Antal Hayat Bab 2 Episode 2 by siddiqui

انت الحیات ( از قلم صدیقی )

باب دوم : میرا دل صرف تُمہارے لیے ہے۔۔

قسط نمبر ۲

عشا اپنی اسکرین کے سامنے بیٹھی تھی، مگر اس کی نظریں بار بار دھندلا رہی تھیں۔ صبح کی ڈانٹ اب بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ اس نے بےاختیار ایک گہرا سانس لیا اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
اسی لمحے دروازہ کھلا۔
سمیر ہاتھ میں کافی کا مگ لیے اندر داخل ہوا۔ ایک نظر عشا کے اُترا ہوئے چہرے پر پڑی تو اس کے قدم وہیں رک گئے۔
اب آپ کو کیا ہوا؟
وہ اس کے سامنے والی میز سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
عشا نے ہلکی سی مسکراہٹ لانے کی کوشش کی، مگر ناکام رہی۔
کچھ نہیں یار…
پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد دھیرے سے بولی،
پتہ ہے… کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ اس آفس میں جاب کر کے میں نے اپنی زندگی کی بہت بڑی غلطی کر دی ہے،
سمیر نے بھنویں اچکا دیں۔
ایسا کیوں کہہ رہی ہو؟ اس آفس میں جاب کرنا تو ہر ایک کا خواب ہوتا ہے، اور مجھے یقین ہے تمہارا بھی رہا ہوگا۔ پھر اچانک ایسا کیوں سوچنے لگی؟
عشا نے نظریں کمپیوٹر اسکرین پر جما دیں۔
خواب تو تھا۔ میں نے سوچا تھا کہ یہاں جاب مل جائے گی تو زندگی سیٹ ہو جائے گی، لیکن یہاں تو ہر دوسرے دن زاویار سر کی ڈانٹ سننے کو ملتی ہے۔ کچھ کرو تو بھی غلط، نہ کرو تو بھی غلط۔ آج صرف پانچ منٹ لیٹ ہو گئی تھی، اتنا سنا دیا کہ اب تک دل گھبرا رہا ہے۔ اور اب نہ جانے بیٹھے بیٹھے کیا ہو گیا کہ دوبارہ اپنے کیبن میں بلا لیا ہے۔
سمیر نے کافی کا ایک گھونٹ لیا اور ہلکے سے مسکرا دیا۔
تم ہر بات دل پر لے لیتی ہو۔
عشا نے بےبسی سے اسے دیکھا۔
کیسے نہ لوں؟
دیکھو… سمیر نے نرمی سے کہا، زاویار سر کا مزاج ہی ایسا ہے۔ وہ کام کے معاملے میں بہت سخت ہیں۔ اگر انہوں نے بلایا ہے تو ضروری نہیں کہ دوبارہ ڈانٹنے کے لیے ہی بلایا ہو۔ ہوسکتا ہے کسی پروجیکٹ یا فائل کے بارے میں بات کرنی ہو۔
عشا نے خاموشی سے میز پر رکھی قلم کو گھمانا شروع کر دیا۔
سمیر دوبارہ بولا،
اور ایک بات…
ہمیشہ کوشش کیا کرو کہ تم سے کوئی غلطی نہ ہو۔ باقی جہاں تک زاویار سر کا تعلق ہے…
وہ ہنس دیا۔
جتنا کم ان کے سامنے جاؤ گی، اتنا ہی سکون میں رہو گی۔ نہ وہ تمہیں دیکھیں گے، نہ غصہ کریں گے۔
عشا کے لبوں پر بےاختیار ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
بہت عجیب مشورہ ہے۔
لیکن مفید ہے۔ سمیر نے شرارت سے آنکھ دبائی۔
ویسے بھی ہر کمپنی کا یہی حال ہوتا ہے۔ تقریباً ہر کمپنی میں باس کا سخت ہونا عام بات ہے۔ کہیں ڈانٹ پڑتی ہے، کہیں اونچی آواز میں بات سننی پڑتی ہے۔۔۔ ہماری کمپنی تو پھر بھی ان سب کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ باس بھی اچھے ہیں، تنخواہ بھی وقت پر اور اچھی ملتی ہے، ماحول بھی پروفیشنل ہے۔
اور باقی سینئرز بھی تعاون کرتے ہیں۔
وہ چند لمحے رکا، پھر مسکرا کر بولا،
بس… زاویار سر کا مسئلہ ہے۔۔ لیکن خیر، دنیا میں سب لوگ ایک جیسے تو نہیں ہوتے نا۔۔
عشا نے آہستہ سے سر ہلایا۔
ہاں، بات تو تمہاری ٹھیک ہے… لیکن مجھے اُن سے  بہت ڈر لگتا ہے۔
سمیر نے سینہ ذرا سا چوڑا کیا اور مصنوعی رعب سے بولا۔
ارے… ڈر کے آگے جیت ہے، ماؤنٹین ڈیو!
یہ کہتے ہوئے اس نے فاتحانہ انداز میں کافی کا مگ ہوا میں بلند کر دیا۔
عشا بےاختیار ہنس پڑی۔
فی الحال تمہارے ہاتھ میں کافی ہے۔
اس کی ہنسی دیکھ کر سمیر کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ شاید واحد شخص تھا جو چند لمحوں میں اس کی ساری پریشانی ہوا میں اڑا دیتا تھا۔
اچھا…پھر
سمیر نے چند لمحے سوچتے پِھر بولا۔۔۔
ڈر کے آگے جیت ہے ماونٹین چائے۔۔۔
اس نے ایک بار پھر کافی کا مگ شان سے بلند کیا۔
اب ٹھیک ہے نا؟
عشا ہنستے ہوئے سر ہلانے لگی۔
کوئی حل نہیں تُمہارا۔۔۔
سمیر ہلکا سا اس کی طرف جھکا اور شرارتی لہجے میں بولا۔
حل تو آپ کا بھی کوئی نہیں ہے، مس عشا۔
عشا نے بناوٹی خفگی سے اسے ہلکا سا دھکا دیا اور اپنی کرسی سے کھڑی ہو گئی۔ سمیر کی موجودگی اسے کبھی ناگوار محسوس نہیں ہوتی تھی۔ اس کے ساتھ وہ ہمیشہ بےتکلف اور پرسکون رہتی تھی۔
سمیر نے اپنے بائیں ہاتھ سے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور مصنوعی سنجیدگی سے بولا۔ عجیب
عشا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
ہاں تُم ہو ہی عجیب۔۔۔
یہ کہہ کر وہ کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ سے باہر نکل گئی۔
اس کے قدم آہستہ آہستہ زاویار کے کیبن کی طرف بڑھ رہے تھے۔
جوں جوں وہ قریب پہنچ رہی تھی، اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔
کیبن کے باہر پہنچ کر وہ چند لمحوں کے لیے رک گئی۔
اس نے بےاختیار اپنی چادر درست کی، ایک گہرا سانس لیا اور نظریں جھکا لیں۔
یا اللہ… اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو آسانی فرما دینا۔ پلیز، آج کوئی نئی مشکل نہ ہو۔
اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔
اندر آ جاؤ۔
اس کی آواز ہمیشہ کی طرح سنجیدہ اور بےتاثر تھی۔
اس کے سامنے میز پر کئی فائلیں کھلی ہوئی تھیں۔ ایک ہاتھ میں بال پوائنٹ تھا اور نظریں پوری توجہ سے فائلوں کے صفحات پر جمی ہوئی تھیں۔
عشا نے دھیرے سے دروازہ کھولا۔
اس کے قدموں میں ہلکی سی لرزش تھی۔ دل کی دھڑکن معمول سے کہیں زیادہ تیز تھی۔ صبح کی ڈانٹ ابھی تک اس کے ذہن پر نقش تھی، اسی لیے کیبن میں داخل ہوتے ہی اس کی گھبراہٹ اور بڑھ گئی۔
س… سر، آپ نے بلایا تھا؟
زاویار نے فائل سے نظریں اٹھائے بغیر سامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔
ہاں… بیٹھ جاؤ۔
عشا خاموشی سے آگے بڑھی اور کرسی پر بیٹھ گئی۔
زاویار نے آخری صفحہ پلٹا، فائل بند کی اور قلم میز پر رکھ دیا۔ پھر پہلی بار اس کی نظریں عشا پر اٹھیں۔
صبح دیر سے کیوں آئی تھیں؟
عشا نے گھبرا کر انگلیاں آپس میں پھنسا لیں۔
و… وہ…
زاویار نے ہلکی سی بھنویں سکیڑیں۔
ہہم؟
عشا نے ہمت جمع کی۔
راستے میں جس گاڑی سے آ رہی تھی… وہ خراب ہو گئی تھی۔
زاویار چند لمحے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
پھر نسبتاً پرسکون لہجے میں بولا۔
اچھا۔۔۔ جب تُم غلط نہیں تھی تو مجھے روکا کیوں نہیں۔۔؟؟
عشا نے حیرت سے سر اٹھایا۔
شاید اسے اس سوال کی توقع نہیں تھی۔
ک… کیونکہ آپ بہت غصے میں تھے۔ اگر میں کچھ کہتی تو مجھے لگا آپ اور ناراض ہو جاتے، اس لیے خاموش رہی۔
لیکن جب انسان کی غلطی نہ ہو تو اسے اپنی بات ضرور رکھنی چاہیے۔ سامنے والے کو حقیقت بتانا ضروری ہوتا ہے،
عشا نے آہستہ سے سر جھکا لیا۔
جی…
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد زاویار نے ایک اور سوال کیا۔
یہاں سے تمہارا گھر کتنی دور ہے؟
عشا ایک لمحے کے لیے الجھ گئی۔
پ… پتہ نہیں۔
زاویار نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کیا مطلب پتہ نہیں؟
پھر اس کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی نرمی آئی۔
اتنا گھبرا کیوں رہی ہو؟ میں تمہیں مرونگا نہیں۔۔۔
عشا نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
ن… نہیں سر، ایسی بات نہیں ہے۔
زاویار نے قدرے نرم لہجے میں دوبارہ پوچھا۔
پھر بتاؤ، گھر کتنی دور ہے؟
عشا نے چند لمحے سوچ کر جواب دیا۔
صحیح فاصلہ تو نہیں معلوم… لیکن یہاں آنے میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔
زاویار نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
آدھا گھنٹہ… آنے اور جانے دونوں میں؟
عشا نے فوراً سر ہلایا۔۔۔
زاویار نے میز پر رکھی انگلیوں سے ہلکی سی دستک دی۔
یعنی کافی دور سے آتی ہو۔
عشا نے نظریں جھکائے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔
جی… اسی لیے آج راستے میں گاڑی خراب ہوئی تو وقت پر نہیں پہنچ سکی۔
اچھا… تو تمہیں اسی وقت بتا دینا چاہیے تھا۔
عشا نے ہلکے سے سر جھکا لیا۔
جی، سر۔
زاویار نے میز پر رکھی ایک نیلی فائل اٹھائی۔
یہ فائل لے لو۔ اس میں ہمارے نئے ڈیزائنز ہیں۔ ان کی اچھی سی پوسٹ تیار کرو اور پھر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کروا دو۔ اگر کسی چیز میں مسئلہ ہو تو پہلے مجھ سے پوچھ لینا۔
عشا نے دونوں ہاتھوں سے فائل تھام لی۔
جی، سر۔
وہ آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھی، ایک نظر زاویار کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے کیبن سے باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہوتے ہی کمرے میں ایک بار پھر سکوت چھا گیا۔
زاویار کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر چند لمحے بند دروازے کو دیکھتا رہا۔
پھر بےاختیار اس کے لبوں سے نکلا،
عجیب لڑکی ہے… ایسی بھی لڑکیاں ہوتی ہیں کیا؟ نہ اپنی صفائی دیتی ہے، نہ بحث کرتی ہے… بس ہر بات پر جی، سر۔
اس نے ایک گہرا سانس لیا، کوٹ کے بٹن درست کیے اور اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
چند قدم چل کر وہ ساتھ والے کیبن کے سامنے پہنچا۔
دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر بغیر انتظار کیے اندر داخل ہو گیا۔
بھائی…
امن نے سر اٹھا کر زاویار کی طرف دیکھا، پھر ہلکے سے بھنویں سکیڑتے ہوئے بولا۔
ہمم… بولو؟
زاویار نے چند لمحے سوچنے کے بعد آہستہ سے کہا بھائی وہ میں سوچ رہا تھا آفیس کے جو ملازمین دور دراز علاقوں سے آتے ہیں، ان کے لیے کمپنی کی طرف سے پک اینڈ ڈراپ سروس کا انتظام کر دیا جائے۔
امن نے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا۔
کیوں؟
زاویار نے بڑے سادہ لہجے میں جواب دیا  کیوں کہ وہ ہمارے ملازم ہیں۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ انہیں کچھ سہولت اور آرام فراہم کریں۔
امن نے بے نیازی سے سر ہلایا۔
تم دیکھ لو۔ کر لو گاڑی وغیرہ کا انتظام۔۔۔
زاویار نے مختصر سا اثبات میں سر ہلایا۔
ہمم… ٹھیک ہے۔
چند لمحے خاموشی رہی، پھر امن نے غور سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا لیکن آج اچانک بیٹھے بیٹھے تمہیں یہ خیال کیسے آ گیا؟
زاویار نے نظریں چرائیں اور بے دلی سے جواب دیا بس… ایسے ہی۔
اچھا، اب ایک کام کرو۔ گھر چلے جاؤ، جا کر آرام کرو۔ یہاں میں سنبھال لوں گا، ویسے بھی نتاشا موجود ہے۔
زاویار نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
مجھے آرام کی ضرورت نہیں۔ جب ہوگی تب چلا جاؤں گا۔
امن نے بے بسی سے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔
کبھی تو تُم میری بات آرام سے مان لیا کرو۔
زاویار نے فوراََ جواب دیا۔
کبھی نہیں۔
آمن نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔
ہو گیا تمہارا؟
زاویار نے اطمینان سے سر ہلا دیا۔
ہمم۔
امن نے ہاتھ کے اشارے سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
تو جاؤ اب۔
زاویار اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں۔ الٹا بے پروائی سے بولا نہیں جا رہا… کیا کر لو گے؟
امن جھنجھلا گیا
عجیب… سارے پاگل میرے ہی نصیب میں آئے ہیں۔ بیٹھے رہو پھر۔
میرے پاس اتنا فارغ وقت نہیں ہے۔
امن نے بے زاری سے پوچھا۔
تو میں کیا کروں؟
زاویار نے کندھے اچکائے۔
اپنا کام۔
آمن نے گہری سانس لیتے ہوئے جواب دیا۔
تم کرنے دو گے تو کروں گا نا۔
زاویار نے معصوم سا چہرہ بنایا۔
کیوں؟ میں نے تمہارا ہاتھ پکڑا ہوا ہے؟
آمن نے آخرکار جھنجھلا کر اسے خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔
زاویار، چپ ہو جاؤ۔
میں تو چپ ہی ہوں، تم ہی بولے جا رہے ہو۔
امن نے خاموش نظروں سے اسے گھورا تو زویار نے ہاتھ کے اشارے سے آمن کو دوبارہ کام کرنے کا کہا، پھر اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بے فکری سے وہاں سے نکل گیا، جبکہ امن اسے جاتے ہوئے دیکھ کر صرف سر ہلا کر رہ گیا۔

++++++++++++

ازلان نے بےفکری سے کہا،
تو کیا ہوا؟
ابرار نے الجھن سے اُس کی طرف دیکھا۔
کیا مطلب، تو کیا ہوا؟
ازلان نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور ہلکا سا طنزیہ مسکرایا۔
ابے، اپنے آپ کو دیکھ۔
ابرار نے حیرت سے پوچھا،
کیا دیکھوں؟
ازلان نے بےساختہ کہا،
ابے سالے… کوئی تجھے ریجیکٹ کر سکتا ہے؟
ابرار کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
کیا مطلب؟
ازلان نے قدرے جھنجھلا کر کہا،
مطلب یہ کہ اُس لڑکی کے گھر رشتہ بھیج دے۔
پاگل ہے کیا؟ ابرار نے فوراً جواب دیا۔
ازلان ہنس پڑا۔
پاگل میں نہیں، تو ہے۔ دیکھ ذرا خود کو… کون ہے تو؟؟ ابرار جنید خان نام ہے تیرا، شہرِ کا سب سے بڑا انویسٹر ہے تو، اتنی بڑی کمپنی ہے تیری… اوپر سے تو امن جنید خان کا بھائی ہے۔ تجھے کوئی ریجیکٹ کر سکتا ہے؟
وہ ذرا رکا، پھر ابرار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا،
وہ لڑکا لاکھ اچھا سہی… لیکن تیری برابری کے قابل تو نہیں ہوگا نا۔
ابرار کچھ نہیں بولا۔
مگر ازلان کی باتیں اب آہستہ آہستہ اُس کی سمجھ میں آنے لگی تھیں۔
ازلان نے بات آگے بڑھائی۔
ابھی صرف انگیجمنٹ ہوئی ہے نا؟ نکاح تو نہیں ہوا۔ دادی کو بول کہ اُس کے گھر اپنا پروپوزل بھیج دیں۔ پھر دیکھ۔
ابرار نے بےیقینی سے اُسے دیکھا۔
مطلب… وہ ہاں کر دے گی؟
ازلان نے پورے یقین سے کہا،
وہ کیا، اُس کی فیملی بھی ہاں کرے گی۔
ابرار چند لمحے خاموش رہا، جیسے ابھی تک اُسے اپنی قسمت پر یقین نہ آ رہا ہو۔ پھر دھیرے سے بولا،
یہ اتنا آسان تھا؟
ازلان نے کندھے اچکائے۔
ہاں… اور نہیں تو کیا؟
پھر اُس نے ہاتھ کے اشارے سے اُسے اٹھنے کا کہا۔
چل، اب اٹھ اور اپنے اصلی حلیے میں آ جا۔
ابرار نے فوراً اُسے گھورا۔
ابھی کیا میں تیرے حلیے میں بیٹھا ہوں؟
کسی کی اتنی اوقات نہیں کہ ازلان کا حلیہ بھی اپنا سکے۔
ابرار نے بےاختیار سر جھٹکا۔
پاگل…
لیکن اب ابرار کے دِل میں ایک امید کی کرن جاگ اٹھتی تھی، کہ شاید امایا اُسے مل سکتی ہے۔۔۔

+++++++++++++

زاویار اپنی کیبن کی دہلیز پر کھڑا تھا۔ اُس کی نظریں سامنے کہیں ٹھہری ہوئی تھیں، مگر ذہن میں صرف ایک ہی بات گردش کر رہی تھی۔
یہ… میں کیا کر رہا ہوں؟
کیا میں اُس کی فکر کر رہا ہوں؟
وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔
کیا واقعی مجھے فرق پڑ رہا ہے کہ اُسے تکلیف ہوئی…؟
اُس کے چہرے پر ناگواری سی اُبھری۔
نہیں… ایسا نہیں ہے۔ وہ بس اِس آفس میں کام کرتی ہے… اور جب تک وہ یہاں ہے، وہ ہماری ذمہ داری ہے۔
وہیں رکتے ہوئے اُس نے اپنے ہی الفاظ کو دہرایا۔
ذمہ داری…؟
اُس نے چند لمحے سوچا، جیسے اِس لفظ کے پیچھے چھپی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
نہیں… ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
وہ فوراً کیبن کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔
مگر اندر آتے ہی اُس کے قدم ایک بار پھر رک گئے۔
ایسا نہیں ہے… تو کیسا ہے؟
وہ خود ہی اپنے سوال کا جواب تلاش کرنے لگا، مگر شاید اُس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
اُسی وقت دروازہ ایک بار پھر کھلا۔
زاویار…؟
نتاشا ایک بار پھر بغیر دستک دیے کیبن میں داخل ہو گئی۔
زاویار نے چونک کر اُس کی طرف دیکھا۔ اُس کے چہرے پر پہلے سے موجود الجھن جیسے اچانک غصے میں بدل گئی۔
عجیب! ایک بار میں بات سمجھ نہیں آتی تمہیں؟ ہزار دفعہ بولا ہے، دروازہ ناک کر کے آیا کرو۔۔
وہ ایک قدم اُس کی طرف بڑھا۔
اگلی دفعہ بولوں گا نہیں… اب اِسے وارننگ نہیں، دھمکی سمجھو۔
نتاشا نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
تم… اتنا اوور ری ایکٹ کیوں کر رہے ہو؟
زاویار نے فوراً جواب دیا۔
کیونکہ میں اوور ہوں۔۔
بس، جس کام کے لیے آئی ہو وہ کرو اور جاؤ۔
نتاشا نے بھی تیوری چڑھا لی۔
ہاں، مجھے بھی کوئی شوق نہیں تم سے بات کرنے کا۔ یہ فائل دیکھ لو اور اِسے آگے باس کو دے دینا۔
زاویار نے نظریں فائل پر ڈالتے ہوئے بےنیازی سے کہا۔
رکھ دو یہاں۔
نتاشا نے فائل میز پر رکھی اور اُسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
کچھ ہوا ہے کیا؟
زاویار نے فوراً اُسے گھورا۔
تمہیں اِس سے مطلب؟
نتاشا نے بھی غصے میں جواب دیا۔
بھاڑ میں جاؤ تم۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے وہ پلٹی اور جانے لگی۔
سنو۔۔۔
زاویار کی آواز پر نتاشا رک گئی۔ اُس نے پلٹ کر اُسے دیکھا۔
زاویار نے سخت لہجے میں کہا۔
آج تو تم نے اِس لہجے میں مجھ سے بات کر لی ہے… آئندہ نہیں کرنا۔
نتاشا نے طنزیہ انداز میں بھنویں اٹھائیں۔
کیا کر لو گے تم؟
زاویار کی آنکھوں میں سختی اُتر آئی۔
اور اپنی زبان پر کنٹرول رکھو۔
نتاشا نے فوراً پلٹ کر جواب دیا۔
یہ کام تم بھی کر سکتے ہو، شاید۔
زاویار نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
وہ رہا جانے کا راستہ۔
نتاشا نے منہ بنایا۔
ہنہ
اور ناک چڑھاتے ہوئے وہاں سے باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہوتے ہی زاویار نے ایک گہری سانس لی اور بڑبڑایا۔
عجیب… سب کا دماغ ہی خراب ہے، لگتا ہے۔
وہ اپنی کرسی پر جا بیٹھا اور فائل کھول لی۔
چند ہی لمحوں بعد وہ دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا۔
یا شاید…
وہ اپنے کام میں نہیں، بلکہ اپنی سوچوں اور اُن
سوالوں سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا جو بار بار اُس کے ذہن میں اُبھر رہے تھے۔

+++++++++++++++

جی بولیے دادی…
نظریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جمائے، ایک ہاتھ سے فون کان سے لگائے اور دوسرے ہاتھ سے کام کرتے ہوئے اُس نے جواب دیا۔
اے، آج تو زاویار کو اپنے ساتھ لیتا ہوا گھر آ جانا۔
امن نے فوراً نظریں اسکرین سے ہٹائے بغیر پوچھا۔
کیوں؟
اے کام ہے… بس تو اُسے لے کر آ جانا اور بول دینا کہ اپنے گھر پر کہہ دے، وہ یہیں رکے گا۔
امن نے ہلکا سا سر جھٹکا۔
تو آپ یہ بات خود اُسے بول دیجیے، فون کر کے۔
اے نہ، وہ میرا سنتا ہی نہیں ہے۔ ڈرامے کرتا ہے۔
امن کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
اچھا اچھا، لے آؤں گا۔ لیکن کام تو بتائیے۔
سارہ بیگم نے فوراً تفصیل شروع کر دی۔
اے، تیرے اور حیات کی شادی کی تاریخ فکس کرنے جائیے گا۔ کل کام بہت ہوگا۔ ابرار پر تو پتا نہیں کون سا غم کا پہاڑ ٹوٹا ہوا ہے، پورے گھر میں آگ پگولا ہو کر گھوم رہا ہے، کُچھ بھی بولو تو منہ سے آگ اُگلنے لگتا ہے، ازلان ایک کام نہیں کرے گا، اور یوسف اور دانیال تو ہیں ہی نالائق۔ بچا ارسل اور ارحم… وہ دونوں بھی ایک کام کرنے میں اتنا ڈرامہ کرتے ہیں۔ اسی لیے زاویار کو لے آنا اور بول دینا کہ کل آفس کی چھٹی بھی کر لے۔
امن نے فوراً موقع غنیمت جانا۔
اچھا، پھر میں بھی کر لیتا ہوں چھٹی کل؟
سارہ بیگم نے جھٹ سے جواب دیا۔
اے، نہ! تیرا کوئی کام نہیں ہے، تو چپ کرکے اپنا آفیس کا کام کرے گا۔
امن نے بےاختیار ناگواری سے کہا۔۔
عجیب…
اے، اُسے یاد سے بول دینا اور لے کر آنا۔ نہیں تو تیرے کو بھی گھر میں گھسنے نہیں دیں گے۔
یہ کہتے ہی سارہ بیگم نے فون رکھ دیا۔
امن نے چند لمحے فون کو دیکھا، پھر بےبسی سے سر ہلایا۔
عجیب… سب کو میں ہی ملتا ہوں کیا سنانے کے لیے؟
اُس نے ایک گہری سانس لی۔
خیر…
پھر وہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی اسکرین کی طرف متوجہ ہو گیا اور اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

+++++++++++++

سر…؟
وہ دروازہ ناک کر کے اندر داخل ہوئی اور ہاتھ میں موجود فائل آگے بڑھاتے ہوئے بولی۔
ہمم؟
یہ لیجیے…
اُس نے آگے بڑھ کر فائل زاویار کی طرف بڑھا دی۔
زاویار نے فائل لیتے ہوئے پوچھا۔
ہو گیا اِس کا کام؟
جی۔
زاویار نے فائل پر ایک نظر ڈالی، پھر اُس کی طرف دیکھا۔
اتنی جلدی؟ کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔
عشا نے فوراً جواب دیا۔
جی سر، کوئی غلطی نہیں ہوئی۔
زاویار نے ہلکا سا سر ہلایا۔
گُڈ۔
عشا نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر آہستہ سے پوچھا۔
میں جاؤں یا کوئی اور کام ہے؟
نہیں… جاؤ۔
یہ کہتے ہوئے وہ بھی اپنی کرسی سے اٹھ گیا۔
جی…
وہ فوراً پلٹی اور تیزی سے باہر نکلنے لگی۔
زاویار بھی اُس کے پیچھے کیبن سے باہر آ گیا۔
عشا نے زاویار کو اپنے پیچھے آتے دیکھا تو اُس کے قدم اچانک کچھ لڑکھڑانے لگے۔
یہ… یہ میرے پیچھے کیوں آ رہے ہیں اب…؟
اُس نے گھبراہٹ میں خود سے سوچا۔
زاویار اُس کی کیفیت محسوس کر چکا تھا۔ اُس کے لڑکھڑاتے قدم دیکھ کر وہ اُس کے برابر میں آیا اور ذرا سا جھکتے ہوئے بولا۔
تمہارا شو لیس کھلا ہوا ہے۔
عشا نے گھبرا کر اُس کی طرف دیکھا۔
ہ… ہاں؟
اگلے ہی لمحے اُس کی نظریں اپنے پیروں کی طرف جھک گئیں۔ اور اپنا پاؤں جوتے کا تسمہ باندھنے کے لیے نیچے جھکی
اور زاویار اُس سے آگے نکل گیا۔۔۔
اور آج اتنے سالوں بعد اُس کے چہرے پر پھر سے وہی عجیب سی مسکراہٹ تھی… آنکھوں میں وہی شرارت بھری چمک تھی۔
بالکل ویسی… جیسی آج سے کچھ سال پہلے اُس کے چہرے پر ہوا کرتی تھی۔
ادھر عشا نے اپنے قدموں کی طرف دیکھا تو اُس کے چہرے پر حیرت مزید گہری ہو گئی۔
شو لیس…؟
اُس نے اپنے پیروں میں پہنی ہوئی سادہ سی سلیپرز کو دیکھا۔
میں تو سلیپر پہن کر آئی ہوں… پھر وہ شو لیس باندھنے کا کیوں کہہ رہے تھے؟
اُس نے الجھن سے پیشانی پر بل ڈالے۔
مذاق کر رہے تھے کیا؟
اُس نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
مگر زاویار سر… اور مذاق؟
ایسا تو کبھی ہو نہیں سکتا۔
تو پھر…؟
وہ سوچتی ہوئی کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ میں آ گئی۔
ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ کسی اور کو کہہ رہے ہوں..
وہ چند لمحے رکی۔
لیکن وہاں تو میرے اور اُن کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔۔
اُس نے الجھن سے پیچھے دیکھا۔
کیا پتا پیچھے سے کوئی اور بھی آ رہا ہو… سر اُسے کہہ رہے ہوں۔
ہاں… ایسا ہی ہوگا۔
وہ خود ہی اپنے خیال سے مطمئن ہونے کی کوشش کرنے لگی۔
مگر اگر وہ مجھے نہیں کہہ رہے تھے تو میں نیچے کیوں بیٹھی؟
اُس نے دونوں آنکھیں میچ لیں اور ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔
وہ سوچ رہے ہوں گے کہ کتنی پاگل لڑکی ہے… کچھ بھی کرتی رہتی ہے۔
آہہ… میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے ایسا؟
وہ بےبسی سے بڑبڑائی۔
خیر… کوئی بات نہیں۔
پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اُس نے منہ بنایا۔
لیکن یار… عجیب۔
آخرکار اُس نے تھک کر اپنے سامنے رکھی میز پر سر رکھ دیا اور خاموشی سے پڑی رہی۔

+++++++++++

امن نے سامنے کھڑی نتاشا کی طرف ایک فائل بڑھاتے ہوئے کہا۔
زاویار کو میرے آفس میں بھیجو۔
نتاشا نے فائل لیتے ہوئے قدرے جھجک کر جواب دیا۔
وہ تو شاید کہیں باہر گیا ہے۔
امن نے بےزاری سے سانس بھری۔
یہ بھی نا… سارا دن اِدھر اُدھر گھومتا رہتا ہے آفس میں، لیکن جب کوئی کام ہو تو اُسی وقت اِسے بھی اپنا کام یاد آ جاتا ہے۔
نتاشا نے مشورہ دیا۔
کال کر لیں آپ۔
امن نے اثبات میں سر ہلایا۔
ہاں، یہی کرنا ہوگا۔ خیر، تم جاؤ… اور یہ فائل سنبھال کر رکھ دینا۔
نتاشا نے سر ہلایا۔
ٹھیک ہے۔
یہ کہہ کر وہ امن کے کیبن سے باہر نکل گئی۔
امن نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے موبائل اٹھایا۔
پتا نہیں کہاں چلا گیا ہے۔
اُس نے زاویار کا نمبر ملایا۔
حسبِ معمول پہلی ہی گھنٹی پر کال اٹھا لی گئی۔
ہاں بھائی، بولو… کیا ہوا؟
زاویار اِس وقت گاڑی میں بیٹھا کہیں جا رہا تھا۔
امن نے فوراً پوچھا
کہاں ہو؟
زاویار نے حیرت سے پوچھا۔
کیوں؟
امن نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔
جو پوچھ رہا ہوں، اُس کا جواب دو۔
زاویار نے بےفکری سے جواب دیا۔
جو کام تم نے بولا تھا، وہی کرنے نکلا ہوں۔
امن کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
کون سا کام؟
ارے وہی… پک اینڈ ڈراپ سروس کا انتظام کرنے نکلا ہوں۔
امن نے بےاختیار سر تھام لیا۔
حد ہے زاویار! سب کام تمہیں آج ہی کرنے ہیں؟ کل کے لیے بھی کچھ چھوڑ دو۔
زاویار نے فوراً جواب دیا۔
نہیں، کل پر کام نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کیا پتا میں کل مر جاؤں، تو یہ کام پھر کبھی نہیں ہوگا۔
امن غصے میں بولا۔
ہاں، خالی تم سے مرنے کی باتیں کروا لو۔۔
ارے بھائی، مذاق کر رہا ہوں۔ تم بولو، کیا کام ہے؟
امن نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
اپنا کام ختم کرو جو کرنے گئے ہو، اُس کے بعد سیدھا گھر پہنچ جانا۔
زاویار نے حیرت سے پوچھا۔
کیوں؟
دادی نے بلایا ہے، کام ہے اُنہیں۔
زاویار نے فوراً انکار کر دیا۔
ابے یار بھائی، میں نہیں جا رہا۔
امن نے دوٹوک انداز میں کہا۔
چپ چاپ پہنچ جانا۔
زاویار نے فوراً کہا۔
میں نہیں جا رہا۔ منع کر دو دادی کو تم خود۔
امن نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
ہاں، صحیح ہے… مانا کر دیتا ہوں۔ پھر پتا ہے کیا ہوگا؟
زاویار کچھ لمحے خاموش رہا۔
کیا؟
امن نے اطمینان سے جواب دیا۔
دادی پھر دانیال اور یوسف کو تمہارے پیچھے لگا دیں گی۔ پھر جھیلتے رہنا اُن دونوں کو۔
زاویار کے چہرے کے تاثرات فوراً بدل گئے۔
ارے نہیں نہیں… چلا جاؤں گا۔
امن نے طنزیہ انداز میں کہا۔
ہمم… یہ بات تم شرافت سے بھی مان سکتے تھے۔
زاویار نے بےزاری سے پوچھا۔
ہو گیا تمہارا؟
امن نے مختصر سا جواب دیا۔
اللہ حافظ۔
اور اُس نے کال کاٹ دی۔
زاویار نے موبائل کو گھورتے ہوئے بڑبڑایا۔
عجیب ہی مصیبت ہے… دادی بھی نا، کام کا بول کر بلا رہی ہیں، لیکن کام ایک نہیں کروائیں گی۔
اُس نے بےبسی سے سر جھٹکا۔
خیر… اب جانا تو پڑے گا۔۔۔

++++++++++++++

دادی! میرے کو نہیں لے کر گئی تھیں، نہ تو آپ دیکھیے گا…
وہ صوفے پر بیٹھا ہوا تھا چیخ رہا تھا،
اس کے قریب ہی سارہ بیگم بیٹھی مٹر چھیل رہی تھیں۔ سارہ بیگم نے بے نیازی سے سر ہلایا۔
اَے ہاں، دیکھ لیں گے۔
دانیال نے فوراً آنکھیں سکیڑ کر کہا، عجیب! میں بتا رہا ہوں، پورا گھر ہلا دوں گا۔
صوفے کے دوسرے سرے پر اذلان نیم دراز بیٹھا موبائل چلا رہا تھا، مگر بظاہر بے اعتنائی کے باوجود دونوں کی گفتگو پر پوری توجہ تھی۔
وہ فوراً بولا، کیوں؟ بلڈوزر ہے تُو؟
دانیال نے گھور کر اسے دیکھا۔
بھائی! تُو چپ ہو جا، بیچ میں نہیں بول۔
اذلان نے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر پوچھا، کیوں؟ کیا کر لے گا تُو؟
جا نا! دماغ خراب نہیں کر۔
زیادہ دماغ خراب ہو رہا ہے تو فریج میں رکھ دے۔
دانیال نے جھنجھلا کر کہا، بھاڑ میں جا! تُو دادی، آپ میری بات سن رہی ہیں؟
سارہ نے مٹر چھیلتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا،
اَے، نا! ہم بہرے ہیں کیا؟
بس! صحیح ہے پھر۔ کل دیکھیے گا، میں کیا کرتا ہوں۔ ساری زندگی یاد رکھیں گی آپ۔
اذلان نے فوراً موبائل سے نظریں اٹھائیں۔
کیوں؟ لڑکی بھگا کے لائے گا؟
دانیال نے اسے گھورا۔
اب میں جو بھی کروں، وہ میرا مسئلہ ہے۔ تُو اپنا منہ بند کر کے موبائل چلا۔
یہ کہہ کر وہ اٹھا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا سیدھا اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
دانیال کے جاتے ہی سارہ بیگم نے اذلان کو گھورا۔
اَے نالائق! اُٹھ، موبائل رکھ اور میرے ساتھ مٹر چھیل۔ کوئی کام دھندا نہیں ہے تیرا؟ سارا دن پڑا رہتا ہے۔
اذلان نے فوراً موبائل سینے پر رکھا اور نہایت متکبرانہ انداز میں بولا،
ایو! دادی… اذلان جنید خان یہ سب کام کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا۔ آپ خود ہی کیجیے۔
سارہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
ہاں! اذلان جنید خان صرف پلنگ توڑنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔۔۔
اذلان نے پورے اطمینان سے سر ہلایا۔
یس! بالکل صحیح سمجھی ہیں آپ۔
پھر اس نے سارہ کے سامنے پڑی مٹروں کی ٹوکری کو دیکھا اور بولا،
خیر، آپ بھی بیٹھ کر یہ کیوں چھیل رہی ہیں؟ اتنی ساری میڈ ہیں، کسی سے بھی چِھلوا لیجیے۔
سارہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
اَے! کیا بولتا ہے تُو؟
اذلان نے معصومیت سے پوچھا، کیا؟
ارے، وہی انگلش کا کچھ بولتا ہے نا تُو۔۔۔
اذلان کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ پھیل گئی۔
میں تو بہت کچھ بولتا ہوں، دادی۔ آپ بھی نا، اب کیا کیا یاد کریں گی؟
ہٹ یہاں سے! تیرے سے بات کرنا ہی فضول ہے۔ اُٹھ کے دو چار کام کر لے۔
اذلان نے فوراً اپنے کپڑے درست کیے اور بڑے آدمی ہونے کا تاثر دیتے ہوئے بولا،
سوری دادی، میں ذرا بڑا آدمی ہوں۔ دو چار کام نہیں کرتا میں۔
سارہ بیگم  نے غصے سے ہاتھ اٹھایا۔
تُو یہاں سے جا رہا ہے یا ابھی چپل اٹھا کے مارے تیرے کو؟
اذلان فوراً کھڑا ہو گیا اور دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوئے بلند آواز میں بولا،
ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔۔
سارہ بیگم نے گھور کر کہا، رک! ابھی بتاتے ہیں تیرے کو۔
اذلان نے فوراً قدم پیچھے ہٹائے۔
جا رہا ہوں۔۔۔
وہ تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا تو سارہ بیگم نے پیچھے سے آواز لگائی،
ہاں، جا رہا ہے! اب کمرے میں جا کے پڑا رہے گا۔
اذلان نے مڑ کر نہایت سنجیدگی سے جواب دیا،
تو کیا ناچوں میں؟
سارہ بیگم نے بے ساختہ کہا،
ہاں! تیرے لیے اچھا ہے۔ ناچ ہی لے، تھوڑا اپنا جسم ہلا لے۔
اذلان نے چند لمحے سارہ بیگم کو دیکھا، پھر سر ہلاتے ہوئے بولا،
دادی، آپ بھی نا… کچھ بھی بولتی رہتی ہیں۔
یہ کہہ کر وہ بھی اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
سارہ بیگم نے دونوں پوتوں کو باری باری جاتے دیکھا اور پھر گہری سانس لیتے ہوئے کہا
پتا نہیں کیا ہوگا ان لوگوں کا… میرے کو تو سوچ سوچ کر ہی گھبراہٹ ہوتا ہے۔۔۔

+++++++++++++

اوکے، تم کل سے ہی اپنا کام شروع کر دو۔
وہ سامنے کھڑے ٹرانسپورٹ سروس کے مینیجر سے بات کر رہا تھا۔
مینیجر نے قدرے جھجھکتے ہوئے کہا، لیکن سر، ابھی پندرہ دن ہیں مہینہ ختم ہونے میں۔ آپ پندرہ دن تک مینیج کر لیں، میں یکم تاریخ سے کام شروع کروا دیتا ہوں۔
زاویار نے قطعی لہجے میں کہا، نہیں، تم کل سے ہی شروع کرو۔ اور سیلری کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے، میں اس مہینے کی پوری پیمنٹ کر دوں گا۔
مینیجر نے فوراً سر ہلایا۔ ٹھیک ہے سر، جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔
ہمم… اب میں چلتا ہوں۔ کل ٹائم سے آ جانا آفس۔
جی، بہتر۔
زاویار نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں کا کام نمٹا کر سیدھا آفس آ گیا۔
آفس پہنچتے ہی اس نے اپنی میز پر رکھی فائل بند کی اور زارا کی طرف دیکھا۔
نتاشا کو میرے کیبن میں بھیجو۔
جی۔
کچھ ہی دیر بعد نتاشا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔
کیا ہے؟ بولو۔
زاویار نے ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا۔ یہ لو۔ اس کو ری چیک کرو، اس کا پرنٹ آؤٹ نکلواؤ اور ساری فی میل اسٹاف میں دے دو۔ اور کہنا، کل اسی پر اپنا ایڈریس، گھر کا کانٹیکٹ اور اپنا کانٹیکٹ لکھ کر سائن کر کے لائیں۔
نتاشا نے کاغذ اس کے ہاتھ سے لیا اور پڑھنے لگی۔ چند لمحوں بعد اس نے حیرت سے زاویار کو دیکھا۔
کیا ہے یہ اب؟
پھر کاغذ کو دوبارہ دیکھتے ہوئے ناک چڑھا کر بولی، اوہ ہیلو! تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ کیوں کمپنی کا اتنا نقصان کروا رہے ہو؟ ہم اچھی خاصی سیلری تو دیتے ہیں ایمپلائز کو، تو ٹرانسپورٹ پرووائیڈ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
زاویار نے سرد نگاہوں سے اسے دیکھا۔ میں نے تم سے ایڈوائس نہیں مانگی۔ اور تمہارے بولنے یا نہ بولنے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے۔ میں اور بھائی فیصلہ کر چکے ہیں۔ جتنا تم سے کہا گیا ہے، اتنا کرو۔ آج ہی یہ کام ہو جانا چاہیے۔
نتاشا کے تیور بدل گئے۔
عجیب! میں بھی امن کی اسسٹنٹ ہوں۔ تم لوگ مجھے کوئی بات بتانا ضروری کیوں نہیں سمجھتے؟
زاویار نے بے تاثر لہجے میں جواب دیا، اسسٹنٹ ہو، اسی لیے ضروری نہیں سمجھتے۔ اب جاؤ اور اپنا کام کرو۔
نتاشا نے اسے گھور کر کہا، دیکھ لوں گی تمہیں میں۔
یہ کہتے ہوئے وہ پلٹی اور غصے سے کیبن سے باہر نکل گئی۔
زاویار نے اسے جاتے دیکھا اور زیرِ لب بڑبڑایا، یہ بھی نا عجیب ہی ہے… نفرت ہے مجھے ایسی لڑکیوں سے۔
وہ چند لمحے خاموش رہا، جیسے اپنے ہی الفاظ پر غور کر رہا ہو۔
ایسی لڑکیوں سے؟
پھر ہلکا سا سر جھٹک کر بولا، نہیں… مجھے ساری لڑکیوں سے ہی نفرت ہے۔
کچھ ہی دیر میں پورے آفس میں وہ کاغذ تقسیم ہو چکا تھا اور اب وہی آج کی محفل کا موضوع بن چکا تھا۔
ایک لڑکی نے اپنی ساتھ بیٹھی ساتھی سے سرگوشی کی، آخر اتنے سال بعد ہی بلیک روز کمپنی کو ٹرانسپورٹ پرووائیڈ کرنے کا خیال کیسے آ گیا؟
دوسری خاتون نے کندھے اچکائے۔ مجھے کیا پتا۔ ویسے اچھا ہی ہے۔ ہمیں آنے جانے میں اتنا مسئلہ ہوتا ہے۔ کسی نے کہا ہوگا باس سے، اسی لیے یہ تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
پہلی لڑکی نے فوراً تائید کی۔ ہاں، صحیح کہہ رہی ہو تم۔ ویسے اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔ آنے جانے کا خرچہ بھی بچ جائے گا۔
ہاں، ویسے یہ کام تو کچھ سال پہلے ہی کر دینا چاہیے تھا انہیں۔ خیر، دیر آئے، درست آئے۔
دونوں لڑکیاں اپنی گفتگو میں اتنی مگن تھیں کہ انہیں احساس ہی نہیں ہوا کہ زاویار کب سے ان کے پیچھے کھڑا ان کی ساری باتیں سن رہا تھا۔
اچانک اس کی سخت آواز سنائی دی۔
آپ لوگوں کا ہو گیا ہو تو کام پر دھیان دیجیے گا۔ ہم آپ کو یہاں بیٹھ کر تبصرہ کرنے کی سیلری نہیں دیتے ہیں۔
دونوں لڑکیوں کے چہرے فق ہو گئے۔
س… سوری سر۔ لڑکی نے فوراً نظریں جھکا لیں۔
زاویار نے غصے سے کہا، اب میں آپ کے سوری کا کیا اچار ڈالوں؟ جائیے، جا کر اپنا کام کریں۔ اور آئندہ کے بعد سے مجھے ایسے مت دکھائی دیجیے گا۔
ج… جی۔
دونوں لڑکیاں فوراً اپنے اپنے کام میں مصروف ہو گئیں۔
زاویار چند لمحے وہیں کھڑا رہا، پھر دل ہی دل میں سوچا
بس… کہیں مجھ سے کچھ غلط نہ ہو جائے۔
وہ ایک گہری سانس لے کر آفس سے باہر نکل گیا۔
لیکن اس کے جانے کے بعد بھی پورے آفس کی فی میل اسٹاف میں ان سائننگ لیٹرز کے چرچے ہر طرف تھے۔
کچھ فاصلے پر عشا نے ایک کاغذ سمیر کی طرف بڑھایا۔
یہ دیکھو۔ سمیر نے کمپیوٹر کی اسکرین سے نظریں ہٹا کر تجسس سے پوچھا، یہ کیا ہے؟
عشا نے اسے گھورا۔ پڑھے لکھے نہیں ہو؟
سمیر کچھ گڑبڑایا۔ م… مطلب؟
مطلب کہ پڑھ لو۔
اچھا۔
اس نے کاغذ اس کے ہاتھ سے لیا اور پڑھنے لگا۔ اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
اوہ واو! مس عشا، مبارک ہو آپ کو تو۔
عشا نے آنکھیں سکیڑیں۔ طنز کر رہے ہو؟
نہیں، نہیں! میری کہاں اتنی مجال کہ آپ پر طنز کروں۔
وہ چند لمحے کاغذ کو دیکھتا رہا، پھر مصنوعی افسوس کے ساتھ بولا، خیر، اسے دیکھ کر مجھے بالکل خوشی نہیں ہوئی۔
عشا نے حیرت سے پوچھا، کیوں؟
سمیر نے بے چارگی سے کہا، اچھا خاصا میں پک کرتا آپ کو اور آپ میرے لیے کھانا بنا کر لاتیں… شِٹ! مس ہو گیا کھانا۔
عشا نے فوراً تائید کی۔ ہاں، یہ تو ہے۔
سمیر نے افسوس سے سر ہلایا۔ ہمم… بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے۔ باس کو بھی آج ہی یہ رول اناؤنس کرنا تھا؟ دو چار دن بعد کر دیتے۔
عشا نے ہنسی دباتے ہوئے کہا، اچھا اچھا، بس! ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں لے آؤں گی کل لنچ۔ارے! میں تو مذاق کر رہا تھا۔
عشا نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہا، لیکن میں مذاق نہیں کر رہی تھی۔
عشا کے چہرے کا رنگ فوراً بدلا۔ ارے ارے… مرنے کا ارادہ ہے کیا؟
وہ دونوں ہاتھ اوپر کرتے ہوئے بولا۔
عشا نے اسے گھورا۔ فی الحال تو نہیں… لیکن وہ دن دور نہیں جس دن تمہارے ہاتھوں سے تھپڑ کھا لو گی۔
سمیر نے مسکراتے ہوئے کہا، ارے، آپ کے ان نازک ہاتھوں سے تو تھپڑ کا مزہ ہی الگ آئے گا۔
عشا نے اسے گھورا، فائل اٹھائی اور وہاں سے چلتے ہوئے بولی، کام پر دھیان دو، کام پر۔
سمیر نے اسے جاتے دیکھا اور زیرِ لب کہا، یہ بھی صحیح ہے۔
پھر وہ دوبارہ اپنی کمپیوٹر اسکرین کی طرف متوجہ ہو گیا۔

+++++++++++++

دادی۔۔۔ دادی۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے ہی زاویار نے بلند آواز میں سارہ بیگم کو پکارنا شروع کر دیا۔
سیڑھیوں پر کھڑے اذلان نے نیچے جھانکا اور شرارتی انداز میں چیخا:
اوہو دانیال! وہ دیکھ۔۔۔
اذلان نے زاویار کو دیکھتے ہی مصنوعی عقیدت سے کہا، اتنے بڑے بڑے لوگوں کے شبِ قدم پڑے ہیں ہمارے گھر پہ۔۔
دانیال نے فوراً اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا، تُھ تُھ تُھ! یہ کیا دیکھ لیا؟
زاویار نے دونوں کو گھورا۔
ہو گیا تم دونوں کا؟
اذلان نے فوراً جواب دیا، ہاں! تم بتاؤ اب؟
دانیال نے درمیان میں بولتے ہوئے کہا، نہیں، تیرا ہو گیا ہوگا۔ میرا تو نہیں ہوا۔
اذلان نے اسے گھورتے ہوئے کہا، ابے چل، نکل۔۔۔
ساتھ ہی اس نے دانیال کے سر پر ہلکی سی چپت لگا دی۔ ان غریبوں کو ذرا سا فری کرو تو یہ تو بس سر پر ہی چڑھ جاتے ہیں۔
دانیال نے فوراً اپنا سر سہلاتے ہوئے اسے گھورا۔
تُو دیکھ اب، بیٹا تُو دیکھ! آنے دے بھائی کو، سب بتاؤں گا۔
اذلان نے بے نیازی سے کہا، ابے چل نکل! تُو بولے گا اور جیسے بھائی مان لے گا۔ تیری بات کی ویسے بھی کوئی ویلیو نہیں ہے۔
دانیال نے ایک دم اکڑ کر اسے دیکھا۔
اچھا؟ میری بات کی کوئی ویلیو نہیں؟ ہے نا؟
اذلان نے ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا، ہاں، بہرے! یہی بولا ہے میں نے۔
دانیال کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ پھیل گئی۔
یہ سن پھر…
اس نے فوراً اپنا موبائل نکالا اور ایک وائس ریکارڈنگ چلا دی۔
اگلے ہی لمحے اذلان کی اپنی آواز پورے ہال میں گونجنے لگی۔
اذلان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
ابے۔۔۔
وہ فوراً دانیال سے موبائل چھیننے کے لیے اس کی طرف لپکا۔
مگر دانیال بھی آخر دانیال تھا۔
وہ پلک جھپکتے ہی سیڑھیوں کے دوسری طرف سے چھلانگ لگا کر ریلنگ کا سہارا لیتا ہوا دوبارہ فلور پر چڑھا اور اپنے کمرے کی طرف بھاگ گیا۔
اوئے! رُک۔۔۔
اذلان بھی اس کے پیچھے دوڑا۔
دانیال نے کمرے میں گھستے ہی پوری قوت سے دروازہ بند کیا اور اندر سے لاک کر دیا۔

++++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *