qasas by Rida Fatima second Last Episode.

قصاص از قلم ردا فاطمہ
Second last episode

افق کی امی اور یوسف جب ہیر کے مزار میں داخل ہوئے تھے
تو باہر سے ہی انہوں نے افق مصطفی کو اندر زمین پر لیٹے دیکھ لیا تھا ۔۔
افق کی ماں کی انکھوں میں انسو اگئے تھے ان کا بیٹا ایک جانا مانا مصنف تھا اور اب وہ میلے کپڑوں میں زمین پر فقیروں کی طرح لیٹا تھا وہ ایسا تو نہیں تھا۔۔
وہ برا بھی نہیں تھا لیکن قسمت اس کے ساتھ بہت برا کر رہی تھی۔۔۔
وہ چلتی ہوئی افق کے پاس ائی وہ سو رہا تھا انہوں نے افق کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔
افق فوراً ہڑبڑا کر اُٹھ گیا ۔۔ پھر انجانی سی نظروں سے اس نے اپنی ماں کو دیکھا۔
ماں کا دل دہل گیا وہ شاید اپنی ماں کو بھی نہیں پہچانا تھا۔۔ ا۔۔
افق میں آپ کی امی ہوں بیٹا
یہاں کیوں اگئے ہیں گھر میں چلیں آپ نے مجھے پریشان کر کے رکھ دیا ہے خدا کا واسطہ ہے گھر چلیں۔۔۔
م۔۔ مجھے نہیں جانا گھر ۔۔
آپ میرے لاڈلے بیٹھے ہیں۔۔ میں آپ کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتی میں۔۔
میں نہیں جاؤں گا ۔۔ م۔۔مجھے کہیں نہیں جانا مجھے ۔یہاں۔۔ سکون ملتا ہے۔۔
یوسف چلتا ہوا افق کے پاس ایا۔۔
وہ پہلی بار افق مصطفی کو دیکھ رہا تھا یوسف نے اکثر افق کی کتابیں پڑھی تھیں لیکن اسے یہ توقع نہیں تھی کہ وہ ایک مصنف سے اس طرح سے
ملے گا ۔۔
دیکھو افق۔۔ تمہیں اپنی ماں کی بات مان لینی چاہیے تمہیں گھر جانا چاہیے۔۔ تمہاری امی تمہارے لیے بہت پریشان ہو رہی ہیں۔۔ تم انہیں اس طرح سے پریشان نہ کرو وہ تمہارا
اچھے ڈاکٹر سے علاج کروائیں گی تم سمجھو۔۔۔
افق نے انجان سی نظروں سے یوسف کے چہرے کو دیکھا
لیکن افق مصطفی وہاں سے اُٹھنے کو تیار ہی نہیں تھا وہ اچھا ہوا تھا کہ یاسر فوراً ہی کسی ڈاکٹر کو بلُا کر لے ایا تھا پاس کے کلینک سے۔۔ ڈاکٹر نے
افق کو بے ہوشی کا انجیکشن لگایا تھا۔۔ اور پھر وہ لوگ افق مصطفی کو اُٹھا کر گاڑی میں ڈال کر گھر لے ائے تھے اس طرح افق کسی صورت تیار نہیں تھا۔۔
افق بھرپور نیند میں اپنے بیڈ پر سو رہا تھا۔۔۔
ایک مسئلہ حل ہو گیا تھا دوسرا مسئلہ زر مان راجپوت تھا یوسف کو اب اسے ڈھونڈنا تھا پورا دن یوسف نے افق مصطفی کو تلاش کرنے میں گزار دیا تھا ۔
اور اب رات ہو گئی تھی نہ جانے کتنے دن یوسف ملک کو زرمان راجپوت کو تلاش کرنے میں گزارنے تھے۔۔۔۔


