HURF E HAYA BY LAIBA MAQBOOL AHMED EPISODE 3.

السلام علیکم اور ان کے ساتھ ہی زویا ائی تھی۔جو کہ امامہ کے ساتھ والی کرسی کھینچ کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
تو تم لوگ کب گھر کے لیے روانہ ہو رہے ہو۔طارق نے فریحہ اور مبین سے پوچھا ۔جب تمام لوگ کھانے کے ٹیبل پر موجود تھے۔
ہم۔جی بھائی تھوڑی دیر بعد گھر کے لیے روانہ ہو جائیںگے ۔فریحہ نے کھانے کا چمچ ٹیبل پر رکھ کر کہا ۔
آ۔۔تم لوگ ایسا کرو کہ ایک ہفتہ کے لئے مزید یہیں پر رک جاؤ۔ ہم۔
– امامہ جو چاول سے بھرا چمچ منہ کے پاس لے کر جا رہی تھی ۔ وہیں پر رک گئی ۔
کیوں بھائی صاحب کیا ہوا ۔
وہ امامہ کے رشتے کے لئے چند لوگ آرہےہیں پرسوں۔
کیا ؟کیا؟یہ سنتے ہی امامہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی۔
پر پر بابا میں تو زوئی سے چھوٹی ہوں ناں اور میری تو پڑھائی بھی مکمل نہیں ہوئی ۔میرا سیکنڈ لاسٹ سمسٹر چل رہا ہے اور آپ ۔ آپ کیسے – زوئی آپ زوئی کی شادی کیوں نہیں کر دیتے ۔ امامہ نے بغیر کچھ سوچے سمجھے سب کچھ فرقان سے کہہ دیا۔
بیٹا بیٹھو۔ فرقان نے انتہائی تحمل سے امامہ کی طرف دیکھا۔فرقان کی بات سن کر امامہ خاموشی سے اپنی جگہ پر بیٹھ گئی۔
کل زویا کی برتھ ڈے پر میر ایک قریبی دوست آیا زویا کے رشتے کے لیے آیا تھا لیکن اُسے تم پسند آئی ہو۔ اور اُس نے اپنے بیٹے کے لئے مجھ سے تمھارا ہاتھ مانگا ۔اور میں نے اس معاملے کے بارے میں طارق اور اقصٰی سے بات کی۔ اور اُنھوں نے فوراً اس رشتے کے لئے ہامی بھر دی ۔ کیونکہ وہ لوگ بہت اچھے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور اُسکےبیٹے کا نام شایان ہے۔ وہ بہت اچھا لڑکا ہے ۔ میں اُس سے ایک دوبار ملا ہوں۔
میں بھی۔ مجھے بھی بہت اچھا لگتا ہے۔
میں نے تو سوچا تھاکہ میں زویا کے لئے اُسکا ہاتھ مانگو۔ پر اس سے پہلے ہی اُنھوں نے شایان کے لیے امامہ کا ہاتھ مانگ لیا –
پرتا یا ۔۔ بس امامہ – اب جلدی کھانا کھاؤ اور جلدی سے تیار ہو جاؤ تمھیں یونی ورسٹی سے دیر ہو رہی ہے ۔
ہمم۔۔ زویا جلدی کرو اور اسے اس کے کمرے میں لے کر جاؤ۔
رہنے دو مجھے کسی کی ضروت نہیں ہے۔ امامہ یہ کہتے ہی کھانے کے ٹیبل سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔
میں اسے منا کر لاتی ہوں ۔ زویا یہ کہتے ہی امامہ کے پیچھے چلی گئی۔
بیگم ۔ وہ ابھی بچی ہے آپکو اُس سے پیار سے بات کرنی چاہیے ۔
ہمم ۔۔پتہ نہیں کب بڑی ہونگی یہ ۔زبیدہ نے باؤل سے چمچہ اٹھایا اور امامہ کو آنکھیں بڑی کرکے دیکھا۔
امامہ– امامہ — رکو۔
چھوڑو مجھے ۔
کہاں جا رہی ہو ۔ مجھے کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ تم سب بے مطلبی ہو۔ تم جانتی تھی کہ یہ رشتہ کس کے لئےآرہا ہے ۔ پھر بھی تم نے مجھے نہیں بتایا ۔ امامہ میں سچ کہہ رہی ہوں مجھے اس بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ تھا ۔
سچ میں اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں تمھیں ضرور بتاتی۔ امامہ رکو – زویا نے امامہ کو اپنے ساتھ صوفے پربٹھایا۔ اور اُس کے کُھلے بال جو اُس کی آنکھوں کے سامنے آرہے تھے اُنہیں ہٹاتے ہوئے کہا ۔ امامہ دیکھو اگر تمھارا رشتہ ہو بھی جاتا ہے تو چچا تھوڑی ناں تمھاری شادی ابھی کر دیں گے ۔ اُنہیں بھی پتہ ہے کہ تمھیں پڑھنے کا کتنا شوق ہے۔ وہ تمھاری شادی ابھی نہیں کریں گے ۔ پلیز سمجھو۔ جلد بازی میں کوئی غلط فیصلہ مت لے لینا ۔ ہمم – ۔ٹھنڈےدماغ سے سوچو۔ امامہ نے اپنی بھوری رنگ کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور ہاں میں سر ہلایا۔ اور زویا کے ساتھ کمرے سے باہر جانے کے لئے تیار ہو گئی۔ جب تک وہ کمرے سے باہر آئیں تب تک سب لوگ کھانا کھاچکے تھے۔۔
ہمم ۔۔ میڈم جی کادماغ ٹھنڈا ہو گیا ہے تو کھانا لگا دوں ۔ زبیدہ نےان دونوں کو سیڑھیوں سےاترتا دیکھ کر پوچھا ۔ اقصی اپنی اس لاڈلی کو پیار سے سمجھاؤ ۔ ایسے رشتے بار بار نہیں ملتے۔
ہمم – – بھابی – اقصیٰ نے ہاں میں سر ہلایا اور کھانے کی ٹرے اُٹھا کر ان دونوں کی طرف بڑھی ۔ وہ دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھی ہوئی تھی۔ بیٹا یہ لو کھانا ۔ ہمم شکریہ امامہ میری پیاری بیٹی ۔ میری بات کو سمجھو۔ ایسے رشتے بار — بس امی ۔ پھر سے وہیں باتیں۔ آپ لوگوں کا بس چلے تو آپ لوگ میری شادی آج ہی کر دیں ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ماں باپ کو بیٹیوں کی شادی کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے –
ہمم — میں جا رہی ہوں ۔
امامہ کہاں جا رہی ہو۔
بھاڑ میں کسی اور کو بھی جانا ہے تو میرے ساتھ آجائے ۔
امامہ- زبیدہ نےامامہ کو اُونچی آواز میں بلایا ۔مگر وہ اُس کی آواز کا جواب دئیے بغیر ہی وہاں سے چلی گئی۔
ہیلو- ارم کہاں ہو۔ مجھے ابھی لینے آؤ ۔ امامہ نےاپنی دوست ارم کو فون کیا۔ اور گھر سے پیدل ہی نکل آئی۔ اور ارم نے بھی اُسے راستے سے ہی پک کر لیا تھا۔وہ اُسے اپنے ساتھ بیٹھا کر اُسے اُس کے پسندیدہ ریسٹورنیٹ دی ونڈر ریسٹورینٹ لے گئی۔ کیونکہ اُسے پتہ تھا کہ امامہ جب بھی غصے میں گھر سے نکلتی ہے تو وہ گھر سے کچھ بھی کھا پی کر نہیں نکلتی ۔ ارم اپنا آرڈر لکھوانے کے کے بعد امامہ کی طرف متوجہ ہوئی۔
کیا ہوا ؟ تم اتنی غصے میں کیوں ہو۔
وہ میرے گھر والے میرا رشتہ طے کر رہے ہیں۔
کیا ؟ ارم اتنی زور سے چلائی کے اس کے آس پاس موجود تمام لوگ ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔
سوری – ارم نے تمام لوگوں سے معذرت کی۔
کیا مطلب تم سے پہلے تو زوئی ۔ ہاں زوئی کا رشتہ طے ہونا تھا پر — پر اُسکی برتھ ڈے پر وہ لوگ مجھے پسند کر گئے۔
ہم — اور تمھارے گھر والے اس رشتے کے لئے مان گئے ۔
ہاں۔ انکا کہنا ہے کہ رشتہ بہت اچھا ہے اور ایسا رشتہ دوبارہ نہیں ملے گا وغیرہ۔
ہمم ۔۔تو یہ بات ہے۔ ہمم۔۔
ایکسکیوزمی۔۔۔میم۔یہ اپ کا ارڈر۔ہوں۔تھینک یو۔
ویٹر ان کا ارڈر ان کے ٹیبل پر رکھ کر جا چکا تھا۔
اچھا تو کب ا رہے ہیں وہ لوگ۔پرسوں۔کیا پرسوں۔وہ فرائز کھاتے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں ۔
۔ٹھیک ہے اب ہم پرسوں ہی ملیں گے۔
ہاں۔۔اب وہ دونوں اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں ۔او نو تین بج چکے ہیں سب لوگ گھر پر میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔
ہمم صحیح کہا میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتی ہوں۔
نہیں رہنے دو میں چلی جاؤں گی۔
نہیں میں چھوڑ دیتی ہوں۔ٹھیک ہے تم جاؤ جا کر گاڑی میں میرا انتظار کرو میں بل پے کر کے اتی ہوں۔
ہمم۔امامہ نے ہاں میں سر ہلایا اور ریسٹورنٹ سے باہر نکل گئی۔
ہاں یار امی ابو نے میرا رشتہ طے کر دیا ہے کہیں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔میں بھی یہی کہہ رہا ہوں۔پرسوں دیکھنے جانا ہے لڑکی کو۔ہممم۔۔او ماما گاڑی کی طرف جا رہی تھی کہ تبھی اسے کسی لڑکے کی اواز سنائی دی جو کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔
وہ اس کی باتوں کو اگنور کر کے اگے بڑھنے ہی والی تھی لیکن اس کے کانوں میں ایک ایسی اواز پڑی جسے وہ چاہ کر بھی اگنور نہیں کر سکی ۔اس لیے اسے مجبوراً پیچھے مڑ کر دیکھنا پڑا۔
شایان۔۔
لیکن۔ جب تک امامہ پلٹی وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا۔
امامہ کیا ہوا ؟ارم نے امامہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پوچھا۔ کچھ نہیں۔ تو پھر چلو۔ ہمم ۔۔۔یہ کہہ کروہ دونوں گاڑی کی بڑھی۔
کہاں ہے امامہ ۔ابھی تک واپس نہیں آئی ۔ عیان نے ساحل سے پوچھا۔ نہیں بھائی – آپی ابھی تک واپس نہیں آئیں۔
ہمم۔۔ باقی سب لوگ کہاں پر ہیں۔ وہ سب اوپر ہیں ۔ پتہ نہیں کیا میٹنگ چل رہی ہے پچھلے آدھے گھنٹے سے۔
السّلام علیکم ۔ اس سے پہلے کے اضلان کچھ اور کہتا ۔ امامہ سب کو ڈرائنگ روم میں بیٹھے دیکھ کر وہیں پر آگئی –
تم ۔۔۔تم کب آئی ۔
ابھی – کیوں-کیا ہوا؟
تمہاری وجہ سے سب لوگ پریشان ہیں۔ امامہ_
ہاں تو تم کر لو شادی – ہمم ۔
وہ کیوں کرے ۔ رشتہ تمھارے لئے آیا ہے تو شادی بھی تم ہی کرو زوئی ۔کیا مطلب میں ؟ اور آپ کیوں اتنی سائیڈ لے رہے
ہیں زوئی کی۔ امامہ تیزی سے غصے میں اضلان کی طرف بڑھی۔ جو یہ سنتے ہی چپ کر گیا۔ ہاں تو فکر کیسے نہ ہو آخر کار اسکی ہونے والی بیوی جو ہے۔
کیا ؟ وہاں پر موجود تمام لوگ چلائے۔
انشاء اللہ باقی آئندہ میں شمار رہے گا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *