“ایمان”
نورالسحر
احتساب:
ہر” ایمان والے” کے نام
توکل وہ یقین ہے جو ایمان کو مکمل کرتا ہے
سردیوں کی پہلی بارش نے آج کی شام میں اپنی مخصوص ٹھنڈک اور نم تازگی پھیلا دی تھی۔ ہر طرف ٹھنڈی ہوا کے جھونکے درختوں سے ٹکراتے موسم کو اور مہکا رہے تھے۔ اسی اثناء میں آج سب گھر کے افراد صحن میں ڈھرے ڈالے بیٹھے تھے۔ کوئی گرم چائے پی رہا تھا تو کوئی گرم گرم پکوڑوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ مگر ہر سال کی طرح اس سال آج کے دن نہ وہ بارش میں بھیگی تھی نہ اس نے کسی سے پکوڑوں کی فرمائش کی تھی۔ اس نے یہ سب کسی کے سمجھانے پر نہیں چھوڑا تھا بس اس کی زندگی کی تھکان تھی یا ذہن کاوہم تھا ، اسے اب کوئی چیز اچھی نہیں لگتی تھی نہ ہی یہ سردیوں کی پہلی بارش نہ ہی کچھ اور۔
آج اس کی منگنی کو ہوئے چار ہفتے بیت گئے تھے اور پچھلے کچھ ہفتوں کی طرح آج بھی وہ آئینے کے سامنے کھڑے اپنے ہلکوں کو بار بارہاتھ لگاتے پریشان ہو رہی تھی جو دن بہ دن گہرے اور سیاہ ہوتے جا رہے تھے۔ حسب معمول اس نے ہلکوں پر سیرم لگایا اور خاموشی سے بستر میں آکر رضائی اوڑھ کر لیٹ گئی۔ اور پھر وہی ہر رات کی طرح دو گھنٹے اس کی گند می آنکھوں نے چھت کو تکتے گزار دیئے اور اس کے ذہن نے بلاوجہ کے وسوسے اس کے دل و دماغ میں ڈالے کہ پتا نہیں وہ کیسا ہوگا؟ اگر وہ ماموں جیسا نہ ہوا تو؟ اگر وہ بھی تنقید کرنے والا ہوا تو؟ اور اگر مہوش کی بات سچ ہوئی تو میں کیا کروں گی؟ اسی سوچوں کو جھٹکتی ہوئی وہ خود کو کوستی سونے کی کاشش کرنے لگی ۔۔ کہ اتنے میں دانیال کمرے کے دروازے میں آتے بولا
“ایمان آپی امی کہہ رہی تھیں کل آپ مدرسے سے چھٹی کر لے ۔۔شاپنگ پر جانا ہے۔”یہ کہتا وہ یہ جا وہ جا مگر اس کی یہ کہنے کی دیر تھی کہ اس کی گندمی آنکھوں سے پھر نیند کوسوں دور چلی گئی تھی۔
پتا ہے میرا بھائی کہہ رہا تھا کہ” وہ تو کہتا ہے کہ عورتوں کو بازار نہیں جانا چاہیے اب تو سب آن لائن ہو گیا ہے پھر کیا ضرورت پڑی ہے بلاوجہ گھر سے نکلنے کی ۔”مہوش کی کہی بات اس کے کانوں میں گونجی پھر تھوڑی دیر بعد ذہن نے تھک ہار کر آنکھوں کو بند کر لیا ۔
بچپن میں والدین کے کار اکسیڈنٹ میں وفات کے بعد ایمان کے ماموں اسے اپنے گھرلےآئے اور بہت پیار سے بلکل اپنی بیٹی کی طرح پالا ،ان کی اپنی ایک ہی اولاد تھی ا ور وہ تھادانیال جوایمان سے دس سال چھوٹا تھا ۔اب ایمان کوگر یجوائٹ ہوئے ایک سال گزر چکا تھا اور ماموں نے جاب کرنے سے منع کر دیا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے بھانجی کی کمائی کھاتا ہے اور اس نے بھی کبھی جاب کے بارے میں خا ص سوچا نہیں تھا کیونکہ اس کے ذہن میں بھی تھا کہ باقی خاندان کی لڑکیوں طرح اس کی بھی جلدی شادی ہو جائے گی اور پھر ہوا بھی کچھ ایسا ہی گریجوائٹ ہوتے ہی اس کا رشتہ آ گیا اور ماموں نے اپنے چچازاد بھائی کے بیٹے سلمان سے اس کا رشتہ طے کر دیا ۔اور اس نے بھی رضامندی ظاہر کی کیونکہ انکار کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی اور نہ ہی سلمان میں کوئی کمی تھی ۔۔ ماموں کے بقول اچھا،سلجھا ہوا لڑکاہے جس نے پڑھائی کے بعد باپ کے کاروبار کو سنبھالا ہواتھا۔ لیکن نہ جانے کیوں اس کا دل تھا جو رشتہ ہونے کے بعد مسلسل کشمکش کا شکار تھا،عجیب وغریب وہم کا شکار رہنے لگا تھا اور رہی سہی کسر اسکے کزنوں نےسلمان کے بارے میں الٹتی سیدھی باتیں کر کے پوری کر دی ،روز کوئی نہ کوئی بات اسے کہہ دیتے کہ وہ یہ کہتا ہے ،وہ یہ کرتا ہے۔۔۔۔بلا بلا بلا۔۔اور یہ تھی کہ ہر بات کو لے کر گھنٹوں سوچتی رہتی۔۔ چاہے اگلوں نے وہ بات مزاق میں کہی ہو،پر کرتی بھی تو کیا، جب بات کسی شخص کے ساتھ پوری زندگی گزانے کی ہو تو ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ وہ بس پرچھائی کی طرح اس کے ساتھ ساتھ چلے اورزندگی کے ہرمور پر یہ پرچھائی بلکل اسی طرح اس کے ساتھ چلے جیسے قدم وہ اٹھائے چاہے وہ سیدھی سڑک کے ہوں یا پھتریلی ٹیری میڑی گلی کے۔ اب بات ایسی ہو تو انسان وہم و گمان کا شکار ہوہی جاتا ہے۔
٭٭٭
اسے گھر میں فارغ رہنا پسند نہیں تھا، اس لیے اس نے مہوش کے ساتھ مدرسےکا کورس شروع کر دیا تھا چونکہ اب شادی میں چند ہی دن باقی رہ گئے تھے تو اُس نے چھٹیاں لے لیں اور شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو گئی۔آج وہ مومانی کے ساتھ بازار گئی تھی، مہوش بھی اس کے ساتھ تھی اور واپسی پر ان کے ساتھ گھر آئی۔ گھر میں کئی باتیں ہوئی کہ مہندی کہاں سے لگواؤ گی، میک اپ کاکیا سوچا ہے؟اور بہت کچھ لیکن یہ ساری باتیں اُسے بیزار کر رہی تھیں۔ وہ بس اُن کا دل رکھنے کے لیے ہر بات پر سر ہلا دیتی، لیکن اپنی سوچوں میں گم رہتی۔ اُس کا ذہن اُس کی زبان کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔
رات کو سارے کاموں سے فارغ ہو کر جب وہ کمرے میں آئی اورسونے کے لیے لیٹ گئی۔ اُس نے دیکھا کہ پانی کا جگ خالی ہے، تو سوچا کہ ابھی پانی بھر لاتی ہوں، ورنہ رات کو پیاس لگی تو مشکل ہوگی ۔پانی بھرنے کے لیے وہ کچن میں گئی، تو واپسی پر مومانی اور ماموں کی باتیں اس کے کانوں میں پڑی ۔ ماموں بتا رہے تھے کہ اُنہیں کاروبار میں کچھ نقصان ہوا ہے، جس کی وجہ سے مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یہ باتیں سن کر وہ اور بھی پریشان ہو گئی۔ پہلے ہی اُسے ذاتی مسائل اور ذاتی پریشانیاں تھیں کہ آگے پتہ نہیں کیا ہوگا، اور اب یہ باتیں سن کر اور بھی کئی طرح کے وسوسے آنے لگے۔آج کی رات اُس پر اور بھی بھاری ہو گئی، کیونکہ ایک اور فکر میں اضافہ ہو گیا تھا کہ ماموں پر کتنا بوجھ بن رہا ہوگا ، اب شادی کی تیاریاں کیسے ہوں گی؟ لیکن پھر تین گھنٹے سوچنے کے بعد جب ذہن تھک گیا تو اُس نے آنکھیں بند کر لیں۔
٭٭٭
“لو اٹھ گئی تم؟ میں بھی سوچ رہی تھی کہ تمہیں اٹھا دوں، تمہارے ماموں آج چھٹی پر ہیں تو چاہ رہے تھے تمہارے ساتھ کچھ وقت بتائیں ۔”ممانی نے جب اسے کچن کے دروازے پر دیکھا تو بولیں۔
جبکہ وہ سوچ رہی تھی کہ انہیں کیسے بتائے کہ اٹھتی تو تب نہ جب سو پاتی۔ “خیر میں نے ناشتہ جلدی کر لیا تھا اصل میں آج مجھے مکے والوں کو کاڈز دینے جانا ہے نا۔” وہ ناشتہ بناتے بس کہتی جا رہی تھی۔
“تم ایک کام کرو یہ ٹرے لے کر چھت پر چلی جاؤ، ماموں وہیں بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں ۔”
“جی ٹھیک میں جاتی ہوں۔” ان کی بات پر وہ ناشتے کی ٹرے لیے چھت پہ چلی آئی۔ فاصلہ صرف کچھ قدموں کا تھا لیکن آج کل اسے لگتا جیسے وہ ایک قدم چلی ہے تو اس کی ٹانگیں دس قدم کے اٹھانے کے برابر تھک جاتی ہیں۔
“آؤ آؤ ایمان بیٹا آؤ، آج تو اپنی بھانجی کے ساتھ ناشتہ کرنے کا الگ ہی مزہ آئے گا۔” وہ جب چھت پر آئی تو کرسی پر بیٹھے ماموں نے اسے دیکھتے ہی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ وہ بھی مسکرائے بنا نہ رہ سکی اور پھرٹیبل پر ٹرے رکھ کر ان کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
پہلے تو دونوں ماموں بھانجی نے ناشتہ کیا پھر ماموں بولے “بیٹا ایک بات پوچھوں؟ “
“جی بلکل، آپ پوچھ کیوں رہے ہیں؟”چائے کا آخری گھونٹ لیتے اس نے کہا۔
“تم خوش تو ہو نا؟”۔اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے انھوں نےبڑے پیار سے پوچھا۔
لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا کہے، کہ وہ خوش ہےلیکن پریشان بھی؟ یا کہے کہ اسے تسلی نہیں ہو رہی یا پھر وہ وہم کا شکار ہے؟ آخر کہے تو کیا کہے؟۔
“کیا ہوا بیٹا کوئی پریشانی ہے؟” وہ مسلسل خاموش تھی تو ماموں نے پریشانی سےپوچھا۔
“کچھ نہیں۔۔ کچھ نہیں۔” ایک دم خود کو کمپوز کرتے وہ بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولی۔ ماموں نے اس کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے کہا “دیکھو بیٹا! اگر تمہیں کوئی بات پریشان کر رہی ہے تو بتاؤ، اگر اس رشتے سے کوئی مسئلہ ہے تو بھی بتاؤ، میں تمہیں دیکھتا ہوں تو مجھے میری بہن یاد آتی ہے اور اگراسے کوئی پریشانی ہوتی تھی تو وہ سب سے پہلے مجھے بتاتی تھی اور میں چاہوں گا کہ تم اب بھی یہی کرو۔” ان کے پیار بھرے لہجے کومحسوس کر کے اس کا دل چاہا کہ ان سے لپٹ کر رو پڑے، اس لیے نہیں کہ وہ ناراض ہے بلکہ اس لیے کہ وہ بس رونا چاہتی ہے۔
لیکن اپنے آنسوؤں کو روکتے ہوئے ایک لمبی سانس لینے کے بعد وہ بولی “ماموں میں اس رشتے سے راضی ہوں لیکن… لیکن میں…”۔ جب وہ ایک پل کے لیے رکی تو ماموں بولے “لیکن کیا بیٹا جو کہنا ہے کہو۔”
“ماموں بس پتا نہیں کیوں میرا ذہن وہم و وسوسوں کا شکار ہے، میں خود بھی اس کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہی۔” یہ جملہ بولنے کے بعد اسے لگا جیسے دل پر سے کوئی بوجھ اتر گیا ہو۔
“ہاں! میں سمجھ سکتا ہوں یہ اکثر لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ایک بات کہوں؟” ماموں نے کہا تو وہ فوراً بولی “جی کہیں۔” جب دوامل رہی ہو توکون بیوقوف منع کرتاہے ۔
اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تم مومن ہو۔ (سورہ المائدہ: 23)
(سورہ آلِ عمران، آیت: )159″بے شک اللہ (خود پر) بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”
ماموں نے آیات کا کا ترجمہ کرتے اسے دیکھا تو اس نے بھی سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ “کیا مطلب؟”
وہ کہنے لگےاب دیکھو کل کچھ کاروباری نقصان ہوا تھا جس کے وجہ سے میں پریشان تھا کہ اب پیسوں کا انتظام کیسے ہوگا، بار بار یہی سوچ رہا تھا کہ کہاں سے لاؤں گا؟ کس سے مانگوں؟ کیسے ہوگا؟ دل بے چین تھا۔ پھر رات کو میں نے نماز پڑھی، اللہ سے دعا کی اور دل ہی دل میں کہا کہ یا اللہ، میں کوشش کروں گا، اگر ضرورت پڑی تو ادھار بھی لے لوں گا ، لیکن تُو میرے لیے آسانی پیدا کر دے۔ یہ کہہ کر میں سکون کے ساتھ سو گیا کہ اللہ کچھ نہ کچھ انتظام بنا ہی دے گا۔اورصبح جب آنکھ کھلی تو میرے دوست کی کال آئی۔ اُس نے کہا، ” ہم نے جو کمیٹی ڈالی تھی، اس بار تم رکھ لو، میں اگلی بار لے لوں گا۔تمھیں اسکی ضرورت ہے میرے پاس گنجائش ہے فلحال۔” میں حیران رہ گیا۔۔۔ میں نے تو اُس سے کچھ کہا بھی نہیں تھا، لیکن اللہ نے میرے دل کی بات سن لی۔ یوں لگا جیسے اللہ نے میری پریشانی ایک لمحے میں دور کر دی ہو۔”
پھر بغیر کسی تمہید کے کہنے لگے “بیٹا تمہاری ماں مجھ سے صرف ایک سال بڑی تھی لیکن اس کی ایک عادت مجھے بہت پسند تھی اور وہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ ایک بات کہتی تھی کہ” عمران جب کوئی پریشانی یا مصیبت آئے تو اس سے لڑنے کے لیے محنت کرنا اور دعا کرنا،اور پھر سب کچھ اس پر چھوڑ دینا کیونکہ وہ ہمیں پیدا کرنے والا ہے ، وہی ہمارا رب ہے جو ایک کن کہے تم ہمارا کام کیا کچھ بھی ہو جائے۔”صرف یہ نہیں ایک اور جملہ وہ معمولاً کہتی تھی کہ “ہم انسانوں کے لیے جو چیز اہم ہے وہ توکل ہے کہ ہمارا دل اس چیز پرقائم رہے کہ اللہ سب دیکھ لے گا۔”
ایمان نے جب یہ سنا تو اسے لگ رہا تھا جیسے اسے کوئی جھنجھوڑ رہا ہے۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی ماموں اس کی طرف پیار سے دیکھتے ہوئےکہنے لگے ” بیٹا تمہارا نام بھی اس نے ایمان اپنی مرضی سے رکھا تھا اور کہا تھا کہ یہ ایمان والی ہوگی، جب کوئی مشکل آئے گی تو اسے اپنے مومن ہونے پر یقین ہو گا اور میری بیٹی دیکھنا میری جیسی ہوگی اللہ پر یقین رکھنے والی۔” ماموں نے جب یہ کہا تو اسے لگا کہ جیسے وہ اپنی ماں جیسی نہیں تھی کیونکہ وہ اللہ پر یقین تو رکھتی تھی لیکن مایوس بھی تھی۔ ابھی وہ خود سے ہم کلام تھی کہ ماموں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
“دیکھو بیٹا! تقدیر میں کیا لکھا ہے کوئی نہیں جانتا، لیکن ایک کافر اور مومن میں یہی تو فرق ہوتا ہے کہ مومن اپنی طرف سے پورا کام کر کے ،خوب دعائیں کر کے اللہ پر توکل رکھتا ہے کہ اب سب کچھ میرا خدا دیکھ لے گا اور اگر یہ بات تم سچے دل سے خود کو سمجھا لو تو بیٹا یہ وہم نہیں رہیں گے، کیونکہ اللہ اس پر بھروسہ کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
٭٭٭
آج سارا دن اس نے بہت کام کیے، بارات کا سوٹ سلیکٹ کر دکھایا، مہندی کے لیے بات کی اور بہت کچھ لیکن آج اسے سر درد ضرور تھا لیکن وہم کی سوچیں جیسی کسی نہ ذہن سے نکال باہر کی تھی ” جب انسان پورے دل سے اپنے سارے کام اپنے رب پر چھوڑ دیتا ہے نا، تو پھر وہ رب وہاں سے سبب بناتا ہے جہاں سے انسان کو گمان بھی نہیں ہوتا۔”اور اسی طرح دیکھتے ہی دیکھتے اس کے ہر کام اپنے وقت پر ہو جاتا ہے۔ رات کو تھک کر جب کمرے میں آئی تو پرسکون نیند کے لیے لیٹنے کے بجائے وضو کرکے جائےنمازپرکھڑی ہوئی اور نمازِ عشاء ادا کی۔ اس کے بعد اس نے استخارہ کے دو نفل ادا کیے، کیونکہ اُس نے سوچا کہ زندگی کا فیصلہ کرنے سے پہلے اگر سب انسانوں سے مشورہ کیا جا سکتا ہے تو سب سے بہترین یہ ہے کہ انسان اللہ سے مشورہ کرے، جو اُسے پیدا کرنے والا ہے اور جس نے اُس کی تقدیر لکھنی ہے۔ استخارہ کے دو نفل پڑھنے کے بعد جیسے اُسے کوئی اشارہ ملا ہو۔ اُس کا ذہن دھیرے سے ٹیبل پر پڑی کاپی کی طرف گیا۔ اُس کے ہاتھوں نے اُس کاپی کو اُٹھایا اوروہ چیزیں جو پچھلے دو مہینوں سے صرف لکھتی آ رہی تھی، آج اُس کے دل و دماغ پر اتر رہی تھی۔ ایک ایک لفظ زندگی کے بارے میں نہ صرف سبق بلکہ بہترین امید دے رہا تھا۔کاپی پر لکھا تھا:
ایک مضبوط مومن کمزور مومن سے بہتر اور اللہ کو زیادہ محبوب ہے، حالانکہ دونوں میں خیر ہے۔ اس کے لیے کوشش کرو جس سے تمہیں فائدہ ہو، اللہ سے مدد مانگو اور بے بسی نہ محسوس کرو۔ (مسلم)
اور جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور جو اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔ یقیناً اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔(سورۃ الطلاق)
یہ سب کچھ پڑھنے کے بعد، ماموں کی باتیں دہرانے کے بعد، اور اپنی ماں کی نصیحتوں کو سوچنے کے بعد اُس نے دعاؤں کے لیے ہاتھ اُٹھائے۔ اس نے زبان سے ایک لفظ بھی نہیں کہا، لیکن دل سےاپنی زندگی کے تمام معاملات، تمام پریشانیاں اللہ پر چھوڑ دیں اور خود سے کہامیں اب پریشان نہیں ہوں گی۔ صرف دعا کروں گی اور ان شاء اللہ اللہ میری تقدیر بہترین کر دے گا۔
ہم انسان بہت پاگل ہوتے ہیں کوئی بھی آکر کچھ بھی کہہ دے تو ہم گھنٹوں ا سے سوچتے کڑتے رہتے ہیں اور اپنے رب کے قرآن میں دوڑائے جانے والےکئی الفاظ کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔اپنی نادان سوچوں کا کبھی اُس رب سے موازنہ نہ کرنا، کیونکہ زندگی دینے والا آپ کے لیے سب سے بہترین سوچ سکتا ہے ، اس لیے کبھی یہ غلطی نہ کریں کہ اپنی محدود سوچ کو اُس کی تدبیر سے بڑا سمجھ لیں۔
٭٭٭
آج بلآخر وہ دن آ ہی گیا جب اُسے ماموں کے گھر سے رخصت ہونا تھا۔ پورے گھر کو چراغوں اور رنگین روشنیوں سے سجا دیا گیا تھا۔ ہر طرف خوشیوں کی رونق تھی۔ گھر کی سیڑھیوں کو چاندی جیسے سفید پھولوں سے نہایت خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا تھا، اور ایک طرف خوبصورت اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں نرم اور دلکش صوفے رکھے ہوئے تھے۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد جب مہمانوں نے آنا شروع کیا تو وہ بھی اپنی کزنز کے ساتھ انٹری کرتی ہوئی آئی پھر انھوں نے آہستگی سے اسےپر اسٹیج بٹھایا اورمختلف رسومات ادا کی گئیں۔ کچھ دیر بعد ماموں اسٹیج پرآئےاوراس کو پیار کرتے ہوئے اجازت طلب کی ” کیا ہم نکاح شروع کروائیں؟” اُس نے شرم کے مارے بس سر جھکا کرخاموشی سے رضا مندی دی۔ پھراس سے نکاح نامے پر دستخط کروائےگئےاور نکاح کے بعد دولہے کو اس کے ساتھ بٹھایا گیا۔ لیکن اُس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ سر اُٹھا کر اُسے دیکھےاوروہ بھی بس خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔
دعائیں کروائی گئیں، سب کو مٹھائی کھلائی گئی، اوروقت آنے پر پھر اُسے رخصت کر دیا گیا اُن کی آنکھیں نم تھیں، دل بھاری تھا، لیکن وہ مطمئن تھی کہ جس ذات پر اُس نے اپنا فیصلہ چھوڑا ہے، وہ کبھی اُسے رسوا نہیں کرے گا۔
٭٭٭
شادی کے کچھ عرصے بعد۔۔۔۔۔
آج پھر سردیوں کی پہلی بارش نے دستک دی تھی اور موسم کو ایک بار پھر خوشگوار بنا دیا تھا۔ لیکن آج وہ نہایت سکون سے بارش میں بھیگی تھی، اور دل ہی دل میں مسکرائی بھی تھی۔اور بارش تھمنے کے بعدکھڑکی کے پاس پڑے صوفےپربیٹھی نم ہوا کے جھونکوں کو محسوس کرتی ڈائری کے اوراق پر لکھتی جا رہی تھی۔ آج اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ دل کی ساری باتیں صفحوں میں بھرڈالے۔کافی دیر لکھنے کے بعد اُس نے سوچا کہ اب بس کرنا چاہیےکافی وقت گزرگیاہے۔ ابھی وہ کھڑی ہوتی پاؤں میں چپل ڈال ہی رہی تھی کہ وہ چائے کی ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوا۔ اوراس کے ہاتھ میں چائے دیکھ کر وہ سوچنے لگی کہ اسے کیسے پتا چل جاتا ہے کہ میں کس وقت کیا چاہتی ہوں ، جب کو ئی قدر کرنے ولا ہو تو وہ آپ کی ہر عادت اور شوق سے واقف ہو جاتا ہے-
” ایسےکیا دیکھ رہی ہو؟”اسے خود کو گھورتے پاکرسلمان نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
ہوش میں آتے ہی ایمان شرما سی گئی، پھر بولی، “کچھ نہیں… بس یونہی ۔”وہ آ کر صوفے پر بیٹھ گیا اور اس کا ہاتھ پکڑے اسے اپنے پاس بٹھا لیا۔
پھر پیار سے اس کے پیٹ کی طرف دیکھتےہوئے کہنے لگا، “پتا ہے، آج میں نے آپا کو بتایا تو وہ بہت خوش ہوئی۔۔ کہنے لگی ایک دو دن میں ملنے آوں گی۔”
اس پر ایمان مسکراتے ہوئے بولی، “ہاں ہاں، ضرور۔ میں بھی سوچ رہی تھی اس خوشی میں سب کو دعوت پر بلاتے ہیں ۔”
اس پر سلمان بولا”ہاں !کیوں نہیں۔”
جب سے یہ خبرانھی ملی تھی دونوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس خوشی کا اظہار کیسے کریں۔ آخر یہ اُن کی سب سے بڑی خوشی تھی۔۔ وہ ماں باپ بننے والے تھے۔یہ سوچتے ہی دونوں کے لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ پھیل جاتی تھی اور آنکھوں میں شکر کے آنسو چمکنے لگتےتھے۔اور یہی لوگ کچھ عرصہ پہلے پریشان تھے کہ پتہ نہیں جس کے ساتھ زندگی گزارنی ہے وہ کیسا ہوگا۔ شادی کے بعد، ایمان سوچ رہی تھی کہ اگر وہ اچھا ہوا تو اسے کیسے بتائیں کہ اس کے بارے میں کیا سوچتی رہی ہے۔ اور سلمان بھی اپنے ذہن کےمختلف خیالات میں الجھا ہواتھا لیکن جب دونوں ملے تو دل کی ساری باتیں سامنے آ ئیں تو وہ ایک دوسرے مکمل طور پرجان گئے۔
شادی کے بعد ایمان کو سمجھ آیا کہ اگر انسان دوسروں کی باتوں پر کان دھرتا رہے تو ذہنی طور پر برباد ہو جاتا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ انسان بغیر یقین کیے کسی بات پر اعتماد نہ کریں، اور بس اپنے رب پر بھروسہ کریں، اپنے لیے صبر، دعا اور نیک اعمال کے ذریعے خوشیاں اور سکون حاصل کریں ۔
ایمان نے دل سے اللہ کا شکر ادا کیا تھاکہ سلمان اُس کے لیے بہترین ثابت ہواہے۔۔ الحمدللہ، وہ اس کے ساتھ خوش تھی، اور ایمان کے لیے یہ ایک نعمت تھی ۔ وہ شکر گزار تھی کہ اللہ نے اُس کے نصیب میں سلمان جیساصاف دل والا ساتھی لکھا۔
٭٭٭
کہتے ہیں جو ڑے آسما نوں پر بنتے ہیں،بلکل صحیح کہتے ہیں، کیونکہ ہمارا بنانے والا ہمیشہ ہمارے لیے بہترین سوچتا ہےاورہمارے لیےبہترین انتخاب کرتاہے۔۔ کبھی کبھی ہمیں آزمائش میں ڈالتا ہے، لیکن اگر ہم صبر اور حکمت کے ساتھ قدم بڑھائیں تو ہماری تقدیر بہترین راستہ اختیار کر لیتی ہے۔یہی کچھ ان دونوں کے ساتھ ہوا۔ ہاں، تھوڑا سا یہ دونوں بھٹکے ضرور، لیکن آخرکار انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا اور سب کچھ اپنے بنانے والے کے سپرد کر دیا۔ جس کا پھل بھی ملا کیونکہ اللہ نے ان کے لیے بہترین سوچ رکھاتھا۔
ایک ایمان والے اور بے ایمان میں یہی فرق ہوتا ہے کہ ایمان کے بغیرانسان ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتارہتا ہے اور ہر کام میں فکر مند رہتا ہے،وہ بس کہتا ہے، “میں یہ کروں گا تو ایسا ہوگا، میں وہ کروں گا تو ویسا ہوگا۔” لیکن ایمان والوں کے پاس سب سے بہترین طاقت جو ہوتی ہے وہ ہے “توکل “یعنی اللہ پر یقین، وہ اگر ایک چھوٹا سا کام بھی کریں تو اُنہیں یقین ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ اس کے بدلے میں بہترین عطا فرمائے گا۔ اوراگر یہی یقین اپنے زندگی کے تمام معاملات میں بھی کر لیں اور سب کچھ اپنے بنانے والے پر چھوڑ دیں، تو پھر وہ دیکھیں گے کہ ان کی زندگی کیسے ایک حسین اور پُرسکون سفر کی مانند گزرے گی۔
ایمان والا جانتا ہے کہ جو کچھ وہ کر سکتا ہے، سب کچھ اللہ کے حکم سے ہے۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ہے اور یہ بات جو یقین کے ساتھ نہیں مانتے کہ بنانے والا سب کچھ جانتا اور کر سکتا ہے، تووہ دل میں مانگنے کے باوجود بھی سکون نہیں پاتے۔ لیکن جو ایمان والےہوتےہیں ، اُن کے لیے بس دل سے مانگنا ہی کافی رہتا ہے، اور اللہ ا پنی رحمت سے انہیں نواز دیتا ہے۔
اور ڈائری کے آخری صحفےپر لکھا تھا:
“امّاں، آپ نے میرا نام ایمان رکھ کر بہت اچھا کیا۔ دیر سے ہی صحیح، لیکن آج میرا ایمان مکمل ہے۔”
بھٹک تو جاتےہیں ا کژ ایماں والےکبھی کہیں
مگر سنبھلتے ہی خدا ان کومل ہی جاتا ہے
ختم شد
Instagram ID:noor_.us_.sahar
