قیدِ لمحہ
از قلم : ایمن راجپوت
آج کل ہم سب لوگ ایک چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، اور وہ ہے کیمرہ۔
اسنیپ اسٹریکس، انسٹاگرام اسٹوریز، ایستھیٹک و لاگز، ٹریول وڈیوز اور نہ جانے کیا کچھ۔ ہم اپنی زندگی کے تقریباً ہر لمحے کو محفوظ کرنے اور دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں مصروف ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم اپنی آنکھوں کے بجائے کیمرے کی آنکھ کا استعمال کر رہے ہیں؟
ہم لمحوں کو جینے سے زیادہ انہیں ریکارڈ کرنے میں مصروف ہیں۔
پتا ہے کیسے؟
آئیے، میں بتاتی ہوں۔
ذرا تصور کیجیے کہ آپ کسی شمالی علاقے کی سیر پر گئے ہیں۔ سب سے پہلے آپ اپنی اسٹوری لگائیں گے: Going on a trip! پھر سفر کے مناظر کی تصویریں، کھانے کی تصاویر، راستے کی ویڈیوز، ٹریول و لاگ، بارش کے مناظر۔۔۔ جی ہاں، ہم میں سے اکثر یہی کریں گے، کیونکہ ہمیں یہ سب دوسروں کو بھی تو دکھانا ہے۔
لیکن ایک منٹ!
آپ وہاں دیکھنے کیا گئے تھے؟
پہاڑ؟
کیا آپ نے انہیں واقعی دیکھا؟
کیا آپ نے ان کی خاموش خوبصورتی کو محسوس کیا؟
کیا آپ نے غور کیا کہ جب پہاڑوں کی چوٹیوں کو آسمان سے اترتے بادل چھوتے ہیں تو منظر کتنا حسین ہو جاتا ہے؟
بارش؟
کیا آپ نے بارش سے پہلے مٹی سے اٹھنے والی خوشبو محسوس کی؟
کیا آپ نے بارش کے بعد بھیگی ہوئی زمین کی مہک کو اپنے اندر اتارا؟
کیا آپ بارش کے قطروں میں کچھ دیر بھیگے، یا صرف اپنے کیمرے کی حفاظت کرتے رہے کہ کہیں وہ خراب نہ ہو جائے؟
کیا آپ نے کھانے کے بعد چائے پیتے ہوئے کھڑکی سے باہر کے منظر کو کچھ دیر خاموشی سے دیکھا؟
کیا آپ نے چائے کی گرمی، ٹھنڈی ہوا اور اس لمحے کے سکون کو محسوس کیا؟
شاید نہیں۔
ہم یہ سب بھول گئے۔
ہم نے ہر منظر کو محفوظ کرنے کی کوشش میں اسے جینا ہی بھلا دیا۔
حالانکہ ہر خوبصورت لمحے کو کیمرے میں محفوظ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ لمحے تصویروں کے لیے نہیں، یادوں کے لیے ہوتے ہیں۔
چشمِ بینا بھی مانگ کر، کر خدا سے طلب
جو دل کا نور ہے وہ آنکھ کا نور نہیں
کیونکہ آنکھیں ہمیں منظر دکھا سکتی ہیں، مگر اسے محسوس کرنے کے لیے دل کا بیدار ہونا ضروری ہے۔ ایک ہی بارش سب پر برستی ہے، مگر ہر شخص اسے ایک جیسا محسوس نہیں کرتا۔ ایک ہی غروبِ آفتاب سب کے سامنے ہوتا ہے، مگر ہر دل اس میں ایک جیسی خوبصورتی نہیں دیکھ پاتا۔
شاید اسی لیے کچھ یادیں تصویروں کے بغیر بھی ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔
ہمیں برسوں بعد ہر تصویر کا رنگ، ہر ویڈیو کا زاویہ یا ہر اسٹوری یاد نہیں رہتی، مگر ہمیں وہ ہنسی یاد رہتی ہے جو کسی دوست کے ساتھ بے وجہ آئی تھی۔ وہ شام یاد رہتی ہے جب سب گھر والے ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ وہ بارش یاد رہتی ہے جسے ہم نے بغیر کسی تصویر کے محسوس کیا تھا۔
کبھی فون ایک طرف رکھ کر صرف لمحے میں موجود رہیے۔ کیمرہ بند کیجیے اور آنکھیں کھولیے۔ ریکارڈنگ روک کر زندگی کو محسوس کیجیے۔
کیونکہ کچھ لمحے ہماری گیلری میں محفوظ ہونے کے لیے نہیں آتے۔
کچھ لمحے صرف جینے کے لیے آتے ہیں۔
