ناول کا نام۔میرا مقدر میرا اثاثہ
قلم از ۔ملائیکہ مقبول احمد
انتساب ۔یہ کہانی میری اُن لوگوں کے لئے ہے جو اپنے خوابوں کی تعبیر نہیں کر پاتے یا ان کے خواب تعبیر تک پہنچ نہیں پاتے
سو وہ اپنے خوابوں کو پورا کریں کبھی بھی ادھورا مت چھوڑیں بالکل میری طرح۔شکریہ۔
عمل کیوں کِیا تم نے ایسا؟کنیز تو ابھی بچی ہے مگر تم۔۔۔۔تم تو سمجھدار تھی ناں۔۔۔۔
دوپہر شام میں ڈھل رہی تھی۔ہر طرف شام ہو جانے کی وجہ سے خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔گھر بھی مکمل خاموشی میں ڈوب رہا تھا۔
عمل کی بڑھتی ہوئی بےچینی اور رخسار کی پھولی ہوئی سانسوں کی آواز واضح سُنی جا سکتی تھی ۔
چچی میری بات تو سُنیں ۔۔۔۔عمل نے ایک نظر پاس کھڑی گھبرائی ہوئی کنیز پر ڈالی اور دوسری رخسار پر جو اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
آنے دو ولیم کو بتاتی ہوں میں اُسے ۔۔۔۔رخسار نے چلا کر کہا۔
چچی میں ہی کیوں ؟کنیز بھی تو ہے ناں۔۔۔وہ رخسار کو یاد دِلانا چاہ رہی تھی کہ کنیز بھی اِس سب میں شامل ہے۔
دوپہر کا و قت آسمان پر نیلے رنگ کے علاوہ کچھ کالی ٹکڑیاں بھی موجود تھیں ۔لیکن پھر بھی سورج بغیر اس کی پرواہ کیے اپنی پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا۔ہلکی ہوا چل رہی تھی اور موسم میں تھوڑی بہت سردی بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔
تائی” زے” کہاں ہے؟ کھلے بال لائٹ پنک کلر کاسوٹ پہنے وہ لڑکی اب صحن میں کھڑی تھی جس کے سر پر دوپٹہ اور پاؤں میں سادہ چپل موجود تھی۔
آتے ہی شروع ہو گئی بندہ سلام دعا تو لے لے۔
بعد میں تو تم نے رہنا ہی اس کے ساتھ ہے۔انیسہ جو کہ زے کی امی ہیں انہوں نے ہالہ کو ڈانٹا۔
اچھا تائی جان معاف کر دیں غلطی ہو گئی اور غلطی بھی تو بچوں سے ہی ہوتی ہے نا تو معاف کر دینا چاہیے ہالہ نے اب انیسہ کے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھوں کو جماکر کہا۔
اچھا بابا۔۔۔۔جاؤ زے اوپر چھت پر کپڑے سُکھانے کے لیے گئی ہے۔
تائی جان یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟زےاور کام ۔۔۔۔۔۔۔ہالہ تقریباً اُچھل کر انیسہ کے برابر ائی۔
کیوں مجھے کام کرنا منع ہے کیا؟میں کام نہیں کر سکتی۔سیڑھیوں سے نیچے اترتی زے نے اسے یوں کہتے سنا تو کہا۔
ہلکے جامنی رنگ کی شلوار قمیض،پاؤں میں سادہ چپل ،بھوری انکھیں، گلابی ہونٹ اور سر پر دوپٹہ ہے زے نے اسے اپنی گول گول آنکھوں سے گھورا۔
دھیان سے میری بہن گر مت جانا۔زے کا بڑا بھائی جو کہ ابھی ابھی باہر سے ایا تھا اسے سیڑھیوں سے نیچے اترتے دیکھ کہا۔
ابلاج بھائی اپ کو پتہ ہے کہ اپ کی بہن چھت پر کرنے کیاگئی تھی؟ہالہ نے اپنے سر پر دوپٹہ لیتے ہوئےابرو چکا کر ابلاج سے پوچھا۔
کیا کرنے گئی تھی؟ابلاج نے جیب سے موبائل نکالا ایک قیمتی اور خوبصورت موبائل ابلاج کے ہاتھوں میں تھا۔
آ۔۔۔۔آ۔۔کچھ نہیں انیسہ نے ہالہ کو ٹوکا۔
۔بتانے تو دیں اُسے۔۔۔ زے صحن میں سیڑھیوں کے پاس کھڑی ابلاج انیسہ اور ہالہ کی باتوں کو سن رہی تھی۔
۔اچھا چھوڑو جاؤ بھائی کو پانی پلاؤ کام سے ایا ہے تھکا ہوگا بیچارہ۔۔۔۔
اممم۔۔۔۔۔۔بیچارہ۔انیسہ کے کہنے پر زے بڑبڑائی۔
اچھا تائی میں بھی چلتی ہوں ہالہ نے واپس دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
۔ارے نہیں نہیں ابھی تو ائی ہو تھوڑی دیر رکو تو سہی ہالہ کی تائی نے اسے جاتے دیکھ کہا ۔
ہاں ہاں رکو تو ذرا زے جو کہ پانی گلاس ابلاج کی طرف بڑھا رہی تھی اس نے انیسہ کو اسے روکتے دیکھا۔
شکریہ ابلاج نے گلاس پکڑ کر ز ےسے کہا۔ٹھیک ہے اگر اپ دونوں اتنا ہی اصرار کر رہی ہیں تو میں رک جاتی ہوں ہالہ نے واپس مڑ کر کہا۔
چلو میں تمہیں اپنے کپڑے دکھاتی ہوں زے نے ہالہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے کمرے کی طرف لے گئی۔
ہاں ہاں ضرور چلو ہالہ نے زے کے برابر چلتے ہوئے کہا۔
بارہ مرلے کا گھر جس میں چھ مکین رہتے تھے۔بڑے سا کالے رنگ کا دروازہ جو بطور گیٹ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
ڈبل سٹوری گھر جن میں پانچ کمرے اٹیچ واش روم اور یہ کچن نچلی منزل پر اور تین کمرے اور ایک کچن اپلی منزل پر موجود تھا۔
گھر میں زیادہ تر زے انیسہ اور اس کی ایک بہن عکاشہ ہی رہتی تھیں۔
۔اس کے بھائی اور والد گھر سے باہر کام کرتے تھے۔چھ کمرے تو رہائش میں تھے اور دو کمروں میں سے ایک بطور سٹور روم اور دوسرا بطور گیسٹ روم استعمال کیا جاتا تھا۔
۔اوپری منزل پر موجود تین کمروں میں سے ایک کمرہ زے کا تھا۔زے کے کمرے میں ایک کھڑکی بھی تھی جو کہ باہر بنائے گئے لان کی طرف کھلتی تھی جو کہ زے کی پسندیدہ جگہ تھی۔
باقی کے دو کمروں میں سے ایک کمرہ اس کے چھوٹے بھائی زائشان کا تھا اور تیسرا بطور ڈرائنگ روم استعمال ہوتا تھا جہاں جمعہ کے دن ساری فیملی اکھٹی ہو کر بیٹھتی تھی اور گپ شپ لگاتی تھی۔
ڈرائنگ روم کی ڈیکوریشن اور صاف صفائی کا ذمہ زے کا تھا جسے وہ بخوبی نبھاتی تھی۔
۔اوپری منزل پر جانے والی سیڑھیاں گول تھیں اور گھر کا صحن کافی کشادہ تھا جہاں کافی پودے بھی لگائے گئے تھے۔
زے کو جانوروں اور پودوں سے خاصا لگاؤ ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ انسانوں سے زیادہ وفادار جانور ہوتے ہیں اور ہماری موجودگی کے احساس انسانوں سے زیادہ پودے کرتے ہیں۔
زے کا کمرہ نہ زیادہ بڑا تھا اور نہ ہی زیادہ چھوٹا تھا باقیوں کے کمرے کی نسبت اس کے کمرے میں ایک
عدد پلنگ ایک پنکھا دو عدد کرسیاں ایک الماری اور باقی سجاوٹ کی اشیاء موجود تھی جنہیں زےنے اپنی مرضی سے رکھوایا تھا۔
کمرے کا رنگ اف وائٹ اور باقی کمرے میں سجاوٹ کے لیے کچھ چیزیں لگائی ہوئی تھی اس نے اپنے کمرے میں ایک بھی تصویر نہیں رکھی تھی۔کیونکہ اسے تصویر کھچانا پسند ہی نہیں تھا۔
یہ دیکھو یہ کل میں اپنے لیے سوٹ لائی ہوں ۔زے نے اپنا سوٹ ہالہ کو دکھا کر کہا۔
کیسا ہے؟زے نے پرجوش لہجے میں ہالہ سے پوچھا۔اممم۔۔۔۔اچھا ہے لیکن کبھی لائٹ کلر بھی پہن لیا کرو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ڈارک ۔ہالہ نے ہمیشہ کی طرح اسے ٹوکا ۔
دیکھو یار جو مجھے پسند ہے میں تو وہی لوں گی نا زے نے سوٹ اس کے ہاتھوں سے پکڑ کر کہا۔
یار تم میں نا لڑکیوں والے کوئی شوق ہی نہیں ہے ۔
نہ بال کھولتی ہو نہ کہیں جانے کا وقت اور نہ ہی کہیں اتے جاتے وقت سر سے دوپٹہ اتارتی ہو ۔
۔بندے کو تھوڑا سا تو کھلے دل کا ہونا چاہیے نا ہالہ اب اس کے بندھے بالوں کو دیکھ کر اس سے کہہ رہی تھی۔
ہالہ تم مجھے یہ سب فضول میں کہہ رہی ہو اور تمہیں پتہ ہے ناں کہ میرے بھائی ہمیں کبھی بھی ایسا کچھ کرنے نہیں دیں گے تو اس ٹاپک پر بات کرنا ہی فضول ہے ۔
اب زے پلنگ سے نیچے اتر کر الماری میں واپس سوٹ رکھنے کے لیے جا رہی تھی۔
ہاں ہاں پتہ ہے مجھے تمہارے سو کارڈ بھائیوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالہ نےاب اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر کر کے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو اوپر نیچے کر کے زے سے کہا۔
اچھا چھوڑو ویسے تم ولیم بھائی کی ڈھولکی پر کیا پہنوں گی۔
ہالہ نے تکیے سے ٹیک لگا کر الماری میں موجود کپڑوں کو ٹھیک کرتی زے سے پوچھا۔
کیا مطلب؟زے چونکی۔
مطلب یہ ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے تو تم گھر والے کپڑے ہی پہن کر جا رہی ہو اور کل تو ویسے بھی مہندی ہے تو اج تو کوئی نیا جوڑا پہن لینا۔
اخر ولیم بھائی بھی ہمارے چچا زاد ہیں ۔
ہالہ نے زے کو اپنے پاس بیٹھتے دیکھا۔
ہممم۔۔۔۔کہہ تو تم ٹھیک ہی رہی ہو زےنے گہری اور لمبی سانس بھر کر ہالہ سے کہا۔
تو اب۔۔۔۔ہالہ نے اس کے ہاتھ پر اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر اچھا۔
تو اب کیا شام کے پانچ بج چکے ہیں اور سات بجے تک بابا ائیں گے اور پھر اٹھ بجے تک ہم سب چچا کے گھر ائیں گے ۔
زے نے اپنے دونوں کندھے اچکا کر اپنے موبائل کو ڈھونڈتی نظروں سے اسے بتایا۔
کیا مطلب تو تم باقی گھر والوں سے پہلے نہیں اؤ گی ہالہ نے حیران ہو کر پوچھا۔
دیکھو ہالہ اگر تو تم میرے گھر والوں کو نہیں جانتی تو پھر بھی بتاؤ تمہیں پتہ ہے کہ میرے بھائی مجھے یعنی کہ ہم دونوں بہنوں کو کسی بھی فنکشن پر وقت سے پہلے تو بالکل بھی نہیں جانے دیتے۔
زے۔۔۔۔۔انیسہ نے زے کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
جی امی۔۔۔۔زے نے انیسہ کو کمرے میں اتے دیکھ فورا جواب دیا۔
بیٹا تمہیں گھر پر تمہاری امی بلا رہی ہیں انیسہ نے ہالہ سے کہا۔
کیا مجھے خیریت۔۔۔ہالہ نے چونک کر پوچھا۔
ہاں بیٹا سب خیر ہے تم چلی جاؤ گی یا ابلاج سے کہوں کہ وہ چھوڑ ائے تمہیں ۔
انیسہ نے ہالہ کو سر پر دوپٹہ لیتے دیکھ پوچھا۔
ارے نہیں نہیں تائی امی سامنے تو گھر ہے میں چلی جاؤں گی ہالہ نے زے کے کمرے سے جاتے ہوئے کہا۔
ہممم۔۔۔۔زے بیٹا تم بھی جلدی سے کھانا کھا لو اور پھر تیار ہو کر نعیم کے گھر چلی جانا ۔
باقی آئندہ شمارے میں ۔
