MERA MUQADAR MERA ASASA BY MALAIKA MAQBOOL AHMED EPISODE 3.

چلو اب نیچے چلتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ خود اوپر ا جائیں۔ہالہ نے سیڑھیوں کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
ہاں ہاں چلو عکاشہ اور زے بھی ہالہ کے پیچھے سیڑھیوں کی طرف چلی گئی۔
۔اب وہ ہے کہاں؟زے نے سر پر دوپٹہ اوڑھ کر ادھر ادھر دیکھ کر پوچھا ۔
عکاشہ جو کہ کب کا دوپٹہ اوڑھ چکی تھی اب ہالا کو گھور رہی تھی۔
اب اپ مجھے کیوں گھور رہی ہیں؟ہالہ نے عکاشہ سے پوچھا۔
ارے پاگل وہ کہنا چاہ رہی ہے کہ تم نے تو اس لڑکے کو دیکھا ہے تو دیکھو اگر وہ تمہیں نظر ائے۔۔۔
زے کی پیٹھ عکاشہ اور ہالہ کی طرف تھی۔
ہیلو لیڈیز۔۔۔عکاشہ اور زے۔۔۔
کالے رنگ کا کرتا اور سفید رنگ کی شلوار پہننے بالوں کو مخصوص طریقے سے سیدھا کیے ہوئے اور پاؤں میں شوز پہننے اس لڑکے نے انہیں پیچھے سے آواز دی۔
جی۔۔۔ہالہ نے پیچھے مڑ کر جواب دیا۔
اووو۔۔۔۔تو اپ ہیں زے؟اس نے ہالہ سے پوچھا۔
نہیں میں زے نہیں ہوں ہالہ نے نفی میں سر ہلایا۔
تو اپ زے ہوں گے اور اپ عکاشہ؟نہیں نہیں اپ ہیں کون؟اور ہم سے یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں؟ہالہ نے اپنے لہجے کو سخت اور تیز کر کے پوچھا۔
اوووہ۔۔۔میرا نام باسط ہے اور مجھے ابلاج نے بھیجا ہے زے کو یہ چابی دینے کے لیے۔
۔اس نے کمرے کی چابی عکاشہ کی طرف بڑھا کر کہا۔ویسے ایک بات کہوں۔۔۔باسط نے عکاشہ سے پوچھا جس نے اپنے دوپٹے کا ایک پہلو اپنے چہرے پر رکھا ہوا تھا۔
جی پوچھیے عکاشہ نے چابی پکڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
یہ زے کیسا نام ہے؟دنیا میں اتنے سارے نام ہیں اپ نے اپنا نام زے ہی کیوں رکھا۔
وہ اب بھی عکاشہ کوہی دیکھ رہا تھا اور ہالہ اس کی نظروں کا تعاقب کرنے میں مصروف تھی۔
دیکھیے پہلی بات تو اپ مجھے زے نہیں بلکہ پری زے کہیے۔کیونکہ میرا پورا نام پری زے ہے اور ان کا نام جنہیں اپ زے کہہ رہے ہیں وہ عکاشہ ہیں۔
۔پری زے اب غصے سے اس کی طرف مڑی تھی۔
کیا اپ کا نام زے۔۔۔۔
۔پری زے۔۔۔مجھے صرف میرے گھر والے ہی کہتے ہیں۔زے نے اسے ٹوکا اور عکاشہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے لے کر چلی گئی۔
۔تو اپ۔۔۔۔اب اس نے انگلی کے اشارے سے ہالہ سے پوچھا۔
ام ہالہ۔۔۔ہالہ نے صرف اپنا نام بتایا اور پاؤں پٹختی ہوئی عکاشہ اور زے کے پیچھے پیچھے چلی گئی۔
باسط۔۔۔۔چلو بھی اب بہت بے عزتی ہو گئی ہے۔۔۔۔۔سفید رنگ کا کرتا اور شلوار پہنے بالوں کو مخصوص طریقے سے کھڑا کیے ہوئے اور ہاتھ میں موبائل پکڑے وہ لڑکا اب باسط کے پیچھے کھڑا تھا۔
کیا مطلب تم یہی تھے اور تم نے سب کچھ سن لیا۔
۔۔باسط کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
ہاں اور کیا بندہ تھوڑی شرم کھا لے یہ کیا کر رہے تھے؟کبیر نے باسط کے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر کہا۔
ایک منٹ یہ تیرے ہاتھ میں موبائل۔۔۔۔موبائل ہے ناں۔۔۔
تو نے میری ویڈیو بنائی ہے نا۔۔۔
باسط نے اس کے ہاتھوں سے موبائل چھین کر اسے کھولنے کی کوشش کرتے ہوئے کبیر سے پوچھا۔
اوے تمہیں کسی نے تمیز نہیں سکھائی کہ ایسے کسی کا فون نہیں کھولتے ۔۔۔
کبیر نے باسط سے موبائل فون چھین کر کہا۔
کال ارہی ہے تمہاری اٹھا کر دیکھ لو کس کی ہے؟کبیر جب اپنے فون کو اگے پیچھے سے دیکھ رہا تھا تب اس نے باسط سے کہا ۔
جو کہ نہ جانے کن سوچوں میں گم تھا۔
۔اوہ۔۔۔دیکھتا ہوں باسط نے جیب سے موبائل نکالا اور کان سے لگا لیا۔
ہاں ہیلو۔۔۔۔ہمم۔۔۔۔ٹھیک ہے ہم بس ا رہے ہیں یہ کہہ کر باسط نے فون واپس جیب میں ڈال لیا۔
کون تھا؟کبیر نے باسط سے پوچھا۔
۔ابلاج تھا بلا رہا ہے ہمیں چلیں باسط نے اپنی گردن کو گھما کر کہا۔
ہاں چلو یہ کہہ کر وہ دونوں وہاں سے چلے گئے۔
۔امی وہ لڑکے کون تھے؟جو کل رات ہمارے گھر یہاں بیٹھے تھے ۔
پری زے نے ناشتہ کرنے کے بعد جب سب لوگ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے تب اپنی ماں انیسہ سے پوچھا۔
کون؟زے کے والد عظیم نے اپنے موبائل کو سائیڈ پر رکھ کر پوچھا۔
بابا اپ کو نہیں پتہ؟اس بات عکاشہ نے کہا۔
ارے کچھ بتاؤ بھی کہ کون اور کس کے بارے میں مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔
عظیم اب ان دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔
بابا وہ کل میں ولیم اور اس کے کچھ دوست چھت پر بیٹھے تھے ان کے بارے میں پوچھ رہی ہے ۔
ابلاج نے ٹرے میں سے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے اپنے والد سے کہا۔
اچھا ہاں ہاں ابلاج نے مجھے بتایا تھا۔اس کے والد نے بھی چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
وہ سب تو ٹھیک ہے مگر تم نے کمرے کی چابی اس لڑکے کے ہاتھ کیوں بھیجی؟
زائشان یا پھر تم خود نہیں ا سکتے تھے کیا؟عکاشہ جو کہ اپنے والد جو کہ صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے بالکل ان کے قدموں میں بیٹھی تھی سامنے بیٹھے ابلاج کو اپنی ہیزل بھوری انکھوں سے گھورا ۔
۔وہ اپی۔۔۔۔
کیا اپی؟بالکل صحیح کہہ رہی ہے تم دونوں میں سے کوئی نہیں ا سکتا تھا کیا؟
اس لڑکے کے ہاتھ ہی کیوں بھجوائی چابی ۔انیسہ نے زائشان کو ٹوک کر اسے ڈانٹ دیا
۔امی۔۔۔۔اس میں کون سی بڑی قیامت اگئی؟وہ ایا چابی دی اور چلا گیا۔ بس اتنی سی بات ہے جسے یہ دونوں اتنی بڑی بنا رہی ہیں۔
ابلاج نے کپ کرسی کے ایک کونے پر ٹکا کر کہا۔
ہممم۔۔۔۔لیکن دوبارہ کبھی بھی ایسا نہ ہو عظیم یعنی ان کے والد نے کپ عکاشہ کو پکڑا کر کہا۔
جی بابا ابلاج نے عکاشہ اور زے کی طرف اپنی بھوری انکھوں سے دیکھا۔
دیکھو بیٹا بات یہ نہیں ہے کہ تم نے اس لڑکے کو کیوں بھیجا؟
بلکہ بات یہ ہے کہ جب ہم اپنی بہنوں بیٹیوں کو خود دوسروں کی طرف مائل ہونے کا موقع دیتے ہیں یا پھر ان پر توجہ نہ دیں جیسے ہم سب اکٹھے بیٹھے ہیں۔ایسے نہ بیٹھیں تو پھر ہماری بہنیں بیٹیاں خود ہی باہر کے راستے ڈھونڈ لیں گی ۔
اور پھر کیا؟قصور تو ہم ان کا ہی نکالیں گے اپنی غلطی کو تو ہم مانیں گے نہیں ناں۔
عظیم جو کہ ابلاج کی کرسی کے ساتھ موجود کرسی پر ا کر بیٹھ چکا تھا اب اس کے کندھے پر اپنے ہاتھ کی گرفت کو مضبوط کر کے کہا۔
انیسہ زائشان اور عکاشہ سب ہی عظیم کی اس بات کو بڑے غور سے سن رہے تھے۔
جب عظیم نے اپنی دونوں بیٹیوں کی طرف دیکھا تو ان کی انکھوں میں ایک چمک تھی جیسے کہ فخر ہو۔کیونکہ ان کا باپ ان کے کمفرٹ زون کو سمجھتا تھا۔
شکریہ بابا میری بات کو سمجھنے کے لیے عکاشہ نے مسکراتے چہرے سے اپنے باپ کو دیکھ کر کہا۔
ہمم۔۔۔چلو بھئی اب تم لوگ ایسا کرو کہ نعیم کے گھر جاؤ اور ان سے پوچھ لینا کہ کوئی کام ہے اور اگر ہو تو کروا دینا۔
عظیم نے اپنے چاروں بچوں سے نصیحت کی۔
جی بابا۔۔۔
تم لوگوں نے اگر کوئی چیز لینی ہے تو لے لو بعد میں نہ کہنا کہ یہ رہ گیا یا یہ لا دو ۔
ابلاج نے اپنی دونوں بہنوں سے کہا جو کہ چائے کے برتن اٹھا کر ڈرائینگ روم سے باہر جانے لگی تھی۔
بھائی اگر اپ کہیں تو میں اپنا روم لاک کر لوں شام کو خود ہی کھول کھول لوں گی۔
زے نے دوپٹہ سر پر سیٹ کرتے ہوئے ابلاج سے پوچھا۔امم۔۔۔۔دیکھ لو مجھے نہیں لگتا کہ وہ لوگ اج ائیں گے۔لیکن پھر بھی احتیاطی طور پر لاک کر لینا۔
ابلاج نے موبائل فون جیب سے نکال کر پری زے سے کہا۔
اممم ٹھیک ہے۔
یہ کہہ کر عکاشہ اور ز ےدونوں ہی کمرے سے باہر نکل ائی۔
عکاشہ ویسے نہ وہ لڑکا کل تم پہ لائن مار رہا تھا ہے نا۔۔۔۔
زے نے سیڑھیاں اترتے ہوئے عکاشہ سے کہا کیا؟
عکاشہ سیڑھیاں اتر کر زے کی طرف مڑی ۔
میرا مطلب کہ جیسے وہ تمہیں دیکھ رہا تھا اور تو اور اس کے بات کرنے کے طریقے سے ہی پتہ چل رہا تھا۔
کیا پتہ چل رہا تھا؟ابلاج جو کہ سیڑھیاں اتر کر تقریباً زے کے پیچھے کھڑا تھا اس نے پوچھا۔
وہ کچھ نہیں ہم ہالہ کی بات کر رہے تھے زے بڑبڑائی۔
ہممم جلدی کرو ورنہ ہمیں دیر ہو جائے گی ۔
زے جب سیڑھیاں اتری تو ابلاج نے سیڑھیاں اتر کر اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے ان دونوں سے کہا۔
جی بھائی ٹھیک ہے زے نے عکاشہ کو اس کے کمرے کی طرف جاتے دیکھ کہا ۔
صبح کے تقریبا 10 بج چکے تھے۔
زے زائشان ابلاج اور عکاشہ چاروں کے چاروں ہی اپنے چچا نعیم کے گھر تھے۔
زائشان اور ابلاج پہلی منزل پر موجود دوسرے لڑکوں کے ساتھ وہی رک گئے ۔
عکاشہ اور زے دوسری منزل پر موجود اپنی چچی رخسار اور دوسری لڑکیوں کے پاس چلی گئیں ۔
چچی کوئی کام ہے کیا؟
عکاشہ نے رخسار کو ڈرائنگ روم میں آتے دیکھ پوچھا۔
نہیں بیٹا یہی بہت ہے کہ تم نے پوچھ لیا رخسار نے اس کے س ہاتھ پھیر کر کہا ۔
کوئی بات نہیں چچی یہ تو میرا فرض ہے ۔عکاشہ نے انہیں دیکھ کر کہا۔
آنٹی ۔۔۔باسط نے رخسار کو پیچھے سے اواز دی اور رخسار کی پیٹھ باسط کی طرف تھی اور رخسار کا رخ عکاشہ کی طرف تھا۔
باقی ائندہ میں شمار رہے گا انشاءاللہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *