سات رنگِ حیات —
حفظہ مرزا
پارٹ ون
رشید صاحب غصے میں آ کر ایک دم سے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور دروازہ زور سے کھولتے ہوئے چیختے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ہے یہ منتشاہ؟ باہر نکلو تم لوگ۔۔۔جس پر ان کی بیوی باہر نکل آتی ہے اور گھبرا کر پوچھتی ہے:
کیا ہوا؟ آپ اتنے غصے میں کیوں ہیں؟
وہ چیختے ہوئے کہتے ہیں:
اپنی بیٹی کو باہر نکالو! آج دیکھو اس نے کیا کیا ہے۔ اس نے میرا منہ کالا کر دیا ہے!بیوی پریشان ہو کر کہتی ہے:
آخر ہوا کیا ہے؟
یہ کہتے ہوئے راشد صاحب کانپتے ہاتھوں سے اپنا موبائل دکھاتے ہیں اور غصے سے کہتے ہیں:دیکھو! آج مجھے کسی کی کال آئی تھی، اور اس نے بتایا کہ تمہاری بیٹی اس کے ساتھ…
یہ کہتے ہوئے وہ موبائل آگے بڑھاتے ہیں، جس پر کسی منتشاہ کی تصویریں ویڈیوز اور باتوں کے اسکرین شاٹس بھیجے ہوتے ہیں۔ صبا حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ منتشاہ کی طرف دیکھتی ہے اور سخت لہجے میں پوچھتی ہے:
منتشاہ ! یہ سب کیا ہے؟ ابو ٹھیک کہہ رہے ہیں؟ تم کل کس سے ملنے گئی تھیں؟
منتشاہ کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔ وہ گھبراتے ہوئے کہتی ہے۔۔نہیں میں تو کسی سے ملنے نہیں گئی تھی میں تو صرف کالج گئی تھی۔۔جس پر وہ پوچھتے ہیں تو پھر یہ کیا ہے۔۔۔۔
راشد صاحب اس کی بات کاٹتے ہوئے غصے سے کہتے ہیں۔تم جھوٹ بول رہی ہو تم کالج کے بہانے کس کس سے ملتے جاتی ہو ۔۔۔۔نہیں میں کسی سے ملنے نہیں جاتی میں صرف کالج جاتی ہوں آپ آپی سے پوچھ لیں۔۔۔بے شک۔۔ وہیں پر اس کی بڑی بہن بھی موجود ہوتی ہے وہ فورا سے بہن کے پاس جاتی ہے اور وہ کہتی ہے اپ بتائیں نا ابو کو کہ میں کسی سے نہیں ملتی یہ میں نہیں ہوں۔۔۔۔جس پر اس کی بہن کہتی ہے مجھے کیا پتا۔۔وہ بے یقینی سے بہن کو دیکھتی ہے وہ پھر سے ابو کی طرف بڑھتی ہے اور کہتی ہے میں نے کچھ نہیں کیا میں نہیں جانتی یہ کیا ہے میں کسی سے نہیں ملی جس پر اس کے ابو غصہ ہوتے ہیں اس کے منہ پر تھپڑ مار دیتے ہیں۔۔۔۔
منتشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں، وہ روتے ہوئے کہتی ہے:
ابو، مجھے یقین کریں، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔۔
مگر راشد صاحب کا غصہ کم ہونے کا نام نہیں لیتا، اور گھر کا ماحول ایک دم بوجھل ہو جاتا ہے۔
منتشاہ فون میں وہ تصویریں اور ویڈیو دیکھتی ہے، لیکن ویڈیو دیکھتے ہی وہ ایک دم رک جاتی ہے اور چونک کر اپنی بہن کی طرف دیکھتی ہے۔ اس کی بہن فوراً سمجھ آ جاتی ہے۔ وہ جھٹ سے فون اس کے ہاتھ سے چھین لیتی ہے اور غصے اور حیرت سے کہتی ہے۔۔۔یہ تم نے کیا کیا؟
میں نے کیا کیا؟ یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے
یہ سن کر وہ وہیں چپ ہو جاتی ہے اور حیرت بھری نگاہوں سے اپنی بہن کو دیکھتی ہے۔ اب اسے سمجھ آ جاتی ہے کہ یہ سب کس کا کیا دھرا ہے۔ منتشاہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔ وہ اپنی حقیقت، اپنی سچائی آخر کیسے بیان کرے؟جس پر اس کی ماں بھی اسے برا بھلا کہتی ہے کہ تمہیں شرم نہیں اتی اپنی بڑی بہن پر الزام لگاتے ہوئے۔۔۔۔
منتشاہ سمجھ جاتی ہے اس کے بولنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ماں باپ کی لاڈلی بڑی بہن ہے وہ کبھی بھی اس کی بات کا یقین نہیں کریں گے۔۔۔
وہ بار بار امی، ابو اور سب کے سامنے یہی کہتی رہتی ہے:
“میں نے کچھ نہیں کیا، میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ میں کسی سے نہیں ملی۔ یہ سب جھوٹ ہے۔مگر اس کی کسی بات پر کوئی یقین نہیں کرتا۔۔۔۔راشد صاحب غصے میں اس قدر پاگل ہو چکے ہوتے ہیں کہ ہوش و حواس کھو بیٹھتے ہیں۔
وہ وہیں سے ڈنڈا اٹھاتے ہیں اور اپنی بیٹی کو مسلسل مارتے چلے جاتے ہیں، اور افسوس کہ کوئی بھی انہیں روکنے کی ہمت نہیں کرتا۔وہ روتے ہوئے بار بار یہی دہراتی رہتی ہے:
“میں نے نہیں کیا… میں نے کچھ نہیں کیا…
جب کہ اس کی بڑی بہن مہوش خاموش کھڑی یہ سب تماشا دیکھ رہی ہوتی ہے۔۔۔ گھر میں سچ چیخ چیخ کر اپنا وجود جتاتا رہتا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔۔
۔۔۔۔رشید صاحب غصے سے پاگل ہو رہے تھے۔ انہوں نے اس کو اتنا مارا کہ آخر خود ہی تھک گئے۔ منتشاہ صحن کے بیچوں بیچ گری ہوئی تھی۔ اس کے چہرے اور ہاتھوں پر چوٹوں کے نشان تھے، کپڑے مٹی سے اٹے ہوئے تھے اور آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔
مگر افسوس، وہاں موجود کسی شخص نے آگے بڑھ کر اسے بچانے کی کوشش نہیں کی۔ سب خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔۔۔۔
راشد صاحب اسے غصے سے گھر سے باہر نکال دیتے کہتا ہے جاؤ اسی کے پاس جس کے ساتھ منہ کا لگ گیا ہے آج سے تو ہمارے لیے مر گئی اور دروازہ بند کر کے اندر چلے جاتے ہیں گھر والوں سے کہتے ہیں دوسری بیٹی اور بیوی کو کہ خبردار آج کے بعد کسی نے اس کا نام لیا تو وہ بھی اس کے ساتھ چلا جائے۔۔۔۔۔
وہ باہر زمین پر دروازے کے پاس پڑی ہوتی ہے لوگ تو دیکھ رہے ہوتے چھتوں سے اور پھر وہ بھی اندر سارے چلے جاتے ہیں وہ اکیلی گلی میں کوئی بھی نہیں ہوتا کوئی بھی اس کی مدد کے لیے اگے نہیں بڑھتا۔
پھر بھی وہ ہمت کر کے دروازہ بجاتی ہے ۔لیکن کوئی بھی دروازہ نہیں کھولتا شام ہو جاتی ہے وہ اٹھتی ہے ۔۔قدم لڑکھڑا رہے تھے، جسم تھکن اور درد سے چور تھا، اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔ دل میں خوف بھی تھا اور ایک عجیب سی بے حسی بھی۔ نہ اسے اپنی جان کی فکر رہی تھی، نہ اس بات کی کہ آگے کیا ہوگا۔۔۔۔
بس ایک ہی سوال بار بار اس کے ذہن میں گونج رہا تھا۔۔۔کیوں
وہ بس چلتی ہی جا رہی تھی، جیسے اس کے قدموں کو خود بھی معلوم نہ ہو کہ کہاں جانا ہے۔ان کا گھر لاہور کے شہر و بیچ بیچ تھا وہ چلتے چلتے کہاں اگئی سے کوئی پتہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ایک سنسان سڑک کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔
اچانک تیز رفتار ایک گاڑی آتی ہے، ایک زور دار جھٹکا لگتا ہے اور سب کچھ ایک لمحے میں بدل جاتا ہے۔ گاڑی والا اسے ٹکر مار کر رکے بغیر بھاگ جاتا ہے۔
وہ سڑک کے عین بیچوں بیچ جا گرتی ہے، زخمی حالت میں، خون میں لت پت۔ اردگرد اندھیرا، سنسانی اور خاموشی پھیل جاتی ہے۔ نہ کوئی اپنا، نہ کوئی آواز۔ صرف ٹوٹی ہوئی سانسیں اور ایک مظلوم لڑکی، جو اپنے ہی سچ کی قیمت چکا رہی ہوتی ہے۔۔۔اپنے ہی خون کے رشتوں سے ہاری ہوئی۔۔۔
آخری چیز جو اس نے محسوس کی، وہ یہ تھی کہ دھندلی ہوتی ہوئی آنکھوں کے سامنے کوئی اس کی طرف تیزی سے بھاگتا ہوا آ رہا ہے۔ قدموں کی آوازیں قریب آتی محسوس ہوئیں۔۔۔ پھر سب کچھ دھیرے دھیرے مدھم پڑنے لگا۔ اندھیرا اس کی آنکھوں پر چھا گیا اور اس کی سانسیں خاموش ہوتی چلی گئیں…
یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ آنے والا اس کے لیے نجات تھا یا بس ایک آخری منظر، مگر اس لمحے کے بعد منتشا کو کچھ یاد نہ رہا۔
——————————–
وہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں دیواریں بھی سانس لیتی محسوس ہوتی تھیں…وہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں دیواریں بھی سانس لیتی محسوس ہوتی تھیں…
جہاں ہر کونے سے لڑکیوں کی آوازیں ابھرتی تھیں، کبھی مدھم، کبھی شوخ، کبھی ٹوٹتی ہوئی۔ وہاں ہنسی صرف ہنسی نہیں تھی، بلکہ ایک چھپی ہوئی کہانی تھی—دو لفظوں کے درمیان رکتی، پھر بہہ جاتی۔
یہ وہ دنیا تھی جہاں صرف لڑکیاں رہتی تھیں…
ان کے خواب، ان کے راز، اور ان کے ان کہے درد بھی انہی دیواروں میں قید تھے۔ کبھی کوئی قہقہہ فضا میں بکھرتا تو یوں لگتا جیسے بہار نے قدم رکھا ہو، اور اگلے ہی لمحے کسی کمرے کے کونے میں بیٹھی خاموشی سب کچھ سمیٹ لیتی۔
ان کی آوازیں…
کبھی دعا بن کر اٹھتیں، کبھی شکوہ بن کر لبوں تک آتیں، اور کبھی بس آنکھوں میں ٹھہر جاتیں۔ ان کی خوشی بھی عجب تھی—چھوٹی چھوٹی باتوں میں کھل اٹھتی، جیسے بارش کے بعد مٹی کی مہک۔ اور ان کے غم… وہ گہرے سمندر جیسے، جن کی تہہ تک پہنچنا آسان نہ تھا۔
وہ جگہ درد بھی تھی، اور پناہ بھی…
جہاں ہر لڑکی اپنی کہانی لیے بیٹھی تھی، ایک دوسرے کی آوازوں میں خود کو ڈھونڈتی ہوئی، جیسے ہر ہنسی اور ہر آنسو دراصل ایک ہی داستان کے مختلف رنگ ہوں۔
اور یہ ہے ایک جنت ہاؤس۔۔۔۔۔
یہ گھر کسی خواب کی طرح افق پر ابھرتا ہے—سفید سنگِ مرمر میں تراشا ہوا ایک شاہانہ وجود حویلی ہے، جس کی بلند و بالا ستونوں والی پیشانی گویا وقت کے سامنے سر اٹھائے کھڑی ہو۔ دروازے تک جاتی سیڑھیاں نرم روشنی میں نہائی ہوئی ہیں۔۔۔
بالکونیوں کی محرابی بناوٹ اور باریک نقش و نگار والی ریلنگز گھر کو ایک کلاسیکی وقار عطا کرتی ہیں، جبکہ کھڑکیوں سے جھانکتی مدھم روشنی اندر کے سکون اور آسائش کا پتہ دیتی ہے۔
دروازہ کھلتے ہی ایک وسیع و عریض ہال آپ کا استقبال کرتا ہے—ایک ایسی جگہ جہاں ہر چیز ترتیب، خوبصورتی اور سکون کی داستان سناتی ہے۔ فرش پر سیاہ و سفید نقش و نگار ایسے پھیلے ہیں جیسے کسی مصور نے احتیاط سے ہر لکیر کھینچی ہو۔
درمیان میں رکھا نفیس میز اور اس کے گرد سفید صوفے، نیلے اور سرمئی رنگ کے تکیوں سے سجے ہوئے، ایک نرم مگر پُروقار ماحول پیدا کرتے ہیں۔
سامنے نظر اٹھائیں تو ایک شاندار گھومتی ہوئی سیڑھی اوپر کی منزلوں کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے—اس کی سیاہ آہنی ریلنگ پر بنے پیچیدہ ڈیزائن گویا کسی پرانی کہانی کے راز چھپائے ہوئے ہیں۔
اوپر بالکونی سے نیچے کا منظر ایسا لگتا ہے جیسے کسی محل کی شاہی محفل ہو، جہاں ہر کونے میں روشنی اور خوبصورتی ایک دوسرے سے ہم آغوش ہیں۔
چھت پر بنے خوبصورت گول نقش و نگار، دیواروں کی نفیس کٹنگ، اور جگہ جگہ رکھے گئے پودے اس مکان کو محض ایک گھر نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا فن پارہ بنا دیتے ہیں۔ یہاں ہر سانس میں سکون ہے، ہر قدم پر نفاست، اور ہر گوشہ ایک نئی کہانی سنانے کو تیار۔
° صبح کے 9 بج رہا ہے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ہر تراف دھونڈ پڑی ہے . جنوری کا آغاز ہے وہی ایک طرف گرم چائے کا کپ ہاتھ میں لیا ہوا اور دوسرے ہاتھ میں چھڑی اور وائٹ اور بلو کلر میں فل عربی عبایا کیے ہوئے اور ساتھ میں حجاباور نقاب پٹی ہلکی آواز میں اپنے دوست سے رم برنگی طوطوں سے باتیں کر رہی تھی پتہ نہیں کون سے دنیا جہان کی باتیں ان سے کر رہی تھی ایک ایسی لڑکی جس کا نام پری ہے جب کہ اس کے کام پری والے بلکل نہیں…
یہ تو اپ کو اگے بڑھتے ہوئے پتہ چلے گا کیوں۔۔۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے پری کہاں ہے ایک اور لڑکی جس کا نام عافیہ ہے کہتے اس کو افی ہیں پری کو ڈھونڈتے ہوئے نیچے ا رہی تھی جہاں پر نور سب کو ناشتہ کروا رہی ہوتی ہے ڈائننگ ٹیبل پر سب موجود ہوتے ہیں سوائے پری کے عافیہ کے پوچھنے پر نور انکھ کے اشارے سے باہر کا بتاتی ہے وہ بڑھ جاتی ہے
جہاں پری ٹھنڈے موسم چائے کے مزے لے رہی تھی گڈ مارننگ تم یہاں ہو میں تمہیں روم میں ڈھونڈ رہی تھی کیوں کیا ہوا وہیں پری پلٹ کر دیکھتی ہے اس کی انکھیں لال ہوتی تم اج پھر نہیں سوئی ۔جس پر پری کوئی جواب نہیں دیتی جس پر عافیہ کچھ نہ کہتی اج ہماری نئے کلائنٹ کے ساتھ 12 بجے میٹنگ ہے
۔پری سر ہلاتہی ہے۔وہیں پر ماہی ا کر کہتی ہے بریک فاسٹ کر لو۔ تینوں اندر بڑھتے ہیں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہیں جہاں پر پہلے سے ہی سب موجود تھے پری کے رائٹ سائیڈ پر عافیہ بیٹھتی ہے عافیہ کے ساتھ نور اپنی ڈیڑھ سالہ بیٹی دعا کو لے کر کھلا رہی ہوتی ہے اور ساتھ میں چھوٹے میر خان جو پانچ سال کے ہیں ۔ ۔وہ بھی ان کے ساتھ موجود ہے وہی پری کے لیفٹ سائیڈ پر ماہی اور ماہی کے ساتھ میں عائشہ اور سرش بیٹھی ہوتی ہے۔۔۔
عائشہ اور سحرش یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس ہیں ۔ آج وہ دونوں بھی موجود تھے ڈرننگ ٹیبل پر کیونکہ چھٹیاں ختم ہو گئی تھی اور آج ان کی یونیورسٹی پھر سے سٹارٹ تھی اور ماہی کا میڈیکل کہ لاسٹ ایئر چل رہا ہے
تین ماہ بعد سٹڈی کمپلیٹ ہو جانی ہے۔نور کی دو سال پہلے ڈیورس ہونے کے بعد اس نے اپنی سٹڈی کمپلیٹ کی اس نے انگلش میں ماسٹر کیا اور اب حال ہی میں یونیورسٹی میں ایک پروفیسر طور پر پڑا رہی ہے
اور عافیہ لائر ہے نے پری کے ساتھ افس جوائن کیا پری کے ساتھ وہ پارٹنر طور پر کام کرتی ہے بزنس میں پری کی ہیلپ اور اس کی لائر بھی ہے۔۔۔
جو کہ پچھلے ت پانچ سال پہلے شروع کیا تھا اور اب پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔
آج ہر کوئی اسے جانتا ہے جبکہ وہ خود کو نہیں جانتی وہ کون ہے کیونکہ اٹھ سال پہلے کار ایکسیڈنٹ میں وہ اپنی یادداشت کو بیٹھی جسے اپنا نام تک نہیں پتہ وہ کون ہے۔۔۔
۔اور یہ بزنس اس نے اپنی یاداشت کھونے کے بعد ہی سٹارٹ کیا اپنی زندگی کو اگے بڑھایا وہ رکی نہیں چاہے وہ اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی پر اس نے لوگوں کو جینا سکھایا آج یہ جو بھی ساتھ ہیں سب اس کے خونی رشتے نہیں ہیں پر خونی رشتوں سے بڑھ کر ہے سب جن کے لیے وہ اپنی جان بھی دے سکتی ہے۔۔۔
۔۔۔اپنی لائف میں وہ بہت خوش تھی لیکن حال ہی میں اٹھ ماہ پہلے وہ سیڑھیوں سے گری اس کے سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے پرانی چوٹ ٹھیک ہونے کی وجہ سے اس کی واپس ا چکی ہے ۔ لیکن اس سے جڑے لوگ نہیں جانتے کہ اس کی یادداشت واپس آ چکی ہے
اینا کہاں ہے افی کی آواز پر پری اپنی سوچوں سے باہر ائی وہ سو رہی ہے اوکے ۔تم سب کے کہ ایگزام ہونے والے ہیں اس پر اگر کسی کا نمبر کم ائے تو اپنی خیر منانا۔پری سب کو دیکھ کر کہتے ہیں پر عائشہ فون پر بزی ہوتی ہے ۔۔
جس پر سرش اسے ٹھوکر مارتے ہیں۔عائشہ سرش کو دیکھتی ہے جو پری کی طرف اشارہ کرتی ہے عائشہ فورا فون نیچے رکھ دیتی ہے۔ناشتے کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔
ناشتے کے بعد سب اپنی اپنی منزل کی طرف بڑھتے ہیں پری اور افی ایک ساتھ افس کے لیے نکلتی ہیں ۔افی گاڑی سٹارٹ کرتی ہے پری بھی فرینڈ سیٹ پہ ا کر بیٹھتی ہے۔
ڈرائیو کر رہی ہوتی ہے پری اس سے کہتی ہے آج کل عائشہ موبائل بہت یوز کر رہی ہے نظر رکھو کیا چکر ہے جس پر افی کہتی ہے میں نے اینا کو کہا ہےوہ اس کو دیکھے گی جس پر پری سر ہلاتی ہے۔
دو دن سے سخت ٹھنڈ پڑ رہی تھی۔ آج ہلکی ہلکی دھوپ ضرور نکلی ہوئی تھی، مگر سردی کی کاٹ اب بھی محسوس ہو رہی تھی۔
پری نے گاڑی کی پچھلی سیٹ سے اپنا کوٹ اٹھایا، اسے پہنا اور گاڑی سے باہر قدم رکھا۔ پھر وہ آفس کی سمت اندر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے بالکل ساتھ افی اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔دونوں ہم قدم تھی اور افس کے اندر انٹر ہوتی ہیں
آفس کا ایک ایمپلائی دور سے دیکھ لیتا ہے کہ بوس آ رہی ہیں اور فوراً سب کو بتا دیتا ہے۔ سب جلدی میں اپنے سیٹ اپ کو درست کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
دوسری طرف، پری اور افی دونوں اندر داخل ہوتی ہیں۔ دائیں جانب ریسپشن پر ایک لڑکی کھڑی ہوتی ہے،
جو مسکراتے ہوئے انہیں گڈ مارننگ اور السلام علیکم کہتی ہے۔ پری اور افی دائیں طرف آگے بڑھتی ہیں، جہاں لفٹ موجود ہوتی ہے، اور دونوں لفٹ کے اندر داخل ہو جاتی ہیں تھوڑا ہی اگے بڑھتی ہیں دائیں جانب ایک کیبن ہوتا ہے جہاں پر پری کی سیکرٹری موجود ہوتی ہے آرزو۔
پری فل عربی عبایا میں ملبوس تھی اس کے ہاتھ میں ایک چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں موبائل، اور اس کے ساتھ افی نے بلو جینز کے اوپر سفید فراک نما شرٹ اور اوپر سفید کوٹ پہنا ہوا تھا۔ افی کے کندھوں تک لہراتے بال بھی ان کے ساتھ اندر قدم رکھتے ہیں۔ہاتھ میں افس بیگ اٹھائے۔۔
ان دونوں کا قد پانچ فٹ پانچ انچ تھا، اور اپنی نفیس قامت کے ساتھ وہ نہ صرف خوبصورت لگ رہی تھیں بلکہ ایک قدرتی اعتماد اور جاذبِ نظر ایٹیٹیوڈ بھی ان کے ہر قدم میں جھلک رہا تھا۔
ہر کوئی انہیں پلٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے، اور ہر نظر ان پر جم گئی۔ سارے ایمپلائیز نے ایک ساتھ گڈ مارننگ اور السلام علیکم کہا۔تھوڑا سا ہی اگے جاتی ہیں تو رائٹ سائڈ پر 30 کیبن بنے ہوتے ہیں جہاں پر افس کے سارے ایمپلائی کام کرتے ہیں۔۔۔
۔۔وہ پری کے ساتھ پچھلے پانچ سال سے کام کر رہے تھے۔۔۔
رائٹ سائڈ پر سامنے ہی شیشے میں ایک حال نام روم تھا جہاں میٹنگ وغیرہ ہوتی تھی اس سے اگے ایک اور روم تھا وہ بھی شیشے کا وہ افی کا روم تھا۔۔ اپنا کام کرتے ہوئے ساتھ سب پر نظر بھی رکھتی تھی۔۔۔۔وہیں سے تھوڑا سا اگے لیفٹ سائیڈ پر تھوڑی سی لکڑی کی سیڑھیاں تھی جس پر چڑھ کر ایک روم تھا جو چاروں طرف سے شیشہ سے کور ہوا ہوا تھا وہ تھا پری کا افس ۔۔۔یہاں سے اوپر بیٹھ کر پری سب کو آسانی سے دیکھ سکتی تھی، جبکہ وہ کام کر رہے تھے۔”
پری اپنے افس کی طرف بڑھتی ہے اور اس کے ساتھ اس کی سیکرٹری آرزو بھی ہوتی ہے جو اس کے دن بھر کی اپڈیٹ دے رہی ہوتی ہے۔۔۔۔
پری دروازہ کھول کر اپنے روم میں داخل ہوئی، اور اپنی چیئر کی طرف بڑھتی ہے اور چیئر پر جا کر بیٹھ جاتی ہے ۔۔
وہ خاموشی سے سیکرٹریز کی باتیں سن رہی تھی اور ذہن میں پلان بنا رہی تھی۔ پھر اس نے کہا، “میٹنگ کے بعد سب کے ساتھ ایک میٹنگ ارینج کرو۔” سیکرٹری نے سر ہلا کر اوکے کہا اور واپسی کے لیے واپس چلی جاتی ہے۔۔۔
پری اپنا موبائل نکالی اور اس پر رومی کو بھیجا گیا میسیج چیک کیا، جو اب تک نہ سین ہوا تھا نہ کوئی جواب آیا۔۔۔۔۔ اس نے افی سے پوچھا، “تمہارا کوئی رابطہ ہوا ہے رومی سے؟افی نے سر ہلا کر کہا، “نہیں، ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی۔۔۔۔۔جس پر پری سوچتی ہے میٹنگ کے بعد وہ رومی کو کال کرے گی اور اٹھ کر میٹنگ ہال کی طرف بڑھ جاتی ہے ۔۔۔
——————————-
رومی ہنی کو اٹھاتے ہوئے بولی۔۔
ٹھ جاؤ لڑکی۔۔۔
اور اس کا کمبل کھینچ لیا۔ یہ تیسری بار تھا کہ وہ اسے اٹھا رہی تھی، مگر ہنی تب سے آنکھیں ہی نہیں کھول رہی تھی۔ آخر رومی نے جھنجھلا کر کہا،
“گیارہ بجنے والے ہیں، تم آخر کب اٹھو گی؟”
وقت کا نام سنتے ہی ہنی فوراً کمبل سے منہ نکال کر چونکی،
“کیا؟ کتنے بج گئے ہیں؟”
گیارہ،۔۔۔ رومی نے مختصر جواب دیا۔
ہنی فوراً بولی،
“تو تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں اٹھایا؟”
یہ سن کر رومی نے اسے گھور کر دیکھا، آنکھوں میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔میں نے نہیں اٹھایا؟” وہ تیز لہجے میں بولی،
“چار دفعہ تمہیں اٹھا چکی ہوں، مگر تم ہر بار دوبارہ سو جاتی ہو۔۔۔
ہنی فوراً کمبل اٹھا کر ایک طرف پھینکتی ہے اور واش روم کی طرف بھاگتی ہے۔ پیچھے سے رومی کی آواز آتی ہے، ‘کپڑے تو لے جانا، تم بھول گئی ہو۔’ یہ سن کر ہنی فوراً واپس آتی ہے، کپڑے اٹھاتی ہے اور دوبارہ واش روم کی طرف دوڑ جاتی ہے۔ پیچھے سے رومی پھر کہتی ہیں، ‘جلدی کرو اور ناشتہ کرنے کے لیے نیچے آ جاؤ۔’”
پھر وہ خود نیچے ناشتے کے لیے بڑھ جاتی ہے۔
ڈائننگ ٹیبل پر خان صاحب اور ان کا بیٹا اور ارحم پہلے سے موجود ہوتے ہیں اور بریک فاسٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ سلام کرتی ہوئی ان کے ساتھ ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ جاتی ہے۔
خان صاحب اس سے ہنی کے بارے میں پوچھتے ہیں، جس پر وہ مسکراتے ہوئے بتاتی ہے کہ وہ ریڈی ہو رہی ہیں۔
دو سال بعد وہ دونوں لندن میں اپنی اسٹڈیز مکمل کر کے آخرکار واپس پاکستان آئی تھیں سٹڈی کے ساتھ انہوں نے اپنا برینڈ بی لانچ کیا تھا لندن میں اب اسی کی برانچ پاکستان میں بھی لانچ کی نے جسے میں یہ دونوں مل کر سیٹ اپ کر رہی ہیں۔۔۔
رات گئے ان کی واپسی ہوئی تھی، اسی لیے ابھی تک تھکن ان کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد ہنی بھی بھاگتے ہوئے نیچے آتی ہے اور سب کو گڈ مارننگ کہہ کر جلدی جلدی ناشتہ کرنے لگتی ہے۔ اس پر خان صاحب مسکراتے ہوئے کہتے ہیں،
“آرام سے، اتنی کیا جلدی ہے؟”
وہ فوراً جواب دیتی ہے،
“نہیں ڈیڈی، ہم لیٹ ہو چکے ہیں۔ پری اب تک گھر سے آفس جا چکی ہوگی۔ اب ہمیں آفس جا کر اسے سرپرائز دینا ہے۔”
اصل میں ان کا پلان ہی پری کو سرپرائز دینے کا تھا، کیونکہ انہوں نے اسے بتایا تھا کہ وہ ایک ویک بعد پاکستان آئیں گے، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ ایک ویک پہلے ہی آچکی تھی
جس کی وجہ سے رومی بھی جنت ہاؤس نہیں جا سکی، کیونکہ ہنی نے اسے اپنے ساتھ ہی گھر میں روک رکھا تھا۔ اگر رومی گھر جاتی تو پری کو پتہ چل جاتا کہ یہ لوگ پاکستان آ چکے ہیں۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ہنی کی نظر بھائی پر جاتی ہے۔ وہ پوچھتی ہے،
“بھائی،اتنے ہینڈسم کیسے ہو گئے۔۔
ہنی شرارت سے کہتی ہے،
“آپ اتنے ہینڈسم کیسے ہو گئے؟ آخر راز کیا ہے، آپ نے کیا کیا ہے؟”
وہ جان بوجھ کر بھائی کو تنگ کر رہی ہوتی ہے۔۔۔۔
ہنی کی بات پر رومی ھبی ارحم کو دیکھتی ہے بھائی ہنی صحیح کہہ رہی ہے اپ تو سچ میں ہینڈسم ہیں۔۔۔جس پر ارحم ہنستے ہوئے کہتا ہے کیا میں پہلے ہینڈسم نہیں تھا۔ہاں یہ تو سچ ہے پہلے اپ سو کی تھیلی کی طرح تھے۔۔
اس پر سب ہنستے ہیں۔۔۔
چھے فٹ پانچ انچ قد، سلکی بال جو ماتھے پر ہلکے سے بکھرے ہوئے ہیں، جیسے ابھی شاور لے کر نکلا ہو۔ ٹی شرٹ میں مسلز نمایاں تھے، اور وہ واقعی بہت ہینڈسم اور دلکش لگ رہا تھا۔۔
۔اوکے اگر تم لوگوں کا ہو گیا ہو تو جلدی کرو میں تم لوگ کو ڈراپ کر کے افس بھی جانا ہے۔۔۔۔
جس پر وہ دونوں کہتے ہیں ہم ریڈی ہیں ۔۔ہنی فورا سے ڈیڈی کے گال پر پیار کرتی ہے اور پیار لیتی ہے اور باہر کی طرف بڑھ جاتی ہے اور رومی کے سر پر ڈیڈی ہاتھ رکھتے ہیں وہ باہر کی طرف بڑھ جاتی ہے ۔۔۔پیچھے سے ڈیڈی کہتے ہیں دھیان سے جانا۔۔۔
خان صاحب انہیں پیچھے سے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ بہت دنوں بعد ساری فیملی ایک ساتھ جمع ہوتی ہے، جس پر وہ دل سے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور دعا دیتے ہیں کہ اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔ پھر وہ بی جان سے کہتے ہیں۔۔۔
“آج اچھا سا کھانا تیار کیجیے، آج تو پری بھی آئے گی۔
———————————–
ٹریک پر دوڑتے ہوئے اس شحص کو ہرکو ئ مڑ کے دیکھتا تھا ۔۔۔6فٹ سے نکلتا قد کسراتی جسم جسکی مضبوطی دیکھنے سے ہی معلوم ہوتی تھی ۔۔۔چہرے پے گہری سنجیدگی لیے وہ اپنی ہیزل برآون آنکھوں کو ٹریک پر رکھےاور گہری موچھوں میں چھپے لبوں کو سحتی سے بھینچے مسلسل دوڑ رہا تھا ۔۔۔
۔۔اسکی ہلکی ہلکی ترشی داڑھی اسکے حسین چہرے کو مزید پرکشش بناتی تھی ۔۔۔۔ہر دیکھنے والے کی نظر ٹھر سی جا تی۔۔
۔۔۔وہ بزنس کی دنیا میں بھی اپنی سنجیدہ طبیعت کے باعث مشہور تھا ۔۔۔وہ سیدھا مدعے پر بات کرتا تھا ۔۔۔۔باتوں کو گھمانے والوں سے اسے سحت چڑ تھی ۔۔
۔ٹریک پر دوڑتے ہوئے اس کا فون بجتا ہے وہ بٹن دبا کر ٹریک کو روکتا ہے اور نیچے اترتا ہے اور فون اٹھاتا ہے دیکھتا ہے آہل کی کال ہوتی ہے۔۔وہ کال ریسیو کرتا ہے۔ آہل اسے بتاتا ہے کہ وہ واپس آ گیا ہے اور دونوں ملنے کا پلان بناتے ہیں۔ اسی دوران ہرشمان کہتا ہے،
“میں آج رات پاکستان واپس جا رہا ہوں۔”۔۔۔۔۔۔کیا؟ تم واپس جا رہے ہو؟ تم مجھے چھوڑ کر جا رہے ہو؟ اور اتنی زور سے چیختا ہے اور عرشمان کو موبائل کو کان سے دور کرنا پڑتا ہے ۔۔اور ڈرامہ کرتے ہوئے ۔ کہتا ہے تم مجھے چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہو۔۔
“ٹھیک ہے کمینے۔ وقت بتا میں تمہیں چھوڑنے آ رہا ہوں۔جس پر ہرشمان ہنستے ہوئے کہتا ہے، اور وقت بتاتا ہے اور فون کاٹ کر دیتا ہے۔آئل کو غصہ آتا ہے وہ ہر بار ایسا ہی کرتا ہے پوری بات سنے بغیر فون کٹ کر دیتا تھا۔۔۔۔۔
عرشمان پیکنگ تو رات کو ہی کر لیتا ہے ہے ابھی وہ شاور لینے کے لیے باتھ روم کی طرف بڑھتا ہے۔پانچ سال بعد وہ پاکستان واپس جا رہا تھا۔۔پانچ سال پہلے وہ پاکستان سے لندن کیوں آیا تھا اور اج کیوں جا رہا تھا۔۔کون جانتا تھا۔۔۔۔۔
ان دونوں کی دوستی کو پانچ سال ہو چکے تھے۔
پانچ سال پہلے عرشمان کام کے سلسلے میں لندن آیا تھا، وہیں اس کی ملاقات آہل سے ہوئی۔ آہل ایک سنگر ہے اور ساتھ ہی ایک مشہور ایکٹریس بھی۔ ان کی دوستی کو کافی وقت ہو گیا تھا۔ عرشمان کو زیادہ دوست بنانا پسند نہیں تھا، مگر اس کے باوجود اس نے آہل سے دوستی کر لی۔ اس دوستی میں زیادہ تر ہاتھ آہل کا ہی تھا۔ وہ بہت نٹ گھٹ، خوش مزاج اور شرارتی سا لڑکا ہے۔۔
عرشمان ریڈی ہوتا ہے تب ہارن کی آواز آتی ہے اور وہیں عرشمان کھڑکی سے نیچے دیکھتا ہے آہل نیچے فل بلیک ڈریس پینے اور ساتھ میں بلیک مارکس لگائے کھڑا ہوتا ہے اور عرشمان کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتا ہے اور اسے نیچے آنے کو کہتا ہے۔۔۔۔۔
۔عرشمان بیگ اٹھاتا ہے اور نیچے آتا ہے بیک گاڑی میں رکھتا ہے اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھتا ہے دونوں ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں اور آہل گاڑی سٹارٹ کرتا ہے ایئرپورٹ کے راستے پر ڈالتا ہے۔۔۔۔پورے راستے اہل اسے تنگ ہی کرتا رہا ۔۔آہل کو بولنا پسند تھا پر وہ کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتا تھا سوائے عرشمان سے۔۔گاڑی میں بیٹھے آہل اچانک سے کہتا ہے،
“تمہیں ایک بات بتاؤں؟”اور عرشمان ہلکا سا سر ہلا دیتا ہے۔
ہم ۔۔میں آج ایک لڑکی سے ملا تھا۔۔عرشمان کہتا ہے۔۔اس میں نئی بات کون سی ہے؟ تم تو روز ہی لڑکیوں سے ملتے رہتے ہو۔” ا
“ہاں، مگر اس لڑکی نے مجھ سے بات ہی نہیں کی۔او تو تمہیں اس بات کا دکھ ہے ۔۔۔۔نہیں تو۔۔۔اچھا سن یہ میراثی کا مطلب کیا ہے۔۔اور ایک دم عرشمان اہل کی طرف دیکھتا ہے اور پوچھتا ہے تم کسی نے کہا ہے کیا؟۔۔۔۔۔
نہیں نہیں مجھے کسی نے نہیں کہا میں نے بس سنا۔ تو بتا اس کا مطلب کیا ہے۔ عرشمان ہنستے ہوئے کہتا ہے۔۔خود پتہ لگا لو۔۔۔۔۔میں نے بتایا تو تجھے دکھ ہوگا ۔۔۔۔جس پر آہل عرشمان کو انکھیں چھوٹی کر کے دیکھتا ہے جیسے کہہ رہا ہو ایسا ہے کیا۔۔۔جب کہ وہ دماغ میں سوچ رہا ہوتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے اور لڑکی نے اسے کیوں کہا۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے وہ ملاقات گھوم جاتی ہے، جب اس لڑکی نے اسے ذرا سی بھی توجہ نہیں تھی الٹا اسے میراثی بول کر گئی۔۔
اور سوچ کو جھٹلا کر ڈرائیونگ کی طرف توجہ دیتا ہے اور باتوں ہی باتوں میں ایئرپورٹ پہنچ جاتے ہیں۔۔۔ آہل اسے دیکھ کر کہتا ہے ۔۔۔
میں تمہیں بہت یاد کروں گا۔عرشمان جواب دیتا ہے۔۔۔۔
۔اگر اتنی ہی یاد آ رہی ہے تو پاکستان ملنے آ جانا۔۔۔یہ سن کر آہل ہنستے ہوئے کہتا ہے۔۔۔آیا نہ جاؤں۔۔دونوں ہنستے ہوئے ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔ اس کے بعد عرشمان اپنا بیگ اٹھاتا ہے اور ایئرپورٹ کے اندر کی طرف بڑھ جاتا ہے، جبکہ آہل اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہ جاتا ہے۔
——————————–
میٹنگ ہال میں اسامہ صاحب پہلے سے موجود ہوتے ہیں، آج ان کے ساتھ کنٹریکٹ سائن ہونا تھا۔ پری سلام کرتے ہوئے میٹنگ ہال میں داخل ہوتی ہے اور چیئر پر بیٹھ جاتی ہے۔
پری اسامہ صاحب کی طرف فائل بڑھاتی ہے، جہاں دونوں کو سائن کرنے ہوتے ہیں۔ اسامہ صاحب سائن کرتے ہوئے کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
آپ لوگوں کے ساتھ کام کر کے اچھا لگا، امید ہے آگے بھی سب اچھا رہے گا۔وہ چند لمحے فائل سے نظریں ہٹا کر پری کو دیکھتے ہیں۔ ان کی آواز میں خلوص شامل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
مجھے واقعی خوشی ہوتی ہے آپ کو اس طرح کام کرتے دیکھ کر۔ آپ نے کبھی یہ فرق محسوس ہی نہیں ہونے دیا کہ میں کسی لڑکے کے ساتھ کام کر رہا ہوں یا کسی لڑکی کے ساتھ۔ آپ اپنے کام میں اتنی ماہر ہیں کہ سامنے صرف پروفیشنلزم نظر آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
پری ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ان کی بات سنتی ہے۔جو صرف پردے کے پیچھے ہوتی ہے۔۔ شائستگی سے سر ہلاتے ہوئے کہتی ہے،
تھینک یو سو مچ، یہ سب ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔۔۔۔۔۔
اسامہ صاحب مسکرا کر فائل بند کرتے ہیں اور میٹنگ کے اختتام کا اشارہ دیتے ہیں۔
میٹنگ ہال میں ایک اطمینان سا پھیل جاتا ہے، جیسے کسی اہم مرحلے کا کامیابی سے اختتام ہو گیا ہو۔ پری فائل سمیٹتی ہے۔اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں اپس میں پھسا کر فائلز کے اوپر رکھ دی ہے پری کے ہاتھوں بھی بلیک کلب سے کور ہوتے ہیں۔۔۔
اسامہ صاحب فائل ساتھ لیتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ جاتے ہیں، جبکہ پری وہیں اپنی جگہ رکی رہتی ہے۔ وہ سیکرٹری کے ہمراہ ہال سے نکلتے ہیں۔ سیکرٹری احترام سے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے،
پلیز سر، اس طرف۔۔۔۔۔۔۔۔
پری اور افی باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔تھوڑی دیر بعد سیکرٹری ہاتھ میں چائے کا کپ لیے واپس آتی ہے اور آہستگی سے پری کے سامنے ٹیبل پر رکھ دیتی ہے۔ پری نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتی ہے۔۔سب کو میٹنگ کے لیے بلاؤ۔۔۔۔۔۔
کچھ ہی منٹ بعد ایک ایک کر کے تمام ایمپلائیز میٹنگ ہال میں داخل ہونے لگتے ہیں۔ سب کے چہروں پر ہلکی سی گھبراہٹ ہوتی ہے، قدم محتاط اور نظریں جھکی ہوئی۔ پری کے غصے اور اس کی ہمیشگی سنجیدگی سے وہ سب پہلے ہی واقف تھے۔۔۔۔۔۔
کام کے معاملے میں وہ کسی قسم کی مزاح یا لاپرواہی برداشت نہیں کرتی تھیں۔ آخرکار تمام ایمپلائیز ہال میں جمع ہو جاتے ہیں اور کمرے میں ایک خاموش سا تناؤ پھیل جاتا ہے۔
پری سب کو بیٹھنے کے لیے کہتی ہے۔ ہال میں ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ وہ پُراعتماد مگر پرسکون آواز میں بولتی ہے،
بالآخر ہمارا کام بہت اچھا چل رہا ہے۔ آپ سب نے بہت محنت کی ہے، اور مجھے امید ہے کہ آگے بھی آپ اسی طرح میرے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اپنا بہترین دیں گے۔
وہ ایک لمحے کے لیے رکتی ہے، پھر آگے کہتی ہے،
حال ہی میں ہمیں ای میل موصول ہوئی ہے کہ ہماری کمپنی بھی منتخب ہو گئی ہے۔ ائی سی کمپنی نے تین کمپنیوں کو منتخب کیا ہے، اور ان میں ہمارا نام بھی شامل ہے۔
یہ سن کر ہال میں ایک ہلکی سی خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
پری آگے کہتی ہے،
تو میں چاہتی ہوں کہ آپ سب پوری لگن اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں۔ اگر ہم منتخب ہوئے، کامیاب ہوئے، اور ہمارا پروجیکٹ قبول ہوا… تو آخری تنخواہ کے ساتھ سب کو بونس بھی ملے گا۔
یہ سن کر تمام ایمپلائیز خوشی سے تالیاں بجانے لگتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں،ہم پوری کوشش کریں گے۔پری ان کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہتی ہے۔
خوشی کی بات تب ہوگی… جب ہم واقعی کامیاب ہوں ۔سب ایک دم چپ ہو جاتے ہیں پری کہتی ہے تو ٹھیک ہے۔ تب میں آپ سب کو اچھے سے پارٹی دوں گی جس پر سب خوش ہو جاتے ہیں۔باقی کی ڈیل آپ کو افی دے گی۔اب اپ جا سکتے ہیں۔۔۔۔
ائی سی کمپنی نے تین کمپنیز سلیکٹ کی تھیں۔ ایک ایچ آر کمپنی تھی، دوسری ہماری اپنی کمپنی، جب کہ تیسری کمپنی شاہ کمپنی کے بارے میں تجسس تھا۔
اسی پر افی اوسے سے کہتی ہے،
“یہ کمپنی حال ہی میں پاکستان میں آئی ہے۔ پہلے یہ مختلف کنٹریز میں کام کر رہی تھی، خاص طور پر لندن میں۔ اب اس نے پاکستان میں اپنا نیا سیٹ اپ لانچ کیا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کمپنی بھی ٹاپ ون میں سلیکٹ ہوئی ہے۔
پری سیریس انداز میں کہتی ہے،
اوکے، تو اس کمپنی کی ریٹیل نکالو، جتنا ہو سکے۔ دیکھتے ہیں آخر یہ ہے کیا۔۔۔ابھی وہ بات ہی کر رہی ہوتی ہے کہ اچانک میوزک کی آواز آتی ہے، جس پر تینوں چونک جاتی ہیں۔
پری حیرانی سے اِفی اور اپنی آرزو کی طرف دیکھتی ہے، جیسے پوچھ رہی ہو کہ یہ کیا ہے؟
وہ دونوں بھی آنکھوں کے اشاروں سے جواب دیتی ہیں،
ہمیں بھی پتہ نہیں۔۔۔۔۔
اچانک میوزک کی آواز اور واضح ہو جاتی ہے۔
پری کرسی سے اٹھتی ہے اور آہستہ آہستہ ہال کی طرف بڑھتی ہے۔ اِفی اور آرزو بھی اس کے پیچھے ہوتی ہیں۔
ہال میں داخل ہوتے ہی وہ تینوں رک سی جاتی ہیں۔
ہنی ہال کے ایک کونے میں کھڑی ہوتی ہے، ہاتھ میں گٹار تھامے، اور بڑی دلکش لے میں اسے بجا رہی ہوتی ہے۔
ہلکی روشنی، نرم دھن اور اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پری کی طرف دیکھتی ہے۔۔۔
پری کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ جاتی ہے۔
وہ دھیمی آواز میں کہتی ہے۔۔یہ کبھی بڑی نہیں ہوگی۔۔۔اِفی کہتی ہے ۔ چھپی رستم نکلی۔
پری کی نظر ہنی پر ٹھہرتی ہے۔ ہنی بلیو جینز کے اوپر ریڈ اسکرٹ پہنے ہوئے تھی، جس کے ساتھ اس نے فل لانگ کوٹ اوڑھ رکھا تھا۔ اس کے سنہری بال کھلے ہوئے تھے جو ہلکی لہر بنا رہے تھے۔۔، اور وہ کسی گانے کی دھن آہستہ آہستہ بجا رہی تھی۔سارے ایپلوئیز ہنی کے گرد کھڑے تھے اور اس کی دھن سن کر مزے لے رہے تھے۔۔
ہنی کو دیکھتے ہوئے پری کے ذہن میں اچانک رومی کا خیال آتا ہے۔ وہ لاشعوری طور پر آگے پیچھے نظر دوڑاتی ہے، مگر اسی لمحے اسے اپنے کاندھے پر کسی کے لمس کا احساس ہوتا ہے۔ رومی اس کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے اور ہلکا سا جھک کر اس کے کاندھے سے لگتی ہے۔ پری پلٹ کر دیکھتی ہے تو رومی کو سامنے پا کر مسکرا اٹھتی ہے، اور اگلے ہی لمحے بےساختہ اسے مضبوطی سے گلے لگا لیتی ہے۔
رومی، پری سے ملنے کے بعد افی سے ملتی ہے۔اور اس سے مختصر سی بات کرتی ہے۔ پھر اسے ملنے کے بعد وہ سیکریٹری سے بھی مسکرا کر ہیلو ہائے کرتی ہے۔ اسی دوران ہانی کا گانا ختم ہو جاتا ہے اور ہال میں موجود سب لوگ ایک ساتھ اس کے لیے زور دار تالیاں بجاتے ہیں۔ ہانی فوراً اپنی جگہ سے اٹھتی ہے، سیدھی پری کی طرف آتی ہے، بازو کھول کر زور سے پری اپی کا نام پکارتی ہے اور اگلے ہی لمحے اسے مضبوطی سے گلے لگا لیتی ہے۔پھر پوچھتی ہے کیسا لگا میرا سب پرائز۔۔
پری مسکراتے ہوئے کہتی ہے،
“تم پڑھنے گئی تھیں یا یہ سب سیکھنے؟ پرے کا اشارہ اس کے کٹار کی طرف تھا۔
آگے سے ہانی فوراً جواب دیتی ہے،
“سب کچھ سیکھنے گئی تھی، میں بہت کچھ سیکھ کر آئی ہوں۔”
اس پر پری ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے سر پر چٹکی کاٹتی ہے کہتی ہے،
“یہ تو وقت ہی بتائے گا، اور تب ہی پتا چلے گا کہ تم وہاں سے کیا کیا سیکھ کر آئی ہو۔”
پری کی بات پر سب لوگ ہنس پڑتے ہیں۔۔
بٹ تم لوگوں کو جھوٹ بولنے کی سزا ملے گی جس پر دونوں منہ بناتی ہیں۔۔۔پری پھر کہتی ہے چلو افس میں چل کر بات کرتے ہیں۔۔۔جس پر وہ افس کی طرف بڑھ جاتی ہیں چاروں جاتے ہوئے پری ارزو سے کہتی ہے کافی بھجواؤ دو۔۔۔
پھر وہ چاروں آفس میں بیٹھ کر کافی دیر تک باتیں کرتی رہتی ہیں۔
اسے دوران پری کے موبائل پر میسج اتا ہے۔پری موبائل دیکھنے کے بعد ان سے کہتی ہے۔مجھےکچھ ضروری کام ہے، تم لوگ باتیں کرو، پھر ملیں گے۔
جس پر ہنی فوراً کہتی ہے۔۔ہم تو ابھی آئے ہیں، مجھے آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔
پری مسکرا کر جواب دیتی ہے۔بچہ شام کو کریں گے اور ساتھ میں ڈنر کریں گے ۔ابھی مجھے کچھ کام ہے۔پری پیار سے ہنی کو کبھی کبھی بچہ بھی بولتی ہے۔اوکے شام کو ملیں گےیہ کہتے ہوئے باہر کی طرف چلی جاتی ہے۔۔
رومی اور افی کو اندازہ ہوتا ہے اس لیے وہ کچھ نہیں کہتیں۔ پری بس ان دونوں کو دیکھتی ہے ۔۔اسی دوران افی کہتی ہے،
“مجھے میر خان کو اسکول سے پِک کرنے جانا ہے، تم لوگ ساتھ چلو گی یا گھر جاؤ گی؟”
اس پر وہ دونوں کہتی ہیں۔ہم گھر ہی جائیں گے۔
افی مسکرا کر کہتی ہے،چلو پھر، میں تم دونوں کو بھی چھوڑ دیتی ہوں اور میر خان کو بھی پِک کر لوں گی۔۔۔
تینوں لڑکیاں ہنستے ہوئے اور باہر کی طرف بڑھتی ہے ۔۔۔۔۔۔
پرانی سے ایک ویران بلڈنگ میں، جہاں ابھی تک ریگولیشن کا کوئی کام شروع نہیں ہوا تھا، اچانک جھگڑا شدت اختیار کر جاتا ہے۔ گرد و غبار اور شور کے بیچ حالات اتنی تیزی سے بدلتے ہیں کہ سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اسی دوران دو مزید آدمیوں کے شامل ہو جانے سے وہ تینوں—ایک لڑکی اور دو لڑکے—بری طرح پھنس جاتے ہیں۔ سامنے تین آدمی گن تان کر کھڑے ہوتے ہیں، اور فضا میں ایک خوفناک سنّاٹا چھا جاتا ہے۔
لڑکی کی آنکھوں میں گھبراہٹ صاف جھلک رہی ہوتی ہے، جبکہ دونوں لڑکے تیزی سے کوئی راستہ سوچنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ ابھی وہ یہ فیصلہ بھی نہیں کر پاتے کہ کیا کیا جائے، کہ یکدم بائیں طرف سے فائر کی آواز گونجتی ہے۔ درمیان میں کھڑے آدمی کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر زمین پر جا گرتی ہے۔ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، دوسرا فائر ہوتا ہے اور دوسرے آدمی کی گرفت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
چند لمحوں کی اس ہلچل نے انہیں وہ موقع دے دیا جس کی انہیں اشد ضرورت تھی۔ تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھے بغیر فوراً حرکت میں آتے ہیں اور بھاگ کر قریب ہی دیوار کی اوٹ میں جا چھپتے ہیں۔۔۔۔
وہ تینوں بھی فوراً دیوار کی اوٹ میں سمٹ جاتے ہیں۔ سامنے وہی زخمی لوگ ہوتے ہیں جن کی طرف سے ابھی فائر آیا تھا۔ سب کی نظریں اسی سمت جمی ہوتی ہیں، جیسے کسی بھی لمحے دوبارہ فائر ہو سکتا ہو۔ اسی بےیقینی کے چند لمحوں نے انہیں حرکت کرنے کا موقع دے دیا۔
ان میں جو لیڈر ہوتا ہے—فل بلیک ڈریس میں ملبوس، پرسکون مگر خطرناک—وہ خاموشی سے اپنے دونوں ساتھیوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتا ہے۔ اشارہ ملتے ہی وہ تینوں یکدم آگے بڑھتے ہیں۔ بلیک ڈریس والا سیدھا اس آدمی کی طرف لپکتا ہے جس کے ہاتھ میں گن ہوتی ہے، ایک بھرپور مکہ اس کے منہ پر پڑتا ہے اور گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر جاتی ہے۔ اگلے ہی لمحے وہ دوسرے آدمی کو زور دار کک مار کر زمین پر گرا دیتا ہے۔
اسی دوران اس کے دونوں ساتھی بھی حرکت میں آ چکے ہوتے ہیں۔ وہ باقی دو زخمیوں پر جھپٹتے ہیں اور چند لمحوں کی جدوجہد کے بعد تینوں کو قابو میں لے لیتے ہیں۔ فضا میں پھیلا خوف اب قدرے کم ہو چکا ہوتا ہے، مگر خطرہ ابھی پوری طرح ٹلا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔ تینوں مخالف اب بےہوش حالت میں زمین پر پڑے ہوتے ہیں۔ فضا میں ایک عجیب سا سناٹا چھا جاتا ہے۔ ان میں جو بوس ہوتا ہے—آہستہ سے نظریں اٹھا کر سامنے والی بلڈنگ کی طرف دیکھتا ہے، اسی سمت جہاں سے فائر آیا تھا۔ اس کی آنکھیں تیزی سے حرکت کرتی ہیں، جیسے کسی سراغ کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔۔۔۔
اچانک اسے وہاں ایک آدمی نظر آتا ہے۔ فل بلیک ڈریس میں، چہرے پر بلیک ماسک، اور نظریں سیدھی اسی کی طرف جمی ہوئی۔ اگلے ہی لمحے وہ آدمی دیوار سے چھلانگ لگا کر نیچے اترتا ہے، تیزی سے بائیک پر سوار ہوتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اسے پہچان نہیں پاتا… یہ کون تھا، کہاں سے آیا، اور کیوں مدد کی—کچھ بھی واضح نہیں ہوتا۔۔۔۔۔اس کے دونوں ساتھی بھی یہ سب دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ لڑکی اور دوسرا لڑکا ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھتے ہیں،۔۔۔۔۔۔یہ کون تھا؟مگر جواب کسی کے پاس نہیں ہوتا۔
ان میں سے ایک لڑکا کندھے اچکا کر مشرقی انداز میں کہتا ہے،
جو بھی تھا، ہماری مدد تو کی… اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
یہ سنتے ہی بوس اس کی طرف سخت نظروں سے دیکھتا ہے۔
پھر وہ ایک لمحہ رکتا ہے اور کہتا ہے،
پتا لگاؤ… یہ کون تھا۔۔۔۔۔۔
اسی لمحے ایک میسج ٹیون کی آواز آتی ہے ۔بوس چونک کر اپنی جیب سے موبائل نکالتا ہے۔ اسکرین پر نظر پڑتے ہی اس کے تاثرات بدل جاتے ہیں۔ وہ فوراً کال اوپن کر کے مختصر سا میسیج دیکھتا ہے، جیسے بات کی سنگینی ایک ہی لمحے میں سمجھ آ گئی ہو۔
وہ نظریں اٹھا کر اپنے دونوں ساتھیوں کی طرف دیکھتا ہے اور مختصر مگر فیصلہ کن انداز میں کہتا ہے،
ان لوگوں کو ان کے ٹکانے پہنچا دو۔ مجھے ایک ضروری کام ہے۔
لڑکی اور لڑکا اس کے لہجے سے سب کچھ سمجھ جاتے ہیں، کوئی سوال نہیں کرتے۔ بوس ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر مڑتا ہے اور تیز قدموں سے وہاں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوتی ہے، جیسے آنے والا وقت کسی نئے طوفان کی خبر دے رہا ہو۔
گاڑی کا دروازہ بند ہوتے ہی انجن اسٹارٹ ہوتا ہے، اور چند ہی لمحوں میں وہ گاڑی اندھیرے میں گم ہو جاتی ہے—پیچھے صرف خاموشی، بےہوش جسم، اور بےشمار سوال چھوڑ کر۔
پیچھے وہ دونوں لڑکا لڑکی سے کہتا ہے چلو کام پہ لگو ۔۔۔۔۔
—————————
شاہ ہاؤس۔۔۔
صبح کی روشنی میں وہ حویلی کسی خواب کی طرح کھڑی تھی…سفید اور ہلکے سنہری رنگ کا حسین امتزاج، جیسے چاندنی نے خود اسے تراشا ہو۔
اوپر سرخ ٹائلوں والی چھت، درمیان میں ابھرا ہوا محرابی حصہ، اور اس کے نیچے گول بالکونی جس کے ستون قدیم شاہی طرز کی یاد دلاتے تھے۔
مرکزی دروازے تک پہنچنے سے پہلے ایک کشادہ برآمدہ تھا، جس کے گرد سفید جالی دار ریلنگ اور پھولوں سے لدے گملے لٹک رہے تھے۔ نرم سنہری لائٹس ستونوں کے نیچے سے اوپر کی طرف پڑتی تھیں، جس سے پوری عمارت جگمگا اٹھتی تھی۔ بڑے بڑے محرابی شیشے کے دروازے اور کھڑکیاں اندر کی دنیا کی ایک جھلک دکھا رہے تھے—وقار، آسائش اور سکون کا حسین سنگم۔
نیچے کے حصے میں کشادہ پارکنگ ایریا تھا جہاں ایک نفیس سی گاڑی کھڑی تھی، اس کے برابر شیشے کی دیواروں کے پیچھے ڈرائنگ روم صاف دکھائی دیتا تھا۔ اندر ہلکے بیج اور کریم رنگ کے صوفے، دیواروں پر سادہ مگر نفیس پینٹنگز، اور ایک طرف چھوٹا سا ٹی وی لاؤنج… ہر چیز ترتیب اور سلیقے کی مثال تھی۔
اب اگر اس حویلی کے اندر قدم رکھا جائے…
بھاری لکڑی کا مرکزی دروازہ جیسے ہی کھلتا ہے، ایک ٹھنڈی خوشبو دار ہوا چہرے سے ٹکراتی ہے۔ سامنے ایک وسیع ہال ہے جس کی چھت کافی اونچی ہے، درمیان میں خوبصورت فانوس جھول رہا ہے، پورے فرش پر بکھر کر چمک پیدا کر رہی ہے۔ سفید ماربل کا فرش اتنا صاف کہ عکس بھی صاف نظر آئے۔
دائیں طرف ڈرائنگ روم ہے، جہاں مہمانوں کے لیے شاہانہ نشست کا انتظام ہے۔ بائیں طرف ایک خوبصورت سیڑھیاں اوپر کی منزل کی طرف جاتی ہیں، ان کی ریلنگ لکڑی اور لوہے کے خوبصورت امتزاج سے بنی ہوئی ہے۔
—یہاں ایک بڑی سی ڈائننگ ٹیبل رکھی ہے، جس کے گرد پوری فیملی میں اسے تین لوگ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھےے۔ میز پر ناشتہ سجا ہوا ہے؛ گرم پراٹھوں کی خوشبو، چائے کی بھاپ، اور ہلکی ہنسی کی آوازیں ماحول کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
شاہ حویلی کی صبح ہمیشہ عام گھروں جیسی نہیں ہوتی تھی
ڈائننگ ٹیبل کی سربراہی سیٹ پر بیٹھی تھیں گل بانو خاندان کی سب سے بڑی اور معزز بزرگ—گل بانو۔
سفید بالوں کو نہایت سلیقے سے دوپٹے میں سمیٹے، آنکھوں پر ہلکا سا چشمہ، اور چہرے پر وہ رعب دار سکون جو صرف وقت اور تجربہ عطا کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی ہی پورے ہال کی فضا کو سنجیدہ بنا دیتی تھی۔ وہ کم بولتی تھیں، مگر جب بولتیں تو جیسے فیصلے صادر ہوتے۔
ان کے دائیں جانب ان کے بیٹے احمد شاہ بیٹھے تھے—حویلی کے موجودہ سربراہ۔ لمبا قد، باوقار شخصیت، آنکھوں میں ذمہ داری کی جھلک۔ وہ ناشتہ کرتے ہوئے بھی کسی سوچ میں گم دکھائی دیتے ۔
اور ان کے برابر ان کی اہلیہ نوشین بیٹھی تھیں۔ غصے سے بھری ہوئی جیسے انہیں زبردستی بٹھایا گیا ہو۔۔اور ان کے سامنے ان کی چھوٹی بیٹی عروش بیٹھی ہوئی تھی جو جلدی سے ناشتہ کر رہی تھی یونیورسٹی جانے کے لیے۔۔
گل بانو کی نظر عروش پر پڑی تو سخت لہجے میں بولی ۔ بہو رانی یہ زرنش کہاں پر ہے اس نے ناشتہ نہیں کرنا کیا۔۔جس پر نوشین اپنی چھوٹی بیٹی کی طرف دیکھتی ہے اور انکھوں سے پوچھتی ہے اس کے بارے میں جس پر وہ کہتی ہے سو رہی ہے۔۔
نوشین بیگم جلدی سے بہانا بناتے ہوئے کہتی ہیں اج اس کی کلاس لیٹ ہے تو وہ لیٹ جائے گی اس وجہ سے وہ ابھی تک وہ اٹھی نہیں
جس پر گل بانو کہتی ہیں یہ تو آج کل کی لڑکیاں ایک تو رات بھر جاگتی رہتی ہیں اور دن بھر سوتی رہتی ہیں۔۔انہیں بالکل بھی نہیں پسند تھا ۔۔لیٹ اٹھنا اور لیٹ ناشتہ کرنا۔۔
نوشین بیگم کے ماتھے پر بل صاف نظر آ رہے تھے۔ پارٹی سے لیٹ واپس آنا کی وجہ سے ان کی نیند پوری نہیں ہوئی۔۔ اور اوپر سے صبح سویرے ناشتہ بھی تیار کرنا پڑا۔ ان کی ساس، گل بانو، گاؤں کی سادہ مزاج عورت تھیں جن کے نزدیک گھر کی عزت اور وقت کی پابندی سب سے بڑھ کر تھی۔
جبکہ نوشین، ایک شہری ماحول میں پلی بڑھی، جدید سوچ رکھنے والی عورت تھی جسے کبھی کبھار دوستوں کے ساتھ دیر تک باہر رہنا اچھا لگتا تھا۔
گل بانو کو لیٹ نائٹ پارٹیاں اور بے وقت کی مصروفیات ایک آنکھ نہ بھاتیں۔ وہ اکثر ٹوک دیتیں، سمجھاتیں، اور کبھی کبھار سخت لہجہ بھی اختیار کر لیتیں۔ یہی بات نوشین کے دل پر لگتی ۔۔۔یہی وجہ ہے کہ آج تک ان دونوں کی آپس میں کبھی نہیں بنی۔۔
گل بانو نے اپنے بیٹے احمد شاہ کی طرف گہری نگاہ ڈالی۔ ان کی آواز میں برسوں کا انتظار گھلا ہوا تھا۔
“اور یہ ہے عرشمان۔ وہ کب واپس آئے گا؟ پانچ سال ہو گئے ہیں اسے گئے ہوئے۔ کیا اسے اس دادی کی یاد نہیں آتی ۔۔۔
لفظ ابھی فضا میں معلق ہی تھے کہ پیچھے سے ایک مانوس، شوخ سی آواز ابھری—
“دادی جان… کیا مجھے یاد کیا جا رہا تھا؟”
سب کی نظریں بیک وقت اوپر اٹھ گئیں۔
ریلنگ کے ساتھ ٹیک لگائے عرشمان کھڑا تھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ، آنکھوں میں چمک، اور انداز میں وہی پرانی بےفکری۔ صبح کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جیسے حویلی نے خود اپنے بچھڑے چراغ کو دوبارہ روشن دیکھا ہو۔
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترنے لگا۔۔۔سب سے پہلے وہ جھک کر دادی جان کے ہاتھ چومتا ہے۔
“کیسی ہیں آپ، دادی جان؟”
گل بانو نے اسے دیر تک دیکھا… جیسے پانچ برسوں کی کمی ایک نظر میں پوری کرنا چاہتی ہوں۔ ان کی آنکھوں میں نمی کی ایک ہلکی سی چمک ابھری، مگر لہجہ بدستور مضبوط تھا۔
“ہم ٹھیک ہیں۔۔بلکہ تمہیں دیکھ کر اور ٹھیک ہو گئے ہیں۔۔
احمد شاہ بھی اپنی جگہ سے اٹھے۔ باپ بیٹے کی نظریں ملیں—کچھ سوال، کچھ خاموش گلے شکوے، مگر ساتھ ہی فخر بھی۔۔۔
اورعر شمان نے باپ سے گلے مل کر آہستہ سے کہا۔۔
“ڈیڈ… میں واپس آ گیا ہوں۔” احمد شاہ نے یہ سن کر دانت پیسے اور اپنے غصے کو دبایا۔۔
پھر وہ نوشین کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
“موم…”
نوشین نے اسے سر سے پاؤں تک محبت سے دیکھا اسے ملتے ہوئے کہا۔
“تم نے بتایا نہیں کہ تم آ رہے ہو۔ کیا اب ہم اتنے بھی اپنے نہیں رہے کہ خبر دے دیتے؟”
عرشمان نے شرارت سے مسکرا کر ان کے ہاتھ تھام لیے۔
“سرپرائز دینا تھا… اور دیکھیں، کامیاب رہا نا؟”
“پانچ سال کا سرپرائز کوئی دیتا ہے؟” ارے موم کبھی تو خوش ہو لیا کریں۔۔۔
پھر وہ اپنی بیل کی طرف بڑھا اس کے سر پر ہاتھ رکھا کیسی ہو چھوٹی ہے جس پر وہ کہتی ہے ٹھیک ہوں۔۔۔ عرشمان کی کبھی بہنوں کے ساتھ نہیں بنی تھی وہ ہمیشہ اس سے دور ہی رہتی تھی ۔۔۔
شاید اس وجہ سے کہ وہ ہر وقت گھر سے دور ہی رہا تھا۔۔۔
گھر میں کوئی سب سے زیادہ اس کی بنتی تھی تو دادی اور بڑے بھائی سے۔۔۔
دادی نے سب کو ہی پالا تھا سوائے چھوٹی بہن کے۔۔وہ بھی نوشین بیگم کے لڑنے جھگڑنے کے بعد کہ آپ نے میرے بچوں کو مجھ سے دور کر دیا اب میں اپنی بیٹی کو اپنے طریقے سے پالوں گی اور یہی وجہ ہے کہ باقی سب تو دادی سے اٹیچ تھے پر تو چھوٹی سب سے دور تھی وہ سب سے زیادہ ماں سے اٹیچ تھی۔۔۔۔
عرشمان ابھی اپنی نشست سنبھال ہی رہا تھا کہ مرکزی دروازہ آہستگی سے کھلا۔۔
“السلام علیکم…”
آواز میں تھکن تھی، مگر وقار بھی۔
سب کی نظریں ایک ساتھ دروازے کی طرف اٹھیں۔اور عرشیان تھا۔۔۔
سفید کوٹ اس کے بازو پر ڈلا ہوا، بال قدرے بکھرے ہوئے، آنکھوں کے نیچے ہلکے سے سائے… جیسے رات بھر نیند اس کے قریب سے بھی نہ گزری ہو۔ اس کے قدم سیدھے اور مضبوط تھے، مگر رفتار میں واضح تھکن جھلک رہی تھی۔
۔
؟ تم کہاں سے آ رہے ہو بیٹا؟”
احمدشاہ کی پیشانی پر سوالیہ لکیر ابھری۔۔جبکہ عرشمان نے اپنے بھائی دکھ بھری نظروں سے دیکھا کہ اس نے کیا حال بنایا ہوا ہے اپنا۔۔
عرشیان نے مختصر سا جواب دیا،
“ایمرجنسی کیس آ گیا تھا۔۔ رات کو کال آئی تھی۔ ہاسپٹل جانا پڑا۔”
گل بانو کی نظریں گہری ہو گئیں۔
“رات بھر؟”
“جی دادی جان۔ حالت نازک تھی… چھوڑ نہیں سکتا تھا۔”
ہال میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔ فضا میں فخر بھی تھا اور فکر بھی۔
نوشین بیگم نے کہا۔“آؤ، پہلے ناشتہ کر لو۔ خالی پیٹ نیند بھی کہاں آتی ہے؟” اور دیکھو تمہارا بھائی بھی آیا ہے جس پر وہ اپنے بھائی کو دیکھتے ہوئے سمائل کرتا ہے۔ اور عرشمان کہتا ہے ہم مل چکے ہیں جس پر سب حیران ہوتے ہیں کہتے ہیں کب۔۔
دونوں ایک ساتھ بولتے ہیں رات کو۔۔جس پر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے ہنستے ہیں سب کہتے ہیں وہ اچھا۔۔
جس پر دادی کہتی ہے چلو اؤ ناشتہ کرو۔
“نہیں … کچھ کھا لیا تھا ہاسپٹل میں۔ بس اب سونا چاہتا ہوں۔۔
وہ میز کے قریب آیا، پہلے دادی کے ہاتھ پیار دیا۔ ۔
“ویلکم بیک،۔۔چھوٹے برادر۔۔
عرشما ن نے جواب میں صرف مسکرا کر سر ہلایا۔
“تم ابھی بھی ویسے ہی ہو… کام کے دیوانے۔”
ارشِیان نے ہلکا سا طنزیہ تبسم کیا۔
“اور تم ابھی بھی ویسے ہی ہو… اچانک آنے والے۔”
یہ کہہ کر وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
ماربل کی سیڑھیوں پر اس کے قدموں کی آہٹ گونج رہی تھی۔ اوپر کی منزل کی ریلنگ سے ہلکی سی روشنی نیچے گر رہی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ اوپر چڑھتا گیا… اور موڑ پر پہنچ کر ایک لمحے کو رکا۔
نیچے سب اب بھی اسے دیکھ رہے تھے۔
“موم… پلیز کسی کو میرے کمرے میں مت بھیجئے گا۔ بس آرام کرنا ہے۔”
“ٹھیک ہے بیٹا…”
وہ اوپر غائب ہو گیا۔
ہال میں پھر خاموشی اتر آئی، مگر اس بار کیفیت مختلف تھی۔
ایک طرف عرشمان کی واپسی کی خوشی، دوسری طرف عرشیان کی آنکھوں میں چھپی تکلیف…
گل بانو نے اپنی چائے کا کپ رکھا اور گہری آواز میں کہا—
“یہ حویلی جتنی بڑی ہے، اس کے بچوں کے راستے اس سے بھی بڑے ہو گئے ہیں…
کوئی باہر جا کر لوٹتا ہے،
اور کوئی گھر میں رہ کر بھی کہیں دور چلا جاتا ہے۔”
عرشمان نے یہ جملہ خاموشی سے سنا۔
وہ کافی دیر سے جلدی نکلنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر جتنا جلدی کرنے کا ارادہ کرتی، اتنی ہی لیٹ ہوتی جا رہی تھی۔
آخرکار اس نے بےچینی سے فون اٹھایا اور جلدی جلدی کہا،
“ممی، میں جا رہی ہوں… مجھے بہت لیٹ ہو رہا ہے!”
دادی اماں نے عینک کے اوپر سے اسے گھورا۔
“تم ایسے ہی جاؤ گی؟ نہ ٹھیک سے ناشتہ، نہ دو گھڑی بیٹھنا… یہی طریقہ ہے گھر کا؟”
وہ منت بھرے لہجے میں بولی،
“پلیز دادی… ابھی واقعی مجھے جلدی ہے۔۔۔آپ بعد میں لیکچر دیجئے گا۔۔اور عرشمان کو اس کی یہ بات بری لگی تھی پر وہ چپ رہا۔۔
عرشمان نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا،
“رکو، میں ڈراپ کر دیتا ہوں تمہیں۔ ویسے بھی مجھے آفس کی طرف ہی جانا ہے۔”
وہ فوراً بول اٹھی،
“نہیں نہیں، آپ ناشتہ کریں۔ میں خود چلی جاؤں گی، پہلے ہی کافی لیٹ ہو چکی ہوں۔”
اور جواب کا انتظار کیے بغیر وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی، بیگ کندھے پر ڈالا اور باہر نکل گئی۔ دروازہ بند ہونے کی ہلکی سی آواز کمرے میں گونج گئی۔
عرشمان نے ایک لمحے کے لیے دروازے کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے دوبارہ ناشتہ کرنے لگا۔ مگر اس کے چہرے پر ہلکی سی فکر تھی —
عرشمان نے نیپکن میز پر رکھا اور کرسی سے اٹھتے ہوئے ہلکے انداز میں کہا،
“اچھا… اب میں چلتا ہوں۔ آفس جانا ہے۔”
گل بانو نے فوراً نظر اٹھائی۔
“ابھی تو تم آئے ہو۔۔۔ اور کون سا ایسا کام ہے۔۔۔
ان کی آواز میں خفگی کم اور اپنائیت زیادہ تھی۔
وہ مسکراتا ہوا ان کے قریب آیا، کرسی کے بازو پر ہلکا سا جھک کر بولا،
“ارے دادی جان… کام بہت ہیں آپ کے اس چھوٹے سے پوتے پر۔ اب وہ بچہ نہیں رہا جسے آپ انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتی تھیں۔”
گل بانو نے سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھا، مگر آنکھوں میں فخر کی چمک ابھری۔
وہاں سے یہاں نیا سیٹ اپ کیا ہے میں نے۔ کافی پروجیکٹس چل رہے ہیں۔ اگر ابھی سے ڈھیلا پڑ گیا تو لوگ سمجھیں گے شاہ گل کا وارث صرف نام کا ہے۔ اس لیے جانا تو پڑے گا نا…”
احمد شاہ نے گہری نظر سے بیٹے کو دیکھا۔
“کام ضروری ہے… مگر گھر بھی۔ دونوں میں توازن رکھنا سیکھو، ۔
“جی ڈیڈ، سیکھ رہا ہوں…” اس نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
وہ سیدھا دادی کے سامنے آ کھڑا ہوا، ان کے ہاتھ تھام کر جھکا اور پیشانی چھو لی۔
“اللہ حافظ، دادی جان۔ شام کو جلدی واپس آؤں گا… وعدہ رہا۔ پھر آپ سے لمبی بات ہوگی۔”
گل بانو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“وعدے شاہ خاندان میں نبھائے جاتے ہیں، بیٹا۔ بھولنا مت۔”
“کبھی نہیں…” اس نے آنکھ مار کر کہا۔۔۔۔۔۔اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
———————————
4
ایک نئے کیس میں وہ کام کرتے ہوئے ایسا الجھا رہا التماش کہ وقت گزرنے کا اندازہ نہ کہ اسے آیت کو پک کرنے بھی جانا ہے سکول سے۔۔۔۔۔وہ تھانے کا ایس ایچ او تھا—نام سنتے ہی لوگ سیدھے ہو جاتے تھے۔ قد لمبا، جسم مضبوط، وردی اس پر ایسے جچتی تھی جیسے اسی کے لیے بنی ہو۔ گہری آنکھیں، جن میں سختی بھی تھی اور انصاف کی چمک بھی۔ چہرے پر سنجیدگی مستقل رہتی، مگر وہی سنجیدگی اسے اور زیادہ ہینڈسم بناتی تھی۔
وہ غصیلہ تھا، مگر بےوجہ نہیں۔ اس کا غصہ ناانصافی کے خلاف تھا، جھوٹ اور ظلم کے خلاف۔ اس کے چلنے میں رعب تھا، بات کرنے میں وقار۔ وہ کم لفظوں میں بات ختم کر دیتا، مگر اس کی بات آخری ہوتی۔
دل سے وہ سخت نہیں تھا، بس حالات نے اسے مضبوط بنا دیا تھا۔اس پروفیشن میں انے کا بھی اس کا ایک مقصد تھا جس کے لیے وہ یہاں تک پہنچا تھا اور وہ کیا تھا یہ تو وہی جانتا ہے۔۔۔۔
ان دنوں وہ کافی بزی تھا ایک نئے کیس کے سلسلے میں جس میں وہ اتنا بزی تھا کہ اسے یاد نہیں رہا۔۔ اسے یاد آتا ہے کہ آیت کو اسکول سے پک کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔ وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر سب کچھ وہیں چھوڑ دیتا ہے، ٹیبل سے چابیاں اور موبائل اٹھاتا ہے، تیزی سے باہر نکلتا ہے اور اپنی جیپ میں بیٹھتے ہی گاڑی کا رخ اسکول کی جانب موڑ دیتا ہے۔
وہ اسکول پہنچتا ہے، لیکن اتنے رش کی وجہ سے اسے کہیں بھی پارکنگ کی جگہ نہیں ملتی۔ گیٹ کے سامنے وہ اپنی جیپ روک کر اردگرد دیکھنے لگتا ہے، پارکنگ کی جگہ تلاش کر رہا ہوتا ہے۔
اسی وقت اس کی نظر آیت پر پڑتی ہے، جو روڈ کے کنارے باہر ہی کھڑی آ رہی ہوتی ہیں۔ وہ فوری طور پر ان کی طرف دیکھتا ہے، لیکن دوسری سمت سے ایک بائک والا بھی آیت کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
وہ فوراً گاڑی سے باہر نکلتا ہے کہ آیت کو بچا سکے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ ان تک پہنچتا، ایک لڑکی آیت کو پیچھے کی طرف کھینچ لیتی ہے اور بائک والے سے بچا لیتی ہے۔
وہ چند لمحے کے لیے رک جاتا ہے، پھر دوڑتے ہوئے آیت کے پاس پہنچتا ہے اور غصے سے کہتا ہے:
میں نے آپ کو کیا کہا تھا؟ جب تک میں یہاں نہ ہوں، آپ اسکول سے باہر نہیں آئیں گی! آپ باہر کیا کر رہی ہیں؟اس کے ایک دم ایسے بولنے سے افی کو غصہ اتا ہے۔۔جس پر اسے وہ کہتی ہے بچی پہلے سے ہی ڈری ہوئی اپ اور اسے ڈرا رہے ہیں ۔۔۔
اس پر وہ تھوڑا نرم ہو جاتا ہے، پھر فوراً سوچتا ہے کہ جلد بازی میں وہ غصہ ہو گیا۔ فوراً نیچے جھک کر بیٹھتا ہے اور بیٹی سے کہتا ہے،
“بیٹا، میں نے آ پ کیا کہا تھا؟”
آیت فوراً بولتی ہے، “سوری ڈیڈی مجھے وہ بالون لینے تھے اس لیے میں آئی تھی۔”
التمش اور اس لڑکی کی نظر ایک ساتھ بالون پر پڑتی ہے۔ التمش مسکراتے ہوئے کہتے ہیں،
“بیٹا، میں آپ کو لے دیتا ہوں۔ چلیں، میرے ساتھ۔”
وہ بیٹی کے ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، اور پیچھے وہ لڑکی کھڑی رہ کر انہیں دیکھتی رہتی ہے۔اور سوچتی ہے کیسا عجیب ہے تھینک یو بھی نہیں بولا اسے دیکھتی ہے جو پولیس وردی میں ہی بیٹی کو لینے ایا ہوتا ہے ۔۔اور سوچتی ہے یہ پولیس والے ہوتے ہی ایسے ہیں۔
وہ ابھی انہیں دیکھ ہی رہی تھی کہ میر خان کہتا ہے،
“آنی، چلے نہ؟”یہ سنتے ہی وہ سوچوں سے باہر نکلتی ہے، فوراً میر خان کا ہاتھ پکڑتی ہے اور گاڑی کی طرف بڑھ جاتی ہے۔۔۔
افی گاڑی میں بیٹھی ہوئی، وہ میر خان سے پوچھتی ہے،
“کیا یہ آپ کی کلاس فیلو ہے؟”
میر خان منہ بناتے ہوئے جواب دیتا ہے،
“جی، یہ میری کلاس فیلو ہے۔”
اسی وقت گاڑی میں رومی اور ہنی بھی موجود ہوتے ہیں۔ وہ میر خان سے ملتے ہیں اور مسکرا کر کہتے ہیں،
“ہیلو!”
میر خان انہیں دیکھ کر منہ بناتا ہے، جیسے کہہ رہا ہو،
“کون ہو تم لوگ؟”ہنی میر خان کو دیکھ کر کہتی ہے،
“اوہ! کتنا کیوٹ ہے!”
اور فوراً اس کے گال کھینچنے کی کوشش کرتی ہے۔
میر خان فوراً پیچھے فیس کر لیتا ہے،
جس پر رومی اور افی دونوں ہنس پڑتے ہیں۔
افی مسکرا کر کہتی ہے،
“دیکھا! اسے پسند نہیں کوئی اس کے گال کھینچنا، بس پری کے علاوہ۔۔۔ ہنی شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہے،
“میں تو کھینچوں گی!”
اور ہاتھ بڑھا کر دوبارہ اس کے گال کھینچنے کی کوشش کرتی ہے۔
میر خان پھر سے پیچھے فیس کر لیتا ہے ۔۔اور منہ بناتے ہوئے کہتا ہے۔”پتہ نہیں کیوں، لڑکیاں میرے گال کھینچنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔افی میر خان سے کہتی ہے،
“یہ بھی آپ کی چھوٹی آنی ہے؟”
میر خان تھوڑا سا پیچھے ہٹتے ہوئے جواب دیتا ہے،
“مجھے یہ پسند نہیں ہے۔
یہ سن کر ہنی حیران ہو جاتی ہے اور کہتی ہے،
“مجھے بھی تم پسند نہیں!”
اور منہ گھما کر آگے کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔اور اگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوتی ہے
یہ دیکھ کر افی اور رومی زور زور سے ہنس پڑتے ہیں۔
رومی میر خان سے مزاح میں کہتا ہے،، آپ کو میں بھی پسند نہیں آئی کیا؟
“نہیں، آپ اچھی ہیں… تھوڑی بہت۔ کیونکہ آپ نے میرے گال نہیں کھینچے۔رومی اس سے کہتی ہے ۔۔
“آپ بہت کیوٹ اور معصوم ہیں۔”
وہ مسکرا کر رومی کا شکریہ ادا کرتا ہے۔
ہنی ان کی باتیں سن کر اندر سے کچھ سوچتے ہوئے منہ بنا رہی ہوتی ہے،
“مجھے تو لفٹ بھی نہیں کروائی اور دیکھو، رومی سے کیسے باتیں کر رہا ہے… یہ بہت ہی چالاک لڑکا ہے یہ!”
باتوں باتوں میں وہ گھر پہنچ جاتے ہیں پورے راستے ہنی افی کو اپنے لندن کے قصے ہی سناتی ہی رہی گھر پہنچتے ہوئے ہی گاڑی رکتی ہے۔۔ میر خان کہتا ہے پتہ نہیں لڑکیاں اتنا کیوں بولتی ہیں۔۔
میر خان یہ سب ہنی کو کہہ رہا ہوتا ہے۔۔
جس پر رومی اور افی دنوں پھر سے مسکرا کر گاڑی سے نکل جاتی ہیں۔
ہنی بھی غصے سے باہر نکلتی ہے، سوچتی ہے،
“اس کو تو میں بعد میں بتاؤں گی!”
اور غصے میں اندر بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔۔
———————————-
جاری ہے۔۔۔
