Bashar Episode 14 written by siddiqui

بشر ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۴

ہوٹل واپس پہنچتے پہنچتے رات کافی گزر چکی تھی۔
پورا دن گھومنے پھرنے کی وجہ سے سب بری طرح تھک چکے تھے۔
جیسے ہی سب لوگ فلور پر پہنچے، سب سے پہلے ہیوک کے کمرے کا دروازہ کھولا گیا۔
اندر کا منظر دیکھ کر سب کے چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
جے کیونگ اور ہیوک دونوں ایک ہی بیڈ پر بےخبر سو رہے تھے۔
شاید انتظار کرتے کرتے ہی نیند نے دونوں کو اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔
تائیجون نے فوراً کہا،
ارے… یہ لوگ تو سو گئے…
اور اگلے ہی لمحے وہ انہیں جگانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھا۔
اٹھو… اٹھو…
مگر اس سے پہلے کہ وہ جے کیونگ کو ہلا کر جگاتا، رین یون نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
رہنے دو۔
تائیجون نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
رین یون نے پرسکون لہجے میں کہا،
سو گئے ہیں تو سونے دو۔
پھر اس نے ایک نظر دونوں پر ڈالی اور بولا،
آج تم جے کیونگ کی جگہ ہان وو کے ساتھ سو جانا۔
تائیجون نے بےبسی سے منہ بنایا۔
اچھا…
یہ کہہ کر سب خاموشی سے کمرے سے باہر نکل آئے تاکہ دونوں کی نیند خراب نہ ہو۔
چند ہی دیر میں ہر کوئی اپنے اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔
ہان وو ابھی کپڑے بدل ہی رہا تھا کہ تائیجون دروازے سے پلٹتے ہوئے بولا،
میں ابھی آیا…
اپنے کمرے سے کپڑے لے آؤں۔
ہان وو نے مختصر سا جواب دیا۔
ٹھیک ہے۔
تائیجون باہر نکل گیا۔
ہان وو نے زیادہ توجہ نہ دی۔
وہ بستر پر لیٹا اور چند ہی لمحوں میں اسے بھی نیند آ گئی۔

نجانے کتنا وقت گزر چکا تھا۔
ہان وو کی آنکھ اچانک کھل گئی۔
اس نے نیم غنودگی میں پہلو بدلا، پھر بےاختیار دوسری طرف نظر ڈالی۔
بستر خالی تھا۔
اس نے بھنویں سکیڑ لیں۔
“یہ ابھی تک نہیں آیا…؟”
وہ آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔
رات کافی ہو چکی تھی۔
اب اس کے ماتھے پر ہلکی سی شکن ابھری۔
“کہاں چلا گیا؟”
چند لمحے اس نے انتظار کیا۔
شاید ابھی آ جائے…
لیکن پانچ منٹ گزر گئے۔
پھر بھی تائیجون واپس نہ آیا۔
اب ہان وو کے دل میں ہلکی سی بےچینی پیدا ہوئی۔
وہ بستر سے اٹھا، چپل پہنی اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
سب سے پہلے وہ سیدھا ہیوک کے کمرے کی طرف گیا۔
آہستگی سے دروازہ کھولا۔
کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
جے کیونگ اور ہیوک دونوں اب بھی اسی طرح کمبل اوڑھے گہری نیند سو رہے تھے۔
ہان وو نے ایک نظر پورے کمرے پر ڈالی۔
تائیجون وہاں بھی موجود نہیں تھا۔
اس نے خاموشی سے دروازہ دوبارہ بند کیا۔
اب اس کی بےچینی پہلے سے کچھ زیادہ بڑھ چکی تھی۔
کافی وقت گزر گیا۔
انتظار کرتے کرتے نہ جانے کب ہان وو کی بھی آنکھ لگ گئی۔
اچانک اس کی آنکھ کھلی۔
اس نے نیم غنودگی میں کروٹ بدلی اور بےاختیار ساتھ والے بستر کی طرف دیکھا۔
بستر خالی تھا۔
ہان وو چند لمحوں تک اسی طرح بیٹھا اسے دیکھتا رہا، پھر اچانک اس کی نیند پوری طرح غائب ہو گئی۔
یہ ابھی تک نہیں آیا…؟
اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا۔
رات کے چار بج رہے تھے۔۔۔
اس کے ماتھے پر ہلکی سی شکن ابھری۔
کہاں چلا گیا…؟
پہلے تو اس نے یہی سوچا کہ شاید ابھی آ جائے گا۔
مگر چند منٹ مزید گزر گئے۔
دروازہ ویسے کا ویسا بند رہا۔
اب ہان وو کو واقعی تشویش ہونے لگی۔
وہ بستر سے اٹھا، چپل پہنی اور کمرے سے باہر نکل آیا۔
سب سے پہلے وہ سیدھا ہیوک کے کمرے کی طرف گیا۔
اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا۔
کمرے میں ہلکی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
جے کیونگ اور ہیوک دونوں کمبل اوڑھے گہری نیند سو رہے تھے۔
ہان وو نے ایک نظر پورے کمرے پر دوڑائی۔
تائیجون وہاں بھی نہیں تھا۔
اس نے خاموشی سے دروازہ بند کیا اور باہر نکل آیا۔
اب اس کی بےچینی پہلے سے کچھ بڑھ چکی تھی۔
اگلے ہی لمحے اس کے قدم سوہان اور سومین کے کمرے کی طرف مڑ گئے۔
اس نے دروازے پر دو تین بار دستک دی۔
ٹھک… ٹھک… ٹھک…
مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔
اس نے دوبارہ دستک دی۔
پھر بھی خاموشی۔
ہان وو نے آہستہ سے ہینڈل گھمایا۔
دروازہ لاک نہیں تھا۔
وہ احتیاط سے اندر داخل ہوا۔
کمرے کی لائٹ بند تھی، صرف نائٹ لیمپ کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
دونوں بستروں پر کمبل اوڑھے دو وجود سکون سے سو رہے تھے۔
سوہان حسبِ عادت کمبل میں تقریباً پورا چھپا ہوا تھا جبکہ سومین دوسری طرف گہری نیند میں تھا۔
ہان وو نے ایک نظر دونوں کو دیکھا، پھر پورے کمرے پر نگاہ دوڑائی۔
تائیجون وہاں بھی موجود نہیں تھا۔
وہ آہستہ سے خود ہی بڑبڑایا،
یہاں بھی نہیں…
چند لمحے دروازے کے پاس کھڑا وہ سوچتا رہا۔
آخر گیا کہاں ہے یہ…؟
اب اس کے دل میں ہلکی سی تشویش نے باقاعدہ جگہ بنا لی تھی۔
وہ واپس مڑنے ہی والا تھا کہ اچانک…
اس کی نظر بیڈ کے ساتھ رکھی سائیڈ ٹیبل پر جا ٹھہری۔
اس کے قدم وہیں رک گئے۔
چہرے کے تاثرات ایک ہی لمحے میں بدل گئے۔
وہ بےاختیار تیزی سے سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھا۔
میز پر ایک کتاب رکھی تھی۔
وہی کتاب…
جسے دیکھتے ہی اس کے چہرے کا رنگ جیسے اُڑ گیا۔
اس نے لرزتے ہاتھوں سے کتاب اٹھائی۔
کچھ لمحے وہ صرف سرورق کو ہی دیکھتا رہا۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے کانوں میں اردگرد کی ہر آواز اچانک بند ہو گئی ہو۔
سانس آہستہ آہستہ بھاری ہونے لگی۔
اس کی نظریں کتاب سے ہٹ ہی نہیں رہی تھیں۔
پھر اس نے دھیرے سے سر اٹھایا…
اور سامنے والے بستر کی طرف دیکھا۔
سومین کمبل اوڑھے سو رہا تھا۔
کمبل اس کے چہرے تک کھنچا ہوا تھا، اس لیے اس کا صرف سر کا ہلکا سا حصہ ہی نظر آ رہا تھا۔
ہان وو کافی دیر تک اسی کو دیکھتا رہا۔
اس کے چہرے پر حیرت، خوف، بےیقینی… سب ایک ساتھ اتر آئے تھے۔
اس کے ذہن میں ایک ہی خیال بار بار گونج رہا تھا۔
نہیں…
یہ… ایسا نہیں ہو سکتا…
اس لمحے پہلی بار…
اس کا دل چاہا کہ کاش وہ جو سوچ رہا ہے، وہ کبھی سچ نہ ہو۔
اور اگر سچ ہے…
تو کاش وہ خود یہ حقیقت جاننے سے پہلے ہی مر جاتا۔

++++++++++++++

صبح ہوتے ہی پورا فلور حسبِ معمول شور و غل سے گونج اٹھا۔
کہیں کسی کے دروازے پر زور زور سے دستک ہو رہی تھی، کہیں کوئی کسی کا تولیہ اٹھا کر بھاگ رہا تھا، تو کہیں تائیجون کی اونچی آواز پوری راہداری میں سنائی دے رہی تھی۔
کچھ ہی دیر میں سب تیار ہو کر ناشتے کے لیے ہوٹل کے ریسٹورنٹ پہنچ گئے۔
لمبی میز کے گرد تقریباً سب بیٹھ چکے تھے۔
مگر ایک کرسی اب بھی خالی تھی۔
رین یون نے اردگرد نظر دوڑائی، پھر بھنویں سکیڑ لیں۔
ہان وو کہاں ہے؟
سب کی نظریں بےاختیار تائیجون کی طرف اٹھ گئیں، کیونکہ گزشتہ رات ہان وو کے کمرے میں وہ سویا تھا۔۔
تائیجون نے فوراً دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
ابے… مجھے نہیں پتا۔
جے کیونگ نے حیرت سے کہا،
کیا مطلب نہیں پتا؟ میری جگہ تو تُو ہی سویا تھا نا؟ تو ہان وو کی کمرے سے نہیں آیا۔۔۔
نہیں تو۔
تائیجون نے آرام سے جوس کا گلاس اٹھاتے ہوئے کہا۔
میں تو بھائی لوگوں کے ساتھ سو گیا تھا۔
ہین؟
اس بار تقریباً سب ایک ساتھ بول اٹھے۔
سیونگ نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
ہاں، یہ ہمارے کمرے میں ہی سویا تھا۔
پھر اُس نے سوہان کی طرف دیکھا۔
سوہان، اوپر جا کر ہان وو کو بلا لاؤ۔
سوہان نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
وہ اپنے روم میں نہیں ہے۔
سب چونک گئے۔ کیا۔۔۔؟؟
میں ابھی سارے رومز کے دروازے کھول کھول کر دیکھ کر آیا ہوں۔
سوہان نے الجھن سے کہا۔
مجھے لگا شاید وہ پہلے ہی نیچے آ گیا ہوگا۔
سومین نے پریشانی سے پوچھا،
پھر گیا کہاں؟
ہیوک فوراً کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
میں دوبارہ دیکھ کر آتا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ تیز قدموں سے اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
جے کیونگ نے دوبارہ تائیجون کی طرف دیکھا۔
تو ہان وو کے ساتھ کیوں نہیں سویا؟
تائیجون نے لمبی سانس لی۔
ابے، تُجھے تو پتا ہے ہمارا سونے کا سین۔
ہان وو کے روم میں یا تو میں سو سکتا تھا… یا وہ۔
اس نے کندھے اچکائے۔
ہم دونوں ایک بیڈ یا ایک روم شیئر ہی نہیں کر سکتے۔
رین یون نے ہلکی سی مسکراہٹ دباتے ہوئے سر ہلایا۔
یہ بات سب جانتے تھے۔
تائیجون کو سوتے وقت اتنی جگہ چاہیے ہوتی تھی جیسے وہ بیڈ پر نہیں، کسی میدان میں سو رہا ہو۔
اور ایک بار اگر وہ سو جاتا…
تو پھر اسے یہ بھی معلوم نہیں رہتا تھا کہ ساتھ کوئی اور بھی سو رہا ہے۔
کبھی لات، کبھی ہاتھ، کبھی کمبل…
وہ نیند میں پورا جنگ شروع کر دیتا تھا۔
جبکہ ہان وو اس کے بالکل برعکس تھا۔
اسے اپنے برابر کسی کا سونا ہی پسند نہیں تھا۔
ذرا سی حرکت بھی اُس کی نیند خراب کر دیتی تھی۔
اسی لیے رات کپڑے بدلنے کے بعد تائیجون سیدھا رین یون کے کمرے میں چلا گیا تھا۔
اپنا مسئلہ لے کر۔
رین یون نے چند لمحے سوچنے کے بعد منیجر سے اضافی گدا منگوا لیا تھا۔
یہیں سو جاؤ۔
بس پھر تائیجون وہیں سو گیا…
اور ہان وو کو اس بات کی خبر بھی نہ ہو سکی۔
اب مسئلہ صرف یہ تھا…
ہان وو خود آخر پوری رات کہاں رہا؟
میز پر بیٹھے ہر شخص کے ذہن میں اب یہی ایک سوال گردش کر رہا تھا۔

+++++++++++++

ناشتے کی میز پر غیر معمولی بےچینی پھیلی ہوئی تھی۔
ہیوک بھی اوپر سے واپس آ چکا تھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی تشویش نمایاں تھی۔
ہان وو اپنے کمرے میں نہیں ہے… میں پورا فلور دیکھ کر آیا ہوں۔
یہ سنتے ہی سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
منیجر بھی پریشان ہو گیا۔
ہان وو سر اس وقت کہاں جا سکتے ہیں؟ کسی نے دیکھا انہیں؟
سومین نے فوراً کہا۔
بھائی، کال کریں نا اسے۔ کیا پتا فون ساتھ ہو۔
رین یون نے بغیر وقت ضائع کیے موبائل نکالا اور ہان وو کا نمبر ملا دیا۔
چند لمحوں تک سب خاموشی سے رنگ بجنے کی آواز سنتے رہے…
مگر کسی نے کال ریسیو نہ کی۔
رین یون نے آہستہ سے فون نیچے رکھا۔
نہیں اٹھا رہا…
اب فضا مزید بوجھل ہو گئی۔
منیجر فوراً کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
میں ہوٹل کے مینجر سے بات کرتا ہوں۔ سی سی ٹی وی چیک کرواتے ہیں، شاید پتا چل جائے کہ وہ کب اور کہاں گئے تھے۔
یہ کہہ کر وہ تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔
سیونگ نے ماحول ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
فکر مت کرو… ابھی پتا چل جائے گا۔ شاید واک پر نکل گیا ہو۔
سوہان بےچینی سے اپنی انگلیاں چٹخاتے ہوئے بولا۔
لیکن… صبح صبح؟ اور وہ بھی کسی کو بتائے بغیر؟ ایسا تو وہ کبھی نہیں کرتا…
جے کیونگ نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں… یہی عجیب بات ہے۔
چند لمحے سب خاموش رہے۔
ہر ایک کی نظریں کبھی ہوٹل کے داخلی دروازے کی طرف اٹھتیں، کبھی واپس میز پر جھک جاتیں۔
تبھی…
ہوٹل کا خودکار شیشے والا دروازہ آہستگی سے کھلا۔
سب کی نظریں بےاختیار اسی طرف اٹھ گئیں۔
دروازے سے ہان وو اندر داخل ہو رہا تھا۔
اس کے قدم معمول کے مطابق پُرسکون تھے، مگر چہرہ… چہرہ غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھا۔
آنکھوں کے نیچے ہلکی سی سیاہی، بال بکھرے ہوئے، اور نظریں کسی سے ملنے سے گریزاں۔
وہ خاموشی سے چلتا ہوا سیدھا ان کی میز تک آیا۔
اسے دیکھتے ہی سب ایک ساتھ اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے۔
کہاں تھے تم؟
ابے، کہاں چلا گیا تھا تُو؟
صبح صبح کدھر تھا؟
فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟
ایک ہی وقت میں کئی سوال اس کی طرف اچھال دیے گئے۔
ہان وو نے سب کی طرف ایک مختصر سی نظر ڈالی۔
پھر نہایت آہستہ، بےجان لہجے میں صرف اتنا کہا۔
میں… کسی کا جواب دے نہیں ہوں۔
اتنا کہہ کر اس نے کرسی کھینچی…
اور خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا۔
اس کے اس انداز نے سب کو خاموش کر دیا۔
یہ وہ ہان وو نہیں تھا جو ہمیشہ مختصر مگر نرم جواب دیتا تھا۔
آج اس کے لہجے میں ایسی سرد مہری تھی… جسے کسی نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
رین یون نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا۔
سب خیریت ہے؟
ہان وو نے صرف سر جھکا کر پلیٹ اپنی طرف کھینچ لی۔
جی۔۔۔۔۔
مختصر… سپاٹ… اور بات ختم۔
مگر اس ایک لفظ نے کسی کو بھی مطمئن نہیں کیا۔
اتنے میں منیجر بھی تیزی سے ان کی میز کی طرف آ گیا۔
وہ ابھی کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر ہان وو پر پڑی۔
وہ ایک لمحے کو چونکا، پھر سکون کا سانس لیا۔
سر! آپ کہاں تھے؟
سب کی نظریں دوبارہ ہان وو پر جم گئیں۔
منیجر نے قدرے فکر مندی سے کہا۔
میں نے سی سی ٹی وی میں دیکھا تھا… آپ رات کو ہوٹل سے باہر گئے تھے۔
ہان وو نے بغیر اس کی طرف دیکھے مختصر جواب دیا۔
رات کو نہیں… صبح واک پر گیا تھا۔ ایک لمحہ رکا، پھر بےنیازی سے بولا۔
پھر راستہ بھول گیا… لیکن اب آ گیا ہوں۔
اس نے سامنے رکھی خالی پلیٹ کی طرف اشارہ کیا۔
میرا ناشتا منگوا دیں۔
منیجر نے آہستہ سے سر ہلایا، مگر اس کے چہرے پر تشویش اب بھی باقی تھی۔
سر، آئندہ ایسی لاپروائی مت کیجیے گا۔
کسی گارڈ کو ساتھ لے جاتے… یا مجھے بتا دیتے، میں راستہ سمجھا دیتا۔
ہان وو نے صرف اتنا کہا۔ نیکسٹ ٹائم خیال رکھوں گا۔
اس کے بعد مزید کوئی بات نہ ہوئی۔
منیجر نے فوراً اسٹاف کو اشارہ کیا اور چند ہی لمحوں میں ناشتا میز پر آ گیا۔
پورا وقت عجیب سی خاموشی چھائی رہی۔
کسی نے زیادہ بات نہیں کی۔ سب چپ چاپ ناشتا کرتے رہے۔
ناشتہ تقریباً ختم ہونے کو تھا کہ منیجر نے دوبارہ سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔
ایک بات اور…
آج رات آٹھ بجے ہماری لاہور سے کراچی کی فلائٹ ہے۔
سب خاموشی سے اس کی بات سنتے رہے۔
اگر آج آپ لوگوں نے کہیں جانا ہے تو جا سکتے ہیں، لیکن شام تک واپس آ جائیے گا۔
اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا، ہان وو نے نہایت سپاٹ لہجے میں کہا۔
مجھے کہیں نہیں جانا۔ میں آج آرام کروں گا۔
یہ کہہ کر وہ کرسی سے اٹھا۔ نہ کسی کی طرف دیکھا… نہ کسی کا انتظار کیا…
اور سیدھا اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔
سب اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔
اس کے غائب ہوتے ہی رین یون نے آہستہ سے کہا۔
رہنے دیتے ہیں… آج ہم بھی آرام ہی کر لیتے ہیں۔
ورنہ فلائٹ کے دوران سب تھکے ہوئے ہوں گے۔
سیونگ نے فوراً تائید کی۔
ہاں، یہی بہتر رہے گا۔
چند لمحوں کی گفتگو کے بعد سب اسی بات پر متفق ہو گئے۔
+++++++++

مگر سب کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔
اس نے آہستہ سے کہا۔
بھائی… یہ ہان وو کو ہوا کیا ہے؟
سومین نے بھی سنجیدگی سے سر ہلایا۔
میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔
سیونگ نے کہا۔ پتا لگاؤ۔ جا کر پوچھو اس سے۔
ہیوک ہلکا سا مسکرایا، مگر وہ مسکراہٹ بےبسی والی تھی۔ جیسے ہم پوچھیں گے… اور وہ فوراً سب کچھ بتا دے گا۔ وہ اپنی باتیں کبھی کسی کو بتاتا ہے؟
اتنے میں سوہان اچانک جھنجھلا کر بولا۔
تم لوگوں کو ہی تو بتاتا ہے۔۔۔
سب چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔
تائیجون نے بھنویں سکیڑ لیں۔
ابے… تجھے کیا مسئلہ ہے؟ آرام سے بولا کر۔ کسے بتاتا ہے؟ مجھے تو آج تک اس نے کچھ نہیں بتایا۔
ہیوک نے بھی فوراً کہا۔ مجھے بھی نہیں۔
سوہان نے منہ بنایا۔ جھوٹے۔۔۔
جے کیونگ نے سوہان کی طرف دیکھ پوچھا۔
اچھا؟ تو تم بتا دو… تمہیں اس نے کیا بتایا ہے؟
سوہان ایک دم خاموش ہو گیا۔
پھر ناک چڑھا کر بولا۔
میں کون ہوتا ہوں… جو وہ مجھے بتائے گا۔
ہیوک نے کندھے اچکائے۔
وہی تو کہہ رہا ہوں۔
وہ اپنی ذاتی باتیں ہم میں سے کسی کو نہیں بتاتا۔
رین یون کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بولا۔
پھر بھی…
تم لوگوں میں سے کسی ایک کو تو بتا ہی سکتا ہے۔
سیونگ نے اندازہ لگایا۔
کہیں فیملی کی کوئی پرابلم تو نہیں؟
سومین نے نفی میں سر ہلایا۔
مجھے نہیں لگتا۔ جتنا میں اسے جانتا ہوں… اگر فیملی کا مسئلہ ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار نہ کرتا۔ وہ خاموش ضرور ہوتا… لیکن اتنا سرد نہیں۔
رین یون نے گہری سانس لی۔
ہاں… بات تو ٹھیک ہے۔
پھر اس نے سب کی طرف دیکھا۔
تم لوگوں میں سے کسی کی اس سے لڑائی ہوئی ہے؟
اس کی نظریں آخر میں تائیجون پر آ کر رک گئیں۔
تائیجون؟
تائیجون چند لمحے سوچتا رہا۔
پھر اچانک اس کے ذہن میں کچھ آیا۔
کہیں… اسے اس بات کا برا تو نہیں لگا؟
جے کیونگ نے فوراً پوچھا۔
کس بات کا؟
میں… تائیجون نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔
میں اسے بتا کر نہیں آیا تھا نا…
کہ میں بھائی کے کمرے میں سو رہا ہوں۔
میں نے بس اتنا کہا تھا کہ کپڑے بدل کر آتا ہوں…
پھر واپس ہی نہیں گیا۔
جے کیونگ نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
ابے…۔اتنی سی بات پر وہ ناراض نہیں ہوتا۔ میں ہزار بار ایسا کر چکا ہوں۔
سومین بھی بول پڑا۔
ہاں…۔اس کی نظر میں یہ بہت چھوٹی بات ہے۔
ہیوک نے میز پر انگلیاں بجاتے ہوئے کہا۔
تو پھر آخر بات کیا ہو سکتی ہے؟
سیونگ نے تجویز دی۔
ایک ایک کر کے جا کر پوچھتے ہیں۔
شاید ہم میں سے کسی ایک کو بتا دے۔
ہیوک نے ہلکی سی سانس خارج کی۔
مشکل ہے…
لیکن پھر بھی کوشش کر لیتے ہیں۔
سوہان نے فوراً کہا۔
یہ جے کیونگ کو بھیجو اسے تو سب کچھ بتاتا ہے۔۔۔
جے کیونگ نے فوراً اس کی طرف دیکھا۔
تجھے مجھ سے زیادہ پتا ہے کیا؟
سوہان نے بڑے اعتماد سے کہا۔
ہاں۔۔
جے کیونگ بےاختیار ہنس پڑا۔
پاگل…
پھر وہ کرسی سے اٹھ گیا۔
چلو…۔میں جا کر پوچھتا ہوں۔ دیکھتے ہیں، شاید مجھ سے بات کر لے۔
یہ کہہ کر وہ آہستہ آہستہ اوپر سیدھا ہان وو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

+++++++++++

جے کیونگ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ہان وو کے کمرے کے سامنے آ کر رکا۔
جے کیونگ نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔
کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔
ہان وو بستر کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
ایک ہاتھ میں موبائل تھا، مگر اس کی نظریں اسکرین پر ہوتے ہوئے بھی کہیں اور گم محسوس ہو رہی تھیں۔
جے کیونگ چند قدم چل کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
کچھ پرابلم ہے؟
ہان وو نے بغیر اوپر دیکھے مختصر جواب دیا۔
نہیں۔
جے کیونگ نے بازو باندھ لیے۔
پھر نیچے ایسا رویہ کیوں تھا؟
اس بار ہان وو نے موبائل سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف دیکھا۔
چند لمحے خاموش رہا۔ پھر دھیرے سے بولا۔
سوری… غصے میں تھا۔
جے کیونگ نے فوراً اگلا سوال کر دیا۔
اور تُو غصے میں کیوں تھا؟
ہان وو کی نظریں ایک لمحے کو جھک گئیں۔
وہ… پرسنل ہے۔
جے کیونگ ہلکا سا مسکرایا۔
ہم سے بھی پرسنل؟
ہان وو نے کوئی جواب نہیں دیا۔
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
پھر اس نے آہستہ سے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
کمبل اپنی طرف کھینچا…
اور تقریباً پورا چہرہ اس میں چھپا لیا۔
مجھے نیند آ رہی ہے۔
بس اتنا کہہ کر اس نے کروٹ بدل لی۔
یہ صاف اشارہ تھا… کہ بات ختم ہو چکی ہے۔
جے کیونگ کچھ دیر وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
اس کے ہونٹوں پر بےبس سی مسکراہٹ آگئی۔
ہان وو سے دل کی بات نکلوانا… مطلب خالی کنویں سے پانی نکالنے کے برابر ہے۔
اس نے ایک آہ بھری، پھر خاموشی سے دروازے کی طرف بڑھا۔
باہر نکلنے سے پہلے اس نے ایک بار پھر پلٹ کر ہان وو کی طرف دیکھا۔
کمبل میں چھپا وہ وجود بالکل ساکت پڑا تھا۔

+++++++++++++

اس کے بعد جیسے پورے دن سب کا ایک ہی مشن بن گیا… ہان وو سے حقیقت اگلوانا۔
مگر ہان وو… ہان وو ہی تھا۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوئی نہ کوئی اس کے کمرے کا چکر لگا ہی لیتا۔
سب سے پہلے ہیوک آیا۔
بستر کے کنارے بیٹھ کر کافی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتا رہا، پھر آخرکار اصل سوال پر آ گیا۔
سب ٹھیک ہے نا؟
ہان وو نے صرف مختصر سا جواب دیا۔
ہاں۔
پکا؟
ہاں۔
بات کرنا چاہتا ہے؟
نہیں۔
ہیوک نے ایک گہری سانس لی، اس کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی اور خاموشی سے واپس چلا گیا۔

++++++++++++

کچھ دیر بعد سومین آیا۔
وہ کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔
دیکھ…
اگر کوئی مسئلہ ہے تو اکیلا مت رکھا کر۔
ہم لوگ تیرے اپنے ہیں۔
ہان وو نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد صرف اتنا کہا،
مجھے واقعی کچھ نہیں ہوا۔
سومین جانتا تھا… یہ وہ جواب نہیں تھا جو وہ سننا چاہتا تھا۔ اس نے مزید اصرار نہیں کیا۔
خاموشی سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔

+++++++++++

اس کے بعد سیونگ آیا۔
اس نے مذاق کر کے ماحول ہلکا کرنے کی کوشش کی۔
دو تین فضول لطیفے بھی سنائے…
مگر ہان وو کے چہرے پر معمولی سی مسکراہٹ تک نہ آئی۔
آخرکار سیونگ نے ہاتھ اٹھا دیے۔
اور وہ بھی باہر نکل گیا۔

++++++++++

پھر رین یون آیا۔
اس نے کوئی سوال نہیں کیا۔
صرف چند لمحے خاموشی سے ہان وو کے پاس بیٹھا رہا۔
پھر آہستہ سے بولا،
جب دل کرے…۔بات کر لینا۔ میں انتظار کر لوں گا۔
ہان وو نے صرف سر ہلا دیا۔

+++++++++

آخر میں تائیجون بھی آیا۔
دروازہ بند کرتے ہی بولا،
ابے… اگر میری وجہ سے ناراض ہے نا…
تو سوری۔
مجھے بتا دینا تھا کہ میں بھائی کے کمرے میں سو رہا ہوں۔
لیکن اتنی سی بات پر منہ پھلا لینا اچھی بات نہیں ہے۔
ہان وو نے پہلی بار سیدھا اس کی طرف دیکھا۔
میں تم سے ناراض نہیں ہوں۔
پکا؟
ہاں۔
قسم؟
ہان وو نے بےاختیار اُسے لٹ ماری
نکل یہاں سے…
تائیجون نے فوراً مسکراتے ہوئے کہا،
اوہ… مطلب غصہ ابھی باقی ہے۔
ہان وو نے تکیہ اٹھا کر اس کی طرف اچھال دیا۔
تائیجون ہنستا ہوا دروازے سے باہر نکل گیا۔

++++++++

شام تک تقریباً سب ہی ایک ایک بار اس سے بات کرنے کی کوشش کر چکے تھے۔
مگر نتیجہ ہر بار ایک ہی نکلا۔
ہان وو نہ غصہ کرتا… نہ بحث کرتا… نہ کچھ سمجھاتا۔
صرف مختصر جواب دیتا… اور پھر خاموش ہو جاتا۔
ایسا لگ رہا تھا… جیسے اس نے اپنے دل کے گرد ایک ایسی دیوار کھڑی کر لی ہو…
جسے اس کے اپنے لوگ بھی عبور نہیں کر پا رہے تھے۔

+++++++++++++

ہوٹل سے سیدھا ایئرپورٹ جانا تھا۔
وقت بہت کم رہ گیا تھا۔
ہان وو اور جے کیونگ کے پاس اب اتنی مہلت نہیں تھی کہ وہ ماہم اور فاطمہ کو کہیں بلا کر آرام سے مل سکتے۔
اسی لیے ہیوک اور جے کیونگ صبح تقریباً گیارہ بجے ایک بار پھر یونیورسٹی پہنچ گئے۔
خوش قسمتی سے ماہم کی کلاس ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔
وہ لان میں ایک درخت کے سائے تلے اپنی چند کلاس فیلوز کے ساتھ بیٹھی تھی۔
دور سے ہی ہیوک کو دیکھ کر وہ چونک گئی۔
وہ فوراً کھڑی ہوئی اور ان کی طرف بڑھ آئی۔
السلام علیکم…
ہیوک نے مسکراتے ہوئے سلام کیا۔
وعلیکم السلام…
ماہم نے حیرت سے دونوں کو دیکھا۔
آپ یہاں کیسے؟
ہیوک نے بےاختیار گھڑی کی طرف دیکھا۔
ہر گزرتا لمحہ اسے بےچین کر رہا تھا۔
اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
میں بہت ضروری بات کرنے آیا ہوں…
یہ سب مت پوچھو، ورنہ وقت ضائع ہو جائے گا۔
ماہم کے چہرے پر حیرت مزید گہری ہوگئی۔
اچھا…
تو پھر بتائیے، کیا ہے وہ ضروری بات؟
ہیوک چند لمحے خاموش رہا۔
پھر جیسے بڑی ہمت جمع کر کے بولا۔
تمہیں… میں کیسا لگتا ہوں؟
یہ سوال سن کر ماہم کی پلکیں بےاختیار جھک گئیں۔
کافی دیر بعد اس نے آہستہ سے جواب دیا۔
اچھے لگتے ہیں… ایک اچھے انسان ہیں۔
ہیوک کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ آگئی…
جیسے برسوں سے بھٹکتے کسی مسافر کو اچانک اپنی منزل کا نشان مل گیا ہو۔
اس نے گہرا سانس لیا۔
بس… پھر تم میرا انتظار کرنا۔
ماہم نے چونک کر سر اٹھایا۔
کیا مطلب؟
ہیوک کی آواز میں اس بار پہلے سے زیادہ سنجیدگی تھی۔
میں کوریا واپس جا رہا ہوں… لیکن وعدہ کرتا ہوں…
میں واپس آؤں گا۔ صرف تمہارے لیے۔
ماہم چند لمحے اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔
مطلب…؟
مطلب… ہیوک نے آہستہ سے کہا۔
دو سال… شاید تین سال… لیکن میں ضرور واپس آؤں گا۔ تم بس میرا انتظار کرنا۔
ماہم کی آواز بہت دھیمی تھی۔
کیوں…؟
ہیوک نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
ابھی صرف اتنا کہہ سکتا ہوں… کہ میرا انتظار کرنا۔
باقی جواب… واپس آ کر دوں گا۔
ماہم نے نظریں جھکا لیں۔
اس کے دل میں کئی سوال تھے…
لیکن زبان پر کوئی بھی نہ آ سکا۔
ادھر جے کیونگ نے اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔
اور… فاطمہ کہاں ہے؟
وہ ابھی کلاس میں ہے۔ ماہم نے جواب دیا۔
ابھی کافی وقت لگے گا اُسے۔۔۔
جے کیونگ نے مایوسی سے ایک سانس خارج کی۔
اچھا…
پھر جیب سے تہہ کیا ہوا ایک کاغذ نکالا۔
میرا بھی ایک کام کر دو۔
جی؟
دیکھو… وہ ہلکا سا مسکرایا۔
وہ تو مجھ سے تو کبھی ٹھیک سے بات کرے گی نہیں۔۔۔
اس لیے…
اس نے وہ کاغذ ماہم کی طرف بڑھا دیا۔
یہ… اسے دے دینا۔ پلیز۔ تم اس کی دوست ہو نا؟ بس یہ اس تک پہنچا دینا۔
ماہم نے خاموشی سے کاغذ لے لیا۔
ٹھیک ہے… دے دوں گی۔ اور کچھ؟
جے کیونگ نے نفی میں سر ہلایا۔
نہیں… بس اتنا ہی۔
پِھر وہ دونوں جیسے آئے تھے ویسے ہی واپس پلٹا گئے، جاتے جاتے ہیوک نے ایک بار پھر مُڑ کر ماہم کی طرف دیکھا۔
تم… میرا انتظار کرو گی نا؟
ماہم کی پلکیں پھر جھک گئیں۔
اس کے دل سے بےاختیار ایک آہ نکلی۔
جی…
ہیوک کی آنکھوں میں عجیب سا سکون اتر آیا۔
بس… پھر میرا انتظار کرنا۔
پِھر کُچھ یاد آنے پر وہ واپس ماہم کی طرف آیا۔۔
وہ… تم لوگ کیا کہتے ہو؟
اللہ حافظ… اس کے بعد؟
ماہم کی آنکھوں میں ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
فی امانِ اللہ۔
ہیوک نے آہستہ سے یہ الفاظ دہرائے۔
فی امانِ اللہ…
پھر اس نے نہایت سنجیدہ لہجے میں کہا۔
ہاں… فی امانِ اللہ۔
میں تمہیں اپنے رب کے سپرد کر کے جا رہا ہوں…
اسی رب کے… جو میرا بھی رب ہے…
اور تمہارا بھی۔
اس نے آسمان کی طرف ایک لمحہ دیکھا۔
مجھے یقین ہے… وہ میری امانت کی حفاظت کرے گا۔
اور جب میں واپس آؤں گا…
اس کی نظریں دوبارہ ماہم پر ٹھہر گئیں۔
تو تم مجھے بالکل ایسی ہی ملو گی… جیسی آج میرے سامنے کھڑی ہو۔
ماہم کی آنکھیں بےاختیار نم ہو گئیں۔
اُسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس وقت کیا کہے…
یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ اُس کے پاس اپنے جذبات کو سمیٹنے کا بھی وقت نہیں تھا۔
ہیوک نے جیب سے ایک اور چھوٹا سا کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔
یہ رکھو…
ماہم نے خاموشی سے کارڈ لے لیا۔
اس پر میرا کوریا والا پرسنل نمبر ہے۔ جو نمبر پہلے دیا تھا، وہ پاکستانی نمبر تھا۔ کوریا واپس جا کر وہ بند ہو جائے گا۔
وہ چند لمحے رکا، پھر دھیرے سے بولا۔
اگر کبھی تمہیں میری ضرورت محسوس ہو… یا کبھی تمہارے دل میں یہ خیال آئے کہ شاید میں واپس نہیں آؤں گا… تو مجھے اس نمبر پر صرف ایک میسج کر دینا۔ میں جواب ضرور دوں گا۔
ماہم نے نظریں جھکا کر صرف اتنا کہا۔
جی…
ہیوک نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آخری بار کہا۔
میرا انتظار کرنا۔۔۔ میں ضرور واپس آؤں گا…
پھر دونوں دوست پلٹے اور آہستہ آہستہ یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکل گئے۔
ماہم وہیں چند لمحوں تک ساکت کھڑی انہیں جاتا دیکھتی رہی…
یہاں تک کہ دونوں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔
ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا کارڈ ہلکا سا لرز گیا۔
اس نے اپنی مٹھی مضبوطی سے بند کر لی۔
چند لمحوں بعد اس نے گہری سانس لی۔
آئی ایم سوری۔۔۔۔
یہ الفاظ اس کے لبوں سے بہت آہستہ نکلے۔
یہ… میں نہیں کر سکتی۔
اسے اچھی طرح معلوم تھا…
یہ راستہ آخر میں صرف تکلیف کی طرف جاتا ہے۔
وہ جانتی تھی…
اگر اس نے فاطمہ کو جے کیونگ کا خط دیا، تو فاطمہ سخت ناراض ہوگی۔
اور اگر اس نے ہیوک کا انتظار کرنے کی ہامی بھر لی…
تو وہ اپنے رب سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف چلی جائے گی۔
اس نے خاموشی سے قریب پڑے ڈسٹ بن کی طرف قدم بڑھائے۔
پہلے جے کیونگ کا دیا ہوا لفافہ…
پھر ہیوک کا نمبر والا کارڈ…
دونوں بغیر کھولے اُس نے ڈسٹ بن میں ڈال دیے۔
ایک لمحے کے لیے اُس کی نظریں اُن دونوں چیزوں پر ٹھہر گئیں۔
پھر آہستہ سے بولی۔
جو چیز ناممکن ہو… اُس کے خواب نہیں دیکھنے چاہییں۔
اس نے ایک بار پھر ڈسٹ بن کی طرف دیکھا، جیسے اپنے ہی دل کو سمجھا رہی ہو۔
بعض خواہشیں پوری ہونے کے لیے نہیں ہوتیں…
بلکہ انسان کا امتحان لینے کے لیے آتی ہیں۔
اُس نے اپنی آنکھوں کی نمی آستین سے صاف کی، عبایا درست کیا اور خاموش قدموں سے اپنی کلاس کی طرف چل پڑی…
جبکہ ڈسٹ بن میں پڑا ایک بند لفافہ اور ایک چھوٹا سا کارڈ…
اپنے مالکوں تک پہنچنے سے پہلے ہی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکے تھے۔

+++++++++++

یونیورسٹی سے واپس آتے ہوئے گاڑی کے اندر غیر معمولی خاموشی تھی۔
نہ جے کیونگ نے کوئی مذاق کیا… نہ ہیوک نے کوئی بات چھیڑی۔
دونوں اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے۔
ایک کے دل میں امید تھی…
اور دوسرے کے دل میں ایک عجیب سی بےچینی۔
ہوٹل پہنچتے ہی سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
رات کی فلائٹ تھی، اس لیے اب لاہور سے رخصت ہونے کی تیاری شروع ہو چکی تھی۔
کمرے کے اندر سوٹ کیس بستر پر کھلا پڑا تھا۔
جے کیونگ نے الماری کھول کر اپنے کپڑے ایک ایک کر کے نکالنے شروع کیے۔
یار… اس نے گہری سانس لی۔
اتنی جلدی بھی واپس جانا تھا؟
پتہ نہیں کیوں… دل نہیں کر رہا لاہور چھوڑنے کا۔
لاہور چھوڑنے کا…
ہیوک نے معنی خیز انداز میں دہرایا۔
یا کسی اور کو؟
جے کیونگ نے فوراً تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔
چپ کر۔
ہیوک ہنسنے لگا۔۔۔
سچ بول۔
جے کیونگ نے کپڑے سوٹ کیس میں رکھتے ہوئے آہستہ سے کہا،
پہلی بار لگ رہا ہے… کسی جگہ سے دل لگ گیا ہے۔
ہیوک نے اسے دیکھا۔
جگہ سے؟
ہاں…
وہ چند لمحے خاموش رہا۔
..اور شاید وہاں رہنے والے کچھ لوگوں سے بھی۔
ہیوک کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
وقت عجیب چیز ہے…
کب کس سے ملا دے، پتہ ہی نہیں چلتا۔

دوسری طرف ہان وو خاموشی سے اپنا سامان پیک کر رہا تھا۔
اس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح کوئی تاثر نہیں تھا۔
لیکن آج اس کی خاموشی پہلے سے کہیں زیادہ بھاری محسوس ہو رہی تھی۔
سامان تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔
اس نے بیگ بند کیا…
پھر ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
جیب سے موبائل نکالا۔
اسکرین آن کی۔
کافی دیر تک کسی چیز کو دیکھتا رہا…
پھر بغیر کچھ کیے فون دوبارہ بند کر دیا۔
ادھر سوہان اپنے کمرے میں کپڑوں سے زیادہ سنیکس بھر رہا تھا۔
سومین نے حیران ہو کر پوچھا،
یہ کیا کر رہا ہے؟۔کراچی کے لیے انتظام۔ وہاں کھانا نہیں ملے گا کیا؟
ملے گا…۔لیکن یہ لاہور والے چپس دوبارہ کہاں ملیں گے؟ یہ کہتے ہوئے اس نے مزید دو پیکٹ بیگ میں ٹھونس دیے۔
اتنے میں تائیجون اندر آیا۔
اس نے سوہان کا بیگ اٹھایا…
وزن محسوس کیا… اور حیرت سے بولا،
اس میں کپڑے ہیں یا اینٹیں؟
سوہان نے فخر سے جواب دیا،
یہ سرمایہ ہے۔
کون سا سرمایہ؟
کھانے کا۔
تائیجون نے فوراً بیگ واپس بستر پر پھینک دیا۔
پاگل آدمی…
کچھ ہی دیر بعد سب کا سامان تیار ہو چکا تھا۔
ہوٹل کی لابی میں ایک ایک کر کے سب جمع ہونے لگے۔
منیجر نے لسٹ ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔
سب اپنا اپنا پاسپورٹ چیک کر لیں…
کوئی چیز کمرے میں نہ رہ جائے۔
سیونگ نے فوراً کہا،
سب سے پہلے سوہان کا بیگ چیک کرو…
پتہ چلا ہوٹل کا ٹی وی بھی ساتھ لے آیا ہو۔
سوہان نے ناراضی سے منہ بنایا۔
بھائی… میں اتنا بھی نہیں گرا۔
تائیجون نے فوراً بات کاٹی۔
ٹی وی نہیں… فرج ضرور لے جاتا۔
اس پر پوری لابی میں قہقہہ گونج اٹھا۔
کافی دنوں بعد…
ہان وو کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
رن یون نے وہ مسکراہٹ دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا۔
شاید… جو بھی بات تھی…
اس کی شدت اب کچھ کم ہو رہی تھی۔
منیجر نے گھڑی دیکھی۔
چلیں سب؟
ایئرپورٹ کے لیے نکلنے کا وقت ہو گیا ہے۔
سب نے اپنے اپنے سوٹ کیس سنبھالے۔
ہوٹل کے شیشے والے دروازے کھلے۔
ایک ایک کر کے سب باہر نکلنے لگے۔
بس میں سامان رکھا گیا۔
اور چند لمحوں بعد…
بس لاہور کی مصروف سڑکوں سے گزرتی ہوئی ایئرپورٹ کی سمت روانہ ہو گئی۔

+++++++++++++++

تقریباً ایک گھنٹے بعد سب لوگ علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے۔
منیجر نے سب کے پاسپورٹ جمع کیے اور چیک اِن کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔
ادھر باقی سب اپنا اپنا سامان ٹرالیوں پر رکھ کر کھڑے تھے۔
تائیجون نے جمائی لیتے ہوئے کہا،
قسم سے… مجھے فلائٹ سے زیادہ بور چیز آج تک نہیں لگی۔
سیونگ نے ہنس کر جواب دیا،
تجھے تو چلتی گاڑی میں بھی نیند آ جاتی ہے۔
آتی ہے… تائیجون نے بڑے فخر سے کہا۔
یہ بھی ایک ٹیلنٹ ہے۔
کچھ دیر بعد بورڈنگ پاس سب میں تقسیم کر دیے گئے۔
سیکیورٹی اور امیگریشن مکمل کرنے کے بعد سب ویٹنگ لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے۔
رن یون نے گھڑی دیکھی۔
ابھی تقریباً چالیس منٹ باقی ہیں۔
جے کیونگ خاموشی سے سامنے شیشے کے پار کھڑے جہازوں کو دیکھ رہا تھا۔
ہان وو بھی اسی کے برابر والی کرسی پر بیٹھا تھا۔
کافی دیر بعد ہان وو نے پہلی بار خود بات شروع کی۔
کراچی کے بعد…
کہاں جانا ہے؟
جے کیونگ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
منیجر نے بتایا تھا نا…
چند دن کراچی…
پھر کشمیر۔
ہان وو نے مختصر سا “ہمم” کہا اور دوبارہ خاموش ہو گیا۔
جے کیونگ نے غور سے اسے دیکھا۔
اب طبیعت ٹھیک ہے؟
ہان وو نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں۔۔۔۔ میری طبیعت کو کیا ہوا
اور غصہ؟
اس بار ہان وو نے پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
ختم۔
جے کیونگ نے سکھ کا سانس لیا۔
شکر ہے…
ورنہ مجھے لگا تھا تُو کراچی پہنچ کر بھی منہ بنا کر ہی بیٹھا رہے گا۔
اتنا بھی مشکل نہیں ہوں میں۔
دور بیٹھا ہیوک یہ منظر دیکھ کر خاموشی سے مسکرا دیا۔
اسے خوشی تھی… ہان وو آخرکار معمول پر واپس آ رہا تھا۔۔۔
اسی دوران ایئرپورٹ پر اعلان ہوا۔
کراچی جانے والی پرواز کے مسافروں سے گزارش ہے کہ بورڈنگ گیٹ نمبر سات پر تشریف لے آئیں۔
منیجر فوراً کھڑا ہوگیا۔
چلو سب لوگ…
بورڈنگ شروع ہو گئی ہے۔
سب نے اپنا اپنا ہینڈ کیری اٹھایا اور قطار کی صورت گیٹ کی طرف بڑھنے لگے۔
سوہان نے چلتے چلتے ایک بار پیچھے مڑ کر ایئرپورٹ کی عمارت کو دیکھا۔
پھر آہستہ سے بولا،
لاہور…میں پھر آؤں گا۔
تائیجون نے فوراً چھیڑا،
کیوں؟
پھر سے عثمان گلی کے پراٹھے کھانے؟
سوہان نے فوراً جواب دیا،
نہیں… وہ بھی…۔اور باقی سب بھی۔
سب کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
چند لمحوں بعد سب ایک ایک کر کے جہاز کے اندر داخل ہونے لگے۔
جہاز کا دروازہ بند ہوا۔
رن وے پر جہاز آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔
کھڑکی سے باہر لاہور کی روشنیاں چھوٹی ہوتی گئیں…
اور پھر…۔جہاز فضا میں بلند ہو گیا۔
لاہور اب نیچے رہ گیا تھا…
مگر وہاں بنی کچھ یادیں…
اب بھی ان سب کے دلوں میں زندہ تھیں۔

++++++++++++++

کراچی… شہرِ قائد، جہاں پورا پاکستان ایک ساتھ دھڑکتا ہے۔
ہوائی جہاز آہستہ آہستہ کراچی کی فضاؤں میں نیچے اترنے لگا۔
کھڑکی کے باہر دور دور تک پھیلا ہوا شہر، روشن سڑکیں، سمندر کے کنارے جگمگاتی بتیاں اور گاڑیوں کی نہ ختم ہونے والی قطاریں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔
جہاز کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے کو چھوتا ہوا دھیرے دھیرے رفتار کم کرنے لگا۔
جہاز نے رن وے کو چھوا۔
ہلکا سا جھٹکا لگا اور چند لمحوں بعد جہاز آہستہ آہستہ ٹیکسی وے کی طرف بڑھنے لگا۔
منیجر نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،
ویلکم ٹو کراچی، گائز۔
سوہان نے فوراً دونوں ہاتھ اوپر کیے۔
شکر! آخر پہنچ ہی گئے۔
تائیجون نے فوراً اسے گھورا۔
ابھی سے شکرانے شروع کر دیے؟
ہاں، کیونکہ فلائٹ میں تُو میرے ساتھ بیٹھا تھا۔
یہ سنتے ہی سب ہنس پڑے۔
ہان وو کھڑکی سے باہر ہی دیکھتا رہا۔
نہ وہ ہنسا…
نہ کسی کی بات کا جواب دیا۔
ہیوک نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا، مگر کچھ نہ بولا۔
جہاز مکمل طور پر رک چکا تھا۔
سب نے اپنی اپنی سیٹ بیلٹ کھولیں، اوپر والے کیبن سے سامان نکالا اور آہستہ آہستہ باہر نکلنے لگے۔
ائیرپورٹ کے اندر معمول سے کہیں زیادہ رش تھا۔
ہر طرف مختلف زبانیں، مختلف چہرے اور مختلف لباس…
واقعی ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پورا پاکستان ایک ہی جگہ جمع ہو گیا ہو۔
امیگریشن اور سامان وصول کرنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگ گیا۔
سامان مکمل ہونے کے بعد سب ایئرپورٹ سے باہر نکلے۔
ایئرپورٹ سے باہر قدم رکھتے ہی کراچی کی نم آلود ہوا نے ان کا استقبال کیا۔ رات اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ مشرقی افق پر ہلکی سی سفیدی نمودار ہونے لگی تھی، جیسے شہرِ قائد ایک نئی صبح کے استقبال کی تیاری کر رہا ہو۔
فضا میں ہلکی سی خنکی ضرور تھی، مگر سمندر کی نمی نے موسم میں ایک الگ سی حبس گھول رکھی تھی۔
ہیوک نے فوراً منہ بنایا۔
یہ کیا؟ یہاں تو لاہور سے زیادہ گرمی ہے۔
سیونگ نے ہنس کر جواب دیا،
یہ سمندر کا شہر ہے بھائی، حبس تو ہوگا۔
تائیجون جو اب تک جمائیاں لے رہا تھا، اچانک بولا،
سمندر ہے تو ساحل بھی چلیں گے نا؟
منیجر نے فوراً ہاتھ اٹھا دیے۔
پہلے ہوٹل، پھر پروگرام کے مطابق۔ کوئی اپنی مرضی نہیں چلے گی۔
گاڑیوں میں سامان رکھا گیا، سوہان کا بھاری بیگ الگ سے ڈگی میں رکھنا پڑا کیونکہ باقی سب کے ساتھ وہ فٹ ہی نہیں ہو رہا تھا،
اور قافلہ ہوٹل کی طرف روانہ ہو گیا۔
منیجر مسکراتے ہوئے کھڑکی سے باہر پھیلی روشنیوں کی طرف دیکھنے لگا۔
ویسے تو کراچی کے کئی نام ہیں، مگر سب سے زیادہ اسے سٹی آف لائٹس کہا جاتا ہے۔
سیونگ نے حیرت سے گردن موڑی۔
وہ کیوں؟
منیجر نے باہر اشارہ کیا۔
کیونکہ یہ شہر کبھی سوتا نہیں۔
آدھی رات کو بھی نکل جاؤ تو سڑکیں آباد ملیں گی، دکانیں کھلی ہوں گی، چائے کے ہوٹلوں پر محفلیں لگی ہوں گی،
یہاں زندگی چوبیس گھنٹے چلتی رہتی ہے۔
تائیجون نے فوراً کھڑکی سے باہر جھانکنے کی کوشش کی۔
مطلب… یہاں لوگ سوتے ہی نہیں؟
اس کی بات پر سب ہنس پڑے۔
منیجر بھی مسکرا دیا۔
سوتے ہیں… مگر کراچی کبھی نہیں سوتا۔ یہی تو اس شہر کی پہچان ہے۔ تبھی تو اسے شہرِ روشنی کہا جاتا ہے۔۔۔۔
جے کیونگ مسلسل باہر دیکھ رہا تھا۔
یہ تو لاہور سے کافی مختلف ہے…
ہر شہر کی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔ منیجر نے نرمی سے کہا۔ لاہور تاریخ اور روایتوں کا شہر ہے… اور کراچی خواب دیکھنے والوں کا۔ یہاں پورے پاکستان سے لوگ اپنے خواب لے کر آتے ہیں۔
رین یون نے دلچسپی سے پوچھا،
اور سمندر؟
منیجر کے چہرے پر مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
کل اگر وقت ملا… تو سب سے پہلے آپ لوگوں کو سمندر دکھاؤں گا۔
سچ؟ تائیجون اور سوہان ایک ساتھ بولے۔
بالکل۔
ہاں سب سے پہلے میں سمندر ہے دیکھوں گا۔۔۔ سوہان نے بچوں جیسی خوشی سے کہا۔
تائیجون نے فوراً چھیڑا۔
صِرف دیکھنا۔۔۔ وہاں جا کر پانی میں کودنے کا مت سوچنا۔
کیوں؟
کیونکہ پہلے تیرنا سیکھ لے۔
ابے! مجھے تیرنا آتا ہے۔
باتھ روم کے ٹب میں؟
پورے وین میں ایک بار پھر قہقہہ گونج اٹھا۔
کافی دیر بعد…
ہان وو کے لبوں پر بھی بہت ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
ہیوک نے چپکے سے وہ مسکراہٹ دیکھ لی، مگر کچھ کہا نہیں۔
گاڑی شہر کی روشن شاہراہوں پر آگے بڑھتی رہی…
اور کھڑکیوں کے باہر سٹی آف لائٹس اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نئے مہمانوں کا استقبال کر رہی تھی۔۔۔۔

+++++++++++++

شہر کی روشن شاہراہوں سے گزرتی ہوئی آخرکار کراچی کے مشہور موون پک ہوٹل کے مرکزی دروازے پر آ کر رک گئی۔
سامنے بلند و بالا عمارت اپنی شاندار روشنیوں میں نہائی ہوئی تھی۔ کشادہ داخلی دروازہ، سنگِ مرمر کا فرش، خوبصورت فوارے، قطار میں کھجور کے درخت اور مہمانوں کے استقبال کے لیے کھڑا عملہ… سب کچھ اپنی شان آپ بیان کر رہا تھا۔
منیجر نے مسکراتے ہوئے کہا،
ویلکم ٹو موون پک ہوٹل۔ کراچی آنے والے زیادہ تر غیر ملکی وفود اور اہم مہمان یہی قیام کرتے ہیں۔ یہ شہر کے مشہور ترین فائیو اسٹار ہوٹلوں میں سے ایک ہے، اور تقریباً ہر بڑی بین الاقوامی تقریب میں یہاں مہمانوں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔
سوہان نے گردن اوپر اٹھا کر پوری عمارت کو دیکھا۔
اوہ ہو… یہ تو محل لگ رہا ہے….
چند لمحوں بعد سب اپنا اپنا سامان لیے اندر داخل ہو گئے۔
ہوٹل کی وسیع و عریض لابی اپنی خوبصورتی سے ہر کسی کو متاثر کر رہی تھی۔ بلند چھتوں سے لٹکتے جھاڑ فانوس، نرم روشنی، آرام دہ صوفے اور ہر طرف پھیلی خوشبو ماحول کو مزید دلکش بنا رہی تھی۔
منیجر نے سب کی طرف دیکھ کر کہا،
جیسے جیسے آپ لوگوں نے باقی شہروں میں اپنے اپنے روم شیئر کیے تھے، یہاں بھی ویسے ہی کر لیجیے۔ میں نیچے ہوٹل مینیجر سے کچھ ضروری بات کر کے آتا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ استقبالیہ کی طرف بڑھ گیا۔
منیجر کے جاتے ہی تائیجون نے ہاتھ اٹھا دیا۔
بھائی، میں تو پہلے ہی بول دیتا ہوں… میں جے کیونگ کے ساتھ ہی رہوں گا۔ تم لوگ اپنا دیکھ لو۔
سوہان نے فوراً اعتراض کیا۔
اور میں سومین کے ساتھ نہیں رہ رہا..
سومین نے حیران ہو کر پوچھا.
کیوں؟
سوہان نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا،
کیونکہ مجھے تیرے ساتھ مزہ نہیں آتا۔ اس بار میں جے کیونگ کے ساتھ رہوں گا۔
ہیوک فوراً بولا،
ایسی بات ہے تو پھر میں بھی جے کیونگ کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔
سیونگ نے ماتھا پکڑ لیا۔
تم لوگوں کا پھر سے شروع ہو گیا۔ ایک ہی بندے کے   پیچھے سب کیوں پڑ جاتے ہو؟
جے کیونگ نے بے بسی سے سب کی طرف دیکھا۔
میں کوئی ہوٹل کا سوئٹ نہیں ہوں، ایک ہی بندہ میرے ساتھ رہ سکتا ہے۔
اس پر سب ہنس پڑے۔
اسی دوران رین یون کی نظر ہان وو پر پڑی۔
باقی سب اپنی اپنی پسند بتا رہے تھے…
مگر ہان وو حسبِ معمول سب سے ذرا ہٹ کر خاموشی سے کھڑا تھا، جیسے اسے اس بحث سے کوئی دلچسپی ہی نہ ہو۔
رین یون نے نرمی سے کہا،
تُم کیوں خاموش کھڑے ہو، تم بھی بتا دو… تم کس کے ساتھ روم شیئر کرنا چاہتے ہو؟
سیونگ نے مسکراتے ہوئے کہا،
چلو، آج ہم سب مل کر تمہیں یہ آفر دیتے ہیں کہ تم جس کے ساتھ چاہو، اپنا روم شیئر کر سکتے ہو۔
سوہان فوراً بول اٹھا،
ہیں؟ اسے کیوں؟ یہ آفر تو مجھے دو۔۔۔
جے کیونگ نے فوراً اس کے سر پر ہلکی سی چپت لگائی۔
سوہان… دو منٹ خاموش رہ۔
رین یون نے دوبارہ ہان وو کی طرف دیکھا۔
ہاں، بتاؤ… تم کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہو؟
ہان وو نے سب کی طرف ایک نظر ڈالی…
چند لمحے خاموش رہا… پھر آہستہ سے جواب دیا،
میں… اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔ اگر ہو سکے تو۔
سومین نے فوراً دونوں ہاتھ ہلا دیے۔
کینسل! کینسل! کینسل۔۔۔۔ اکیلے تو تو نہیں رہ سکتا۔۔۔
سیونگ نے کندھے اچکائے۔
کیوں نہیں رہ سکتا وہ اکیلے؟ بالکل رہ سکتا ہے۔
ہیوک نے حیرانی سے پوچھا۔
وہ کیسے؟
سیونگ نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔
ایسے… کہ ایک روم میں اگر تین بندے رہ لیں تو
ابے! اس سے پہلے کہ وہ بات مکمل کرتا، سب ایک ساتھ چیخ اٹھے۔
رین یون ہنسی روکتے ہوئے بولا،
ویسے… آئیڈیا برا نہیں ہے۔
پھر اس نے تائیجون اور سوہان کی طرف دیکھا۔
تم دونوں کو تو جے کیونگ کے ساتھ ہی رہنا ہے نا؟
دونوں نے فوراً ایک ساتھ سر ہلایا۔
ہاں!
بس پھر ٹھیک ہے۔ تم دونوں جے کیونگ کے روم میں چلے جانا۔ میں منیجر سے کہہ کر ایک اضافی گدا منگوا دیتا ہوں۔
جے کیونگ نے دونوں ہاتھ سر پر رکھ لیے۔
بھائی! لیکن اس سب میں میرا کیا قصور ہے؟
تائیجون نے فوراً پیچھے ہٹتے ہوئے کہا،
ابے نہیں! میں کتے کی طرح ایک ہی روم میں سروائیو نہیں کر سکتا!
یہ کہتے ہی وہ تیزی سے ہان وو کے پاس پہنچا، اس کے کندھے پر بڑے پیار سے تھپکی دی اور نرم لہجے میں بولا،
بھائی… دیکھ نا۔ اتنے سارے لوگ ہیں، بس کسی ایک کا نام لے دے۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے ہان وو کا چہرہ پکڑا اور آہستہ آہستہ اسے سب کی طرف گھمانے لگا۔
دیکھ… تیرے پاس کتنے سارے آپشن ہیں۔
پھر سب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،
اتنے سونے سونے منڈے کھڑے ہیں… ان میں سے کسی بھی ایک کا بھی نام لے دے۔
سب بےاختیار ہنسنے لگے۔
رین یون بھی مسکراتے ہوئے بولا،
ہاں، بتاؤ ہان وو… کس کے ساتھ روم شیئر کرنا چاہتے ہو؟
ہان وو نے ایک لمحہ سب کو دیکھا…
پھر نہایت سنجیدگی سے کہا،
آپ کے ساتھ۔
ایک لمحے کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی…
پھر پوری لابی زور دار قہقہوں سے گونج اٹھی۔
سیونگ ہنستے ہنستے دوہرا ہو گیا۔
ابے سالے! جس نے آفر دیا، اُس کا ہی کاٹا دیا۔۔۔۔
تائیجون نے فوراً انگلی اٹھا کر کہا،
اسی لیے بولتے ہیں، سیونگ بھائی جی… زیادہ
بولی نہیں بولتے۔۔۔
جے کیونگ نے ہنستے ہوئے تائیجون کے ہاتھ پر زور سے تالی ماری۔
ورنہ لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔۔۔۔
بالکل۔۔۔۔ تائیجون نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
سب کی ہنسی ابھی بھی جاری تھی کہ ہان وو کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
مذاق کر رہا تھا… وہ سکون سے بولا۔
مجھے کسی کے ساتھ بھی روم شیئر کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ جسے بھی بھیجنا ہو، میرے روم میں بھیج دینا۔
یہ کہہ کر وہ مڑا، اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔
سومین ابھی تک دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
بھائی… یہ ہان وو ہی تھا نا؟
ہیوک نے ہلکا سا سر ہلایا۔
تھا تو ہان وو ہی…
سومین نے سنجیدگی سے کہا،
لیکن مجھے لگا نہیں۔۔۔۔
مجھے بھی۔۔۔ بھائی، مانو یا نہ مانو… مجھے ہان وو کے اندر کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے۔ کچھ تو ہوا ہے اس کے ساتھ۔
رین یون نے گہری سانس لی۔
یہ تو ہمیں بھی معلوم ہے… مسئلہ یہ ہے کہ نہ سوال سمجھ آ رہا ہے، نہ جواب مل رہا ہے۔
سب ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔
اتنے میں سوہان آہستہ سے سومین کے قریب آیا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔
مجھے پتا ہے یہ کیوں اپ سیٹ ہے…
سومین نے فوراً چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
کیوں؟
سوہان نے ادھر اُدھر دیکھا، پھر اور بھی آہستہ بولا،
کیونکہ اس کی فاطمہ جو لاہور میں رہ گئی۔۔۔۔
اتنے میں تائیجون کی سوہان اور سومین کے بیچ میں گھس گیا۔
ابے! اس کے کان میں کیا پکا رہا ہے؟ ذرا تیز بول۔۔۔
سوہان ایک لمحے کو گھبرا گیا۔
پھر فوراً بات بدلتے ہوئے بولا،
میں… میں کہہ رہا تھا کہ تُو ہان وو کے ساتھ روم شیئر کر لے۔
تائیجون نے ناک چڑھائی۔
تو تیز بول۔۔۔۔
سوہان نے بےساختہ جواب دیا۔
اب بول دیا نا تیز۔۔۔۔
سومین نے آہستہ سے کہا،
چھوڑ دیں بھائی… میں ہان وو کے ساتھ رہ لیتا ہوں، اور کوشش بھی کروں گا کہ اس سے پوچھ لوں۔
رین یون نے اثبات میں سر ہلایا۔
ٹھیک ہے… اور کوشش کرنا کہ کچھ پتا بھی لگا لو۔
ٹھیک ہے۔ سومین نے مختصر جواب دیا۔
اتنے میں تائیجون کو جیسے اچانک کچھ یاد آیا۔
ارے… پھر سوہان کس کے ساتھ رہے گا؟
سیونگ نے فوراً فیصلہ سنا دیا۔
سوہان اس بار جے کیونگ کے ساتھ رہے گا۔
سوہان نے خوشی سے فوراً کہا،
ہاں….
نہیں.. تائیجون نے فوراً اعتراض کیا۔ میں رہوں گا۔
سیونگ نے بےنیازی سے جواب دیا۔
تم ہیوک کے ساتھ رہ لو۔
تائیجون نے فوراً منہ بنایا۔
میں پہلے بھی ہیوک کے ساتھ ہی رہ رہا تھا۔
رین یون ہلکا سا مسکرایا۔
ابھی بھی رہ لو۔ کیا مسئلہ ہے؟
تائیجون نے فوراً انگلی اس کی طرف اٹھا دی۔
نہیں… تم رہ لو۔
یہ سن کر جے کیونگ بول پڑا۔
میں ہیوک کے ساتھ رہ لیتا ہوں۔ ان دونوں کو ایک ساتھ رہنے دو۔
ہیوک نے فوراً موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
ہاں، یہی ٹھیک ہے… دو غلیظ انسان ایک ہی کمرے میں رہیں گے۔
تائیجون نے فوراً گھور کر دیکھا۔
ابے! غلیظ کس کو بولا؟
تیکو بولا۔۔ ہیوک نے پوری سنجیدگی سے جواب دیا۔
سوہان نے فوراً اعتراض کیا۔
میکو بھی بولا؟
ہیوک نے سر ہلایا۔
ہاں… دونوں کو بولا۔
تائیجون نے فوراً جواب دیا۔
تو خود ہوگا غلیظ انسان۔۔۔
سوہان نے بچوں کی طرح فوراً اضافہ کیا۔
جو بولتا ہے، وہی ہوتا ہے۔۔۔
اس کی بات سنتے ہی سب بےاختیار ہنس پڑے۔
رین یون نے ہنسی دباتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھا دیے۔
بس… اب بہت ہو گیا۔ سب لوگ اپنے اپنے روم میں شفٹ ہو جاؤ۔
تائیجون نے پھر احتجاج کیا۔
لیکن…
اور کچھ بھی نہیں۔ سیونگ نے اس کی بات کاٹ دی۔ تائیجون، جاؤ روم میں۔ نیکسٹ ٹرپ پر جے کیونگ کے ساتھ رہ لینا۔
تائیجون نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا۔
پکا نا؟
سیونگ ہنس دیا۔
ہاں… پکا۔
سوہان نے فوراً منہ بنا کر پوچھا،
اور میں؟
رین یون نے ہنسی دباتے ہوئے کہا،
تم میرے ساتھ رہنا…
سوہان نے فوراً سر جھٹک دیا۔
نہیں۔۔۔
سیونگ نے کندھے اچکاتے ہوئے بےنیازی سے کہا،
پھر تم یہیں کھڑے رہو… ہم سب جا رہے ہیں۔
اس کا اتنا کہنا تھا کہ سب اپنے اپنے سوٹ کیس اٹھائے ایک ایک کر کے کمروں کی طرف بڑھنے لگے۔
چند ہی لمحوں میں لابی تقریباً خالی ہو چکی تھی۔
سوہان وہیں کھڑا سب کو جاتا ہوا دیکھتا رہا۔
پھر منہ بنا کر بڑبڑایا،
بےتمیز سالے…
یہ کہہ کر اس نے بھی اپنا بیگ گھسیٹا، ناراض سا چہرہ بنائے آہستہ آہستہ اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔

++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *