فون ایا تھا رخسار کا کہہ رہی تھی کہ بچیوں کو جلدی بھیج دینا تھوڑی رونق لگا لیں گی انیسہ نے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے زےسے کہا۔
سن بھی رہی ہو کہ نہیں انیسہ نے اواز کو بلند کر کے زےسے پوچھا۔
جی جی امی سن لیا ہے ا رہی ہوں۔
بلکہ چلیں ہم دونوں اکٹھی ہی نیچے چلتی ہیں زے نے اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھ کے اپنی ماں کے بازو میں اپنی بازو ڈال کر کہا۔
ہممم۔۔۔۔چلو انیسہ نے اگے بڑھ کر زے سے کہا اور زے بھی جلدی جلدی انیسہ کے پیچھے چلی گئی ۔
شام کے چھ بج رہے تھے۔ سورج غروب ہونے کو تھا۔
زے اپنے کمرے میں الماری کا دروازہ کھولے اس میں سے شام کو پہننے کے لیے اپنا جوڑا دیکھ رہی تھی۔
کون سا پہنو بلو یا پھر سکن یا پھر مہرون۔۔۔۔
ہیں محرون کیوں؟لگتا ہے پاگل ہو گئی ہوں زے اپنے منہ میں بڑھائی۔
کون پاگل ہو گیا ہے؟ابھی زے منہ میں بڑبڑا ہی رہی تھی کہ تبھی عکاشہ جو کہ اس کی بڑی بہن ہے وہ کمرے میں اگئی ۔
ہیزل بھوری انکھیں،کمر تک جھولتے بال گلابی ہونٹ اور سکن کلر کی شلوار قمیض پہننے وہ لڑکی اب پلنگ پر الٹی لیٹ چکی تھی۔
عکاشہ اگئی تم شکر ہے ۔اب تم ہی بتاؤ کہ میں ان میں سے کون سا جوڑا پہنا۔
زے نے اپنا رخ بیڈ پر لیٹی عکاشہ کی طرف کیا۔
اممم۔۔۔۔تم ایسا کرو کہ یہ لائٹ بلو والا پہن لو جچے گا تم پر۔
عکاشہ نے اپنی آدھ کھلی انکھوں سے اس کے ہاتھ میں پکڑے بلو اور محرون جوڑوں میں سے لائٹ بلو کو منتخب کیا تھا۔
لیکن۔۔۔۔
۔کیا لیکن۔ایک تو تمہیں مشورہ دوں اور اوپر سے تم لیکن ویکن کر رہی ہو عکاشہ کو ز ےکے اس رویے پر تھوڑابرا لگا ۔
۔اچھا چھوڑو ٹھیک ہے میں یہی پہن کر تیار ہو جاتی ہوں اور تم بھی تیار ہو جاؤ ورنہ رخسار چچی ہمیں لیٹ ہو جانے پر کچھ نہ کچھ تو ضرور کہیں گی زے نے واش روم میں گھستے ہوئے کہا ۔
ہممم۔۔۔۔ٹھیک ہے عکاشہ نے بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر جاتے ہوئے زے سے کہا۔
شام کے تقریبا سات بج رہے تھے جب زے اورعکاشہ زائشان اور ابلاج کے ساتھ اپنے چچا کے گھر اگئی تھی۔
ابلاج اور زائشان نیچے دولہے اور دوسرے لڑکوں کے ساتھ رک گئے جبکہ عکاشہ اور ز ے اوپر موجود باقی لڑکیوں کے پاس چلی گئی۔
۔ان کے چچا کا گھر تقریبا مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ان کے چچا کا گھر تین منزلہ تھا تو کوئی اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر جا رہا تھا۔
وہ دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھی تھی جہاں اُم ہالہ اور دوسری کزنز تیار ہو رہی تھی۔
یار تم نے چہرے پر کیا لگایا ہے مجھے بھی بتا دو یہ اپ دے ہی دو ان کے چچا کی بیٹی یعنی کہ ولیم کی بہن عکاشہ اور ز ےسے کہہ رہی تھی۔
۔یار اگر تو تم نہیں جانتی تو پھر بھی کہو یہ ان کی نیچرل بیوٹی ہے نو میک اپ گلو ام ہالہ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر کہا۔
نہیں اب ایسے بھی بات نہیں ہے لپسٹک اور بلشن تو لگایا ہی ہے۔
زے نے کنیز کو جیلس ہوتے دیکھا تو مسکرا کر کہا۔ہمم۔۔۔۔پتہ ہے مجھے کنیز نے برا سا منہ بنا کر کہا۔
چلو چلو لڑکیو چھت پر سارا انتظام ہو چکا ہے جاؤ تم سب جا کر تھوڑا ہلہ گلا کر لو۔
زے کی چچی رخسار نے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول کر ان سب سے کہا اور پھر کھلا ہی رہنے دیا۔
۔جس پر تھوڑی دیر بعد ایک ایک دو دو کر کے لڑکیاں باہر جانے لگیں ۔
زے میں بھی جا رہی ہوں تم اور ہالہ اکٹھی ہی ا جانا کیونکہ ہالہ کی تیاری تو ابھی تک مکمل ہوئی نہیں لگتی ۔
یہ عکاشہ تھی جو کہ ہالہ کو ائی شیڈ لگاتا دیکھ زے سے کہہ رہی تھی اور پھر وہیں سے باہر چلی گئی۔
لائٹ بلو کلر کا سوٹ پہنیں کھلے بال لیکن فلحال سرپر دوپٹہ تھا لائٹ میک اپ اور سینڈل پہننے زے نے خود کو اور سامنے کھڑی ہالہ کو دیکھا ۔
جس نے بی بی پنک کلر کا فراک پہنا ہوا تھا اور اس نے اپنے بال کھلے چھوڑے ہوئے تھے لائٹ میک اپ اور ہیل پہنے وہ اب بھی میک اپ ہی کر رہی تھی۔ان دونوں میں زمین اسمان کا فرق تھا۔
اللہ ہالہ کتنی دیر ہے ؟زے نے ہالہ کہ سر پر کھڑی ہو کر پوچھا۔
۔بس پانچ منٹ ٹچ اپ کر لوں پھر چلتے ہیں ہالہ نے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
۔اب زے اکیلی مرر کے اگے کھڑی تھی۔لائٹ بلو کلر کا ہے انتہائی نفیس کڑھائی والا شلوار قمیض اور ساتھ لان کا دوپٹہ ملتانی کھسہ اور لائٹ میک اپ میں وہ واقع ہی حور لگ رہی تھی۔
زے ویسے تم سے ایک بات کہوں ہالہ نے ٹچ اپ کے بعد اس سے پوچھا۔
ہمم۔۔۔کہو زے نے اپنا رخ اس کی طرف کیا۔
زے تم نے اج لائٹ کلر کیسے پہن لیا اور دیکھا میں تم سے کہتی ہوں نا کہ تم پہ لائٹ کلر نا بہت جچتا ہے ۔
ہالہ اب مرر کے سامنے زے کے برابر کھڑی تھی۔اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ زے کے کندھوں پر جماۓ ہوئے تھے۔
ہمم۔۔۔۔تو اب؟زے نے کندھے اچکا کر ہالہ کی طرف مرر سے دیکھ کر پوچھا۔
تو اب بس ایک چیز کی کمی ہے۔ہالہ نے اپنی آدھ کھلی انکھوں سے اسے دور کر کے کہا۔
کہ بس تم اب بال کھول لو تو واقع میں ہی نا تم۔۔۔پریوں کی شہزادی۔۔۔۔لگو ہالہ نے ابھی وہی انداز اپنایا ہوا تھا۔
امم۔۔۔نہیں چلیں تمہارے 10 سے 15 منٹ ہو چکے ہیں زے نے موبائل پر وقت دیکھ کر اپنے کندھوں کو اس کی گرفت سے ازاد کروا کر اگے بڑھتے ہوئے کہا۔
کبھی تو میری بات مان لیا کرو ہالہ نے پاؤں زمین پر پٹخا اور پھر بھاگ کر زے کے برابر چلنے لگی۔تو تم بات ہی ایسی کرتی ہیں کیوں ہو جو میں مان ہی نہیں سکتی؟
زے نے اوپر چھت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہالہ کی طرف دیکھے بغیر کہا۔
چونکہ زے کے والد اپنے دونوں بہنوں اور بھائیوں سے بڑے تھے اس لیے ان کا اور ان کے چھوٹے بھائی نعیم کا گھر بالکل برابر میں اور سب سے چھوٹے بھائی رشیدکا گھر سامنے تھا۔
چونکہ ڈھول کی کا انتظام تیسری منزل پر تھا اور ہالہ اور زے دوسری منزل پر تھی اور اب وہ سیڑھیوں سے تیسری منزل کی طرف جا رہی تھی۔
مبارک ہو تم کو یہ شادی تمہاری
سدا خوش رہو یہ دعا ہے ہماری
تمام لڑکیاں یکجا اواز میں یہ گانا گا رہی تھی اور تالیوں کی ایک اپنی ہی دھن پیدا ہو رہی تھی۔
زے زرا ادھر انا یہ عکاشہ تھی جو کہ پانی پینے کے لیے اٹھی تھی اور چونکہ واٹر کولر ان کے گھر اور چچا کے گھر کی سانجھی دیوار کے ساتھ ہی رکھا گیا تھا اور وہاں سے نظر سیدھی ساتھ والے گھر میں موجود نچلی منزل پر پڑتی تھی جو کہ ان کا اپنا گھر تھا۔
اور زے لڑکیوں کے جھنڈ میں سب سے اگے بیٹھی ڈھولک بجا رہی تھی۔
۔لو کنیز اب تمہاری باری ہے میں ذرا عکاشہ کی بات سن کر اتی ہوں زے نے ڈھولک کنیزکےحوالے کی اور وہاں سے اٹھ کر لڑکیوں کو ادھرادھر کر کے عکاشہ کے پاس ا کھڑی ہوئی ۔
۔ہممم۔۔۔۔۔بولو۔۔۔اس وقت وہاں موجود تمام لڑکیوں میں سے کسی نے بھی سر پر دوپٹہ نہیں لیا ہوا تھا عکاشہ اور زے سمیت۔
۔زرا نیچےدیکھنا عکاشہ جو کہ اپنے دونوں بازوں کوسمیٹے کھڑی تھی اب زے سے کہہ رہی تھی۔
عکاشہ نے لائٹ پرپل کلر کا سمپل انتہائی نفیس کڑھائی والا شلوار قمیض لائٹ میک اپ کھلے بال اور ساتھ میں ملتانی کھسہ پہنا ہوا تھا۔
رنگ گورا ہونے کی وجہ سے اس پر یہ رنگ بہت زیادہ جچ رہا تھا ۔
یہ کون ہے اور یہاں کیا کر رہے ہیں؟میں نے تو اپنا روم بھی لاک نہیں کیا اور ماما بابا اور بھائی بھی تو ادھر ہی ہیں۔۔۔۔۔
زے نے نیچے موجود اپنے کزنز اور کچھ دوسرے لڑکوں کو دیکھ کر کہا۔
عکاشہ اور زی کون ہے؟ابھی زے اسی کشمکش میں تھی کہ ایک بچے نے ان دونوں سے پوچھا کیونکہ وہ دونوں باقی سب سے تھوڑا دور اور الگ کھڑی ہوئی تھی۔
زی نہیں زے ۔۔۔۔زے نے سب سے پہلے اپنے نام کی درستگی کی۔
وہی ۔۔۔بات تو ایک ہی ہے نا ۔وہ دونوں اپ ہیں تو اپ کو نیچے باسط بھائی بلا رہے ہیں بچے نے اپنی گردن سے اشارے سے یہ کہا اور پھر نیچے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
ایک ہی نام کیسے ہوا زی اور زے میں کوئی فرق نہیں ہے کیا؟
بدتمیز ۔۔۔۔۔ز ے کو اپنے کمرے کی فکر بھول گئی اور اپنے نام کی فکر شروع ہو گئی اور اس نے اس لڑکے کو ڈانٹنا شروع کر دیا۔
ہالہ نے بھی محسوس کیا کہ وہ دونوں پریشان ہیں تو وہ بھی اٹھ کر وہیں ان دونوں کے پاس اگئی۔
کیا بات ہے؟ہالہ نے عکاشہ سے ابرو اچکا کر پوچھا۔۔
۔وہ۔۔۔۔ہم دونوں ابھی اتی ہیں عکاشہ نے اس لڑکے کو جاتے دیکھ کہا۔
زے اس سے پہلے کہ ہالہ کو کچھ بتاتی عکاشہ نے اس لڑکے سے کہا۔
کیا ہوا ہے کچھ بتاؤ گی بھی ہالہ نے دوبارہ پوچھا۔
اب یہ باسط کون ہے اور ہمیں کیوں بلا رہا ہے؟عکاشہ اور زے نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھ کر کہا۔
ارے ایک باسط تو کنیز کے بھائی کا دوست بھی ہے۔۔۔یعنی ولیم بھائی کا دوست۔۔
۔ہاں زے کے پوچھنے پر ہالہ نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا ۔
باقی ائندہ میں شمارے انشاءاللہ۔