اگلی رات ڈھلنے کو تھی۔۔ زرمان کسی درخت کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔
وہ جنگل میں نہیں تھا کوئی سنسان گاؤں تھا شاید۔۔۔ وہاں ابادی کم تھی۔۔۔
وہ گاؤں نیا نیا شہر میں تبدیل ہو رہا تھا
لیکن ابادی ابھی بھی نہ ہونے کے برابر تھی درخت کٹوائے جا رہے تھے اور
زرمان ایسے ہی ایک ہرے بھرے درخت کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا تھا وہ تھک چکا تھا چلتے چلتے اور ہیر خان اس کی نظروں سے اوجھل ہو چکی تھی ۔۔
پاس سے گزرتے لوگ اسے پاگل سمجھ کر گزرتے جا رہے تھے۔۔ ہاں وہ پاگل ہی تو ہو گیا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ رات کا اندھیرا چھا رہا تھا اسے اب ٹھنڈ لگنے لگی تھی ۔۔
لیکن اس نے وہاں سے اُٹھنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔۔ جب پاس سے اس کے کوئی گاڑی گزری۔۔ اور پھر وہ واپس آ کر رکی۔۔ اس کے اندر سے کوئی ادھیڑ عمر ادمی باہر نکلے۔۔ سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی ۔۔ گاڑی میں کوئی عورت بھی تھی لیکن وہ باہر نہیں ائی تھی شاید
وہ ان کی بیوی تھی۔۔۔
وہ چلتے ہوئے زرمان راجپوت تک ائے۔۔
پھر زمین پر گھٹنوں کے بل زرمان کے پاس بیٹھے
تمہیں پہلے کبھی یہاں نہیں دیکھا میں روز یہاں سے گزرتا ہوں۔۔۔
اس کے پاس ا کر بولے تو زرمان نے عجیب سی نظروں سے انہیں دیکھا۔۔۔
م۔۔ پھر اٹکتے ہوئے بولا۔۔ م۔۔ میں اج۔۔اج ہی آیا ہوں ۔۔ م۔۔
میں ہیر کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔۔ و۔۔وہ یہاں ہی تھی ۔۔ مجھے مل نہیں رہی اب ۔۔
ہیر کون ہے تم مجھے بتاؤ گے۔۔
ہ۔۔۔ہیر ۔۔ زر مان نے کچھ دیر سوچا پھر بولا۔۔ میری شادی ہونے والی ہے
اُن سے ۔۔
ٹھیک ہے رات ہو رہی ہے تم ہمارے ساتھ چلو یہاں تم بیمار ہو جاؤ گے۔۔ اس ادمی کو زرمان راجپوت دیوانہ لگا تھا۔۔۔
م۔۔ میں نہیں جاؤں گا ہیر اگئی تو۔۔ اس ادمی نے کچھ دیر سوچا پھر اُٹھتے ہوئے بولا۔۔۔
ہیر ہمارے گھر پر ہے تم ہمارے ساتھ آجاؤ ۔۔ زرمان نے ان کی طرف دیکھا اس کا چہرہ کھل اُٹھا۔۔۔ ہیر اپ کے پاس ہے۔۔
ہاں ہیر میرے پاس ہے تم ا جاؤ میں تمہیں ان سے ملواتا ہوں۔۔
وہ ادمی کہتے ہوئے واپس گاڑی میں جا کر بیٹھے تو زرمان بھی ا کر پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔
کوئی بھی نہیں جانتا تھا یہ زرمان راجپوت کی زندگی کی نئی شروعات تھی۔۔۔
اس نے کسی کو نہیں ملنا تھا۔۔۔
وہ ادمی اب گاڑی چلاتے ہوئے اپنا تعارف کروا رہا تھا۔۔۔
میرا نام عبداللہ ہے۔۔
میں ایک ڈاکٹر ہوں۔۔ سیالکوٹ میں میرا ہاسپٹل ہے مجھے روز صبح یہاں اپنے گھر سے ہاسپٹل جانا پڑتا ہے۔۔ میں سوشل ورک بھی کرتا ہوں سوچا
تھوڑی تمہاری مدد کر دوں۔۔ کھاتے پیتے گھر کے لگتے ہو لیکن یہاں پر کیا کر رہے تھے۔۔۔
م۔۔ میں نے بتایا نا میں ہیر۔۔ کو۔ ڈھونڈ رہا
ہوں۔۔۔
اگے بیٹھی عورت نے چہرہ گھما کر زرمان راجپوت کو دیکھا ۔۔۔
جو خاموشی سے اب راستہ دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ عورت بھی 40 کے قریب تھی ۔۔
زر مان کی امی سے ان کی عمر چھوٹی لگتی تھی ۔۔
لیکن ان کے گھر کوئی اولاد نہیں تھی ۔۔۔ اور اب بہت دعاؤں کے باد اللہ نے ان کو تحفے سے نوازا تھا ۔۔ ان کے گھر اولاد ہونے والی تھی
عبداللہ اب اپنے بارے میں اور باتیں بتا رہے تھے۔۔۔
میں زمینوں کا کاروبار بھی کرتا ہوں۔۔۔ ہمارے باپ دادا کی زمینیں ہیں۔۔
میں انہیں بھیجتا ہوں۔۔ رقم ملنے پر میں کچھ اور زمینیں خریدتا ہوں اور پھر ان کی قیمت بڑھ جانے پر انہیں اچھے داموں میں بیچتا ہوں ۔۔۔
وہ زرمان کو ایسے بتا رہے تھے جیسے زرمان بہت عقل والا ہو۔۔۔ کچھ تو تھا
جو عبداللہ نے زرمان میں محسوس کیا تھا۔۔۔ انہیں محسوس ہوا زرمان راجپوت پاگل نہیں تھا۔۔۔ لیکن بن گیا تھا۔۔
حلیمہ ۔۔انہوں نے اپنی بیوی
کو پکارا تو انہوں نے فوراً سے اپنے شوہر کی طرف دیکھا ۔۔جی۔۔۔
گھر جا کر بچے کا کمرہ تیار کریں تھکا ہوا ہے تھوڑا ارام کرے گا۔۔۔
حلیمہ نے خاموشی سے مسکرا کر گردن ہلا دی۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ گھر میں داخل ہوئے۔۔ اس گاؤں کے علاقے میں وہ واحد پکا گھر تھا۔۔
وہ زیادہ بڑا نہ تھا لیکن بہت خوبصورت تھا۔۔۔ وہ گاؤں کے امیر ترین شخص میں سے ایک کا گھر تھا۔۔
ڈاکٹر عبداللہ صادق کا ۔۔۔وہ نیورو سرجن تھے اور بہت اچھے انسان بھی تھے ۔۔
گاؤں میں اکثر وہ لوگوں کی مدد کرتے رہتے تھے۔۔۔ ان کے گھر میں زرمان راجپوت
جیسے اور بھی بہت بچے تھے۔۔جو بے گھر تھے لیکن زرمان ان سب میں سے بڑا تھا۔۔
۔ انہیں نہ جانے کیوں زرمان سے ایک الگ سی کشش کا احساس ہوا تھا۔۔
ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا زرمان کو گھر لے کے انے کا لیکن نہ جانے کیوں وہ اسے گھر لے ائے تھے۔۔وہ نہیں جانتے تھے کہ زرمان راجپوت ان کی زندگی کا حصہ بننے والا تھا۔۔۔۔
وہ نہیں جانتے تھے کہ زرمان راجپوت ان کے دل میں کیا جگہ بنانے والا تھا۔۔۔
حلیمہ نے زرمان کا کمرہ تیار کیا۔۔ اور زرمان کو فریش ہونے کا کہا۔۔۔
اور کمرے سے باہر چلی گئی جب کچھ دیر بعد وہ واپس کمرے میں اندر آئی
تو زرمان راجپوت ویسے ہی بیٹھا تھا۔۔۔
تجھے میں نے کہا تھا تو فریش ہو جا بیٹا ایسے کیوں بیٹھا ہے۔۔۔ جا جا کے منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدل اندر رکھے ہیں۔۔۔ حلیمہ زرمان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔
وہ اپنے گھر میں موجود سب ہی بچوں سے ایسے ہی بات کرتی تھی وہ اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیتی تھی سوشل ورک میں۔۔۔۔ ۔
زرمان نے انہیں دیکھا تو انکھوں میں انسو اگئے نہ جانے کیوں زرمان کو ان میں اپنی امی نظر آئی تھی
ا۔۔امی۔۔۔
حلیمہ مسکرا دی۔۔۔تو مجھے امی کہہ سکتا ہے جا اب جا کر فریش ہو جا۔۔۔
مجھے نہیں نہانا۔۔۔
اچھا نا نہا لیکن منہ ہاتھ دھو کے کپڑے تو بدل لے۔۔۔
زرمان اُٹھا نہیں تو حلیمہ نے زرمان کو بازو سے پکڑا اور اُٹھا کر واش روم میں
لے گئی۔۔۔اور پھر وہ کسی بچے کی طرح اس کا چہرہ خود دھلوا رہی تھی پھر انہوں نے اس کے بال دھلوائے۔۔۔ اور پھر اس کے ہاتھ میں کپڑے تھما کر باہر اگئی کہ اب بدل لے ۔ زر مان کے کپڑے گیلے ہو چکے تھے اور
کوئی چارہ نہیں تھا کپڑے بدلنے کے علاوہ۔۔۔ سو زرمان راجپوت نے اپنے کپڑے بدلے اور واش روم سے باہر اگیا زرمان کا دماغ کام کرتا تھا بس
وہ اپنے ہلکے سے حواس کھو بیٹھا تھا۔۔۔ وہ اس طرح سے پاگل نہیں ہوا تھا جیسے ایک پاگل ہوتا ہے۔۔وہ بس ہیر کے انتظار میں دیوانہ ہو گیا تھا۔۔
زرمان کپڑے بدل کر کمرے سے باہر ایا تو باہر کھانے کا انتظام ہوا تھا زمین پر دسترخوان
بچھا تھا اور سب ارد گرد بیٹھے کھانے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ گھر میں انہوں نے ایک ملازمہ رکھی تھی جو کھانا دسترخوان پر رکھ رہی تھی اور سب بیٹھے ارد گرد کھانا کھانے لگے زرمان کو عبداللہ نے اپنے پاس بلایا تو وہ خاموشی سے ان کے پاس ا کر بیٹھ گیا۔۔۔
عبداللہ نے زرمان راجپوت کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا اور پھر کھلاتے ہوئے وہ بول اُٹھے
نام کیا ہے تمہارا۔۔۔ زرمان نے کچھ پل کو سوچا پھر اپنا نام بتایا زرمان راجپوت۔۔۔
کہاں سے ہو تم ۔۔
م۔۔ میں۔۔ پتہ ۔۔ نہیں ۔میں۔۔کہاں سے ہوں ۔۔
زرمان نے تھوڑی دیر یاد کرنے کی کوشش کی لیکن کچھ بھی یاد نہ ایا
چھوڑو جہاں سے بھی ہو یہاں پر ہی رہنا ہے اب تو۔۔۔
ماں باپ نہیں ہے کیا تمہارے عبداللہ نے اگلا سوال پوچھا تو زرمان خاموش ہو گیا۔۔
کوئی جواب دماغ میں ا ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ عبداللہ سمجھ گئے کہ وہ ا بھی بتانے سے
قاصر تھا۔۔۔ اس سوالوں کو ترک کر کے وہ خود بھی کھانا کھانے لگے۔۔

یوسف پچھلے دو دنوں سے زرمان راجپوت کو ڈھونڈ رہا تھا لیکن مجال ہے کہ اس کا کچھ بھی پتہ مل جائے جھنگ سے۔۔۔زر مان راجپوت کا کچھ بھی عطا پتہ نہیں تھا اور زرمان کی امی کا رو رو کر برا حال تھا وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا وہ اسے کھو
نہیں سکتی تھی لیکن وہ اسے کھو بیٹھی تھی وہ کہیں پر بھی نہیں مل رہا تھا وہ اسے
کتنا ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ کہیں گم گیا تھا۔۔۔ زرمان کے اگر بابا ہوتے تو فوراً اسے ڈھونڈ نکالتے لیکن سارا دکھ ہی یہ تھا زرمان کے بابا ہی نہیں تھے۔۔۔ وہ سالوں پہلے انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے اس دنیا سے۔۔ زرمان کی امی کے پاس کوئی اپنا نہیں تھا جس سے وہ مدد مانگ سکتی صرف ریحان خان کامران خان اور ہیر کی امی تھی۔۔
۔ریحان دن میں دو دو چکر لگا کر جاتا تھا زرمان کے گھر اس کی امی سے مل کر جاتا تھا
لیکن بیٹے کی کمی کوئی دوسرا تو پورا نہیں کر سکتا تھا نا ریحان کے اوپر ذمہ داریاں بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔ پورا دن اسے ہیر کا خیال رکھنا ہوتا تھا اور اس پورے دن میں اسے وقت نکال کر زرمان کے گھر بھی جانا پڑتا تھا۔۔۔اوپر سے
وہ دن میں ایک سے دو بار افق مصطفی کے گھر میں بھی فون کر کے اس کی ماں سے اس کا حال چال پوچھ لیا کرتا تھا جس کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔۔
زندگی کتنی عجیب کھیل کھیل رہی تھی اور ہر طرف سے پس رہا تھا تو ریحان خان۔۔۔
ریحان کی بہن بیمار تھی ریحان کا ہونے والا بہنوئی لاپتا تھا۔۔
ریحان سب کے ہوتے ہوئے بھی اکیلا تھا۔۔۔

اور یوسف ملک کا پورا دن زر مان راجپوت کو ڈھونڈنے میں ہی گزر جاتا تھا لیکن اس کا کچھ اتا پتہ چل ہی نہیں رہا تھا کہ وہ کہاں پر تھا اب اتنا تو
یوسف کو پتہ چل گیا تھا کہ زرمان جھنگ کے اندر تو نہیں تھا۔۔ یقیناً زرمان شہر سے باہر نکل گیا تھا۔۔یوسف اکثر شہر کے باہر دوسرے شہروں کے پولیس سٹیشنز میں زرمان راجپوت کی ڈیٹیلز دیا کرتا تھا اور پوچھا کرتا تھا لیکن کسی کو بھی زرمان کے بارے میں پتہ نہیں ہوتا تھا۔۔۔ سب کی زندگی میں ان کے امتحان چل رہے تھے۔۔
ہیر خان خاموش پورا پورا دن اپنے کمرے میں سوتی رہتی۔۔۔ وہ ایک طویل نیند کاٹ رہی تھی
جس سے وہ اپنی مرضی سے ہی ہوش میں ا سکتی تھی یا صرف اللہ کی مرضی سے۔۔۔
باقی سب اس کا انتظار کر سکتے تھے یا پھر بس اسے دعائیں دے سکتے تھے
اور یہی ہوتا تھا رشتہ دار اتے تھے محلے والے اتے تھے ہیر خان کو دعائیں دے کر چلے جاتے تھے۔۔۔ لیکن ہیر کی طبیعت میں کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔


قاسم خان اس وقت ملیشیا میں کسی گھر کے باہر موجود تھا گھر کے گیٹ پر دو گاڑڈ کھڑے تھے اور گھر کے اندر نہ جانے کتنے گاڑڈ پہرا دے رہے تھے قاسم کو اندر جا کر اس وکیل کا کام تمام کرنا تھا لیکن شاید یہ ناممکن تھا اور یہ بات قاسم خان کو
خود بھی محسوس ہو رہی تھی اس کے پاس بہت کم وقت تھا کچھ دن ۔۔وہ اتنے دن نہیں لگاتا تھا کسی کو مارنے میں لیکن یہ کام قاسم کے لیے تھوڑا مشکل تھا لیکن وہ کر سکتا تھا وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔۔۔
وہ چلتا ہوا گیٹ تک ایا گارڈ کو کچھ کہا تھا اور اندر جانے کی اجازت بھی مل گئی تھی ۔۔
وہ چلتا ہوا اندر تک ایا گارڈن عبور کیا اور گھر کے اندرونی دروازے کے پار چلا گیا۔۔
دروازے کے اس پار لاؤنج میں وکیل بیٹھا کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا اور یقیناً فون کرنے والا وہ ادمی تھا جس نے قاسم کو کام دیا تھا وکیل کو مارنے کا۔ وکیل اس وقت غصے میں نہ جانے اس ادمی کو کیا کچھ کہہ رہا تھا کہ تیرا بیٹا تو مرے گا۔۔ اور نہ جانے کیا کیا۔۔ قاسم خاموشی سے چلتا ہوا اس تک ایا اور سامنے صوفے پر بیٹھ گیا وکیل پل بھر کو حیران ہوا گارڈ اس کے صوفے کے پیچھے کھڑے تھے الرٹ گن تھامے۔۔۔
مجھے اپ کو ایک کیس دینا تھا قاسم نے اپنی بات جاری رکھی۔۔
کون سا کیس ہے۔۔۔
وہ میں اپ کو اس طرح سے نہیں بتا سکتا میں اپ کو اکیلے میں بتا سکتا ہوں۔۔۔
اگر اپ برا نہ مانے تو اپنے یہ گارڈز کو ذرا بھیج دیں قاسم نے گمبھیر لہجے میں بات کی وکیل
نے کچھ دیر سوچا اور پھر اپنے سارے گارڈز کو جانے کا اشارہ دے دیا وہ خاموشی
سے گھر سے باہر نکل گئے۔۔۔
قاسم اور اب وکیل امنے سامنے بیٹھے تھے۔۔
قاسم خان اُٹھا اور چلتا ہوا اس وکیل تک ایا وہ وکیل انجانی نظروں سے قاسم کو دیکھ
رہا تھا اور قاسم نے برق رفتاری سے اس کی گردن جھپٹ لی۔۔۔ قاسم کے چہرے سے کوئی واقف نہیں تھا اس نے ماسک پہن رکھا تھا انکھوں پر چشمہ پہن رکھا تھا چہرہ تو نظر ہی نہیں ارہا تھا باہر کھڑی بائک پر کوئی نمبر پلیٹ نہیں لگی تھی۔۔۔
قاسم نے اس کا گلا دبوچا تو سامنے بیٹھے شخص کا سانس بند ہونے لگا۔۔۔
تجھے مارنے کا ہی کام ملا ہے مجھے اب تو اوپر جا کر مقدمے لڑتا رہی ۔۔ لیکن فی الحال
کے لیے خدا حافظ۔۔۔
قاسم نے اس کا گلا دبا دیا۔۔۔ وکیل کے اندر سے جان ختم ہوتی گئی ایسا قاسم خان کو لگا تھا۔۔ قاسم کو محسوس ہوا کہ اس کا سانس تھم گیا تھا۔۔۔ قاسم نے اسے چھوڑ دیا اور خود اُٹھ کر گیٹ سے باہر جانے لگا تو وہ جو وکیل مرا ہوا لگ رہا تھا
وہ ایک دم سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔کھانستے ہوئے تمھیں کیا لگتا ہے تم مجھے مارنے ائے تھے
اور تم مجھے مار کر جا سکتے ہو۔۔۔ تمہیں کیا لگتا ہے مجھے پتہ نہیں ہے کہ میری جان کے پیچھے بہت لوگ پڑے ہیں۔۔۔ قاسم پل بھر کو روک گیا ۔۔۔ اسے مارنا اسان نہیں تھا۔۔
لیکن قاسم نے تو پوری شدت سے زور لگایا تھا تو پھر وہ مرا کیسے نہیں تھا۔۔۔۔
پل بھر کے لیے میں نے اپنا سانس کیا روک لیا اور تمہیں لگا کہ میں مر گیا ہوں مجھے
پاگل سمجھ کے رکھا ہے تم نے وکیل اب مسکراتے ہوئے بول رہا تھا۔۔۔
تم مجھے نہیں مار سکتے تم جو کوئی بھی ہو اتنی اسانی سے نہیں مرنے والا میں۔۔۔
تمہیں کس نے بھیجا ہے یہ میں بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں اور تم یہ بھی اسے جا
کر بتا دینا کہ اس کا بیٹا نہیں بچے گا میرے ہاتھوں اس لیے بہتر ہے کہ ابھی اور اسی
وقت یہاں سے نکل جاؤ قاسم نے خاموشی سے اسے دیکھا پھر ماسک کے اندر سے
مسکرایا اور گھمبھیر لہجے میں بولا۔۔ میں جانتا ہوں تم مرے نہیں تھے ناٹک کر رہے تھے
اتنے انسان مارے ہیں میں نے کہ مجھے خود ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون ڈرامہ کر رہا ہے
اور کون حقیقت میں مر گیا ہے۔۔۔ بس میں تمہیں چیک کر رہا تھا کہ تمہیں میرے بارے میں کتنا پتہ ہے۔۔ قاسم نے اپنی بات جاری رکھی۔۔ میرے لیے انسان مارنا مشکل کام نہیں ہے فکر نہ کرو تمہیں میرے ہاتھوں ہی موت ملے گی ۔۔۔ اور ایسی موت دوں گا کہ مرنے کے بعد بھی یاد رکھو گے قاسم خان کہتا خاموشی سے باہر چلا گیا اور اپنی بائیک پر ا کر بیٹھا۔۔۔
پوری رفتار سے بائیک بھگا لے گیا۔۔ گارڈ جب اندر ائے تو وکیل خاموشی سے صوفے پر بیٹھا تھا۔۔۔
تم لوگوں کو اگر باہر جانے کو کہتا ہوں اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سچ میں باہر چلے جاؤ۔۔
منع کیا کرو کہ باس ہم اپ کی حفاظت کے لیے ہیں۔۔

وکیل اب اپنے گارڈز کو چھڑک رہا تھا اور گارڈز خاموشی سے ڈانٹ کھا رہے تھے۔۔۔۔

قاسم اپنے فلیٹ میں ایا اور اس ادمی کو کال ملائی۔۔
ہاں بولو قاسم کام ہو گیا کیا۔۔
نہیں کام نہیں ہوا وہ جانتا ہے کہ تم نے اس کے پیچھے کسی کو لگوایا ہے میں فی الحال کچھ بھی نہیں کر سکتا۔۔ ہاں اتنا ضرور کر سکتا ہوں کہ فی الحال اسے میں معذور کر دوں اس کی کوئی ٹانگ اڑا دوں یا اس کے کسی ہاتھ پر گولی مار دو۔۔۔
کیونکہ اس کے ارد گرد بہت گارڈ گھومتے ہیں مجھے ایک لمبا وقت چاہیے تیاری کرنے کے لیے۔۔۔
مجھے تمہارا کام کرتے کرتے خود پھنسنا نہیں ہے۔۔
قاسم تمہیں جو بھی کرنا ہے کرو ۔۔ لیکن تم اسے مار دو ۔۔۔
تم خود ہی کہتے ہو کہ تمہیں پکڑنا آسان کام نہیں ہے۔۔پھر تم اتنی سی بات سے کیسے ہار مان سکتے ہو تم اسے گولی مارو یا جو مرضی کرو قاسم تمہیں اج رات اس کا کام ختم کرنا ہوگا۔۔۔
قاسم نے کچھ دیر سوچا اور پھر فون بند کر دیا۔۔

یہ اندھیری رات کا وقت تھا۔۔ وہ وکیل اکثر رات کو باہر واک کے لیے نکلتا تھا خالی سڑک پر جب اس کے پاس اس کے کوئی گارڈز بھی موجود نہیں ہوتے تھے۔۔ اور یہی وہ وقت ہوتا تھا جب وہ اکیلا ہوتا تھا اور یہی وہ وقت تھا
جب قاسم خان اسے مار سکتا تھا۔۔۔
قاسم اس وقت اپنی ہیوی بائیک پر موجود تھا ہیلمٹ سے چہرہ ڈھکا ہوا تھا ہاتھ میں چاکو پکڑ رکھا تھا۔۔۔ اور اس وقت وہ خالی سڑک پر اپنی بائیک پوری رفتار سے دوڑا رہا تھا۔۔۔ دور سے قاسم کو چلتا ہوا کوئی ادمی نظر ایا قاسم کے چہرے پر مسکراہٹ ائی۔۔۔۔ اور قاسم نے اپنی بائیک کی رفتار اور بڑھا دی۔۔
وہ ہوا کی طرح اس ادمی کے پاس سے گزرا تھا اور اگلے لمحے سڑک پر چلتا ادمی زمین بوس ہوا تھا۔۔۔ قاسم گزر گیا تھا۔۔وہ ادمی زمین پر بے سود پڑا تھا۔۔
اس ادمی کی گردن سے خون نکل رہا تھا۔۔چاکو یقیناً گردن پر لگا تھا۔۔
اور گلا کٹ گیا تھا بچنا تو بنتا ہی نہیں تھا۔۔۔۔ قاسم ہوا کی طرح ایا تھا اور اندھی کی طرح اپنی بائک بھگا لے گیا اس کے لیے اس وکیل کو مارنا بھی مشکل کام نہیں تھا۔۔۔۔
وکیل بے ہوش زمین پر پڑا تھا۔۔ اور چاکو۔۔۔ وہاں کہیں نہیں تھا۔۔۔
قاسم چاکو ساتھ لے کر گیا تھا وہ ثبوت نہیں چھوڑتا تھا۔۔
اور ایسے کیس میں تو وہ ثبوت بالکل بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا
کچھ دیر بعد وہ اس ادمی کے فلیٹ میں موجود تھا جس نے قاسم کو وکیل کو مارنے کے لیے کہا تھا۔۔ وہ پیسوں سے بھرا بیگ قاسم خان کی طرف بڑھا رہا تھا قاسم نے بیگ پکڑا اور گھر سے باہر نکل گیا قاسم نے اپنا کام کر دیا تھا اور پیسے بھی لے لیے تھے۔۔۔
رات کو تقریباً تین بجے کے قریب قاسم خان اپنے گھر واپس ایا تھا۔۔۔
اس کی بیٹی سکون کی نیند سو رہی تھی قاسم اسے دیکھ کے مسکرایا ۔۔۔
اور پھر اس کے پاس ہی بیڈ پر لیٹ گیا اس نے قونین کی رخسار پر لب رکھے۔۔ اور پیچھے ہو کے لیٹ گیا ۔۔۔

 


اج ہیر خان کو بے ہوش ہوئے ایک سال گزر چکا تھا وہ کوما جیسی بیماری سے باہر نہیں ائی تھی۔۔ ایک سال سے ریحان خان اپنی بہن کے بغیر جی رہا تھا۔۔
اور پچھلے پانچ مہینوں سے زرمان راجپوت لاپتا تھا
اس کی امی کی حالت بگڑتی جا رہی تھی انہیں اپنے بیٹے کی جدائی کھا رہی تھی۔۔۔
انہیں سمجھ نہیں ارہا تھا زر مان کو زمین کھا گئی آسمان نگل گیا اخر وہ مل کیوں نہیں
رہا تھا وہ کہاں چلا گیا تھا۔۔

دوسری طرف زرمان راجپوت ۔۔ حلیمہ اور عبداللہ کے دل کے بہت ہی قریب
ہو گیا تھا وہ وہاں موجود سبھی بچوں سے بہت پیار کرتے تھے لیکن زرمان نے ان کے دل میں الگ مقام بنایا تھا ۔۔ وہ دن کو عبداللہ کے ساتھ ہاسپٹل جایا کرتا تھا اور رات کو ان کے ساتھ ہی گھر واپس ایا کرتا تھا۔۔۔ ہاں ہیر خان اسے
اب بھی یاد تھی کبھی کبھی رات کو اکیلے بیٹھے وہ باتیں کرتا رہتا اور عبداللہ اور حلیمہ حیرانگی سے اسے دیکھتے رہتے اس کا پاگل پن ابھی بھی ٹھیک نہیں ہوا تھا وہ ویسا ہی تھا لیکن سب کے سامنے وہ بہت عقل مند معلوم ہوتا تھا۔۔۔۔اور کبھی کبھی جب وہ اپنے دماغ کو سنبھال نہیں
پاتا تھا تو وہ ان کے سامنے بھی پاگلوں سی حرکتیں کرنے لگتا ہیر کی باتیں کرنے لگتا اور اندیکھی ہیر سے باتیں کرنے لگتا۔۔۔
یہ ایک حسین دن گزر رہا تھا۔۔ پر اچانک حلیمہ کے پیٹ میں درد اٹھنے لگی ۔۔۔۔
ایک نئی روح کی آمد کی خبر تھی یہ۔۔۔ عبداللہ زرمان کے ساتھ ہی حلیمہ کو گاڑی میں بٹھا کر ہاسپٹل کی طرف بھاگے تھے وہ خود بھی ڈاکٹرز تھے لیکن اس وقت ہاسپٹل جانا ضروری تھا ۔۔۔۔
وہ ہاسپٹل لے کر ائے حلیمہ کو سٹریچر پر لٹایا اور اپریشن تھیٹر کی طرف بھاگ گئے۔
زرمان اور عبداللہ باہر ہی بیٹھے تھے ۔۔ پھر کسی نرس نے ا کر عبداللہ کو بھی اندر بلا لیا تو عبداللہ بھی خاموشی سے بھاگتے ہوئے اندر چلے گئے زرمان اب خاموشی سے خاموش کوریڈور میں بیٹھا تھا۔۔ دماغ میں ایک خیال ایا تھا ہیر خان کا خیال جب اسے گولی لگی تھی تب بھی وہ ایسے ہی خاموش کو ریڈور میں بیٹھا تھا۔۔۔
یہ اللہ کیا حلیمہ کوما میں جانے والی تھی ۔۔ ن۔۔ نہیں ۔۔ ع۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔ امی کیسے کوما میں ۔۔ جا سکتی ہے ۔۔زرمان حلیمہ کو امی کہا کرتا تھا ۔۔۔
اور اب وہ پریشان اکیلے ہی باتیں کر رہا تھا۔
ن۔۔ نہیں امی ۔۔ امی نہیں جا سکتی ۔۔ کوما میں ۔۔ ام۔۔امی کیسے ۔۔
وہ اب اپنے بال پکڑ کے اپنا سر دائیں بائیں تیز تیز مارنے لگا تھا۔۔
جیسے نفی میں سر ہلا رہا ہو کہ یہ تو نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔
کچھ دیر گزری ۔۔ عبداللہ اپریشن تھرییٹر سے باہر ائے تھے کچھ اور ڈاکٹر بھی ساتھ تھے۔۔۔
عبداللہ کی انکھوں میں انسو تھے اور وہ مسکرا رہے تھے ۔۔۔ ہاتھ میں ننھی سی گڑیا پکڑ رکھی تھی۔۔
وہ چلتے ہوئے زرمان کے قریب ائے جو ویسے ہی پاگلوں کی طرح اپنا سر یہاں سے وہاں مار رہا تھا انہوں نے زرمان کو پکارا تو زرمان نے اپنا سر اٹھایا۔۔
۔ ام۔۔ امی امی ۔۔ کوما ۔ع۔۔وہ کوما میں ۔۔ کیا ہو گیا ہے زرمان امی ٹھیک ہیں تمہاری
عبداللہ نے کہا پھر نظر ان کی گود میں پکڑی چھوٹی سی بچی پر پڑی۔۔۔
ی۔۔۔یہ ۔۔ یہ تماری بہن ہے۔۔ دیکھو عبداللہ نے زرمان کے سامنے اس کا چہرہ کیا وہ بالکل چھوٹی سی گڑیا لگتی تھی۔۔۔ سرخ گالوں والی گڑیا۔۔۔
ہیر۔۔۔ زر مان نے دیکھ کے پُکارا عبداللہ حیران ہوئے ۔۔ کیا ۔۔ کہا تم۔۔ نے ۔۔
عبداللہ نے پوچھا تو زرمان ایک بار پھر بولا ۔ہیر
عبداللہ مسکرا دیے ۔۔۔ کیا تمہیں اس کا نام ہیر رکھنا ہے ۔۔؟
زر مان نے اسبات میں سر ہلا دیا ۔۔ ٹھیک ہے اج سے اس کا نام ہیر ۔۔
زر مان نے بچی کو گود میں اٹھایا ۔۔۔ وہ اس کو دیکھ کے رونے لگی زرمان نے واپس عبداللہ کو تھما دی ۔۔

کچھ دن بعد حلیمہ کو ہاسپٹل سے چھٹی ملی اور پھر وہ گھر اگئی۔۔۔
زرمان پورا پورا دن چھوٹی ہیر کے ساتھ لگا رہتا تھا کبھی وہ اس سے باتیں کرتا کبھی وہ اس کے ساتھ کھیلتا زرمان کا دل لگ گیا تھا ہیر کے ساتھ اور چھوٹی ہیر خود زرمان راجپوت کے ساتھ پورا دن گزارنے لگی تھی اس کو عادت ہو گئی تھی زرمان کی۔۔۔
حلیمہ اس کو سکھاتی کہ اپنے بابا کا نام پکارو ۔۔ عبداللہ کو بابا کہو ۔۔
اور ہیر ہر بار زر مان کو دیکھ کے تالیاں بجاتے بابا ۔۔ بابا چلانے لگتی ۔۔
وہ عبداللہ کو بھی بابا کہتی تھی اور زر مان کو بھائی کہنے کی بجائے بابا کہتی تھی ۔۔
وہ وقت سے پہلے بولنا سیکھ رہی تھی ۔۔ عبداللہ اور حلیمہ ہیر کے زرمان کو بابا کہنے پر ہنسنے لگتے زرمان راجپوت کا پورا پورا دن چھوٹی ہیر کے ساتھ گزرنے لگا تھا ۔۔ ہاں اُس کو اپنی ہیر خان یاد تھی ۔۔۔ لیکن زخم اب کم ہو گیا تھا ۔۔۔

ریحان کی رخسار سے منگنی کر دی گئی تھی لیکن ریحان نے شادی کا کوئی ارادہ نہیں رکھا تھا اس نے کہا تھا ہیر کو ہوش ائے گا تو وہ تبھی شادی کرے گا
وہ ہیر کے بنا وہ اپنی بہن کے بنا کوئی بھی خوشی منا ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔
اس سب وقت میں علی تو گم نام ہو گیا تھا ۔۔ اُس کا ذکر ختم ہو گیا تھا ۔۔۔
یوسف کو لگتا تھا علی ہیر کی زندگی میں کوئی دخل اندازی نہیں دے گا یا علی کا کوئی ذکر نہیں ہوگا لیکن یہ صرف یوسف کو لگتا تھا۔۔ یوسف اور حیات نے نکاح کر لیا تھا لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
جہاں تک بات تھی دلاور خان کی ۔۔ اُس کو اڈیالہ جیل میں بھیج دیا گیا تھا
15 سال کی سزا میں ۔۔
اور قاسم خان اپنی زندگی خوشی سے اپنی بیٹی کے ساتھ گزر رہا تھا قونین اب باتیں کرنے لگی تھی وہ چلتی پھرتی بھی تھی۔۔ قاسم اکثر اسے اپارٹمنٹ سے باہر گارڈن وغیرہ لے کر جایا کرتا تھا اور پھر وہ اپنے باپ کے ساتھ کھیلا کرتی تھی ۔۔۔
قاسم کی دنیا بن گئی تھی اس کی بیٹی۔۔۔۔ اہستہ اہستہ قاسم کا دہان لوگوں کو مارنے پر سے ہٹ کر اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزارنے میں ہونے لگا تھا ۔۔
کوئی اگر قاسم خان کو فون کر کے کہتا کہ تمہیں اس ادمی کو مارنا ہے یا اس ادمی کو مارنا ہے تو قاسم فوراً سے منع کر دیا کرتا۔۔ میرے پاس وقت نہیں ہے میں کام کر رہا ہوں بزی ہوں۔۔
قاسم نے ملیشیا میں ایک ریسٹورنٹ کھولا تھا وہ مزید اب ایسا کچھ کرنا نہیں چاہتا تھا
جس سے وہ جیل چلا جاتا اور قونین تنہا رہ جاتی ۔۔ وہ اپنی بیٹی کے لیے ہر برا کام چھوڑنے کو تیار تھا اور ہاں وہ چھوڑ رہا تھا۔۔۔ اُس کو اپنی بیٹی کے ساتھ جینا تھا نہ کے مرنا تھا
سب اپنی اپنی زندگی میں اگے بڑھ رہے تھے اگر کوئی ٹھہری ہوئی تھی تو وہ ہیر خان تھی۔۔
وہ وقت روک کے نیند میں سو رہی تھی ۔۔ گہری نیند 2 سال پرانی نیند ۔۔۔

چھوٹی ہیر اب پورا دن زرمان راجپوت کے ساتھ گزا تی تھی ۔۔۔
وہ کھانا بھی زرمان کے ساتھ کھاتی تھی۔۔۔ وہ 1 سال سے زیادہ عمر کی تھی اور
اب وہ کھانا کھاتی تھی ۔۔ زرمان کبھی باہر جاتا تو اس کے لیے باہر سے ائس کریم
لے کر اتا کبھی اس کے لیے کچھ کھانے کی چیز لے کے اتا کبھی کچھ زرمان خود عبداللہ کے ساتھ ہاسپٹل جایا کرتا تھا اس کی زندگی کی ایک روٹین بن گئی تھی
ہاں کبھی کبھی اسے پاگل پن کا دورہ پڑتا تھا لیکن اب وہ کم ہونے لگا تھا وہ اپنی حقیقی زندگی میں انے لگا تھا۔۔۔۔

اعلی۔۔۔ کسی کام میں کھویا ہوا تھا کس کام میں یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔
پہلے ہی اس نے قاسم خان کو پکڑوایا تھا۔۔۔ اور اب وہ کسی اور مشن پر تھا۔۔۔
اس کو خبر ملی تھی کے کوئی انڈین اعجنٹ جاسوسی کے لیے شہر میں گھوم رہا تھا ۔۔۔
علی کو اسے ڈھونڈنا تھا ۔۔ اور وہ پچھلے دو سالوں سے اس کو ہی ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔
سال کا اختتام تھا علی نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا ۔۔ بس اب اسے ارمی کے حوالے
کرنا تھا پھر ارمی اس کے ساتھ جو مرضی کرتی علی کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔۔۔
اس کا جو کام تھا وہ بھرپور طریقے سے کر رہا تھا۔۔۔ علی کی زندگی انہی کاموں میں
گزر جانی تھی وہ جانتا تھا شادی کا تو خیال اس نے اپنے دماغ سے نکال دیا تھا ایک
لمبا عرصہ ہوا تھا لیکن ہاں ہیر خان اسے یاد تھی۔۔ وہ اکثر اسے یاد کر کے
مسکرا اٹھتا لیکن ہیر خان سے زیادہ بڑے مسئلے اس کی زندگی میں چل رہے تھے۔۔۔۔
وہ ہیر خان سے بہت دور تھا۔۔۔ اسے دو سال ہوئے تھے اس نے ہیر کو دیکھا نہیں
تھا وہ اس سے ملا نہیں تھا وہ کیسی تھی علی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
اس کے لیے سب سے زیادہ اہم ملک تھا۔۔۔

افق مصطفی کی حالت بگڑتی جا رہی تھی وہ اب چیزوں کے نام بھولنے لگا تھا وہ اپنی ماں کو بھول جاتا تھا اس کی ماں اسے یاد کرواتی اور اسے یاد بھی نہ اتا۔۔۔
وہ سب چیزیں بھولتا جا رہا تھا اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا ریحان اکثر ان کے گھر اتا جاتا رہتا تھا ۔۔افق اس سے کوئی بات نہیں کرتا تھا افق اسے پہچانتا ہی نہیں
تھا وہ اپنی ماں کو نہیں پہچانتا تھا ۔۔افق مصطفی اپنے اپ کو بھول بیٹھا تھا افق نے
وہ کتاب لکھنا چھوڑ دی تھی منظر عام پہ انا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ پچھلے دو سال سے کوئی
بھی نہیں جانتا تھا افق مصطفی کہاں پر تھا کیسا تھا وہ کبھی کسی انٹرویو میں دیکھا ہی نہیں گیا تھا وہ غائب ہو گیا تھا اس کی جگہ اور بہت سے
اور رائٹرز نے لے لی تھی لیکن اس جیسا کوئی تھا نہیں۔۔اور نہ ہی اس جیسا کوئی ہونا تھا۔۔۔ افق کی ماں پورا پورا دن اپنے بیٹے کے ساتھ گزارتی وہ اسے چیزیں یاد کروانے کی کوشش کرتی وہ اسے یاد کروانے
کی کوشش کرتی کہ وہ خود کون تھا وہ کیا کرتا تھا وہ اسے یاد کروانے کی کوشش کرتی کہ وہ کون ہیں اس کی لیکن افق مصطفی کو کچھ بھی یاد نہیں اتا تھا۔۔۔
اس کا دماغ کام کرنا بند کر رہا تھا وہ اہستہ اہستہ سب کچھ بھولتا جا رہا تھا
وہ اپنی پہچان بھول گیا تھا وہ اپنے اپ کو بھول گیا تھا وہ اپنی ماں اپنا گھر سب کچھ بھول گیا تھا اگر یاد تھا تو بس ہیر خان۔۔۔
ایک واحد وہ لڑکی تھی جسے وہ نہیں بھول رہا تھا اور وہ اسے بھی بھول جانا چاہتا تھا بس ایک واحد وہ یاد تھی جو اس کے دماغ سے نہیں جا رہی تھی۔۔۔
وہ کتنی بھی بار اسے اپنے دماغ سے جھٹک دیتا وہ پھر اسے یاد انے لگتی اور پھر وہ اپنی ماں سے اس کی باتیں کرنے لگتا۔۔۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں
جنہیں ہم دماغ سے کتنا بھی جھٹکنا چاہیں وہ جھٹکتی نہیں ہے۔۔۔
اور ہیر خان افق مصطفی کے دماغ کی وہی یاد تھی جو بھول ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔
افق کی امی افق کو صرف گھر میں گھومنے کی اجازت دیتی تھی گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی افق مصطفی کو لیکن اس کو گھر کے اندر
سکون ہی نہیں ملتا تھا وہ اکثر بھاگ جانے کی کوششیں کرتا رہتا تھا لیکن اس دن کے بعد سے گارڈ نے کبھی بھی افق مصطفی کو گھر سے باہر نکلنے نہیں دیا تھا۔۔
ہاں افق اگر کسی دن بہت ضد کرتا کہ اسے باہر جانا ہے تو اس کی ماں اور ایک یا دو ملازم افق کے ساتھ باہر چلے جاتے تھے تاکہ افق کہیں بھاگ نہ جائے
وہ اس کا خیال ہر طرح سے رکھتے تھے۔۔اور اج افق نے یہی زد کی تھی کہ اسے باہر جانا تھا وہ پچھلے ایک ہفتے سے گھر سے باہر نہیں نکلا تھا۔۔
یہ شام کا وقت تھا۔۔ افق مصطفی کی امی اور ایک ملازم اسے لے کر گھر سے باہر نکلے تھے۔۔ افق خاموشی سے ان کے ساتھ سڑک پر چل رہا تھا۔۔۔
گاڑیاں تیز رفتاری سے ا جا رہی تھی لیکن افق کو ان سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا وہ ڈرتا نہیں تھا۔۔۔
اچانک نہ جانے افق مصطفی کو کیا ہوا وہ تیز تیز قدم ان سے اگے چلنے لگا۔۔۔
ماں نے افق کے قدموں کے ساتھ اپنے قدم ملانے چاہے تو افق نے رفتار اور بڑھا دی اور پھر وہ بھاگنے لگا۔۔ نہ جانے اسے کیا ہو گیا تھا ماں ایک دم سے پریشان ہو گئی تھی۔۔۔ سڑک پر گاڑیاں تیز رفتار سے ا جا رہی تھی ملازم
افق مصطفی کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور اس کی امی بھی افق مصطفی کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔۔ افق تیز رفتاری سے بھاگ رہا تھا اور پھر اچانک
افق مصطفی نے سڑک کراس کرنے کے لیے اپنے قدم گھما دیے۔۔۔
افق کی امی کا دل دہل کر رہ گیا ۔۔۔ افق نہیں۔۔گاڑی سے ٹکرا جائیں گے بیٹا واپس اجائیں۔۔افق کی امی اس کو واپس بلا رہی تھی
لیکن افق مصطفی نہیں سن رہا تھا۔۔۔
وہ سڑک کراس کرنے لگا بنا دیکھے کہ دائیں طرف سے ایک گاڑی پوری رفتار سے اس کی طرف ارہی تھی ۔۔۔ گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ یکدم بریک لگانا ناممکن تھا۔۔۔
ایک۔۔ دو۔۔ تین ۔۔ گاڑی کی ٹکر افق مصطفی سے لگی تھی افق بے ساختہ ہوا میں
اچھلا تھا۔۔ اور پھر وہ واپس زمین پر ا کے گرا تھا ۔۔۔
افق کی امی شال رہ گئی ۔۔ افق کے سر سے خون نکل رہا تھا وہ اتنی بری طرح سے ٹکرا کر نیچے گرا تھا اور اس کا سر بری طرح سے پیچھے سے پھٹا تھا
افق مصطفی کی انکھ سے انسو باہر گرا۔۔۔۔ ماں نے پاس ا کے بیٹے کا سر گود میں رکھا ۔۔۔ ا۔۔ افق ۔۔
افق اُٹھے ۔۔۔ افق کی سیاہ انکھوں کی چمک ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی تھی۔۔
اُس کی آنکھیں بند نہیں ہوئی تھی ۔۔ کھلی ہوئی تھی لیکن برف کی طرح جم گئی تھی ۔۔
اُس کی امی پاس بیٹھی بین ڈال رہی تھی ۔۔ ایک لمحہ لگا تھا ۔۔
افق مصطفی اپنی جان گواہ بیٹھا تھا ۔۔ وہ اُس اذیت سے رہا ہو گیا تھا ۔۔
جو اذیت وہ پچھلے ڈھائی سال سے برداشت کر رہا تھا وہ اس اذیت سے اج ازاد ہو گیا تھا۔۔ دور کہیں مغرب کی اذانوں کی اواز ارہی تھی ۔۔
اندھیرا چھا رہا تھا ۔۔ بدل گرج رہے تھے ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد نیوز چینل پر دکھایا جا رہا تھا افق مصطفی کی زندگی کا اخری حادثہ۔۔
اس کے فینز رو رہے تھے ۔۔ اس کے پیچھے رونے والے کروڑوں لوگ تھے۔۔۔۔

شام ہوئی رات ہوئی اور پھر افق مصطفی کے گھر رش ہونے لگا ۔۔
افق مصطفی کی موت کی خبر اب جا کے ریحان کے گھر والوں کو ملی تھی
سب ہی افق کے گھر جما تھے ۔۔ افق مصطفی کا جنازہ لاؤنچ میں پڑا تھا اور عورتیں رو رہی تھی ۔۔ افق کی ماں اب رو نہیں رہی تھی بس صدمے میں تھی اُن کا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا ۔۔ عشق عاشق کو کھا گیا تھا۔۔
فجر کی اذان کے فوراً بعد افق مصطفی کا جنازہ گھر سے اٹھایا گیا تھا ۔۔۔
افق کو کندھوں پر اُٹھانے والوں میں ریحان خان بھی تھا اُس کو بہت بُرا لگ رہا تھا افق مصطفی کو بے جان دیکھ کر ۔۔ اور وجہ اُس کی بہن بنی تھی ۔۔
افق کی ماں اپنے بیٹے کے جنازے کو دیکھ کر خود کو پیٹنے لگی ۔۔
وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔ وہ ایک کامیاب انسان تھا ۔۔۔
وہ ایک با روپ مرد تھا وہ اتنی جلدی کسی سے ہار نہیں مانتا تھا ۔۔
وہ محبت میں اپنی زندگی ہار گیا تھا ۔۔ وہ مصنف تھا ۔۔
الفاظوں میں جان ڈالنے والا مصنف لیکن اب وہ بے جان ہو گیا تھا ۔۔
افق کا جنازہ جیسے ہی مصطفیٰ منزل سے باہر نکلا بارش نے افق مصطفی کا استقبال
کیا تھا ۔۔ بارش کی بوندیں افق مصطفی کا استقبال کر رہی تھی ۔۔
اُس کے دنیا سے جانے کی خبر سنا رہی تھی ۔۔ فجر کے بعد افق مصطفی کو
اللہ کے حوالے کر دیا گیا مٹی کے نیچے ۔۔ افق مصطفی کو کسی قبرستان میں
نہیں دفنایا گیا تھا ۔۔ بلکہ افق مصطفی کو اس کے گھر کے پیچھے بنے گارڈن میں
دفن کیا گیا تھا ۔۔ وہ اتنا عام تو نہیں تھا کے وہ سب کے ساتھ قبرستان میں مدفن ہوتا ۔۔
وہ بہت خاص تھا ۔۔ اُس کو کہیں سکون نہیں اتا تھا لیکن اب اس کو ہمیشہ
کے لیے سکون مل گیا تھا وہ گھر کا اکلوتا مرد ۔۔ وہ ہزاروں دلوں کو فتح کرنے والا افق مصطفی مر گیا تھا ۔۔۔ “

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *