KIRDAR KI TAQAT INSAN KI ASAL PEHCHAN BY JAVERIA ARSHAD (ARTICLE).

السلام علیکم 

صنف: آرٹیکل 

از قلم: جویریہ ارشد عظیمی 

 

کردار کی طاقت انسان کی اصل پہچان

 

دنیا میں انسان کی پہچان صرف اس کے نام، لباس، دولت یا عہدے سے نہیں ہوتی، بلکہ اصل پہچان اس کے کردار سے ہوتی ہے۔ خوبصورت چہرہ وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے، دولت کم یا زیادہ ہو سکتی ہے، عہدے چھن سکتے ہیں، مگر اچھا کردار انسان کے جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے صفحات پر آج بھی وہی لوگ روشن نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے کردار، اصول اور عمل سے دوسروں کے لیے مثال قائم کی۔

 

کردار دراصل انسان کے اندر چھپی ہوئی وہ طاقت ہے جو اسے مشکل حالات میں بھی درست راستہ اختیار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ آسان حالات میں اچھا بننا کوئی بڑی بات نہیں، اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب انسان کے پاس غلط راستہ اختیار کرکے فائدہ حاصل کرنے کا موقع موجود ہو اور وہ پھر بھی سچائی، دیانت اور اصولوں کو ترجیح دے۔ یہی فیصلہ انسان کے کردار کی اصل گواہی بن جاتا ہے۔

 

ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں کامیابی کو اکثر دولت، شہرت اور ظاہری چمک دمک سے ناپا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے بھی ہماری سوچ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات دکھاتے ہیں اور دوسروں کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید کامیاب زندگی وہی ہے جو تصویروں میں خوبصورت نظر آئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی دوسروں کو متاثر کرنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے سامنے سرخرو ہونا ہے۔

 

ایک باکردار انسان تنہائی میں بھی وہی ہوتا ہے جو لوگوں کے سامنے ہوتا ہے۔ وہ وعدہ صرف اس لیے پورا نہیں کرتا کہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں، بلکہ اس لیے پورا کرتا ہے کہ اس کا ضمیر اسے سچائی کا پابند بناتا ہے۔ وہ کسی کمزور کو اس لیے نہیں دباتا کہ اسے بدلہ نہیں ملے گا، بلکہ اس لیے عزت دیتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ طاقت کا اصل حسن دوسروں کو محفوظ رکھنے میں ہے۔

 

کردار کی تعمیر ایک دن میں نہیں ہوتی۔ یہ چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے بنتی ہے۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عزت کرنا، کسی کی غلطی کو مذاق نہ بنانا، ضرورت مند کی مدد کرنا، والدین سے حسنِ سلوک کرنا، اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا، دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا اور اپنی غلطی تسلیم کرلینا یہ سب کردار کی بنیادیں ہیں۔ بظاہر یہ معمولی اعمال ہیں، مگر یہی اعمال مل کر انسان کی شخصیت کو عظیم بناتے ہیں۔

 

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تعلیم اور کردار دو الگ چیزیں ہیں۔ ایک شخص بہت پڑھا لکھا ہو سکتا ہے، مگر اگر اس میں اخلاق، برداشت اور انسانیت نہیں تو اس کی تعلیم معاشرے کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو صرف کامیاب پیشہ ور نہیں بلکہ اچھا انسان بنائے۔

 

معاشرے کی اصلاح بھی کردار سے شروع ہوتی ہے۔ ہم اکثر حکومت، اداروں اور دوسروں سے تبدیلی کی توقع کرتے ہیں، مگر خود کو بدلنے کی ذمہ داری بھول جاتے ہیں۔ اگر ہر شخص اپنے حصے کی سچائی، دیانت اور ذمہ داری نبھانے لگے تو معاشرہ خود بخود بدلنا شروع ہوجائے گا۔ بڑے انقلاب ہمیشہ بڑے نعروں سے نہیں آتے؛ کبھی ایک سچا فیصلہ، ایک درست قدم اور ایک باکردار انسان بھی تبدیلی کی بنیاد بن جاتا ہے۔

 

آج ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ کامیاب کیسے ہونا ہے، بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ کامیاب ہو کر انسان کیسے رہنا ہے۔ انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ عزت مانگی نہیں جاتی، کردار سے کمائی جاتی ہے۔ دولت انسان کو سہولت دے سکتی ہے، مگر عزت نہیں خرید سکتی۔ شہرت انسان کا نام لوگوں تک پہنچا سکتی ہے، مگر اچھا کردار ہی اس نام کو دلوں میں زندہ رکھتا ہے۔

 

آخرکار انسان کی زندگی کا اصل سرمایہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں محفوظ ہوتا ہے۔ وقت گزر جاتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، دنیا کی رونقیں ختم ہوجاتی ہیں، مگر انسان کا کردار اس کی سب سے مضبوط میراث بن کر باقی رہتا ہے۔

 

اس لیے ہمیں دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا ہوگا۔ اپنے لفظوں میں سچائی، اپنے رویے میں نرمی، اپنے فیصلوں میں انصاف اور اپنے دل میں انسانیت پیدا کرنا ہوگی۔ کیونکہ طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو جھکا دے، طاقتور وہ ہے جو اختیار رکھتے ہوئے بھی ظلم نہ کرے۔

 

کردار وہ خاموش زبان ہے جسے وقت بھی مٹا نہیں سکتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *