محبت عبادت
از کلم ردا فاطمہ
قسط 11
کامیار صاحب گھر واپس آئے تو در و دیوار انہیں کاٹنے کو دوڑ رہے تھے۔ وہ بوڑھا باپ، جو کل تک اپنے بیٹے کی ہر خواہش پوری کرنے کا دم بھرتا تھا، آج موت کو نہیں روک سکا تھا۔ وہ بوجھل قدموں سے قیسن کے کمرے میں داخل ہوئے۔
دیوار پر لگی قیسن کی وہ ہنستی مسکراتی تصویریں جیسے ان کا مذاق اڑا رہی تھیں۔ انہوں نے اپنا چشمہ اتارا اور تکیے میں منہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیے۔ “تم ایسے کیسے جا سکتے ہو قیسن؟ تم تو میرے دوست تھے، تم نے اپنے بوڑھے باپ کو تنہا چھوڑ دیا؟”
دوسری طرف قیسن کی ماں نڈھال سی اپنے کمرے میں لیٹی تھیں، ان کی آنکھیں چھت کو گھور رہی تھیں جیسے وہ اب بھی قیسن کی آواز سننے کی منتظر ہوں۔ گھر میں ہر طرف خاموشی تھی، صرف باہر گرتی بارش کی آواز تھی جو قیسن کامیار کی ادھوری محبت اور اس کی المناک موت کا مرثیہ پڑھ رہی تھی۔
وہ لڑکا جو کسی سے ہارنا نہیں جانتا تھا، آج اپنی زندگی ہار کر علی اور رحال کی محبت کو جیتا گیا تھا ۔۔۔۔۔
اپ کب ائے تھے علی ۔۔۔
یہ صبح سویرے کا وقت تھا ۔۔۔ جب پرندے اپنے بچوں کے لیے رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں
رحال کے ایک ہاتھ میں ڈرپ لگی تھی ۔۔ دوسری طرف دل کی دھڑکن چیک کرنے والی مشین لگی تھی ۔۔ جو اُس کی زندگی کا ثبوت دے رہی تھی ۔۔۔ اور وہ زرد چہرے والی لڑکی اپنے سامنے بیٹھے لڑکے سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ جس کا نیند سے بُرا حال تھا ۔۔ جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی اور بدن درد سے ٹوٹ رہا تھا کیوں کے اس کو ایک پل کا ارام نصیب نہیں ہوا تھا ۔۔
جب مجھے معراج نے بتایا کہ تمھارا اکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔ وہ سکون بھرے لہجے میں بتا رہا تھا ۔۔ بس میں سیدھا گھر گیا اور امی کو لے کے اسلام اباد آگیا ۔۔۔
کیا آپ ہمیشہ ایا کریں گے جب میں مشکل میں ہوں گی ۔۔۔ وہ نہ جانے کونسا اطراف کروانا چاہ رہی تھی ۔۔۔
ہاں جب جب تم بلاؤ گی میں بھاگتا ہوا اوں گا ۔۔ جب جب تم اواز دو گی مجھے پکارو گی میں اوں گا جب جب تمھیں علی مصطفیٰ کی ضرورت ہو گی میں اوں گا رحال شیخ ۔۔۔
سامنے بیٹھی بیمار لڑکی کا چہرہ شرم سے سرخ ہوا اُس نے نظر جُھکا لی ۔۔۔ ۔
معراج اور برہان کمرے میں تھوڑا فاصلے پر لگی چیئرز پر بیٹھے تھے ۔۔۔
اُن کو علی کی باتیں سنائی نہیں دے رہی تھی اگر دے رہی ہوتی تو وہ صحیح مذاق اڑاتے ویسے بھی دونوں ایک جیسے تھے ۔۔
ویسے وہ لڑکا کہا ہے علی ۔۔؟ دور بیٹھے برہان نے پوچھا ۔۔۔ ان دو دن میں برہان اور علی انجان سے پہچان کر بیٹھے تھے ۔۔۔
کون لڑکا ۔۔؟ علی کو سمجھ نہیں آئی ۔۔ سب تو تھے یہاں ۔۔
ارے وہ کیا نام ہے اس کا۔۔؟ ہیں قیسن کمیار برہان کو یاد آیا تھا ۔۔۔
وہ تو گھر چلا گیا تھا ۔۔ علی نے کہا ۔۔
رحال بولی ۔۔ قیسن بھی ایا تھا ۔۔؟
ہاں وہ تمہارا حال پوچھنے ایا تھا معراج نے بتایا ۔
اچھا صحیح ۔۔۔ رحال بس اتنا ہی بولی اُس کو بھلا کیا غرض تھی نیلی انکھوں والے لڑکے سے ۔۔
ویسے بتا کر نہیں گیا وہ برہان بولا ۔۔ جیسے ہی رحال کو ہوش آیا وہ باہر نکل گیا تھا ۔۔
معراج اور برہان اب ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے ۔۔
علی رحال سے باتیں کر رہا تھا ۔۔ یہاں ایک جہان بسایا جا رہا تھا ۔۔۔
اور اور کمیار ہاؤس میں ایک جہان برباد ہو گیا تھا اور یہ سب بے خبر تھے ۔۔وہ ان کی زندگیوں سے ایسے گیا تھا کے یاد بن کے رہا گیا تھا ۔۔
اگلے 4 دن بعد رحال کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔۔۔اور ان چار دنوں میں علی نے رحال کا بہت خیال رکھا تھا۔۔۔ برہان روز اتا تھا رحال کا حال احوال پوچھنے کے لیے۔۔۔
رحال کے سر پر گہری چوٹ لگی تھی ڈاکٹر نے بیڈ ریسٹ کے لیے کہا تھا۔۔۔ یونیورسٹی وہ جا نہیں سکتی تھی اس کا پورا دن ایک بستر پر لیٹے لیٹے گزرتا تھا۔۔۔ اور معراج اور علی اُس کو کمپنی دیتے رہتے تھے۔۔۔ نہیں تو وہ بور ہو جاتی ۔۔۔
سب اپنی اپنی دنیا میں مگن تھے ۔۔ اگر کسی نے قیسن کو نہیں دیکھا تھا تو کیسی کو دیکھنے کی تمنا بھی نہیں تھی ۔۔۔
لیکن اچانک ایک دن فرحان صاحب کو اُس کا خیال اگیا تھا۔۔۔
یہ شام کا وقت تھا وہ خاموشی سے لاونچ میں بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنے عین سامنے لگی اسکرین پر نیوز سن رہے تھے ۔۔ اسکرین پر چمکتا نام وہ جانتے تھے ۔۔ وہ کیا شاید پورا اسلام اباد جانتا تھا۔۔۔
خبر کمیار ہاؤس کی تھی ۔۔ کمیار صاحب ایک جانے مانے نیوز اینکر تھے ۔۔ اور اُن کی شخصیت بہت با روب تھی ۔۔ لوگ اُن کو جانتے تھے اور اُن کی عزت کرتے تھے اُنہوں نے یہ مقام سالوں کی محنت کے بعد بنایا تھا ۔۔
اسکرین کے اندر موجود کوئی نو جوان لڑکا کمیار صاحب کی خبر سنا رہا تھا ۔۔۔
بیٹے کی موت کے بعد کمیار ہاؤس میں تہلکہ ۔۔
کمیار صاحب بیٹے کا غم نہ سہ سکے اور ہارٹ اٹیک کا شکار ہوئے۔۔ کمیار صاحب کے اکلوتے بیٹے قیسن کمیار کی موت گاڑی کے حادثے میں ہوئی ۔۔
فرحان صاحب کو دھجکا لگا ۔۔۔
قیسن ۔۔۔۔؟ اُن کے لب سے نکلا ۔۔
کیا قیسن مر گیا۔۔۔” فرحان صاحب حیران تھے ابھی کچھ دن پہلے تو وہ ہاسپٹل میں ایا تھا رحال کا حال پوچھنے ۔۔۔وہ مر کیسے سکتا تھا ۔۔؟
نیوز اینکر اب قیسن کی موت کا دن بتا رہا تھا ۔۔
فرحان صاحب کو یاد آیا یہ وہی دن تھا جب ان کی بیٹی کا اکسیڈنٹ ہوا تھا ۔۔
مطلب اُس رات قیسن مر گیا ۔۔۔
علی کمرے سے نکل رہا تھا فرحان صاحب کو ساکت دیکھا تو ان کے پاس آیا اُس کے دہان سکرین پر چلتی خبر پر نہیں تھا ۔۔۔
کیا ہوا انکل اپ کی طبیعت ٹھیک تو ہے ۔۔؟
بیٹا میری چھوڑو خبر میں دیکھو کیا ارہا ہے ۔۔وہ لڑکا نہیں تھا قیسن جو رحال کے ساتھ پڑتا تھا وہ مر گیا ہے بیٹا۔۔۔۔ علی حیران ہوا ۔۔ کیا ۔۔ قیسن مر گیا ۔۔؟ علی نے خبر پر نظر گھمائی ۔۔ اور نیچے لکھے الفاظ علی کو حیران کر گئے ۔۔
علی نے موت کی تاریخ پڑی ۔۔ دماغ میں خیال کندہ ۔۔ اُس نے صحیح کہا تھا وہ چلا جائے گا اس دوبارہ کبھی نہیں ائے گا ۔۔ لیکن علی مصطفیٰ یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کے وہ اس طرح جائے گا ۔۔۔
علی اٹھ کے رحال کے کمرے میں اگیا ۔۔
وہ آنکھیں بند کر کے لیٹی تھی لیکن جگ رہی تھی
کیا تمہیں پتہ ہے قیسن کمیار مر گیا ہے ۔۔
علی نے کہا تو رحال نے آنکھیں کھولیں ۔۔
کیسے۔۔۔۔؟ وہ ایک دم پریشان ہوئی ۔۔
اس کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جب تم ہاسپٹل میں تھی
اس رات ہی مر گیا خبروں میں ارہا ہے اج اُس کے بابا کو ہارٹ اٹیک ایا ہے ۔۔
رحال کچھ بول ہی نہیں سکی الفاظوں نے دم توڑ دیا تھا ۔۔ اور اس کی خود کی سانس اٹکنے لگی ۔۔
وہ تو نہیں جانتی تھی محبت جان لیوا ہوتی ہے ۔۔ اور محبت نیلی انکھوں والے لڑکے کی جان لے گی تھی وہ لڑکا جو پیار سے اس کو چھوٹا جنگلی بھالو کہتا تھا ۔۔ وہ جس اس لڑکی کو بہت تنگ کیا تھا ۔۔اور پھر اس سے محبت کر بیٹھا تھا ۔۔ وہ لڑکا مر گیا تھا اور اس کو اج خبر ہوئی تھی ۔۔” علی تو بتا کے باہر چلا گیا ۔۔۔
وہ باہر ایا تو فرحان صاحب تیار کھڑے تھے ۔۔
اپ کہاں جا رہے ہیں انکل علی نے پاس اتے ہوئے پوچھا۔۔۔
میں ہسپتال جا رہا ہوں قیسن کے بابا سے ملنے تم نے چلنا ہے تو بتاؤ۔۔
جی میں گاڑی نکالتا ہوں اپ ا جائیں علی کہتا ہوا باہر کی طرف نکل گیا۔۔۔
فرحان صاحب بھی پیچھے پیچھے نکلے ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ ہاسپٹل میں داخل ہوئے ریسیپشن سے نام پوچھا تو نرس نے آئی سی یو کا بتایا ۔۔
اُن کی حالات بہت خراب تھی ۔۔
کمیار کی بیوی اپنے بڑے بھائی کے ساتھ باہر بیٹھی انتظار کر رہی تھی اور رو رہی تھی ۔۔
سامنے سے اتے انجان لوگوں کو دیکھا تو کھڑی ہو گئی ۔۔
اپ کون ۔۔؟ سامنے کھڑی عورت نے کہا جو خود بیمار لگتی تھی۔۔
دیکھیں بھابی جی اپ ہمیں نہیں جانتی لیکن ہم آپ کے بیٹے کو جانتے تھے وہ ہماری بیٹی کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑتا تھا ۔۔ ہمارے گھر بھی آتا جاتا تھا ۔۔
ہمیں اس کہ سن کے بھی افسوس ہوا ۔۔
کمیار صاحب کیسے ہیں اب ۔۔ فرحان نے پوچھا تھا ۔۔
بھائی صاحب اُن کی حالات بہت خراب ہے اپ دعا کریں وہ ٹھیک ہو جائے میں دو دو دکھ ایک ساتھ کیسے دیکھوں گی ۔۔۔ ابھی میرے بیٹے کو مرے ایک ہفتہ نہیں ہوا اور کمیار کی یہ حالت ہے
وہ رو پڑی تھی ۔۔۔
اللہ آپ کو صبر دے بھابھی میں تو یہی دعا کر سکتا ہوں ۔۔ اللہ جوان اولاد کا غم کیسی بھی ماں باپ کو نہ دے ۔۔
ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں ۔۔ علی نے پوچھا تھا
بیٹا ڈاکٹر کہہ رہے ہیں سرجری کرنی پڑے گی ۔۔
بس دعا کریں کامیاب ہو جائے ۔۔
اللہ کامیاب کرے گا انٹی کچھ نہیں ہو گا انکل کو وہ ان کو صبر کا کہتے ایک طرف کو ہو گئے تھے ۔۔
علی بس وہ احسان ادا کرنے ایا تھا جو قیسن نے رحال کی بیماری میں رحال پر کیے تھے ۔۔ اُس کے پاس رہا تھا ۔۔ ڈاکٹروں کو بلانے کے لیے دوڑتا تھا ۔۔ دوائیاں لا کے دیتا تھا ۔۔
باقی علی کو بہت افسوس تھا قیسن کی موت کا ۔۔
شام سے رات ہو گئی وقت کا پتہ ہی نہیں چلا ۔۔صرف اُن لوگوں کو جن کے اپنے اُن کے پاس تھے ۔۔
اور جن کے اپنے دور تھے بیمار تھے اُن کے لیے تو ہر پل ہر گھڑی صدیوں کے برابر تھی ۔۔
4 گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر ائے ۔۔
سارے اُس کی طرف لپکے ۔۔
دیکھیں اُن کا آپریشن کر دیا ہے کچھ دیر بعد اُن کو روم میں شفٹ کر دے گے پھر آپ مل سکتے ہیں ۔۔۔
کچھ دیر بعد روم میں شفٹ کیا گیا اور کمیار کو ہوش آنے لگا ۔۔ کمیار نے دو انجام چہروں کو دیکھا
فرحان صاحب نے تعارف کروایا ۔
کمیار صاحب آپ کا بیٹا میری بیٹی کے ساتھ پڑتا تھا ۔۔ مجھے بہت افسوس ہوا قیسن کا سن کے
کمیار کی انکھوں میں انسو ائے ۔۔
وہ ۔۔وہ س ۔۔صرف میرا بیٹا۔ نہیں تھا ۔۔ وہ میرا ۔۔د۔۔دوست بھی تھا ۔ ۔
فرحان صاحب کو افسوس ہوا وہ کتنے کمزور ہو گئے تھے ۔۔ اپنے بیٹے کی موت کے کچھ دن بعد ہی
کمیار نے اپنی بیوی کو دیکھا ۔تم باہر جاؤ مجھے ان سے کوئی بات کرنی ہے ۔۔
اُن کی بیوی بات مانتی باہر چلی گئی ۔۔
انہوں نے علی کو دیکھا پھر فرحان کو ۔۔
اپ ک۔۔ کی بیٹی ۔کو دیکھ سکتا ہوں ؟
فرحان صاحب کے ساتھ ساتھ علی بھی حیران ہوا ۔۔
ج۔۔جی ۔۔” فرحان صاحب نے کچھ ہچکچاتے ہوئے فون میں رحال کی تصویر لگائی اور کمیار صاحب کے سامنے فون کیا ۔۔
کمیار نے اُس کو دیکھا ۔۔ انکھوں میں انسوں کا ریلا ایا ۔۔ تو یہ ہے وہ جس کے پیچھے میرا بچا پاگل تھا ۔۔ اور محبت نے اسے مار ڈالا ۔۔
فرحان صاحب ساکت رہ گئے ۔۔
جی کیا مطلب ۔۔؟
مطلب میں اب کیا رکھا ہے فرحان ۔۔ قیسن نے جانا تھا چلا گیا ۔۔ میں بس اپ کی بیٹی کو دیکھنا چاہتا تھا ۔۔ دیکھ لیا ۔۔ اللہ نے خوبصورت بنایا ہے اپ کی بیٹی کو ماشاءاللہ ۔۔
کمیار صاحب نے چہرہ دوسری طرف گھوم دیا ۔۔ جیسے اب وہ کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔
فرحان نے علی کو دیکھا ۔۔ اور دونوں ایک ساتھ باہر نکل گئے ۔۔۔
پھر گاڑی میں ا کے بیٹھے ۔۔
مجھے یقین نہیں آتا علی کے قیسن رحال کو پسند کرتا تھا ۔۔؟ علی خاموش تھا ۔۔
اور اس وجہ سے قیسن کی موت ہو گئی۔ ۔ مطلب علی اُس بچے کی موت کی ذمےدار میری بیٹی ہے کیا ۔۔
فرحان صاحب نے کہا تو علی نے ان کو دیکھا ۔ ۔
ہرگز نہیں انکل ۔۔ رحال کیسے ذمےدار ہو سکتی ہے ہماری رحال اس سب کی ذمے دار نہیں ہے بس قیسن کی زندگی ہی اتنی تھی ۔۔ میری رحا۔۔
علی کہتے کہتے روکا ۔۔
فرحان صاحب نے دیکھا ۔۔ وہ کچھ ہڑبڑایا ۔۔م ۔مطلب ہماری رحال کا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔
فرحان صاحب خاموش رہے ۔۔ اور پھر پورے راستے خاموشی رہی ۔۔ اور فرحان صاحب علی کو کچھ کچھ دیر بعد دیکھتے رہے ہو گاڑی چلا رہا تھا اور اپنے الفاظ پر پچھتا رہا تھا ۔۔۔
وہ گھر ائے ۔۔ گھر میں خاموشی تھی شاید سب سو گئے تھے ۔۔
علی کمرے میں جانے لگا تو فرحان نے روک لیا
تم صبح ناشتے پر ملنا کچھ بات کرنی ہے میں نے سب کے ساتھ ۔۔
علی حیران ہوا ۔۔ ج۔۔ جی انکل ۔۔ وہ کہتا کمرے میں غائب ہو گیا ۔۔
فرحان اپنے کمرے میں چلے گئے
جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا قیسن نے مرنا تھا مر گیا ۔۔ زندگی تو نہیں روک سکتی تھی نہ ۔۔ اور بھلا و لوگ کب تک قیسن کا غم منا سکتے تھے ۔۔
غم تو اُن ماں باپ کو تھا جن کی اولاد چلی گئی تھی
اور یہ غم ہمیشہ رہنا تھا ۔۔
رات پوری علی مصطفیٰ کو نیند نہیں آئی ۔۔ نہیں جانے فرحان نے کیا کہنا تھا صبح دماغ میں یہی چل رہا تھا ۔۔
خیر صبح بھی ہو ہی گئی تھی ۔۔
وہ اٹھا فریش ہوا اور ٹراؤزر شرٹ میں نیچے اگیا ابھی وہ بیٹھا ہی تھا معراج اور رحال کے کمرے کا دروازہ کھولا اور معراج رحال کا ہاتھ پکڑے اُس کو سنبھالتی ہوئی لے کے آرہی تھی ۔۔ رحال ٹھیک تھی چل سکتی تھی لیکن کمزوری اتنی تھی کے چکر آتے تھے اس لیے معراج خیال رکھتی تھی ۔۔
علی نے رحال کو اتے دیکھا ۔۔ کو اپنی جگہ سے اٹھا اور پاس جا کے رحال کا ہاتھ تھاما ۔۔ ایک ہاتھ اُس کے کندھے پر رکھا اور معراج کے ساتھ اس کو ڈائننگ چیئر پر بٹھایا۔۔
فرحان صاحب یہ سارا کچھ بارے غور سے دیکھ رہے تھے ۔۔
کھانا لگ گیا تھا سب نے کہنا شروع کیا ۔۔
رحال کے بال بکھرے بکھرے تھے ۔۔ عثمان نے تنگ کیا ۔۔ تم نے کیا اپنے سر کو چھریاں کا گھونسلا بنا لیا ہے کنگھی نہیں کی کیا اج تم نے ۔۔؟
نہیں اج دل نہیں تھا ۔۔۔
واہ یہ میڈیم کنگھی بھی دل سے کرتی ہیں ۔۔ سلمان نے مزید تنگ کیا ۔۔
کیا تم دونوں اُس کے اٹھتے ہی تنگ کرنے لگے ہو اُس کو ۔۔ کھانا کھانے دو اُسے علی نے کہا تو دونوں ہنستے ہنستے چُپ ہو گئے۔۔
علی نے فرحان کو دیکھا ۔۔ جب کچھ دیر تک کوئی بات نہیں ہوئی تو علی نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا ۔۔ انکل اپ نے کہا تھا رات کو ۔۔ کوئی بات کرنی ہے اپ نے ہم سے ؟؟
فرحان صاحب نے نیپکن پکڑا۔۔ ہاں بات کرنی تو ہے ۔۔
جی کہیں انکل کیا کہنا ہے ۔۔
میں جو پوچھوں گا علی مصطفیٰ سچ سچ بتانا ۔۔ فرحان کا لہجہ دو ٹوک تھا زرینہ اور سلیماں دونوں خاموشی سے سن رہی تھی ۔۔
ج۔۔ جی سچ ہی کہوں گا ۔۔
اچھا تو بتاؤ ۔۔ تم رحال کو پسند کرتے ہو ۔۔
علی کا نوالہ حلک میں اٹک گیا ۔۔۔ جس کو اس نے پانی کے سہارے سے نیچے اُترا ۔۔
بتاؤ علی میں کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔ بتاؤ۔۔۔
و۔۔ وہ ۔۔ا۔۔ انکل ۔و۔وہ ج۔۔
کیا وہ وہ لگایا ہے بتاؤ ۔۔ فرحان صاحب نے پھر پوچھا ۔۔ رحال خاموشی سے بیٹھی تھی نظریں نیچے کیے اُس کو امید نہیں تھی ایسا کچھ ہو گا
جی کرتا ہوں پسند ۔۔۔
زرینہ اور سلیماں کے ساتھ سب حیران ہوئے تھے کیوں کے اج شک یقین میں بدل گیا تھا ۔۔
کب سے کرتے ہو پسند ۔۔؟
و۔۔ وہ ۔۔ میں نہیں جانتا ۔۔ پیاری ہمیشہ سے لگتی تھی ۔۔ جانتا نہیں تھا کے محبت ہو جائے گی ۔۔ اب وہ خود کو سنبھال کے بتا رہا تھا ۔۔ رحال کا چہرہ مزید نیچے ہوا گال سرخ ہونے لگے ۔
اور تمھیں یہ زیادہ پیاری کب سے لگنے لگی تھی ۔۔
علی نے نظر اٹھا کے رحال کو دیکھا ۔۔۔
شاید وہ بارہ سال کی تھی تب سے ۔۔
صحیح ۔۔ فرحان نے گردن ہلائی ۔۔ پسند تھی تو بتایا کیوں نہیں کبھی ۔۔
بس بتانا مناسب نہیں سمجھا ۔۔ مجھے لگا میں اُس کے قابل نہیں ہوں شاید میں اُس سے عمر میں بڑا ہوں ۔۔
زیادہ بڑے بھی نہیں ہو تم ۔۔ فرحان صاحب ابھی تک سنجیدہ تھے ۔۔
تو اب تم کیا چاہتے ہو علی ۔۔۔
میں ۔۔ پتہ نہیں انکل ۔۔
شادی کرنا چاہتے ہو ۔۔
علی سکات ہو گیا ۔۔ سب کی نظر علی پر تھی ۔۔
بتاؤ علی مصطفیٰ ۔۔۔ میں نے کچھ پوچھا ہے
ج۔۔ جی انکل کرنا چاہتا ہوں ۔۔
فرحان نے علی کو دیکھا ۔۔ پھر خاموش ہو گئے
کچھ دیر بعد فرحان نے رحال کی طرف دیکھا ۔۔
رحال ۔۔
جی بابا ۔۔ اُس نے سر اٹھایا ۔۔
تمھیں پسند ہے کیا علی ۔۔؟
بابا۔۔و۔۔ وہ ۔۔م۔۔مجھے ۔۔؟
ہاں تمہارے علاوہ یہاں کوئی رحال ہے کیا۔۔فرحان صاحب نے پوچھا ۔۔
ن ۔۔ نہیں بابا ۔۔
تو بتاؤ پھر پسند کرتی ہو۔ ۔۔
ج ۔۔ جی بابا کرتی ہوں ۔۔
اچھا ۔۔ صحیح ۔۔
علی اپنے بابا کو بولا لینا ۔۔ وہ ا کے رشتا مانگے میں منا نہیں کروں گا ۔۔
دونوں نے فرحان کو دیکھا ۔۔
ج۔۔ جی انکل ضرور میں ابھی بابا کو کہتا ہوں وہ ضرور آئیں گے ۔۔۔
وہ کہتا اٹھ گیا تھا ۔۔
سلیماں پر زرینہ انتہا کی خوش تھی ۔۔ معراج بھی رحال کو تنگ کرنے لگ گئی تھی ۔۔
اور رحال خاموشی سے بیٹھی مسکرا رہی تھی ۔۔
علی کمرے میں ایا ایک نمبر ملایا ۔۔
دوسری طرف سے علی کی طرح ملتی جلتی اواز گونجی ۔۔
ہاں بولو بیٹا ۔۔
اپ کی طبیعت کیسی ہے ؟
ہاں میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو ۔۔”لگتا ہے بہت مصروف ہو اج کل فون ہی نہیں کرتے ۔۔
بابا وہ آپ کو تو پتہ ہے نہ بزنس سنبھالنا پڑتا ہے بالکل بھی وقت نہیں ملتا ۔۔
ہاں یہ بات تو ہے ۔۔ زرینہ سے میری بات ہوئی تھی اُس نے بتایا رحال کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا کیسی ہے اب وہ ۔۔
جی بابا اب ٹھیک ہے وہ ۔۔
بابا ۔۔ خاموشی کے بعد علی بولا ۔۔ علی لاڈلا تھا
ہاں کہو ۔۔
بابا وہ بات یہ ہے کہ م۔۔ میں رحال کو پسند کرتا ہوں فرحان انکل نے کہا ہے اپ ا کے رشتا مانگے کے پھر ہی وہ ہاں کہیں گے ۔۔ اپ کب ائے گے اپ نے کہا تھا تھوڑا عرصہ کراچی رہیں گے لیکن اب تو اتنا وقت ہو گیا ہے ۔۔ ؟
تم کہو تو صبح آجاتا ہوں ۔۔
علی مسکرا اٹھا ۔۔ وہ کبھی اس کی بات نہیں ٹالتے تھے ۔۔
آجائیں بابا کل صبح کی فلائٹ سے ۔۔
ٹھیک ہے جیسا تم کہو اجاوں گا ۔۔
میں تو شکر کروں گا تمھیں بھی کوئی لڑکی پسند ائی شادی کے لیے اور رحال ہے بھی بہت اچھی بچی ۔۔
علی مسکرایا ۔۔ جی اپ نے صحیح کہا ۔۔
چلو بیٹا مجھے ذرا کام ہے بعد میں بات کرتا ہوں
ٹھیک ہے بابا خیال رکھیں اپنا ۔۔۔فون بند ہو گیا
بابا کل ا رہے ہیں ۔۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے پھر فرحان صاحب بولے تھے ۔۔
اور علی نے رحال کو دیکھا جو نظریں نہیں ملا رہی تھی علی سے ۔۔
علی کو ایک کم تھا وہ باہر چلا گیا ۔۔
وہ باہر بالکنی میں بیٹھی چائے پی رہی تھی ۔پیچھے سے کسی کے قدموں کی آواز ائی ۔۔
میں دیکھ رہا ہوں صبح سے تم مجھے نظر انداز کر رہی ہو ۔۔
علی پاس بیٹھتا بولا ۔۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔ رحال نے ابھی بھی اس کی طرح نہیں دیکھا تھا ۔۔
علی نے اُس کو دیکھا جو سامنے دیکھ رہی تھی
یہاں دیکھو میری طرف دیکھو ۔۔
رحال نے اس کی طرف دیکھا ۔۔ جی کہیں
کیوں ڈرتی ہو مجھے ۔۔ مجھے دیکھتی رہا کرو نہیں تو لگتا ہے خفا ہو تم مجھ سے ۔۔
رحال مسکرائی ۔۔ نہیں ناراض نہیں ہوں
تو نظر انداز کیوں کر رہی ہو چھوٹی لڑکی ۔۔ ہونے والا شوہر ہوں تمہارا ۔۔۔۔
رحال کے گال سرخ ہوئے ۔۔ د۔۔دیکھیں آپ ایسی باتیں نہ کریں مجھ سے ۔۔ اُس نے نظریں ملائے بغیر کہا ۔۔۔۔
علی بے ساختہ مسکرایا ۔۔ میں کیسی باتیں کر رہا ہوں ۔۔ میں تو بس تمھیں بتا رہا ہوں کے میں تمھارا ہونے والا شوہر ہوں ۔۔
علی کا پورا ارادہ تھا سامنے موجود لڑکی کو تنگ کرنے کا ۔۔۔
اب کی بار رحال نے علی کو دیکھا ۔۔ میں نے کہا ہے نہ ایسی باتیں نہ کریں میرے ساتھ ۔۔
علی نے اُس کے سرخ رخسار دیکھتے ہوئے کہا کیوں شرما رہی ہو لڑکی۔۔
رحال نے گردن جُھکا دی اور مسکرا دی ۔۔میں شرما نہیں رہی ۔۔
اچھا چھوڑو نہیں کرتا تنگ۔۔ بتاؤ تمھیں میں کب سے اچھا لگتا تھا ۔۔۔ اب وہ پوچھ رہا تھا
میں نے کب کہا اپ مجھے اچھے لگتے ہیں ۔۔؟
رحال نے حیران ہونے کی اداکاری دکھائی۔۔
بس بس ۔۔ اب چھپانے کی ضرورت نہیں ہے تم نے انکل کے سامنے خود کہا ہے کہ تم مجھے پسند کرتی ہو ۔۔۔
ہاں تو آپ نے تو یہ ہی کہہ دیا کے 12 سال کی عمر سے مجھے پسند کرتے ہیں ۔۔
ہاں کرتا ہوں میں ۔۔
اگر پسند کرتے تھے تو اتنا نخرہ کیوں دکھاتے تھے بات نہیں کرتے تھے کام سے کام رکھتے تھے ۔۔
وہ اس لیے ہونے والی چھوٹی سی بیگم کیوں کے مجھے لگتا تھا تم بات ہی نہیں کرنا چاہتی مجھ سے کیوں کے جب بھی ہمارے میں بات ہونے لگتی تھی تمہارا رنگ ہوا ہو جاتا تھا جیسے میں کوئی جن ہوں ۔۔
ن۔۔ نہیں ایسا تو نہیں تھا ۔۔رحال نے نفی میں گردن ہلائی ۔۔۔
ایسا ہی تھا ۔۔ اگر ایسا نہیں تھا تو میرے سے بات کیوں نہیں کرتی تھی ۔۔ خالہ نے میرے ساتھ باہر جانے کو کہا تو جلدی سے بولی تھی ۔۔ نہیں مجھے نہیں جانا کہیں ۔۔ علی نکل اُترتا بولا ۔۔
رحال نے گھور کے اس کو دیکھا ۔۔۔
زیادہ اڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔دو منٹ میں زمین پر لے اوں گی میں ۔۔
میں نے تو اس لیے منا کیا تھا کے کہیں اپ مجھے اغوا ہی نہیں کر لے مجھے آپ سے ویسے ہی بہت ڈر لگتا تھا ۔۔ رحال نے سچ بتایا ۔۔
تو کیا اب نہیں لگتا ڈر ۔۔؟علی نے اس کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
نہیں اب نہیں لگتا ڈر کیوں کے اب ڈرنے کی باری اپ کی ہے ۔۔
علی ہنس پڑا ۔۔ جیسا تم کہو میں تو ساری زندگی تم سے ڈرنے کو تیار ہوں ۔۔
رحال نے اس کو دیکھا ۔۔ کتنی فضول باتیں کرتے ہیں نہ اپ ۔۔
اللہ اللہ ۔۔ تمھیں میری محبت بھری باتیں فضول لگ رہی ہیں ۔۔ یہ اللہ میں کہا جاؤں اب
لگتا ہے دوسری شادی کے لیے بھی لڑکی ڈھونڈنی پڑے گی ۔۔ کیوں کے تمھیں تو محبت سمجھ ہے نہیں آتی ۔۔
رحال نے اس کو گھور کے دیکھا جیسے کچا چبا جائے گی ۔۔
میں نے بات ہی نہیں کرنی اپ سے جائیں ڈھونڈے اپ کوئی دوسری لڑکی ۔۔میں نے شادی بھی نہیں کرنی اپ سے ۔۔ رحال موں بناتی بولی ۔۔
علی ایک دم آگے بڑھا ۔۔ ارے مذاق کر رہا ہوں رحال نہیں کرتا میں دوسری شادی ۔۔۔
نہیں دوسری کیوں اپ 4 شادیاں پوری کریں لیکن کسی اور کے ساتھ میرے ساتھ نہیں ۔۔
اگر تم سے شادی نہیں ہو گی تو میں پوری زندگی کوارہ ہی ٹھیک ہوں ۔۔ اور میری زندگی میں ایک ہی لڑکی ائی ہے اور میری منکوحہ بھی وہی بنے گی۔۔۔ نہیں تو لڑکیاں مرتی ہیں علی مصطفیٰ پر ۔۔
پاگل ہی ہو گی جو مرتی ہو گی۔۔۔
اچھا مطلب تم بھی پاگل ہو؟
میں نے آپ پر مرنے والی لڑکیوں کی بات کی ہے میں نہیں مرتی اپ پر ۔۔
اچھا جی ٹھیک ہے ۔۔علی نے ہار مانتے ہوئے کہا ۔۔ ویسے تمھیں یقین نہیں آتا تو جب تم لاہور اؤ گی تو تمھیں اپنی کمپنی لے کے جاؤں گا ۔۔
دیکھ لینا سمجھ آجائے گی تمھیں ۔۔
رحال نے اُس کو دیکھا ۔۔ مطلب کمپنی میں بھی کوئی اپ پر فدا ہے ۔۔؟
ہاں ہیں نا بہت لڑکیاں۔۔۔
لیکن چھوڑو مجھے اُن سے کوئی سروکار نہیں مجھے تو تم سے محبت ہے ۔۔
اچانک معراج نے رحال کو اواز لگائی وہ اٹھی۔۔علی نے اُس کو اٹھانے کے لیے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔ وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی ۔۔ پھر علی اُس کا ہاتھ تھامتا آہستہ آہستہ اُس کو کمرے میں لے گیا ۔۔ معراج شاید رحال سے پوچھنا چاہ رہی تھی کے کل وہ کون سے کپڑے پہنے گی ۔۔ کیوں کے کل صبح 8 بجے کی فلائٹ سے مصطفیٰ صاحب ارہے تھے رحال کا ہاتھ مانگنے اپنے بیٹے کے لیے ۔
اور یہ علی اور رحال کی نئی زندگی کی طرف پہلا قدم تھا ۔۔۔
یہ رات کا وقت تھا ۔۔کمیار صاحب ہاسپٹل کے بیڈ پر خاموش لیٹے ہوئے تھے جیسے دنیا کی کوئی ہوش نہیں تھی۔۔۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت پیسہ بہت شہرت کمائی تھی۔۔ لیکن اس طرح تو وہ پیسہ کام ا رہا تھا نہ ہی وہ شہرت۔۔ کیونکہ جو وہ کھو بیٹھے تھے وہ پیسہ اور شہرت سے واپس نہیں لا سکتے تھے۔۔۔۔ وہ اپنا اکلوتا بیٹا اپنے ہاتھوں سے قبر میں دفنا کر ائے تھے۔۔۔ اور یہ غم اب ہمیشہ رہنا تھا ۔۔
کوئی پوچھے علی اور رحال سے وہ تو خوش تھے لیکن کمیار ہاؤس تو تباہ ہو گیا تھا ۔۔
وہ دونوں زندگی کی شروعات کرنے والے تھے اور دوسری طرف نیلی آنکھوں والے لڑکے کی زندگی ہی ختم ہو گئی تھی ۔۔
واللہ اس نے کتنی بڑی قیمت ادا کی تھی محبت کرنے کی۔۔۔
کاش قیسن تم واپس آجاؤ ۔۔ کاش قیسن کمیار تم زندہ ہو ۔۔ کاش تم نے مجھے نہ چھوڑا ہو قیسن میں مر جاؤں گا تمہارے بنا بیٹا ۔۔ تمہارا باپ مر جائے گا خدا کے لیے واپس آجاؤ ۔۔
قیسن تم میرے بیٹے تھے تم کیسے مر سکتے تھے ۔۔ خدا کے لیے قيسن واپس آجاؤ ۔۔
اُن کے اب انسو بہ رہے تھے کمیار کی بیوی ذرا گھر گئی تھی ۔۔
کمیار اکیلے ہاسپٹل میں تھے۔۔۔
تم نہیں مر سکتے تھے قیسن ۔۔ وہ رو پڑے تھے ۔۔
تب ہی دروازہ کھولا ۔۔۔ کمیار صاحب نے نہیں دیکھا ۔۔
ہاسپٹل کے کمرے میں اواز گونجی ۔۔
اور وہ الفاظ اُس اواز نے کمیار کو دروازے کی طرف دیکھیں پر مجبور کر دیا ۔۔
آ پ ٹھیک کہہ رہے ہیں بابا ۔۔ میں فی الحال تو نہیں مر سکتا ۔۔۔
کمیار نے انسو بھری آنکھوں سے سامنے دیکھا اور اگلے ہی پل اُن کے انسو زارو قطار گرنے لگے ۔
سامنے کھڑے لڑکے کے چہرے پر زخموں کے نشان تھے وہ صحیح سے چل بھی نہیں پا رہا تھا سر پر ابھی بھی پٹی بندھی تھی ۔۔۔ اور اس کی آنکھیں نیلی تھی ہاں لیکن انکھوں کی چمک کہیں کھو گئی تھی ۔۔ کمیار بے صبر نگاہوں سے اُس کو دیکھ رہے تھے ۔۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ان کے قریب آرہا تھا ۔۔۔۔
موت ہاری ہے میرا عزم سفر باقی ہے
ابھی تو جینے کا اصلی ہنر باقی ہے
گیا تھا اندھیروں کی سمت مگر پلٹ ایا ہوں
زندگی کے نئے راستے کا سفر باقی ہے
یہ دوپہر کا وقت تھا جب سورج آسمان کو سنہرے رنگ میں رنگ دیتا ہے ۔۔۔
علی مصطفیٰ جو کے اسلام اباد میں رحال شیخ کے گھر تھا وہ اپنے کمرے میں کھڑا تیار ہو رہا تھا ۔۔
اپنا کمرا مطلب گیسٹ روم ۔۔
وہ اس وقت سفید شلوار قمیض وہی شلوار قمیض جس میں رحال شیخ نے اُس کو دیکھا تھا ۔۔
وہ ٹیبل پر رکھے پرفیوم میں سے ایک اُٹھا کر لگا رہا تھا ۔۔ یہ کمرا علی مصطفیٰ کا تھا یہی سمجھ لو وہاں علی کی پسند کی چیزیں تھی اُس کی پسند کے پرفیوم رکھے گئے تھے ۔۔ کیوں کے سلیماں کو اپنے بھانجے سے بہت محبت تھی ۔۔
علی نے ایک پرفیوم خد پر لگایا پورے کمرے میں خوشبو پھیل گئی ۔۔ تب ہی دروازہ کھولا ۔۔
رحال اندر داخل ہوئی ۔۔۔وہ کھانے کے لیے بولنے ائی تھی ۔۔
دروازہ کھولتے ہی خوشبو رحال کے ناک سے ٹکرائی ۔۔ پل بھر کو وہ ساکت ہوئی یہ وہی خوشبو تھی جس نے رحال کو اپنے حصار میں گرفتار کیا تھا ۔۔
اور اب دوبارہ وہی لمحہ تھا ۔۔
علی نے گھوم کے اس کی طرف دیکھا ۔۔
آجاؤ رحال کیا ہوا ہے ۔۔؟
و۔۔ وہ امی کہہ رہی ہیں کھانا لگا دیا ہے آجائیں آپ ۔۔
اچھا چلو وہ پرفیوم ٹیبل پر واپس رکھتا قمیض کی آستین چڑھاتا رحال کے ساتھ ساتھ ہی باہر نکلا
رحال ابھی بھی بہت آرام سے چلتی تھی کے کہیں گر نہ جائے ۔۔
علی رحال کے ساتھ قدم ملا کر اُس کی ہی رفتار میں چل رہا تھا ۔۔ رحال نے گردن اُٹھا کر اپنے ساتھ چلتے دراز قد مرد کو دیکھا ۔۔
وہ جس کے کندھوں تک اتی تھی ۔۔ واللہ اس کی چال اُس کا چہرہ اُس کی آنکھیں ۔۔ کتنی خوصورت تھی نہ ۔۔ رحال کو وہ دنیا کا حسین مرد لگا اور وہ واقعے حسین تھا ۔۔۔
وہ چلتے ہوئے ڈائننگ ہال تک ائے ۔۔ علی نے آگے بڑ کے رحال کے لیے کُرسی کھینچی ۔۔رحال خاموشی سے اُس پر بیٹھی اور ساتھ والی کُرسی پر وہ خود بیٹھا ۔۔
معراج خاموشی سے دیکھ رہی تھی اج وہ کالج نہیں گئی تھی کیوں کے اج تو خالو انے والے تھے ۔۔
کب آرہے ہیں مصطفیٰ بھائی ۔۔سلیماں بیگم نے علی کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
جی بس آدھا گھنٹہ ہے فلائٹ لینڈ کرنے میں ایئر پورٹ قریب ہے میں بس نکلنے والا ہوں بابا کو پک کرنے کے لیے ۔۔۔
ٹھیک ہو گیا ۔۔ سلیماں نے سمجھنے والے انداز میں گردن ہلا دی ۔۔
علی نے بس جوس ہی پیا تھا ۔۔ اُس کو بھوک نہیں تھی ۔۔ اور کچھ دیر بعد وہ اُٹھا گاڑی کی چابی ہاتھ میں گھومتا باہر نکل گیا ۔۔۔
آج وہ دن تھا جب علی مصطفیٰ اور رحال کی زندگی کا اہم فیصلہ سنایا جانا تھا ۔۔۔ اج دو دل ملنے کا فیصلہ ہونا تھا ۔۔ اج روحوں کے ساتھی بنے کا فیصلہ ہونا تھا ۔۔
یہ منظر اسلام آباد ایئر پورٹ کا تھا ۔۔۔ علی مصطفیٰ ویٹنگ ایریا میں بیٹھا اسکرین پر دیکھ رہا تھا ۔۔۔سکرین پر سامنے سے اس کے بابا نے آتے ہوئے نظر انا تھا اور پھر کچھ دیر بعد لوگوں کے ہجوم میں مصطفیٰ علی کو نظر آ ہی گئے اور پھر علی اٹھ کھڑا ہوا مصطفیٰ ان کی طرف آرہے تھے ۔۔
کچھ دیر بعد وہ ان کی طرف ائے ۔۔ سامنے اپنے بیٹے کو کھڑے دیکھ وہ تقریبا 10 مہینے بعد اُس کو سامنے دیکھ رہے تھے ۔۔ویسے تو وہ اکثر خبروں میں دیکھا جاتا تھا ۔۔ اور وہ اب ان کے لیے فخر کا باعث تھا ۔۔
مصطفیٰ نے علی کو گلے لگایا ۔۔
کیسا ہے میرا بیٹا ۔۔؟
جی بابا میں ٹھیک آپ کیسے ہیں ۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں بس تمھیں پتہ تو ہے بوڑھا ہو رہا ہوں طبیعت خراب رہتی ہے بس تم بتاؤ کیا ہو رہا ہے اج کل ۔۔
کچھ بھی نہیں بس اپ کے انے کا انتظار تھا کل سے ۔۔ اب آپ اگائیں ہیں تو سب ہو جائے گا علی مسکراتے ہوئے بولا ۔۔
مصطفیٰ نے مسکرا کے علی کو دیکھا ۔۔ تمھیں رحال پسند ہے نہ ۔۔
اب وہ ایئر پورٹ سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ رہے تھے ۔۔ جب مصطفیٰ نے پوچھا ۔۔
جی بابا پسند ہے اور میں صرف اُسے پسند ہی نہیں رہنے دینا چاہتا میں اُس کو آپ کی بہو بنانا چاہتا ہوں ۔۔
تمہارا خیال اچھا ہے علی ایک مرد جب سچی محبت کرتا ہے تو وہ دنیا سے لڑائی کر لیتا ہے لیکن اس عورت کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتا میرے بیٹے ۔۔
اب علی گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔
راستے میں اُس نے اپنے بابا کو ساری بات بتائی تھی ۔۔
کچھ دیر بعد جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو کھانوں کی خوشبو ناک سے ٹکرائی ۔۔ رحال کچن میں سلیماں کے ساتھ کھانا بنا رہی تھی جب خالو کو اندر اتے دیکھا تو سر پر دوپٹہ لیتی فوراً اُن کی طرف بڑھی مصطفیٰ نے شفقت بھرا ہاتھ اُس کے سر پر رکھا ۔۔ وہ اُن کے بیٹے کی پسند تھی اور لا جواب تھی حسن میں بھی اور تہذیب میں بھی
علی خاموشی سے صوفے پر بیٹھا اُس کو دیکھ رہا تھا
کیسے ہیں اپ خالو ۔۔ معراج نے پوچھا تھا
میں ٹھیک ہوں چھوٹی گڑیا تم کیسی ہو ۔۔
دیکھیں میں تو ہمیشہ جیسی ہوں ۔۔ وہ مسکرا کر بولی مصطفیٰ بھی مسکرا دیے ۔۔
شام کا وقت ہو رہا تھا جب کھانا ڈائننگ ٹیبل پر لگایا گیا مصطفیٰ فریش ہونے گئے تھے ۔۔
علی خاموشی سے ایک چیئر پر کھانے کے لیے بیٹھ گیا ۔۔ کچھ دیر بعد مصطفیٰ ائے تو سب نے کھانا شروع کیا ۔۔ ساتھ ساتھ فرحان اور مصطفیٰ اپنے کاروبار کی باتیں کر رہے تھے ۔۔
سلیماں اور زرینہ اس انتظار میں بیٹھی تھی کب علی کی بات شروع کی جائے گی ۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد موضوع گفتگو بدل کر علی اور رحال کی باری اگئی ۔۔
فرحان تم تو جانتے ہو میں عمر میں تم سے بڑا ہوں اور رشتے میں بھی تم سے بڑا ہوں ۔۔ مجھے امید ہے تم میری بات کو نظر انداز نہیں کروں گے ہمارے دونوں بچے ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اور اج میں یہ رشتا مانگنے نہیں تم سے شادی کی تاریخ رکھنے ایا ہوں ۔۔ رشتا تو اُن دونوں کا اوپر خدا نے بنا دیا ہے فرحان ۔۔
جی بھائی میں جانتا ہوں اور میں آپ کے فیصلے کی قدر کرتا ہوں ۔۔ مجھے اس میں کوئی عتراض نہیں ہے اگر میری بیٹی کو علی پسند ہے اور علی میری انکھوں کے سامنے پروان چڑھا ہے میں جانتا ہوں وہ مجھے رسوا نہیں کرے گا وہ ہمیشہ میری بیٹی کا خیال رکھے گا ۔۔
آپ فکر نہ کریں خالو میں رحال کو دنیا بھر سے زیادہ چاہوں گا ۔۔ فرحان مسکرائے ۔۔
تو پھر کب نکاح رکھنا ہے فرحان ۔۔ مصطفیٰ نے پوچھا تھا رحال کا دل زور سے دھڑکا ہر لڑکی کا دل دھڑکتا ہے جب وہ سوچتی ہے کے وہ ایک گھر سے دوسرے گھر جائے گی۔۔۔
فرحان نے کچھ دیر سوچا ۔۔
4 دن بعد جنوری شروع ہو رہا ہے بھائی میں چاہتا ہوں جنوری کی 20 تاریخ کو علی اور رحال کا نکاح رکھا جائے ۔۔
اور آخر کار دن تح پائے تھے ۔۔ رحال شخ کے اس گھر سے رخصت ہونے کے دن ۔۔ چند دن میں زندگی بھر کی یادیں سمٹ گئی تھی ۔۔ معراج کے ساتھ گزارا بچپن ماں بابا کے ساتھ گزارے حسین لمحے ۔۔ اور اپنے دونوں بھائیوں کا پیار ۔۔
سب انکھوں کے سامنے چل رہا تھا
یہ جو لوگ کہتے ہیں نہ پسند کی شادی کرنے والی لڑکیوں کو گھر کی یاد نہیں آتی وہ لوگ غلط کہتے ہیں
ایک بیٹی کو اپنا گھر چھوڑتے ہوئے ہر ایک لمحہ یاد آتا ہے پھر شادی اپنی پسند کی ہو یا گھر والوں کی پسند کی ۔۔
ایک لڑکی کی ہمت ہوتی ہے جب وہ اپنے ساتھ پروان چڑھے بہن بھائی اور اپنے بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر دوسرے گھر میں جاتی ہے تو ۔۔
کھانا ختم ہوا تو سلیماں اور زرینہ برتن اُٹھانے لگی رحال خاموشی سے اپنے کمرے میں اگئی ۔۔
معراج بھی کمرے میں چلی گئی ۔۔ علی کو لگا رحال جیسے کسی گہری سوچ میں ہے ۔۔
علی خاموشی سے اُٹھا اور معراج اور رحال کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔
رحال بیڈ پر بیٹھی تھی معراج صوفے پر لیپ ٹاپ کھولے بیٹھی تھی ۔۔
علی خاموشی سے ایک طرف بید پر بیٹھ گیا ۔۔
تم پریشان ہو ۔۔ ؟علی نے رحال کو دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔
رحال نے آنکھیں اٹھائی انکھوں میں ہلکی نمی تھی
میں سوچ رہی ہوں علی میرے لیے وہ لمحہ بہت مشکل ہو گا جب میں اپنے گھر کو چھوڑ کے اپ کے ساتھ جاؤں گی ۔۔
تم ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو چھوٹی لڑکی تم ہمیشہ کے لیے تو نہیں جا رہی نہ اپنے ماں بابا کو چھوڑ کر میں تمھیں ملوانے کے لیے لے کے ایا کروں گا
لیکن علی مصطفیٰ مرد تھا اور کوئی مرد بیٹی کے غم نہیں جانتا
ایک بیٹی جس کی شادی ہونے والی ہوتی ہے اس کے دل میں خوشی ہوتی ہے کہ وہ کسی کی منکوحہ بننے جا رہی ہے لیکن دماغ میں غم ہوتا ہے کہ وہ اپنا گھر بھی چھوڑنے والی ہے ۔۔
اب شادی کی تیاریاں شروع ہونی تھی ۔۔
علی مصطفیٰ نے واپس جانا تھا اور وہاں شادی کی خبر دینی تھی ۔۔
علی کی بہنوں کو تو پتہ تھا کے شادی کے دن رکھ دیے گئے ہیں فون پر بات ہو رہی تھی زرینہ کی لیکن بہت رشتے دار تھے جن کو بتانا تھا ۔۔
تو کل صبح علی کا ارادہ تھا کے وہ لاہور کے لیے نکل جائیں ۔۔
تم زندہ کیسے ہو قیسن ۔۔کمیار نے پوچھا تو کیسی آہستہ آہستہ چلتا ان کے پاس آیا اور ایک طرف بیٹھ گیا ۔۔ اللہ کا شکر ہے بابا بچ گیا میں شاید بہت بُرا ہوں اس لیے یہ شاید ابھی اللہ چاہتا ہے کہ میں زندہ رہوں شاید اللہ مجھے کچھ دیکھنا چاہتا ہے کچھ کام کروانا چاہتا ہے ۔۔
لیکن تم قبر میں تھے وہاں سے کیسے نکلے کیسے بچے؟
کمیار حیران تھے ۔۔
قبرستان کا سناٹا اب گہرا اور ہولناک ہو چکا تھا۔ قیسن کامیار کے جنازے میں شریک تمام لوگ، رشتے دار اور محلے دار آہستہ آہستہ رخصت ہو چکے تھے۔ فضا میں اگربتیوں کی مدہم ہوتی خوشبو اور تازی کھدی مٹی کی بوجھل مہک باقی رہ گئی تھی۔ قیسن، جو کبھی زندگی کا طوفان تھا، اب مٹی کی چادر اوڑھے اندھیری قبر میں سو رہا تھا۔
سب جا چکے تھے، مگر ایک شخص وہیں کچی مٹی کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔ وہ تھا کامران—قیسن کے بچپن کا یار، وہ دوست جس نے قیسن کے ساتھ گلیوں میں دوڑتے ہوئے خواب دیکھے تھے۔۔۔
کامران شہر سے باہر گیا ہوا تھا اور اسے جیسے ہی قیسن کے اس ہولناک حادثے کی خبر ملی، وہ اپنے ہوش و حواس کھو کر سیدھا واپس آیا تھا ۔۔۔
وہ جنازے اور تدفین کے وقت اس قدر صدمے میں تھا کہ اس کے حلق سے آواز تک نہیں نکل سکی تھی۔۔۔۔
رات کا اندھیرا اب قبرستان کے پرانے درختوں کے سائے کو مزید لمبا کر رہا تھا۔ کامران نے کانپتے ہاتھوں سے قیسن کی قبر کی گیلی مٹی کو چھوا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر مٹی پر گرے۔
“تو ایسے کیسے جا سکتا ہے قیسن؟” کامران کی آواز اس ہولناک خاموشی میں گونجی۔ “ابھی تو ہم نے زندگی شروع کرنی تھی،
پھر یہ مٹی کی چادر کیوں اوڑھ لی؟”
کافی دیر تک وہ وہیں بیٹھا روتا رہا۔ جب رات کا آخری پہر شروع ہوا اور ہوا میں سردی حد سے بڑھ گئی، تو کامران نے بوجھل دل کے ساتھ اٹھنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے آخری بار قبر کو دیکھا، رخ موڑا اور بجھے ہوئے قدموں سے باہر کی طرف چلنے لگا۔
کامران ابھی چند ہی قدم دور گیا تھا کہ اچانک اس کے کانوں میں ایک عجیب سی آواز ٹکرائی۔ وہ وہیں رک گیا۔
ایک بہت ہی دھیمی، گہری اور ہانپتی ہوئی آواز—جیسے کوئی بہت دور سے، زمین کی تہوں کے نیچے سے سانس لینے کی جدوجہد کر رہا ہو۔
ززز۔۔۔ سسس۔۔۔
کامران کا خون جم گیا۔ اس نے مڑ کر دیکھا، مگر وہاں صرف اندھیرا اور خاموش قبریں تھیں۔ “میرا وہم ہے،” اس نے خود کو سمجھایا اور دوبارہ قدم بڑھائے۔ مگر اگلے ہی سیکنڈ ایک اور آواز آئی۔ اس بار مٹی کے سرکنے کی واضح آواز تھی۔۔
کامران کا دل سینے میں ہتھوڑے کی طرح بجنے لگا۔ وہ خوف کو پسِ پشت ڈال کر پاگلوں کی طرح دوبارہ قیسن کی قبر کی طرف بھاگا۔ وہ گھٹنوں کے بل گرا اور اپنا کان سیدھا کچی مٹی پر لگا دیا۔ اس نے اپنی سانسیں روک لیں۔
“ک۔۔۔ کامران۔۔۔”
مٹی کے نیچے سے ایک بہت ہی کمزور، ٹوٹی ہوئی اور گھٹی ہوئی آواز آئی۔ وہ آواز کسی اور کی نہیں، قیسن کی ہی تھی۔
کامران کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ “قیسن؟! قیسن تو ٹھیک ہے؟ تو زندہ ہے؟” وہ دیوانہ وار چلایا۔
“ب۔۔۔ باہر۔۔۔ باہر نکالو۔۔۔ سانس۔۔۔ نہیں آ رہا۔۔۔” اندر سے قیسن کی آواز اب سسک رہی تھی۔
کامران کے پاس کوئی اوزار نہیں تھا، مگر اس وقت اس کے اندر جیسے کسی جنون نے جنم لے لیا تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے مٹی کو کھودنا شروع کر دیا۔ ناخن مٹی میں دھنس گئے، ہاتھوں سے خون رسنے لگا، مگر وہ نہیں رکا۔ وہ پاگلوں کی طرح مٹی کو پیچھے پھینک رہا تھا اور ساتھ ساتھ روئے جا رہا تھا۔
“میں نکال رہا ہوں قیسن! میں نکال رہا ہوں تجھے، بس ہمت مت ہارنا!”
دس منٹ کی اس وحشیانہ مشقت کے بعد کامران کے ہاتھ نیچے قیسن کے وجود سے ٹکرائے۔۔
کامران نے اندھیرے میں ہاتھ ڈال کر قیسن کا کندھا پکڑا اور اسے پوری قوت سے اوپر کی طرف کھینچا۔
جب قیسن کا وجود مٹی سے باہر نکلا، تو اس نے ایک طویل اور گہرا سانس لیا، جیسے کوئی ڈوبتا ہوا انسان سطح سمندر پر آ گیا ہو۔ اس کا چہرہ مٹی اور سوکھے ہوئے خون سے اٹ پٹا تھا، مگر اس کی وہ نیلی آنکھیں دھیرے سے کھلیں اور انہوں نے آسمان کے تاروں کو دیکھا۔
کامران نے قیسن کو اپنے سینے سے لگا لیا اور اونچی آواز میں رو پڑا۔ “یہ معجزہ ہے قیسن! اللہ کا شکر ہے، تو زندہ ہے! تو مرا نہیں تھا!”
قیسن بہت کمزور تھا، اس کے لب ہلے مگر وہ کچھ بول نہیں سکا۔ کامران نے بغیر وقت ضائع کیے قیسن کا بھاری وجود اپنے کندھوں پر اٹھایا اور قبرستان کے کچے راستے پر دوڑ لگا دی۔ اس نے قیسن کو اپنی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور گاڑی کو ہسپتال کی طرف بھگا دیا۔
کامران نے کچھ دن قیسن کے زندہ ہونے کی خبر کسی کو بھی بتانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔۔ یہاں تک کہ کمیار کو بھی ۔۔
رات کے ڈھائی بجے ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کا دروازہ دھڑام سے کھلا۔ کامران قیسن کو اپنے کندھوں پر لادے اندر داخل ہوا تو وہاں موجود ڈیوٹی ڈاکٹر اور نرسیں ششدر رہ گئیں۔ قیسن کا پورا وجود کچی مٹی، سوکھے ہوئے خون اور پھٹے ہوئے کفن کے ٹکڑوں سے اٹا ہوا تھا۔..
یہ کیا ہے؟ کون ہے یہ؟” ایک جوان ڈاکٹر نے حیرت اور خوف کے ملے جلے تاثرات سے پوچھا۔
“ڈاکٹر صاحب! سوال مت کریں، اس کی سانسیں اکھڑ رہی ہیں، پلیز اسے بچائیں!” کامران نے قیسن کو اسٹریچر پر لٹاتے ہوئے ہانپتی آواز میں کہا۔
ڈاکٹر نے فوراً آگے بڑھ کر قیسن کی نبض پر ہاتھ رکھا اور اس کی آنکھوں کی پتلیاں چیک کیں۔ “اوہ خدایا! اس کا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گرا ہوا ہے اور پھیپھڑوں میں مٹی جانے کا خدشہ ہے۔ سسٹر! فوراً آکسیجن لگائیں اور ای سی جی (ECG) مشین تیار کریں!”
وارڈ میں ایک دم افرا تفری مچ گئی۔ قیسن کے منہ پر آکسیجن ماسک چڑھا دیا گیا اور نرسوں نے تیزی سے اس کے جسم سے مٹی صاف کر کے ڈرپس لگانا شروع کر دیں۔ کامران وہیں ایک کونے میں کھڑا لرزتے وجود کے ساتھ اپنے یار کو زندگی اور موت کی جنگ لڑتے دیکھ رہا تھا۔اس نئے ہسپتال کے عملے کے لیے یہ محض ایک پُرراسرار اور نازک کیس تھا، وہ اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ اسٹریچر پر لیٹا یہ لڑکا چند گھنٹے پہلے سرکاری کاغذات میں “مردہ” قرار پا کر دفنایا جا چکا تھا۔
اگلے تین دن قیسن کے لیے انتہائی نازک تھے۔ وہ آئی سی یو کے ایک چھوٹے سے پرائیویٹ کمرے میں رہا، جہاں سوائے کامران کے کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ ان تین دنوں میں قیسن کو شدید بخار رہا، وہ بے ہوشی کی حالت میں خواب دیکھتے ہوئے بڑبڑاتا تھا، مگر کامران ایک سائے کی طرح اس کے سرہانے موجود رہا۔ اس نے ہسپتال کے ریکارڈ میں قیسن کا فرضی نام لکھوا دیا تھا تاکہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔
چوتھے دن کی صبح، جب کھڑکی کے پردوں کو چیرتی ہوئی دھوپ کمرے کے فرش پر آ کر چمکی، تو قیسن کی بوجھل پلکیں دھیرے دھیرے کھلیں۔
اس نے گردن گھما کر سفید دیواروں، مشینوں کی مدہم بیپ اور اپنے ہاتھ میں لگی ڈرپ کو دیکھا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں چھایا ہوا اندھیرا اب چھٹ چکا تھا۔ اس نے سامنے کرسی پر بیٹھے کامران کو دیکھا، جو جاگنے اور سونے کے درمیان کی کیفیت میں تھا۔
“کام۔۔۔ کامران۔۔۔” قیسن کے خشک لبوں سے ایک انتہائی دھیمی سرگوشی نکلی۔
کامران نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں اور بیڈ کی طرف لپکا۔ “قیسن! میرے بھائی! تو ہوش میں آ گیا؟” اس کی آواز خوشی سے رندھ گئی۔
قیسن نے ایک گہرا سانس لیا، اس کے پھیپھڑوں میں اب مٹی کی گھٹن نہیں، بلکہ تازہ ہوا کا احساس تھا۔ “میں ہسپتال میں ہوں؟”
“ہاں یار، ایک ایسے ہسپتال میں جہاں تجھے کوئی نہیں جانتا۔ تو بالکل محفوظ ہے،” کامران نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے تسلی دی۔…
مزید ایک ہفتہ گزر گیا۔ اس نئے ہسپتال کی بہترین دیکھ بھال اور کامران کی دن رات کی تیمارداری کی وجہ سے قیسن کے زخم بھرنے لگے تھے۔ وہ اب نرس کا سہارا لیے بغیر، اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر کمرے میں چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا تھا۔
شام کے وقت، قیسن کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا باہر سڑک پر چلتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کا چہرہ اب صاف تھا، اور اس کے گورے چہرے پر نقاہت کے باوجود ایک عجیب سا ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ موت کے منہ سے لوٹنے کے اس تجربے نے اس کے اندر کے ضدی اور جذباتی قیسن کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا تھا۔
کامران کمرے میں داخل ہوا اور قیسن کو یوں کھڑا دیکھ کر مسکرایا۔ “ڈاکٹر کہہ رہا تھا کہ اگلے دو دن میں تمہیں ڈسچارج کر دیں گے۔ اب بتاؤ، اگلا پلان کیا ہے؟ انکل اور آنٹی تو تمہارے غم میں نیم پاگل ہو چکے ہیں، انہیں کب بتانا ہے کہ ان کا شیر پتر زندہ ہے؟”
قیسن نے کھڑکی سے نظریں ہٹائیں اور مڑ کر کامران کو دیکھا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں اب کوئی تڑپ یا حسرت نہیں تھی، بلکہ ایک سرد سا سکون تھا۔
“میں انہیں جلد بتاؤں گا کامران، لیکن ابھی نہیں۔ میں اس ہسپتال سے نکل کر سیدھا اپنے گھر نہیں جا سکتا۔ اس حادثے نے، اس اندھیری قبر نے مجھے سکھا دیا ہے کہ جس رحال کے لیے میں اپنی جان دینے چلا تھا، وہ کبھی میری تقدیر میں تھی ہی نہیں۔ میں سڑک پر تڑپ رہا تھا اور وہ کسی اور کی محبت میں خوش ہے اب قیسن کامیار کسی کے لیے اپنی زندگی برباد نہیں کرے گا۔ میں واپس آؤں گا، اپنے باپ کا کاروبار سنبھالوں گا، مگر ایک بالکل نئے روپ میں۔”
قیسن نے کامران کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، اس کے لبوں پر ایک پراعتماد مسکراہٹ تھی۔ وہ لڑکا جو محبت کی آگ میں جل کر خاک ہو چکا تھا، آج اسی راکھ سے ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست انسان بن کر جی اٹھا تھا۔۔۔۔
کمیار خاموشی سے اپنے بیٹے کی ساری بات سن رہے تھے ۔۔
نیلی آنکھوں والے لڑکے نے اپنے باپ کو دیکھا
بابا اپ نے اپنا کیا حال کر لیا ہے ۔۔
تم اگائے ہو نہیں میں ٹھیک ہو جاؤں گا اب ۔۔ وہ نم انکھوں سے مسکرائے ۔۔
تمھاری ماں انے والی ہے تمھیں جب کو دیکھ گی تو بہت خوش ہو گی وہ ۔۔
قیسن مسکرایا ۔۔ جانتا ہوں بابا ۔۔
قیسن کمیار واپس آگیا تھا لیکن اس کی نیلی آنکھوں کی چمک ۔۔ وہ اب کبھی واپس نہیں آنی تھی ۔۔ وہ تو اس نے ہمیشہ کے لیے کھو دی تھی اب آنکھیں سرد تھی ۔۔ برف کی طرح ٹھنڈی نیلی آنکھیں جن میں کوئی محبت کا احساس نہیں تھا ۔۔ اگر کچھ تھا تو بس اپنے ماں باپ کا خیال ۔۔
اور پھر کچھ دیر بعد قیسن کی ماں نے جب اپنے بیٹے کو دیکھا ۔۔ وہ خوشی برداشت نا کر سکی اور بےہوش ہو گئی ۔۔ جب وہ ہوش میں ائی تو سامنے بیٹا بیٹھا تھا وہ خواب نہیں تھا حقیقت تھا وہ زندہ تھا ۔۔۔ وہ کبھی قیسن کے سر پر پیار کرتی کبھی اس کی پیشانی چومتی ۔۔ کبھی اُس کو سینے سے لگا کر رونے لگ جاتی ۔۔ ان کا بیٹا زندہ تھا مطلب زندگی لوٹ ائی تھی ۔۔
اب سب ٹھیک تھا ۔۔۔
اسلام آباد کے اس ٹھنڈے اور پرسکون گھر کے ایک کمرے میں علی مصطفیٰ اپنے مخصوص سنجیدہ مزاج کے ساتھ بیڈ پر کھلا ہوا اپنا سفری بیگ پیک کر رہا تھا۔
کمرے کی مدہم لائٹ میں اس کا لمبا، کسرتی وجود جھکا ہوا تھا اور وہ بہت سلیقے سے اپنے کپڑے تہہ کر کے بیگ میں رکھ رہا تھا۔ کل صبح سویرے اسے اور اس کی ماں، زرینہ بیگم کو لاہور کے لیے نکلنا تھا۔ آخر کار، لاہور جا کر شادی کی تیاریاں بھی تو شروع کرنی تھیں نا! اب رحال کو علی مصطفیٰ کی منکوحہ، اس کی دلہن بن کر اس کے شہر، اس کے گھر آنا تھا۔
علی نے بیڈ پر رکھی اپنی پسندیدہ سیاہ کیپ (Cap) اٹھائی اور اسے غور سے دیکھتے ہوئے کچھ سوچ کر مسکرا دیا۔ اسی لمحے کمرے کے نیم کھلے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک ہوئی اور کافی کی دلفریب خوشبو کمرے کی فضا میں پھیل گئی۔
علی نے مڑ کر دیکھا۔ دروازے کے بیچوں بیچ رحال شیخ کھڑی تھی۔ ہلکے گلابی رنگ کے ڈھیلے ڈھالے سوٹ میں، سر پر دوپٹہ لپیٹے، وہ پہلے سے کچھ بہتر لگ رہی تھی، اگرچہ اس کے چہرے پر نقاہت کی ہلکی سی زردی اب بھی باقی تھی۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں مگ تھے جن سے گرم کافی کا دھواں اٹھ رہا تھا۔
“میں اندر آ جاؤں؟” رحال نے اپنی بڑی بڑی مخمور آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے بہت دھیمے لہجے میں پوچھا۔
“تمہیں کب سے اجازت کی ضرورت پڑنے لگی؟” علی نے اپنے مخصوص رعب دار مگر نرم لہجے میں کہا اور ہاتھ میں پکڑی کیپ بیڈ پر رکھ کر اس کی طرف بڑھا۔ اس نے رحال کے ہاتھوں سے مگ لیے اور انہیں پاس رکھی میز پر ٹکایا۔ “
علی نے کافی کا ایک مگ رحال کی طرف بڑھایا اور دوسرا خود تھام کر بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا۔ رحال خاموشی سے کمرے میں رکھے صوفے پر بیٹھ گئی اور مگ کو اپنے دونوں ہاتھوں کی گرمی میں چھپاتے ہوئے علی کو دیکھنے لگی، جو اب دوبارہ بیگ کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔
“تو۔۔۔ کل صبح آپ لوگ سچ میں جا رہے ہیں؟” رحال کی آواز میں ایک ان کہی اداسی تھی۔
علی نے کافی کا ایک گھونٹ لیا اور گہری نظروں سے اسے دیکھا۔ “ہاں، جانا تو پڑے گا نا۔ یہاں میرا جتنا کام تھا، وہ پورا ہو گیا۔ تمہیں موت کے منہ سے بھی چھین لایا..
پھر ہماری شادی بھی تو ہونی ہے دلہن صاحبہ
یہ سنتے ہی رحال کے گالوں پر حیا کی گہری لالی دوڑ گئی۔ اس نے نظریں جھکا کر کافی کے مگ کو گھورنا شروع کر دیا۔ وہ علی کا یہ روپ دیکھ کر اکثر حیران رہ جاتی تھی۔ وہ علی مصطفیٰ جو کبھی دو الفاظ سیدھے منہ نہیں بولتا تھا، اب اسے شرمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔
رحال نے نظریں اٹھا کر علی کے چہرے کو دیکھا۔ اس شخص نے اس کے لیے اپنی انا کی قربانی دی تھی، ہسپتال کی راہداریوں میں اس کے لیے رویا تھا، اور آج وہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا سچ بن چکا تھا۔
پھر وہ اٹھی اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔
سلیماں آواز دے رہی تھی ۔۔۔
اسلام آباد کی The Golden oven bakery، جہاں شام کا وقت تھا اور گاہکوں کی اچھی خاصی چہل پہل تھی۔ معراج، جو آج نیلے رنگ کی لمبی قمیض اور پلازو میں ملبوس تھی، گلے میں دوپٹہ اور کھلے بالوں میں کسی حور کی طرح لگ رہی تھی۔ نیلے رنگ کی ہیلز کی ٹک ٹک اس کی آمد کا اعلان کر رہی تھی۔ ..
کچھ کالج کے لڑکے، جو اپنی یونیفارم میں ملبوس تھے، ٹیبل پر بیٹھ کر کافی اور پیسٹریز کا آرڈر دے رہے تھے۔ معراج جیسے ہی ان کی ٹیبل کے پاس سے گزری، وہ لڑکے اپنی حدود بھول گئے۔
“یار، لڑکی تو واقعی ‘مست’ ہے۔ اگر ایسی مینیجر ہو تو روز آنے کا دل کرے۔” ایک لڑکے نے پیچھے سے بلند آواز میں تبصرہ کیا۔
معراج کے قدم وہیں رک گئے۔ اس کے چہرے پر غصے کی سرخی پھیل گئی۔ وہ مڑی اور سیدھی ان لڑکوں کے ٹیبل پر جا پہنچی۔
“کیا کہا تم لوگوں نے؟ دوبارہ بولو!” معراج کی آواز میں ایک ایسی سختی تھی کہ ٹیبل پر سناٹا چھا گیا۔
وہ لڑکا جو پہلے کافی پی رہا تھا، اب اکڑ کر بیٹھ گیا، “ارے میڈم، ہم تو تعریف کر رہے تھے۔ اتنی پیاری مینیجر دیکھ کر بندہ تعریف نہ کرے تو کیا کرے؟”
چٹاخ ۔۔۔
معراج نے بغیر کسی تمہید کے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا۔ وہ لڑکا اپنی کرسی سے ہل گیا، اس کے ساتھیوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اسی دوران برہان، جو بیکری کے ایک خاص کونے میں ایک اہم مہمان کے لیے کیک سجا رہا تھا، شور سن کر تیزی سے وہاں پہنچا۔
کیا ہوا معراج؟” برہان کی آواز میں ایک ایسی سنجیدگی تھی جو اس کے شیف والے روپ سے ذرا ہٹ کر تھی۔
معراج نے آنکھوں میں آنسو اور غصے کے ساتھ کہا، “برہان! اس نے بدتمیزی کی ہے۔ کہہ رہا ہے میں بہت مست ہوں اور ایسی مینیجر ہو تو روز آنے کا دل کرتا ہے۔”
برہان نے اپنی آنکھوں سے ان لڑکوں کو گھورنا شروع کیا۔
وہ لڑکا جو تھپڑ کھا چکا تھا، اٹھ کھڑا ہوا، “تم کون ہوتے ہو بیچ میں آنے والے؟ اپنی حد میں رہو۔ شیف ہو تو شیف رہو، زیادہ اڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جانتے نہیں ہو تم مجھے؟ میں اسلام آباد کے بڑے بزنس مین کا بیٹا ہوں!”
برہان نے ایک قدم آگے بڑھایا اور طنزیہ مسکرایا، “تم چاہے بزنس مین کے بیٹے ہو یا کسی جامع دار کے، مجھے فرق نہیں پڑتا۔
یہاں اپنی اوقات میں رہ کر بات کرو۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے، اس سے پہلے کہ میرا شیف والا ہاتھ کوئی اور رنگ دکھائے!”
لڑکے نے ہٹ دھرمی دکھائی، “اوہ بھائی! ہم نے تعریف ہی کی ہے، کون سا ٹچ کر لیا ہے؟ اتنا تو چلتا ہے۔”
برہان نے پلک جھپکتے ہی اس لڑکے کے منہ پر دوسرا تھپڑ رسید کیا۔ “آج تو اس نے ٹچ کرنے کی بات کی ہے، اگر سچ میں ٹچ کیا ہوتا تو تمہاری لاشیں یہاں سے اٹھانی پڑتیں۔ اب نکلو یہاں سے!”
لڑکے دھمکیاں دیتے ہوئے باہر نکل گئے، مگر برہان کے غصے کے آگے کسی کی ایک نہ چلی۔ معراج خاموشی سے وہاں سے ہٹی اور اپنے مینیجر والے کمرے میں جا کر بیٹھ گئی۔
کچھ دیر بعد، برہان کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھوں میں دو کافی کے کپ تھے
غصہ ٹھنڈا کرو، کافی پیو،” برہان نے نرمی سے کہا۔
معراج نے مگ پکڑا، مگر اس کا غصہ ابھی بھی برقرار تھا، “کتنے بدتمیز تھے وہ لوگ، برہان! مجھے تو غصہ آ رہا ہے کہ میں نے صرف ایک تھپڑ کیوں مارا۔”
برہان مسکرایا اور اس کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا، “دیکھو معراج، ان کی غلطی نہیں ہے۔ جب تم سچ میں اتنی حسین لگو گی تو لوگ تو دیکھیں گے اور تبصرے بھی کریں گے۔”
معراج نے کافی کا ایک گھونٹ بھرا اور برہان کی طرف دیکھا، “تو کیا مطلب ہے تمہارا؟ اب میں کیا بغیر تیار ہوئے، حلیہ بگاڑ کر آیا کروں؟ تاکہ لوگ کہیں کہ یہ کون سی ‘چڑیل مینیجر’ رکھ لی ہے؟”
برہان ہنس پڑا، “ارے نہیں! تم جیسا چاہو ویسا آیا کرو، تم ہر حال میں اچھی لگتی ہو۔ بس یہ یاد رکھا کرو کہ میں ہوں نا، کوئی تمہیں کچھ کہے تو مجھے بتایا کرو، میں اسے سیدھا کرنا جانتا ہوں۔”
معراج نے اسے ایک پیاری سی نظر سے دیکھا، “تم ہمیشہ سب کو ڈراتے کیوں رہتے ہو برہان؟”
“کیونکہ میری بیکری کی مینیجر پر کوئی بری نظر ڈالے، یہ مجھے برداشت نہیں،” برہان نے اپنی بات کو مذاق میں لپیٹا، مگر اس کی آنکھوں میں معراج کے لیے ایک خاص چمک تھی۔
دونوں کافی کے کپ لیے خاموشی سے بیٹھے رہے، بیکری کے اس چھوٹے سے کمرے میں باہر کی دنیا سے دور، ایک عجیب سا سکون اور انسیت تھی۔ معراج نے سوچا کہ شاید برہان کا یہ ‘غصے والا’ انداز ہی اس کی سب سے بڑی حفاظت ہے۔۔۔۔
لاہور کی صبح ہمیشہ ہی ایک الگ رونق اور تازگی لے کر آتی ہے، مگر مصطفیٰ ہاؤس میں آج کی صبح عام صبحوں جیسی نہیں تھی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اور کھڑکیوں کے پردوں کو چیرتی ہوئی سورج کی پہلی سنہری کرنیں جب علی مصطفیٰ کے وسیع و عریض، سلیقے سے سجے کمرے کے فرش پر پڑیں، تو اس نے دھیرے سے اپنی بوجھل آنکھیں کھولیں۔
کل اسلام آباد سے لاہور تک کا طویل سفر اور گاڑی خود ڈرائیو کرنے کی وجہ سے اس کا پورا جسم بری طرح تھکن سے چور ہو رہا تھا۔ علی نے بیڈ پر سیدھے ہوتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا اور چند پل کے لیے وہیں بیٹھا رہا۔ پھر اس کے لبوں پر ایک دھیمی سی مسکراہٹ ابھر آئی—یہ تھکن تو اس سفر کی تھی جو اسے اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی یعنی رحال کے قریب لے گیا تھا۔
وہ بیڈ سے اٹھا، واش روم گیا اور ایک طویل، فریش شاور لینے کے بعد جب باہر نکلا تو اس کی ساری تھکن کافور ہو چکی تھی۔ آج اسے بہت دنوں بعد دوبارہ اپنے آفس جوائن کرنا تھا، اس لیے اس نے اپنے لیے ایک نفیس اور مہنگے برانڈ کا گہرے سرمئی (Charcoal Grey) رنگ کا تھری پیس سوٹ منتخب کیا۔ سفید کلف لگی قمیض، سلیقے سے بندھی ٹائی، چمکتے ہوئے بلیک شوز، اور کلائی پر قیمتی گھڑی سجاتے ہوئے وہ ہمیشہ کی طرح ایک باوقار، رعب دار اور کامیاب بزنس مین لگ رہا تھا جس کی ایک نظر لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ بالوں کو سیٹ کر کے وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آیا۔
جب علی سیڑھیاں اتر کر ڈائننگ ہال کی طرف بڑھا، تو وہاں سے برتنوں کی ہلکی چہک اور قہقہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ڈائننگ ٹیبل پر اس کے والد، مصطفیٰ صاحب اخبار ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے، جبکہ زرینہ بیگم ملازمہ کو ناشتے کے مینو کے بارے میں ہدایات دے رہی تھیں۔ علی کی چھوٹی بہن کنزہ پہلے ہی اپنی پلیٹ میں آملیٹ نکال رہی تھی۔
“السلام علیکم، بابا! السلام علیکم، امی!” علی نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے محبت سے سلام کیا۔
“وعلیکم السلام، میرا شیر پتر! ماشاءاللہ، آج تو دولہا میاں کے چہرے کی چمک ہی الگ ہے، کیوں زرینہ؟” مصطفیٰ صاحب نے اخبار ایک طرف رکھتے ہوئے شرارت سے اپنی بیگم کو دیکھا۔
زرینہ بیگم نے مسکرا کر علی کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کے سامنے پراٹھا اور چائے کا مگ رکھتے ہوئے بولیں، “اور نہیں تو کیا! کل رات سے جب سے اسلام آباد سے لوٹا ہے، اس کے چہرے سے یہ مسکراہٹ ہٹ ہی نہیں رہی۔ آخر کو رحال کا جادو جو چل گیا ہے۔”
علی نے گلا کھنکھارا اور چائے کا مگ اٹھاتے ہوئے نظریں جھکا لیں، “امی! ایسا کچھ نہیں ہے، بس کافی دنوں بعد ہوم ٹاؤن واپس آیا ہوں تو اچھا لگ رہا ہے۔ اور مجھے آج آفس بھی جانا ہے، بہت سے پینڈنگ کام ہیں۔”
او ہو، بھائی! اب ہم سے کیا چھپانا؟” کنزہ نے پلیٹ میں کانٹا مارتے ہوئے شرارتی نظروں سے علی کو دیکھا۔
کنزہ، تم ناشتہ خاموشی سے نہیں کر سکتیں؟” علی نے اسے مصنوعی غصے سے گھورا، مگر اس کے لبوں کے گوشے خود بخود مڑ گئے۔
“کیوں کروں خاموشی سے؟ میرے اکلوتے بھائی کی شادی ہے!” کنزہ نے منہ چڑایا۔ “امی، آپ نے رحال کے عروسی جوڑے کا رنگ کیا سوچا ہے؟ میرا خیال ہے روایتی گہرا سرخ رنگ (Maroon) ان پر بہت کھلے گا، ان کا رنگ اتنا گورا ہے، وہ تو بالکل پری لگیں گی۔”
زرینہ بیگم چائے کا گھونٹ لے کر بولیں، “میں نے تو رحال کی پسند پر چھوڑا ہے
علی کی بڑی بہن آنچل نے اثبات میں گردن ہلا دی ۔۔۔اپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں امی ۔۔ اخر دلہن کی بھی تو کوئی اپنی پسند ہونی چاہیے۔۔۔ ۔۔
علی خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا، مگر اندر ہی اندر وہ رحال کو اس سرخ جوڑے میں تصور کر کے ایک الگ ہی دنیا میں پہنچ چکا تھا۔ “امی، آپ کو جو صحیح لگے، آپ کر لیں،” اس نے دھیمے سے کہا۔۔۔
اسی دوران مصطفیٰ صاحب کا سیل فون بج اٹھا۔ انہوں نے سکرین دیکھی اور چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ سج گئی۔ “لو بھائی، چوہدری صاحب کا فون ہے۔”
انہوں نے فون اٹھایا اور لاؤڈ سپیکر آن کر دیا، “السلام علیکم، چوہدری صاحب! جی جی، اللہ کا کرم ہے۔۔۔ ارے بھائی، ایک بہت بڑی خوشخبری دینی تھی آپ کو۔ میرے بیٹے علی کی شادی طے پا گئی ہے! ہاں جی، ہماری اپنی بھانجی رحال سے۔ بس اب دن مختصر ہیں، آپ نے فیملی کے ساتھ لاہور پہنچنا ہے، کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ میں کارڈز جلدی ہی بھجوا رہا ہوں۔”
دوسری طرف سے چوہدری صاحب کی مبارکباد کی اونچی آواز گونجی، “ماشاءاللہ مصطفیٰ صاحب! بہت بہت مبارک ہو۔ علی تو ہمارا ہیرو ہے، اس کی شادی پر تو دھوم دھام ہونی چاہیے۔ ہم ضرور آئیں گے۔”
فون بند ہوا ہی تھا کہ مصطفیٰ صاحب نے دوسرا نمبر ڈائل کر دیا، “ہاں، ملک صاحب! السلام علیکم۔۔۔ جی، بس علی کی شادی پکی ہو گئی ہے، اسی سلسلے میں یاد کیا تھا۔۔۔”
ڈائننگ ٹیبل پر مصطفیٰ صاحب کے فون کالز کا سلسلہ چلتا رہا اور وہ فخر سے اپنے دوستوں کو اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی کی دعوتیں دینے لگے۔ کنزہ مسلسل علی کو دیکھ کر آنکھیں مٹکا رہی تھی اور علی، جو عام طور پر آفس جانے کے لیے ہمیشہ جلدی میں ہوتا تھا، آج سب کی باتیں سننے کے لیے وہیں رکا ہوا تھا، جیسے وہ اس ماحول کے ہر ایک پل کو اپنے اندر سمیٹ لینا چاہتا ہو۔
ناشتہ ختم ہوا تو علی اپنی فائلز اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔ “بابا، میں آفس کے لیے نکل رہا ہوں۔ شام کو ملاقات ہوتی ہے۔”
“اللہ حافظ بیٹا، اپنا خیال رکھنا اور شادی کے کاموں کے لیے وقت نکالنا اب،” مصطفیٰ صاحب نے ہنس کر کہا۔
علی نے امی کے سر پر پیار کیا اور جب وہ ہال سے باہر نکل رہا تھا، تو کنزہ پیچھے سے چلائی، “بھائی!
رحال کو ہی یاد نہ کرتے رہنا کچھ کام بھی کر لینا
علی نے مڑ کر اسے ایک وارننگ دینے والی نظر سے دیکھا، مگر اس کے چہرے کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اب علی مصطفیٰ کی زندگی میں خوشیوں کا ایک نیا، تروتازہ باب شروع ہو چکا تھا جس کا مرکز صرف اور صرف رحال شیخ تھی۔
رات کا وقت تھا اور آسمان پر سیاہی چھا چکی تھی۔ بیکری “دی گولڈن اوون” (The Golden Oven) کی لائٹس اب ہلکی کر دی گئی تھیں اور بند ہونے کا وقت ہو چکا تھا۔ معراج نے اپنا بیگ اٹھایا اور بیکری سے باہر نکلنے لگی۔
برہان اس کے پیچھے ہی باہر آیا اور بولا، “معراج، رات بہت زیادہ ہو گئی ہے اور سڑکیں بھی سنسان ہیں۔ میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں۔”
معراج نے مسکرا کر منع کیا، “نہیں برہان، کوئی بات نہیں، میں چلی جاؤں گی، زیادہ دور نہیں ہے میرا گھر۔ تم بھی تھک گئے ہو گے، تم گھر جاؤ۔”
میں نے کہا نا میں چھوڑ کر آؤں گا، تو بس چھوڑ کر آؤں گا۔ ضد مت کرو اور خاموشی سے گاڑی میں بیٹھو،” برہان نے تھوڑے رعب دار اور ضدی لہجے میں کہا۔
معراج نے اس کے چہرے کو دیکھا اور جان گئی کہ برہان مانے گا نہیں، اس لیے وہ آخر کار مان گئی اور بولی، “اچھا ٹھیک ہے،
چلیں۔”
دونوں برہان کی گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے۔ برہان نے گاڑی اسٹارٹ کی اور سڑک پر ڈال دی۔ ابھی وہ بیکری سے تھوڑا ہی دور پہنچے تھے اور سڑک کافی سنسان تھی کہ اچانک ایک تیز رفتار موٹر سائیکل ان کی گاڑی کے سامنے آ کر رکی، جس کی وجہ سے برہان کو زور سے بریک لگانی پڑی۔
گاڑی کے رکتے ہی دو اور بائیکس نے ان کی گاڑی کو گھیر لیا۔ ہیڈ لائٹس کی تیز روشنی میں برہان نے جیسے ہی سامنے دیکھا، اس کے ماتھے پر بل پڑھ گئے۔ یہ وہی کالج کے لڑکے تھے جن میں سے ایک کو معراج نے تھپڑ مارا تھا اور برہان نے سب کے سامنے بے عزت کر کے نکالا تھا۔ وہ لڑکے اب اپنے ساتھ کچھ اور غنڈے ٹائپ لڑکوں کو لے کر آئے تھے۔
معراج نے جیسے ہی ان لڑکوں کو دیکھا، اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے ڈر کر برہان کی طرف دیکھا اور پوچھا، “برہان! یہ تو وہی لوگ ہیں۔ اب کیا کریں گے ہم؟”
برہان کا چہرہ غصے سے بالکل سرخ ہو چکا تھا، اس نے اسٹیئرنگ کو مضبوطی سے پکڑا اور معراج سے کہا، “تم گاڑی کے اندر ہی رہنا، باہر بالکل مت نکلنا۔ ..
برہان نے باہر نکلنے کے لیے جیسے ہی گاڑی کا دروازہ کھولنے کا ہینڈل پکڑا، ویسے ہی ایک لڑکا، جس کے ہاتھ میں لوہے کا بھاری راڈ (Iron Rod) تھا، تیزی سے آگے بڑھا۔ اس نے پوری طاقت سے وہ راڈ برہان کی طرف والے شیشے اور دروازے پر ماری۔
“برہان، بچو!” معراج نے زور سے چیخ ماری۔
عین اسی سیکنڈ برہان نے تیزی سے اپنا سر نیچے جھکا لیا۔ وہ راڈ اتنے زور سے لگی کہ شیشہ ٹوٹ گیا اور راڈ برہان کے سر کے بالکل پاس سے گزر گئی، اس کا نشانہ چوک گیا۔ اگر برہان ایک سیکنڈ کی بھی دیر کرتا تو وہ راڈ سیدھی اس کے سر پر لگتی۔
جیسے ہی نشانہ چوکا، برہان کے اندر کا غصہ طوفان بن گیا۔ اس نے اندر سے پوری طاقت لگا کر گاڑی کا دروازہ باہر کی طرف کھولا، جس کی وجہ سے وہ راڈ والا لڑکا زور سے پیچھے گرا
برہان منہ میں غصے سے گالیاں دیتا ہوا گاڑی سے باہر نکلا۔ اس کی آنکھوں میں اس وقت صرف خون سوار تھا۔ دوسری طرف معراج گاڑی کے اندر اکیلی بیٹھی، کانپتے ہاتھوں کے ساتھ یہ سب دیکھ رہی تھی اور شدید پریشان تھی کہ اب باہر کیا ہونے والا ہے۔
برہان نے جیسے ہی سڑک پر گرے ہوئے اس لڑکے کو دیکھا، اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ وہ شیر کی طرح لپکا اور ۔ اس نے بنا وقت ضائع کیے اس کے منہ پر تابڑ توڑ مکے مارنا شروع کر دیے۔
تجھے کہا تھا نا میرے سامنے نہ آنا! چھوڑوں گا نہیں تجھے!” برہان دھاڑا۔ اس کے مکے اتنے سخت تھے کہ دو ہی منٹ میں اس لڑکے کی ناک اور منہ سے خون بہنے لگا اور وہ بالکل بے سدھ ہو کر سڑک پر ڈھیر ہو گیا۔
جب اس لڑکے کا برا حال ہو گیا، تو برہان نے اسے وہیں چھوڑا اور کھڑا ہو کر اپنی قمیض کی آستینیں اوپر چڑھائیں۔ اس نے خونخوار نظروں سے باقی موٹر سائیکل والے لڑکوں کو دیکھا، جو دور کھڑے خوف سے کانپ رہے تھے۔
“تم لوگوں نے بھی لڑائی کرنی ہے؟ آؤ آگے!” برہان پوری طاقت سے چلایا۔
اس کی آواز کا خوف ایسا تھا کہ ان لڑکوں کی سٹی گم ہو گئی۔ انہوں نے ایک سیکنڈ بھی ضائع نہیں کیا، اپنی بائیکس اسٹارٹ کیں اور اپنے اس بے ہوش ساتھی کو وہیں چھوڑ کر اندھیرے میں بھاگا لے گئے۔
سڑک پر اب دوبارہ سناٹا چھا گیا تھا۔ برہان نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے ہاتھوں کو جھٹکا اور مڑ کر گاڑی کی طرف دیکھا۔ گاڑی کے اندر بیٹھی معراج کی جان میں جان آئی۔ برہان نے اسے دیکھا اور ایک معصوم بچے کی طرح دانت نکال کر مسکرا دیا، جیسے ابھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
برہان گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کی اور سڑک پر بڑھا دی۔ معراج نے اب تک خود کو سنبھالا تھا، وہ برہان کو گھورتے ہوئے بولی، “تم کتنی بری گالیاں دیتے ہو برہان۔۔۔”
برہان کا ایک زوردار قہقہہ گونجا۔ “یار کیا کروں؟ غصہ آ گیا تھا، ویسے مجھے غصہ آتا نہیں ہے۔”
معراج نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور طنزیہ لہجے میں بولی، “ہاں، وہ تو ابھی پتہ چل رہا تھا مجھے کہ تمہیں کتنا غصہ آتا ہے۔ اگر وہ لڑکے نہ بھاگتے تو تم تو آج کسی کا مرڈر ہی کر دیتے۔”
برہان نے اسٹیئرنگ موڑتے ہوئے ایک نظر معراج پر ڈالی، اس کا لہجہ اب سنجیدہ تھا، “تم شکر کرو کہ میں تمہارے ساتھ تھا، نہیں تو پتہ نہیں وہ تمہارا کیا حال کرتے معراج۔”
معراج نے کچھ سوچ کر آہستہ سے اپنی گردن ہلائی، “ہاں۔۔۔ تم صحیح کہہ رہے ہو۔ تھینک یو۔”
کچھ دیر بعد گاڑی معراج کے گھر کے سامنے رک گئی۔ برہان معراج کو اندر چھوڑنے آیا۔ گھر میں معراج کے والد، فرحان صاحب لاؤنج میں بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ دونوں کو دیکھ کر وہ مسکرائے، “ارے برہان بیٹا، آؤ آؤ، بیٹھو۔”
فرحان صاحب کے اصرار پر برہان بیٹھ گیا اور ملازمہ چائے اور بسکٹ لے آئی۔ چائے پیتے پیتے معراج نے سانس روکے بغیر سڑک کا پورا واقعہ اپنے بابا کو سنا دیا کہ کس طرح برہان نے اپنی جان پر کھیل کر ان غنڈوں سے اسے بچایا۔
فرحان صاحب یہ سن کر دنگ رہ گئے اور ان کا چہرہ برہان کے لیے عزت اور خوشی سے چمک اٹھا۔ انہوں نے برہان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا برہان بیٹا! تمہارا بہت بہت شکریہ۔ تم نے میری بچی کی جان بچائی ہے۔ سچ کہوں تو بہت خوش قسمت ہو گی تمہاری بیوی برہان، تم اس کی حفاظت بھی ایسے ہی کرو گے۔”
برہان نے چائے کا کپ میز پر رکھا اور بالکل بے شرموں کی طرح مسکرا کر بولا، “انکل۔۔۔ خوش قسمت معراج بھی ہو سکتی ہے۔”
لاؤنج میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ فرحان صاحب چائے کا مگ ہاتھ میں لیے جم گئے، انہیں برہان کی اس اچانک اور سیدھی بات کو سمجھنے میں چند سیکنڈ لگے۔ وہ ابھی کچھ بولنے ہی والے تھے کہ برہان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ کچھ زیادہ ہی جلدی کر گیا ہے۔
اس نے جلدی سے اپنی گھڑی دیکھی اور ہڑبڑا کر اٹھ کھڑا ہوا، “اچھا انکل! میں اب چلتا ہوں، امی نے گھر جلدی بلایا تھا، کافی دیر ہو گئی ہے۔ السلام علیکم!”
اس سے پہلے کہ فرحان صاحب اس کی بات کا جواب دیتے یا معراج اسے غصے سے گھورتی، برہان فرار ہونے والے انداز میں تیز قدم اٹھاتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا، پیچھے معراج شرم اور غصے کے مارے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رہ گئی۔۔۔۔
17 سالہ معراج شیخ اپنا سر ہاتھوں میں گرائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔وہ 17 سال کی لگتی نہیں تھی کو اپنی عمر سے بڑی لگتی تھی جیسے 20 یہ پھر 21 سال کی ہو ۔۔
16جنوری کی وہ سرد اور یخ رات تھی۔ اسلام آباد کے اس پرسکون موسم میں باہر ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور رات کے ٹھیک پونے بارہ بج رہے تھے۔ رحال شیخ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی سونے کی کوشش کر رہی تھی۔ آج اس کی زندگی کا بہت خاص دن شروع ہونے والا تھا، وہ پورے19سال کی ہونے جا رہی تھی، مگر اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی اداسی تھی۔
صبح ہی اس کی علی سے فون پر بات ہوئی تھی اور علی نے بہت مصروف لہجے میں کہا تھا، “رحال! آفس میں بہت زیادہ کام کا پریشر ہے، میں نکاح سے دو دن پہلے ہی ا سکوں گا۔۔۔۔ اس نے اس کی سالگرہ کا کوئی ذکر تک بھی نہیں کیا تھا شاید وہ بھول گیا تھا۔۔۔
رحال نے دل مار کر کہہ تو دیا تھا کہ کوئی بات نہیں، مگر اندر ہی اندر وہ امید لگا کر بیٹھی تھی کہ کاش علی لاہور سے اسے کوئی بڑا سرپرائز دیتا ۔ خیر، اب وہ کمبل اوڑھے آنکھیں موندے نیند کی وادیوں میں اترنے ہی والی تھی کہ رات کے بارہ بج گئے۔
ٹھیک بارہ بجے، کمرے کی گہری خاموشی میں دروازے کے کھلنے کی ہلکی سی آواز آئی۔ رحال کی آنکھیں نیم وا ہوئیں، اندھیرے میں اسے دروازے کے پاس ایک لمبا، کسرتی اور جانا پہچانا وجود کھڑا نظر آیا۔
“ہیپی برتھ ڈے، رحال۔۔۔” اندھیرے میں علی مصطفیٰ کی وہ گہری اور رعب دار مگر محبت سے بھری آواز گونجی۔
رحال کو لگا شاید وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے، اس نے ابھی آنکھیں ملنے کی کوشش کی ہی تھی کہ اچانک کمرے کی مین لائٹس آن کر دی گئیں اور پورا کمرہ روشنی سے نہا گیا۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو!”
ایک دم کمرے میں شور مچ گیا۔ کنزہ، آنچل، زرینہ بیگم، خود علی کے بابا مصطفیٰ صاحب، اور رحال کے اپنے ماں باپ (فرحان صاحب اور سلیماں بیگم) سب کے سب کمرے میں غبارے اور پوپرز لیے موجود تھے۔ رحال کی نظر جیسے ہی سامنے کھڑے علی پر پڑی، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ علی کے ہاتھوں میں ایک بے حد خوبصورت اور چاکلیٹ سے سجا ہوا کیک تھا، جس پر سرخ کریم سے بہت پیار سے لکھا تھا: “Happy Birthday My Love”۔
رحال جلدی سے بیڈ پر اٹھ کر بیٹھی، اس کا دل خوشی سے پاگلوں کی طرح دھڑک رہا تھا۔ “علی؟! آپ یہاں؟ آپ تو لاہور تھے نا؟ صبح تو بات ہوئی تھی میری آپ سے!”
علی کے لبوں پر ایک دلکش اور فاتحانہ مسکراہٹ ابھر آئی۔ وہ بیڈ کے قریب آیا اور بولا، “ویسے بھی تو اب ہمارے نکاح میں چند ہی دن رہ گئے ہیں رحال۔ تمہاری سالگرہ تھی، تو سوچا کیوں نہ سرپرائز دیا جائے۔ سالگرہ بھی یہیں منائی جائے گی اور اب چند دن بعد نکاح کر کے اپنی دلہن کو ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لاہور لے جاؤں گا۔”
علی کی اس بات پر کمرے میں موجود تمام گھر والے ہنس پڑے۔ زرینہ بیگم اور سلیماں بیگم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراہٹوں کا تبادلہ کیا،
جبکہ رحال کے گال شرم کے مارے بالکل سرخ ہو گئے۔ وہ تو بالکل بھی یہ توقع نہیں کر رہی تھی کہ جو علی صبح فون پر بزنس میٹنگز کا بہانہ بنا رہا تھا، وہ دراصل گاڑی بھگا کر لاہور سے اسلام آباد اسے یہ خوبصورت سرپرائز دینے آ رہا تھا۔
چلیں اب باتیں بعد میں، پہلے کیک کاٹو جلدی سے،” علی نے کیک بیڈ پر لگی چھوٹی میز پر رکھتے ہوئے موم بتیاں جلائیں۔
رحال نے سب کی موجودگی میں، ہنستے ہوئے چھری پکڑی اور کیک کاٹ دیا۔ سب نے تالیاں بجائیں اور کمرہ ایک بار پھر مبارکباد کی آوازوں سے گونج اٹھا۔ کیک کاٹنے کے بعد، رحال نے روایتی طور پر پہلا ٹکڑا اٹھایا اور قدرتی طور پر اس کا ہاتھ علی کی طرف بڑھا، کیونکہ علی ہی اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا ۔۔
مگر جیسے ہی رحال نے ٹکڑا علی کے منہ کے قریب کیا، علی نے ایک دم نرمی سے اس کا ہاتھ روک لیا۔ اس نے مسکرا کر پیچھے کھڑے فرحان صاحب اور سلیماں بیگم کو آگے بلایا۔
نہیں رحال،” علی نے بہت ہی عزت اور محبت سے کہا، “تم پر پہلا حق تمہارے ماں بابا کا ہے، اور اس کیک پر بھی پہلا حق ان کا ہی ہے۔ پہلے ان کو کھلاؤ۔”
علی کی اس بات نے وہاں موجود سبھی لوگوں کے دل جیت لیے۔ فرحان صاحب کی آنکھوں میں تو فخر کی چمک اگئی
رحال نے دل سے مسکرا کر سب سے پہلے اپنے بابا کو اور پھر اپنی امی کو کیک کھلایا، جنہوں نے رحال کے سر پر ہاتھ رکھ کر ڈھیروں دعائیں دیں۔
اس کے بعد رحال نے وہ ٹکڑا علی کے منہ میں ڈالا، علی نے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا اور کیک کھایا۔ پھر باری باری رحال نے معراج، زرینہ بیگم، کنزہ، آنچل اور آخر میں علی کی چھوٹی، معصوم سی بہن میرہا کو بھی کیک کھلایا، جس نے کیک کھاتے ہی رحال کے گلے لگ کر کہا، “ہیپی برتھ ڈے بھابھی جانی!”
پھر وہ کچھ دیر بیٹھ کر وہاں باتیں کرتے رہے اہستہ اہستہ سب اپنے کمرے میں سونے کے لیے جانے لگے اخر میں علی اور معراج اور رحال ہی کمرے میں رہ گئے تھے۔۔۔
جب رحال نے علی سے پوچھا ۔۔۔ اور بتائیں اپ کی ساری تیاریاں ہو گئی ہیں کہ نہیں۔۔۔
سب کی تیاریاں ہو گئی ہیں لیکن میری تیاریاں ابھی رہتی ہیں میں نے ابھی تک اپنے نکاح کا جوڑا ہی نہیں خریداعلی نے سنجیدگی سے بتایا۔۔۔
تو اپ کب خریدیں گے۔۔۔؟
سوچ رہا ہوں صبح جب فریش ہو جاؤں گا تھکاوٹ ختم ہو جائے گی تو جاؤں گا مال میں۔۔۔ تم اور معراج بھی ساتھ چلنا۔۔
ویسے بھی ہونے والی بیگم کی پسند کا جوڑا زیادہ اچھا لگے گا میرے پر۔۔ علی نے انکھیں چھوٹی کرتے ہوئے شرارت سے کہا
رحال مسکرا اٹھی۔۔ تب ہی معراج نے بیچ میں اتے ہوئے کہا۔۔۔
چلیں جی جو صاحب اب اپ باہر نکل جائیں کیونکہ اب ہمیں بہت نیند ارہی ہے ہم نے ابھی سونا ہے۔۔۔
مجھے ویسے بھی صبح کالج جانا ہے۔۔۔ اور اپ کی ہونے والی بیوی یعنی میری بہن کو صبح سیلون بھی جانا ہے کچھ ٹریٹمنٹ کروانے ہیں اس نے۔۔۔ اس لیے اب اپ باہر جائیں ہم سوئیں گے تب ہی صبح جلدی اٹھیں گے نا۔۔۔
علی نے بیچارگی بھری نظروں سے دیکھا۔۔
یار تھوڑی دیر تو بیٹھا رہنے دو سالی صاحبہ کیا چلا جائے گا تمہارا۔۔۔
نہیں بالکل بھی نہیں ویسے بھی میری بہن اب پوری زندگی کے لیے اپ کی ہی ہے۔۔۔اب تھوڑی جدائی تو اپ برداشت کریں نا۔۔۔
علی مسکرا اٹھا تھا اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکل۔۔۔۔
رحال نے لائٹ اف کی اور خاموشی سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔
معراج بھی نیند کی وادیوں میں جانے کے لیے تیار تھی
جنوری کی اس یادگار رات کے بعد، اسلام آباد کی صبح ایک جادوئی منظر پیش کر رہی تھی۔ جنوری کی سخت، ہڈیوں کو کپکپاتی سردی تھی اور اوپر سے صبح سویرے ہی آسمان سے رم جھم بارش شروع ہو چکی تھی۔ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں کھڑکی کے شیشوں پر گر کر ایک خوبصورت دھن پیدا کر رہی تھیں۔
رحال کے پیپرز ختم ہو چکے تھے،…
اب اسے بس رزلٹ کا انتظار تھا اور ان پرسکون چھٹیوں کے عین درمیان میں اس کی شادی کی تاریخ رکھ دی گئی تھی۔ صبح کے آٹھ نو بج رہے تھے جب رحال کی آنکھ کھلی۔ معراج کچھ دیر پہلے ہی کالج کے لیے نکل چکی تھی، اس لیے کمرے میں مکمل سکون تھا۔
رحال بیڈ سے اٹھی، شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹ کر ایک ڈھیلا سا جورا بنایا اور فریش ہونے چلی گئی۔ جب وہ واش روم سے نکلی، تو اس نے سردی کی مناسبت سے ایک خوبصورت سرمئی (Grey) رنگ کی شلوار قمیض پہنی۔ اس سادہ سے رنگ میں بھی اس کا گورا رنگ اور نکھر کر سامنے آ رہا تھا۔ اس نے ایک گرم شال اپنے کندھوں پر لپیٹی اور کمرے سے باہر نکل آئی۔
گھر میں بارش کی وجہ سے ایک دھیما سا اندھیرا اور سکون تھا۔ رحال سیدھی کچن میں گئی تاکہ اپنے لیے گرم چائے بنا سکے۔ چائے کی پتی کی خوشبو کچن میں پھیلنے لگی۔ جب چائے تیار ہو گئی، تو رحال ایک خوبصورت مگ (کپ) میں چائے انڈیل رہی تھی کہ اچانک سلیماں بیگم کچن میں داخل ہوئیں۔
ارے، اٹھ گئیں تم؟” سلیماں بیگم نے محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
“جی امی، بس ابھی ابھی اٹھی ہوں،” رحال نے مسکرا کر چائے کا کپ تھامتے ہوئے جواب دیا۔
سلیماں بیگم نے الماری سے کچھ نکالتے ہوئے کہا،
اچھا سنو، ناشتہ کر کے جلدی تیار ہو جانا۔ آج تمہیں اور علی کو کنزہ اور آنچل کے ساتھ شاپنگ پر جانا ہے۔ علی کا شادی کا جوڑا ابھی رہتا ہے، اور تمہارا بھی تو لینا ہے نا۔ زرینہ آپا کہہ رہی تھیں کہ رحال کو ساتھ لے جاؤ تاکہ وہ اپنی پسند کا لہنگا لے لے۔ پھر وہاں سے واپسی پر علی تمہیں سیلون (Salon) چھوڑ دے گا، وہاں تمہاری کچھ بکنگز ہیں۔”
رحال نے شرماتے ہوئے ہاں میں اپنی گردن ہلا دی، “جی ٹھیک ہے امی، میں چائے پی کر تیار ہوتی ہوں۔”
رحال چائے کا گرم کپ ہاتھ میں لیے دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی لاؤنج سے جڑی بالکونی کی طرف بڑھی۔ جیسے ہی اس نے بالکونی کا شیشہ سرکایا، ٹھنڈی ہوا کے ایک جھونکے نے اس کا استقبال کیا۔
مگر بالکونی میں قدم رکھتے ہی اس کے ہاتھ وہیں جم گئے۔ وہاں علی مصطفیٰ پہلے سے کھڑا تھا۔ وہ سیاہ رنگ کے گرم ہائی نیک اور جیکٹ میں ملبوس، دونوں ہاتھ ریلنگ پر ٹکا کر باہر گرتی بارش کی بوندوں کو دیکھ رہا تھا۔ موسم واقعی بہت حسین تھا، سخت سردی اور بارش نے ماحول کو رانتہا کا حسین بنا دیا تھا ۔۔۔۔۔
رحال خاموشی سے بالکونی میں رکھی ایک کرسی پر بیٹھ گئی اور چائے کا پہلا گھونٹ لیا۔ علی کو اس کی آمد کا احساس ہوا، اس نے رخ موڑا اور باہر دیکھنے کے بجائے اب وہ بہت غور سے رحال کو دیکھنے لگا۔ رحال کا دھیان باہر سڑک پر گرتے پانی پر تھا، دونوں کے بیچ کچھ دیر تک صرف بارش کے برسنے کی آواز گونجتی رہی۔
جب رحال کو محسوس ہوا کہ کوئی اسے مسلسل دیکھ رہا ہے، تو اس نے دھیرے سے اپنا دھیان باہر سے ہٹایا اور علی کی طرف دیکھا۔ علی کی گہری، آنکھیں سیدھی اس کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھیں۔
رحال نے نظریں جھکانے سے پہلے تھوڑی ہمت کر کے پوچھا، “آپ۔۔۔ آپ مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہیں؟”
علی نے ایک گہرا اور ٹھنڈا سانس لیا، اس کی نظروں میں ایک عجیب سا سکون اور سچائی تھی۔ وہ ریلنگ سے ہٹا اور دو قدم آگے بڑھ کر رحال کی کرسی کے پاس آیا۔
“پتہ نہیں۔۔۔ بس دیکھ رہا ہوں کہ تم واقعی میرا نصیب بننے والی ہو،” علی کی آواز اس سرد موسم میں رحال کے دل کو چھو گئی۔ “ایک وقت تھا رحال، جب مجھے لگتا تھا کہ تمہیں اپنی دلہن کے روپ میں دیکھنا بس میرا ایک ادھورا خواب رہ جائے گا، کہ شاید میں تمہیں کبھی پا نہیں سکوں گا۔”
یہ سن کر رحال کے لبوں پر ایک خوبصورت اور حیا سے بھری مسکراہٹ ابھر آئی۔ اس نے چائے کے کپ کو دونوں ہاتھوں میں سمیٹتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا، “اور مجھے لگتا تھا کہ آپ مجھے پسند ہی نہیں کرتے، ہمیشہ غصے میں رہتے ہیں اور مجھ سے دور بھاگتے ہیں۔”
علی نے یہ سنا تو اپنا سر جھکا کر ایک دلکش انداز میں ہنس پڑا۔ پھر اس نے دوبارہ رحال کی آنکھوں میں دیکھا، اس بار اس کے لہجے میں ایک رعب اور ملکیت کا احساس تھا، “پسند تو تم مجھے بہت پہلے سے ہو رحال۔۔۔ تم ہمیشہ سے میری ہی تھی، تمہیں گھوم پھر کر مجھ تک ہی آنا تھا۔ تمہیں مجھ سے اب کوئی جدا نہیں کر سکتا، اور اگر کسی نے ایسی کوشش کی نا۔۔۔ تو میں اس کی جان لے لوں گا۔”
علی کے لہجے کی اس شدت اور محبت نے رحال کو اندر تک ہلا دیا۔ وہ بغیر کچھ بولے، بالکل خاموشی سے علی کے اس پراعتماد چہرے کو دیکھتی رہی، جس میں اب اس کے لیے دنیا جہان کی محبت چھپی تھی۔ اس نے اپنے دل کی بڑھتی ہوئی دھڑکنوں کو چھپانے کے لیے چائے کے مگ کی طرف دیکھا اور چائے کا آخری گھونٹ لے کر ایک لمبا سانس بھرا—
