کشیمر کی پکار۔۔۔
ازقلم ڈاکٹر ملائکہ فرمان۔۔۔
کوئی آواز اب ابھرتی نہیں،
ظلم کی شام کیوں ڈھلتی نہیں؟
اپنے حق کے لیے جو نکلے تھے لوگ،
خون سے ان کی ہر ساعت لکھی گئی۔
بے کسوں کی صدا کوئی سنے تو سہی،
بے گناہوں پہ کیوں تیغ چلتی رہی؟
سناٹا ہے فضا میں حکومت کا اب،
کوئی دادِ فغاں کیوں ملتی نہیں؟
آسماں بھی ہے خاموش اس دور میں،
آگ سینے کی اب کیوں بجھتی نہیں؟
شہرِ گل میں ہی خونِ جگر ہے رواں،
بستیوں پر یہ آفت اترتی نہیں؟
روشنی کی کوئی اُمید باقی نہیں،
رات یہ غم کی کیوں اب ٹلتی نہیں؟
زخم سینے کے اب بولتے ہیں مگر،
بے حسی کی یہ دیوار ہٹتی نہیں؟
کون سنے گا یہ فریادِ مظلومِ زار،
ظلم کی آگ اب کیوں بجھتی نہیں؟
خاک پر لکھی جاتی ہے تقدیرِ نو،
آندھیوں میں بھی شمع یہ بجھتی نہیں۔
سر جھکائیں تو کیسے جھکائیں یہاں،
غیر کے سامنے بات چلتی نہیں۔
اہلِ ستم کو خبر ہو یہ اب،
آگ دبی ہے جو اب دبتی نہیں۔
