قصاص قسط نمبر:۱۹
ازقلم ردا فاطمہ۔۔۔
یوسف اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھا تھا یاسر کے ساتھ ۔۔ یسرا کہیں باہر گئی تھی کیسی کام سے
یوسف کے کمرے کی دیوار پر ایک بورڈ لگا تھا جہاں ہیر کے گھر کے سب افراد کا نام لکھا تھا ۔ اور زر مان راجپوت بھی شامل تھا ۔۔۔ اعلی بھی شامل تھا ۔۔ اور یوسف سامنے کھڑا کوئی جور بنا رہا تھا علی کا ۔۔ ہیر کے گھر والوں سے ۔۔ یاسر خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔
دیکھ یاسر ۔۔ ہیر اغوا ہوئی تھی ۔۔۔ اغوا علی نے کیا تھا ۔۔
اور اس کی اصل شکل سے کوئی واقف نہیں تھا اور اگر اس کے بارے میں کچھ پتہ ہے تو وہ ہے ایک لاکٹ ۔۔ سرخ باز والا لاکٹ ۔۔
جو علی نے ہیر کو اغوا کرتے وقت بھی پہن رکھا تھا اور کل پولیس اسٹیشن میں بھی پہن رکھا تھا
یوسف نے کچھ دیر سوچا ۔۔ یہ لاکٹ کہیں دیکھا ہے میں نے یاسر ۔۔ یاد نہیں آ رہا ۔۔۔کیسی کو پہنے دیکھا ہے میں نے ہیر کے گھر میں سے کسی کو ۔۔ یوسف اب دماغ پر زور دے رہا تھا ۔۔ یاسر خاموش بیٹھا تھا۔ ۔ بھائی ذرا سوچیں کون ہو سکتا ہے ۔۔
یوسف نے سوچنے کی کوشش کی ۔۔
مہندی ۔۔ ہیر کی مہندی والی رات کو دیکھا تھا
یوسف نے دماغ پر زور دیا ۔۔
وہ زر مان راجپوت کے پاس کھڑا مہندی کی رسم کر رہا تھا ۔۔ یوسف جھکا اُس نے سفید کپڑے پر مہندی لگائی ۔۔ پھر اٹھتے وقت نظر زر مان کے گلے پر پڑی ۔۔
زر مان ۔۔۔ یاسر میں نے لاکٹ زر مان راجپوت کے گلے میں دیکھا تھا ۔۔۔
تو سر کیا زر مان علی ہے ۔۔ لیکن سر کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ کے زرمان علی ہو
یاسر ہو سکتا ہے زر مان ہی علی ہے ۔۔ لیکن اس نے ہیر کو اغوا کیوں کیا۔۔؟ یوسف اب یہ سوچ رہا تھا ۔۔ یوسف کو 90 فیصد یقین تھا کے زر مان علی ہے ۔۔ جو غلط ثابت ہونے والا تھا ۔۔۔ دن گزرتے جا رہے تھے ۔۔
ہیر کی طبیعت میں کوئی فرق نہیں آ رہا تھا ۔۔ ریحان رات رات بھر ہیر کے پاس بیٹھا رہتا تھا زر مان جب بھی اتا ہیر کی حالات دیکھی نہ جاتی ۔۔ وہ گھنٹوں دیوانوں کی طرح ہیر سے باتیں کرتا جن کا کوئی جواب نہیں ملتا تھا۔۔۔ اور پھر ریحان زر مان کو واپس گھر بھیج دیتا ۔۔ ریحان اتنا تو سمجھ گیا تھا ۔۔ زر مان کا ذہنی توازن بگڑنے لگا تھا ۔۔ مہینوں پر مہینے گزر رہے تھے ۔۔ اور زر مان کی حالات خراب ہوتی جا رہی تھی ۔
وہ اندھیرے کمرے میں بیٹھا کبھی ہیر سے باتیں کرنے لگتا وہ ہیر جو شاید بس زر مان کو ہی نظر اتی تھی ۔۔ اُس کی ماں بہت پریشان تھی۔۔ وہ راتوں کو ڈری رہتی کے زر مان کچھ کر نہ دے ۔
یہ کہیں چلا نا جائے۔ وہ راتوں کو اُ ٹھ اُ ٹھ کر دیکھتی کے اُن کا بیٹا ٹھیک ہے ۔۔
زر مان آخری سہارا تھا اپنی ماں کا ۔۔ اور اب وہ اپنے ہوش کھوتا جا رہا تھا ۔۔ کیا یہ افق مصطفی کی بد دعا تھی ۔۔ لیکن اس نے تو کوئی بد دعا نہیں دی تھی ۔
اُس نے دی نہیں تھی ۔۔لیکن اہ لگ گئی تھی ۔۔۔
ایک دن یوسف زر مان کے گھر ایا تھا ۔۔ یاسر کے ساتھ ۔۔ اور زر مان کی حالات دیکھ کے بہت افسوس ہوا ۔۔ اُس کی امی ۔۔ زر مان کو کمرے میں ہی بند رکھتی تھی ۔۔ کے کہیں خود کو کچھ نہ کر لے ۔۔۔
یوسف بھائی ۔۔ ہیر میرے گھر ائی تھی آ پ کو پتہ ہے ۔۔ زر مان یوسف کے سامنے بیٹھا بول رہا تھا ۔۔ یوسف خاموش تھا ۔۔ وہ کیا کہتا ۔۔ ۔
آ پ کو پتہ ہے وہ میرے سے اتنی باتیں کرتی ہیں میں بتا نہیں سکتا ۔۔ ہم روز رات کو باتیں کرتے ہیں۔ ۔۔ میں اُن کو کہتا ہوں ۔۔ ہم شادی کریں گے ۔۔ اچھی زندگی گزاریں گے ۔۔
آ پ کو پتہ ہے وہ کہتی ہیں ٹھیک ہے لیکن پہلے تم میرے پاس آجاؤ ۔۔ میں تم سے دور ہوں ۔۔ یوسف بھائی ۔۔ مجھے ہیر کے پاس جانا ہے ۔۔
اور یہی وجہ تھی زر مان کی ماں زر مان کو کمرے میں بند رکھتی تھی ۔۔
اور یوسف زر مان سے کچھ بھی پوچھے بنا ہی واپس اگیا تھا ۔۔اور واپس آ کے یاسر سے بات کر رہا تھا ۔۔ زر مان کی حالات بتا رہا تھا ۔۔ سر زرمان نہیں ہو سکتا علی ۔۔ اُس کی حالت دیکھی ہے آ پ نے ۔۔ وہ پاگل ہو گیا ہے وہ کیسے علی ہو سکتا ہے ۔۔
تمھاری بات صحیح ہے یاسر ۔۔ لیکن ۔۔میں نے زر مان کے گلے میں ابھی بھی وہ لاکٹ دیکھا ہے یاسر ۔۔
وہ ابھی بھی زر مان کے گلے میں ہے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔ اور یہی بات یاسر اور یوسف کو پریشان کر رہی تھی ۔۔ ہم اب سے زرمان پر کچھ دن نظر رکھیں گے یاسر ۔۔
ٹھیک ہے سر ۔۔
اور پھر یہی ہوا ۔۔ یوسف ایک دن زر مان سے ملنے گیا تھا اور زر مان کے کمرے میں کیمرا لگا ایا تھا ۔۔ اور کیمرے میں کمرے کا سارا منظر صاف نظر آتا تھا ۔۔ کیمرا یوسف اور یاسر دونوں کے فون اور لیپ ٹاپ سے اٹیچ تھا ۔۔ یوسف یاسر پورا پورا دن بیٹھے دیکھتے رہتے تھے ۔۔ زر مان اکیلے باتیں کرتا تھا ۔۔ ہنستا تھا روتا تھا ۔۔ ۔۔وہ اتنا کمزور ہو گیا تھا کے اُس کی آنکھوں کے نیچے ہلکے پر گئے تھے ۔۔ اُس کا چہرہ زرد ہو گیا تھا اور چہرے کی ہڈیاں نظر آنے لگی تھی ۔۔
افق کی بیماری بڑ تی جا رہی تھی ۔۔ وہ اب چیزوں کے نام بھولتا جا رہا تھا ۔۔ اور پھر ہوا یوں کے ایک دن افق کی ماں کمرے میں ائی ۔۔ اور افق اُن کو بھی پہچان نہ سکا ۔۔۔ آ پ۔۔ آ پ کون ہیں ۔۔ ج۔۔م۔۔ میری م۔۔ ممی ۔۔کہاں ہے ۔۔ م۔۔ میری ممی ۔۔ ا۔۔پ۔۔ اور اس کی امی رونے لگی ۔۔
افق میں آ پ کی ماں ہو افق ۔۔۔ آ پ مجھے کیسے بھول سکتے ہیں ۔۔ افق کی امی اب رونے لگ گئی تھی ۔۔ آ پ مجھے کیسے بھول سکتے ہیں ۔۔ آ پ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ۔۔ افق آ پ ایسے نہیں تھے آپ میرے ذہن بیٹے تھے افق ۔۔ میں اپ کے سر پر جیتی ہوں افق آ پ ایسے کیسے میرے ساتھ کر سکتے ہیں ۔۔ آ پ اپنی ماں کو بھول گئے افق ۔۔۔
افق خود رونے لگ گیا تھا ۔۔ممی مجھے معاف کر دیں میں ۔۔ میں آ پ کو اتنا دکھ دے رہا ہوں ۔۔ ممی آ پ میری جان لے لیں۔۔ مجھے مار دیں ممی مجھے سکون دے دے میں۔۔ یہ اذیت برداشت نہیں کر سکتا ۔۔ میں آ پ کے انسو نہیں دیکھ سکتا ممی ۔۔ مجھے مار دیں ۔۔ ممی میں ۔۔ ممی میں جینا نہیں چاہتا اب ممی مجھے ۔۔ مجھے ۔۔ سب بھولنے لگا ہے ۔۔ افق اب ہچکیوں کے ساتھ رو رہا تھا۔۔ گھر کے ملازموں کو بھی انتہا کا برا لگ رہا تھا افق مصطفی کا یہ حال ۔۔گھر کے ملازموں نے افق مصطفی کا بچپن دیکھا تھا۔۔ انہوں نے
ا فق مصطفی کو اپنے ہاتھوں میں جوان ہوتے دیکھا تھا ۔۔ اور اب کوئی بھی اس کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا
وہ بُرا نہ تھا ۔۔ لیکن قسمت نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا ۔۔۔ وہ برباد ہو گیا تھا ۔۔ محبت عجیب چیز ہے مل جائے تو زندگی جنت بن جاتی ہے اور نہ ملے تو جہنم ۔۔ افق مصطفی کی محبت اب محبت نہیں تھی ۔۔ افق کی محبت اب عشق کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ چکی تھی۔۔ اب وہ دیوانہ بنے لگا تھا ۔۔
قاسم خان ملیشیا میں تھا۔۔ اپنی بیٹی قونین کے ساتھ ان سب چیزوں سے لاعلم کہ پاکستان میں ہیر خان اور اس کے گھر والوں کے ساتھ کیا کیا کچھ ہو گیا تھا قاسم کو کسی بھی بات کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔ قاسم خاموشی سے اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔۔ ملیشیا میں اس نے دو کمروں کا فلیٹ پہلے سے ہی لیا ہوا تھا وہ ملیشیا میں اتا جاتا رہتا تھا۔۔ ملیشیا کا موسم اس وقت سرد ہو رہا تھا۔۔۔ برف باری کچھ دیر پہلے ہی تھمی تھی رات کا وقت تھا جب قاسم کے فون پر کسی کا فون ایا تھا۔۔۔ قونین سو رہی تھی ۔۔ قاسم نے قونین کے لیے گھر میں بےبی سیٹر کا انتظام کیا تھا کہ اگر کبھی قاسم گھر پر موجود نہ ہو تو قونین اکیلی نہ رہے اس عورت کی خود کی 2 سال کی بیٹی تھی۔ وہ قونین کے ساتھ کھیلتی رہتی تھی اور قونین اس طرح بور نہیں ہوتی تھی۔۔
اس نے یہاں ا کر نیا فون لیا تھا۔۔۔قاسم خان نے فون اُ ٹھا کر کان کے ساتھ لگایا۔۔
میں نے سنا ہے تم ملیشیا ائے ہوئے ہو۔۔
ہاں ایا ہوں۔۔ کیوں کوئی کام پڑ گیا تھا۔۔
کتنے وقت تک تم ملیشیا میں رکنے والے ہو قاسم۔۔
ابھی کچھ وقت کے لیے رکوں گا تمہیں کوئی کام ہے تو کام کی بات کرو نہیں تو میں فون بند کر رہا ہوں۔۔
اچھا سنو تو صحیح میں کہہ رہا ہوں نا۔۔ ایک کام ہے ایک وکیل کو تم نے مارنا ہے۔۔۔بہت جانا مانا وکیل ہے ملیشیا کا۔۔ اگلے مہینے میرے بیٹے کو کورٹ میں سزا سنائی جانے والی ہے اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ وہ جیت جائے گا اور میں یہ ہونے نہیں دے سکتا قاسم کیونکہ اگر وہ جیت گیا تو میرے بیٹے کو موت ہو سکتی ہے۔۔
کام کی بات کرو تمہیں مجھ سے کیا کام ہے۔۔
کام یہ ہے کہ تمہیں اس وکیل کو مارنا ہے۔۔ وہ اپنے گھر میں اکیلا رہتا ہے۔۔ اُس نے شادی نہیں کی ۔۔ بس کیریئر پر غور کیا ہے ۔۔۔ وہ رات کے وقت گھر پر ہوتا ہے لیکن اس کے گھر پر پہرہ ہوتا ہے گارڈز کا تمھیں اس کو مارنا ہے قاسم ۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔کام ہو جائے گا ۔۔
20 کروڑ لوں گا ۔۔۔ تم بے فکر ر ہو قاسم میں تمہیں 20 کروڑ دے دوں گا۔۔۔
ٹھیک ہے پھر سمجھو تمہارا کام ہو گیا۔۔ وہ نہیں بچے گا۔۔
قاسم نے کہتے ہوئے فون کاٹ دیا تھا۔۔۔
یوسف اس وقت لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا تھا
نظر اس کی زر مان راجپوت پر تھی۔۔ رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔ رات گہری ہوتی جا رہی تھی جب زربان کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا
کوئی اندر داخل ہوا تھا۔۔ ناجانے کون تھا چہرہ پہچان میں نہیں ارہا تھا۔۔ ہاں چہرہ نظر تو ا رہا تھا لیکن یوسف نے کبھی اس چہرے کو دیکھا نہیں تھا۔۔ وہ چلتا ہوا زرمان کے بیڈ تک آ یا۔۔ زرمان خاموشی سے بیڈ پر بیٹھا خود سے باتیں کر رہا تھا یا شاید آ ن دیکھی ہیر سے۔۔۔ وہ آ دمی چلتا ہوا زرمان تک ایا۔۔۔ اس نے زرمان کے ہاتھ میں کوئی کاغذ رکھا۔۔اس سے کچھ بولا اور خاموشی سے کمرے سے باہر چلا گیا۔۔ یوسف فوراً اپنے بیڈ سے لیپ ٹاپ بند کرتا ہوا اُ ٹھا تھا اور یاسر کے ساتھ گھر سے باہر کی طرف بھاگا تھا اسے زرمان راجپوت کے گھر جانا تھا اسے وہ کاغذ دیکھنا تھا اس میں کیا لکھا تھا۔۔ کیا وہ علی تھا۔۔ مطلب اگر وہ علی تھا تو زرمان راجپوت علی نہیں تھا۔۔ یہ ساری بات تو زرمان سے ہی جا کر پتہ چلنی تھی۔۔۔
رات گہری ہوتی جا رہی تھی جب یوسف زرمان کے گھر میں داخل ہوا تھا دروازہ اس کی امی نے نیند سے اُ ٹھ کر کھولا تھا۔۔
یوسف بیٹا اتنی رات کو کوئی کام ہے کیا وہ حیران ہوئی تھی۔۔۔
آ نٹی بس مجھے زرمان سے ملنا ہے ابھی اور اسی وقت۔۔اس کی امی پریشان ہوئی اور خاموشی سے زرمان کے کمرے کا دروازہ کھولا اور یوسف خاموشی سے اندر داخل ہو گیا البتہ یاسر اور یوسف دونوں نے منع کیا تھا ۔۔ زرمان کی امی کو اندر کمرے میں انے سے۔۔ یوسف نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور فوراً زرمان کے پاس گیا زرمان کے ہاتھ میں ابھی بھی وہ کاغذ تھا جسے زرمان پڑھ رہا تھا۔۔۔ یوسف نے زرمان سے کاغذ لیا اور کھول کر اپنے چہرے کے سامنے کیا اور پڑھنے لگا
اُ مید کرتا ہوں تم ٹھیک ہو گے زرمان راجپوت۔۔لیکن تمہاری حالت ٹھیک لگتی تو نہیں ہے افسوس ہو رہا ہے مجھے تمہاری بگڑتی حالت دیکھ کر۔۔ اور مجھے تو لگتا ہے جب تک ہیر خان کو ہوش ائے گا تب تک تم بالکل ہی پاگل ہو چکے ہو گے۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ کاغذ اس وقت تم نہیں پڑھ رہے ہو گے یقینا یوسف ملک پڑھ رہا ہوگا جو بہت دنوں سے شاید تمہارے کمرے میں کیمرہ لگائے بیٹھا ہے۔۔اور وہ تم پر نظر رکھ رہا ہے کہ کہیں تم تو علی نہیں ہو۔۔ تو یوسف ملک۔۔یوسف حیران ہوا کاغذ کے اندر اس کا نام لکھا تھا۔۔اے ایس پی یوسف ملک میں تمہیں بتا دوں زرمان راجپوت علی نہیں ہے۔۔علی ایک الگ پہچان ہے۔۔ علی کوئی غریب ادمی بن کر نہیں رہ سکتا۔۔ اور زرمان راجپوت جیسا غریب ادمی جو ایک چھوٹے سے کال سینٹر میں جاب کرتا ہو وہ تو بالکل بھی نہیں۔۔تم اپنے دماغ سے یہ بات نکال دو کہ زرمان راجپوت علی ہے۔۔ نہیں میں علی ہوں جو کچھ دیر پہلے کمرے میں داخل ہوا تھا یقینا تم نے فورٹیج میں دیکھا ہوگا۔۔۔جہاں تک رہا ہمارے گلے میں لٹکا لاکٹ جو تقریبا ایک جیسا دکھتا ہے۔۔ہاں وہ ایک جیسا دکھتا ہے۔۔ لیکن وہ ایک جیسا دکھتا ہے اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم دونوں بھی ایک ہی ہوں۔۔ ایسے لاکٹ ہزاروں لوگ اپنے گلے میں ڈال کر گھومتے ہیں۔۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ ہزاروں لوگ ہی علی ہوں گے۔۔۔ ہر کوئی اعلی نہیں ہوتا ۔۔
اور میں تمہیں بتاتا چلوں زرمان راجپوت کے گلے میں جو لاکٹ ہے۔۔اس کی امی نے بچپن میں اسے دیا تھا شاید تب جب وہ ایک سال کا تھا۔۔زرمان راجپوت نے وہ لاکٹ تب سے اپنے گلے میں پہن رکھا ہے جب سونا اتنا مہنگا نہیں تھا۔۔ اور میرا یہ لاکٹ ۔۔ دو کروڑ کا ہے اس کو میں نے بنوایا ہے اس لیے اپنا دماغ سے نکال دو کہ میں زرمان راجپوت ہو سکتا ہوں میں ایک غریب ادمی نہیں ہو سکتا۔۔ میں پوری سلطنت سنبھال سکتا ہوں یوسف۔۔ اس لیے میرا پیچھا کرنا چھوڑ دو تم مجھے نہیں ڈھونڈ سکتے۔۔
علی۔۔۔ اخر پہ نام پڑا تو یوسف ملک کے ہوش ہوا ہو گئے۔۔۔ اخر یہ انسان کون تھا جو زرمان راجپوت کے بارے میں بھی اتنا جانتا تھا۔۔ اتنا تو طے ہو گیا تھا کہ زرمان راجپوت علی نہیں تھا علی کوئی اور تھا۔۔۔ لیکن علی تھا کون یہ جاننا مشکل تھا۔۔۔
یوسف نے بےچارگی بھری نظروں سے زرمان کو دیکھا اس کی بگڑتی حالت کو دیکھا اسے کوئی فرق پڑ ہی نہیں رہا تھا ۔۔ وہ ابھی بھی بیٹھا باتیں کر رہا تھا۔۔ہیر سے ۔۔۔۔
ہیر خان کے گھر میں تو جیسے قیامت ٹوٹی پڑی تھی ہیر زندہ ہو کر بھی زندہ نہیں تھی ان کے گھر میں اداسیاں چھائی ہوئی تھی۔۔۔ ان کے گھر کی اکلوتی بیٹی انتہا کی بیمار تھی۔۔بیمار تھی یا بے ہوش تھی کوما میں تھی۔۔۔ اور وہ اپنی بیٹی کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے جب تک وہ نہ چاہتی وہ ہوش میں نہیں ا سکتی تھی ہیر خان کا دماغ اس بات کو قبول ہی نہیں کر رہا تھا کہ اس کا بھائی اس کی جان لے سکتا تھا۔۔ اور اس کے دماغ میں ایسا خوف بیٹھا تھا کہ وہ کوما سے جاگنا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔ ریحان پورا پورا دن پوری پوری رات ہیر کے پاس بیٹھا رہتا تھا۔۔ کبھی وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے باتیں کرنے لگتا کبھی وہ اس سے اپنے بچپن کی باتیں بتانے لگتا۔۔۔ اور کبھی وہ اس کے پاس بیٹھا رونے لگتا۔۔
ریحان اور ہیر دونوں میں ہی انتہا کی محبت تھی۔۔ریحان کو انتظار تھا اپنی بہن کے ہوش میں انے کا۔۔۔ ہیر کو کوما میں 6 مہینے گزر گئے تھے اور ان چھ مہینوں میں ریحان نے ایک پل کے لیے بھی ہیر سے غفلت نہیں بڑھتی تھی ۔۔ ان چھ مہینوں میں ریحان کو خود کا خیال بھی نہیں رہا تھا وہ لڑکا جو اپنے رہنے سہنے اور اپنے کپڑوں کا اپنے بالوں کا انتہا کا خیال رکھتا تھا ۔۔ اسے اب اپنا کوئی خیال نہیں تھا۔۔۔ اگر اسے خیال تھا تو صرف اپنی بہن کا اس کے ہوش میں انے کا اس کو انتظار تھا کہ کب ہیر خان ہوش میں آ ئے گی۔۔۔ ریحان کے بال اس کے ماتھے پر بکھرے پڑے تھے۔۔ اس کے کپڑے میلے ہو رہے تھے۔۔ جن کو شاید کچھ دیر بعد اس نے گھر میں جا کر بدلنا تھا جب اس کے بابا کامران خان اور اس کی امی نے ہاسپٹل میں انا تھا۔۔۔
ان لوگوں نے سوچ رکھا تھا کہ وہ لوگ ہیر کو ہاسپٹل سے گھر میں شفٹ کروا دیں گے۔۔۔ ہیر سانس اچھے سے لے رہی تھی بس کوما میں تھی۔۔ اور ڈاکٹر نے بھی اجازت دے دی تھی کہ وہ ہیر کو گھر لے کر جا سکتے ہیں۔۔ لیکن روز ڈاکٹر ا کر اس کا چیک اپ کریں گے۔۔۔ اور ریحان کے دل کو سکون ملا تھا کم از کم ان کی بیٹی ان کی بہن گھر کے اندر تو ارہی تھی۔۔ پچھلے چھ مہینے ریحان خان نے ہاسپٹل میں گزار دیے تھے اپنی بہن کے انتظار میں۔۔۔
کچھ دیر بعد کامران خان اگئے ریحان ابھی بھی بیٹھا ہیر کے پاس اس کا ہاتھ تھامے باتیں کر رہا تھا شاید کوئی بچپن کے قصے سنا رہا تھا۔۔ اور ہیر انکھیں بند کیے جیسے شاید اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔ پیچھے سے جب ریحان نے اپنے بابا کو اتے دیکھا تو اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔ کامران خان ریحان کی جگہ پر ا کر بیٹھ گئے۔۔ بابا اپ کو زیادہ دیر نہیں رکنا پڑے گا ہیر کے پاس میں بس یوں گیا اور یوں ایا کپڑے بدل کے۔۔۔
کوئی بات نہیں ریحان تم ارام سے جاؤ کھانا وغیرہ کھاؤ اور میں تو کہتا ہوں گھر جا کر تھوڑا ارام کر لو۔۔ اپنی حالت دیکھو تم نے کیا کر لی ہے۔۔ بابا میری بہن بیمار ہیں۔۔۔ میں کیسے خود کا خیال کر سکتا ہوں۔۔ ریحان اب رونے لگا تھا کامران کو ریحان پر ترس ایا ۔۔ میں کسی کے ساتھ اس طرح قریب نہیں ہوں جیسے میں ہیر کے ساتھ ہوں۔۔۔ پچھلے چھ مہینے دو دن اور چار گھنٹے سے میں تنہا ہوں بابا ۔
میں اکیلا ہیر سے باتیں کرتا ہوں وہ میری باتوں کا کوئی جواب نہیں دیتی۔۔۔ ہیر کا میرے سے باتیں نہ کرنا مجھے تنہا چھوڑ گیا ہے وہ میرے سامنے تو ہے لیکن میری کوئی بات نہیں سن رہی وہ ہوش میں نہیں ارہی۔۔۔اپ کو پتہ ہے نا میں ہیر سے کتنا پیار کرتا ہوں میں اس کی حالت نہیں دیکھ سکتا بابا۔۔ میں پچھلے چھ مہینے سے اپنی بہن کے ہوش میں انے کا انتظار کر رہا ہوں۔۔ اور یہ انتظار نہ جانے اور کتنا وقت چلے گا۔۔۔۔
ریحان کو ایک عرصہ ہوا تھا مسکرائے ہوئے ۔۔ ہیر ریحان کی مسکراہٹ لے گئی تھی ۔۔
ریحان نے دونوں ہاتھوں سے اپنے انسو صاف کیے وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح لگ رہا تھا روتے ہوئے۔۔۔اور اگر ابھی ہیر ہوش میں ہوتی یا تو وہ اس کے ساتھ رونا شروع ہو جاتی یا پھر وہ اس کا مذاق اڑاتی۔۔۔لیکن سارا غم ہی تو یہ تھا کہ ہیر ہوش میں نہیں تھی۔۔۔۔ ریحان اپنے انسو صاف کرتا ہیر کے روم سے باہر نکل گیا۔۔۔کامران خان خاموشی سے بیٹھ گئے۔۔ باپ تھے اُن کو اپنی بیٹی کا خیال بھی رکھنا تھا اور اپنے بیٹے کو بھی سنبھالنا تھا ۔۔ اپنے گھر کو بھی وقت دینا تھا ۔۔ ایک باپ کیسے سب کچھ سنبھال لیتا ہے نہ ۔۔۔
سب کو ہیر خان کے ہوش میں انے کا انتظار تھا
یہ جنوری کی سرد راتوں کا وقت تھا۔۔ اندھیرا ہو رہا تھا زرمان راجپوت خاموشی سے اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔۔ اس کے کمرے کو اس کی امی نے باہر سے لوک لگایا تھا تاکہ زرمان باہر نہ نکل سکے۔۔ کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔۔ جہاں سے ٹھنڈی ہوا اندر کمرے میں ا رہی تھی زرمان خاموشی سے کھڑکی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔۔ اچانک اسے محسوس ہوا کھڑکی کے باہر کوئی کھڑا تھا۔۔ نہیں شاید کوئی کھڑی تھی۔۔ شاید ہیر خان زرمان بے ساختہ بیڈ سے اٹھا اور کھڑکی کی طرف بڑھا۔۔ زرمان کو ہیر دور جاتی دکھائی دینے لگی وہ اس کے گھر سے دور جا رہی تھی وہ اس سے دور جا رہی تھی۔۔۔ ہ۔۔ ہیر ۔۔ ک۔۔کہاں جا رہی ہیں ۔۔ ہ۔۔ہیر ۔۔ زرمان نے بے ساختہ کھڑکی سے باہر چھلانگ لگائی تھی۔۔ اور پھر وہ دیوانوں کی طرح ہیر کے پیچھے چلنے لگا۔۔ ہیر نے ایک پل کو گھوم کے زرمان کو دیکھا اور مسکرائی۔۔ اور پھر اگے بڑھنے لگی۔۔ زرمان راجپوت اس کے پیچھے جا رہا تھا چلتا چلتا نہ جانے کہاں ۔۔۔ رات گزرتی جا رہی تھی زرمان کو ٹھنڈ لگ رہی تھی لیکن احساس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔ زرمان کو اندازہ ہی نہیں ہوا وہ چلتا ہوا نہ جانے کون سی سڑک پر اگیا تھا سڑک اس وقت سنسان تھی ۔۔ اندھیری رات تھی ۔۔ اور وہ خالی سڑک پر بھاگ رہا تھا آ س پاس سے گزرنے والی ایک یا دو گاڑیاں رک کرز رمان راجپوت کو دیکھتی تھی اور دیکھ کر اگے گزر جاتی تھی کہ شاید وہ پاگل تھا۔۔ ۔۔
ہیر۔۔ ک۔۔ آ پ کہاں جا رہی ہیں ۔۔ہ۔۔ ہیر آ پ نے تو شادی کرنی تھی ۔۔ ہیر ۔۔ ہماری شادی ہے اج ۔۔ چلیں۔۔ ا۔۔ سب انتظار کر رہے ہیں ہیر۔۔ زر مان کیسی ان دیکھے وجود کے پیچھے بھاگتے ہوئے بول رہا تھا۔۔ پاؤں کی چپل نہ جانے کب سڑک پر پاؤں سے نکل گئی تھی ۔۔ اگر وہ چپل پہنے کے لیے رکتا تو ہیر اس سے دور چلی جاتی اس لیے وہ رکا ہی نہیں۔۔ اب وہ نگے پاؤں چل رہا تھا ۔۔ سڑک پر پڑی کوئی نوکیلی چیز اُس کے پاؤں میں لگتی تو وہ پل بھر کو کرہ کر رہ جاتا ۔۔ پھر ہیر پر نظر جاتی تو اپنا درد بھول کر وہ پھر ہیر کے پچھے چلنے لگتا ۔۔
یہ رات صرف زر مان راجپوت پر قیامت نہیں لائی تھی افق مصطفی پر بھی طوفان کی رات بن کر ائی تھی ۔۔۔
افق اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔۔ تنہا ۔۔ اکیلا ۔۔ اس کے پاس کوئی نہیں تھا ۔۔ کوئی ہوتا بھی تو وہ آج کل اس کو پہچان نہیں پاتا تھا ۔۔ ہاں ایک لڑکی تھی جو افق مصطفی کے دماغ کو حفظ تھی ۔۔ وہ ساری دنیا بھی بھول جاتا توہیر خان کو نہ بھولتا افق نے اپنی کتاب لکھنا چھوڑ دی تھی۔۔ افق کو بہت انٹرویو کے افر ائی تھی افق نے انٹرویو پر جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔۔ کہیں دماغ کے کسی کونے میں ہلکی پھلکی یاد تھی کہ وہ مصنف ہے ۔۔ لیکن وہ کیا لکھتا تھا وہ بھول گیا تھا ۔۔
افق خاموشی سے اُ ٹھا اور اپنے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ اُس کو یہاں سکون نہیں ملتا تھا ۔۔اس کو یہ گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے سے باہر نکلا گھر میں خاموشی تھی سارے ملازم اپنے کوارٹرز میں چلے گئے تھے ۔۔ افق نے لاؤنج عبور کیا ۔۔ گھر کے دروازے تک ایا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔۔ پھر پورچ سے چلتا ہوا گیٹ تک ایا کرسی پہ بیٹھا گارڈ خراٹے مار رہا تھا۔۔ افق نے ہلکی اواز میں گیٹ کھولا اور باہر نکل گیا گارڈ کو محسوس بھی نہیں ہوا نیند ہی اتنی گہری تھی۔۔۔ افق کو کہیں تو جانا تھا ۔۔ کہاں جانا تھا وہ خود نہیں جانتا تھا ۔۔
افق خالی سڑک پر چل رہا تھا ۔۔ رات اندھیری تھی دو عاشق محبت کی تلاش میں تھے ۔۔ ایک وہ جس کو محبت ملتے ملتے رہ گئی ۔۔ اور ایک وہ جس کو کبھی محبوب ملا ہی نہیں ۔۔
افق چلتا رہا ۔۔ اور جب قدم رکے تو وہ کیسی مزارپر موجود تھا ۔۔ کون سا مزار افق مصطفی نہیں جانتا تھا ۔۔ لیکن وہاں سکون تھا جگہ جانی پہچانی تھی لیکن یاد نہیں ارہی تھی۔۔ افق مصطفی مزار کے اندر داخل ہو گیا ۔۔ اندر رات چھا رہی تھی خاموشی تھی ۔۔۔ فقیر قطار میں سو رہے تھے افق کو سکون محسوس ہوا ۔۔ وہ چلتا ہوا اندر داخل ہو گیا ۔۔۔ کوئی فقیر جگ رہا تھا ۔۔۔
وہ چلتا ہوا اس تک ایا ۔۔
تو اتنی رات کو یہاں کیا کر رہا ہے ۔۔ مزار پر لوگ صبح اتے ہیں ۔۔
م۔۔ میں سکون کےلیے ایا ہوں ۔۔ افق نے خود کو کہتے سنا۔۔
مجھے سکون نہیں مل رہا کہیں پر بھی۔۔
تو ہیر کے مزار پر سکون لینے ایا ہے ۔۔ فقیر ہنسا ۔۔
نام کیا ہے تیرا۔۔ فقیر نے پوچھا تھا افق کچھ دیر کے لیے خاموش ہو گیا جیسے نام یاد کر رہا ہو۔۔
پھر دماغ پر زور دیا ۔۔۔ ا۔۔ افق ۔ م۔۔ موں۔مصطفی۔۔۔ نام یاد انے پر افق نے اپنا نام بتایا۔۔ فقیر خاموش ہو گیا ۔۔ افق اس کے پاس زمین پر بیٹھ گیا ۔۔
دیوانہ لگتا ہے تو مجھے فقیر نے کہا۔۔
عاشق ہوں افق نے جواب دیا ۔۔
کس کا عاشق ہے ۔؟
فقیر پوچھے بنا نہ رہ سکا۔۔۔
ہیر کا ۔۔
اب کی بار فقیر کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔۔
محبت میں ہار کے ایا ہے ۔۔۔
محبت میں تو تب ہارتا جب جیتتا۔۔وہ محبت کبھی میری ہوئی ہی نہیں ۔۔۔
مجھے اج بھی یاد ہے میں نے بہت وقت پہلے یہاں پر ائے کسی لڑکے کو کہا تھا۔۔
ہیر کے دربار پر لوگ دو دفعہ اتے ہیں۔۔
پہلی بار اللہ کے حضور فریاد لے کر کے اللہ ہیر رانجھا جیسی پاک محبت نصیب کرے اور دوسری بار وہ شکر ادا کرنے یا پھر دیوانے بن کر۔۔۔ وہ لڑکا دوبارہ نہیں ایا ۔۔ لیکن تو اگیا ۔۔۔ اور تواللہ کا شکر ادا کرنے نہیں ایا ۔۔۔ تو ۔۔تو دیوانہ بن کے آیا ہے ۔۔
فقیر مسکرایا ۔۔۔ افق خاموش تھا ۔۔ اس کو اب نیند انے لگی تھی نہ جانے وہ اتنے دنوں سے سکون سے سویا نہیں تھا اس کی ماں اس کو نیند کی گولیاں دے کر سلا دیتی تھی ویسے تو وہ سونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔۔۔ یہاں اسے سکون محسوس ہونے لگا وہ وہیں زمین پر لیٹ گیا۔۔۔
فقیر بھی افق کے پاس ہی زمین پر لیٹ گیا تھا۔۔
صبح کا سورج شدید افسردہ تھا افق مصطفی کی ماں کے لیے اور زرمان راجپوت کی ماں کے لیے۔۔
دونوں کی ہی اکلوتی اولاد تھی اور دونوں کی ہی اولاد ان کی انکھوں کے سامنے نہیں تھی ۔۔۔
زرمان کی امی نے زرمان کے کمرے کا دروازہ کھولا تو کمرے میں زرمان راجپوت نہیں تھا اس کی امی ایک پل کے لیے حیران ہو گئی پھر واش روم کا دروازہ کھٹکھٹایا کوئی جواب نہ انے پر انہوں نے دروازہ کھولا تو واش روم میں بھی کوئی نہیں تھا۔۔۔۔
افق کی امی نے افق کے کمرے کا دروازہ کھولا اسے ناشتے کے لیے بلانے ائی تھی اور جب کمرے میں دیکھا تو کوئی نہیں تھا افق مصطفی نہ جانے کہاں پر تھا افق کی امی نے باہر کھڑے گارڈ کو اوازیں دینا شروع کی
زرمان کی امی نے یوسف کو فون کر کے بلایا تھا یوسف فوراً ہی اگیا تھا۔۔ وہ بھی پولیس سٹیشن نہیں گیا تھا وہ اپنے گھر سے سیدھا زرمان کے گھر ایا تھا۔۔۔ یوسف بیٹا ۔۔ زرمان کا کچھ پتہ نہیں ہے پتہ نہیں وہ کہاں چلا گیا ہے میں نے کامران بھائی سے بھی فون کر کے پوچھ لیا ہے وہ ہاسپٹل میں نہیں ہے وہ ہیر سے ملنے نہیں گیا نہ جانے وہ کہاں پر چلا گیا ہے ۔۔۔اس کا فون بھی گھر پر موجود ہے وہ فون بھی ساتھ لے کر نہیں گیا یوسف مجھے بہت فکر ہو رہی ہے اس کی۔۔ خدا کا واسطہ ہے تم اسے ڈھونڈو۔۔
اپ فکر نہ کریں انٹی میں پتاکرواتا ہوں۔۔۔
افق کہاں گیا ہے۔۔ افق کی امی اب گارڈ پر چلا رہی تھی۔۔
میڈم ہمیں نہیں پتہ۔۔
تمہیں نہیں پتا۔۔ تم گیٹ پر بیٹھے ہوتے ہو وہ کیسے کہیں باہر جا سکتا ہے تم سو رہے تھے کیا۔۔۔ تمہیں پتہ ہے نا افق کی حالت ٹھیک نہیں ہے تم ایسا کیسے کر سکتے ہو نادر۔۔۔
میڈم جی مجھے معاف کر دیں غلطی ہو گئی گارڈ اب معافی مانگ رہا تھا وہ سچ میں افسردہ تھا
افق کی ماں نے چلا کر کسی اور ملازم کو اواز دی۔۔ پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرو۔۔ ان کو کہو افق کو ڈھونڈ کر لائیں افق کی امی اب رونے لگ گئی تھی۔۔ وہ اکیلی یہ سب کچھ کیسے سنبھالتی۔۔ ان کو کچھ سمجھ نہیں ارہی تھی۔۔۔ افق کا فون کچھ دنوں سے انہی کے پاس تھا انہوں نے افق کے سارے دوستوں کو فون کر کے باری باری افق کے بارے میں پوچھنا شروع کیا۔۔۔ لیکن کچھ بھی عطا پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔ نظر ہیر خان کے نمبر پر چلی گئی۔۔۔ افق کی ماں کو راہ کر رہ گئی اخری یہی نمبر تھا جس پر انہوں نے فون نہیں کیا تھا۔۔ اور پھر انہوں نے ہیر کا نمبر ملا دیا۔۔ فون اٹھانے والا ریحان خان تھا۔۔ ریحان کی ملاقات ہوئی تھی افق مصطفی سے۔۔ جب وہ لاہور پر ٹرپ گئے تھے اور ریحان کو ہیر کو لے کے انا پڑا تھا ۔۔۔ اپ کون افق کی امی نے پوچھا تھا۔۔
میں ہیر کا بھائی بات کر رہا ہوں اپ کون ہیں۔۔
ریحان نے پوچھا تھا تو افق کی ماں رونے لگی۔۔
میں افق مصطفی کی امی بات کر رہی ہوں ۔۔ وہ افق مصطفی جو ہیر خان کا پروفیسر تھا جس کو ہیر خان کو دیکھتے ہی محبت ہو گئی تھی اس سے۔۔ کیا تم جانتے ہو افق کا اس وقت کیا حال ہے۔۔
کیا افق ہیر کے پاس ہے۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے بتا دو وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے میں اس کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔
ریحان خان کو تو جیسے جھٹکے پہ جھٹکا لگ رہا تھا افق مصطفی ہیر خان کو پسند کرتا تھا اور اب اسے الزائمر تھا وہ پاگل ہو رہا تھا وہ یاداشت کھونے لگا تھا یہ کیا ہو رہا تھا۔۔۔
دیکھیں انٹی ہیر اس وقت کوما میں ہے۔۔ پچھلے سات مہینوں سے ہیر کو ہوش نہیں ایا۔۔ اور افق مصطفی ہمارے پاس نہیں ہے ہیر خود اپنے کمرے میں بستر پر کوما میں پڑی ہے ۔۔۔ اپ مجھے اپنے گھر کا ایڈریس دے دیں میرے سے جو بن پایا میں وہ کروں گا میں اپ کی مدد کروں گا ریحان نے کہا تو افق کی امی نے اپنے گھر کا ایڈریس ریحان کو بتایا اور پھر فون بند کر دیا ۔۔۔
ابھی 15 منٹ ہی گزرے تھے کہ کامران خان نے ریحان کو ا کر خبر دی کہ زرمان راجپوت کل رات سے لاپتا ہے۔۔ اور یہ دوسرا جھٹکا تھا جو ریحان خان کو لگا تھا۔۔ ریحان اس وقت اپنے کمرے میں فریش ہو رہا تھا جب کامران نے ا کر اسے یہ خبر سنائی تھی اور کچھ دیر پہلے ہی اسے افق کی امی کا فون ایا تھا۔۔ زرمان اور افق ایک ساتھ لاپتہ۔۔ او میرے خدایا۔۔۔ ہیر خان کی بیماری ایک گھر کو نہیں دو گھروں کو اپنے ساتھ لے ڈوبی تھی۔۔۔
ریحان گم سم سا بیڈ پر بیٹھا تھا اب اسے کچھ دیر بعد افق کے گھر جانا تھا۔۔ پھر اسے زرمان راجپوت کے گھر جانا تھا یوسف زرمان کے گھر سب کچھ سنبھال رہا تھا جبکہ ریحان نے افق کے لاپتہ ہونے کی خبر بھی یوسف کو دے دی تھی ساری بات بھی بتا دی تھی۔۔۔ یوسف کو اب ان دونوں کو ڈھونڈنا تھا۔۔۔
علی تو کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔۔ فلحال یوسف کو زرمان راجپوت اور افق مصطفی کو تلاش کرنا تھا
یوسف نے پورے شہر پر ناکہ بندی کروا دی تھی تاکہ دونوں ہی شہر سے کہیں باہر نہ چلے جائیں۔۔لیکن یوسف اس بات سے بے خبر تھا کہ زرمان راجپوت کو لاپتا ہوئے 12 گھنٹے سے زیادہ گزر چکے تھے۔۔اور وہ جھنگ شہر میں تھا ہی نہیں
وہ تو کہیں دور چلا گیا تھا بہت دور۔۔۔
ہاں جہاں تک افق مصطفی کی بات اس کو ڈھونڈنا مشکل نہیں تھا۔۔۔۔
یوسف نے جھنگ کے پولیس اسٹیشن کا پورا عملہ افق مصطفی اور زرمان راجپوت کو ڈھونڈنے کے لیے لگا دیا تھا۔۔
یوسف خاموشی سے اپنے افس میں بیٹھا ہوا تھا جب کوئی کانسٹیبل افس میں داخل ہوا تھا اور اس نے یوسف کو خبر دی تھی۔۔۔
سر افق مصطفی کو ہیر کے مزار پر دیکھا گیا ہے۔۔
ہمارے کچھ ادمی سول کپڑوں میں وہاں پر موجود ہوتے ہیں۔۔۔ ان کو جب ہم نے افق کی تصویر سینڈ کی تو انہوں نے افق کو پہچان لیا لیکن اس کی حالت بہت خراب ہے اس کے کپڑے میلے ہو چکے ہیں اور بال بکھرے ہوئے ہیں اسے پہچاننا بہت مشکل کام تھا۔۔۔
یوسف فوراً اپنی کرسی سے اٹھا تھا تو میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو گاڑیاں باہر نکالو۔۔۔
البتہ یوسف نے افق کی ماں کو اطلاع دے دی تھی۔۔۔ اور افق کی ماں بھی اپنے گھر سے باہر گاڑی کی طرف بھاگی تھی انہیں بھی ہیر کے مزار پر جانا تھا ۔۔ ساری کہانی ہیر کے مزار سے شروع ہوئی تھی ختم بھی وہیں ہونی تھی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔
