SAKOOT BY UFFAQ HASHMI EPISODE 10.

سکوت قسط نمبر:۱۰

ازقلم اُفق ہاشمی۔۔۔

“Riverview Mental Health Hospital”

بڑی سی عمارت پر لگے بورڈ پر لکھے وہ الفاظ پڑھتے ہی ڈاکٹر طاہر کے چہرے پر کرب چھا گیا۔

وہ ہمت کرتے، من من بھر کے قدم ہسپتال کے اندر بڑھا گئے۔

وہ ہسپتال کی پچھلی جانب بنے لان میں آئے اور پلویشا کو ڈھونڈنے لگے۔ ابھی ابھی وہ پلویشا کے ڈاکٹر سے اسی کے متعلق بات کر کے آرہے تھے، اور اب اس کی تلاش میں ادھر اُدھر دیکھتے وہ آگے بڑھ رہے تھے کہ انہیں وہ نظر آ گئی۔

وہاں کافی ساری لڑکیاں موجود تھیں، سب ہی ذہنی بیماری سے جھونجھتی ہوئی۔ کوئی کہاں گھوم رہی تھی تو کوئی کہاں۔

سب سے ایک طرف، ایک خاموش گوشے میں نیچے بیٹھی، گھٹنوں پر سر رکھے، خود میں سمٹی سی لڑکی تھی۔ ویران آنکھیں خاموشی سے گھاس کے چھوٹے سے تنکوں کو تک رہی تھیں۔

وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کی طرف قدم بڑھانے لگے۔

اس کے عقب میں موجود درخت کا سایہ اس کے آدھے وجود پر دھوپ کی روشنی کو پڑنے سے روک رہا تھا، اور پتوں کی ہلکی سرسراہٹ سے اس کے ڈھیلی پونی میں مقید بال دھیرے دھیرے رقص کر رہے تھے۔

وہ اس کے بلکل سامنے جا ٹہرے اور اگلے ہی پل وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئے۔

ایک طویل خاموشی ان کے بیچ حائل تھی۔ پلویشا کے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ نہ ہی پلکوں نے کوئی کاروائی کی۔ وہ ہر شے سے بیگانہ معلوم ہوتی تھی۔

مزید کئی ساعتیں خاموشی نظر کرنے کے بعد، ڈاکٹر طاہر نے نرمی سے اپنا پرشفقت ہاتھ اس کے ڈھلکے سر پر رکھا، تو ساکت بیٹھی لڑکی کی پلکیں لرزیں۔

اپنے بالوں میں نرم سا لمس محسوس کرتے، پلویشا نے آہستہ سے سر اُٹھایا؛ نظریں سامنے بیٹھے نفس کے چہرے پر گئی۔

سیاہ آنکھیں، پرنور چہرہ، اور قلموں سے نظر آتے تھوڑے سے سفید بال۔ اس نے یہ چہرہ پہلے بھی کہیں دیکھا تھا۔

اس سے پہلے کہ وہ یاد کرنے کی کوشش کرتی، اچانک ہی وہ اس کے گرد حصار باندھ گئے۔ ہر شے تھم گئی: پتوں کی سرسراہٹ، ہلکی ہوا، اور اس کی سانس بھی۔

وہ مضبوطی سے اسے خود سے لگائے، اس کی پشت سہلاتے ہوئے کچھ بڑبڑا رہے تھے:

“سب ٹھیک ہے، تم بالکل ٹھیک ہو، مجھے یقین ہے۔”

وہ جو انتہائی حیرت زدہ تھی، ان کی بات پر ایک پل کو دل رک سا گیا۔

وہ اب بھی وہی بول رہے تھے، اور وہ ساکت بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی۔ وہ انہیں پہچان گئی تھی۔

ڈاکٹر طاہر اس سے دور ہوئے، اس کا معصوم چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرا اور عقیدت سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔

“آ۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ نے کیا کہا؟” اس کی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوتی تھی۔

“میری جان، سب ٹھیک ہے، مجھے یقین ہے تم بالکل ٹھیک ہو۔” انہوں نے اپنی بات دہرائی۔

اس کی آنکھوں میں پھیلی ویرانی کا خول چٹخ کر ٹوٹا اور ہلکا گلابی پانی سا چمکا۔

عقب میں موجود درخت نے زخمی مسکراہٹ کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھے ان دونوں نفوس کو دیکھا تھا۔

“دو۔۔۔ دوبارہ کہو؟” منت بھرا لہجہ۔

“سب ٹھیک ہے۔ مجھے یقین ہے، میری پلویشا ٹھیک ہے۔” انہوں نے اس کے چہرے پر جھولتی آوارہ لٹ کو کان کے پیچھے اڑستے ہوئے کہا۔

اس کی آنکھوں میں پانی جما ہوتا گیا، یہ وہ پرشفقت لمس تھا جس کے لیے وہ پچھلے دو سالوں سے تڑپ رہی تھی۔

یہ وہ لفظ تھے جنہیں سننے کے لیے اس کے کان پچھلے ایک سال سے بے تاب تھے۔

یہ وہ یقین تھا، جو وہ چاہتی تھی کہ لوگ اس پر کریں اور مانیں: پلویشا ٹھیک ہے۔

وہ اس کی آنکھوں میں جما ہوئے پانی کو دیکھ کر اپنے جملے بولتے گئے۔

اس کی پلکیں لرز رہی تھیں، لب کپکپا رہے تھے، اور جسم—وہ تو گویا شل ہو گیا تھا۔

جب کہ رواں رواں سماعت بنا ان کے لفظ سن رہا تھا۔

“آپ کو مجھ پر یقین ہے؟” ایک آس سے پوچھا گیا سوال ڈاکٹر طاہر کی آنکھوں میں آنسو لے آیا۔

ان کے اثبات میں سر ہلانے کی دیر تھی کہ وہ ان سے لپٹتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔

فضا میں کئی عرصہ بعد اس کی درد بھری سسکیاں گونجی، مگر آج ان سسکیوں میں صرف شکوہ بھرا تھا:

“میں ٹھیک ہوں۔ میں کہہ رہی تھی، میں پاگل نہیں ہوں۔ میرا بھروسہ نہیں کیا انہوں نے۔ کیا میں نے پہلے کھبی جھوٹ بولا تھا؟”

وہ اسے خود سے لگائے، اس کے شکوے سنتے گئے۔

“یہ سب میری باتوں کا جواب نہیں دیتے، انہیں لگتا ہے میرا ذہنی توازن درست نہیں ہے، اور میں اتنی بے بس ہوں کہ انہیں یقین بھی نہیں دلا سکتی۔”

ان کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر پھسل گیا۔

“آپ کو مجھ پر یقین ہے تو انہیں یقین کیوں نہیں آیا؟ انہیں تو میں چیخ چیخ کر بتاتی رہی تھی کہ پلویشا پاگل نہیں ہے۔ انہیں میرا یقین کرنا چاہیے تھا، نا؟”

وہ روئی، شکوے کرتی گئی، اور وہ چپ چپ اسے خود سے لگائے سنتے رہے۔

یہ وہ بچی تھی، جو ان کے کندھے پر بیٹھ کر سواری کرنا اپنا فرض سمجھتی تھی۔

یہ وہ بچی تھی، جس نے کھبی انہیں ‘تایا’ نہیں بلایا، وہ انہیں اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے “ڈا طاہی” (ڈاکٹر طاہر) بلاتی تھی۔

یہ وہ بچی تھی، جو بہار کی خوشی کی مانند تھی، جسے صرف مسکرانا آتا تھا اور آج آنسوں نے تو جیسے اس کی آنکھوں میں بسیرا کر لیا تھا۔

دن آہستگی کے ساتھ گزرتا چلا گیا، ہوا سرد ہوتی گئی۔

ایک مسافت تھی جو شاید اب ختم ہونے والی تھی۔

پلویشا کی آخری سانس لیتی شمع کو ایک زندہ رہنے کی کرن مل چکی تھی۔

جب پلویشا روتے روتے بے سدھ نیند کی وادی میں چلی گئی، تو طاہر نے اسے اس کے کمرے میں نرسز کی مدد سے سلایا۔

اور پہلی فرصت میں ہی دائم کو کال کر کے انہوں نے اسے یہاں بلایا اور پلویشا کو ڈسچارج کروایا۔

پلویشا چپ چاپ، نم بھیگی آنکھوں سے پچھلی سیٹ پر بیٹھی، ان سے لپٹی، شیشے کے باہر نظر آنے والے درختوں کو دیکھ رہی تھی۔

اس نے ایک نگاہ بھی دائم پر نہیں ڈالی اور نہ ہی اسے مخاطب کیا۔

گاڑی اس بڑے خوبصورت گھر کے پورچ میں رکی، وہ خاموشی سے گاڑی سے اتری اور ان کے ساتھ گھر کے اندر گئی۔

لاونج میں زونیرہ اور ایس پہلے سے موجود تھیں۔ ایس کو دیکھتے ہی پلویشا کے اندر ایک پل کو سنسنی پھیل گئی اور آنکھیں خودبخود بھیگ گئیں۔

پچھلے دو سال کسی بھنور کی مانند اس کے گرد چکر لگانے تھے۔

ایس اس کی طرف آئی اور اسے گلے لگا لیا۔

اس نے بھی ہمت کرتے ہوئے اس کے گرد حصار باندھا اور پھر الگ ہوتی وہ خود زونیرہ کی جانب گئی۔

“اب کیسی ہو؟” اس نے محبت سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے پوچھا۔

پلویشا نے صرف اثبات میں سر ہلا دیا۔

وہ کیا ہی بتاتی انہیں؟

دائم اندر آیا تو وہ اب سیڑھیاں چھڑتی اپنے کمرے کی جانب جا رہی تھی۔

وہ سرد آہ بھرتے صوفے پر بیٹھ گیا۔

زونیرہ دائم اور طاہر کو پانی پیش کر رہی تھی کہ وہ سیڑھیاں چھڑتے نیچے آئی۔

پانی کا گھونٹ دائم کے حلق میں پھنس گیا، اور وجہ اس کے ہاتھ میں نظر آتا سوٹ کیس تھا۔

وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا۔ ایس اور زونیرہ کو بھی جھٹکا لگا۔

“یہ۔۔۔ پلویشا، تم کہاں جا رہی ہو؟” اس نے دھک دھک کرتے دل سے پوچھا، مگر وہ اسے جواب دینے کے بجائے طاہر کی جانب مڑی، جو خود بھی حیران تھے۔

“میں آپ کے ساتھ جاؤں گی۔”

دائم کو لگا کہ گھر کی چھت اس کے اوپر آن گری ہے۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔

“پل۔۔ پلویشا، تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو؟”

منہ سے، وہ دائم کی طرف دیکھتے، سنجیدگی سے کہتی ہے:

“تم ایسا نہیں کر سکتی، پلویشا۔ میری بات کو سمجھو، میں۔۔۔”

“آپ سے پوچھ کر کچھ نہیں کروں گی۔” ڈاکٹر طاہر کھڑے ہو گئے، انہیں حالات ٹھیک کرنے تھے۔

“پلویشا، میں کیسے رہوں گا تمہارے بنا؟” اس کی آنکھ سے ایک آنسو نکلا۔

زونیرہ اور ایس نے شادی کے تین سال بعد پہلی مرتبہ اسے روتا دیکھا۔

طاہر کو بھی دکھ ہوا تھا۔

“آپ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں گے یا نہیں؟” وہ ڈاکٹر طاہر کی جانب مڑی۔

“دائم، پلویشا میرے ساتھ جا رہی ہے۔ جب تم ٹھیک ہو جاؤ گے تو وہ آ جائے گی۔”

انہوں نے پلویشا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنے عقب میں کھڑے دائم سے کہا، تو دائم کو صدمہ ہوا۔

وہ جانتا تھا بھائی صاحب نے اگر یہ فیصلہ کیا ہی تھا تو سوچ کر ہی کیا ہو گا، مگر ناجانے کیوں اسے تکلیف ہوئی۔

اگلے کئی پل سلوموشن سے گزرے۔

طاہر اور پلویشا گھر سے باہر جا رہے تھے۔

ایس رو رہی تھی جبکہ زونیرہ بھی پریشان تھی۔

وہ لوگ دور جا رہے تھے یہاں تک کہ وہ مین ڈور کراس کر گئے۔

یہ وہ دن تھا جب دائم نے آخری بار اپنی بیٹی پلویشا کو دیکھا۔

یہ وہ دن تھا جس کے بعد ایس ایک بار پھر اپنے باپ کو کھونے والی تھی۔

اور یہ وہ دن تھا جب دائم، زونیرہ، اور ایس پلویشا کی زندگی سے چلے گئے۔

وہ انہیں پیچھے چھوڑ گئی۔

ان کا باب پلویشا کی زندگی سے ختم ہو چکا تھا۔

موجود وقت 

وہ یوں ہی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔

وہ کتنی طویل مسافت طے کر کے آئی تھی۔ نفس کے دیے گئے زخم سہے، جان سے پیارے باپ کو چھوڑنا پڑا، پاگل خانے میں پورے دو مہینے کی قید دیکھی، اور صرف چند گھنٹوں میں ذات کے پرخچے اُڑ گئے۔ محبت نے ساتھ چھوڑ دیا، اور اب۔۔۔ اب خواب بھی نہ رہا۔

ماحول میں ایک عجیب سی خوشبو پھیل رہی تھی، ایک مانوس سی خوشبو۔

اگر زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے، تو ہم زندگی جی ہی کیوں رہے ہیں؟ کیا ہم کھبی کھل کر سانس نہیں لے سکتے؟

کیا ہماری زندگی میں “سب ٹھیک ہو گیا” کا ٹائٹل نہیں لگ سکتا؟ کیا یہ مسلسل جنگ، ایک مسلسل اذیت کا زوال کبھی نہیں ہوگا؟

وہ آنکھوں میں ازیت لیے سوچتی رہی۔ اس کا دماغ آہستہ آہستہ بلینک ہوتا جا رہا تھا۔

کیا یہ سب آسان ہوتا ہے؟ خود کو اٹھانا، اپنے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں کو اکھٹا کرنا، پھر انہیں ترتیب دینا، اور دوبارہ سے ایک نئی شروعات کرنا، اور اچانک۔۔۔ آپ پھر دھڑام سے گر پڑیں، اور وہ سو ٹکڑے اب کی بار ہزار ٹکڑوں میں ٹوٹ جائیں۔ اور آپ اتنے بے بس ہوں کہ سوائے ایک بار پھر نئی شروعات کے، آپ کے پاس کوئی آپشن نہ ہو۔

کیا آسان ہوتا ہے، جب دل کو آری کے ساتھ چیرا جا رہا ہو، مگر آپ “اسلمت لرب العلمین” بول دیں۔

اس نے لیٹے لیٹے کروٹ لی۔ اب اس کی آنکھوں کا مرکز سامنے کھلی کھڑکی سے نظر آتا چاند تھا۔ اس کا وجود شل ہوتا جا رہا تھا اور اسے اچانک سردی لگ رہی تھی۔

اس کے بیڈ کے ساتھ نیچے ایک سفید چھوٹی ڈبی گری پڑی تھی، جس میں سے آدھی گولیاں فرش پر بکھری پڑی تھیں۔

“کیا میں کھبی کھل کر سانس لے پاؤں گی؟ کیا کھبی میرے آنسوں بھی ختم ہوں گے؟”

اس کے لب کپکپا رہے تھے، اور آنکھوں میں پانی جمع ہوتا گیا۔ اسے گہری نیند آ رہی تھی، مگر دل میں اٹھتے انجان درد سے وہ سو نہیں پا رہی تھی۔

“کیا میری زندگی سے یہ ٹرائلز کھبی ختم ہوں گے؟ کیا میرے اندر کا شور کھبی ختم نہیں ہوگا؟”

اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر پستی کی طرف سفر کرتا ہوا کنپٹی میں جذب ہوتا گیا۔ اس کی حالت غیر ہو رہی تھی ۔ 

لیکن کوئی بات نہیں ۔ 

 “میں اپنے رب سے راضی ہوں اسلمت لرب العلمین۔”

اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ رینگ گئی، داستانوں کا ذکر کرتی مسکراہٹ۔

“س۔۔۔ سروائور پل۔۔پلویشا دائم۔۔۔” وہ کپکپاتے لبوں سے بڑبڑائی اور آنکھیں آہستہ سے بند ہوتی گئیں۔

سارے دکھ ختم۔

سارے ٹرائلز ختم۔

سارے آنسوں ختم۔

اس کے برف کی طرح سفید پڑتے چہرے پر وہ زخمی مسکراہٹ اس بات کا ثبوت دے رہی تھی۔

وہ ایک سروائور تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی 

منظر ایک رنگ برنگے باغ کا تھا۔ ہر طرح کے پھول، ہر رنگ کے پھول، اس باغ کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہے تھے ۔ آسمان گلابی سا ہو رہا تھا اور سرد ٹھنڈی ہوا اس کے وجود کو چھوتی اسے ٹھٹرنے پر مجبور کرتی تھی۔ وہ پھولوں کی مہک میں کھوئی ہوئی یوں ہی ٹہل رہی تھی کہ اچانک کہیں دور سے ایک نسوانی گیت کی آواز اسے اپنی جانب پوری شدت سے کھینچنے لگی۔ وہ اس آواز کے سحر میں کھوتی ہوئی اسی کی طرف بڑھنے لگی۔

Sessiz gecelerde adını içime gömdüm,

Beklemekle yaşadım, seni kendime sömdüm.

