Email I’d :mominaazam420@gmail.com
Instagram User I’d : mominaaz_pen
https://www.instagram.com/mominaaz_pen?igsh=ajM5ZnZnM2pucmJ3
Writer Name in English and Urdu :
مومنہ اعظم
Momina Azam
Novel Name in English and Urdu :
سفرِ یاراں
Safar e Yaran
Novel Description in Urdu :
داڑھیوں، تسبیحوں، مصّلوں، برقعوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ان کے پیچھے چھپی نیتیں جب میزان میں رکھی جائیں گی تب حشر برپا ہوگا۔قیامت لگے گی۔
Novel theme: college Based, Romcom, Emotional, Religious ,Social reform, Mystery & Thriller
Episode : 03
Total Words:6106
Novel Status: Ongoing
سفرِ یاراں از مومنہ اعظم
تیسری قسط
کالج سے چھٹی ہوئی تو وہ اپنے گھر کے راستے چل دی۔
چشمے کو ٹھیک طرح سے ناک پر بٹھائے وہ چل رہی تھی جب اسے سامنے سے آتی ایک سفید خوبصورت سی بلی نظر آئی۔
سویرا اسے ابھی دیکھ ہی رہی تھی کہ جب اسنے ایک تیز رفتار بائیک کو بلی کی طرف بڑھتے دیکھا۔ وہ فوراً بلی کی طرف بھاگی اور اسے اُٹھالیا ورنہ ممکن تھا کہ وہ بائیک بلی کو کچل کر نکل جاتی۔
سویرا ابھی وہاں کھڑی ہی تھی کہ اچانک ایک اور بائیک انتہائی تیزی سے اسے اپنے جانب آتی دیکھائی دی۔ اسنے ڈر کے مارے چیختے ہوئے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
بائیک کی آواز قریب آرہی تھی۔ سویرا کو اپنا دل اپنے کانوں میں دھڑکتا محسوس ہوا تھا۔ اور پھر اسے اپنے بازو پر کسی کے ہاتھ کی گرفت محسوس ہوئی۔
کسی نے اسے اپنی طرف پوری قوت سے کھینچا تھا۔
وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔
پھر بائیک کے گرنے کی آواز سنائی دی ۔
خوف سے سویرا کی چیخ نکل گئی۔ اور پھر خاموشی چھا گئی۔
“سویرا، سویرا۔۔۔ ہوش میں آئیں۔” بازل کے پکارنے پر اسنے اپنی آنکھیں کھولیں۔
“کیا آپ ٹھیک ہیں؟ آپ کو چوٹ تو نہیں لگی؟” وہ فکر مند سا پوچھ رہا تھا ۔
” پلیز مجھے بتائیں کیا آپ ٹھیک ہیں؟” اس کے لہجے میں پریشانی واضح تھی۔وہ مضطرب سا اسکے ہاتھ پاؤں دیکھ رہا تھا۔
سویرا کی آنکھیں وہشت زدہ لگ رہی تھیں۔”مجھے گھر جانا ا۔۔۔” وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ اسکی نظروں نے اپنے بائیں جانب خون سے لت پت اس موٹر سائیکل سوار کو دیکھا تھا۔
اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور وہ بے ہوش ہوگئی ۔
بازل اسے ہسپتال لے گیا تھا۔ میڈیسن دلوا کر اسنے سویرا کو گھر ڈراپ کر دیا۔ وہ اسکے ٹراماٹائیز ہونے کی وجہ سے ابھی اس سے کوئی بات نہیں کرسکتا تھا۔
________
رات کے دس بج رہے تھے۔ ارحم اس وقت اپنے گھر جا رہا تھا اس کا مشن سکسیس فلی کمپلیٹ ہو چکا تھا۔ آنکھیں مسلسل سفر کی وجہ سے شدید تھکن زدہ تھیں مگر چہرے پر مسکراہٹ سجی تھی۔وہ پورے چار ماہ بعد اپنے دوستوں سے ملنے جارہا تھا۔۔
ارحم چاکلیٹ کھاتے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔چاکلیٹ کھانا ہی اس بات کا اعلان تھا کہ وہ آج بہت خوش ہے۔ تھوڑی دیر بعد ان دوستوں کا باہر کھانا کھانے کا پلین بھی تھا۔ اچانک ہی اسکی کار چلنا بند ہو گئی۔
انجن میں کوئی مسئلہ تھا شاید۔
وہ تھک چکا تھا فی الحال وہ کار خود ٹھیک کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔اس وقت راستے میں لوگ بھی بہت کم نظر آرہے تھے ۔ اور اسکا موبائل بھی چارج نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑا تھا۔ اسنے کسی سے لفٹ لینے کا سوچا ۔
آدھے گھنٹے سے زیادہ ہو چکا تھا کوئی تھا ہی نہیں تو وہ لفٹ کس سے لیتا۔
اسے دور سے آتی دو کاریں نظر آرہی تھیں۔
ارحم نے خدا کا شکر ادا کیا۔ اور ان سے مدد مانگنے کو آگے بڑھا۔
وہ دونوں کاریں رک چکی تھیں ۔
ارحم نے ڈرائیور سے لفٹ کا پوچھا تو ڈرائیور نے اپنے مالک سے اجازت ملتے ہی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول دیا۔ وہ اندر بیٹھنے ہی لگا تھا کہ سامنے موجود شخص کو دیکھ کر اسکا وجود ساکت ہوا۔
—————–
“وولف سارا کام مکمل ہو گیا ہے۔ واپس چلناچاہیے۔ بندے گاڑیوں میں سوار ہوچکے ہیں۔ بس تمہارا انتظار ہے۔ “حدائق نے اطلاع دی تو بازل سر ہلاکر اٹھ کھڑا ہوا ۔”اوکے چلو چلیں۔”وہ کار میں سوار ہوگئے۔
بازل اپنے موبائل پر میسج ٹائپ کر رہاتھا۔جب ڈرائیور نے اطلاع دی”سر یہاں ایک شخص کھڑا ہے شاید اسے لفٹ کی ضرورت ہے” پہلے تو بازل انکار کرنےلگا تھا مگر پھر رات کا وقت اور ٹریفک بالکل نہ ہونے کی وجہ سے اس نے اجازت دے دی۔
مگراس شخص کو دیکھ کر اسے لگا کہ اسنے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کردی تھی اسے لفٹ دیکر۔وہ جتنا اپنے ماضی سے بھاگتا تھا وقت اسے اتنا ہی ماضی میں لاکر پٹخ دیتا۔
اب وضاحتیں دینے کا آچکا تھا۔
“ارحم۔۔” بازل بڑبڑایا۔
