HAWA KI KHUWAHISH BY MOMNA AZAM.

*حوّا کی خواہش*
از مومنہ اعظم
شہر ملتان

ڈسکلیمر (Disclaimer):
نوٹ: اس افسانے کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں اور اس کا حقیقی زندگی یا کسی شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وہ لڑکی نروس سی فون کان سے لگائے کھڑی تھی۔ دوسری بیل۔۔۔ کل اس کا نکاح تھا۔ اور وہ آج اپنے نکاح سے پہلے اپنے ہونے والے محرم سے بات کرنے جارہی تھی۔ اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔”السلام علیکم!” مردانہ آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی۔ اس کا ہاتھ کانپا تھا۔ دل کی دھڑکن لمحے بھر کو تھم سی گئی۔”و۔۔ وعلیکم۔۔ وعلیکم السلام۔۔ آدم؟؟”اس کے پورے وجود پر کپکپاہٹ طاری تھی۔”جی بولیں۔۔” آدم نرم لہجے میں بولا۔”آدم میں حوا بات کر رہی ہوں۔” حوا بولی تو دوسری جانب آدم مسکرا دیا۔”جی مجھے معلوم ہے۔ میں آپ کی آواز اور لہجہ پہچانتا ہوں حوا۔۔ کیسی ہیں آپ؟” خوشگوار لہجے میں آدم نے پوچھا۔”میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟ مصروف تو نہیں تھے؟” حوا بولی۔”میں بھی بالکل ٹھیک ہوں الحمداللہ۔ نہیں میں مصروف نہیں ہوں البتہ حیران ضرور ہوں کہ آپ نے مجھے کال کی۔ سب ٹھیک تو ہے ناں؟” آدم نے پوچھا۔”جی، جی سب بالکل ٹھیک ہے وہ بس مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔””بولیں، میں سن رہا ہوں۔” آدم ہمہ تن گوش تھا۔”وہ میری اک خواہش تھی۔ کیا آپ میری خواہش پوری کریں گے؟” حوا کے لہجے میں جھجھک تھی۔”آپ حکم کریں حوا۔” نرم لہجہ۔”آدم۔۔ وہ۔۔ کیا آپ بارات گاڑی پر لا رہے ہیں؟” حوا بولی۔”مطلب؟” آدم کی الجھن زدہ آواز گونجی۔”مطلب آپ گھوڑے پر آئیے گا۔”
“کیا مطلب حوا؟” مطلب یہ کہ آپ سیاہ گھوڑے پر آئیں گے اور ایک اور بات آپ کے دوست تو ہیں ناں؟” “جی ہیں؟” “کتنے دوست ہیں آپ کے؟” “دو دوست ہیں۔” “ٹھیک ہے۔ آپ کے دونوں بھائی اور دو دوست بھورے گھوڑوں پر آئیں گے۔” حوا بولی۔ “اوکے ٹھیک ہے۔ میں سیاہ گھوڑے پر اور میرے دوست اور بھائی بھورے گھوڑوں پر آجائیں گے پھر؟” آدم رضامندی ظاہر کرتے ہوئے بولا۔ “اب آپ میری بات سنیں۔ آپ سب سے آگے سیاہ گھوڑے پر، آپ کے پیچھے چار بھورے گھوڑے ہونگے جن پر آپ کے بھائی اور دوست ہونگے۔ اس کے پیچھے گاڑیاں جن میں مرد و خواتین اور بچے اور بزرگ ہونگے ٹھیک۔۔۔؟” حوا نے پوچھا۔حوا کی خواہش”حوا آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔۔ آپ نے جو چاہا پرسوں اس کا عملی مظاہرہ دیکھیں گی۔” آدم نے سر تسلیم خم کیا۔ “اور کچھ۔۔؟” نرمی سے پوچھا۔ “جی وہ ایک سفید گھوڑا بھی لے آئیے گا اپنے ساتھ۔۔ میرا بھائی آکر آپ سے وہ لے جائے گا۔” “جی جیسا آپ چاہیں گی بالکل ویسا ہوگا۔” آدم میں آپ سے ایک بات پوچھوں؟” “جی پوچھیں۔” “آپ کو خواتین کی گھڑ سواری پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟” حوا نے جھجھک کر پوچھا۔ “نہیں حوا مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ آپ کی خوشی ہمیشہ میری اولین ترجیح رہے گی۔” آدم نرمی سے بولا تو حوا کی ساری بے چینی دور ہوگئی۔ وہ کھل کر مسکرائی۔ “بہت بہت شکریہ آدم۔” حوا خوشی سے چہکی۔

*بارات کا دن*
ہر طرف گہماگہمی تھی۔سنہرے رنگ کے لہنگے
میں، سر پر ہرے رنگ کا گھونگھٹ اوڑھے، زمرد جڑے زیورات پہنے بیٹھی حوا آسمان سے اتری حور لگ رہی تھی۔ ہاتھ میں پہنے زمرد جڑے کنگن کو نرمی سے چھوتی وہ اپنی کزن کی کوئی بات سن رہی تھی کہ جب مخصوص سا شور سنائی دیا۔ ڈھول تاشوں کی آوازیں، آتش بازی، باراتیوں کا شور۔۔۔ اور پھر اس کی بہن بھاگتی ہوئی آئی۔۔”حوا، بارات آگئی ہے۔ تمہیں بالکونی میں بلایا گیا ہے۔” حوا مسکرا کر اٹھی۔ اسے ہرے رنگ کا نقاب پہنایا گیا۔ اس کی کزنز اسکا لہنگا تھامے اس کے ساتھ قدم بڑھانے لگیں۔ جب وہ بالکونی میں پہنچی تو ایک شور سا اٹھا تھا۔ اس کا استقبال آتش بازی سے کیا گیا۔
وہ مسحور سی ان لمحات کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرنے لگی۔ اور پھر دور سڑک پر اسے وہ آتا دکھائی دیا۔ اس کی داستان کا شہزادہ۔۔ حوا کا آدم۔۔ وہ سیاہ گھوڑے پر سوار تھا، اس کے پیچھے چار بھورے گھوڑے تھے جن پر آدم کے بھائی اور دوست سوار تھے۔ باراتیوں میں شور مچ گیا۔ حوا ستائشی نگاہوں سے اس دلفریب منظر کو دیکھے گئی۔ گولڈن رنگ کی شیروانی پہنے سیاہ گھوڑے پر کسی شان سے بیٹھا وہ خوبرو لگ رہا تھا۔ یہ منظر جادوئی تھا۔تھوڑی دیر بعد ان دونوں کا نکاح ہوا۔ اور اب وہ دونوں پورے حق کے ساتھ اسٹیج پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بیٹھے تھے۔ جہاں ہر کوئی ان دونوں کو رشک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا، وہاں بہت سی آنکھوں میں ان کے لیے سدا خوش رہنے کی دعائیں بھی تھیں۔رخصتی ہونے والی تھی۔ حوا کے گھر والے سارے باری باری اس سے آ کر ملے۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ حوا کے والدین نے اسے بہت سی دعاؤں اور نصیحتوں کے زیر سایہ رخصت کیا۔ سارے باراتی گاڑیوں پر سوار ہوئے۔ خصوصاً آدم جب اپنے دوستوں کے ساتھ گھوڑے پر سوار ہوا تو حوا کا بھائی آدم کے پاس آیا اور اسے ایک مائیک تھمایا۔ آدم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو حوا کے بھائی نے اسے صبر کرنے کا کہا۔ “آدم، آدم۔۔۔” اسپیکر میں حوا کی آواز گونجی تو ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ “حوا کہاں ہیں آپ؟” آدم نے مائیک میں پوچھا تو اسے اسپیکر میں گونجی گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز سنائی دی۔ “میں یہاں ہوں آدم اپنے سامنے کی طرف دیکھیے۔”
سفید گھوڑے پر سوار چہرے پر ہرے رنگ کا نقاب اور سر پر ہم رنگ گھونگھٹ لٹکائے۔۔۔ وہ حوا تھی۔۔۔ اس داستان کی شہزادی۔۔۔ جیسے ہی دونوں کی نظریں ملیں۔۔۔ حوا نے آہستہ سے نگاہیں جھکا کر اٹھائیں۔۔۔ گویا اجازت طلب کی۔ تو آدم نے سر کو خم دے کر اجازت دی۔ سب دم سادھے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ اور پھر۔۔۔ سب ہی نے دیکھا کہ حوا نے گھوڑے کو حرکت دی۔ اور سفید گھوڑے نے، سیاہ گھوڑے پر بیٹھے آدم کے گرد چکر لگانے شروع کیے۔ آدم کے چہرے پر دل فریب سی مسکراہٹ بکھری۔ سفید گھوڑے نے تین بار دائرے کی صورت آدم کے اردگرد چکر لگانے کے بعد واپس اس سمت کی راہ لی جہاں سے وہ حوا کو خود پر سوار کیے آیا تھا۔پھر حوّا نے گھوڑے کی لگام کو جھٹکا۔ اور گھوڑے نے اپنی اگلی دونوں ٹانگوں کو اوپر اٹھایا اور ہنہنایا تو سیاہ گھوڑے پر بیٹھے آدم نے بھی لگام کو جھٹکا۔ ہجوم دم سادھے متحیر نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہاں باراتیوں کی خاموشی میں ہر طرف صرف گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز سنائی دے رہی تھیں۔ فلک پر موجود چاند ستاروں نے ستائشی نظروں سے اس منظر کو دیکھا تھا کہ آدم کے گھوڑے نے بھی اپنی اگلی دو ٹانگوں کو اٹھایا تھا۔ اب یہ منظر قابلِ دید تھا۔ سیاہ و سفید گھوڑے اور ان پر سوار آدم اور حوّا۔۔ ہر شے دوسرے کو کامل بنا رہی تھی۔”حوّا آپ جانتی ہیں آپ ملکہ لگ رہی ہیں۔ کسی بادشاہ کی ملکہ۔۔ کسی تخت کی ملکہ۔۔ میرے قلب کی ملکہ ہیں آپ۔ اور آدم فخر کرتا ہے اپنی ملکہ پر۔۔”آدم کی آواز سپیکر میں گونجی تو حوّا کے وجود میں سرشاری کی لہر دوڑ گئی۔ اور اسکی بھوری آنکھیں مسکرا دیں۔ ‘لیکن حوّا یہاں کمی ہے ایک چیز کی۔۔ جو مجھے شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔’ آدم نے بولتے ہوئے گھوڑے کا رخ حوا کی سمت کیا۔ حوّا نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ سارے باراتی بھی سوالیہ نظروں سے آدم کی طرف دیکھنے لگے۔ میرج ہال کے باہر، تاریک رات میں آسمان پر بکھرے ستاروں، وہاں چلتی ہوا، سارے باراتی اور حوا نے دیکھا تھا۔ کہ سیاہ گھوڑے پر سوار آدم، حوّا کی سمت ہاتھ میں ایک سیاہ مخملی ڈبہ پکڑے بڑھ رہا ہے۔ حوّا کے قریب رک کر اسنے اس سیاہ مخملی ڈبے کو کھولا تھا۔ جس میں زمرد جڑا ایک سنہرا تاج تھا۔”آدم نے وہ تاج حوا کے گہرے سبز گھونگھٹ سے ڈھکے سر پر رکھا تھا۔ “اب سب مکمل ہے میری ملکہ۔۔” آدم بولا تو اسنے دیکھا کہ دم سادھی ہوا، آسمان پر بکھرے خاموش ستارے، متحیر باراتی اور حوّا کی بھوری آنکھیں مسکرا دی تھیں۔ باراتیوں میں شور کی لہر دوڑی۔ مبارک، مبارک کی صدائیں۔ہر طرف خوشی کا سماں تھا۔
یہ منظر دلفریب تھا۔
یہ منظر قابل دید تھا۔
یہ منظر سحر انگیز تھا۔
یہ منظر بس اک خواب تھا۔
یہ منظر حوّا کی خواہش تھا!
میری خواہش تھا!

ختم شد۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *