر سجدے میں گر پڑا اور بلند آواز میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔

اُس نے رب کو بھلا دیا تھا، تو اللّٰہ نے اُسے اُس کے وجود سے بھی غافل کر دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر انسان کی زندگی نظامِ شمسی کے سورج کی طرح ہے، جس کے گرد بہت سے سیارے گردش کر رہے ہوتے ہیں۔

وہ سورج انسان کا سینٹرل ہوتا ہے، جبکہ سیارے اُس کی ضروریات، محبتیں اور خواہشات ہوتی ہیں۔

اگر انسان اِس سینٹرل کی جگہ اللّٰہ کو دے دے، تو سیارے اعتدال سے گردش کرتے ہیں۔

لیکن اگر انسان اپنا سینٹر اللّٰہ کے بجائے اپنی خواہشات کو بنا لے، یا ضروریات کو بنا لے، تو سارا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔

اور انسان جھنجھلا کر رہ جاتا ہے کہ آخر یہ سب کیا ہوا؟

اور جب انسان اِس سوال تک پہنچ جائے، تو مطلب اُسے اپنے سینٹر پر غور کرنا چاہیے کہ آیا سینٹر اللّٰہ ہی ہے یا ہمارے خود ساختہ اَجَل اُس کی جگہ آ گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پورے دو سال بعد اُس نے جیل سے باہر کی زمین پر قدم رکھا، تو اندر تک سنسنا گیا۔

دو سال پہلے کی تلخ رات آج بھی اُس کے سامنے کھڑی تھی۔

بائیس سالہ ازمیر، کملائی رنگت اور گہرے حلقوں کے باعث کہیں سے بھی وہی پرانا ازمیر نظر نہیں آتا تھا۔ اُس کے چہرے پر بے حد سنجیدگی چھائی تھی اور اندر گہرا سناٹا پر پھیلائے بیٹھا تھا۔

“حارث انکل بھی آج شام تک آ جائیں گے۔”

مزاحم، جو کہ کار ڈرائیو کر رہا تھا، اُس نے آہستہ سے کہا، تو ازمیر جواب دینے کے بجائے اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔

مزاحم نے نم آنکھوں سے ایک پل اُسے دیکھا۔

وہ پیسنجر سیٹ پر بیٹھا، سر ٹکائے، خاموشی سے باہر کے منظر دیکھ رہا تھا۔ جیل کی دنیا نے اُسے بدل کر رکھ دیا تھا۔

وہ جیسے ہی گھر پہنچا، قاسم نے خوش دلی سے اُس کا ویلکم کیا تھا، مگر وہ مسکرایا تک نہیں تھا۔ چپ چاپ اپنے کمرے میں جا کر وہ بند ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ازمیر علی جیل سے لوٹنے کے بعد مزید سنجیدہ اور اکھڑ ٹائپ ہو گیا تھا۔ اُس نے جتنا وہاں کام کیا تھا، جتنی ماریں کھائی تھیں، اُتنا ہی وہ سخت ہو گیا تھا۔

وہ جیسے ہی نماز پڑھ کر فارغ ہوا، دستک کی آواز آئی۔

“Come in۔”

اُس نے کہتے ہوئے انگلیوں کے پوروں پر تسبیح پڑھنا شروع کر دی۔

کمرے کا دروازہ کھول کوئی اندر داخل ہوا اور دھیرے دھیرے قدم لیتا اُس کے ساتھ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔

ازمیر نے کوئی response نہیں دیا۔ وہ چپ چاپ “شکر الحمد” کی تسبیح کا ورد کرتا رہا کہ قاسم نے اُس کے کان میں پگھلا سیسہ اُنڈیلا۔

“حارث کی death ہو گئی ہے۔”

“شکر ال۔۔۔”

تسبیح پڑھتے ازمیر کے الفاظ حلق میں ہی دب کر رہ گئے اور روح کانپ کر رہ گئی۔

اُس نے خوف کے زیرِ اثر نظریں قاسم کے چہرے پر جمائیں۔

اُن کا چہرہ بھی آنسوؤں سے بھرا ہوا تھا، جبکہ اُن کے پیچھے کھڑا مزاحم بھی رو رہا تھا۔

ازمیر کا دل چاہا شدتِ غم سے چیخ چیخ کر روئے، مگر وہ سر جھکا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حارث کی تدفین ہو گئی تھی۔ وہ پورا دن ایسے خاموش رہا تھا جیسے الفاظ سے ناآشنا تھا۔

وہ خاموشی سے قبر کے کتبے کو دیکھتا رہا، یہاں تک کہ کوئی آہستہ سے اُس کے قریب آ بیٹھا۔

“حارث میرا بہترین دوست تھا۔وہ میرا سنئیر تھا مگر پھر بھی ہم جگری یار تھے۔” 

دائم نے بولنا شروع کیا، تو ازمیر خاموشی سے اُنہیں سنتا رہا۔

“میں فرینکفرٹ سے جب اسلام آباد شفٹ ہو گیا تھا، اُس کے دو ماہ بعد مجھے اُس نے کال کی تھی۔”

وہ بہت غمگین تھا۔ اُس نے مجھ سے کہا، میں قاسم کے گھر جاؤں اور ازمیر کی خبر لوں۔ قاسم اُس سے رابطہ نہیں کر رہا تھا۔ میں اُس کے کہنے پر فوراً جرمنی پہنچا، اور مجھے پتا چلا کہ تم پر ریپ کا الزام لگا ہے۔ میں دہل کر رہ گیا تھا۔ اگر یہ خبر حارث کو معلوم ہوتی، تو یقیناً اُسے بہت بڑا صدمہ پہنچتا۔”

ازمیر کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ دائم ایک دو پل کے لیے خاموش ہو گیا۔

“میں نے جیل میں تم سے بہت بار ملاقات کرنے کی کوشش کی، مگر تم تھے کہ کسی سے بھی ملنا نہیں چاہتے تھے۔ بہت چھپانے کے بعد بھی میں حارث کو بتائے بنا نہیں رہ سکا۔ میں نے حارث کو پوری بات بتا دی تھی، اور وہ اگلے ہی دن میرے سامنے موجود تھا۔ اور جانتے ہو، اُس نے کیا کہا؟”

ازمیر نے ضبط سے آنکھیں میچتے اپنے آنسوؤں کو اندر دھکیلا تھا۔

اُس نے مجھ سے کہا کہ۔۔۔” دائم جواب کا انتظار کیے بنا دھیرے سے بولا، “حارث علی کا بیٹا ازمیر علی کبھی کسی لڑکی کے ساتھ برا نہیں کر سکتا۔”

ازمیر کے دل میں درد اُٹھا تھا۔ بیک وقت کئی آنسو اُس کے رخسار پر پھسلتے چلے گئے۔

“میں تمہارے بابا کا تم پر یقین دیکھ کر حیران رہ گیا تھا۔ کاش میں بھی حارث جیسا باپ ہوتا۔” دائم شکستہ لہجے میں بولا۔ “اُس نے بھی بہت کوشش کی تھی، ازمیر، تم سے ملنے کی۔۔۔ مگر کاش تم اُس وقت اُس سے مل لیتے۔”

دائم نے ایک ہاتھ سے اُس کا کندھا تھپتھپایا اور اُسے خود سے لگا لیا۔

بائیس سالہ ازمیر دائم کے حصار میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ اتنے عرصے کا غم، باپ کی موت کے غم کے آگے ہار گیا تھا۔ وہ دائم سے لگا نہ جانے کتنی دیر سسکیوں سے روتا رہا تھا۔

“دائم نے اپنی موت سے ایک دن پہلے مجھے فون کر کے کہا تھا کہ میں تمہارا خیال رکھوں۔” دائم نے اُس کے تھمتے آنسوؤں کے بعد اُس سے کہا، تو اُس کا رواں رواں سماعت بن گیا۔

“اِس لیے تم اب میرے ساتھ چلو، اسلام آباد۔”

“نہیں۔” اُس نے نفی میں سر ہلایا۔ “میری بہن اور ماما کی ذمے داری مجھ پر ہے۔ میں اُنہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔”

“تو پھر اُنہیں بھی ساتھ لے چلو۔” دائم نے ایک اور حل پیش کیا۔

“نہیں، ہم یہیں ٹھیک ہیں۔” اُس نے پھر وہی بات دہرائی، تو دائم نے سرد آہ بھری۔

“تمہارے بابا کا قتل ہوا ہے، ازمیر۔”

دائم کی بات پر وہ تھم گیا۔

“وہ ایک کریمنل پر investigation کر رہا تھا۔ اُسی کریمنل نے اُس کا accident کروایا ہے۔”

“آ۔۔۔ آپ اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہیں؟”

“اُسی نے مجھے بتایا تھا کہ اِس بار وہ بہت بڑے کریمنل کو پکڑے گا۔ حادثے کے بعد میں اُس کے آفس گیا تھا، اور اُس کے کیبن سے مجھے وہ فائلز ملی ہیں جن میں وہ اُس کریمنل سے جڑی ہر بات نوٹ کرتا رہا تھا۔”

ازمیر نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔ اُس کے باپ کا قتل ہوا تھا، وہ یہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

“اِس لیے صاف ظاہر ہوتا ہے، اُسی نے حارث کا قتل کروایا ہے۔”

“مگر اُسے کیسے پتا چلا کہ ڈیڈ اُس کا کیس investigate کر رہے ہیں؟”

“اگر وہ اتنے بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کروا سکتا ہے، تو کیا یہ ثابت کرنا کہ کوئی اُس پر وار کرنے کا سوچ رہا ہے، اُس کے لیے مشکل ہو گا؟”

اُن کی بات پر ازمیر ایک دو پل کے لیے تھم گیا۔ پھر جب بولا، تو آواز بدلی بدلی سی تھی۔

“کریمنل کون ہے؟”

“سائفر۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے کئی روز سلو موشن کی طرح گزرے تھے ۔ 

وہ اپنی فیملی سمیت دائم کے گھر شیفٹ ہو گئے تھے ۔ دائم اکیلا رہتا تھا ۔ 

ازمیر نے پڑھائی دوبارہ شروع کر لی تھی ۔ محراب کا بھی یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروا دیا تھا ۔ وہ تینوں سنجیدگی کے دیوتا بنے ہوئے تھے ۔ 

دائم ازمیر کا بہت خیال رکھتا تھا ۔ وہ اسے اپنے بیٹے کی طرح ٹریٹ کرتا تھا ۔ ازمیر بہت روڈ اور ریزرو پرسنالٹی کا بندہ ثابت ہوا تھا جبکہ دائم اس کے ساتھ چھیڑ خانی کرتا اسے ہنسانے پر مجبور رکھتا تھا ۔ 

ازمیر کی بکھری ہوئی زندگی میں دائم بہار کا رہا تھا اور اس نئی بہار کو ازمیر با خوبی دیکھ سکتا تھا ۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مبارک ہو تمہیں۔”

وہ کوئی پانچویں بار اُسے مبارک دے چکے تھے۔

“ازمیر اب پراسیکیوٹر ازمیر علی ہے۔ ہمیں تو اِس سے ڈرنا چاہیے اب بھئی۔” دائم نے ہنستے ہوئے کہا، تو ازمیر کا حلق تک کڑوا ہو گیا۔

“میں بزنس سٹارٹ کرنا چاہتا ہوں۔”

اُس نے دھیمے لہجے میں کہا، تو دائم چونک گیا۔

“کیوں؟”

“کیونکہ مجھے connections چاہیے، power چاہیے، اور ایک بہترین ذریعۂ آمدنی چاہیے۔”

“کیا سٹارٹ کرنے کا فیصلہ کیا پھر تم نے؟” دائم سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔

“آپ real estate tycoon ہیں نا؟”

“ہاں۔”

“آپ کی اپنی کمپنی ہے؟”

“ہاں۔”

“مجھے partnership چاہیے۔”

“کیا؟” دائم کو لگا، اُس نے کچھ غلط سن لیا ہے۔

ازمیر کچھ نہ بولا۔

“تمہیں اِس کام کا تجربہ تک نہیں ہے، ازمیر۔ تم کیسے کرو گے؟”

“آپ کب کام آئیں گے؟ ویسے بھی اب بوڑھے ہو گئے ہیں، کسی بھی وقت ٹپک سکتے ہیں، تو کیوں نہ اپنی کمپنی محفوظ ہاتھوں میں دے کر جائیں۔”

“انتہائی فضول انسان ہو تم۔ اللّٰہ نہ کرے مجھے کچھ ہو۔” دائم نے دل تھام لیا، تو وہ مسکرا کر رہ گیا۔

دائم بھی کندھے ڈھیلے چھوڑ گیا۔ “میں خود یہی چاہتا تھا کہ تم میرا بزنس آگے بڑھاؤ۔ مجھے تم پر پورا یقین ہے، تم کبھی ناکام نہیں ہو گے، میرے شیر۔”

ازمیر مسکرا کر رہ گیا۔ “ایک بات تو بتائیے۔”

“کیا؟”

ازمیر سنجیدگی سے اُنہیں دیکھتا رہا۔ “ڈیڈ نے میرے لیے قاسم انکل کے بجائے آپ کا انتخاب کیوں کیا تھا؟”

ازمیر کے سوال پر دائم ایک پل کو چپ رہا، پھر جب بولا تو آواز نم تھی۔

“کیونکہ قاسم کے پاس بیٹا پہلے سے موجود تھا۔۔۔ میرے پاس نہیں تھا۔ بیٹے کی اہمیت مجھ سے بہتر قاسم نہیں جان سکتا تھا۔”

ازمیر نے گہری سانس بھری تھی اور کرب سے مسکرایا۔

“واقعی آپ بہترین باپ ہیں۔”

کاش یہ جملہ مجھے “اُس” سے سننا نصیب ہو۔۔۔ وہ دل میں سوچ کر رہ گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دائم نے اُسے سارا کام سکھا دیا تھا۔ اُس نے ساتھ ساتھ اپنی پریکٹس بھی جاری رکھی تھی۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ازمیر بلندیوں کی سیڑھیاں چڑھتا گیا تھا۔

اُس نے یہی اسلام آباد میں اپنا نیا گھر لیا تھا، جس میں صرف وہ اور اُس کی ماں رہتے تھے۔ دو سال پہلے زریاب نے محراب کی شادی اپنی کسی رشتہ دار کے بیٹے سے کر دی تھی، جو اپنی شادی شدہ زندگی میں بہت خوش تھی۔

ایک دو سال کے بعد دائم نے کمپنی مکمل طور پر ازمیر کے نام کر دی تھی۔

ازمیر نے بہت منع کیا، مگر وہ کہتے تھے، “میرے بعد بھی تم نے ہی یہ سنبھالنی ہے۔ ابھی ہی اسے لے لو۔ میرے پاس ویسے بھی اب مزید دم نہیں رہا اِن سب جھمیلوں کو سلجھانے کا، اِس لیے تم ہی اب یہ کاروبار سنبھالو۔”

ازمیر صرف سر ہلا کر رہ گیا۔

قاسم کی وفات کے بعد مزاحم نے جرمنی میں موجود اپنا گھر بیچ دیا تھا اور ازمیر کے ساتھ رہنے کی خاطر اسلام آباد میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ماضی میں ہونے والے ریپ کیس کی وجہ سے قاسم کا بزنس ڈوب کر رہ گیا تھا، جس کے باعث مزاحم کو ایک investigation company میں کام کرنا پڑا تھا۔

کمزور لمحے میں بھٹکتے دل کی غلطی۔۔۔ بعض دفعہ سب کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ 

حال

اس نے آہستہ سے مندی آنکھیں وال کی،نظریں چھت پر گئی ۔ 

“کتنا کچھ بدل گیا تھا نا؟” وہ سوچ کر رہ گیا ۔ 

اس نے گہرا سانس بھرا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ابھی وہ دو قدم ہی چلا ہو گا کہ اس کا فون چھنگاڑنے لگا ۔ اس نے جیب سے فون نکالا تو سامنے مزاحم نام جگمگا رہا تھا ۔ وہ کرب سے مسکراتے کال آنسر کرتا فون کان سے لگا گیا ۔ 

“ازمیر دو دن بعد دبئی کا ایک اسمگلر فرینکفرٹ ائیرپورٹ آنے والا ہے یہی بہتر طریقہ ہے سائفر تک پہنچنے کا”

مزاحم نے تیز تیز بولتے کہا ۔ ازمیر کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔ 

” The Bird is going to be caged. “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *