ناول کا نام
حرف حیا
از قلم
لائبہ مقبول احمد
انتساب
میری دوسری کہانی ان کے لیے جو لوگ زبردستی کے رشتوں کے سخت خلاف ہیں اور اپنے حق میں کھڑے ہو کر اپنے لیے لڑتے ہیں ۔
تاریخ اٹھ اپریل دوپہر کا ایک بج رہا تھا۔اسمان نے نیلی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور کہیں کہیں پر سفید بادلوں کی ٹکڑیاں بکھری ہوئیں تھیں۔
ایک ہی گھر میں تین جنازے پڑے ہوئے تھے۔پورے گھر میں اچانک ماتم کا ماحول چھا چکا تھا۔شام کے پانچ بجتے ہی تینوں جنازوں کو دفن کر دیا جا چکا تھا۔ہر کوئی اس صدمے میں ہی تھا کہ تب تک حسیب اپنے بیٹے کو وہاں سے لے کر جا چکا تھا۔
میں دوبارہ کبھی واپس نہیں اؤں گا۔میں نے یہاں پرا اپنے بہت سے عزیز لوگوں کو کھویا ہے۔یہ حسیب کے اخری الفاظ تھے اس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں ایا۔
چند عرصے پہلے۔۔۔
کم ان زوئی اب بس بھی دو۔اب اس میں رونے والی کیا بات ہے ۔تم پاس ہو گئی ہو نا۔امامہ زویا کےکندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے کب سے چپ کروا رہی تھی۔
زویا کہ اخری سمسٹر کا رزلٹ ایا تھا جس میں وہ بہت اچھی سی جی پی لے کر پاس ہو گئی تھی۔
میں رو اس لیے نہیں رہی کہ میں پاس ہو گئی ہوں۔بلکہ میں رو اس لیے رہی ہوں ٫کہ میں پاس کیسے ہوئی۔حالانکہ میں نے تو کوئی بھی پیپر اچھا نہیں دیا تھا۔زویا نے اپنے گال پر گرے انسو کو صاف کیا۔
کیا؟زویا کی اس بات پر امامہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟امامہ زمین سے اٹھ کرزویا کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔
میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔
کیاشادی؟زوئی ابھی تمہاری گریجویشن کمپلیٹ ہوئی ہے تمہاری٫ شادی درمیان میں کہاں سے اگی ۔امامہ نے اپنی بھورے رنگ کی انکھوں کو پوری طرح کھولا۔اور اب وہ دوبارہ صوفے سے اٹھ کر نیچے فرش پر بیٹھ چکی تھی۔
وہ اس دن میں نے ابو کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ جیسےہی میری گریجویشن کمپلیٹ ہوگی وہ میری شادی کر دیں گے۔اور۔۔
اوہ۔تو اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے انہوں نے بس ایسے ہی کہہ دیا ہوگا۔اور ویسے بھی تم تو جانتی ہو کہ ماں باپ تو ہر وقت ایسی باتیں کرتے ہی رہتے ہیں۔ہمم۔۔زوئی تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔امامہ فرش سے اٹھ کر اپنے لمبے بالوں کا جوڑا بنا رہی تھی جو زویا سے بات کرتے ہوئے بار بار اس کی انکھوں کے سامنے ارہے تھے۔
کیا تمہیں لگ رہا ہے کہ میں مذاق کر رہی ہوں میں نے خود اپنے کانوں سے سنا ہے انہوں نے میرے لیے ایک رشتہ ڈھونڈ لیا ہے۔
