DIL KE DILDAR BANO BY DUA SHAHID.

بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم
دل کے دلدار بنو
ازقلم دعا شاہد

(افسانہ)

رات کا تقریبا 1 بج رہا تھا ،بکھرا ہوا،کمرا، ہر طرف کتابیں ہی کتابیں ،نوٹ بکس اور مڑور کر پھینکے گئے کاغذ، آدھی کھلی الماری سے کپڑے نکل کر زمین پر بکھرے پڑے تھے ،کمرے میں عجیب بوجھل سی خاموشی پھیلی تھی،ہلکی سی روشنی کیے ٹیبل پر آدھا بھرا کافی کا مگ پڑا تھا ،ٹیبل کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی اس لڑکی کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا ،روم کے باہر سے لڑنے اور چلانے کی آوازیں آرہی تھیں،وہ گہرہ سانس لیتی سیدھی ہوئی ،آنکھوں کے نیچے ہلکوں کے سیاہ نشان واضح ہوئے ،بےترتیب بالوں کی چند لٹیں چہرے پر بکھری ہوئی تھی ،اور باقی بال بےرحمی سے کس کر اونچی پونی میں باندھ رکھے تھے ،اس کے ہاتھ میں پکڑا پین بغیر رکے خالی کاغذ پر چلتا جارہا تھا ،باہر سے آتی آوازیں اب تیز ہورہی تھی ،دیکھتے ہی دیکھتے اس لڑکی کی آنکھوں میں نمکین پانی جمع ہونے لگا ،آنسو چہرے سے ہوتے ہوئے کاغذ کو بگھو رہے تھے،اس کے ہونٹ کپکپانے لگے ،خود کو رونے سے باز رکھنے کے چکر میں گلے میں پھندا لگا، کمرے میں گھٹی ہوئی رونے کی آواز ابھری ،پھر وہ اٹھی اور ہیڈ فونز پہن کر بیڈ پر دراز لیٹ گئ ، اور آنکھیں چھت پر ٹکالیں۔

☆☆☆☆☆
صبح سویرے وہ کالج کے یونیفارم کے اوپر ہڈی پہنے کندھے پر بیگ لیے ہوئی تھی ،دھند میں لپٹی ہوئ سڑک پر وہ بغیر رکے چلتی جارہی تھی ،سڑک پر دھند کی وجہ بڑے بڑے مکانوں کا ادھورا عکس نظر ارہا تھا ،18 سال کی انوشے کے کالج کے آخری مہینے چل رہے تھے ،سانولی رنگت ، نقوش پرکشش، دبلی پتلی سی انوشے نیازی جس کی گہری آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑے تھے ،وہ ہڈی میں ہاتھ ڈالے بیزاریت سے چل رہی تھی ،اس کا چہرہ یا تو جذبات سے عاری ہوتا یا بیزار ،کالج میں اسے ایک چلتا پھرتا پتلا کہا جاتا ،لیکن وہ ایک بےچین روح تھی ،اس کا انٹرسٹ چیزوں میں کافی جلدی ختم ہوجاتا ،لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، یا اسے کیا سمجھتے ہیں، اسے ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔
☆☆☆☆☆

کیا لگتا ہے انوشے آپی کون جیتے گا ،بابر اعظم یا شاہین آفریدی ،ایمن نے کتاب میں چھپے موبائل کی طرف دیکھتے سوال کیا ،وہ دونوں اس وقت کالج کے احاطے میں گھاس پر بیٹھی ہوئ تھی ،انوشے نے کتابوں سے منہ نکال کر خود سے ایک سال چھوٹی ایمن کی طرف دیکھا۔
تم یوں کرو ،پیپرز دینے کے لیے بھی بابر اعظم اور شاہین آفریدی کو بلا لانا ،
لوں ان کے لیے ہیی کام تو رہ گیا ہے نہ انوشے آپی، ایمن کرکٹ کی دیوانی(بابر اعظم کی دیوانی) بولے جا رہی تھی۔
میں چاہتی ہوں بابر جیتے کیوں آپی؟، پرجوش ہوکر دوبارہ کوشش کی۔
میری بلا سے کوئ بھی جیتے مجھے کیا ،اس دفعہ پیشانی پر تیوری چڑھی تھی ،ایمن نے دوبارہ اسے تنگ کر نے کی گستاخی نہیں کی ،ورنہ کیا پتہ نیوز پر اگلی ہیڈلائن اسی کی ہوتی کہ بابر اعظم کی دیوانی اپنی کزن کے ہاتھوں شہید ہوگئ ۔
گھر پہنچتے ہی ایک الگ ڈرامہ لگا ہوا تھا ،نیازی جاندان اس وقت اس کے گھر پر جما تھا ،لیکن خوشی خوشی ،یہ کبھی کبھی ہی معجزے ہوتے تھے کہ وہ خوشی خوشی جما ہوتے ،وہ گھر میں داخل ہوئ اور سب کو دیکھ کر مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر پھیلا کر ان سے سلام لیا ،کسی نے جواب دیا تو کسی نے نہیں، چچی نے تو کچھ زیادہ ہی منہ مڑورا، خیر وہ خاموشی سی ایک جگہ ٹک گئ ۔
اور بتاؤ انوشے پڑھائ کیسی جارہی ہیں، تائ امی کا یہ ہر وقت کا تھا جب بھی وہ ان سے ملتی وہ پڑھائ کا پوچھ لیتی اور پھر سب لوگ اس کی پڑھائ کی طرف متوجہ ہوجاتے ،یہ سن کر اس کا دل کیا تائ امی کی گردن مڑور دے ،لیکن وہ مسکرا کر رہ گئ ۔
ٹھیک جا رہی ہے تائ امی۔ماہ جبین کے نمبرز کا سن کر دکھ ہوا ،یہ سن کر تو تائ آمی کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوئ ،اسے یقین تھا ،تائ امی نے دل ہی دل میں اسے بددعائیں اور گالیاں دی ہوں گی ۔

نیازی خاندان کے تین سپوت تھے ،بڑے بیٹے فرہاد نیازی ،دوسرے بیٹے جمال نیازی اور تیسرے بیٹے زاہد نیازی ،فرہاد نیازی اور انکی بیوی شائستہ کے چار بچے تھے ،بڑا بیٹا باسم ،دوسرا بیٹا سمیر ،تیسرا بیٹا بلال اور آخر میں ایک بیٹی ماہ جبین جسے تائ امی کے بقول ہیرے لگے تھے ،دوسرے بیٹے جمال نیازی اور انکی بیوی سونیا کی ایک ہی بیٹی تھی ،ان کے پہلے تین بچے تھے ،جو کہ نومولود ہی وفات پاگئے، اس کے بعد ان کے گھر میں ایک بےچین روح یعنی انوشے جمال پیدا ہوئی ،تیسرے بیٹے زاہد اور انکی بیوی رابعہ کے تین بچے تھے ،بڑی بیٹی ایمن ،ایک بیٹا تیمور اور آخر میں ایک بیٹی میرال۔
یہ ہے نیازی خاندان ،جو ایک دوسرے سے بلکل محبت نہیں کرتے صرف مطلب اور دکھاوے کے لیے ساتھ کھڑے ہیں، اور اسے ان رشتوں میں کوئ دلچسپی نہ تھی ،انوشے جمال نیازی رشتوں سے باغی لڑکی تھی ۔
اس وقت گھر میں فرہاد نیازی کے دو بیٹوں کے رشتے طے ہوچکے تھے ،اس سلسلے میں وہ منہ میٹھا کرنے اسی کے گھر چل پڑے، وہ چپ چاپ بیٹھی ان کی حرکات نوٹ کر رہی تھی ۔
بس بھائی صاحب سمیر کو تو وہ لڑکی بہت ہی پسند ہے اور ہمیں بھی اچھی لگی تو ہاں کر آئے، شائستہ نیازی چہچہا رہی تھی ۔
اچھی لگی یا بیٹوں نے شہ رگ پر چھری رکھ کر اچھی لگوا لی، وہ بڑبڑائی، لیکن بدقسمتی سے آواز کسی تک نہ پہنچی۔

سب لوگ صوفوں پر براجمان لمبی گفتگو میں مصروف تھے ،وہ چپکے سے صوفے سے اٹھی اور روم میں چلی گئ ،لیکن وہاں پہلے ہی کوئ موجود تھا ،

آگئی تم انوش ،یہ کیا ہے ؟؟ باسم نے اسے دیکھتے پوچھا اور اس کی طرف اس کی میڈیکل کی بکس کی جو کہ پنسل سے نوچ کر پھاڑ دی گئ تھی ،وہ جلدی سے آگے بڑھی اور کتابیں واپس دراز میں رکھ دیں۔
آپ یہاں کیا کر رہیں ہیں باسم بھائی ،اس نے ناگواری سے پوچھا ۔
پہلے یہ بتاو تم پڑھائ پر توجہ کیوں نہیں دے رہی،وہ کھڑا ہوا۔
آپ میری جاسوسی کر رہے ہو ،اس نے حیرانی سے پوچھا
تمہارے کالج سے مجھے فون آیا تھا ،کیوںکہ تم نے کالج میں میرا نمبر دیا ہے میڈم، وہ شرمندہ ہوئی ۔

تم سوتی نہیں ہو کیا ،باسم کی نظر اس کی آنکھوں کے نیچے ہلکوں پر پڑی۔

نہیں سوتی ہو،یہ زیادہ سونے سے ہے ،اس نے بات سنبھالی
اور بتاو کچھ ،وہ فرصت سے بیٹھا ،باسم اس سے سات سال بڑا تھا ،اور وہ اسی چیز کا لحاظ رکھ رہی تھی ،نہیں تو وہ اسے اب تک کمرے باہر پٹھک دیتی ،

کچھ نہیں باسم بھائی آپ اپنی ہونے والی بیوی ہر دھیان دے یہی نہ شادی ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ جائے ، اس نے زہر ا
اگلنا شروع کردیا تھا۔
ا
للہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہی ہو ،پہلے ہی بڑی مشکل سے رشتہ ملا ہے ،باسم نے مصنوعی برا منایا۔

رشتہ ملا ہے یا ملوایا گیا ہے ،انوشے نے درستگی کی ،باسم مسکرایا اور سر جھٹک کر رہ گیا ،

وہ اسے اپنی بہن کی طرح ٹریٹ کرتا تھا ،بس انوشے ہی تھی ،جس کی کبھی ہی کسی کے ساتھ نہیں بنتی تھی ،وہ پورے خاندان میں ایک خاموش اڑیل گھوڑے کی طرح تھی ،جو خاموش ہو کر بھی اپنی باتیں منوا لیتی تھی ۔
☆☆☆☆

پیپرز سر پر سوار ہو چکے تھے ،کچھ ہی دنوں بعد انوشے کا پہلا پیپر تھا اور وہ باولی ہوئ پھر رہی تھی ،کتاب لے کر روم میں بیٹھتی تو بےچینی سی محسوس ہوتی،پھر وہ کتاب لے کر بالکونی میں گئی لیکن وہاں بھی سکون نہیں تھا ،سونیا نیازی اس کی حرکتیں دیکھ کر تنگ آگئی تھی ، کالج سے اب فری کر دیا گیا تھا ،جو کہ ریویزن کے لیے دیتے ہیں، لیکن ریویزن تو وہ تب کرتی نہ جب اسے کچھ آتا ہوتا ،وہ گہرہ سانس لیتی صوفے پر بیٹھ گئ ،دماغ بلکل ماؤف ہوچکا تھا ،اس سے وہی کام ٹھیک سے ہوتا جو وہ کرناچاہتی،لیکن اب اس کا دل کسی چیز میں بھی نہیں لگتا تھا ۔
انوشے اگلے جنم مر جانا لیکن میڈیکل رکھنے کی کوتاہی نہ کرنا ،بلکہ پیدا ہی نہ ہونا ،وہ خود سے مخاطب تھی۔اسے ان انچاہی کتابوں سے عجیب کوفت ہوتی تھی ،حتی کہ وہ ڈاکٹرز سے بھی نفرت محسوس کرتی۔
سونیا نیازی نے آکر زور سے اسے جھنجھوڑا وہ ایک دم الرٹ ہوئ ۔
تمہارا دھیان کدھر ہے ،پیپر دینے کا کوئ ارادہ ہے بھی کہ نہیں، امی تلخی سے بولی ،انوشے نے ناگواری سے چہرہ موڑا۔
تمہارے لیے میں اتنا سب کچھ کر رہی ہوں، تمہارے باپ جیسے آدمی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں، کس لیے تمہارے لیے ،پھر سے وہی سب کچھ انوشے پر سارا الزام ڈال دیا جارہا تھا ،وہ یہ الفاظ بچپن سے سنتی آرہی تھی ۔
انوشے کو پورا یقین تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کی سکی اولاد نہیں ہے۔
شام کو جمال نیازی گھر آئے تو پھر سونیا بیگم نے گھر اور آسمان پہ اٹھا لیا۔
آپ کی بیٹی کا پڑھائی میں کوئ دھیان نہیں، سب کچھ آپ کی وجہ سے ہورہا ہے ،امی گلا پھاڑ پھاڑ کر ابو کو دوش دے رہی تھی ۔جمال نیازی نے بےسدھ سی بیٹھی انوشے خو دیکھا جو کتاب کو گھورے جا رہی تھی اور پھر اپنی بیوی جو پاگلوں کی طرح چلا رہی تھی ،اسے یقین تھا اب یہ ہنگامہ ساری رات چلے گا ،وہ خاموشی سے اٹھی اور اور اپنے کمرے میں جاکر دروازہ زور سے بند کر دیا۔
☆☆☆☆☆

پیپر کی رات اس نے پڑھنے کی بہت کوشش کی لیکن دماغ میں کوئ لفظ نہیں بیٹھ رہا تھا ،تھک ہار کر اس نے دیوار کے ساتھ سر ٹکا لیا ،
انسان گدھا پیدا ہوجائے لیکن گھر کی اکلوتی بیٹی نہ پیدا ہو،بےبسی ہی بےبسی۔
وہ جس چیز سے گزر رہی تھی وہ صرف وہی جانتی تھی ،”اگر کبھی کوئ آپ سے کہے کہ مجھ پر یقین کرو اور بتاو کیا مسلہ ہے ،تو اس کا کوئ فائدہ نہیں ہوتا، کیونکہ جو آپ کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے وہ آپ ہی جانتے ہیں، لوگوں کے چند جھوٹے دلاسوں سے تماشہ بنتا ہے اور کچھ نہیں”،

اس کے پاس کوئی دوست بھی نہیں تھا ،جو اس کی مدد کرتا ،اسے دوست بنانے ہی نہیں آتے تھے ،”برے دوستوں کے نہ ہونے سے بڑا سکھ اور اچھے دوستوں کے نہ ہونے سے بڑا دکھ بھی کوئ نہیں ہوتا” ۔۔

انوشے، اسی پل دروازہ کھولتے سونیا بیگم اندر آئی ،وہ اس کے پاس زمین ہر بیٹھ گئ ۔

کل تمہارا امتحان ہے ،اور اس پر میں نے اور تمہارے پاپا نے بہت محنت کی ہے،اتنی کہ جتنی تم نے بھی نہیں کی ،99% رزلٹ چاہتے ہیں تم سے ،ان کی آواز میں عجیب سا غرور اور امید تھی ،انوشے خاموشی سے پاس پڑی کتابوں کو گھورتی رہی ،وہ تھوڑی دیر بعد آٹھ کر روم سے چلی گئ ،اس نے گہرہ سانس لیا،
آنکھیں سامنے دیوار پر ٹکی تھی کچھ لمحے گزرے آنکھوں سے مائع بہ نکلا ،وہ پھوٹ کر رو رہی تھی ،اپنی سسکیاں منہ میں روکنے کی کوشش کر رہی تھی ،ہاتھ پاوں میں کپکپاہٹ طاری تھی “اس بیزار انسان کی تنہائ کو کوئی نہیں سمجھ سکتا ،جو روتا بھی خود ہے ،اور اہنے زخم بھی خود ہی سہلاتا ہے”،
یا اللہ میں کیا کروں، میں اتنی پاگل کیسے ہو سکتی ہوں، مجھ سے کچھ نہیں ہو سکتا ،میں کچھ کر رہی نہیں سکتی،وہ روتے ہوئے بڑبڑا رہی تھی

کچھ دیر تک رونے کے بعد وہ کھڑی ہوئی اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی،آئینے میں اس کا روتا بلکتا عکس واضح ہوا،دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں میں سرد سی مسکراہٹ در ائ ،ایسی چمک جو کچھ غلط ہونے کا اندیشہ دے رہی تھی، اس نے اپنے آنسو صاف کیے ،گلابی لبوں کے کناروں پر مسکراہٹ ابھری ۔
اس نے ٹیبل سے لیپ ٹاپ اٹھایا، کتاب بند کی اور مووی لگا کر دیکھنے لگی، کوئ فائدہ نہیں تھا ،کسی چیز کا بھی جو وہ کرلیتی ،”دوسروں کی توقعات اکثر انسان کو کھوکھلا کر دیتی ہیں “،اور وہ کھوکھلی ہو چکی تھی ،ان توقعات پر اترنے کی کوشش کرتا کرتے ۔
وہ صبح گھر سے تو نکل پڑی تھی لیکن پیپر دینے نہیں، وہ بس چلتی جارہی تھی،وہ ایک ایسے سفر پر گامزن تھی جس کی کوئی منزل نہ تھی ،زندگی سب سے زیادہ مشکل جانتے ہو کس انسان کی ہوتی ہے؟ ایک ٹین ایجر کی ،اس ٹین ایجر کی زندگی سب سے زیادہ مشکل ہوتی ہے ،جو خود کو سب سے الگ ان فٹ سا محسوس کرتا ہے ،جسے اپنا گول نہیں معلوم ہوتا ،اور جس بچے کا کوئی گول نہیں ہوتا معاشرہ اس کے ساتھ تلخ ہوجا تا ہے ،پھر وہ کچھ بھی کر لے چاہے آسمان سے ستارے توڑ کر لے آئے، انہیں وہ کامیاب انسان کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک فیلئیر کے طور پر ہی دیکھتے ہیں ۔
جب کالج سے جمال نیازی کو کال آئی ،تو ان کے چہرے سے تو جیسے خون ہی ختم ہوگیا ،سونیا دل پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئ ۔
شام ہوتے ہی اس نے گھر کی طرف قدم بڑھا لیے تھے ،پتہ ہونے کے باوجود کے اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا، گھر پہنچئ تو یوں لگا جیسے کوئی مر گیا ،سونیا نیازی نے دروازہ کھولا، تو انوشے کا مطمئن سا چہرہ نظر آیا، ان کر گ رگ میں غصہ دور گیا ،انہوں نے انوشے کو کھینچ کر گھر کے اندر کی طرف کیا ،سونیا نے اسے گردن سے پکڑ کر زمین پر پھینکا ۔
کہاں دفعہ ہوئ تھی بولو ،وہ غصے سے چلائی، جمال نیازی چیخ و پکار کی آواز سن کر کمرے سے نکلے ،اب سونیا نیازی چپل اتار کر اسے مار رہی تھی ،وہ ڈھیٹ بن کر کھاتی رہی ،اس نے اپنے آپ کو بچانے کی ذرا بھر کوشش نہ کی ،سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ اس کا باپ بت بنے اسے دیکھ رہا تھا ،یہ چیز اسے امی کی مار سے بھی زیادہ دردناک لگی ،چپل جہاں جہاں پر رہی تھی ،وہاں جلن کا احساس بڑھتا جا رہا تھا ،سونیا نیازی کا جلال کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا،وہ کچن سے چمٹا گرم کر کر کے لے آئی، گرم سلگتا ہوا چمٹا دیکھ کر انوشے کی آنکھیں خوف سے پھیلی ،لیکن سونیا نے اسے کچھ کرنے سے پہلے ہی گرم گرم چمٹا اس کی نبض پر رکھ دیا تھا ،لیکن وہ چلائ نہ ،اس نے چیخ کو روکنے کے لیے ہونٹ دانتوں تلے دبا دیے ،اتنے نے کے ان سے خون رسنے لگا ،آنکھوں سے آنسو آتے رخسار کو بھگو گئے۔
تم بھی مرجاو ،میری دعا ہے تم مرجاو ،جیسے پہلی اولادوں پر صبر کر لیا تھا،ویسے تم پہ بھی کر لونگی ،دل چاہا وہ واقعی ہی مرجائے ۔
☆☆☆☆
دو سال بعد:

آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے انوشے آپی، وہ چھت ہر بیٹھی تھی ،جب میرال کی آواز گونجی ،انوشے ہاتھ میں پکڑے چائے کے کپ کو گھور رہی تھی۔
دیکھو آگے کیا ہوتا ہے ،وہ میرال کی طرف دیکھ کر مسکرائ ،اسے لوگوں سے زیادہ فری ہونا پسند نہیں تھا ،لیکن پھر بھی ایمن اور میرال سے اسے لگاو تھا۔
آپ ٹیچنگ کیوں نہیں سٹارٹ کر لیتی ،مونگھ پھلی کھاتی ایمن کی آواز گونجی
ٹیچنگ؟؟
ہاں ٹیچنگ ،آپ ایک اچھی سٹوڈنٹ رہی ہو ،آپ کو تو مسکرا کر رکھ لیں گے ،ایمن نے جیسے حل پیش کیا ۔
یہ جتنا آسان لگتا ہے اتنا ہے نہیں، خیر میں کوشش کرونگی۔
“اسے معلوم تھا کہ زندگی اس کے مطابق نہیں چلے گی ،اس لیے اس نے زندگی کے مطابق چلنا شروع کر دیا تھا”۔
☆☆☆☆☆

تیسرا سال لگتی ہی ،انوشے نے ٹیچر کی جاب کے بارے میں سوچا ،جبکہ سونیا اور جمال اس کی شادی کے بارے میں سوچ رہے تھے ۔
ہم تہاری شادی بلال سے کروانا چاہتے ہیں، اسے لگا جیسے اس نے غلط سنا ہو۔
کس سے ؟؟
بلال سے ،تمہاری عمر کا ہے ،سونیا نیازی بےنیازی سے بولی۔
اپ لوگ اپنا بوجھ اتارنے کے لیے کسی بھی تاش بازی کرنے والے سے اپنی بیٹی کو بیاہ دےگے ،وہ حلق کے بل چلائ تھی۔
کیا؟؟ پیچھے سے تائ جان گھر میں داخل ہوتی دکھائ دی،جن کا منہ انوشے کی بات سن کر کھل گیا تھا۔
جی جی ،تائ امی سہی بول رہی ہوں،اپ کا بیٹا تاش پیٹتا ہے،
اے لڑکی زبان کو لگام دو ،تائ تو اس پر چڑھ دوری ،امی نے اسے کندھے سے پکر کر اس کا رخ اپنی طرف دیا اور تھپڑ اس کی گال پر جھڑ دیا ۔اس نے زخمی نظروں سے سب کو دیکھا اور روم کی طرف چل پڑی،

سب کے ماں باپ ان کے ساتھ کھڑے ہیں سوائے میرے ،وہ رو نہیں رہی تھی ،لیکن آنکھیں سرخ تھی اور مسلسل یہ بڑبڑائی جارہی تھی ،وہ کوئ چیز ڈھو ڈ رہی تھی ،

مل گئ ،ہاتھ میں قینچی پکڑے، وہ زخمی سا مسکرائ،اور اندھا دھند اپنے لمبے بالوں پر چلا دی، وہ بال جو پہلے کمر پر جھولتے تھے ،اب گردن تک بمشکل آرہے تھے، سونیا بیگم کو ہارٹ اٹیک آتے آتے رہا ،وہ سب کے اوپر کسی عذاب کی طرح نازل ہو رہی تھی ۔

میں ٹیچنگ کرنا چاہتی ہوں، جب اسنے ابا کے سامنے اپنی بات پیش کی تو ابا کا چہرہ سرخ بھبھو ہوگیا۔
ہمارے گھرانے کی بیٹیاں مردوں کے ساتھ کام نہیں کرتی ،
تصحیح کرے ابا تعلیم شده مرد ،جمال نیازی نے اپنی اکلوتی ڈھیٹ اولاد کی طرف دیکھا ،
جو اپنے بات منوا کر پی ماننےوالی تھی،مجبورا انہیں اس کی ٹیچنگ کے لیے حامی بھرنی پڑی۔لیکن انہوں نے اپنی ایک شرط بھی انوشے کے آگے رکھ دی تھی ۔

ہماری بھی ایک شرط ہے انوشے ،جمال نیازی کی بات سنتے وہ ٹھٹھکی۔

جب بھی ہمیں تمہارے لیے کوئ مناسب رشتہ ملا ہم تمہاری شادی کر دے گے ،ان کے کہنے پر انوشے کے چہرے پر ناگواری ابھری ۔

ہاں لیکن ایک بات یاد رکھیے گا ابو مناسب رشتہ ،اس نے مناسب پر زور دیا ،جمال نیازی نے ایک نظر اپنی آفت جیسی بیٹی کو دیکھا ،جو اپنے ساتھ کوئی بھی ناانصافی برداشت کرنے خو قطعی تیار نہیں تھی ،اور پھر ہولے سے سر ہلادیا۔

ٹھیک ہے ،انہوں نے بس اتنا ہی کہا اور اٹھ گئے ۔
وہ زندگی میں پہلی بار اتنا خوش ہوئ تھی ،اسے پاس ہی میں ایک سکول میں جاب مل گئ تھی ،اسے دوسری کلاس دی گئ تھی ،اسے فیس سے کوئ مطلب نہیں تھا ،وہ بس وہاں اپنا ٹائم گزارنے جاتی تھی ،لیکن ساتھ ساتھ وہ اپنا کام بھی بخوبی انجام دے رہی تھی ،سب ہی ٹیچرز اس سے مطمئین تھے ۔
گرمی گزر تو پھر سے سردی نے اگھیرا ،سردی اسے بےحد پسند تھی ،اسے لگتا کہ گرمی لمبے عرصے تک رہتی ہیں لیکن سردیاں چٹکی بجاتے گزر جاتی ہیں۔

سردی اپنی پورے زوروشور سے پر رہی تھی ،وہ اپنی کمرے میں کمبل میں دبکی بیٹھی تھی ،ساتھ میں لیپ ٹاپ پر کوئ کرائم مووی دیکھ رہی تھی ،ڈرائے فروٹس سے بھری پلیٹ پاس رکھ۔ تھی ،زندگی پرسکون تھی اسے ڈھیر سال ہونے والا تھا ،سکول میں پڑھاتے ہوئے ،وہ خوش تھی اور مطمئین بھی۔
ا
ن گزرے سالوں میں امی ابو نے اسے مکمل طور پر نظرانداز کیا تھا،جیسے وہ ان کی بیٹی ہی نہ تھی،”ماں باپ سے نظر انداز ہونا دل زخمی کر دیتا ہے “،اور اس کا دل زخموں سے چوڑ کر اب خون برساتا تھا۔وہ اپنے غموں کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتی تھی ، لیکن وہ ان باتوں کو پنے ذہن سے جھٹک نہیں پاتی تھی۔
ہلکا سا دروازہ کھٹکا ااور سونیا اور جمال اندر آتے دکھائ دیے ،وہ انہیں دیکھتے سیدھی ہو بیٹھی، لیپ ٹاپ بند کر کے ایک طرف رکھ دیا ،وہ ایک کنارے پر ٹک گئے،
بیٹا ہمیں تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے ،اسے آج بابا کا چہرہ کچھ عجیب لگا ،ستا ہوا ،نہیں تھکا ہوا ،نہیں شاید جدائ کا غم لیکن کس کی ،جبکہ امی بھی سنجیدہ تھی اور تھوڑی غمزدہ بھی ۔
کیا بات ہے ؟ وہ سنجیدہ ہوئی
ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ،وہ بولے تو اس کی زبان حلق سے چمٹ گئ ،لیکن پھر وہ پرسکون ہوئی۔
تم انہیں جانتی ہو ،میرے پرانے دوست مجتبٰی، جو اکثر ہمارے ہاں آیا کرتے تھے ،ان کا بیٹا ہے،سونیا بیگم نے وضاحت پیش کی ،اس نے ہولے سے سر ہلایا،جیسے کچھ یاد کر رہی ہو،
کیا ابو ،مجتبٰی انکل؟ ان کا بیٹا ؟ وہ ایک نمبر کا بدتمیز تھا ،کیا نام تھا سائم ،نہیں ابو نہیں، وہ بہت بدتمیز تھا،وہ ہلکی آواز میں چیخ پڑی،تو ابو پرسکون سے مسکرائے

بیٹا وہ بچپنا تھا ،اب تو کافی سمجھدار ہوگیا ہے ،انہوں نے پیار سے پچکارا۔وہ کچھ دیر خاموش رہی ،وہ جیسا بھی تھا ،اس تاش باز بلال سے تو ٹھیک ہی ہوگا ،
جیسا آپ کو ٹھیک لگے،وہ ہلکی آواز میں بولی ،سونیا اور جمال کو اپنی سماعت پر یقین نہ آیا ،
ہم تم سے بہت خوش ہیں بیٹا ،سونیا بیگم بڑھی اور پیار سے اس کا سر چوما ،جمال نیازی نے سر پر ہاتھ رکھا ،کیا اس کے ماں باپ کو خوش کرنا اتنا آسان تھا ،ہائے ایسے ہی اتنے سال ضائع کیے میڈیکل پہ ،پہلے ہی شادی پہ رضامند ہوجاتی ،اسے اپنی بیوقوفی پہ غصہ آیا۔

اپنی 18 سالا زندگی انوشے نے پڑھائ کے نام کی تھی ،لیکن اب ہر چیز ہی کرنے میں دلچسپی رکھتی تھی لیکن صرف وہ جس سے اسے خوشی ملے،اس نے اپنی 20 سے 23 سال کی عمر کے درمیان ہر وہ کام کیا جو اسے بہت پہلے کر دینا چاہے تھا ،
اس نے اپنے رشتوں اور محلے والون کو بہت تنگ کیا ،گھر سے سے باہر نکلنے کی وجہ سے اسے اپنے کزنز کی ہر بات معلوم ہوتی ،جسے بعد میں وہ خود کے دفاع کے لیے بلکل بےخوف ہوکر استعمال کرتی ،کبھی بلال تاش بازی لگانے سے سارے پیسے ہارنے والا قصہ تائ امی کو بتایا تو کبھی ماہ جبین کے افئیر کے بارے میں بتا کر اسے مار پروادی، باقی سمیر اور باسم ابھی اس کے اگ سے محفوظ ہی تھے ۔چھوٹے چچا چچی سے اسے کوئ مسلہ نہیں تھا ،بس کبھی کبھار چچی کو منہ بنانے کی عادت تھی ،باقی ایمن ،میرال اور تیمور سے اس کی کافی بات چیت تھی ،ایک دفعہ باہر سب کے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے اس نے چچی کے سر پر گیند دے ماری تھی،جو غلطی سے بلکل نہیں تھی،چچی سر کا گومڑ لیے ہائے ہائے کرتی رہ گئ ،جبکہ وہ ایسے منظر عام سے غائب ہوئی ،جیسے گنجے کے سر سے بال ۔
☆☆☆☆☆

گڈ مارننگ کڈز، انوشے مسکراتی ہوئ کلاس روم میں داخل ہوئی ،وہ آج کھلی جینز کے ساتھ سفید رنگ کی کرتی پہنے ہوئے تھی ،جس کے بارڈر پر سیاہ رنگ کی ہلکی کڑھائی کی گئ تھی ،کرتی پر وہ آف وائٹ رنگ کا سویٹر اوڑھے تھی۔
بچے اسے دیکھ کر کھلکھلا اٹھے ،اس نے پوری کلاس کا جائزہ لیا ،کتابیں ٹیبل پر رکھ کر وہ کمر پر پاتھ رکھے ساری کلاس میں گھوم رہی تھی۔

ہائے آپ کا نام کیا ہے ،انوشے کے قدم باقی بچوں کی نسبت زیادہ چپ بیٹھے بچے کی چیئر کے قریب رکے۔

رائف،اس بچے نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

واو کتنا پیارا نام ہے کاش میری امی ابو نے میرا رکھا ہوتا ،مصنوعی رونے والی صورت بنا کر کہا،تو بچہ ایک لمحے کے لیے ہنس دیا ،لیکن پھر ویسے ہی چپ ہوگیا ۔

آپ ایسے کیوں بیٹھے ہو ،دیکھو سب کتنے ہیپی ہے اور آپ اتنے سیڈ کیوں ہو،وہ بچے کے پاس پنجوں کے پل بیٹھ گئ اور اس کے سرد ہاتھ اپنے گرم ہاتھوں میں بھر لیے۔

اٹس مائے فرسٹ ڈے،پھولی گالوں والے بچے نے سر جھکا کر بتایا۔

او تو آپ کو سکول کیسا لگا ،کلاس کیسی لگی ،پسند آئی؟،
اٹس گڈ ،وہ بچہ شاید زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا تھا

آپ میرے دوست بنوگے ،میں بہت اچھی لڑکی ہو،انوشے نے مسکرا کر کہا ،وہ اس بچے کو بس بولنے پر اکسا رہی تھی۔
ائ ایم ناٹ گڈ ان فرینڈشپ، رائف کی بات سن کر اس کا چہرہ پھیکا پڑا،لیکن پھر سنبھل گئ

ایسے نہیں کہتے میں ہوں نہ آپکی دوست ،جب آف ٹائم آپ کے بابا آپ کو لینے آئے تو آپ مجھے ان سے ملوالنا اوکے، وہ بچے کی گالوں پر پیار کرتے کھڑی ہوگئ۔
☆☆☆☆
چیمپ کیسا گزرا آج کا دن، سائم نے رائف کو گود میں اٹھاتے محبت سے پوچھا۔چھٹی کا وقت ہو چکا تھا ،سب ماں باپ اپنے بچوں کو لے جانے آئے تھے۔
بہت اچھا گیا ڈیڈ،
چلو یہ تو اچھی بات ہے ،
ڈیڈ آپ کو کسی سے ملوانا تھا،
کس سے ؟
اپنی ٹیچر سے ،رائف نے کہتے ہوئے سامنے کھڑی انوشے کی طرف ہاتھ ہلایا ،سائم نے اس کی نظروں کے زاویے میں دیکھا ،تو ایک لڑکی ان کی طرف ہی آرہی تھی۔
یہ تمہاری ٹیچر ہے ،سائم نے رائف کے کان میں پوچھا،رائف نے ہولے سے سر ہلایا
چیمپ تمہیں بتا بھی ہے مجھے ٹیچرز سے بہت ڈر لگتا ہے ،سائم نے زور سے آنکھیں میچی، تو رائف کھلکھلا دیا ،تب تک انوشے ان کے قریب پہنچ گئ تھی۔
ہائے رائف ،وہ رائف کو دیکھتے مسکرائ
آپ؟؟
میں اس کا بابا ہوں،اس کے کہنے پر انوشے نے اسے سر تا پیر گھورا ۔
مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی ہے ،انوشے نے رائف کی طرف اشارہ کیا ،تو سائم اسے گاڑی میں بٹھا کر واپس اس کی طرف مڑا
آپ رائف کی ڈائیٹ اور ذہنی حالت کا خیال رکھیں پلیز ،انوشے سنجیدگی سے بولی ،تو سائم نے بھی سنجیدگی سے اسے دیکھا
کیا کوئ مسلہ ہے ،
نہیں میں بس یہ کہ رہی ہوں ،کہ وہ ابھی بچہ ہے ،آپ کے پاس جب بھی فری ٹائم ہو، بلکہ زیادہ سے زیادہ وقت آپ رائف کے ساتھ گزارہ کرے ،
سائم نے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کی اور سر ہلایا ،وہ شکریہ کہتا واپس رائف کی طرف چل پڑا ۔

☆☆☆☆
آج اتوار تھا اور وہ چچی کے گھر پہ رکی ہوئی تھی ،ایمن اور میرال کے اثرار کرنے پر ،ان کا کمرہ بڑا تھا ،جس میں دو چھوٹے چھوٹے بیڈ رکھے گئے تھے ،کمرہ خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔بڑی سی led پر پر ایک معروف شاعر کی غزل سنائی جا رہی تھی ۔
صرف محرم نہ بنو
دل کے دلدار بنو،دوست بنو ،یا یار بنو
غم کی ساعت میں نصیحت کے لیے ایک زمانہ ہے یہاں
تم زمانہ نہ بنو
تمہیں بننا ہے تو غمخوار بنو!!
یونہی کرنے کو محبت کے میری جان دعوے بہت ہیں
یونہی دعوی نہ بنو
تمہیں بننا ہے ،تو وعدہ بنو ،وعدہ وفادار بنو
اور دل نے بھلا ہمراہی کو کیا کرنا ہے۔۔۔۔
دل کی ہمراہی میں ایک مجمع اجنبیا تو پہلے بھی ہے
تم ہمراہ نہ بنو
تم نے بننا ہے تو راہداری بنو
دل کے دلدار بنو، دوست بنو یا یار بنو

شاعر کا انداز بیان اس قدر دھیما ،سادہ اور جذباتی تھا کہ ایک پل کے لیے یوں لگا جیسے وہ ان مصرعوں میں ہی کھو گئ ،شاعر کی آواز بہت ہی پرکشش اور دل کو چھو لینے والی تھی،لیکن اسے شاعری کی زیادہ سمجھ نہیں آئی ،ایمن انوشے کے ساتھ بیٹھی اب شاعری ساتھ ساتھ دہرا رہی تھی ،مانو یاد کر رہی تھی ۔
کتنی پیاری ہے نہ ؟؟،ایمن نے اسے خود کی طرف دیکھتے پاکر پوچھا۔
میں اس کے ساتھ زیادہ متفق نہیں ہوں،یہ ایک مکمل طور پر فکشن پوئٹری ہے، وہ گہرہ سانس لے کر بولی
شاعری بہت خوبصورت سے پروئے گئ ہے اور سنانے کا انداز تو اور بھی سحر انگیز کرتا ہے لیکن …
لیکن کیا آپی، ایمن کو تجسس ہوا
لیکن ایک محرم کبھی بھی دوست ،غمخوار ہمراہ،راہداری، وعدہ وفادار نہیں بن سکتا ،آج کے زمانے میں تو بلکل نہیں،ایک انسان میں اتنی ساری خوبیان کبھی نہیں ہوتی،وہ نفی میں سر ہلایا بول رہی تھی ،گویا وہ شاعری کے طلسم میں نہ جکڑی جائے۔
آپی آپ بہت گہری باتیں کرتی ہو ،میری سر سے گزر گئ ،ایمن منہ بنا کر بولی
تو تم نے سمجھ کر کرنا بھی کیا ہے ،تم اپنے کرکٹ میچز پر دھیان دو نہ ،
بابر اعظم ہار گیا ،ایمن سر جھکا کر بڑبڑائی
ہمیشہ کی طرح، انوشے نے آنکھیں گھمائ

☆☆☆☆☆
شام سمہے سورج ڈال رہا تھا ،تب وہ چچا کے گھر سے نکلی اس کے قدم چند گلیاں گزر کر اپنے گھر کی طرف تھے ،آج اس نے پیلے رنگ کی فراک زیب تن کر رکھی تھی جو بالکل سادہ تھی اور اس کے قدموں تک پہنچ رہی تھی ،گلے میں ڈوپٹہ ڈال رکھا تھا ،وہ ابھی اس شاعری کے دباؤ سے باہر نہیں نکلی تھی ،اس کا ذہن اسی میں ڈوبا ہوا تھا ،جیسے ہی وہ گلی کی نکر میں واقع ایک سفید رنگ کے بنگلے کے سامنے پہنچی اچانک ہی فضا میں پانی کی ایک تیز بوچھاڑ اٹھی،۔
انوشے کو سنبھلنے تک کا موقع نہ ملا ،پانی کا ٹھنڈا فوارہ اسے سر سے لے کر پاوں تک کو بگھو گیا ،اس کے کندھوں تک آتے سیاہ بال گردن پر چپک گئے ،ٹھنڈ کی شدت سے وہ کپکپا کر رہ گئ ،غصے سے گال لال ہوگئے ۔وہ پیر پٹکتی لان کے اندر کی طرف برھی تھی کہ لان کے گیٹ کے پاس سیاہ ٹی شرٹ اور ٹراوزر میں ملبوس ایک لمبا خوبرونوجوان ہاتھ میں پائپ تھامے کھڑا تھا ،اس کے کانوں میں بلیو ٹوتھ لگے ہوئے تھے ،جس سے وہ غالبا کسی سے بات کرنےمیں مصروف تھا،سائم نے گڑبڑا کر پائپ نیچے کیا لیکن تب تک نقصان ہوچکا تھا ،سامنے کھڑی لڑکی پوری طرح بیگ چکی تھی ،

انوشے اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی تھی ،

تم تم رائف کے ڈیڈ ہونا ،ایک بچے کے باپ بن گئے لیکن تمہیں ابھی تک عقل نہیں آئی ،وہ غصے سے پھٹ پڑی اور منہ میں جو آیا بول دیا،سائم کو بھی یاد آگیا تھا کہ وہ رائف کی ٹیچر ہے لیکن یہ اس کا نیا روپ دیکھنے کو ملا تھا۔

مسٹر میں تم سے بات کر رہی ہوں، انوشے غصے سے بولی ،سائم کی نظریں انوشے کے سرخ چہرے کا طواف کر رہی تھی،اس کی چھوٹی سی ناک غصے سے سرخ ہوگئ تھی ،سائم کو دنیا کی مسکراتی ہوئ تمام لڑکیاں ایک طرف اور غصے سے پیر پٹکتی یہ لڑکی ایک طرف لگی۔

معاف کیجیے گا مس اگر آپ خیال رکھ کر تی تو بھیگتی نہ میں تو بس اپنی کار دھو رہا تھا،وہ اس کے سحر سے نکل کر بمشکلبول پایا،

اچھا کار دھو رہے تھے ،یا اسے پانی پیلا رہے تھے ،اور سڑک تم نے کتنے کی خریدی کہ میں دائیں بائیں ہوجاو ہان؟؟وہ غصے سے چیخی ،سائم نے بےاختیار کانوں میں انگلیاں دی ،جب اسے اندازہ ہوگیا کہ سائم پر کوئ اثر نہیں ہوا تو وہ پیر پٹکتی آگے چل پڑی،

سائم کی نظروں نے دور تک اس لڑکی کی پشت کا پیچھا کیا ،
انٹرسٹنگ، ہونٹوں پر بےوجہ مسکراہٹ بکھر گئ ،پھر وہ دوبارہ بلو ٹوتھ لگا کر کال میں مصروف ہوگیا۔

☆☆☆☆☆

یوں دن گزرتے گئے اکتوبر گزرا اور دسمبر سر پہ آگیا، آج کسی رشتے والوں نے اسے دیکھنے آنا تھا، وہ نہیں جانتی تھی وہ کون ہیں کہاں سے ہیں، لڑکا کیا کرتا ہے ،وہ بس بغیر کچھ کہے کیے جارہی تھی ،اب اس کا دماغ اسے کوئ سگنل نہیں دے رہا تھا ،سونیا بیگم اسے سرخ رنگ کی ایک فراخ دے کر گئ تھی ،جو کہ اتنی سردی میں وہ نہیں پہن سکتی تھی ،وہ الماری کی طرف بڑھی ،اور سفید رنگ کا ایک جوڑا نکال ،جوڑے پر ہلکا سا کام کیا گیا تھا ملائم سا نرم سا چبھن کے بغیر، سفید رنگ کی لمبی قمیض اور لمبے گھیرے والی شلوار ،اس کے تقریبا سارے کپڑے ہی اسی طرح کے تھے ،اس نے سفید جوڑا پہن کر اوپر سے بغیر آستینوں والا بھورا سویٹر پہن لیا تھا ،

سونیا بیگم کچھ دیر بعد اس کے روم میں آئی تو وہ سنگھار میز کے سامنے کھڑی تھی ،انہیں دیکھ کر پلٹی،ان کا منہ حیرت سے کھل گیا ،انہیں نہیں پتہ تھا کہ ان کی بیٹی سادگی میں بھی بہت خوبصورت دیکھتی انہوں نے۔ کبھی اپنی بیٹی کو غور سے دیکھا ہی نہیں،
وہ چائے کی ٹرے پکڑے ہمرنگ شال کو چادر کی صورت لپیٹ کر ڈرائینگ روم میں چل پڑی ،نظرے جھکی ہوئ تھی ،دل کی دھڑکن کسی خوف سے دھڑک رہی تھی ۔سب کچھ کافی اچھے سے ہوگیا ،انکل مجتبی اسے بہت اچھے اور باوقار آدمی لگے ،البتہ انکل کے بیٹے کو دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی ،جھکی آنکھیں نہ اٹھا پائی ،
جاو انوشے بیٹے سائم کے ساتھ تھوڑی دیر بات کرکو ،بابا اچانک ہی موڈرن بن گئے ،اسے حیرت ہوئی
جاو چھت پر چلے جاو ،امی نے تو خود جگہ پیش کی ،کوئی اور موقع ہوتا تو وہ طنز کرنا نہ بھولتی لیکن وہ چپ رہی ،

چھت پر پہنچ تو گئے تھے ،لیکن خاموشی طویل ہی ہوتی چلی گئ ،یہ پہلی دفعہ تھا خب انوشے کا دل کسی کے سامنے سو کی سپیڈ سے دور رہا تھا ،جبکہ سامنے کھڑے نوجوان کا بھی حال کچھ مختلف نہ تھا ،انوشے کو محسوس ہوا تھا کہ اس شخص نے اپنے قدموں سے نظریں اٹھا کر ایک دفعہ بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔
اہمم اپ؟؟ بولنا سائم نے شروع کیا تھا لیکن سمجھ نہیں آیا کیا پوچھے
جی؟ ،انوشے نے نظرے اٹھائی تو نظریں چہرے پر ٹک گئ ،اور پھر پہلے والی لالی کی جگہ اب غصے نے لے لی تھی ،سائم اسے دیکھتے اپنی مسکراہٹ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
تم تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ،اس نے اپنی آواز دھیمی رکھنے کی کوشش کی۔
جو تم کر رہی ہو، افکورس تم مجھے اور میں تمہیں دیکھنے آیا ہوں، انوشے کا دل کیا سائم کا خوبصورت چہرہ نوچ دیں، لیکن اس نے صبر کیا۔
تو تم سائم مجتبٰی ہو ،اسے جیسے یقین نہیں ارہا تھا

ہاں میں ہی ہوں، اپ کا ہونے والا شوہر ۔ وہ ڈھیٹوں طرح مسکرا رہا تھا۔
تمہیں لڑکیوں پر پانی پھینکنے کے علاوہ کچھ آتا ہے کیا ،اس کے ایسا کہنے پر سائم کا قہقہ بلند ہوا
خدا کا خوف کرے محترمہ میں ایک شریف بچہ یو،وہ تو بس غلطی سے پائپ آپکی طرف ہوگیا تھا ،وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے بولا
ابھی بھی ویسا ہی ہے ،بدتمیز اور ڈھیٹ، وہ بڑبڑائی
ابھی بھی ویسی ہے ،غصے کی تیز لیکن پیاری ،وہ بھی بڑبڑایا۔
کونسے ملک سے ائے ہوں، اب وہ اپنی جون میں اگئے تھی،وہ اس تاش باز بلال سے تو بہتر ہی تھا۔
سموکنگ کرتے ہو یا ڈرنکنگ؟
کینیڈا۔
ناں سموکنگ کرتا ہوں نہ ڈرنکنگ میں شریف آدمی ہوں مدام۔
گرل فرینڈز ہیں؟ ،بغیر کسی لحاظ کے پوچھا گیا
کبھی ضرورت نہیں پڑی، سیدھے سوالوں کے سیدھے جواب مل رہے تھے،

شادی شدہ ہو ،یہ کیوں پوچھا خود بھی سمجھ نہ پائی

نہیں، تم سے کس نے کہا؟ سائم نے حیرانی سے اسے دیکھا

وہ رائف ؟ ،اس کا اشارہ ڈرائینگ روم میں بیٹھے رائف کی
طرف تھا ،جو اسے ڈیڈ بلا رہا تھا ،وہ میرے بھائی کا بیٹا ہے،اطمینان سے کہا گیا
اوہ ،بےاختیار گہرہ سانس لیا
تمہیں کیوں لگا کہ تمہاری شادی ایک شادی شدہ انسان سے ہوگی ،وہ جاننا چاہتا تھا ،انوشے نے صرف کندھے اچکا دیے
کچھ وقت ٹھنڈی ہواؤں میں گزرا،سائم نے اب اسے غور سے
دیکھا ،کندھوں تک آتے سیاہ بال، سانولی رنگت جو سفید جوڑے میں بھی چمک رہی تھی ،وہ پرکشش تھی، اور شاید تھوڑی کھسکی بھی ،سائم کو بےاختیار جھنجھلاہٹ ہوئ
،پاس والی چھت پر سارے کزنز اکٹھتے ہوئے تھے ،ان کی نظرے ان دونوں کی طرف ہی ٹکی تھی ،
وہ تمہاری فیملی سے ہیں، سائم کو ان کی نظروں سے کوفت ہوئی
نہیں، وہ پاگل ہیں ،انوشے اتنا کہ کر پلٹ گئ، سائم کے قدم بھی اس کے پیچھے ہو لیے۔

چند دنوں بعد ہی انکا نکاح پرھوادیا گیآ تھا ،تب اسے امی ابو سے معلوم پڑا کہ سائم کا ایک بڑا بھائی تھا ،دائم جس کی اپنی وائف کے ساتھ کار ایکسیڈنٹ میں موت ہوگئ تھی ،خوش قسمتی سے اس دن رائف سائم کے پاس تھا ،اسے برا لگا۔جانے دل میں وسوسے اٹھ رہے تھے کہ اگر یہ شادی کامیاب نہ ہوئ تو؟ ٹوکسک ماحول میں پیدا ہونے والے بچوں کے دل میں یہ خدشہ ضرور پیدہ ہوتا ہے کہ اگر ان کی زندگی بھی ٹوکسکٹی میں گزری تو کیا ہوگا؟۔۔

خیر نکاح خیریت سے پرھوادیا گیا ،دو مختلف انسانوں نے تین تین دفعہ ایک دوسرے کو قبول کر لیا ،جانے کیون انوشے کا دل بہت گھبرا رہا تھا ،

مولوی کے پوچھنے پر اس نے ایک ٹرانس کی کیفیت میں تین دفعہ قبول کہا ،وہ کیفیت سے اس وقت باہر نکلی جب ہر طرف نکاح کی مبارکبادیں دی جا رہی تھی ،زیادہ دھچکا اسے تب لگا ،جب سائم قدم قدم چلتا اس کی طرف آیا ،اور کندھوں سے تھام کر اسے اپنے سامنے کیا ،وہ ہیل پہننے کے باوجود بمشکل اس کے کندھے تک ارہی تھی ،وہ اس کی طرف جھکا اور گھونگھٹ کے اوپر سے ہی اس کی پیشانی پر عقیدت سے بوسہ دیا ،اس قدر والہانہ پن پر اس کے رخسار انار ہوگئے ،جبکہ ایسا کرنے پر ہونٹنگ کی اواز گونجی ،جس پر وہ اور جھینپ سی گئی،

انوشے سرخ و سنہری ہلکے کامدار جوڑے کو زیب تن کیے ہوئے تھی جو اس کے سادگی بھرے حسن کو اور نکھار رہا تھا ،ہلے پھلکے میک اپ اور کچھ زیورات میں اس کی قدرتی خوبصورتی کھلی ہوئی لگ رہی تھی ،اس کے انتہائی قریب کندھے سے کندھا جوڑے اس کا شوہر بیٹھا تھا ،اس نے چور نظروں سے سائم کی طرف دیکھا ،وہ سفید لٹھے کی قمیض شلوار پہنے ہوئے تھا ،اس کے چہرے سے مسکراہٹ جدا نہیں ہورہی تھی ۔

سارا خاندان اس کے گھر پر جمع تھا ،تائ اور چچی تو سائم کو انوشے کے ساتھ دیکھ کر صدمے میں چلی گئ تھی ،تائ امی سائم کو اپنی مہ جبین کے لیے پسند کیے ہوئے تھی ،ان کے چہرے سے صدمہ واضح دیکھ رہا تھا۔

قید مبارک ہو سائم ،باسم نے پاس اکر سائم کو گلے لگایا،باسم نے جب انوشے کی طرف دیکھا تو وہ اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی ،وہ گڑبڑا گیا

ویسے ہمیں شروع سے جاننا تھا کہ یہ ہماری ضدی ،ہٹ دھرم لڑکی کس کے گلے کا طوق بنے گی آج دیکھ ہی لیا ،تقریبا سارے مہمان جانتے تھے ،اب صرف کزنز باقی رہ گئے تھی۔

ایسے مت کہیں یہ ضدی ،ہٹ دھرم لڑکی اب میری بیوی ہے ، ،سائم کی بات سن کر باسم کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ ابھری ۔
☆☆☆☆
نکاح ہوئے ہفتہ گزر چکا تھا ،وہ اپنے کمرے میں بیٹھی وہ سارے تحائف سمیٹ رہی تھی ،جو پچھلے دنوں سے مجتبی انکل نے بجھوائے تھے ،لیکن ان کا بیٹا وہ تو جیسے بھول ہی گیا تھا کہ ایک لڑکی سے اس کا نکاح ہوچکا ہے ،اسے اس ہر شدید غصہ آرہا تھا نجانے کیوں لیکن وہ اس سے امید لگائے بھیٹھی تھی،اچانک اس کے موبائل کی بیپ بجی ،موبائل پر مجتبی انکل کا نام جگمگا رہا تھا،

اسلام علیکم انکل ،کیسے ہیں آپ، اس کی آواز پرجوش تھی

جی بیٹا ،اپ کو تحفے پسند آئے، ان کی آواز میں نرمی اور محبت تھی۔

جی ،اتنی محبت سے لیے ہیں، تو پسند کیوں نہیں ائےگے ،آپ کی چوائس بہت اچھی ہے انکل ،

اگر کوئ چیز پسند نہ آئے تو بتا دینا میرا بیٹا ،کچھ دیر اور بات کرنے کے بعد وہ فون سائیڈ پر رکھ چکی تھی۔

انوشے آپی، کچھ دیر بعد اسے ایمن اپنے کمرے کی طرف آتی دکھائی دی ،اس نے چیزیں سمیٹ کر اسے بیٹھنے کی جگہ دی۔
یہ کیا ہے ،انوشے کا اشارہ اس کے ہاتھوں میں پکڑے ایک بڑے سے باکس پر تھا۔

اوہ یہ سائم بھائی نے بھجوایا ہے ،بولے میری بیگم کو دے دے دینا ،ایمن نے مسکرا کر کہا اور باکس انوشے کو تھما دیا ،ابوشے نے حیرانی سے پہلے باکس کو دیکھا اور پھر ایمن کو جو اسے باکس کھولنے کا اشارہ کر رہی تھی۔

باکس کافی بڑا تھا ،وہ انکل کے بیٹے سے اتنا بڑا تحفہ
ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی ،اس نے آہستہ آہستہ خوبصورتی سے پیک کیے گئے باکس کو کھولنا شروع کیا ،ایمن اس کے سر کے ساتھ سر جوڑے پر تجسس سی ہوئے بیٹھی تھی

،لیکن جیسے ہی باکس کھلا ،انوشے کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ، اسکی ساری کی ساری خوشی اڑن چھو ہوئ،باکس کے اندر شیشے کا ایک جاڑ موجود تھا ،جس کے اندر پیلے رنگ کی چھوٹی سمائلی بالز موجود تھیں ،وہ درجنوں گیندے جاڑ کے اندر سے اپنی بڑی بڑی آنکھوں اور بتیسی نکالے ہوئے کارٹون جیسی شکل کے ساتھ انوشے کو منہ چڑا رہی تھی ،باکس کی ایک سائیڈ پر ایک ایک ٹیگ لٹک رہا تھا ،جس پر سائم کی ہینڈ رائیٹنگ چمک رہی تھی۔
” میری پیاری بیگم ،جب بھی اپکو مجھ پر بےحد غصہ آئے، آپ انہیں ہاتھ میں لے کر زور سے پچکا دیجیے گا ،جیسے کہ میں جانتا ہوں ابھی بھی آپ کو مجھ پہ بہت غصہ آرہا ہوگا ،بال کو دبانے سے آپ کا بلڈ پریشر بھی ٹھیک رہے گا اور میری جان بھی بچی رہےگی،دیکھے بیوی جان اب آپ کہ ناک پہ تو ہمیشہ غصہ ہی رہتا ہے اس لیے میں اتنا ساری بالز لے آیا، کیا پتہ انہیں دیکھ کر ہی آپ کو مسکرانا آجائے،”
تحریر کے آخر میں ایک ویسی ہی پیلے رنگ کی بال بنی ہوئ تھی اور نیچے سائم کا نام جگمگا رہا تھا ،آپ کا اکلوتا معصوم اور حد سے زیادہ حسین شوہر سائم مجتبی۔

اس عجیب غریب تحفے اور تحریر کو پڑھ کر اسے رونا بھی آرہا تھا اور ہنسی بھی ،وہ سائم سے کم از کم یہ ایکسپیکٹ نہیں کر رہی تھی ،کچھ دیر تک وہ بیٹھی حیرانی سے ان بےجان مسکراتی ہوئ باکس کو دیکھتی رہی ،ایمن پاس بیٹھی سائم کے لیے حفاظتی دعائیں مانگ رہی تھی،لیکن کچھ دیر بعد اچانک انوشے کی کھلکھلاتی ہوئ ہنسی پورے کمرے میں گونجی،وہ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہنس رہی تھی ،تو کبھی ہنستے ہنستے اپنا منہ چھپا لیتی،ایمن نے انوشے کو ایک عرصے بعد اس طرح کھل کر مسکراتے دیکھا تھا ،وہ اتنا ہنسی کے اس کی آنکھوں سے پانی بہ نکلا ،
سونیا بیگم ہنسی کی آواز سن کر انوشے کے کمرے کی طرف ائ ،لیکن اپنی بیٹی کو ایسے ہنستے دیکھ کر حیران ہوئی ،اور پھر چہرے ہر ایک مطمئین سی مسکراہٹ در آئی۔
☆☆☆☆
شام کے وقت وہ امی اور ابو کے ساتھ ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھی کھانے میں مصروف تھے ،وہ اپنی بیٹی کو خوش دیکھ کر مطمئین تھے ،
انوشے بیٹا تم نے رخصتی کے بارے میں کیا سوچا ہے ،جمال نیازی کی بات سن کر چاولوں میں چمچ چلاتے اس کے ہاتھ تھمے ۔

کیوں میرا بوجھ آپ سے اٹھایا نہیں جا رہا کیا ،وہ کہے بنا نہ رہتا سکی ۔

کیسی باتیں کر رہی ہو بیٹے تم ہماری بیٹی ہو،اور ہمیں پیاری ہو، سونیا بیگم کی محبت بھری آواز گونجی، انوشے نے ان کی بات سن کر سر جھٹکا۔اس کے پاس بہت سے جواب تھے ،بہت تلخ لیکن وہ انہیں وہ نہیں کہ سکتی تھی ،ہم اپنے ماں باپ سے جتنے بھی خفا ہوجائے لیکن ان کی تکلیف ہمیں اس سے دگنی تکلیف پہنچاتی ،وہ لب بیچ کے رہ گئ ۔

وہ ڈاکٹر ہے ،اس کا ہوسپیٹل ہے ، کینیڈا میں، ابو کی یہ بات سن کر اس نے اتنی تیزی سے گردن اٹھا کر انہیں دیکھا ،گردن ایسے اچانک اٹھانےپر کڑک کی آواز گونجی

کیا؟ سائم ڈاکٹر ہے ،اسے اپنی آواز کنویں سے آتی معلوم ہوئی،اپنا ماضی آنکھوں کے آگے گھوم گیا۔

ہاں، تمہیں نہیں پتا تھا ،انہیں اس کی حیرانی سمجھ نہ آئی
مجھے بتاتے تو پتا چلتا، وہ غصے سے اٹھ کھڑی ہوئ ،آنکھیں سرخ پڑ گئ ۔ہاتھ میں پکڑی بال کو مٹھی میں زور سے کچل دیا یو جیسے بال کی جگہ سائم ہو۔
☆☆☆☆☆

وہ سڑک پر سینے پر بازو باندھے سکول کی طرف چل رہی تھی،آج کافی دنوں بعد وہ سکول جا رہی تھی،دھند کی لپیٹ میں سب کچھ آیا ہوا تھا ،وہ آسمانی رنگ کی اونی (cardigan) جرسی کے ساتھ سفید رنگ کی گھیرادار میکسی پہنے ہوئی تھی ،جو اس کے قدموں کو چھو رہی تھی، گردن میں ہمیشہ کی طرح ہیڈ فونز جھول رہے تھے ،جو خلاف توقع کانون پر نہیں جمائے تھے ،گلے میں مفلر سکارف کی طرح اوڑھ رکھا تھا ،اس کا یہ لک اسے کسی دنیا کی پرسکون شہزادی بنا رہا تھا ،جو دنیا کی ہمراہی سے دور اپنے ہی خیالوں میں گم تھی ،اچانک اس کے سامنے ایک مرد اکھڑا ہوا ،وہ ٹھٹھک کر رکی ،لیکن سامنے والا مرد اسی کا مرد تھا ،سائم کو دیکھتے ہی اس کی پیشانی ہر تیوری چڑھی،

کیا بات ہے جاناں آج تو آپ جنت کی حور لگ رہی ہیں، سائم نے بےباک سی تعریف کی۔

اور تم جہنم کے بےشرم اور ذلیل شیطان لگ رہے ہو،جنت کی حور کا پھٹ سے جواب ایا۔

میں ڈاکٹر ہوں، اسے جمال نیازی نے سب بتایا تھا ،لیکن اس کے باوجود وہ انوشے کو تنگ کرنے سے باز نہ رہا ،انوشے کو تنگ کرنا سائم کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

اور میں جھانسی کی رانی ،وہ چڑ کر بولی ،تو سائم کا قہقہ گونجا۔

بیگم تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہارا شوہر ڈاکٹر ہے اور لوگوں کے کام آتا ہے ،

ہاں تو کیا مٹھائی بانٹوں،اب انوشے کی برداشت ختم ہو رہی تھی۔

وہ کئ دنوں بعد اسے نظر آیا تھا ،اور آتے ساتھ ہی اس کا خون جلانے لگ پڑا تھا ۔

سامنے کھڑا مرد چٹان کی طرح اس کا راستہ روک ہوئے تھا ،وہ گردن اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی ،اتنی دیر تک گردن اور اٹھائے رکھنے سے اس کی گردن میں درد اٹھا ،

تم اتنی چھوٹی یو یا میں زیادہ لمبا ہوں، سائم۔ اس کی طرف جھکتے ہوئے بولا۔

ایکسیوز می، میرا قد ٹھیک ہے ،تم ہی زیادہ لمبے ترنگے ہو،اوہر سے میری گردن میں اتنا درد ہوجاتا ہے تمہیں دیکھنے کے چکر میں،وہ منہ بنا کر بولی(وہ چھ فٹ دو انچ کے مرد کو لمبا ترنگا بول رہی تھی)۔

اگر آپ کہیں تو اور جھک جاتے ہیں، آپ کہیں گی تو قدموں میں بھی جھک جاو گا ،وہ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتا جھکا تھا۔

کتنے بےشرم ہو تم ،چہرے پر حیا کے رنگ ابھرے

کتنی پیاری ہیں آپ، وہ باز نہ آیا

ویسے آپ کو میرا تحفہ کیسا لگا ،اس کا اشارہ ان سامئیلی بالز کی طرف تھا ،انوشے کے چہرے پر اب حیا کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔

چولہے میں جاو تم اور تمہاری سامئیلی بالز، وہ کہتی آگے بڑھ گئ ۔

تمہیں اور کوئ کام نہیں ہے ،انوشے نے اپنے ساتھ چلتے سائم کو دیکھتے ہوچھا

آپ سے محبت کرنا ہی میرا پیشہ ہے عزیزہ خاتون ،اف اف اب کی بار تو حد ہی ہوگئ انوشے کے کانوں سے دھواں نکل پڑا،محبت کا اظہار اور اوپر سے نیا نام۔سائم اس کی حرکت پر لطف اندوز ہوا۔

ویسے میں آپ کو یہ بتانے آیا تھا کہ بابا کی اگلے اتوار سالگرہ ہے ،اور رائف بھی بہت یاد کر رہا تھا اپ کو،باقی سب کو پہلے ہی بتا دیا گیا ہے ،بس آپ رہ گئ تھی ،وہ اس ساتھ چلتے ہوئے بتا رہا تھا ،انوشے نے ہولے سے بس سر ہلادیا۔
اپ آئیں گی؟،وہ اسے زیادہ تر “آپ” ہی کہتا تھا ،اور وہ”آپ ” انوشے کے دل پر ٹھنڈی پھوار کی طرح لگتا۔

ہاں لیکن صرف انکل کے لیے ،وہ منہ چڑاتے بولی ،تو وہ مسکرا دیا
☆☆☆☆☆

رات کی سیاہی ہر سو پھیل چکی تھی ،آدھی رات کو اسے یاد آیا کہ وہ چھت سے کپڑے اتارنا بھول گئ ہے ،موسم بھی خراب تھا ناچار اسے چھت پر کپڑے اتارنے جانا پڑا، وہ نیلے رنگ کے گھریلو کپڑوں میں ملبوس ،بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بنائے چھت ہر آئ ۔کپڑے اتارتی اسے اپنی پیٹھ پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی،اس کے دل کی دھڑکن یکدم تیز ہوئ ،اس نے نظرے پھیر کر غور سے چھت کے ایک کونے کی جانب دیکھا، تو اسے چاند کی روشنی میں سائم کھڑا نظر آیا، اس نے سیاہ ہاف سلیوز شرٹ پہن رکھی تھی ،اور دونوں ہاتھ ہاتھ ٹاروزر کی جیبوں میں تھے ،وہ اس کے ہر انداز کو اپنی آنکھوں میں قید کر رہا تھا ۔
سائم تم یہاں کیا کررہے ہو اس وقت، اور اوپر کیسے ائے۔وہ حیران تھی
میری بیوی سے ملنے کے لئے مجھے کوئی چیزنہیں روک سکتی،وہ کہتا ہوا آگے بڑھا
اگھورکر کیا دیکھ کرہے ہو ،اس نے تپ کر پوچھا

میں گھور نہیں رہا عزیزہ خاتون، میں تو یہ تک رہا ہوں کہ آسمان زیادہ روشن ہے یا میرے سامنے خجل سے حلیے میں ملبوس نازک سی دوشیزہ،اس کی تعریف پر انوشے نے رخ دوسری طرف موڑ لیا۔

یہ میں آپ کے لیے لایا ہوں، سائم نے جیب سے نیلے رنگ کی مخملی ڈبی نکال کر اس کی طرف کی ،انوشے نے پہلے حیران سے ڈبی کو دیکھا اور پھر سائم کو۔

یہ کس لیے ؟

ہماری شادی کا تحفہ، وہ سکون سے بولا

تو وہ سامئیلی بالز کیا تھی ؟؟ ،

وہ ،وہ اپ کو غصہ دلانے کا ایک ذریعہ،وہ مسکراہٹ ضبط کر کے بولا۔

سائم نے خاموشی سے ڈبی کھول کر اس کی طرف برھائ ،چاند کی مدہم روشنی جیسے ہی اس ڈبی پر پڑی، اندر موجود چاندی کا ایک بے انتہا نفیس اور باریک بریسلیٹ (Bracelet) جگمگا اٹھا۔ اس بریسلیٹ کے مرکز میں ایک چھوٹا سا، چمکتا ہوا ہیرے کا نازک سا دل بنا ہوا تھا، جو چاندنی میں ستارے کی طرح دمک رہا تھا،

یہ خوبصورت ہے ،وہ کہے بنا نہ رہ سکی

اسے خوبصورت ہونا تھا جاناں ،کیونکہ یہ دنیا کی خوبصورت لڑکی نے پہننا تھا،وہ تعریف کرنے میں کبھی بھی کنجوسی نہیں کرتا تھا۔اور انوشے کو اس کی یہی عادت پسند تھی۔

خوبصورت تم کتنی راہ چلتی لڑکیوں کو کہ دیتے ہو؟۔

نہیں مجھے خوبصورت صرف اپنی لڑکی ہی لگتی ہے ،وہ گہرہ سانس سے لیتے بولا۔اس لڑکی کو اپنی محبت کا یقین دلانا دیوار سے سر مارنے کے برابر تھا۔

☆☆☆☆

اتوار کی شب کافی حسین تھی ،سفید حویلی جس میں آج وہ ایک بہو کے طور پر موجود تھی ،حویلی کے سامنے ہرے بھرے لان میں اس وقت پوری سالگرہ پارٹی کا انتظام کیا گیا تھا ،حویلی کے دودھیا دیواروں پہ پیلے اور سفید رنگ کی جگمگاتی لڑیا لگائ گئ تھی ،لان کے ایک حصے میں مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے سفید مخمل کے صوفے اور گول میزیں سجائی گئی تھیں، جن کے مرکز میں گہرے سرخ گلابوں کے گلدستے رکھے تھے۔ ایک طرف سفید رنگ کے ریشمی پردوں سے سجا ہوا ایک بڑا اسٹیج تھا، جہاں انکل مجتبی کا برتھ ڈے کیک کٹنے کے لیے تیار تھا، اور پسِ منظر میں بجتا ہوا دھیما کلاسیکی میوزک حویلی کی فضا کو مزید پروقار اور رومانوی بنا رہا تھا۔
،اور اس دوران کاموں مصروف اس کا شوہر ادھر ادھر پھرتا دکھائ دیا ،وہ سفید رنگ کی قمیض شلوار پہنے اوہر سے کریم رنگ کے شال اوڑھے ہوئے ،وہ ہمیشہ کی طرح دلکش لگ رہا تھا ،وہ سیڑھیوں پر بیٹھی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے اسے دیکھنے میں مصروف تھی،وہی شخص جو جب اس کے پاس آتا وہ اپنے سارے غم بھلا دیتی تھی ،ماضی کی تلخ یادیں تو جیسے اس کے زہن سے مٹ ہی گئ تھی ،اب وہ تھی اور اس کا محبوب شوہر ہان محبوب،جو انسان اپ کے خلاء کو محبت سے بھر دیں تو اس سے محبت ہو ہی جاتی ہے ،اس کی آنکھوں میں نمی ابھرنے لگی،

وہ اسے پریشان کرتا ،بلاوجہ تنگ کرتا تھا ،تاکہ وہ دنیا کے بارے میں سوچ ہی نہ پائے وہ اس کی ساری سوچوں کو اپنی طرف مبذول کر لیتا ۔

،اسی لمحے کوئ اچانک اس کے ساتھ آکر بیٹھا ، ہان وہ اس شخص کو پہنچانتی تھی ،وہ اس کی خوشبو پہچانتی تھی ،اسے گردن پھیرنی کی ضرورت نہیں تھی ، لیکن پھر بھی اس نے اہستہ نے چہرہ اس کی طرف پھیرا ،وہ پہلے سے ہی اسے تک رہا تھا ،دونوں کی نظریں ایک پل کے لیے ٹھہری، پھر وہ رخ موڑ گئ،

تم رو رہی ہو،وہ اس کے آنسو نظرانداز نہ کر سکا

نہیں آنکھوں سے پانی کا جھرنا بہ رہا ہے ،وہ اس کے اس قدر فضول سوال پر چڑ گئ۔

اچھا مجھے تو لگا تھا ،کہ ان نشیلی آنکھوں سے شراب کا جھڑنا بہتا ہے ،وہ اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوا
تم کبھی نہیں سدھرو گے نہ؟

دیکھ لوں جاناں،میں سدھر گیا تو مجھے تمہاری اس چھوٹی سی ناک پر غصہ دیکھنے کو نہیں ملے گا، اور میں یہ نہیں کر سکتا ،سو تمہیں ساری زندگی اسی بگڑے ہوئے حسین شوہر کے ساتھ گزارنی پرےگئ،اس کے جواب پر وہ ہنس پر ،ایک ایسی ایسی ہنسی جو حویلی میں جلتے تمام چراغوں سے زیادہ روشن نظر آئی۔

سائم نے اسے اب دیکھ کر مسکرا رہا تھا ،وہ مہروں رنگ کے سوٹ میں ملبوس تھی ،جس کی قمیض پر سیاہ رنگ کے موتیوں سے کڑھائی کی گئ تھی ،ہاتھوں میں بھر بھر کر چاندنی رنگ کی چوڑیاں پہنی تھی ۔

تمہیں مجھ سے محبت ہوگئی ہے؟،زبان سے بےاختیار الفاظ پھسلے۔

تم سے کوئ کیسے محبت نہیں کر سکتا انوشے ،نرم سی دھیمی آواز نے اس کے دل کو سکون بخشا۔رائف اچانک بھاگتا ہوا آیا اور انوشے کے ساتھ لگ گیا ،وہ ایک دم ٹھہر گئ ،اس نے بھی اپنے بازو رائف کے گرد پھیلا دیے نرمی

Love u mom , وہ ان الفاظ پر حیران ہوئی ،جبکہ رائف اب دوبارہ کہی بھاگ نکلا تھا ،
یہ تم نے اسے کہنے کو بولا ،اس نے الجھن سے سائم کی طرف دیکھا
اس کے ڈیڈ کی شادی ہوگئ تھی ،اور جس سے ہوئ تھی ،تو وہ اب اس کی موم ہی لگی نہ؟ ،بچہ نہیں ہے وہ ،وہ اسے دیکھتا بولا، تو انوشے نے گہرہ سانس لیا۔

تمہیں اچھا نہیں لگا ،اس کا تمہیں موم بلانا ،

نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ،وہ میرا ہی بیٹا ہے ،اس کے کہنے پر سائم نے نرمی سے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے۔

لیکن ایک ڈر ہے ،

کیسا ڈر ؟

اگر میں اس کے لیے اچھی ماں نہ بن سکی تو؟ ،آنکھوں میں نمی آنے لگی

تمہیں کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں، ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، وہ اسے حوصلہ دے رہا تھا ،نہیں وہ اسے یقین دلا رہا تھا۔
اور وہ سائم مجتبٰی کو بتا نہ سکی کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ اس پر یقین کرتی ہے ۔

مجتبٰی انکل ہاتھ کے اشارے سے انہیں اپنے پاس بلا رہے تھے ،وہ سیڑھیوں سے اٹھا ،اور اپنا ہاتھ پاس بیٹھی لڑکی کی طرف بڑھایا، انوشے نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا ،

کیک کٹننگ میں مجتبی انکل نے اسے سامنے سامنے رکھا ،ان کے مہمان کافی آئے ہوئے تھے ،وہ بےحد خوشی کے ساتھ اپنی بہو کو سب کے ساتھ ملا رہے تھے ،

آپ لوگ کھڑے ہوں میں آپ کی تصویر کھینچتی ہوں، ایمن کیمرہ دکھاتی بولی
ہاں ہاں کیوں نہیں، پہلی تصویر میں مجتبٰی انکل درمیان میں کھڑے تھے ،اور ان کے دائیں جانب ان کی بہو اور بائیں جانب ان کا بیٹا، دوسری تصویر میں انوشے اور سائم ساتھ ساتھ کھڑے تھے اور درمیان میں معصوم سا رائف کھڑا تھا ،تیسری تصویر میں وہ دونوں اکیلے تھے ،

ارے آپ دونوں اتنا دور دور کیوں ہیں، تھوڑا قریب ہو جائیں، ایمن جان بوجھ کر اب انہیں تنگ کر رہی تھی ۔

میری کچھ شرطیں ہیں،دھیمی سی آواز ابھری

آپ اور آپ آپ شرطیں سرآنکھوں پر بیگم بتائیے،جوش جوش میں زبان پھسل گئی ۔

کیا؟؟

کچھ نہیں آپ بتائیے۔

شادی کے بعد مجھ ہر حکم چلایا تو سر پھاڑ دونگی ،گھر لیٹ آئے تو داخلہ بند،اگر کسی نمبر ہر بار بار مسڈ کاغذ دیکھی تو تم مجھے جانتے ہی ہوں۔،اور آخری بات اگر مجھ سے فضول میں جھگڑا کیا تو گھر سے چلی جاونگی ،سائم کی نظر انوشے کے معصوم سے چہرے ہر پڑی، جو کہ سخت رکھنے کی بھرپور کوشش کی گئ تھی ،تو اس کے چہرے پر انتہائی دلکش اور گہرا قہقہہ ابھر آیا۔ اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنی قمیض کی آستینوں کو تھوڑا اوپر چڑھایا، جس سے اس کی کلائیوں کی مضبوطی اور مردانہ رعب مزید نمایاں ہو گیا۔ چاند کی سفید روشنی اس کے چہرے کے تیکھے نقوش پر پڑ رہی تھی، جہاں اب ایک فاتحانہ اور لاڈلی مسکراہٹ دھرنا دیے بیٹھی تھی۔وہ ایک قدم اور آگے بڑھا،
یہاں تک کہ اس کے چوڑے شانوں کا سایہ مہرون لباس میں لپٹی انوشے پر پڑنے لگا۔ اس نے جھک کر سیدھا انوشے کی مخملی آنکھوں میں جھانکا جو تنبیہ کیے ہوئے تھیں،

“منظور ہیں، عزیزہ خاتون! ،وہ سکون سے کہتا اسے شش و پنج میں مبتلا کر گیا ۔اسے اس صبر کے بدلے بطور انعام سائم مجتبی سے نواز دیا گیا تھا ،وہ شخص جسے وہ بےحد محبوب تھی۔وہ دل بھی بن گیا اور دلدار بھی ،اس کے بغیر صبح اداس تھی ،تو شامیں ادھوری ،وہ اس کا سب کچھ تھا ۔دل چلا چلا کر محبت کا اظہار کر رہا تھا ،لیکن زبان بلکل ساکت تھی ،

،سائم نے بازو سے پکڑ کر اپنے حصار میں لیا ،اس کے ہاتھ اس کی کمر پر تھے ،اور انوشے کے ہاتھ سائم کی دھڑکن پر ،کلک کی اواز سے وہ پل کیمرے کی نظر ہوا،وہ ایک پل کائنات کا ایک خوبصورت شاہکار بن کر کیمرے کی سکرین پر ابھرا،

اچانک آسمان پر جلتی بجھتی ہوئ لیٹرنز آسمان میں ستاروں کی طرح لگ رہی تھی ،

اوہ لیٹرنز، وہ پرجوش ہو کر آسمان کو دیکھ رہی تھی ،سائم نے اسے مسکرا کر دیکھا۔

وہ بھاگ کر لیٹرنز کے قریب گئ ،وہ اسے جلانے کی کوشش میں تھی ،تبہی اس کے ہاتھوں کے قریب سائم کے ہاتھ نظر آئے، وہ دونوں مل کر اس کے کاغذ کے ٹکڑے میں احتیاط سے آگ لگانے رہے تھے، پیلی روشنی میں دونوں کے چہرے دمک اٹھے جہان اج خوشی واضح چمک رہی تھی ،کچھ ہی پل میں جب ان محسوس ہوا کہ اب لیٹرن اوپر اڑنے کو مچل رہا ہے تو سائم اور انوشے نے نرمی سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے ،سفید مخملی کاغذ اوپر بادلوں میں اٹھتا چلا گیا ،

جب وہ بہت اونچائی پر پہنچیں، تو یون محسوس ہوا جیسے کسی نے اندھیرے میں ہزاروں جگنو آزاد کر دیے ہوں۔ نیچے کھڑے ہو کر اوپر دیکھنے والوں کے لیے وہ پورا منظر ایک سحر انگیز خواب جیسا تھا، جہاں روشنیوں کا وہ قافلہ کائنات کی لامتناہی خاموشی میں جذب ہو کر زمین پر ایک پُرکشش، طلسمی اور رومانوی نور بکھیر رہا تھا ،

آسمان پر اڑتے لیٹرنز کو دیکھ کر انوشے کے دل میں جذبات کا سمندر امڈ آیا، اس نے گہرہ سانس لیا اور اپنے نخرو اور غصے کو پس پشت ڈال کر سائم کے نزدیک ہوئی ،اس نے اپنے چوڑیوں بھرے نازک ہاتھ بہت نرمی اور مان سے سائم کے مضبوط بازو کے گرد لپیٹے دیے ،انوشے نے اپنا سر سائم کے کندھے پر ٹکالیا ،سائم نے اس نرم سے لمس پر پہلے آپ بازو کے گرد لپیٹے ان خوبصورت ہاتھوں کو دیکھا، جہان اس دیا گیا تحفہ جچ رہا تھا ،پھر اس کی نظر انوشے کے پرسکون سے چہرے تک گئ۔ جو اس کے کندھے ہر سر رکھے آنکھیں موندے ہوئ تھی ،انوشے کو دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن بے ساختہ تیز ہوئ،اور پھر ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری،وہ غصیلی اپسرا اسے یوں تھامے کھڑی تھی ،جیسے سائم مجتبٰی اس کی پوری کل کائنات ہو اور وہ اسے کبھی چھوڑنے کا ارادہ نہ رکھتی ہو۔کائنات کی تمام روشنیاں آن کے گرد الوداعی رقص کر رہی تھی ۔
☆☆☆☆

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *