اب کے جو ہم ملے تو ملاقات آخری ہے
یہ رت، یہ ساعتیں، یہ جذبات آخری ہے
وہ جس کے نام لکھے تھے سب حرفِ آرزو
اس شخص سے مرے دن و رات آخری ہے
میں اپنی ذات کے صحرا میں کھو گئی ہوں اب
یہ خود سے خود کی،کی گئی بات آخری ہے
وہ دیکھ، پلٹ کے اس نے دیکھا ہے پھر مجھے
شاید کہ یہ ہی وہ شروعات آخری ہے
میں مسکرا کے اسے رخصت تو کر رہی ہوں
پر دل میں دفن ہر اک بات آخری ہے
وہ جا رہا ہے، میں ساکت کھڑی ہوں رستے میں
یہ ہجر کا پہلا، مگر یہ مات آخری ہے
لکھا ہے مقدر میں اب تو تنہائی کا سفر
یہ دردِ دل، یہ کربِ حالات آخری ہے
وہ وعدے، وہ قسمیں، وہ خوابِ جاں کی باتیں
وہ عہدِ وفا، وہ سب شروعات آخری ہے
مٹھی میں بند کر کے رکھے ہیں کچھ خواب
شاید کہ یہ خوابوں کی سوغات آخری ہے
بھٹک رہے ہیں اب جو ہم راہِ طلب میں
یہ تلاشِ یار، یہ لمحات آخری ہے
اک دردِ مسلسل ہے جو رگ رگ میں چل رہا ہے
یہ سانس، یہ زندگی، یہ حیات آخری ہے
اے مالائے دل! تیرے شہر میں یہ آخری شام ہے
یہ وصل، یہ وداع، یہ ساتھ آخری ہے
