قصاص آخری قسط
از قلم ردا فاطمہ
ہیر خان کو 3 سال گزر گئے تھے ۔۔ وہ ابھی تک نیند میں تھی ۔۔ اُٹھ ہی نہیں رہی تھی ۔۔ ریحان اپنی بہن کا انتظار کر رہا تھا ۔۔ کامران اور بوڑھے نظر آنے لگے تھے ۔۔ ہیر کی امی بیمار رہتی تھی اور انتظار تھا کے بڑتا جا رہا تھا ۔۔ ہیر کو تو پتہ بھی نہیں تھا وہ آرام سے سو رہی تھی اور 3 سال سے جاگتے لوگوں کی زندگی میں کیا طوفان ا رہے تھے زر مان راجپوت لا پتہ تھا ۔۔ افق مصطفی مر گیا تھا قاسم خان پاکستان واپس نہیں آ سکتا تھا اُس کے ماں باپ اس کو ملنے جاتے تھے ۔۔ ریحان تنہا ہو گیا تھا ۔۔ جیل میں دلاور خان اپنی غلطی کی سزا کاٹ رہا تھا ۔۔ حیات کی رخصتی ہو گئی تھی۔۔ اور ہیر خان ۔۔ کہیں اپنی شادی کے دن میں ٹھہر گئی تھی ۔۔۔
وقت ہیر کے لیے روک گیا تھا ۔۔
ریحان اپنے بابا کا کام سنبھالنے لگ گیا تھا وہ اب زمینوں کا سارا کام سنبھلتا تھا ۔۔ وہ ہی زمینیں خریدتا تھا اور بیچتا تھا۔۔ پھر وہ ہیر کے لیے بھی وقت نکلتا تھا ۔۔ وہ افق کی امی کے گھر ہر دو دن بعد جاتا تھا ۔۔البتہ زر مان کی امی کو ریحان نے اپنے گھر ہی شفٹ کروا لیا تھا وہ کہتی رہ گئی کے وہ اپنے گھر میں رہ لے گی لیکن ریحان نہیں مانا ۔۔۔ ہاں ایک سب سے بڑی تبدیلی جو سب نے ریحان میں محسوس کی تھی وہ تھی اُس کی مسکراہٹ تھی وہ 3 سالوں میں ایک بار بھی نہیں ہنسا تھا ۔۔ ریحان کا بچپنا کہیں بہت پچھے رہ گیا تھا ۔۔۔
ریحان کے اج کچھ مہمان ا رہے تھے ترکی سے ریحان کو ایک زمین اُن کو دیکھانی تھی ۔۔ ریحان کے ذریعے اُس زمین کا سودا ہو رہا تھا ۔۔۔وہ زمین ریحان کی نہیں تھی ۔۔ بس کوئی کامران خان کا دور کا کوئی جان پہچان والا تھا اُس کی زمین تھی ۔۔ اور وہ اب اپنی زمین بیچنا چاہ رہا تھا ریحان کے مہمان شام کو پہنچنے تھے 7 بجے کے قریب اور ابھی 5 بج رہے تھے ریحان کو ائیر پورٹ پر جانا تھا اُن کو لینے اور ریحان اس وقت اپنے کمرے میں کھڑا تیار ہو رہا تھا ۔۔ اُس نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی ۔۔ ہاتھ میں گھڑی پہن رکھی تھی وہ تیار تھا ۔۔ پھر وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا اپنے بابا کو خدا حافظ کہا اور گھر سے باہر نکل گیا ۔۔۔
وہ لوگ 3 مہینے کے لیے ا رہے تھے اُن کو اپنے بچوں کو پاکستان بھی گھومنا تھا ۔۔ کچھ اُن کی ماں کی قبر پاکستان اسلام آباد میں تھی وہ اس لیے بھی ا رہے تھے ۔۔ اُن کو پاکستان میں ایک گھر بنانا تھا ۔۔ اور پھر اُن کی کیسی دوست نے ریحان کے بارے میں بتایا تھا ۔۔ پھر اُن کی ریحان سے بات ہوئی تھی ۔۔۔
ریحان ایئر پورٹ پر کھڑا ان کا انتظار کر رہا تھا ۔۔ دور سے پینٹ شرٹ پہنے کوئی 40 کے قریب کا ادمی چلتا ہوا ریحان تک ایا تھا ریحان نے بھی سامنے والے کو پہچان لیا تھا فون پر ویڈیو کال وغیرہ پر دیکھا تھا ۔۔ وہ چلتے ہوئے ریحان تک ائے ۔۔ پھر ریحان کے گلے لگے ۔۔ ساتھ میں اُن کے اُن کی بیٹی چلتی ا رہی تھی ۔۔ اور تھوڑا فاصلے پر اُن کا دراز قد بیٹا اور اُس کی ماں چلتی
ا رہی تھی ۔۔
وہ ریحان تک ائے۔۔ سلام دعا ہوئی اور ریحان ان کو اپنے گھر لے ایا ۔۔ کل ان کو زمینوں کے لیے نکلنا تھا اور پھر ریحان نے ان کو زمین دیکھانی تھی۔۔۔
ریحان ان کو گھر لے کے آیا اور ریحان نے ان کو ان سب کے کمرے دیکھا دیے وہ گریس فل ادمی اپنی بیوی کے ساتھ اپنے کمرے میں چلا گیا اور ان کے بچے اپنے کمروں میں ۔۔
اُس ادمی کی آنکھیں ہیزل تھی۔۔ اور اُس کی بیوی کی آنکھیں کانچ سی ۔۔ وہ اپنی بیوی کو صاحبہ کہتا تھا ۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں آیا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ا کے انہوں نے اپنی گھڑی اُتاری اور واشروم میں فریش ہونے چلا گیا ۔۔ ان کی بیوی بہت تھک گئی تھی اب اُن کو ارام کرنا تھا ۔۔
کچھ دیر بعد ان کا شوہر واشروم سے باہر ایا تو وہ شلوار قمیض میں تھا ۔۔ انس دوسرے کپڑے کہاں ہے اپ کے جو ابھی اتارے ہیں ۔۔۔؟
روبی صاحبہ وہ واشروم میں ہیں ۔۔
مجھے تو سمجھ نہیں اتی آپ کی یہ بری عادتیں کب ختم ہوں گی ۔۔ انس یہ ہمارا گھر نہیں ہے جو آپ یہاں وہاں کپڑے چھوڑ دیتے ہیں ۔۔
اب شروع نا ہو جانا روبی ۔۔ فلحلّ میں بہت تھک گیا ہوں تھوڑا ارام کروں گا ۔۔ پھر ڈنر کروں گا اور پھر صبح جلدی اُٹھ کر مجھے ریحان کے ساتھ سیالکوٹ کے لیے نکلنا ہے ۔۔
اروبا اپنے شوہر کو دیکھ کے رہ گئی وہ کیا چیز تھا ۔۔ اتنے سالوں بعد بھی وہ ویسا ہی لا پرواہ تھا ۔۔
ان کا بیٹا کمرے میں ارام سے لیٹا فون استعمال کر رہا تھا ۔۔ اُس کی زیادہ عمر نہیں تھی وہ 20 21 سال کا لگتا تھا ۔۔۔ اور اس کی بہن اس سے چھوٹی تھی ۔۔ وہ 16 ۔۔ 17 سال کی تھی ۔۔ اور بہت خاموش اور دھیمے مزاج کی لڑکی تھی جب کے ہارون قریشی ۔۔۔ وہ اپنے باپ پر گیا تھا اُس کا پسندیدہ انسان اُس کا تایا تھا ۔۔ جس کے نام پر اُس کا نام رکھا گیا تھا ہارون ابراہیم ۔۔
وہ بس پاکستان گھومنے ایا تھا ۔اور اس کا کوئی کام نہیں تھا ۔۔ اُس کو اپنے باپ کے ساتھ صبح سیالکوٹ جانا تھا ۔۔ اور پھر اس نے دو دن بعد واپس انا تھا ۔۔ اروبا اور اس کی بہن نے ریحان کے گھر پر ہی رہنا تھا ۔۔ ہاں اس کو آوارہ گردی کرنے کا بہت شوق تھا ۔۔۔
وہ غنگریالے بالوں والا صاف شکل لڑکا تھا ۔۔ وہ بچپن سے بہت مختلف تھا ۔۔ اُس کی اواز بھی بہت خوبصورت تھی ۔۔ ایک دم کڑک دار ۔۔ اور وہ کافی کا دیوانہ تھا ۔۔ اُس کو پرفیوم پسند تھے وہ کالے رنگ کے پچھے پاگل تھا ۔۔۔ وہ ہارون قریشی تھا ۔۔۔
رات کے وقت انس اور اس کی فیملی ڈنر پر ڈائننگ روم میں موجود تھے کامران خان اور اُن کی بیوی بھی ساتھ ہی تھی ۔۔ جب انس نے پوچھا ۔۔ کامران صاحب کیا ریحان آپ کا اکلوتا بیٹا ہے ۔۔
نہیں انس میری ایک بیٹی بھی ہے۔ اور ایک اور بیٹا بھی ہے ۔۔ انس پوچھے بنا رہ نا سکا کے وہ کہاں ہیں ۔۔
اچھا وہ کہاں ہے ڈنر نہیں کرنا کیا ۔۔؟
میری بیٹی کوما میں ہے 3 سال سے اور اس کے کوما میں جانے کی وجہ میرا اپنا بڑا بیٹا ہے اُس نے ہیر کی شادی والے دن ہیر کو مارنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ کامران انس کو بتا رہے تھے اور انس خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔ افسوس ہوا کامران صاحب ۔۔ انشاءاللہ وہ ٹھیک ہو جائے گی ۔۔ ڈنر کے بعد انس کمرے میں واپس اگیا تھا بچے سونے چلے گئے تھے ۔۔ اور انس کمرے میں بیٹھا ہیر کی باتیں کر رہا تھا ۔۔ جس کو کچھ دیر پہلے وہ ریحان کے ساتھ اُس کے کمرے میں دیکھ کے ائے تھے ۔۔
اتنی پیاری بچی ہے روبی وہ اللہ رحم کرے اس پر ۔۔ اور کامران بتا رہے تھے کے جس سے ہیرکی شادی ہونے والی تھی وہ لڑکا پاگل ہو گیاہے انس روبی سے بول رہا تھا ۔۔
ہاں نہ اپ دیکھیں انس کوئی محبت میں پاگل بھی ہو سکتا ہے ۔۔
میں بھی تو تمھاری محبت میں پاگل ہوں روبی صاحبہ ۔۔۔
انس روبی کے قریب چہرہ کرتا بولا تو روبی نے انس کو گھور کے دیکھا شرم کریں بوڑھے ہو گئے ہیں اب تک آپ کا عشق کا بخر کم نہیں ہوا ۔۔
روبی کی بات پر انس کی ہنسی نکل گئی اچھا چھوڑو سو جاتے ہیں اب مجھے صبح جلدی اُٹھنا ہے ۔۔ انس بولتا بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔ روبی نے انس کے بازو پر اپنا سر رکھا اور انس کی طرف کروٹ لے کے آنکھیں بند کر لی ۔۔
اُن کی شادی کو ایک وقت گزرا گیا تھا ۔۔ لیکن محبت ابھی بھی پہلے جیسی تھی ۔۔ اُن دونوں نے عمر بھر ساتھ نبھانا تھا ۔۔۔۔
زر مان سو کے اٹھا نظر پاس میں لیٹی چھوٹی سی بچی پر پڑی جو سو رہی تھی ۔۔ وہ زر مان کی بہن تھی ۔۔ کسی اور ماں سے ۔۔ لیکن زر مان اُس کو بیٹی بنا کے پال رہا تھا ۔۔
چھوٹی ہیر سو رہی تھی ۔۔ زر مان اُٹھا اور کمرے سے باہر اگیا ۔۔ عبداللہ نے اج ہاسپٹل سے آف لیا تھا ۔ ان کو ضروری کام تھا ۔۔ اور زر مان نے عبداللہ کے ساتھ ہی جانا تھا۔۔
ایک وقت پہلے عبداللہ نے زر مان کو کہا تھا کہ وہ اپنے گھر کیوں نہیں جاتا ۔۔ اور زر مان راجپوت نے بتایا تھا کہ وہ اپنے گھر کا راستہ بھول گیا ہے اور دوبارہ کبھی وہ واپس گیا ہی نہیں یوسف ابھی تک زر مان کو ڈھونڈ تا رہتا تھا ۔۔۔
یوسف کا ایک چھوٹا سا بیٹا تھا ۔۔ اور یاسر پورا دن اس کے ساتھ ہی لگا رہتا تھا اور ان کی پسندیدہ گیم چوڑ پولس تھی ۔۔۔ یاسر ہمیشہ چوڑ بنتا تھا ۔۔اور ذہاب ملک پولیس والا بنتا تھا ۔۔
انس اس وقت اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا۔۔ڈھیلا ڈھالا ٹراؤزر شرٹ پہن رکھا تھا سفر ویسے ہی لمبا تھا۔۔جھنگ سے سیالکوٹ جانا تھا اس لیے اس نے پینٹ شرٹ کو ترک کیا تھا۔۔وہ ایسے کپڑوں میں بھی انتہا کا خوبصورت لگتا تھا جیسے کبھی وہ اپنی جوانی میں لگا کرتا تھا۔۔خیر وہ ابھی بھی بوڑھا تو نہیں ہوا تھا۔۔اس کے چہرے پہ ایک بھی بڑھاپے کی لکیر نظر نہیں اتی تھی۔۔وہ ہارون قریشی کا بڑا بھائی لگتا تھا۔۔۔ جبکہ اس کا باپ تھا۔۔۔ ہاں روبی کے بال ہلکے پھلکے سفید ہو گئے تھے جنہیں وہ ڈائی کرتی رہتی تھی۔۔۔ انس قریشی بھی اپنے بالوں کا بہت خیال رکھتا تھا۔۔۔ کم سے کم وہ اتنی جلدی بوڑھا نہیں ہونا چاہتا تھا۔۔۔ کامران خان عمر میں انس قریشی سے تقریبا 10 12 سال بڑے تھے۔۔۔ لیکن وہ انس سے عمر میں بہت زیادہ بڑے لگتے تھے۔۔۔ ان کے چہرے پر جھڑیاں پڑنے لگی تھی اخر بیٹی کی ٹینشن کھا گئی تھی۔۔۔
انس جب اپنے کمرے سے باہر نکلا تو ریحان دروازے میں کھڑا اسی کا انتظار کر رہا تھا۔۔ ناشتہ کرنے کا نہ انس کا کوئی ارادہ تھا نہ ہی ریحان خان کا وہ اسی لیے دونوں ناشتے کے بغیر ہی ساتھ نکلے تھے البتہ روبی نے بہت کہا تھا کہ راستے سے دونوں کچھ کھا لیں۔۔۔ ریحان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور انس اس کے ساتھ بیٹھا۔۔۔
پورے راستے ہلکی پھلکی باتیں ہوتی رہیں ریحان اپنے بارے میں انس کو بتاتا رہا پھر انس ہیر کے بارے میں پوچھتا رہا۔۔۔ ریحان انس کو کل سے بھائی کہہ کے بولا رہا تھا ۔۔ اور انس کو اچھا لگا تھا ایک وقت بعد کسی نے انس قریشی کو بھائی کہا تھا ۔۔ لیکن اس کے اپنے بھائی کی کوئی جگہ نہیں لے سکتا تھا ۔۔۔ ریحان اب افق مصطفی کے بارے میں انس قریشی کو بتا رہا تھا۔۔۔ ریحان کا جب افق کی موت کے بعد افق کے گھر انا جانا لگا رہا توافق کے کمرے کی چیزیں نکالتے ہوئے ریحان کو افق کی ہاتھ کی ادھوری کتاب ملی تھی۔۔اور پھر ریحان نے پورا دن لگا کر اس کتاب کو پڑھا تھا۔۔افق نے وہ ایک رجسٹر میں لکھ رکھی تھی اور ساتھ میں اپنے لیپ ٹاپ میں بھی تھی۔۔ریحان نے جب اس کتاب کو پڑھا تھا تو ریحان حیران رہ گیا تھا اس کتاب کے اندر ہیر کی باتیں تھیں ہیر کی اور اس کی ملاقات کیسے ہوئی تھی سب کچھ اس کتاب میں کسی کہانی کی طرح لکھا تھا۔۔۔لیکن اخر پہ وہ کہانی ادھوری تھی۔۔کہانی کا اختتام کہاں ہوا تھا وہ نہیں لکھا تھا افق مصطفی کے ساتھ کیا ہوا تھا وہ بھی نہیں لکھا تھا۔۔۔زر مان راجپوت کہاں گم ہو گیا تھا وہ بھی نہیں لکھا تھا ہیر خان کے ساتھ کیا ہوا تھا وہ بھی نہیں لکھا تھا کہانی ابھی ادھوری تھی۔۔ ریحان انس کو اس بارے میں ہی بتا رہا تھا جب انس اس کی بات کاٹ کر بولا۔۔۔ تمہارے پاس ابھی بھی وہ کتاب ہے۔۔۔
جی میرے پاس افق کا لیپ ٹاپ ہے اس کے لیپ ٹاپ میں پڑی ہے۔۔۔ تم مجھے سینڈ کرنا میں اسے کمپلیٹ کروں گا۔۔ انس نے ایسے ہی کہہ دیا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا اگلے پل زندگی کس موڑ پر قدم رکھنے والی تھی۔۔۔
تقریباً شام کے قریب وہ سیالکوٹ شہر میں داخل ہوئے تھے ۔۔ زمین سیالکوٹ کے کیسی پوش علاقے میں تھی ۔۔ ریحان نے زمین دیکھنے والے کو فون کر دیا تھا جن کی زمین تھی ۔۔ وہ پہلے سے اپنی زمین پر موجود تھے ۔۔
ریحان کی گاڑی ابھی اُن سے تھوڑے فاصلے پر ہی تھی جب ریحان نے ایک ادھیڑ عمر ادمی کی ساتھ کسی جانے پہنچانے انسان کو دیکھا تھا ریحان حیران رہ گیا دور عبداللہ صادق کی ساتھ زر مان راجپوت کھڑا تھا بڑی ہوئی شیو کے ساتھ شلوار قمیض میں۔۔ لیکن پھر بھی اس کو پہچان پانا مشکل نہیں تھا۔۔ ہاں اس کی پہلی جیسی صحت تو نہیں ہوئی تھی وہ ابھی بھی کمزور ہی تھا لیکن وہ پہلے سے ٹھیک لگتا تھا ریحان نے گاڑی عبداللہ کے پاس ا کر روکی اور فوراً گاڑی سے باہر نکلا انس اس سے پہلے کے زمین کے بارے میں کوئی بات کرتا ریحان زرمان کی طرف بڑھا تھا اور پھر اس نے زرمان کو گلے لگا لیا۔۔۔ انس حیران رہ گیا کہ اب یہ کون تھا۔۔ انس نے صرف زرمان کا تعارف سن رکھا تھا دیکھا نہیں تھا۔۔۔ تم کہاں چلے گئے تھے تمہیں کتنا ڈھونڈا ہے ہم نے تم اندازہ کر سکتے ہو۔۔ کوئی اس طرح کیسے چلا جاتا ہے اپنی ماں اپنا سب کچھ چھوڑ کر زرمان۔۔ تم نے تو وعدہ کیا تھا تم ہیر کو تنہا نہیں چھوڑو گے ۔۔ اور زرمان کا نام لیتے ہی انس کو سمجھ اگئی کہ یہ کون زرمان تھا۔۔ ۔۔زرمان خاموشی سے ریحان کی باتیں سن رہا تھا وہ کچھ بھی بولا نہیں۔۔۔ عبداللہ حیرانی سے دیکھ رہے تھے تم اسے جانتے ہو عبداللہ نے زرمان کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
ہاں میں اسے جانتا ہوں یہ میرا ہونے والا بہنوئی تھا یہ میری بہن کا شوہر تھا ہونے والا اور پھر بدقسمتی سے ان دونوں کی زندگی میں ایک حادثہ ہو گیا تھا ریحان اب عبداللہ کو بتا رہا تھا۔۔۔
اور عبداللہ کو یاد ایا کہ زرمان اکثر ہیر کا نام لیتا تھا۔۔ عبداللہ کو انجانی سی خوشی ہوئی تھی کہ تین سال بعد ہی صحیح اخر کار زرمان راجپوت کا کوئی جان پہچان والا تو ملا تھا لیکن دکھ یہ تھا کہ زرمان اب ان کے ساتھ نہیں رہ سکتا تھا اس نے چلے جانا تھا چھوٹی ہیر نے اکیلے پڑ جانا تھا ۔۔۔ کچھ
دیر بعد عبداللہ ریحان اور انس کو اپنے گھر لے ائے تھے۔۔۔وہاں انہوں نے حلیمہ کو ساری بات بتائی تھی حلیمہ بھی بہت خوش تھی جبکہ ہیر اداس تھی زرمان کے جانے کی خبر سن کے۔۔ اور پھر وہ رونے لگی۔۔۔ انس اور ریحان اس کو دیکھ کر حیران ہوئے۔۔
وہ ان کے سامنے کھڑی رو رہی تھی۔۔۔پلیز اپ بابا کو کہیں لے کر نہ جائیں۔۔ وہ حقلاتے ہوئے بولی تو ریحان کے چھکے چھوٹ گئے۔۔۔ یہ تمھاری بیٹی ہے ؟
نہیں یہ میری بیٹی نہیں ہے عبداللہ بابا کی بیٹی ہے ہیر ۔۔ ریحان کو دوسرا جھٹکا لگا۔۔۔ اس کا نام ہیر ہے ۔۔ اور یہ پہلی بار ہوا تھا کے ریحان کے چہرے پر مسکراہٹ ائی تھی ۔۔۔
ہاں اس کا نام زر مان نے رکھا ہے ہیر ۔۔ عبداللہ نے بتایا ۔۔ انس خاموش بیٹھا باتیں سن رہا تھا ۔۔ اُس کو یہ سب کہانی جیسا لگ رہا تھا
ہم تمھیں لے کے جائے گے زر مان ۔۔
ہیر کو ہوش اگیا کیا ۔۔۔ زر مان نے پوچھا ۔۔ ریحان نے نفی میں گردن ہلا دی ۔۔ نہیں وہ ابھی تک ہوش میں نہیں ائی ۔۔۔ لیکن تم آجاؤ اُس کے پاس ۔زر مان وہ ہوش میں آجائے گی تم پاس ہو گے تو وہ ٹھیک ہو جائے گی ۔۔
زر مان نے اسبات میں گردن ہلائی کے جیسے کہہ رہا ہو ٹھیک ہے ۔ ۔
ہارون کا انے کا ارادہ تھا انس نے منا کر دیا تھا اور وہ نہیں ایا تھا۔۔۔۔ وہ جھنگ کی سڑکیں گھومنے نکل گیا تھا ۔۔
سیالکوٹ دو دن رکنے کا ارادہ تھا ریحان اور انس کا ۔۔ لیکن زر مان کو دیکھ کے انہوں نے شام کو ہی جانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔ انس نے زمین کا سودا پکا کر لیا تھا بنا وقت ضائع کیے ۔۔۔ وہ ان کی زندگی مزید مشکل نہیں بنانا چاہتا تھا کہیں نہ کہیں انس قریشی کو ان سب کے ساتھ ہی ہمدردی تھی۔۔اور پھر وہ جب زر مان کے ساتھ شام کو جانے لگے تو چھوٹی ہیر زمین پر بیٹھ کے زور زور سے رونے لگی ۔۔ وہ زر مان کی جدائی برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ وہ زمین پر بیٹھ کے رونے لگی حلیمہ نے اس کو اٹھانا چاہا لیکن وہ نہیں اٹھ رہی تھی وہ رو رہی تھی ۔۔ کہ میں بابا کے ساتھ جاؤں گی مجھے نہیں رہنا یہاں ۔۔ اور عبداللہ اور حلیمہ خود اُداس تھے۔۔ زر مان کی عادت ہو گئی تھی ان کو ۔۔
ریحان کچھ دیر کھڑا رہا ۔پھر عبداللہ کو دیکھا ۔۔
اپ لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکتے کیا ۔۔۔ ایسے تو ہیر روتی رہے گی ۔۔ بچی ہے وہ بیمار ہو سکتی ہے ۔۔ ریحان نے کہا تو عبداللہ بولے ۔
بیٹا مجھے یہاں ہاسپٹل جانا ہوتا ہے میں کیسے ا سکتا ہوں ۔۔
عبداللہ صاحب دیکھیں اپ کی بیٹی بیمار پڑ جائے گی ۔۔ اپ ا سکتے ہیں ہمارے ساتھ ہم اپ کے رہنے کا انتظام کریں گے ۔۔ میری مانے تو اپ ہمارے ساتھ ہی شفٹ ہو جائے ۔۔ ہیر کو زرمان کی عادت ہے بچی ہے وہ ابھی ۔۔ میں نہیں چاہتا وہ بیمار ہو جائے ۔۔ ریحان اب واپس آ کے بیٹھ گیا تھا ۔۔ عبداللہ کچھ دیر سوچتے رہے ۔۔
دیکھو ریحان ہم بوجھ نہیں بننہ چاہتے تم سب پر ۔۔عبداللہ صاحب ہمارے گھر کے ساتھ والا گھر ہمارا اپنا ہے میں اپ کو وہ کچھ دن میں خالی کروا دوں گا ۔۔۔ اپ اُس میں رہ سکتے ہیں بوجھ نہیں بنے گے اپ ۔۔ اور اپ جیسا کابل ڈاکٹر کہیں بھی جوب کر سکتا ہے ۔۔
عبداللہ نے کچھ دیر سوچا پھر اپنی روتی ہوئی بچی کو دیکھا ۔۔ اور اسبات میں سر ہلاتے کمرے میں چلے گئے ۔۔ کچھ دیر بعد وہ بھی اپنا سامان بیگ میں رکھے اپنی بیوی کے ساتھ تیار تھے ۔۔
وہ سیالکوٹ چھوڑ رہے تھے ۔۔ اور اس کی ایک وجہ تھی ان کی بیٹی ہیر صادق ۔۔۔
جو زر مان کو اپنا باپ مانتی تھی ۔۔ گھر سے نکلتے ہوئے انہوں نے چھوٹی ہیر کو زر مان کی گود میں دیا ۔۔ اور اگلے جملے پر زر مان کو پتھر کر دیا
میں اپنی بیٹی تمھیں دیتا ہوں زر مان ۔۔ اج سے میں اس کا باپ نہیں تم ہو ۔۔ حلیمہ حیران رہ گئی تم ہمارے بیٹے ہو زر مان ہم نے تمہارے ساتھ ایک وقت گزرا ہے ۔تم نے راتوں کو جگ کے ہماری خدمات کی ہے اج سے ہیر صادق تمھاری بیٹی ۔۔ اب جب وہ جوان ہو گی تو ہمیں وہ دادا دادی کہہ کے پکارے گی۔۔ حلیمہ کی انکھوں میں انسو اگائے ۔ ہیر اُن کی بیٹی تھی ۔۔ لیکن زر مان بھی تو اُن کا بیٹا تھا نہ ۔۔۔اور پھر وہ زر مان راجپوت کے ساتھ گھر سے باہر نکلے ۔۔۔ کیا کلیجہ تھا اُن ماں باپ کا جنہوں میں اپنی بیٹی اپنی اکلوتی اولاد جو منتوں اور دعاؤں سے ملی تھی وہ زر مان راجپوت کو دے دی ۔۔
ایک رات پیچھے جاتے ہیں ۔۔ رات کا وقت تھا ۔۔ ایک آدمی کیسی اندھیرے کمرے میں دیوار کے ساتھ رسی سے الٹا لٹک رہا تھا ۔۔اس کے سامنے دراز قد شخص کھڑا تھا ۔۔۔ علی ۔۔۔
وہ اس کے سامنے کھڑا اس کو بری طرح مار رہا تھا
اخر کار ۔۔3 سال لگے تُجھے ڈھونڈنے میں علی اُس کو مار رہا تھا اور وہ مار کھا رہا تھا ۔۔ تُجھے جان سے مار دوں گا تو ملک میں ایا کیسے ۔۔ اور دیکھو تو ایک غریب ادمی بن کے رہ رہا تھا تو ۔۔
پھر علی نے اُس کو نیچے اترا وہ زمین پر گرا پڑا تھا علی نے اُس کے کمر پر بنے زخم پر سرخ مرچ لگانی شروع کی ۔۔ زخم تازہ تھا مدہوش پڑا ادمی کرہ اٹھا ۔۔ اور پھر علی اہستہ اہستہ اُس کے زخموں پر مرچ لگا رہا تھا جو زخم علی نے اس کو دیے تھے کیسی لوہے کے سریے سے کیسی جکو سے ۔۔ گرم صلاخ سے ۔۔ اور وہ چیخیں مار رہا تھا جان کی بھیکھ مانگ رہا تھا ۔۔ لیکن علی کوئی رحم نہیں کر رہا تھا۔۔ اور پھر علی نے ایک تیز دھار چاکو ہاتھ میں پکڑا ۔۔ جس سے کچھ دیر پہلے وہ اس کے بازوؤں پر ٹک لگا رہا تھا ۔۔ وہ چاکو علی نے پکڑا اور پوری قوت سے اس کی کمر میں دے مارا وہ ادمی چیخا ۔۔ اُس میں ہمت ختم ہو رہی تھی پھر علی نے وہی چاکو اُس کی گردن پر چلا دیا وہ وہیں دم توڑ گیا ۔۔
کچھ ارمی افسر علی کے پچھے کھڑے تھے ۔۔
اس کو لے کے جاؤ اور اس کی لاش اس کے ملک بھارت بھجوا دو اور کہنا میجر علی کی طرف سے تحفہ سمجھ کر رکھ لے ۔۔ اور دوبارہ میرے ملک میں کسی کو بھجنے کی غلطی کی تو اس ادمی کی نسلیں ختم کر دوں گا ۔۔ اعلی بولتا باہر چلا گیا ۔۔ وہ علی تھا اور وہ ملک کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا صبح اس کو جھنگ واپس جانا تھا ۔۔۔
زر مان گاڑی میں خاموشی بیٹھا تھا گود میں چھوٹی ہیر سو رہی تھی ۔۔ وہ بہت روئی تھی اور رو رو کے اب اسے نیند اگئی تھی اس لیے اب وہ ارام کر رہی تھی گاڑی میں ہلکی پھلکی باتیں ہو رہی تھی عبداللہ سارا واقعہ بتا رہے تھے کہ زرمان کیسے ملا تھا۔۔ ۔۔۔ حلیمہ خاموشی سے بیٹھی تھی اور انس بھی خاموشی سے بیٹھا تھا۔۔۔
تقریباً رات کو لیٹ ٹائم یہ سب کامران منزل میں داخل ہوئے تھے۔۔۔ روبی جاگ رہی تھی اور گھر میں تقریباً کامران خان اور ان کی بیوی بھی جاگ ہی رہی تھی ریحان نے بتا دیا تھا کہ وہ رات کو ہی واپس ارہے ہیں کیونکہ زرمان راجپوت مل گیا تھا۔۔۔
کامران اور سب باہر لاؤنج میں بیٹھے بے صبری سے ان کا انتظار کر رہے تھے جب دروازہ کھلا اور وہ زرمان کے ساتھ سب اندر داخل ہوئے تھے کامران زرمان کو دیکھ کے حیران رہ گئے زرمان کی امی جو کمرے سے باہر ہی نہیں اتی تھی وہ اپنے بیٹے کا سن کے ایک دم سے کمرے سے باہر آئی تھی اور اپنے سامنے اپنے بیٹے کو کھڑا پا کر وہ بے ساختہ رونے لگی۔۔۔
تم ایسے کیسے مجھے چھوڑ کے جا سکتے ہو میں نے تمہارا کتنا انتظار کیا ہے۔۔ تم اپنی ماں کو کیسے بھول سکتے ہو زرمان تم مجھے کیسے چھوڑ کے جا سکتے ہو۔۔۔ وہ رو رہی تھی اور زرمان خاموش کھڑا تھا۔۔۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔۔ اور پہلا الفاظ جو زرمان راجپوت کے لبوں سے نکلا تھا وہ یہ تھا کہ مجھے ہیر سے ملنا ہے۔۔۔
ریحان اس کو ہیر کے کمرے میں لے کر گیا تھا ہیر بالکل ویسے ہی دکھتی تھی جیسی تین سال پہلے تھی وہ وقت کو روک کے بیٹھی تھی ہاں بس اس کا چہرہ کمزور ہو گیا تھا۔۔۔ زر مان اس کے پاس گیا بیڈ پر اس کے پاس بیٹھا کچھ دیر وہ اسے دیکھتا رہا ریحان نے سمجھا جیسے وہ اکیلے بیٹھنا چاہتا ہے ریحان خاموشی سے باہر چلا گیا دروازہ کھلا ہوا تھا سب دروازے کے باہر کھڑے ز رمان راجپوت کو دیکھ رہے تھے جو خاموشی سے ہیر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ہیر کا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھا تھا اور ایک بیڈ پر۔۔۔ وہ خاموشی سے سو رہی تھی۔۔ زرمان نے اس کا ہاتھ اُٹھا کر اپنے لبوں سے لگایا پھر اپنی انکھوں سے۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے اب بس کریں۔۔۔ اتنا انتظار نہ کروائیں مجھے۔۔۔ تین سال سے اپ کے انتظار میں بیٹھا ہوں بلکہ میں پاگل ہو گیا ہوں۔۔
میں اور انتظار نہیں کر سکتا ۔۔۔ اگر آپ ٹھیک نہیں ہوئی تو میرے پاس کچھ نہیں بچے گا ۔۔ میں تنہا ہو جاؤں گا ۔۔ وہ ہیر کا ہاتھ پکڑے بول رہا تھا
خدا کا واسطہ ہے ہیر بس کریں اب جگ جائیں اتنی لمبی نیند نہ سوئیں ہیر ۔۔ زر مان کی انکھوں سے پہلے انسو گرا تھا اور وہ انسو کا قطرہ ہیر کا ہاتھ گیلا کر گیا ۔۔ پھر زر مان انسو بہانے لگا ۔۔ ہیر اُٹھ جائے ۔۔ اپ اُٹھیں گی تو آپ دیکھ کے رہ جائیں گی دیکھیں اپ نے چھوٹی ہیر کو نہیں دیکھا ہیر اُٹھ جائے۔۔ اپ کے پیار میں اس کا نام میں نے ہیر رکھ دیا ۔۔۔ زر مان کے پاس کھڑی بچی اپنے باپ کو روتے دیکھ رہی تھی ۔۔ اور اچانک چھوٹی ہیر نے ہیر خان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا ۔۔۔ بے ساختہ ہیر خان کے ہاتھ میں حرکت ہوئی تھی ۔چہرہ جھکا کے روتے ہوئے زرمان نے اپنا چہرہ جھٹکے سے اُٹھایا تھا ۔۔ اور شوڑ مچا دیا ۔۔
رہے۔۔ ریحان ۔۔ ریحان ہیر نے اپنا ہاتھ ہلایا ہے ۔۔ جب ریحان بھاگتا کمرے میں ایا تب ریحان کو محسوس ہوا جیسے ہیر اپنی انکھیں کھولنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔ ریحان نے ایک نرس گھر میں رکھی ہوتی تھی ریحان کے بولنے پر وہ ائی ہیر کو چیک کیا ۔۔ کوئی انجیکشن لگایا ۔۔ اور پھر آہستہ اہستہ ہیر خان نے اپنی آنکھیں کھول دی ایک لمبی طویل نیند کے بعد ہیر خان جاگ گئی تھی ۔۔۔ ریحان اپنی بہن کو ہوش میں دیکھ کے زمین میں سجدے میں جا گر ا ۔۔۔ اُس کی بہن ٹھیک تھی ۔۔وہ زندہ تھی وہ ہوش میں اگئی تھی اُس کا انتظار رائیگاں نہیں گیا تھا ۔۔ وہ اب تنہا نہیں تھا ۔۔ اللہ تیرا شکر ہے ۔۔ میری بہن ٹھیک ہے ۔اللہ ریحان اب اونچی اواز میں رونے لگ گیا تھا ۔۔ ہیر نے زر مان کو دیکھا ۔۔ زر مان ہیر کا ہاتھ بار بار اپنی آنکھوں سے لگا رہا تھا اس کی محبت ٹھیک تھی ۔۔ کامران اور ہیر کی امی بھی کمرے میں گئے تھے ۔۔ اُن کی بیٹی ہوش میں اگئی تھی ۔۔ انتظار ختم ہو گیا تھا ۔۔ ہیر خان کی نظر اپنے پاس کھڑی بچی پر گئی۔ ۔۔ چھوٹی ہیر بڑی ہیر کو آنکھیں گول کیے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ بڑی ہیر کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
ہیر خان کو ہوش اگیا تھا ۔۔ ریحان خان کی ہنسی واپس اگئی تھی ۔۔ زر مان راجپوت ٹھیک ہو گیا تھا ۔۔ گھر میں خوش حالی اگئی تھی ۔۔۔
لیکن افق مصطفی نے واپس نہیں انا تھا
انس کمرے میں بیٹھا تھا اور ہارون اُس کو بتا رہا تھا کہ کہانی میں اب کیا لکھنا چاہیے ۔۔ کے ہیر خان کو ہوش اگیا تھا ۔۔۔ افق مصطفی ادھُوری داستان لیے مر گیا تھا ۔۔ زر مان راجپوت اور ہیر خان کی شادی ہونے والی تھی ۔۔
ہیر اب ٹھیک ہونے لگی تھی ۔۔ ریحان نے ہیر کے لیے گھر میں ڈاکٹر رکھے تھے جو ہیر کو چلنے میں مدد کرتے تھے 3 سال لیٹے رہنے کے بعد چلنے میں مہینہ دو مہینہ تو لگنا تھا ۔۔۔
اگلے ہفتے ہیر کی شادی رکھی گئی تھی ۔۔ کامران اب کوئی اور مشکل نہیں برداشت کر سکتے تھے ریحان کی شادی اور ہیر کی شادی ایک دن رکھی گئی تھی رخسار نے دلہن بن کے انا تھا اور ہیر نے دلہن بن کے جانا تھا ۔۔۔
انس افق کی کہانی کا آخری باب لکھ رہا تھا ہاں یہ کہانی انس قریشی نے ختم کرنی تھی۔۔۔۔ وہ کہانی ختم کرنے ہی تو ایا تھا۔۔۔
قاسم خان اپنی بیٹی کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا
قونین اب بڑی ہو رہی تھی ۔۔
ہیر اور زر مان کی شادی کا دن تھا ۔۔ سادگی سے نکاح کر دیا گیا ۔۔ ہیر خان کو زر مان راجپوت کی بیوی بنا دیا گیا ۔۔۔۔
اور جہاں تک بات تھی علی کی ۔۔
وہ راز بھی کچھ دن میں کھولنے والا تھا ۔۔
یوسف اور حیات اپنی زندگی میں مگن تھے ۔۔ ریحان پھر ہنستا مسکراتا تھا ۔۔۔ہیر اور زر مان اپنی زندگی گزار رہے تھے ۔۔
ایک دن وہ سب بیٹھے تھے ۔۔۔
شادی کی البم کھول کے ۔۔ اور کچھ ہیر کے بچپن کی البم بھی تھی ۔۔۔ وہ چھوٹی ہیر کو دیکھا رہے تھے جو بڑی ہیر کو ما ما کہتی تھی ۔۔
سب بیٹھے البم دیکھ رہے تھے ۔۔ ایک تصویر ہیر کی انکھوں سے گزری ۔۔۔ اور رخسار نے پوچھا لیا۔
یہ تو ہیر ہے ۔۔ لیکن یہ بچا کون ہے جو اس کے ساتھ کھڑا ہے ۔۔۔ ہیر نے کچھ دیر یاد کرنے کی کوشش کی ۔۔
یاد نہ ایا تو ریحان بولا ۔۔ یہ علی ہے ۔۔ بابا کے دوست کا بیٹا ۔۔علی کے بابا فوت ہو گئے تھے انہیں کسی نے گولی ماری تھی ۔۔۔ شاید کسی ڈاکو نے ۔۔ مجھے یاد نہیں ہے ۔۔ اس وقت لوگوں سے یہی پتہ چلا تھا ۔۔ اس کے بعد علی اور اس کی امی نہ جانے کہاں چلی گئی تھی پھر کبھی اُن کو نہیں دیکھا ہم نے ۔۔ ابھی وہ بول ہی رہی تھی پاس بیٹھے زر مان نے اپنی ماں کا چہرہ دیکھا ۔۔۔
اگلی تصویر دیکھتے ہی ہیر کے چھکے چھوٹ گئے
یہ انٹی تو امی جیسی لگتی ہیں ۔۔ ہیر نے زر مان کی ماں کی طرف اشارہ کیا ۔۔ تصویر میں 20 ۔۔ 22 سال کی کوئی لڑکی تھی ہاتھ میں بچا اُٹھا رکھا تھا
یہ علی کی ماں ہیں ۔۔ ہیر کی امی ابھی بول ہی رہی تھی جب انہوں نے زر مان کی امی کی طرف دیکھا
اور سب حیران رہ گئے ۔۔
اعلی کی ماں ۔۔۔ بھابھی میں بھی سوچوں اپ کو کہیں دکھا ہے آپ علی کی ماں ہے
زر مان گڑگڑايا ۔۔ ہیر اب زر مان کو گھور رہی تھی زر مان کو سمجھ اگئی کھیل ختم ۔۔۔
بھابھی علی اور زر مان بھائی ہیں کیا ۔۔؟
زر مان کی امی خاموش تھی ۔۔ کیوں کے بھابھی جب آپ ہمارے ساتھ تھی تب تو بس علی ہوتا تھا زر مان نہیں تھا ۔۔ کیا آپ نے دوسری شادی کر لی تھی ۔۔؟
زر مان کی امی اب بھی خاموش تھی ۔۔ بھابھی ۔۔ علی کہاں ہے؟ ۔۔ زر مان کی امی خاموش رہی ۔۔
زر مان نے ہار مانتے ہوئے ہیر کی امی کو دیکھا
معاف کیجئے گا انٹی ۔۔ میں چھپانا نہیں چاہتا تھا لیکن میں ہی علی ہوں ۔۔
زر مان علی راجپوت
میجر زر مان علی راجپوت ۔۔۔ ۔۔
لاؤنچ میں سناٹا چھا گیا ۔۔۔ ہیر زر مان کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔
میں جانتا ہوں اپ حیران ہوں گی کے اپ کو اغوا میں نے کیا تھا۔ جی میں نے ہی کیا تھا ۔
کیوں کے اس دن دلاور اپ کو اغوا کرنے والا تھا ۔۔ میں اپ کو بچانا چاہتا تھا ۔۔ میں پاگل نہیں ہوا تھا ۔۔۔ 3 سال میں اپ سے دور رہا کیوں کے میرا یہ مشن تھا ۔۔۔ میں سکرٹ ایجنٹ ہوں ۔۔ کامران انکل جانتے تھے سب کچھ ۔۔۔ اُن کو پتہ تھا ۔۔ وہ امی کو دیکھتے پہچان گئے تھے ہاں امی بوڑھی ھو گئی ہے لیکن انکل پہچان گئے تھے ۔۔
میں نے منا کیا تھا ۔۔ میں یونیورسٹی میں مشن پر تھا ۔۔ اس لیے مجھے وہاں پڑھائی کرنی پڑی میں اپ کو بھی جانتا تھا ۔۔ میں بچپن سے جانتا ہوں اپ کو ہیر ۔۔ ہیر خاموش تھی ۔۔
میں نے قاسم کو پکروایا تھا ۔۔ میں نے دلاور سے آپ کو اس رات بچایا تھا ۔۔۔
اور میں نے پاگل ہونے کا ناٹک کیا ۔ اور میں بھاگ گیا ۔۔ کیوں کے سیالکوٹ میں ایک ہندوستانی جاسوس تھا اُس کے مشن پر مجھے بھیجا گیا تھا ۔۔۔ مجھے اسے ڈھونڈنا تھا اور جب ڈھونڈلیا تو ریحان وہاں اگیا ۔۔ میں نہیں جانتا تھا وہ آجائے گا ۔۔۔
میں آپ کو بتا رہا ہوں جب کے بتانا نہیں چاہیے یہ میرا راز ہے ۔۔ ہم جاسوس ہوتے ہیں ہیر ہماری موت بھی ہو جائے تو ہمارے گھر والوں کو پتہ نہیں چلتا ہم لوگوں کو قبر کفن اور مٹی بھی قسمت سے ملتی ہے ۔۔ اور ہم جیسے کئی باہر کے ملکوں میں مارے جاتے ہیں ۔۔ میں آپ سب کو بتا رہا ہوں کیوں کے اب آپ میری بیوی ہیں یہاں سب میرے اپنے ہیں ۔۔ میرا معافی مانگنا نہیں بنتا لیکن میں معافی مانگتا ہوں ۔۔ یوسف جو کچھ دیر پہلے ایا تھا ایک دم بولا ۔۔ اگر تم علی ہو تو کیمرے میں علی اور زر مان ایک ساتھ کیسے سامنے ا سکتے ہیں ۔۔ علی مسکرایا ۔۔ تمھیں کیا لگتا ہے
یوسف کیا میں صرف ایک ہی ارمی کا ادمی ہوں ۔۔ کیا میری جگہ کوئی اور علی نہیں لے سکتا
یوسف حیران رہ گیا ۔۔ مطلب اُس رات کمرے میں علی نہیں ایا تھا وہ خط علی نے نہیں بلکہ کسی اور نے علی بن کے زر مان علی راجپوت کو پکروایہ تھا ۔۔۔ مطلب زر مان کو پہلے سے پتہ تھا کہ یوسف کمرے میں انے والا تھا ۔۔۔
یوسف علی کو دیکھ کے رہ گیا ۔۔۔تم تو ہمارے سے چار قدم اگے نکلے زرمان ۔۔ علی سنجیدہ تھا اُس نے ہیر کی طرف دیکھا ۔۔
اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہے تو آپ بتا دے ہیر کیوں کے میں کبھی کبھی بنا بتائیں بھی غائب ہو سکتا ہوں ۔۔ اپ کو بھی کبھی میرے ساتھ کہیں جانا پڑ سکتا ہے ۔۔ میری زندگی ایسے ہی گزرے گی ۔۔ اگر آپ سالوں سال انتظار کر سکتی ہیں تو بتائیں ۔۔۔
میں نے بچپن میں ایک دن کھیلتے ہوئے وعدہ کیا تھا آپ سے ۔۔ اگر اپ کو یاد ہو جب ہم گارڈن میں کھیل رہے تھے ۔۔۔میں نے اپ سے وعدہ کیا تھا ۔۔ کے جب میں بڑا ہوں گیا تو آپ سے شادی کروں گا ۔۔ میں نے اپنا وعدہ نبھایا ہے اس وقت میں ایک بچہ تھا میں نے ارمی جوائن نہیں کی تھی میرا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا۔۔میرے بابا ارمی افیسر تھے ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد میں بہت تنہا ہو گیا تھا انہیں گولی لگی تھی اور وہ شہید ہو گئے تھے ۔۔۔
بس تب سے میں نے سوچ لیا تھا میں بھی بڑا ہو کے ارمی میں جاؤں گا لیکن میں نہیں جانتا تھا میں سیکرٹ ایجنٹ بنوں گا ۔۔ اس وقت میرا اس پوسٹ میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔۔ لیکن پھر دلچسپی نے ا گھیرا ۔۔ اپ بتائیں انتظار کر سکتی ہیں میرا ۔۔۔
زر مان اب سب کے سامنے پوچھ رہا تھا ۔۔
ہیر کچھ دیر خاموش رہی ۔۔۔ لاؤنچ میں سناٹا چھا گیا ۔۔۔ سناٹا ہیر کی اواز پر ہی ٹوٹا تھا ۔۔۔ میں سالوں سال نہیں میں صدیوں تمھارا انتظار کر سکتی ہوں میجر زر مان علی راجپوت ۔۔ میں مرتے دم تک تمھارا انتظار کر سکتی ہوں اور میں کروں گی ۔۔ مجھے بس ایک وعدہ کرو ۔۔۔ تم ہمیشہ صحیح علامت واپس اؤ گے علی ۔۔ تم میرے انتظار کو رائیگاں نہیں جانے دو گے
زر مان علی راجپوت نے گردن ہلا دی ۔۔
مجھے بہت فخر ہے میں ایک ایسے انسان کی بیوی ہوں جو اپنے ملک کے لیے اپنی جان بھی دے سکتا ہے ۔۔ اور میں ایسے انسان کا عمروں انتظار کر سکتی ہوں ۔۔۔ زر مان نے ہیر کو گلے لگایا تھا اور پھر ہیر کی پیشانی پر لب رکھ دیے ۔۔ سب ان کو دیکھ کے رہ گئے ۔۔۔
ابھی ان کی شادی کو 6 مہینے گزر تھے ۔۔ ہیر اور علی کے گھر اللہ کی رحمت ہونے والی تھی شاید دو بچوں کی آمد ایک ساتھ تھی اور علی اپنے کمرے میں بیٹھا تھا خاموش ۔۔ وہ جیسے کچھ سوچ رہا تھا ۔۔ ہیر اس کے پاس ا کے بیٹھ گئی ۔۔ کیا ہوا ہے کیا سوچ رہے ہو ۔۔۔
کچھ نہیں بس کچھ دن بعد مجھے اپنے ایک دوست سے ملنے جانا ہے ۔۔
کیوں جھوٹ بول رہے ہو زرمان۔۔۔پھر کوئی مشن اگیا ہے نہ ہیر کے اس طرح کہنے پر علی نے ہیر کو دیکھا ۔۔ پھر خاموش ہو گیا ۔۔
ہیر سمجھ گئی ۔۔۔
واپس کب اؤ گے ۔۔ ؟
ہیر نے اگلا سوال پوچھا ۔۔۔ اعلی نے ہیر کی طرف دیکھا ۔۔ اُس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے ۔۔۔ میں نہیں جانتا ہیر ۔۔ اور پتہ نہیں اؤں گا بھی یا نہیں ۔۔۔ بے ساختہ ہیر کی آنکھیں نم ہوئی ۔۔۔مجھے یہ مت کہنا کے تم کبھی واپس نہیں اؤ گے ۔۔ تم وعدہ کرو تم واپس اؤ گے علی ۔۔ ہیر علی کا ہاتھ تھام کے پوچھ رہی تھی چھوٹی ہیر بیڈ پے سو رہی تھی ۔۔
اعلی نے اسبات میں سر ہلا دیا ۔۔۔
میں اؤں گا ہیر ۔۔ میں واپس ضرور اؤں گا
انشاءاللہ ۔۔۔ اور جب میں واپس اؤں گا تب ہماری زندگی میں دو نئی زندگیاں ہو گی ہیر ۔۔ اور میں نہیں جانتا وہ کتنے سال کے ہو گےیا ہو گی ۔لیکن تم اس کو بتانا کے میں اس کا باپ ہوں ۔۔۔ تم میری تصویریں اُس کو دیکھنا ۔۔ ہیر خاموش ہو گئی ۔۔ آنکھیں انسوں سے بھرنے لگی زر مان اعلی راجپوت نے ہیر کی ہاتھ لبوں سے لگائے اُس کی پیشانی پر لب رکھے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔ علی تم کیوں جا رہےہو میں کیسے رہوں گی تمھارے بغیر ہماری اولاد پہلی بار تمھیں بابا کہے گی تو تم سننے کے لیے یہاں نہیں ہو گے ۔۔ ہماری بڑی بیٹی ہیر تنہا رہ جائیں گی علی ہیر رو رہی تھی ۔۔ علی نے ہیر کے ہاتھ چھوڑ دیے ۔۔۔۔ اور اس کے انسو صاف کیے
رو نہیں تمھارے انسو بہت عزیز ہے لیکن میرے ملک کو بچانا میرا فرض ہے ۔۔ ہیر نے گہرا سانس پڑا اور گردن ہلا دی۔۔
اعلی لیٹ گیا ۔۔
صبح ہیر کی آنکھ لیٹ کھلی تھی ۔۔ اور جب وہ اٹھی تو علی پاس نہیں تھا ۔۔ وہ کہیں نہیں تھا وہ کہہ رہا تھا وہ کچھ دنوں میں جائے گا ۔۔ لیکن وہ چلا گیا تھا ۔۔ اُس کو جانا تھا ۔۔۔ اور اب انتظار تھا کے اُس نے کب واپس انا تھا ۔۔ ہیر کو ایک عمر انتظار کرنا تھا اپنے شوہر کے واپس آنے کا
حصہ دوم جلد ارہا ہے
