The last registry episode 2
ازقلم ردا فاطمہ، نیہا گوہری
زارون مرزا کا گھر کسی محل سے کم نہ تھا۔ ایک عالیشان، وسیع اور پرشکوہ بنگلہ، جس کا لاؤنج قیمتی فرنیچر، مہنگے پردوں اور خوبصورت جھاڑ فانوس سے سجا ہوا تھا۔
صبح کا وقت تھا اور مرزا صاحب (زارون کے بابا) لاؤنج میں بیٹھے چائے پی رہے تھے ۔ زارون کی امی ابھی اپنے کمرے میں ہی تھیں اور باہر نہیں آئی تھیں۔
اسی دوران زارون نیند کی حالت میں، نائٹ ڈریس پہنے اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ اس کی آنکھوں میں ابھی تک نیند کا خمار تھا اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ سست قدموں سے چلتا ہوا لاؤنج کی طرف آیا اور دھیمی آواز میں بولا:
گڈ مارننگ، ڈیڈ
بابا نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور تیکھی اور طنزیہ نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔
اٹھ گئے صاحبزادے؟ سچی بات ہے، یہ گھر تمہارا ہی تو ہے، ہم ماں باپ تو یہاں بس مہمان ہیں۔ جب مرضی ہو سو جاؤ، جب دل چاہے اٹھو۔ تمہیں ہمارا کوئی حال پوچھنے کی زحمت ہی نہیں ہوتی… باپ زندہ ہے یا مر گیا، اس سے تمہیں کیا غرض؟
زارون دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گیا۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی اتنی ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا، اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ اس نے شرمندگی اور دکھ سے اپنی نظریں جھکا لیں اور دھیمے لہجے میں کہا:
سوری ڈیڈ! رات کو ذرا دیر سے سویا تھا
ہاں ہاں، یہی بہانے ہیں تمہارے پاس۔ جب مرضی ہو سوؤ، جب دل چاہے اٹھو۔ زندگی کا کوئی قاعدہ، کوئی روٹین ہی نہیں ہے تمہاری مرزا صاحب نے غصے سے اخبار اٹھاتے ہوئے بات کاٹ دی۔
زارون نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور خاموشی سے الٹے قدموں اپنے کمرے کی طرف واپس چل دیا۔
کمرے میں واپس آ کر وہ آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ آئینے میں اس کا عکس نمایاں تھا۔ سانولی رنگت، گہری جھیل جیسی آنکھیں اور تیکھے نقوش… وہ بلا کا حسین تھا۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسا جادو تھا کہ وہ جسے دیکھ لیتا، اپنا اسیر بنا لیتا۔ لوگ اس کے ایک اشارے پر فدا ہونے کو تیار رہتے تھے، لیکن ایک اس کے اپنے ماں باپ تھے جو اسے جیسے دیکھنا ہی نہیں چاہتے تھے، اس سے محبت ہی نہیں کرتے تھے۔
کیا ماں باپ بھی کبھی ایسے ہو سکتے ہیں؟ زارون کے دل میں ایک گہرا زخم ابھرا۔
اس نے جھٹکے سے اپنا سر ہلایا، جیسے اس اداس سوچ کو اپنے ذہن سے نکال پھینکنا چاہتا ہو۔ وہ واش روم چلا گیا اور کچھ دیر بعد نہا کر تازہ دم ہو کر باہر نکلا۔ گیلے بالوں کو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر سلیقے سے بنایا، اپنے پسندیدہ پرفیوم کی کچھ بوندیں چھڑکیں اور ایک بار پھر اپنے کمرے سے باہر نکل آیا۔
اب لاؤنج کا منظر بدل چکا تھا۔ بابا آفس جا چکے تھے اور اب وہاں اس کی امی بیٹھی ہوئی تھیں۔
زارون نے ان کے قریب جا کر نرمی سے کہا:
گڈ مارننگ، مم
امی نے سر اٹھا کر اپنے بیٹے کو دیکھا۔ زارون نے غور کیا کہ ان کے چہرے پر ممتا کی کوئی رمق، کوئی تڑپ یا پیار کی کوئی جلاک نہ تھی۔
کتنا لیٔٹ اٹھے ہو تم، زارون؟ انہوں نے سرد لہجے میں پوچھا۔
زارون نے خاموشی سے ماں کے سپاٹ چہرے کو دیکھا اور بولا:
بس مم، آج آنکھ ذرا دیر سے کھلی۔
تم نے تو اپنی زندگی کو ایک تماشا، ایک ڈرامہ بنا رکھا ہے۔
کچھ تو ذمہ داری کا احساس کرو، اپنے باپ کے ساتھ کبھی آفس ہی چلے جایا کرو۔” امی کا لہجہ کاٹ دار تھا۔
زارون وہاں کچھ دیر ساکت کھڑا رہا، جیسے اس طنز کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر بغیر کچھ کہے، خاموشی سے قدم بڑھاتا ہوا گھر کے بڑے دروازے سے باہر نکل گیا۔
______________________
سینتوسا کوو، سنگاپور — صبح 9 بجے
سہراب احمد کا گھر کسی محل سے کم نہ تھا۔
سفید سنگِ مرمر سے بنا ہوا تین منزلہ عالیشان بنگلہ۔ باہر بیس فٹ اونچا لوہے کا گیٹ تھا۔ گیٹ کے دونوں طرف بلیک سوٹ میں ملبوس گارڈز ہاتھوں میں واکی ٹاکی لیے پوری چوکسی سے کھڑے تھے۔
گیٹ کے اندر داخل ہوتے ہی ایک وسیع و عریض لان تھا۔ ہری بھری گھاس، درمیان میں سنگِ مرمر کا خوبصورت فوارہ، جس سے اُڑتی پانی کی بوندیں دھوپ میں موتیوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ لان کے ایک کونے میں قطار سے کھڑی کالی BMW، رینج روور اور مرسڈیز اس گھر کی شان میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔
گھر کے اندر قدم رکھتے ہی ٹھنڈی ہوا کا خوشگوار جھونکا محسوس ہوتا تھا۔ فرش اتنا شفاف تھا کہ اس میں اپنا عکس صاف دکھائی دیتا تھا۔
لاؤنج میں قیمتی صوفے، مہنگے پردے اور چھت سے لٹکتا ہوا کرسٹل کا عظیم الشان جھومر اپنی چمک بکھیر رہا تھا۔ دیواروں پر قیمتی پینٹنگز آویزاں تھیں۔
تمام نوکر ادب سے ایک طرف کھڑے تھے۔ جو بھی ان کے سامنے سے گزرتا، وہ فوراً سر جھکا کر سلام کرتے۔
اوپر والی منزل پر سب سے بڑا کمرہ سہراب کا تھا۔
کمرے کی تھیم مکمل بلیک اینڈ سلور تھی۔ ایک طرف کنگ سائز بلیک بیڈ تھا، جس پر سلور رنگ کی چادر بچھی ہوئی تھی۔ دوسری طرف واک اِن الماری تھی، جہاں مہنگے سوٹ، گھڑیاں اور پرفیوم ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ سامنے والی پوری دیوار شیشے کی تھی، جس کے پار سینتوسا کا نیلگوں سمندر دکھائی دیتا تھا۔ کمرے میں صرف اے سی کی ہلکی سرسراہٹ اور خاموشی تھی۔
بیڈ پر سہراب گہری نیند میں سو رہا تھا۔ اس نے بلیک نائٹ ڈریس پہن رکھا تھا۔ چہرے پر غیر معمولی سکون تھا اور ایک بازو تکیے پر رکھا ہوا تھا۔
اچانک سائیڈ ٹیبل پر رکھا موبائل بج اٹھا۔
سہراب نے نیم غنودگی میں آنکھیں کھولیں، موبائل اٹھایا اور کان سے لگا لیا۔
سہراب: بھاری اور نیند بھری آواز میں
ہاں… بولو۔
دوسری طرف سے خبر سنتے ہی وہ ایک لمحے میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ آنکھوں سے نیند مکمل غائب ہو چکی تھی۔
سہراب:
کیا؟… ٹھیک ہے، میں ابھی آ رہا ہوں۔
اس نے کال کاٹی اور سیدھا واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
شاور کھولا تو ٹھنڈا پانی اوپر سے اس کے جسم پر برسنے لگا۔ اس نے چند لمحے آنکھیں بند رکھیں، پھر سر پیچھے کر کے گہرا سانس لیا اور بالوں سے پانی جھٹک دیا۔
دس منٹ بعد وہ تولیہ لپیٹے باہر آیا۔ جسم خشک کیا، الماری کھولی اور کالی پریس شدہ پینٹ کے ساتھ سفید فولڈنگ آستینوں والی شرٹ نکالی۔ شرٹ پہن کر ایک ایک بٹن بند کیا، پھر دونوں آستینیں کہنی تک فولڈ کر دیں۔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے کلائی پر پلاٹینم کی مہنگی گھڑی باندھی۔ پھر اپنے سگنیچر پرفیوم کی دو بوندیں گردن پر اسپرے کیں، جن کی خوشبو پورے کمرے میں پھیل گئی۔
میز سے کالا چشمہ اٹھایا، آنکھوں پر لگایا، جیب سے BMW کی چابی نکالی اور انگلی پر گھماتا ہوا نیچے چلا آیا۔
نیچے لاؤنج کا منظر مختلف تھا۔
راحلہ بیگم ڈائننگ ٹیبل کے پاس کھڑی نوکروں کو ہدایات دے رہی تھیں۔
راحلہ بیگم:
ناشتے میں پراٹھے، آملیٹ اور تازہ جوس لگا دو۔ صاحب کو دیر ہو رہی ہے۔
نوکر:
جی، بیگم صاحبہ۔
دوسری طرف مرزا وقار صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے اور ان کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔
سہراب سیڑھیوں سے نیچے اترا۔
راحلہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا،
بیٹا، تم اٹھ گئے؟ آؤ، ناشتہ کر لو۔
سہراب:
جی اماں… بس دو منٹ۔
وہ خاموشی سے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا اور ناشتہ کرنے لگا۔
ناشتہ ختم ہوتے ہی مرزا وقار نے اخبار تہہ کیا اور سنجیدہ لہجے میں بولے،
سہراب، آج سے تم میرے ساتھ آفس چلو گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تم کاروبار سنبھالو۔
سہراب نے آہستہ سے چمچ میز پر رکھا، نظریں اٹھا کر سیدھا اپنے والد کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پرسکون لہجے میں کہا،
نہیں ابو… میں نہیں جاؤں گا۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
راحلہ بیگم نے فوراً بات سنبھالی۔
کوئی بات نہیں۔ جب اس کا دل کرے گا، تب چلا جائے گا۔
سہراب خاموشی سے اٹھا، ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا اور باہر نکل گیا۔
لان میں کھڑی کالی BMW دھوپ میں چمک رہی تھی، جبکہ پیچھے گارڈز اپنی بلیک SUV میں پہلے ہی تیار بیٹھے تھے۔
جیسے ہی سہراب سیڑھیوں سے نیچے اترا، دو گارڈز فوراً آگے بڑھے۔ ایک نے احترام سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
مالک، تشریف رکھیے۔
سہراب بغیر کچھ کہے گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس نے شیشہ اوپر کیا اور مختصر سا حکم دیا،
چلو۔
آہستہ آہستہ گیٹ کھلا۔ BMW سڑک پر نکل گئی، جبکہ پیچھے گارڈز کی SUV سایے کی طرح اس کے ساتھ روانہ ہو گئی۔
راحلہ بیگم کھڑکی کے پاس خاموش کھڑی رہیں، یہاں تک کہ گاڑی موڑ مڑ کر ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
_________________
صبح کے 8 بجے تھے
ارہمہ بیگ میں آخری نوٹس رکھ ہی رہی تھی کہ میز پر رکھا فون بج اٹھا۔ سکرین پر قندیل کا نام تھا
ارہمہ:ہاں قندیل؟ میں نکل رہی ہوں
قندیل:یار ارہمہ، آج میں یونی نہیں آ سکوں گی۔ ماما کی
طبیعت ٹھیک نہیں ہے
ارہمہ کا ہاتھ ایک لمحے کے لیے رک گیا۔
ارہمہ:کیا ہوا انٹی کو؟ سب خیریت ہے نا؟
قندیل: نہیں کوئی سیریس بات نہیں۔ بس ہلکا سا بخار ہے۔ تم ٹینشن مت لو
ارہمہ نے سکون کا سانس لیا۔
ارہمہ: اچھا شکر ہے۔ خیال رکھنا ان کا
قندیل:ہاں رکھوں گی۔ تم اپنا خیال رکھنا۔ آج اکیلی مینج کر لینا؟
ارہمہ:_بیگ کا سٹرپ ٹھیک کرتے ہوئے_ ہاں کر لوں گی۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ کل پکی آنا
قندیل:پکا۔ سوری یار
ارہمہ:کوئی بات نہیں۔ بائے، اپنا خیال رکھنا
کال بند ہوئی۔
ارہمہ نے فون بیگ میں رکھا، دروازہ لاک کیا اور نکل گئی۔
یونی پہنچنے کے بعد اس نے لیکچر لیا اور پھر باہر کی طرف آ گئی۔
کارڈور میں کافی رش تھا۔ ارد گرد لڑکے لڑکیوں کے گروپ ہنستے باتیں کر رہے تھے۔
اسے واقعی قندیل کی کمی محسوس ہو رہی تھی
دوپہر کا وقت تھا۔ ارہمہ نوٹس گود میں دبائے اکیلی جا رہی تھی۔
سامنے سے سائم اور فُضیل ٹکرا گئے۔
سائم:_راستہ روک کر_ ارہمہ! 2 دن سے آواز دے رہے ہیں۔ بہری ہو کیا تم؟
فُضیل: _تنگ کرتے ہوئے، ہنس کر_ بھئی آج تمہاری دوست قندیل بھی نہیں آئی؟ اکیلی گھوم رہی ہو؟ آ جاؤ ہم کمپنی دے دیتے ہیں
ارہمہ:بے پرواہی سے کوئی ضرورت نہیں ہے
سائم: _غصے سے_ اوہو! جونیئر ہو کر اتنا ایٹیوڈ؟ سینئرز کی عزت ہی نہیں کرتی تم؟
ارہمہ: _آنکھیں اوپر کر کے، سرد لہجے میں_ عزت کمانے سے ملتی ہے سائم۔ مانگنے سے نہیں۔ اور تم دونوں نے کیا کمایا ہے آج تک؟
فُضیل:ہاں یار۔ چلو ہمارے ساتھ بیٹھو اصول سمجھاتے ہیں تمہیں
ارہمہ: اصول؟ جن کے خود نہیں ہیں وہ دوسروں کو کیا سکھائیں گے؟ یونی میں آکر لڑکیاں تنگ کرتے ہو، یہی اصول ہے تمہارا؟
سائم: _چڑ کر_ دیکھو، منہ مت کھولو۔ ہم سینئر ہیں۔ تھوڑا لحاظ کرو
ارہمہ: لحاظ؟ جس دن تم لوگوں نے لحاظ کرنا سیکھ لیا نا اس دن میں بھی کر لوں گی۔ ابھی کے لیے راستہ دو
فُضیل: بہت زبان چلتی ہے تمہاری ۔ چلو بیٹھ کر بات کرتے ہیں
ارہمہ:_فائل زور سے بند کر کے_ تم بند کرو اپنی بکواس۔ راستہ چھوڑو۔ ورنہ؟
سائم:_انگلی اٹھا کر_ ورنہ کیا کر لو گی؟ ہاں؟
فُضیل:_ہنس کر_ ورنہ کیا؟ مارو گی؟ لگاؤ ہاتھ
اور اس نے ارہمہ کا دوپٹہ کھینچنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
ارہمہ ایک دم پیچھے ہوئی۔ غصے سے لال ہو گئی۔
ارہمہ: _زور کا تھپڑ مار کر_ خبردار جو ہاتھ لگایا تو!
_تھپاڑ_ کی آواز پورے کارڈور میں گونجی۔
سب رک کر دیکھنے لگے۔
فُضیل کے گال لال ہو گئے۔ وہ غصے سے آگے بڑھا۔
فُضیل: تو نے مجھے تھپڑ مارا؟
اسی وقت پیچھے سے ایک ٹھنڈی آواز آئی۔
احد: ہاں۔ اسی نے مارا۔ اور بالکل ٹھیک کیا
سب پلٹے۔ احد کافی دیر سے پیچھے کھڑا سب نوٹ کر رہا تھا۔ ہاتھ جیب میں، جبڑا بھینچا ہوا۔
سائم: احد تو درمیان میں مت آ
احد: _آگے بڑھ کر ارہمہ کے ساتھ کھڑا ہو گیا_ درمیان میں؟ جب کوئی لڑکی پر ہاتھ اٹھائے گا تو میں درمیان میں ہی آؤں گا
فُضیل: _غصے سے_ یہ ہماری جونیئر ہے
احد:_اس کا کالر پکڑ کر_ جونیئر ہے تو انسان ہے۔ اور تم لوگ جانور؟ شرم نہیں آتی؟
سائم: احد بڑا آیا ہیرو بننے والا
احد: ہیرو نہیں۔ انسان ہوں۔ جو تم لوگ نہیں ہو
دھکم پیل شروع ہو گئی۔ احد نے سائم کو مکا مارا، فُضیل کو دھکا دے کر دیوار سے لگا دیا۔
کرسیاں گریں، شور مچ گیا۔ پورا کارڈور جمع ہو گیا۔ ویڈیوز بننے لگیں۔
احد: _چیخ کر_ آئندہ ارہمہ کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا نا .. توڑ دوں گا تم دونوں کو!
