SAAT RANGE E HAYAT BY HIFZA MIRZA EPISODE 4

سات رنگِ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر 4


دوسری طرف سحرش عائشہ اور ماہی یونیورسٹی پہنچ جاتی ہے ۔
ماہی ان سے الگ، خاموشی سے اپنے اپارٹمنٹ کی سمت مڑ جاتی ہے۔
جب کہ سرش اور عائشہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ جاتی ہیں۔۔
ابھی عائشہ اور سحرش اپنی کلاس کی طرف بڑھ ہی رہی ہوتی ہیں کہ سامنے سے عائشہ کی نئی فرینڈ منال آتی ہوئی نظر آتی ہے۔ سحرش اسے دیکھتے ہی منہ بنا لیتی ہے، کیونکہ وہ منال کو بالکل پسند نہیں کرتی۔ منال فیشنیبل، ماڈل ٹائپ لڑکی ہوتی ہے، جو ہر وقت سجنے سنورنے میں مصروف، میک اپ سے لتھ پتھ رہتی ہے۔لڑکوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی نظر اتی ہے۔
سرش ناگواری سے منہ بناتی ہے، جبکہ منال صرف عائشہ کو دیکھ کر ہیلو بولتی ہوئی ان کے قریب آ جاتی ہے۔۔

عائشہ فوراً سرش سے کہتی ہے،
“تم کلاس میں چلو، میں ابھی آتی ہوں۔کہاں جا رہی ہو تم؟

عائشہ ہلکے سے جواب دیتی ہے۔۔۔۔۔
“بس تھوڑا سا کام ہے، میں آتی ہوں، تم چلو۔۔۔۔

یہ کہہ کر وہ سحرش کو اندر کی طرف بھیج دیتی ہے اور خود منال کے ساتھ کینٹین کی طرف بڑھ جاتی ہے۔ کینٹین کے پاس پہنچتے ہی منال رک کر کہتی ہے،
“مجھے اپنی ایک فرینڈ سے ملنا ہے، تم اندر چلی جاؤ۔عائشہ سر ہلاتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ جاتی ہے۔۔کینٹین کے اندر منال کا کزن موجود ہوتا ہے، جس سے ملنے کے لیے عائشہ وہاں آئی ہوتی ہے۔

تو دیکھتی ہے کہ وہ شخص کینٹین کے ایک کونے میں بیٹھا ہوتا ہے، اس کی پیٹھ عائشہ کی طرف ہوتی ہے۔ عائشہ آہستہ سے اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھتی ہے اور نرمی سے ہیلو کہتی ہے۔
جس پر وہ لڑکا، سہیل، ہلکے سے نخرے دکھاتے ہوئے منہ بناتا ہے اور جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھنے لگتا ہے۔

یہ دیکھ کر عائشہ کو تھوڑی سی پریشانی ہوتی ہے۔ وہ فوراً کہتی ہے،
“سوری… میں لیٹ ہو گئی تھی۔”

سہیل بغیر اس کی طرف دیکھے، قدرے خفگی سے کہتا ہے،
“ایک گھنٹے سے تمہارا ویٹ کر رہا ہوں، اور تم اب آ رہی ہو؟”

عائشہ جلدی سے بولتی ہے،
“پلیز مان جاؤ نا، سوری… نیکسٹ ٹائم نہیں ہوگا۔”
یہ کہتے ہوئے وہ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتی ہے۔

سہیل تھوڑا سا نخرے دکھاتا ہے، پھر مان جاتا ہے اور کہتا ہے،
“اوکے، لیکن نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ تب میں معاف نہیں کروں گا۔”
پھر ہلکے سے روٹھے ہوئے انداز میں کہتا ہے
“تم مجھے اچھی لگتی ہو، اسی لیے اتنا ویٹ کیا ہے، ورنہ میں کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا۔”

عائشہ سب سمجھ جاتی ہے۔ مسکرا کر کہتی ہے،
“تھینک یو… تم نے میرا اتنا ویٹ کیا، سوری، نیکسٹ ٹائم نہیں ہوگا۔”

سہیل آخرکار مان جاتا ہے۔
پھر عائشہ ہنستے ہوئے کہتی ہے،
“چلو، تمہاری ناراضگی کے چکر میں میں نے صبح بریک فاسٹ بھی ٹھیک سے نہیں کیا، کچھ آرڈر کر لیتے ہیں۔”

سہیل ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے،
“اوکے۔

تھوڑی ہی دیر گزرتی ہے کہ سہیل کے دو دوست وہاں آ جاتے ہیں۔ وہ دور سے ہی سہیل کو دیکھ لیتے ہیں اور سمجھ جاتے ہیں کہ وہ پھر کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ دونوں دور سے ہیلو ہائے کرتے ہیں اور پھر چلتے ہوئے ان کے پاس آ جاتے ہیں۔
سہیل سے ملنے کے بعد اس کا ایک دوست عائشہ کی چیئر کے پیچھے ہاتھ رکھتا ہے، جس سے اس کا ہاتھ بے دھیانی میں عائشہ کو ٹچ کر جاتا ہے۔

عائشہ انکفرٹیبل ہو جاتی ہے۔ وہ خاموشی سے تھوڑا سا آگے ہو جاتی ہے، مگر کچھ کہتی نہیں۔ یہ سب اتنا اچانک ہوتا ہے کہ وہ لمحہ بھر کو ساکت رہ جاتی ہے۔

اسی دوران سہیل کے دوست کہتے ہیں،
“چلو یار، میچ کا ٹائم ہو گیا ہے۔”

سہیل بھی فوراً کہتا ہے،
“ہاں ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔”

وہ عائشہ کو بائے کہہ کر اپنے دوستوں کے ساتھ چلا جاتا ہے۔ عائشہ دل ہی دل میں سوچتی ہے کہ وہ سہیل کو بعد میں ضرور بتائے گی اس بارے میں۔

وہ بھی اٹھتی ہے اور کلاس کی طرف بڑھتی ہے، مگر چند قدم چل کر اسے یاد آتا ہے کہ کلاس کا ٹائم تو ختم ہو چکا ہے، اب سر اندر آنے بھی نہیں دیں گے۔
یہ سوچ کر وہ رخ بدل لیتی ہے اور گراؤنڈ کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایک سائیڈ پر جا کر بیٹھ جاتی ہے، سحرش کا انتظار کرنے کے لیے۔

کچھ دیر بعد منال اسے دور سے اکیلا بیٹھا دیکھ لیتی ہے اور اس کی طرف آ جاتی ہے۔ قریب آ کر پوچھتی ہے،
“تم اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟ سہیل کہاں ہے؟”

عائشہ ہلکے سے جواب دیتی ہے،
“وہ میچ کھیلنے گیا ہے۔”

منال ہنستے ہوئے عائشہ کے پاس بیٹھ جاتی ہے اور کہتی ہے،
“اور بتاؤ، کہاں تک پہنچا تم دونوں کا رشتہ؟”

عائشہ تھوڑی حیران ہو کر پوچھتی ہے،
“کیا مطلب؟”

منال مسکرا کر جواب دیتی ہے،
“کیا تم ہر وقت صرف یہاں، کینٹین میں، میسیج، کال یا فون پر بات کرنے تک ہی محدود رہنا چاہتی ہو؟ کچھ آگے بڑھانا نہیں چاہتے اپنے رشتے کو؟”

عائشہ سوچتے ہوئے کہتی ہے،
“آگے… کیا کرنا چاہیے؟”

منال ہنستے ہوئے کہتی ہے،
“تم بھی کتنی سادہ ہو! ، اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا رشتہ مضبوط اور اچھا رہے، تو اس سے ملو، جولو باتیں۔ڈیٹس پر جاؤ ۔ صرف میسیج کرنا یا ایک ساتھ لنچ کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔”

عائشہ تھوڑا سوچتے ہوئے جواب دیتی ہے،
“میں دیکھوں گی، سوچوں گی اس بارے میں۔
جس پر مناہل ہنستے ہوئے کہتی ہے تم سوچتے ہی رہنا اگر تم کوئی اور لڑکی اسے لے کر بھاگ گئی تو تم بیٹھی رہنا جس پر عائشہ پریشان ہو جاتی ہے.

منال تھوڑے سے مغرور انداز میں عائشہ سے کہتی ہے،
“سہیل کو لڑکیوں کی کمی نہیں ہے، وہ تو میرے کہنے پر تم سے دوستی کر رہا ہے، ورنہ وہ کسی سے بات تک نہیں کرتا۔ تم بھی اسے اچھی لگتی ہو، اس لیے وہ تم سے بات کر رہا ہے۔ تمہیں اس سے ملنا چاہیے، اسے اپنی طرف دھیان دینا چاہیے تاکہ وہ کسی اور لڑکی کی طرف نہ دیکھے۔”

ہاں! میں جانتی ہوں۔

پھر منال اپنا فون نکالتی ہے اور کہتی ہے،
“دیکھو، میں رات کو اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ڈیٹ پر گئی تھی۔”

اور وہ فون میں تصویریں دکھاتی ہے۔

عائشہ حیران ہو کر پوچھتی ہے،
“کیا تم رات کو بھی باہر جاتی ہو؟”

منال ہنس کر جواب دیتی ہے،
“ہاں حیرانی سے کہتی ہے اس میں کون سی برائی ہے۔۔

عائشہ سوچتے ہوئے حیران ہوتی ہے،
“تمہارے ماں باپ کچھ نہیں کہتے؟”

منال مسکرا کر کہتی ہے،
تم کس دور میں رہتی ہو؟ آج کل یہ سب عام ہے۔ میرے ماں باپ نے کبھی مجھے باہر جانے سے منع نہیں کیا، روک ٹوک نہیں کرتے۔ ہمیں آزادی دی جاتی ہے۔

جس پر عائشہ حیران ہوتی ہوئی سوچتی ہے یہ کیسے ماں باپ ہیں جو بیٹی کو رات گئے جانے دیتے ہیں اور ایک ہم جو شام کے سات بجے کے بعد جا نہیں سکتے۔۔
مناہل اس سے پوچھتی ہے کیا تم باہر رات کو نہیں نکل سکتی کیا تمہارے ماں باپ اجازت نہیں دیتے۔۔۔
جس پر وہ کچھ بول پاتی کے پہلے گراؤنڈ کی طرف سرش آتے ہوئے دکھائی دیتی ہے جس پر وہ چپ کر جاتی ہے منال بھی اسے دیکھ کر کچھ نہیں کہتی اور چپ کر جاتی ہے ۔۔۔
سرش پاس آ کر بیٹھ جاتی ہے اور کہتی ہے کیا باتیں ہو رہی ہیں۔۔
جس پر منال ہنستے ہوئے کہتی ہے کچھ نہیں بس ایسے ہی باتیں کر رہے تھے اب تم دونوں کرو۔۔ میں اپنی فرینڈز کی طرف جا رہی ہوں اور وہ چلی جاتی پیچھے سحرش اور عائشہ بیٹھی رہ جاتی ہیں سحری عائشہ سے کہتی ہے اس سے دور رہا کرو مجھے یہ لڑکی ٹھیک نہیں لگتی عجیب سی ہے عجیب سی باتیں کرتی ہے انداز بھی اس کا عجیب سا ہے جس پر عائشہ کہتی ہے تمہیں ویسے ہی وہم ہو رہا ہے وہ تم مجھے تو ایسی نہیں لگی۔۔۔
جس سرش منہ بناتے ہوئے کہتی ہے اچھا چلو نیکسٹ کلاس میں چلتے ہیں۔۔۔۔
——————————————–

پری اور افی ریسٹورنٹ میں داخل ہوئیں تو اندر کی روشنی اور ہلچل نے فوراً ہی ان کا استقبال کیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف ہلکی سی نظر ڈالی اور مسکراتے ہوئے ایک کونے کی پرسکون سی جگہ کا انتخاب کر لیا۔ وہ جانتی تھیں کہ ہنی اور رومی ابھی پہنچنے والے ہیں، اس لیے انہوں نے بیٹھ کر ان کا انتظار کرنا ہی بہتر سمجھا۔ریسٹون تھوڑا دور تھا تو آتے ہوئے ٹائم لگ گیا اب دن دو بجے تھا تو رش کافی تھا۔۔۔سردیوں کے دن تو ویسے بھی چھوٹے سے ہوتے ہیں۔۔۔


ہر طرف لوگوں کی چہل پہل، ہنسی کی آوازیں اور باتوں کا شور ایک عجیب سی زندگی کا احساس دے رہا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر کوئی اپنے دن کی تھکن بھلا کر یہاں خوشی سمیٹنے آیا ہو۔

پری نے ہلکے سے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا، ابھی صرف پانچ منٹ ہی گزرے تھے کہ دروازہ کھلا اور ہنی اور رومی اندر داخل ہوئیں۔ انہوں نے دور سے ہی پری اور افی کو دیکھ لیا اور مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا۔ افی نے بھی جواب میں ہاتھ اٹھایا، جبکہ پری نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔

چند لمحوں بعد وہ دونوں ان کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔ اب چاروں ایک ہی ٹیبل کے گرد موجود تھیں۔ پری کے سامنے والی سیٹ پر افی بیٹھی تھی، جبکہ اس کے ساتھ والی سیٹ پر ہنی اور پری کے ساتھ میں رومی نے جگہ سنبھال لی۔ ماحول میں ایک خوشگوار سی گرمی تھی، جیسے پرانے دوست ایک بار پھر اکٹھے ہوئے ہوں۔

ویٹر قریب آیا تو افی نے مینو اٹھا کر ایک نظر ڈالی اور پھر سب کی پسند پوچھتے ہوئے کچھ کھانے کا آرڈر دے دیا۔۔۔۔

آرڈر کرنے کے بعد پھر نہ رکنے والا ان تینوں کی باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پری صرف چپ کر کے ان کو سن رہی تھی اور موبائل پر کچھ کر رہی تھی اور کبھی کبھی نظر اٹھا کر ے باہر بھی لوگوں پر نظر ڈال رہی تھی۔۔ونڈو بھی شیشے کی تھی جو صاف سب کچھ نظر ارہا تھا۔۔۔

کھانا ختم ہوتے ہی جیسے ہی ویٹر نے بل لا کر میز پر رکھا، ماحول میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی… وہ والی خاموشی جو صرف تب آتی ہے جب سب کو اچانک یاد آ جائے کہ “اب پیسے دینے ہیں”۔

افی نے بڑے اسٹائل سے بل منگوایا تھا، مگر جیسے ہی بل آیا، ہنی نے بجلی کی رفتار سے اسے اٹھا لیا۔

“ذرا دیکھوں تو سہی کتنی تباہی ہوئی ہے…” وہ بڑبڑائی، مگر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“او بھائی… بیس ہزار؟! ہم نے کھانا کھایا تھا یا ریسٹورنٹ خرید لیا تھا؟!”

رومی کے منہ سے ہنسی نکل گئی جبکہ افی نے فوراً بل اس کے ہاتھ سے لے لیا، مگر بل دیکھتے ہی اس کا اپنا دماغ بھی ہینگ ہو گیا۔

“اوہ شٹ…” وہ دھیرے سے بولی، “میرا بیگ تو گھر رہ گیا تھا”

ایک لمحے کے لیے سب خاموش… پھر تینوں کی نظریں ایک ساتھ پری کی طرف گھوم گئیں۔

پری نے بڑے سکون سے آئی بروز اٹھائیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا،
کہیں پیسے نظر ارہے ہیں میرے پاس۔۔

افی نے اسے غور سے دیکھا—ہاتھ میں صرف فون، میز پر کار کی کیز اور اس کی مشہور اسٹک… بیگ تو جیسے اس کی زندگی میں کبھی تھا ہی نہیں۔
پری وہ مخلوق تھی جسے آج تک کسی نے پیسے دیتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔۔نہ ہی کبھی اس کے ہاتھ میں بیگ دیکھا تھا۔۔۔
اس کے پاس سٹک اور موبائل کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا۔۔۔

“اوکے… تم سے امید رکھنا بھی گناہ ہے…” افی نے زیرِ لب کہا۔۔اونچا بولنے کی غلطی اس نے نہیں کی۔۔ اور نظریں ہٹا لیں۔

“رکو رکو، میں دیکھتی ہوں…” رومی نے ہیروئن بننے کی کوشش کی اور اپنا بیگ کھولا۔ کافی دیر تک سب کھنگالنے کے بعد اس نے آٹھ ہزار نکالے اور فاتحانہ انداز میں میز پر رکھ دیے… پھر فوراً اس کا چہرہ اتر گیا۔

“بس… اتنے ہی ہیں…” وہ معصومیت سے بولی، “باقی تو میں نے آج ڈیلیوری والوں کو دے دیے…”

اب تینوں کی نظریں دوبارہ ہنی کی طرف۔

ہنی نے بڑے سکون سے پانی کا گھونٹ لیا، کندھے اچکائے اور کہا،
“مجھے تو لگا تھا آج کوئی اور دے گا… میں تو صرف کھانے آئی تھی 😌”

“واہ!” افی نے ماتھا پکڑ لیا، “یعنی ہم سب یہاں صرف کھانے آئے تھے۔۔
دینے کوئی نہیں آیا؟”

پری ہلکا سا مسکرائی، جیسے یہ سارا سین اس کے لیے انٹرٹینمنٹ ہو۔۔۔پھر اس نے ان تینوں سے کہا۔۔۔۔

“ایک کام کرو…” وہ آرام سے بولی، “یا تو برتن دھونا شروع کر دو… یا پھر کسی کو فون کرو 😏۔۔
ان تینوں نے ایک دم سے پری کو غور کر دیکھا۔۔۔
پری بھی ان تینوں کو دیکھنے کے بعد ٹھیک ہے جو مرضی کرو۔۔۔۔۔
آخر بل دے گا کون؟ 😄


ابھی وہ کچھ اور بولنے ہی والی تھی کہ اچانک پیچھے سے ایک آواز آئی—
میں دے دیتی ہوں۔”

آواز سنتے ہی چاروں نے ایک ساتھ مڑ کر دیکھا…
اور اگلے ہی لمحے افی اور پری اور رومی کے کے چہرے ایک ساتھ بگڑ گئے۔ہنی اسے جانتی تک نہیں تھی۔۔۔

“اوہ نہیں… یہ پھر آ گئی…” افی نے آہستہ سے منہ بناتے ہوئے کہا۔
ہنی نے فورا اسی کے کان میں کہا یہ کون ہے جس پر اس نے کہا ہے ایک چڑیل۔۔
ہنی نے اپنی انکھیں گھماتے ہوئے پھر اس کی طرف دیکھا۔۔۔اپنے ہونٹوں کو گول کرتے ہوئے کہا او۔۔


وہ لڑکی اپنے مخصوص اٹیٹیوڈ کے ساتھ، چلتی ہوئی ان کے سامنے ائی تھی ۔۔۔۔، جیسے ریسٹورنٹ اس کا اپنا ہو اور باقی سب ایکسٹرا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، مگر وہ والی جو سیدھی دل پر نہیں بلکہ دماغ پر چڑھتی ہے۔

وہ آ کر ان کے ٹیبل کے پاس رکی، ایک سرسری نظر بل پر ڈالی اور پھر طنزیہ ہنسی۔

… بڑے لوگوں کی بڑی پارٹیز۔۔۔۔آنے سے پہلے دیکھ تو لیتی کہاں آرہی ہو کیا تم لوگ کی آنے کی جگہ ہے یہ۔۔۔

رومی نے فوراً نظریں گھما کر دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا، جیسے اسے دیکھنا بھی گناہ ہو۔
افی نے ماتھا دباتے ہوئے آہستہ سے کہا، “بس یہی رہ گئی تھی آج کے دن کے لیے…”

وہ لڑکی رکی نہیں، سیدھا پری کی طرف دیکھتے ہوئے بولی—
تمہارے لیے میں احسان کر ہی سکتی ہوں۔۔۔ویسے کیا کسی نے خوب کہا تھا کسی کو کسی کا احسان نہیں چاہیے۔۔
اور یہ سب وہ پری کو دیکھتے ہوئے تانا مار رہی تھی۔۔
پری اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔۔

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا کارڈ نکالا ۔۔۔اور ویٹر کو بلایا۔۔۔

پری نے بغیر جلدی کیے، بڑے سکون سے سر اٹھایا۔

اس کی آنکھوں میں ہلکی سی ناگواری صاف نظر آ رہی تھی۔اسے کہا۔۔

“نہیں چاہیے۔”
اس نے مختصر اور سیدھا جواب دیا۔

وہ لڑکی ہلکا سا ہنسی، “او پلیز… اتنا اٹیٹیوڈ اچھا نہیں لگتا جب جیب خالی ہو 😏”

یہ سن کر چاروں نے ایک ساتھ اسے گھورا۔

ہنی نے زیرِ لب کہا، “کسی نے اس کو بلایا تھا؟ یا یہ خود ہی invite ہو کر آ گئی؟”

رومی نے ہنسی روکتے ہوئے منہ دوسری طرف کر لیا۔

افی اب واضح طور پر چڑ چکی تھی، مگر خاموش تھی۔

پری نے آہستہ سے میز پر پڑی کار کی چابی کو انگلی سے گھمایا، پھر اس کی طرف دیکھ کر بولی—

“پھر آرام سے بولی ۔۔۔ اوکے۔۔۔
پری کے بولنے کی دیر تھی وہ تینوں بھی پری کو دیکھنا شروع ہو گئی وہ لڑکی بھی۔۔”

اس بار اس کا لہجہ نرم نہیں تھا۔۔۔

ایک لمحے کے لیے فضا تھوڑی ٹھنڈی پڑ گئ۔۔۔۔

وہ لڑکی چند سیکنڈ اسے گھورتی رہی۔۔۔۔
سوچ رہی ہو یہ اتنی جلدی مان کیسے گئی۔۔۔

اسے ٹائم ویٹر پاس ایا اور بولا جی میم۔۔۔

پھر اس نے ہلکا سا اسمایل دیا اور کارڈ سیدھا ویٹر کی طرف بڑھا دیا۔
پیمنٹ کر دو۔”“اُوہم… میم…” اس نے ہلکی سی الجھن کے ساتھ کہا۔

میم کس کا پیمنٹ کرنا ہے۔۔۔اس لڑکی نے فورا ان کی طرف اشارہ کیا ہے ان کا پیمنٹ کرنا ہے اور کس کا کرنا ہے تھوڑا غصے سے بولی وہ۔۔
اور میم ان کا تو پیمنٹ کپ کا ہو چکا ہے۔۔۔
سب کی نظریں فوراً اس کی طرف گئیں۔

“جی؟” لڑکی نے اٹیٹیوڈ کے ساتھ بھنویں چڑھائیں۔۔

ویٹر نے ایک نظر بل پر ڈالی، پھر ان سب کو دیکھا اور بولا—
“میم…ان تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اپ لوگوں کا پہلے سے ہی بل پیمنٹ ہو چکا ہے ۔۔۔یہ تو انہوں نے مانگا تو میں نے جسٹ رسید دی تھی۔۔
“کیا مطلب؟” افی فوراً بولی۔
یہ لفظ ایک ساتھ تینوں کے منہ سے نکلا۔
“میم، ان کا بل تو پہلے ہی کلیئر ہو چکا ہے…” ویٹر نے سکون سے کہا، “کھانا تو بعد میں ان کی ٹیبل پر سرو ہوا تھا۔”

ایک لمحے کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔

ہنی نے آنکھیں پھیلائیں، “رکو… ہم نے تو ابھی تک سوچا بھی نہیں تھا کون دے گا، اور کسی نے پہلے ہی دے دیا؟!”

رومی نے فوراً اپنا بیگ بند کیا، “تو میں نے یہ آٹھ ہزار فضول میں نکالے تھے؟! 😭”

افی حیران ہو کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی، “یہ کس نے کیا…؟”

پری…؟
وہ اب بھی ویسے ہی پرسکون بیٹھی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ بالکل چیئر کے ساتھ ریلیکس ہو کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔

ادھر وہ لڑکی… جس کا کارڈ ابھی تک ہوا میں ہی تھا… بالکل ساکت کھڑی رہ گئی۔

اس کے چہرے کا اٹیٹیوڈ پہلی بار تھوڑا سا ہلکا پڑا۔
۔ہنی نے فوراً افی کے کان میں سرگوشی کی،
“او ہو… لگتا ہے کسی کا سیکرٹ فین ہے 😏”

رومی نے ہنسی دبائی، “یا پھر کسی کا ہیڈنگ اے ٹی ایم 😆”

افی اب بھی کنفیوز تھی، مگر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی تھی۔

اور پری…
اس نے آرام سے کرسی سے ٹیک لگائی، نظریں اس لڑکی پر ڈالیں اور ہلکا سا مسکرائی—

“کہا تھا نا… ہمیں ضرورت نہیں ہے۔”

وہ لڑکی چند لمحے اسے گھورتی رہی… پھر بغیر کچھ کہے اپنا کارڈ واپس ہاتھ میں لے لیا اور مڑی… اور واپس چلی گئی۔

اس کے جاتے ہی تینوں کی ہنسی پھوٹ پڑی۔

“یار…یار اس کے ساتھ تو موئے موئے ہو گیا۔۔ یہ تو بیچاری کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔۔ 😂” ہنی نے کہا۔
اس نے کہا ہی ایسے انداز کہ تینوں ہنس پڑی جبکہ پری نے دوسری طرف منہ کر لیا۔۔۔

“اور ہم یہاں فری میں ٹینشن لے رہے تھے!” رومی نے کہا ۔۔

افی نے سر ہلایا، “بس ایک سوال ہے… آخر بل کس نے دیا۔۔

تینوں کی نظریں ایک ساتھ پری کی طرف گئیں۔

پری نے بس ہلکا سا اسمایل دیا 😌”۔۔۔۔

نقاب ہونے کی وجہ سے پری کے تاثرات پتہ نہیں چل رہے تھے ۔۔۔۔

 

افی پری کو گھور رہی تھی جس پر پری نے اسے دیکھتے ہوئے بھنویں اُچکائیں۔

“وکیل صاحبہ؟ مرنا چاہتی ہو کیا؟؟؟

پری کے انداز میں ہلکی سی وارننگ تھی جس پر وہ فوراً چونک گئی۔۔
گھبراہٹ میں اس نے فوراً اپنی نظریں دوسری طرف موڑ لیں جبکہ باقی دونوں بمشکل اپنی ہنسی روک رہی تھیں۔

اچانک ہنی نے جیسے کوئی بہت بڑی دریافت کر لی ہو، ایک دم سے کہا،
“ویسے ایک بات ہے…”

اس کی بات پر تینوں کی نظریں فوراً اس کی طرف اٹھیں۔

“ہم لوگ آن لائن بھی تو پیمنٹ کر سکتے تھے۔”

چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی… پھر اگلے ہی لمحے تینوں نے اسے ایسے گھورا جیسے ابھی وہیں وہی اس کا قیمہ بنا دیں گی۔۔۔

“یہ بات تم نے پہلے کیوں نہیں بتائی؟!” رومی فوراً بولی۔
ہنی نے معصوم سا منہ بنایا۔
“ابھی دماغ میں آئی تو پہلے کیسے بتاتی؟”

اس کے جواب پر چاروں کے چہروں پر بےاختیار مسکراہٹ پھیل گئی اور اگلے ہی لمحے سب ہنس پڑیں۔

“اچھا چلو… اسی بہانے سامنے والے مال میں شاپنگ کرنے چلتے ہیں۔ کافی ٹائم ہو گیا ہے۔”

ہنی نے پرجوش انداز میں کہا جس پر سب نے فوراً ہامی بھر لی۔

چند ہی دیر بعد چاروں ریسٹورنٹ سے باہر نکل کر سامنے موجود بڑے سے مال کی طرف بڑھ رہی تھیں۔۔۔۔ مال کے شیشے دور سے ہی چمکتے دکھائی دے رہے تھے۔

وہ ابھی مال کے اندر داخل ہی ہوئی تھیں کہ پری کا فون بج اٹھا۔ اس نے اسکرین پر نظر ڈالی اور پھر باقیوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی،
“تم لوگ جاؤ، مجھے ایک کال لینی ہے۔”

تینوں نے سر ہلایا اور آگے بڑھ گئیں جبکہ پری ایک سائیڈ کی طرف چلی گئی۔

ادھر ،ہنی رومی اور افی ہنستے باتیں کرتے ہوئے سیدھا ایک خوبصورت ڈریس شاپ کے اندر داخل ہو گئیں جہاں رنگ برنگے ڈریسز شوکیس میں سجے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔

موبائل کان سے لگائے ایک سائیڈ پر جا کر بیٹھ گئی جب ہنی ، افی اور رومی آگے بڑھ گئیں ۔

مجھے ریسٹ روم جانا ہے، تم لوگ ادھر ہی رہنا۔ رومی نے کہتے ہوئے دوسری طرف قدم بڑھا دیے۔

جلدی آنا! افی نے پیچھے سے آواز دی جس پر رومی ہاتھ ہلا کر آگے بڑھ گئی۔


اب صرف ہنی اور افی مختلف دکانوں میں کپڑے دیکھ رہی تھیں۔ کبھی کوئی ڈریس اٹھاتیں، کبھی ایک دوسرے کو دکھاتیں، تو کبھی کسی چیز پر ہلکا سا مذاق کر لیتیں۔

اسی دوران ایک شاپ کے کونے میں کھڑی ایک لڑکی پر ہنی کی نظر پڑی۔ وہ بظاہر کپڑے دیکھ رہی تھی مگر اس کے چہرے پر عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ اس کے ہاتھ تو کپڑوں کی طرف بڑھتے مگر نظریں بار بار پیچھے کی جانب جا رہی تھیں جیسے وہ کسی سے خوفزدہ ہو۔

ہنی نے چند لمحے اسے غور سے دیکھا مگر پھر سوچا شاید کسی اپنے کا انتظار کر رہی ہوگی، اس لیے اس نے بات اگنور کر دی۔

مگر جب وہ دونوں اگلی شاپ میں گئیں تو وہی لڑکی پھر انہیں وہیں دکھائی دی۔ اس بار بھی وہ بار بار پیچھے دیکھ رہی تھی۔

ہنی کی بھنویں ہلکی سی سکڑیں۔

“کچھ عجیب نہیں لگ رہی؟” اس نے آہستہ سے افی سے کہا۔

افی نے بھی ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا مگر کندھے اچکا دیے۔

ساتھ وہ لڑکی بار بار فون بھی دیکھ رہی تھی جیسے کسی کو کال کر رہی ہو۔۔۔ وہ آہستہ سے اس لڑکی کے قریب گئی اور نرم لہجے میں بولی،

“کوئی مسئلہ ہے کیا؟”

لڑکی نے گھبرائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا پھر بنا کچھ کہے آنکھوں کے اشارے سے پیچھے کی طرف اشارہ کیا۔

ہنی نے پلٹ کر دیکھا۔ تھوڑے فاصلے پر دو لڑکے کھڑے تھے جو مسلسل انہی شاپس کے آس پاس گھوم رہے تھے۔ ان کی نظریں واضح طور پر اسی لڑکی پر تھیں۔

ہنی نے سب کچھ ایک ہی لمحے میں سمجھ لیا۔

“ریلیکس… ہم ہیں نا۔” اس نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

اتنے میں افی بھی قریب آ گئی۔ “کیا ہوا؟”

ہانی نے مختصر سا بتایا جس پر افی کے چہرے کا رنگ بھی بدل گیا۔

“اوہ…” وہ بس اتنا ہی بولی۔

وہ لڑکی اب بھی واضح طور پر ڈری ہوئی تھی۔ ہنی نے اسے اپنے ساتھ رکھا اور آرام سے شاپ سے باہر نکلی۔ افی بھی ان کے ساتھ تھی۔

جیسے ہی وہ تھوڑا آگے بڑھیں، وہ دونوں لڑکے بھی ان کے پیچھے آ گئے۔

اگلے ہی لمحے ان میں سے ایک لڑکا اس لڑکی کے قریب آیا جیسے اس کا ہاتھ پکڑنے والا ہو، مگر اس سے پہلے ہی ہنی نے فوراً اس لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا اور خود اس کے آگے آ گئی۔

لڑکے کا ہاتھ ہوا میں ہی رک گیا۔

ہنی نے بجلی کی سی تیزی سے اس کی کلائی پکڑ لی۔

دونوں لڑکے ایک دم گھبرا گئے۔

“ہاں بھائی؟” ہنی نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوئے کہا، “کیوں پیچھا کر رہے تھے لڑکی کا؟ شرم نہیں آتی؟ پبلک پلیس میں ایسی حرکتیں کرتے ہوئے؟ اپنے گھر میں ماں بہن نہیں ہیں؟”

“تم کون ہو بیچ میں بولنے والی؟” دوسرا لڑکا فوراً بدتمیزی سے بولا، “یہ ہماری جاننے والی ہے، ہماری فرینڈ ہے۔ وہ بس ہم سے ناراض تھی۔۔ ہمیں بس بات کرنی تھی۔۔، تمہارا کیا مسئلہ ہے؟”

ہانی ایک لمحے کو رکی پھر فوراً اس لڑکی کی طرف مڑی۔

“تم جانتی ہو انہیں؟”

لڑکی گھبراہٹ میں کچھ بول نہ سکی۔۔۔۔ہنی نے پھر سے پوچھا کیا تم انہیں جانتے ہو جس پر وہ نہ میں سر ہلاتی ہے۔۔۔۔

“سچ بتاؤ، کون ہیں یہ؟”
میرے دوست نہیں ہیں وہ میرا پیچھا کرتے ہیں…” وہ دھیمی آواز میں بولی۔

بس اتنا سننا تھا کہ ہانی کی نظروں کی سختی مزید بڑھ گئی۔

“تم ادھر ہی رہو۔” اس نے لڑکی کو افی کے پاس کھڑا کیا اور خود ان دونوں لڑکوں کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

دونوں اب بھی اسے گھور رہے تھے جیسے سمجھ نہیں پا رہے ہوں کہ وہ آخر کرے گی کیا۔

ہنی کوشش کر رہی تھی کہ بات زیادہ نہ بڑھے مگر ان دونوں کے چہروں پر موجود ڈھیٹ پن اسے مزید غصہ دلا رہا تھا۔۔۔

“چلو یہاں سے، سین مت بناؤ۔” افی نے آہستہ سے کہا۔

“کیوں؟” ہنی نے نظریں انہی لڑکوں پر رکھتے ہوئے کہا، “پتا تو چلے آخر مسئلہ کیا ہے۔”

وہ دونوں لڑکوں کے عین سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔

اسی دوران ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر ہانی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بدتمیزی سے بولا،۔۔تم بیچ میں مت پڑھو ہمیں جسٹ اس سے بات کرنی ہے وہ ہماری دوست ہے۔۔۔

“سائیڈ پہ ہو، ہمیں تم سے بات نہیں کرنی۔”

اگلے ہی لمحے ہنی نے اس کا ہاتھ جھٹکے سے پکڑا اور اتنی تیزی سے موڑا کہ وہ درد سے تڑپ اٹھا۔

“آہ! چھوڑو میرا ہاتھ!”

ہنی نے اس کی کلائی موڑتے ہوئے اسے پیچھے کی طرف دھکیلا اس کے ہاتھ کو کمر کے ساتھ پیچھے کی طرف جوڑ دیا۔۔اور سخت لہجے میں بولی،

“ایک تو لڑکی کو چھیڑو، اوپر سے بدتمیزی بھی کرو گے؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی؟”

آس پاس سے گزرتے لوگ اب رک کر دیکھنے لگے تھے۔

“تمہارے ہاتھ توڑ کے رکھ دوں گی!” ہنی کی آواز غصے سے بھری ہوئی تھی۔

 

“سیکیورٹی کو بلاؤ۔” ہنی نے غصے سے کہا، اس کی نظریں اب بھی ان دونوں لڑکوں پر جمی ہوئی تھیں، “ذرا ان کی ہیرو گیری نکالتی ہوں۔ شرم نہیں آتی لڑکیوں کو تنگ کرتے ہوئے؟”

اس کی آواز اتنی سخت تھی کہ دونوں لڑکے واقعی گھبرا گئے۔ ایک نے فوراً اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر ہانی نے اس کی کلائی ابھی تک مضبوطی سے پکڑی ہوئی تھی۔

اسی دوران رومی بھی واپس آ گئی۔ سامنے جمع رش، ہنی کے غصے بھرے انداز اور دونوں لڑکوں کو دیکھ کر وہ ایک لمحے کو چونک گئی۔

“یہ… کیا ہو رہا ہے؟” اس نے دھیرے سے افی سے پوچھا۔

افی نے صرف آنکھوں کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کو کہا، جیسے بتا رہی ہو کہ بعد میں سمجھائے گی۔

رومی بھی اب سائیڈ پر کھڑی سارا منظر دیکھنے لگی۔

چند لمحوں بعد دو سیکیورٹی گارڈ جلدی جلدی وہاں پہنچے۔

“میم، کیا مسئلہ ہے؟” ان میں سے ایک نے پوچھا۔

ہنی نے فوراً ان دونوں لڑکوں کو ان کے حوالے کیا۔

“یہ دونوں کافی دیر سے اس لڑکی کا پیچھا کر رہے تھے، اسے ہراساں کر رہے تھے اور ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی ہے۔”

سیکیورٹی گارڈز کے چہروں کے تاثرات فوراً بدل گئے۔ انہوں نے سختی سے ان دونوں لڑکوں کو پکڑا اور ایک سائیڈ پر لے جا کر بات کرنے لگے جبکہ وہ دونوں اب صفائیاں دینے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔

وہ لڑکی اب بھی خوفزدہ سی کھڑی تھی۔ اگلے ہی لمحے وہ جلدی سے ہنی کے قریب آئی اور دھیمی آواز میں بولی،

“پلیز… بات جانے دیں۔ بس ہو گیا، اتنا کافی ہے…”

ہنی نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“کیوں جانے دیں؟” اس کے لہجے میں اب بھی سختی تھی، “آج تمہیں تنگ کر رہے تھے، کل کسی اور لڑکی کو کریں گے۔ پھر کون بولے گا؟”

وہ ایک قدم آگے بڑھی اور مضبوط لہجے میں بولی،

“آج انہیں سبق سکھائیں گے تو کل یہ کسی لڑکی کو کمزور سمجھنے سے پہلے دس بار سوچیں گے۔ اگر آج چھوڑ دیا نا… تو یہ ہمیشہ یہی کرتے رہیں گے۔”

اس کی بات سنتے ہی آس پاس کھڑے کئی لوگ اثبات میں سر ہلانے لگے۔ کچھ عورتیں خاص طور پر ہانی کو دیکھ رہی تھیں، ان کی نظروں میں تعریف واضح تھی۔

“ایسی ہی ہمت ہونی چاہیے ہر لڑکی میں…” ایک درمیانی عمر کی عورت نے دھیرے سے کہا جسے قریب کھڑی دوسری عورت نے فوراً سپورٹ کیا۔

رومی تو اب ہنی کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پہلی بار اس کا یہ روپ دیکھا ہو جبکہ افی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔

آخرکار ہنی نے ان دونوں لڑکوں کو مکمل طور پر سیکیورٹی کے حوالے کیا اور پھر اس لڑکی کی طرف مڑی۔

“اب تم ٹھیک ہو؟”

لڑکی نے ہلکا سا سر ہلایا۔

“تم اکیلی یہاں کر کیا رہی ہو؟” افی نے نرمی سے پوچھا۔

“میں… اپنی فرینڈ کے ساتھ آئی تھی، لیکن وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر کہیں چلی گئی۔” اس نے ہلکی سی اداسی سے کہا، “اب مجھے جانا ہوگا۔”

“اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہم تمہیں ڈراپ کر دیتے ہیں۔” ہنی نے فوراً کہا۔

“نہیں نہیں، میں خود چلی جاؤں گی۔” وہ جلدی سے بولی، شاید اب مزید کسی پریشانی میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔

کچھ لمحوں بعد وہ بار بار شکریہ ادا کرتی وہاں سے چلی گئی۔

ہنی نے ایک گہرا سانس لیا، پھر اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے ایسے انداز میں پلٹی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

“چلو اب… شاپنگ کرتے ہیں۔”

“بس؟” رومی نے آنکھیں پھاڑ کر کہا، “تم نے ابھی پورا ایکشن سین کیا ہے!”

افی ہنس پڑی جبکہ ہانی نے بے نیازی سے کندھے اچکائے،

“اور کیا کرتی؟ کبھی کبھی لوگوں کو زبان سے نہیں، طریقے سے سمجھانا پڑتا ہے۔”

یہ کہہ کر وہ تینوں دوبارہ دکانوں کی طرف بڑھ گئیں، مگر اب رومی اور افی کی نظریں بار بار ہنی پر جا رہی تھیں… جیسے آج انہوں نے اس کا ایک نیا روپ دیکھا ہو۔
جبکہ انہیں نہیں پتہ تھا انجانے میں انہوں نے کیا کر دیا ہے۔۔۔

پری فون ہاتھ میں لیے مال کے ایک کونے میں بنی سیٹنگ ایریا پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اردگرد لوگوں کی آوازیں، ہلکی میوزک کی دھن اور شاپنگ بیگز اٹھائے گزرتے لوگ ماحول کو مصروف بنائے ہوئے تھے۔

جیسے ہی اس نے کال اٹینڈ کی، اگلے ہی لمحے فون کے دوسری طرف سے اتنی اونچی آواز آئی کہ پری نے فوراً موبائل کان سے تھوڑا دور کر لیا۔

“میڈم! صبح سے میں تمہیں کال کر رہی ہوں! نہ کسی میسج کا جواب، نہ کال بیک! آخر کہاں غائب ہو؟”

پری نے چند سیکنڈ فون کو حیرانی سے دیکھا پھر دوبارہ کان سے لگاتے ہوئے بولی،

“یا اللہ… تمہاری آواز ہے یا سائرن؟ بندہ بہرا ہو جائے۔”

اگلی طرف سے فوراً خفگی بھری آواز آئی،

“مذاق مت کرو، پہلے جواب دو!”

پری نے تھکے ہوئے انداز میں سر کرسی کے ساتھ ٹکایا۔

“بزی تھی، اس لیے نہیں کر سکی۔ اب بتاؤ کیا ہوا؟”

“اور کچھ نہیں… بس بات کرنی تھی۔”

پری نے ہلکی سی آنکھیں گھمائیں۔

“پہلے تم یہ بتاؤ کہاں ہو اس وقت؟”

“مال میں ہوں۔” پری نے سکون سے جواب دیا۔

“مال میں؟!” دوسری طرف سے فوراً حیرانی بھری آواز آئی، “مال میں کیا کر رہی ہو؟”

پری نے بےزاری سے کہا،

“مال میں لوگ کیا کرنے جاتے ہیں؟ شاپنگ ہی کرنے آئی ہوں۔”

چند سیکنڈ کے لیے دوسری طرف خاموشی چھا گئی، پھر اگلے ہی لمحے ڈرامائی انداز میں آواز آئی،

“تم… اور شاپنگ؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟”

میں نہیں کر رہی۔ افی، رومی اور ہنی کر رہی ہیں۔”
وہ اس بار واقعی حیرانی تھی، “وہ پاکستان آ گئی؟”

“ہاں، ابھی کچھ دن پہلے ہی واپس آئی ہے۔”

“واہ بھئی… اکیلے اکیلے شاپنگ ہو رہی ہے اور مجھے کسی نے پوچھا تک نہیں!”


“تو تم آ جاؤ۔”

“نہیں، ابھی ٹائم نہیں ہے…” پھر اچانک اس کا لہجہ بدلا، “لیکن تمہارے لیے ایک کام ہے۔”

پری نے مشکوک انداز میں آنکھیں سکیڑیں۔

“کیا کام؟” ابھی نہیں صبح اؤں گی ۔۔۔تمہاری خاص دوستوں سے بھی ملنا ہے بہت سنا ہے میں نے۔ ساتھ میں بات بھی ہو جائے گی تم سے ملنا بھی ہو جائے گا تم تو اتنی بزی ہو کہ تم ملتی ہی نہیں ۔
اوکے ۔۔۔۔
ساتھ ہی پری نے فون بند کر دیا۔۔

زرنش ابھی کچھ کہتی کہ ٹو ٹو کی اواز ائی کال کٹ ہو گئی۔۔۔
یہ لڑکی بھی نہ پوری بات نہیں سنتی اور فون کاٹ دیتی ہے بھائی جیسی عادت ہے اس کی۔۔۔
صبح جا کے بات کریں گے ابھی بھوک لگی ہے اپنے پیٹ پر ہاتھ مارتے ہوئے چلو کچھ کھاتے ہیں۔۔


کال بند کرنے کے بعد پری نے فون اپنی گود میں رکھا اور شاپنگ مال کے اندر ایک نظر دوڑائی۔ وہ تینوں ابھی تک کہیں نظر نہیں آ رہی تھیں۔ ہلکا سا سانس بھر کر اس نے فوراً انہیں میسج کیا۔

“تم لوگ کہاں ہو؟ میں باہر گاڑی میں بیٹھی ہوں، جلدی آ جاؤ۔”

میسج سینڈ کرتے ہی وہ مال سے باہر نکل آئی۔ دن چھوٹا ہو کی وجہ سے اب شام ہو چکی تھی ۔۔ مال کی روشنیاں اردگرد ایک الگ ہی چمک پیدا کر رہی تھیں جبکہ پارکنگ ایریا میں گاڑیوں کی آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں۔ پری جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اور انتظار کرنے لگی۔

تقریباً پانچ منٹ کا بول کر ا ایک گھنٹے لگا کر وہ ائی تھی۔۔
ہنی، رومی اور افی باہر آتی دکھائی دیں۔ تینوں کے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز تھے اور چہروں پر عجیب سی تسلی تھی، جیسے وہ پہلے ہی جانتی ہوں کہ پری انہیں دیکھ کر کیا بولنے والی ہے۔

انہیں دیکھتے ہی پری نے بھنویں اٹھاتے ہوئے کہا، “تم لوگوں کو تو بس موقع چاہیے شاپنگ کرنے کا، فوراً چیزیں خرید لیتی ہو۔”

جس پر ہنی ہنسی دباتے ہوئے بولی، “ارے اتنی بھی نہیں لی۔”

“ہاں، یہ بیگز تو شاید ہوا سے بھرے ہوئے ہیں۔” پری نے طنزیہ انداز میں کہا تو رومی اور افی ہنس پڑیں۔

باتوں اور ہلکی ہنسی کے درمیان سب گاڑی میں بیٹھ گئیں۔ پھر پری نے گاڑی اسٹارٹ کی اور وہ سب رات کی روشن سڑکوں کے درمیان گھر کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔۔

گاڑی میں بیٹھنے کے بعد افی نے اپنے ہاتھوں میں موجود شاپنگ بیگز سنبھالتے ہوئے کہا،
“ہم لڑکیاں ہیں تو شاپنگ نہیں کریں گی تو اور کیا کریں گی؟ اب تمہیں شاپنگ کا شوق نہیں ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور؟”

اس کی بات سنتے ہی رومی اور ہنی ہنسی روکنے لگیں جبکہ پری نے ایک لمحے کے لیے اسے خاموش نظروں سے دیکھا۔

مگر اگلے ہی لمحے اس نے بغیر کوئی جواب نہیں دیا اپنا دھیان ڈرائیونگ کی طرف کر لیا۔۔۔

گاڑی کے اندر ہلکی سی خاموشی چھا گئی جبکہ باہر شہر کی روشنیاں

تیزی سے ان کے ساتھ ساتھ پیچھے ہٹ رہی تھیں۔ افی نے ایک نظر پری پر ڈالی اور پھر ہنی کی طرف دیکھ کر انکھوں کے اشارے سے پوچھا کیا
پری کو بتایا جائے ۔۔۔جس ہنی انکھوں کے شر سے نہیں بولتی ہے اور ہاتھ جوڑ کر پلیز بولتی ہے۔۔۔۔۔


جس پر پری انہیں دیکھ کر کہتی ہے کوئی مسئلہ ہے جس پر افی فورا کہتی نہیں تو اور اگے دیکھنا شروع ہو جاتی ہے۔۔
رومی ہنی کو سرگوشی میں بولتی ہے ۔۔پر اس کی سرگوشی اتنی اونچی ہوتی ہے کہ پری تک اس کی آواز چلی جاتی ہے۔۔


“بس اب خاموش رہو،۔۔۔ ورنہ یہ ہمیں آدھے راستے میں ہی اتار دے گی۔”

اس کی بات پر سب ہنس پڑیں جبکہ پری نے بےاختیار سر ہلاتے ہوئے گاڑی کی رفتار تھوڑی بڑھا دی۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچتے پہنچتے پری کے سر میں ہلکا سا درد ہونے لگا تھا۔ شاید مسلسل شور، مال کی بھیڑ اور پھر ان سب کی نہ ختم ہونے والی باتوں نے اسے تھکا دیا تھا۔
بیڑ والی جگہ پسند نہیں تھی۔۔۔ گاڑی رکتے ہی وہ بغیر کچھ کہے اپنے اندر آئی اور سیدھا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

جبکہ باقی تینوں ہال میں آ کر بیٹھ گئیں۔

اتنے میں ماہی وہاں آتی ہے تو ہنی فوراً خوشی سے چیختی ہوئی اس کی طرف بڑھی، “اوہ ماہی! تم میری پیاری دوست، کیسی ہو؟”

کہتے ہوئے وہ اسے گلے لگا لیتی ہے۔ کافی وقت بعد ان کی ملاقات ہوئی تھی، اسی لیے چند لمحوں میں ہی ہنسی مذاق اور باتوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ شاپنگ کی تھکن بھی سب بھول چکی تھیں۔

کچھ دیر بعد سحرش۔عائشہ اور نور بھی وہاں آ گئیں اور پھر سب ایک ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں۔ ہال میں مسلسل قہقہوں اور آوازوں کی گونج پھیلی ہوئی تھی۔

نور آخرکار اٹھتے ہوئے بولی، “تم لوگ بیٹھو، میں سب کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں۔”

جس پر سب نے فوراً ہاں میں سر ہلا دیا۔

نور نے دیوار کے ساتھ لگا انٹرکام اٹھایا، جو اوپر نیچے کمروں میں بات کرنے کے لیے تھا، اور پری کے روم میں کال کی۔

“پری، چائے پیو گی؟”

چند سیکنڈ بعد پری کی ہلکی سی تھکی ہوئی آواز سنائی دی، “ہاں… ایک کپ لے آنا۔”

“اوکے۔”

نور مسکراتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئی جبکہ باقی سب دوبارہ اپنی باتوں میں لگ گئیں۔

کچھ دیر بعد افی بھی صوفے سے اٹھتے ہوئے بولی، “میں چینج کرنے جا رہی ہوں، بہت تھک گئی ہوں۔”

یہ کہہ کر وہ بھی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ نیچے ہال میں اب بھی باتوں اور ہنسی کا سلسلہ جاری تھا۔۔۔۔۔۔

———————————————

زرنش کھانے کے لیے سیڑھیاں اترتے ہوئے نیچے آ رہی تھی۔ ابھی وہ آخری دو سیڑھیاں ہی اتری تھی کہ اس کی نظر ڈرائنگ روم کے صوفے پر نیم لیٹے ہوئے ذیشان پر پڑی، جو پوری دنیا سے بے خبر موبائل میں ایسا گھسا ہوا تھا جیسے آج ہی اسے کوئی خفیہ مشن ملا ہو۔

زرنش کے ہونٹوں پر شرارتی مسکراہٹ آئی۔ وہ دبے پاؤں اس کے پیچھے گئی اور ایک ہی جھٹکے میں اس کے ہاتھ سے فون چھین لیا۔

“اووو ہو! ذرا دیکھوں تو صحیح جناب آج کل کس دنیا میں مصروف ہیں؟”

ذیشان ایسے اچھلا جیسے اس کا دل فون کے ساتھ ہی نکل گیا ہو۔
“دی! میرا فون دیں!”

زرنش نے فون اوپر کرتے ہوئے آنکھیں سکیڑیں۔
“ہاں ہاں، ابھی دیتی ہوں… پہلے یہ تو دیکھوں، کون سی لڑکیوں والی کانفرنس چل رہی ہے؟”

“دی ایسا کچھ نہیں ہے!” ذیشان فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

“اچھااا؟” زرنش نے مشکوک انداز میں سر ہلایا، “تو پھر کلاس لگاؤں تمہاری؟ آج کل بڑے لڑکیوں کے چکر چل رہے ہیں تمہارے۔”

ذیشان نے فوراً سینہ چوڑا کیا۔
“ہاں ہاں لگا لیں! میں کون سا ڈرتا ہوں کسی سے!”

اسی دوران زرنش نے جان بوجھ کر سائیڈ پر دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔
سیڑھیوں سے عرشمان اتر رہا تھا۔

زرنش نے فوراً موقع پکڑا۔
“اچھااا؟ کسی سے نہیں ڈرتے؟”

ذیشان اسٹائل مار کر صوفے پر پھیل گیا، گود میں کشن رکھا اور بڑے ہی ہیرو والے انداز میں بولا،
“بالکل نہیں!”

“کسی بھائی سے بھی نہیں؟”

“نہیں!”

“۔عرشیان سے بھی نہیں؟”

“نہیں!” پھر ایک سیکنڈ رک کر بولا، “عرشیان بھائی سے تو سب ڈرتے ہیں… لیکن میں نہیں!”

زرنش نے ہنسی روکنے کے لیے ہونٹ دبائے۔
“اور عر شمان سے؟”

یہ سنتے ہی ذیشان نے فوراً گردن اکڑائی۔
“ان سے کون ڈرتا ہے؟ وہ تو باہر ہوں گے، انہیں کیا پتا میں کیا کر رہا ہوں—” وہ اپنی موج مستی میں ہوں گے جب ان ان پر کوئی نظر رکھنے والا بھی نہیں ہے کیا لائف ہے ان کی۔۔۔۔۔

وہ اپنی بہادری کے مزید قصے سنانے ہی والا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک بھاری آواز آئی۔

“کیا کہا تم نے؟ ؟”

ذیشان کا رنگ ایسے اڑا جیسے کسی نے وائی فائی بند کر دیا ہو۔
اگلے ہی لمحے عرشیان نے پیچھے سے آ کر اس کا کان پکڑ لیا تھا۔

“آآآ بھائی! بھائی چھوڑیں!” ذیشان فوراً سیدھا ہو گیا۔ “میں تو مذاق کر رہا تھا، یہ دی بس مجھے چڑھا رہی تھیں!”

زرنش فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک طرف کھڑی تھی۔

عرشیان نے آنکھیں تنگ کیں۔


عرشمان پیچھے سے ا کر اس کی گردن پکڑی۔۔
“اور میرے بارے میں کیا فرمایا ہے۔۔۔۔۔ذیشان نے پہلے حیرت سے بھائی کو دیکھا۔۔۔

“ بھائی، سچ میں!” ذیشان نے فوراً ہاتھ جوڑنے والے انداز میں کہا، “یہ دی ایسے ہی الزام لگا رہی تھیں۔”

پھر فوراً بات گھمانے کے لیے بولا،
“ویسے آپ کب آئے؟”

عرشمان نے اسے گھورا۔
“میں تو کب سے آیا ہوا ہوں، تم بتاؤ۔ اتنے دنوں سے گھر میں نظر نہیں آئے۔”

ذیشان نے ہلکی سی کھانسی کی۔
“وہ… دوستوں کے ساتھ ٹرپ پر گیا تھا۔”

“اچھااا؟” عرشمان نے بھنویں اٹھائیں، “تمہیں کچھ زیادہ ہی چھوٹ نہیں ملنے لگی؟ کافی باہر گھومنے لگے ہو آج کل۔”

ذیشان نے فوراً منہ بنایا۔آپ بھی تو پانچ سال سے باہر تھے۔۔
عرشمان نے اسے گورا جب کہ وہ آگے سے ہنستے ہوئے دانت دکھانے لگا۔۔۔۔۔۔۔
“بھائی، حد ہے! آپ بھی تو گئے تھے۔ پورے پانچ سال باہر رہے ہیں۔ آپ کو کس نے پوچھا تھا؟ آپ تو بس بتا کے چلے گئے تھے!”

کمرے میں دو سیکنڈ کے لیے خاموشی چھا گئی۔

عرشمان نے آہستہ سے اس کی طرف دیکھا۔

اور ذیشان نے فوراً اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
“چپ! اب میں کچھ نہیں بول رہا…”

زرنش کی ہنسی نکل گئی جبکہ عرشیان نے سر جھٹکتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔

اسی دوران سب ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔ دادی گل بانو اسی ٹائم روم سے باہر ائی ۔۔۔دادی نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا،
“تمہاری ماں کہاں ہے؟”

زرنش نے پلیٹ رکھتے ہوئے جواب دیا،
“وہ آج ڈیڈ کے ساتھ کسی ڈنر پر گئی ہیں۔”

دادی نے فوراً ناراضی سے منہ بنایا۔
“یہ آئے دن کے ڈنر بھی نا… گھر میں بچے موجود ہیں، کم از کم ایک وقت تو
سب کو ساتھ کھانا چاہیے۔”

چاروں بہن بھائی فوراً ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے، جیسے فیصلہ کر رہے ہوں کہ اب دادی کو کون سنبھالے گا۔

آخرکار عرشمان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ دادی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“ارے چھوڑیں دادی، آپ کا پوتا تو آپ کے ساتھ موجود ہے نا۔ چلیں، آج ہم سب اکٹھے ڈنر کرتے ہیں۔”

“ہاں، وہ تو ہے…” دادی ذرا نرم پڑ گئیں۔

عرشمان نے انہیں کرسی پر بٹھایا اور خود ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔

دادی نے پھر پوچھا،
“اور تمہاری چھوٹی بہن کہاں ہے؟”

زرنش نے سالن نکالتے ہوئے جواب دیا،
“دادی، وہ شاید اسٹڈی کر رہی ہوگی۔ بھوک لگے گی تو خود کھا لے گی۔”

“ہمم…” دادی نے سر ہلایا۔ذیشان کو مستی سوچی اس نے کہا ۔۔۔

ذیشان نے مسکراتے ہوئے، مگر انتہائی سنجیدہ لہجے میں کہا،

“دادی، مجھے لگتا ہے میں آپ کا پوتا نہیں ہوں۔ آپ کہیں مجھے باہر سے اٹھا کر لائی ہیں۔”

اس کی بات سنتے ہی تینوں بہن بھائی اس کی طرف دیکھنے لگے جبکہ دادی نے حیرت سے اسے گھورا۔

“ارے، کیا اُلٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو؟”

“تو اور کیا؟” ذیشان نے فوراً جواب دیا۔ “آپ ہر وقت عرشیان اور عرشمان بھائی کا ہی پوچھتی رہتی ہیں۔ کبھی میرا حال پوچھا ہے؟ مجھے تو پورا یقین ہے کہ آپ مجھے کہیں سے اٹھا کر لائی تھیں۔”

اس کی معصوم شکایت پر باقی سب نے نظریں جھکا لیں اور ہنسی دبانے لگے۔

تبھی زرنش نے موقع غنیمت جان کر سنجیدہ چہرہ بناتے ہوئے کہا،

“ہاں، بالکل ٹھیک کہا تم نے۔”پر تمہیں پتہ کیسے چلا۔۔

ذیشان نے فوراً چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

زرنش نے بمشکل اپنی ہنسی روکتے ہوئے مزید کہا،

“ہم سب تمہارے اصلی بہن بھائی نہیں ہیں۔ تمہیں کوئی ہمارے گھر کے گیٹ کے باہر چھوڑ گیا تھا۔ ہمیں تم پر ترس آ گیا تو ہم تمہیں اندر لے آئے۔”

“کیا؟!”

ذیشان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“میں نے کہا تھا نا!” وہ فوراً بول اٹھا۔ “مجھے پہلے ہی شک تھا۔ اسی لیے تم سب مجھے اگنور کرتے ہو۔ کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا۔ یہ ہوتا ہے ستیلاپن!”

وہ افسردہ سا منہ بنا کر بولا،

“اچھا یہ بتاؤ، میرے اصلی بہن بھائی کہاں ہیں؟ مجھے ان کے پاس جانا ہے۔ کم از کم وہ تو مجھ سے محبت کرتے ہوں گے۔”

اس کی بات سنتے ہی ہال میں زور دار قہقہہ گونج اٹھا جبکہ دادی نے ماتھے پر ہاتھ مار لیا۔

“یا اللہ! اس لڑکے کا کیا کریں؟”

ذیشان کو بھی اپنے جذباتی پن پر غصہ آیا ۔اسی کا مذاق اسی کے گلے پڑ گیا تھا۔۔۔۔

اور پھر اگلے ہی لمحے کھانے کی میز پر ہنسی مذاق، چھیڑ چھاڑ اور ذیشان کی بے عزتیوں کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو گیا۔۔۔۔۔۔


عرشمان اپنے روم کی طرف بڑھا رہا تھا۔۔
مگر اچانک اس کی نظر کھڑکی سے باہر گئی۔ لان میں اس کا بڑا بھائی عرشیان آہستہ آہستہ ٹہل رہا تھا۔ساتھ میں سرگٹ پی رہا تھا۔۔

پانچ سال بعد گھر لوٹنے کے باوجود اسے ابھی تک اپنے بھائی سے ڈھنگ سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔

یہ سوچتے ہی اس نے اپنے قدم موڑ لیے۔ وہ کمرے سے نکلا، سیڑھیاں اتر کر لان کی طرف آیا اور خاموشی سے عرشیان کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔

شاید قدموں کی آہٹ محسوس کرتے ہوئے عرشیان مڑا۔۔
چھوٹے بھائی کو سامنے دیکھ کر اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
آپ نے سرگٹ کپ سے پینا شروع کر دیا۔۔۔ اپنے بھائی کی بات سنتے ہوئے اس نے سرکٹ نیچے پھینکا اور اپنا پاؤں سے مسل دیا پھر۔۔

“سناؤ چھوٹے، کیسے ہو؟ اور کیسا رہا تمہارا پانچ سالہ لندن ٹور؟”

عرشیان بھی مسکرا دیا۔

“میرا تو ٹھیک رہا، اب آپ بتائیں؟ آپ کیسے ہیں؟”

“مجھے کیا ہونا ہے؟ میں تو بالکل ٹھیک ہوں۔”

عرشیان نے اسے غور سے دیکھا اور بےاختیار بول اٹھا،

“آپ کافی کمزور ہو گئے ہیں۔”

اس کی بات پر عر شیان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ ابھری۔ وہ جواب دیے بغیر مڑا اور قریب پڑے جھولے پر جا بیٹھا۔

“نہیں، ٹھیک تو ہوں۔ پہلے تم لوگ کہتے تھے موٹا ہو گیا ہوں، اب ذرا اسمارٹ کیا ہوا ہوں تو مسئلہ ہو رہا ہے۔”
کیا تم میرے سمارٹ ہونے سے جل رہے ہو۔۔۔

عرشمان ہنستا ہوا اس کے ساتھ جھولے پر بیٹھ گیا، مگر اس کی نظریں اب بھی اپنے بھائی کے چہرے پر جمی تھیں۔ پانچ سال پہلے والا عرشیان اور آج والا عرشیان… دونوں میں کہیں نہ کہیں واضح فرق تھا۔

اسی کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے عرشیان نے ایک نظر اس پر ڈالی ۔۔۔۔۔

عرشمان نے اپنے بڑے بھائی عرشیان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“کیا آپ اب بھی انہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔۔

اس کے سوال پر عرشیان چند لمحے خاموش رہا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکتے ہوئے بولا۔۔۔

“نہیں۔ جو لوگ خود چھوڑ کر چلے جائیں، انہیں کیا ڈھونڈنا۔”

اس کے بڑے بھائی نے اپنی پسند کی شادی کی تھی، حالانکہ ان کی ماں چاہتی تھیں کہ اس کی شادی اپنی بھانجی سے ہو۔ گھر میں اس بات پر کافی اختلاف ہوا تھا، مگر آخرکار اس کے بھائی نے اپنی ضد منوا لی اور اپنی پسند کی لڑکی سے نکاح کر لیا۔

مگر قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔

شادی کو ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ بھابھی اچانک گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ شروع میں سب نے یہی سمجھا کہ شاید ناراض ہو کر کہیں رشتہ داروں کے پاس گئی ہوگی، مگر دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں سے سال میں بدل گئے۔

اس کے بھائی نے اسے ڈھونڈنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جہاں جہاں جانے کا امکان تھا، وہاں وہاں تلاش کیا گیا۔ رشتہ داروں سے پوچھا گیا، دوستوں سے رابطہ کیا گیا، مگر اس کا کوئی سراغ نہ ملا۔

وقت گزرتا گیا، لیکن آج تک کسی کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کہاں گئی تھی اور کس حال میں تھی۔۔۔۔۔۔

اس واقعے نے نہ صرف اس کے بھائی کو توڑ کر رکھ دیا تھا بلکہ پورے گھر کا سکون بھی چھین لیا تھا۔ تب سے اس کے بھائی نے خود کو کام میں مصروف کر لیا تھا اور دوبارہ شادی کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔


عرشمان نے غور سے اپنے بھائی کو دیکھا، مگر مزید کچھ نہ کہا۔ عرشیان فوراً بات کا رخ موڑتے ہوئے بولا۔

“میری چھوڑو، تم یہ بتاؤ۔ مما کو تم سے بہت امیدیں وابستہ ہیں، خاص طور پر شادی کے معاملے میں۔ تمہارا کیا ارادہ ہے؟ کب کر رہے ہو شادی؟”

عرشمان نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔

“ابھی نہیں… بالکل بھی نہیں۔”

اس کے جواب پر عرشیان نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“مما تو تمہارے پیچھے پڑی ہوئی ہیں۔ وہ تمہاری شادی کروا کر ہی دم لیں گی۔ پانچ سال پہلے بھی تم کسی نہ کسی طرح شادی سے جان چھڑا کر بھاگ گئے تھے، لیکن اب میرے خیال میں تمہارے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔”

عرشمان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

“دیکھیں گے۔”

ابھی ان کی بات جاری ہی تھی کہ اچانک عرشیان کے فون کی رنگ بج اٹھی۔ اس نے موبائل نکال کر کال ریسیو کی۔

“ہاں… ٹھیک ہے، میں تمہیں بھیجتا ہوں۔”

مختصر سی بات کے بعد اس نے کال ختم کی اور عرشمان کی طرف دیکھا۔

“اوکے، کافی رات ہو گئی ہے۔ جا کر سو جاؤ۔”

عرشمان نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔”اوکے۔۔

“اوکے، ویسے بھی مجھے کچھ کام نمٹانا ہے۔”

عرشیان نے اثبات میں سر ہلایا، پھر اپنے چھوٹے بھائی
کے کندھے پر ہلکا سا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

“زیادہ دیر تک جاگنا مت، جا کر سو جاؤ۔”

“اوکے۔” عرشمان نے مختصر سا جواب دیا۔

اس کے بعد عرشیان ایک آخری نظر اپنے بھائی پر ڈال کر گھر کے اندر کی طرف بڑھ گیا، جبکہ عرشمان وہیں چند لمحے کھڑا رہا۔
بھائی کو جاتےہوئے دیکھتا رہا۔۔۔۔
عرشمان چند قدم چلنے کے بعد رکا۔ جیب سے اپنا فون نکال کر اس نے اسکرین پر ابھرا ہوا میسج دیکھا۔ اس کی نظریں چند لمحے میسج پر ٹکی رہیں، پھر اس نے مختصر سا جواب ٹائپ کیا۔

“اوکے، میں آ رہا ہوں۔ میٹنگ ارینج کرو۔”

میسج سینڈ کرتے ہی اس نے فون واپس جیب میں رکھا اور سنجیدہ تاثرات لیے گھر کے اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔


—————————————

 

کام کرتے ہوئے اسے پیاس کا احساس ہوا۔ اس نے کمرے میں نظریں دوڑائیں مگر وہاں پانی موجود نہیں تھا۔ آدھی رات گزر چکی تھی۔ اس نے موبائل اٹھا کر وقت دیکھا، گھڑی میں سوا دو بج رہے تھے۔

موبائل ایک طرف رکھ کر وہ پانی لینے کے لیے اٹھی۔ کمرے میں رکھا خالی جگ اٹھایا اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔ ابھی وہ چند قدم ہی چلی تھی کہ اسے کسی آہٹ کا احساس ہوا۔ وہ ٹھٹک گئی۔
چند لمحے رکنے کے بعد وہ سمجھ گئی کہ نیچے کوئی ہے اس نے نیچے جو کر دیکھا اسے ایک سایہ نظر ایا۔۔۔

وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سیڑھیوں کے قریب پہنچی اور اوپر کی بالکنی کی ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر نیچے جھانکا۔ ہال کی مدھم روشنی میں اسے کسی شخص کا سایہ سا دکھائی دیا۔ ساتھ ہی دھیمی دھیمی سرگوشیوں جیسی آوازیں بھی اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ نیچے کون موجود ہے، اس نے جان بوجھ کر اپنے قدموں کی آواز پیدا کی اور سیڑھیاں اترنے لگی۔ اس کے قدموں کی چاپ سن کر وہ سایہ فوراً سیڑھیوں کے نیچے بنی ہوئی جگہ میں چھپ گیا۔۔سیڑھیوں کے نیچے بھی ڈیزائننگ کی گئی تھی جہاں بیٹھنے کی جگہ تھی اور وہاں اکثر کوئی نہ کوئی بیٹھ کے کام کرتا ۔۔

وہ بظاہر بے خبر بنتے ہوئے سیڑھیاں اتر کر ہال سے گزری اور سیدھا کچن کی طرف بڑھ گئی۔ کچن میں داخل ہوتے ہی اس نے لائٹ آن کی پانی جگ میں انڈیلنے لگی، مگر اس کی تمام تر توجہ اب بھی سیڑھیوں کے نیچے چھپی اس نامعلوم موجودگی پر مرکوز تھی۔۔۔۔۔


پری نے سیڑھیوں کے نیچے چھپے ہوئے وجود کو پہچان لیا تھا۔ مدھم روشنی اور آواز سن کر اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ عائشہ تھی، جو کسی سے فون پر دھیمی آواز میں بات کر رہی تھی۔

مگر پری نے ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ سب کچھ جان چکی ہے۔ وہ سکون سے کچن سے پانی لے کر ڈائننگ ٹیبل کی ایک کرسی پر بیٹھ گئی اور آہستہ آہستہ پانی پینے لگی۔ بظاہر وہ بالکل نارمل دکھائی دے رہی تھی، لیکن اس کی نظریں بار بار سیڑھیوں کی سمت اٹھ جاتی تھیں۔ وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ عائشہ آخر کیا کرتی ہے۔

شدید سردی کے باوجود عائشہ کے ماتھے پر پسینے کی باریک بوندیں
نمودار ہو چکی تھیں۔ خوف نے اس کی حالت غیر کر رکھی تھی۔ اس کا دل بے تحاشا دھڑک رہا تھا اور ہاتھ بے اختیار کانپ رہے تھے۔

وہ خاموشی سے اپنی جگہ بیٹھی بار بار دعا کر رہی تھی کہ جو بھی ہو، کوئی اس طرف نہ آئے اور نہ ہی کسی کو اس کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔ وہ اس قدر خوفزدہ ہو چکی تھی۔۔۔۔


چند منٹ گزر گئے مگر عائشہ اپنی جگہ سے باہر نہ نکلی۔ شاید وہ یقین کرنا چاہتی تھی کہ پری واقعی اپنے کام سے آئی تھی اور اسے کچھ شک نہیں ہوا۔ پری نے بھی جان بوجھ کر کوئی جلدی نہیں دکھائی۔

آخرکار اس نے گلاس میز پر رکھا، جگ اٹھایا اور معمول کے مطابق سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ اوپر پہنچ کر وہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی، جگ اپنی جگہ رکھا اور دروازہ بند کر دیا۔

مگر اگلے ہی لمحے وہ خاموشی سے واپس باہر کی طرف آئی اور اوپر سے نیچے جھانکنے لگی۔

جیسے ہی عائشہ کو یقین ہوا کہ پری جا چکی ہے، وہ فوراً اپنی چھپی ہوئی جگہ سے نکلی۔ اس نے ایک نظر ادھر اُدھر دوڑائی اور تیزی سے چلتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ خوش قسمتی سے اس کا کمرہ سامنے ہی تھا، اس لیے چند لمحوں میں وہ اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر چکی تھی۔

وہ سوچ چکی تھی کہ آج کے بعد وہ رات کے ٹائم اس طرح سے بات نہیں کرے گی آج تو وہ بچ گئی تھی نیکسٹ ٹائم اگر پکڑی گئی نا تو پری بہت غصہ ہو گئی۔۔۔۔
پری یہ سب خاموشی سے دیکھتی رہی۔”اتنی رات گئے…
اور اتنی چھپ چھپ کر فون پر باتیں؟” اس نے سوچتے ہوئے بھنویں سکیڑ لیں۔

کچھ لمحے وہیں کھڑی رہنے کے بعد وہ واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس کے ذہن میں کئی سوال گردش کرنے لگے۔۔۔۔
عائشہ آخر کس سے بات کر رہی تھی؟ اور وہ اتنا چھپنے کی کوشش کیوں کر رہی تھی ۔۔۔


پری نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے سر جھٹکا۔

“ابھی اس بارے میں سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں،” اس نے خود سے کہا، “وقت آنے پر سب پتا چل جائے گا۔”

یہ سوچ کر وہ اٹھی اور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ وضو کرنے کے بعد واپس کمرے میں آئی اور سکون سے تہجد کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد اس کے دل کو کچھ اطمینان محسوس ہوا، مگر نیند اب بھی اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔

چنانچہ اس نے دوبارہ اپنا لیپ ٹاپ کھولا اور ادھورا کام مکمل کرنے بیٹھ گئی۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی، صرف لیپ ٹاپ کی ہلکی سی روشنی اور کی بورڈ پر چلتی اس کی انگلیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔

کام میں مگن پری کو احساس ہی نہ ہوا کہ رات کب ڈھل گئی۔ جب اس نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی تو صبح کے پانچ بج رہے تھے۔ اس نے اطمینان کا سانس لیا کیونکہ آخرکار اس کا کام مکمل ہو چکا تھا۔


پری نے لیپ ٹاپ بند کرنے کے بعد ایک نظر اپنے موبائل پر ڈالی۔ بیٹری کافی کم ہو چکی تھی، اس لیے اس نے موبائل چارجر سے لگا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔

مسلسل جاگنے کے باوجود اس کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ یہ اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی، کیونکہ اسے اکثر نیند آنے میں دشواری ہوتی تھی۔

اس نے دراز کھولی اور اپنی تجویز کردہ نیند کی دوا نکال لی۔ دوا لینے کے بعد اس نے پانی پیا، لائٹ بند کی اور کمبل اپنے اوپر کھینچ لیا۔

کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ کھڑکی کے پردوں سے صبح کی ہلکی سی روشنی اندر آنا شروع ہو چکی تھی۔

پری نے آنکھیں بند کر لیں اور خود کو آرام دینے کی کوشش کرنے لگی۔ مسلسل جاگنے، کام کی تھکن اور رات بھر کی مصروفیت نے آہستہ آہستہ اس کے جسم کو بوجھل کر دیا، اور کچھ ہی دیر بعد وہ گہری نیند میں چلی گئی۔۔۔۔۔

————————————-

 


مان فل بلیک ڈریس میں ملبوس اپارٹمنٹ کے وسیع ہال کے درمیان کھڑا ہاتھ میں چند کاغذات تھامے انہیں بغور دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر چھائی سنجیدگی صاف بتا رہی تھی کہ معاملہ معمولی نہیں تھا۔

سامنے صوفے پر مصطفیٰ اور مایا بیٹھے تھے۔ دونوں کے چہروں پر ہلکی سی پریشانی نمایاں تھی۔

“یہ سب کیا ہے؟” مان نے نظریں اٹھاتے ہوئے سخت لہجے میں پوچھا۔

مصطفیٰ نے گہرا سانس لیا۔

“سر، ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا۔”

یہ سنتے ہی مان کا ضبط جواب دے گیا۔ اس نے غصے میں ہاتھ میں پکڑے کاغذات ایک طرف پھینک دیے۔

“کیسے نہیں ملا ثبوت؟” اس کی آواز بلند ہوئی۔ “ہمارے پاس پورا وقت تھا!”

مصطفیٰ نے نظریں جھکا لیں۔

“سر ہم سے بھی پہلے کوئی وہاں پہنچ گیا تھا۔ جو بھی ثبوت موجود تھے، وہ سب لے کر جا چکا تھا۔”

ہال میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
مان نے غصے سے کہا پھر سے کوئی یہ ہے کون۔۔۔۔


اور اس دن کا کیا جس نے اس دن ہماری مدد کی تھی اس کے بارے میں کچھ پتہ چلا۔۔۔
جس پر مصطفی اور مایا کہتے ہیں ہمیں اس کے بارے میں ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا کوئی سراغ نہیں ملا۔۔
مان کی غصے سے ماتھے کی نفس واضح ہو گئی اس نے غصے سے کہا تو پتہ لگاؤ کون ہے وہ جو ہمارے کام میں رکاوٹ بن رہا ہے۔۔۔

تبھی مایا نے ہچکچاتے ہوئے مصطفیٰ کی طرف دیکھا اور پھر دھیمی آواز میں بولی،

“سر… ایک اور بات بھی ہے۔”

مان کی نظریں فوراً اس پر جم گئیں۔

“کیا بات ہے؟”

“آپ کا ایک دوست مشکل میں ہے۔”

مان نے بھنویں سکیڑ لیں۔

“کون سا دوست؟؟

اس بار مصطفیٰ نے جواب دیا۔

ارحم ۔۔۔

کراچی میں ان کے مال میں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔ اطلاعات ملی ہیں کہ وہ اس وقت کراچی میں ہے اور کافی امکان ہے کہ اسے کسی سازش میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
اور دوسری طرف شاید اپ کی وائف بھی خطرے میں ہے۔۔
یہ سنتے ہی مان کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔
مان مصطفی کو گورتے ہوئے دیکھا۔۔۔
ایک ہی بات ایک ہی بارک میں کیوں نہیں بتا رہے جس پر وہ تھوڑا سا گھبراتے ہوئے کہ آپ کی وائف کے بھی پیچھے کچھ لوگ لگے ہوئے ہیں۔۔۔
ہم نے اکثر ان کے پیچھے کسی کو پیچھا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔۔

یہ سنتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک خطرناک چمک ابھری۔

وہ فوراً سیدھا کھڑا ہوا اور میز پر پڑی گاڑی کی چابی اٹھا لی۔

“ابھی۔””اور اسی وقت میری کراچی کی فلائٹ بک کرو۔۔۔اور پتہ لگاؤ کہ یہ پیچھا کرنے والے لوگ کون ہیں۔۔۔


اس کی آواز میں ایسا حکم تھا جس پر بحث نہیں کی جا سکتی تھی۔
مصطفیٰ اور مایا فوراً اپنی جگہوں سے کھڑے ہو گئے جبکہ مان تیز قدموں سے ہال سے باہر نکل گیا۔ اس کے ذہن میں اب صرف دوست کو بچانا ہے ۔۔…

اسے ہر حال میں کراچی پہنچنا تھا۔اس کا بچپن کا یار مشکل میں تھا۔۔۔۔


جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *