ANDHERA E BE NAM BY SANIA SAJJAD.

افسانہ

اندھیرآِ بے نام

از قلم ثانیہ سجاد

 

 

 

 

 

 

 

انتساب :
ان سب لوگوں کے نام جو مصنوعی دنیا میں حقیقی حوصلہ دکھاتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 


نیلی روشنیوں میں خوابوں کے پر جلتے رہے
آئینوں کے سامنے چہرے بدلتے رہے
کوئی نام تھا جو ہوا میں بکھر گیا کہیں
اور لوگ کہانی کو سچ سمجھ کر چلتے رہے۔

 

 

رات کے پچھلے پہر، موبائل کی نیلی روشنی اس کے چہرے پر یوں پڑ رہی تھی جیسے اندھیرے کمرے میں مصنوعی چاند چمک رہا ہو۔ حریم کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، صرف انگلیوں کی بے قراری تھی۔ اس کی دنیا اب اس چھوٹی سی اسکرین میں سمٹ چکی تھی ،وہی اس کا آئینہ، اس کی عدالت، اور اس کا میدانِ جنگ۔

حریم جبار ایک عام سی لڑکی تھی، متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی، مگر اس کے خواب عام نہ تھے۔ وہ مشہور ہونا چاہتی تھی، پہچان بنانا چاہتی تھی،اور وہ چاہتی تھی کہ لوگ اسے سراہیں۔

کالج کے دنوں میں جب اس نے پہلی بار اپنی تصویر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تو اسے محض دس لائکس ملے۔ لیکن وہ دس لائکس بھی اس کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھے۔ وہ پوری رات خوشی سے سو نہ سکی۔

ان دس میں سے دو سہیلیوں کے، ایک خود اس کا، اور باقی چند اجنبیوں کے۔ پھر بھی اس کے لیے وہ لمحہ بے حد خاص تھا، کیونکہ اسے لگا تھا کہ اس کی پہچان کا سفر شروع ہو چکا ہے۔
پھر وقت کے ساتھ لائکس بڑھنے لگے۔ فالوورز کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا، اور حریم خود بھی آہستہ آہستہ بدلنے لگی۔

ابتدا میں وہ اپنی اصل تصاویر شیئر کرتی تھی، اپنی سادہ سی مسکراہٹ کے ساتھ۔ مگر جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ سادہ پن نہیں بکتا۔ فلٹر بکتا ہے، ایڈیٹنگ بکتی ہے، اور کہانی بکتی ہے چاہے وہ سچی ہو یا محض ایک خوب صورت فریب۔

ایک دن اس کی دوست نایاب نے اس کے پاس بیٹھ کر کہا،
”تمہاری تصویریں اچھی ہیں، مگر اگر تھوڑا سا فلٹر لگا لو تو واقعی ماڈل لگو گی۔“

حریم نے ہلکے سے ہنستے ہوئے پوچھا،
” کیسا فلٹر؟“

نایاب نے ذرا رازدارانہ انداز میں کہا،
بلکہ فلٹر کو چھوڑو، تم ایک اور طریقہ بھی آزما سکتی ہو۔ اپنی تصویر کسی اے آئی (AI) ایپ میں ڈال دو، ساتھ میں کوئی پرامپٹ لکھ دو پھر دیکھنا، وہ تمہارے لیے ویسی ہی تصویر یا رِیل بنا دے گا جیسی تم چاہو۔ بالکل کسی پروفیشنل ماڈل جیسی۔ حریم نے فوراً انکار کر دیا۔

نہیں، مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگتا۔ نہ جانے اس کے پیچھے کیا منصوبہ ہو، ہماری تصویروں کا کہیں غلط استعمال نہ کردیں۔ اس کے لہجے میں واضح خوف تھا۔

مگر نایاب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”ارے، کچھ نہیں ہوتا۔ سب لوگ یہی کر رہے ہیں۔“
یہ بس ایک ایپ ہے، اتنا ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
کچھ دیر وہ حریم کے فون میں لگی رہی۔ آخرکار اس نے حریم کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا۔

چند ہی سیکنڈ گزرے تھے کہ اسکرین پر نظر آنے والا چہرہ بدل چکا تھا ۔
اس کی جلد بے داغ تھی، آنکھیں غیر معمولی حد تک بڑی، ہونٹ گلابی اور جبڑا نفاست سے تراشا ہوا۔ حریم خود کو پہچان نہ سکی۔

یہ۔۔۔ میں ہوں؟ اس نے حیرانی سے کہا۔

یہ تمہارا بہترین ورژن ہے، نایاب نے مسکرا کر جواب دیا

اور یہ وہی لمحہ تھا جب حریم نے پہلی بار حقیقت سے دوری اختیار کی، اور اس نے اے آئی سے تصویریں اور ویڈیوز بنانی شروع کردیں۔

 


____________________

 


وقت گزرتا گیا اور وہ دوری اور گہری ہوتی گئی۔

جلد ہی حریم کا پیج مقبول ہونے لگا۔ کمپنیاں اسے میسج کرنے لگیں، برانڈز نے اسپانسرڈ پوسٹس کی پیشکشیں بھیجنی شروع کر دی۔ حریم کو لگا کہ وہ زندگی کی دوڑ جیت چکی ہے، اور اب سب کچھ اس کے قدموں میں ہے۔

ہر لائک، ہر تبصرہ، ہر فالوور اسے اپنے نئے وجود کی طاقت کا احساس دلا رہے تھے۔

”سوشل میڈیا ایک ایسی دنیا ہے، جہاں حقیقت اور عکس کا فرق دھندلا ہو جاتا ہے۔“


____________________


اس کے فالوورز لاکھوں میں پہنچ گئے تھے۔ بظاہر یہ حریم کے لیے خوشی کا لمحہ تھا، لیکن دل کے کسی کونے میں ایک عجیب سی کسک رہ گئی تھی۔ دنیا اسے دیکھ رہی تھی، لوگ اس سے متاثر ہو رہے تھے، اور سب یہی سوچ رہے تھے کہ وہ ایک بے داغ چہرے اور کامل جسم کی مالک ہے۔
مگر حقیقت کچھ اور تھی۔
حریم جانتی تھی کہ اس کی اصل زندگی، اس کا حقیقی چہرہ اور روزمرہ کی سادہ پہچان، اس شاندار عکس سے زمین آسمان کا فرق رکھتی ہے۔کیونکہ حقیقت میں وہ وہ سب کچھ نہیں تھی جو دنیا دیکھ رہی تھی۔

کیونکہ یہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا،
”ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی “ بالکل ایسے ہی سوشل میڈیا پر جو دکھایا جاتا ہے وہ بھی اصل حقیقت نہیں ہوتی۔

حریم کے ڈی ایمز ہمیشہ بھرے رہتے تھے، کیونکہ وہ اکثر انہیں نہیں دیکھتی تھی۔ کبھی کبھار جب فارغ ہوتی یا موڈ میں ہوتی، تو چند پیغامات کھول لیتی، کچھ کا جواب دے دیتی اور کچھ نظر انداز کر دیتی۔ مگر ایک اکاؤنٹ ایسا تھا جسے شاید اس نے کبھی نہیں کھولا تھا۔

ایک دن، کسی وجہ سے اس نے وہ اکاؤنٹ کھولا ،اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے لئے سب کچھ بدل گیا۔ ہزاروں پیغامات وہاں موجود تھے۔ ہر رِیل، ہر تصویر پر اس کی تعریفیں، پیار کا اظہار، ایسے انداز میں کہ جیسے بھیجنے والے کو یقین تھا کہ حریم کبھی نہ کبھی اسے پڑھے گی، اور شاید جواب بھی دے گی۔

اب تک حریم نے جتنے بھی ڈی ایمز دیکھے تھے، وہ سب ایک یا زیادہ سے زیادہ پانچ چھ پیغامات کے ہوتے تھے۔ لیکن اس اکاؤنٹ سے ہزاروں پیغامات آئے تھے، اور اکاؤنٹ کا نام بھی اینونیمس ( Anonymous ) تھا،
پروفائل پکچر پر ایک کالی بلی کی تصویر، اور نہ کوئی پوسٹ، نہ کوئی اور سراغ۔

حریم کے دل میں ایک عجیب سا خوف اُبھر آیا۔ یہ کوئی سادہ تعریف یا فین پیغام نہیں لگ رہے تھے۔ یہ تو کوئی نفسیاتی لگ رہا تھا، اتنے سارے پیغامات ایک ہی شخص نے کیسے بھیج دیے؟

اس نے کچھ پیغامات اسکرول کیے، مگر ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ اس نے جلدی سے ڈی ایمز بند کیے اور فون آف کر دیا۔

________________

 

کچھ دن گزر گئے اب حریم کبھی کبھار وہ اکاؤنٹ کھول دیتی تھی اور اس میں ہمیشہ کی طرح نئے پیغامات ہوتے تھے ، مگر پھر ایک رات، اسی انجان اکاؤنٹ سے پیغام آیا:
”تمہاری نئی ویڈیو دیکھی بہت خوبصورت ہو۔“
دوسرا پیغام،
”تم فلٹر کے بغیر زیادہ پیاری ہو۔“

حریم کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
اس نے کبھی فلٹر کے بغیر تصویر پوسٹ نہیں کی تھی۔
سوائے ایک تصویر کے جو اس نے چند منٹ بعد ڈیلیٹ کر دی تھی۔

ایسے پیغامات تو روز آتے تھے، اس نے نظر انداز کیا۔ مگر اگلا پیغام اس کے خون کو جما دینے کے لیے کافی تھا:

”تم 12 مارچ کو سرخ کپڑوں میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔تمہیں وہ تصویر ڈیلیٹ نہیں کرنی چاہیے تھی۔“
اور ساتھ ہی ایک ویڈیو فائل بھی تھی ۔

ویسے یہ ویڈیو بھی خوب ہے جو تم نے کبھی بنائی ہی نہیں۔

حریم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ویڈیو میں وہ خود تھی یا کم از کم اس جیسی۔ چہرہ، آواز، انداز، سب کچھ اس کا تھا۔ مگر مناظر وہ اس کی زندگی کا حصہ نہیں تھے۔
وہ ایک فحش اور جھوٹا منظر تھا، مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ایک خوفناک ڈیپ فیک۔

حریم کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔ تب ہی اگلا پیغام آیا۔
”تم بارش میں چائے پیتی ہو، نا؟“
جیسے ابھی پی رہی ہو۔

حریم نے جھٹکے سے کھڑکی کی طرف دیکھا، پھر پورے کمرے میں نظر دوڑائی۔ وہاں کوئی نہیں تھا۔

مگر اب اسے پہلی بار محسوس ہوا۔ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

اس کے دل میں خوف اور نفرت کی ملی جلی لہر دوڑ گئی۔ یہ نہ صرف اس کی پرائیویسی کی خلاف ورزی تھی، بلکہ اس کے وجود کو مصنوعی طور پر بگاڑنے کی کوشش بھی تھی ،اس کی سانس رکنے لگی۔

یہ۔۔۔ یہ میں نہیں ہوں، یہ جھوٹ ہے۔
اس نے ہلکی آواز میں کہا۔

مگر اسکرین پر جو کچھ دکھ رہا تھا، وہ سب سچ لگ رہا تھا
ہر حرکت، ہر ادا، ہر آواز۔

کچھ دیر بعد اگلا پیغام آیا:
اگر تم نے میری بات نہ مانی تو یہ ویڈیو تمہارے سارے فالوورز اور خاندان کو بھیج دوں گا۔

”تم جواب کیوں نہیں دیتی؟“
پھر ”کوئی بات نہیں، میں تمہیں جواب دینے پر مجبور کر سکتا ہوں۔“

حریم کے ہاتھ کانپنے لگے اور وہ واقعی جواب دینے پر مجبور ہو گئی۔
”تم ہو کون اور چاہتے کیا ہو؟“
”اور یہ فیک ویڈیو بنا کر تم ثابت کیا کرنا چاہتے ہو؟“
”تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آئی یہ حرکت کرتے ہوئے؟“

یہ پہلی بار تھا جب اس نے جواب دیا۔

فوراً ہی جواب آیا:
”زیادہ کچھ نہیں میری جان بس کبھی کبھی بات کر لیا کرو۔ اور جو میں کہوں، وہ کر دیا کرو۔میری بات مانو گی تو تمہارا فائدہ ہوگا۔“

حریم یہ پڑھ کر ساکت رہ گئی۔
یہ اب صرف ایک دھمکی نہیں تھی ، بلکہ اس کی عزت کا سوال بن چکا تھا ۔ اس کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ، جو شہرت اس نے کمائی تھی، وہی اب اس کے خلاف ہتھیار بن رہی تھی۔اسے غصہ بھی تھا، خوف بھی، اور ایک عجیب سی بےبسی بھی جو سینے میں پھیلتی جا رہی تھی۔اس نے لب بھینچ لیے اور اسکرین بند کر دی، مگر وہ پیغامات جیسے ذہن میں گونجتے رہے۔


وہ پوری رات روتی رہی۔ اسے لگا جیسے اس کی شناخت کسی نے چرا لی ہو۔ اس کا چہرہ، اس کی آواز، اس کی عزت سب کسی نامعلوم ہاتھ میں یرغمال تھے۔

__________________


اگلے دن اس نے نایاب کو سب بتایا۔ نایاب خاموش رہی، پھر بولی،
یہ اے آئی کا دور ہے حریم۔ اب کچھ بھی اصلی یا نقلی کہنا مشکل ہے۔

مگر میں کیا کروں؟
اگر اس نے وہ ویڈیو وائرل کر دی اور میرے گھر والوں تک پہنچا دی تو میرا کیا ہوگا؟
میں تو کسی کے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔ حریم کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔

”چپ رہو، جواب نہ دو۔ پہلے بھی تو نہیں دیتی تھی، شاید وہ خود ہی رک جائیں۔ یہ شاید صرف ایک دھمکی ہی ہو۔ زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں، ایسے لوگ بس ردِعمل چاہتے ہیں۔ اگر تم نے جواب دیا تو بات اور بڑھ جائے گی۔ بہتر یہی ہے کہ اسے نظر انداز کردو، وقت خود ہی سب ٹھیک کر دیتا ہے۔“

مگر شاید وہ نہیں جانتی تھی،
”خاموشی کبھی مسئلہ حل نہیں کرتی، وہ صرف مجرم کو مضبوط کرتی ہے۔“


_____________

 


چند ہفتے بعد وہ ویڈیو لیک ہو گئی۔
پہلے ایک پیج نے ویڈیو پوسٹ کی اور اسے ٹیگ کیا ہوا تھا۔
حریم کا دل بیٹھ گیا مگر اس نے خود کو تسلی دی: شاید کوئی نہیں دیکھے گا۔اس نے جلدی سے ویڈیو کو رپورٹ کر دیا۔ پھر دوسرے پیج نے پوسٹ کی۔
پھر تیسرے نے۔
پھر اسے نوٹیفکیشن آنا بند ہو گئے۔
کیونکہ اب نوٹیفکیشن نہیں، طوفان آ چکا تھا۔


کمنٹ سیکشن آگ کی طرح بھڑک اٹھا۔
ہمیں تم سے یہ امید نہیں تھی۔
سب ڈرامہ تھا تمہاری معصومیت اور شرافت کا۔
تم نے اپنی ساکھ کا جنازہ نکال دیا۔
بدکردار، بےشرم، مکار،لعنتی، بے حیا، بے غیرت، جیسے نہ جانے کتنے الفاظ اس کے لیے استعمال ہونے لگے۔


کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہ کی کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ۔ کسی نے یہ سوال نہ اٹھایا کہ ٹیکنالوجی کس حد تک کسی کی شناخت بدل سکتی ہے۔
سب نے بس فیصلہ سنا دیا۔

”حریم نے پہلی بار جانا کہ سوشل میڈیا عدالت نہیں، ہجوم ہے۔ اور ہجوم کبھی تحقیق نہیں کرتی، صرف سنگسار کرتی ہے۔“

_________________

 


سوشل میڈیا پر تو جو سب اسے کہہ رہے تھے، وہ اپنی جگہ، مگر اس کے گھر میں الگ ہی طوفان برپا ہو گیا۔
والد کی آنکھوں میں سوال تھے،
ماں کے چہرے پر شرمندگی تھی،
اور بھائی کے لہجے میں غصہ تھا۔

یہ سب کیا ہے؟ والد نے موبائل اس کے سامنے زمین پر دے مارا۔

حریم کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔
”ابو، یہ میں نہیں ہوں،قسم سے یہ میں نہیں ہوں۔ یہ کسی نے اے آئی سے بنائی ہے۔ میرا یقین کریں یہ میں نہیں ہوں۔

مگر ویڈیو کی حقیقت اس کی سچائی سے زیادہ طاقتور لگ رہی تھی۔

اسی لمحے، اس کا بھائی آگے بڑھا اور اسے ایک زور دار تھپڑ مارا۔
”وہ غصے میں چیخ پڑا، میں نے تمہیں کہا تھا کہ یہ ایپس استعمال مت کیا کرو، مگر تمہیں تو انفلوئنسر بننے کا شوق چڑھا ہوا تھا، تم نے ہماری عزت کا جنازہ نکال دیا۔ تمھیں اندازہ بھی ہے کہ ہم کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہے۔“

والد نے فوراً غصے سے بیٹے کو روکا اور کہا،
حریم، اپنے کمرے میں چلی جاؤ۔
اس کی ماں خاموشی سے بیٹھی اپنی بیٹی کی قسمت پر آنسو بہا رہی تھی۔

حریم خاموشی سے کمرے کی طرف چل دی، دل میں شرمندگی، خوف اور ایک تلخ احساس کے ساتھ کہ زندگی اس کے لیے کبھی بھی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔اس کے اپنوں نے اس کا بھروسہ نہیں کیا، اور یہ بات اسے اندر ہی اندر توڑ رہی تھی۔

ہر قدم کے ساتھ جیسے اس کے حوصلے بھی بکھرتے جا رہے تھے۔ وہ چاہ کر بھی کسی سے کچھ نہیں کہہ سکتی تھی، کیونکہ الفاظ اور لوگ اب اس کے حق میں نہیں رہے تھے۔


حریم کمرے میں بند ہو گئی۔
راتوں کو فون کی اسکرین ذرا سی روشن ہوتی تو حریم کا دل اچھل کر خلق میں آ جاتا۔ وہ جلدی سے موبائل الٹا کر دیتی۔
”جیسے اسکرین پر کوئی پیغام نہیں بلکہ کوئی زخم کھل گیا ہو۔“

ایک رات وہ بے اختیار آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
کافی دیر وہ خود کو دیکھتی رہی، جیسے سامنے کوئی اور ہو جسے پہچاننا ضروری ہو۔
پھر اس نے آہستہ سے اپنا چہرہ چھوا۔
وہی آنکھیں تھیں۔ وہی گال۔ وہی حریم۔

مگر وہ پھر بھی مطمئن نہیں تھی۔

جیسے اس کے اور آئینے کے درمیان کوئی اور تصویر کھڑی ہو وہ تصویر جو دنیا دیکھتی تھی، اور وہ جس سے اب دنیا نفرت کر رہی تھی۔

اس نے نظریں جھکا لیں۔

 

کچھ دن بعد وہ ابو کے کمرے کے دروازے تک گئی۔
دروازہ آدھا کھلا تھا۔
اندر ابو خاموش بیٹھے تھے۔ ہاتھ میں موبائل تھا، نظریں اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔
حریم نے اندر جھانکا۔
وہ ان کو بتانا چاہتی تھی کہ ویڈیو میں وہ نہیں تھی، وہ اپنی صفائی دینا چاہتی تھی مگر جیسے ہی وہ دروازے کے قریب گئی، اس کی آواز نے الفاظ کا ساتھ چھوڑ دیا۔
وہ کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی۔

پھر خاموشی سے پلٹ آئی۔
دروازہ ویسے ہی آدھا کھلا رہ گیا۔

اس کی ماں اب بھی اس کے لیے چائے بنا کر لاتی تھیں۔
بس فرق یہ تھا کہ پہلے وہ چائے لاتی تو ساتھ بیٹھ جاتی تھیں، حال پوچھتی تھیں، دن کے چھوٹے چھوٹے قصے سن لیتی تھیں۔
اب وہ کپ رکھتیں، ایک لمحے کو اسے دیکھتیں، پھر نظریں ہٹا کر چلی جاتیں۔

نہ کوئی سوال ہوتا تھا، نہ کوئی بات۔
بس ایک خاموش فاصلہ تھا جو روز تھوڑا اور بڑھ جاتا تھا۔

کمرے میں چائے کی بھاپ رہ جاتی تھی، اور اس کے ساتھ ایک ایسی خاموشی جو بھاری ہوتی جا رہی تھی۔

ایک شام حریم نے وہ کپ ہاتھ میں لیا تو اسے احساس ہوا کہ چائے ٹھنڈی ہو چکی ہے۔
بالکل ان رشتوں کی طرح، جنہیں گرم رکھنے کے لیے صرف محبت نہیں، یقین بھی چاہیے ہوتا ہے۔
اور شاید یہی احساس اسے سب سے زیادہ توڑ گیا تھا۔


چند دنوں میں اس کے فالوورز آدھے رہ گئے۔ برانڈز نے معاہدے منسوخ کر دیے۔ دوستوں نے فاصلہ اختیار کر لیا۔

وہ تنہا رہ گئی تھی، اپنے اصل کے ساتھ، جو اب کسی کو نظر نہیں آتا تھا۔


______________________

 

کچھ مہینوں بعد ایک رات وہ خاموشی سے چھت پر آ کھڑی ہوئی۔ اوپر پھیلا ہوا آسمان سیاہ اور بے حد خاموش تھا، جیسے پورا شہر نیند کے اندھیرے میں ڈوب چکا ہو۔

اسے لگا جیسے وہ بھی ایک ڈیجیٹل کردار ہے، جسے کسی نے ایڈیٹ کر کے بدنام کر دیا ہو۔

اگر میری اصل کوئی نہیں دیکھ سکتا ، تو اس اصل کا فائدہ کیا؟

اسی لمحے اس کے فون پر ایک ای میل موصول ہوئی۔

ہم آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔

یہ ایک سائبر کرائم یونٹ کی ٹیم تھی جو اے آئی کے غلط استعمال کے خلاف کام کر رہی تھی۔

حریم کے اندر امید کی ایک مدھم سی لو جاگی۔

حریم نے وہ اکاؤنٹ سوشل میڈیا پر بھی رپورٹ کیا تھا اور اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اس مسئلے کی اطلاع سائبر کرائم حکام کو بھی دی تھی۔ اُس کا بھائی اُس سے ناراض تھا اور تھوڑا غصے میں بھی تھا،مگر آخرکار وہ اس کی بہن تھی، اور کوئی غصہ اسے اپنی بہن کا ساتھ دینے سے نہیں روک سکا۔

تحقیقات شروع ہو گئی تھیں۔

اسے بار بار اپنی ہی جعلی ویڈیو دیکھنی پڑی۔ بار بار یہ ثابت کرنا پڑا کہ وہ خود وہ لڑکی نہیں ہے جو ویڈیو میں نظر آ رہی ہے۔


ڈیڑھ سال کی تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ وہ انجان اکاؤنٹ دراصل ایک گروہ کا حصہ تھا، جو مشہور لڑکیوں کی تصاویر لے کر اے آئی کے ذریعے جعلی ویڈیوز بناتے تھے اور پھر انھیں بلیک میل کرتے تھے۔

پولیس اور سائبر کرائم ٹیم کی مدد سے وہ لوگ بالاخر گرفتار ہو گئے۔کچھ ماہ بعد ویڈیوز کو ہر جگہ سے ہٹا دیا گیا۔ سرکاری بیان آیا کہ یہ مواد جعلی تھا۔

پولیس اسٹیشن میں جب حریم نے ان میں سے ایک لڑکے کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئی۔ وہ کوئی مافیا نہیں تھا، کوئی خوفناک مجرم نہیں تھا، وہ بالکل عام سا لڑکا تھا۔

ان میں سے ایک نے سر جھکا کر کہا:
”ہم صرف ویڈیوز بناتے ہیں۔۔۔ وائرل تو لوگ خود کر دیتے ہیں۔“

اصل مجرم صرف وہ نہیں تھے، بلکہ وہ سب لوگ بھی تھے جو بغیر تحقیق کے جعلی ویڈیوز آگے پھیلاتے، ری پوسٹ کرتے اور ری شیئر کرتے ہیں۔

مگر سوال یہ تھا کیا جو ٹوٹ گیا تھا، وہ واپس جڑ سکتا تھا؟

معاشرہ معافی مانگنے میں سست ہوتا ہے۔ لوگوں نے نئی خبریں ڈھونڈ لیں۔ نیا اسکینڈل، نئی بحث۔ حریم کی کہانی پر دھول جم گئی۔


______________________

 

سرکاری بیان کے چند دن بعد نایاب حریم سے ملنے آئی۔

”میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں،
حریم۔۔۔ میں نے تمہیں اس راستے پر ڈالا تھا۔“

حریم نے آہستہ سے سر نفی میں ہلایا۔
”نہیں نایاب، یہ تمہاری غلطی نہیں تھی۔
یہ فیصلہ میرا تھا۔ ہم سب کبھی نہ کبھی اندھیرے اور عکس کے پیچھے بھاگتے ہیں۔۔۔ جب تک ہمیں کوئی توڑ نہ دے۔“

دونوں خاموش رہیں۔ اور اس خاموشی میں پہلی بار کوئی بوجھ نہیں تھا۔


_______________

 

مگر حریم کو اس واقعے نے بدل دیا تھا۔
کچھ عرصے بعد حریم نے دوبارہ سوشل میڈیا کھولا۔اس نے فرنٹ کیمرہ کھولا۔
اسکرین پر اس کا چہرہ تھا۔وہی چہرہ جس نے اسے مشہور بھی کیا تھا،اور برباد بھی۔
اس نے فلٹر بند کر دیا۔

اس نے چند سیکنڈ اپنے آپ کو دیکھا،پھر مسکرا دی۔

اور پہلی بار اسے محسوس ہوا،
کہ اصل چہرہ بدصورت نہیں ہوتا،اصل چہرہ صرف سچا ہوتا ہے۔
اور لائیو ہو گئی۔


اسلام علیکم ، میرا نام حریم جبار ہے۔۔۔
وہی حریم جسے آپ میں سے بہت سے لوگوں نے فالو کیا تھا، اور وہی حریم جسے بغیر کسی تحقیق کے مجرم بھی ٹھہرا دیا گیا۔

آج میں یہ لائیو ویڈیو اس لیے بنا رہی ہوں کیونکہ میں ایک بہت بڑی حقیقت بتانا چاہتی ہوں۔ میں ڈیپ فیک کا شکار ہوئی تھی۔ وہ ویڈیوز جو آپ میں سے بہت سے لوگوں نے دیکھی ہوں گی، وہ میری نہیں تھیں۔ وہ مصنوعی ذہانت، یعنی اے آئی، کے ذریعے سے بنائی گئی تھیں۔

اے آئی ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ اگر اسے صحیح مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ انسانیت کے لیے نعمت بن سکتی ہے۔
سائنس ہمیشہ انسانوں کی آسانی اور ترقی کے لیے آگے بڑھتی ہے۔
لیکن افسوس ، آج کل کی نوجوان نسل میں سے کچھ لوگ اسی طاقت کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

صرف ایک کلک پر نہ جانے کتنے قسم کا فحش اور جعلی مواد بنا دیا جاتا ہے۔ کسی کی تصویر لے کر اس کی ایسی ویڈیو بنا دی جاتی ہے جو اس نے کبھی کی ہی نہیں ہوتی۔
لوگ شاید یہ سب ایک مذاق سمجھتے ہیں، مگر وہ نہیں جانتے کہ ان کی یہ حرکتیں کسی کی پوری زندگی تباہ کر سکتی ہیں۔

میں بہت بری طرح ٹوٹ گئی تھی۔
میں نے اللّٰہ سے معافی مانگی، اپنے گھر والوں سے معافی مانگی، دنیا والوں سے معافی مانگی، اس چیز کی جو میں نے کبھی کی ہی نہیں تھی۔

سوچئے، کسی انسان کو اس جرم کی سزا ملے جو اس نے کی ہی نہ ہو، تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے۔

میں صرف ایک بات کہنا چاہتی ہوں۔
خدارا جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کرتے ہیں، وہ ذرا سوچیں۔ آپ کی ایک حرکت کسی کی عزت، کسی کا مستقبل اور کسی کی جان بھی لے سکتی ہے۔

جو ذہنی اذیت، اور ذہنی صدمہ ایک انسان کو ملتا ہے، وہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اور سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب کوئی آپ پر یقین نہیں کرتا۔

میں آج اپنی کہانی اس لیے سنا رہی ہوں۔
تاکہ کل کو کوئی اور اس اذیت سے نہ گزرے۔

یاد رکھیں،
ٹیکنالوجی نہیں، اس کا غلط استعمال برا ہوتا ہے۔
اللہ حافظ۔

اس نے ویڈیو بند کر دی۔


__________________


حریم نے فیصلہ کیا کہ وہ اب لائکس کے پیچھے نہیں بھاگے گی۔ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو آگاہی کے لیے استعمال کرے گی، لوگوں کو بتائے گی کہ ہر ویڈیو سچ نہیں ہوتی، ہر تصویر حقیقت نہیں ہوتی۔

اس نے سیکھ لیا تھا کہ اے آئی خود اندھی نہیں، مگر اسے استعمال کرنے والے اندھے ہو سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی خود مجرم نہیں، مگر نیت مجرم ہو سکتی ہے۔

وقت لگا، مگر اس کی زندگی دوبارہ پٹری پر آنے لگی۔ زخم بھر گئے، مگر نشان باقی رہے۔ یاد دہانی کے طور پر کہ ورچوئل دنیا میں اصل کو بچانا سب سے بڑی جنگ ہے۔

ایک شام وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ بغیر فلٹر کے، بغیر ایڈیٹ کے۔اس نے آہستہ سے کہا،

”میں اصل ہوں، اور میری اصل کسی اے آئی سے کمزور نہیں۔ میں خود ہی اپنا بہترین ورژن ہوں۔“

موبائل پھر اس کے ہاتھ میں تھا، مگر اب وہ اس کی مالک تھی، غلام نہیں۔ نیلی روشنی اب بھی چمک رہی تھی، مگر اس کے اندر ایک اور روشنی جل چکی تھی ،شعور کی۔

اور یہی اس کہانی کا اصل انجام ہے:

”اندھیرے نے اسے نگلنے کی کوشش کی، مگر وہ خود کو اندھیرے سے بچانے میں کامیاب ہوگئی۔“

کیونکہ سوشل میڈیا کی دنیا میں سب سے خطرناک چیز ٹیکنالوجی نہیں لاعلمی ہے، اور سب سے بڑی طاقت لائکس نہیں سچ ہے۔

 

ختم شد۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *