قصاص قسط نمبر:۱۸
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
ہیر کو ریحان اور زر مان ہاسپٹل لے کے ائے تھے حیات اور رخسار بھی ساتھ تھی ۔۔
جب کے کامران خان گھر پر دلاور خان کو لعنتوں سے نواز رہے تھے ۔۔ ہیر کو اسٹریچر پر
لٹایا تو ہیر بے ہوش تھی ۔۔ ایک ہاتھ سینے پر رکھا تھا ایک ہاتھ لٹک رہا تھا ۔
زر مان کے پاؤں سے جان نکلنا شروع ہو گئی تھی ۔۔
زر مان وہیں پاس میں پڑی چیئرز کی قطار میں سے ایک پر بیٹھ گیا ۔۔
ہاسپٹل کا عملہ اب ہیر کو آپریشن تھیٹر میں لے کے جا رہا تھا ۔۔
ریحان خاموش کھڑا اپنی بہن کو دور جاتے دیکھ رہا تھا ۔۔
کیا وہ آخری بار اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا ۔ہیر دلہن کے جوڑے میں آپریشن تھیٹر کے اندر کہیں غائب ہو گئی ۔۔۔ تو ریحان زر مان کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔
ت۔۔ تم نے وعدہ کیا تھا ۔۔ زر مان ت۔تم ہ۔۔ہیر کو کچھ نہیں ہونے دوں گے ۔۔۔۔
ریحان کپکپاتی اواز میں بولا ۔۔۔ رات کا وقت تھا خاموش کوریڈور کا سناٹا ٹوٹا ۔۔
اور زر مان راجپوت چلا اُٹھا ۔ ۔ اگر ہیر کو کچھ ہوا تمھارے بھائی کی میں جان لے لوں گا ریحان خان ۔۔
وہ ہوتا کون ہے ہیر کو مارنے والا ۔۔ ریحان وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے ۔ا۔۔
اب زر مان کی آواز صدمے میں بدلنے لگی۔۔
ریحان کے پاس کوئی الفاظ نہیں تھے جن سے وہ زرمان کو دلاسہ دے سکتا ۔۔
زر مان اب رونے والا ہو گیا تھا ۔۔اور ریحان ۔۔ جو ہیر کو کچھ دیر پہلے دلہن کے روپ میں دیکھ کے آیا تھا ۔۔ جو اب تیار تھا اپنی بہن کو زر مان راجپوت کے ساتھ رخصت کرنے کے لیے ۔ وہ اب موت کے حوالے ہونے والی تھی کیا ۔۔ ریحان کے دماغ میں اس وقت یہ ہی سوال گردش کر رہے تھے لیکن سوال تھے جواب نہیں ۔۔۔
ایک لمبے انتظار کے بعد ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر ایا تو زر مان اور ریحان اُس کی طرف لپکے ۔۔
ہیر کیسی ہے ڈاکٹر ۔۔ زر مان نے دل پر قابو پاتے پوچھا ۔۔۔
دیکھیں ہم نے گولی تو نکل دی ہے لیکن بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کے ہیر خان کومامیں چلی گئی ہیں ۔۔۔ ایک ایسی بیماری میں جو انسان کو زندہ لاش بنا دیتی ہے ۔۔ وہ زندہ تو ہیں سانس تو لے رہی ہیں لیکن کسی کی سن نہیں رہیں وہ دنیا کو محسوس نہیں کر پا رہی ۔۔۔
ریحان ۔۔اور زر مان کو ایک ساتھ جھٹکا لگا تھا حیات اور رخسار اپنی جگہ شال رہ گئی تھی ۔۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا ۔۔
ڈاکٹر ابھی بھی بول رہا تھا لیکن ریحان کو ڈاکٹر کی اواز کھائی سے آتی سنائی دی تھی ۔۔
یہ بیماری ۔۔ ایک دن کی ہو سکتی ہے ایک سال کی ۔۔ دس سال کی ۔۔
یا پھر ممکن ہے کہ وہ اس بیماری میں ہی دم توڑ دیں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔۔
وہ اتنی خوف زدہ ہو گئی ہیں کے وہ ہوش میں آنا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔
ریحان بے ساختہ لڑکھڑایا ۔۔ یہ اس کی بہن کو کیا ہو گیا تھا ۔۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا ۔۔
زر مان کے فون پر بار بار فون ا رہا تھا ۔۔ لیکن اُٹھانے کی ہمت ہی نہیں تھی ۔۔
وہ کوریڈور سے گھوم گیا ۔۔ اب وہ کوریڈور سے باہر کی طرف جا رہا تھا ۔۔
ریحان خاموشی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ اب وہ باہر کی طرف بھاگنے لگا اس کے قدم من من بھاری ہو رہے تھے ۔۔
وہ جو اج اس کی دلہن بنے جا رہی تھی ۔۔ وہ لڑکی اب کوما میں تھی ۔۔
ایک ایسی بیماری میں جہاں انسان لاش بن جاتا ہے ۔۔ مطلب ہیر زندہ نہیں تھی ۔۔ بس سانس لے رہی تھی کیسے ہو سکتا تھا زر مان ہاسپٹل سے باہر آیا ۔۔ اُس کو کچھ ہوش نہیں تھا کے وہ اپنی
گاڑی میں بیٹھتا ۔۔ وہ پیدل ہی سرمئی سڑک پر بھاگنے لگا ۔۔
یہ کیا ہو گیا تھا ہیر خان کو ۔۔ اُس کی محبت تو اس کو ملنے جا رہی تھی نہ ۔۔
پھر ہیر کوما ۔۔ ہیر کیسے کوما میں جا سکتی تھی ۔۔
وہ کیوں خود کو ہوش میں نہیں لا رہی تھی ۔۔ کیا اُس کو زر مان کی پرواہ نہیں تھی
بے غیرت انسان ۔۔ تم نے میری بچی پر گولی چلائی کیسے ۔۔
کامران خان دلاور کو گریبان سے پکڑ کر جھنجوڑ رہے تھے ۔۔ جو خاموش کھڑا تھا ۔۔
احساس ہی اب ہوا تھا ۔۔ وہ کیا کر بیٹھا تھا ۔۔
یوسف اس کو میری نظروں سے دور لے جاؤ ۔۔ یوسف اس کی جان لے لینا ۔۔
اس کو پھانسی دے دو ۔۔ کامران اب انتہا کا رو رہے تھے ۔۔
میری ایک بیٹی ہے تم نے اس کی جان لے لی دلاور خان ۔۔
تم گھٹیا ادمی ہو ۔دفاع ہو جاؤ ۔۔
میری بچی کو کھا گئے تم ۔۔ کامران اب دلاور کو کبھی تھپڑ مار رہے تھے تو کبھی دھکے دے رہے تھے ۔۔۔ یوسف نے دلاور کو ہتھکڑی پہنانا شروع کر دی ۔۔
دلاور خان ۔۔ تمھیں میں گرفتار کرتا ہو ۔۔ اور انشاءاللہ تمھیں پھانسی دلوا کر سانس لوں گا ۔۔ تا کے تم عبرت بن جاؤ ۔۔
اُن مردوں کہ لیے جو آنا اور حیرت میں اپنی بہن کی جان لے سکتے ہیں ۔۔
دلاور خاموش کھڑا تھا اُس نے خود کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔۔
اور پھر وہ خاموشی سے یوسف کے ساتھ باہر چل پڑا کچھ دیر گزری تھی
اور ریحان نے ہیر کے کوما میں جانے کی خبر اپنے گھر والوں کو فون پر دی تھی ۔۔
کامران کے پاؤں سے جان نکل گئی ۔۔ وہ صوفے پر بیٹھتے چلے گئے ۔۔ ہیر کی امی اب خود رو رہی تھی ۔۔ جس بیٹی کو وہ آج رخصت کرنے
والے تھے وہ بیٹی اب زندہ لاش بن چکی تھی ۔۔ جس کو وہ آج دعائیں دے رہے تھے اس کے اپنے بھائی نے اس کو مارنے کی کوشش کی تھی اور اب وہ کوما میں تھی ۔۔ ایک لمبی بیماری میں ۔۔
کامران کے گھر میں جو ہنگامہ ہوا تھا وہ کچھ دیر بعد خبروں میں دکھایا جا رہا تھا ۔۔
جو قیامت ٹوٹی تھی اب لوگ اس کو سکرین پر دیکھ رہے تھے ۔۔
قاسم خان اس وقت جیل کی سلاخوں کے پاس سر ٹکہ کے کھڑا تھا ۔۔
اُس کے بابا نے بتایا تھا کہ بیل اج تو کیسی صورت نہیں ہو گی ۔۔
قاسم سوچ رہا تھا اب کیا کرے ۔۔ ویسے ہی قونین کے لیے پریشانی ہو رہی تھی ۔۔۔
جب نظر سامنے کھڑے سپاہی پر گئی ۔۔ پھر نظر ذرا نیچے جھکی ۔۔ اُس کی پینٹ کے جیب میں جیل کی چابیاں تھی
قاسم نے انگلی کے اشارے سے اُس کو بُلایا ۔۔
کیا ہے تُجھے سکون کیوں نہیں ہے تُجھے ۔۔تو گھٹیا ادمی بار بار بولا رہا ہے ابھی تیری چمڑی ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔۔
پولیس والا جس انداز میں بولا تھا قاسم کو ذرا پسند نہیں آیا ۔۔
زبان سنبھال کے بات کر تیرے باپ کی جیل نہیں ہے یہ ۔۔ مجھے پسند نہیں کوئی مجھے تو کر کے
مخاطب کرےاوقات میں رہنا سیکھ ۔ قاسم گمبھیر لہجے میں بولا تھا ۔۔
ایسے کہ پل بھر کے لیے پولیس والا خاموش ہو گیا تھا پھر وہ چلتا ہوا قاسم کے پاس ایا جیل کا دروازہ کھولا۔۔قاسم خان یہی تو چاہتا تھا ۔۔
وہ اندر آیا ۔۔ اور اپنی پینٹ کا بلڈ نکلا ۔۔ جس سے اس نے اب قاسم کو مارنا تھا ۔۔
اُس نے قاسم کو بلڈ مارنا چاہا ۔۔ قاسم نے بلڈ اُس کے ہاتھ سے پکڑا نیچے زمین پر پھنكا ۔۔
ایسا انداز تو میں اپنے باپ کا برداشت نہیں کرتا تو ایک معمولی پولیس والا ہے ۔۔
قاسم نے اُس کی ناک پر موقع مرتے ہوئے کہا ۔۔
قاسم کی انگوٹی اُس کی ناک پر لگی اور خون بہنے لگا ۔۔ اس سے پہلے پولیس والا سنبھلتا ۔۔
قاسم نے اُس کا سر پوری شدت سے دیوار میں دے مارا ۔۔ پولیس والے کا سر پھٹ گیا ۔۔۔
وہ اب زمین پر گرا پڑا تھا شاید مر گیا تھا یا زندہ تھا یہ کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کچھ دیر
بعد قاسم خان جیل سے باہر تھا۔۔۔
وہ چلتا ہوا اب کوریڈور میں باہر کی طرف جا رہا تھا
پولیس والے جو خاموش ہتھیار تان کے کھڑے تھے ۔۔ کوئی بھی قاسم کو پہچان نہیں سکا تھا قاسم نے خود پولیس والا یونیفارم پہن رکھا تھا ۔۔ اور یہ یونیفارم شاید اس پولیس والے کا تھا
جس کو کچھ دیر پہلے قاسم خان نے جیل کے اندر مارا تھا۔۔ چہرہ اُس نے کیپ سے دھک رکھا تھا گن قاسم کی پینٹ میں تھی ۔۔ وہ بالکل تیار پولیس والا ہی لگ رہا تھا۔۔ اب اگر قاسم کو کوئی پہچان سکتا تھا تو جیل کے باہر کھڑے پہرا دیتے پولیس والے ۔۔ جو جیل کے گیٹ کے باہر کھڑے تھے قاسم جیل سے باہر نکلا ۔۔ اور یہی ہوا انہوں نے پہچان لیا تھا ۔۔۔
قاسم پورے انتظام سے ایا تھا ۔۔ گن پر سیلنسر لگا ہوا تھا ۔۔ وہ دونوں پولیس والے کچھ کرتے قاسم نے گولیاں دونوں کے دماغ میں اُتار دی ۔۔
پھر مسکرایا ۔۔ نشانہ اچھا ہے میرا ۔۔
گن واپس ڈالتا اگے بڑنےلگا ۔۔ پھر پاس میں کھڑی گاڑی کی سیٹ سنبھالی جو شاید ان ہی پولیس والوں میں سے ایک کی تھی ۔۔ اور چابی قسمت سے اندر لگی تھی ۔۔ قاسم خان کے
ساتھ قسمت چلتی تھی ۔۔ ۔۔
جب وہ گھر میں داخل ہوا ۔۔ ادم خان جو صوفے پر بیٹھے تھے حیران ہو کر رہ گئے م۔ قاسم ۔۔۔
ت۔تم کیسے ائے ہو ۔۔
بھاگ کے آیا ہوں اور کیسے انا تھا ۔ قاسم بولتا ماں کے کمرے میں گیا جو باہر صوفے پر بیٹھی حیران رہ گئی تھی اپنے بیٹے کی بات پر۔ ۔
وہ اندر گیا ۔۔ قونین بیڈ پر لیٹی جگ رہی تھی ۔۔ قاسم نے اُس کو گود میں اٹھایا ۔۔
اُس کی پیشانی پر لب رکھے ۔۔ میرا بچہ ۔۔۔ میری گڑیا کیسی ہے ۔۔ اور پچھلے دن سے
بیمار قونین قاسم خان جوش میں اگئی ۔۔ اور پھر ہاتھ پاؤں مارنے لگی کبھی وہ ہنستی کبھی وہ موں میں ہاتھ ڈالتی ۔۔ وہ اپنے باپ کو دیکھ کے بہت خوش تھی ۔۔ قاسم نے اُس کو واپس بیڈ پر لٹایا اور خود اپنے کمرے میں ایا ۔۔ کپڑے بدلے فریش ہوا ۔۔ بیگ میں کچھ کپڑے
رکھے اور قونین کے بھی کچھ کپڑے اپنے بیگ میں رکھے ۔ ۔۔ اور جب باہر آیا تو ماں باپ حیران رہ گئے ۔۔اب تم کہاں جا رہے ہو قونین کو لے کے ۔۔؟ ماں نے پوچھا ۔۔
ملائیشیا ۔۔۔ قاسم کہتا باہر جانے لگا تو ادم بولے دماغ صحیح ہے تمھارا ۔۔ پولیس دوبارہ پکڑ لے گی
اگر بھاگنے کی کوشش کی تو ۔۔
وہ ویسے ہی بابا اب تک مجھے ڈھونڈ رہے ہوں گے اور اب کی بار اگر میں اُن کو مل گیا نہ تو سمجھ جائیں
میرا انکاؤنٹر کر دیں گے وہ ۔۔اس لیے بہتر ہے میں ملک چھوڑ جاؤں کچھ وقت بعد آجاؤں گا ۔۔
قاسم نے کہا اور گھر سے نکل گیا ۔۔ فون وغیرہ قاسم نے بند کر دیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاسم خان اس وقت جہاز میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا ۔۔ کچھ دیر بعد اس کا جہاز ملیشیا کے لیے پرواز بھرنے لگا تھا ۔۔ قاسم کے لیے مشکل نہیں تھا ملک سے باہر نکلنا ۔۔
ایئر پورٹ کی سیکیورٹی قاسم خان جیب میں ڈال کے گھومتا تھا ۔۔
افق کو اس کی امی ہاسپٹل میں لے کے بیٹھی تھی
اور ڈاکٹر افق کے کچھ دماغ کے ایکسرے دیکھ رہا تھا ۔۔ پھر اس نے سر اُٹھا کر افق مصطفی کو دیکھا ۔۔
پھر اس کی امی کو ۔۔ افق کے بابا مصطفیٰ صاحب دبئی میں رہتے تھے ۔۔
کچھ ناراضگیاں تھی دونوں میاں بیوی میں کبھی پاکستان انا ہی نہیں ہوا ۔۔ افق خود بھی کبھی اُن سے ملنے نہیں گیا تھا۔۔۔۔ افق خاموش سامنے بیٹھا تھا ۔۔ آنکھیں سرخ بال بکھرے ہوئے ۔۔ یہ وہ افق مصطفی نہیں لگتا تھا جو بالوں میں جل لگتا تھا ۔۔ اور وہ افق مصطفی نہیں تھا جس کی سیاہ انکھوں میں چمک رہتی تھی ۔۔۔۔۔ وہ برباد ہو گیا تھا ۔۔
اور اب اس کو کوئی بیماری لگ گئی تھی ۔۔۔ ڈاکٹر یہ چیزیں بھولنے لگا ہے ۔۔
اس کو کھانا کھانا یاد نہیں رہتا ۔۔ یہ بہت وقت سے گھر سے باہر نہیں نکلا ۔۔
اور یہ بہت کچھ بھولنے لگا ہے ۔۔ بہت یادیں اس کے دماغ سے غائب ہو رہی ہیں ۔۔
اور اگر یاد رہتی ہے تو بس ایک لڑکی ۔۔۔ ہیر خان ۔۔
ماں نے کہا ۔۔ افق خاموش بیٹھا تھا ۔۔
ڈاکٹر نے ایکسرے سے نظر ہٹائی اور افق کے چہرے کو دیکھا۔۔۔ ان کو الزائیمر ہے ۔۔
یہ بیماری مجھے ان کے سامنے تو بتانی نہیں چاہیے تھی میں جانتا ہوں ۔۔ لیکن میں یہ ان کے
سامنے بتا رہا ہوں ۔۔ افق مصطفی اپ کو الزائیمر ہے ایک ایسی بیماری جس میں انسان
سب کچھ بھولنے لگتا ہے ۔۔ اور سب سے زیادہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اپ کو اتنی سی عمر میں یہ بیماری لاحق ہو گئی ہے۔۔۔
جبکہ یہ بیماری اتنی چھوٹی عمر میں ہرگز نہیں ہوتی۔۔۔
ماں کی انکھوں میں انسو آگئے ۔۔ اپ سوچ رہی ہوں گی بیماری کب ہوئی ۔۔ میں اپ کو بتا دوں ۔۔ ان کو یہ بیمار پہلے بھی تھی ۔۔ بس کبھی
غور نہیں کیا شاید انہوں نے مصروف رہتے ہوں گے اس لیے اور اس بیماری نے اپنا
رنگ اُس وقت دیکھنا شروع کیا جب انہوں نے اس لڑکی کو کھو دیا ۔۔
اور اب یہ بیماری بڑھتی جائے گی ۔۔ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتا سکتا بس یہ سمجھ لیں کہ افق مصطفی ایک دن خد کو بھی بھول جائیں گے ۔۔ وہ بھول جائیں گے کے وہ کیا تھے ۔۔ وہ اپ کو
سب کو بھول جائیں گے اور یہ بات افق کو کمرے سے باہر بھیج کر ڈاکٹر نے بتائی تھی ۔۔
جتنا ہو سکے اپ اُن کا خیال رکھیں
اُن کو زیادہ سوچنے نہ دیں ۔۔ میں کچھ دوا لکھ دیتا ہوں ۔۔ لیکن یہ کھانے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اگر آپ ان کو 1 مہینہ پہلے لے کے اتی تو شاید کچھ ہو سکتا ۔۔
امید کرتا ہوں اپ اپنے بیٹے کا خیال رکھیں گی ۔۔
ماں انسو لیے اُٹھ کر ڈاکٹر کے کلینک سے افق کے ساتھ ہی باہر ا گئی۔۔ اور پورے راستے وہ روتی آئی ۔۔
اج ہیر کے دربار میں عرس لگا تھا ۔۔ شور دھمال اور لوگوں کا رش باہر تک تھا ۔۔
افق نے گاڑی وہاں روکی ۔۔۔ انجانا سا سکون محسوس ہوا پھر ماں نے افق کو گاڑی چلانے کو کہا ۔۔ اس نے خاموشی سے گاڑی چلا دی ۔۔
گاڑی میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۔۔
گاڑی میں سناٹا چھایا ہوا تھا اور اس سناٹے کو توڑتے ہوئے افق نے کہا۔۔
ممی ۔۔ گھر ک۔۔ کہاں ہے ۔۔ افق مصطفی گھر کا راستہ بھول گیا تھا ۔۔۔
ماں چہرے پر ہاتھ رکھتی رونے لگی ۔۔ پھر خود کو سنبھالا افق ۔آپ نیچے اتر کے دوسری طرف سے ا کے بیٹھیں میں چلاتی ہوں گاڑی ۔۔ افق نے خاموشی سے ماں کی بات سن لی ۔۔
ہاں شاید افق مصطفی کے دل سے نکلی اہ لگ گئی تھی ہیر خان کو ۔۔
جو ہیر کوما میں چلی گئی تھی ۔۔
لیکن افق کہاں ہوش میں تھا۔۔۔ اج وہ گھر کا راستہ بھول گیا تھا ۔
۔ کل کو اُس نے اپنا گھر بھول جانا تھا ۔۔ پرسوں اپنی ماں کو ۔۔
اور کچھ وقت بعد افق مصطفی نے بھول جانا تھا کے وہ خود کون تھا ۔۔ مصنف ۔۔
ایک ایسا مصنف جو الفاظوں میں جان ڈال دیتا تھا ۔۔۔
اور اب اس کی یاداشت ختم ہو رہی تھی ۔۔۔ قسمت نے افق مصطفی پر ستم کیا تھا ۔۔۔
ہیر بیڈ پر بے ہوش لیتی تھی ۔۔ سانس لے رہی تھی کچھ سن نہیں رہی تھی ۔
۔ زر مان راجپوت وہ نہ جانے کہاں تھا ۔۔ وہ ہاسپٹل میں تو نہیں تھا
ریحان اور اس کے بابا کامران ہاسپٹل میں تھے
یوسف پولیس اسٹیشن میں تھا ۔۔ حیات رخسار کو انہوں نے خود گھر جانے کو کہا تھا ہیر کی
امی ہاسپٹل آئی تھی لیکن کامران اور ریحان کے کہنے پر چلی گئی تھی ۔۔۔
اعلی ۔۔۔۔ علی کی انکھوں سے کچھ چھپا نہیں تھا وہ جانتا تھا ہیر کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔۔
کس نے کیا تھا ۔۔۔ وہ اس وقت پولیس اسٹیشن میں تھا یوسف دلاور کو پولیس اسٹیشن
چھوڑ کے خود ہاسپٹل کے لیے نکل تھا ۔۔ علی جیل کے سامنے کھڑا تھا ۔۔
۔۔ یوسف نے اس کو نہیں دیکھا تھا وہ جا چکا تھا ۔۔ دلاور خاموشی سے کھڑا تھا جب علی نے اُس کو اواز دی تھی ۔۔
منا کیا تھا نہ میں نے تمہیں ۔۔ کے ہیر سے دور رہنا ۔۔ دلاور خاموش علی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
یہ کوئی جانا پہچانا چہرہ نہیں تھا ۔۔ دلاور نے کبھی اس کو دیکھا بھی نہیں تھا ۔۔
کون ہو تم ۔۔
اعلی ہوں میں ۔۔ وہ علی جس نے ہیر کو تم سے بچایا تھا ۔۔ اور بد قسمتی کے اُس روز میں ہیر کو بچا نہیں سکا ۔۔
درندے ہو تم دلاور خان ۔۔۔ دلاور خاموشی کو توڑتے بولا ۔۔ تو مار کیوں نہیں دیتے مجھے ۔
میری وجہ سے میری بہن کا وہ حل ہوا ہے مار دو مجھے ۔۔
۔۔ تمھیں ضرور مروں کا دلاور ۔۔ لیکن پہلے تم یہاں تڑپو گے ۔۔ علی گھوم گیا ۔۔
پھر ایک کانسٹبل کے پاس ایا ۔۔ وہ یاسر نہیں تھا یاسر کچھ دن سے بیمار تھا وہ ا نہیں رہا تھا ۔۔ یہ
کوئی اور تھا جو یاسر کے کام کو سنبھال رہا تھا ۔۔ علی نے جیب سے کوئی کارڈ نکلا ۔۔ کا نسٹبل نے کارڈ دیکھا اور اپنا ہاتھ سلیوٹ کے لیے سر تک لے گیا ۔۔
جو علی نے اگنور کیا تھا ۔۔
اس کو اتنا مارو ۔۔ اتنا مارو کے اس کے جسم کی کوئی جگہ نہ بچے جہاں سے خون نہ نکلے ۔۔
کانسٹبل کچھ گڑ بڑیا۔۔ س ۔۔ سر وہ یوسف صاحب ابھی ائے۔۔ نہیں ہے اُن سے پوچھ
کے میں یہ کروں گا ۔۔
تمھیں جو کہا ہے وہ کرو اے ایس پی کو سنبھال لوں گا میں وہ کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔
اعلی کہتا پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گیا ۔۔
اور اب پولیس والا دلاور کو مارنے لگا تھا ۔۔ اوپر سے آوڈر تھے ۔۔ پولیس والوں کی طرف
سے نہیں تھا یہ آوڈر ۔۔ ان سے بڑی پوسٹ والے کا آوڈر تھا یہ ۔۔ مننا ان کی ذمے داری تھی ۔۔۔
وہ اب دلاور کو مار رہا تھا ۔۔ دلاور خان مار کھاتا رہا
پولیس والے درندوں کی طرح دلاور خان پر ٹوٹ پڑے تھے ۔۔
دلاور کو الٹا لٹکا کے وہ چار پولس والے مار رہے تھے ۔۔
جب یوسف واپس آیا اور سامنے کا منظر دیکھا تو حیران رہ گیا ۔۔
یہ کس نے مارا ہے اس کو ۔۔ یوسف نے دلاورکو دیکھ کے پوچھا جو زمین پر گرا پڑا تھا ۔۔
سانس چل رہی تھی لیکن اُٹھنے کی سکت نہیں تھی ۔۔
ایک کانسٹیبل سامنے آیا۔۔ سر ۔۔ اوپر سے آوڈر تھا ۔۔
کہاں اوپر سے کس نے دیا آوڈر ۔؟
سر ۔۔ملٹری سے آوڈر تھا ۔۔ بلکہ اُن کا آفیسر آیا تھا ۔۔۔
کیا نام تھا آفیسر کا ۔۔ یوسف نے اگلا سوال کیا
سر علی ۔۔۔ یوسف اب کی بار خاموش ہو گیا تھا ۔
۔ یوسف نام سے واقف تھا لیکن کبھی دیکھا نہیں تھا علی کو ۔۔ اور اگر کبھی دیکھا بھی ہوا ۔
۔ تو یقیناً اُس کے اپنے چہرے سے اس کو نہیں دیکھا ہو گا ۔۔
وہ کیسا دیکھتا تھا ۔ یوسف نے اگلا سوال کیا تو پولس والے نے سوچا پھر بولا ۔۔
سر کالے بال تھے ۔
۔ موٹا تازہ وجود تھا ۔۔ میں حیران تھا کے کوئی ارمی میں ایسی باڈی کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے ۔
۔ اور بہت سانولی رنگت تھی ۔۔
یوسف نے کچھ دیر سوچا ۔۔ اور یوسف کے لیے یہ جان پنا مشکل نہیں تھا ۔
کے وہ بھیس بدل کے آیا تھا ۔۔۔ وہ کہاں اپنا چہرہ دیکھتا تھا ۔۔
اب یوسف کو علی کو ڈھونڈنا تھا ۔۔ آخر یہ علی کا کیا تعلق تھا ہیر سے جو وہ دلاور کو مارنے کا کہہ کر گیا تھا ۔۔
یوسف اپنے افس میں بیٹھا سوچ رہا تھا ۔۔ دماغ پر زور دیا ۔۔ ایک لمحہ یوسف ملک کی انکھوں کے سامنے دوڑ گیا ۔۔
ہیر جب اغوا ہوئی تھی۔۔
کہانی میں ذرا پیچھے جاتے ہیں ہیر کے اغوا والی رات پر ۔۔۔۔
ہیر اندر گھر میں داخل ہوئی تھی ۔۔ دلاور نے اس کے چہرے پر تھپڑ مارا تھا ۔۔
ہیر نے بتایا وہ اغوا ہو گئی تھی ۔۔
یوسف مجھے اس ادمی کی لاش یہاں چاہیے ۔۔ کامران خان نے کہا تھا ۔۔
اور یوسف یہ کہتا گھر سے باہر نہیں نکلا تھا ۔۔ اُس نے ہیر کو اپنے ساتھ کمرے میں انے کو کہا تھا ۔۔
ہیر بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔
دیکھو گڑیا ۔۔ تم میری بہن ہو تم مجھے بتا سکتی ہو وہ ادمی کون تھا کیوں کے میں پولیس والا ہوں میں جانتا ہوں تم جو نظریں چرا رہی ہو ۔۔
کچھ ایسا ہے جو تم نہیں بتا رہی ۔۔۔ تم بتاؤ۔ ۔۔ شاید میں تمھاری مدد کر سکوں ۔۔
ہیر نے کچھ دیر سوچا ۔۔ پھر بولی
یوسف بھائی ۔۔ و۔۔ اس کا نام علی تھا ۔۔
میں اس کی گاڑی سے ٹکرائی تھی ۔۔ اور پھر وہ مجھے اپنے گھر لے گیا تھا ۔۔
مجھے نہیں پتہ وہ گھر کہاں پر ہے میری آنکھوں پر پٹی باندھ کے مجھے چھوڑ کے گیے تھے وہ لوگ ۔۔
ہیر اہستہ اہستہ سارا کچھ بتاتی گئی یوسف خاموشی سے ساری بات سن رہا تھا۔۔
۔ اچھا وہ دیکھنے میں کیسا تھا۔۔۔
وہ سفید رنگت کا تھا ایسا لگتا تھا جیسے کوئی باڈی بلڈر ہو۔۔۔اور گھنگریالے بال تھے۔
۔ ہیر کوئی خاص چیز جو تم نے اس میں دیکھی ہو ؟
ہیر نے سوچا ۔۔
بھائی اس کی گردن میں ایک چھوٹا سا لاکٹ تھا۔۔ گولڈن چین والا۔۔
اُس لاکٹ میں ایک سرخ رنگ کا چمکتا باز بنا تھا ۔۔ ایگل۔۔۔
۔ ہیر نے کہا تو یوسف اُٹھ کے کمرے سے باہر چلا گیا انکل آپ بالکل بھی فکر نہ کریں میں
لازمی اس ادمی کو ڈھونڈ نکالوں گا وہ جو کوئی بھی ہے۔۔۔ یوسف کہتا گھر سے باہر نکل گیا تھا اور ہیر اپنے کمرے میں ہی رہ گئی ۔۔۔
یوسف نے کرسی پر سیدھے ہوتے ہوئے کانسٹیبل کو اپنی طرف بلایا۔۔
وہ خاموشی سے چلتا ہوا یوسف کی طرف آیا
جی سر۔۔
تم نے علی کے اندر کچھ عجیب چیز محسوس کی کوئی ایسی چیز جس سے وہ پہچانا جا سکتا ہو۔۔
مطلب کچھ بھی کوئی ایسی چیز جو اس نے پہن رکھی ہو یا کچھ بھی۔
کونسٹیبل نے ذرا دیر کو سوچا۔۔ اس نے علی کو بہت غور سے دیکھا تھا۔۔۔
سر وہ ٹراؤزر شرٹ پہنے ہوئے تھا۔۔ اس کے گلے میں ایک سنہری پتلی چین لٹک رہی تھی
جس میں ایک باز بنا تھا ۔۔۔ سرخ رنگ کا باز۔۔
اور یوسف ملک سمجھ گیا ۔۔ ہیر کو اغوا کرنے والا اور یہاں انے والا آدمی ایک ہی تھا ۔۔۔
ٹھیک ہےتم جاؤ ۔۔ یوسف کو اب علی کو ڈھونڈنا تھا ۔۔ آخر کون تھا یہ علی ۔۔
جو ہیر کا خیال رکھ رہا تھا یہ نکسان پہنچانے کے لیے اس کے ارد گرد تھا۔۔۔
زر مان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا ۔۔ اُس کی امی اس کے سامنے بیٹھی تھی۔
۔ زرمان تم کب سے یہاں پر بیٹھے ہو کچھ کھا پی لو بیٹا کیا ہو گیا ہے۔۔
امی جب تک ہیر کو
ہوش نہیں اجاتا میں کچھ بھی نہیں کھاؤں گا آپ نے دیکھا ہے وہ کوما میں چلی گئی ہیں
امی ان کی طبیعت بہت خراب ہے۔
۔ زر مان ۔۔ صبر کرو۔ اللہ ہے نہ ۔۔ ہیر کو ہوش آجائے گا ۔۔
امی ڈاکٹر نے کہا ہے وہ کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انہیں ہوش کب آئے گا۔۔
میرا سر درد کر رہا ہے امی۔۔ زرمان ماں کو گلے لگائے رونے لگا۔۔ آپ نے تو دعائیں دی
تھی نا آپ نے تو کہا تھا سب اچھا ہوگا۔۔ لیکن دیکھیں ہیر کے بھائی نے اس کے ساتھ کیا کر دیا کچھ بھی اچھا نہیں ہوا امی۔۔ وہ ہوش میں نہیں آ رہی۔۔
آپ کو پتہ ہے جب سے ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ وہ نہیں جانتا ہیر کو کب ہوش آئے گا تب سے میرا دل کرتا ہے میں کسی دیوار میں ٹکر مار لوں تاکہ میرا بھی سر پھٹے کاش کہ میں بھی کوما میں چلا جاؤں۔۔۔ یا میں یہاں سے بہت دور چلا جاؤں جہاں پر کوئی بھی مجھے نہ محسوس کر سکے کوئی اپنا نہ ہو۔۔۔
مجھے یہاں سکون نہیں آ رہا ۔۔ زر مان پاگلوں جیسی باتیں مت کرو ۔۔ کیا ہو گیا ہے ۔۔
امی آپ دعا کریں نا ہیر ٹھیک ہو جائیں ۔۔
ماں زر مان کو صبر دے کے کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔ اور وہ کیا کرتی ۔۔ اُن کا بیٹا پہلے ہی دیوانہ تھا اور اب اور ہو رہا تھا ۔۔
جاری ہے ۔۔۔