سیکیورٹی نے آ کر بیچ بچاؤ کیا۔ تب جا کر معاملہ رکا۔
سائم اور فُضیل گرتے پڑتے اٹھے۔ جاتے جاتے…
سائم: _انگلی دکھا کر_ تُجھے تو ہم دیکھ لیں گے احد
احد:_خون صاف کرتے ہوئے، سرد لہجے میں_ ہاں ہاں جاؤ دیکھ لینا
وہ دونوں غصے سے نکل گئے۔
احد کی ناک سے خون آ رہا تھا۔ وہ سانس لے رہا تھا۔
ارہمہ ابھی بھی غصے میں تھی پر اندر سے کانپ رہی تھی۔
ارہمہ: _دھیمی آواز میں_ ڈرامہ کر دیا
احد: _زخم صاف کرتے ہوئے، ہلکا سا مسکرا کر_ ڈرامہ؟ تم نے تھپڑ مارا، میں نے فائٹ۔ برابر ہو گیا
ارہمہ:مجھے ضرورت نہیں تھی تمہاری
احد: _اس کی آنکھوں میں دیکھ کر_ “مجھے تھی۔ کافی دیر سے دیکھ رہا تھا۔ برداشت نہیں ہوا
ارہمہ نے نظر چرا لی ۔
سیکیورٹی والے ان لڑکوں کو ساتھ لے کر جا چکے تھے اور ہال میں ایک عجیب سا سناٹا پھیل گیا تھا۔ سب کی نظریں اب بھی ارحمہ پر تھیں۔ وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی، سانس بحال کرنے کی کوش کرتی رہی۔ پھر بیگ کندھے پر لٹکایا اور بنا کسی کی طرف دیکھے گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔
پیچھے سے اچانک آواز آئی: ارحمہ رکو
وہ رک تو گئی مگر مڑی نہیں۔ آہد اس کے قریب آیا اور بولا: آج میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔
ارحمہ نے دھیمی مگر صاف آواز میں کہا: نہیں، بہت شکریہ۔
ضد مت کرو، اکیلی جانا ٹھیک نہیں۔
ارحمہ نے سر اٹھا کر کہا: میں خود چلی جاؤں گی، مجھے عادت ہے” اور تیز قدموں سے باہر نکل گئی۔
اور پیچھے احد خود سے بولا: _اس لڑکی کا تھپڑ بھی کمال کا تھا… اور اکڑ بھی
آہد چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔ پھر گہری سانس لے کر وہ بھی پلٹ گیا اور لائبریری کی طرف چلا گیا۔
دور لان کے کونے میں بیٹھا سائم یہ سب دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی ارحمہ گیٹ سے نکلی، وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا: اس لڑکی کی آنا بھی لاجواب ہے ۔ تھپڑ بھی مارے اور مدد بھی لینے سے انکار کر دیا۔
اس کی نظریں ارحمہ کو جاتے ہوئے دیکھتی رہیں جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گئی۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ اور آنکھوں میں وحشت تھی۔ پھر وہ بھی اٹھ کر چلا گیا۔
ارحمہ باہر آ کر رکشہ میں بیٹھی اور پورے راستے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔ دل میں غصہ بھی تھا، تھکن بھی اور ایک عجیب سی بےچینی بھی۔
گھر کا دروازہ کھلا تو امی فوراً سامنے آ گئیں۔ انہوں نے پوچھا: بیٹا اتنی جلدی؟ اور چہرہ کیوں اترا ہوا ہے؟
ارحمہ نے بات ٹال کر کہا: کچھ نہیں امی، بس سر میں درد ہے۔ آج لیکچر زیادہ تھے۔
امی نے فوراً دوا اور پانی لا کر دیا۔ ارحمہ نے گولی کھائی اور کمرے میں جا کر لیٹ گئی۔ تھکن کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں اسے نیند آ گئی۔
شام کو جب آنکھ کھلی تو سر کا درد کم تھا۔ وہ اٹھ کر وضو کر کے امی کے پاس کچن میں آ گئی امی رات کے کھانے کی تیاری کررہی تھی ارحما نے اپنے اور امی کے لیے چاے بنائی ۔ دونوں نے مل کر چائے پی اور نارمل باتیں کیں۔
شام کا وقت تھا۔ گھر میں ہلکی سی خاموشی تھی۔ ارحمہ کچن میں امی کے ساتھ چائے کے کپ دھو رہی تھی جب گیٹ کی گھنٹی بجی۔ امی نے کہا دیکھو ہارون آ گیا ہو گا
ارحمہ نے جا کر دروازہ کھولا تو ہارون کوچنگ سے واپس آیا تھا۔ چہرے پر تھکاوٹ اور پسینہ۔ بیگ ایک طرف پھینک کر وہ سیدھا کچن میں گیا اور فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل نکال کر گلاس میں ڈالنے لگا۔
ارحمہ نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑا بس بس رکو۔ اتنی جلدی کون پیتا ہے؟ آرام سے پیو، گلہ خراب کر لو گے۔
ہارون نے ہنستے ہوئے کہا اپی پیاس لگی ہے بہت
ہاں لیکن پھر بھی اسے پانی پیو گے تو بیمار ہو جاؤ گے
ارحمہ نے گلاس اس کے ہاتھ میں دیا اور ساتھ بیٹھ گئی اچھا چلو بتاؤ آج دن کیسا گیا؟
ہارون نے ایک سانس میں آدھا پانی ختم کیا اور بولا بس اپی تھک گیا۔ کالج میں پریزنٹیشن تھی اور کوچنگ میں سر نے بہت ڈانٹا۔ مگر آپ کو پتہ ہے آج میں نے ایک سوال سب سے پہلے حل کیا تھا
چلو یہ تو بہت اچھی بات ہے پھر۔
ارحمہ نے فخر سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا شاباش میرے شیر۔ یہی تو میرا بھائی ہے
ہارون نے شرارت سے کہا ہاں ہاں تعریفیں بعد میں کرنا۔ پہلے بتاؤ چائے ملے گی یا نہیں؟
ارحمہ نے اسے ہلکا سا گھورا ملے گی ملے گی۔ پہلے سانس تو لے لو۔
اتنے میں گیٹ پھر سے کھلا۔ ابو آفیس سے آئے تھے۔ کوٹ اتار کر وہ سیدھے صوفے پر بیٹھ گئے۔ چہرے پر دن بھر کی تھکاوٹ تھی۔ امی فوراً پانی لے کر آئیں۔ ابو نے گلاس خالی کیا اور گہری سانس لے کر بولے اللہ کا شکر ہے گھر آ گیا
کیا بنایا ہے بلقیس بیگم آج
دال چاول بنائیں ہے اورحما جواب دیتی ہے
کچھ دیر سب ہلکی پھلکی باتیں کرتے رہے۔ موسم، ٹریفک، آفیس کی باتیں۔ پھر ابو نے کھڑے ہو کر کہا چلو تم لوگ کھانا لگاؤ۔ میں فریش ہو کر نماز پڑھ کر آتا ہوں۔
جی ٹھیک ہے ابو
ابو کمرے میں چلے گئے۔ امی اور ارحمہ نے مل کر ڈائننگ ٹیبل لگا دیا۔ ملائیشیا میں رہنے کی وجہ سے ان کی عادت تھی کہ سب کھانا ڈائننگ ٹیبل پر ہی کھاتے تھے۔ امی نے دال چاول اور ساتھ میں ہارون کی فیورٹ چٹنی رکھی۔ ہارون نے میز پر بیٹھتے ہوئے کہا اپی آج بھوک بہت لگی ہے
کچھ دیر بعد ابو نماز پڑھ کر آ گئے۔ وضو کے بعد چہرے پر سکون تھا۔ وہ بھی ڈائننگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گئے۔
کھانے کے دوران ابو نے پہلے ارحمہ کی طرف دیکھا بیٹا یونی کیسی جا رہی ہے؟ امتحان کب سے ہے
ارحمہ نے سر ہلایا جی ابو ٹھیک ہے۔ بس تھوڑا پریشر ہے اور امتحان کی ابھی تاریخ نہیں آئی
پھر ابو نے ہارون کی طرف رخ کیا اور بیٹا تمہاری پڑھائی کا کیا حال ہے؟ کہاں تک پہنچی؟ ٹیسٹ کی تیاری کی پڑھائی پر دھیان دیتے بھی ہو یا نہیں؟
ہارون نے روٹی کا نوالہ توڑتے ہوئے کہا جی ابو بس چل رہی ہے۔ کل میتھ کا ٹیسٹ ہے، اس کی تیاری کر رہا ہوں۔ سر نے کہا ہے اس بار ٹاپ کرنا ہے
ابو نے فخر سے سر ہلایا شاباش۔ محنت کرو گے تو نام روشن کرو گے۔
ہارون فوراً شرارتی ہو گیا ابو مجھے تو لگ رہا ہے یہ پاگلوں کی پڑھائی پڑھ پڑھ کے، سائیکالوجی پڑھ پڑھ کے خود ہی سائیکو ہو جائے گی
ابو نے گھور کر کہا بدتمیزی مت کرو، بڑی بہن ہے تمہاری۔
ہارون ہنس کر بولا ارے ابو میں تو مذاق کر رہا ہوں۔ اپی آپ جلدی سے پڑھ لو، پھر آپ کو ہم کلینک کھلوا کر دیں گے۔ آپ نا لوگوں کا علاج کر دینا
امی نے ہنستے ہوئے کہا ہاں سب سے پہلے اسی کا علاج کروں گی۔ سارا دن شرارتیں کرتا رہتا ہے اتنے بڑے ہو گئے ہو عقل نہیں آرہی تم میں
یہ سن کر سب ہنس پڑے۔ کھانے کے بعد ابو نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اللہ دونوں کو کامیاب کرے۔ نظرِ بد سے بچائے ارحمہ نے سر جھکا لیا اور آہستہ سے کہا آمین ابو رات کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔ باہر ملائیشیا کی ٹھنڈی ہوا کھڑکی کے پردوں سے کھیل رہی تھی۔
کھانے کے بعد گھر میں عجیب سی سکون والی خاموشی تھی۔ ابو لاؤنج میں اخبار کے پیچھے چھپے بیٹھے تھے، کبھی کبھی چائے کی چسکی لیتے۔ امی ہارون کے میتھ کے نوٹس چیک کر رہی تھیں اور ہر غلطی پر ہلکی سی ڈانٹ بھی لگا رہی تھیں۔ ہارون منہ بنا کر بیٹھا تھا امی بس کریں نا، سر خود سمجھائیں گے
ارحمہ؟
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ ہاتھ میں خالی چائے کا کپ۔ نظر باہر اندھیرے میں گم۔
دن بھر کی تھکن تھی۔ ہال کا وہ منظر۔ سائم کی وہ شیطانی مسکراہٹ۔ لڑکیوں کی سرگوشیاں۔ سب کچھ دل کے کسی کونے میں کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا۔
مگر پھر پیچھے سے آواز آئی اپی، میرے لیے ایک کپ چائے بنا دیں؟
ہارون تھا۔ تھکا ہوا، مگر شرارتی۔
ارحمہ نے پلٹ کر دیکھا۔ گھر میں روشنی تھی۔ ابو کی ہنسی تھی۔ امی کی ڈانٹ تھی۔ ہارون کی ضد تھی۔
اور اچانک دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا۔
ہاں۔ سب نارمل تھا۔ اور اسے نارمل ہی رہنا تھا۔
رات کے گیارہ بج گئے۔
ابو نے کہا چلو بیٹا سو جاؤ۔ کل سب کو جلدی اٹھنا ہے
ارحمہ کو یونیورسٹی، ہارون کو کالج، اور ابو کو آفیس۔
سب اپنے کمروں میں چلے گئے۔ لائٹس بند ہو گئیں۔
صرف ارحمہ کی میز کا لیمپ جل رہا تھا۔ وہ ڈائری کھول کر بیٹھی۔ پہلا صفحہ۔ پہلا لفظ۔
آج کا دن عجیب تھا…
اور پھر لیمپ بھی بند۔ گھر میں مکمل اندھیرا۔
ــــــــــرات پوری طرح کوالا لمپور پر
دور پیٹروناس ٹاور کی جڑواں عمارتیں آسمان میں سوئیوں کی طرح چبھی ہوئی تھیں۔ ان کی سنہری روشنیاں شہر کے اوپر ایک تاج کی طرح جگمگا رہی تھیں۔ نیچے سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں، دکانوں کے بورڈ، کیفے کی موسیقی اور لوگوں کی ہنسی۔ باہر سے دیکھنے پر یہ شہر بالکل نارمل لگ رہا تھا۔ جیسے یہاں کبھی کوئی جنگ، کوئی سازش، کوئی اندھیرا ہو ہی نہیں سکتا۔ مگر اسی شہر کی چمکتی ہوئی سطح کے نیچے، اسی روشنی کے سائے میں، ایک اور کھیل شروع ہو چکا تھا۔ ایک ایسی جنگ جس کا اعلان اخباروں میں نہیں ہوگا۔ ایک ایسی جنگ جس کی پہلی گولی ابھی تک نہیں چلی تھی، لیکن جس کی گونج پورے انڈرورلڈ کو ہلا دینے والی تھی۔
پہنچنے سے لے کر ٹھکانے تک
کچھ گھنٹے پہلے کوالا لمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رات کے 11 بجے تین الگ الگ فلائٹس لینڈ ہوئی تھیں۔ سنگاپور سے، دوبئی سے، اور استنبول سے۔ کوئی گروپ میں نہیں تھا۔ کوئی ایک دوسرے کو نہیں جانتا تھا۔ ہر بندہ اکیلا۔ ہر چہرہ نیا۔ ہر سوٹ کیس بالکل عام۔ کسی کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ، کسی کے ہاتھ میں ٹریول بیگ۔ امیگریشن کاؤنٹر پر سب نے مسکرا کر پاسپورٹ دیا۔ مقصد بزنس ٹریپ توریسم کسٹم سے نکلتے ہوئے کسی نے ایک اضافی سوال تک نہیں کیا۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ہر ایک نے الگ ٹیکسی لی۔ الگ راستہ چنا۔ الگ وقت پر روانہ ہوا۔ تاکہ اگر کوئی نظر رکھ بھی رہا ہو تو لنک نہ جوڑ سکے۔ کسی نے گریب بک کی، کسی نے ٹیکسی لی، کوئی بس میں بیٹھ گیا۔ اور ٹھیک ایک گھنٹے کے اندر شہر کے پرانے صنعتی علاقے میں، جہاں رات کو سناٹا ہوتا ہے اور پولیس کا گشت کم، وہاں ایک زنگ آلود گیٹ کے پیچھے سب جمع ہو گئے۔ باہر سے یہ عمارت ایک بند گودام لگتی تھی۔ دیواروں پر پرانے پوسٹر، گیٹ پر تالا۔ اندر قدم رکھتے ہی منظر بدل گیا۔ LED لائٹس، سیکیورٹی کیمرے، کمیونیکیشن سسٹم، اسلحے کے لاکر۔ یہی تھی بلیک روز غروپ کا عارضی سیف ہاؤس۔ یہی ان کی منزل تھی۔ یہی ان کا ٹھکانہ۔ دروازہ بند ہوتے ہی باہر کی دنیا ختم ہو گئی۔ اب اندر صرف وہ تھے… اور ان کا مقصد۔
BLACK ROSE SAFE HOUSE
سیف ہاؤس مکمل خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس خاموشی میں بھی ایک دباؤ تھا۔ ایک ایسا وزن جو سانسوں پر پڑ رہا تھا۔ کمرے کے درمیان چھت سے لٹکی بڑی LED اسکرین پر ملیشیا کا پورا ڈیجیٹل نقشہ کھلا تھا۔ نقشے پر درجنوں سفید نشانات چمک رہے تھے۔ ہر نشان ایک جگہ تھی۔ ہر جگہ کے پیچھے ہفتوں کی محنت تھی۔ راتوں کی نگرانی، خفیہ تصاویر، فون کالز کی ریکارڈنگ، لوگوں کے نام۔ ہوا میں صرف ایئرکنڈیشن کی سرسراہٹ اور کمپیوٹرز کی ہلکی بیپ سنائی دے رہی تھی۔ میز کے سرے پر وہ بیٹھا تھا۔ کالی جیکٹ۔ کالے دستانے۔ چہرہ جان بوجھ کر سائے میں رکھا ہوا۔ نام کوئی نہیں لے رہا تھا۔ کیونکہ اس کمرے میں نام لینے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ سب جانتے تھے یہ کون ہے۔ فیصل نے آگے بڑھ کر ایک موٹی سیاہ فائل میز پر رکھی۔ فائل کے کونوں پر نشان تھے۔ کاغذوں کی سرسراہٹ نے خاموشی توڑی۔ سر… مرزا گروپ کے کاروبار، راستے، لوگوں اور نیٹ ورک کی کافی معلومات اکٹھی ہو چکی ہیں۔میز کے سرے پر بیٹھے شخص نے فائل کو چھوا تک نہیں۔ بس آنکھیں اسکرین پر جمی رہیں۔ چند لمحوں تک سناٹا رہا۔ صرف اس شخص کی گہری سانسوں کی آواز۔ اور؟ آخر اس نے پوچھا۔ آواز دھیمی تھی۔ لیکن اس دو لفظ میں حکم، سوال اور تنبیہ تینوں تھے۔ فیصل ایک لمحے کو رکا۔ گلہ صاف کیا۔ نظر نیچے کر لی۔ سر… ہم نے ہر ممکن کوشش کی… اس نے فائل کھولی۔ اندر تصاویر، چارٹ، نام۔ لیکن… وہ رکا۔ .ابھی تک ہمیں ان کی کوئی کمزوری نہیں ملی۔ کمرے میں دوبارہ سناٹا چھا گیا۔ اس بار پہلے سے گہرا۔ مرزا گروپ 20 سال سے ملیشیا پر حکومت کر رہا تھا۔ وہ صرف طاقتور نہیں تھا… وہ منظم تھا۔ بےحد منظم۔ اس کا ہر کاروبار قانونی کاغذوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ ہر بڑا آدمی اس کا دوست تھا۔ ہر چھوٹا آدمی اس سے ڈرتا تھا۔ اس کی دیواریں اینٹوں کی نہیں تھیں۔ وہ رشتوں، پیسے اور خوف سے بنی ہوئی تھیں۔ اور منظم دشمن کی سب سے خطرناک بات یہی ہوتی ہے کہ اس کی کمزوری نظر نہیں آتی۔ اسے ڈھونڈنے کے لیے پہلے اس کی پوری دیوار کو سمجھنا پڑتا ہے۔ ایک اینٹ۔ میز کے سرے پر بیٹھا شخص آہستہ سے اٹھا۔ اسکرین کے قریب گیا۔ انگلی سے ایک سفید نشان پر لکیر کھینچی۔ کئی سیکنڈ بعد اس نے ہاتھ نیچے کیا۔ “تلاش جاری رکھو۔اس کی آواز میں جلدی نہیں تھی۔ غصہ نہیں تھا۔ مایوسی نہیں تھی۔ صرف برف جیسی ٹھنڈک تھی جو ہڈیوں تک جاتی تھی۔ ہر انسان کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے…ہر سلطنت میں کوئی نہ کوئی دراڑ ہوتی ہے…اگر آج نہیں ملی… تو کل مل جائے گی۔ اور اگر کل نہیں ملی… تو ہم وہ دراڑ خود بنائیں گے۔ اینٹ اینٹ کر کے سب نے سر جھکا کر ہاں کہا۔ اسی وقت دروازہ کھلا۔ ایک اور آدمی اندر آیا۔ پسینہ پیشانی پر۔ سر جھکا ہوا۔ سر… کل صبح ٹیمیں الگ الگ نکلیں گی۔ عام لوگوں کی طرح۔ کوئی اسلحہ نظر نہیں آئے گا، کوئی خاص گاڑیاں نہیں ہوں گی، کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جس سے کسی کو شک ہو۔ ہم صرف دیکھیں گے۔ سنیں گے۔ نوٹ کریں گے۔ میز پر بیٹھے شخص نے آنکھیں بند کیں۔ پھر آہستہ سے کھولیں۔ ہم یہاں لڑنے نہیں آئے… پہلے ہم اس شہر کو سمجھیں گے۔ اس کی سانس، اس کی نبض، اس کے راز۔ یہ شہر کس سے ڈرتا ہے، کس سے محبت کرتا ہے، کہاں بکتا ہےاور اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق ہوا.. وہ رکا۔ ہونٹوں کے کونے پر ایک ہلکی سی پرچھائی آئی۔ …تو کوئی یہ بھی نہیں جان پائے گا کہ بلیک روز غروپ کبھی ملیشیا آیا بھی تھا۔کمرے میں موجود سب نے خاموشی سے حکم مان لیا۔
اگلی صبح – شہر کے مختلف کونے
سورج نکلتے ہی وہ سب شہر میں پھیل گئے۔ کوئی ایک عام بزنس مین لگ رہا تھا۔ مہنگا سوٹ، ہاتھ میں بریف کیس، فون پر انگریزی میں بات۔ کوئی سیاح۔ شارٹس، ٹی شرٹ، گلے میں کیمرہ، نقشہ ہاتھ میں۔ کوئی کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ سامنے اخبار، آنکھیں اخبار کے پیچھے سے ہر آنے جانے والے پر۔ کوئی شاپنگ مال میں بے مقصد گھوم رہا تھا۔ کبھی جوتے دیکھ رہا، کبھی موبائل۔ انہیں دیکھ کر کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ یہی لوگ دنیا کے خطرناک ترین مافیا گروپ بلیک روز کا حصہ ہیں۔ انہیں یقین تھا… ان کی موجودگی اب بھی راز ہے۔ انہیں یقین تھا… مرزا ابھی تک ان سے بے خبر ہے۔ لیکن حقیقت اس یقین سے بہت مختلف تھی۔
_____________________
مرزا مینشن- رات 3:15
شہر کے سب سے مہنگے علاقے کی سب سے اونچی عمارت۔ اوپر سے نیچے تک شیشہ۔ اندر سنگ مرمر کا فرش۔ ہوا میں مہنگے عود اور پرانے پیسے کی خوشبو۔ دیواروں پر ایسی تصویریں لگی تھیں جنہیں دیکھ کر عام آدمی کی سانس رک جائے۔ یہ مرزا مینشن تھا۔ مرزا گروپ کا دل۔ اور اس دل کی سب سے اوپر والی منزل پر… مرزا کھڑا تھا۔ سفید کرتا۔ بازو پیچھے۔ پاؤں ننگے۔ سامنے فرش سے چھت تک شیشے کی دیوار۔ اور اس کے پار پورا کوالا لمپور روشنیوں کا سمندر۔ 32 سال۔ صرف 32 سال کی عمر۔ لیکن آنکھوں میں 20 سال کی بادشاہت کا وزن۔ جب وہ 12 سال کا تھا تب سے اس نے یہ سب دیکھا تھا۔ خون۔ میٹنگز۔ سودے۔ لاشیں۔ اس کے باپ نے اسے گود میں بٹھا کر سکھایا تھا کہ بیٹا، شہر بندوق سے نہیں چلتا۔ خوف سے چلتا ہے۔ آج وہ اکیلا تھا۔ لیکن اکیلا نہیں تھا۔ کیونکہ ہر پولیس افسر کا نام اسے زبانی یاد تھا۔ ہر وزیر کا راز اس کے پرائیویٹ سرور میں بند تھا۔ ہر بڑا بزنس مین یا تو اس کا دوست تھا یا اس کا مقروض۔ ہر گلی، ہر گودام، ہر بندرگاہ… سب پر مرزا گروپ کا سایہ تھا۔ اس نے یہ سلطنت وراثت میں لی تھی۔ لیکن سنبھالی اپنے خون سے تھی۔ اس لیے جب کوئی نیا نام سنائی دیتا… کوئی نیا گروپ.. تو وہ ہنستا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا۔ 20 سال کی جڑیں… 2 رات میں نہیں اکھڑتیں۔ اسی لمحے دروازہ کھلا۔ قالین پر قدموں کی آواز دب گئی۔ باس آواز دھیمی تھی۔ عزت والی۔ ڈر والی۔ اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ شیشے میں اپنی پرچھائی دیکھتا رہا۔ بول۔ آواز دھیمی تھی۔ لیکن کمرے کا درجہ حرارت گرا دیتی تھی۔ ان کے لوگ شہر میں پھیل چکے ہیں۔ آدمی نے رپورٹ سنائی۔ آواز کانپ رہی تھی۔ چار بکیٹ بینٹیج میں ہیں… دو الگ الگ کیفے میں، ایک شاپنگ مال میں، ایک ہوٹل کی لابی میں۔دو KLCC کے آس پاس… فوٹو کھینچ رہے ہیں۔ سیاح بنے ہوئے ہیں۔باقی… مختلف علاقوں میں۔ ایک ٹیکسی ڈرائیور بنا ہوا ہے۔ ایک ڈلیوری بوائے۔ ایک یونیورسٹی کے باہر کھڑا ہے۔ وہ اب بھی کھڑکی سے نظریں نہیں ہٹا۔ نیچے شہر کو دیکھتا رہا۔ کئی سیکنڈ گزر گئے۔ نظر رکھو۔ آخر اس نے کہا۔ بس دو لفظ۔ جی باس اور… اس نے آہستہ سے سر موڑا۔ آدھا چہرہ روشنی میں آیا۔ جوان چہرہ۔ 32 سال۔ لیکن آنکھیں؟ آنکھیں 50 سال کے تجربے والی۔ سیاہ۔ گہری۔ تھکنے والی نہیں۔ اس کی آواز پہلے سے بھی زیادہ پرسکون تھی۔ لیکن اس پرسکونی کے نیچے زہر تھا۔ انہیں کبھی احساس نہیں ہونا چاہیے…..کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ایک لمحے کے لیے بھی نہیں۔وہ جہاں جائیں… جو کریں…جس سے ملیں…کس سے بات کریں…کیا کھائیں… کتنی دیر رکیں…ہر خبر۔ ہر 10 منٹ بعد۔ میرے پاس پہنچنی چاہیے۔ وہ رکا۔ پھر ہونٹوں کے کونے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ خطرناک والی۔ مگر…سائے کی طرح۔انہیں صرف یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ملیشیا محفوظ ہے…کہ یہاں قانون ہے، امن ہے، کاروبار ہے…یہ نہیں…..کہ ملیشیا خود انہیں دیکھ رہا ہے۔ ملیشیا کی ہر دیوار کے پیچھے ہمارا آدمی کھڑا ہے۔ آدمی نے سر جھکا دیا۔ پسینہ پیشانی پر آ گیا تھا۔ جی باس حکم سر آنکھوں پر۔ وہ جانے لگا تو پیچھے سے آواز آئی۔ رکو۔ آدمی رک گیا۔ وہ کھڑکی سے ہٹا۔ کمرے میں چکر لگانے لگا۔ اس کے ننگے پاؤں کی آواز سنگ مرمر پر گونج رہی تھی۔ _ٹک… ٹک…_ سنو اس نے کہا 20 سال۔ 20 سال سے میں نے اس شہر کو پالا ہے۔بھوک دی، روٹی دی۔ ڈرایا، تحفظ دیا۔یہ شہر مجھ سے سانس لیتا ہے۔ میری مرضی کے بغیر یہاں پتہ تک نہیں ہلتا۔ وہ رکا۔ آدمی کی آنکھوں میں دیکھا۔ اور کوئی آ کر 2 رات میں اسے ہم سے چھین لے؟ اس نے سر نفی میں ہلایا۔ ہونٹوں پر تمسخر۔ ناممکن۔ پھر وہ میز پر گیا۔ کرسٹل کی بوتل سے وہسکی گلاس میں ڈالی۔ برف کی آواز ہوئی۔ انہیں کھیلنے دو۔ انہیں لگے کہ وہ بہت ہوشیار ہیں۔ انہیں لگے کہ ہم سو رہے ہیں۔ اس نے گھونٹ لیا۔ آنکھیں بند کیں۔ اور جس رات انہیں لگے گا کہ وہ جیت گئے… اسی رات ہم انہیں بتائیں گے کہ مرزا گروپ کا نام کیوں لیا جاتا ہے۔ ہم انہیں بتائیں گے کہ 20 سال کی بادشاہت… اتفاق سے نہیں ہوتی۔ اس نے گلاس میز پر رکھا۔ آواز ہوئی ٹک مرزا گروپ کا نام خون سے لکھا گیا ہے۔ اور خون سے ہی مٹے گا آدمی سر جھکا کر چلا گیا۔ دروازہ بند۔ _کلک_۔ کمرے میں صرف وہ رہ گیا۔ اور شہر۔ اس کے چہرے پر نہ مسکراہٹ تھی، نہ غصہ۔ صرف انتظار… گہرا، لمبا، زہریلا انتظار۔ کیونکہ وہ جانتا تھا… شکاری اگر جلدی حملہ کرے تو شکار بھاگ جاتا ہے۔ لیکن اگر خاموش رہے… سانس روک کر، آنکھیں بند کر کے بیٹھا رہے… تو شکار خود اپنے قدموں سے چل کر جال کے بیچ آ جاتا ہے۔ اور مرزا… انتظار کرنا خوب جانتا تھا۔ وہ 20 سال سے یہی سیکھ رہا تھا۔
باہر شہر سو رہا تھا۔ خواب دیکھ رہا تھا۔ اندر دو اندھیرے جاگ رہے تھے۔ ایک طرف بلیک روز صبر سے بیٹھا۔ شہر کو سمجھ رہا تھا۔ ہر گلی ناپ رہا تھا دوسری طرف مرزا ۔ تاج پہنے۔ شہر کو دیکھ رہا تھا۔ ہر حرکت نوٹ کر رہا تھا۔ اور بیچ میں… ایک جنگ۔ جس کی پہلی گولی ابھی تک نہیں چلی تھی۔ لیکن جس کی آواز… بہت جلد پورا شہر سنے گا۔
_____________________
شہر کے سب سے پوش علاقے میں رات نے اپنے پر پھیلا دیے تھے۔ بڑے گھر کے باہر لان میں فوارے بند تھے۔ باغ میں لگی چھوٹی لائٹیں ہلکی ہلکی روشنی پھیلا رہی تھیں۔ اندر سنگ مرمر کا فرش چمک رہا تھا۔ چھت پر لٹکا فانوس خاموش تھا۔ اس گھر میں کوئی شور نہیں تھا۔ کیونکہ اس گھر میں شور کرنے والی صرف ایک ہی ہستی تھی اور وہ سو نہیں رہی تھی۔
قندیل۔ اس گھر کی اکلوتی بیٹی۔ امیر باپ کی لاڈلی۔ ماں کی جان۔ اس گھر میں ہر قانون اس کے لیے تھا۔ ہر قاعدہ اس کے لیے ٹوٹتا تھا۔ اسی لیے وہ بے فکر تھی۔ آزاد تھی۔ اور سب سے بڑھ کر… بہت زیادہ ہنس مکھ تھی۔
پچھلے ایک ہفتے سے اس گھر میں ایک اور مہمان بھی تھا۔ حمزہ۔ قندیل کا کزن وہ قندیل کے بابا کے ساتھ بزنس دیکھ رہا تھا۔ بڑے سودے۔ بڑی میٹنگز۔ دن بھر وہ کوٹ پہن کر سنجیدہ بزنس مین بنا رہتا۔ فائلوں اور نمبروں میں گم۔ لیکن جیسے ہی رات ہوتی اور وہ اس گھر میں قدم رکھتا… اس کی ساری سنجیدگی ہوا ہو جاتی۔ وجہ صرف ایک تھی۔ قندیل۔
ابھی رات کے ساڑھے گیارہ بجے تھے۔ لاؤنج میں ہلکی روشنی تھی۔ قندیل قالین پر الٹی لیٹی ہوئی تھی۔ مہنگا سفید سوٹ پہنا ہوا۔ بال کھلے ہوئے۔ ایک ہاتھ میں مہنگا موبائل اور دوسرے ہاتھ میں کولڈ ڈرنک۔ سامنے بڑی اسکرین پر یوٹیوب پر “دنیا کے سب سے عجیب فیل ہونے والے کلپ چل رہے تھے۔ وہ ہر کلپ پر اتنا زور سے ہنستی کہ کچن میں بیٹھے نوکر بھی مسکرا دیتے۔
سیڑھیوں سے آہستہ آہستہ قدموں کی آواز آئی۔ حمزہ نیچے اترا۔ دن بھر کی تھکن چہرے پر تھی۔ ہاتھ میں پانی کا گلاس۔ اس نے لاؤنج میں نظر دوڑائی تو قندیل کو دیکھ کر رک گیا۔
قندیل! اس نے آواز دی۔ امی نے کہا تھا 11 بجے سو جانا ہے۔ اور تم ابھی تک جاگ رہی ہو؟
قندیل نے فوراً اٹھ کر سیدھی ہو کر سلام کیا۔ بالکل اسکول کی بچیوں کی طرح۔
جی حمزہ بھائی! حکم کریں؟
حمزہ نے گہری سانس لی۔
میں نے کتنی بار کہا ہے مجھے بھائی مت کہا کرو۔
قندیل نے آنکھیں بڑی کیں۔ بالکل معصوم بن کر۔
اچھا؟ معاف کیجیے گا
پھر وہ آہستہ سے بولی جیسے کوئی راز بتا رہی ہو۔ تو پھر کیا کہوں؟حمزہ جی؟
ایک قدم آگے بڑھی۔ یا حمزہ صاحب؟
پھر بالکل نخرے سے۔ یا… حمزہ حضور؟
کہہ کر وہ خود ہی ہنس پڑی۔ اور صوفے کے پیچھے چھپ گئی۔
حمزہ نے تکیہ اٹھا کر اس کی طرف پھینکا۔
تم سدھرو گی نہیں قندیل۔
دن بھر آفس میں بابا کے ساتھ سر کھپاتا ہوں۔ اور رات کو تمہارا یہ ڈرامہ دیکھنا پڑتا ہے
قندیل نے تکیہ پکڑ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ اور بڑے آرام سے کولڈ ڈرنک کا گھونٹ بھرا۔
ڈرامہ نہیں ہے حمزہ۔ یہ ٹیلنٹ ہے
وہ اس کے پاس آ کر قالین پر ہی بیٹھ گئی۔
سچ بتاؤں؟ اس گھر میں مجھے کسی کا ڈر نہیں۔ امی ابو مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ اگر میں چھت سے بھی چھلانگ لگا دوں تو کہیں گے بیٹا اسٹنٹ کر رہی تھی
وہ رکی۔ پھر حمزہ کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکرائی۔
صرف تم ہو جو کبھی کبھی مجھے ڈانٹ دیتے ہو۔ اسی لیے تم اچھے لگتے ہو
حمزہ نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا۔ پھر فوراً نظر چرا لی۔ گلاس میز پر رکھا۔
زیادہ فلسفی مت بنو۔ جا کر سو جاؤ۔ کل صبح جلدی اٹھنا ہے۔ بابا کے ساتھ میٹنگ ہے
قندیل اٹھی۔ سستی سے انگڑائی لی۔ جانے لگی۔ دروازے تک پہنچی تو رک گئی۔
پیچھے مڑ کر سب سے میٹھی آواز میں بولی۔
اچھا ٹھیک ہے۔ جا رہی ہوں۔ حمزہ بھائی
اور آخری لفظ پر زور دے کر وہ دوڑ کر اوپر چلی گئی۔
پیچھے سے حمزہ کی آواز آئی۔
قندییییل! رک جاؤ! میں نے منع کیا تھا نا!
پر جواب میں اوپر سے صرف قندیل کی ہنسی کی آواز آئی۔
گھر میں دوبارہ خاموشی ہو گئی۔ صرف پنکھے کی سرسراہٹ۔
باہر شہر میں کہیں بڑے لوگ طاقت اور جنگ کی باتیں کر رہے تھے۔
اور یہاں… اس بڑے امیر گھر میں۔
ایک لڑکی اپنے کمرے میں جا کر بے فکر سو رہی تھی۔
اور ایک لڑکا… جو دن بھر کروڑوں کا بزنس سنبھالتا تھا۔
رات کو ایک لڑکی کی ایک شرارت سے ہار جاتا تھا۔
جو اسے بہت اچھی لگتی تھی۔ پر وہ یہ بات کبھی کہہ نہیں پاتا تھا۔
__________________
کالی BMW گھر کے گیٹ سے نکلی تو سہراب نے شیشہ اوپر کر لیا۔ اس نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ رکھا اور سسٹم آن کیا۔ ایک دم سے انجن کی گھن گرج کے ساتھ تیز بیٹ والا انگلش سونگ پورے کیبن میں گونج اٹھا۔ بیس اتنی تیز تھی کہ شیشے ہل رہے تھے۔ سہراب نے والیوم اور بڑھا دیا۔ آنکھوں پر کالا چشمہ لگایا اور ایک ہاتھ اسٹیئرنگ پر رکھ کر گاڑی دوڑا دی۔ روڈ خالی تھی۔ BMW بجلی کی طرح نکل گئی۔ پیچھے گارڈز کی بلیک SUV فاصلے پر چل رہی تھی۔ سہراب نے ریئر ویو میں دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔ آج ضرورت نہیں کہہ کر وہ مسکرایا اور ایکسپریس وے پر گاڑی اور تیز کر دی۔ ہوا شیشوں سے ٹکرا رہی تھی اور سونگ کی دھن پورے روڈ پر پھیل رہی تھی۔ 20 منٹ بعد وہ سیدھا _Marina Bay Financial Area_ میں ایک گلاس والی عمارت کے سامنے آ کر رکا۔ جیسے ہی گاڑی رکی، مین گیٹ پر کھڑے دو گارڈ فوراً آگے بڑھے اور جھک کر سلام کیا۔ Good Morning Sir سہراب نے سر کے ہلکے اشارے سے جواب دیا، گاڑی پارک کی، انجن بند کیا تو اچانک خاموشی ہو گئی۔ اس نے چشمہ اتارا، جیب سے چابی نکالی اور لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔
15ویں فلور۔ گلاس کی دیواریں۔
باہر پورا Marina Bay کا ویو۔ ریسپشن پر سارہ نے سہراب کو دیکھتے ہی کھڑے ہو کر کہا Good Morning Sir Sehrab سہراب نے ہلکا سا سر ہلایا اور سیدھا احمد کے کیبن میں چلا گیا۔ کیبن کا دروازہ کھلا تھا۔ احمد لیپ ٹاپ پر جھکا ہوا تھا۔ سفید شرٹ، آستینیں فولڈ، سامنے 3 فائلیں کھلی ہوئی تھیں۔ سہراب اندر آیا اوئے وکیل صاحب… یہ کیا عدالت لگا رکھی ہے؟ احمد نے سر اٹھایا اور فوراً مسکرا دیا آ گیا بڑا صاحب؟ آ بیٹھ اٹھ کر گلے ملا۔ کتنے دن بعد آیا ہے یار بس اماں نے ناشتہ روک لیا تھا سہراب سامنے والی لیدر چیئر پر پاؤں پر پاؤں رکھ کر بیٹھ گیا۔ احمد نے انٹرکام دبایا سارہ… دو کافی بھیج دو۔ بلیک پھر بولا ناشتہ کیا؟ جی اماں کے ہاتھ کا پراٹھا اور چائے۔ روز کا معمول ہے اور ابو؟ وہی پرانا راگ۔ آفس جوائن کرو، کاروبار سنبھالو سہراب نے ہنستے ہوئے کہا۔ احمد ہنسا تجھے تو عادت ہے ان کی باتیں نہ ماننے کی عادت نہیں بھائی… مجبوری ہے سہراب نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ نیچے سمندر میں کشتیاں چل رہی تھیں۔ کافی آ گئی۔ دونوں نے گھونٹ لیا۔ پھر باتیں شروع ہو گئیں۔ پرانے دوست، یونیورسٹی کے قصے، وہ والی پارٹی جہاں سہراب نے احمد کا فون توڑ دیا تھا۔ احمد: یاد ہے وہ رات؟ ہم 4 بجے تک ڈرائیو کرتے رہے تھے سہراب: اور تو الٹی کر کے گاڑی میں ہی سو گیا تھا دونوں زور سے ہنس پڑے۔ ہنسی کے بعد احمد نے فائل بند کی۔ چہرہ تھوڑا سنجیدہ ہوا۔ سہراب… ہمم ایک بات بولوں؟ برا تو نہیں مانے گا؟ بول نا یار اپنے ابا کا بزنس کیوں نہیں جوائن کر لیتا؟ اتنا بڑا نام ہے
Sentosa ventures.
اتنی بڑی پراپرٹی، شپنگ، رئیل اسٹیٹ۔ سب کل کو تمہارا ہی ہے سہراب نے کافی کا کپ گھمایا۔ کچھ سیکنڈ خاموش رہا۔ احمد… دیکھ۔ ابو کا طریقہ الگ ہے۔ میرا الگ۔ میں جب کروں گا نا، اپنے طریقے سے کروں گا پر کب؟ جب وقت آئے گا سہراب نے مسکرا کر بات ٹال دی۔ احمد نے سر ہلایا چل چھوڑ۔ زبردستی نہیں موڈ بدلنے کے لیے اٹھا اور الماری سے ایک فائل نکالی۔ یہ دیکھ… بالی کے پیکج آئے ہیں۔ 10 دن کا ٹور سہراب نے بھنویں اٹھائیں ٹرپ؟ ہاں یار۔ تھک گیا ہوں ان فائلوں سے۔ تو بھی تھکا ہوا لگ رہا ہے احمد نے لسٹ آگے کی دیکھ… صبح بیچ، شام پارٹی، رات کو بار بی کیو۔ علی اور زین بھی چلیں گے سہراب نے لسٹ دیکھی۔ خرچہ کون دے گا؟ تو دے گا نا بڑے صاحب احمد نے آنکھ ماری۔ چل بے سہراب نے تکیہ اٹھا کر مارا۔ پھر دونوں سنجیدہ ہو گئے۔ کب کا پلان ہے سہراب نے پوچھا ؟ آج رات 12 بجے کی فلائٹ مل رہی ہے۔ کہتا ہے تو بک کر دوں؟ سہراب نے 2 سیکنڈ سوچا۔ پھر بولا کر دے احمد فوراً خوش پکی بات؟ پکی۔ اماں کو بتا دوں گا دوستوں کے ساتھ جا رہا ہوں بس یہی چاہیے تھا احمد نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ ہائی فائیو ہوا۔ جانے سے پہلے سہراب نے دروازے پر مڑ کر کہا اور ہاں… کسی کو مت بتانا کہ ہم کہاں جا رہے ہے احمد نے ہنستے ہوئے کہا اوکے سر۔ سیکرٹ رہے گا
—-
سہراب گھر آیا تو موڈ کافی فریش تھا۔ سیدھا اپنے کمرے میں گیا۔ الماری کھولی اور بیگ میں 3 شرٹس، 2 جینز، سن گلاسز اور پرفیوم رکھنے لگا۔ شرٹ اتار کرسی پر پھینکی تو اس کا جسم آئینے میں نظر آیا۔ چوڑے شانے، کٹی ہوئی باڈی، پیٹ پر ہلکی لائنیں۔ پانی کی طرح صاف رنگت۔ سہراب نے ہلکا سا مسکرا کر تولیہ اٹھایا اور واش روم میں چلا گیا۔
10 منٹ بعد وہ شاور سے نکلا۔ بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ سینے اور بازوؤں پر پانی کے قطرے چمک رہے تھے۔ اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بال جھاڑے اور ایک سفید ٹی شرٹ اور جینز پہن لی۔
نیچے آیا تو راحلہ بیگم کچن سے آئیں۔ بیٹا اتنی جلدی بیگ؟
سہراب نے بیگ بند کرتے ہوئے کہا امی… احمد کا پلان بنا ہے۔ 10 دن کے لیے بالی جا رہے ہیں دوستوں کے ساتھ۔ موڈ فریش کرنے
راحلہ بیگم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اچھا بیٹا۔ خیال رکھنا اپنا۔ وقت پر کھانا کھانا اور تصویریں بھیجنا مجھے
جی اماں۔ فکر نہ کریں
مرزا وقار صوفے پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ نظر ہٹائے بغیر بولے سہراب
جی ابو
کریڈٹ کارڈز کے ساتھ کیش بھی ساتھ رکھنا۔ وہاں ہر جگہ کارڈ نہیں چلتا
جی ابو۔ سب رکھ لیا ہے سہراب نے مسکرا کر جواب دیا۔
مرزا وقار نے سر ہلایا ٹھیک ہے۔ جاؤ۔ انجوائے کرو
رات 10:45 ہوئی تو سہراب کا فون بجا۔ احمد کا میسج
ایئرپورٹ گیٹ نمبر 4 پر آجا جلدی
سہراب نے بیگ کندھے پر ڈالا، اماں کے ماتھے پر بوسہ دیا اور ابو سے ہاتھ ملایا۔
اللہ حافظ
اللہ حافظ بیٹا۔ خیال سے جانا راحلہ بیگم کی آواز میں فکر تھی۔
وہ باہر نکلا۔ کالی BMW اسٹارٹ کی۔ گیٹ پر گارڈ نے سلام کیا۔ سہراب نے مسکراتے ہوئے گاڑی بھگا دی۔
دو گارڈز اس کے ساتھ گئے تھے گاڑی واپس لانے کی وجہ سے اصل میں تو وہ اسکی سیکیورٹی کے لیے ہر جگہ ساتھ جاتے ہے جس سے سہراب کو بہت بڑا چڑ ہے ڈیش بورڈ پر ائیرپورٹ کا بورڈ چمک رہا تھا اور سہراب کے ایئرپورٹ پہنچتے ہی اس نے گارڈز کو جانے کا حکم دیا اس کے بعد احمد اور کے چار پانچ دوست بھی آگئے اور سب فلائٹ کے لینڈ ہوتے ہی اپنی منزل کی طرف روانا ہوگئ
_________________
زارون نے دروازہ بند کیا تو آواز نہیں آئی۔
بند دروازے بعض اوقات اتنے آرام سے بند ہوتے ہیں کہ اندر رہ جانے والوں کو یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی واقعی چلا گیا ہے۔
وہ سڑک پر نکل آیا۔
صبح کی دھوپ ہلکی تھی۔ ہوا میں پرندوں کی آوازیں تھیں۔ محلے کی دکانوں پر ایک ایک کر کے شٹر اوپر ہو رہے تھے۔ لوگ اپنی دوڑ میں تھے۔ چائے کے کپ ہاتھ میں، موبائل کان سے لگے ہوئے۔ اور زارون… وہ بس چل رہا تھا۔ بغیر کسی جلدی کے، بغیر کسی سمت کے۔
گھر سے نکلنے کے کوئی دس منٹ بعد وہ پلٹ آیا۔
ٹیبل پر چابی پڑی تھی۔ اس نے اٹھائی۔ جیب میں ڈالی۔ نہ کسی نے روکا، نہ کسی نے پوچھا۔
ناشتہ ابھی بھی ڈھکا ہوا تھا۔ پلیٹوں سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ زارون نے اسے نہیں چھوا۔
گاڑی کا دروازہ کھلا۔ بند ہوا۔ اور وہ نکل گیا۔
—
شہر کے بیچوں بیچ شیشے کی ایک عمارت تھی۔ اونچی۔ سرد۔ اس کی دیواروں پر جب دھوپ پڑتی تو وہ پانی کی طرح چمکتی تھیں۔
زارون نے خود گاڑی پارک کی۔ ڈرائیور نہیں تھا۔ وہ خود ڈرائیو کرتا تھا۔
مین گیٹ کھلا۔ اندر قدم رکھتے ہی ہوا بدل گئی۔
یہاں شور نہیں تھا۔
یہاں لوگ بھاگتے نہیں تھے۔
یہاں ہر قدم ناپ تول کر رکھا جاتا تھا۔
سیکورٹی نے دیکھا۔ سر جھکایا۔
ریسیپشن پر کھڑی لڑکی نے مسکرا کر سر ہلایا۔
لابی میں فائلیں ہاتھ میں لیے کھڑے دو تین لوگ جیسے ہی زارون کی نظر سے گزرے، ایک قدم پیچھے ہٹ گئے۔
ہونٹوں پر ایک ہی لفظ تھا۔
سر
چھوٹا لفظ۔ بہت بھاری۔
زارون نے جواب نہیں دیا۔ بس ہلکا سا سر ہلایا اور لفٹ کی طرف بڑھ گیا۔
—
لفٹ کا دروازہ کھلا تو سب سے پہلے خاموشی نے استقبال کیا۔ اس کے بعد ٹھنڈی ہوا۔
یہ کمرہ باہر کی دنیا سے بالکل الگ تھا۔ قالین اتنا گھنا تھا کہ قدموں کی آواز اس میں دفن ہو جاتی تھی۔ دیواریں سفید تھیں پر خالی نہیں۔ ایک طرف شہر کی رات کا منظر تھا اور دوسری طرف لکڑی کی پینلنگ جس میں سنہری باریک لکیریں بنی ہوئی تھیں۔ چھت سے ایک بڑا کرسٹل جھاڑ فانوس لٹک رہا تھا جو دن کی روشنی میں بھی مدھم چمک رہا تھا۔
کمرے کے بیچ میں بھاری لکڑی کی میز تھی۔ اس پر شیشہ جڑا ہوا تھا اور اس شیشے میں چھت کا عکس اترتا تھا۔ میز کے پیچھے سیاہ چمڑے کی اونچی کرسی پڑی تھی۔ اس کی پشت اتنی اونچی تھی کہ بیٹھنے والا اس میں گم ہو جاتا تھا۔
سامنے پوری دیوار شیشے کی تھی۔ فرش سے چھت تک۔ اور اس شیشے کے پار پورا شہر تھا۔ سڑکیں، عمارتیں، اور دور کہیں سمندر کی ہلکی نیلی لکیر۔ دھوپ شیشے سے چھن کر اندر آ رہی تھی اور فرش پر روشنی کے لمبے ٹکڑے بنا رہی تھی۔
زارون اندر آیا۔ دروازہ اس کے پیچھے بند ہوا۔
اس نے ایک نظر کمرے پر ڈالی۔ پھر چل کر میز کے پاس آیا۔ ہاتھ کرسی کی پشت پر رکھا۔ ایک لمحہ رکا۔ اور بیٹھ گیا۔ کرسی نے ہلکی سی چرچراہٹ کی۔
اسی وقت دروازہ بغیر دستک کے کھلا۔
اندر ایک لڑکی داخل ہوئی۔ لمبا قد۔ سیاہ سوٹ۔ کان میں باریک ایئر پیس۔ چہرہ بالکل سپاٹ۔ آنکھیں کمرے کے ہر کونے کو تولتی ہوئیں۔
یہ زارون کی پرائیویٹ سیکرٹری تھی۔ نام تھا روہی
روہی کوئی عام گارڈ نہیں تھی۔ وہ پچھلے پانچ سال سے زارون کے ساتھ تھی۔ اس کے سونے جاگنے کا وقت، اس کے بولنے کا لہجہ، اس کی خاموشی کا مطلب… سب اسے زبانی یاد تھا۔ زارون نے دنیا میں شاید ہی کسی پر بھروسہ کیا ہو۔ پر روہی پر تھا۔ مکمل۔ آنکھ بند کر کے۔
روہی میز سے تین قدم کے فاصلے پر رک گئی۔ سر تھوڑا سا جھکایا۔
سر، سب کلیئر ہے۔
زارون نے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے بس سر ہلا دیا۔
روہی کے پیچھے ہی دوسرا دروازہ کھلا۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہاتھ میں ٹرے لیے اندر آئے۔ قدم دبے ہوئے۔
لڑکے نے آگے بڑھ کر کہا، سر، کافی یا چائے؟
لڑکی نے پوچھا، “ناشتہ لگا دوں سر؟
زارون نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اس کی نظریں ابھی بھی نیچے سڑک پر تھیں۔
اس نے دھیمی آواز میں کہا، نہیں۔ موڈ نہیں ہے۔
دونوں نے سر ہلایا اور پیچھے ہٹ گئے۔ روہی نے دروازے کی طرف دیکھ کر انہیں آنکھوں سے جانے کا اشارہ کیا۔ دروازہ بند ہو گیا۔
اب کمرے میں صرف خاموشی تھی۔
اور روہی۔ جو دروازے سے ہٹ کر دیوار کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ ہاتھ پیچھے۔ نظر سیدھی۔ ایک سائے کی طرح۔
زارون نے میز پر پڑے قلم کو اٹھایا۔ انگلیوں میں گھمایا۔ اور واپس رکھ دیا۔
اس نے گہری سانس لی۔ شیشے کے پار شہر دھوپ میں نہا رہا تھا۔
اس کے لب ہلے۔ آواز اتنی دھیمی تھی کہ شاید دیواریں بھی مشکل سے سن پائیں۔
گھر میں نام رہتا ہے… اور نام کے پیچھے انسان
روہی نے یہ سنا۔ پر اس کے چہرے پر کوئی لہر نہیں آئی۔ وہ بس وہیں کھڑی رہی۔
خاموش۔
زارون کھڑکی کے پاس کھڑا تھا، پیٹھ دروازے کی طرف تھی۔ باہر شہر دھوپ میں جل رہا تھا اور اندر اے سی کی ٹھنڈک ہڈیوں تک اتر رہی تھی۔ روہی نے آگے بڑھ کر فائل میز پر رکھی اور سر جھکا کر کہا کہ آج کی میٹنگز کی لسٹ اور فائلیں حاضر ہیں۔ آواز میں نہ اپنائیت تھی نہ دوری، بالکل ایک سیکریٹری جیسی۔
زارون نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ بس دھیمے لہجے میں کہا کہ دروازہ بند کر دو۔ کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ بند ہوا اور کمرے کی ہوا ایک دم بدل گئی۔ اب یہاں کوئی سیکریٹری نہیں تھی، کوئی باس نہیں تھا۔ صرف دو لوگ تھے جن کے بیچ پانچ سال تھے۔ پانچ سال کی راتیں، پانچ سال کی خاموشیاں، اور پانچ سال کا وہ بھروسہ جسے بنانے میں روہی نے خون پسینہ ایک کر دیا تھا۔
زارون آہستہ سے مڑا۔ اس کی آنکھوں میں تھکن تھی لیکن ایک سکون بھی تھا، وہ سکون جو صرف تب آتا ہے جب سامنے اپنا ہو۔ وہ چل کر میز کے پاس آیا اور بغیر فائل کو چھوئے پوچھا کہ باہر سب کیا سوچتے ہیں روہی۔ یہ سوال پانچ سال میں پانچ لاکھ بار دہرایا جا چکا تھا اور ہر بار جواب ایک ہی تھا۔ روہی نے فوراً سر اٹھا کر کہا کہ یہی کہ میں آپ کی سیکریٹری ہوں سر۔ زارون نے سر ہلایا اور کھڑکی کی طرف چلا گیا، ہاتھ جیب میں ڈالے۔ پھر اس نے بغیر پلٹے پوچھا کہ اور اندر، اندر کیا ہو روہی۔ روہی نے اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے جواب دیا کہ اندر آپ کا بھروسہ ہوں۔
کمرے میں دو سیکنڈ تک صرف اے سی کی سرسراہٹ رہی۔ پھر زارون نے آنکھیں بند کیں اور بہت دھیمی آواز میں کہا کہ تمہیں یاد رہنا چاہیے روہی، میں زندگی میں صرف ایک انسان پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ ہو تم۔ دنیا مجھ سے ملتی ہے تو میرا نام دیکھتی ہے، میری طاقت دیکھتی ہے، میرا پیسہ دیکھتی ہے۔ پر تم نے مجھے تب دیکھا تھا جب میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ جب میں راتوں کو جاگتا تھا اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔ جب میں گرتا تھا تو تم نے سہارا دیا تھا بغیر پوچھے، بغیر بولے۔ وہ تھوڑی دیر رکا اور پھر بولا کہ اس لیے دنیا کے لیے تم سیکریٹری سہی، پر میرے لیے تم وہ دیوار ہو جس کے پیچھے میں محفوظ ہوں۔ تم پر میں اپنی جان سے زیادہ بھروسہ کرتا ہوں۔
روہی نے جواب میں آنکھیں نہیں جھپکائیں۔ وہ کمزور نہیں تھی۔ بس سر جھکا کر دھیرے سے بولی کہ میں جانتی ہوں سر، اور یہ بھروسہ بنانے کے لیے میں نے بہت پاپڑ بیلے ہیں، میں اسے کبھی نہیں توڑوں گی۔ زارون نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ کوئی مسکراہٹ نہیں تھی، کوئی شکریہ نہیں تھا، بس ایک نظر تھی جس میں پانچ سال کا وزن تھا۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے، شام کی کوئی میٹنگ نہیں رکھنی اور ہاں، گھر سے کوئی کال آئے تو مجھے مت بتانا۔ روہی نے سر ہلا کر کہا جی سر۔
روہی نے فائل اٹھائی اور دروازے تک گئی۔ ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر رکی اور پوچھا کہ کافی؟ زارون نے نفی میں سر ہلا دیا۔ روہی خاموشی سے باہر نکل گئی اور باہر نکلتے ہی اس کے چہرے پر وہی پروفیشنل ماسک واپس آ گیا۔ اندر زارون پھر اکیلا رہ گیا۔ میز پر رکھی فائل، بند لیپ ٹاپ، اور شیشے کے پار ایک شہر جو اس کا تھا پر اسے اپنا نہیں لگتا تھا۔ اس کمرے کی دیواریں صرف ایک بات جانتی تھیں کہ زارون مرزا کی پوری دنیا میں صرف ایک انسان تھا جس پر وہ آنکھ بند کر کے بھروسہ کر سکتا تھا، اور وہ تھی روہی۔
اسی وقت
دروازہ بند ہوتے ہی روہی کا چہرہ بدل گیا۔ وہ نرمی، وہ خاموشی، وہ دھیما لہجہ سب ایک سیکنڈ میں غائب ہو گیا۔ اب سامنے زارون کی سیکریٹری کھڑی تھی۔ سیدھی کمر، تیز قدم، ہاتھ میں فائل اور آنکھوں میں وہ چوکسی جو ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں ٹوٹتی تھی۔
کارپٹ والے کوریڈور میں اس کے ہیلز کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔ راستے میں جو بھی ملا سر جھکا کر سائیڈ پر ہو گیا۔ کوئی مسکراہٹ نہیں، کوئی بات نہیں۔ بس ایک مختصر سر کا اشارہ۔
ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی نے جیسے ہی روہی کو دیکھا فوراً کھڑی ہو گئی۔
روہی نے فائل تھماتے ہوئے کہا کہ آج کی کوئی میٹنگ شام کے بعد شیڈول نہیں کرنی۔ اور ہاں، سر کے لیے کوئی کال آئے تو پہلے مجھ سے پوچھے بغیر لائن مت ملانا۔ لہجہ نرم نہیں تھا، حکم تھا۔ لڑکی نے جلدی سے سر ہلا کر نوٹ کر لیا۔
دو سیکیورٹی گارڈز دروازے پر کھڑے تھے۔ روہی ان کے پاس سے گزری تو ایک نے آہستہ سے کہا کہ سب کلیئر ہے میم۔ روہی نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا، بس ہلکا سا سر ہلا دیا۔ اس کی نظریں ہر کونے، ہر کیمرے، ہر اجنبی چہرے کو اسکین کر رہی تھیں۔
لفٹ کا بٹن دبایا۔ دروازہ کھلا۔ اندر دو ایمپلائی کھڑے تھے۔ جیسے ہی انہوں نے روہی کو دیکھا ایک قدم پیچھے ہٹ گئے۔ روہی اندر آئی، سامنے کھڑی ہو گئی۔ چہرہ بالکل سپاٹ۔ نہ کسی سے آنکھ ملائی نہ کوئی بات کی۔
لفٹ نیچے جا رہی تھی اور روہی کا عکس شیشے میں نظر آ رہا تھا۔ وہی پروفیشنل سیکریٹری۔ وہی سرد مزاج۔ جسے دیکھ کر لگتا تھا یہ لڑکی بس فائلیں سنبھالتی ہے۔
لفٹ کے دروازے کھلے۔ روہی باہر نکلی اور سیدھی سیکیورٹی روم کی طرف بڑھ گئی۔ قدم میں ذرا بھی فرق نہیں تھا۔ آواز میں ذرا بھی لرزش نہیں تھی۔
دنیا کے لیے وہ بس زارون مرزا کی سیکریٹری تھی۔ اور یہی تاثر اسے برقرار رکھنا تھا۔
لفٹ سے نکلتے ہی روہی کے قدم سنگ مرمر پر پڑے تو آواز گونجی نہیں، دب گئی۔ یہ عمارت عام آفس نہیں تھی، یہ ایک بیان تھی۔ 52 منزل کا شیشے اور کالے اسٹیل کا ٹاور جو دھوپ میں ایسے چمکتا تھا جیسے کسی نے آسمان کا ٹکڑا تراش کر یہاں گاڑ دیا ہو۔ اس کے چاروں طرف زارون انٹرپرائزز کی 6 اور عمارتیں تھیں، لیگل، فنانس، ٹریڈنگ، میڈیا، مگر بیچ والی یہ ٹاور باقی سب کی ماں لگتی تھی، باقی سب اس کے سائے میں تھیں جیسے سپاہی اپنے بادشاہ کے گرد کھڑے ہوں۔ مین گیٹ پر کوئی بورڈ نہیں تھا کیونکہ نام کی ضرورت ہی نہیں تھی، شہر کا ہر بچہ جانتا تھا یہ کس کا ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی باہر کی گرمی، نمی اور شور سب پیچھے رہ گیا۔ ہوا میں وہ ٹھنڈک تھی جو صرف پیسے سے آتی ہے۔ سفید سنگ مرمر کا فرش اتنا صاف کہ اس میں اپنا عکس نظر آئے، 3 منزل اونچی چھت سے لٹکتا لائٹ کا ایک سادہ دائرہ جو کروڑوں کا تھا، اور بیچ میں فاؤنٹین جس کے ساتھ پیانو کی دھیمی دھن تاکہ سب کو یاد رہے یہاں چیخنا منع ہے۔ ریسیپشن پر 12 لڑکیاں ایک جیسی ڈریس اور ایک جیسی خاموشی کے ساتھ، پیچھے پوری دیوار پر سونے سے بنا صرف ایک حرف *Z*۔ 100 سے زیادہ ڈیسک، کمپیوٹر کی ٹک ٹک بھی دبی ہوئی، کوئی فون کی رنگ نہیں، سب ہیڈ سیٹ اور نظریں جھکائے۔ شیشے کی دیواروں کے پار شہر اور دور سمندر کی لکیر نظر آ رہی تھی، ہوا میں نمی تھی مگر یہاں درجہ حرارت، روشنی اور آواز سب کنٹرول میں تھا۔ ہر 5 قدم بعد چھپے کیمرے اور ہر کونے پر دو گارڈ جو بولتے نہیں تھے بس دیکھتے تھے۔ یہ صرف آفس نہیں تھا، یہ زارون مرزا کا تخت تھا اور تخت پر بیٹھنے والا کبھی آواز اونچی نہیں کرتا۔ روہی ان سب کے بیچ سے گزری، کسی نے سر اٹھا کر نہیں دیکھا
زیرِ زمین 4 فلور کی پارکنگ میں قدم رکھتے ہی ٹھنڈک نے سانس روک دی۔ بلیک مرمر کا فرش، ہر 20 فٹ بعد ایک سیکیورٹی گارڈ، اور چھت سے لٹکے سینسر جو ہر گاڑی کو اسکین کر رہے تھے۔ یہاں عام گاڑیاں نہیں آتی تھیں۔ صرف بلیک ایس کلاس، رولز رائس، اور آرمرڈ ایس یو وی۔ ہر گاڑی کے نمبر پر بھی *Z* لگا ہوا تھا۔ دیواروں پر کوئی اشتہار نہیں، کوئی پوسٹر نہیں۔ صرف خاموشی اور کیمروں کی سرخ لائٹ۔ پارکنگ کے کونے میں ایک الگ گیٹ تھا جہاں سے صرف زارون کی گاڑی نکلتی تھی، اس کے ساتھ دو بلیک گاڑیاں فرنٹ اور بیک پر۔ لفٹ کے پاس جاتے ہی فنگر پرنٹ اور آئرس اسکین ہوا۔ عام ایمپلائی یہاں تک آ ہی نہیں سکتا تھا۔ لفٹ کے اندر بھی آئینہ نہیں تھا، صرف کالے اسٹیل کی دیواریں اور ایک چھوٹا پینل جس پر 1 سے 52 تک بٹن تھے۔ 1 سے 10 فلور عام سٹاف، 11 سے 20 لیگل اور فنانس، 21 سے 30 ٹریڈنگ اور میڈیا، 31 سے 40 بورڈ روم اور میٹنگ ہال، 41 سے 50 ریسرچ اور پرائیویٹ دفاتر، اور 51-52 صرف زارون کا۔ لفٹ چلی تو کوئی جھٹکا نہیں، کوئی آواز نہیں۔ بس
فلور کا نمبر خاموشی سے بدل رہا تھا۔ گراؤنڈ فلور پر دروازہ کھلا تو سامنے 3 منزل اونچی لابی تھی۔ سنگ مرمر کا سفید فرش جس میں چہرہ نظر آتا تھا۔ بیچ میں پانی کا فاؤنٹین، پانی گرتا تھا مگر شور نہیں کرتا تھا۔ ساتھ میں پیانو کی دھیمی دھن تاکہ کوئی یہاں اونچی آواز میں سانس بھی نہ لے سکے۔ دائیں بائیں 12 ریسیپشنسٹ، ایک جیسی نیوی بلیو ڈریس، ایک جیسی مسکراہٹ، اور ایک جیسی سرد آنکھیں۔ پیچھے پوری دیوار پر سونے سے بنا صرف ایک حرف *Z*۔ کوئی کمپنی کا نام نہیں۔ نام کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ 100 سے زیادہ ڈیسک قطار میں، ہر ڈیسک پر ایک لیپ ٹاپ، ایک ہیڈ سیٹ، اور ایک خالی چہرہ۔ کمپیوٹر کی ٹک ٹک بھی دبی ہوئی تھی۔ فون کی رنگ بجتی ہی نہیں تھی۔ کال اندر ہی ٹرانسفر ہو جاتی تھی۔ شیشے کی دیواروں کے پار باہر شہر تھا، اونچی عمارتیں، اور بہت دور سمندر کی نیلی لکیر۔ ہوا میں سمندر کی نمی تھی مگر یہاں درجہ حرارت 22 پر لاک تھا۔ نہ گرمی نہ سردی۔ ہر 5 قدم بعد چھت میں چھپا کیمرہ اور ہر کونے میں دو بلیک سوٹ والے گارڈ جو کسی سے بات نہیں کرتے تھے، بس دیکھتے تھے۔ لفٹ کے سامنے ایک اور اسکینر تھا۔ بغیر کارڈ کے 11ویں فلور سے اوپر کوئی نہیں جا سکتا تھا۔ روہی سیدھی سیکیورٹی روم کی طرف بڑھی۔ راستے میں کارپٹ اتنا موٹا تھا کہ ہیلز کی آواز بھی دب گئی۔ دیواروں پر کوئی تصویر نہیں، کوئی کیلنڈر نہیں۔ صرف سفید رنگ اور خاموشی۔ یہاں گھڑی بھی نہیں لگی تھی کیونکہ یہاں وقت زارون کے حساب سے چلتا تھا۔ یہ آفس نہیں تھا۔ یہ زارون مرزا کا تخت تھا۔ اور تخت پر بیٹھنے والا کبھی وضاحت نہیں دیتا، بس فیصلہ سناتا ہے۔—
______________________
صبح کے ٹھیک 7:30 بجے تھے۔ ارحمہ کے کمرے میں ہلکی دھوپ کھڑکی کے ہلکے گلابی پردوں سے چھن کر آ رہی تھی۔ کمرہ چھوٹا تھا مگر سلیقے سے سجا ہوا۔ ایک طرف لکڑی کا سادہ بیڈ تھا جس پر سفید چادر اور ہلکے نیلے تکیے رکھے تھے۔ بیڈ کے ساتھ ایک چھوٹی سی سائیڈ ٹیبل تھی جس پر پانی کا جگ اور ایک کتاب رکھی تھی۔ دیوار کے ساتھ لکڑی کی ایک پرانی بک شیلف تھی۔ وہ شیلف ارحمہ کی سب سے پسندیدہ جگہ تھی۔ بچپن سے کتابوں کا شوق تھا اسے۔ شیلف پر اوپر والے خانے میں شاعری کی کتابیں تھیں۔ غالب، فیض، پروین شاکر۔ بیچ والے خانے میں یونیورسٹی کی نوٹس اور اکیڈمک کتابیں۔ اور نیچے والے خانے میں ناول۔ عمیرہ احمد، نمرہ احمد، اور کچھ پرانے ڈائجسٹ بھی۔ ہر کتاب ترتیب سے لگی ہوئی تھی۔ ارحمہ جب بھی پریشان ہوتی، اسی شیلف کے سامنے بیٹھ کر کوئی کتاب اٹھا لیتی۔
سامنے ایک سادہ لکڑی کی ڈریسر تھی جس کے اوپر آئینہ لگا تھا۔ کمرے کے کونے میں ایک چھوٹی سی پڑھائی کی میز تھی جس پر لیپ ٹاپ اور نوٹس بکھرے ہوئے تھے۔ فرش پر ہلکی کارپٹ بچھی تھی۔ مجموعی طور پر کمرہ middle class گھر کی سادگی اور سکون دکھاتا تھا۔
ارحمہ کی آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر بیٹھی کچھ دیر تک خاموش رہی۔ رات بھر نیند نہیں آئی تھی۔ سر میں ہلکا درد تھا۔ وہ اٹھ کر سیدھی واش روم گئی۔ ٹھنڈے پانی سے منہ دھویا۔ آئینے میں دیکھا تو آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں اور نیچے ہلکے حلقے پڑے تھے۔ تولیہ سے چہرہ صاف کر کے وہ باہر آئی۔
الماری کھولی۔ اس نے سفید لان کا سادہ کرتا نکالا۔ کپڑا نرم تھا۔ گلے پر باریک سفید دھاگے سے پھولوں کی کڑھائی بنی تھی اور آستینوں پر چھوٹا سا آرک کا ڈیزائن تھا۔ ساتھ گہرے سبز رنگ کا دوپٹہ لیا جس کے کناروں پر باریک سفید لیس لگی تھی۔ شلوار سادہ سفید تھی۔ کپڑے پہن کر اس نے دوپٹے کو دونوں طرف پن سے سیٹ کیا۔
ڈریسر کے سامنے بیٹھ کر بالوں کو برش کیا۔ انہیں اونچا کر کے ٹائٹ پونی ٹیل بنا لیا۔ آگے سے دو باریک لٹیں نکال کر کان کے پیچھے لگا دیں۔ کانوں میں چاندی کے چھوٹے tops پہنے اور کلائی پر کالی پٹی والی گھڑی باندھ لی۔ ہونٹوں پر ہلکی لپ گلاس لگائی۔ بیگ میں نوٹس، پین اور پانی کی بوتل رکھی
سیڑھیوں کے آخری زینے پر ارحمہ کا قدم رکا۔ نیچے کچن سے چائے اور پراٹھے کی ہلکی خوشبو آ رہی تھی ۔ جیسے ہی وہ کچن میں داخل ہوئی امی کی نظر فوراً اس پر پڑی۔ وہ ایک لمحے کے لیے رک گئیں۔ ارحمہ کے چہرے کا اترا پن، آنکھوں کے گرد پڑے ہلکے سیاہ حلقے اور سوجھی ہوئی پلکیں سب کچھ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ رات آرام سے نہیں گزری۔
امی نے برتن سائیڈ پر رکھا اور آگے بڑھ کر اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں وہی پرانی ماں والی بے چینی تھی جو ہر چھوٹی بڑی بات پر جاگ جاتی ہے۔ انہوں نے نرمی سے ارحمہ کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا کہ رات کو کیا ہوا۔ ارحمہ نے نظریں جھکا لیں۔ وہ جانتی تھی کہ سچ بولے گی تو امی اور پریشان ہو جائیں گی۔ اس لیے بس اتنا کہا کہ سر میں درد تھا اسی لیے نیند نہیں آ سکی۔ یہ سنتے ہی امی کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ وہ فوراً بولیں کہ کل بھی تمہارا سر درد کر رہا تھا اور آج پھر یہی حال ہے۔ تم اپنی صحت کا خیال کیوں نہیں رکھتیں۔ ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤں گی اور آج تم کہیں نہیں جاؤ گی۔
میز پر بیٹھے ابو نے اخبار ایک طرف رکھا۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ والی سختی نہیں تھی۔ وہ بیٹی کو دیکھ کر فکر مند ہو گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پڑھائی کی ٹینشن میں انسان اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی صحت کو بھول جاتا ہے۔ ارحمہ۔ تمہیں اپنی عادت بدلنی ہو گی۔ امی نے فوراً ہاں میں ہاں ملائی۔ بولیں کہ ہمیشہ جلدی میں رہتی ہو۔ وقت پر کھانا نہیں کھاتی۔ ناشتہ چھوڑ دیتی ہو۔ یہ سب اسی کا نتیجہ ہے۔ آج یونیورسٹی جانے کا سوچنا بھی مت۔
ناشتے کی میز پر بیٹھا ہارون جو ابھی تک خاموشی سے سب سن رہا تھا اچانک بول پڑا۔ اس نے کہا کہ آپی آپ آج مت جائیں۔ اگر گئیں تو وہ ان سے بات نہیں کرے گا۔ اس کی بچگانہ ضد میں بھی محبت تھی۔ ارحمہ نے سب کے چہرے دیکھے۔ سب کی آنکھوں میں فکر تھی اور دل میں ضد۔ مگر اس کے اپنے دل میں ایک اور جنگ چل رہی تھی۔ آج کا ٹیسٹ بہت اہم تھا۔ ایک دن کی غیر حاضری اس کی پورے سمسٹر کی محنت پر پانی پھیر سکتی تھی۔ اس نے ہمت کر کے کہا کہ وہ چھٹی نہیں کر سکتی۔ جانا بہت ضروری ہے۔
امی نے ضد کرتے ہوئے کچن سے پانی اور دوائی لا کر اس کے ہاتھ میں دی۔ کہا کہ پہلے سر درد کی گولی کھاؤ پھر بات کرو۔ ساتھ ہی انہوں نے بیگ میں لنچ باکس رکھتے ہوئے سختی سے کہا کہ یہ ختم کرنا ہے۔ اگر بھوکی رہی تو وہ خود یونیورسٹی آ کر پوچھیں گی۔ ارحمہ نے چپ چاپ گولی نگل لی۔ دو نوالے زبردستی کھائے اور چائے کا ایک گھونٹ لیا۔ حلق سے نیچے کچھ نہیں اتر رہا تھا۔ دل پر ایک بوجھ تھا جس کا تعلق نہ بھوک سے تھا نہ تھکن سے۔
ابو نے ناشتہ ختم کر کے فیصلہ سنا دیا کہ وہ خود اسے یونیورسٹی چھوڑنے جائیں گے۔ اکیلے نہیں جانے دیں گے۔ ارحمہ نے منع کرنا چاہا مگر ابو کی آنکھوں میں وہ سختی دیکھ کر چپ ہو گئی۔ جانے سے پہلے امی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعا دی۔ ہارون نے دور سے ہاتھ ہلایا۔ ارحمہ نے دل پر پتھر رکھ کر سب کو اللہ حافظ کہا۔
باہر گاڑی میں بیٹھتے ہی خاموشی چھا گئی۔ ابو گاڑی چلا رہے تھے اور ارحمہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کے ذہن میں بار کل کا منظر گھوم رہا تھا۔ اگر ابو کو پتہ چل گیا تو کیا سوچیں گے۔ وہ شرمندگی اور خوف کے ملے جلے احساس سے گھبرا رہی تھی۔ راستے میں ابو نے گاڑی روک کر اس کے لیے ٹھنڈا جوس لیا۔ کہا کہ یہ پی لو طبیعت بہتر ہو جائے گی۔ پھر آہستہ سے پوچھا کہ بیٹا سب ٹھیک ہے نا یونی میں۔ ارحمہ نے فوراً سر ہلا کر ہاں کہہ دیا۔ مگر اس کی آواز میں جو کپکپاہٹ تھی وہ ابو سے چھپ نہ سکی۔
یونیورسٹی کا گیٹ آتے ہی ابو نے گاڑی روک دی۔ جانے سے پہلے انہوں نے کہا کہ خیال رکھنا۔ کسی بات کی ضرورت ہو تو فوراً فون کرنا۔ ارحمہ نے ہلکا سا سر ہلایا اور گیٹ کی طرف چل پڑی۔ پیچھے ابو کی گاڑی آفس کی طرف نکل گئی اور وہ ایک لمبی سانس لے کر یونیورسٹی کے اندر داخل ہو گئی۔ دل میں دعا تھی کہ آج کا دن بس گزر جائے۔
یونیورسٹی کا گیٹ پار کرتے ہی ارحمہ کے سینے پر جیسے کسی نے بوجھ رکھ دیا۔ ہر طرف معمول تھا۔ دھوپ درختوں سے چھن کر فرش پر پڑ رہی تھی۔ لڑکیاں ہنستے ہوئے گزر رہی تھیں۔ لڑکے نوٹس کے لیے اکٹھے تھے۔ مگر ارحمہ کے لیے آج ہوا بھی مختلف تھی۔ ہر قدم پر لگتا تھا کوئی اسے دیکھ رہا ہے، کوئی اس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔
گیٹ سے تھوڑا آگے قندیل کھڑی تھی۔ وہ ہمیشہ ارحمہ سے پہلے آ جاتی تھی۔ آج اس کے چہرے پر وہ چمک نہیں تھی۔ جیسے ہی ارحمہ قریب آئی، قندیل نے اسے اوپر سے نیچے دیکھا۔ سوجھی ہوئی آنکھیں، اترا ہوا چہرہ، مگر کمر اب بھی سیدھی۔
قندیل نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا اور دھیمی آواز میں کہا: ارحمہ۔ مجھے سب پتہ ہے۔
ارحمہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ دل ایک بار زور سے دھڑکا۔ کیا پتہ ہے؟
قندیل نے گہری سانس لی: “کل لائبریری میں کیا ہوا۔ کس نے کیا کہا۔ اور تم نے کیا جواب دیا۔”
ارحمہ کی آنکھوں میں پہلے ایک لمحے کے لیے وہ معصوم حیرانی آئی۔ جیسے کوئی چھوٹی بچی پکڑی گئی ہو۔ وہ کچھ بولنا چاہتی تھی مگر الفاظ نہیں ملے۔ بس سر جھکا لیا۔
قندیل نے اس کا چہرہ اوپر کیا: تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔ سنو میری بات۔ تم نے حد میں رہ کر جواب دیا۔
ارحمہ نے ہلکی آواز میں کہا: “مگر لوگ باتیں کریں گے قندیل۔ مجھے ڈر لگتا ہے۔
قندیل نے اس کے ہاتھ کو اور مضبوطی سے پکڑا: “ڈرنے والی ارحمہ نہیں ہو تم۔ میں جانتی ہوں تمہیں۔
وہ دونوں آگے بڑھیں۔ کارڈور میں ہر طرف سرگوشیاں تھیں۔ تین چار لڑکیاں ایک کونے میں کھڑی تھیں۔ جیسے ہی ارحمہ قریب سے گزری، ان میں سے ایک نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا: اوہو۔ دیکھو کون آ رہی ہے۔ وہی جنہوں نے کل سب کے سامنے تھپڑ مار دیا۔
دوسری نے طنز سے ہنستے ہوئے کہا: ہاں یار۔ بڑی بہادر بنی پھرتی ہے۔ اب دیکھو آگے کیا ہوتا ہے۔
ارحمہ کے قدم رک گئے۔ ایک لمحے کے لیے اس کے چہرے پر وہی معصومیت آئی۔ آنکھیں تھوڑی پھیل گئیں۔ دل میں ایک سوال اٹھا۔ _کیا میں واقعی غلط تھی؟_ اس کے ہونٹ تھوڑے کانپے۔ وہ ہمیشہ سے نرم دل تھی۔ جلدی دکھی ہو جاتی تھی۔
مگر اگلے ہی سیکنڈ میں اس کی آنکھوں کی نمی غائب ہو گئی۔ وہ معصوم تھی مگر بیوقوف نہیں تھی۔ تیز دماغ تھی۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ آواز پہلے دھیمی تھی، پھر صاف اور پختہ ہو گئی۔
ہاں میں نے مارا تھا۔
سامنے والی لڑکیاں چونک گئیں۔
ارحمہ نے کہا: کیونکہ کسی نے حد پار کی تھی۔ عزت پر بات آئی تھی۔ اور جب عزت کی بات ہو تو بہادری کا انجام نہیں سوچا جاتا۔ ضمیر صاف ہو تو ڈر نہیں لگتا۔
قندیل فوراً اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ کندھے سے کندھا ملا کر بولی: اور ہاں۔ جو ہوا ٹھیک ہوا۔ اگر کوئی اور ہوتا تو شاید اور سخت جواب دیتا۔ ارحمہ نے پھر بھی تمیز سے بات کی۔
کارڈور میں سناٹا چھا گیا۔ وہ دونوں لڑکیاں ایک دوسرے کو دیکھتی رہ گئیں۔ ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ خاموشی سے نظریں چرا کر آگے نکل گئیں۔
قندیل نے ارحمہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا: یہ ہوئی نا میری ارحمہ۔ معصوم بھی اور مضبوط بھی۔
ارحمہ نے گہری سانس لی۔ اس کے ہاتھ اب بھی تھوڑے کانپ رہے تھے۔ سچ میں ڈر لگتا ہے قندیل۔ مگر میں جھک نہیں سکتی۔
قندیل نے مسکرا کر کہا اور میں تمہیں جھکنے نہیں دوں گی۔ چلو۔ ٹیسٹ ہے۔ لیٹ ہو جائیں گی۔
وہ دونوں کلاس کی طرف چل پڑیں۔ راستے میں اب بھی نظریں تھیں۔ اب بھی سرگوشیاں تھیں۔ مگر اس بار ارحمہ کے قدموں میں وہ کمزوری نہیں تھی۔ اس کی معصومیت اس کا چہرہ تھی اور اس کی ذہانت اس کی ڈھال۔
—لیکچر ختم ہونے کی گھنٹی بجی تو پورا کمرہ ایک دم زندہ ہو گیا۔ کرسیاں پیچھے کھسکیں، بیگ بند ہوئے، لڑکے لڑکیاں گروپ بنا کر باہر نکلنے لگے۔ شور تھا، ہنسی تھی، کسی کے ہاتھ میں نوٹس تھے، کسی کے ہاتھ میں فون۔
مگر ارحمہ اپنی جگہ پر ابھی تک بیٹھی تھی۔ اس نے کتاب آہستہ سے بند کی۔ انگلیاں صفحے کے کونے پر تھوڑی دیر رک گئیں۔ دل عجیب سا بھاری تھا۔ آج لائبریری کا نام سنتے ہی دل گھبرا رہا تھا۔ وہ جگہ جہاں وہ ہمیشہ سکون ڈھونڈتی تھی، آج وہیں جانے سے ڈر لگ رہا تھا۔
قندیل نے اسے خاموش بیٹھا دیکھا تو فوراً اپنا بیگ کندھے پر ڈال کر اس کے پاس آئی۔
ارحمہ۔ اٹھو۔ لائبریری چلتے ہیں۔ آج والا چیپٹر بہت مشکل تھا۔ ریوائز کر لیتے ہیں۔
ارحمہ نے سر اٹھا کر کہا: نہیں قندیل۔ آج لائبریری نہیں جاؤں گی۔
قندیل نے بھنویں سکیڑیں: کیوں؟ کیا ہوا؟ تم تو روز سب سے پہلے بھاگتی ہو لائبریری۔
ارحمہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: امی نے آج لنچ دیا ہے۔ سوچا cafeteria میں بیٹھ کر سکون سے کھا لیتے ہیں۔ اور ویسے بھی… آج دل نہیں ہے۔
یہ زندگی میں پہلی بار تھا۔ ارحمہ نے لائبریری جانے سے انکار کیا تھا۔ قندیل نے فوراً اس کی آنکھیں پڑھ لیں۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ بس ارحمہ کا ہاتھ پکڑا۔
ٹھیک ہے۔ لائبریری نہیں جانا تو مت جاؤ اور ویسے بھی شکر ہے کبھی تو تم کتابوں سے باہر نکلی مجھ سے تو۔ نہیں پڑھی جاتی اتنی موٹی موٹی کتابیں دماغ خراب ہوتا ہے دیکھتے ہی ارحما نے کمر پر ہاتھ مارا قندیل کے اور کہا بدتمیزی ہاں میں بدتمیز ہی ہوں کچھ بھی کرلو
بھوکی نہیں رہنے دوں گی۔ چلو میرے ساتھ۔
زبردستی۔
ارحمہ نے ہلکا سا ہاتھ چھڑانے کی کوش کی: قندیل چھوڑ
قندیل نے اور مضبوطی سے ہاتھ تھاما: “نہیں چھوڑوں گی۔ چلو شرافت کے ساتھ ورنا آنٹی کو بتا دوں گی
قندیل تم بہت بری ہو ارحما کہتی ہے
وہ تو میں ہو اب پتا چلا ہے تجھے
اور
وہ دونوں کارڈور سے گزرتی ہوئیں۔ راستے میں لڑکے لڑکیاں تھے۔ کچھ نظریں ارحمہ پر ٹھہریں۔ کچھ سرگوشیاں ہوئیں۔ ارحمہ نے نظریں جھکا لیں۔ قندیل نے فوراً اس کا بازو تھام لیا: نظر انداز کرو۔ لوگوں کا کام ہے باتیں کرنا۔
cafeteria میں داخل ہوتے ہی شور اور گرمی کا جھونکا آیا۔ میزوں پر ٹرے، ہنسی، باتوں کی گونج۔ ارحمہ نے کونے میں ایک خالی میز دیکھی۔ دونوں وہاں بیٹھ گئیں۔ ارحمہ نے بیگ سائیڈ پر رکھا اور امی کا دیا ہوا ٹفن کھولا۔ گرم روٹی، آلو گوشت اور اچار کی خوشبو پھیل گئی۔
قندیل نے فوراً نوالہ توڑا: “واہ۔ آنٹی کے ہاتھ کا کھانا۔ مجھے بھی دو
ارحمہ نے ہنس کر اس کی پلیٹ میں ڈال دیا: “لے۔ پیٹو۔ صبح سے بس تمہارا پیٹ ہی یاد رہتا ہے۔”
قندیل نے آنکھ مار کر کہا: “دوست کس دن کام آئیں گے
وہ دونوں ہنستے ہوئے کھا رہی تھیں۔ قندیل نے ارحمہ کی پلیٹ سے آخری نوالہ بھی چھین لیا اور بولی آنٹی کا کھانا ہے تو میں کیوں چھوڑوں ارحمہ نے ہنس کر کہا تمہارا پیٹ ہے یا بلیک ہول؟۔ قندیل نے منہ بھر کر کہا دونوں۔
اسی وقت دروازے سے آہد اندر آیا۔ بلو شرٹ کے بازو تھوڑے فولڈ، ہاتھ میں نوٹس کی فائل، کندھے پر بیگ۔ وہ سیدھا لائبریری کی طرف جا رہا تھا قندیل اس کو آتے ہوے دیکھ چکی تھی تو اس نے فوراً۔ احاد کو آواز دی اوےےےے احاد۔ چلتے چلتے اس کے کانوں میں۔ قندیل کی آواز ائ تو اس کی نظر بیٹھی ارحمہ پر پڑی۔ وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔ اس کے ہونٹوں پر بہت ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ بغیر کچھ سوچے سیدھا ان کی ٹیبل کی طرف آیا۔ کرسی کھینچ کر بیٹھا اور بیگ سائیڈ پر رکھ دیا۔
زہ نصیب۔ آج تو بڑے بڑے لوگ ہمیں بلا رہے ہیں اس نے مذاق میں کہا۔
قندیل نے فوراً جوس کا گلاس اس کے آگے رکھا اور آنکھیں گھماتے ہوئے بولی زیادہ خوش مت ہو۔ میں نے اس لیے بلایا ہے کہ تھینک یو کر دوں۔
آحد نے بھنویں اٹھائیں کس بات کا؟
قندیل نے ارحمہ کی طرف اشارہ کیا میری دوست کی حفاظت کی۔ کل لائبریری میں۔ اس لیے
آحد نے ارحمہ کی طرف دیکھا۔ ارحمہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ گال ہلکے گلابی ہو گئے۔ وہ ٹفن کا ڈھکنا انگلیوں سے گھما رہی تھی۔
آحد نے سادہ لہجے میں کہا اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں۔ یہ میرا فرض تھا۔
ارحمہ نے آہستہ سے سر اٹھایا۔ آواز دھیمی تھی مگر لفظ صاف میں نے نہیں بلایا تھا۔ خود آئے تھے آپ۔ اور میں اپنی حفاظت خود کر سکتی ہوں
آحد نے مسکرا کر کہا پتہ ہے۔ اسی لیے تو تھوڑا رکا تھا۔ دیکھ رہا تھا تم سنبھال لو گی یا نہیں
ارحمہ فوراً بولی سنبھال لیتی
آحد مان لیا۔ مگر اگلی بار پہلے بتا دینا۔ ٹائم بچ جائے گا
ارحمہ نے نرمی سے کہا اگلی بار موقع ہی نہیں دوں گی
احد ہنس دیا چیلنج قبول ہے
قندیل بیچ میں دونوں کو گھور کر بولی بس کرو۔ لگتا ہے مقابلہ لگا ہوا ہے کہ کون زیادہ تیز بولے گا پھر وہ آحد کی طرف مڑی اوئے ایک بات بتاؤ۔
آہد ہاں؟
قندیل شکر ہے زندگی میں وہ دن بھی آیا کہ تمہارا دل کتابیں پڑھنے کا نہیں کر رہا۔ ورنہ تمہیں تو لائبریری کے بغیر چین نہیں آتا۔
آہد نے فوراً سینے پر ہاتھ رکھا میں؟ کبھی نہیں۔ میرا دل تو 24 گھنٹے کتابوں کے ساتھ ہے۔
قندیل نے قہقہ لگا کر کہا اچھا؟ تو پھر نوٹس ہاتھ میں پکڑ کر cafeteria کیوں آ گئے؟ سیدھا لائبریری کیوں نہیں گئے؟
تم نے ہی بلایا تھا
قندیل نے ہنستے ہوئے اس کی کمر پر ہلکی سی چماٹ ماری بدتمیز۔ جھوٹ بولتا ہے۔
آہد نے ڈرامائی انداز میں کہا اوہ تشدد۔ ارحمہ دیکھو مجھ پر ظلم ہو رہا ہے
ارحمہ نے ہنستے ہوئے کہا ہو نے دو۔ تم ڈیزرو کرتے ہو
آہد نے فوراً کہا واہ۔ اب تم بھی اس کے ساتھ مل گئی؟
ارحمہ نے کندھے اچکا دیے میں تو شروع سے اسی کے ساتھ ہو
تینوں ہنس پڑے۔ ماحول ہلکا ہو گیا۔ قندیل نے آہد کی پلیٹ میں سالن ڈالا لے کھا۔ آنٹی کا لنچ ہے۔ ضائع مت کرنا۔ آہد نے نوالہ توڑتے ہوئے کہا ارحمہ تمہاری امی کو میرا سلام کہنا۔ کھانا کمال ہے ارحمہ نے آہستہ سے کہا کہہ دوں گی
قندیل نے پھر شرارت سے کہا “ویسے آہد سچ بتاؤ۔ کل تم رکنے والے تھے یا نہیں؟
آہد نے سنجیدہ بن کر کہا میں تو بس گزر رہا تھا۔
ارحمہ نے فوراً ٹوکا “جھوٹ۔ آپ 2 منٹ تک دروازے پر کھڑے تھے
آہد نے ہار مان لی اچھا بابا مان گیا۔ رکا تھا۔ خوش؟
قندیل نے تالی بجائی بس یہی سننا تھا
کھانے کے بعد قندیل نے ٹرے سمیٹی اور کھڑی ہو گئی چلو اب لائبریری۔ ریوائز کرنا ہے ورنہ فیل ہو جائیں گے
ارحمہ نے ایک لمحہ سوچا۔ پھر آہستہ سے سر ہلا دیا ہاں چلو کیونکہ اب اسکا موڈ تھوڑا بہتر ہوا تھا اس لیے وہ مان گئی
آہد نے نوٹس اٹھائے اور کہا چلو۔ آج میں تم دونوں کو وہ شارٹ ٹرک بھی بتاؤں گا جو پروفیسر نے بتایا تھا۔
قندیل نے آنکھ مار کر کہا دیکھا۔ اب خود لائبریری جانے کا شوق جاگا ہے
آہد نے ہنس کر کہا میں تو آتا ہی لائبریری کے لیے ہوں بھئ
تینوں ٹرے اٹھا کر cafeteria سے نکلے۔ باہر دھوپ تھی۔ ہوا چل رہی تھی۔ ارحمہ کے قدموں میں اب وہ بھاری پن نہیں تھا۔ وہ قندیل کا بازو تھامے چل رہی تھی اور آہد انکے آگے۔
____________________
جہاز کی بزنس کلاس میں ہلکی سنہری روشنی تھی اور کیبن میں ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ دائیں جانب کھڑکی والی قطار کی پہلی سیٹ پر سہراب احمد بیٹھا تھا۔ اس نے ہلکے نیلے رنگ کی پلین شرٹ پہنی ہوئی تھی جس کے اوپر والے دو بٹن کھلے تھے اور بازو کہنی تک فولڈ تھے۔ نیچے ڈارک گرے جینز اور پاؤں میں سفید سنیکرز تھے۔ کلائی میں سلور کلر کی پتلی گھڑی بندھی تھی۔ اس نے بلیک وائرلیس ہیڈفون لگائے ہوئے تھے اور سیٹ کو تھوڑا پیچھے کر کے آرام سے بیٹھا تھا۔ وہ کھڑکی سے باہر سفید بادلوں اور نیلے آسمان کو دیکھ رہا تھا اور بیچ بیچ میں موبائل نکال کر تصویریں بھی بنا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی ٹینشن نہیں تھی۔ وہ دس دن کی چھٹی پر جا رہا تھا اور اسے انجوائے کر رہا تھا۔
اس کے ساتھ والی سیٹ پر احمد بیٹھا تھا۔ احمد اس کا بچپن کا دوست تھا۔ دونوں سیٹ کے درمیان والا ہینڈ ریسٹ اوپر کر کے ایک دوسرے سے بات کر رہے تھے۔ کبھی سہراب ہنستا تو کبھی احمد۔ ماحول بالکل دوستوں والا اور نارمل تھا۔
ان سے دو قطاریں پیچھے بائیں جانب والی سیٹوں پر باقی چار دوست تھے۔ کھڑکی والی سیٹ پر تیمور بیٹھا تھا جس نے گرے ٹی شرٹ اور کیپ پہنی ہوئی تھی اور وہ لیپ ٹاپ پر مووی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساحل بیٹھا تھا جو بالی کے ٹورسٹ پوائنٹس اپنے فون پر چیک کر رہا تھا۔ ان کے ٹھیک پیچھے والی قطار میں ارسل اور زہیب بیٹھے تھے۔ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے اور بیچ بیچ میں قہقہے بھی لگا رہے تھے۔ پورے گروپ میں ایک خوشگوار اور فری ماحول تھا۔
اتنے میں ایک ایئر ہوسٹس مسکراتی ہوئی ان دونوں کے پاس آئی۔ ٹرے میں دو گلاس رکھے تھے۔
Good evening, gentlemen. Would you like some mango juice, or may I get you something else?
سہراب نے ہیڈفون تھوڑے نیچے کیے اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
Thank you. Mango juice is fine.
احمد نے بھی سر ہلا کر کہا Same for me. Thank you.
Alright. Please let me know if you need anything else کہہ کر ایئر ہوسٹس آگے بڑھ گئی۔
سہراب نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ سفید بادلوں کے درمیان سے سورج کی روشنی چھن کر آ رہی تھی۔ وہ دس دن کے لیے بالی جا رہا تھا۔ بالی — ہرے بھرے جنگل، نیلا سمندر، اور پرسکون زندگی۔
کچھ گھنٹوں بعد جہاز بالی کے ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ سہراب اور احمد نے اپنا سامان اٹھایا اور باقی دوستوں کے ساتھ باہر نکلے۔ پہلے سے بک کی ہوئی کیب ان کا انتظار کر رہی تھی۔ ڈرائیور نے سامان رکھا اور ہوٹل کی طرف گاڑی دوڑا دی۔
سہراب کھڑکی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ باہر سڑکیں صاف تھیں۔ دونوں طرف ناریل کے اونچے درخت، ہریالی، اور مقامی طرز کے چھوٹے گھر۔ ہوا میں سمندر کی نمکین خوشبو تھی۔ احمد ساتھ بیٹھا مسلسل بول رہا تھا دیکھا؟ میں نے کہا تھا نا۔ بالی کمال ہے۔ سہراب نے بس ہلکا سا ہمم کہہ کر جواب دیا۔
گاڑی ایک شاندار ہوٹل کے سامنے آ کر رکی جس کا نام تھا The Ocean Pearl Resort & Spa۔
یہ بالی کے سب سے پرتعیش اور مشہور ہوٹلوں میں سے ایک تھا۔ عمارت سمندر کے بالکل کنارے بنی ہوئی تھی۔ سفید سنگ مرمر اور شیشے سے بنی 20 منزلہ عمارت دور سے ہی اپنی چمک سے نظر آتی تھی۔ ہوٹل کے سامنے ناریل کے اونچے درختوں کی قطاریں تھیں اور مین گیٹ پر بڑے فوارے پانی کے قطرے ہوا میں بکھیر رہے تھے۔
لابی میں قدم رکھتے ہی چنبیلی اور ونیلا کی ہلکی خوشبو نے استقبال کیا۔ فرش پر اطالوی سنگ مرمر لگا تھا جو جھومر کی روشنی سے چمک رہا تھا۔ بیچ میں 15 فٹ اونچا کرسٹل کا جھومر لٹکا تھا جس کی روشنی پورے ہال کو سنہرا کر رہی تھی۔ دیواروں پر بالی کے مقامی آرٹ اور بڑی پینٹنگز سجی تھیں۔ سٹاف سب سفید شرٹ اور سارونگ میں ملبوس، مسکراتے ہوئے مہمانوں کو Selamat Datang کہہ کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔
ریسیپشن کاؤنٹر ساگوان کی لکڑی کا تھا اور اس کے پیچھے شیشے کی بڑی دیوار سے سمندر کا نظارہ صاف نظر آتا تھا۔ ہوٹل کے تمام کمرے بارہویں منزل سے اوپر تھے۔ ہر کمرے میں فلور ٹو سیلنگ ونڈو اور پرائیویٹ بالکونی تھی جہاں سے رات کو سمندر اور چاند دونوں ایک ساتھ دیکھے جا سکتے تھے۔ یہاں آنے والے مہمان صرف عیش کے لیے نہیں، سکون کے لیے آتے تھے۔
—
گاڑی سے اترتے ہی “The Ocean Pearl Resort & Spa” کا بڑا شیشے کا دروازہ خود بخود کھلا۔ اندر قدم رکھتے ہی ٹھنڈی ہوا اور چنبیلی کی خوشبو نے سب کو گھیر لیا۔ لابی کسی محل سے کم نہیں تھی۔ فرش پر اطالوی سنگ مرمر چمک رہا تھا اور چھت سے لٹکا 15 فٹ اونچا کرسٹل کا جھومر روشنی کے ہزار ٹکڑے بکھیر رہا تھا۔ دائیں طرف صوفے لگے تھے جہاں کچھ مہمان ناریل کا پانی پی رہے تھے۔ بائیں طرف ساگوان کی لکڑی کا لمبا ریسیپشن کاؤنٹر تھا اور اس کے پیچھے شیشے کی دیوار سے دور نیلا سمندر صاف نظر آ رہا تھا۔
سہراب سیدھا ریسیپشن کی طرف بڑھا۔ احمد اور باقی دوست اس کے پیچھے تھے۔
ریسیپشنسٹ ایک 25 سالہ لڑکی تھی۔ بالوں کا جوڑا، سفید شرٹ اور بالی طرز کی سارونگ۔ اس نے مسکرا کر سر جھکایا اور کہا:
Good evening, Sir Welcome to The Ocean Pearl. May I help you?”
سہراب نے اپنا نام اور بکنگ ڈیٹیل بتائی۔ لڑکی نے سسٹم پر چند کلک کیے، پاسپورٹ چیک کیا اور پھر نفاست سے 7 کارڈ کیز ایک ٹرے میں رکھ کر آگے بڑھا دیں۔
Here you are, sir. All six rooms are on the 12th floor with ocean view. I hope you have a pleasant stay with us
Thank you سہراب نے مختصر جواب دیا اور کارڈز اٹھا لیے۔
ریسیپشن کے ساتھ ہی شیشے کی دو لفٹیں تھیں۔ سہراب نے بٹن دبایا۔ چند سیکنڈ میں لفٹ نیچے آئی اور شیشے کے دروازے کھل گئے۔ چھ کے چھ دوست اندر داخل ہوئے۔ سہراب نے 12 کا بٹن دبایا۔
لفٹ آہستہ آہستہ اوپر جانے لگی۔ تینوں طرف شیشہ تھا۔ جیسے جیسے لفٹ اوپر جا رہی تھی، بالی کا پورا شہر، ناریل کے جنگل اور دور سمندر کی لہریں نیچے چھوٹی ہوتی گئیں۔ احمد نے کھڑکی سے باہر دیکھ کر کہا یہ view دیکھ۔ پیسے وصول۔ سہراب نے کچھ نہیں کہا، بس آنکھوں سے منظر پی رہا تھا۔
12ویں منزل پر “ding” کی آواز کے ساتھ لفٹ رکی۔ دروازے کھلے تو سامنے سفید ٹائلوں والی لمبی اور خاموش راہداری تھی۔ دیواروں پر ہلکی پیلے رنگ کی لائٹیں اور بڑے گملوں میں ہرے پودے۔ ہوا میں ہلکی خوشبو تھی۔
سہراب نے کارڈ نکالا اور اپنے کمرے کے نمبر 1206 کے سامنے جا کر کارڈ ٹچ کیا۔ “beep” کی آواز آئی اور دروازہ کھل گیا۔
—
سہراب نے پیچھے مڑ کر کمرے کا دروازہ آرام سے بند کیا۔ پورے کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی اور سکون تھا،
اس نے اپنی بھاری جیکٹ اتاری اور اسے ارام سے بیڈ پر رکھ دیا۔
تھکاوٹ دور کرنے کے لیے وہ سیدھا واش روم چلا گیا۔ کچھ دیر بعد جب وہ نہا کر اور فریش ہو کر باہر نکلا تو اس کا روپ مزید نکھر چکا تھا۔ اس کے بال ابھی گیلے تھے اور ان سے پانی کی بوندیں ٹپک رہی تھیں۔
وہ چلتا ہوا آئینے کے سامنے جا کر کھڑا ہوا۔ آئینے میں اس کا عکس دکھائی دے رہا تھا—وہ اس وقت قیامت لگ رہا تھا، ایسا حسیں کہ اسے ایک نظر دیکھنے والا بس دیکھتا ہی رہ جائے اور اس پر فدا ہو جائے۔ آئینے میں اس کی برہنہ پیٹھ اور چوڑے کندھے صاف نظر آ رہے تھے، جس سے اس کی شخصیت مزید نمایاں ہو رہی تھی۔
اس نے آئینے کے سامنے سے ہٹ کر اپنی ایک ہلکے کپڑے کی کیژوئل شرٹ اٹھائی اور اسے پہن لیا، لیکن اس کے آگے کے بٹن کھلے ہی رہنے دیے، جس سے اس
اپنے بالوں کو ہاتھ سے تھوڑا سیٹ کرنے کے بعد وہ آ کر بیڈ پر لیٹ گیا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا فون اٹھایا اور سکرین آن کر کے ٹائم دیکھا۔
ابھی ان کے پاس صرف ۱ گھنٹہ تھا، جس کے بعد انہیں باہر گھومنے کے لیے نکلنا تھا۔
انہوں نے بالی کے سب سے خوبصورت اور مشہور ساحل نوسا دوا بیچ (Nusa Dua Beach) پر جانا تھا، جو اپنے صاف شفاف پانی، سفید ریت اور شاندار ماحول کے لیے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ سہراب نے آنکھیں موند لیں اور ۱ گھنٹے کے لیے سستانے لگا تاکہ بیچ پر جانے سے پہلے اس کی تھکاوٹ پوری طرح اتر جائے۔
ایک گھنٹہ تیزی سے گزر گیا۔ سہراب کے کمرے کا دروازہ کھلا اور اس کا دوست تیمور اندر داخل ہوا۔ باقی دوست اپنے اپنے کمروں میں تیاری کر رہے تھے۔
تیمور نے کمرے میں قدم رکھتے ہی آواز دی:
“سہراب! یار اٹھو، چلنے کا وقت ہو گیا ہے۔”
سہراب پہلی ہی آواز پر جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہ دراصل سویا نہیں تھا، بس آنکھیں بند کیے بستر پر لیٹا سستا رہا تھا۔
تیمور نے اسے دیکھا اور مسکرا کر بولا:
“چلو چلو، دیر ہو رہی ہے، اب جلدی کرو!”
سہراب بستر سے اترا، ایک نظر آئینے میں اپنے عکس پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ چونکہ وہ کچھ دیر پہلے ہی نہا کر فریش ہوا تھا، اس لیے اسے مزید تیار ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔
تھوڑی ہی دیر میں چھ کے چھ دوست ہوٹل سے باہر آ گئے۔ وہ لوگ بالی کی خوبصورت وادیوں کو تلاش کرنے کے لیے مکمل تیار تھے۔ باہر دو گاڑیاں ان کا انتظار کر رہی تھیں۔
پہلی گاڑی میں سہراب، تیمور اور ان کا ایک دوست ساحل بیٹھ گئے۔ جبکہ دوسری گاڑی میں ارسل، زہیب اور شہیب سوار ہوئے۔ یہ7 دوست مل کر بالی کا یہ شاندار ٹرپ انجوائے کرنے آئے تھے۔
ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ سہراب خاموشی سے کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر کے دلفریب مناظر دیکھ رہا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف ناریل کے اونچے درخت، ہریالی اور بہترین روڈز کی خوبصورتی دیکھنے لائق تھی۔ گاڑی میں ہلکی آواز میں مدہم اور خوبصورت گانے چل رہے تھے جو ماحول کو اور بھی پرسکون بنا رہے تھے۔
تیمور ساتھ بیٹھا مسلسل کچھ نہ کچھ باتیں کر رہا تھا، لیکن سہراب بس ہلکا پھلکا “ہمم یا “جی” کہہ کر جواب دے دیتا، جیسے اس کا زیادہ بولنے کا موڈ ہی نہ ہو۔
اسی اثنا میں سہراب کا فون بجا۔ اس نے سکرین دیکھی، بابا کی کال تھی۔ اس نے فون کان سے لگایا:
جی بابا؟”
دوسری طرف سے اس کے بابا نے پوچھا:
خیرت سے پہنچ گئے ہو نہ بیٹا؟ ہوٹل ٹھیک ہے؟
سہراب نے دھیمے لہجے میں کہا:
جی بابا، بالکل ٹھیک ٹھاک پہنچ گئے ہیں۔”
ابھی کہاں ہو تم لوگ؟”
ہم لوگ باہر گھومنے نکلے ہیں، نوسا دوا بیچ (Nusa Dua Beach) جا رہے ہیں،” سہراب نے مختصر جواب دیا۔
چلو اپنا خیال رکھنا، اللہ حافظ،” بابا نے شفقت سے کہا اور فون کاٹ دیا۔
کچھ دیر کے سفر کے بعد گاڑی بالی کے سب سے خوبصورت ساحل “نوسا دوا بیچ” کی پارکنگ میں جا کر رکی۔ نوسا دوا کا لفظی مطلب دو جزیرے (Two Islands) ہے، کیونکہ اس ساحل کے قریب سمندر میں دو چھوٹے قدرتی جزیرے بنے ہوئے ہیں، اسی مناسبت سے اس ساحل کا نام نوسا دوا رکھا گیا ہے۔ یہ جگہ اپنے بالکل صاف اور شفاف نیلے پانی، مکھن جیسی نرم سفید ریت اور پرسکون ماحول کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔
سب دوست گاڑی سے نیچے اترے اور ڈرائیور گاڑی کو پارکنگ میں کھڑی کرنے چلا گیا۔ یہ چھ دوست ہلکے قدموں سے چلتے ہوئے ساحل کی طرف بڑھنے لگے۔
سہراب ان سب سے تھوڑا الگ، سست اور شاہانہ قدموں سے چل رہا تھا۔ اس کی شرٹ کے سامنے کے دو بٹن کھلے ہوئے تھے اور سمندر کی تیز، ٹھنڈی ہوا اس کے بالوں کو اڑا رہی تھی۔ ساحل پر موجود اور پاس سے گزرتی ہوئی کئی خوبصورت لڑکیاں مڑ مڑ کر اس ڈیشنگ اور جاذبِ نظر نوجوان کو دیکھ رہی تھیں، لیکن سہراب کا دھیان ان میں سے کسی پر نہیں تھا، وہ ان سب سے بے نیاز تھا۔
وہ چلتا ہوا سمندر کے بالکل پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔ ساحل پر رونق ہی رونق تھی۔ لوگ ٹہل رہے تھے، کئی جوڑے (couples) ننگے پاؤں ریت پر بھاگ رہے تھے، بچے پانی سے کھیل رہے تھے اور کچھ لوگ چھتریوں کے نیچے بیٹھ کر ناریل کا پانی پی رہے تھے۔ سہراب خاموشی سے لہروں کو قدموں سے ٹکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
کچھ دیر گزری تو تیمور اس کے پاس آیا اور اپنا فون نکال کر سہراب کے ساتھ تصویریں بنانے لگا۔ سمندری ہوا اب اور تیز ہو چکی تھی۔
تھوڑی دیر میں ارسل بھی چلتا ہوا ان کے پاس آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک ناریل کا ٹھنڈا پانی (Coconut Water) تھا۔ اس نے وہ ناریل سہراب کی طرف بڑھا دیا۔
سہراب نے ناریل تھام لیا، تو یہ دیکھ کر تیمور کا منہ بن گیا اور وہ طنز سے بولا:
“تجھ کو میرا ذرا خیال نہیں آیا کہ میرے لیے بھی ایک ناریل کا پانی لے آتا؟”
ارسل نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا:
“کیوں بھائی؟ میں تیری ماں ہوں جو تیرے لیے ناریل اٹھا کر لاؤں؟ خود جا اور لے کر آ!”
تیمور نے فوراً جواب دیا:
“ماں تو تو سہراب کی بھی نہیں ہے! لیکن اس کے لیے تو اتنی دور سے لے کر آیا ہے نہ؟ جا میرے لیے بھی لے کر آ!”
ارسل نے صاف نفی میں گردن ہلائی:
“میں بالکل نہیں جا رہا، جو کرنا ہے کر لو۔”
سہراب خاموشی سے ناریل کا گھونٹ بھرتے ہوئے ان دونوں کی بچکانہ بحث دیکھ رہا تھا اور اس کے لبوں پر ایک باریک سی مسکراہٹ آ گئی۔
تیمور نے جیسے ہی موقع دیکھا، ارسل کے ہاتھ میں پکڑا دوسرا ناریل جھپٹا اور ساحل کی ریت پر تیزی سے بھاگ کھڑا ہوا۔
“روک سکتے ہو تو روک لو!” تیمور نے بھاگتے ہوئے ہنس کر آواز لگائی۔
“تیمور کے بچے! رک تو ذرا!” ارسل غصے سے چلاتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا۔
سہراب نے ناریل کا پانی پیتے ہوئے ان دونوں کو ریت پر بھاگتے دیکھا اور گہرا سانس لے کر کھلے سمندر کی طرف دیکھنے لگا، جہاں سورج کی سنہری کرنیں نیلگوں پانی پر چمک رہی تھیں۔
اور سورج اب ڈوبنے والا تھا ۔۔۔۔۔
شام کا وقت ہو رہا تھا اور دن کی تیزی اب آہستہ آہستہ مدہم پڑ رہی تھی۔ آسمان پر پھیلی سورج کی زردی اب گہرے سرخ اور نارنجی رنگوں میں ڈھل چکی تھی۔ چمکتا ہوا سورج آہستہ آہستہ سمندر کے افق میں ڈوب رہا تھا اور اس کی آخری سنہری کرنیں نیلگوں پانی پر بکھر کر اسے شعلوں کی طرح چمکا رہی تھیں۔
سہراب بالکل سمندر کے کنارے پانی کے سامنے اکیلا کھڑا تھا۔
اگر کوئی اسے پیچھے سے دیکھتا تو یہ منظر کسی ماہر مصور کی شاہکار پینٹنگ کی طرح لگتا… ایک طرف ڈوبتا ہوا دلکش سورج، سامنے ٹھاٹھے مارتا ہوا بے قرار سمندر،
اور ان دونوں کے درمیان بازو باندھے خاموش کھڑا سہراب احمد!
تیز سمندری ہوا اس کے بالوں کو بکھیر رہی تھی
اور شرٹ کے کھلے ہوئے دو بٹنوں سے چھنتی ہوا اس کے وجود کو چھو کر گزر رہی تھی۔ وہ کہیں دور، بہت دور کسی ان کہی سوچ میں گم تھا… یا شاید بس ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی خیال میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ ماحول اتنا سحر انگیز تھا کہ اگر اس لمحے اس منظر کی کوئی تصویر لے لی جاتی، تو شاید وہ تصویر صدیوں تک یاد رکھی جاتی۔
کتنی ہی دیر وہ باوقار شخص یوں ہی ساکت کھڑا رہا، جیسے وقت کی رفتار کو روک دینا چاہتا ہو۔ پھر اس نے اپنے جوتے اتارے اور ننگے پاؤں خاموشی سے سمندر کے ساتھ ساتھ ٹہلنے لگا۔ سمندر کی ٹھنڈی، جاگتی ہوئی لہریں بار بار ساحل پر آتیں، اس کے پیروں کو بھگوتیں اور واپس لوٹ جاتیں۔ وہ بغیر کچھ بولے، بس لہروں کا لمس محسوس کرتا ہوا ریت پر قدم بڑھاتا رہا۔
کچھ دیر بعد ساحل اس کے قریب آیا اور دھیمے سے بولا:
“سہراب! اب ہوٹل واپس چلتے ہیں یار… ہم سب بہت تھک گئے ہیں اور اب شام بھی ہو گئی ہے۔”
سہراب نے بغیر کچھ کہے، بس اثبات میں ہلکا سا سر ہلا دیا۔ پھر وہ خاموشی سے اپنے دوستوں کے ساتھ ساحل سے دور جانے لگا۔
وہ سب ٹہلتے ہوئے اس پارکنگ کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں ان کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔
اب مکمل شام ہو چکی تھی۔ سورج پوری طرح ڈوب چکا تھا اور آسمان کے ایک کونے پر بادلوں کی اوٹ سے چاند نکل آیا تھا، جس کی چاندنی نے سمندر پر ایک پراسرار سی چمک بکھیر دی تھی۔ سہراب اپنے دوستوں کے ساتھ قدم بہ قدم سمندر سے دور جا رہا تھا…
مگر یوں لگتا تھا جیسے کچھ ہونے والا ہے۔
پیچھے چھپتا ہوا سمندر دور جاتے ہوئے سہراب احمد کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا، جیسے اسے روکنا چاہتا ہو۔ کچھ ہونے والا تھا… کچھ بہت برا ہونے والا تھا۔
نوسا دوا بیچ کی پارکنگ ساحل سے کافی دور تھی، اس لیے انہیں اچھا خاصا فاصلہ پیدل طے کر کے جانا تھا۔
شام کا دھندلاہٹ اب گہرے اندھیرے میں بدل رہا تھا اور سڑک کی بتیاں آہستہ آہستہ روشن ہو رہی تھیں۔ سہراب کے تمام دوست ہنسی مذاق کرتے ہوئے اس سے تھوڑا آگے چل رہے تھے، جبکہ سہراب کچھ فاصلے پر دھیمے قدموں سے تنہا آ رہا تھا۔
چلتے چلتے اچانک سہراب کو ایک عجیب سا احساس ہوا… جیسے اندھیرے میں کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو، کوئی غائبانہ نظریں اس کی پیٹھ پر جمی ہوں۔ سہراب نے فوراً مڑ کر پیچھے دیکھا، مگر وہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔ ساحل پر آئے عام لوگ اور سیاح اپنی ہی دھن میں مگن ادھر ادھر آ جا رہے تھے۔ سہراب نے اپنا وہم سمجھا اور سر جھٹک کر دوبارہ آگے بڑھنے لگا۔
ابھی کچھ ہی لمحے گزرے تھے کہ سہراب کو دوبارہ اپنے عین پیچھے کسی کے تیز قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس بار آہٹ اتنی قریب تھی کہ جیسے کوئی بالکل اس کے عقب میں آ کھڑا ہوا ہو۔ سہراب نے پلک جھپکتے ہی مڑ کر دیکھا… لیکن وہاں پھر کوئی نہیں تھا!
وہ چند لمحوں کے لیے حیران و پریشان وہیں رک گیا۔
تیمور نے مڑ کر سہراب کو پیچھے اکیلا کھڑے دیکھا تو وہیں سے آواز دی اور پھر خود چلتا ہوا اس کے پاس آ گیا۔
“کیا ہوا سہراب؟ سب ٹھیک ہے؟” تیمور نے اس کا الجھا ہوا چہرہ دیکھ کر تشویش سے پوچھا۔
“نہیں… کچھ نہیں،” سہراب نے نفی میں سر ہلا دیا اور مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔
اب تیمور اور سہراب دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے، جبکہ باقی چاروں دوست ان سے کچھ فاصلے پر آگے آگے بڑھ رہے تھے۔ دور پیچھے چھوٹ جانے والا خاموش سمندر اندھیرے میں لپٹا ہوا اب بھی ان دو دوستوں کو دیکھ رہا تھا… جیسے اسے خبر ہو کہ کچھ ہونے والا ہے۔
سیاہ رات کا اندھیرا اب پوری طرح چھا چکا تھا…
اور پھر، اچانک!
سنسان فضا میں ایک خوفناک اور زور دار دھماکے کی آواز گونجی—گولی چلنے کی آواز!
کبھی نہ ختم ہونے والے اندھیرے میں کسی نے پیچھے سے سیدھا نشانہ باندھ کر گولی چلائی تھی!
ایک ہی پل میں ساحل کی پرسکون فضا چیخ و پکار سے گونج اٹھی۔ بھگڈر مچ گئی، پاس سے گزرتے لوگ خوف کے مارے ہڑبڑا کر ادھر ادھر بھاگنے لگے، ہر طرف ایک دہشت اور سراسیمگی پھیل گئی۔
اور ان دو دوستوں میں سے… ایک انسان بے جان ہو کر سیدھا زمین پر جا گرا!
آگے چلتے ہوئے پانچوں دوست گولی کی آواز اور چیخیں سن کر جھٹکے سے پلٹے۔ سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بدحواس ہو کر بھاگتے ہوئے ان تک آئے۔
زمین پر گرنے والا انسان بالکل ساکت پڑا تھا۔ اس کے جسم سے خون تیزی سے نکل کر سیاہ سڑک کو سرخ کر رہا تھا۔
زہیب نے کپکپاتے ہاتھوں سے نیچے جھک کر زمین پر پڑے اپنے دوست کی گردن پر ہاتھ رکھا… اس نے سانسیں چیک کیں، اس کی نبض ٹٹولی…
لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ دھڑکن تھم چکی تھی، سانسیں ہمیشہ کے لیے روٹھ چکی تھیں۔
وہ مر چکا تھا!
ہاں… وہی انسان، جس کے بارے میں کسی نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ وہی جو چند گھنٹے پہلے خوشی خوشی سیر کے لیے آیا تھا، وہی جو ڈوبتے سورج اور ٹھاٹھے مارتے سمندر کو بڑی امید سے دیکھ رہا تھا… کیا اس نے ایسے بے دردی سے مارے جانا تھا؟
کسی کو خبر نہیں تھی کہ آخر ہوا کیا ہے، گولی کس نے اور کیوں چلائی تھی… بس رات کے سیاہ اندھیرے میں ایک لاش پڑی تھی اور چھ دوست خوف اور صدمے سے جم کر رہ گئے تھے
جاری ہے۔۔۔
