ِ سات رنگ حیات
از قلم حفظہ مرزا
قسط نمبر 5
ویک اینڈ تھا۔ افی اٹھنے کے بعد کمرے سے باہر نکلی تو گھڑی کی سوئیاں دس بجنے کا اشارہ دے رہی تھیں۔ گھر میں سب جاگ چکے تھے۔۔ اور ہال سے آتی آوازیں پورے گھر میں پھیل رہی تھیں۔سب لڑکیاں باہر گارڈن میں کرکٹ کھیل رہی تھی۔۔
اپنے کمرے سے نکلتے ہی وہ پری کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ پری کا کمرہ اس کے کمرے کے بالکل ساتھ تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اتنے شور میں پری سو نہیں سکتی۔۔
دوسری طرف پری کافی دیر سے کروٹیں بدل رہی تھی۔ باہر کے شور نے اس کی نیند تو بہت پہلے ہی اڑا دی تھی مگر اس کا بستر چھوڑنے کا بالکل دل نہیں کر رہا تھا۔ وہ کمبل میں سمٹی خاموشی سے لیٹی رہی۔
اسی دوران دروازہ کھلنے کی ہلکی سی آواز اس کے کانوں میں پڑی، مگر اس نے آنکھیں نہ کھولیں۔ اسے اندازہ تھا کہ کمرے میں کون آیا ہے۔
وہ اندر داخل ہوئی تو کمرے میں ہلکا سا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور پردوں کو ایک طرف سرکا دیا۔ پردے ہٹتے ہی سامنے شیشے کی پوری دیوار نمایاں ہو گئی۔
دیوار کے بیچ میں ایک سلائیڈنگ دروازہ بنا ہوا تھا جسے سائیڈ پر سرکا کر سیدھا ٹیرس میں جایا جا سکتا تھا۔ باہر سے آتی دھیمی روشنی شیشے سے گزر کر کمرے میں پھیل گئی اور ماحول کو مزید پرسکون بنا گئی۔۔
۔افی جہاں کھڑی تھی تھوڑا آگے ایک کشادہ ٹیبل موجود تھی جس پر لیپ ٹاپ، فائلیں اور دیگر ضروری کاغذات رکھے تھے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں وہ اکثر بیٹھ کر اپنے آفس کا کام نمٹایا کرتی تھی۔
وہ پلٹ کر بیڈ کی طرف دیکھنے لگی۔ نیلے رنگ کی بیڈ شیٹ پر پری اپنے نیلے کمبل میں لپٹی ہوئی تھی۔ اس کے بکھرے ہوئے بال تکیے پر پھیلے ہوئے تھے جبکہ چہرے کا آدھا حصہ کمبل میں چھپا ہوا تھا ۔۔۔اور آدھے چہرے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
اور جیسے ہی اس کی نظر پورے روم پر پڑتی ہے، ایک ٹھنڈی سی سانس خودبخود اس کے لبوں سے نکل جاتی ہے۔
یہ کمرہ بلو اور وائٹ کے امتزاج میں بنا ہوا تھا—صاف، سادہ مگر بے حد پُرسکون۔وہ ایک لڑکی تھی پر اسے پنک کلر بالکل بھی پسند نہیں تھا۔۔ سفید دیواریں نیلگوں روشنی میں نہا رہی تھیں، اور چھت کے کناروں پر لگی ہلکی نیون لائٹس پورے کمرے کو خواب سا تاثر دے رہی تھیں۔ ۔۔
درمیان میں رکھا ہوا سفید بیڈ، نیلے کشنز اور نرم بستر کے ساتھ، جیسے اسے خود اپنی طرف بلا رہا ہو۔ بیڈ کے دونوں جانب سادہ مگر نفیس سائیڈ ٹیبلز، جن پر ہلکی روشنی والے لیمپس رکھے تھے، جو رات کے سناٹے میں بھی کمرے کو زندہ رکھتے تھے۔
کمرے کے ایک کونے میں ڈریسنگ ایریا تھا—لکڑی کے نفیس ڈیزائن کا ڈریسنگ ٹیبل، جس کے سامنے بڑا سا آئینہ لگا تھا۔۔۔۔
آئینے کے سامنے رکھے میک اپ کے برش، خوشبو کی شیشیاں اور ترتیب سے سجی اشیا صاف بتا رہی تھیں کہ یہ کسی بے ترتیب لڑکی کا کمرہ نہیں۔؟۔۔۔۔۔ اوپر لکڑی کی شیلف پر ایک سادہ سی پینٹنگ اور ننھے پودے رکھے تھے۔۔۔۔۔، جو اس کی شخصیت کی نرمی کو ظاہر کرتے تھے۔
ساتھ ہی ایک کشادہ ڈریسنگ روم تھا، جہاں وارڈروب کے اندر رنگ برنگے کپڑے ترتیب سے لٹکے ہوئے تھے۔ جو سفید الماری کے ساتھ خوب جچ رہا تھا۔ نیچے درازوں میں تہہ کیے ہوئے کپڑے، اور ایک طرف کتابوں کی الماری، جہاں اس کی پسندیدہ کتابیں خاموشی سے اس کے راز سنبھالے کھڑی تھیں۔
کمرے کے اندر ہی ایک الگ سا گوشہ تھا—جہاں کی دیوار اتنی ڈیزائننگ تھی پتہ نہیں چلتا تھا کہ وہاں پر ایک روم ہے۔۔ وہ اس کا پینٹنگ روم۔ کھڑکی کے پاس رکھا ہوا ایزل، سامنے آدھی بنی ہوئی پینٹنگ، اور شیلفوں پر سجی رنگوں کی بوتلیں… یہ جگہ اس کی روح کا عکس تھی۔ یہاں وہ لفظوں کے بغیر خود کو بیان کرتی تھی۔۔ رنگوں کے ذریعے اپنے دل کی بات کینوس پر اتار دیتی تھی۔
سادہ مگر جدید ڈیزائن—ہلکے بیج رنگ کی ٹائلز، شیشے کا شاور کیبن، صاف ستھرا سنک اور دیوار میں بنی شیلف پر تہہ کیے تولیے۔ ہر چیز ترتیب میں، ہر چیز خاموش۔
وہ ایک لمحے کو وہیں کھڑی رہتی ہے۔
یہ کمرہ صرف ایک جگہ نہیں تھا…یہ اس کی دنیا تھی—جہاں سکون بھی تھا، خواب بھی، اور وہ خود بھی۔۔
پری کو دیکھتے ہوئے افی بولی۔۔۔مجھے پتا ہے تم جاگ رہی ہو تو اٹھ جاؤ۔۔ ساتھ میں بریک فاسٹ کرتے ہیں۔”
بات کرتے ہوئے اس کی نظر ٹیبل پر بکھرے ہوئے پیپرز پر پڑی۔ وہ آگے بڑھی اور ان پر بنے ڈیزائنز دیکھنے لگی۔ چند لمحوں بعد اس کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔
“واہ! یہ کتنے خوبصورت ہیں۔”
اس کی آواز سن کر پری اٹھ کر بیٹھ گئی۔ افی نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
“یہ تم نے بنائے ہیں؟ واقعی بہت پیارے ہیں۔ کیا تم رات بھر یہی بناتی رہی ہو؟”
پری نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
“ہاں۔”
یہ کہہ کر وہ بستر سے اتر گئی۔ اس نے اپنے پاؤں زمین پر رکھے اور واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے ہلکے نیلے رنگ کا ڈھیلا سا نائٹ ڈریس پہن رکھا تھا جس کا گھیر اتنا لمبا تھا کہ اس کے پاؤں کو چھو رہا تھا۔
افی دوبارہ ڈیزائنز دیکھنے لگی۔ پھر حیرت سے بولی،
“لیکن تمہیں تو صرف ایک ڈیزائن چاہیے تھا، پھر تم نے تین کیوں بنائے؟”
پری نے کوئی جواب نہ دیا اور واش روم میں داخل ہوگئی۔
افی نے کندھے اچکائے، اسے پتہ تھا پری کوئی بھی کام بے مقصد نہیں کرتی ۔۔۔پیپرز واپس ٹیبل پر رکھے اور شیشے کی دیوار کا دروازہ کھول کر بالکونی میں چلی گئی۔
تقریباً پانچ منٹ بعد پری بھی وہاں آگئی۔ اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ریلنگ کے پاس کھڑی ہو کر نیچے جھانکنے لگی۔
لان میں سب میچ میں مصروف تھی اور خوب شور مچا رہے تھی۔
ہنی بیٹنگ کر رہی تھی عائشہ بولنگ کر رہی تھی اور باقی ساری فیلڈنگ کا کام کر رہی تھی۔۔
انہیں دیکھ کر پری بڑبڑائی، “یہ اتنا شور کیوں مچاتے ہیں؟ میں آج ویسے ہی بہت کم سوئی ہوں، اوپر سے ان لوگوں نے سونے بھی نہیں دیا۔”
افی ہنس پڑی۔
“جہاں اتنی لڑکیاں ہوں وہاں شور نہ ہو، ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔”
پری نے بے زاری سے منہ بنایا تو افی نے مسکراتے ہوئے کہا،
“اچھا چھوڑو، آج کا کیا پلان ہے؟”
“کوئی خاص نہیں۔ بس بچوں سے ملنا جانا ہے بہت ٹائم ہو گیا۔۔۔
“ہاں، اور مجھے بھی ایک کلائنٹ سے ملنے جانا ہے۔۔۔۔
افی نے نیچے آواز لگائی،
“سارہ! ہمارا ناشتہ اوپر ہی لے آؤ۔”
نیچے سے فوراً جواب آیا۔۔جی با جی۔۔وہ بھی گارڈن میں کھڑی میچ دیکھ رہی تھی۔۔ ٹیرس میں ساتھ ہی سیڑھیاں تھی جو نیچے گارڈن میں جاتی تھی۔۔
نیچے لان میں موجود رومی نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو ٹیرس پر کھڑی پری اور افی اس کی نظر میں آگئیں۔ اس نے مسکراتے ہوئے دور سے ہاتھ ہلایا۔
“گڈ مارننگ!”اس کی آواز سن کر افی اور پری نے بھی ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلایا اور جواب دیا،”گڈ مارننگ!”
ہنی نے ابھی دور سے دیکھ لیا تھا اور انہیں جوائن کرنے کو ساتھ میں کہا تھا جس پر انہوں نے منع کر دیا۔۔۔
چند لمحے بعد پری واپس مڑ گئی۔ ٹیرس پر رکھی ہوئی چیئرز میں سے ایک پر جا کر بیٹھ گئی۔ ٹیرس کافی کشادہ تھا جہاں دو آرام دہ چیئرز اور درمیان میں ایک چھوٹی سی ٹیبل رکھی ہوئی تھی۔
پری نے بیٹھتے ہی اپنا موبائل اٹھایا اور اس کی اسکرین پر نظریں جما لیں۔ وہ خاموشی سے کچھ دیکھنے میں مصروف ہوگئی۔۔نیچے لان سے آنے والی ہنسی اور باتوں کی آوازیں ماحول کو مزید خوشگوار بنا رہی تھیں۔۔
دس منٹ بعد ان کا بریک فاسٹ آ گیا۔ دونوں ٹیرس پر ہی بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگیں۔ ناشتے کے ساتھ ساتھ کمپنی اور بزنس سے متعلق مختلف معاملات بھی زیرِ بحث آتے رہے۔
افی نئے پروجیکٹ کے حوالے سے کچھ نکات پری کے ساتھ ڈسکس کر رہی تھی۔ بات ختم ہونے پر پری نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، “نئے پروجیکٹ کی تمام ڈیٹیلز تیار کر لینا، میں ابھی تمہیں کچھ ضروری فائلز ای میل کر دیتی ہوں۔”
افی نے اثبات میں سر ہلایا۔ “اوکے۔”
اسی وقت پری نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور چند ضروری دستاویزات افی کو ای میل کر دیں۔ پھر اسے ایک مختصر میسج بھی کر دیا تاکہ وہ فائلز فوراً چیک کر سکے۔
کچھ دیر بعد افی تیار ہونے کے لیے اپنے روم کی طرف چلی گئی، جبکہ پری وہیں بیٹھی لیپ ٹاپ کھول کر نئی ای میلز اور پروجیکٹ کی فائلز کا جائزہ لینے لگی۔
“ہنی بولنگ کے لیے تیار کھڑی تھی جبکہ باقی سب میدان میں اپنی اپنی جگہ سنبھالے ہوئے تھے۔ بولنگ کرنے سے پہلے اس نے سب کو گھورتے ہوئے کہا، ‘تم لوگوں نے مجھے غلط آؤٹ کیا تھا، میں اب تک نہیں مانتی۔ لیکن اب دیکھنا، اصل بولنگ کیسے کی جاتی ہے۔’
اس کی بات پر سب ہنس پڑے مگر ہنی پورے جوش میں تھی۔ اس نے دو قدم دوڑ کر گیند پھینکی۔ بلے باز نے صرف ہلکا سا شاٹ کھیلا، لیکن گیند غیر متوقع رفتار سے ہوا میں بلند ہوئی اور سیدھی جا کر ٹیرس میں جا گری۔
ایک لمحے کے لیے سب کی نظریں گیند کی سمت اٹھ گئیں۔، مگر خوش قسمتی سے پری وہاں نہیں تھی۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی ٹیرس سے واپس اندر جا چکی تھی۔ سب نے سکون کا سانس لیا جبکہ ہنی حیرت سے گیند کو دیکھ رہی تھی کہ آخر وہ اتنی دور جا کیسے پہنچی۔”
ماہی اور ہنی دونوں ہی حیران کھڑی تھیں۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ گیند آخر اتنی دور کیسے چلی گئی۔ ماہی کو تو ویسے بھی کرکٹ کھیلنا نہیں آتا تھا، اس نے تو بس اندازے سے بلا گھمایا تھا، مگر گیند سیدھی اڑتی ہوئی ٹیرس تک جا پہنچی تھی۔
ماہی ابھی اسی بات پر سوچ رہی تھی اور ہنی بھی حیرت سے کبھی اسے تو کبھی ٹیرس کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ کہ اچانک ایک تیز چیخ کی آواز گونجی۔
آواز اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ وہاں موجود سب لوگ چونک کر اپنی جگہوں سے کھڑے ہو گئے۔ چند لمحے پہلے جو ماحول ہنسی مذاق سے بھرا ہوا تھا، وہ یکدم سنجیدہ ہو گیا۔ سب کی نظریں بے اختیار اسی سمت اٹھ گئیں جہاں سے آواز آئی تھی، جبکہ ماہی کے دل کی دھڑکن بے اختیار تیز ہو گئی۔۔۔۔۔
پری ابھی اپنے روم میں داخل ہی ہوئی تھی کہ اس کے موبائل کی رنگ بج اٹھی۔ اس نے فون اسکرین پر نظر ڈالی اور کال ریسیو کرتے ہوئے ڈریسنگ ایریا کی طرف بڑھ گئی۔
کچھ دیر تک وہ فون پر بات کرتی رہی۔ کال ختم ہونے پر اس نے موبائل سائیڈ پر رکھا اور تیار ہونے میں مصروف ہو گئی۔
تقریباً پانچ منٹ بعد اچانک باہر سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز آئی۔ پری چونک گئی اور فوراً ڈریسنگ ایریا سے نکل کر روم کے مین حصے میں آئی۔
سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
ٹیبل پر رکھا پانی کا گلاس زمین پر ٹوٹا پڑا تھا۔ غالباً کسی گیند کے آ کر لگنے سے گلاس نیچے گر گیا تھا۔ فرش پر پانی پھیلا ہوا تھا اور بدقسمتی سے زیادہ تر پانی پری کے لیپ ٹاپ پر گر چکا تھا۔
صرف یہی نہیں، گیند لیپ ٹاپ کی اسکرین سے بھی ٹکرائی تھی جس کے باعث اسکرین بری طرح چٹخ گئی تھی۔ لیپ ٹاپ کی ڈسپلے پر دراڑیں پھیل چکی تھیں جبکہ پانی اب بھی اس کے کناروں سے ٹپک رہا تھا۔
پری ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گئی، پھر تیزی سے لیپ ٹاپ کی طرف بڑھی تاکہ نقصان کا اندازہ لگا سکے۔۔۔
سارے حیران کھڑے تھے کہ آخر ہوا کیا ہے۔ دوسری طرف ماہی کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا کیونکہ وہ شاٹ اسی نے لگایا تھا۔
پری ٹیرس سے نیچے آئی تو سب کی نظریں اس پر جم گئیں۔ اس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھا اور چہرے پر واضح غصہ تھی۔
“بتاؤ، یہ کس نے کیا ہے؟” پری نے سخت لہجے میں پوچھا۔
کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی جواب دینے کی۔ ہنی نے بھی خاموشی اختیار کر لی۔ ماہی گھبراہٹ میں ایک قدم پیچھے ہٹی مگر پھر ہمت کر کے بولی، “… مجھ سے ہوا ہے۔”
اتنا کہتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
ماہی کو روتا دیکھ کر پری کو مزید غصہ آ گیا۔ اسے رونے والے لوگ ویسے ہی پسند نہیں تھے، اور ماہی تو ذرا سی ڈانٹ یا اونچی آواز پر بھی رونا شروع کر دیتی تھی۔
اسی دوران پیچھے سے افی آ گئی۔
“کیا ہوا؟” اس نے پری سے پوچھا۔
جواب میں پری نے خاموشی سے اپنا لیپ ٹاپ اس کی طرف کر دیا۔ اسی وقت وہاں اینا پہنچ گئی۔ اس نے لیپ ٹاپ لے کر غور سے دیکھا جبکہ پری اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی، جیسے اس کی آنکھوں میں جواب تلاش کر رہی ہو۔
“میں دیکھتی ہوں، شاید ٹھیک ہو جائے۔”
اینا کی بات سن کر پری کو کچھ سکون ملا۔
“میری فائل بہت امپورٹنٹ ہے۔”
“تم نے سیو کی تھی؟” اینا نے پوچھا۔
“ہاں۔”
“پھر اگر لیپ ٹاپ دوبارہ آن ہو گیا تو فائل محفوظ ہوگی، لیکن اگر آن نہ ہوا تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔”
پری نے گہرا سانس لیا، پھر آہستہ آہستہ اپنی نظریں سب پر سب یہی دعا کر رہے تھے کہ لیپ ٹاپ ان ہو جائے انہیں پتہ ہے کہ پری کتنی محنت کرتی ہے۔۔۔”
پری نے سارا کو آواز دی اور اسے ایک باسکٹ لانے کو کہا۔
یہ سنتے ہی سب سیدھے ہو کر کھڑے ہو گئی
۔جب وہ باسکٹ لے کر ائے۔۔ تو اس نے اشارے سے سب سے فون لینے کو کہا اس نے سب کے اگے باسکٹ کی ساروں نے اپنے اپنے فون اس میں ڈال دی۔۔
“آج سے پورے ایک مہینے کی پاکٹ منی بند۔”
سب ایک ساتھ چونک اٹھے۔
ماہی نے فوراً ہنی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
پری نے نظر انداز کرتے ہوئے کہا، ماہی اور ہنی کی طرف “اور تم دونوں پورا مہینہ کچن کے برتن دھوو گے۔ صبح کے بھی اور شام کے بھی۔”
پھر اس نے سحرش اور عائشہ کی طرف دیکھا۔
“تم دونوں روز پورے گھر کی صفائی کرو گے۔”
اس کے بعد اس کی نظریں رومی پر گئیں۔
“اور کھانا کھلانے کی ذمہ داری تمہاری ہوگی۔”
پھر اس نے نور کی طرف رخ کیا۔
“تم ان سب پر نظر رکھو گی۔ کسی نے بھی کام چوری کی تو سزا ڈبل ہو جائے گی۔”
سب ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
یہ سنتے ہی سب کے چہروں کے رنگ اڑ گئے جبکہ پری چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے۔۔۔سب کام پہ لگو مجھے گھر کا ایک ایک کونا صاف چاہیے۔۔۔
اور وہ یہ کہہ اوپر سیڑھیاں چڑھ کر اپنے روم کی طرف چلی گئی۔۔۔
ہنی نے افسردہ سی شکل بنا کر اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور آہ بھرتے ہوئے بولی،
“اتنے پیارے ہاتھ برتن کیسے دھوئیں گے؟”
اس کی بات سنتے ہی سب نے اسے گھور کر دیکھا۔
“کیا ہوا؟” اس نے معصوم بن کر پوچھا۔
“تمہیں اپنے ہاتھوں کی پڑی ہے؟” ماہی نے بے یقینی سے کہا۔
ہنی نے فوراً دفاع کرتے ہوئے کہا، “ارے! یہاں ہم نے صرف بال کھیلی تھی،۔۔
سب ابھی اسی بحث میں لگے ہوئے تھے کہ اوپر سے پری کی بلند آواز سنائی دی۔
ایک دم سب خاموش ہو گئے۔
پری ریلنگ کے پاس کھڑی نیچے دیکھ رہی تھی۔
“مجھے تم لوگ باتیں کرتے ہوئے نظر نہیں آنے چاہئیں۔ کام شروع کرو فوراً!”
اس کی آواز میں ایسی سختی تھی کہ سب سیدھے ہو گئے۔
“چلو، چلو!” رومی نے جلدی سے سب کو دھکا دیتے ہوئے کہا۔
ہنی نے آخری بار اپنے ہاتھوں کو حسرت سے دیکھا اور بڑبڑائی۔۔۔
“میں نے تو مینیکیور اور پیڈیکیور کروا کر اپنے ہاتھ اتنے خوبصورت کیے تھے، اب لگتا ہے روز ہی کروانا پڑے گا۔ آہ، میرے پیارے ہاتھ!”
اس کی بات سن کر سب بمشکل اپنی ہنسی روک رہے تھے۔
ماہی نے منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔۔۔
دوسری طرف نور اور افی مزے سے بیٹھ کر ان سب کو دیکھ رہی تھیں۔ سارہ بھی ان کی حالت پر ہنسے جا رہی تھی۔
ہنی نے فوراً اسے گھور کر دیکھا۔
“تم کس بات پر ہنس رہی ہو؟”
سارہ نے فوراً معصوم سی شکل بنا لی۔
“کچھ نہیں باجی، میں تو بس ایسے ہی دیکھ رہی تھی۔”
“ہاں ہاں، تم تو ہسو گی ہی!” اسنے ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے کہا۔ “تمہارے حصے کا کام ہمارے حصے میں جو آیا ہے۔”
یہ سنتے ہی سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“واقعی!” ماہی نے کہا۔ “ان لوگوں کی تو موجیں لگ گئی ہیں۔”
سارہ ہنستے ہوئے فوراً وہاں سے ہٹ گئی جبکہ باقی سب بھی ایک دوسرے سے مذاق کرتے ہوئے اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔
ادھر پری سب کو کام پر لگتا دیکھ کر مطمئن ہوئی۔ ایک آخری نظر سب پر ڈالنے کے بعد وہ مڑ کر اینا کے روم میں چلی گئی تاکہ پوچھ سکے کب تک ٹھیک ہوگا۔۔۔
پری اینا کے کمرے میں آئی اور ہاتھ میں پکڑے بسکٹ ٹیبل پر رکھ دیے۔
“کیا یہ ٹھیک ہو جائے گا؟” پری نے فکر مندی سے پوچھا۔
“شاید ہو جائے،” اینا نے لیپ ٹاپ پر نظریں جمائے جواب دیا، “اسے مکمل سوکھنے میں وقت لگے گا۔ کل تک پتا چل جائے گا کہ یہ ٹھیک ہوا ہے یا نہیں۔”
“اوکے، ٹھیک ہے۔” پری نے ایک گہرا سانس لیا۔
اسی دوران عائشہ کے موبائل پر مسلسل میسج ٹون بجنے لگی۔ اس نے پاس رکھی ٹوکری سے موبائل نکالا اور اسکرین پر نظر ڈالی۔ میسجز دیکھتے ہی اس کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ اس نے جھنجھلاہٹ سے موبائل دوبارہ ٹوکری میں پھینک دیا۔
“اوکے، جب یہ ٹھیک ہو جائے تو مجھے بتا دینا،” پری نے کہا۔
“اوکے،” اینانے مختصر جواب دیا اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
پری بھی مزید کچھ کہے بغیر وہاں سے نکل گئی۔ تیار ہونے کے بعد وہ سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آ گئی۔۔۔۔
جبکہ چہرے پر حسبِ معمول سنجیدگی تھی۔
باقی سب ابھی بھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کوئی برتن دھو رہا تھا، کوئی صفائی کر رہا تھا، اور کچھ لوگ ایک دوسرے کو قصوروار ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔
پری نے ایک نظر سب پر ڈالی۔
“کام صحیح طریقے سے ہونا چاہیے۔ میں واپس آ کر چیک کروں گی۔”
یہ سنتے ہی سب نے فوراً سر ہلا دیا۔
اسی دوران افی بھی تیار ہو کر آ گئی۔
“چلیں؟” اس نے پری سے پوچھا۔
“ہاں۔”
دونوں گھر سے باہر نکل گئیں۔ دروازہ بند ہونے کی آواز آتے ہی چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر ہنی نے برتن دھوتے دھوتے گردن اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا اور آہ بھری۔
“آخرکار ظالم حکمران محل سے روانہ ہو گئی۔”یہ بولنے کی ہمت بھی ہنی ہی کر سکتی تھی۔۔۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد سب زور سے ہنس پڑے۔
“آہستہ!” ماہی نے فوراً کہا۔ “اگر واپس آ گئی تو ایک مہینے کی سزا دو مہینے کی ہو جائے گی۔”
یہ سنتے ہی سب کی ہنسی رک گئی اور وہ دوبارہ اپنے اپنے کام میں لگ گئے، البتہ اب ماحول پہلے کی نسبت کافی ہلکا اور خوشگوار ہو چکا تھا۔ :::
افی پری کو ڈراپ کرنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئی۔۔۔۔
گیٹ پر موجود گارڈ کو سلام کرنے کے بعد وہ اندر داخل ہوئی۔۔
۔ گارڈ نے جیسے ہی اسے دیکھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
“السلام علیکم بیٹا، آپ کیسی ہیں؟”
“وعلیکم السلام، میں بالکل ٹھیک ہوں بابا۔ آپ کیسے ہیں؟”
پری نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
وہ عمر رسیدہ شخص تھا اور پری اسے ہمیشہ بہت عزت دیتی تھی۔ اسے دیکھ کر پری کے دل میں ہمیشہ ایک عجیب سا سکون اتر آتا تھا۔
“الحمدللہ، بالکل ٹھیک ہوں۔”
پری نے سر ہلایا اور اندر کی طرف بڑھ گئی۔
سامنے وسیع سا لان تھا جہاں بچے کھیلنے میں مصروف تھے۔ کوئی جھولوں پر بیٹھا تھا، کوئی دوڑ رہا تھا، کوئی گیند سے کھیل رہا تھا اور کچھ بچے اپنی ٹیچرز کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔
وہاں ہر عمر کے بچے موجود تھے۔ دو سال کے ننھے بچوں سے لے کر
12 سال تک کے بچے۔ لڑکیاں اور لڑکے، سب ایک ساتھ ہنستے کھیلتے اپنی دنیا میں مگن تھے۔
جیسے ہی پری اندر داخل ہوئی، ایک ٹیچر کی نظر اس پر پڑی۔
“بچو، دیکھو کون آیا ہے!”
یہ سنتے ہی کئی بچوں نے مڑ کر دیکھا۔
اگلے ہی لمحے پورے ماحول میں خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔
“پری دی آ گئی!”
“دی!”
“دی آگئیں!”
بچے خوشی سے چلاتے ہوئے اس کی طرف دوڑ پڑے۔
پری کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تاکہ بچوں کی اونچائی تک آ سکے۔
چند ہی لمحوں میں بچے اس کے گرد جمع ہو گئے۔ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ رہا تھا، کوئی اس سے لپٹ رہا تھا اور کوئی اپنی بات سنانے کی جلدی میں تھا۔
پری نے ہنستے ہوئے ایک ایک بچے کو گلے لگایا، ان کے سروں پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور ان کے گال چومے۔
“میرے بچوں، کیسے ہو سب؟”
“ہم بالکل ٹھیک ہیں دی!”
بچوں نے ایک ساتھ جواب دیا۔
“اور آپ کیسی ہیں؟”
ایک ننھی سی بچی نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے پوچھا۔
پری کی آنکھوں میں نرمی اتر آئی۔
“میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔”
یہ سنتے ہی بچے دوبارہ اس کے گرد بیٹھ گئے، جیسے انہیں اپنے دن کا سب سے پسندیدہ لمحہ مل گیا ہو۔ وہاں موجود ہر بچہ اسے “دی” کہہ کر پکارتا تھا، اور پری بھی ان سب کو اپنے بچوں کی طرح ہی چاہتی تھی۔ :::
یہ سویٹ ہوم خان بابا نے کئی سال پہلے قائم کیا تھا۔ اپنی پوری زندگی انہوں نے ان بچوں کے نام کر دی تھی جن کا اس دنیا میں کوئی نہیں تھا۔ وقت کے ساتھ عمر نے ان کے قدم سست کر دیے تو اس ادارے کی تمام ذمہ داری پری نے سنبھال لی تھی۔
یہاں موجود ہر بچے کی کہانی الگ تھی۔
کوئی حادثے میں اپنے والدین کو کھو چکا تھا، کوئی رشتے داروں کے ظلم کا شکار ہوا تھا اور کسی کو تو یہ بھی یاد نہیں تھا کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچا۔ ان بچوں کی اصل کہانیاں صرف پری جانتی تھی، کیونکہ ہر نئے آنے والے بچے کے ساتھ سب سے پہلے وہی وقت گزارتی تھی۔
اسی لیے بچوں کو بھی اس سے بے حد لگاؤ تھا۔
یہاں کے ٹیچرز اور اسٹاف بھی اس کی بہت عزت کرتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ پری نہ صرف ذمہ دار تھی بلکہ ان بچوں کے لیے دل سے فکر بھی رکھتی تھی۔
کچھ دیر بعد وہاں کرن کی انٹری ہوئی۔
اسے دیکھ کر پری کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔
“کافی دنوں بعد ملاقات ہو رہی ہے۔”
کرن بھی مسکرا دی۔
اسی دوران کرن کی سیکرٹری پاس آ کر بولی،
“میم، جو پارسل آپ نے بھجوائے تھے، وہ پہنچ گئے ہیں۔”
“اوکے، پھر لے آئیے۔”
سیکرٹری کے جاتے ہی بچوں کے چہروں پر خوشی پھیل گئی۔
پری جب بھی یہاں آتی تھی، بچوں کی فرمائشوں کی ایک لمبی لسٹ اس کے پاس موجود ہوتی تھی۔ کوئی کھلونا مانگتا، کوئی کتاب، کوئی رنگ، کوئی گڑیا اور کوئی فٹبال۔
وہ ان کی ہر چھوٹی بڑی خواہش یاد رکھتی تھی۔
چند لمحوں بعد پارسل لا کر رکھ دیے گئے۔
پری نے خود بچوں کے ساتھ مل کر پارسل کھولنے شروع کیے۔
“یہ احمد کے لیے۔”
“یہ عائشہ کی گڑیا۔”
“اور یہ حمزہ کی ریموٹ کار۔”
ہر بچے کو اس کی پسند کا تحفہ ملا تو خوشی سے اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
کچھ بچے تو خوشی سے اچھلنے لگے جبکہ کچھ اپنے نئے کھلونے سینے سے لگا کر بیٹھ گئے۔
پری کافی دیر تک ان کے ساتھ کھیلتی رہی، ان کی باتیں سنتی رہی اور ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں شریک ہوتی رہی۔
پھر ہمیشہ کی طرح کہانیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ہر بچہ چاہتا تھا کہ سب سے پہلے اس کی بات سنی جائے۔
“دی! پہلے میری سنیں!”
“نہیں، پہلے میری!”
“دی آج میرے ساتھ بہت مزے کی بات ہوئی ہے!”
بچے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے جبکہ پری ہنستے ہوئے سب کی باتیں سن رہی تھی۔
وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔
باتوں، ہنسی اور بچوں کے شور میں شام ڈھل گئی۔
جب پری نے گھڑی دیکھی تو وقت کافی ہو چکا تھا۔
“اچھا بچوں، اب مجھے جانا ہوگا۔”
یہ سنتے ہی کئی چہرے اداس ہو گئے۔
“دی، ابھی مت جائیں۔”
“تھوڑی دیر اور رک جائیں نا۔”
پری نے محبت سے ان کے سروں پر ہاتھ پھیرا۔
“میں پھر آؤں گی تم سب سے ملنے۔ تب تک اچھی طرح پڑھائی کرنا، خوب کھیلنا اور اپنا خیال رکھنا۔”
بچوں نے فوراً سر ہلا دیا۔
“ہم ضرور رکھیں گے ۔۔۔
“اور شرارتیں نہیں کریں گے۔”
“اور پڑھائی بھی کریں گے!”
ان کے جواب سن کر پری مسکرا دی۔
وہ جانتی تھی کہ یہ بچے اس کی ہر بات یاد رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ ان میں سے ہر ایک کی مسکراہٹ اور ہر ایک کی کہانی یاد رکھتی تھی۔ :
اور سب کو گڈ بائے کہہ کر وہ آگے بڑھ گئی۔
ابھی چند قدم ہی چلی تھی کہ اس کے موبائل پر میسج کی ٹن کی آواز آئی۔ اس نے موبائل نکال کر دیکھا تو آنٹی کا میسج تھا۔۔۔۔
انہوں نے آج ڈنر پر آنے کی دعوت دی تھی۔ اس نے وقت دیکھو شام ہو چکی تھی۔ مختصر سا مسکراتے ہوئے اس نے جواب میں “اوکے” لکھا اور موبائل واپس جیب میں رکھ کر اپنی منزل کی طرف بڑھ گئی۔
—————————————-
کراچی کی رات معمول کے مطابق جاگ رہی تھی۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی قطاریں، دور کہیں سمندر سے آنے والی ٹھنڈی ہوا اور بلند عمارتوں پر جگمگاتی روشنیاں شہر کو ایک الگ ہی منظر دے رہی تھیں۔
مان تیز قدموں سے عمارت کے اندر داخل ہوا۔۔
لفٹ میں داخل ہوا تیسرے فلور پر ارحم کا فلیٹ تھا۔۔۔
اور ارحم تھوڑی دیر پہلے ہی پولیس اسٹیشن میں بیان دینے کے بعد واپس اپنے فلیٹ میں آیا تھا اور ابھی فریش ہو کر بیٹھا ہی تھا کہ بیل بجی اس نے دروازہ جا کر کھولا۔۔۔
دروازہ کھلا تو اس کی نظریں فوراً سامنے کھڑے شخص پر جا ٹھہریں۔
اس نے فورا دروازہ بند کرنا چاہا لیکن مان نے دروازے کو پکڑ لیا۔۔
پانچ سال نے دونوں کو بدل دیا تھا۔
اور ارحم نے اسے غصے سے دیکھا اور دروازے کو وہیں چھوڑا اور اندر کی طرف بڑھ گیا مان ہنستے ہوئے اندر ا کر دروازہ بند کیا۔۔
جیسے سامنے کھڑا شخص اس کے لیے کوئی اہمیت ہی نہ رکھتا ہو۔
مان خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
ارحم غصے سے جا کر صوفے پر بیٹھ گیا اور موبائل استعمال کرنے لگا۔ مان کچھ لمحے کھڑا اسے دیکھتا رہا، پھر آہستہ سے سامنے والے صوفے پر جا بیٹھا۔
کافی دیر کی خاموشی کے بعد مان نے ہی بات چھیڑی۔
“کوئی چائے پانی پوچھنے کا رواج نہیں ہے تم لوگوں کے ہاں؟ مہمان آئے ہوئے ہیں۔”
“کون سا مہمان؟” ارحم نے بے زاری سے جواب دیا۔
اگلے ہی لمحے وہ اٹھا، کچن سے ایک گلاس پانی لا کر زور سے اس کے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔
مان ہنستے ہوئے گلاس اٹھا کر پانی پینے لگا۔
“کب تک ایسے رہنے کا ارادہ ہے؟”
“تمہیں اس سے کیا؟” ارحم نے سرد لہجے میں کہا۔ “سامنے دروازہ ہے، جا سکتے ہو۔ تمہیں کس نے بلایا ہے؟”
مان نے گہرا سانس لیا اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی۔
“ارحم…”
پانچ سال بعد پہلی بار اس نے اس کا نام پکارا تھا۔
مگر ارحم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
کمرے میں چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
“کیسا ہے؟”
مان نے دھیرے سے پوچھا۔
ارحم طنزیہ انداز میں ہنسا۔
“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے؟”
مان نے گہرا سانس لیا۔
اسے پہلے ہی اندازہ تھا کہ یہ ملاقات آسان نہیں ہوگی۔
“میں تمہاری مدد کے لیے آیا ہوں۔”
یہ سنتے ہی ارحم نے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔
“مدد؟”
اس کی آواز تلخ ہو گئی۔
“پانچ سال تک ایک بار پلٹ کر نہیں دیکھا، ایک فون تک نہیں کیا، اور آج اچانک میری مدد کرنے آ گئے ہو؟”
مان خاموش رہا۔
ارحم کی آنکھوں میں جمع برسوں کی ناراضی صاف نظر آ رہی تھی۔
“میں نے تمہاری کتنی بار انتظار کیا تھا، معلوم ہے؟”
اس کی آواز بھاری ہو گئی۔
“ہر بار یہی سوچتا تھا کہ شاید آج تم رابطہ کرو گے۔ شاید آج تم واپس آؤ گے۔”
وہ چند لمحے رکا۔
پھر تلخی سے ہنسا۔”تو میں کیا تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تم تو اپنی زندگی میں مست ہو گے نا۔۔۔
مان نے نظریں جھکا لیں۔
وہ جانتا تھا کہ ارحم غلط نہیں تھا۔
“کچھ حالات ایسے تھے—”
“مجھے بہانے نہیں سننے!”
ارحم نے سخت لہجے میں اس کی بات کاٹ دی۔
“جو شخص پانچ سال تک غائب رہے، اسے واپس آ کر وضاحتیں دینے کا حق نہیں ہوتا۔”
کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔
مان نے چند لمحے اسے دیکھا۔
پھر پرسکون لہجے میں بولا،
“تم جتنا چاہو مجھ سے ناراض رہو، میں کچھ نہیں کہوں گا۔”
ارحم نے نظریں پھیر لیں۔
“مجھے تمہاری مدد نہیں چاہیے۔”
“ارحم—”
“میں نے کہا نا، مجھے تمہاری مدد نہیں چاہیے!”
اس بار اس کی آواز بلند ہو گئی۔
“میں خود اپنا مسئلہ حل کر سکتا ہوں۔”
مان نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔مان آہستہ سے مسکرایا۔
“تم بچپن سے ضدی تھے۔”
ارحم نے فوراً گھور کر دیکھا۔
“اور تم بچپن سے اپنی مرضی کرنے والے۔”
“اچھا ہے، کچھ چیزیں نہیں بدلیں۔”آج بھی تم روٹھی محبوبہ کی طرح ناراض ہو۔۔
اور ارحم نے اسے غصے سے گھورا تھا۔۔۔۔
اس بار مان کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔
“تم میری مدد قبول کرو یا نہ کرو، یہ تمہاری مرضی ہے۔ لیکن میں یہاں سے واپس نہیں جاؤں گا۔”
ارحم خاموش ہو گیا۔
“کیونکہ مجھے معلوم ہے تم بے قصور ہو۔”
یہ سن کر پہلی بار ارحم کے چہرے کے تاثرات بدلے۔
مگر اگلے ہی لمحے اس نے نظریں چرا لیں۔
مان آہستہ سے اس کے قریب آیا۔۔۔۔
اس کے پاس آ کر اس کے کان میں جھک کر بولا، “مجھے بھوک لگی ہے، کچھ کھانے کو ہے؟”
ارحم نے اسے غصے سے گھورتے ہوئے دیکھا اور خشک لہجے میں بولا، “نہیں ہے، جا سکتے ہو تم۔”
وہ بھی آرام سے اٹھا، اپنا کوٹ سیدھا کیا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا، “پانچ منٹ ہیں۔ پانچ منٹ تک نیچے ویٹ کروں گا۔ کھانا ہے تو آ جانا۔”
یہ کہہ کر وہ باہر چلا گیا۔
ارحم اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ کچھ دیر تک وہیں بیٹھا رہا، جیسے خود سے جنگ لڑ رہا ہو۔ آخر ایک گہرا سانس لے کر اٹھا اور اپارٹمنٹ سے باہر نکل گیا۔
باہر آ کر اس نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی تو وہ گاڑی کی بوٹ پر چڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔ اسے دیکھتے ہی اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
“مجھے لگا تھا آج تم شاید آؤ گے نہیں۔”
ارحم نے کوئی جواب نہیں دیا، بس خاموشی سے اسے گھورتا رہا۔
وہ ہنسا اور گاڑی سے نیچے اترتے ہوئے بولا، “چلو، اتنا غصہ بھی صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔ ویسے بھی مجھے واقعی بھوک لگی ہے۔”
“مجھے نہیں لگی،” ارحم نے فوراً جواب دیا۔
“ہاں ہاں، تم تو صرف مجھے کمپنی دینے آئے ہو۔” اس نے شرارتی انداز میں کہا، جس پر ارحم نے خفگی سے منہ بنایا اور دوسری طرف دیکھنے لگا۔۔
وہ گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ فرنٹ سیٹ کی دوسری طرف ارحم بیٹھا ہوا تھا۔ ۔۔۔
دونوں ہوٹل پہنچے اور کھانا آرڈر کرنے کے بعد خاموشی سے کھانے لگے۔
کچھ دیر بعد مان مسکراتے ہوئے بولا،
“مجھے تو لگا تھا تمہیں راضی کرنے کے چکر میں میں بوڑھا ہو جاؤں گا، لیکن شکر ہے تم جلدی ہی مان گئے۔”
ارحم نے اسے ایک نظر دیکھا مگر کچھ نہیں بولا۔
مان نے فوراً دوبارہ بات چھیڑی۔
“اچھا، اب بتاؤ سین کیا ہے؟”ارحم نے سکون سے کھاتے ہوئے جواب دیا،
“تمہیں پتہ تو چل ہی جائے گا۔”۔۔
مان نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
“ہاں، اندازہ تو ہے، لیکن تمہیں کسی پر شک ہے؟”
“نہیں، ایسا تو کوئی نہیں ہے اور نہ ہی میرے ذہن میں کسی کا نام آ رہا ہے۔”
ارحم اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا۔ اسی لمحے اس کے ذہن میں ایک خیال آیا، مگر اس نے فوراً خود کو روکا۔ وہ جانتا تھا ابھی صرف ایک اندازے کی بنیاد پر مان کو کچھ بتانا ٹھیک نہیں ہوگا۔ پہلے اسے خود یقین کرنا تھا۔
اس نے فوراً موضوع بدلتے ہوئے پوچھا،
“تم کب سے پاکستان میں ہو؟”
مان نے کھانے کا نوالہ نگلتے ہوئے جواب دیا،
“پندرہ دنوں سے۔”
ارحم کا ہاتھ وہیں رک گیا۔ اس نے چمچ پلیٹ میں رکھتے ہوئے حیرت سے اسے دیکھا۔
“تم پندرہ دن سے یہاں پہ ہو؟”
“ہاں۔” مان نے آرام سے جواب دیا۔
“اور تم نے مجھے بتایا تک نہیں؟”
مان ہنس پڑا۔ اور مل آج رہے ہو؟” ارحم نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
مان نے بے فکری سے کندھے اچکائے۔
“میں مصروف تھا۔ سوچا پہلے کام ختم کر لوں، پھر تم لوگوں سے ملوں۔ ویسے بھی مجھے پتہ تھا تم لوگ آسانی سے ملنے والوں میں سے نہیں ہو۔”
ارحم نے غصے سے اسے گھورا۔
“اسے پتہ ہے؟”
مان فوراً سمجھ گیا کہ وہ کس کی بات کر رہا ہے۔
“نہیں، ابھی تک اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔”
ارحم نے سر ہلاتے ہوئے کہا،
“وہی تمہارا جبڑا توڑے گا۔”
یہ سن کر مان چند لمحے سوچنے لگا کہ وہ ٹوٹے جبڑے کے ساتھ کیسا لگے گا؟”
پھر خود ہی ہلکا سا ہنس دیا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ شخص ارحم سے بھی زیادہ غصے والا ہے۔۔۔ارحم زیادہ دیر کسی سے ناراض نہیں رہتا تھا۔۔ اور اسے منانا شاید دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔
“دیکھ لوں گا۔ واپس جا کر اس سے بھی مل لیتا ہوں۔”
ارحم نے جواب میں صرف سر ہلایا اور دوبارہ کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا۔
اس کے بعد تو مان کی خیر نہیں تھی۔ ارحم کے نان اسٹاپ سوالات شروع ہو گئے۔
“پانچ سال کہاں رہے؟”
“کام کیا کرتے رہے؟”
“کس کے ساتھ تھے؟”
“کتنی بار پاکستان آئے؟”
“اور گرل فرینڈ؟ کوئی بنی یا نہیں؟”
کوئی خفیہ شادی تو نہیں کر رکھی اور ایک بچہ تو نہیں جو جس سے تم ملوانا چاہو میں۔۔۔
آخری سوال پر مان کھانستے کھانستے بچا جبکہ ارحم اسے مشکوک نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“کیا؟” مان نے ابرو اٹھا کر پوچھا۔
“سوال کا جواب دو۔”
“نہیں۔”
“سچ؟”
“ہاں۔”
“جھوٹ لگ رہا ہے۔””تمہیں ہر بات جھوٹ کیوں لگتی ہے؟”
“کیونکہ تم سچ کم بولتے ہو۔”
مان بے اختیار ہنس پڑا جبکہ ارحم سنجیدہ چہرے کے ساتھ اسے گھور رہا تھا۔اور سر ہلایا ۔۔مطلب میں ہار گیا۔۔
مان کہتا ہے کیا مطلب۔۔کہیں تم نے شرط تو نہیں لگائی تھی۔۔جس پر ارحم سر جھکاتا ہے۔۔۔جس پر مان کھل کر ہنستا ہے۔۔
اس کے بعد بھی کافی دیر تک یہی سلسلہ چلتا رہا۔ ارحم ایک کے بعد ایک سوال کرتا جا رہا تھا اور مان کبھی ایک لفظ، کبھی دو لفظوں اور کبھی صرف سر ہلا کر جواب دیتا رہا۔ درمیان درمیان میں دونوں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے، پرانی باتیں یاد کرتے اور ہنستے رہے۔۔۔ کافی عرصے بعد دونوں کے درمیان ایسی بے فکری والی گفتگو ہو رہی تھی، جس میں نہ کسی قسم کا دباؤ تھا اور نہ ہی کسی بات کی جلدی۔ بس پرانی دوستی، سوال جواب اور لمبے عرصے بعد ہونے والی ملاقات کا سکون تھا۔
_______________________________
پری گاڑی سے اتری اور سامنے لگے لکڑی کے دروازے کو کھول کر اندر داخل ہوئی۔ دروازے کے بعد خوبصورت گارڈن تھا، جہاں ہر طرف گلاب کے پھول کھلے ہوئے تھے۔ آنٹی زینب کو گلاب کے پھول بے حد پسند تھے، ۔۔
اسی لیے وہ زیادہ تر وقت گارڈننگ میں گزارتی تھیں۔ پری گارڈن سے گزرتی ہوئی آگے بڑھی۔ دو سیڑھیاں چڑھنے کے بعد وہ مین ڈور کے سامنے آ کر رک گئی۔ دروازے پر فنگر پرنٹ اور کوڈ لاک لگا ہوا تھا۔ پری کو پہلے سے کوڈ معلوم تھا، اس نے کوڈ ڈالا، لاک کھلا اور وہ خاموشی سے اندر داخل ہو گئی۔
اندر کچن میں آنٹی زینب کھانا بنانے میں مصروف تھیں۔ انہیں لگا کہ ان کے شوہر واپس آ گئے ہیں، اس لیے پیچھے دیکھے بغیر بولیں۔۔
“آپ فروٹس لے آئے؟”
پری نے ہنسی روکتے ہوئے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے اور کچن کے دروازے میں کھڑی ہو کر خاموشی سے انہیں دیکھنے لگی۔
آنٹی زینب بدستور اپنے کام میں مصروف بولتی رہیں،
“اور پری کو بھی فون کر کے پوچھیں، وہ کب تک آ رہی ہے؟”
چند لمحے گزر گئے مگر کوئی جواب نہ آیا تو وہ پھر بولیں،
آپ میری بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟”
جیسے ہی وہ مڑیں، دروازے میں کھڑی پری کو دیکھ کر چونک گئیں۔
“آپ مجھے اتنا یاد کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔
آنٹی زینب مسکرا دیں۔
“تم تو عید کا چاند ہو۔ جب تک خود نہ بلایا جائے، تم آتی ہی نہیں۔ کتنے دن ہو گئے تمہیں دیکھے ہوئے۔”
یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھیں، پری کو گلے لگایا اور محبت سے اس کے ماتھے کو چوما۔
پری نے ہلکی سی شرمندگی سے کہا،
“سوری آنٹی… نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہوگا۔”
آنٹی زینب نے مسکراتے ہوئے اس کے گال پر ہلکی سی چپت لگائی۔
“ہاں ہاں، تم ہر بار یہی کہتی ہو۔ تم اور میرا بیٹا، دونوں ایک جیسے ہو۔”
پری بس ہنس دی۔
انٹی کی کوئی اولاد نہیں تھی وہ ہمیشہ پری کو بیٹیوں کی طرح لاٹ کرتی تھی پیار کرتی تھی اور ان کا ایک منہ بولا بیٹا تھا ۔۔جس کے بارے میں اکثر وہ پری سے بات کرتی تھی لیکن آج تک پری نے سے دیکھا تک نہیں تھا۔۔
پھر اس نے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا،
… آپ کو میری کوئی مدد چاہیے؟”
آنٹی زینب نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں، سب کچھ ہو گیا ہے۔ بس ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگانا ہے۔ اب تمہارے انکل کا انتظار ہے، وہ آ جائیں پھر سب مل کر کھانا کھائیں گے۔”
“اوکے۔”
فری نے فوراً برتن اٹھائے اور آنٹی زینب کے ساتھ مل کر ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگانے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی زینب نے ہلکی سی ناراضی سے گھڑی کی طرف دیکھا اور بولیں۔۔
“اب دیکھو، تم آ گئی ہو اور تمہارے انکل کا ابھی تک کوئی پتا نہیں۔ ذرا سے فروٹس لانے کو کیا بھیجا تھا، اللہ جانے راستے میں کس دوست کے ساتھ بیٹھ گئے ہوں گے۔”
پری ہنس پڑی۔
“آنٹی، ہو سکتا ہے واقعی کسی دوست سے ملاقات ہو گئی ہو۔ آ جائیں گے، آپ اتنی ٹینشن نہ لیں۔”
آنٹی زینب نے مصنوعی خفگی سے کہا،
“تمہیں تو ہمیشہ انہی کی طرفداری کرنی ہوتی ہے۔”
وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔کیونکہ آپ دونوں کی نوک جھونک سننے میں بہت مزہ آتا ہے۔”
آنٹی زینب بھی اپنی ہنسی نہ روک سکیں اور دونوں باتیں کرتے ہوئے ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا چکی تھی۔۔۔
ایک لمحے کو رک کر پری کو غور سے دیکھا، پھر نرم مگر سنجیدہ لہجے میں بولیں،
“پری، اب تو بتاؤ، کیسی ہو؟ کافی دن ہو گئے، تم ٹیسٹ کروانے بھی نہیں آئیں۔”
پری نے اپنے سامنے رکھی پلیٹ میں سے سلاد کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور بےنیازی سے کھاتے ہوئے مختصر جواب دیا،
“میں ٹھیک ہوں، آنٹی۔ ضرورت محسوس نہیں ہوئی، اس لیے نہیں آئی۔”
آنٹی نے ہلکا سا سانس بھرا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں،
“پھر بھی کافی وقت گزر گیا ہے۔ آخر کب آؤ گی؟ ویسے بھی مجھے تمہیں کچھ دکھانا ہے۔”
پری ابھی ان کی بات کا جواب دینے ہی والی تھی کہ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پورے ڈائننگ ہال میں گونج اٹھی۔ دونوں کی نظریں بےاختیار دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔ آنٹی کے شوہر اندر داخل ہوئے تو آنٹی کی پوری توجہ فوراً ان کی جانب چلی گئی۔۔۔۔
آنٹی ایک ماہر سائیکائٹرسٹ تھیں۔۔۔
پری ان کے لیے صرف ایک مریضہ نہیں تھی بلکہ ایک ایسی بچی تھی جس سے انہیں بےحد لگاؤ ہو گیا تھا۔ اسی لیے وہ دل سے چاہتی تھیں کہ ایک دن پری کی کھوئی ہوئی یادداشت واپس آ جائے تاکہ وہ اپنی اصل فیملی تک پہنچ سکے۔
جب بھی انہیں کسی نئے کیس پر جانا ہوتا، وہ اکثر پری کو اپنے ساتھ لے جاتیں۔ ان کا ماننا تھا کہ مختلف لوگوں اور حالات سے واسطہ پڑنے پر شاید پری کے ماضی سے جڑی کوئی یاد اچانک واپس آ جائے۔ وہ ہر لمحہ اس کی حفاظت کرتیں، اس کی حوصلہ افزائی کرتیں اور ایک ماں کی طرح اس کا خیال رکھتیں۔۔
۔ وقت کے ساتھ پری بھی ان پر بےحد اعتماد کرنے لگی تھی، اسی لیے وہ ہر کیس میں ان کی مدد کرتی ہے۔۔۔۔
آنٹی نے جیسے ہی اپنے شوہر کو اندر آتے دیکھا، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں،
“آپ نے آج اتنی دیر لگا دی؟ مجھے تو لگا تھا صرف فروٹ لینے گئے ہیں۔”
انکل ہنستے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئے۔
“ہاں، راستے میں ہمارے ایک دوست مل گئے تھے۔ ان کا تھوڑا سا کام آ گیا، بس اسی میں دیر ہو گئی۔”
آنٹی نے مصنوعی ناراضی سے انہیں دیکھا۔
“آپ بھی نا… ہر کسی کی مدد کرنے کے لیے اپنا کام چھوڑ کر رک جاتے ہیں۔
“دیکھا پری میں نہ کہتی تھی یقینا یہ کسی دوست کے ساتھ بیٹھ کے ہوں گے وہ ان کی بات سن کر مسکراتی ہو۔۔۔
انکل صرف مسکرا دیے۔ پھر ان کی نظر پری پر پڑی تو خوش دلی سے بولے،
“ارے، تم آ گئی؟ مجھے تو لگا تھا آج شاید نہ آ سکو۔”
پری نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“نہیں، آج میں فری تھی۔ آنٹی کا میسج ملا تو فوراً آ گئی۔”
“اچھا کیا۔”
اتنا کہہ کر وہ کچن کی طرف چلے گئے، ہاتھ دھو کر واپس آئے اور سب کے ساتھ کھانے میں شامل ہو گئے۔ کھانے کے دوران ہلکی پھلکی باتوں اور مسکراہٹوں کا سلسلہ چلتا رہا، جس سے ماحول خوشگوار بنا رہا۔
کھانا ختم ہونے کے بعد آنٹی برتن سمیٹنے کے لیے کچن میں چلی گئیں۔۔ موقع ملتے ہی وہ دھیمی آواز میں بولے،
“بتاؤ… کام کا کیا بنا؟”
پری نے خاموشی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا، ایک چھوٹی سی یو ایس بی نکالی اور ان کی طرف بڑھا دی۔۔۔
“فی الحال تو صرف اتنا ہی ملا ہے۔”
انکل نے بغیر کچھ کہے اثبات میں سر ہلایا اور یو ایس بی جیب میں رکھ لی۔۔۔
دھیان سے اپنی سیفٹی کا بھی خیال رکھنا جس پر پری سر ہلا کر ہاں کہتی ہے۔۔۔
اتنے میں آنٹی واپس کچن میں آ گئیں تو دونوں فوراً خاموش ہو گئے، جیسے کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔
کچھ دیر بعد سب ڈرائنگ روم میں آ گئے۔ انکل نے ٹی وی آن کر دیا تو آنٹی نے مسکراتے ہوئے پوچھا،
“چائے پیئیں گے یا کافی؟”
پری نے فوراً جواب دیا،
“چائے ۔”
انکل ہنس پڑے۔
“آج تو میں بھی چائے ہی پی لوں گا۔”
“بس پھر ٹھیک ہے۔”
آنٹی بھی مسکراتی ہوئی کچن میں چائے بنانے چلی گئیں۔
چائے ختم ہونے کے بعد پری نے آہستہ سے کہا،
“آنٹی، اب اجازت دیں، میں چلتی ہوں۔”
“ارے، اج ادھر ہی رک جاؤ نا۔”
پری نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں آنٹی، گھر میں وہ شرارتی بچی آئی ہوئی ہے۔۔اور اپ کو پتہ تو ہے اس کا ۔۔ اگر زیادہ دیر ہو گئی تو نہ جانے کیا حال کرے گی۔”
آنٹی اس کی بات پر ہنس پڑیں۔
“ہاں، یہ بھی ٹھیک ہے۔”بہت ٹائم ہو گیا اس سے بھی ملے ہوئے۔۔
اس کی وجہ سے گھر میں رونق لگی رہتی ہے انٹی کی ہنی کے ساتھ بھی بہت اچھی بنتی ہے۔۔۔وہ بچپن سے اسے جانتی ہے کیونکہ انکل سکندر اور ہنی کے پاپا خان صاحب دونوں بچپن کے دوست ہیں۔۔۔
تبھی انکل نے پوچھا،
“جاؤ گی کیسے؟”
“کیب کر لوں گی۔ آج گاڑی نہیں لائی، واش کے لیے دی ہوئی ہے۔”
انکل نے فوراً کہا،
“تو میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں۔”
پری نے نرمی سے انکار کیا۔
“نہیں انکل، کافی رات ہو گئی ہے۔ آپ رہنے دیں، میں چلی جاؤں گی۔”
انکل نے میز پر رکھی اپنی گاڑی کی چابی اٹھائی اور اس کی طرف بڑھا دی۔
“پھر ایسا کرو، میری گاڑی لے جاؤ۔”
آنٹی نے بھی فوراً ان کی بات کی تائید کی۔
“ہاں پری، رات کافی ہو گئی ہے۔ اکیلے کیب میں جانا مناسب نہیں۔ تم گاڑی لے جاؤ۔۔”
پری نے چند لمحے سوچا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
“اوکے… شکریہ۔” اس نے چابیاں لیں۔۔۔،
دونوں سے اجازت لی اور گھر سے باہر نکل گئی۔۔
پری جیسے ہی گھر پہنچی، اس نے گاڑی سے اترتے ہوئے ڈرائیور کی طرف چابی بڑھائی۔
“یہ گاڑی صبح انکل سکندر کے گھر واپس چھوڑ دینا۔”
ڈرائیور نے فوراً سر جھکا کر جواب دیا۔
“جی میم، ٹھیک ہے۔”
پری نے اثبات میں سر ہلایا، دروازہ کھولا اور گھر کے اندر قدم رکھا۔
گھر میں غیر معمولی خاموشی اور ہلکا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ صرف لاؤنج کی طرف سے ٹی وی کی مدھم روشنی پورے ہال میں پھیل رہی تھی۔ وہ چند لمحے حیرت سے اردگرد دیکھتی رہی۔
“آج گھر اتنا اندھیرا کیوں ہے؟”
اس نے آہستہ سے اپنا کوٹ اتارا اور دروازے کے قریب لگے کوٹ ریک پر ٹانگ دیا، جہاں باقی سب کے کوٹ پہلے سے لٹک رہے تھے۔
وہ خاموشی سے آگے بڑھی تو لاؤنج کا منظر دیکھ کر ہلکا سا رک گئی۔
ٹی وی پر کوئی ہارر مووی چل رہی تھی۔ سب لوگ اپنی اپنی کمبلوں میں لپٹے ہوئے تھے۔ کوئی صوفے پر سیدھا بیٹھا تھا، کوئی ٹیک لگا کر، تو کوئی آدھا لیٹا ہوا۔ سامنے سینٹر ٹیبل پر چپس، پاپ کارن، کولڈ ڈرنکس اور دوسرے اسنیکس بکھرے پڑے تھے۔ سب کی نظریں پوری طرح اسکرین پر جمی ہوئی تھیں، جیسے دنیا سے بےخبر ہوں۔
پری نے ایک سرسری سی نظر سب پر ڈالی، مگر کچھ کہے بغیر خاموشی سے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
اسی دوران رومی کچن سے اپنے لیے کافی کا مگ لے کر باہر نکلی۔ اس کی نظر اوپر جاتی ہوئی پری پر پڑی تو وہ حیران رہ گئی۔
“آج انہوں نے کچھ کہا بھی نہیں… نہ ڈانٹا، نہ پوچھا، سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی؟”
وہ یہی سوچتی ہوئی واپس آ کر صوفے پر بیٹھ گئی۔
اچانک ٹی وی پر ایک خوفناک منظر آیا تو ہنی زور سے چیخ پڑی۔
“یا اللہ!”
سب ایک لمحے کو چونک گئے، پھر ہنسنے لگے۔
ہنی نے منہ بنایا۔
“میں مووی سے اتنا نہیں ڈرتی جتنا اس کے اچانک آنے والے سینز سے ڈر جاتی ہوں۔”
افی نے گھڑی پر نظر ڈالی اور بھنویں سکیڑتے ہوئے بولا،
“کافی دیر ہو گئی… ابھی تک پری نہیں آئی۔۔۔ابھی وہ فون اٹھا تو اسے کال کرنے ہی والی تھی۔۔
رومی نے فوراً کہا،
“وہ آ چکی ہے۔ ابھی چند منٹ پہلے اوپر اپنے روم میں گئی ہے۔”
سب ایک ساتھ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔
“کیا؟”
“اور اس نے کچھ کہا بھی نہیں؟”
“ہم اتنی رات تک مووی دیکھ رہے ہیں۔۔.. پھر بھی اس نے کچھ نہیں کہا؟”ایسا پہلی بار ہوا تھا۔
ہنی نے حیرت سے کہا،
“یہ تو واقعی عجیب ہے۔”
رومی نے خاموشی سے کافی کا گھونٹ لیا اور دھیرے سے بولی،
“پتہ نہیں کیوں… لیکن آج کل مجھے ان میں کافی تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔ وہ پہلے جیسی نہیں رہی۔”
افی نے فوراً بات کا دوسرا رخ اختیار کیا۔
“تم لوگ بھی نا… وہ آج کل کام میں بہت مصروف ہے، اسی لیے شاید تھکی ہوئی ہوگی۔”
سب نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں، شاید یہی بات ہے۔”
کچھ دیر بعد مووی بھی ختم ہو گئی۔
افی نے ریموٹ اٹھا کر ٹی وی بند کیا۔
“چلو، بہت دیر ہو گئی ہے۔ اب سب سو جاؤ۔”
سب نے اپنے اپنے کمبل تہہ کیے، میز پر پڑے اسنیکس اور برتن سمیٹے، لاؤنج کو صاف کیا اور پھر اپنے اپنے کمروں کی طرف جانے لگے۔
مگر رومی کے ذہن میں ابھی تک پری کا خاموش چہرہ گھوم رہا تھا۔
کچھ سوچتے ہوئے وہ بھی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گئی اور پری کے کمرے کے دروازے پر آ کر ہلکے سے دستک دی۔
“Come in.”
اندر سے پری کی پرسکون آواز سنائی دی تو رومی نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور کمرے کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔۔
پری اسی وقت فریش ہو کر نائٹ ڈریس میں بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی گود میں لیپ ٹاپ رکھا تھا اور اسکرین کی مدھم روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
پری نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا،
“کیا ہوا؟ ابھی تک سوئی نہیں؟”
رومی آہستہ سے اندر آ گئی۔
“نہیں… آپ نے کھانا بھی نہیں کھایا اور سیدھا روم میں آ گئی تھیں، تو سوچا دیکھ لوں۔”
پری نے نرمی سے جواب دیا،
“میں کھانا کھا کر آئی ہوں۔”
پھر اس نے پوچھا،
” کچھ پییں گے آپ؟”
پری نے نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں، میں چائے پی کر آئی ہوں۔”
چند لمحے خاموشی رہی، پھر رومی نے پوچھا،
“آپ کہاں گئی تھیں؟”
“آنٹی زینب کے گھر۔”
“اچھا… ؟”وہ بھی سوچے رہی تھی۔۔
کہ پری نہ پوچھ لیا بتاؤ کیا بات ہے کیا پوچھنا ہے۔۔۔
“نہیں، ایسی کوئی خاص بات نہیں ۔”
اتنی رات کہ تم آئی ہو تو اس کا مطلب تمہیں کوئی بات تنگ کر رہی ہے بتاؤ۔۔
رومی کچھ لمحے خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی،
“اصل میں… کافی دن ہو گئے ہیں۔ جب سے میں واپس آئی ہوں، ہماری ڈھنگ سے بات ہی نہیں ہوئی۔”
پری نے لیپ ٹاپ بند کیا، اسے ایک طرف رکھا، کمبل اپنی ٹانگوں پر درست کیا ا اسے اپنے پاس بیٹھنے کی جگہ دی ۔اور مکمل توجہ رومی کی طرف کرتے ہوئے بولی،
“ٹھیک ہے، ، کیا بات کرنی ہے؟”
رومی نے چند لمحے اسے غور سے دیکھا، پھر دھیرے سے کہا،
“آپ… کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی ہیں۔”
پری ایک لمحے کے لیے چونک گئی۔
“ایسا کیوں لگ رہا ہے تمہیں؟”
“پہلے والی پری نہیں رہیں۔ پہلے آپ زیادہ باتیں کرتی تھیں، ڈانٹتی بھی تھیں، ہنستی بھی تھیں۔ اب آپ بہت خاموش رہنے لگی ہیں۔ نہ کسی سے زیادہ بات کرتی ہیں، نہ کسی چیز پر ری ایکٹ کرتی ہیں۔”
پری چند لمحے خاموش رہی۔ اس کی نظریں لیپ ٹاپ کی بند اسکرین پر ٹکی رہیں، جیسے جواب سوچ رہی ہو۔ پھر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
“ایسا کچھ نہیں ہے، رومی۔ میں ویسی ہی ہوں۔ بس کام بہت زیادہ ہے، اسی لیے وقت نہیں مل رہا۔ ابھی تک تم لوگوں سے ٹھیک سے بات بھی نہیں کر سکی۔”
پھر اس نے بات کا رخ بدلتے ہوئے پوچھا،
“تم لوگ بتاؤ، تمہارا کام کیسا چل رہا ہے؟۔ کب تک مکمل ہوگا؟”
رومی بھی آسانی سے اس موضوع پر آ گئی اور پھر دونوں مختلف باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ کام، گھر اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے کرتے کب آدھے گھنٹے سے زیادہ گزر گیا، دونوں کو احساس ہی نہ ہوا۔
آخرکار پری نے گھڑی پر نظر ڈالی اور مسکراتے ہوئے کہا،
“چلو، کافی دیر ہو گئی ہے۔ اب جا کر سو جاؤ، اور فضول باتیں سوچ سوچ کر اپنے دماغ کو مت تھکایا کرو۔”
رومی ہلکا سا ہنسی، پھر اچانک اسے کچھ یاد آیا۔
“اور آپ؟”
پری نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“آپ کی نیند۔ اب تو آپ ٹھیک ہیں نا؟”
پری کے لبوں پر ایک ہلکی مگر مطمئن مسکراہٹ آ گئی۔
“ہاں… اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
“پکا؟”
“بالکل پکا۔”
رومی نے اطمینان سے سر ہلایا۔وہ دروازے کے پاس جا کر پیچھے مڑ کر دیتی ہے پرین سے ہی دیکھ رہی ہوتی ہے جس پر پری نے کہا کیا اور بھی کچھ کہنا ہے جس پر وہ سر ہلا کر کہتی ہے نہیں کچھ نہیں۔۔
“اوکے… گڈ نائٹ۔ اپنا خیال رکھیے گا۔”
“تم بھی۔ اور جلدی سو جانا۔”
“جی۔”
رومی نے مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر قدم رکھا، آہستگی سے دروازہ بند کیا اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
دروازہ بند ہوتے ہی کمرے میں دوبارہ خاموشی چھا گئی۔
پری نے گہرا سانس لیا، دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں دبا کر چند لمحے بند رکھیں، جیسے تھکن کو خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
پھر اس نے خاموشی سے ایک نظر کمرے میں دوڑائی، لیپ ٹاپ دوبارہ اپنی گود میں رکھا، اسکرین آن کی اور اپنے سارے خیالات ایک طرف رکھ کر پوری توجہ دوبارہ کام پر مرکوز کر دی۔۔۔۔
اگلی صبح ہمیشہ کی طرح پری وقت پر تیار ہو کر اپنے کمرے سے باہر نکلی۔
وہ تیار ہو کر کمرے سے باہر نکلی تو اس کی شخصیت کا وقار دیکھنے والوں کو ایک لمحے کے لیے ٹھہرنے پر مجبور کر دیتا۔ اس نے ہلکے سرمئی رنگ کا نہایت نفیس، ریشمی لانگ گاؤن پہن رکھا تھا، جو زمین کو چھوتا ہوا اس کی شاندار شخصیت میں مزید دلکشی پیدا کر رہا تھا۔ اسی رنگ کا خوبصورتی سے اوڑھا ہوا حجاب اور نقاب اس کے چہرے کو مکمل طور پر ڈھانچے ہوئے تھا، صرف اس کی بڑی، پر سکون آنکھیں نمایاں تھیں، جن میں سنجیدگی اور اعتماد جھلک رہا تھا۔ساتھ میں اس نے وائٹ ہیل والے شوز بینڈ رکھے تھے۔۔
ایک ہاتھ سے نقاب سیٹ کر رہی تھی دوسرے ہاتھ میں سٹک تھی چند قدم چلی تھی۔۔وہ ابھی راہداری میں ہی تھی کہ ساتھ والے کمرے سے رومی کی آواز سنائی دی۔ان کا روم پری کے ساتھ ہی تھا۔۔
“ہنی… اٹھ جاؤ، پلیز! اس سے پہلے کہ پری آ جائے۔”
رومی کئی دیر سے اسے جگانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر ہنی کی نیند اتنی گہری تھی کہ ہر بار آنکھیں ذرا سی کھول کر صرف ایک ہی جواب دیتی،
“بس… پانچ منٹ اور…”
اور اگلے ہی لمحے دوبارہ کمبل میں سمٹ کر سو جاتی۔
پری خاموشی سے ان کے کمرے کی طرف بڑھی۔ دروازہ پہلے ہی کھلا ہوا تھا، اس لیے وہ بغیر آواز کیے اندر داخل ہو گئی۔
رومی کچھ کہنے ہی والی تھی کہ پری نے فوراً انگلی ہونٹوں پر رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
دونوں کی نظریں کمبل میں لپٹی بےخبر ہنی پر جم گئیں۔
پری نے میز پر رکھا پانی کا گلاس اٹھایا، آہستہ سے اس کے قریب گئی اور اگلے ہی لمحے پورا گلاس اس کے اوپر الٹ دیا۔
“آآآہ!”
ہنی ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔
“رومی! تمہاری تو میں…”
غصے میں اس کا جملہ ابھی پورا بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کی نظر سامنے کھڑی پری پر پڑ گئی۔
وہ فوراً خاموش ہو گئی۔
چند لمحے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے، پھر ہنی بغیر کچھ کہے تیزی سے بیڈ سے اتری اور دوڑتی ہوئی سیدھی باتھ روم میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔
ایک لمحے کی خاموشی کے بعد پری اور رومی نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر دونوں بےاختیار مسکرا دیں۔
رومی ہنسی روکتے ہوئے بولی،
“صرف آپ ہی اسے کنٹرول کر سکتی ہیں۔ ہماری بات تو یہ سنتی ہی نہیں۔ صبح سے اٹھا رہی تھی، لیکن یہ ‘پانچ منٹ اور’ سے آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔”
پری صرف ہلکا سا مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔رومی اس کی مسکراہٹ تو نہیں دے سکی لیکن اس کی انکھوں سے لگ رہا تھا کہ اس کا موڈ اچھا ہے۔۔۔
کچھ دیر بعد دونوں نیچے ڈائننگ ایریا میں پہنچیں، جہاں سب لوگ ناشتے کی میز پر موجود تھے۔ دس منٹ بعد ہنی بھی پوری طرح تیار ہو کر دوڑتی ہوئی نیچے آ گئی اور سب کے درمیان آ کر بیٹھ گئی۔
پری نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا، پھر خاموشی سے اپنی پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئی۔
ایک ہاتھ سے وہ ناشتہ کر رہی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ سے موبائل پر اپنے کام کی اپڈیٹس چیک کر رہی تھی۔
اسی دوران ننھی آیت اس کے پاس آ کر معصومیت سے پری کی طرف دیکھ رہی تھی وہ بھی بول تو نہیں سکتی تھی لیکن سمجھ نہیں ا رہی تھی وہ کیا کہہ رہی ہے۔۔ ،
پری نے فوراً موبائل الٹا کر کے میز پر رکھ دیا، اپنی ساری توجہ بچی کی طرف کی اور مسکراتے ہوئے اسے گود میں بٹھا لیا۔
“آؤ، میری شہزادی۔”اسی ٹائم نور آتی ہے کہتی ہے ۔ اس کو بھوک لگی ہوگی ۔۔۔۔جس پر پری کہتی ہے۔۔ میں کھلاتی ہوں تم دو مجھے۔ ایک چھوٹی پلیٹ لا کر پری کے سامنے رکھ دی۔
پری نے بچی کواس کی چھوٹی چمچ سے اس سے سری لک کھلایا ، پھر خود بھی ناشتہ کرتی رہی۔ میز پر بیٹھے سب لوگ یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
کیونکہ پری بہت کم کسی کو لارڈ بھی کرتی ہے اور کھلاتی بھی ہے۔۔۔
نور نے مسکراتے ہوئے پری کی گود میں بیٹھی اپنی بیٹی کو دیکھا ۔۔۔افی نے میر خان کو دیکھا جو رومی کے ہاتھ سے ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔آج کل اس کی رومی کے ساتھ اچھی دوستی ہو گئی تھی۔۔۔
اسی دوران افی بولی۔۔کیا تم میر خان کو سکول چھوڑ دو گی۔۔۔
ہاں۔ میری کلاس آج تھوڑی لیٹ ہے۔”
افی نے سکون کا سانس لیتے ہوئے کہا،
“اوکے، تھینک یو۔۔۔ آج میری میٹنگ ہے، اس لیے وقت پر پہنچنا ضروری ہے۔”
نور کہتی ہے کوئی بات نہیں۔۔
پری نے سب کو خدا حافظ کہا اور باہر کی طرف بڑھ گئی۔ دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے مڑ کر رومی اور ہنی سے کہا،
“ڈیڑھ بجے تم دونوں کی ہماری ٹیم کے ساتھ میٹنگ ہے، وقت پر پہنچ جانا۔”
دونوں نے فوراً سر ہلایا۔
“اوکے، ہم وقت پر پہنچ جائیں گے۔”افی بھی سب کو خدا حافظ کہہ کے پری کے ساتھ باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔
پری باہر آ کر گاڑی میں بیٹھی، انجن اسٹارٹ ہی کیا تھا کہ اچانک پچھلا دروازہ کھلا اور اینا تیزی سے آ کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔
پری نے ریئر ویو مرر میں اسے دیکھا اور بھنویں اٹھائیں۔
“تم؟ کہاں؟؟
اینا نے آرام سے بیگ ایک طرف رکھتے ہوئے کہا،
“مجھے راستے میں ڈراپ کر دینا۔”یہ افی نے پیچھے مڑ کر اسےحیرت سے دیکھا۔۔
پری نے گاڑی آگے بڑھائی، پھر اچانک پوچھا،
“اور تمہاری وہ ‘شہزادی’ جانے من کہاں ہے؟”
اینا ہلکا سا مسکرائی۔
“ایک دوست کو ایمرجنسی میں ضرورت تھی، اس لیے اسے دے دی۔”
پری کی نظریں چند لمحے اس کے چہرے پر ٹکی رہیں، جیسے اندازہ لگا رہی ہو کہ وہ سچ بول رہی ہے یا کچھ چھپا رہی ہے۔ مگر اس نے کچھ نہیں کہا اور خاموشی سے گاڑی سڑک پر لے آئی۔
کچھ لمحوں بعد افی نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے چھیڑا،
“عجیب بات ہے۔ اپنی شہزادی کو تم ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتی، اور آج پوری بائیک ہی دے دی؟”
اینا نے کندھے اچکائے۔جبکہ پری اور افی نے ایک دوسرے سے نظروں کا مطالبہ کیا
“ضرورت تھی۔ اس لیے دے دی۔ واپس آ جائے گی، تو جا کر لے آؤں گی۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد پری نے سنجیدگی سے پوچھا،
“کوئی اپڈیٹ؟”
اینا کا چہرہ بھی سنجیدہ ہو گیا۔
“ہاں۔ تم نے جس پر نظر رکھنے کو کہا تھا، اس کے بارے میں کافی کچھ پتا چلا ہے۔”میں نے تمہیں بھیج دیا ہے دیکھ لینا۔۔
پری خاموشی سے سنتی رہی۔
“عائشہ کو اس راستے پر ڈالنے والی اصل میں صرف ایک ہی لڑکی ہے… منال۔”
“منال؟”
“ہاں۔ وہ سہیل کی کزن ہے۔ سہیل اس کے مامو کا بیٹا ہے۔۔۔
حیرت کی بات ہے۔۔ وہ اپنے مامو کے ساتھ رہتی ہے اپنے ماں باپ کو چھوڑ کے۔۔ بگڑی ہوئی اولاد۔ اس کی سوچ ہی عجیب ہے۔ وہ عائشہ کو یہی سمجھاتی رہی کہ کسی امیر آدمی سے شادی کر لو، پھر نہ کام کرنے کی ضرورت پڑے گی، نہ کسی چیز کی فکر ہوگی۔ سارے شوق پورے ہوں گے۔ محبت میں رکھا ہی کیا ہے؟ اصل چیز صرف پیسہ ہے۔”
اینا نے تلخی سے سانس خارج کی۔
“اور ہماری عائشہ… اسے تو اسانی سے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ اس کی باتوں میں آ کر اس لڑکے کو پسند کر بیٹھی۔”
“وہ لڑکا کیسا ہے؟”
“اچھا نہیں۔ آئے دن نئی لڑکیوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ٹک ٹاک بناتا ہے بہت سی لڑکیوں سے پسند کرتی ہیں ٹک ٹاک کی ویڈیو سے۔۔۔ مختلف لڑکیوں کے ساتھ ٹک ٹاک کی ویڈیوز بناتا ہے اور اسی میں خوش ہو جاتی ہیں۔۔۔کیونکہ ٹک ٹاک پر وہ بہت فیمس ہے۔۔۔۔ اس کا ریکارڈ بالکل صاف نہیں۔”عائشہ نے بھی اسے ٹک ٹاک پر دیکھا اور پھر یونیورسٹی میں بھی۔۔۔
پری کی گرفت اسٹیئرنگ پر مضبوط ہو گئی۔
“اس پر مسلسل نظر رکھو۔ اگر کوئی بھی گڑبڑ محسوس ہو تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر مجھے فون کرنا۔”
اینا نے سنجیدگی سے سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے۔”
افی نے اچانک ہنستے ہوئے لمبی سانس بھری اور مذاقیہ انداز میں بولی۔۔۔کیا فضول سوچ ہے اس کی۔۔۔
“ہم بھی نا… ہم کیوں اتنی محنت کر رہے ہیں۔۔ دوسروں کے لیے جان توڑ محنت کر رہے ہیں۔ تو کیا ہمیں بھی کوئی امیر لڑکا پسند کرنا چاہیے ۔۔۔ جو ہمارے نخرے اٹھائے، سارے خرچے پورے کرے اور ہمیں سکون کی زندگی دے دے۔”
افی کی بات سن کر اینا بےاختیار ہنس پڑی۔بات تو صحیح ہے۔۔۔
“تو پھر دیر کس بات کی؟ ڈھونڈنا شروع کر دو۔”
گاڑی ایک موڑ پر آ کر رکی۔
“اوکے، بس مجھے یہیں ڈراپ کر دو۔” اینا نے دروازہ کھولا اور باہر نکلتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔ شرارت سے کہا،
“ویسے… آئیڈیا اتنا برا بھی نہیں ہے۔ ایک چانس تو بنتا ہے۔”
افی نے قہقہہ لگایا۔تو لو چانس تم۔۔۔
“چانس تو لے لوں، لیکن آج کل زیادہ تر امیر لڑکے خود ہی بگڑے ہوئے ملتے ہیں۔”
دونوں ایک ساتھ ہنس پڑیں۔
اینا نے دروازہ بند کیا اور ہاتھ ہلاتے ہوئے بولی،
“اوکے، بائے!”
“خیال سے جانا۔”
پری نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
اینا گلی کی طرف مڑ کر چلنے لگی، مگر چند قدم بعد پری نے گاڑی آگے بڑھانے کے بجائے وہیں روک لی اور ریئر ویو مرر سے اینا کو دیکھنے لگی۔
افی نے حیرانی سے پوچھا،
“کیا ہوا؟”
پری نے ہونٹ دباتے ہوئے مسکراہٹ چھپائی۔
“مجھے تو لگتا ہے… اس کی بائیک کسی دوست کے پاس نہیں، سیدھی اس کے سسرال میں کھڑی ہے۔”
افی نے پہلے تو حیرت سے پری کو دیکھا، پھر سامنے جاتی ہوئی اینا پر نظر ڈالی۔ اگلے ہی لمحے وہ بات سمجھ گئی۔
“اوہ… اچھا! اب سمجھ آئی۔”
وہ زور سے ہنس پڑی۔
“اس لڑکی کا تو واقعی کچھ نہیں ہو سکتا۔”
پری بھی ہلکا سا مسکرائی، گاڑی دوبارہ سڑک پر لے آئی اور دونوں ہنستے ہوئے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئیں۔۔۔۔۔
————————————-
12.
جب سے صبح اسے انٹرویو کے لیے کال آئی تھی، تب سے وہ بےحد پریشان تھی۔ وہ اپنے کمرے میں بےچینی سے کبھی اِدھر تو کبھی اُدھر چکر لگا رہی تھی کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس کی آنکھوں میں چمک آئی اور وہ فوراً کمرے سے باہر نکل گئی۔
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ اوپر والے حصے کی طرف بڑھی۔ ابھی وہ راہداری میں پہنچی ہی تھی کہ سامنے سے ایک ملازمہ ٹرے میں جوس لیے آتی دکھائی دی۔ اس نے فوراً ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“یہ کس کے لیے ہے؟” اس نے ٹرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“چھوٹے بیگم صاحبہ… یہ عرشمان سر کے لیے ہے۔” ملازمہ نے ادب سے جواب دیا۔
“اچھا، مجھے دو۔ میں لے جاتی ہوں۔”
“لیکن بیگم صاحبہ…”
“ش… تم نیچے جاؤ، میں دے دوں گی۔”
ملازمہ ہچکچاتے ہوئے نیچے چلی گئی اور وہ ٹرے اٹھائے آگے بڑھ گئی۔
اسی لمحے اس کا بھائی جم روم سے باہر نکلا۔ اسے دیکھتے ہی وہ فوراً ٹرے میں سے جوس کا گلاس اٹھا کر اس کی طرف بڑھانے لگی۔
اس نے آنکھیں سکیڑ کر پہلے جوس کے گلاس کو دیکھا، پھر اپنی بہن کو، جیسے خاموشی سے پوچھ رہا ہو، اب کیا نیا چکر ہے؟
“پہلے جوس پی لیں۔” اس نے معصوم بنتے ہوئے کہا۔
“تم کیوں لے کر آئی ہو؟”
اس نے کوئی جواب نہ دیا، بس مسکراتی رہی۔
آخرکار اس نے پورا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کیا اور خالی گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،
“اب بتاؤ… کیا چاہیے تمہیں؟”
وہ فوراً خوش ہو کر بولی،
“بس ایک چھوٹا سا کام… بہت ہی چھوٹا سا۔”
وہ ہلکا سا ہنسا۔
“تمہارا ‘چھوٹا سا کام’ ہمیشہ بہت بڑا نکلتا ہے۔ کتنے پیسے چاہیے؟”
“نہیں، نہیں! پیسے نہیں چاہیے۔”
“تو پھر کیا چاہیے؟”
وہ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگی جبکہ وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“بس… ایک انٹرویو۔”
وہ یکدم رک گیا اور پلٹ کر اسے دیکھا۔
“تمہیں میرا انٹرویو کیوں چاہیے؟”
وہ فوراً بولی،
“کیوں نہیں چاہیے؟ لوگ آپ کا انٹرویو لینے کے لیے ترستے ہیں۔ اتنے مشہور بزنس مین ہیں آپ، پاکستان آ کر اتنا بڑا بزنس کھڑا کیا ہے۔ سب جاننا چاہتے ہیں آپ کے بارے میں… اور ویسے بھی، اتنے ہینڈسم بھی تو ہیں آپ۔”
اس کی مسلسل تعریفیں سن کر بھی اس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہ آیا۔
“نہیں۔ بالکل نہیں۔ چاہے جتنی مرضی تعریفیں کر لو، میں انٹرویو نہیں دوں گا۔”
اس نے فوراً منت بھرے انداز میں کہا،
“بھائی… میری نوکری کا سوال ہے۔ پلیز، صرف ایک بار۔ اپنی بہن کے لیے اتنا بھی نہیں کریں گے؟”
وہ جانتا تھا کہ اس کی یہ ساری معصومیت اور جذباتی باتیں صرف ڈراما ہیں، مگر پھر بھی اپنے فیصلے پر قائم رہا۔
“نہیں، مطلب نہیں۔”
یہ کہہ کر وہ واش روم کی طرف بڑھا تو وہ فوراً اس کے پیچھے چل پڑی۔
اس نے حیران ہو کر مڑ کر دیکھا۔
“کیا تم واش روم میں بھی انٹرویو لیتی ہوں۔۔
وہ فوراً شرمندہ ہو کر دو قدم پیچھے ہٹی اور ہنستے ہوئے بولی،
“نہیں… اب یہاں تک ہی ٹھیک ہے۔”
وہ جھنجھلا کر وہیں کھڑی ہو گئی اور دونوں ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے بڑبڑانے لگی۔
“افف… آپ دونوں بھی کتنے عجیب ہیں۔ مجھے بھی نہ، نہ جانے باس نے کس چکر میں پھنسا دیا۔ دونوں ہی ایسے لوگ ہیں جو انٹرویو دینے کا نام ہی نہیں لیتے۔ آخر میں آپ دونوں کا انٹرویو لوں تو کیسے؟ آپ بھی راضی نہیں… ۔ اب میں کیا کروں؟ میری تو نوکری کا سوال ہے۔”
واش روم کے دروازے پر کھڑا اور عرشمان اندر جانے ہی والا تھا کہ اس کی بات سن کر رک گیا۔ اس نے پلٹ کر اسے دیکھا اور بھنویں سکیڑتے ہوئے بولا،
“دوسرا کون ہے؟ کس کا انٹرویو لینا ہے تمہیں؟”
وہ بےاختیار منہ بنا کر بولی،
“ہے… آپ ہی کی طرح ایک کھڑوس۔”
عرشمان نے ایک بھنو اٹھائی اور خاموشی سے اسے دیکھا، جیسے صرف نگاہوں سے پوچھ رہا ہو،
“نام؟”
وہ فوراً سمجھ گئی کہ وہ کیا جاننا چاہتا ہے۔
“وہی…”ائی جی کی کمپنی کے اونر۔۔یہ سنتے ہی وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا اور بولا۔
“وہی۔۔۔۔۔۔جس کی کمپنی کا ہمارے ساتھ مقابلہ چل رہا ہے؟”
“جی، وہی۔” سر ہلاتے ہوئے کہا۔ “وہ بھی بالکل آپ کی طرح ہے۔ آج تک اس نے کسی کو ایک بھی انٹرویو نہیں دیا۔ انٹرویو تو دور کی بات، وہ نہ کسی سے ملتی ہے اور نہ ہی کسی سے بات کرتی ہے۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا اور بولا، “انٹرسٹنگ… پھر تو مقابلہ واقعی دلچسپ ہوگا۔”
یہ کہتے ہوئے وہ چند لمحے سوچ میں ڈوب گیا، پھر اچانک بنا کچھ کہے تیزی سے واش روم کی طرف چلا گیا۔
وہ اسے جاتے ہوئے حیرت سے دیکھتی رہی۔
“بھائی کو اچانک کیا ہو گیا؟” اس نے آہستہ سے خود ہی بڑبڑایا۔۔۔
اس نے دل ہی دل میں سوچا، “ایک بار کوشش کرنے میں آخر کیا حرج ہے؟
وہ باہر جانے ہی والی آتی اس کی نظر بھائی کے والٹ پر پڑ گئی اس کے دماغ میں شرارت ائی ۔۔۔۔اب مزہ ائے گا مجھے انٹرویو نہ دینے کا انجام۔۔۔
یہ سوچ کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔
زرنش نے ایک گہرا سانس لیا، پھر ہمت جمع کرتے ہوئے شیشے کا دروازہ دھکیل کر کمپنی کے اندر قدم رکھا۔
وسیع لابی میں ہر طرف مصروفیت کا عالم تھا۔ کوئی تیز قدموں سے ایک طرف جا رہا تھا، کوئی فائلیں ہاتھ میں لیے دوسری جانب بڑھ رہا تھا۔ ہر شخص اپنے کام میں مگن دکھائی دیتا تھا۔
زرنش نے خود کو سنبھالا اور سیدھی ریسپشن کی طرف بڑھ گئی۔
ریسپشن پر بیٹھی لڑکی ایک ہاتھ سے کمپیوٹر پر کام کر رہی تھی جبکہ دوسرے ہاتھ میں فون تھامے کسی سے بات کر رہی تھی۔ کال ختم ہوتے ہی اس نے مسکراتے ہوئے نظریں اٹھائیں۔
“جی میم، کیسے ہیلپ کر سکتی ہوں؟”
“کیا کمپنی کی اونر موجود ہیں؟”
“جی میم، موجود ہیں، لیکن اس وقت میٹنگ میں ہیں۔ کیا آپ کی اپائنٹمنٹ ہے؟”
زرنش نے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا۔
… میں ایک ٹی وی چینل کی اینکر ہوں۔ میں ان کا انٹرویو لینا چاہتی ہوں۔”
ریسپشنسٹ نے پیشہ ورانہ انداز میں پوچھا،
“کیا آپ نے پہلے سے اپائنٹمنٹ لی تھی؟”
“نہیں… لیکن پلیز، ایک بار ان سے بات کروا دیں۔”
“سوری میم، اپائنٹمنٹ کے بغیر ملاقات ممکن نہیں… پھر بھی میں ایک بار کنفرم کر لیتی ہوں۔”
اس نے فوراً اندر فون ملایا۔
“میم، ایک ٹی وی چینل سے اینکر آئی ہیں۔ آپ کا انٹرویو لینا چاہتی ہیں۔”
چند لمحے خاموشی رہی، پھر دوسری طرف سے صرف ایک مختصر سا جواب آیا۔
“نہیں۔”
ریسپشنسٹ نے فون رکھ دیا اور معذرت خواہ لہجے میں بولی،
“سوری میم، آپ اپائنٹمنٹ کے بغیر نہیں مل سکتیں۔”
زرنش نے مایوسی سے ایک آہ بھری اور وہیں کھڑی سوچنے لگی کہ اب کیا کرے۔
اسی لمحے سامنے والے کوریڈور سے آرزو، جو پری کی سیکریٹری تھی، کسی اہم موضوع پر بات کرتے ہوئے افی کے ساتھ چلی آ رہی تھی۔
زرنش کی نظر ان دونوں پر پڑی تو اس کی آنکھوں میں امید چمک اٹھی۔
“شاید یہی کمپنی کی اونر ہیں!”ڈریسنگ سے تو یہی لگتا ہے۔۔
یہ سوچتے ہی وہ تیزی سے ان کی طرف بڑھ گئی۔
“میم! پلیز رک جائیں!” ریسپشنسٹ بھی گھبرا کر اس کے پیچھے دوڑی، “آگے جانا الاؤڈ نہیں ہے!”
لیکن زرنش تب تک افی اور آرزو کے سامنے پہنچ چکی تھی۔
دونوں نے اچانک راستہ روکنے والی لڑکی کو حیرت سے دیکھا۔
زرنش نے جلدی سے کہا،
“پلیز میم… مجھے آپ کا صرف پانچ منٹ کا انٹرویو چاہیے۔”
افی نے حیرانی سے اسے دیکھا۔۔ پھر آرزو کی طرف نظریں ملائیں۔
زرنش کو یہی گمان تھا کہ افی ہی کمپنی کی اونر ہے۔
“صرف پانچ منٹ…” اس نے التجا کی، “میں اپنے ٹی وی چینل سے آئی ہوں۔ پلیز، صرف پانچ منٹ دے دیجیے۔”پانچ منٹ سے زیادہ وقت نہیں لوں گی۔۔
افی ابھی خاموش ہی تھی کہ آرزو نے سخت لہجے میں جواب دیا،
“سوری، ہماری کمپنی کسی قسم کے انٹرویوز نہیں دیتی۔ اور اس طرح راستہ روکنا بھی مناسب نہیں۔ ہماری میٹنگ ہے، پلیز ہمیں جانے دیں۔”
اتنا کہہ کر دونوں آگے بڑھ گئیں۔۔۔افی کچھ نہیں بولی۔۔
زرنش وہیں کھڑی رہ گئی۔
“کیا مصیبت ہے!” اس نے جھنجھلا کر خود سے کہا۔
ریسپشنسٹ دوبارہ اس کے قریب آئی۔
“میم، پلیز… آپ اب آفس سے باہر چلی جائیں۔”
زرنش نے غصے بھری ایک نظر اس پر ڈالی اور خاموشی سے باہر نکل گئی۔
جیسے ہی وہ آفس بلڈنگ سے باہر آئی، اچانک اسے کچھ یاد آیا۔
“ارے… یہاں تو پری بھی جاب کرتی ہے!”شاید وہ کچھ ائیڈیا دے دے مجھے۔۔۔
“چلو، اسی بہانے اس سے بھی مل لیتی ہوں… کم از کم اپنا دکھڑا تو سنا دوں۔”
اس نے فوراً پری کو کال ملائی۔
ادھر پری اپنے کیبن میں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی مسلسل کام میں مصروف تھی۔ فون بجا تو اس نے اسکرین دیکھے بغیر ہی کال ریسیو کر لی۔
“ہاں، بولو۔”
زرنش نے جلدی جلدی کچھ کہا۔
پری نے مختصر سا جواب دیا،
“اوکے… میں آ رہی ہوں۔”
اسی وقت افی اور آرزو میٹنگ کے لیے کیبن میں داخل ہوئے۔
پری نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا،
“تم لوگ سنبھالو، میں ابھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔”
دونوں نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“اچانک کہاں جا رہی ہے؟”
مگر پری کچھ بھی کہے بنا باہر نکل گئی۔
چند ہی منٹ بعد وہ سامنے والے ریسٹورنٹ میں داخل ہوئی۔
زرنش پہلے ہی ایک ٹیبل پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔
پری اس کے قریب پہنچی اور ہلکے سے ٹیبل پر انگلیوں کی دستک دی۔
“ہاں جی…
زرنش نے فوراً منہ بنایا۔اسے دیکھ کر پری پوچھ بیٹھی کیا ہو گیا۔۔۔
“آج مت پوچھ… صبح سے میرا موڈ اتنا خراب ہے کہ بس!”
پری اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے ہلکا سا مسکرائی۔
“ایسا بھی کیا ہو گیا؟ اور تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
زرنش نے جھنجھلا کر دونوں ہاتھ میز پر رکھ دیے۔
“پوچھ مت… صبح سے میرے ساتھ ایک بھی کام ڈھنگ کا نہیں ہوا۔ لگتا ہے آج قسمت نے مجھ سے دشمنی کر لی ہے۔”
پری نے بھنویں اچکائیں۔۔۔۔
پری نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔
“اچھا، یہ تو بتاؤ… آخر ہوا کیا ہے؟”
اتنے میں ویٹر ان کی میز کے پاس آیا اور دو بڑے گلاسوں میں کولڈ کافی رکھ گیا، جس کے اوپر ونیلا آئس کریم کی نرم تہہ جمی ہوئی تھی۔
زرنش نے بات وہیں روک دی۔ ویٹر کے جاتے ہی اس نے فوراً کولڈ کافی کا گلاس اٹھایا اور ایک ہی سانس میں آدھی کافی پی گئی، جیسے صبح سے چڑھا سارا غصہ اسی کے ساتھ ٹھنڈا کرنا چاہتی ہو۔
گلاس واپس میز پر رکھتے ہوئے اس نے گہرا سانس لیا۔
“پھر بولنا شروع کیا…”
اور پھر صبح سے لے کر اب تک اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک ایک واقعہ پری کو تفصیل سے سنانا شروع کر دیا۔
ساری بات سننے کے بعد پری اسے گور کر دیکھا۔۔
وہ تو کچھ اور ہی سمجھی تھی شاید کچھ برا ہو گیا ہے۔۔۔
“ویسے کیا… تم واقعی آئی جی کمپنی کی اونر سے ملی تھیں؟”
زرنش نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ہاں، ملی تو تھی… لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ بالکل ویسی نہیں تھیں، جیسا میں نے ان کے بارے میں سن رکھا تھا۔”
پری نے تجسس سے پوچھا،
“کیا مطلب؟ تم نے ان کے بارے میں کیا سن رکھا تھا؟”
زرنش نے کولڈ کافی کا ایک اور گھونٹ لیا، پھر سنجیدگی سے بولی،
“میں نے تو ہمیشہ یہی سنا تھا کہ آئی جی کمپنی کی اونر پردہ کرتی ہیں۔ آج تک کسی نے انہیں دیکھا تک نہیں کہ وہ دکھنے میں کیسی ہیں۔ وہ ہمیشہ عبایا اور نقاب میں رہتی ہیں… لیکن آج میں نے تو انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔”
پری نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا،
“کہیں ایسا تو نہیں کہ تم کسی غلط انسان سے مل کر آئی ہو؟”
زرنش نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے براؤن کلر کا ڈریس پہنا ہوا تھا۔”
یہ سنتے ہی پری سب کچھ سمجھ گئی۔
“براؤن ڈریس… یعنی آج یہ افی سے مل کر آئی تھی۔۔۔اسے ہی اونر سمجھ بیٹھی۔”
لیکن اس نے اپنے تاثرات چہرے پر ظاہر نہیں ہونے دیے۔
اس نے پرسکون لہجے میں کہا،
“یقیناً تم کسی غلط انسان سے مل کر آئی ہو۔”
زرنش نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ وہی تھیں۔”
پری نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا،
“کیا پتا… وہ اونر تھیں بھی یا نہیں۔ تم جس سے ملی ہو، ممکن ہے وہ کمپنی کی کوئی اور اہم شخصیت ہو۔ کیونکہ جہاں تک میں جانتی ہوں، میں نے بھی اسے دیکھا ہے۔۔۔ وہ ہمیشہ عبایا اور نقاب میں ہی ہوتی ہیں۔”
زرنش چند لمحے سوچ میں پڑ گئی، پھر آہستہ سے بولی،
“ہاں… ہو سکتا ہے تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔”تو کیا میں غلط انسان سے مل کے اگئی وہیں سرپر پکڑ کے سوچنے لگی میں تو گئی کام سے۔۔وہ بھی مجھے بے وقوف سمجھ رہی ہوں گی۔۔
جس پر پری کچھ بھی نہیں کہتی اور وہ بھی کول کافی پیتی ہے نقاب کے اندر سے ہی۔۔جبکہ وہ سوچتی ہے۔۔۔۔یہ تو ٹیسٹی ہے یہ کڑوی نہیں ہے۔۔جب کہ اسے کافی بالکل بھی پسند نہیں تھی اسے بھی یہی لگا یہ کہیں کڑوی ہوگی۔۔۔۔۔
“میری جاب کا سوال ہے، پری۔ اور میرا باس۔۔۔۔۔۔ اُف! اتنا کھڑوس ہے کہ کسی کی بات سنتا ہی نہیں۔ بس ہر وقت آرڈر دیتا رہتا ہے۔”
وہ تھکے ہوئے لہجے میں ہنس دی۔
“ایک سال ہو گیا ہے مجھے یہاں کام کرتے ہوئے، لیکن سچ کہوں تو اب تنگ آ چکی ہوں۔”
چند لمحے خاموش رہ کر اس نے آہ بھری۔
“لیکن کیا کروں؟ اتنی محنت کے بعد یہ پوسٹ ملی ہے۔ اب اتنی آسانی سے چھوڑ بھی تو نہیں سکتی۔”
اس نے مایوسی سے سر جھکا لیا۔
جا کر باس کو سب سچ سچ بتاؤں گی۔ پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”
پری نے خاموشی سے سر ہلایا۔
“ہاں… ٹھیک ہے۔”
اس کے لہجے میں اطمینان تھا۔۔۔۔
پری چند لمحے خاموش رہی۔۔۔ پھر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
“ویسے… میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔”
زرنش فوراً سیدھی ہو کر بیٹھی۔
“کیا؟ جلدی بتاؤ!”
پری نے سکون سے کہا،
“تمہیں تو پتا ہے نا کہ ائی سی کمپنی نے تین نئی کمپنیاں مقابلے کے لیے چوز کیا ہے۔۔۔
زرنش نے سر ہلایا۔
“ہاں، اتنا تو سنا ہے۔”
“تو تین دن بعد انہی تینوں کمپنیوں کے درمیان ایک بڑا مقابلہ ہونے والا ہے۔ ہر کمپنی اپنی پرفارمنس اور پروجیکٹس پریزنٹ کرے گی، اور کافی بڑی بڑی کمپنیاں، مہمان اور میڈیا بھی وہاں موجود ہوں گے۔”
پری نے بات جاری رکھی۔
“میرا خیال ہے تمہیں اس ایونٹ میں آنا چاہیے۔ وہاں تمہیں اپنی رپورٹ کے لیے کافی اچھا میٹیریل مل جائے گا۔ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو کمپنی کے کسی بڑے نمائندے سے بھی بات کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔”
پری نے حسبِ معمول اپنی اصل پہچان چھپائے رکھی۔ اس نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ خود اسی کمپنی کی اونر ہے۔۔۔
زرنش کی آنکھوں میں امید جاگ اٹھی۔
“ارے… یہ تو میرے دماغ میں آیا ہی نہیں تھا!”
پھر اس نے فوراً پوچھا،
“یہ ایونٹ کتنے دن بعد ہے؟”
“تین دن بعد۔”
“زبردست! شاید میری جاب بھی بچ جائے۔ کم از کم میرے باس کو لگے گا کہ میں خالی ہاتھ واپس نہیں آئی۔”
اچانک وہ رکی اور پری کی طرف دیکھ کر بولی،
“لیکن… میں اندر جاؤں گی کیسے؟ آج تو مجھے آفس کے اندر بھی نہیں جانے دیا گیا۔”تو اس کمپنی میں کیسے انٹر ہوں گی اس کے لیے تو کارڈ چاہیے۔۔
پری نے پُراعتماد لہجے میں کہا،
“وہ فکر تم مجھ پر چھوڑ دو۔ تمہاری انٹری کی ذمہ داری میری۔”
“سچ؟”
“ہاں، تم بس وقت پر پہنچ جانا۔”
زرنش مسکرا دی۔
“فرینڈ ہو تو تم جیسی۔”
پھر شرارتی انداز میں بولی،
“ویسے تم بھی وہاں ہو گی نا؟”
پری نے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا،
“ہاں، مجھے بھی وہاں ہونا ہے، اس لیے تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔
زرنش کے چہرے پر ایک بار پھر مسکراہٹ لوٹ آئی۔
“ویسے مجھے پتا تھا، تم سے مل کر کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہوگا۔ تم ہمیشہ کوئی نہ کوئی اچھا آئیڈیا دے ہی دیتی ہو۔”
دادی صحیح کہتی ہیں کہ ایک اچھے دوست قسمت سے ملتا ہے۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا،
“تھینک یو سو مچ!”
پری بھی ہلکے سے مسکرا دی۔
“کوئی بات نہیں۔”
مگر اس کی نظریں چند لمحوں کے لیے کہیں کھو گئیں۔
اس کے ذہن میں دو سال پرانی ایک یاد تازہ ہو گئی…
وہ بھی ایسا ہی ایک دن تھا۔
اسی ریسٹورنٹ کے ایک کونے میں ایک لڑکی بیٹھی تھی، جس کے سامنے ایک نوجوان غصے سے کھڑا اسے مسلسل ڈانٹ رہا تھا، جبکہ وہ خاموشی سے سر جھکائے اس کی ہر بات سن رہی تھی۔
وہ لڑکی… زرنش تھی۔
اور وہیں سے پہلی بار پری کی ملاقات زرنش سے ہوئی تھی۔
پری اپنی میز پر خاموشی سے بیٹھی لیپ ٹاپ پر اپنا کام کر رہی تھی گرینڈ کے جانے کے بعد باہر بارش لگی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ ابھی تک افس نہیں جا سکی تھی۔۔ کہ اچانک برابر والی ٹیبل سے آوازوں نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔
وہ دونوں اتنے قریب بیٹھے تھے کہ ان کی ایک ایک بات صاف سنائی دے رہی تھی۔
سامنے ایک نوجوان غصے سے زرنش کو دیکھ رہا تھا، جبکہ زرنش سر جھکائے خاموش بیٹھی تھی۔
“آخر تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟” اس نے سخت لہجے میں کہا۔ “صرف اس لیے کہ تم کسی امیر باپ کی بیٹی ہو، تمہیں لگتا ہے جو چاہو گی، حاصل کر لو گی؟”
زرنش خاموش رہی۔
“تمہیں کیا لگا تھا؟ مجھے تمہاری اس شرط کے بارے میں کبھی پتا نہیں چلے گا؟ تم لوگوں نے آپس میں شرط لگائی تھی کہ تم مجھے پٹا کر دکھاؤ گی!”
اس کی آواز میں غصہ صاف جھلک رہا تھا۔
“میں تمہیں پہلے بھی صاف صاف کہہ چکا ہوں، نہ تم مجھے پسند ہو، نہ مجھے تم سے دوستی کرنے میں کوئی دلچسپی ہے۔ لیکن اس کے باوجود تم روز میرے پیچھے پڑی رہتی ہو۔ آخر اتنی ہمت کیسے ہوئی میری فیملی تک جانے کی ۔
“تم لوگوں کے لیے عزت شاید صرف پیسوں جتنی قیمت رکھتی ہو… جب چاہو خرید لو، جب چاہو روند دو۔ مگر ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں کے لیے عزت سب کچھ ہوتی ہے۔۔ آخر تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہ تصاویر پوسٹ کرنے کی؟ جواب دو!”
اس کی آواز غصے سے کانپ رہی تھی، جبکہ آنکھوں میں بے بسی صاف جھلک رہی تھی۔
زرنش لب کھول کر کچھ کہنا چاہتی تھی، مگر الفاظ جیسے اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر یہ سب ہوا کیسے۔ اس نے تو صرف تصویریں کھینچی تھیں، نہ انہیں سوشل میڈیا پر ڈالنے کا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی اس نے کوئی تصویر پوسٹ کی تھی۔
مگر وہ اس کی کوئی بھی بات سن ہی نہیں رہا تھا۔۔
غصہ، الزام اور نفرت کے طوفان نے اسے گھیر رکھا تھا، اور وہ خاموش کھڑی صرف سب کے الزامات سہنے پر مجبور تھی۔۔۔
زرنش کی نظریں جھکی رہیں۔
کیونکہ… وہ جو کچھ کہہ رہا تھا، غلط نہیں تھا۔
اپنی سہیلیوں کی باتوں میں آ کر واقعی اس نے شرط لگائی تھی۔
وہ لڑکا اپنی پڑھائی میں مگن رہنے والا، سنجیدہ مزاج انسان تھا۔ نہ کسی لڑکی کو لفٹ دیتا، نہ غیرضروری دوستی کرتا۔ اسے صرف اپنی منزل اور اپنے خوابوں سے مطلب تھا۔
جب زرنش نے اس سے دوستی کی پیشکش کی تو اس نے نہایت صاف لفظوں میں انکار کر دیا تھا۔
اور شاید یہی بات زرنش کی انا کو چبھ گئی تھی۔
اسی ضد میں وہ اس کے پیچھے پڑ گئی تھی۔
لڑکے نے تلخ لہجے میں کہا،
“تم جیسی لڑکی کبھی کسی کا مقدر نہیں بدل سکتی۔ تمہیں اپنے حسن، اپنی دولت اور اپنی حیثیت پر بہت غرور ہے۔”
وہ غصے میں اپنی حد سے بھی آگے نکل چکا تھا۔
میرے پاس تم جیسی امیر لڑکیوں کے فضول ڈراموں کے لیے نہ وقت ہے، نہ دلچسپی۔ وہ پوسٹ ڈیلیٹ کر ابھی۔اس پر زنش کہتی ہے وہ پوسٹ میں نے نہیں کی تو میں یقین کیوں نہیں آتا۔
اس نے ایک سرد نظر زرنش پر ڈالی۔
“آج کے بعد… خدا کے لیے میرے راستے میں مت آنا، اور نہ کبھی ایسی فضول حرکت کرنے کی کوشش کرنا۔
“ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ مڑا اور وہاں سے چلا گیا۔
زرنش وہیں بیٹھی رہ گئی۔
اس کی آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہنے لگے۔
آج پہلی بار اسے شدت سے احساس ہوا تھا کہ اس نے واقعی بہت بڑی غلطی کی ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر… سب کے سامنے ہونے والی اس بےعزتی نے اس کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔۔۔۔۔جن لڑکیوں کے ساتھ اس نے مل کر کیا تو وہ تو ریسٹورنٹ کے باہر سے ہی بھاگ گئی تھی دیکھ کر۔۔۔اسے یہ تک نہیں پتہ تھا یہ کس نے کیا ہے۔۔۔۔۔
زرنش وہیں کرسی پر بیٹھی گئی ۔۔۔ اس نے کہنیاں میز پر ٹکا رکھی تھیں اور دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپا کر خاموشی سے رو رہی تھی۔
اس نے ایک نظر زرنش کو دیکھا، پھر خاموشی سے اپنی میز پر رکھی پانی کی بوتل اٹھائی۔۔۔۔۔، اس کے سامنے جا کر رکھ دی اور ساتھ ہی ٹشو باکس بھی اس کی طرف سرکا دیا۔
زرنش چونک کر سیدھی ہوئی۔ آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ اس نے سامنے کھڑی پری کو دیکھا۔
مگر پری نے کچھ نہیں کہا۔
وہ خاموشی سے اس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گئی اور اپنا لیپ ٹاپ ٹیبل کے اوپر رکھ کر۔۔
لیپ ٹاپ دوبارہ کھولا اور جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔
زرنش پہلے حیرت سے اسے دیکھتی رہی، پھر دوبارہ سر جھکا کر جتنا دل چاہا روتی رہی۔۔۔۔
کافی دیر گزر گئی۔
جب پری نے دوبارہ سر اٹھایا تو دیکھا کہ زرنش اب پرسکون ہو چکی تھی۔ اس نے آنسو پونچھ لیے تھے۔۔۔۔۔
پری نے قریب کھڑے ویٹر کو اشارہ کیا۔
“ایک اسٹرابیری ڈیزرٹ پلیز۔”
چند ہی لمحوں بعد ویٹر پلیٹ رکھ گیا۔
پری نے خاموشی سے وہ پلیٹ زرنش کی طرف سرکا دی، جبکہ خود دوبارہ لیپ ٹاپ پر کام کرنے لگی۔
زرنش نے پہلے ڈیزرٹ کو دیکھا، پھر پری کو۔
چند لمحے تذبذب میں رہی، پھر آہستہ سے چمچ اٹھا کر کھانا شروع کر دیا۔
ہر نوالے کے ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو بھی بہہ رہے تھے۔
وہ کھا بھی رہی تھی… اور رو بھی رہی تھی۔
پری نے بےاختیار سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
نجانے کیوں اسے ہنی یاد آ گئی۔
وہ بھی جب ناراض یا دکھی ہوتی تو روتے روتے کچھ نہ کچھ کھانے لگتی تھی۔
پری کو آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی تھی کہ آخر کوئی انسان روتے ہوئے کھا کیسے سکتا ہے
وہ خاموشی سے مسکرا کر دوبارہ اپنے کام میں لگ گئی۔
جب زرنش نے پوری پلیٹ ختم کر کے چمچ رکھ دیا تو پری کی نظر اس پر پڑی۔
اس نے نرمی سے پوچھا،
“اور چاہیے؟”
زرنش نے خاموشی سے نفی میں سر ہلا دیا۔
پری نے بھی اسی لمحے اپنا لیپ ٹاپ بند کر دیا۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔
بارش موسلا دھار برس رہی تھی، اسی لیے وہ ابھی تک آفس واپس نہیں جا سکی تھی۔
ادھر زرنش مسلسل پری کو دیکھ رہی تھی۔
اس کے ذہن میں بار بار یہی سوال آ رہا تھا۔
“یہ لڑکی کون ہے؟”
نہ اس نے کوئی فضول سوال کیا، نہ تجسس دکھایا، نہ ہی میری بےعزتی پر کوئی تبصرہ۔
اس کی یہی خاموشی زرنش کو سب سے زیادہ حیران کر رہی تھی۔
پری کی نظریں اب بھی بارش پر جمی تھیں۔
اچانک اس نے دھیرے سے کہا،
“رونا… اچھا ہوتا ہے۔”
زرنش نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
پری نے کھڑکی سے نظریں ہٹائے بغیر بات جاری رکھی۔
“خاص طور پر اپنی غلطیوں پر۔ کیونکہ جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے، تو سب سے پہلے آنسو ہی نکلتے ہیں۔”
زرنش کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگ گئیں۔
پری نے اس کی کیفیت بھانپ لی۔
“ہر غلطی کی تلافی ہوتی ہے… اور ہر سچی معافی کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔”
وہ چند لمحے رکی، پھر بولی،
“اگر تمہیں واقعی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہے، تو جا کر اس شخص سے معافی مانگ لو۔”
زرنش نے دھیرے سے پوچھا،
“کیا میری غلطی… معافی کے قابل ہے؟”
پری ہلکا سا مسکرائی۔
“یہ فیصلہ وہ کرے گا، میں نہیں۔”
پھر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی،
“اللہ تعالیٰ تو انسان کی بڑی سے بڑی غلطی بھی معاف کر دیتا ہے، اگر بندہ سچے دل سے توبہ کرے۔ لیکن انسان… انسان کو معاف کرنے میں وقت لگاتا ہے۔”
اس نے زرنش کی طرف دیکھ کر نرمی سے کہا،
“لیکن کم از کم تم اس بوجھ سے آزاد ہو جاؤ گی کہ تم نے معافی مانگنے کی کوشش ہی نہیں کی۔”
زرنش خاموشی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
آج تک کسی نے اسے اس لہجے میں نہ سمجھایا تھا، نہ اس کی غلطی پر یوں سکون سے بات کی تھی۔
پری کی ہر بات سیدھی اس کے دل میں اترتی جا رہی تھی۔
اتنے میں بارش تھم گئی۔
پری نے موبائل نکال کر وقت دیکھا، پھر کھڑکی سے باہر ایک نظر ڈالی۔
“مجھے اب چلنا چاہیے۔”
بس اتنا کہہ کر وہ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے خاموشی سے وہاں سے چلی گئی۔
زرنش اپنی جگہ بیٹھی دیر تک اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی… دل میں بےشمار سوال لیے، جن کے جواب اسے ابھی بہت بعد میں ملنے والے تھے۔۔۔۔۔
اس کے ذہن میں بار بار وہی اجنبی لڑکی گھوم رہی تھی۔
“میں نے تو اس کا نام تک نہیں پوچھا… نہ ہی اسے شکریہ کہا۔ یہاں تک کہ اس نے جو ڈیزرٹ منگوایا، اس کی ادائیگی بھی خود کر کے چلی گئی، اور مجھے احساس تک نہیں ہونے دیا۔”
اپنے ہی خیالوں میں گم وہ پارکنگ ایریا کی طرف بڑھی، گاڑی کا دروازہ کھولا، مگر بیٹھنے سے پہلے ایک بار پھر ریسٹورنٹ کی طرف پلٹ کر دیکھا، جیسے امید ہو کہ شاید وہ پراسرار لڑکی ایک بار پھر نظر آ جائے۔
مگر وہاں اب کوئی نہیں تھا۔
اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری، گاڑی میں بیٹھی اور خاموشی سے گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔
گھر پہنچتے ہی وہ کسی سے بات کیے بغیر سیدھی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
بیگ لاپروائی سے بستر پر پھینکا اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ڈریسنگ مرر کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
کافی دیر تک وہ خاموشی سے خود کو آئینے میں دیکھتی رہی۔
اس کی نظروں کے سامنے بار بار اُس لڑکے کے الفاظ گونج رہے تھے…
“تمہیں اپنے حسن پر بہت غرور ہے…”
اور پھر…
“تم صرف ایک کمانڈی لڑکی ہو۔۔..”
ہر لفظ جیسے دوبارہ اس کے دل پر دستک دے رہا تھا۔
اس نے بےاختیار نظریں جھکا لیں۔
چند لمحوں بعد وہ گہرا سانس لے کر واش روم کی طرف بڑھی اور شاور کھول کر اس کے نیچے کھڑی ہو گئی۔
ٹھنڈے پانی کی پھوار اس کے وجود پر گر رہی تھی، مگر اس کے ذہن میں چلنے والے خیالات اب بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔۔
_________________________________
جاری ہے۔۔۔
