عشق نور
از قلم ردا فاطمه
قسط 1
انتساب!
گنہگاروں سے پوچھا جائے گا کون سی چیز تمھیں جہنم میں لے گئی
اور وہ کہیں گے ہم نماز کے پابند نہیں تھے
پیش لفظ
السلام علیکم ۔۔۔ میں بس آپ سب سے اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ عشق نور میری پہلی ناول ہے۔۔۔ اور اس میں بہت سی غلطیاں بھی ہو سکتا ہے آپ کو دیکھنے کو ملے ۔۔ کیوں کے اس کو لکھنے سے پہلے مجھے اندازہ نہیں تھا کے میں بھی کوئی کتاب لکھ سکتی ہوں ۔۔ لیکن دیکھیں لکھ لی ۔۔ لیکن پہلی کوشش ہے شاید بہت لوگوں کو عجیب بھی لگ سکتی ہے اور بہت لوگوں کو اچھی بھی۔۔۔ اگر آپ کو پسند آئے تو مجھے بہت خوشی ہو گیور اگر یہ کتاب پسند نہ آئے۔۔ تو میں مزید اچھا لکھنے کی کوشش کروں گی۔۔ شروعات لازمی نہیں ہر کسی کی اچھی ہو لیکن انشاء اللہ اگلی ناولز ضرور دل کو چھوئیں گی۔۔ لیکن عشق نور بھی اچھی ہے۔۔ اس میں ایک لڑکی کی کہانی جو نور کی۔۔ ایک غیر مسلم لڑکے کی کہانی ہے ابرام کی۔۔۔ اُس کی ہدایت کی کہانی ہے۔۔ وہ کیسے سیدھے راستے پر آیا۔۔ اُس کی محبت کی کہانی ہے۔۔ نور نے کیسے اُس کو اللہ کے قریب کیا۔۔۔ وہ کیسے ایک لڑکے کی ہدایت بنی ۔۔۔ یہ سب اس میں لکھا ہے ۔۔ اب آپ سب پڑھیں اور اپنا نظریہ ضرور بتائیے گا۔۔ ملتی ہوں ایک نئی ناول کے ساتھ ۔
اللہ حافظ
رات گہری تھی ڈر بھی سکتے تھے
ہم جو کہتے تھے کر بھی سکتے تھے
تم جو بچھڑے تو یہ بھی نا سوچا؟
ہم تو پاگل تھے مر بھی سکتے تھے “
ترکی استنبول
باب 1
اندھیرا جنگل
وہ اندھیرے جنگل میں تھا اس کے پاس کچھ نہیں تھا سوائے ایک گھوڑے کے وہ اُس گوڑے پہ سوار اگے بڑھنے لگا اس وقت جنگل خاموش تھا اور خاموش جنگل ابرام کو خاصا ڈراؤ نا لگ رہا تھا لیکن وہ بنار کے اگے بڑھنے لگا یہاں تک کہ اس کے گھوڑے کی رفتار خود بخود ہی کم ہونے لگی۔۔۔ اس نے جھک کر دیکھا تو کافی حیران ہوا اس کے گھوڑے نے کیچڑ میں پیر رکھ دیا تھا اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا اور سفید روشنی نظر ائی اور اسی وقت اس کی انکھ کھل گئی۔۔ اس کی پیشانی پینے سے تر تھی اور سانس بھی تیز چل رہا تھا دل اتنی رفتار میں
دھڑک رہا تھا کہ مانو ابھی سینے سے باہر نکل آئے گا۔۔۔ اس کو ہمیشہ یہ خواب ڈرا دیتے تھے وہ خواب دیکھنے سے ڈرتا تھا جب اس نے وقت دیکھا تو صبح ہونے میں دیر تھی وہ اپنا سامان سمیٹنے لگا کیونکہ اسے حارث کے ساتھ ہاسٹل شفٹ ہونا تھا
وہ خاصا خو بصورت تھا ہر کوئی اس کا دیوانہ ہو سکتا تھا
یہ بات کہنے میں کوئی شک نہیں تھا ابرام سکندر کا تو کوئی مذہب نہیں تھا وہ خدا کو مانتا ہی نہیں
تھا، جبکہ حارث قریشی عیسائی تھا۔۔ وہ استنبول یونیورسٹی سے تعلیم لے رہے تھے ابرام سکندر عیسائی مذہب سے تعلق رکھتا تھا اور پھر اس نے یہ مذہب چھوڑ دیا تھا کچھ اپنے بابا کی وجہ سے اور کچھ اس کو سکون نہیں ملتا تھا۔۔ وہ عیسائی مذہب میں رہنے کے باوجو د بھی بے سکون تھا۔۔
زندگی میں راحت تھی ہی نہیں لیکن مذہب چھوڑنے سے بے سکونی بڑھ گئی تھی ۔۔ ابرام اپنے گھر والوں سے دور رہتا تھا۔۔ اُس کو اپنے بابا کے ساتھ رہنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور
اس کی امی کا انتقال اس کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔۔ اپنی امی کی فوتگی کے بعد اس نے خود کو تنہا محسوس س کیا تھا اور اس کے بابا ویسے ہی اس کو وقت نہیں دے پاتے تھے۔۔۔۔
اس وقت وہ استنبول یونیورسٹی کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔
آج اس کا پہلا دن تھا وہ نروس نہیں تھی مگر اس کا دل بجھا ہوا تھا وہ نیو یارک گھومنا چاہتی تھی۔۔۔ وہاں جا کر پڑھائی کرنا چاہتی تھی لیکن وہ تر کی آگئی وہ بھی اس لیے کیوں کے اس کی اتی اور ابو کا کہنا تھا کہ نیو یارک اچھا ملک نہیں ہے۔۔ اور ویسے بھی وہ پڑھائی میں اچھی تھی اس کا ایڈمیشن ترکی میں ہو گیا تھا
نیو یارک اس کے خوابوں کا ملک تھا لیکن وہ وہاں جا نہیں سکی۔۔
یونیورسٹی کے پروفیسر نے پاکستان سے آئی لڑکیوں کی ذمہ داری حارث کو دی تھی اور وہ پچھلے چند منٹوں سے اُنہی کو ڈھونڈ رہا تھا حارث ذہین لڑکا تھا اس کے امی ابو نہیں تھے۔۔ ایک بھائی تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔۔ حارث اُس کے گھر بھی نہیں رہتا تھا
وہ خود ہوسٹل میں رہتا تھا اور ذہین سٹوڈنٹ ہونے کی وجہ سے یونیر سٹی کے بہت سے کام
حارث کے ذتے تھے ۔۔۔ وہ اُن لڑکیوں کو ہی ڈھونڈ رہا تھا
اور آخر کار پھر وہ اسے کلاس میں داخل ہوتی ہوئی مل ہی گئی۔۔۔
..excuse me
ان تینوں لڑکیوں میں سے دو نے پلٹ کر اس کو دیکھا اور پھر دیکھتی ہی رہ گئی کیونکہ وہ بلا شبہ بہت حسین تھا۔ سانولی رنگت لیکن پرکشش ۔۔ کالی آنکھیں جن پر آگے کو گرے اس کے
سیاہ بال وہ گویا حُسن کا مجسمہ تھا
وہ دو لڑکیاں تو کم سے کم یہی سوچ رہی تھی ان کی سوچ پر پانی ڈالتا وہ بولا۔
آپ پاکستان سے ہیں؟“ حارث نے ان سے پوچھا؟
جی۔ “ ان دونوں نے جواب دیا جب کہ تیسری لڑکی خاموش رہی۔
اچھا تو آپ کے نام کیا ہیں۔۔؟“
میر انام عنایہ عنایہ جاوید۔“
میں جنت فاطمہ ۔ دوسری نے کہا۔۔
اور آپ کا نام ۔۔۔؟“
اس نے حجاب والی لڑکی کو مخاطب کیا جو اس کی طرف کمر کر کے کھڑی تھی۔
وہ پلٹی اور اس کے ہاتھ میں پکڑے کا غذات دیکھے۔
یہ ماہ نو ر ہے ہماری کلاس فیلو بھی اور ہماری دوست بھی۔“ جنت نے بتایا۔
تو کیا یہ بول نہیں سکتی جو اپنا نام خود نہیں بتارہی۔ “ اس نے بے حد سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔ کہاں کرتے ہیں سگنیچر ؟“ ماہ نور نے تقریباً حارث کے ہاتھ سے کاغذات کھینچے ہی تھے پھر حارث کو اندازہ ہوا کہ نہ صرف وہ زبان رکھتی تھی، بلکہ اچھا خاصا دماغ بھی رکھتی تھی اور بلا کی خوبصورت تھی اس کا چہرہ دودھ کی طرح سفید تھا اور بڑی بڑی انکھیں تھی جیسے مانو ان میں کوئی دیکھے اور ڈوب ہی جائے وہ اپنے نام کی طرح ہی خوبصورت تھی ماہ نور اس مطلب تھا چاند کی روشنی۔
وہ کلاس میں چلے گئے ان کی پہلی کلاس شروع ہو چکی تھی پروفیسر نے پہلے تو ان سب کا تعارف پوچھا تھا اور سب نے باری باری تعارف کروایا تھا۔۔۔ ایک لڑکی اُٹھی تھی۔۔
سر میر انام بختاور ہے۔۔۔“
ٹھیک ہے آپ بیٹھ جائیں بختاور ۔۔۔“
پھر ایک لڑکا اُٹھا تھا ۔۔ ”سر میرا نام تیمور ہے۔“ وہ بولا تو پروفیسر نے اس کو بھی بیٹھنے کے لیے کہہ دیا۔۔۔
تب ہی نور کھڑی ہوئی تھی اُس نے اپنا تعارف کروایا اور پھر بیٹھ گئی۔
سب کے تعارف کے بعد پروفیسر کی آواز گونجی تھی۔۔
تو چلیں پھر سٹوڈنٹس اپنی کتابیں کھول لیں۔۔۔“
استغفر اللہ کیسے ظالم قسم کے لوگ ہیں یہاں کے ۔۔۔ اللہ اللہ مجھے کیا معلوم تھا کہ پرائے ملک میں میرے ساتھ ایسا سلوک ہو گا ! ابھی ایک دن نہیں ہوا ہمیں یہاں آئے ہوئے اور آتے ہی کلاس شروع میرا دل چاہ رہا ہے کہ ان کو گنجا کر دوں۔“ ماہ نور بناڈ کے بولے جا رہی تھی ابھی یہ پروفیسروں کی تعریف کہ نغمے گارہی تھی جب جنت بولی۔
چپ ہو جاؤ ماہ نور لوگ دیکھ رہے ہیں ۔ “ اور اس کو لوگوں سے زیادہ اپنے پیچھے بیٹھے شخص
سے شرم آرہی تھی جو ماہ نور صاحبہ کو بہت ہی غور سے سن رہے تھے۔۔
میں کیوں چپ کروں تم چپ کرو وہ الٹا جنت کو جھاڑنے لگی تم دیکھ نہیں رہی کتنا ظلم ہو رہا ہے ہمارے ساتھ اللہ پوچھے گا ان پر وفیسروں کو ۔ “ نور اس وقت سخت غصے میں تھی اور وہ جو
پیچھے بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا وہ بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھے مسکرائے جا رہا تھا۔
عجیب چیز ہے۔“ اس نے دل میں سوچا اس نے ابھی تک اس لڑکی کا چہرہ نہیں دیکھا تھا اور پھر ان کی کلاس ختم ہوئی ۔۔۔ تو وہ اپنی کتابیں سمیٹنے لگا بیگ اٹھانے کے بعد اس نے اُس لڑکی کو دیکھنا چاہا مگر شاید وہ پہلے ہی جاچکی تھی وہ خود بھی سر جھٹک کر اُٹھ گیا لیکن کچھ تھا جو ان دونوں کو بہت جلد ملوانے والا تھا۔
خاصہ تھکا ہوا دن گزرا تھا اوپر سے اس کے پاؤں میں چلنے کی وجہ سے شدید درد ہونے لگتی تھی دراصل سارا قصور موسم کا تھا ٹھنڈ کی وجہ سے اس کے پاؤں لال ہو جاتے تھے اور جیسے مانو ۔ ماس اتر آئے یا چھوٹے دانے بن جائیں اس لیے اگر وہ زیادہ چلتی اور ٹھنڈ میں رہتی تو اس کے پیروں میں درد ہونے لگتا۔
بیڑا غرق ہو اس موسم کا اور اس شہر کاوہ بڑبڑائی نیو یارک کے خواب دیکھنے والی کو استنبول بالکل پسند نہیں آیا تھا۔“
کیا فرمایا آپ نے؟ اس کی بڑبڑاہٹ حارث تک پہنچ چکی تھی وہ اس کے آگے چل رہا تھا اس نے پلٹ کر پوچھا۔ نور نے بولنے کی زحمت نہ کی بلکہ اس کے برابر سے گزر گئی۔
پاکستان سے آئی لڑکیوں کی ذمہ داری اس کے ذمے تھی وہ اس لیے ہاسٹل کی طرف جا رہا تھا کیونکہ اُس نے اس لڑکی کو اس کا روم دکھانا تھا۔
باقی کی دو پاکستانی لڑکیاں استنبول کی سڑکوں پر آوارہ گردی کے لیے نکل گئی تھی۔۔ نہ جانے انہوں نے کب آنا تھا۔
کیا یہی ہے میر اروم؟“
ایک کمرے کے آگے رُک کر اس نے پوچھا۔
جی یہی ہے ۔ “ بیگ نیچے رکھ کر حارث نے دروازہ نوک کیا ایک نہایت ہی گورے رنگ کی
لڑکی نے دروازہ کھولا
hi Sofia یہ آپ کی نیو روم میٹ ہیں ماہ نور دو لڑکیاں اور ہیں ان کے ساتھ اور یہ ۔۔؟“
وہ کہتے کہتے ڑکا اور پھر اس نے ماہ نور کو دیکھا جو اپنا بیگ اُلٹ پلٹ کر رہی تھی۔
اب سے یہ آپ کے ساتھ ہی رہیں گی۔“
وہ یہ کہہ کر اس کا بیگ اٹھانے لگا تو ماہ نور جھٹ سے بولی
میں خود اٹھالوں گی۔“
یہ کہہ کر اس نے بیگ کھیٹتے ہوئے اندر جا کر دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا۔۔
وہ ماہ نور تھی وہ ہر ایرے غیرے کا احسان نہیں لیتی تھی جبکہ حارث تعیش میں آگیا وہ بند
دروازے کو گھور رہا تھا تب ہی اس کے پیچھے ابرام آکے کھڑا ہو گیا۔
کیا ہوا ہے ایسے کیوں کھڑے ہو ؟“ ابرام کے ہاتھ میں اپنا سامان تھا۔
بد لحازی دیکھ رہا تھا۔۔۔ “ حارث بولا۔
دروازے کی۔۔! ابرام ہنستے ہوئے بولا ؟
نہیں دروازہ بند کرنے والی کی۔“
“hahahaha once again
”ہاں ہاں تم جی بھر کے میر امذاق اڑالو اور تو کچھ آتا نہیں ہے تمھیں ۔۔ “
”ہاں تو اور کیا کروں صبح بھی تمھاری عزت ہوئی تھی اُس سے۔۔“
بھاڑ میں چلے جاؤ ابرام ۔“
اچھا یار چھوڑو میرا بیگ اٹھا کر اندر رکھ دونا پلیز۔“
کیا یار سب نے اپنا سرونٹ ہی سمجھ لیا ہے مجھے مطلب میری تو کوئی عزت ہی نہیں ہے نا۔ حارث بڑ بڑاتے ہوئے ابرام کا بیگ اٹھا کر ساتھ والے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
وہ اپنا سامان نکال رہی تھی جب وہ گوری لڑکی اس کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی
Hi .. ماه نور
السلام علیکم ۔ “ اس نے مسکرا کر کہا۔
ماہ نور نے پوچھا۔ where are you from?”
I am from New York”
oo really”
وہ بو جھل دل والی لڑکی ایک دم پر جوش ہو گئی۔
“you know what I am so much obsessed with New York and
i really wanted to go there but I couldn,t.
چہرہ ایک بار پھر اُتر گیا.
o so sad..but why do you like new York?”
“I Don’t know but i love new York”
اس سے پہلے کہ یہ روشن آنکھوں والی لڑکی اور کچھ کہتی جنت اور عنایہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔
اور پھر ان تینوں کا ہلکا پھلکا سا تعارف ہوا۔۔
” یہ میری دوست ہے ۔ “ماہ نور نے جنت کا تعارف کروایا اور جنت ہلکا سا مسکرادی۔
” میں صوفیہ ہوں۔۔ “ گوری لڑکی نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔
میرا تعارف کروانے کی ضرورت نہیں ہے میں عنایہ جاوید ہوں۔۔۔“ وہ خاموشی سے جاکر اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی ویسے بھی عنایہ کا کوئی خاص ارادہ نہیں تھا صوفیہ سے گپیں لگانے کا۔
تم ہمارے ساتھ رہو گی ؟“ عنایہ نے صوفیہ سے پوچھا تھا۔
ہاں تو لازمی سی بات ہے میر اروم بھی ہے یہ ۔ “
عنایه فالتو باتیں نہ کرو۔“ جنت نے اسکو روکا۔
تم تو چپ کرونه خود بولتی ہو نہ ہمیں بولنے دیتی ہو۔۔“
اور ان کی لڑائی میں نور کے گھر سے فون آگیا اور وہ فون سننے کے لیے بالکنی میں چلی گئی۔
اسلام علیکم امی کیسی ہیں آپ۔۔؟“
ہاں میں ٹھیک ہوں۔ “ دوسری طرف سے آواز ائی تھی۔
اچھا ولی کیسا ہے ؟“
” وہ بھی ٹھیک ہے۔۔“
نور تمہیں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی سفر میں ؟“
نہیں امی کوئی پریشانی نہیں ہوئی بس آتے ہی کلاسز شروع ہو گئی ہیں اتنا دماغ خراب ہو گیا تھا
نامیرا بتا نہیں سکتی میں آپ کو۔۔۔“
اچھا اپنی زبان کو ذرا سنبھال کر رکھنا پروفیسروں سے ڈانٹ نہ کھاتی پھر نا۔۔۔ ویسے بھی ہر وقت ہی تم بہت بولتی رہتی ہو۔۔۔“
بس کریں رہنے دیں امی ابھی آپ نے عنایہ کو بولتے ہوئے نہیں دیکھا کہ وہ کتنا بولتی ہے۔“ اور ایسے ہی کچھ دیر وہ باتیں کرتی رہی، پھر جب واپس آئی تو اسکو اندازہ نہ ہوا کے وہ آدھا گھنٹہ بات کر کے آئی ہے۔ جنت عنا یہ سفر میں بہت تھک گئی تھی تو ابھی وہ لیٹی ہوئی تھیں۔
اور صوفیہ غائب تھی نور بھی اپنی جگہ پر جا کے لیٹ گئی روم میں دو بنک بیڈ لگے تھے۔۔
اور دونوں کے ساتھ ایک سائڈ ٹیبل تھا۔۔ جہاں پر ان کی کچھ کتابیں وغیرہ پڑی تھی ۔۔۔
جنت اور عنایہ کا بنک بیڈ ایک تھا اور نور اور صوفیہ کا ایک۔۔
صبح اس کی فجر کے وقت آنکھ کھلی وہ اٹھی اس نے نماز آدا کی وہ فجر کے وقت اُٹھ جاتی تھی اس کو اللہ سے محبت تھی اپنی نیند سے زیادہ۔۔ اس نے نماز پڑھی۔۔۔ پھر یونیورسٹی کے لیے تیار ہونے لگی۔
جنت بھی جگ چکی تھی لیکن مجال ہے عنا یہ اُٹھ جائے وہ کب سے اس کو جگہ رہیں تھی لیکن عنا یہ نہیں جگ رہی تھی۔
جنت ٹیبل سے پانی کا گلاس دو۔ “ جنت نے ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس نور کے ہاتھ میں تھمایا۔ اور آخر کار نور نے پانی کا گلاس عنا یہ پے پھینک دیا۔ وہ ہڑ بڑا کے اُٹھے اُٹھی۔
کمینی دماغ صحیح ہے تمہارا اس طرح کون جاگتا ہے ؟“
اتنی دیر سے جگہ رہے ہیں ہم دونوں تمھیں۔“
ہاں تو تھوڑی دیر اور پیار سے جگہ دیتی ۔۔ “ وہ موں بناتے ہوئے بولی اور پھر اٹھی اور تیار ہوئی اور یونیورسٹی کے لیے نکل پڑے وہ تینوں یونیورسٹی کے راستے پر چل رہی تھی۔ ماہ نور
کے پیروں میں درد تھی کیونکہ اسے دانے نکلے تھے اس لیے اس کی رفتار ست تھی۔
سب سے آگے شوخ اور چنچل سی عنا یہ چل رہی تھی جسے بولنا اور الٹے سیدھے کے فیشن کرنا بہت پسند تھا، درمیان میں جنت چل رہی تھی جو ہر کسی کی دوست نہیں بنتی تھی وہ دور رہتی تھی
لیکن اس کو ماہ نور بہت پسند تھی اور سب سے آخر پر ماہ نور وہ بہت ساداسی لڑکی تھی جو اس کے دل میں ہوتا وہ کہہ ڈالتی وہ کبھی بہت باتونی لگتی تو کبھی بے حد خاموش وہ اللہ سے محبت کرنے والی لڑکی تھی وہ ایک اچھی لڑکی تھی۔
اپنا بیگ مجھے دے دو ماہ نور ۔“ جنت نے دیکھا اس کو چلنے میں مشکل ہو رہی ہے تو بولی ماہ نور نے بیگ اس کو دے دیا۔
وہ آہستہ آہستہ چل رہی تھی سڑک تقریباً ویران تھی اس لیے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اتنے میں وہ پیچھے آکر کھنگارا۔
ہم ۔ “ تو وہ ہلکا سا چونکی وہ حارث کے جوتوں سے ہی اس کو پہچان گئی تھی وہ چہرہ کب دیکھتی تھی۔
کیسی ہیں آپ مس نور ۔۔؟“ اس نے جواب نہیں دیا۔
بلکہ اسی طرح چلتی رہی آپ ٹھیک سے چل نہیں پا رہی کیا کوئی مسئلہ ہے اگر آپ کہیں۔۔۔ تو میں آپ کو ۔۔ اور اس کی ہمدردیوں کو ایک دم بریک لگ گئی جب وہ لڑکی اچانک رک گئی اور پھر وہ پُر سکون انداز میں پلٹی اور آنکھیں اُٹھا کر حارث کے چہرے کو دیکھا اس کی کالی آنکھیں اب حارث کے چہرے پر مرکوز تھی اور اس کے ماتھے کے تیور ابھی تک ویسے ہی تھے حارث کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی۔ حارث کا سانس رُکا۔ لڑکیاں اس کو دیکھتی تھی تو دیکھتی ہی رہ جاتی تھی لیکن ماہ نور ایسی نہیں تھی۔
اس کو حارث کا چہرہ ایک عام چہرہ لگتا تھا پھر اچانک ماہ نور بولی۔
مجھے مسئلہ ہے میرے پاؤں خراب ہیں اس لیے میں ٹھیک سے چل نہیں پارہی۔“
وہ ایک منٹ کے لیے رُکی ل۔ ”یکن یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ آپ کی ذمہ داری صرف مجھے ہاسٹل کے روم تک پہنچانے کی تھی اس لیے بہتر ہو گا کہ اب آپ میرا اتنا خیال نہ رکھیں مجھے آپ کی مدد نہیں چاہیے پیچھے ہی پر گئے ہے آپ میری جان چھوڑ دیں۔ شکریہ۔“
اس نے تپتے ہوئے کہا اور غصے سے پلٹی اور ٹھاہ کسی کے بھاری بھر کم سینے سے ٹکرا گئی۔