(خاموش راتوں میں میں نے تیرا نام اپنے اندر دفن کر لیا،

میں نے انتظار میں جینا سیکھ لیا، خود کو بھلا دیا۔)

وہ آواز اس کے دل پر گہرا بوجھ ڈال رہی تھی۔ ہر قدم کے ساتھ وہ آواز اسے جانی پہچانی لگنے لگی۔

Sevdam tek taraflı bir yara gibi kanar,

Sormaz kimse hâlimi, ben acıyı ördüm.

(میری محبت ایک طرفہ زخم کی طرح لہولہان ہے،

کوئی میرا حال نہیں پوچھتا، میں نے درد بُن لیا ہے۔)

اس کا دل کانپ رہا تھا۔ ہر قدم بھاری ہوتا جا رہا تھا۔

Gözlerim yollarda kaldı, sen hiç dönmedin,

Sabırdan bir kefen diktim, onu giydim.

(میری آنکھیں راستوں میں ٹھہر گئیں، تم کبھی لوٹ کر نہ آئے،

میں نے صبر سے ایک کفن سیا اور اسے اوڑھ لیا۔)

Kalbim bağırdı, dudaklarım sustu hep,

Seviyorum demedim, acıyı seçtim.

(میرا دل چیختا رہا، مگر ہونٹ ہمیشہ خاموش رہے،

میں نے “محبت ہے” نہیں کہا، میں نے اذیت کو چن لیا۔)

آواز قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی تھی۔ اس آواز میں گہرا درد تھا۔ دلارے کو وہ درد جانا پہچانا لگا۔

Eğer bu aşk kaderse, razıyım ben,

Yanmak bana düşerse, susarak yandım.

(اگر یہ عشق ہی میرا مقدر ہے تو مجھے قبول ہے،

اگر جلنا میرے حصے میں ہے تو میں خاموشی سے جلی۔)

اس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا۔ نہ جانے کیوں وہ الفاظ اسے شدید درد دے رہے تھے۔

Bir gün anlarsan belki geç olur ama,

Ben seni beklerken kendimden vazgeçtim.

(کبھی تم سمجھو گے تو شاید بہت دیر ہو چکی ہو،

کیونکہ تمہارا انتظار کرتے کرتے میں خود سے دستبردار ہو گئی۔)

وہ اس کے سامنے جا ٹھہری، اور دل جیسے دھک سے رہ گیا۔ ڈھیر سارے قیمتی پتھروں کے بیچ، ایک قیمتی تخت پر بیٹھی وہ ایک پتھر تراش رہی تھی۔ ایک نیلا، خوبصورت پتھر، بالکل اس کی آنکھوں کے رنگ جیسا۔ اس کے سنہری بال اطراف میں بکھرے تھے اور گہرے نیلے رنگ کے فراک کے گلے پر بھی قیمتی نگینے آویزاں تھے۔

دلارے خود کو دیکھ کر چونک گئی۔ سامنے بیٹھی لڑکی بالکل دلارے سلیم کی ہم شکل تھی۔

“Sen kimsin?”

(“تم کون ہو؟”)

اس نے حیرت سے پوچھا۔

“Kendini tanımadın mı?”

(“تم نے خود کو پہچانا نہیں؟”)

لڑکی نے چہرہ اٹھا کر جواب دیا۔

دلارے کو حیرت ہوئی۔ سامنے بیٹھی لڑکی حد سے زیادہ سنجیدہ تھی۔ اس کے چہرے پر چھایا ہوا تاثر، ایسا تھا جو کبھی دلارے کے چہرے پر نہیں آیا تھا۔

“Buyur.”

(“یہ لو۔”)

لڑکی نے شش و پنج میں مبتلا دلارے کے سامنے کچھ پیش کیا۔

دلارے نے ایک لمحہ ٹھہر کر ان نیلی آنکھوں میں دیکھا۔ اس نے اشارہ کیا کہ لے لو، اور اگلے ہی پل وہ اسے تھام چکی تھی۔ وہ ایک قیمتی نیلا پتھر تھا، جسے نفاست سے چوکور شکل میں تراشا گیا تھا، اور اس کے اندر ایک لفظ کندہ تھا۔ اس نے غور سے پڑھا۔

“Seralith”

(“سیرالیتھ”)

اس نے ناسمجھی سے سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھا۔ وہ لڑکی مسکرائی اور ایک اور پتھر اٹھا کر تراشنے لگی، اور کام میں محو ہوتی ہوئی بولتی گئی۔

سیرالیتھ دو لفظوں کا ملاپ ہے۔

سیرا یعنی سکون، ٹھہراؤ، خاموشی۔

لیتھ یعنی پتھر، چٹان، مضبوطی۔

سیرالیتھ اس ہستی کو کہتے ہیں جو باہر سے جتنی پرسکون اور خوبصورت ہو، اندر سے اتنی ہی چٹان جیسی مضبوط اور صبر کی آگ سے بنی ہو۔

دلارے اب بھی ناسمجھی سے کھبی پتھر پر کندہ لفظ کو دیکھتی، تو کھبی سامنے بیٹھی اپنی ہم شکل کو۔

“تم ایک سیرالیتھ ہو، دلارے سلیم۔ تم درد سہو گی، مگر اس درد کا شور کوئی نہیں سنے گا۔”

اس کے لہجے کی کاٹ نے دلارے سلیم کو دہلا دیا۔ اچانک گلابی آسمان پر گہرے سیاہ بادل چھانے لگے۔

“تم انتظار کی بے سود سزا کاٹو گی، مگر ٹوٹو گی نہیں۔ تم وہ چٹان بنو گی جسے کوئی توڑ نہ پائے گا۔”

اس نے جھٹکے سے چہرہ اٹھا کر دلارے کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں موجود پتھریلا تاثر دلارے کو خوف زدہ کر گیا۔

“تم محبت کا دکھ دیکھو گی، مگر وقت تمہیں ایک سیرالیتھ بنا دے گا۔”

بجلی زور سے گرجی اور بارش پورے زور سے برسنے لگی۔ وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہٹی۔

“Sen yalan söylüyorsun.”

(“تم جھوٹ بول رہی ہو۔”)

“Bu mümkün değil.”

(“ایسا ممکن نہیں۔”)

“Ben Seralith olmak istemiyorum.”

(“مجھے سیرالیتھ نہیں بننا۔”)

دلارے نے جھٹکے سے ہاتھ میں پکڑا نیلا پتھر زمین پر پھینکا اور بھاگتی ہوئی اس سے دور جانے لگی۔

قیمتی پتھروں کے تخت پر بیٹھی وہ چٹان سے بھی مضبوط لڑکی اسے بھاگتے دیکھ ہلکا سا مسکرائی، اور دوبارہ اپنے کام میں مگن ہو گئی۔

تڑ تڑ برستی بارش میں دلارے بھاگتی ہوئی واپس جا رہی تھی، جبکہ سماعتوں میں عقب سے آتی وہی سریلی آواز اس کا سانس بند کر رہی تھی۔

Sessiz gecelerde adını içime gömdüm…

(خاموش راتوں میں میں نے تیرا نام اپنے اندر دفن کر لیا…)

وہ چیخنا چاہتی تھی کہ—

اچانک وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ چہرہ آنسوؤں سے تر تھا، اور دل سو کی رفتار سے دھڑک رہا تھا۔ وہ دل پر ہاتھ رکھے بستر سے اٹھی۔

“یہ کیسا خواب تھا؟”

اس نے چہرے سے آنسو صاف کیے۔ وہ کانپ رہی تھی۔ خوف کا احساس اس کے چاروں طرف پھیلتا جا رہا تھا۔

وہ کھڑکی کے پاس گئی اور گہرا سانس لینے کی کوشش کی، مگر سانس جیسے سینے میں ہی دب گیا تھا۔ گھٹن کا احساس بڑھنے لگا، اور بے بسی سے آنسو بہنے لگے۔

اسے تکلیف ہو رہی تھی۔ کیوں، وہ نہیں جانتی تھی، مگر تکلیف حقیقی تھی۔

لو، ہو گیا آغاز۔

عشق کے راستے میں انگارے بچھا دیے گئے تھے، اور اب اسے بھی ہر روگی کی طرح ہر پل ان پر ننگے پاؤں چلنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام علیکم 

آج موسم کافی ابرآلود تھا۔ ایک بے چینی سی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ بادل آسمان پر سایہ پھیلا ہوئے تھے، مگر بارش نہ برستی تھی، اور یہی گھٹن کی وجہ بن رہی تھی۔

وہ چپ چاپ، ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا، خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا۔ اس کی مانوس خوشبو ہر طرف پھیل سی گئی۔ اب وہ اپنا ہاتھ سامنے رکھی ریسٹ واچ کی طرف بڑھا ہی رہا تھا کہ یکدم عزیز، جلد بازی میں بنا ناک کیے، اس کے کمرے میں داخل ہوا۔

“گڈ…گڈ مارننگ سر!”

“کیا ساری تمیز کرائے پر رکھوا آئے ہو؟” مرزا نے بھونیں اچکاتے برہمی سے کہا، جبکہ عزیز پھولے سانس کے ساتھ اس تک آیا۔

“سر، یہ دیکھیں۔” اس نے سیدھا ہاتھ میں پکڑے ٹیب کی سکرین اس کے سامنے کی۔

مرزا اس کے انداز سے چونکتے ہوئے نظریں سکرین پر گاڑ گیا، جبکہ ہاتھ میں تسلی کے ساتھ ریسٹ واچ بھی پہننے لگا۔

اسکرین پر نیوز چینلز کی سرخ پٹیاں دوڑ رہی تھیں۔ ہر اینکر کی زبان پر ایک ہی نام تھا — “مرزا حاکم”۔

“معروف آرکیٹیکٹ کی لاپروائی؟”

“حادثہ یا مجرمانہ غفلت؟”

“کیا انسانی جانیں خطرے میں تھیں؟”

کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ مرزا نے سکرین کی طرف دیکھا، پھر آہستہ سے سیکریٹری کی طرف:

“کیا واقعی کچھ گرا ہے؟”

آواز ہموار تھی۔

“جی… پارکنگ فلور کا حصہ۔ ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، سر… نیچے—”

وہ جملہ پورا نہ کر سکا۔

مرزا نے کوٹ سیدھا کیا اور بغیر رکے کہا:

“گاڑی نکالو۔”

اگلے چند ہی پلوں میں مرزا حاکم کی سیاہ گاڑی اس بڑے سے بنگلے کی حدود سے باہر جا رہی تھی۔ پورے شہر میں خبر کسی آگ کی مانند پھیل گئی تھی۔ پچھلے سال ہی اس عمارت کا افتتاح ہوا تھا، اور اب ہوا حادثہ مرزا کی ساکھ کے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا تھا۔

“سر، صاحبہ میم کی کال ہے۔”عزیز نے فون پچھلی سیٹ پر بیٹھے مرزا حاکم کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ وہ، جو موبائل پر نیوز ہی دیکھ رہا تھا، عزیز کے ہاتھ سے فون تھام کر کان سے لگا گیا۔

“ہیلو…” اتنا کہنا تھا کہ اس کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

“آپ کے آفس کے باہر میڈیا کی پوری ٹیم جمع ہے۔ آپ نے کانفیڈینس برقرار رکھنا ہے، انداز بے نیاز سا ہو، اور مجھے فوراً سے اس پراجیکٹ کا کانٹریکٹ ڈاکومینٹ ای میل کریں۔”

مرزا کو حیرت ہوئی۔ وہ تسلی دے رہی تھی، اس کا انداز ایسا تھا کہ “صاحبہ، مرزا کے ساتھ ہے”۔ وہ کچھ بھی پراسس نہیں کر پا رہا تھا۔

“کیا آپ سن رہے ہیں؟” فون سے آتی اس کی آواز پر اس کا طلسم ٹوٹا۔

“ہممم، میں ای میل کرتا ہوں۔” اس نے ہامی بھرتے کال کاٹ دی۔ رابطہ منقطع ہو گیا، مگر اثر اب تک زائل نہیں ہوا تھا۔

موسم نیلاہٹ زدہ ہو رہا تھا، اور ہوا کا بہاؤ بھی شروع ہو چکا تھا۔ حاکم ہائی رائز عمارت کے باہر میڈیا کا ہجوم اکھٹا تھا: کیمرے، مائکس، شور—جیسے کوئی شکار گھیر لیا گیا ہو۔

“مرزا سر!”

“ادھر دیکھیں!”

“کیا آپ ذمہ داری قبول کرتے ہیں؟”

گاڑی رکی۔ دروازہ کھلا۔ مرزا انہیں دل ہی دل میں سو بار لعنت بھیجتے باہر آیا۔ آسمان پر موجود بادل گہرے سیاہ ہوتے جا رہے تھے۔

وہ مائکس کے سامنے رکا۔

“آپ کے ڈیزائن میں خامی تھی؟”

“کیا آپ نے سیفٹی پر سمجھوتہ کیا؟”

“اگر اُس وقت عمارت میں لوگ ہوتے… تو کیا آپ خود کو معاف کر پاتے؟”

مرزا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے خاموش کھڑا رہا، انداز ایسا گویا، “بکواس ختم کر لو تو بتا دینا۔”

“کیا آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟”

مرزا مسکرایا، اور ابھی وہ کوئی دل جلانے والی بات کرنے ہی لگا تھا کہ عقب سے چڑچڑاتے ٹائروں کے ساتھ گاڑی کے رکنے کی آواز آئی، اور وہ فرنٹ ڈور کا دروازہ کھولتی باہر آئی۔

اس کے ہاتھ میں فائل تھی، چہرے پر کہیں سے بھی گھبراہٹ کے آثار نمایاں نہیں تھے۔

“یہ سوال غیر ذمہ دارانہ ہے،” اس کی سنجیدہ آواز پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے جو اب مرزا کے ساتھ دو قدم کے فاصلے پر کھڑی ہو گئی تھی۔

اس کی آواز میں نرمی تھی، مگر کمزوری نہیں۔

اس کے انداز میں ناجانے ایسا کیا تھا کہ مرزا بے اختیار چہرہ موڑ کر اسے دیکھے، جبکہ وہ میڈیا والوں کو دیکھتے کہنے لگی:

“کیونکہ حقائق کے بغیر خوف بیچنا، صحافت نہیں۔”

اس نے فائل کھولی۔

“یہ منظور شدہ نقشے ہیں۔ یہ وہ ای میل ہے جس میں مرزا حاکم نے کنٹریکٹر کو واضح وارننگ دی تھی کہ بغیر اجازت تبدیلی خطرناک ہوگی۔”

لیکن کیا… ایک رپورٹر نے بات کاٹنے کی کوشش کی ہی تھی کہ—صاحبہ نے ہاتھ اٹھایا۔

“میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔”

ہجوم خاموش ہو گیا۔ مرزا کے چہرے پر ہلکی مسکراہٹ رینگ گئی۔

“جو حصہ گرا، وہ غیر مجاز تبدیلی کا نتیجہ تھا، نہ کہ ڈیزائن کی خامی۔اور ہم آج شام مکمل فرانزک رپورٹ ریلیز کر رہے ہیں۔”

پھر اس نے مرزا کی طرف دیکھا—بس ایک نظر۔

“تب تک، براہِ کرم قیاس آرائیاں بند رکھیں۔”

مرزا نے اسے سراہتی نظروں سے دیکھتے دوبارہ مائک کی طرف دیکھا۔

اس کا اعتماد اب وہیں تھا—مگر اب اس کے پیچھے کوئی کھڑا تھا۔

وہ، جو نا بھی ہوتا تب بھی مضبوط ہی رہتا، مگر اس کا سہارا اسے برا نہیں لگا تھا۔

“اگر آپ لوگوں کا ہو گیا ہو تو اجازت دیجئے۔” وہ مسکرا کر کہتا، ان کے بیچ سے راستہ بناتے ہوئے گزرنے لگے۔

وہ دونوں ساتھ میں، نیلاہٹ زدہ ہوتے موسم میں ہجوم کو کاٹتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ کیمرے کے کلکس ان کا ہر منظر قید کر رہے تھے۔

اس فائل میں ایسا کچھ نہیں لکھا تھا جو آپ نے میڈیا والوں کو بتایا ہے۔ عمارت میں داخل ہوتے وہ اس کے سامنے رکتا، مدھم مسکراہٹ سے کہتا ہے:

“بلکل نہیں لکھا ہے۔”

وہ اعتماد سے بولی۔

“اور اس کی کوئی فرانزک رپورٹ بھی نہیں ہے۔”

وہ مسکرایا۔

“بلکل نہیں ہے۔ اعتماد برقرار تھا۔”

پھر آج شام کیا پیش کریں گی آپ، صاحبہ؟ وہ متجسس تھا۔

صاحبہ مسکرائی: “ابھی تک تو نہیں پتا، مگر شام تک کا وقت بہت ہے فیصلہ کرنے کے لیے۔ آپ بے فکر رہیں، یہ صرف ایک دن کا شور ہے۔”

مرزا اس کا اعتماد دیکھ کر اندر تک سرشار ہوا تھا۔ وہ کتنی صفائی اور اعتماد کے ساتھ میڈیا کا منہ بند کر آئی تھی۔

“خیر، ابھی تو میں جا رہی ہوں، تھوڑی لیٹ آؤں گی آفس۔”

اس نے گہرا سانس بھرتے کہا تو مرزا چونکا۔

“کیوں؟”

“میں نے بریک فاسٹ نہیں کیا، آپ کے کیس میں لگ گئی تھی۔”

وہ اوور کوٹ کی جیب سے موبائل نکالتے ہوئے بولی، جبکہ مرزا کی نظر اسی پر تھی۔

اس نے لائٹ براؤن سکرٹ کے ساتھ سفید شرٹ اور اوپر ہم رنگ اوور کوٹ پہن رکھا تھا۔ میسی جھوڑے سے ہمیشہ کی طرح نکلی، کچھ لٹیں اس کے مومی چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ سجدہ ریز پلکوں نے مرزا کو اپنے سحر میں قید کیا تھا۔

ایک عجیب، نا محسوس سی دھند چھانے لگی تھی۔ ہوا میں خنکی بڑھ گئی تھی۔

کچھ پل بعد صاحبہ نے اچانک چہرہ اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے مرد کو دیکھا۔ وہ، جو جیبوں میں ہاتھ ڈالے محو سا اسے دیکھ رہا تھا، اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتے ہی ساکت ہو گیا۔

ٹھنڈی ہوا کے بہاؤ، گہرے ہوتے بادلوں اور بڑھتی خنکی میں، گلاس وال کے اس طرف وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔

وہ آنکھیں پہچان گیا تھا۔ وہ بلکل مرزا حاکم کی طرح، گہری بھوری آنکھیں تھی ۔ وہ بھی دھوپ میں چمکتی تھی ۔ آہ، اس آگاہی میں ناجانے کیوں سرشاری بھری تھی۔

اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہی، سامنے کھڑی لڑکی کے لیے مرزا حاکم کی گہری بھوری آنکھوں میں ایک الگ سا تاثر ابھرا اور گہرا اثر چھوڑ گیا۔

“اوکے، تو پھر گڈ بائے۔”

وہ سنجیدگی سے کہتے ہوئے مڑ گئی، جبکہ وہ ساکت وجود لیے اپنے دل کی منتشر دھڑکنیں سنتا رہا۔

اسلام آباد کی فضا میں یکدم تیز ہوا چل پڑی تھی۔ بادل زور سے گرجے۔ صرف ایک پل لگا تھا…

ایک نظر اور… مرزا کا دل صاحبہ کے لیے دھڑک اٹھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد 

وہ اپنے آفس میں بیٹھا چپ چاپ، گہری نظروں سے سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین کو دیکھ رہا تھا۔

اس کے عقب میں گلاس وال کے پار، خوبصورت بلند پہاڑ ایک دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔

اس نے مٹھیاں پیجھی رکھی تھیں، سکرین میں نظر آتے ایک ساتھ کھڑے مرزا اور صاحبہ، ناجانے کیوں، تن بدن میں آگ لگا رہے تھے۔

مرزا مدھم مسکراہٹ سے صاحبہ کو دیکھ رہا تھا، اور ازمیر کا دل چاہا مائیک اس کے سر میں دے مارے۔

اس نے زہر کا گھونٹ بھرتے لیپ ٹاپ کی سکرین بند کی اور کرسی کو موڑتے، نظریں گلاس وال سے نظر آتے منظر پر گاڑ دی۔

آسمان پر بادلوں کا راج تھا۔ آج بارش ہونے کے چانسز بتائے گئے تھے۔ بادلوں کو دیکھ کر ازمیر کے گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہو گئی۔ اسے بارشوں سے نفرت تھی۔ بارش ہمیشہ اس کے لیے مصیبت لاتی تھی۔ اور اب، ان دونوں کو ساتھ دیکھنے کے اور اس پر تضاد، بارش کو دیکھ کر ازمیر نے ڈھیر سارا غصہ ضبط کیا۔

“آج کا دن ہی بکواس ہے۔” وہ تلخی سے کہتا ہوا اٹھا۔

ابھی وہ اپنے آفس کا دروازہ کھول کر باہر آیا ہی تھا کہ لیلہ اس کی طرف آئی۔

“سر، میٹنگ سٹارٹ ہونے۔۔۔”

“کینسل کر دو۔” وہ اس کی بات کاٹتا آگے بڑھ گیا، جبکہ لیلہ کلس کر رہ گئی۔ وہ اسے کسی گالی سے نوازنے ہی لگی تھی کہ رک گئی۔

کل اس کی حالت یاد کر لیلہ کو ناجانے کیوں افسوس ہوا۔ کل تو بڑے سنکی نظر آ رہے تھے، اور آج پھر سے وہی سڑیل باس۔ ہنہہ۔

لیلہ افسردگی سے سوچتے ہوئے واپس مڑ گئی۔

بادل اپنی جون پر آنے لگے تھے۔ معلوم ہوتا تھا آج شدت سے برسے گے۔

کسی کے درد کی یاد میں۔۔۔

وہ کھڑکی کے ساتھ نیچے بیٹھتی روتی گئی۔ اسے سانس لینا دشوار لگ رہا تھا۔ ہر طرف وہ روشن خواب کسی ہیبت ناک اندھیرے کی طرح چھا رہا تھا۔

کسی کی نئی داستان کی یاد میں۔۔۔

اپنے آفس میں بیٹھا وہ مسکرا رہا تھا۔ وہ بھوری آنکھیں اسے مسکرانے پر مجبور کر رہی تھیں۔ ہر طرف جیسے بہار جیسی خوشیاں اتر آئی تھیں۔

کسی کے تلخ ماضی کی یاد میں۔۔۔

وہ تیز قدموں سے گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اسے بارش ہونے سے پہلے ہی اپنے گھر پہنچنا تھا۔ بارشیں اسے تکلیف دیتی تھیں، اور اب سیاہ بادل اندھیر مایوسی کی طرح ہر طرف چھائے ہوئے تھے۔

کسی قریبی ساتھی سے ملنے کی یاد میں۔۔۔

وہ پارک آ گئی تھی۔ اس وقت وہ واحد تھی جو اس پارک میں موجود تھی۔ جب بھی بارش ہونے کے آثار نظر آتے، وہ یہاں چلی آتی تھی۔ اسے بارشیں پسند تھیں۔ وہ اسے کسی کی یاد دلاتی تھیں۔

 یا کسی کے رخصت ہو جانے کی یاد میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور 

آہستہ آہستہ صبح کی نیلاہٹ ختم ہوتی جا رہی تھی۔ پورا شہر بیدار ہونے لگا تھا۔ ٹھنڈی سرد ہوا کانپنے پر مجبور کرتی تھی، اور اسی ہوا میں ناجانے کیوں دل میں عجیب قسم کا ڈر پیدا کر دینے والا احساس جاگ رہا تھا۔

شاہ ہاؤس میں سب سوئے ہوئے تھے، صرف تائی جان تھی جو نیم بیداری سے آگے بڑھ رہی تھی۔

انہوں نے آنکھ مسلتے ہوئے سامنے کا دروازہ کھولا، اور سامنے کے منظر کو دیکھ کر دھک سے رہ گئی۔

ایک لمحہ۔۔۔

دوسرا لمحہ۔۔۔

اور اگلے ہی پل، ان کی دلخراش چیخیں شاہ ہاؤس کو لرزا گئی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انفصال 

قسط نمبر: ٣ 

حصّہ دوم 

پردہ جو چھپا تھا، اب آہستہ اٹھ گیا،

ادھورا راز، ادھوری باتیں، سب کچھ کچھ کھل گیا۔

نگاہ کی دھند اب روشنی میں بدل گئی،

ہر لفظ کے پیچھے چھپی حقیقت بول گئی۔

وہ لمحے جو کبھی صامت اور مبہم تھے،

اب دل کی دھڑکن کی طرح واضح رہ گئے۔

یقین کے پل ٹوٹے نہیں، مگر زخم لیے ہیں،

ہر سچ کے ساتھ چھپی یاد اب سامنے رہ گئی۔

خاموشیوں کی تہوں میں دبے درد،

اب لفظوں اور دلوں میں جزوی انفصال رہ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد 

رم جھم بارش پورے بلیوں ایریا کو بھیگا رہی تھی۔ ہر طرف گرتے بارش کے قطرے موتیوں کی مانند نظر آتے تھے۔ بلند سرسبز پہاڑوں کے گرد گہرے بادل چھائے تھے۔ اسی تیز بارش میں شاہراہوں پر سست رفتاری سے چلتی گاڑیوں کا رش تھا۔ ہر کوئی جیسے اپنے ٹھکانے پر جانے کی جلدی میں تھا۔ انہی گاڑیوں میں اس کی سیاہ گاڑی بھی شامل تھی۔

پھیلی خاموشی میں اسٹرنگ وہیل پر ہاتھ رکھے وہ بائیں ہاتھ کی انگلیاں اضطرابی انداز سے موڑ رہا تھا۔ سیاہ آنکھوں میں بے چینی سی پھیلی تھی۔

اسی خاموشی میں اس کے فون کی تیز چھنگاڑ نے خلل ڈالا۔

ازمیر نے جھنجھلا کر پیسنجر سیٹ پر پڑا اپنا فون دیکھا، جس کی اسکرین پر واضح ہوتا مزاحم کا نام اسے مزید کوفت کا شکار کر گیا تھا۔ اس نے فون اٹھایا اور آنسر کرتے ہوئے کان سے لگایا۔

“ازمیر، میں اپنے آفس کے باہر کھڑا ہوں، مجھے پک کر لو۔”

“میں گھر جا رہا ہوں، مزاحم۔”

ازمیر گاڑی سست رفتاری سے آگے بڑھانے لگا۔

“پانچ منٹ لگیں گے م۔۔۔”

“مزاحم، میں نہیں آ رہا، پلیز۔۔۔”

“میں تمہیں جان سے مار دوں گا اگر نہیں آئے تو۔” مزاحم غصے سے غرایا۔ وہ اس وقت اپنے آفس کے باہر کھڑا تھا۔

“ابھی میں جلدی میں ہوں، بعد میں تسلی سے مارنا۔” ازمیر نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔ ابھی اسے صرف گھر جانا تھا۔ وہ کسی صورت اس بارش کی بےسری آواز مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

اس نے فون دوبارہ پیسنجر سیٹ پر ڈالا اور رخ سیدھا کیا کہ نظریں بے اختیار بائیں جانب بنے پارک میں گئیں اور وہیں پر جم گئیں۔

پارک میں بائیں جانب، زمین میں نصب سیمنٹ کے صوفہ نما بینچ پر وہ سر اس کی پشت سے ٹکائے، بند آنکھوں سے برستی بارش میں ہر شے سے بیگانہ ہوئی بھیگ رہی تھی۔ اس کے عقب میں گھنا اونچا درخت بارش کی شدت اور سرد ہوا سے لہلہا رہا تھا۔ ازمیر کی طرف لڑکی کا دایاں رخ تھا، یوں کہ واضح نہیں پہچانی جا سکتی تھی، مگر وہ اسے پہچان گیا تھا۔

صاحبہ شاہ کے سوا یہ طاقت کسی اور میں تھی ہی نہیں کہ ازمیر علی کو ساکت کر سکے۔

اسلام آباد کی ہوا نے حیرت سے ازمیر کو گاڑی کے شیشے سے پارک میں بیٹھی لڑکی کو محویت سے تکتے دیکھا تھا۔ کئی پل اسی خوبصورتی سے سرکتے گئے۔

عقب سے آتی تیز ہارن کی آواز میں وہ سکتے سے باہر آیا۔ گہرا سانس لیا اور اسے مکمل نظرانداز کرتے ہوئے گاڑی آگے بڑھائی۔

“ازمیر، تمہیں گھر پہنچنا ہے۔” (وہ اکیلی ہے۔)

گاڑی چلاتے وہ پارک سے دور جا رہا تھا، مگر دل کی لگام اسے پیچھے کی جانب کھینچ رہی تھی۔

وہ بھیگ رہی ہے۔۔۔

اسے ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔۔

وہ گاڑی کو سڑک کے کنارے پر لے گیا، یوں کہ اب اس کے پیچھے گاڑیوں کی لمبی قطار نہیں تھی۔

“ازمیر، وہ۔۔۔”

“تو کیا؟” یک دم وہ گاڑی روکتے بلند آواز میں بولا۔

“تو کیا اگر وہ بھیگ رہی ہے ۔ تو؟ اپنی مرضی سے بیٹھی ہے، مجھے کیا؟”

“وہ تنہا ہے۔” دل نے سہم کر سرگوشی کی۔

“تو مجھے کیا؟ میں نہیں جا رہا اس کے پاس۔” وہ خود سے مخاطب ہو کر بول رہا تھا۔

“سنا تم نے، میں اس کے پاس نہیں جا رہا۔ بس اب بار بار اس کے پاس جانے کا تماشہ ختم۔ اب میں ڈسٹرکٹ نہیں ہوں گا۔ ازمیر علی… ہرگز….صاحبہ شاہ کے…. پیچھے نہیں جائے گا۔”

اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے خود سے عہد کیا اور ایک مطمئن مسکراہٹ کے ساتھ گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کی۔ ابھی اس نے کچھ فاصلہ ہی طے کیا ہوگا کہ….

“لعنت ہو اس دل پر۔” وہ بے بسی سے دانت پیستے ہوئے کہتا ہے، اور اگلے ہی پل اس نے گاڑی ریورس کی۔ اسلام آباد کی ہوا نے اسے صرف ایک منٹ میں خود سے کیے گئے عہد سے مکرتے دیکھا تھا۔

اس نے پارک کے سامنے اپنی گاڑی روکی اور ایک بے بس نگاہ سے برستی بارش کو دیکھا۔

“اس کے پاس جانا ضروری تو نہیں ہے۔” اس نے خود سے پوچھا، اور اگلے ہی پل گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔

بارش کے کئی قطرے نہ جانے کتنے عرصے بعد اس کے وجود پر پڑتے اسے اندر سے سنسنا گئے تھے۔

وہ گاڑی کی پچھلی جانب آیا اور ڈگی کھولتے ہوئے وہاں پڑی چھتری نکالی۔ وہ ٹرانسپیرنٹ چھتری تھی۔ وہ اسے کھولتے اور اپنے اوپر اس کا سایہ کیے پارک کی جانب بڑھ گیا۔

کچھ وقت پہلے 

وہ مرزا سے بریک فاسٹ کا کہہ کر جب آفس سے باہر آئی تو آسمان پر گہرے ہوتے بادل دیکھ مسکرا دی۔ ایک بھرپور مسکراہٹ، جو اس کی بھوک کو مٹا گئی تھی۔ وہ اگلے ہی پل پارک کی جانب روانہ ہو گئی۔

بادلوں کی زور سے گرجنے کی آواز سب لوگوں کو اپنے ٹھکانے پر جانے کی طرف اکسا رہی تھی۔

وہاں لوگ نہ ہونے کے برابر تھے۔ جو تھے، وہ اب خراب موسم کو دیکھتے گھروں کو روانہ ہو رہے تھے، اور وہ واحد تھی جو اس بینچ کی جانب مسکرا کر قدم بڑھا رہی تھی۔ بھوری آنکھوں میں یادیں رقم تھیں۔

وہ بینچ پر بیٹھی۔ سرد ہوا کا جھونکا اسے چھو کر گزر گیا۔ اس نے سر پیچھے سیمنٹ کی پشت سے ٹکا دیا۔ بادل زور سے گرجے۔ آنکھیں موند گئیں۔ بارش کے موٹے قطرے موتیوں کی طرح جا بجا گرنے لگے۔ اس کے مومی چہرے پر بھی کئی قطرے گرے تھے، اور انہی میں اس کی آنکھ کے کنارے کچھ چمکتا ہوا دکھائی دیا۔ گہری یادوں سے بھرا ایک ہلکا گلابی، انمول موتی اس کی آنکھ کے کنارے سے پھسلتا ہوا اس کے رخسار پر آیا ہی تھا کہ یک دم شدت سے برستی بارش کے پانی میں تحلیل ہو گیا۔

پھیلے سبزہ زار پر نصب بینچ پہ وہ بیٹھی، سر ٹکائے، آنکھیں موندے، وہ خوبصورت لڑکی بھیگ رہی تھی۔ عقب میں لہلہاتا درخت سرد ہوا کو اس کی جانب موڑتا، اسے اندر تک سرشار کر رہا تھا۔

“کیا تم نے کبھی یہ سرشاری محسوس کی ہے؟”

وقت آہستگی سے سرکتا گیا، اسے خبر بھی نہ ہوئی۔ وہ تو کسی اور ہی جہاں میں تھی، جہاں صرف بہتے پانی کا ریلہ تھا اور اس میں ڈوبتی یادیں کہ۔۔۔ اچانک بہتا ریلہ رکا۔ اسے محسوس ہوا، پانی کا راستہ جیسے روک دیا گیا ہو۔

نہ جانے کتنے عرصے بعد اس کے اور بارش کے بیچ حائل ہوتی رکاوٹ اسے اندر تک سنسنا گئی تھی۔

اس کا دل شدت سے دھڑکا۔ وہ آنکھیں نہیں کھولنا چاہتی تھی، مگر۔۔۔ اگلے ہی پل اس نے دھیرے سے آنکھیں وا کیں، اور بھوری آنکھیں سیاہ آنکھوں سے ٹکراتی وقت کو روک گئیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی 

استنبول میں خوشگوار سی بہار اتری تھی۔ گلابی نیلے بادل سورج کو ڈھانپے ہوئے تھے۔ کیفے سے آتی کافی کی کڑک خوشبو اس تنگ گلی کی پرانی خوشبو سے میل کھاتی، ایک الگ ہی تازگی فراہم کر رہی تھی، لیکن صرف باہر والوں کو۔ اگر اس تازگی کو نظرانداز کر کے تم اس بھوری لکڑی والے چھوٹے سے گھر میں قدم رکھو تو وہاں سناٹا تھا۔ سلیم صاحب اپنے کمرے میں سو رہے تھے، اور اگر دلارے کے کمرے سے کان لگا کر سنو تو ایک پل کو چپ ہو جاؤ گے۔ اندر سے مدھم سسکیوں کی آواز صاف سنائی دیتی تھی۔

وہ بیڈ پر بیٹھی، منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی، اور نیچے اس کے گھٹنوں کے پاس بیٹھی نورے اس کے ہاتھوں کو تھامے اسے سن رہی تھی۔

“وہ بہت برا خواب تھا، نورے، بہت برا۔ وہ کہتی ہے میں محبت کا دکھ دیکھوں گی، مگر کیوں؟” اس نے نم آواز میں سوال پوچھا۔

“دلارے، وہ ایک خواب تھا۔ تم اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہو، میری جان؟” نورے نے ایک بار پھر اسے سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس نے پہلی بار اسے اس قدر شدت سے روتے دیکھا تھا۔

دلارے نے نفی میں سر ہلایا۔ “وہ صرف خواب نہیں تھا۔ میں نے خود کو دیکھا ہے اس میں۔ وہ میں ہی تھی۔ میرے چہرے پر کوئی جذبات نہیں تھے۔ میں وہاں بکھرے پتھروں کی طرح سخت نظر آتی تھی۔ میں واقعی محبت میں ہاری ہوئی ایک سیرالیتھ نظر آتی تھی۔” اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔

“مجھے خوف آ رہا ہے، میرا دم گھٹ رہا ہے، اور ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔” اس کے انداز سے بے بسی جھلک رہی تھی۔

نورے کھڑی ہوئی اور اسے خود سے لگا لیا۔ وہ بچپن سے پیار، محبت اور عشق کی کہانیاں سنتی آ رہی تھی۔ ان کی شدت کی داستانیں سنتی آ رہی تھی۔ اسے ہمیشہ سے یہ چیزیں فیسینیٹ کرتی تھیں، مگر آج۔۔۔ آج وہ جان گئی تھی کہ دنیا کی سب سے زیادہ تکلیف دہ شے یہی محبت ہے۔ بھلا یہ کیسا جذبہ ہوا کہ جس میں ایک خواب ہی آپ کو اجاڑ کر رکھ دے۔ آپ محبت کرو، وفا نبھاؤ، ایک عمر اپنے محبوب کے لیے وقف کر دو، اور بدلے میں اجرت کے نام پر صرف تکلیف آپ کے حصے میں آئے۔ محبت چاہے دو طرفہ ہو یا یک طرفہ، اگر یہ انسان سے کی گئی ہے تو آپ کو بکھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ نورے نے دلارے کے سر پر بوسہ دیتے افسوس سے سوچا تھا۔

“یہ۔۔۔ خواب سچ۔۔۔ سچ نہیں ہو گا نا؟” دلارے نے سر اٹھاتے امید سے نورے کو دیکھا تھا۔ ہائے، اس امید میں کتنی شدت تھی، یہ کوئی نورے سے پوچھتا۔ اسے لگا اس کا دل کٹ کر ہاتھ پر آن گرا ہو جیسے۔

“ہاں، دلارے۔ یقین رکھو، یہ خواب سچ نہیں ہو گا۔” اس نے بھاری ہوتے دل سے کہا اور مسکرا دی۔

“اب اٹھ جاؤ، میری جان۔ فریش ہو جاؤ، پھر ایک ساتھ ہی ریسٹورینٹ چلتے ہیں۔”

“ہممم۔” دلارے نے اثبات میں سر ہلا دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

“Hayatsın.”

“(میری زندگی)”

ابھی وہ دو قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ عقب سے نورے کی آواز نے اسے روکا۔ وہ پلٹی۔ نورے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ دلارے آزردگی سے مسکرائی۔ وہ اس وقت سفید ٹراؤزر اور گھٹنوں تک آتی ٹی شرٹ والے نائٹ سوٹ میں ملبوس تھی۔ سنہری بال پوری پشت پر پھیلے تھے اور چند لٹیں اس کے روئے روئے چہرے پر بکھری پڑی تھیں۔ اس کی خوبصورت نیلی آنکھیں رونے کے باعث سرخ ہو رہی تھیں۔

نورے نے اسے دیکھتے اپنے ہاتھ پھیلائے تو وہ اس تک آتے اس کے گرد حصار باندھ گئی۔

“نورے کی جان ہو تم، دل ہو تم، روح ہو تم۔” نورے اس کی پشت سہلاتے بولتی گئی۔

“میری زندگی ہو تم۔” اس نے اسے خود سے الگ کیا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر لیا۔ “دلارے سلیم، تم نورے کی بہار ہو، اور میں اس بہار کو کبھی خزاں میں نہیں بدلنے دوں گی۔” 

دلارے مسکرائی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔

“چلو، اب تم فریش ہو جاؤ، میں ناشتہ بنا دیتی ہوں۔”

“ٹھیک ہے۔”

نورے اسے چھوڑ کر کمرے سے باہر چلی گئی تو وہ بھی سر جھٹکتے واش روم کی جانب بڑھ گئی۔

سورج کی کرنیں ہر جانب بکھرتی، اس تنگ گلی کو مزید روشن کرتی جا رہی تھیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد 

وہ چھتری لیے قدم قدم چلتا پارک میں آیا اور اسی کی جانب بڑھ گیا۔

وہ ایک ایک قدم احتیاط سے لے رہا تھا، کہیں بارش کے گندے چھینٹے اس کی پینٹ خراب نہ کر دیں۔ اس نے خود کو چھتری سے ایسے ڈھانپ رکھا تھا جیسے وہی اس کا آخری سہارا ہو۔

آخر میں اس کے پاس جا ہی کیوں رہا ہوں؟ اس نے رک کر خود سے سوال پوچھا، لیکن پھر بنا جواب کے انتظار میں وہ اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔

وہ ہر شے سے بیگانہ تھی، اور وہ اسے دیکھ کر ہو جاتا تھا۔

اس نے چھتری کا سایہ آہستگی سے اس کے اوپر کیا تو اس کی پشت بھیگنے لگی تھی، مگر وہ مکمل طور پر سامنے نظر آتے منظر میں خود کو ڈوبتا محسوس کر رہا تھا۔

سفید مومی چہرے پر قطرے آہستگی سے پھسلتے جا رہے تھے، اور کچھ گیلی لٹیں اس کے چہرے سے چپک گئی تھیں۔ آہ، کیا منظر تھا۔

اس کے چہرے سے پھسلتا پانی بہت انمول تھا۔ اس نے دل سے دعا کی وہ آنکھیں نہ کھولے، مگر اگلے ہی پل وہ آنکھیں کھل گئیں۔

ازمیر کو دیکھتے صاحبہ کے ابرو ناسمجھی سے اکٹھے ہوئے۔

“آپ کو ٹھنڈ لگ جائے گی۔” اس کے منہ میں جو آیا، اس نے کہہ دیا۔ اب یہ تو کہنے سے رہا کہ دل چاہ رہا تھا آپ کے پاس آنے کو۔

اس کی بات پر چند پل خاموشی رہی۔ صرف بارش کی تیز آواز کانوں میں پڑتی تھی۔

” اصل میں ، میں یہاں سے گزر رہا تھا تو آپ پر نظر پڑی” 

اس نے وضاحت دینا چاہی تھی ۔مگر لفظ ساتھ چھوڑ گئے ۔

وہ نظریں اٹھائے اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی،اور اگلے ہی پل اس نے اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھتے دیکھا۔

اس کا چھتری تھامنا تھا کہ پانی کی تیز بوچھاڑ ازمیر کے منہ پر پڑی۔ اس نے ضبط سے آنکھیں میچی……اور گہرا سانس بھرا۔ 

“اوکے، گڈ بائے۔” اس نے نرم مسکراہٹ سے کہا اور مڑ گیا۔ اسے جانا ہی تھا۔وہ صرف چھتری دینے آیا تھا جو وہ تھام گئی تھی ۔ 

وہ اس کی جاتی پشت دیکھتی رہی۔ اس نے دیکھا، وہ ایک ایک قدم احتیاط سے لے رہا تھا۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے سخت کوفت کا شکار ہو۔

شاید نہیں، اسے یقیناً بارش ناپسند تھی۔ اس نے سوچا اور چہرہ اوپر کی جانب اٹھایا۔

ٹرانسپیرنٹ چھتری سے ٹکرا کر اردگرد پھیل کر نیچے گرتی بارش اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکان لے آئی تھی۔

عقب میں ٹھہرے درخت نے پہلی بار اسے اس موسم میں مُسکراتے دیکھا تھا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرینکفرٹ 

چرچراتے ٹائروں کے ساتھ وہ سیاہ گاڑی اس چھوٹے سے اپارٹمنٹ کے سامنے رکی۔ ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر وہ باہر نکلے اور پیسنجر سیٹ کی جانب بڑھے۔

آسمان پر چھائے ہلکے ہلکے بادل زمین پر شفاف سا سایہ کیے ہوئے تھے، یوں جیسے ہر شے کو ڈھانپ لیا ہو۔

“باہر آ جاؤ۔” انہوں نے اس کی سائیڈ کے شیشے پر انگلی سے دستک دیتے کہا۔

وہ کچھ نہ بولی، بس سرد آنکھوں سے انہیں دیکھتی رہی۔

“اندر چل کر مجھے گھور لینا، ابھی باہر آ جاؤ۔” وہ مسکرا کر بولے، جبکہ ان کی مسکراہٹ دیکھ وہ غصے سے دروازہ کھولتی باہر آئی۔

“ہم لوگ غالباً پاکستان جا رہے تھے۔”

“میں نے ایسا نہیں کہا تھا۔” وہ اطمینان سے بولے۔

“ہاں، مگر میں کہہ رہی ہوں۔ آپ مجھے پاکستان لے جائیں۔” اس کا لہجہ اٹل تھا۔

“لے جاؤں گا، مگر ابھی نہیں۔”

“مگر کیوں؟”

“ابھی صحیح وقت نہیں ہے۔”

اس نے بے بسی سے مٹھیاں بھینچ لیں۔ “آپ کے ساتھ میں اس لیے وہاں سے نکلی تھی، کیونکہ مجھے اس ملک سے نکلنا ہے، آپ کو سمجھ کیوں نہیں آ رہا؟”

“میں ابھی اس ملک سے نہیں نکلنا چاہتا۔” انہوں نے عام سے انداز میں کہتے ہوئے سینے پر ہاتھ باندھ لیے۔

“ٹھیک ہے، نہ نکلیں۔ میں جا رہی ہوں۔” وہ ایک دم گاڑی کی پچھلی سیٹ سے اپنا سوٹ کیس نکالتی ہے۔

وہ بے حد دلچسپی سے اسے دیکھتے رہے۔ یہ منظر دلچسپ تھا۔

سوٹ کیس ہاتھ میں لیے وہ ان کے پاس سے گزری۔ ابھی دو قدم ہی چلی ہوگی کہ رک گئی۔

“ٹھیک راستے پر ہی جا رہی ہو۔” انہوں نے مسکراہٹ دبائے اس کی پشت دیکھتے کہا، بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ اسے اندر تک سلگا دیا تھا۔

وہ پیچھے مڑی۔ “آخری دفعہ پوچھ رہی ہوں، آپ ساتھ آ رہے ہیں یا نہیں؟” اس کا انداز ایسا تھا کہ اگر نہ ہوئی تو وہ وہیں کسی نہ کسی کا کام تمام کر دے گی۔

“میں آخری دفعہ بتا رہا ہوں، میں نہیں آ رہا۔ ابھی مجھے فرینکفرٹ کی فضا پسند آ رہی ہے۔”

اپارٹمنٹ کی سرد دیواریں چمکتی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔ مسکراتے چہرے والا ڈاکٹر طاہر اور غصے سے لال ہوتی پلویشا دائم، آہ کیا منظر تھا۔

“اوکے، یہ لاسٹ دفعہ۔ آپ نہیں آ رہے؟”

“بالکل نہیں۔”

“فائن۔” وہ کندھے اچکا کر دوبارہ مڑی اور قدم آگے بڑھا گئی۔

ان دونوں کے بیچ فاصلہ بڑھتا جا رہا تھا۔ دیواروں نے حیرت سے اس کی دور جاتی پشت دیکھی تھی۔

پلویشا تم آگے بڑھو۔ تم خود بھی جا سکتی ہو، ان کی محتاج نہیں ہو تم۔

وہ خود سے کہتی جا رہی تھی۔ اس نے محسوس کیا، وہ کچھ دور آ گئی ہے۔

“تم آگے بڑھو، تم پلویشا دائم ہو، تم کسی کی محتاج نہیں ہو۔” اس کے قدم رک گئے۔ اسے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ یہاں سے جا کر وہ کہاں جائے گی۔ وہ اس کے پیچھے نہیں آئے۔ “اف خدایا، اف۔” آہ، ایسی بے بسی پر جی بھر کر وہ لعنت بھیجتی مڑی۔

ڈاکٹر طاہر نے بمشکل بلند ہوتے قہقہے کو حلق میں ہی روکا تھا۔

وہ کسی آندھی کی طرح تیز تیز قدم لیتی ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے چہرے پر مصنوعی حیرت سجا لی۔

“کیا ہو۔۔۔”

“بات مت کیجیے گا مجھ سے۔” وہ غراتے ہوئے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھ گئی۔

ڈاکٹر طاہر کا تو پتہ نہیں، مگر دیواروں کے خاموش قہقہے بہت دیر تک گونجتے رہے تھے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

بارش اپنی پوری مرضی سے ہر شے کو بھیگو چکی تھی، اور اب ایک نم سا ماحول ہر سو چھایا ہوا تھا۔دوپہر کے دو بجے بھی ایسا ماحول بنا ہوا تھا جیسے ڈھلتی شام ہو ۔ 

وہ ابھی ابھی شاور لے کر آیا تھا۔ ازمیر کو تو وہ بعد میں دیکھتا۔ کیا ہی ہوتا اگر وہ اسے پک کر لیتا تو؟

دل میں بار بار اسے گالیوں سے نوازتے مزاحم کے اندر کی آگ پھر بھی نہیں بجھ رہی تھی۔

چھوٹے سے لاونج میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی، اور اسی خاموشی میں میز پر رکھے کافی کے کپ سے اڑتی بھاپ کافی کی مہک کو ہر سو پھیلا رہی تھی۔ صرف بٹنوں کی ٹک ٹک کی آواز سنائی دیتی تھی۔

وہ لاونج میں رکھے صوفے پر بیٹھا، لیپ ٹاپ گود میں رکھے، تیز تیز بٹن دباتا کام میں مصروف تھا۔

سکرین پر نامعلوم سے نمبرز ابھر ابھر کر غائب ہو رہے تھے کہ یکایک اس نے ایک بٹن دبایا، اور ساتھ ہی رکھے ہیڈ فون کو کانوں پر لگا لیا۔

“آفندی کا کام تمام ہو گیا؟” ہیڈ فون سے ابھرتی آواز نے لاونج کی خاموشی میں خلل ڈالا۔ وہ سانس روکے سنے گیا۔

“جلد ہو جائے گا۔” احمد کی دبی دبی آواز ابھری۔

“ایک بندہ تم لوگوں سے مروایا نہیں جا رہا، ڈوب مرو۔” سامنے والا تعیش میں آیا تھا۔

“دیکھو دلاور، ہم اپنا پورا کام کر رہے ہیں، تم فکر مت کرو۔”

“تم لوگوں پر لعنت بھیجتا ہوں میں۔ خیر، مجھے دبئی کے ڈیلر کے بارے میں بتاؤ؟” مزاحم چوکنہ ہوا۔

“وہ کنفرم ہے۔ سارے انتظامات بھی مکمل ہو گئے ہیں۔”

“ٹھیک ہے، ابھی میں مصروف ہوں، بعد میں پوچھتا ہوں تم سے۔”

رابط منقطع ہو گیا۔ مزاحم نے بدمزہ ہوتے ہوئے ہیڈ فون کانوں سے اتارے۔

اب اس منحوس دلاور کے فارغ ہونے کا انتظار کروں؟ حد ہے بھئی۔

اب وہ لیپ ٹاپ پر تیز تیز ٹائپنگ کرتا، نہ جانے کس کام میں لگا ہوا تھا۔

لاونج میں رکھی ہر شے اسے خاموشی سے دیکھتی رہی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسلام آباد

اسلام آباد کے اس چھوٹے سے گھر کے دروازے میں کھڑی وہ اس کے کھلنے کا انتظار کر رہی تھی۔

گیلے کپڑوں سے ٹم ٹم بہتا پانی دہلیز پر قطرہ قطرہ چھاپ چھوڑ رہا تھا۔ دائیں ہاتھ میں ٹرانسپیرنٹ چھتری تھام رکھی تھی۔

وہ پر سوچ نظروں سے چھتری کو تک رہی تھی کہ دروازہ کھلا۔

“اسلام علیکم!” نحل نے دروازہ کھولتے ہی کہا۔

صاحبہ اندر داخل ہوئی۔

“واعلیکم السلام۔” وہ دروازے کے دائیں جانب رکھے ریک میں سے سلیپر نکالنے لگی، اور نحل حیرت سے اسے دیکھے گیا۔

“کیا ہوا؟” جب وہ سلیپر پہن چکی تو مڑ کر دیکھا، نحل حیرت سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

“صاحبہ، تم نے کب سے امبریلا لینا شروع کر دیا؟”

نحل کی صدمہ سے بھری آواز ابھری۔ نحل واقف تھی کہ صاحبہ بارشوں میں بھیگتی ہے۔ اسے بارشوں سے بے حد محبت ہے اور بارشوں میں چھتری بے حد نا پسندیدہ، مگر آج، ان چھ سالوں میں پہلی بار، صاحبہ کے ہاتھ میں موجود چھتری اسے چونکا گئی تھی۔

وہ اس کے سوال پر ایک پل کو رکی، پھر ایک نظر ہاتھ میں پکڑی امبریلا کو دیکھا۔ اس کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا، مگر۔۔۔ کچھ بھی نہ تھا۔

وہ چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی، جبکہ نحل گہرا سانس بھرتے کچن کی جانب بڑھ گئی۔

“جب تک صاحبہ خود نہ چاہے گی، وہ کچھ نہیں بتائے گی۔”

کچھ وقت بعد وہ دونوں لاونج میں بیٹھی تھیں۔ نحل کافی کا کپ تھامے، صوفے پر آلتی پالتی مارے، بیٹھی، سامنے ہاتھ میں گھڑی باندھتی صاحبہ کو بغور دیکھ رہی تھی۔

وہ پوشاک بدل چکی تھی۔ اب بھوری سکرٹ کے ساتھ سفید سویٹر زیب تن کر رکھا تھا اور بالوں کو آزاد چھوڑ دیا تھا، مگر وہ بے داغ اور میک اپ سے عاری چہرے کے ساتھ بھی بے انتہا حسین نظر آ رہی تھی۔

“کل چلی جانا، پہلے ہی زکام ہو رہا ہے تمہیں صاحبہ، اور سردی لگ جائے گی۔” اس نے فکر مندی سے کہا۔

“آج آفس جانا ضروری ہے۔”

“تو باس سے بات کر لو کہ تم بیمار ہو۔”

“ابھی حالات بیمار ہونے والی نہیں، بہت کام پڑا ہے۔” صاحبہ نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

نحل نے کندھے ڈھیلے چھوڑے۔ “اچھا، پھر گھر جلدی آ جانا۔”

“ٹھیک ہے۔” وہ امید دیتی نظروں سے کہتی، اٹھی، اپنا شولڈر بیگ اُٹھایا اور مڑی کہ نظر سامنے سٹینڈ میں رکھی اس ٹرانسپیرنٹ چھتری پر گئی، اور ایک پل کو پلٹنا بھول گئی۔

(“وہ سیاہ آنکھیں کتنی مشابہت رکھتی تھیں۔”)

وہ ایک سرد آہ بھرتی قدم بڑھا گئی۔

(“ان آنکھوں میں بلکل “ویسا” ہی تاثر تھا۔”)

وہ دروازہ کھولا، باہر آئی اور کھلی فضا میں آنکھیں بند کر کے کھولی۔

(“اس تاثر میں صاف سچائی نظر آتی تھی۔”)

وہ اب گلی میں قدم بہ قدم چلتی آگے بڑھ رہی تھی۔

(“یہ وہ آنکھیں تھیں جنہیں دیکھنے کے لیے میں پچھلے چھ سالوں سے ترس گئی تھی ۔ اور جب آج وہ کچھ دینا چاہ رہی تھی تو میں کیسے نہ تھامتی؟” )

نظروں کے تصادم کا وار ہو چکا تھا، پر ہر وار ابدی بھی تو نہیں ہوتا۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترکی 

خوبصورت بادلوں سے ڈھکے آسمان اور مسرت بخش فضا سے استنبول کا کونہ کونہ مہک رہا تھا۔ شہر کی رونقیں اس تنگ گلی والے علاقے میں لگی رونق کے آگے مانند پڑ رہی تھیں۔

بازار لوگوں کے رش سے بھرا ہوا تھا۔ سرائے میں بیٹھے مہمان جو چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے، ان کے مطمئن قہقے ہر جانب گونج رہے تھے۔ ہر زرے میں جیسے سکون ہی سکون پوشیدہ تھا۔

اسی سکون میں، ہلکی ہلکی بہتی ہوا میں تم تحلیل ہوتے ہوئے اس بھوری لکڑی والے گھر کے اوپر والے کمرے کی کھلی کھڑکی سے اندر داخل ہو تو تمہیں وہ نظر آئیں گی۔

شیشے کے سامنے کھڑی فیروزے حانم۔

آسمانی رنگ کے پاؤں کو چھوتے، گھریلو کھلے گاؤن میں ملبوس، وہ خود کو تک رہی تھی۔

چہرے پر جھریاں پڑ چکی تھیں، اور بال سفید ہو چکے تھے، جو اب ایک ڈھیلے جوڑے میں قید تھے۔

پچپن سالہ عمر اتنا بوڑھا بھی نہیں کرتی تھی جتنی وہ دکھ رہی تھی۔ اس بڑھاپے میں عرصے کی تھکن روپوش تھی۔

یوں ہی خود کو دیکھتے دیکھتے، انہوں نے اپنے ڈریسنگ ٹیبل کی دوسری دراز کھولی۔ ان کے بوڑھے ہاتھ آہستہ آہستہ کام کر رہے تھے۔

ایک مکمل خاموشی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔

اندر ہر رنگ کی لپ اسٹک رکھی تھی۔ انہوں نے ہلکے گلابی رنگ کی اٹھائی اور اس کا ڈھکن اتارتے ہوئے اسے دیکھا۔

کیا کیا یاد نہیں آیا تھا، اس رنگ کو دیکھ کر، ہائے!

وہ ایک سانس خارج کرتے اسے بند کر کے واپس اپنی جگہ پر رکھنے لگی، کہ نظر اپنے ہاتھوں پر گئی۔

سفید، جھریوں زدہ ہاتھ دیکھتے، وہ ٹہر سی گئی۔ کئی پل وہ انہیں دیکھتی رہیں، اور پھر آہستہ سے ایک بار پھر آئنہ میں اپنا عکس دیکھا اور کئی پل دیکھتی رہیں۔

کھلی کھڑکی سے آتی ہوا کا ایک مدھم جھونکا ان کے وجود سے مس ہوتا ہوا گزر گیا۔

جتنی رونق باہر گلی میں تھی، اتنی ہی خاموشی اس وقت ان کے آس پاس پھیلی ہوئی تھی۔

خود کو دیکھتے، وہ مدھم سا مسکرائی ہی تھیں کہ دروازے کی کھٹکنے کی آواز آئی۔

ایک دم باہر سے تیز ہوا کا جھونکا آیا، جو اپنی سنسان آواز کے ساتھ ہر شے کو سنسنا گیا۔

گہرا سانس بھرتے، انہوں نے اپنے قدم بند کمرے کے دروازے کی جانب بڑھائے۔

ابھی وہ دو قدم ہی چلی ہوں گی کہ۔۔۔ کچھ غیر معمولی ہوا۔ وہ رک گئی، تعجب سے اپنے بوڑھے ہاتھ کو دیکھا اور دھک سے رہ گئی۔

ہاتھ میں لرزش تھی۔ وہ کپکپا رہے تھے۔ وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہیں، اور اسی طرح قدم پھر آگے کی جانب بڑھائے۔

ان کی ٹانگیں شل ہو رہی تھیں۔ وہ حیرت زدہ سی کبھی شل ہوتی ٹانگوں کو دیکھتی، تو کبھی کانپتے ہاتھوں کو۔ ناجانے یہ کس بات کا اشارہ تھا۔

وہ لاونج سے ہوتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھی تو دروازہ ایک بار پھر کھٹکایا گیا۔

وہ بھوری لکڑی والے دروازے کے سامنے ٹہر سی گئی۔ ہر شے ساکت ہوتی محسوس ہوئی۔ وہ دنگ چہرے کے ساتھ دروازے کو دیکھتی رہی، اور اگلے ہی پل انہوں نے اپنے ہاتھ کو دروازے کی جانب بڑھتے دیکھا۔

کسی سست رفتار پانی کے بہاؤ کی طرح دروازہ کھلتا چلا گیا، اور دروازے میں ٹہرے فرد کو دیکھ، بوڑھی عورت ساکت ہو گئی۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرینکفرٹ 

رات کے سائے فرینکفرٹ پر پھیل چکے تھے۔

ڈاکٹر طاہر کا یہ اپارٹمنٹ زیادہ بڑا نہیں تھا، مگر پلویشا اور ان کے لیے وہ کافی تھا۔ وہ جب سے آئی تھی، لاونج میں رکھے صوفے پر منہ پھلائے بیٹھی تھی۔ ان کے برعکس، وہ آتے ہی فریش ہونے چلے گئے۔ پھر کچھ دیر اس کے ساتھ جگہ بناتے بیٹھ گئے اور خوب مزے سے میچ لگا دیا۔ جتنی دیر وہ میچ دیکھتے ہنستے رہے، پلویشا اندر ہی اندر کڑھتی رہی۔

وہ دو دفعہ کافی بنا کر اس سے لطف اندوز ہو چکے تھے، جبکہ وہ تو صوفے کے ساتھ ایسے جم گئی تھی کہ اب قیامت کی افراتفری ہی اسے ہلنے پر مجبور کر سکتی تھی۔ وہ اس کی ضد کو دل ہی دل میں سراہنا نہیں بھولے تھے۔

جب دن ڈھل گیا تو وہ کیچن میں رات کے کھانے کی تیاری کرنے لگے۔ اوپن کیچن سے وہ سلگتی نظروں سے انہیں کھانا بناتے دیکھتی رہی۔ وہ جان بوجھ کر اس کے سامنے ماہر شیف بنے ہوئے تھے۔ کبھی سبزیاں کاٹتے، تو کبھی فرائینگ پین کو ہاتھ میں لیے پاستا اوپر اچھالتے۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا، وہ ان کے سمیت کیچن کو آگ لگا دے۔

“اہا! بہت ہی لذیذ، مزہ آ گیا۔” پاستا کی خوشبو کو محسوس کرتے، وہ ڈش اٹھائے ڈائننگ ٹیبل کی طرف آئے اور پلیٹس سیت کرنے لگے۔

وہ خاموشی سے ان کی کاروائی دیکھتی رہی۔

“آ جاؤ، بہت اچھّا کھانا بناتا ہوں میں۔” انہوں نے اسے فرصت سے دیکھتے کہا۔

اس نے کچھ نہ کہا، بس سر جھٹک کر چہرہ دوسری جانب موڑ لیا۔

“آجاؤ پلویشا۔” وہ مسکرا کر بولے۔

جواب نادار۔

وہ ایک دو پل اسے دیکھتے رہے، پھر قدم قدم چلتے اس کے سامنے جا ٹہرے۔

“کیا تمہیں بھوک نہیں لگی؟”

“نہیں۔” وہ خفگی سے بولی۔

“جبکہ تمہارے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہوں گے، نہیں؟”

“بلکل نہیں۔” اس نے ان کی جانب چہرہ اٹھا کر تیکھی نظروں سے دیکھا۔

“سچ میں؟”

“جی ہاں، مجھ۔۔۔”

اس کی بات بیچ میں رہ گئی۔ ڈاکٹر طاہر اگلے ہی پل اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے اور اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

وہ ساکت ہو گئی تھی۔ اس کی زندگی میں پہلی بار کوئی یوں اس کے سامنے اتنی عقیدت سے بیٹھا تھا۔ ساکت ہونا فرض تھا۔

“بعد میں جی بھر کر غصّہ کرنا، میں آخر تک تمہارے غصے کو دیکھنے کے لیے تیار ہوں، مگر پلیز، میری جان، کھانا کھا لو۔”

ان کے لہجے میں موجود منت، محبت اور شفقت محسوس کر پلویشا کے اندر کچھ ڈوب کر ابھرا۔

وہ ان کی آنکھوں میں چند پل اپنے لیے محبت کو دیکھتی رہی اور پھر چپ چاپ دھیرے سے اٹھ گئی۔

“یہ ہوئی نا بات!” وہ خوشی سے کہتے اٹھے ہی تھے کہ وہ جھٹکے سے مڑی۔

“مجھے بھوک لگی تھی، اس لیے اٹھی ہوں۔ کسی خوش فہمی میں مت رہیے گا!”

کڑے تیوروں سے کہتی، وہ ٹیبل کی طرف بڑھ گئی، جبکہ پیچھے ان کا قہقہ بلند ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گہرے بھورے رنگ کے ٹراؤزر اور سویٹر میں ملبوس وہ ساٹھ سالہ آدمی دروازے میں کھڑا تھا۔

اورحان بید (Orhan Baid)۔

فیروذے حانم اسے دیکھتی رہی یک ٹک، بنا پلکیں جھپکائے، یہاں تک کہ اورحان اندر داخل ہوا اور اس سے دو قدم کے فاصلے پر ٹہر گیا۔

دیوار پر ٹنگی تصویریں خاموشی سے کئی پل ان دونوں کو ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا دیکھتی رہی۔ دونوں کی آنکھیں بڑھاپے کے باعث اندر کو دنھس گئی تھیں۔ دونوں کے چہرے پر سجی جھریاں داستانیں سنا رہی تھیں۔

“فیرو۔۔۔ تم تو اب بھی ویسے ہی ہو اورحان۔”

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا، فیروزے بول پڑی، جبکہ اورحان کو دھچکا لگا۔ اس جملے کی توقع اس نے ہرگز نہیں کی تھی۔

فیروزے اب مسکرائی۔ “آؤ بیٹھو، کھڑے کیوں ہو؟”

وہ یہ کہہ کر صوفوں کی جانب بڑھی، جبکہ یہ دوسرا دھچکا تھا جو اورحان بید کو لگا تھا۔ وہ ہونک بنے کبھی صوفے پر بیٹھتی فیروزے کو دیکھتا، کبھی اس کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ کو۔

“آجاؤ اورحان، بیٹھ جاؤ۔ تمہارا تو معلوم نہیں، مگر میں زیادہ دیر ٹہر نہیں سکتی، اصل میں عمر بہت ہو گئی ہے نا۔”

انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، البتہ اورحان کو لگا جیسے بھاری سل اس کے دل پر آن گری تھی۔ فیروزے کی ہنسی کی آواز کسی چابک کی طرح اورحان کو لگی۔ وہ چپ چاپ قدم قدم چلتے صوفے تک آئے اور فیروزے کے بائیں جانب رکھے صوفے پر بیٹھ گئے۔

“کیسے ہو؟”

اس کے بیٹھنے کی دیر تھی کہ وہ مسکرا کر پوچھتی ہیں، البتہ اورحان نے کوئی جواب نہ دیا، وہ چپ چاپ انہیں دیکھتا رہا۔

“اف خدایا، بہرا ہونا کی عمر میری ہے اور سنائی تمہیں کچھ نہیں دے رہا۔”

ان کا قہقہ فضا میں بلند ہوا۔

اورحان! “میں نے پوچھا، کیسے ہو؟”

وہ پھر سے بولی۔ دوسری جانب سوائے خاموشی کے کچھ نہ تھا۔

“اچھا چھوڑو، یہ بتاؤ، سفر کیسا رہا؟ مجھے تو اب سفر بہت تھکا دیتے ہیں۔ اب اس عمر میں سفر ہوتا بھی تو نہیں ہے، ہمت ہے تمہاری۔ وہ ایسے بول رہی تھی جیسے دونوں گہرے دوست تھے۔ اورحان ان کا عام سا انداز دیکھ اندر تک تکلیف سے کانپا تھا۔

“اب بول بھی دو، کچھ اورحان۔”

وہ بار بار اس کا نام لے رہی تھی۔ شاید اس نام سے گہری انسیت وابستہ تھی۔

“اچھا، یہ بتاؤ، کیا کھ۔۔۔”

“Beni affet.”

(مجھے معاف کر دو)

ان کی بات پوری ہونے سے پہلے اورحان کا جملہ گونجا تو ان کی زبان کو بریک لگی۔ وہ رک گئی، ٹہر سی گئی۔ تصویروں نے افسوس سے سر جھٹکا تھا۔

فیروزے کچھ پل تو ساکت پلکیں لیے اپنے سامنے بیٹھے مرد کو دیکھتی رہی اور پھر دوبارہ ایک مسکراہٹ ان کے چہرے پر رینگ گئی۔ اور یہ وہ مسکراہٹ تھی جو اورحان بید کے دل کو برچھی کی مانند چیر گئی تھی۔

“Neden özür diliyorsun, aşkım?”

(تم کیوں معافی مانگ رہے ہو، میری محبت؟)

اورحان کا دل چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ دل کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔

“میں تمہاری محبت کے قابل نہیں تھا، فیروزے۔”

کرب زدہ لہجہ۔

یہ کہہ کر، “میری محبت کی توہین نا کرو۔”

منت بھرا لہجہ۔

وہ بے بسی سے اسے دیکھ کہہ رہ گیا۔ کیا کمال ضبط تھا سامنے بیٹھی عورت کا۔

“مجھے معاف کر دو، فیروزے، خدارا مجھے معاف کر دو۔”

اس کی آنکھیں نم ہو گئی۔ سامنے بیٹھی عورت کا صبر اسے تکلیف دے رہا تھا۔

“میں تمہارے لائق نہیں تھا، کبھی نہیں تھا۔ کاش وقت پیچھے چلا جائے اور میں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہ جاتا۔”

وہ رو دیا۔ ساٹھ سالہ مرد آنسوں کے ساتھ رو دیا، جبکہ فیروزے کی آنکھیں بے تاثر رہیں۔ ہاں، البتہ وہ چپ چاپ اب صرف اسے سنے گئی۔

“مجھ سے غلطی ہو گئی۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کچھ تو بولو، فیروزے۔”

انہیں مکمل چپ دیکھ، وہ بول اٹھے۔

“مجھے برا بھلا کہہ لو، طعنے دو، الزام دو۔ تمہاری خاموشی مجھے گھائل کر رہی ہے۔ خدارا مجھے ڈانٹ لو۔”

اس کی منت پر، فیروزے حانم نے گہرہ سانس بھرا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

بوڑھا مرد اب بوڑھے ہاتھوں سے آنسو صاف کر رہا تھا، جبکہ بوڑھی عورت اپنے کمرے میں چلی گئی۔

ایک عجیب، دل کو ٹھیس پہنچاتی کیفیت ہر سو پھیلتی جا رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرینکفرٹ 

صبح کی خوبصورت، فرحت بخش فضا فرینکفرٹ کی ہر شے کو تازہ دم کر رہی تھی۔ ہلکی ہوا کے جھونکوں، خوبصورت پرندوں کے غول کی اڑان، اور جاگنگ ٹریک پر آگے بڑھتے قدموں کی آواز کے ساتھ ان کی گفتگو بھی نمایاں ہو رہی تھی۔

ٹراؤزر اور شرٹ پہنے، کانوں میں ایئر فون لگائے، وہ تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے۔

“وہ بلکل ٹھیک ہے۔ تم پریشان مت ہو۔”

“اچھا۔ کیا اس کا غصہ کم ہوا؟” ائیر پورٹ سے دائم کی آواز ابھری۔

“غصہ کم ہو گیا ہے، مگر اب بلکل چپ چاپ ہے۔ مجھ سے ناراض ہے۔”

“کیوں؟”

“اسے ڈائریکٹ پاکستان جانا تھا۔ وہ مزید اس ملک سے نہیں جڑے رہنا چاہتی۔”

“میں نے بہت تکلیف دی ہے اسے، بھائی۔” دائم کی ملال بھری آواز پر طاہر نے گہرا سانس بھرا۔

“تم نے تکلیف نہیں دی اسے دائم” وہ ایک طرف بنے سیمنٹ کے بینچ کی طرف بڑھتے ہوئے بولے۔ “تمہیں محبت کو ظاہر کرنا نہیں آیا۔ تم نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں کیا۔” وہ بینچ پر بیٹھ کر نظریں سامنے درخت پر جما گئے۔

“تمہارے نزدیک تم نے جو کچھ بھی کیا، اس کی بھلائی کے لیے کیا۔ کوئی بھی باپ اپنی اولاد کے ساتھ ظلم نہیں کرتا۔ بس بعض اوقات حالات خراب ہو جاتے ہیں۔

” لیکن اب وہ مجھ سے کبھی نہیں ملے گی۔” وہ افسردگی سے بولے۔

طاہر ایک دو پل چپ رہے۔ “مجھے بھی یہی لگتا ہے، دائم۔ بہت چھوٹی عمر میں اس کے دماغ نے اتنا بوجھ اٹھا لیا ہے کہ اب وہ کسی بھی طرح اس سے آزاد ہونا چاہتی ہے۔ اور یہی آزادی اسے تم سے دور بھی کر دے گی۔ وہ تم سے بہت محبت کرتی تھی۔ حد سے زیادہ۔ اسی لیے تمہاری دی گئی تکلیفیں وہ اتنی آسانی سے نہیں بھولے گی۔ اسے کچھ وقت دو۔”

“ٹھیک ہے۔” وہ شکستہ لہجہ میں ہامی بھرتے ہوئے بولے۔ “اب تم مجھے یہ بتاؤ، بزنس کے کیا مسائل چل رہے ہیں؟”

طاہر کے سوال پر کئی پل خاموشی چھا گئی۔

“حالات درست نہیں ہیں۔ سب کچھ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ کمپنی مکمل ڈوب جائے گی، بھائی، میں کیا کروں؟”

“بچت کے کتنے چانسز ہیں؟”

“ٹوینٹی پرسینٹ۔”

“پھر فوراً کمپنی شیفٹ کرو۔” طاہر نے حل پیش کیا۔

“لیکن بھائی، یوں اچانک شیفٹ، یعنی اس طرح تو بہت نقصان ہو گا۔”

“وقتی نقصان ابدی نقصان سے بہتر ہوتا ہے۔”

دائم ایک دو پل چپ رہے۔ “ٹھیک ہے، میں سوچتا ہوں۔”

طاہر کی تھوڑی سی تیوری چھڑی ۔ “ہاں، تم ہمیشہ سوچتے ہی رہو۔ لیکن یاد رکھنا، جب سڑک پر آجاؤ تب میرے پاس آنے کا مت سوچنا۔”

دائم کا قہقہ بلند ہوا۔ “آپ کے پاس نہیں آؤں گا تو کس کے پاس آؤں گا؟” وہ نم آواز میں گویا ہوئے۔

“اب زیادہ دکھی آتما بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ جیسے ابھی میں یہاں ہوں، سارے معاملات جلدی تہ کرو، میں قیوم سے کہتا ہوں وہ بلڈنگ دیکھے گا۔”

“قیوم؟ وہ کیوں؟”

“دائم شاہ، تم اپنا بزنس اسلام آباد میں سیٹل کرنے لگے ہو۔”

طاہر کی بات پر خاموشی چھا گئی۔

“بھائی، میں لاہور واپس آنے کا سوچ رہا تھا۔”

“وجہ؟” طاہر نے بھنویں اچکائی۔

“کیا مطلب وجہ؟ وہ میرا آبائی شہر ہے او۔۔۔”

وہی شہر جسے تم کئی سال پہلے اپنی ضد کی وجہ سے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ دائم کی بات پوری ہونے سے پہلے طاہر نے کہا۔

 “اسٹیورڈ نے یقین دلایا تھا مجھے خود پر، پر اب وہ ایسے بھاگ گیا ہے جیسے کون دائم، کونسی کمپنی۔” 

وہ افسوس سے بولا ۔ 

طاہر نے گہرا سانس بھرتے ہوئے سر بینچ کی پشت سے لگایا۔

“دائم، تم نے کیا، اللّٰہ کے احکامات نہیں پڑھے تھے؟ جب اللّٰہ نے مسلمانوں کو یہ حکم دے دیا کہ غیر مسلموں کو جگری دوست مت بناؤ، وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ پھر تم نے کیوں اس پر اتنا بھروسہ کیا؟ میں اور ابراحیم نے تمہیں پہلے ہی منع کیا تھا۔ اپنا ملک اپنا ملک ہوتا ہے۔ مگر نہیں، تمہیں تو دوستی کا بھوت اور کاروبار میں ترقی کے خواب بے چین کیے ہوئے تھے۔”

طاہر نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “اب جب وہ بھگوڑا دوست آدھے سے زیادہ شیئرز لے کر بھاگ گیا ہے اور کمپنی ڈوبنے لگی ہے تو تم حب الوطنی بن کر نغمہ گانے آ گئے ہو؟”

“آپ آج کل کچھ زیادہ ہی تنزانیہ ہو گئے ہیں۔” دائم نے خفگی سے کہا۔

“تمہاری بیٹی کی صحبت کا اثر ہے، جناب۔” طاہر ہنس پڑے۔

“تو اب میں کیا کروں؟”

“تم جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے رخصت ہو جاؤ۔ اسلام آباد تمہارا انتظار کر رہا ہے۔” طاہر نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔

“بھائی…..”

“بولو۔”

“میں نے سب کچھ بگاڑ دیا ہے نا؟ نہ بزنس سنبھال سکا، اور نہ ہی اولاد کو۔”

“اگر تمہیں لگتا ہے دائم کہ تم نے سب بگاڑ دیا ہے تو اب اسے سدھارنے کی کوشش کرو۔ اگر اسی افسوس میں رہو گے تو ساری زندگی یہی ٹہرے رہ جاؤ گے۔ اس لیے مایوسی سے نکلو۔ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، اور یہی غلطیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم انسان ہیں۔ تم بھی انسان ہو، اور دو بھائی تمہارے بلکل پیچھے کھڑے ہیں۔”

دوسری جانب دائم کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمک رہا تھا۔

“چھوٹے کا تو پتہ نہیں، تمہارا بڑا اور بہت ہینڈسم بھائی سایہ کی طرح تمہارا ساتھ دے گا، اس لیے بے فکر رہو۔ میں سب ٹھیک کرنے میں مدد کروں گا۔ باقی جو اللّٰہ کا فیصلہ۔”

“شکریہ۔”

“کوئی بات نہیں۔ خیر، مجھ۔۔۔”

دور جاتے طاہر کے ساتھ دائم کی آواز بھی دھیرے دھیرے دور ہوتی جا رہی تھی۔

پارک کے اس بینچ نے مسکراتی آنکھوں سے اس انسان کی پشت دیکھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ہی پل گزرے تھے کہ وہ واپس لوٹی۔ ان کے ہاتھوں میں ایک چھوٹا سا لکڑی کا باکس تھا۔ وہ اسے لیے صوفے تک آئیں اور درمیان میں رکھی میز پر بیٹھتے ہوئے رکھ دیا۔

ڈبہ دیکھ کر اورحان حیران رہ گیا، جبکہ فیروزے اب اسے کھول رہی تھی۔ تصوریں سانس روک کر ڈبے کے کھلنے کا منظر دیکھ رہی تھیں۔ آہستہ سے ڈبہ کھلا۔

لاونج سے گزر کر ایک سنسنی خیز ہوا کا جھونکا آیا، اور ڈبے میں رکھی چیزیں دیکھ کر اورحان ساکت ہو گیا۔ دل جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا۔

اس کے سامنے ایک بوسیدہ، پرانا، تہہ شدہ کاغذ رکھا ہوا تھا، جس کے دائیں کونے پر تقریباً پینتیس سال پہلے کی تاریخ درج تھی۔ وہ نظر اٹھا نہ سکا۔ اس کے سامنے کئی اور تہہ شدہ کاغذات بھی رکھے گئے تھے۔

Tüm mektupların benim için bugün bile hâlâ canlıdır.

(“تمہارے تمام خطوط میرے لیے آج بھی زندہ ہیں۔”)

فیروزے کا لہجہ نرم تھا۔ اس بار انہوں نے اس کے سامنے ایک سلور ویڈنگ رنگ رکھی، جو اپنی حالت سے ہی پرانی معلوم ہو رہی تھی۔

Bu yüzüğün kenarında parmaklarının dokunuşunu bugün bile hissedebiliyorum.

(اس انگوٹھی کے کنارے پر تمہاری انگلیوں کا لمس میں آج بھی محسوس کر سکتی ہوں)

“خیر، تمہیں تو اور بھی بہت کچھ دیکھانا ہے اورحان بید، فلحال تم یہ دیکھو۔” انہوں نے سرد آہ بھرتے کہا اور ڈبے سے ایک تصویر نکالی، میز پر اورحان کے سامنے رکھی۔

خوبصورت گلابی فراق میں ملبوس، سنہرے بالوں والی ایک انتہائی خوبصورت لڑکی پارک میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔ یہ نوجوان فیروزے تھی، جو خوشحال اور زندگی کو محسوس کر رہی تھی۔

Bana bak, Seni beklerken gençliğim tükendi.

(مجھے دیکھو، تمہارا انتظار میری جوانی کھا گیا)

لفظ تھے یا جذبات، اورحان نام نہ دے سکا۔ کرب ہی کرب تھا، اذیت ہی اذیت۔ آنسوں آبشار کی طرح بہہ رہے تھے، ان کے چہرے کو بھیگاتے ہوئے، جبکہ وہ بولیں:

“تم نے کہا تھا تم آؤ گے۔ میں تم پر اتنا یقین رکھتی تھی کہ ایک عمر تمہارے انتظار میں گزاری۔ اور میرا انتظار رائیگاں نہیں گیا۔” وہ مسکرائیں۔

“اب کیا فرق پڑتا ہے کہ محبوب کو دیکھ کر خوشی سے بے حال ہونے والی عمر نہیں رہی، مگر… دیکھ تو لیا نا؟”

ان کی بات پر اورحان کا سر مزید جھک گیا۔

“ظاہری طور پر میرا کچھ بھی نہیں بگڑا۔ صرف بال سفید ہو گئے، عمر ڈھل گئی۔ اور تو کچھ بھی نہ بگڑا، ہاں البتہ اندر سے بہت کچھ بکھر گیا۔ جذبات، محبت، دل… ہر شے چور چور ہو رہی تھی۔ اور میں… میں پریشان تھی، پہلے کس کو بچاؤں؟ محبت کو یا دل کو؟ ہک ہاہ… بڑا کڑا امتحان تھا اس وقت میرا۔”

ایک پل کے لیے ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ تصویریں کرب سے ایک دوسرے سے نظریں چرا رہی تھیں۔

“تم آج آ کر مجھ سے معافی مانگ رہے ہو، حالانکہ تمہارا تو کوئی قصور بھی نہ تھا۔ تم نے سولی پر لٹکنے کا فیصلہ سنایا تھا، عمل تو ہم نے خود کیا تھا۔” وہ پھر ہنس پڑیں۔

فیروزے حانم کی آواز اور اورحان بید کی خاموشی میں باہر گلی سے آتی ایک گلوکار کے گیت کی آواز ایک دل کو جکڑ دینے والی کیفیت پیدا کر رہی تھی۔

kederim de bir aşk, görüyor mu?

(میرے غموں کے پیچھے جو محبت ہے، کیا تم دیکھ سکتے ہو؟)

“تم جانتے ہو؟ ہر روز، ہر پل تمہاری یاد مجھے اندر سے گھائل کرتی تھی۔ میں صبح اٹھتی تھی تو حسرت سے سوچتی تھی تم ہوتے تو شاید محبت بھرے گیت گا کر مجھے اُٹھایا کرتے۔ کھانا کھاتی تھی تو سوچتی کہ شاید تم ہوتے تو پہلا نوالہ اپنے ہاتھوں سے مجھے کھلاتے۔ میں برتن دھوتی تھی تو سوچتی کہ شاید تم ہوتے تو ساتھ میں برتن دھلاوتے یا پھر ایسا بھی تو ہو سکتا تھا نا کہ تم دھوتے اور میں محبت سے صرف تمہیں تکتی رہتی۔” ایک دلکش مسکراہٹ ان کے چہرے پر موجود تھی۔

Aşkını sevgini sorguladım. yolların kapalıydı zorlamadim.

(میرا یہ سوال تم سے اور تمہاری محبت سے ہے۔

تم تک جانے والے تمام راستے بند ہو گئے تھے، میں اسے مجبور نہیں کر سکتا تھا۔)

“رات ہوتے ہی تم اور میں ایک ساتھ کوئی اچھی سی مووی دیکھتے، تم میرے بال سہلاتے اور میں تمہارے کندھے پر سر رکھے صرف تمہاری موجودگی کو محسوس کرتی۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔دن کے چوبیس گھنٹوں میں صرف تمہاری ہی سوچیں میرے زہن میں گردش کرتی رہتی تھیں۔”

اورحان کے آنسوؤں میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔

“ایک وقت تھا جب تمہارا نام لیتے میں رو پڑتی تھی، شدت سے۔ اتنا کہ سلیم بھائی مجھے روتا دیکھ تمہیں بدعائیں دیتے تھے۔ بہت دیتے تھے، مگر میں انہیں روک دیتی تھی۔ میں انہیں کہتی تھی، وہ آپ کی بہن کی رگ رگ میں سمایا ہے، اگر اسے کچھ ہوا تو موت پہلے آپ کی بہن کے گھر دستک دے گی اور جانتے ہو پھر وہ کیا کرتے تھے؟”

وہ ایک پل کو رکی۔۔۔۔۔”وہ رو دیتے تھے۔ میرا بھائی میری اذیت پر سوائے رونے کے کچھ نا کر پاتا تھا۔”

“آہ۔۔۔بہت کڑا وقت تھا وہ اورحان۔”

“مجھے لگتا تھا کہ جب تم آؤ گے تو میں چیخوں گی، چلاؤ گی، جتنا ہو سکا تمہیں برا بھلا کہوں گی، اپنی ہر اذیت کا حساب مانگو گی مگر لگتا “تھا”۔ ایک وقت کے بعد یہ خواہش مر گئی۔ اور جانتے ہو وہ کونسا وقت تھا؟”

اورحان رکا، سر اٹھا کر فیروزے کو دیکھا اور پھر ٹہر سے ہی گئے۔

“میں نے تمہیں ابھی جو کچھ بھی کہا، ان سب میں ایک لفظ مشترک ہے۔ اور وہ لفظ “تھا” ہے۔ یعنی ان سب باتوں کو گزرے اب ایک عرصہ ہو گیا ہے۔ میں بتاتی ہوں کیسے۔” وہ آگے کو ہوئی۔

“جب تم مجھے شادی کرنے جے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی یہاں چھوڑ کر گئے تھے اور تم نے کہا تھا کہ تم واپس ضرور آؤ گے تو میں مطمئن تھی۔ تمہاری واپسی کا مجھے پورا یقین تھا اورحان۔”

Duzamadim, gidişin sessizdi.

(میں سن بھی نا سکا، تم اتنی خاموشی سے مجھے چھوڑ کر چلے گئے)

“مگر پھر دو ماہ کی مدت پانچ ماہ میں بدلی۔ مجھے فکر لاحق ہوئی۔ تم نے پچھلے پانچ ماہ سے مجھ سے بات نہیں کی تھی، میں پریشان ہوئی کہ کہیں تم کسی مصیبت میں تو نہیں ہو۔ مگر صرف پریشان ہو سکتی تھی۔ آخر تمہارے بارے میں کس سے ہی پوچھتی؟ میں نے دعائیں کیں، معجزے پڑھے، منت مانگی مگر سب بے سود۔ میں روتی تھی تمہاری خیر کے لیے مگر کہیں سے کچھ پتہ ہی نا چل رہا تھا۔ پورا ایک سال میں اور میرا بھائی خوار ہوئے تھے تمہاری تلاش میں۔ پھر ایک سال بعد میرے گھر کی ڈور بل بجی۔ میں گئی تو آگے سے مجھے ایک خط دیا گیا، اورحان بید کے نام کا۔ آہ اس لمحہ کو اگر میں یہ کہوں کہ جنت کہ وعید سنائی گئی تو جھوٹ نہیں کہوں گی۔”

“میں نے وہ جھپٹا، سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں میں نے اسے کھولا اور پڑھا جس پر لکھا تھا۔۔۔۔۔

اسلام علیکم!

کیسی ہو فیروزے ۔ امید کرتا ہوں تم ٹھیک ہو گی ۔ میں بلکل ٹھیک ہوں اور صحت یاب ہوں ۔ مجھے یہاں لاس اینجلس میں ایک نوکری مل گئی ہے جہاں میں اس وقت تعینات ہوں ۔ کچھ عرصے تک میں تم سے ملنے آؤں گا میرا انتظار کرنا ۔”

‘تمہارا اورحان ۔”

Bilemem ki ben yarın sessizce döner mısın.

(میں نہیں جانتی کہ شاید کل ۔۔۔۔تم اسی طرح خاموشی سے لوٹ آؤ گے ۔)

آہستہ آہستہ گانے کی آواز مدھم ہوتی گئی ۔ شاید گلوکار اب اٹھ کر جا رہا تھا ۔

انہوں نے رٹے رٹائے لفظ جوں کہ توں سنائے ۔ میں اس وقت بلکل ٹھیک نہیں تھی مگر تمہارا خط ملتے ہی جیسے بہار لوٹ آئی تھی۔ میں بھاگی ۔ سلیم بھائی کے پاس گئی انہیں خط پڑھوایا اور جانتے ہو انہوں نے کیا کہا ؟ انہوں نے بہت عجیب بات کہی تھی ۔اس وقت تو میں نے غور نا کیا مگر اب میں اس بات کو سوچ کر ہنس دیتی ہوں ۔”

“انہوں نے کہا ، میں دعا کروں گا کہ اس کا باس اسے تم سے فون پر بات کرنے کی اجازت دے دے ۔تو معاملہ خطوط کی صورت آگے نہیں بڑھے گے ۔ ” 

وہ ہنس پڑی ۔

“خیر ، تمہارا ایک خط ، اور مجھے میرے پورے سال کی بھاگ دوڑ بھول گئی ۔ کتنی شدت تھی نا میری محبت میں یا یہ کہہ لو کتنا اعتبار تھا نا تُمہارے لفظوں پر ۔

پھر کیا ہونا تھا ، اب ہمارا انتظار شروع ہو گیا ۔ روز ۔ ہر پل ہر لمحہ ۔ کاش کہ تم کوئی تاریخ بتا دیتے لیکن خیر ۔ پورے ڈیرھ سال بعد پھر کچھ آیا ۔ تم تو نا آئے مگر تمہارے نام کا ایک خط آگیا ۔ وہی الفاظ ۔ وہی لہجہ ۔ اور وہی جلد آنے کی امید تھاماتا سہارا ۔

اس وقت میدی حالت اگر یہ کہوں کہ ایسی تھی جیسے کئی سالوں کے بھوکے کو کھانا دیکھا دیا ہو تو جھوٹ نہیں کہوں گی ۔ میں دوبارہ بھاگی ۔ سلیم بھائی کو خط دیکھایا ۔ انہوں نے پڑھا اور جانتے ہو انہوں نے کیا کہا تھا ؟ “

کاش خدا اس کے آنے میں آسانی فرمائے تاکہ وہ جلد تم تک پہنچ جائے ۔ آہ بھائی بھی نا کیا کچھ بول دیتے تھے ۔

بڑھتے وقت کے ساتھ میری بے چینی عروج پر تھی ۔ بے بسی نگلنے کو تیار تھی ۔

بیس سال تک تم مجھے خط بھجتے رہے اور میں ہر خط سنبھال کر رکھتی رہی ۔ ہر ڈیرھ سال بعد تمہارا خط آتا تھا ۔ مجھے تکلیف ہوتی تھی کہ ہر بار کاغذ کیوں آتا ہے کھبی کاغذ بھیجنے والا بھی تو آئے نا ۔بہت ۔۔۔۔۔بہت بے بسی محسوس ہوتی تھی ۔ کاش تم میری ازیت سمجھ سکتے جب میں درد سے روتی تھی کیوں کہ تمہاری یاد بڑا ستاتی تھی مجھے ۔

میں ہر پل تمہیں یاد کرتی تھی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ مجھے یقین ہو گیا ۔ دماغ نے بھی مان لیا کہ اب تم واپس نہیں لوٹنے والے مگر دل۔۔۔۔۔ہائے یہ اور میں ماننے کو تیار نا تھے ۔ ہمیں انتظار تھا ۔ محبوب کے لوٹ آنے کا ۔

میں کئی بار روئی مگر پہلا سفید بال دیکھنے پر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ۔ میں نے آخری دفعہ میک اپ تب کیا تھا جب تم سے آخری ملاقات کی تھی ۔ تب سے اب تک تو طویل مشقت میں زندگی گزار دی تھی۔ خیر میں اس وقت کس حال میں تھی اگر یہ کہوں کہ ننگے پاؤں انگاروں کی لمبی ۔۔۔۔۔سڑک پر چل رہی تھی تو جھوٹ نہیں کہوں گی ۔ وہ مسکرائی ۔اور ایک پل کا توقف کیا ۔

اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔ایک روز مجھے ملنے والے تُمہارے خط نے میرے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی تھی ۔ میں نا تو روئی تھی نا چیخی اور نا ہی ماتم کیا ۔ ہائے کاش میں اپنی اس تکلیف کا کوئی نام دے سکتی جب میں نے یہ پڑھا کہ تم بیس سال پہلے ہی کسی سے شادی کر چکے تھے اور اب تمہارا یہاں آنا ممکن نہیں ۔ آہ کیا منظر تھا نا وہ جب میں نے کپکپاتے ہاتھو سے اس کاغذ کو پورا پڑھا تھا ۔

اورحان ساکت وجود لیے سنے گیا ۔

میری ساری امیدیں ایک پل میں کرچی کرچی ہو گئی ۔ میرے اندر باہر گہرا سکوت چھا گیا ۔ ایسا کہ ۔۔۔۔۔۔دل اور دماغ تو صف ماتم بچھا چکے تھے مگر میں ۔۔۔۔۔میں ساکت ہو گئی ۔ اگر میں یہ کہوں کہ میں پتھر کا سفید مجسمہ بن گئی تھی تو جھوٹ نہیں کہوں گی ۔

بیس سال ، میں جب جب روئی بھائی رونے سے روکا کرتے تھے مگر اس دن ۔۔۔۔اس دن وہ منت کر رہے تھے فیروزے رو لو ۔ مگر میں نہیں روئی ۔

درد رونے کی شدت سے آگے بڑھ گیا تھا ۔ میری چالیس سالہ عمر جس کا محور صرف ایک ،شخص تھا ، رائیگاں چلی گئی ۔

پہلی بار فیروزے حانم کے لہجے میں آنچ نمایاں ہوئی تھی ۔ 

مجھ میں بہت سی تبدیلیاں آ گئی تھیں، جیسے کہ۔۔۔ پہلے نماز میں تم شامل ہوتے تھے۔ میری دعا صرف اورحان کے لیے ہوتی تھی لیکن اب۔۔۔ اب میں صرف چپ چاپ بیٹھی رہتی تھی۔ سارا دن خاموش، پوری رات کھلی آنکھوں سے چھت کو تکتی رہتی تھی۔ ایک مکمل سکوت ہر طرف پھیل گیا تھا۔

پھر ایک روز کچھ الگ ہوا۔ کچھ ایسا کہ اگر میں اسے اپنی سب سے بڑی نعمت کہوں تو غلط نہیں ہو گا۔ فیروزے حانم سرشاری کے عالم میں گویا ہوئی۔

اس روز میں نے کچھ دیکھا، اپنے کمرے کی کھڑکی سے نیچے گلی میں دو میاں بیوی چہل قدمی کر رہے تھے۔ انہیں دیکھنا تھا کہ میرے اندر باہر جھکڑ چلنے لگے۔ مجھے یاد آیا۔ تمہارا چہرہ، تمہاری باتیں، تمہاری یادیں اور۔۔۔۔۔ اور میں بیٹھتی چلی گئی۔ دل پکڑے میں شدت غم سے چلا اٹھی۔ اور جانتے ہو نکلنے والی چیخ میں میرے منہ سے کیا لفظ نکلا تھا۔

اورحان کچھ نہ بولا۔ وہ تو سکتہ کے عالم بیٹھا تھا۔

میں نے چیخ کر اپنے رب کو پکارا تھا۔

میں چلائی تھی، “اللّٰہ۔”

“اللّٰہ مجھے درد ہے۔ اللّٰہ مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔ اللّٰہ بے انتہا ہو رہی ہے۔ اللّٰہ مجھے تھام لے۔ اللّٰہ دم گھٹ رہا ہے۔ اللّٰہ فیروزے کو تھام لے۔”

“وہ لفظ بے اختیار نکلے تھے۔ وہ کبھی بھی میری زندگی میں شامل نہ تھے، مگر شاید یہ اس رب کا معجزہ ہی تھا۔

لیکن ایک بات جو مجھے وقت نے سکھائی، اگر تم غم کی حالت میں اپنے رب کو پکار رہے ہو تو سمجھ جاؤ، یہ اس رب کی اِجازت سے ہو رہا ہے۔ خیر، میں رب کو پکارتی گئی اور چلاتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مجھے نیند نے آن لیا۔ اور یہ وہ نیند تھی جس کے بعد زندگی بدلنے والی تھی۔”

” آہ! کیا نیند تھی وہ، اورحان۔”

میں اٹھی اور آئنہ میں جا کر خود کو دیکھا۔ تمہیں گئے بیس سال ہو گئے تھے اور میری عمر اس وقت بیالیس سال تھی۔ ایک ادھیڑ عمر عورت۔

تب میں نے سوچنا شروع کیا۔ جانتے ہو کیا؟ وہ ایک پل کے لیے رکی، گہرا سانس لیا۔

میں نے سوچا، جب تم میرے ساتھ نہیں تھے تب کون تھا؟ جب مجھے تکلیف ہوتی تھی، اس تکلیف کو دیکھنے والا کون تھا؟ اب تک مجھے سہارا دینے والی، مجھے تھام کر رکھنے والی ذات کون تھی؟ اور جواب تھا۔۔۔ اللّٰہ۔

میں تمہیں اور رب کو کمپئیر کرنے لگی۔ ایک ایک شے میں رب کا پلڑا تم سے بھاری پڑ رہا تھا اور میں دنگ تھی کہ جس کے پیچھے ایک عمر تپتے سہرا پر بھاگتی رہی وہ تو اس محبت کرنے والی ذات کے سامنے کچھ بھی نہ تھا۔

دیر سے ہی سہی، مگر جب معلوم ہو گیا کہ فیروزے تم سے بے حد محبت کرنے والی ذات ابھی موجود ہے تو یہاں سارے غم ختم ہو گئے۔ کیوں؟ کیا اس کی وجہ بتانے کی ضرورت ہے بھلا؟

میری نمازوں میں اب صرف اللّٰہ رہ گیا۔ میری سوچوں میں وہ خود بخود آنے لگا۔ سب اچانک ہوا، مگر اس اچانک کو ہونے میں بھی بیس سال لگے تھے۔ میں تم پر بہت غصہ تھی، مگر جب میں نے دیکھا کہ تمہارا جانا مجھے میرے رب سے ملا گیا تو سارا غصہ زائل ہو گیا۔

اگر تم نہ جاتے، تو آج میں محبوب کے آگے جان بھی قربان کر دینے والی ہی رہتی، مگر۔۔۔ اب میں ایک باوقار عورت ہوں، جس کی محبت اس کا رب ہے۔

میں کبھی یہ نہیں کہوں گی کہ تم سے محبت کرنا میری غلطی تھی، کیونکہ جو غلطی آپ کو آپ کے رب سے ملا دے، پھر وہ غلطی نہیں آزمائش ہوتی اور تم میری آزمائش تھے، جس کی سمجھ مجھے بہت دیر سے آئی مگر آگئی۔

اس لیے اب تم میرے سامنے بھی ہو تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نہ خوشی، نہ غم۔ تم میرے لیے میرے اپنے نہیں، صرف در پر آئے مہمان کی حیثیت رکھتے ہو۔ اور مومنین گھر آئے مہمانوں کو گھر آنے سے نہیں روکتے۔

اورحان کو لگا جیسے کسی نے اس کے منہ پر بلیچہ مار دیا ہو۔ محبوب کے بلند رتبہ سے وہ ایک پل میں فرش پر گر گیا۔

فیروزے حانم نے آنکھیں بند کیں اور پھر جب کھولی، تو اب تک میں پہلی بار ان کی آنکھوں میں گلابی سا پانی چمک رہا تھا۔ اور بولی تو لہجہ غمگین تھا ۔ 

لیکن میں بھی انسانی فطرت کی مالک ہوں اورحان۔ اب تک یہ ملال ہے کہ میں نے اپنی قدر کیوں نہ کی، اپنی عمر کسی اور انسان کے لیے کیسے وقف کر سکتی ہوں؟ اپنی جوانی، رنگوں سے کھیلنے کی عمر غموں میں کیسے تباہ کر سکتی ہوں؟ لیکن اس کا جواب ہے محبت، اندھی محبت۔ تم میرا سب کچھ تھے اورحان، میری تہجدو کے سجدوں میں تم شامل ہوا کرتے تھے۔ مجھے تم سے اتنی محبت تھی کہ پوری زندگی تمہارے نام لکھ دی۔ آج سب ٹھیک ہو چکا ہے، لیکن۔۔۔ لیکن واقعی کیا کچھ ٹھیک ہوا ہے؟ تمہارے نہ ملنے کا ملال تو آج بھی ہے۔ 

ٹھیک ہے، تم آزمائش تھے، میں سمجھ گئی، مگر۔۔۔ مگر تم نعمت بھی تو بن سکتے تھے نا؟

انہوں نے حسرت سے پوچھا۔ 

لیکن خیر۔۔۔ انہوں نے گہرا سانس لیا۔

اب تم یہ کہہ کر کہ تم معافی مانگنے آئے ہو خود کو تکلیف مت دو۔ میں تمہیں کب کا معاف کر چکی ہوں، کیونکہ مجھے تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا تھا۔

اورحان نے بے بسی سے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ اس نے دیر کر دی تھی، اتنی کہ۔۔۔ اب کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ 

کئی پل گہری خاموشی ان کے درمیان چھائی رہی ۔ پھروہ اٹھا۔ فیروزے حانم بھی اٹھی۔

میں پھر کہتا ہوں، میں تمہارے قابل نہیں تھا۔

میں پھر دہراتی ہوں، یہ کہہ کر میری محبت کی توہین نا کرو۔

اورحان نے ایک پل کو رک کر اس کی بوڑھی آنکھوں میں دیکھا اور۔۔۔ مڑ گیا۔

فیروزے نے اس کی جاتی پشت دیکھی اور صوفے پر ڈھیر سی ہو گئی۔ سر صوفے کی پشت سے لگاتی وہ آنکھیں موند گئی۔ بند آنکھ سے ایک موتی ٹوٹ کر گال پر پھسلتا چلا گیا۔ وہ انسان تھی، اور انسان مرتے دم تک تکلیف کو محسوس کرتا ہے، چاہے پہاڑ جتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو جائے۔

“اسلام علیکم! فیروزے حانم ۔ یہ کون سے انکل یہاں سے گئے ہیں ابھی؟ “

تھوڑی ہی دیر گزر گئی تھی کہ دلارے سلیم اندر داخل ہوئی اور پوچھا۔

‘مسافر تھا۔ پتہ پوچھ رہا تھا، میں نے بتا دیا۔ ” 

انہوں نے آنکھیں کھولتے ہوئے جواب دیا اور لکڑکی کے ڈبے میں اب ساری چیزیں واپس سمیٹنا شروع کر دی۔ ایک سفر تھا ان کا، جس کو اب منزل مل گئی تھی۔

“اچھا، اچھا۔ “وہ کیچن کی جانب بڑھتے ہوئے بولی، “مجھے لگا فیروزے حانم نے کسی کو پسند کر لیا ہے۔ ویسے میری مانے تو آپ کسی سے محبت کر لیں فیروزے حانم، اچھا رہے گا۔”

کیچن سے آتی دلارے کی آواز پر وہ مسکرا دی۔ بعض دفعہ آپ کے پاس سوائے مسکرانے کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *