Inikas Episode 4 written by siddiqui

انعکاس ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۴

کمرہ خالی تھا۔
لیکن خالی کمرے کبھی سادہ نہیں ہوتے…
وہ اپنے اندر آوازیں محفوظ رکھتے ہیں۔
جِشاء بستر کے کنارے بیٹھ گئی۔
ہاتھ ابھی تک ہوا میں معلق تھا… جیسے وہ کسی کو روکنے نکلی ہو اور دیر ہو گئی ہو۔
نہان… اُس نے بہت آہستہ پکارا۔
کوئی جواب نہیں آیا۔
پہلے جب وہ ناراض ہوتا تھا تو ٹھنڈ بڑھ جاتی تھی۔
چراغ مدھم ہو جاتے تھے۔
دیواروں کے سائے گہرے ہو جاتے تھے۔
آج… سب معمول کے مطابق تھا۔
اور یہی سب سے زیادہ خوفناک تھا۔
اگلی صبح وہ یونیورسٹی گئی… مگر جیسے جسم گیا ہو، روح نہیں۔
نورا کچھ کہہ رہی تھی۔
عمر اُس کے سامنے ہاتھ ہلا رہا تھا۔
جِشاء؟ ہیلّو؟ کہاں کھوئی ہو؟
وہ مسکرائی۔ مصنوعی۔ ہلکی۔ بے وزن۔
بس نیند کم ہوئی ہے…
عمر نے پیشانی پر ہاتھ رکھا۔
تم ٹھیک تو ہو؟ کل بھی تم جلدی سونا چاہ رہی تھی۔
جلدی سونا؟
وہ تو پوری رات جاگتی رہی تھی۔ ہر گھنٹے بعد آنکھ کھولتی۔ سننے کی کوشش کرتی۔ کمرے میں سردی تلاش کرتی۔ کچھ نہیں تھا۔
دو دن گزر گئے۔ نہان نہیں آیا۔
تیسرے دن اُس نے جان بوجھ کر خود کو اکیلا کیا۔
نورا نے مووی کا پلان بنایا، اُس نے بہانہ کر دیا۔
عمر نے کافی کا کہا، اُس نے سر درد کا کہا۔
وہ جلدی گھر آ گئی۔ کمرہ بند کیا۔ لائٹس بند کیں۔
بیڈ لیمپ آن کیا۔ وہی ماحول بنایا… جو پہلے خود بخود بن جاتا تھا۔
میں آگئی ہوں… اُس نے آہستہ کہا۔
خاموشی۔ میں ناراض نہیں ہوں…
کوئی سایہ نہیں ہلا۔
اُس کا دل بے ترتیب دھڑکنے لگا۔
پلیز… اُس کی آواز ٹوٹ گئی۔ میں نے وہ مطلب نہیں لیا تھا… تم غیر ضروری نہیں ہو…
آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ مگر کمرہ بے حس تھا۔
چوتھے دن اُس نے کھانا کم کر دیا۔
پانچویں دن کلاس چھوڑ دی۔
چھٹے دن اُس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے بات کی۔
تم مضبوط ہو… اُس نے اپنے عکس سے کہا۔
تم اُس کے بغیر بھی ٹھیک ہو…
مگر آئینے میں آنکھیں سرخ تھیں۔ چہرہ زرد تھا۔ ہونٹ سوکھے ہوئے۔ رات کو وہ فرش پر بیٹھ گئی۔
میں غلط تھی… وہ سسکی۔
مجھے نارمل نہیں ہونا… مجھے تم چاہیے…
خاموشی۔
اور اس خاموشی نے اُس کے اندر چیخنا شروع کر دیا۔
عمر نے اگلے ہفتے محسوس کیا۔
تم کمزور لگ رہی ہو۔
وہ واقعی پریشان تھا۔
جِشاء، کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں۔ بس تھک گئی ہوں…
نورا نے غور سے دیکھا۔
تم پھر اُس سے بات کر رہی ہو نا؟
جِشاء چونکی۔
کون…؟
نورا کی آنکھوں میں خوف کی ہلکی سی جھلک تھی۔
وہی… جس کا تم پہلے ذکر کرتی تھیں۔
جِشاء کے گلے میں کچھ اٹک گیا۔
وہ چلا گیا… اُس نے سرگوشی کی۔
نورا خاموش ہو گئی۔ عمر بھی بےبسی سے سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔
لیکن وہ دونوں اندر ہی اندر خوش تھے کہ جشاء کی زندگی سے آخری کار وہ نکل گیا۔۔۔ اُن کا مقصد کامیاب ہُوا۔۔۔ وہ سچ میں جن تھا یا اُس کا وہم کو بھی تھا۔۔ وہ دونوں جشاء کی زندگی سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔۔۔
اُس رات جِشاء نے پہلی بار چیخ کر پکارا۔
نہان!!
آواز دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔ ہاتھوں سے کان بند کر لیے۔
واپس آ جاؤ… میں خود کو نہیں سنبھال پا رہی…
کمرے کی ہوا میں ہلکی سی لرزش آئی۔ بہت ہلکی۔
بیڈ لیمپ کی روشنی ایک لمحے کو کانپی۔
جِشاء نے سانس روک لی۔
نہان…؟
پلیز… مت جائیں… واپس آجائیں آئی ایم سوری وہ روتی ہوئی آگے بڑھی۔
مجھے نہیں آتا۔۔۔ وہ چیخی۔ مجھے نہیں آتا خود کے ساتھ رہنا۔۔۔
آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
میں خود کو نہیں چاہتی… مجھے تم چاہیے…
نہان…
جِشاء فرش پر گری رہی۔ ہچکیوں کے ساتھ روتی رہی۔

++++++++++++

ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔
مگر نہان کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔
نہ وہ مانوس سی ٹھنڈک لوٹی تھی، نہ مدھم سرگوشیاں، نہ رات کے سناٹے میں وہ گہری آواز…
کمرہ اب بالکل عام لگنے لگا تھا۔
اور شاید یہی سب سے غیر معمولی بات تھی۔
جِشاء کی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی تھی۔
بھوک جیسے اُس سے روٹھ گئی تھی۔
کبھی پورا دن صرف ایک کپ کافی پر گزار دیتی، کبھی دو دو وقت کا کھانا ویسے ہی پڑا رہتا۔
رات بھر جاگتی رہتی۔
صبح آنکھیں سرخ ہوتیں، مگر نیند پھر بھی نہیں آتی تھی۔
یونیورسٹی جانا بھی اب اُس کے لیے ایک بوجھ بن گیا تھا۔
کلاس میں پروفیسر کیا پڑھا رہے ہوتے، اُسے کچھ سمجھ ہی نہیں آتا۔
کتاب کھولتی تو لفظ دھندلا جاتے۔
ہر چند منٹ بعد نظریں بے اختیار دروازے کی طرف اٹھ جاتیں…
جیسے دل کو اب بھی یقین ہو کہ شاید اگلے ہی لمحے نہان آ جائے۔
نورا اور عمر شروع کے چند دن مسلسل اُس سے پوچھتے رہے۔
جِشاء، طبیعت ٹھیک ہے؟
کچھ کھایا تم نے؟
ڈاکٹر کے پاس چلیں؟
اور ہر بار ایک ہی جواب ملتا۔
میں ٹھیک ہوں…
حالانکہ وہ بالکل ٹھیک نہیں تھی۔
چہرے کی رونق ماند پڑ چکی تھی۔
آنکھوں کے نیچے گہرے سیاہ حلقے اُتر آئے تھے۔
چند قدم چلنے سے بھی سانس پھولنے لگی تھی۔
آخرکار نورا اور عمر نے بھی سمجھ لیا کہ شاید اُسے کچھ وقت چاہیے۔
وہ اب زیادہ اصرار نہیں کرتے تھے۔
بس خاموشی سے اُس کا خیال رکھنے کی کوشش کرتے۔
مگر جِشاء…
وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ خود سے بھی دور ہوتی جا رہی تھی۔
پھر ایک صبح…
وہ حسبِ معمول یونیورسٹی جانے کے لیے بستر سے اُٹھی۔
مگر جیسے ہی کھڑی ہوئی، اُس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔
قدم لڑکھڑائے۔
اس نے دیوار کا سہارا لینے کی کوشش کی…
مگر ہاتھ خالی ہوا میں رہ گیا۔
اگلے ہی لمحے اُس کا جسم بے جان ہو کر فرش پر گر پڑا۔
زور دار آواز سن کر نورا اپنے کمرے سے بھاگتی ہوئی باہر آئی۔
جِشاء!
وہ گھبرا کر اُس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
جِشاء کی پیشانی پر ہاتھ رکھا تو اُس کا ہاتھ جھٹکے سے پیچھے ہٹ گیا۔
یا اللہ…
اُس کا پورا جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا۔
ہونٹ سوکھ چکے تھے۔
سانسیں بے ترتیب چل رہی تھیں۔
نورا کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
کانپتے ہاتھوں سے اُس نے فوراً عمر کو فون ملایا۔
عمر… جلدی آؤ!
اُس کی آواز رونے کے قریب تھی۔
جِشاء کی حالت بہت خراب ہے…

+++++++++++++

ہسپتال پہنچتے ہی جِشاء کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا۔
نورا کے ہاتھ کانپ رہے تھے، جبکہ عمر بار بار بےچینی سے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آئے۔
گھبرانے کی بات نہیں ہے، انہوں نے اطمینان سے کہا۔ شدید کمزوری، پانی کی کمی اور کئی دنوں سے مناسب کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑی ہے۔ ہم نے چند ڈرپس لگا دی ہیں، اب حالت بہتر ہے۔
نورا نے گہرا سانس لیا۔
کیا انہیں داخل کرنا پڑے گا؟
نہیں، اگر گھر پر ان کا اچھی طرح خیال رکھا جائے تو آج ہی ڈسچارج کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر نے فائل بند کرتے ہوئے تاکید کی،
وقت پر کھانا، مناسب آرام اور ذہنی دباؤ سے دور رکھیں۔ اگر دوبارہ ایسی حالت ہوئی تو فوراً لے آئیں۔
چند گھنٹوں بعد جِشاء کو ڈسچارج کر دیا گیا۔
وہ بہت کمزور لگ رہی تھی۔
چہرہ زرد تھا اور چلتے ہوئے بھی عمر کو اُس کا بازو تھامنا پڑ رہا تھا۔
گھر پہنچ کر نورا نے اُسے احتیاط سے بستر پر لٹا دیا۔
کمبل درست کیا۔
پانی کا گلاس اور دوائیاں سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیں۔
دوائی وقت پر کھا لینا، اُس نے نرمی سے کہا۔
اور کچھ چاہیے ہو تو فوراً فون کرنا۔
جِشاء نے بس ہلکا سا سر ہلا دیا۔
اُس میں بولنے کی بھی ہمت نہیں تھی۔
عمر دروازے تک آیا۔
اُس نے ایک لمحہ جِشاء کو دیکھا، پھر دھیمی آواز میں بولا،
آج رات مجھے ایک ضروری کام ہے، ورنہ میں یہیں رکتا۔
نورا نے بھی افسوس سے کہا،
میرے گھر میں بھی امی ابّو باہر ہے، اور گھر پر میرا چھوتا بھائی اکیلا ہے، لیکن میں کل یونیورسٹی نہیں جاؤں گی، سیدھا تمہارے پاس آؤں گی۔
جِشاء نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔
میں ٹھیک ہوں… تم لوگ فکر مت کرو۔
دونوں نے ایک بار پھر اُسے دیکھ کر اطمینان کرنے کی کوشش کی۔
دروازہ بند ہوا…
اور فلیٹ ایک بار پھر خاموش ہو گیا۔
وہی خاموشی…
جس سے جِشاء اب ڈرنے لگی تھی۔
اُس نے آہستہ سے آنکھیں بند کر لیں۔
نجانے کیوں…
آج اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ گھر میں لوگوں کی موجودگی اور کسی ایک وجود کی موجودگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔

++++++++++++++

رات اس حد تک خاموش تھی کہ اپنی سانسوں کی آواز بھی اجنبی لگ رہی تھی۔ جِشاہ کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی۔ کمرے کی لائٹس بند تھیں۔
صرف باہر کی روشنی اُس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
آنکھیں سوجی ہوئی۔ ہونٹ بے رنگ۔
چند دنوں میں وہ جیسے مہینوں کی تھکن اوڑھ چکی تھی۔
میں تھک گئی ہوں… اُس نے سرگوشی کی۔
کوئی جواب نہیں آیا۔ اس بار اُس نے پکارا بھی نہیں۔
آج اُس نے فیصلہ کیا تھا… کہ وہ مزید انتظار نہیں کرے گی۔
ٹیبل پر پڑی نیند کی گولیوں کی بوتل اُس نے اٹھائی۔
ہاتھ کانپ رہے تھے۔ دل بے ترتیب دھڑک رہا تھا۔
آپ کہتے تھے نہ میں آپ کے بغیر بھی جی سکتی ہوں… اُس کی آنکھوں سے آنسو گرے۔ دیکھیں… نہیں جی پا رہی۔۔۔
وہ بستر پر بیٹھ گئی۔ ایک ایک کر کے گولیاں ہتھیلی پر انڈیل لیں۔ کمرہ بالکل ساکت تھا۔
اگر آپ ہو… تو آ جائیں پلز۔۔ اُس نے آخری بار کہا۔
آواز میں ضد نہیں تھی۔ بس ٹوٹا ہوا یقین تھا۔
خاموشی۔
اُس نے آنکھیں بند کیں… اور ہاتھ لبوں کی طرف بڑھایا۔
اسی لمحے ہوا یکایک برف کی طرح ٹھنڈی ہو گئی۔ بیڈ لیمپ خود بخود جل اٹھا۔ گولیاں اُس کی ہتھیلی سے بکھر کر فرش پر گر گئیں۔ جِشاہ کی آنکھیں کھل گئیں۔
کمرے کے کونے میں سایہ گہرا ہو رہا تھا۔
تمہیں خود کو مارنے کی اجازت کس نے دی؟
وہی آواز۔ گہری۔ سرد۔ مگر اس بار… کانپتی ہوئی۔
نہان… اُس کے لب ہلے۔
سایہ دیوار سے الگ ہوا۔
آہستہ آہستہ واضح شکل اختیار کرتا ہوا۔
آنکھیں اس بار پہلے سے زیادہ سیاہ تھیں۔
میں نے کہا تھا میں نہیں آؤں گا… اُس کی آواز میں غصہ تھا۔ مگر یہ…؟ یہ کیا کر رہی تھیں تم؟
جشاء مسکرائی آپ تو چلے گئے تھے نا…؟ آنسو بہہ رہے تھے۔ آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟
اگلے ہی لمحے وہ اُس کے سامنے تھا۔
فرق پڑتا ہے۔۔ اس بار آواز بلند ہوئی۔ دیواریں لرزیں۔
تمہیں لگتا ہے میں اس لیے گیا تھا کہ تم خود کو ختم کر دو؟
وہ رو پڑی۔
میں اکیلی ہوں…
نہیں۔۔۔ اُس نے سختی سے کہا۔
تم اکیلی نہیں ہو۔ تم بس خود سے بھاگ رہی ہو۔۔۔
مجھے خود سے نفرت ہے… وہ سسکی۔ جب آپ نہیں ہوتے تو میرے دماغ میں شور ہوتا ہے… مجھے سکون نہیں ملتا…
نہان کی آنکھوں میں لمحہ بھر کو درد جھلکا۔
میں سکون نہیں تھا… اُس نے آہستہ کہا۔
جِشاہ نے لرزتے ہاتھ سے اُس کا بازو پکڑنا چاہا مگر ہاتھ ہوا میں ٹھہر گیا۔ وہ اُسے اس بار چھو نہیں سکتی تھی۔
مت جائیں… اُس کی آواز بچے جیسی ہو گئی۔ مِیں کچھ نہیں کروں گی… بس مت جائیں…
نہان نے نظریں جھکا لیں۔
اگر آج میں نہ آتا… اُس کی آواز بھاری تھی۔
تو تم مر جاتیں۔
کمرے میں یہ لفظ گونج گئے۔
مر جاتیں۔
جِشاہ کے ہونٹ کانپے۔
میں نے تمہیں کیا سکھایا ہے۔۔۔؟؟ اپنا حال دیکھو۔۔ یہ کیا حال بنا لیا ہے تُم نے اپنا۔۔۔؟؟ تُم ایسی تو نہیں تھی۔۔۔
وہ خاموش رہی۔
گولیاں ابھی بھی فرش پر بکھری تھیں۔ نہان نے ہاتھ اٹھایا۔ وہ سب خود بخود واپس بوتل میں چلی گئیں۔
نہان کی آنکھیں اُس کے چہرے پر جمی رہیں۔
وہ رو رہی تھی… مگر اس بار آنسوؤں میں ضد نہیں تھی۔ بس خالی پن تھا۔
سب کچھ دوبارہ شروع کرنا پڑے گا… اُس نے دھیرے سے کہا۔
کیا؟ جِشاہ کی آواز ہچکیوں میں الجھی ہوئی تھی۔
سیلف کیئر۔۔
جِشاہ نے فوراً سر ہلایا۔ میں سب کر لوں گی… بس آپ میرے ساتھ رہیں۔ میں ٹھیک رہوں گی۔
ایک شرط پر۔
کیا؟
تم میری سنو گی۔ مجھ سے بحث نہیں کرو گی۔ جب میں کہوں گا کھاؤ… تو کھاؤ گی۔ جب کہوں گا سو جاؤ… تو سو جاؤ گی۔ جب کہوں گا لوگوں سے فاصلہ رکھو… تو رکھو گی۔
جِشاہ نے بغیر سوچے فوراً کہا، ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے۔ میں مان جاؤں گی۔ بس آپ کہیں مت جانا۔
پہلا اصول… اُس نے نرم مگر واضح لہجے میں کہا، تم خود کو تکلیف نہیں دو گی۔ کبھی بھی۔ چاہے میں موجود ہوں یا نہیں۔
جِشاہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
دوسرا اصول… تم سارا دِن گھر سے باہر نہیں رہوں گی، اور چھوٹی سے بڑی بات جو بھی بات ہوگی مُجھے سے شیئر کرو گی۔۔۔ اور گھر کے سارے کام بھی اب میں نہیں تُم خود کروں گی۔۔ گھر کا خیال بھی تُم خود رکھو گی اور اپنا بھی۔۔۔ میں بس تُمہارے ساتھ رہونگا
وہ چونکی۔ کیا مطلب؟ لیکن ابھی تو آپ نے کہا۔۔
بحث نہیں کرو گی۔ اُس نے یاد دلایا۔
جِشاہ خاموش ہو گئی۔
کمرے کی فضا آہستہ آہستہ متوازن ہونے لگی۔ اُس کے دل کی دھڑکن بھی۔ نہان اُس کے سامنے بیٹھ گیا۔
کل صبح تم یونی جاؤ گی۔ وقت پر۔ ناشتے کے بعد۔
جِشاہ کی آنکھوں میں پھر آنسو آ گئے۔
آپ واقعی نہیں جائیں گے نا؟
نہان نے ایک لمحے کو اُس کے بالوں کے قریب ہاتھ روکا… پھر ہلکا سا اُس کے بالوں پر اپنا ہاتھ سلایا۔۔۔
میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اُس نے آہستہ کہا۔ تُمہارے ساتھ ہی رہوں گا ہمیشہ۔۔۔
جِشاہ نے پہلی بار گہری سانس لی۔ کئی دنوں بعد۔

سو جاؤ۔ اب۔۔۔۔ نہان نے دھیرے سے کہا۔ میں یہی ہوں۔۔۔
ہمیشہ…؟ اُس نے نیم خوابیدہ مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا۔
ہاں۔
وہ لیٹ گئی۔ آنکھیں بند کیں۔ اب اُس کا دماغ پُر سکون تھا کوئی آوازیں کوئی خیالات اُسے بے چین نہیں کر رہے تھے۔۔۔ اتنے دِن بعد آج وہ پر سکون کی نیند ہوئی تھی۔۔۔

++++++++++++++

اگلی صبح سورج کی ہلکی روشنی پردوں سے چھن کر کمرے میں پھیل رہی تھی۔
کئی دنوں بعد…
جِشاء کی آنکھ خود بخود کھلی۔
سر اب بھی ہلکا ہلکا بھاری تھا، جسم میں کمزوری باقی تھی، مگر دل…
دل عجیب حد تک پُرسکون تھا۔
وہ چند لمحے خاموش لیٹی رہی۔
پھر بے اختیار اُس کی نظریں کمرے میں گھومیں۔
کمرہ بالکل ویسا ہی تھا۔
مگر اب وہ خالی محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
اُس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
گڈ مارننگ…
اُس نے بہت آہستہ کہا۔
کمرے کے کسی کونے سے گہری آواز ابھری۔
گڈ مارننگ، جِشاء۔
اُس نے آنکھیں بند کر کے ایک لمحے کے لیے سکون کا سانس لیا۔
میں نے کہا تھا نا… میں یہیں ہوں۔
جِشاء نے کچھ نہیں کہا۔
صرف خاموشی سے اُٹھ کر بستر درست کرنے لگی۔
نہان اُسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔
پہلا کام…
اُس نے سنجیدگی سے کہا۔
ناشتہ۔
جِشاء نے ہلکی سی شرارت سے ہونٹ سکیڑے۔
اتنی صبح؟
نہان نے بس ایک نظر اُسے دیکھا۔
جِشاء…
وہ فوراً مسکرا دی۔
اچھا… کھا لیتی ہوں۔
کئی دنوں بعد اُس نے اپنی مرضی سے ناشتے کی پلیٹ ختم کی۔
دوائیاں وقت پر کھائیں۔
اور پھر آہستہ آہستہ تیار ہونے لگی۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد دروازے کی گھنٹی بجی۔
نورا تھی۔
اُس کے پیچھے عمر کھڑا تھا۔
جِشاء نے دروازہ کھولا۔
دونوں چند لمحے اُسے دیکھتے ہی رہ گئے۔
چہرہ اب بھی زرد تھا۔
آنکھوں کے نیچے حلقے بھی موجود تھے۔
لیکن…
آج اُس کی آنکھیں و چمک رہیں تھی۔۔۔
نورا نے حیرت سے پوچھا،
تم… پہلے سے کافی بہتر لگ رہی ہو۔
جِشاء نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
ہاں… اب کافی بہتر محسوس کر رہی ہوں۔
عمر نے اطمینان کا سانس لیا۔
تھینک گاڈ۔ کل تو تم نے ہمیں ڈرا ہی دیا تھا۔
جِشاء نے نظریں چرا لیں۔
سوری…
سوری کی ضرورت نہیں، نورا نے آگے بڑھ کر اُسے گلے لگا لیا۔
بس اپنا خیال رکھا کرو۔
جِشاء نے بھی اُسے آہستہ سے گلے لگا لیا۔
پہلے وہ ایسی ہر بات نہان کو بتا دیتی تھی۔
لیکن آج…
اُس نے ایک بار بھی اُس کا ذکر نہیں کیا۔
نہ یہ کہ وہ واپس آ چکا ہے۔
نہ یہ کہ وہ پوری رات اُس کے ساتھ تھا۔
نہ یہ کہ اب وہ پھر سے اُس کی آواز سن سکتی ہے۔
یہ پہلی بار تھا…
جب جِشاء نے نہان کو اپنی دنیا کا راز بنا لیا۔
کمرے کے ایک خاموش کونے میں کھڑا نہان تینوں کو دیکھ رہا تھا۔
اُس کی نظریں چند لمحے عمر پر ٹھہریں۔
پھر نورا پر۔
اور آخر میں جِشاء پر۔
اُس کے لبوں پر ہلکی سی، ناقابلِ فہم مسکراہٹ آئی۔
اچھا ہے… وہ آہستہ سے بولا۔
ہر حقیقت… ہر انسان کو نہیں بتائی جاتی۔
جِشاء نے بےاختیار ایک لمحے کے لیے اُس کی طرف دیکھا۔
پھر فوراً نظریں واپس نورا کی طرف موڑ لیں۔
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

++++++++++++

آج اتوار کا دن تھا تو یونیورسٹی کی چھٹی تھی آج جشا نے خود گھر کی ساری صاف صفائی کی، اپنے بیڈ روم کی کچن کی، اور اب اچھا سا لنچ تیار کرنے لگی۔۔۔
دوپہر کے قریب دروازے پر دستک ہوئی۔
جِشاہ! اوپن دی ڈور۔۔۔
نورا کی چہکتی ہوئی آواز آئی۔
جِشاہ نے دروازہ کھولا تو سامنے نورا اور عمر کھڑے تھے۔
نورا کے ہاتھ میں کافی تھی اور عمر کے ہاتھ میں سنیکس کا بیگ۔
واہ! آج تو تم نے دروازہ فوراً کھول دیا۔ نورا نے حیرت سے کہا۔
عمر نے غور سے اسے دیکھا۔ وہ بلیو شرٹ فراک میں ملبوس تھی بال سلیقے سے بنے تھے چہرہ پر ہلکا سا میکپ لگا۔۔ عام حالات سے زیادہ اچھی اج جيشا نظر آرہی تھی۔۔۔
نورا فوراً اندر آ گئی۔
چلو آج باہر چلتے ہیں۔ موسم کمال کا ہے! پارک چلتے ہیں یا شاپنگ؟
جِشاہ کچھ لمحے خاموش رہی۔ پہلے وہ فوراً ہاں کہہ دیتی تھی۔ مگر آج وہ سوچ رہی تھی۔
چلیں گے… اُس نے آہستہ سے کہا۔
نورا نے خوش ہو کر کہا
یس! آئی نیو اٹ۔۔۔۔
مگر جِشاہ نے فوراً اگلا جملہ کہا۔
لیکن تھوڑی دیر کے لیے۔
نورا اور عمر دونوں رک گئے۔
تھوڑی دیر؟ نورا نے بھنویں چڑھائیں۔
جِشاہ نے کندھے اچکائے۔
ہاں… مجھے بعد میں گھر آنا ہے۔ کچھ کام ہیں۔
عمر نے ایک لمحے اسے غور سے دیکھا… پھر سر ہلا دیا۔
اوکے۔ فیئر اینف۔
وہ تینوں باہر نکلے۔
پارک میں ہوا ہلکی تھی۔
نورا تصویریں بنا رہی تھی، عمر مذاق کر رہا تھا… اور جِشاہ بھی ہنس رہی تھی۔
مگر اس بار وہ ہر چیز میں کھو نہیں رہی تھی۔
وہ خود کو محسوس کر رہی تھی۔
اپنی سانسیں… اپنا دل… اپنا وجود۔
ایک گھنٹے بعد اس نے گھڑی دیکھی۔
مجھے اب جانا چاہیے۔ اُس نے کہا۔
اتنی جلدی؟ نورا نے فوراً کہا۔
ہاں… بس تھوڑا سا آرام کرنا ہے۔
عمر نے نورا کو خاموش اشارہ کیا۔
اوکے۔ ہم تمہیں ڈراپ کر دیتے ہیں۔
گھر واپس آ کر جِشاہ سیدھی کچن میں گئی۔
اس نے فریج کھولا۔
کچھ لمحے چیزیں دیکھتی رہی۔ پھر آہستہ سے مسکرا دی۔
نہان صحیح کہہ رہے تھے…
اس نے باقاعدہ کھانا بنایا۔
پلیٹ لگا کر میز پر بیٹھی… اور سکون سے کھانے لگی۔
ہر نوالہ جیسے ایک چھوٹا سا وعدہ تھا۔
کھانے کے بعد اس نے کمرہ صاف کیا۔
کھڑکی کھولی۔ تازہ ہوا اندر آئی۔
اور ساتھ میں وہ بھی آیا۔۔۔
تُم نے مجھے یاد نہیں کیا۔۔۔
میرے پاس اور بھی کام ہے کیا ہر وقت میں آپکو ہی یاد کرتی رہوں۔۔؟؟ جشاء نے گردن آکڑ کے کہا
اور وہ مسکرا دیا۔۔ اُسے یہی جشاء بلکل ایسی ہی تو پسند تھی جسے کِسی بات سے فرق نہ پڑے جو اپنے لیے جئے اپنے خیال رکھے۔۔ اور ہمیشہ اوپر سے آئے نیچے سے نہیں۔۔۔
اور وہ بالکل ویسا ہی کر رہی ہے جیسا نہان نے کہا تھا۔
اپنا خیال رکھنا۔ وقت پر کھانا۔ خود کے ساتھ وقت گزارنا۔
وہ ہلکا سا مسکرائی۔
اور آپ کس لیے آئے ہیں میں نے تو نہیں بلایا آپکو۔۔۔  اُس نے آہستہ سے کہا۔
پہلے کونسا تُم مُجھے بلاتی تھی میں خود ہی آتا تھا نہ۔۔۔ اب بھی آگیا۔۔۔
پہلے آپ کام بھی کرتے تھے۔۔۔ اب نہیں کرتے.. جشاء نے منہ بنائے کہا
کام کرنے میں تو تمہیں موت آتی ہے نہ۔۔۔ وہ مُسکراتا بولا۔۔۔
ہاں نہ۔۔۔ وہ معصومیت سے بولی۔۔۔
کوئی نہیں میں اب سے تُمہاری ہیلپ کردیا کرونگا۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے ہم کام آدھا آدھا کرلیتے ہیں۔۔۔
کھانا آپ بنائے گے اور کھاؤں گی میں۔۔۔
کپڑے آپ دھوئیں گے، اور پہنوں گی میں۔۔۔
گھر آپ صاف کریں گے اور رہوں گی میں۔۔۔ وہ ایک ہی سانس میں سب بول گئی۔۔۔
تم بس شکل سے ہی معصوم لگتی ہو۔ نہان نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔ اصل میں تو تم بہت چالاک ہو۔
جِشاء نے فوراً ابرو اچکائیں۔
چالاک؟ میں؟
ہاں۔ وہ آرام سے بولا۔ کام سارے مجھ پر ڈال دیے اور خود ملکہ بن کر رہو گی۔
جشاء نے فوراً کہا
تو آپ نے ہی کہا تھا نا کہ ہیلپ کریں گے۔ اب میں نے پلان بنا دیا ہے تو مسئلہ ہو رہا ہے۔
نہان ہلکا سا ہنسا۔ یہ ہیلپ نہیں… غلامی ہے۔
تو پھر نہ کریں ہیلپ۔ وہ فوراً منہ بنا کر کھڑکی کی طرف مڑ گئی۔
میں خود ہی کر لوں گی سب کام۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
نہان نے اسے غور سے دیکھا۔
کھلے بال… ڈھیلی سی ٹی شرٹ… اور چہرے پر وہی ضدی سی ناراضی۔
مگر اس کے باوجود… وہ پہلے سے بہتر لگ رہی تھی۔
پہلے والی ٹوٹی ہوئی جِشاہ کہیں نظر نہیں آ رہی تھی۔
اچھا ٹھیک ہے۔ نہان نے آخرکار کہا۔ ڈیل منظور ہے۔ غلام آپکی غلامی کرنے کے لیے تیار ہے۔۔
جشاء فوراً پلٹی۔ سچ؟
ہاں۔
تو پھر پہلے کھانا بنائیں۔ مجھے بھوک لگ رہی ہے۔
نہان نے گھڑی کی طرف دیکھا جو دیوار پر لگی تھی۔
تم نے ابھی ایک گھنٹہ پہلے کھایا ہے۔
تو؟ بھوک دوبارہ بھی لگ سکتی ہے۔
وہ ہنس دیا۔
تمہارا پیٹ ہے یا لالو کھیت۔۔۔
جشاء نے فوراً تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔
تکیہ اس کے آرپار گزر گیا اور دیوار سے جا لگا۔
کمرے میں ایک لمحے کو عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
جشاء کا چہرہ تھوڑا سا سنجیدہ ہو گیا۔
نہان نے آہستہ سے کہا۔
ابھی بھی عادت نہیں ہوئی؟
وہ آہستہ سے سر جھٹک کر بولی۔
ہو گئی ہے… بس کبھی کبھی بھول جاتی ہوں۔
چند لمحے دونوں خاموش رہے۔
پھر جشاء نے بات بدلتے ہوئے کہا۔
ویسے… نورا اور عمر نے پھر سے میسج کیا تھا۔
ہمم۔ نہان نے مختصر سا جواب دیا۔
وہ کہہ رہے تھے کل کہیں باہر چلتے ہیں۔
تو چلی جانا۔
جشاء نے اس کی طرف دیکھا۔
آپ کو مسئلہ نہیں ہوگا؟
نہان نے ہلکا سا کندھا اچکایا۔
جب تک تم خود کو نہیں بھولو… مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔
جِشاہ نے چند لمحے اسے غور سے دیکھا۔ پھر آہستہ سے بولی۔
میں اب خود کو نہیں بھولوں گی۔
اچھا ہے۔
میں باہر بھی جاؤں گی… مگر ہر وقت نہیں۔
نہان نے سر ہلایا۔
اور اپنا خیال بھی رکھوں گی۔ وقت پر کھاؤں گی… سوؤں گی… پڑھوں گی…
وہ ہلکا سا مسکرایا۔
بالکل ویسے جیسے میں نے کہا تھا۔
جشاء نے شرارت سے کہا۔
ہاں… تھوڑا بہت کریڈٹ آپ کو بھی دے دیتی ہوں۔
نہان نے ہلکا سا سر جھکا کر کہا۔
تھوڑا سا؟
اچھا ٹھیک ہے… وہ ہنس پڑی۔
تھوڑا زیادہ۔

++++++++++++

کُچھ دنوں بعد۔۔۔۔
یونیورسٹی کا ماحول معمول کے مطابق تھا۔ لان میں ہلکی ہلکی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور طلبہ چھوٹے چھوٹے گروپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
جشاء آج کافی نارمل لگ رہی تھی۔
بال ٹھیک سے باندھے ہوئے، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ… اور سب سے حیران کن بات یہ کہ وہ وقت پر یونیورسٹی آئی تھی۔
نورا اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔
کچھ دن پہلے تک یہی لڑکی ہر وقت الجھی ہوئی رہتی تھی، کبھی خود سے باتیں کرتی، کبھی اچانک خاموش ہو جاتی… مگر آج وہ بالکل پہلے جیسی لگ رہی تھی۔
یار جشاء… نورا نے آہستہ سے کہا۔
ہمم؟ جشاء نے نوٹس بند کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
تم ٹھیک ہو نا؟
جشاء ہلکا سا مسکرائی۔ ہاں، کیوں؟
نورا نے کندھے اچکائے۔ بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔ تم آج کل کافی… نارمل لگ رہی ہو۔
جشاء نے ہنستے ہوئے کہا،
تو کیا میں پہلے پاگل لگتی تھی؟
نورا نے فوراً ہنس کر بات ٹال دی۔
نہیں یار، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔
چند لمحے دونوں خاموش رہیں۔
پھر نورا نے ذرا سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا۔
جِشاہ… ایک بات پوچھوں؟
پوچھو۔
تمہیں عمر پسند ہے؟
جشاء کا ہاتھ وہیں رک گیا۔ اس نے فوراً نظریں نیچے کر لیں۔ ک… کیوں؟
نورا مسکرائی۔ کیونکہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے۔
جشاء نے چونک کر سر اٹھایا۔ کیا؟
ہاں۔ نورا نے بالکل سادہ لہجے میں کہا۔
وہ واقعی تمہیں پسند کرتا ہے۔
جشاء کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
تمہیں کیسے پتا؟
نورا ہلکی سی ہنسی۔
یار میں اندھی نہیں ہوں۔ وہ جس طرح تمہیں دیکھتا ہے نا… دیکھنا تو چھوڑو وہ کس طرح سے تمہیں ٹریٹ کرتا ہے تُم نے خود نوٹس نہیں کیا۔۔۔ پورے یونیورسٹی میں صرف تُم ہی اُسے نظر آتی ہو۔۔ ورنہ اورو کے ساتھ تو اُس کا رویہ فی ایمان اللہ
جشاء کچھ نہیں بولی۔
وہ گھاس کی طرف دیکھنے لگی جیسے اچانک وہاں کچھ بہت دلچسپ نظر آ گیا ہو۔
نورا اس کے قریب جھکی۔
سچ بتاؤ جشاء… کیا تم بھی اسے پسند کرتی ہو؟
جشاء کے ذہن میں ایک لمحے کو عمر کا مسکراتا ہوا چہرہ آیا۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے نہان کی گہری سیاہ آنکھیں۔
اس نے آہستہ سے سانس لی۔
پتہ نہیں… وہ دھیرے سے بولی۔
نورا نے فوراً کہا، پتہ نہیں یا ہاں؟
جشاء نے نظریں چرائیں۔
وہ میرا کرش ہے… تُم جانتی ہو…
نورا فوراً مسکرا دی۔
بس پھر اگر عمر تمہیں پرپوز کرے تو تم ہاں کر دینا۔
جشاء ہکا بکا رہ گئی۔ ہاں… لیکن… وہ ایسے کیسے؟
نورا نے شرارتی انداز میں بھنویں اٹھائیں۔
ایسے کیسے کیا؟ لڑکے پرپوز ہی تو کرتے ہیں۔
جشاء نے ہونٹ کاٹ لیے۔
نہیں میرا مطلب… وہ کیوں کرے گا؟
اوہ پلیز! تم واقعی اتنی معصوم ہو یا بن رہی ہو؟
کیا مطلب؟ جشاء نے خفگی سے پوچھا۔
مطلب یہ کہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے۔ صاف نظر آتا ہے۔ بس ہمت نہیں کر رہا۔
جشاء کا دل عجیب سا دھڑکا۔
اگر… اس نے واقعی پوچھ لیا تو؟
نورا نے فوراً کہا، تو ہاں کر دینا۔
چند لمحے جشاء خاموش رہی۔
ہوا آہستہ سے چل رہی تھی۔ درختوں کے پتے سرسرا رہے تھے۔
جشاء کی نظریں بے اختیار سامنے اٹھیں…
وہی درخت۔
اور اس کے سائے میں…
لمبا قد… سیاہ آنکھیں… اور ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ۔
نِہان کھڑا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہا تھا۔
بازو سینے پر باندھے، دیوار سے ٹیک لگائے… اور پوری گفتگو سن رہا تھا۔
اس کی آنکھیں سیدھی جشاء پر تھیں۔
نورا اب بھی بول رہی تھی۔
دیکھو جشاء، عمر برا لڑکا نہیں ہے۔ وہ تمہارا خیال رکھتا ہے، تمہیں ہنساتا ہے… اور—
جِشاہ کا دھیان اس کی باتوں میں نہیں تھا۔
اس کی نظریں گہری ہو گئیں۔
جیسے کسی بات سے اسے واقعی ناگوار گزرا ہو۔
پھر اس نے بہت ہلکے سے سر ٹیڑھا کیا اور ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی۔ اس کے ہونٹ ہلے۔ بغیر آواز کے۔ لیکن جشاء نے صاف پڑھ لیا۔
مانا کر دو…
جشاء کے دل میں عجیب سا جھٹکا لگا۔
وہ فوراً نظریں جھکا گئی۔
کیا ہوا؟ نورا نے پوچھا۔
ک… کچھ نہیں۔
مگر جب اس نے دوبارہ نظر اٹھائی…
نِہان اب وہاں نہیں تھا۔
اور نہ جانے کیوں…
اس کے دل میں ہلکی سی گھبراہٹ اتر آئی تھی۔

+++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *