گرداب ( از قلم صدیقی )
قسط نمبر ۷
باب سوم: دوہرا چہرہ
یُسرٰی چُپ چاپ ریپر سے ملاقات کے بعد واپس آ چکی تھی۔
شام کی روشنی آہستہ آہستہ کمرے میں گھل رہی تھی۔
کسی عام دن کی طرح سب کچھ نارمل لگ رہا تھا، سوائے یُسرٰی کے اندر کے۔
چوری، جاسوسی کے بعد…
آج وہ کسی کو اغوا کروانے بھی جا رہی تھی۔
اَمل نوڈلز کا چمچ گھما رہی تھی، مگر کھانے سے زیادہ سوچوں میں گم تھی۔
یُسرٰی اُس کے سامنے بیٹھی تھی… بظاہر نارمل… مگر اندر کہیں بےچینی کا ایک طوفان برپا تھا۔
تبھی موبائل زور سے وائبریٹ ہوا۔
اَمل چونکی۔
اسکرین پر نظر پڑی…
اور اگلے ہی لمحے اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
کیا ہوا؟ یُسرٰی فوراً بولی، جیسے وہ اسی لمحے کا انتظار کر رہی ہو۔
اَمل کے ہاتھ ہلکے سے کانپے۔
وہ… ہنزہ…
آواز میں گھبراہٹ تھی۔
کیا ہوا اُسے؟
وہ کہہ رہی ہے اُس کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے… سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے… اور گھر پر کوئی نہیں ہے…
اَمل فوراً کھڑی ہو گئی۔
مجھے جانا ہوگا۔۔۔
یسریٰ فوراََ چونکی
لیکن… دادا نے منع کیا ہے آپکو باہر جانے۔۔۔
امل نے اُسے فوراََ ٹوکا۔۔۔
اور اگر میں نہیں گئی… اور اُسے کچھ ہو گیا تو؟ نہیں نہیں۔۔۔ تمہیں نہیں پتہ اُس کے ساتھ مسئلہ میں مُجھے فوراََ اُس کے پاس جانا ہوگا۔۔۔
امل کو یسریٰ کی بات نہیں سنائی دے رہی تھی بس اُس کے ذہن میں اُس کی دوست، ہنزہ کا خیال ہی آرہا تھا۔۔۔
ریپر باہر میرے انتظار میں تھوڑی بیٹھا ہے۔۔۔ کہ میں نکلو اور وہ حملا کر دے۔۔۔ مُجھے اُس کے پاس جانا ہوگا۔۔۔
اَمل نے جلدی سے بیگ اٹھایا۔ موبائل ہاتھ میں لیا…
اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔
دروازہ بند ہوا۔
کمرے میں اب صرف یُسرٰی رہ گئی تھی۔
خاموش… ساکت…
چند لمحے وہ وہیں کھڑی رہی۔ پھر سائڈ پر رکھا اپنا فون اٹھا لیا۔۔۔
++++++++++++++++
گھڑی نے شام کے سات بجائے تھے۔
گاڑی گیراج سے نکلی۔
شہر کی سڑکیں شام کی روشنی میں دھندلا رہی تھیں۔
گاڑی جب پوش علاقے کی طرف مُڑی،
اَمل نے کھڑکی سے باہر دیکھا، دِل عجیب گھبرا رہا تھا اور اس گھبراہٹ میں اُسے یہ تک سمجھ نہیں آیا کہ ہنزہ نے اپنے بھائی کو چھوڑ کر اُسے میسج کیوں کیا۔۔؟
تبھی ایک کالی، شیشے والی سیاہ گاڑی برابر آ کر رکی۔
ڈرائیور نے آئینے میں دیکھا،
وہ کالی گاڑی اب امل کے گاڑی کے سامنے آچکی تھی۔۔۔
یہ کون بے تمیز ہے۔؟؟ امل نے سامنے اُس سیاہ گاڑی کو دیکھتے کہا
میں دیکھتا ہوں بی بی جی۔۔ ڈرائیور نے اِتنا کہا اور گاڑی سے نکلا۔۔۔
پھر امل نے دیکھا ڈرائیور باہر نکل کر چلایا۔۔۔آواز تو اندر تک نہیں آئی لیکن …لیکن چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی حرکتیں، اور وہ اچانک پیچھے ہٹنا۔۔۔
یہ سب کچھ چیخ رہا تھا کہ باہر کچھ غلط ہو رہا ہے
اَمل کا دل دھڑکنے لگا۔
گاڑی کے لاک آٹومیٹک تھے، مگر اُس نے عادتاً دروازہ چیک کیا، بند تھے۔
پھر اُس نے شیشے سے جھانک کر دیکھا۔
ڈرائیور دو آدمیوں کے درمیان تھا، جن میں سے ایک نے اُس کی گردن پر کسی چیز سے وار کیا،
اور ڈرائیور وہیں لڑکھڑا کر گر پڑا۔
یا اللہ۔۔۔!
اَمل کی سانس رک گئی۔ اُس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
اُس نے موبائل نکالنا چاہا،
لیکن اُس لمحے… سیاہ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلا۔
ایک عورت۔۔۔ نِکلی۔۔
چہرہ مکمل نقاب میں ڈھکا ہوا،
اور آنکھوں میں سرد شعلے،
تند ہوا کی طرح اُس کی طرف بڑھی۔
اَمل نے جلدی سے دروازہ کھولنے کی کوشش کی،
مگر گاڑی پہلے ہی لاک ہو چکی تھی۔
اُس نے چیخنے کی کوشش کی،
مگر کچھ سمجھنے سے پہلے
گاڑی کا دروازہ کسی خاص ڈیوائس سے کھول دیا گیا۔
اگلے لمحے… دو ہاتھ اُس کی کلائیوں میں جکڑے،
اور ایک دبیز کپڑا اُس کے چہرے پر رکھا گیا۔
چھوڑو! ہٹو! کون ہو تم لوگ؟!
اَمل نے خود کو آزاد کرانے کی ہر ممکن کوشش کی،
مگر نشہ آور کپڑے کی بو اُس کے حواس پر حاوی ہوتی گئی۔
بھائی…! بھائی…۔۔۔
بس یہی ایک لفظ اُس کے لبوں پر لرزا
اور پھر… سناٹا۔۔۔
+++++++++++++++++
پُرانی گھڑی کی ٹِک ٹِک، کتابوں سے سجی الماریاں،
اور درمیان میں رکھی وہ آرام دہ کرسی…
جس پر افتخار صاحب خاموش بیٹھے تھے۔
سامنے، زمین کی طرف جھکتی نظریں، شرمندگی میں بھیگی آواز
دادا… سوری۔ میں اُس وقت تھوڑا ڈسٹرب تھا…
افتخار صاحب نے ہولے سے نظریں اُس پر جمائیں۔
نہ کوئی غصہ… نہ شکایت… بس ایک بےآواز سا دکھ۔
امن اگر کوئی بات تمہیں پریشان کر رہی ہے….
تو ہم سے بات کر سکتے ہو… بچپن سے تمہیں ہم نے پالا ہے، ہم سے زیادہ مخلص تمہارے لیے کوئی نہیں ہے۔
امن کی پلکیں جھپکیں، جیسے شرمندگی چھپانے کی ناکام کوشش ہو۔
میں جانتا ہوں، دادا… اسی لیے تو… مانگ رہا ہوں…۔معافی۔۔۔
تمہیں معلوم ہے، امن… تم میرے لیے خود مجھ سے بھی زیادہ اہم ہو۔ دنیا کچھ بھی کہے… گالیاں دے…
مجھے فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اگر تم ہم سے ناراض ہو جاؤ… تو ہمارا دِل کٹ سا جاتا ہے۔۔۔
امن اُٹھا، اور جھک کر افتخار صاحب کو بانہوں میں بھر لیا۔
سوری، دادا… بس یہی کہا،
اور خاموشی کی ایک لہر اس گلے لگنے میں سمٹ گئی۔
+++++++++++++
گھڑی کی سوئیاں بالکل نو پر ٹھہریں۔
امن بیڈ پر بیٹھا ایک فائل پلٹ رہا تھا، چہرے پر وہی سنجیدگی جو اس کی سیاست کی پہچان تھی۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی، سوائے گھڑی کی ٹک ٹک کے۔
اچانک اُس کے فون کی اسکرین پر ایک میسج چمکا۔
اسکرین پر لکھا تھا۔ سیاست چھوڑ دو… یا اپنی بہن کو بچا لو۔
الفاظ نے گویا اُس کے جسم میں زہر گھول دیا۔
دل کی دھڑکن ایک لمحے کو رُکی… پھر خوفناک رفتار سے دھڑکنے لگی۔
اَمل…
اُس کے لبوں سے بمشکل نکلا۔
پھر وہ جیسے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔
فون ہاتھ سے پھینک کر اُٹھا،
دروازہ ایک جھٹکے سے کھولا
اَمل… اَمل۔۔۔۔
وہ کمرے سے نکلتا گیا، چیختا، پکارتا۔۔۔
اَمل کہاں ہو؟!
نوکر پریشان ہو کر دوڑے،
صاحب، بی بی جی تو شام میں کہیں گئی تھیں… شاید دوست کے یہاں۔۔۔
کس دوست کے یہاں؟ امن غرایا۔
یہ… یہ تو نہیں معلوم صاحب…
امن کا چہرہ زرد ہو چکا تھا۔
قدم تیزی سے گیٹ کی طرف بڑھے۔
گاڑی میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ اسے یاد آیا…
++++++++++++++
کمرہ اندھیرا نہیں تھا، لیکن روشنی بھی ایسی نہ تھی جو کسی کو مکمل دکھا دے۔
دروازہ چرچراتے ہوئے کھلا…
اور لمحے بھر میں دھول کی بو، باسی ہوا، اور کرب کی لہر نے ریپر کا استقبال کیا۔
وہ اندر داخل ہوا تو اُس کی نگاہ پہلی بار اُس لڑکی پر پڑی۔۔۔
وہ کرسی سے بندھی ہوئی تھی… کلائیاں سختی سے رسیوں میں جکڑی ہوئی تھیں، جیسے کسی نے محض باندھا نہیں، سزا دی ہو۔ اُس کی گردن ایک طرف ڈھلی ہوئی تھی…آنکھیں بند تھیں، چہرہ زرد پڑ چکا تھا…
کیٹی نے قدم روک کر ایک سرد لہجے میں کہا
یہ ہے.. امل ایمان۔ امن حنان کی بہن۔
ریپر نے کچھ پل اُسے خاموشی سے دیکھا…
چہرے پر ایک عجیب سا سناٹا اُترا ہوا تھا… جیسے اُس کی نظروں کے سامنے وقت پلٹ رہا ہو، ایک منظر… ایک درد… ایک پرانا زخم تازہ ہو رہا ہو۔
چودہ سالہ وہ لڑکا…
سیاہ رات تھی، گلی سنسان اور اندھیری۔۔۔
اور اُس نے دیکھا تھا، ایک پچاس سالہ مرد کو…
اپنی بانہوں میں لپٹی ننھی بچی کو کچرے کے ڈھیر پر پھینکتے ہوئے۔
ننھی بچی نے چیخ بھی نہ ماری…
بس ایک ہلکی سی سسکی تھی، جو اُس لڑکے کے دل کے اندر کہیں گڑ گئی تھی…
تب سے وہ بدلا گیا تھا اُس کی دنیا بدل گئی تھی۔۔۔
کھولو اسے۔۔۔ یہاں کیوں رکھا ہوا ہے اِسے۔۔۔ وہ بھی ایسے، کسی کی بہن بیٹی پر ایسا ظلم نہیں کرتے۔۔۔
ریپر کی زبان سے نکلے جملے پر کیٹی چونک گئی، جیسے اُس نے اپنے ہی کانوں پر یقین نہ آیا ہو۔
آپ نے ہی تو کہا تھا اِسے اُٹھانے کو؟
اُٹھانے کو کہا تھا… اذیت دینے کو نہیں۔
کھولو اُسے… اور اُسے اوپر والے کمرے میں شفٹ کرو۔
پر۔۔۔۔ کیٹی نے کچھ کہنا چاہا
مُجھے اسے زنجیروں میں رکھ کے کیا ملے گا؟ امن کی بہن میرے پاس ہے… امن کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اُس کی سب سے قیمتی شے… میری قید میں ہے۔
کیٹی نے بےیقینی سے ریپر کو دیکھا، جیسے اُس کی بات سمجھ نہ پائی ہو۔
لیکن… آپ تو دشمن ہیں اُس کے… پھر یہ نرمی؟
ریپر کے چہرے پر لمحے بھر کو ایک سایہ سا آیا… جیسے ماضی کی کوئی دھند اُس کی آنکھوں میں اُتری ہو۔
دشمنی اصولوں سے ہوتی ہے، بےحسی سے نہیں…
اور جو شخص اصول توڑ دے، وہ دشمنی نہیں، درندگی کرتا ہے۔ وہ رُکا، پھر سرد لہجے میں بولا:
ہم دشمن ہیں… درندے نہیں۔
کیٹی خاموش رہی… اُس کی نظریں اب اُس لڑکی پر تھیں جو بےسدھ پڑی تھی۔
ریپر کا رخ اُس کی طرف دوبارہ ہوا۔
امن کے لیے وہ صرف بہن نہیں… اُس کی کمزوری ہے۔
اور کمزوری کو ختم نہیں کیا جاتا… سنبھال کر رکھا جاتا ہے… دباؤ میں رکھنے کے لیے… قابو میں رکھنے کے لیے۔
پھر اُس نے کیٹی کی طرف دیکھا، نگاہ سخت اور بےرکھی تھی اِسے انسانوں کی طرح رکھو… جانوروں کی طرح نہیں۔
کیٹی نے آہستہ سے سر ہلایا اور خاموشی سے آگے بڑھی۔
ریپر نے ایک آخری نظر اُس لڑکی پر ڈالی…
پھر پلٹ گیا۔۔۔۔
کیٹی اب اُس لڑکی کو کھول رہی تھی۔۔۔ ساتھ میں بڑبڑا بھی رہی تھی۔۔۔۔
اس لڑکی کے وقت ہی خیال آیا کہ ہم درندے نہیں ہیں۔۔۔ لوگوں کو مارتے وقت امن پر حملے کرواتے وقت خیال نہیں آیا کہ ہم درندے نہیں ہیں۔۔۔ پتہ نہیں ریپر کے دِماغ میں کیا چلتا رہتا ہے۔۔۔۔
++++++++++++++
انیسہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
جب سے امل کے اغوا کی خبر ملی تھی، اُن کی حالت کسی ماں کی لاچار فریاد جیسی ہو چکی تھی۔
ہر تھوڑی دیر بعد دُعا مانگتیں… اور پھر سسکیاں۔
نہات کا چہرہ فکروں کی سیاہی سے ڈھک گیا تھا۔ وہ مسلسل تھانے کے چکر لگا رہا تھا، کبھی ایک افسر سے تو کبھی دوسرے سے، مگر ہر جواب ہم کوشش کر رہے ہیں۔۔۔ تک محدود تھا۔
کوشش؟؟ وہ غصے اور بے بسی میں بڑبڑایا، وہ میری بہن ہے… اور وہ کسی درندے کے ہاتھ لگی ہوئی ہے۔۔۔
امن… وہ اب تک خاموش تھا۔ وہ منظر پر کہیں موجود نہیں تھا۔
وہ جو ہمیشہ سب سے پہلے بولتا تھا، اب گم تھا۔
افتخار صاحب نے اپنے ذاتی لوگوں کو متحرک کر دیا تھا۔
میری پوتی ہے وہ… اور میں اُسے کسی جنگلی کے پاس نہیں چھوڑ سکتا… کچھ بھی کرو جیسے بھی کرو میری پوتی کو ڈھونڈو۔۔۔
++++++++++++++++
جب اُسے ہوش آیا، تو پہلے پہل پلکیں بھاری لگیں… جیسے نیند نے ابھی تک آنکھوں کی دہلیز نہ چھوڑی ہو۔ وہ ہولے سے کروٹ لے کر سیدھی ہوئی، اور پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔
چند لمحوں کے لیے اُسے کچھ سمجھ نہ آیا۔۔۔
وہ تھی کہاں؟
نرم، ملائم سفید چادر اُس کے بدن پر تھی۔ بیڈ ایسے نرم تھا جیسے بادل ہو…
اس نے گردن موڑی، اور پھر آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ سر میں ہلکی سی سر درد کی لہر دوڑی،
کمرہ خالی تھا مگر بےحد نفیس…
دیواریں ہلکے کریم رنگ کی تھیں جن پر سلور رنگ کا باریک کام تھا، ایک طرف فلور ٹو سیلنگ کھڑکی تھی جس پر سفید شفاف پردہ آدھا ہٹایا گیا تھا۔ باہر چاندنی خاموشی سے اندر آ رہی تھی،
سامنے دیوار کے ساتھ ایک چھوٹا سا لکڑی کا شیلف تھا، جس پر دو کتابیں رکھی تھیں،
کونے میں ایک گہرے نیلے رنگ کی سنگل سیٹر چیئر تھی، اور ساتھ چھوٹا سا سائیڈ ٹیبل… جس پر ایک گلاس پانی رکھا تھا۔۔۔
وہ پلکیں جھپک جھپک کر اِدھر اُدھر دیکھتی رہی،
وہ سمجھنے کی کوششں کر رہی تھی کہ اس وقت وہ ہے کہاں۔۔۔؟؟
پھر وہ آہستہ آہستہ بستر سے نیچے اُتری… پاؤں فرش پر رکھے ۔ چند قدم احتیاط سے چلتے ہوئے وہ دروازے تک پہنچی… ہاتھ بڑھایا، ہینڈل تھاما، دل کی دھڑکن لمحہ بہ لمحہ تیز ہو رہی تھی…
لاک آہستہ سے گھمایا۔۔۔
کلک!
دروازہ بغیر کسی مزاحمت کے کھل گیا۔
وہ حیرت سے کچھ لمحے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی رہی۔
کیا… یہ کھلا تھا؟
یہ سب کیا ہے؟
میں کہاں ہوں۔۔؟؟
اُس نے ہچکچاتے ہوئے ایک قدم باہر رکھا۔
سامنے ایک طویل راہداری تھی۔ لمبی، سادہ مگر پراثر۔ دیواریں خاموش، فرش پر قالین بچھا تھا، ہر قدم دب جاتا، آواز گم ہو جاتی۔
سفید دیواروں پر سیاہ و سفید تصاویر ٹنگی تھیں، کچھ جنگ جیسے مناظر، کچھ چہروں کے کلوز اپ،
وہ چلنے لگی۔
دھیرے دھیرے… محتاط…
ہر کونے کو دیکھتی… ہر سایے کو محسوس کرتی۔
کہیں کوئی آواز نہیں تھی… صرف خاموشی تھی۔
وہ اب سیڑھیوں تک پہنچ چکی تھی۔ نرمی سے قدم رکھتی، دیوار کے ساتھ لگے ریلنگ کو تھامے نیچے جھانکا، سامنے لاؤنج کا منظر اُس کی آنکھوں میں پوری تفصیل کے ساتھ اترنے لگا۔
نیچے، مہنگے فرنیچر سے آراستہ وہ لاؤنج… سنگِ مرمر کا فرش، جس پر روشنی پھسلتی جاتی تھی، گہرے نیلے اور سفید امتزاج کے ساتھ سجا ہوا تھا۔
اور پھر اُس کی نظر سیدھی ایک چیز پر جا ٹھہری۔
سفید صوفے پر ایک لڑکی بیٹھی تھی۔۔۔
بال کھلے، نظریں ٹی وی پر جمی ہوئی تھیں۔ لباس صاف ستھرا تھا، چہرے پر ماسک تھا۔۔۔۔
اُس لڑکی کو دیکھتے ہی امّل کی آنکھیں چند لمحے کو پھیل گئیں۔
کون ہے یہ؟
یہ لڑکی مُجھے یہاں لائی۔۔؟؟
لیکن کیوں۔۔۔؟؟
لڑکی نے سر ذرا سا اٹھایا۔۔۔
جیسے کسی کی موجودگی محسوس کی ہو۔۔۔
اور امّل کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔
وہ نظر… سیدھی اُس کی آنکھوں سے جا ٹکرائی۔
اور جیسے ہی اُس کی نظر اُس لڑکی پر پڑی۔۔۔
امّل ایک لمحے کو جیسے پتھر کی ہو گئی۔
سانس جیسے کسی نے روک دی ہو، قدم ریلنگ سے پیچھے ہٹے۔۔۔
آنکھوں کے سامنے وہی پُرانی، لرزہ خیز فوٹیج گھومنے لگی…
نادیہ فیروز… ہسپتال میں…
اور وہ دو لڑکیاں، جنہوں نے اسے بےدردی سے مارا تھا،
جن کا چہرہ پر ماسک تھا، مگر آنکھیں… آنکھیں صاف نظر آتی تھیں۔
اُنہی میں سے ایک…
وہی لڑکی…
یہی چہرہ… یہی آنکھیں…
امّل کے لب تھرائے،
کیا… مطلب کیا…؟ یہ تو وہی ہے…؟ کیا مطلب وہ ریپر کے پاس۔۔۔؟؟ ریپر کے گھر موجود ہے۔۔۔
دماغ جیسے جواب دینے سے انکاری تھا۔
وہ… ریپر کے پاس ہے؟ کیا ریپر نے اُسے اغواہ کیا …؟
ریپر ریپر۔۔۔
دل کی دھڑکن اب تیز ہو گئی تھی۔
امّل ایک قدم اور پیچھے ہوئی…
جیسے کوئی سانپ نظروں کے سامنے آ گیا ہو۔
جیسے ہی پہچان کی گونج نے ذہن میں ہنگامہ برپا کیا، امّل کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔
آنکھوں میں خوف، جسم میں لرزہ، اور قدموں میں بےقابو سی جلدی تھی۔
یہ وہی ہے… وہی قاتل۔۔۔
سانس رک رک کر چل رہی تھی۔
امّل نے ایک پل ضائع نہیں کیا۔
پلٹی، اور دوپٹہ سنبھالتی، اُلٹے قدموں پیچھے کی طرف بھاگنے لگی۔
کمرے کی طرف واپس جاتے ہوئے وہ بار بار مڑ کے دیکھتی۔۔۔
کہیں وہ لڑکی اُسے کے پیچھے تو نہیں آرہی؟
اور پھر اچانک۔۔۔
ایک سایہ سامنے آ گیا۔
دراز قد، چوڑے کندھے، سیاہ لباس میں لپٹا ہوا۔
چہرے پر آدھی روشنی اور آدھا اندھیرا…
وہ جیسے اندھیرے سے اُبھرا ہو۔۔۔
گریم ریپر۔
امّل کی گردن خود بخود اوپر اٹھی۔۔۔
اُسے دیکھنے کے لیے۔۔
وہ قد میں اُس سے اونچا تھا
اُسے دیکھنے کے لیے اُسے اپنی گردن تھوڑی اوپر کرنی پڑی۔۔۔
آنکھیں اُس کی آنکھوں سے جا ٹکرائیں… اور ایک لمحے کو دل کی دھڑکن بند سی ہو گئی۔
کہاں جا رہی ہو؟
ریپر کا لہجہ دھیما مگر سراسر قابو والا تھا۔
امّل کچھ بول نہ سکی… زبان خشک ہو چکی تھی… ہاتھ بے قابو سے لرزنے لگے۔
بھاگنے کی کوشش مت کرو… یہاں ہر دروازہ کھلا ہے، لیکن نکلنے کا راستہ کوئی نہیں۔
ریپر کا انداز بےحد پر سکون تھا، جیسے وہ کسی ایسی شطرنج کی بازی میں ہو جس کے سارے مہروں پر اُس کی گرفت ہو۔
امّل نے آہستگی سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی،
مگر یہ آہستگی زیادہ دیر نہ ٹک سکی۔
وہ پلٹی، اور پوری قوت سے پیچھے کی جانب دوڑ لگا دی۔ جیسے اُس کے اندر کی چیخ، قدموں سے باہر نکل گئی ہو۔ جیسے ہر قدم، ہر سانس اُسے صرف ایک ہی چیز سے دُور لے جانا چاہتا ہو۔۔۔
ریپر۔ جس کی آواز اُس کے کانوں کے پیچھے سنائی دیتی رہی۔۔۔
مگر اُس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
اور پھر بھاگتے ہوئے وہ سامنے سے آتی لڑکی سے جا ٹکرائی۔۔۔
امل فوراََ سنبھال کر پیچھے ہوئی۔۔۔
سیاہ پینٹ اسکرٹ میں ملبوس، ہلکی سی ہیل پہنے،
جسمانی ساخت میں سختی، جیسے کسی سپاہی کی ٹریننگ لی ہو۔ گہرے نیلے رنگ کی آنکھیں… جن میں تاثر سے زیادہ تاک جھانک تھی۔
اس نے پلکیں نہیں جھپکیں۔۔۔
بس امّل کو اوپر سے نیچے تک دیکھا، اور بولی۔
کہاں جا رہی ہو؟
امّل ساکت ہو گئی۔
آگے وہ لڑکی… پیچھے ریپر…
اور درمیان میں وہ۔۔۔ اکیلی۔
ریپر کی آواز اس کے پیچھے سے دوبارہ گونجی۔۔
تُم یہاں سے کہیں نہیں جا سکتی۔۔۔
امّل نے ہونٹ بھینچ لیے، اور نظر اس لڑکی سے ہٹائی جو اُسے ٹھوس نظریں ڈالے کھڑی تھی۔۔۔
وہ پل بھر کو سوچ بھی نہ سکی کہ لڑے، روئے یا گِر جائے۔
دل، دماغ اور جسم تینوں نے فیصلہ کیا بھاگ جاؤ۔۔۔
ایک جھٹکے سے اُس نے سامنے کھڑی لڑکی کو دھکا دیا۔۔ زور کا۔۔۔
لڑکی سنبھل نہ سکی، قدم پیچھے ہٹے، اور اُس کے ہیلز راہداری کے رگ دار قالین میں پھنس گئے۔
امّل نے موقع ضائع کیے بغیر دوپٹہ سنبھالا، اور سیڑھیوں کی طرف دوڑ لگا دی۔
قدم فرش پر نہیں پڑ رہے تھے، جیسے ہوا میں بھاگ رہی ہو۔
نیچے لاؤنج میں وہی لڑکی اب بھی موجود تھی۔۔۔
لیکن اب کھڑی تھی۔
سفید صوفے سے اٹھ چکی تھی، ہاتھوں کو کراس کیے، نظریں اُسی پر ٹکی ہوئی۔
امّل نے نظریں جھکائیں۔۔۔
اس کے قریب سے دائیں طرف سے نکلتی ہوئی وہ گھر کے مین دروازے کی طرف لپکی۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں صرف ایک مقصد تھا
باہر نکلنا ہے، کچھ بھی ہو جائے۔۔
وہ دروازے کے قریب پہنچی، دل اُمید سے لرزا،
مگر جیسے ہی اُس نے دروازے کی طرف قدم بڑھایا،
ایک اور سایہ سامنے آ گیا۔
وہ… ساکت ہو گئی۔
دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دینے لگی۔
سیاہ لباس میں ملبوس کندھوں تک آتے بھورے بال… اور چہرے پر ماسک… اور وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اُسے گھور رہی تھی۔۔۔
اور وہی آنکھیں!
وہی لڑکی…
نادیہ فیروز کی ویڈیو میں نظر آنے والی دوسری لڑکی۔
امّل کے پاؤں جیسے زمین سے چپک گئے۔
اب کیا کرے وہ کہاں جائے وہ۔۔۔؟؟
++++++++++++++
رات کا وقت تھا۔
سیاہی آسمان پر اپنی گہری چادر تانے ہوئے تھی، اور شہر کی سڑکوں پر سناٹا تھا۔
امن اپنی بلیک SUV سے نکلا۔۔۔
لباس سادہ تھا، مگر اُس کی آنکھوں میں وہ طوفان تھا
جو صرف اُس وقت آتا ہے، جب کوئی عزیز چھینا جائے۔
اُس کے قدم فیکٹری کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھے، جہاں بظاہر ایک چوکیدار بیٹھا تھا۔
امن نے دھیرے سے کہا بلیو کوڈ 1919
چوکیدار اُسے گھورنے لگا، پھر سر ہلایا ۔۔۔۔ اپنے ساتھ ایک اور کُرسی لگا دی اور امن کو بیٹھنے کہا اشارہ کیا۔۔۔ اور امن چپ چاپ بیٹھ گیا۔۔۔۔
حکم کرو۔۔۔
ریپر نے اُسے چھوا بھی کیسے…؟
امن کی آواز میں وہ خراش تھی جو دشمن کی قبر خود کھود دیتی ہے۔
میں نے برداشت کیا جب وہ میری سیاست پہ وار کرتا رہا…
میں نے چُپ سادھ لی جب اُس نے میڈیا میں میرے خلاف باتیں پھیلائیں…
لیکن اب…
اس نے امّل کو چھوا ہے۔ اب خاموش نہیں رہ سکتا میں ۔
کون ریپر ؟؟؟ جوکیدر نے سر ہلایا۔۔۔وہ بظاہر ایک عام سا بوڑھا آدمی لگتا تھا۔ کالی مٹی سے اَٹے ہوئے کپڑے، سر پر مٹیالا سا گندہ کیپ، جس کے نیچے سے سفید جھاڑ دار بال جھانک رہے تھے۔ چہرے پر جھریاں۔۔۔
ہونٹوں پر پان کا رنگ جما ہوا، اور ہاتھوں کی انگلیوں پر پرانے زخموں کے نشان۔ جسم دبلا پتلا، مگر آنکھیں…
ہاں، آنکھیں کسی بھی عام انسان کی نہیں تھیں۔۔۔
ساکت، مگر خطرناک… جیسے سب کچھ دیکھ رہی ہوں اور کچھ نہ بول رہی ہوں۔
تُم جانتے ہو۔۔ امن نے بس اتنا کہا
کام بولو۔۔۔
مجھے ایک بندہ چاہیے… امن نے آہستہ سے کہا۔
ایسا بندہ جو ریپر کے خلاف کسی بھی حد تک چلا جائے۔ جو ریپر کو خاک میں ملا دے۔۔۔
چوکیدار نے پان تھوکا، اور اپنی میلی چادر کو شانے پر دوبارہ جماتے ہوئے بولا:
تمہیں ISI کے Phantom Agents چاہییں…؟
امن نے خاموشی سے سر ہلایا۔
تم جانتے ہو، ان سے بات کرنا، اُنہیں میدان میں لانا، اس کا مطلب ہے، کچھ اور کھونا بھی پڑے گا۔
چوکیدار کی آنکھوں میں وہ چمک آ گئی تھی، جو فقط جنگ کے آغاز پر نظر آتی ہے۔
میں سب کچھ کھو چکا ہوں۔
امن کی آواز میں موت کی سی ٹھنڈک تھی۔
اب بس ریپر کی باری ہے۔
چوکیدار ایک لمحہ خاموش رہا، جیسے وہ سوچ رہا ہو کہ کس سطح پر یہ بدلہ لیا جانا ہے۔
امن نے پلکیں جھپکائے بغیر جواب دیا
اگر وہ امّل تک پہنچ سکتا ہے، تو میں جہنم تک جا سکتا ہوں۔
چوکیدار خاموشی سے اٹھا، اور زیرلب کہا ٹھیک ہے…
ہمم۔۔۔ امن بھی اُس کے ساتھ اٹھا۔۔۔۔
++++++++++++++++++
دروازے پر کھڑی وہ لڑکی بس اُسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
نہ کوئی لفظ، نہ کوئی اشارہ
پیچھے سے ریپر کے قدموں کی چاپ تیز ہوتی جا رہی تھی۔
فرش پر اُس کے جوتوں کی آواز جیسے ہر امید کو کچلتی آ رہی تھی۔
امّل نے ایک بار پھر دروازے کی طرف دوڑنے کی کوشش کی۔۔۔
مگر وہ لڑکی ایک قدم آگے بڑھی…
اور بس ایک ہاتھ اُٹھایا۔
نہ چھوا، نہ روکا۔۔۔
مگر امّل کے قدم خود بخود رُک گئے۔
خوف، الجھن، اور بےبسی… تینوں نے مل کر اُس کے جسم کو ساکت کر دیا۔
پھر پیچھے سے وہ آواز آئی۔۔
میں نے کہا تھا نا… یہاں سے نکلنے کا راستہ کوئی نہیں۔
امّل نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
ریپر اب بلکل اُس کے پیچھے تھا۔
قد اور سائے کی لمبائی نے اُس کے وجود پر مکمل سایہ کر دیا تھا۔
چہرہ آدھا روشنی میں، آدھا اندھیرے میں…
مگر آنکھیں پوری طرح جاگ رہی تھیں۔۔۔
بےرحم، ٹھنڈی، اور خطرناک حد تک پُرسکون۔
خاموشی سے یہاں رہو… جب تک امن سیاست نہیں چھوڑ دیتا۔ جیسے ہی وہ سیاست چھوڑے گا… میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔
ریپر کا لہجہ سرد، فیصلہ کن اور بےحد خطرناک تھا…
امّل کی سانسیں رکنے لگیں…
دل خوف سے زور زور سے دھڑک رہا تھا،
کیا کرے؟ کہاں جائے؟ کوئی دروازہ، کوئی راہ، کچھ بھی تو نہیں۔۔
ایک لمحے کو دل نے کہا۔۔ چیخو! شور مچاؤ!
پھر اُسے امن کی بات یاد آئی…
وہ لمحہ جب وہ پارک میں بینچ پر بیٹھے تھے، اور امان کچھ سنجیدہ سا ہوا تھا۔
امّل… اگر کبھی تمہیں لگے کہ سب ختم ہو گیا ہے، تو اُس وقت کچھ بھی ختم نہیں ہوتا۔
ختم تب ہوتا ہے، جب تم ہار مان لیتی ہو۔
کبھی بھی حالات کی قید میں خود کو دفن مت کرنا…
اگر میں تمہارے پاس نہ ہوں… تب بھی تم خود کو بچا سکتی ہو۔
بس، خوف کو قابو نہ لینے دینا۔
آنکھیں بھیگ گئیں۔
دل کی گہرائی سے آواز آئی۔۔ امن بھائی… کہاں ہو تم؟
بھائی… سیاست کیوں چھوڑیں گے…؟ امّل نے لرزتے آواز میں کہا
ریپر نے قدم آگے بڑھائے،
اس کی بلند قامت، سیاہ آنکھیں، اور بےرحم چہرہ جیسے سایہ در سایہ چھا رہا ہو۔
کیونکہ میں چاہتا ہوں… اس کی آواز میں دھمک تھی۔۔۔
امّل نے سر اٹھایا، چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا مگر آنکھوں میں عجیب سا عزم چمکنے لگا۔
بھائی کبھی سیاست نہیں چھوڑیں گے…
ریپر کا چہرہ ایک لمحے کو سخت ہوا۔۔
تو پھر ٹھیک ہے، میں بھی تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا…
یہ کہتے ہوئے وہ مڑا۔۔۔
دھواں سا اٹھا، اور وہ اُس دھوائے میں غائب ہوگیا۔۔۔
امّل تنہا کھڑی رہ گئی،
لیکن اس بار وہ پہلے جیسی کمزور نہ تھی۔
امن کی یاد… اُس کی باتیں… اُس کا یقین،
اب اُس کی طاقت بن چکی تھیں۔
وہ جان چکی تھی کہ اب اُسے صرف بچنا نہیں،
لڑنا ہے — اور جیتنا بھی ہے۔
+++++++++++++++
کراچی، رات 2:43 AM — ISI ہیڈکوارٹر (کلاسیفائیڈ لوکیشن)
امن اب اُس کمرے میں موجود تھا جہاں خاموشی بولتی تھی۔
ایک بڑی سی گول میز تھی، سیاہ رنگ کی، جس کے اردگرد لوگ بیٹھے تھے۔ ہر ایک کا چہرہ سنجیدہ، اور آنکھوں میں وہی مخصوص سختی، جو صرف ان لوگوں کی پہچان ہوتی ہے جو وطن کے لیے جیتے اور مرتے ہیں۔
امن خاموشی سے بیٹھا، اُن کی نگاہوں کا سامنا کر رہا تھا۔
آپ کا مسئلہ پرسنل ہے یا نیشنل؟
بائیں طرف بیٹھے افسر نے سوال کیا، اُس کی آواز میں برف جیسی ٹھنڈک تھی۔
امن نے گہری سانس لی، نظریں میز پر رکھے فائل فولڈرز سے ہٹائیں اور سیدھا اُن کی طرف دیکھا۔
آج جو مسئلہ پرسنل ہے… کل وہ نیشنل ہو سکتا ہے۔ ریپر، اب ایک فرد نہیں، ایک نیٹ ورک ہے۔ اور میری بہن اُس کے پاس ہے۔
کمرے میں چند لمحے خاموشی رہی، پھر میز کے دوسرے سرے پر بیٹھا سینئر افسر بولا:
ہمیں تم پہ اعتبار ہے، امن… تم سیاست میں بھی اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ لیکن یاد رکھو، یہاں جذبات کام نہیں آتے۔۔۔
امن نے گردن ہلائی، اور کہا
مجھے آدمی چاہیے۔ کوئی ایسا جو سائے میں رہے، دشمن کو سونگھ لے، اور وقت آنے پر وار کرے… ایسا جو قانون کی حدود سے باہر ہو… کیونکہ ریپر قانون سے نہیں ڈرتا۔
افسر نے آہستہ سے کرسی سے ٹیک لگائی، اور آنکھوں میں سنجیدگی لئے بولا ریپر کے خلاف ہمارے ایجنٹس پہلے سے مشن پر ہیں… ہر زاویہ، ہر رخ، ہم کور کر رہے ہیں۔
امن نے گردن جھکائی، جیسے لمحہ بھر کو کچھ سوچا ہو، پھر نظریں اٹھائیں۔ اُس کی آنکھوں میں کوئی سیاستدان نہیں تھا… وہاں صرف ایک بھائی تھا۔
میں جانتا ہوں…
اُس کا لہجہ دھیما مگر فیصلہ کن تھا۔
مجھے صرف ایک ایسا انسان چاہیے… جو مجھے امّل تک پہنچا دے۔ باقی سب میں خود سنبھال لوں گا۔
ٹھیک ہے…
اس نے نرمی مگر دبا ہوا رعب لیے لہجے میں کہا،
آپ ان میں سے سب سے بات کرلیں۔ ہر ایک الگ مہارت رکھتا ہے، اور ہر ایک… موت سے کھیلنا جانتا ہے۔
آفیسر نے سامنے بیٹھے نوجوان کی طرف اشارہ کیا۔
یہ ہے… سلیپر (Sleeper)
کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔
وہ نوجوان نسبتاً خاموش، پرسکون اور عام سے حلیے میں دکھ رہا تھا۔ سادہ لباس، سنجیدہ چہرہ، اور نظریں مسلسل میز پر گڑی ہوئی تھیں، جیسے وہ سب کچھ دیکھ رہا ہو، مگر خود کو چھپا رہا ہو۔
آفیسر نے کہا برسوں دشمن کی سرزمین میں رہا۔
شناخت بدلی، نام بدلا، حتیٰ کہ قومیت بھی۔
Deep cover operations
کا ماسٹر ہے۔
وہ دشمن کے درمیان ایسا جیا جیسے وہ اُن میں سے ہو، لیکن ہر لمحہ پاکستان کے لیے سانس لیتا رہا۔
امن نے اُس کی طرف دیکھا۔
تمہیں اگر دشمن کے نیٹ ورک کے بیچ میں گھسنا ہو… اور بغیر کسی کو خبر دیے ان کا سانس بند کرنا ہو… تو سلیپر وہ شخص ہے جو تمہیں وہاں پہنچا سکتا ہے۔
آفیسر نے سلیپر کے ساتھ بیٹھے دوسرے نوجوان کی طرف اشارہ کیا۔
اور یہ ہے… نائٹ ہاک (Night Hawk)
کمرے کی روشنی مدھم تھی، مگر اُس نوجوان کی موجودگی خود اندھیرے جیسی محسوس ہو رہی تھی —
سیاہ لباس، گہرے سائے میں ڈوبا چہرہ، اور ایسی آنکھیں جو دیکھ کر بھی کچھ نہ دیکھنے کا تاثر دیتی تھیں۔
آفیسر نے تفصیل بتائی
پس منظر؟ رات کا شکاری۔ اندھیرے میں دشمن کا دشمن۔جنگل ہو یا شہر۔۔ یہ وہاں ہوتا ہے جہاں روشنی کی ہمت نہیں۔
آفیسر نے خاموشی سے اپنے بائیں جانب بیٹھے شخص کی طرف اشارہ کیا۔۔
اور یہ ہے… زِن (Zyn)
امن نے نظریں اُس شخصیت کی طرف موڑیں۔۔
سہل سا لباس، نارمل سا چہرہ، مگر آنکھیں؟
جیسے انسان کے اندر جھانک لیتی ہوں۔
نہ زیادہ بولنے والا، نہ زیادہ ظاہر کرنے والا۔
آفیسر نے کہا ذہنی جنگ کی ماہر۔ جہاں جسم ہارتے ہیں، وہاں زِن دماغ جیتتا ہے۔ یہ اُس مقام پر وار کرتا ہے جہاں دشمن کو لگتا ہے کہ وہ محفوظ ہے ، اُس کے ذہن میں۔
اگر آپ اجازت دیں… امن نے آہستگی سے کہا،
تو کیا میں خود ان سے پوچھ سکتا ہوں کہ یہ کون ہیں؟
کمرے میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ کچھ نظریں ایک دوسرے سے ٹکرائیں،
پھر امن نے جملہ مکمل کیا
اب اگر پانچ منٹ کے لیے ہمیں اکیلا چھوڑ دیں؟
آفیسر نے چند لمحے سوچا، پھر گردن ہلائی۔
اُس نے ہاتھ کے اشارے سے باقی عملے کو اٹھنے کا کہا۔
ٹھیک ہے… پانچ منٹ تمہارے ہیں، امن۔
یہ کہہ کر آفیسر اور باقی سینیئر اسٹاف کمرے سے باہر چلے گئے۔
دروازہ بند ہوا۔
اب کمرے میں صرف امن تھا، اور سائے جیسے چہروں والے وہ لوگ، امن نے سب کی طرف دیکھا، ایک ایک کی آنکھوں میں جھانکا…
اور کہا چلو شروع کرتے ہیں۔۔۔ مجھے تم سب کو جاننا ہے… تو میرے سامنے سچ بولنا۔۔۔نریپر کے پاس صرف وہ خود نہیں۔۔ اُس کی پوری ٹیم ہے۔ تربیت یافتہ، بے رحم، اور بے خوف۔
پھر امن نے ایک لمحے کو رُک کر گہری سانس لی۔
آنکھوں میں ایک چمک تھی، جذبات سے آگ بھری ہوئی۔
اور تم میں سے صرف ایک کو اُس سے اکیلے ٹکرانا ہے۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ جیسے دیواریں بھی سن رہی ہوں۔
امن کی نظریں اب سخت ہو چکی تھیں۔
ریپر کو تو جانتے ہوگے… وہ کون ہے… اور کیا کر سکتا ہے۔ تو اب مجھے یہ بتاؤ… تم میں سے کون ہے جو اُس کا سایہ بھی روند سکتا ہے؟
کوئی بھی نہیں۔
ایک سرد، نوکیلی آواز کمرے میں گونجی۔
امن نے چونک کر دیکھا، وہ نوجوان اُٹھ چکا تھا،
جس کی موجودگی اب تک گویا پس منظر میں چھپی ہوئی تھی۔
آفیسر جا چکے تھے، اور اُسے موقع مل چکا تھا۔
اور سنو… اگر زرقان علی کو ہائر کرنا ہے، تو زرقان علی ایک کروڑ روپے لے گا…
امن نے اُسے دیکھا، جہاں باقی سب نے چہرے پر ماسک لگا رکھا تھا،
وہیں اُس کے چہرے پر کچھ بھی چھپا ہوا نہ تھا۔
نہ کوئی خوف، نہ جھجک، نہ تاثر چھپانے کی کوشش۔ وہ ایک خوبرو نوجوان تھا، عمر تقریباً پچیس سے تیس سال کے درمیان تھی۔۔۔
رنگ صاف، گندمی مائل سفید، اور آنکھوں میں غرور کے ساتھ ناگواری کا ہلکا سا تاثر نمایاں تھا۔
بال گھنے، سیاہ اور سلیقے سے جمے ہوئے تھے، جو ماتھے پر ہلکی لہر کی صورت میں ڈھلتے تھے۔
داڑھی متوازن اور تراشی ہوئی تھی، جو چہرے کو مردانہ وقار دیتی تھی۔
جہاں باقی سب نے کوٹ پینٹ پہن رکھی تھی،
وہاں وہ شخص صرف سیاہ پینٹ اور سفید شرٹ میں کھڑا تھا۔۔۔
جس کے آگے کے بٹن بےفکری سے کھلے ہوئے تھے،
جیسے اُسے کسی ضابطے، کسی اصول کی پروا ہی نہ ہو۔
امن خاموشی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔ اُسے پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
پھر وہی شخص ہلکے طنزیہ انداز میں بولا،
نہیں دے سکتے نا…؟
اس نے شانے اُچکائے، اور بےنیازی سے مُڑتے ہوئے بولا
تو میں چلتا ہوں۔
ساتھ بیٹھے ایک ایجنٹ نے فوراً آواز دی،
وائپر، رُک جاؤ۔۔۔
مگر وہ… وہ کسی کی سنتا کب تھا؟
نہ پلٹا، نہ جواب دیا۔
بس اپنے قدموں کی مخصوص رفتار میں چلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔
جیسے یہ سارا اجلاس، ساری گفتگو اُس کے لیے ایک فضول مشق تھی۔
کمرے سے باہر نکلا ہی تھا کہ ایک سینئر آفیسر نے اُسے روک لیا۔
کہاں جا رہے ہو؟ کیا بنا؟
وائپر نے رک کر ایک سرد سانس لی،
چہرہ سپاٹ رکھا، اور کہا
اُس نے کہا… زرقان علی میری اوقات سے باہر ہے۔
افسر نے اُسے غور سے دیکھا۔۔۔
آفیسر نے اُسے گھورا، ایک ایسی نظر سے،
جیسے برسوں کی پہچان اور تلخی اُس ایک لمحے میں سمیٹ لی ہو۔
چہرے پر ناگواری اور مایوسی دونوں جھلک رہے تھے۔
تم پھر بدتمیزی کر آئے؟ آواز میں غصے سے زیادہ تھکن تھی۔۔ جیسے یہ پہلی بار نہ ہو۔
زرقان علی نے ایک ہلکی سی سانس لی،
گردن موڑی، اور بےپروا لہجے میں کہا ہاں… کیونکہ مجھے یہ مشن اتنا خطرناک نہیں لگا۔
یہ کہہ کر وہ پلٹا،
اور بغیر ایک لمحہ رُکے، وہاں سے نکل گیا۔۔۔
کمرے میں چند لمحے خاموشی طاری رہی۔
زرقان علی کے قدموں کی آواز جیسے دروازے کے باہر مدھم ہو چکی تھی،
مگر اُس کی موجودگی کا اثر اب بھی ہوا میں معلق تھا۔
امن نے باقی ایجنٹس کی طرف دیکھا،
پھر دھیمے لہجے میں پوچھا یہ کون تھا؟
سلیپر نے کرسی سے ہلکا سا سرک کر گردن اٹھائی،
اور بغیر جذبات کے کہا۔۔ وائپر…
پھر تھوڑا رُک کر، جیسے ایک دبی ہوئی حقیقت کو تسلیم کر رہا ہو، بولا ہمارے ایجنٹس میں سب سے مغرور، خودغرض، اور خودپسند لڑکا… لیکن جب کام کرے… تو دشمن کا نام و نشان تک مٹا دیتا ہے۔۔۔
امن نے کچھ لمحے خاموشی سے سوچا
پھر نرمی سے پوچھا تو کیا… مجھے اُس سے بات کرنی چاہیے؟
بالکل نہیں۔۔۔
سب ایجنٹس نے بیک وقت کہا۔۔ زرقان کی حرکات سے سب ہی واقف تھے۔۔۔۔ اُس کے ساتھ کام کرنا مطلب آبیل مُجھے مار والا سین تھا۔۔۔
پھر سلیپر نے گردن جھٹکی، کرسی پر سیدھا ہوا اور بولا وہ سنتا ہی نہیں کسی کی… اپنی کرتا ہے۔
تنگ بھی بہت کرتا ہے… آپ اسے ہینڈل نہیں کر پائیں گے، سر۔
نائٹ ہاک نے ہنکارا بھرا، جیسے تصدیق کر رہا ہو۔
سلیپر نے بات جاری رکھی۔۔ اور جیسا کہ آپ نے دیکھا… جب وہ کوئی کام نہ کرنا چاہے۔۔۔ تو اسی طرح بدتمیزی کر کے نکل جاتا ہے۔
امن نے گواری سے سب کو دیکھا۔۔۔۔
سلیپر نے گردن جھٹکی، جیسے پرانی یادیں زہر بن کر لوٹ آئی ہوں
اُس کے ساتھ ایک مشن کیا تھا…
پتہ ہی نہیں چلا، دشمن زیادہ خطرناک تھا یا زرقان۔
زِن، جو کم ہی بولتا تھا، اُس نے صرف اتنا کہا
وہ ٹیم ورک نہیں مانتا… کِسی کے ساتھ کام نہیں کرے گا۔۔۔ آفیسر کی بھی نہیں مانتا۔۔ ہمارے آفیسر تک اُس سے پریشان ہے۔۔۔ آپ کو بھی پریشان کر دے گا۔۔۔
+++++++++++++++++
دروازہ آہستگی سے چرچراتے ہوئے کھلا۔
ریپر خاموش قدموں سے اندر داخل ہوا۔
امل، بستر کے کونے پر، زخم خوردہ دل کے ساتھ، سسکیاں لیتے لیتے تھک چکی تھی۔
اب وہ نیند کی آغوش میں تھی، کمزور مگر پُرامن۔
اس کے چہرے پر آنسوؤں کی لکیر ابھی بھی سوکھی نہیں تھی،
مگر نیند میں اُس کے ماتھے پر عجیب سا سکون تھا… جیسے درد کے بعد تھوڑا سا چین مل گیا ہو۔
ریپر دروازے پر رک گیا۔
چند لمحے… بس اُسے دیکھتا رہا۔
معصوم چہرہ، بند آنکھیں، ہلکی سانسیں۔۔۔
ایسا لگتا تھا جیسے کسی توفان کے بعد ساحل پر پڑی خاموش لہر ہو۔
دروازہ پھر کُھلا اس بار کیٹی اندر داخل ہوئی۔۔۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کی آنکھوں کا رنگ کُچھ لگا ہی تھا۔۔۔ کیٹی نے سوتی امل پر نظر ڈالی۔۔۔
کیا کرنا ہے، باس؟
ریپر ایک کونے میں کھڑا تھا۔۔۔
چند سیکنڈ خاموش رہ کر، دھیرے سے کہا
اس کی چیخیں… مجھے امن کو سنانی ہیں۔
ہوجائے گا باس۔۔۔ کیٹی نے اتنا کہا اور ریپر روم سے فوراََ نکل گیا یہاں رُکنا اُس کے لیے مشکل ہورہا تھا۔۔۔
++++++++++++++++
صبح کے پانچ بج رہے تھے۔
پوری رات کے جاگنے کے بعد، امن کے چہرے پر نیند کا شائبہ تک نہ تھا۔وہ ابھی گھر آیا تھا اور اپنے روم میں بیٹھا تھا۔۔۔ جب نہات کو معلوم ہوا کے امن آچکا تو وہ تیزی سے امن کے روم میں آیا۔۔۔
کہاں تھے بھائی آپ؟ اُس کی آواز میں سوال سے زیادہ شکوہ تھا۔
کچھ پتا چلا امّل کا؟
میرے بندے اُس کے پیچھے لگے ہیں… اب دیکھو۔
نِہات نے ایک لمحہ توقف کیا… پھر وہ سوال جو اُس کے دل میں کچوکے لگا رہا تھا، لبوں پر آ گیا۔
یہ ریپر کا کام ہے نا؟
امن نے بس اثبات میں سر ہلایا،
نِہات کی آواز میں گھبراہٹ آ گئی، پھر تو وہ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آئے گا… ہمیں کوئی بڑا وار کرنا ہوگا۔
امن خاموشی سے آگے بڑھا، بیڈ کے ساتھ جھکا، اور سائیڈ دراز کھول کر ایک بھاری فائل نکالی۔
وہ فائل جیسے اس وقت امید اور مایوسی کے درمیان کی لکیر تھی۔
یہ ہے… ان سب کی تفصیلات۔
اُس نے نِہات کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
نِہات نے جلدی سے فائل کی جانب دیکھا، تو ایک کو رکھ لو نا؟ کیا پرابلم ہے؟
امن نے فائل کو دیکھا، ۔مسئلہ… بھروسے کا ہے۔
اُس نے دھیمی آواز میں کہا، میں ان میں سے کسی پر بھی اعتماد نہیں کر پارہا۔
اور مسئلہ صرف یہ نہیں… میں جن سے ملا… وہ سب ایک ٹیم تھے۔ ایک مکمل یونٹ۔ سب کا اپنا دائرہ، اپنی مہارت۔۔۔
نِہات اب بغور اُسے دیکھ رہا تھا۔
امن نے نظریں اُٹھائیں۔
پھر بھائی ایک بات سنو…
اگر تم ان پر بھروسہ نہیں کر پا رہے…
تو شاید تمہیں ایسا بندہ چاہیے جو ان سب سے الگ ہو۔ جو سسٹم سے باہر ہو… اور صرف تمہارے لیے کام کرے۔
تم کیا کہنا چاہتے ہو؟
نہات نے گہری سانس لی اور سنجیدگی سے بولا:
دیکھو بھائی… تم ایجنٹس میں سے ایک بندہ سلیکٹ کرو… صرف ایک، جو ہمیں ریپر کی لوکیشن دے… اور بتائے کہ امّل اس وقت کہاں ہے۔
بس اتنا۔
اور پھر؟
پھر تم سیکیورٹی گارڈز میں سے ایک آدمی چُنو۔۔ ایسا جو بہت تیز ہو، جو ہمارے لیے رستہ کھول سکے۔ پھر جب ہمارے پاس لوکیشن ہوگی، ہم خود جائیں گے، اور اُسی گارڈ کی مدد سے امّل کو نکال لائیں گے… یہی ایک راستہ ہے۔ ورنہ پولیس کے بھروسے بیٹھے رہے… تو شاید کبھی کچھ نہ ہو۔
امن خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا…
تُم کہنا چاہتے ہو… کہ امّل کو ریپر کے اڈے سے نکالنے… ہم خود جائیں؟
نہات نے سر اُٹھا کر اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔
ہاں بھائی…ہم کسی اور پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔۔۔
امن کچھ لمحوں تک اُسے دیکھتا رہا۔۔۔ پھر آہستگی سے اُس نے گردن ہلائی۔ ٹھیک ہے… میں چھ بجتے ہی سیکیورٹی ایجنسی جاؤں گا…
پھر اُس نے کھڑکی کی طرف دیکھا، جہاں اندھیرے میں صبح کی روشنی کی ہلکی سی لکیر نمودار ہونے لگی تھی۔۔۔
++++++++++++++++
صبح کے ٹھیک چھ بجے…
امن، سیکیورٹی ایجنسی کے دروازے سے اندر داخل ہوا۔
اسٹاف روم میں سب پہلے سے موجود تھے۔
ایک لمبی میز کے گرد، مختلف قد و قامت کے مرد بیٹھے تھے… کوئی اپنے جوتوں کے تسمے کس رہا تھا، کوئی گن کی میگزین چیک کر رہا تھا، اور کوئی سگریٹ کے دھوئیں کو ایسے اڑا رہا تھا جیسے اُس کے لیے یہ سب محض روزمرّہ کی بات ہو۔
امن خاموشی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
چند رسمی تعارف ہوئے نام، مہارت، پچھلے مشنز کی کہانیاں۔
پھر امن نے گہری سانس لے کر اصل بات شروع کی…
ہمیں ایک لڑکی کو بازیاب کروانا ہے… اُس کا نام امّل ہے۔
چند چہروں پر ہلکی سی دلچسپی جھلکی، لیکن سب سن رہے تھے۔
پھر جیسے ہی اُس نے اگلا جملہ کہا، کمرے میں ہوا کا بہاؤ بھی رک سا گیا۔
وہ اس وقت… ریپر کے پاس ہے۔
ایک لمحے کو، سب کے چہرے بدل گئے۔
کسی نے نظریں جھکا لیں، کسی نے کرسی سے کمر ہٹالی، اور کوئی اپنی نشست سے آہستہ آہستہ پیچھے سرکنے لگا۔
ریپر کا نام سنتے ہی ماحول میں ایک ان دیکھے خوف کی لہر دوڑ گئی۔
ریپر کا نامِ سنتے ہی سب ہی پیچھے ہٹنے لگے۔۔۔
ایک تو ریپر کا معاملہ اوپر سے ریپر کا سامنا ؟؟
ریپر کا معاملہ مطلب موت اور زندگی کا معاملہ۔۔۔۔
امن نے خاموشی سے سب کے چہرے دیکھے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اُسے اندازہ ہوا… ریپر کے خلاف لڑنا ہتھیار کا نہیں، حوصلے کا کام ہے، اور یہ حوصلہ سب کے پاس نہیں ہوتا۔
امن نے کمرے میں ایک آخری نظر دوڑائی۔
چند لمحے پہلے جو ہلکی سی اُمید دل میں تھی، اب وہ بھی بجھ چکی تھی۔
وہ خاموشی سے اپنی فائل بند کرتا اور اپنی نظرے سب کی طرف کرتا تھا۔۔۔
میں صرف ایک سیاست دان نہیں… ایک ایسا انسان ہوں جو اپنے لوگوں کے لیے کھڑا ہو۔
میں اپنی وجہ سے… یا اپنی بہن کی وجہ سے… کسی کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔
سب کی نگاہیں اُس پر تھیں، مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ کچھ بولے۔
اب سب بے فکر ہو جائیں… میرے ساتھ کام نہیں کرنا ہے، تو کھل کر کہہ سکتے ہیں۔
وہ ایک لمحے کے لیے رکا، اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا ہاں… میں سیاست کے لیے لڑ رہا ہوں۔ لیکن میری سیاست صرف ووٹوں تک نہیں… میرے لوگوں کی زندگی تک ہے۔
اُس نے آہستہ مگر گہرے لہجے میں کہا، عوام کی سیفٹی… میری پہلی پرایورٹی ہے۔
یہ کہہ کر وہ فائل ہاتھ میں لے کر آہستہ آہستہ دروازے کی طرف بڑھا… سب پر ایک نظر ڈالی اور
مڑ کر باہر نکل گیا، اور پیچھے رہ گئے لوگ… جن کے دلوں میں پہلی بار امن کے لیے ایک غیر معمولی احترام جاگ اٹھا تھا۔
وہ جس کے پاس سیفٹی لینے آیا تھا…
اب اُن کو ہی سیفٹی دے کر جا رہا تھا۔۔۔
یہ کیسا کھیل تھا…؟ قسمت کا، یا حالات کا؟
پھر ایک سیکیورٹی گارڈ فوراً اُٹھا اور امن کے پیچھے لپک گیا،
سر، بات سنیں؟
امن نے آہستہ سے قدم روکے اور پلٹ کر اُس کی طرف دیکھا۔ گارڈ کی سانسیں تیز تھیں،
سر… میں صرف سیکیورٹی گارڈ نہیں… ایک ڈِٹیکٹیو بھی رہا ہوں۔ اور سچ کہوں تو، مجھے لگتا ہے یہ کیس حل ہونا تقریباً ناممکن ہے۔
امن خاموشی سے اُسے دیکھتا رہا، گارڈ کے لہجے میں گھبراہٹ بھی تھی اور سنجیدگی بھی۔
آپ کو… کسی ایسے بندے کو ڈھونڈنا ہوگا… جسے اپنی جان کی پروا نہ ہو،
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا،
ایسا بندہ تو پھر نہیں مل سکتا… ظاہر ہے سب کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے۔
گارڈ کی نظریں اب زمین پر جمی ہوئی تھیں، جیسے الفاظ زبان سے نکالنا اُس کے لیے آسان نہیں تھا۔
سوری سر… اس سے زیادہ میں آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔
امن نے پلک جھپکے بغیر اُسے دیکھا۔
لیکن مجھے لگتا ہے تم ایسے شخص کو جانتے ہو… تبھی تو تم نے یہ بات کی ہے؟
گارڈ نے آہستہ سے سر اُٹھایا، اور ایک مختصر مگر پُراثر جملہ بولا۔ ہاں… میں جانتا ہوں۔
کون ہے وہ…؟
گارڈ نے گہری سانس لی۔
وہ کہاں رہتا ہے، کہاں ہوتا ہے… یہ سب مجھے نہیں معلوم۔ میرے پاس بس اُس کا نمبر ہے۔ آپ سر… صرف اسی کے ذریعے آپ اس سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
گارڈ نے آہستہ آہستہ نمبر دہرایا،
امن نے موبائل میں نمبر محفوظ کیا… لیکن فوراً کال نہیں کی۔
اُس کی انگلیاں موبائل کے اسکرین پر ٹھہر گئیں، پھر اُس نے فون جیب میں ڈال دیا۔
صبر… یہی اس وقت اُس کا سب سے بڑا ہتھیار تھا۔
باہر صبح کی مدھم روشنی پھیل رہی تھی، مگر امن کے دل میں ابھی تک رات جیسا اندھیرا تھا۔
++++++++++++++++
وہ گھر آیا، نہا دھو کر لباس بدلا، اور ایک گہری سانس لے کر نمبر ڈائل کر دیا۔
پہلی کال… کوئی جواب نہیں۔
دوسری کال… اب بھی خاموشی۔
تیسری، چوتھی، پانچویں بار… ہر بار ایک ہی بے رخی، جیسے اس نمبر کے دوسری طرف کوئی موجود ہی نہ ہو یا پھر جان بوجھ کر نہ سن رہا ہو۔
امن کے ماتھے پر ہلکی سی شکن پڑ گئی۔
یہ خاموشی عام نہیں تھی، یہ ایک پیغام تھی،
کہ اس شخص سے رابطہ اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا اُس نے سوچا تھا۔
فون ہاتھ میں تھامے، وہ کرسی کی پشت سے ٹک گیا۔
ٹک لگاتے ہی اُس کی آنکھیں بند ہوگئیں…
اور پھر جیسے وقت کی سوئیاں اُلٹی چلنے لگیں۔
یادیں دھند کی طرح اُبھرنے لگیں، امل کی ہنسی، اُس کی ضدیں، اُس کی شوخ باتیں۔
ایک دن کی یاد بہت صاف تھی۔
اس دن ڈرائیور نے اُسے اسکول سے گھر لانے میں ذرا سی دیر کردی تھی۔
اور وہ، غصے اور شرارت کا ایک عجیب سا امتزاج بن کر، دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر بولی تھی۔۔
اب اگر میں وقت پر گھر نہیں پہنچی نا تو دیکھ لیجیۓ گا! میں اسکول ہی میں کہیں چھپ جاؤں گی… پھر ڈھونڈتے رہیئے گا سب مل کر۔۔۔
‘امل کہاں گئی؟ امل کہاں گئی؟’
اور اُس کی آنکھوں میں وہ چمک… جیسے واقعی اپنے ہی ڈرامے میں ہیروئن بن گئی ہو۔
امن اُس وقت ہنسا بھی تھا اور پریشان بھی ہوا تھا،
اور آج، اُسی یاد کے ساتھ، اُس کی ہنسی اور آنکھوں کی نمی ایک ساتھ واپس آگئی۔
++++++++++++++++++
صبح کے آٹھ بجے، جیسے ہی شہر جاگا، ایک بار پھر پورے انٹرنیٹ اور میڈیا پر ریپر کا قبضہ تھا۔
ٹی وی ہو یا سوشل میڈیا، ہر اسکرین پر ایک ہی ویڈیو کلپ بار بار چل رہی تھی،
سامنے ریپر… اُس کا چہرہ نقاب میں چھپا تھا،
وہ دھیمے، پر کاٹ دار لہجے میں بات کر رہا تھا،
اور اُس کے پیچھے…
امل کی دل دہلا دینے والی چیخیں۔
ایسی چیخیں جو کسی کے بھی دل کو جکڑ لیں، جو سن کر خون جمنے لگے۔
یہ منظر صرف ایک ویڈیو نہیں تھا… یہ ایک کھلی دھمکی تھی۔
اور امن کے لیے… یہ ایک اعلانِ جنگ۔
امن صوفے کے کونے پر بیٹھا تھا، فون ہاتھ میں جکڑا ہوا۔
اسکرین پر وہی ویڈیو چل رہی تھی، ریپر کے سرد لہجے میں بولے گئے جملے، اور پس منظر میں امل کی کانپتی ہوئی چیخیں۔
امن کی نظریں فون پر جمی تھیں، مگر اس کی آنکھوں میں ایک طوفان مچ رہا تھا۔
چہرے پر غصے اور بے بسی کا ایسا امتزاج تھا کہ لگتا تھا ابھی کچھ توڑ دے گا۔
اس کی سانسیں بھاری تھیں… ہاتھ میں پکڑا فون جیسے ہر لمحہ اُس کے شکنجے میں مزید دب رہا ہو۔
اس کا دل کہہ رہا تھا فوراً اُٹھے، ابھی نکلے، سب کچھ توڑ ڈالے اور اپنی بہن کو لے آئے…
مگر دماغ جانتا تھا، یہ جال ہے۔
ریپر چاہتا تھا کہ وہ غصے میں آ کر بے سوچے سمجھے وار کرے۔
پھر بھی، امل کی چیخیں… وہ آوازیں جو فون کے اسپیکر سے نکل کر سیدھا اُس کے دل پر لگ رہی تھیں…
امن کے ضبط کو ہر سیکنڈ کمزور کر رہی تھیں۔
فون کی اسکرین پر وہ دو سیکنڈ جیسے دو صدیوں کے برابر تھے۔
ریپر کا بھاری، بےرحم لہجہ گونجا۔۔۔
سیاست چھوڑ دو امن… میں امل کو چھوڑ دوں گا…
اور پس منظر میں امل کی چیختی ہوئی آواز
مجھے بچاؤ… مجھے بچاؤ… یہاں سے نکلو مُجھے۔۔۔
کلپ ختم ہو گئی، مگر آوازیں ختم نہیں ہوئیں۔
وہ امن کے کانوں میں گونجتی رہیں، جیسے کسی نے اس کے دل میں کانٹے گاڑ دیے ہوں۔
اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا… ہاتھ کانپ رہے تھے…
دل چاہ رہا تھا اسی وقت سیاست بھی جلا دے اور شہر بھی، مگر دماغ… دماغ بس ایک ہی بات دہرا رہا تھا۔۔۔۔ یہ ریپر کا جال ہے…
++++++++++++++
اس کلپ نے صرف اسکرین پر چل کر ہی کام نہیں کیا تھا…
یہ پورے شہر میں زلزلے کی طرح پھیل گیا تھا۔
مارکیٹوں میں دکان دار اپنے کاؤنٹر چھوڑ کر اسکرین کے گرد جمع تھے،
کافی شاپس میں بیٹھے لوگ کپ ہاتھ میں لیے رُک گئے تھے،
سڑک کنارے کھڑے رکشہ ڈرائیور بھی ریڈیو پر چلتی خبر سن کر ایک دوسرے کا چہرہ تک رہے تھے۔
ہر جگہ ایک ہی سوال تھا۔۔۔
یہ امل امن کی بہن ہے؟
ریپر واقعی اسے مار دے گا؟
کیا امن سیاست چھوڑ دے گا؟
سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ بھڑک اُٹھے تھے۔۔۔
#SaveAmal
#ReaperVsAman
ٹی وی چینلز پر اینکرز کی زبانیں تیز چل رہی تھیں،
تجزیہ کاروں نے مائیک سنبھال لیے تھے،
کوئی امن کو بےوقوف کہہ رہا تھا،
کوئی اُسے ہیرو قرار دے رہا تھا۔
شہر کے ہر کونے میں خوف اور تجسس کا ایک عجیب امتزاج پھیل گیا تھا۔
لوگ ایک دوسرے کو کلپ دکھا رہے تھے، آواز کم کر کے مگر آنکھوں میں ہلچل بڑھا کر۔
پولیس کا رویہ بھی اس ویڈیو کے بعد یکدم بدل گیا تھا۔
پہلے تک یہ معاملہ صرف امن کا تھا وہ سب سکون سے بیٹھیں تھے کہ افتخارِ صاحب کی فورسز جلد ہی کچھ کر لگی لیکن جیسے ہی ریپر کا چیلنج اور امل کی چیخیں پورے شہر میں گونجیں،
پولیس ہیڈکوارٹر کے در و دیوار پر بھی دباؤ کی دھڑکن سنائی دینے لگی۔
کمشنر نے فوراً ہنگامی اجلاس بلایا۔
کمرے میں بیٹھے افسران کے چہروں پر سنجیدگی اور خوف دونوں تھے۔
ایک نے فائل بند کرتے ہوئے کہا،
سر… یہ کیس اب صرف اغوا کا نہیں رہا… یہ پبلک پریشر کا بھی ہے۔
ایس پی نے کرسی کے ہتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے جواب دیا،
پبلک پریشر؟ یہ تو سیدھا ہماری ناک پر طمانچہ ہے!
ریپر نے ہمیں بھی پیغام دیا ہے کہ ہم کچھ کر ہی نہیں سکتے۔
نیچے کے درجے کے اہلکاروں کا حال اور بُرا تھا۔
چوکیوں پر موجود سپاہی آپس میں سرگوشیاں کر رہے تھے،
یار یہ ریپر پکڑا گیا تو بچ کے بھی نہیں جائے گا…
مگر اگر نہیں پکڑا تو؟
پولیس کے کچھ افسران کھلے لفظوں میں امن کو موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے۔۔۔
یہ سب اُس کی سیاست کی وجہ سے ہے… ہم کیوں اس جنگ میں کودیں؟
جبکہ کچھ خاموش مگر تیاری میں لگے تھے،
جیسے ریپر کا سامنا اُن کے ذاتی وقار کا معاملہ بن گیا ہو۔
ہیڈکوارٹر کے باہر میڈیا کے کیمرے لگ چکے تھے،
ہر چینل کا رپورٹر صرف ایک ہی سوال دہرا رہا تھا،
پولیس کب کارروائی کرے گی؟
اس دن پولیس کا رویہ دو دھاری تلوار جیسا تھا،
ایک طرف عوام کے سامنے مضبوط دکھنے کی کوشش،
دوسری طرف اندر ہی اندر اس حقیقت کا اعتراف
کہ ریپر کو پکڑنا… شاید اُن کے بس سے باہر ہے۔
++++++++++++++
اب تو ایجنسی والے بھی اپنے ایجنٹس دوبارہ تیار کرنے میں لگ گئے تھے۔
ریپر کا نام، اور اُس کے ساتھ امل کی چیخیں، یہ صرف عوام یا پولیس تک محدود خوف نہیں تھا۔
ایجنسی کے اندر بھی جیسے کسی نے الارم بجا دیا ہو۔
فائل روم میں بند دروازوں کے پیچھے، پرانے کیسز کی فائلیں نکالی جا رہی تھیں۔۔
ریپر کے ماضی، اُس کے پرانے حملے، اُس کے طریقے…
سب کو دوبارہ پڑھا جا رہا تھا۔
ایجنسی کے چیف نے میٹنگ میں کہا،
یہ اب صرف امن کا مسئلہ نہیں… یہ ریاست کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے ایک بھی غلط قدم اٹھایا،
تو خطرہ مزید بڑھ سکتا تھا۔۔۔
مگر اندر ہی اندر، ایک اور بات سب جانتے تھے۔۔
ریپر کا سامنا کرنے کے لیے صرف ٹریننگ کافی نہیں،
ایسا کوئی چاہیے جو اس کے ذہن کو پڑھ سکے،
جو اُس کے کھیل میں اُسے ہی ہرا سکے۔
اُسی دوران ایجنسی کے چیف آفیسر کی ڈیسک پر رکھے سرخ فون کی بتی جل اٹھی۔
یہ وہ لائن تھی جو صرف ہائی پروفائل، حساس کالز کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
آفیسر نے لمحے بھر کو چونک کر فون اُٹھایا۔
ہیلو… کون؟
دوسری طرف سے مانوس مگر بھاری لہجہ سنائی دیا۔۔
امن بات کر رہا ہوں۔
آفیسر سیدھا کرسی پر بیٹھ گیا، جیسے اچانک اس کی ریڑھ کی ہڈی میں کرنٹ دوڑ گیا ہو۔ امن… میں جانتا ہوں تم فون کرو گے۔ وہ ویڈیو دیکھی میں نے۔
امن کی آواز میں ضبط اور غصے کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ میں تمہیں صرف یہ بتانے کے لیے کال کر رہا ہوں کہ اب یہ میرا ذاتی جنگ ہے میں امل کو واپس لاؤں گا، لیکن تمہارے طریقے سے نہیں۔
چیف نے بھنویں سکیڑ لیں۔ تم جانتے ہو ریپر ایک فرد نہیں، ایک پورا نیٹ ورک ہے… اگر تم اکیلے گئے تو۔۔۔
امن نے بیچ میں ٹوک دیا۔میں اکیلا نہیں ہوں… تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
چیف نے گہری سانس لی۔ تم چاہو تو ہم تمہیں انٹیلیجنس فراہم کر سکتے ہیں…
امن نے سرد لہجے میں کہا، انٹیلیجنس تم رکھو… بس ایک چیز چاہیے تم سے۔
چیف خاموش ہو گیا، انتظار کرنے لگا۔
مجھے صرف اُس شخص سے بات کروں۔۔ وائپر سے امن نے سرد لہجہ میں کہا
چیف نے لمحے بھر کو سکوت اختیار کیا، پھر آہستہ کہا تو تم نے فیصلہ کر لیا…؟
پھر اچانک اسے زرقان یاد آ گیا۔
لیکن وہ مانے گا نہیں… اور اگر مان بھی گیا تو تمہیں ہینڈل نہیں کر پاؤ گے۔
امن نے آہستہ کہا تم بس ملاقات کروا دو۔ باقی… میں سنبھال لوں گا۔
جیسے تم بولو… لیکن میں تمہیں پھر کہہ رہا ہوں، چیف کا لہجہ دھیمے مگر وزنی الفاظ سے بھرا تھا،
ویپر بہت بد لحاظ ہے… پہلے تو وہ کبھی مانے گا نہیں… اور مان بھی گیا، تو تمہیں اتنا پریشان کرے گا وہ حکم مانے والا نہیں دینے والا انسان ہے۔
فون کے اُس طرف لمحے بھر کو خاموشی چھا گئی۔
پھر امن کی آواز آئی
میں سنبھال لوں گا۔ تُم بس میری ملاقات کرواؤ۔
++++++++++++
رات بھر رو رو کر اس کی آنکھیں سوکھ چکی تھیں… اور چیخ چیخ کر اس کا گلا بیٹھ چکا تھا۔
وہ اٹھی، بستر سے نیچے اترنے کو تھی… کہ کسی خیال نے اسے روک لیا۔
پلک جھپکنے سے بھی آہستہ وہ دوبارہ بستر پر جا بیٹھی… وہ تکیے کے غلاف کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھ گئی… جیسے یہ کپڑا امن کا ہاتھ ہو، اور وہ اسے چھوڑنے سے ڈر رہی ہو۔
اسی لمحے۔۔۔
دروازہ کھلا۔
آواز اتنی اچانک تھی کہ اس کا سانس سینے میں اٹک گیا۔
یوں لگا جیسے اس کے اٹھنے کی خبر، ہوا کے کسی نادیدہ راستے سے ریپر تک پہنچ گئی ہو۔
جیسے ان دیواروں میں خود کوئی روح بسی ہو… جو ہر دھڑکن، ہر حرکت ریپر کے کان میں سرگوشی کرتی ہو۔
وہ ساکت بیٹھی رہی۔
دروازے کے پار سے آتی روشنی نے کمرے کے فرش پر ایک لمبا سا سایہ ڈال دیا۔۔۔
وہ سایہ… جو آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔
ریپر نے کمرے کی لائٹوں کے بٹن پر ہاتھ مارا۔۔۔
اگلے ہی لمحے روشنی نے کمرے کو اپنی سفید تیز لپیٹ میں لے لیا۔
اچانک اندھیرے سے روشنی ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں یکدم جلنے لگیں۔
وہ غیر ارادی طور پر آنکھیں مچکا گئی،
دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا وہ شخص، سیاہ لباس میں لپٹا، چہرے پر سیاہ ماسک۔۔۔۔
اُٹھ گئی ہو…
اس کا لہجہ دھیمی سرگوشی کی طرح تھا، مگر ہر لفظ کی نوک تیز۔
کیا سمجھتے ہیں آپ خود کو…؟ یہ سب کر کے آپ بھائی کو خوفزدہ کر سکتے ہیں…؟
اس کی آواز بھرا بھرا سا تھی، مگر ہر لفظ میں ضد کی ایک چنگاری جل رہی تھی۔
بالکل بھی نہیں…!
میں… تمہارے بھائی کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتا۔
وہ رکا، جیسے اگلا جملہ دانستہ آہستہ کہنا چاہتا ہو، تاکہ ہر لفظ اس کے دل میں دھنس جائے۔
میں چاہتا ہوں… تمہارا بھائی یہ سیاست… چھوڑ دے۔
وہ تڑاخ سے بولی، بھائی ایسا کبھی نہیں کریں گے۔ وہ سیاست کبھی نہیں چھوڑیں گے… اور آپ کے ڈر سے تو بالکل بھی نہیں۔
تمہاری وجہ سے بھی نہیں؟
بالکل نہیں۔۔۔ امل کی آواز گلے کی خشکی کے باوجود صاف اور مضبوط تھی۔
بھائی مجھے یہاں سے نکال لیں گے…
ریپر نے ذرا سا سر جھکایا، جیسے اس کے الفاظ کا ذائقہ چکھ رہا ہو۔
پھر آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا، ہر قدم فرش پر دھیمی مگر گہری چاپ چھوڑتا ہوا۔
ہوں… وہ ٹھہرا، اس کے سامنے رک کر، اور جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
کب؟
یہ ایک لفظ تھا، مگر ایسے بولا گیا جیسے کسی نے چھری کی نوک ہلکی سی اس کی جلد پر رکھ دی ہو۔
امل کی پلکوں نے ایک پل کو جھپکنے کی کوشش کی، مگر اس نے خود کو روک لیا… خوف سے اُس نے تکیہ کی گرفت اور مضبوط کرلی۔۔۔
جلدی… اس نے جواب دیا،
ریپر کی مسکراہٹ میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔
مُجھے انتظار رہے گا۔۔۔
++++++++++++++++
ہنزا کے ہاتھ میں موبائل تھا، آنکھوں میں بےچینی اور بےقراری کے آثار واضح تھے۔ زوبیہ اُس کے سامنے کرسی پر بیٹھی تھی،
ہنزا نے جلدی سے فون کا سکرین آن کیا اور بولا، آپی، آپی… نیوز دیکھو میری دوست، میری ایمو…
زوبیہ کی آواز میں حیرت تھی، کیا ہوا تمہاری دوست کو؟
ہنزا کی آنکھیں بڑی ہو گئیں، ریپر منحوس… میری دوست…
زوبیہ نے سوال کیا، کیا بول رہی ہو؟
ہنزا نے پھر کہا، آپی… میری دوست… ایمو…
زوبیہ نے فوراً کہا، کیا ہوا اسے؟ ہم چل رہے ہیں نا اس کے گھر…
ہنزا نے تھوڑا غصے اور بےبسی کے ساتھ جواب دیا، اس کے گھر؟ اس کے گھر جا کر کیا کریں گے ہم؟ آپی، میری دوست ایمو، میری دوست، امل ہے یار…
زوبیہ نے سوال کیا، کیا امل؟ وہ سیاستدان کی بہن؟
ہنزا نے ہاں میں سر ہلایا، ہاں آپی…
زوبیہ کی آنکھوں میں گھبراہٹ کے چھلکے نمودار ہوئے، وہ جیسے ریپر نے اغواہ کرلیا ہے۔
ہاں آپی، ہاں۔۔۔ ہنزا کا لہجہ اچانک بلند ہو گیا، وہ ریپر… وہ درندہ کہیں کا! میری دوست کو اغوا کیا ہے اس نے! میں ابھی جارہی ہوں بھائی کو بتانے۔۔۔
زوبیہ نے تیزی سے کہا، بھائی کو کیا بتاؤ گی؟
ہنزا کا غصہ اُبال پر تھا، یہی کہ ریپر منحوس ہے! آپ کچھ کریں بھائی۔۔
زوبیہ نے مایوسی سے سر ہلایا، بھائی کیا کر لیں گے…؟
ہنزا نے آہستہ سے کہا، آپی… آپ یہ پوچھیں… بھائی کیا کیا نہیں کر لیں گے۔۔
کیا کہہ رہی ہو تم؟
آپی، آپ کو پتا ہے… بھائی میرے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ہنزا کا ایک مان تھا… یہ پیار تھا یا ارباز کی محبت تھی… وہ نہیں جانتی تھی۔ بس یہ جانتی تھی کہ اس کا بھائی اس کے لیے سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہی بھائی جس نے بچپن میں اس کے آنسو دیکھ کر اسکول کے گیٹ پر دوسرے بچوں سے لڑائی کی تھی،
وہی جو امتحان کے دنوں میں چپ چاپ اس کے لیے رات کو دودھ کا گلاس لے آتا،
وہی جو اس کے خوابوں کو سن کر مسکراتا، اور پھر ان خوابوں کو حقیقت بنانے کی ضد کر بیٹھتا۔
آج بھی ہنزا کے دل میں یہی یقین جل رہا تھا کہ اگر ارباز کو پتا چلا… کہ اُس کی بہن کی دوست مشکل میں ہے… تو وہ زمین آسمان ایک کر دے گا۔
لیکن یہ بات نادان ہنزہ کہاں جانتی تھے کہ اُس کا بھائی صِرف ایک عام سا بزنس مین ہے۔۔ وہ ریپر کے سامنے کیسے کھڑا ہوسکتا ہے۔۔۔
زوبیہ نے ایک لمحے کو نظریں جھکا لیں، پھر دھیمی آواز میں کہا، لیکن ہنزا… وہ ریپر… مافیا ہے۔
ہنزا کا جواب کاٹ دار تھا، مافیا نہیں… درندہ ہے وہ۔۔
زوبیہ نے پھر بولنے کی کوشش کی، ہنزا، وہی۔۔۔
لیکن ہنزا نے اس کی بات کاٹ دی۔ اس کے چہرے پر غصے اور فیصلہ کا ملا جلا رنگ تھا۔ اس نے موبائل بیڈ پر پھیکا، کرسی دھکیل دی، اور بغیر ایک لفظ مزید کہے کمرے سے نکل گئی۔
++++++++++++
جاری ہے۔۔۔۔۔