وقت بہت ظالم تھا۔اس نے کراہ کر آنکھیں میچیں۔
اگلی سیٹ پر بیٹھا حدائق سمجھ چکا تھا کہ آنے والا شخص کون ہے۔اس نے مسکرا کر اپنا رخ کھڑکی کی طرف موڑ لیا اور نظاروں کا لطف اٹھانے لگا۔بلاشک وقت بہت مہربان تھا۔
ارحم خاموشی سے گاڑی میں آ بیٹھا۔ کچھ دیر تو دونوں کے درمیان خاموشی حائل رہی۔ بازل کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ بات شروع کہاں سے کرے۔
آخر بہت دیر بعد اس نے اپنے سلے لبوں کو حرکت دینے کا فیصلہ کیا۔
“وہ۔۔میں وضاحت دینے کیلئے تیار۔۔” بازل اپنی بات مکمل کرتا کہ ارحم نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
بازل نے اپنے لب واپس سی لیے۔
بازل شاہ جس کی دھاڑ سے مافیا ورلڈ میں سنسنی دوڑ جاتی تھی اس وقت خود کو بے بس محسوس کرہا تھا۔لفظ تو جیسے اسکے پاس ختم ہوچکے تھے۔
ارحم نے اس کی جیب سے موبائل فون نکالا۔ بازل نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ اسے نہیں روکا۔ کیونکہ دوستوں میں ایک قانون ہوتا ہے جس کے مطابق ہماری چیز تو ہماری ہوتی ہی ہے مگر دوست کی چیز ہماری چیز سے زیادہ ہماری ہوتی ہے۔
“سنو ڈرائیور گاڑی کو کسی اچھے سے قریبی ہوٹل پر روکو۔” ارحم بولا تو ڈرائیور نے چونک کر بازل کو دیکھا، بازل نے سر کو اثبات میں ہلایا گویا اجازت دی تو ڈرائیور نے سمجھ کر سر ہلا دیا۔
ارحم نے باری باری ان تینوں کو کال کر کے انہیں بھی ریسٹورنٹ آنے کا کہا۔
___________
میٹنگ روم میں ہر شخص خاموشی سے بیٹھا اگلے پراجیکٹ کیلئے دی جانے والی ہدایات کو سنتا اور کورے کاغذ پر نوٹ کرتا نظر آ رہا تھا۔
ڈارک بلیو تھری پیس پہنے، بالوں کو جیل سے اسٹائل کیے، سیاہ آنکھوں والے شاہزیب نے مرکزی کرسی سنبھال رکھی تھی برابر میں مینیجر فرخ ربانی صاحب اور باقی ایمپلائیز بیٹھے تھے۔ شاہزیب نے فرخ صاحب سے مزید کچھ باتیں کیں اور کوٹ کے بٹن بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
میٹنگ روم سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ اسکا فون بج اٹھا۔
نمبر غیر شناسا تھا۔
اسنے کال ریسیو کی دوسری جانب ارحم تھا۔
“بات سنو! جہاں بھی ہو ابھی اور اسی وقت ریستوران پہنچو۔۔لوکیشن بھیج رہا ہوں۔سرپرائز ہے۔”
اور فون بند۔
شاہزیب ” ارے ارے” کرتا رہا۔
“الو کا پٹھا! کبھی جو سیدھی بات کرے پھر کسی سے پنگا لے لیا ہوگا اور اب خود تو مار کھا ہی رہا ہوگا سوچا کیوں نہ اس کارِ خیر میں دوستوں کا بھی حصہ شامل کر لے۔ ظاہر ہے اب ایک دوست جو نیل و نیل اور سوجے ہوئے منہ والا ہو تو باقیوں کے بغیر ڈینٹ والے چہرے کہاں اچھے لگتے ہیں۔ڈیش شخص! “
شاہزیب نے موبائل جیب میں اڑسا اور کیز اٹھاتا گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔
_________
سارے دن کا تھکا ہارا حاکم جب پریکٹس روم سے باہر نکلا تو تکان سے آنکھیں مسلتا وہ اپنے آفس میں پہنچا۔
کوٹ اتار کر دوسرے ہاتھ میں تھامے اسنے کڑک سی چائے کا آرڈر دیا۔ اور اپنی چیئر پر نیم دراز ہو گیا۔
تھوڑی دیر بعد وہ گرما گرم چائے کے مزے لینے شروع ہی ہوا تھا کہ اسکا موبائل بج اٹھا۔
غیر شناسا نمبر سے کال تھی۔
اسنے کال پک کی تو اسکے کان میں ارحم کی آواز گونجی۔
“سرپرائز ہے۔ فوراً اس لوکیشن پر پہنچ۔”
اور یہ ٹھک۔
فون بند۔
حاکم نے فون کو ایسے گھورا جیسے ارحم کو گھورا ہو
“بھنڈی کی شکل کا! تجھے تو میں وہیں پہنچ کر بتاتا ہوں بیٹا! خیر منا اب اپنی۔” چائے کا مگ ہاتھ میں ہی تھامے اسنے کار کیز اٹھائیں اور ریسٹورنٹ کے جانب روانہ ہوا۔
__________
“امی ڈنر کتنی دیر تک لگے گا؟؟ اب تو بھوک سے پیٹ میں دوڑتے چوہے بھی دہائیاں دینے لگے ہیں۔ میرا نہیں تو ان معصوموں کا ہی کچھ خیال کر لیا کریں ۔” اکلوتا اور لاڈلا سا میر بخت معصومانہ انداز میں اپنی امی سے مخاطب تھا۔
“بس دس منٹ اور۔۔ پلاؤ دم پر ہے اور شامی کباب میں ابھی فرائے کر دیتی ہوں اپنے بیٹے کو “فہمیدہ جہانگیر نے شفقت سے اپنے پیارے بیٹے سے کہا تو وہ سر ہلاتا اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔
” تمہارے بابا کا فون آیا تھا کہہ رہے تھے کہ پراجیکٹ کے سلسلے میں انہیں ابھی لندن میں مزید ایک ماہ لگ جائے گا۔” انہوں نے جہانگیر شعراوی سے دوپہر میں کی جانے والی بات کا تذکرہ کیا تو وہ سر ہلا گیا۔
کمرے میں قدم رکھا ہی تھا کہ بیڈ پر رکھا موبائل بج اٹھا۔
اس نے موبائل کان سے لگایا اور ڈریسنگ مرر میں اپنا عکس دیکھا۔
سیاہ کرتا شلوار پہنے ماتھے پہ بکھرے بال لیے میر بخت بہت خوبرو لگ رہا تھا۔
“سن ایک سرپرائز ہے۔۔ جاننا چاہتا ہے تو پندرہ منٹ میں لوکیشن پر پہنچ۔ سولواں منٹ لگا تو تیری خیر نہیں۔”
اور ٹوں ٹوں۔
فون بند۔
میر بخت پورا منہ کھولے کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔
“میری تو کوئی عزت ہی نہیں ہے یار۔۔ میں بھی نہیں جاؤں گا ہو نہہ! ” وہ منہ پھلا کر بیٹھ گیا۔
بمشکل دو منٹ ہی گزرے ہونگے کہ وہ اپنی عزت پر گویا لعنت پھیرتے ہوئے اٹھا
(عزت جائے بھاڑ میں دوست اگر بے عزت نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا ویسے بھی دوست اگر بے عزت نہ کرے تو دوستی ادھوری سی لگتی ہے)
اور کار کیز اٹھا کر امی کو ارحم کے بلاوے کا بتاتا باہر چل دیا۔
___________
وہ تینوں جب ریسٹورنٹ پہنچے تو ارحم کی طبیعت صاف کرنے کا منصوبہ بنا چکے تھے۔
شاہزیب جس نے کوٹ اتار کر آستین اوپر چڑھارکھی تھیں اور تنے ابرو کے ساتھ ریسٹورنٹ میں داخل ہو رہا تھا کہ ان لوگوں کی درگت بنائے جو اسکے دوست کی درگت بنا رہے ہونگے۔
مگر جب ارحم کو ایک میز پر بڑے آرام سے کسی شخص کے ساتھ بیٹھا دیکھا تو تنے آبرو ڈھیلے چھوڑے چڑھی آستین برابر کیں اور اسکی میز تک پہنچا۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا یا ارحم کو خوبصورت القابات سے نوازتا مقابل بیٹھے شخص کو دیکھ کر منجمد رہ گیا۔
حاکم خراب موڈ کے ساتھ ریسٹورنٹ میں داخل ہوا
” آج تو ارحم کی خیر نہیں ۔لوکی کی شکل کا! کبھی جو صحیح بات کرے۔” وہ سامنے بیٹھے ارحم کو گھورتے ہوئے بڑبڑایا۔
مگر ارحم اکیلا نہیں تھا۔ وہاں شاہزیب بھی موجود تھا جو کہ سکتے کی حالت میں کھڑا ارحم کے مقابل بیٹھے شخص کو دیکھ رہا تھا۔
” اسکو کیا ہوگیا؟ یہ فریز کیوں ہوگیا ہے؟ “وہ کہتے ہوئے ان کی جانب بڑھا۔وہ میز پر پہنچا۔
اس سے پہلے کہ وہ ان سے کچھ پوچھتا۔ ارحم کے مقابل بیٹھےشخص پر نظر پڑی تو وہ بھی حیران رہ گیا۔
سیٹی بجاتے ہوئے انگلی میں چابی گھماتے میر بخت جب ریسٹورنٹ کے دروازے میں نمودار ہوا تو اسنے ارحم کی میز کے گرد کھڑے اپنے دوستوں کو سکتے کی حالت میں پایا تھا۔”لگتا ہے عمران خان کو دیکھ لیا ہے انہوں نے۔تب ہی اپنے ہوش میں نہیں ہیں۔بھئی اپنے فیورٹ سیلیبریٹی کو سامنے دیکھ کر کون ہوش میں رہتا ہے۔” شانے اچکا کر وہ میز کی طرف بڑھ گیا۔
“تم دونوں کو کیا ہو۔۔۔” وہ جو ان دونوں کی حالت پر تبصرہ کرتے کرسی کھینچ کر بیٹھ رہا تھا بازل کو دیکھتے ہی کرنٹ کھا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
“اوئے تو۔” میر بخت بھی باقی دونوں کے ساتھ حیرانی سے منہ کھولے کھڑا رہ گیا۔
تو بازل نے مسکرا کر سر جھکا دیا۔ “تم تینوں منہ بند کرکے بیٹھو پہلے مکھی چلی جائے گی۔”
ارحم نے کہا تو مکھی کا سوچ کر جھرجھری لے کر ارحم کو گھورتے ہوئے بیٹھے۔
پہلے باری باری ارحم کو چپت لگائی۔اس کے اتنے شاندار دعوت نامے پر۔ارحم نے دانت نکال کر داد وصول کی۔
” پتہ ہے یہ صاحب کیا بک رہے تھے؟
کہتے ہیں کہ یہ وضاحت دینے کیلئے تیار ہیں۔ کوئی ان صاحب کو بتائے کہ یہ ہم سے دور ہوئے تھے ہم نے آج تک انہیں خود سے جدا نہیں کیا نہ ہی کبھی بھولے ہیں۔ہونہہ!” ارحم نے بازل کو بھرپور گھوری سے نوازا۔
“وضاحتیں غیروں کو دی جاتی ہیں اپنوں کو نہیں۔ انہیں بس آپ کے ساتھ خوشی کے چند لمحات اور آپ کا کچھ وقت چاہیے ہوتا ہے۔۔ مگر تو نے کبھی ہمیں اپنا سمجھا ہو تا تو غم ہی کس بات کا تھا۔۔ چیپڑانہ ہو تو۔۔ ہو نہہ۔۔ “ارحم کا موڈ سخت خراب لگتا تھا ۔
” یار ایسی بات نہیں ہے میرا خاندان تو تم سب ہی ہو ۔ آئی ایم سو سوری۔۔ “بازل نے جھکی گردن کو مزید جھکا دیا۔
“سوری کے بچے۔۔ تو دیکھ اب ہم کرتے کیا ہیں تیرے ساتھ۔۔ خیر منا تو اپنی اب۔سڑا کریلا نہ ہو تو! ہونہہ! “حاکم بولا تو میر بخت نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
” ادھر کر زرہ اپنا منہ شریف میں نے ایک خوبصورت چماٹ لگانی ہے۔۔”شاہزیب نے کہتے ساتھ ہی بازل کا گال اپنی طرف کیا اور ایک تھپڑ رسید کیا۔” بازل ہنس دیا۔اور باقی تینوں کی طرف دیکھا۔۔باقی تینوں نے بھی باری باری اسے تھپڑ رسید کرنے کا شرف حاصل کیا۔
قہقہے بلند ہوئے۔
باہر پہرا دیتے حدائق کا منہ پورے کا پورا کھل چکا تھا یہ منظر دیکھ کر۔
مافیا ورلڈ کا بے تاج بادشاہ۔۔بازل شاہ دا وولف یہاں اپنے بھائیوں جیسے دوستوں سے خوشی خوشی چماٹ کھارہا تھا۔
حدائق کو ان کی دوستی پر رشک آیا۔
اس کا باس بہت کم ایسے دل سے ہنستا تھا۔
” آج کا سارا بل تو دے گا۔۔ “میر بخت نے دانت نکالتے کہا “اور میں آرڈرز” شاہزیب نے بھی دانتوں کی نمائش کی۔بازل نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔
“نہیں، نہیں پلیز شاہزیب یار تو آرڈر نہ دے۔۔میری ڈائٹ کی ایسی کی تیسی ہو جائے گی۔” ارحم بولا تو باقی سب نے اسے گھور کر دیکھا۔” چاکلیٹس کھاتے ہوئے اس بات کا خیال آیا ہے کیا کبھی؟” حاکم نے بھنویں اچکا کر پوچھا۔
“چاکلیٹس کی بات الگ ہے محترم۔”ارحم کا انداز دلکش تھا. سب مسکرا دیے۔
اور پھر سب ہی جانتے تھے کہ شاہزیب آرڈر دیتے نہیں تھکے گا مگر ریسٹورنٹ کے سارے شیف کھانا بنا بنا کر ضرور تھک جائیں گے۔
اور جو ویٹر انکی ٹیبل کی جانب بڑھا تھا۔ اگلا پورا وقت اسکے ہاتھ لکھ لکھ کر تھکنے کی وجہ سے کوئی بھی آرڈر لینے سے قاصر رہے۔
بازل کو تو پکا لگ رہا تھا کہ آج اسنے کنگلا ہو جانا ہے۔
آئیے ذرا آرڈر پر بھی نظر ثانی کر لی جائے۔
“”پچیس روغنی نان، ایک ران، دو سجیان، تین چرغے، بریانی، سیخ کباب، ملائی بوٹی، بونگ پایہ، دو مٹن اور تین چکن کڑھائی۔ دس چپاتیاں۔ بنوں پلاؤ، حاکم کی عربیک مندی اور چائے، ارحم کا چاکلیٹ کیک ہاٹ چاکلیٹ ڈپ کے ساتھ (شدید ضد پر۔۔ کیونکہ میٹھا انہوں نے بعد میں آرڈر کرنا تھا) ، بازل کا اچار گوشت، میر بخت کے عربیک شوارما۔۔۔ باقی میٹھا ہم یہ کھانے کے بعد تازہ تازہ آرڈر دیں گے۔”
“سر ابھی میٹھے کی جگہ بھی بچتی ہے؟؟” ویٹر تاسف سے گویا ہوا تو سب نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔ “جی جی بالکل چندا۔ یہاں آج آپکے ریسٹورنٹ کا سارا راشن ختم کر کے جانے والے ہیں ہم۔۔” میر بخت بولا تو ویٹر سر ہلاتا واپس ہو لیا۔
کچھ دیر بعد وہ سب مزے سے کھانے کے ساتھ انصاف کرتے نظر آ رہے تھے۔ آج وہ سب بہت مطمئن اور خوش تھے۔ کیونکہ انکا دوست بارہ سالوں بعد انکے پاس واپس آگیا تھا۔
پارٹی تو بنتی تھی۔
______________
اگلے دن وہ چاروں اپنے لیکچر لے چکے تھے۔
اُمِ ہانی آج نہیں آئی تھی۔
اُسنے بتایا تھا کہ اُسکی طبیعت بہت خراب تھی۔ تو وہ ایک دو دن تک کالج نہیں آنے والی۔
“یار آج کل دامیہ کیوں نہیں آرہی؟” وثقیٰ نے اپنے نوٹس پر نظر ڈالتے ہوئے پوچھا
وہ سب اس وقت گارڈن میں بیٹھے تھے۔موسم ٹھنڈا تھا.
“پتہ نہیں۔۔ادیبہ سے پوچھتے ہیں اسے پتہ ہوگا۔۔” سویرا نے گارڈن میں نظر گھمائی تو مومنہ کو وہ ایک گروپ کے ساتھ بیٹی نظر آگئی۔
“وہ دیکھو وہاں بیٹھی ہے اس طرف۔” مومنہ نے بینچ پر چند لڑکیوں کے ساتھ بیٹھی ادیبہ کی طرف اشارہ کیا تو سویرا نے اسے آواز لگائی۔
“ادیبہ، ادیبہ۔۔ یار ایک منٹ بات سنو ذرا۔۔” سویرا نے ادیبہ کو بلایا۔
“ہاں بولو کیا کہنا ہے؟” ادیبہ اُنکے ساتھ آکر بیٹھ گئی۔
“آج کل دامیہ کیوں نہیں آرہی؟ کوئی مسئلہ ہے کیا؟” مومنہ نے پوچھا
” نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔ اصل میں پرسوں اُسکی منگنی تھی۔۔ تو وہ اِس وجہ سے کالج نہیں آرہی۔۔”
“کیاااا؟؟؟” وہ چاروں ایک ساتھ چیخیں تھیں۔
“کیا ہو گیا ہے یار پاگل واگل تو نہیں ہو گئیں تم سب؟” ادیبہ نے کانوں پر ہاتھ رکھتے کہا تو ان چاروں نے مسکراہٹ دبائی۔
“تو تمہیں پتہ چل ہی گیا۔”۔ علشبہ بولی تو ادیبہ نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔ “کیا پتہ چل گیا؟”۔ ادیبہ کے لہجے میں تاسف تھا۔
“کہ ہم سب پاگل نہیں بلکہ مہا پاگل ہیں۔۔” وہ سب ایک دفعہ پھر سے چیخیں تھیں۔
“دفعہ ہو جاؤ بدتمیزوں” ادیبہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی۔ اور پیچھے وہ چاروں قہقہے لگانے میں مشغول تھے۔۔
__________
ناظرہ کا لیکچر شروع ہوا تو میر بخت کلاس میں داخل ہوا۔
سلام کا جواب دینے کے بعد اس نے سب سے نوٹس نکالنے کا کہا۔
لاشعوری طور پر اسکی نظریں کلاس میں اُم ہانی کے موجود نہ ہونے کو نوٹ کر چکی تھیں۔ اسے اچانک ہی سب برا لگنے لگا تھا۔
لیکچر کے فوراً بعد ہی وہ گھر چل دیا۔
________________
چھٹی ہوچکی تھی۔۔
سوپرا کے قدم گھر کی طرف رواں دواں تھے۔
لمحے بعد ہی ان قدموں کو کسی اور کے قدموں کی ہمنوائی میسر آئی۔
کیا میں تمہیں بتاؤ کہ وہ کون ہے ؟
وہ وہ ہے جسکے لیے ایک دنیا چل کر آتی ہے۔
مگر اسے صرف سویرا کے لیے چل کر آنا پسند ہے۔
سویرا نے اسکے قدموں کی آہٹوں کو پہچاننا شروع کر دیا تھا۔
بازل نے اسکے قدم کے ساتھ قدم ملائے۔
” کیسی ہیں اب آپ ؟” نرم سا انداز۔
” میں ٹھیک ہوں اب۔ آپ کیسے ہیں؟” سویرا نے اسکی خیریت جاننی چاہی۔
” آپ بتائیں میں کیسا ہوں؟” بازل نے استفسار کیا تو کچھ لمحے دونوں کے درمیان خاموشی حائل رہی۔
” آپ میرے لیے اک محافظ سے ہیں ۔ ” لفظ ایسے تھے کہ بازل کے لبوں پر تبسم بکھر سا گیا ۔
” میں آپکو ہمیشہ یادرکھونگی ! ” سویرامزید بولی۔
” اور میں آپکو کبھی نہیں بھولونگا !” بازل نے جیسے یہ بات خود سے کہی تھی ۔
اس ایکسٹینڈنٹ کے بعد وہ اب ملے تھے۔
بازل کواسے ٹھیک دیکھ کر بہت سا سکون محسوس ہوا تھا ۔
اسنے اپنا خاندان کھویا تھا ۔ اپنا ہنستا بستا گھر۔۔ اب وہ سویرا کو کھو دیتا تو اسکی ذات بکھر کر ٹکڑےٹکڑے ہو جاتی۔
اسے یاد تھا جب اسنے سویرا کے بے ہوش وجود کو تھاما تھا تو اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ سویرا کو کھو دینے کا خوف اسکی جان قطرہ قطرہ سینچ رہا تھا۔
فضاؤں میں اک دلکش سی خوشبو پھیلنے لگی تھی۔
میرے قارئین۔۔ کیا مجھے آپ کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ کونسی خوشبو ہے؟
وہ خوشبو ہے محبت کی!
وہ خوشبو عقیدت کی ہے!
وہ خوشبو ہے چاہت کی!
اک نئی داستاں کی خوشبو ہے وہ!
______________
رات نو بجے کا وقت تھا۔ میر بخت ان چاروں سے مل کر اب گھر جا رہا تھا۔
آج اُم ہانی کو غیر حاضر ہوئے تیسرا دن تھا۔
پتہ نہیں وہ کہاں چلی گئی تھی۔ اسے اس کی بہت فکر ہونے لگی تھی۔ وہ ابھی سوچوں میں گم تھا کہ اسے سامنے ہی ارمان ایک لڑکی کو تنگ کرتا نظر آیا۔
“امیر باپ کی بگڑی اولاد!” اس نے حقارت سے ارمان کو دیکھا۔
وہ کار سے اترا اور جا کر ارمان کو ایک زوردار لات دے ماری۔
ارمان دور جا گرا۔ لڑکی موقع پاتے ہی وہاں سے بھاگ گئی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو مارنے پیٹنے لگے۔
_________
اُم ہانی اپنی کمپیوٹر کورس کی کلاس لے کر گھر واپس جا رہی تھی۔آج ایکسٹرا کلاس کی وجہ سے دیر ہوگئی تھی۔
وہ سڑک کنارے رک کر ویڈا کا انتظار کر رہی تھی۔ جب اسنے میر بخت کو کسی سے جھگڑتے دیکھا۔ وہ بھاگ کر اسکے پاس پہنچی۔
“سر، سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ ہٹیں چھوڑ دیں انہیں سر۔۔ سر پلیز ہٹیں۔ سر آپکو چوٹ لگ جائے گی پلیز بس کر دیں” وہ میر بخت کو ارمان سے دور کرتے بولی۔
“اُم ہانی آپ جائیں یہاں سے۔۔” وہ دھاڑا تھا۔
اُم ہانی سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی۔
وہ دونوں بری طرح سے جھگڑ رہے تھے۔
“میں آپ کو ایسے چھوڑ کر نہیں جا رہی۔۔آپ چھوڑیں انہیں پلیز۔۔ میں پولیس کوکال کرنے لگی ہوں۔۔” وہ ارمان کو چھڑوانےکی ایک ناکام کوشش کرتے ہوئے بولی۔
اتنی دیر میں ارمان نے اپنی پاکٹ سے ایک چاقو نکالا اور میر بخت کے ہاتھ پر مارا۔
خون کی ایک دھار تیزی سے اسکی ہتھیلی پرنمودار ہوئی تھی۔
“سر۔” اُمِ ہانی کی چیخ بلند ہوئی۔
ارمان موقع پاتے ہی بھاگ چکا تھا۔
“سر آپ ٹھیک تو ہیں؟ پلیز اُٹھیں۔” وہ اسے اُٹھاتے ہوئےبولی۔ لہجے میں پریشانی واضح تھی۔
“میں ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا مجھے۔۔اس زخم پر میں بینڈیج کر لونگا۔ زیادہ گہرا نہیں ہے زخم۔” وہ اُٹھتے ہوئے بولا ہاتھ کو دانستہ پیچھے کر لیا۔
“پر سر آپکاخون بہہ رہا ہے۔۔” وہ پھر سے بولی ہاتھ کی طرف اشارہ کیا۔ “جی میں جانتا ہوں یہ بس ایک کٹ ہے زیادہ کچھ نہیں۔۔” وہ اپنے درد کو چھپاتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
“ہزار ڈھیٹ مرے ہونگے پھر ان صاحب نے اس دنیا میں قدم رنجا فرمایا ہوگا ۔” وہ بڑبڑاتے ہوئے اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی۔
“کیا کہا آپ نے؟؟” وہ حیرت سے بھنویں اچکا کر پوچھنے لگا۔
“میں نے کچھ نہیں کہا آپ کے کان کچھ زیادہ ہی سنتے ہیں۔” وہ بیگ سے بینڈیج نکال کر اسکے قریب آئی۔
“اپنا ہاتھ ادھر لائیں۔” بولتے ساتھ ہی اسنے اس کے ہاتھ کو خود ہی پکڑ کر اپنے آگے کیا تھا۔ اسے اس طرح اپنا ہاتھ پکڑے دیکھ میر بخت کا دل ایسے دھڑکا تھا گویا اسنے آج کے بعد دھڑکنا ہی نا ہو۔
اُم ہانی اسکے ہاتھ کی بینڈ بیج کرنے لگی۔ میر بخت اسے گھور کر ہی رہ گیا بس۔ کیونکہ درد اسے ہو رہا تھا اور کراہ وہ رہی تھی۔
بینڈ یج کرنے کے بعد ہانی نے اسکے ہاتھ کو سہلایا تھا۔
وہ ساکت ہو چکا تھا۔
یہ لڑکی نا جانے کیوں ہر بار اسے ساکت کر دیتی تھی۔
“اتنی رات میں آپ کہاں سے آ رہی تھیں؟” سوال پوچھا گیا۔
“کمپیوٹر کورس کرتی ہوں آج کلاس دیر سے ختم ہوئی تھی۔” جواب حاضر تھا۔ “چلیں میں آپکو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔” پیکش دی گئی۔
“نہیں میں خود جا رہی ہوں تھینکس۔” رد کر دی گئی۔
وہ آگے بڑھ گئی۔
میر بخت اسے روک نہیں سکتا تھا۔
اختیار نہیں تھا!
سو اپنی کار میں جا کر بیٹھ گیا۔اور خاموشی سے اسے جاتے دیکھتا رہا۔
وہ تھوڑا آگے چلی جائے تو وہ اسکے پیچھے جا سکے۔وہ ام ہانی کو اکیلیے جانے نہیں دے سکتا تھا۔اسکے ضمیر کو یہ بات گواراہ نہ تھی۔
اُمِ ہانی تیز تیز قدم اٹھاتی ابھی دوسری گلی میں ہی پہنچی تھی کہ وہاں ارمان آگیا۔
“میر بخت تمہارا کیا لگتا ہے؟” ام ہانی سہم کر پیچھے ہوئی وہ اسکے سر پر آپہنچا تھا۔”ک ک کچھ نہیں تمہیں کیوں بتاؤں۔۔” وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔
ارمان نے اسکی کلائی پکڑی تھی۔
اُمِ ہانی ڈر کر چیخ اٹھی۔
اور پھر کسی نے ارمان کو پسلی پر ایک زور دار لات ماری تھی ارمان منہ کے بل گرا تھا۔
“میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا تم نے اسے ہاتھ بھی کیسے لگایا۔” میر بخت اس پر مکوں اور تھپڑوں کی برسات کرنے لگا۔
زخمی ہاتھ کی پرواہ کسے تھی۔
اُمِ ہانی نے میر بخت کو اس سے الگ کیا۔ ارمان گرتے پڑتے وہاں سے بھاگ نکلا۔اس کی حالت خراب ہوچکی تھی۔
“میں نے آپ سے کہا بھی تھا کہ میں ڈراپ کر دونگا آپ کو۔ مگر نہیں۔ آپ کو تو شوق ہے ہر بات پر مجھ سے بحث کرنا ضروری ہے آپکے لیے۔” وہ اسے جھاڑتے بولا۔
“آپ مجھے ڈانٹیں مت۔ اس وقت میں کلاس میں نہیں کھڑی جو آپ مجھے ڈانٹ رہے ہیں۔ “وہ اسے پچھلی بات یاد دلانے لگی۔
میر بخت نے اسے گھورا۔”ام ہانی میرا صبر مت آزمائیں اور چلیں اب میں آپ کو گھر چھوڑنے جارہا ہوں۔” وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔
ام ہانی خاموشی سے اس کے پیچھے چل دی۔
__________
حاکم واپس گھر جارہا تھا.
ڈرائیو کرتے ہوئے اسے سڑک پر کوئی گرا ہوا نظر آیا۔ کار روک کر وہ اس شخص کی طرف بڑھا۔انہیں کار میں بٹھایا جو نیم. بے ہوش تھے.
اسنے انہیں پانی پلایا اور انہیں میڈیسن دی۔
“انکل اب آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟ کیا آپ کو اور پانی چاہیے؟” وہ متفکرسا پوچھ رہا تھا۔ “نہیں بیٹا۔ شکریہ! پلیز اگر تمہیں کوئی پریشانی نہ ہو تو مجھے میرے گھر چھوڑ دو۔”
” انکل شکریہ کی کوئی بات نہیں ہے میں ایک ڈاکٹر ہوں یہ میرا فرض تھا۔”وہ کہہ کر واپس ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔
سارے راستے اسنے ان سے اتنی باتیں کی تھیں کہ ان کی طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی۔
احمد صاحب کا گھر آ چکا تھا۔
“چلیں انکل آپ اپنا خیال رکھیے گا میں چلتا ہوں۔” گہرے نیلے رنگ کے کرتا شلوار پہنے خوبرو سا حاکم مسکرا کر بولا ۔
” بیٹا تھوڑی دیر رکو میں چائے بنواتا ہوں پی کے جانا۔ میری بیٹی بہت اچھی چائے بناتی ہے۔ چلو آ جاؤ۔” احمد صاحب کہہ کر کار سے باہر نکل گئے۔
“ارے انکل نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے آپکو زحمت ہوگی۔مجھے ویسے بھی گھر سے دیر ہورہی ہے والدہ پریشان ہورہی ہونگی۔” حاکم فوراً بولا.
“بیٹا زحمت کی کیا بات۔۔ تم نے میری مدد کی، اب مجھے بھی موقع دو خدمت کا۔۔زیادہ دیر نہیں ہوگی۔تم گھر پر اطلاع کردو۔آجاؤ شاباش۔” وہ اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔
” مومنہ بیٹا دو کپ چائے تو بنا دو” انہوں نے حاکم کو ڈرائینگ روم لے جاتے ہوئے مومنہ سے کہا جو کہ اپنے کمرے میں بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی۔
امی اور ہالہ خالہ کے گھر گئی ہوئی تھیں۔
“جی بابا ابھی بنا دیتی ہوں۔”وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
چائے بنا کر اسنے احمد صاحب کو آواز دی اور انہیں چائے اور سنیکس تھمائے۔ وہ اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر آگے بڑھ گئے۔
“لو بیٹا چائے آگئی۔” احمد صاحب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تو حاکم نے اٹھ کر ان کے ہاتھ سے ٹرے لے لی۔وہ ارے، ارے کرتے رہ گئے۔
“آپ بیٹھیے پلیز میں کرتا ہوں.”اس نے مسکرا کر کہا۔
“جیتے رہو!” وہ مسکرا کر بیٹھ گئے۔”تھینکس انکل۔یہ لیجیے” وہ کپ انہیں تھماتے ہوئے بولا. تو احمد صاحب نے اسکے سر پر بھی شفقت سے ہاتھ رکھا خوبرو سا حاکم مسکرا دیا۔
نیلا رنگ اس پر جچ رہا تھا۔کتھئی آنکھوں والا لڑکا مسکرا رہا تھا۔مناظر اسے ٹھہر کر تکنے لگے۔
چائے کا پہلا گھونٹ بھرتے ہی اسکی ساری تھکن اتر گئی تھی اسے یہ چائے بے حد پسند آئی تھی۔ “انکل چائے سچ میں بہت اچھی اور کڑک۔۔ مجھے بہت پسند آئی۔۔ میری ساری تھکن دور ہوگئی ہے۔۔” حاکم بھرپور مسکراہٹ سے بولا۔
چائے پینے کے بعد وہ شکریہ ادا کر کے گھر چل دیا
__________
“یار مومنہ شام کو تیار رہنا ہم سب باہر کھانے پر چلیں گے۔” مومنہ جو چائے بنانے کیلئے اٹھ رہی تھی میسج آنے پر وہ چیک کرنے لگی۔وثقیٰ کا. میسیج تھا۔وہ مسکرا کر ٹائپ کرنے لگی۔۔
“اوکے میرے گھر آجانا یہیں سے چلیں گے۔ریپلائی کرنے کے بعد وہ چائے بنانے چل دی۔۔
وہ سب ریسٹورنٹ میں موجود تھیں۔ کھانا آرڈر کیا جا چکا تھا۔
“تم سب بیٹھو، میں اپنا اسٹالر ٹھیک کرکے اور تھوڑا ٹچ اپ کرکے ابھی آتی ہوں۔” وثقٰی کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ “اوکے”۔سب نے سر ہلادیا۔
وثقٰی اپنے سٹالر کو سیٹ کرتے آگے بڑھ رہی تھی جب کسی سے اسکا زوردار تصادم ہوا تھا۔
“ہائے اللہ میرا سر۔۔ یہ دیوار ابھی تو یہاں نہیں تھی اب کہاں سے نمودار ہوئی ہے؟ ” وہ اپنے دکھتے سر کو سہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
“محترمہ آنکھیں کھول کر چلا کریں آپکو یہ چھ فٹ پانچ انچ کا مرد دیوار لگ رہا ہے؟”ارحم اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
“بھائی میری آنکھیں تو چلو بند تھیں۔۔ آپ کی آنکھوں کے ساتھ کونسا مسئلہ تھا جو مجھے آتے ہوئے دیکھ نہیں پائی۔۔ اچھی طرح جانتی ہوں میں تم جیسوں کو لڑکی دیکھی نہیں اور فری ہونے کے بہانے ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں۔”وثقیٰ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔
“ایکسکیوز می میں آپکو بھائی ٹائپ نظر آرہا ہوں مجھے آج تک کسی لڑکی نے بھائی نہیں کہا۔ “وہ اس لڑکی کے خود کو بھائی کہنے پر صدمے سے بولا۔
حاکم بیچارہ جو اس کے ساتھ موجود تھا اس سچویشن سے لطف اندوز ہورہا تھا۔
“اوہ سو، سو، سو، سو سوری انکل مجھے آپ کو بھائی نہیں کہنا چاہیے تھا اور اس طرح سے بدتمیزی سے تو بالکل بھی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔ آپ بڑے ہیں بزرگ ہیں آپ کا احترام کرنا فرض ہے مجھ پر۔۔ اس عمر میں تو اب آنکھیں وانکھیں خراب ہوتی ہی رہتی ہیں۔۔ آپ کو صحیح سے نظر بھی نہیں آتا ہو گا۔۔ میں سائیڈ سے ہی گزر جاتی ہوں۔۔” وہ آنکھیں پٹپٹا کر انتہائی معصومیت سے کہہ کر ارحم کو صدمے کی گہرائیوں میں چھوڑے وہاں سے جا چکی تھی۔
اور حاکم اب باقاعدہ زمین پر بیٹھے ہنس رہا تھا۔ آنکھوں کے کنارے بھیگ چکے تھے۔
“چلیں جناب پورے سال کی بے عزتی آپ نے آج ہی کروالی ہے مبارک ہو۔” حاکم اٹھ کر اسے گلے لگاتے بولا ۔
جیسے اس نے کوئی میڈل جیتا ہو۔ ارحم نے اسے گھورا۔
“دوست کی بےعزتی پر دانت نکال رہا ہے؟ ڈیش شخص! شرم کر!” اسکا موڈ خراب ہوچکا تھا۔
“یہ لڑکی آئندہ مجھے نظر آئی تو میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔ سمجھتی کیا ہے خود کو۔۔ مجھے تو لگتا ہے دشمن ملک کی کوئی سازش ہے میرے خلاف۔۔” ارحم نے اطراف میں نظریں گھمائیں لوگ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔خواہ مخواہ شرمندگی ہونے لگی۔
“بس کر بس کر ایک لڑکی نے آج وائٹ ٹائیگر کی اتنی بے عزتی کر ڈالی ہے۔۔ میں سب کو جا کر بتاؤں گا۔” حاکم کے انداز میں شرارت واضح تھی وہ ارحم کے ہاتھ سے کافی چھین کر بھاگا تھا۔”
“حاکم میری کافی ادھر دو نہیں تو میں بتا رہا ہوں تم مجھ سے بہت برا پٹو گے۔” ارحم اسکے پیچھے بھاگتے ہوئے بولا۔ ” لے سکتے ہو تو لے ل۔۔۔ آؤچ” وہ کسی سے ٹکرایا جسکی وجہ سے ساری گرم کافی اسکی شرٹ پر گری تھی۔
“اوہ سوری کیا آپ ٹھیک ہیں؟” مومنہ کی نقاب سے جھانکتی بھوری آنکھیں متفکر لگ رہی تھیں۔ حاکم سارے کا سارا تھم گیا۔ارحم فکرمند سا اس کی طرف بڑھا۔” حاکم کافی گرم تھی۔تم جل گئے۔” وہ شدید فکرمند ہوا تھا۔
“جی میں ٹھیک ہوں۔ مگر کیا آپ ٹھیک ہیں؟ آپ کو تو نہیں لگی؟معذرت میں جان بوجھ کر آپ سے نہیں ٹکرایا” حاکم اپنے جسم پر ہوتی جلن کو نظر انداز کرتے اس سے کہنے لگا۔وہ شدید پشیمان ہوا۔ایسے بھاگنے کی ضرورت نہیں تھی۔
کافی گرم تھی۔وہ جل چکا تھا۔مومنہ نے نفی میں گردن ہلائی۔
” میں ٹھیک ہوں۔مجھ پر محض چند چھینٹے ہی آئے ہیں۔ آپ ٹھیک نہیں ہیں۔ساری کافی آپ پر گر گئی۔بھائی پلیز آپ انہیں لے جائیں اور انکے زخم پر مرہم لگائیں انہیں جلن ہو رہی ہوگی۔” مومنہ نے متفکر لہجے میں حاکم کو جواب دیتے ارحم سے کہا جو یہ سوچ کر بے ہوش ہونے کے در پہ تھا کہ ایک دن میں دو لڑکیوں نے اسے بھائی کہہ دیا ہے
اسنے بمشکل اس صدمے سے خود کو سنبھالا اور سر ہلاتا حاکم کو لے کر چل دیا۔
لیکن اس بات سے بے خبر کہ حاکم کا دل تو وہیں ریستوران میں ہی اس بھوری آنکھوں والی لڑکی کے پاس رہ گیا تھا۔
حاکم نے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔لوگوں کے ہجوم میں مومنہ اسے پھر نظر نا آسکی۔
“کیا ہوا؟” ارحم نے پوچھا تو حاکم نے گردن اسکی طرف گھمائی۔”ہوں؟ کچھ نہیں چل چلیں۔” وہ کہہ کر آگے بڑھ گیا۔تو ارحم سر ہلا کر اسکے پیچھے چل دیا۔
_____________
“کیا ضرورت تھی ایسی حرکتیں کرنے کی دیکھا کتنا سارا جلا لیا خود کو۔” وہ چاروں مل کر حاکم کو جھاڑنے میں مصروف تھے۔ “یار تم سب مجھے کیوں سنا رہے ہو میری کوئی غلطی نہیں تھی یہ ارحم ہی میرے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔” وہ معصومیت سے کہہ رہا تھا۔
حاکم نے سارا قصور اسکے سر ڈال دیا تھا۔ارحم نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔” میری وجہ سے؟” وہ صدمے سے بولا۔
“ارحم تمہارے بھی سارے کام ہی الٹے ہوتے ہیں۔۔۔ شکر ہے کافی زیادہ گرم نہیں تھی۔۔” بازل ارحم کو ڈانٹنے لگا۔
ارحم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“یار اس بات کو چھوڑو تم سب میری بات سنو پتا ہے آج کیا ہوا تھا؟ آج ایک لڑکی نے ہمارے وائٹ ٹائیگر کی اچھی خاصی بے عزتی کی ہے۔” حاکم سب کو آج والا واقعہ سنانے لگا۔
______________
علشبہ اس وقت شاہزیب کے گھر پر موجود تھی۔ آج شاہزیب کی کسی کزن نے لندن سے آنا تھا۔ تو وہ اور علشبہ دونوں اسے ایئرپورٹ سے پک کرنے جا رہے تھے۔
وہ دونوں ایئرپورٹ پہنچ چکے تھے۔
آدھے گھنٹے کے بعد زینب آگئی تھی۔ سنہرے بال اور سبز آنکھوں والی زینب آتے ہی شاہزیب کے گلے لگی تھی۔
علشبہ کو اس کی یہ حرکت زہر لگی تھی اس نے شاہزیب کو گھورا تھا۔ جو خود بھی زینب کے اس انداز پر حیران تھا۔ اس نے جلدی سے زینب کو خود سے الگ کیا۔اور اسکا سامان کار میں رکھنے لگا۔
سارے راستے وہ دونوں قہقہے لگانے میں اور علشبہ ان دونوں کو گھورنے میں مصروف تھی۔
___________
“سویرا بیٹا! کل تم کالج سے چھٹی کر لینا۔ کل کچھ مہمان آ رہے ہیں۔ تمہارا ہونا بہت ضروری ہے۔” سویرا کی امی اسکے سر پر تیل لگاتے ہوئے بولیں۔ “خیریت امی کون آ رہا ہے؟” سویرا پر تجسس سی پوچھ رہی تھی۔
“تمہارے رشتے والے آ رہے ہیں بیٹا کل۔ اچھے سے تیار ہو جانا۔ اور ذرا گھر کے کاموں میں میری مدد کیا کرو کچھ سیکھ لو تاکہ آگے جا کے کام آئے۔” وہ شفیق لہجے میں کہہ رہی تھیں۔
“امی میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔ ابھی پڑھنا ہے میں نے۔” سویرا کے لہجے میں پریشانی واضح تھی۔ابھی تو اسکی پڑھائی باقی تھی وہ کیسے اتنی جلدی شادی کرلیتی۔
“بیٹا پڑھتی رہو۔۔ہم منع تھوڑی نہ کر رہے ہیں تمہیں۔۔ اور نہ ہی ابھی تمہاری شادی ہو رہی ہے ابھی تو بس رشتہ دیکھنے ہی لوگ آئیں گے۔” انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا تو سویرا نے کنگھی انکے ہاتھ میں تھمائی۔ “لیکن امی پھر بھی۔۔” وہ احتجاجاً بولی۔” بیٹیوں کے گھروں میں رشتے آتے رہتے ہیں چندا۔۔بیٹی والے گھر کے آنگن کی شان ہوتے ہیں یہ رشتے۔اس میں پریشان ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔ہم کونسا انکو ابھی ہاں کر دیں گے۔یہ معاملات بہت نازک ہوتے ہیں۔سوچ سمجھ کر قدم رکھنا ہوتا ہے۔” انہوں نے اسکے بالوں کو چوٹی میں گوندھتے کہا۔سویرا نے اثبات میں سر ہلادیا۔
” جی امی جیسا آپ کہیں” سویرا کچھ سوچ کر ادب سے بولی۔۔
لیکن وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ اسکے یہ لفظ اسکی زندگی میں کتنی بڑی قیامت کا سبب بنیں گے۔
_________
“شکر ہے یار آج سویرا نہیں آئی کم از کم آج یہ لیکچر نامی بلا ہمارے سر سے ٹلی رہے گی۔” اُمِ ہانی بینچ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔ وہ سب ابھی کینٹین سے آئے تھے۔” پرنسپل میم نے بتایا ہے کہ نیکسٹ ویک سے ہمارے مڈز سٹارٹ ہیں۔ ڈیٹ شیٹ آج اناؤنس کرینگی میمز۔” مومنہ نے پانی کی بوتل علشبہ کی طرف بڑھاتے کہا۔
” یار تم میم سے بولو ناں۔۔کہ مڈز تھوڑے آگے کر دیں۔ میں نے ابھی تھوڑی اور پریپریشن کرنی ہے۔” علشبہ پریشانی سے بولی۔
“نہیں۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے میم سے کہنے کی۔ بس ہم مڈز دے دیتے ہیں تاکہ ہمارے فائنل کی تیاری سکون سے ہو۔” وثقیٰ نے سموسے کا ٹکڑا توڑ کر منہ میں رکھتے کہا۔۔
“لڑکیوں تمہیں ایک بات بتاؤں؟ آج دامیہ بھی آگئی ہے۔” مومنہ نے اطلاع دی تو وہ سب پرجوش سے قریب ہو بیٹھے۔ “ہاں یار میں نے بھی دیکھا تھا اسے۔۔” علشبہ پرجوش سی بولی۔
” اس سے پوچھو تو سہی کہ آخر اس نے ذولفی کے ساتھ بیوفائی کیوں کی؟؟ بیچارہ ذولفی! ایسا نہ ہو کہ دامیہ کی بیوفائی اسے پاگل کر دے۔۔ اور کچھ دنوں بعد وہ اسکے عشق میں ملتان شہر کی گلیوں میں گنجا ہو کر گھومے۔۔” وثقیٰ گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے۔
“گنجا مطلب؟؟” اُمِ ہانی نے میکرونی چباتے ہوئے پوچھا۔
“میرا مطلب یہ ہے کہ لوگ جب کسی کے عشق میں دیوانے ہوتے ہیں تو انکے بال لمبے ہو جاتے ہیں اسکے بال پہلے سے ہی لمبے ہیں تو اسنے گنجا ہی ہونا ہے ناں۔۔” وثقیٰ نے اپنی بات واضح کی جس پر سب کے قہقہے بلند ہوئے۔
“یار وثقیٰ تم نے مجھ سے کہا تھا نا کہ جب بھی کمپیوٹر کورسز کیلئے ایڈمیشن اوپن ہوں تو مجھے بتانا۔۔ تو تم آجانا کل ایڈمیشن لینے۔” اُمِ ہانی بولی تو وثقیٰ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے میں کل آؤں گی۔” وہ بولی تو ام ہانی نے سر ہلادیا۔۔
____________
جاری ہے۔۔
ان شاءاللہ تعالیٰ اگلی قسط پندرہ دنوں تک جاری کردی جائے گی۔
