رفاقت جاں
ڈاکٹر ملائکہ فرمان
سفرِ حیات میں جو سایہ در سایہ رہے
دوست ایسا ہو کہ جو ہر پل میں اپنا سا رہے
غم کی آندھی ہو کہ خوشیوں کا کوئی ہو تلاطم
خلوصِ دل سے جو ہر موڑ پہ کھڑا رہے
شکایتیں ہوں کبھی، تو گلہ بھی ہو پیار سے
مگر دلوں میں محبت کا سلسلہ سا رہے
ہو اندھیرا جو حیاتِ تیرہ و تار میں کہیں
وہ جگنو بن کے روشنی کا راستہ رہے
بھلا سکیں نہ کبھی فاصلے بھی الفت کو
دلوں کے بیچ جو اک ربطِ جاں فزا رہے
تلاشِ دوست میں دنیا فریب کھاتی ہے
وہی ہے اپنا جو غم میں بھی ساتھ نبھا رہے
کبھی جو وقت کی دھوپوں میں ہم جھلسنے لگیں
وہ بن کے چھاؤں ہمیں پیار سے چھپا رہے
ہزار خوف سہی راہِ زندگی میں مگر
جو ہاتھ تھام کے ہر ڈر کو بھلا رہے
یہ دوستی تو ہے معراجِ زندگی “ملائے دل”
جو عمر بھر کی رفاقت کا آسرا رہے