کیا؟امامہ جو تقریبا کمرے سے باہر جا چکی تھی زویا کی یہ بات سن کر فوراً واپس آئی اور زویا کے ساتھ بیٹھ گئی۔
کیا کہا تم نے؟انہوں نے تمہارے لیے رشتہ ڈھونڈ لیا ہے۔زوئی پھر تو تمہیں خوش ہونا چاہیے اور تم ہو کے روئے جا رہی ہو۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟میرے خواب صرف گریجویشن تک ہی نہیں ہے بلکہ میں اگے جاب کرنا چاہتی ہوں میں مما بابا کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں انہوں نے میرے لیے کتنی مشکلات اٹھائی ہیں۔ اور میں اب انہیں راحت کی زندگی دینا چاہتی ہوں۔زویا مسلسل رو رہی تھی۔امامہ بس اسے حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
تو تم یہ ساری باتیں جا کر تایا کو کیوں نہیں بتا دیتی۔تمہاری مشکل خود بخود حل ہو جائے گی۔امامہ نے اپنے دونوں کندھے اچکائے اور زویا سے کہا۔
کون سی بات۔دروازے پر امامہ کی چھوٹی بہن ابرش کھڑی ہوئی تھی۔اور کیا بتانا ہے تایا ابو کو۔۔
کچھ نہیں۔زویا نے جلدی جلدی اپنے انسو صاف کیے ۔
اور اپ رو کیوں رہی ہیں آپی۔ابرش نے زویا کو آنسو صاف کرتے دیکھ کر پوچھا۔کیا ہوا ہے آپی کو۔ابرش اب امامہ کو غصے سے دیکھ رہی تھی۔
کچھ بھی نہیں ہوا ۔وہ زوئی کی گریجویشن کمپلیٹ ہوئی ہے نا تو بس اسی لیے بس پگلی رو رہی ہے۔اور میں اسے چپ کروا رہی ہوں۔
ہمم۔۔بس اتنی سی بات کے لیے۔امامہ کی بات سن کر ابرش پر سکون ہو گئی۔
ارے میں تو اپ کو اس سے بھی بڑی بات بتانے ائی ہوں۔ابرش اب امامہ اور زویا کے درمیان میں بیٹھ گئی تھی۔
کون سی بات۔ان دونوں نے اکٹھے ابرش سے پوچھا۔
تایا نے آپی کی گریجویشن کمپلیٹ ہونے کی خوشی میں شام کو سب لوگوں کو دعوت پر بلایا ہے۔اس دعوت میں تایا اور ابو کے چند ایک عزیز دوست بھی ہوں گے۔ہائے مجھے تو یہ سوچ سوچ کر ہی خوشی ہو رہی ہے کہ اج شام میں ہمیں کوئی کام بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
کیوں تایا کوئی ملازم رکھ رہے ہیں۔امامہ نے اپنے ائی برو اچکائے۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔تو پھر کیسی بات ہے۔زویا اب ابرش کو گھور رہی تھی۔
تمہارے خیال میں گھر کا سارا کام امی اور تائی کریں گی۔یا پھر ساحل اور عدنان۔زویا کے بات مکمل کرتے ہی امامہ نے ابرش کی طرف دیکھ کر کہا۔
ہمم۔۔کیا مطلب۔یعنی انہوں نے آپ کی گریجویشن کمپلیٹ ہونے کی خوشی میں ہمیں اج کام سے چھٹی دے دی ہے۔
کیا؟امی نے۔ہمم۔۔۔ابرش نے امامہ کی طرف دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا ۔
ہمم۔۔پر ہمیں کام کروانا پڑے گا ورنہ پھر سارا ہفتہ ہمیں ان کی طنزیہ باتیں سننی پڑیں گی۔
مجھے کیا میں تو فری ہوں۔ابرش نے اپنے دونوں کندھے اچکائے ۔
ہمم کیا مطلب تم فری ہو۔تم بھی ہمارے ساتھ کام کرواؤ گی۔امامہ نے ابرش کو زور سے پیچھے کی طرف کھینچا ۔
آ۔۔۔اپی درد ہو رہا ہے۔اور میں کیوں کام کرواؤں اپ لوگوں کے ساتھ میں تو ابھی چھوٹی ہوں۔
اچھا۔امامہ نے اچھا کو لمبا کیا۔دسویں جماعت کی طالب علم ہو اور ابھی تم چھوٹی ہو ۔امامہ نے ابرش کو کان سے پکڑ کر کہا۔تمہارے جتنی عمر میں لڑکیاں پورا پورا گھر سنبھال لیتی ہیں اورتم ہو کہ ۔۔
آ اچھا سوری ابرش امامہ سے اپنا کام چھوڑوانےکی کوشش کر رہی تھی۔
اچھا بس کر دو دونوں ۔کیسے بچوں کی طرح لڑ رہی ہو ۔جاؤ امامہ تم کچن میں جا کر امی کی مدد کرواؤ ۔اور ابرش جاؤ تم جا کر اپنے کمرے میں پڑھائی کرو۔زویا نے اپنے دونوں ہاتھ دروازے کی طرف کیے اور دونوں کو باہر جانے کا کہا۔
ہمم۔۔۔امامہ اور ابرش دونوں چپ کر کے وہاں سے اٹھ کر چلیں گئیں۔
امی کیا کر رہیں ہیں ۔لائیں میں آپکی مدد کروا دوں ۔امامہ نے اقصیٰ کے ہاتھ سے کھانا بنانے والا چمچہ پکڑا اور چولہے کے آگے کھڑی ہو گئی۔
امی یہ لیں ۔اور زویا آپی کہاں ہیں۔عدنان نے دہی اقصیٰ کو پکڑایا اور زویا کے بارے میں پوچھنے لگا۔
زویا اوپر ہے۔کیوں تم اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہو۔ امامہ نے عدنان سے شکیہ انداز میں پوچھا۔
آپی وہ مجھے انہیں مبارکباد دینی تھی نا اس لیے۔
کیوں ایک دفعہ دے تو دی ۔باربار مبارک دینے کا کیا مقصد ہے۔امامہ نے آنکھیں بڑی کیں اور عدنان کو گھورا۔اسے ایسا کرتا دیکھ کر عدنان ڈر کر وہاں سے چلا گیا۔
جاؤ۔۔امامہ اسے میں کر لیتی ہوں تم جاؤشیبہ کے ساتھ جا کر برتن نکلوا لو۔زبیدہ نے عدنان کے جاتے ہی امامہ کے ہاتھ سے چمچہ پکڑا اور خود چولہے کے اگے کھڑی ہو گئی۔
جی تائی ۔امامہ زبیدہ سے یہ کہتے ہی فورا کچن سے نکل گئ ۔اور سٹور روم کی طرف چلی گئی۔
آنٹی لائیں میں اپ کی مدد کروادیتی ہوں۔ہمم شکریہ بیٹا۔امامہ شیبہ کے ساتھ بیٹھ گئی ۔انٹی کیا کوئی خاص مہمان آ رہے ہیں کیا۔امامہ نے شیبہ کے ہاتھ سے پلیٹیں پکڑ کر پیچھے رکھیں۔
امامہ ۔۔یہ زویا کی آواز تھی جو اسے ڈھونڈتے ہوئے سٹور روم کی طرف ائی تھی۔
انٹی امامہ یہاں پر ہے۔زویا کا منہ شیبہ کی طرف تھا جبکہ امامہ اس کے بالکل پیچھے کھڑی ہوئی تھی۔
ہمم۔۔میں یہاں پر ہوں۔امامہ کی اواز پر زویا فوراً پیچھے مڑی۔ امامہ میرے ساتھ چلو۔
یار آ تو جاتی پر امی نے انٹی کے ساتھ برتن نکلوانے کا کہا ہے اس لیےمیں نہیں ا سکتی۔
بیٹا تم جاؤ میں تمھاری امی سے کہہ دوں گی تم جاؤ ۔دیکھو ذرا زویا کی شکل کو۔اس نے زویا کی اداس شکل کی طرف اشارہ کیا۔
ہمم۔۔۔جی ٹھیک ہے آنٹی۔امامہ شیبہ سے کہتے ہی سٹور روم سے باہر آ گئ ۔
انشاء اللہ باقی آئندہ میں شمار رہے گا۔
