Girdaab Episode 17 written by siddiqui

گرداب ( از قلم صدیقی )

قسط نمبر ۱۷

ریپر کیٹی کے سامنے کھڑا تھا۔
اُس کے چہرے پر غصہ صاف دکھائی دے رہا تھا، جبکہ آنکھوں میں ایک عجیب سی سختی اتر آئی تھی۔
کیسے ہوا یہ؟ ہاں؟
اُس نے دانت بھینچتے ہوئے پوچھا۔
ایسے کیسے وہ امن میرے معاملے میں گھس سکتا ہے؟
کیٹی نے نظریں جھکا لیں۔
سر… ہماری ہی غلطی ہے۔
ریپر نے فوراً اُس کی طرف دیکھا۔
کیا بکواس ہے؟
جی باس… ہماری غلطی ہے۔
کیٹی نے گھبراہٹ کے باوجود خود کو سنبھالتے ہوئے وضاحت کی۔
اصل میں ہمیں رات پانچ بج کر پچاس منٹ پر وہاں پہنچنے کا کہا گیا تھا۔ ہماری معلومات کے مطابق وقت بالکل درست تھا، لیکن ٹرک میں موجود اُن دو نمونوں کی وجہ سے یہ سب ہوا۔
ریپر کی بھنویں تن گئیں۔
کیوں؟
کیوں ہوا ایسا؟
کیٹی نے ایک گہری سانس لی۔
باس… ٹرک میں پٹرول ختم ہوگیا تھا۔
اور اُنہوں نے ساتھ پٹرول بھی نہیں رکھا ہوا تھا۔
راستے میں ہی پٹرول لینے کے لیے رک گئے، جس کی وجہ سے کافی دیر ہوگئی۔
وقت نکل گیا…
اور جب وہ وہاں پہنچے تو چھ بج کر دس منٹ ہو چکے تھے۔
وہ مزید کچھ کہتی، اُس سے پہلے ہی ریپر کے چہرے پر غصہ مزید گہرا ہوگیا۔
حد ہے…
اُس نے سخت لہجے میں کہا۔
اتنی چھوٹی سی لاپرواہی کیسے ہو سکتی ہے؟
آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا… اور اب…
وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہوا، جیسے اپنے غصے کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
کیٹی نے فوراً نرمی سے کہا،
باس… ہو جاتا ہے کبھی کبھی۔
باقی فکر کی کوئی خاص بات نہیں ہے۔ تھوڑا ہی نقصان ہوا ہے۔
ریپر نے اُس کی بات پر سرد نظروں سے اُسے دیکھا۔
نقصان کی بات نہیں ہے۔
اُس کی آواز اب پہلے سے کہیں زیادہ بھاری تھی۔
ایسے ہزار نقصان مجھے قبول ہیں۔
مگر یہاں بات صرف نقصان کی نہیں ہے۔
وہ ایک قدم آگے بڑھا۔
یہاں بات میری شکست کی ہے۔
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر آہستہ مگر انتہائی سخت لہجے میں بولا،
میں ہرگز امن کو خوش نہیں دیکھ سکتا۔
امن مجھے کسی بھی چھوٹے سے معاملے میں بھی شکست نہیں دے سکتا۔
اُس کے لیے یہ صرف ایک ناکامی نہیں تھی…
یہ اُس کی انا پر وار تھا۔
ریپر نے ایک گہری سانس لی، پھر جیسے اُسے اچانک کچھ یاد آیا۔
ایک تو وہ لڑکی بھی مجھے سے ڈرتی نہیں…
کیٹی کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
سر… وہ آپ سے نہیں ڈرتی، لیکن امن تو اُس کے معاملے میں ڈرتا ہے نا؟
ریپر کی آنکھوں میں ایک دم عجیب سی چمک ابھری۔
ہاں…
کیٹی نے قدرے اطمینان سے کہا،تو بس… آپ کے پاس مہرہ تو موجود ہے۔ جیسے چاہیں… جس طرح چاہیں… اُسے کھیل سکتے ہیں۔
ریپر کے لبوں پر ایک خطرناک سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔
مگر اُس کی آنکھوں میں اب غصے کی جگہ ایک نئی چال جنم لے رہی تھی۔

++++++++++++++

ظفر غصے میں بڑبڑاتا ہوا پولیس اسٹیشن میں داخل ہوا۔
اُس کے قدموں میں غیر معمولی تیزی تھی اور چہرے پر ایسی ناگواری چھائی ہوئی تھی جیسے راستے بھر وہ کسی ایک ہی بات کو سوچ سوچ کر خود سے الجھتا آیا ہو۔
سامنے ہی مائرہ ایک کانسٹیبل سے کسی معاملے پر گفتگو میں مصروف تھی۔
ظفر کو اندر آتے دیکھ کر اُس نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا، مگر بات مکمل کرنے کے بعد ہی اُس کی جانب بڑھی۔
ظفر نے بےچینی سے کہا،
یہ امن آخر چاہتا کیا ہے مجھ سے؟
مائرہ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
اب کیا کر دیا اُنہوں نے؟
ظفر نے فوراً جواب دیا،
یہ… ریپر کے ڈرگز والا معاملہ۔
وہ چند لمحے رکا، جیسے اندر جمع غصے کو الفاظ دینے کی کوشش کر رہا ہو۔
جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو وہ مجھے ہر چیز میں آگے کیوں کر رہا ہے؟
مائرہ نے قدرے حیرت سے پوچھا،
تو آپ کو اس بات سے مسئلہ ہے کہ آپ کی واہ واہ ہو رہی ہے؟ عوام آپ کو ایک اچھے اور ایماندار پولیس افسر کے طور پر دیکھیں، اس سے بھی مسئلہ ہے؟
ظفر نے بےساختہ کہا،
ہاں! مجھے مسئلہ ہے۔
مائرہ خاموش ہو گئی۔
ظفر نے بات جاری رکھی۔
جب میں نے امن کی ریپر کے ڈرگز والے معاملے میں کوئی مدد ہی نہیں کی تو وہ مجھے کریڈٹ کیوں دے رہا ہے؟
وہاں تو خیر…
وہ ذرا رکا۔
وہاں میرے کچھ پولیس ساتھی موجود تھے، اُنہوں نے کارروائی کی تھی۔ لیکن اُس کی بہن والے معاملے میں؟
وہاں تو میرا کوئی لینا دینا تک نہیں تھا۔
پھر بھی اُس نے کہا سب کچھ میری وجہ سے ہوا ہے،
مائرہ نے سکون سے اُس کی بات سنی، پھر بولی،
ظاہر ہے۔ اگر وہ یہ کہہ دیتے کہ اُنہوں نے اپنی بہن کو خود بچایا ہے، تو عوام کے ہزاروں سوالوں کا جواب کون دیتا؟ اور پھر عوام کی پولیس سے جو تھوڑی بہت امید باقی ہے، وہ بھی ختم ہو جاتی۔ وہ آپ کو  صرف کریڈٹ نہیں دے رہے… وہ عوام کو دوبارہ پولیس پر یقین کرنے کی ایک وجہ دے رہے ہیں۔
ویسے بھی… اُس نے ہلکی سی سانس لی۔
عوام کی پولیس سے امید پہلے ہی بہت کم رہ گئی ہے۔
ظفر نے کچھ لمحے اُسے دیکھا۔
پھر اچانک اُس کے لہجے میں عجیب سی چبھن اُتر آئی۔
تم زیادہ جانتی ہو اُسے؟
مائرہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
کسے؟
امن کو۔
ظفر کی آواز میں تلخی آ گئی۔
تمہیں اُس کے مقصد کا بھی پتا ہے؟
اُس کی نیت کا بھی؟
اُس کے ہر فیصلے کے پیچھے چھپی وجہ بھی جانتی ہو؟
مائرہ نے اُسے چند لمحے دیکھا، پھر اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے ، سیدھا سوال کیا،
آپ کو اس سے مسئلہ کیا ہے؟ کہ وہ آپکو کریڈٹ دے رہے۔۔؟؟
مسئلہ ہے مجھے۔ بہت مسئلہ ہے۔
میں اپنے ساتھ دو چہرے لے کر نہیں پھر سکتا۔
یا تو میں برا ہوں… تو سب کی نظروں میں برا رہوں۔
یا اچھا ہوں… تو سب کی نظروں میں اچھا رہوں۔
یہ دو چہروں والی زندگی مجھ سے نہیں گزری جاتی،
مائرہ نے اُسے بغور دیکھا۔
تو بن جائیے اچھے۔
ظفر نے فوراً تلخی سے کہا،
اچھا بننے میں بہت نقصان ہے۔
اُس نے چاروں طرف نظر دوڑائی۔
ادھر سارے لوگ سانپ، بچھو، گرگٹ اور منافقوں سے بھرے پڑے ہیں۔ اچھا بنوں گا تو سب دس کے چلے جائیں گے۔۔۔
مائرہ کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
وہ ایک قدم ظفر کے قریب ہوئی۔ پھر نہایت سکون سے بولی،
تو سانپ، بچھو، گرگٹ اور منافقوں میں رہ کر آپ بھی اُنہی جیسے بن جائیں گے؟
ظفر خاموش رہا۔
مائرہ نے آخری بات کہی،
سانپ، بچھو، گرگٹ اور منافقوں کے درمیان رہ کر بھی اگر آپ اپنی مخلصی کا دامن نہیں چھوڑتے… تو پھر آپ مرد ہوتے،
یہ کہتے ہی مائرہ اُس کے پاس سے گزری اور وہاں سے چلی گئی۔
ظفر وہیں کھڑا رہ گیا۔
اُس کی نظریں مائرہ کے جاتے ہوئے وجود پر جمی رہیں، مگر ذہن میں اُس کا آخری جملہ گونجتا رہا۔
آپ مرد ہوتے۔۔
کچھ لمحوں بعد ظفر نے آہستہ سے نظریں جھکا لیں۔
کیا…
کیا وہ اُسے نامرد کہہ کر گئی تھی؟
کیا وہ اُسے مرد نہیں سمجھتی تھی؟
کیا اُس کی نظروں میں وہ ایک مرد نہیں تھا؟
ظفر کے ذہن میں سوالوں کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔
لیکن اُس نے ایسا کیا ہی کیا تھا؟
وہ تو عورتوں کی عزت کرتا تھا۔
اُس نے کبھی کسی لڑکی کی تذلیل نہیں کی۔
کبھی کسی عورت کو کمزور سمجھ کر اُس کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا۔
مگر…
کیا صرف لڑکیوں کی عزت کرنا کافی ہے؟
ظفر کی نظریں سامنے خالی دیوار پر جم گئیں۔
کیا صرف عورتوں کی عزت کافی ہے؟
کیا غریب کی عزت کرنا ضروری نہیں؟
کیا کمزور کی عزت کرنا ضروری نہیں؟
کیا ماتحت کی عزت کرنا ضروری نہیں؟
اور اگر آدمی صرف اُن لوگوں کے ساتھ اچھا ہو جن سے اُسے کوئی فائدہ ہو…
تو پھر اُس اچھائی کی قیمت ہی کیا رہ جاتی ہے؟
ظفر پہلی بار اپنے آپ سے ایسے سوال کر رہا تھا جن کے جواب اُس کے پاس نہیں تھے۔
اور شاید…
مائرہ کا آخری جملہ اُسے برا لگنے کے لیے نہیں تھا۔
شاید وہ اُسے اُس کے اصل چہرے سے ملوانے کے لیے کافی تھا۔

+++++++++++

نِہات آج پھر کھانا لے کر ارحاء کے کمرے میں آیا تو اُس کے قدم دروازے پر ہی ایک لمحے کو رک گئے۔
ارحاء پلنگ پر بیٹھی تھی۔
وہ سامنے دیوار کو اس طرح گھور رہی تھی جیسے اُس دیوار کے پار بھی کچھ دیکھ رہی ہو۔
نِہات نے اُسے دیکھا تو بےاختیار بولا،
سائیکو کہیں کی…
پھر اُس نے قدرے بلند آواز میں کہا،
یہ لو… کھانا آ گیا تمہارا۔
ارحاء نے آہستہ سے اپنا چہرہ اُس کی طرف موڑا۔
پھر جس طرح اُس نے نِہات کو دیکھا، نِہات کی ریڑھ کی ہڈی میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔
اُس کی آنکھیں بالکل ساکت تھیں، پلکیں جیسے کئی لمحوں سے جھپکی ہی نہ ہوں، اور چہرے پر ایسی عجیب سی سختی تھی کہ اُسے دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے اُس پر کوئی ان دیکھا آسیب آگیا ہو۔۔
نِہات ایک لمحے کو واقعی گھبرا گیا۔
نِہات نے فوراََ اُس سے اپنی نظریں پہر لی، اور ہاتھ میں لیا کھانے کی ٹرے  میز پر رکھنے لگا۔ ٹرے میں چائنیز رائس اور برُوس تھے۔
ارحاء کی نظریں اب بھی اُس پر جمی ہوئی تھیں۔
پھر اچانک اُس نے پوچھا،
کب تک رکھنے کا ارادہ ہے مجھے یہاں؟
پولیس کے حوالے کیوں نہیں کر دیتے مجھے؟
نِہات نے اُس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا،
کھانا کھاؤ… کھانا۔
پھر نہات جانے لگا پھر روک کے پوچھنے لگا۔۔۔
ارحاء نام ہے تُمہارا۔۔۔؟؟
ارحاء نے چند لمحے اُسے دیکھا، پھر بےتکلف لہجے میں بولی،
نِہات نام ہے تمہارا؟
نِہات کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے حیرت آئی۔
پھر اُس نے قدرے جھنجھلا کر پوچھا،
میرے بھائی کے پیچھے کیوں پڑی ہو؟
ارحاء کے چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی آ گئی۔
کیونکہ وہ قاتل ہے۔
نِہات نے فوراً طنزیہ انداز میں کہا،
قاتل کسی اور کو قاتل کہہ رہی ہے۔
ارحاء کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے عجیب سی چمک ابھری۔
تم مجھے قاتل کہہ سکتے ہو… لیکن ابھی نہیں۔
وہ ذرا سا آگے ہوئی اور نہایت پُرسکون لہجے میں بولی،
جب میرے ہاتھ قاتل کے خون سے رنگ جائیں گے نا…
پھر کہنا مجھے قاتل۔ ابھی قاتل زندہ ہے۔۔
نِہات کے چہرے سے فوراً ساری سنجیدگی غائب ہو گئی۔
اُس کے اندر جیسے ایک دم غصہ بھڑک اٹھا۔
تم ایک بھائی کے سامنے اُس کے بھائی کی موت کی دھمکی دے رہی ہو؟
ارحاء نے بےنیازی سے کندھے اچکائے۔
تو مت سنو۔ کان بند کر لو۔
نِہات نے چند لمحے اُسے غصے سے گھورا۔
اُس کے پاس اُس لڑکی کے بےحس لہجے کا کوئی جواب نہیں تھا۔
وہ غصے سے پلٹا اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازے تک پہنچ کر ایک بار پھر پیچھے مڑ کر اُسے دیکھا۔
ارحاء اب بھی اُسی سکون سے بیٹھی تھی۔
جیسے اُس نے ابھی ابھی کسی انسان کو موت کی دھمکی نہیں دی تھی…
نِہات نے غصے سے دروازہ کھولا اور بغیر کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گیا۔

++++++++++++++++

رات کے پہر امن جیسے ہی کھانا کھا کر اپنے کمرے میں آیا، اُس کے سر میں عجیب سی بھاری پن محسوس ہونے لگی۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑا رہا۔
اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اچانک اُس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔
آج اُس نے واقعی کچھ زیادہ کام کیا تھا، لیکن اتنا بھی نہیں کہ اُس کی طبیعت اس حد تک بگڑ جاتی۔
اُسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اُس نے کوئی نشہ آور دوا کھا لی ہو۔
سر مسلسل گھوم رہا تھا…
اور عجیب سی بےحالی پورے جسم پر طاری ہو رہی تھی۔
اُس نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
ابھی صرف گیارہ بجے تھے۔
جبکہ اُسے ابھی مزید کام کرنا تھا۔
آخرکار اُس نے یسریٰ کو کافی لانے کا کہہ دیا۔
شاید کافی پی کر کچھ تازگی محسوس ہو۔
کچھ دیر بعد یسریٰ کافی لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو امان بیڈ سے سر ٹکائے بیٹھا تھا۔
ایک ہاتھ سے وہ مسلسل اپنا سر دبا رہا تھا۔
یسریٰ کی نظر اُس کے چہرے پر پڑی تو وہ فوراً متوجہ ہوئی۔
آپ کی کافی…
اُس نے کافی سائیڈ ٹیبل پر رکھی، پھر فکر مندی سے پوچھا،
سر… درد ہے؟
امن نے آنکھیں کھول کر اُس کی طرف دیکھا۔
پتا نہیں… میں نے کیا پی لیا تھا کہ اب سر ایسے ہی گھوم رہا ہے۔
یسریٰ نے کچھ سوچا، پھر آہستہ سے بولی،
میں دبا دوں؟
وہ آگے بڑھی اور اُس کے سر پر ہاتھ رکھنے ہی والی تھی کہ امن نے فوراً اُس کا ہاتھ پکڑ کر نیچے کر دیا۔
کیا کر رہی ہو؟
یسریٰ نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
میں دبا دیتی ہوں نا…
امن نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
ہرگز نہیں۔
یسریٰ نے فوراً نرمی سے کہا،
کوئی بات نہیں ہے…
امن نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے گہری سانس لی۔
یسریٰ…
میں تمہیں کیا چھوٹے بچوں کی طرح ایک ایک چیز سمجھاؤں؟
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر سنجیدگی سے بولا،
تم اپنے معیار سے زیادہ مت گرا کرو۔ ایک باؤنڈری بناؤ…
اور اُس کو پار مت کیا کرو۔
یسریٰ خاموش کھڑی اُسے دیکھتی رہی۔
امن نے بات جاری رکھی۔
تم یہاں شیف ہو۔ تمہارا کام کھانا بنانا ہے۔
اس سے ہٹ کر تم اور بھی بہت سے کام کر دیتی ہو…
کوئی بات نہیں۔ لیکن دھیان  رکھا کرو جس کام کے لیے تم یہاں ہو، وہی کرو۔
تمہیں اپنی باؤنڈری معلوم ہونی چاہیے…
کب، کہاں، کس سے اور کیسے پیش آنا ہے، کس موقع پر کیسا رویہ اختیار کرنا ہے… یہ سب سمجھنا ضروری ہے۔
امن کی باتیں سنتے ہوئے یسریٰ کو عجیب سا محسوس ہوا۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ امن آخر اُسے کیا سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
کیا وہ اُس کا خیال رکھ رہا تھا؟ یا پھر… اُسے اپنے سے دور رہنے کا اشارہ دے رہا تھا؟
اُس کے ذہن میں ایک اور خیال بھی آیا۔
امن نے بھی تو اُس کی مدد کی تھی۔
جب وہ مشکل میں تھی، جب اُسے سہارا چاہیے تھا، تب امن نے اُس کے لیے کچھ نہیں سوچا تھا۔
تو پھر اگر آج اُس کا سر درد کر رہا تھا…
اور وہ صرف اُس کی مدد کرنا چاہتی تھی…
تو کیا اُس کا اتنا قریب آ جانا واقعی غلط تھا؟
یسریٰ نے بےاختیار امن کی طرف دیکھا۔
مگر امن کے سنجیدہ چہرے سے اُسے اپنے سوال کا کوئی جواب نہیں ملا۔
یسریٰ نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد آہستہ سے سر ہلا دیا۔
اچھا… سمجھ گئی۔
پھر اُس نے کافی کے کپ کی طرف اشارہ کیا۔
آپ کافی پی لیں۔
امن نے کوئی جواب نہیں دیا، بس سامنے رکھی فائلوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، اچھا، وہاں ٹیبل پر ایک فائل رکھی ہے۔ مجھے اٹھا کر دے دو۔
یسریٰ فائل لینے کے لیے میز کی طرف بڑھی۔
فائل اٹھاتے ہوئے اُس نے فکر مندی سے کہا،
جب سر میں درد ہے تو کام نہیں کر سکتے؟ بعد میں کر لیجیے گا۔
وہ فائل لے کر امن کے پاس آئی اور اُس کی طرف بڑھا دی۔
امن نے فائل تھام لی۔ پھر سائیڈ ٹیبل پر رکھی کافی کا کپ اٹھایا اور ایک گھونٹ لیا۔
یسریٰ ابھی بھی وہیں کھڑی تھی۔
کچھ دیر آرام کر لیجیے، پھر اٹھ کر کام کر لیجیے گا۔
مگر امن نے جیسے اُس کی بات سنی ہی نہیں۔
وہ فائل کھول کر اُس کے صفحات دیکھنے لگا۔
یسریٰ نے خاموشی سے اُس کا کمرہ ترتیب دینا شروع کر دیا۔ حالانکہ کمرہ پہلے ہی مکمل طور پر ترتیب میں تھا۔
امن اپنی چیزوں کے معاملے میں غیر معمولی نفاست پسند تھا۔ جو چیز جہاں سے اٹھاتا، عموماً اُسے وہیں واپس رکھتا تھا۔ مگر یسریٰ شاید صرف کمرہ ترتیب نہیں دے رہی تھی… وہ دراصل امن کے ساتھ  وقت گزارنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ تو بس کسی نہ کسی بہانے کچھ دیر اور امن کے ساتھ وقت گزارنا چاہتی تھی۔
اُسے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ بار بار ایک ہی چیز کو کیوں درست کر رہی ہے۔
کبھی میز پر رکھی کتابیں ترتیب دیتی، کبھی پردہ ذرا سا سیدھا کرتی، کبھی سائیڈ ٹیبل پر رکھی چیز کو ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیتی۔
کام تو کوئی خاص تھا ہی نہیں…
مگر اُس کے لیے شاید اس وقت کام ہونا ضروری بھی نہیں تھا۔
بس امن کے کمرے میں کچھ دیر اور رہنا تھا۔
اُس کے قریب… بغیر کسی خاص وجہ کے۔
امن نے کافی کا دوسرا گھونٹ لیا اور دوبارہ فائل کی طرف متوجہ ہو گیا۔
یہ پولیس اسٹیشن کی گزشتہ ایک ہفتے کی رپورٹ تھی۔
وہ ایک ایک صفحہ دیکھتا جا رہا تھا، مگر چند ہی لمحوں بعد اُس کی نظریں الفاظ پر ٹھہرنے کے بجائے پھسلنے لگیں۔ کافی ختم کرتے کرتے اُس کے سر کا بھاری پن پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا تھا۔
اب حالت یہ تھی کہ فائل میں لکھے الفاظ اُسے صاف دکھائی ہی نہیں دے رہے تھے۔
ساری تحریر جیسے دھند میں ڈوب گئی ہو۔
اُس نے ایک بار آنکھیں بند کیں، پھر دوبارہ کھول کر فائل کو دیکھا۔
مگر اس بار بھی الفاظ اُس کی نظروں کے سامنے گڈمڈ ہو رہے تھے۔
امن نے بےاختیار اپنی انگلیاں ماتھے پر رکھ دیں۔
چند لمحے وہ خاموش بیٹھا رہا۔
پھر دھیمی آواز میں بولا،
شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو…
وہ ذرا سا پیچھے ہو کر بیڈ سے ٹیک لگا گیا۔
تھوڑی دیر آرام کر ہی لیتا ہوں۔ دو گھنٹے بعد اٹھ کر دیکھ لوں گا یہ۔
اُس نے فائل بند کی اور اُسے اپنے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
پھر یسریٰ کی طرف دیکھا۔
لائٹ آف کر کے چلی جاؤ۔
یسریٰ نے فوراً سر ہلایا۔
جی، ٹھیک ہے۔
وہ کمرے کی لائٹ بند کرنے کے لیے بڑھی۔
چند لمحوں میں پورا کمرہ نیم تاریکی میں ڈوب گیا۔
یسریٰ ایک نظر امن پر ڈال کر خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
دروازہ بند ہوا تو امن نے آنکھیں موند لیں۔
مگر اُس کے سر میں گھومتی ہوئی دنیا… اب بھی ویسے ہی گھوم رہی تھی۔

++++++++++++++

امن کے کمرے سے نکلنے کے بعد یسریٰ نے پورے گھر کا ایک بار پھر جائزہ لیا۔
ہر طرف خاموشی تھی۔
گھر کے تقریباً تمام افراد اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے اور سو رہے تھے۔
کچھ دیر وہ وہیں کھڑی رہی، پھر جیسے کسی فیصلے پر پہنچی ہو، دوبارہ امن کے کمرے کی طرف پلٹ گئی۔
دروازہ آہستہ سے کھول کر وہ اندر داخل ہوئی۔
کمرے میں ہلکی سی تاریکی تھی۔
امن اُسی طرح بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔
یسریٰ اُس کے قریب گئی اور احتیاط سے اُس کے کندھے کو ہلایا۔
امن نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
اُس نے دوبارہ ہلکا سا ہلایا۔
مگر وہ گہری نیند کی وادیوں میں اتر چکا تھا۔
یسریٰ کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ آئی۔
وہ چند لمحے خاموشی سے اُس کے چہرے کو دیکھتی رہی۔
پھر نہایت دھیمی آواز میں بولی،
میں اتنی معصوم نہیں ہوں جتنا آپ مجھے سمجھتے ہیں…
اُس کی نظریں امن کے پرسکون چہرے پر جمی رہیں۔
لیکن اگر آپ کو یہ معصوم یسریٰ ہی پسند ہے…
تو یسریٰ ایسے ہی ساری زندگی آپ کے ساتھ معصوم بن کر رہ سکتی ہے۔
وہ چند لمحے خاموش رہی۔
پھر اُس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
اگر آپ یسریٰ کو مل گئے نا…
تو یسریٰ یہ کہاوت بھی جھوٹی ثابت کر دے گی کہ چاند اگر دسترس میں آ جائے تو چاند نہیں رہتا۔
اُس نے ایک آخری نظر امن پر ڈالی۔
پھر خاموشی سے پلٹی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
وہ گھر کے مرکزی دروازے تک پہنچی تو وہاں صرف چند محافظ موجود تھے۔
یسریٰ نے اپنے فون کو ہاتھ میں لیا۔
چند لمحے اسکرین کو دیکھتی رہی، پھر ایک مختصر سا پیغام ٹائپ کیا۔
Come here…!!!
پیغام بھیجنے کے بعد اُس نے فون واپس رکھ لیا۔
وہ چند لمحے مرکزی دروازے کے پاس کھڑی رہی۔
اور پھر…
کچھ ہی دیر بعد دروازے کے باہر موجود سناٹے میں ایک سایہ نمودار ہوا۔
اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا۔
اور وہ اندر داخل ہوا۔
ریپر سر سے پاؤں تک سیاہ لباس میں ملبوس تھا۔
اُس نے سیاہ پینٹ کے ساتھ سیاہ شرٹ پہن رکھی تھی، جبکہ اُس کے اوپر ایک لمبا سیاہ کوٹ تھا جو گھٹنوں تک آ رہا تھا۔
کوٹ کی پشت پر بڑے اور نمایاں حروف میں R لکھا ہوا تھا، جو اندھیرے میں بھی اُس کی پہچان بن رہا تھا۔
چہرے پر سیاہ ماسک تھا، جس نے اُس کے چہرے کے بیشتر حصے کو چھپا رکھا تھا۔
سر پر سیاہ کیپ تھی، جس کے اگلے حصے پر بھی سفید رنگ میں ایک نمایاں R بنا ہوا تھا۔
وہ چند قدم اندر آیا۔
کراچی کا موت کا سایہ،  امن حنان افتخارِ کے محل میں داخل ہوچکا تھا۔۔۔
وہ یسریٰ کے سامنے آ کر رک گیا۔
گڈ جاب
یسریٰ نے اُسے گھورتے ہوئے فوراً پوچھا،
تم کرنے کیا والے ہو؟
تم؟ آپ۔۔۔۔
ریپر نے اُسے ایک نظر دیکھا۔
یسریٰ نے سنجیدگی سے کہا،
یسریٰ کی دی ہوئی عزت صرف ایک ہی شخص کے لیے ہے۔
ریپر نے بھنویں اٹھائیں۔
وہ شخص؟ جو ہر دفعہ تمہاری خودغرضی کا شکار ہوتا ہے؟
یسریٰ نے بےزاری سے کہا،
تم بس اپنے عمل پر دھیان دو۔
یہاں سب جانتے ہیں کہ میں امن کو بچا رہی ہوں۔
ریپر نے قدرے بےفکری سے کہا،
ایسے ہی بچاتی رہنا۔ اُس میں میرا ہی فائدہ ہے۔
یہ کہتے ہوئے اُس کے قدم اندر کی جانب بڑھنے لگے۔
مگر ابھی وہ چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ یسریٰ کی آواز اُس کے پیچھے سے آئی۔
لیکن تم نے امل سے نکاح کیوں کیا؟
ریپر کے قدم وہیں رک گئے۔
چند لمحوں کے لیے اُس کے وجود میں جیسے حرکت ہی ختم ہو گئی۔
پھر اُس نے پلٹ کر یسریٰ کو دیکھا۔
میں نے تمہیں مجھ سے سوال کرنے کا حق نہیں دیا۔
یسریٰ نے ذرا بھی گھبرائے بغیر کہا،
کہہ دو پسند آ گئی ہے تمہیں وہ۔ میں کون سا تمہاری سوتیلی بہن ہوں جو تمہیں اس بات پر چھیڑوں گی۔
ریپر کی آنکھیں ذرا سی سکڑیں۔
سوتیلی بہن بولنے کا مقصد؟
یسریٰ نے بےفکری سے اپنے آپ کو دیکھا، پھر اُسے دیکھ کر بولی،
سگی بہن تو میں تمہاری ہونے سے رہی۔
خود کو دیکھو..۔۔کالے کالے… اور میں کتنی گوری گوری!
یہ کہتے ہی وہ تیزی سے اندر کی طرف بھاگ گئی۔
ریپر چند لمحے وہیں کھڑا اُسے جاتا دیکھتا رہا۔
پھر بےاختیار اُس کے لبوں سے نکلا،
خودغرض کہیں کی…
اور سر ہلاتا ہوا وہ بھی گھر کے اندر کی جانب بڑھ گیا۔

+++++++++++

ریپر بغیر کسی رکاوٹ کے امل کے کمرے میں داخل ہو گیا۔
کمرے میں ہلکی سی تاریکی تھی۔
امل بیڈ پر گہری نیند میں سو رہی تھی۔
ریپر کے قدم آہستہ آہستہ اُسے کے قریب پہنچے۔
وہ بیڈ کے بالکل پاس جا کر رک گیا…
اور خاموشی سے اس کا چہرہ تکنے لگا۔
کیا وہ.. جو کرنے آیا تھا، کر دے؟
مگر پہلی دفعہ… اُس کا دل ڈگمگا گیا تھا۔
عجیب بات تھی۔ جس شخص کا دل دوسروں کے خوف سے کبھی نہیں پگھلا تھا، آج ایک سوئی ہوئی لڑکی کے سامنے اُس کا اپنا دل اُسے روک رہا تھا۔
وہ کچھ دیر مزید اُسے دیکھتا رہا۔
پھر بہت ہلکی آواز میں پکارا،
امل…
امل…
اچانک امل کی پلکیں زور سے بھنچ گئیں۔
ریپر نے حیرت سے اُسے دیکھا۔
اگلے ہی لمحے اُس نے بےاختیار اپنا ہاتھ بڑھایا اور امل کے سر پر رکھ دیا۔
بس پھر کیا تھا۔
امل کے وجود میں جیسے ایک دم جان آ گئی۔
نہیں!
نہیں… نہیں!
وہ چیخ کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کرنے لگی، مگر آنکھیں اب بھی سختی سے بند تھیں۔
ریپر ایک دم پیچھے ہوا۔
اُسے کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ اچانک کیا ہو گیا تھا۔
امل مسلسل سر ہلا رہی تھی۔
نہیں…
نہیں…
میں نے کچھ نہیں…
کچھ نہیں دیکھا…
ریپر کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
میں نے کچھ نہیں کیا۔ وہ بےاختیار بولا،
امل…؟ اُس نے بےچینی سے دوبارہ اُسے پکارا۔
امل!
مگر امل کی آنکھیں نہ کھلیں۔
وہ مسلسل سر نفی میں ہلاتی رہی۔
نہیں…
نہیں…
ریپر کی بےچینی بڑھنے لگی۔
امل، آنکھیں کھولو۔
ارے، دیکھو میری طرف… میں ہوں یہاں، اور کوئی نہیں ہے،
امل نے جیسے اُس کی آواز سنی ہی نہ ہو۔
اچانک اُس کے لبوں سے ایک ہی لفظ نکلا۔
بھائی…
ریپر ساکت رہ گیا۔
بھائی…
بھائی مجھے بچائیں…
امل کی آواز رونے سے ٹوٹ رہی تھی۔
بھائی مجھے بچائیں…
ریپر نے بےیقینی سے اُسے دیکھا۔
اُس نے ایک بار پھر قدرے بلند آواز میں کہا،
امل، آنکھیں کھولو۔ دیکھو….کچھ بھی نہیں ہوا۔
تم ٹھیک ہو۔
مگر امل کی حالت مزید بگڑ گئی۔
اُس کے آنسو تیزی سے بہنے لگے۔
وہ بیڈ پر سمٹنے کی کوشش کرتے ہوئے بار بار سر ہلا رہی تھی۔
نہیں…
بھائی… مجھے بچائیں…
امن بھائی…
ریپر کے چہرے پر پہلی بار ایسی الجھن نمودار ہوئی جس کا اُسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔
اُس نے امل کے کندھے کو ہلایا۔
امل… اٹھو۔ دیکھو میری طرف۔
مگر امل نے آنکھیں نہ کھولیں۔
وہ مسلسل رو رہی تھی۔
ریپر نے اُس کا سر ہلکے سے تھپتھپایا۔
امل، آنکھیں کھولو۔ دیکھو… یہاں کوئی نہیں ہے۔
کچھ بھی نہیں ہوا۔
اُس کی آواز میں پہلی بار عجیب سی نرمی تھی۔
میں تمہیں کچھ نہیں کر رہا… بس آنکھیں کھولو۔
مگر اُس کے الفاظ جیسے امل تک پہنچ ہی نہیں رہے تھے۔
وہ بار بار ایک ہی بات دہرا رہی تھی۔
بھائی مجھے بچائیں…
امن بھائی…
ریپر نے ایک لمحے کے لیے آنکھیں بند کیں۔
اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
اُس نے اُسے ڈرانے کی بہت کوشش کی تھی۔
اُس کے سامنے خطرناک بن کر کھڑا ہوا تھا۔
اُسے دھمکایا تھا۔
مگر آج… وہ سوئی ہوئی لڑکی اُس کے سامنے ایسے خوفزدہ تھی۔۔۔
ریپر نے دوبارہ اُسے اٹھانے کی کوشش کی۔
امل… اٹھو۔ آنکھیں کھولو۔
میں کہہ رہا ہوں کچھ نہیں ہوا۔
مگر امل نے جیسے اُس کی آواز سننے سے انکار کر دیا تھا۔
وہ مزید زور سے رونے لگی۔
نہیں… نہیں… مجھے نہیں جانا… میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔بھائی…
ریپر نے بےاختیار اُسے ہلایا۔
امل!
اٹھو!
مگر امل کی حالت سنبھلنے کے بجائے مزید خراب ہو گئی۔
اُس کی سانسیں بےترتیب ہونے لگیں۔
ریپر نے بےچینی سے اُس کا چہرہ دیکھا۔
امل کی آنکھیں اب بھی مضبوطی سے بند تھیں۔
اُس کے آنسو مسلسل اُس کے کنپٹیوں سے ہوتے ہوئے تکیے میں جذب ہو رہے تھے، جبکہ اُس کی سانسیں بری طرح بےترتیب ہو چکی تھیں۔
بھائی…!
اُس کی آواز روتے روتے بری طرح ٹوٹ رہی تھی۔
مجھے بچائیں… بھائی مجھے بچائیں…
اُس نے دوبارہ اُس کا کندھا پکڑا۔
امل! آنکھیں کھولو۔ اُس کا لہجہ اس بار سخت تھا۔
لیکن امل کی حالت مزید بگڑ گئی۔
نہیں!
وہ ایک دم سمٹ کر بیڈ پر پڑی اور اپنے گھٹنے سینے سے لگا لیے۔
مجھے نہیں چاہیے… مجھے نہیں چاہیے… بھائی۔۔۔ بھائی۔۔
ریپر نے بےاختیار اُس کے قریب ہو کر کہا،
امل، میں تمہیں کچھ نہیں کر رہا۔ دیکھو میری طرف۔ آنکھیں کھولو۔۔  میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔
مگر امل نے جیسے اُس کی کوئی بات سنی ہی نہیں۔
وہ مسلسل رو رہی تھی۔ اُس کے جسم پر کپکپی طاری ہو چکی تھی اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اُس کی سانسیں مزید تیز ہوتی جا رہی تھیں۔
ریپر نے اُس کے گال پر ہلکی سی تھپکی دی۔
امل… سنو مجھے۔ اُٹھو۔ کچھ نہیں ہوا۔ تُم اپنے گھر پر ہو، بالکل ٹھیک ہو۔۔۔
لیکن امل نے پھر بھی آنکھیں نہیں کھولیں۔
اُس کے لبوں سے بس ایک ہی جملہ بار بار نکل رہا تھا۔
بھائی مجھے بچائیں… بھائی… امن بھائی…
ریپر نے پہلی بار بےچینی سے کمرے کے چاروں طرف دیکھا۔
اُس کے چہرے پر غصہ نہیں تھا۔ اب وہاں صرف الجھن تھی۔ اور پریشانی۔ آخر یہ ہو کیا رہا تھا؟ کیا کریں اب وہ۔۔۔ ؟؟
اُس نے امل کو اُٹھانے کی کوشش کی۔
امل… چلو، بیٹھو۔
اُس نے اُس کے بازو کو سہارا دیا، مگر امل نے جیسے ہی اُس کا ہاتھ محسوس کیا، وہ مزید گھبرا گئی۔
نہیں! اُس کی چیخ پورے کمرے میں گونج گئی۔
ریپر فوراً اُس کا ہاتھ چھوڑ کر پیچھے ہوا۔
امل نے آنکھیں بند کیے ہوئے ہی سر کو مسلسل نفی میں ہلانا شروع کر دیا۔
نہیں… نہیں.. میرے قریب مت آؤ…
اُس کی آواز اتنی خوف زدہ تھی کہ ریپر چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔
ریپر کے چہرے پر ایک عجیب سی بےبسی ابھری۔
امل اب بھی آنکھیں کھولنے کو تیار نہیں تھی۔
وہ مسلسل رو رہی تھی، جیسے کسی ایسے خوف میں قید ہو جس تک ریپر کی آواز بھی نہیں پہنچ پا رہی تھی۔
دوسروں کے خوف سے کھیلنے والا ریپر… آج ایک لڑکی کا خوف ختم نہیں کر پا رہا تھا۔

++++++++++++++

سنان اپنے کمرے میں لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔
کمرہ مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ صرف لیپ ٹاپ کی اسکرین سے نکلنے والی ہلکی سی روشنی اُس کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جس سے اُس کی آنکھوں میں چھپی غیر معمولی یکسوئی اور بھی نمایاں ہو رہی تھی۔
وہ ہیکنگ میں ماسٹر تھا۔
ایسا ماسٹر کہ کسی کے پیچھے پڑ جائے تو ایک سیکنڈ میں اُس کی پوری زندگی نکال کر رکھ دیتا تھا۔
کون کہاں پیدا ہوا… کہاں پڑھا… کس سے ملا… کہاں گیا…
کیا چھپایا… اور کس سے کیا جھوٹ بولا…سب کچھ۔
سنان کے لیے یہ سب محض چند کلکس کا کھیل تھا۔
اسی لیے تو ریپر کی لوکیشن نکال کر امن کو دینے والا بھی سنان ہی تھا۔
پھر زرقان نے چند پولیس افسران کے ساتھ مل کر ریپر کے ڈرگز والے پورے ٹریک کو ہیک کیا تھا، اور اُس کے بندے بھی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
سنان ابھی بھی ریپر کے نیٹ ورک میں گھسا ہوا تھا۔
کہ اب ریپر کا الگلا کام کیا ہونے والا ہے۔۔۔
اور یہ کام وہ صرف کام سمجھ کر نہیں کر رہا تھا۔
زرقان اور سنان دونوں اس کیس میں اپنی پوری جان لگا رہے تھے۔
کچھ اپنے کام کے ساتھ وفاداری تھی…
اور کچھ وقت کے ساتھ امن سے بڑھتی ہوئی اپنائیت۔
امن بھی اب اُن دونوں کو صرف اپنے آدمی نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اُنہیں اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح ٹریٹ کرنے لگا تھا۔ اُن کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا خیال رکھتا… اُن کی ضرورت پوچھتا… کبھی ڈانٹ دیتا… کبھی بےوجہ خیال کر لیتا۔ وہ attention…جو شاید اُن دونوں کو زندگی میں کبھی کسی سے نہیں ملی تھی۔
اسی لیے شاید دونوں اس کام میں پہلے سے بھی زیادہ ڈوب گئے تھے۔
اس وقت بھی سنان کے ایک ہاتھ میں کولڈ ڈرنک کی بوتل تھی، جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ تیزی سے کی بورڈ پر انگلیاں چلا رہا تھا۔
کمرہ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سو رہا ہو۔
لیکن حقیقت یہ تھی کہ سنان رات کا جن تھا۔ جیسے ہی رات ہوتی… اُس کے اندر کا پورا سسٹم ایکٹو ہو جاتا تھا، اور صبح ہوتے ہی یہی بندہ ایسے سویا ہوتا تھا جیسے رات بھر دنیا کے سارے مسئلے اُس نے اکیلے حل کیے ہوں۔
ابھی اُس کی کولڈ ڈرنک ختم ہوئی تھی کہ اُس کی نظر خالی بوتل پر پڑی۔
چند سیکنڈ اُسے دیکھا۔
کبھی کبھی واقعی ایسا لگتا تھا کہ سنان پیسوں کے بغیر بھی رہ سکتا ہے… لیکن کولڈ ڈرنک کے بغیر نہیں۔
اُس نے کانوں سے ہیڈفون اتارے، کرسی ذرا پیچھے کی اور اٹھ کھڑا ہوا۔
ویسے سنان کی ایک اور مہربانی کی وجہ سے افتخار محل میں بھی اب کولڈ ڈرنک کی بوتلیں آنے لگی تھیں۔
صرف آنے ہی نہیں لگی تھیں…
فریج میں باقاعدہ اسٹور بھی ہونے لگی تھیں۔
ورنہ افتخار محل میں تو کولڈ ڈرنک کو کوئی ہاتھ تک نہیں لگاتا تھا۔
سنان نے کمرے کا دروازہ کھولا۔ مگر جیسے ہی باہر قدم رکھا… وہ اچانک رک گیا۔
کچھ عجیب تھا۔ بہت عجیب۔
اُس نے فوراً دروازہ واپس بند کر دیا۔
پھر بھنویں سکیڑ کر بولا،
ارے…
یہ گھر والے آج کون سا ماتم کر رہے ہیں؟
کون مر گیا؟
اُس نے فوراً فون نکالا۔
چند سیکنڈ میں افتخار محل میں لگے کیمروں کی لائیو فیڈ اُس کے موبائل پر آ گئی۔
اسکرین پر گھر کا مرکزی دروازہ نظر آیا۔
وہاں صرف دو گارڈ کھڑے تھے
سنان کی آنکھیں سکڑ گئیں۔
ارے… اِدھر تو فوج کی تعداد رہتی ہے۔
باقی سارے کہاں گئے؟
اُس نے فوراً کیمرہ تبدیل کیا۔ گھر کے اندر کا منظر سامنے آیا، چند ملازم ادھر اُدھر آ جا رہے تھے۔
رات کے اس پہر زیادہ تر ملازمین اپنے مخصوص سرونٹس کاؤنٹر کی طرف جا چکے ہوتے تھے، اس لیے اندر معمول کے مطابق زیادہ چہل پہل نہیں تھی۔ تو اندر تو ٹھیک تھا۔۔۔
مگر… گارڈز کا معاملہ اُسے کھٹک رہا تھا۔
گھر میں اتنی خاموشی… اور باہر اتنے کم گارڈ؟ کچھ تو گڑبڑ تھی۔
سنان نے فون بیڈ پر پھینکا۔
وہ دوبارہ کمرے سے نکلا۔ اس بار اُس کے قدم محتاط تھے۔
دبے دبے قدموں سے چلتا ہوا وہ راہداری میں آگے بڑھنے لگا۔
اُس کا کمرہ اوپری منزل کے تقریباً آخری سرے پر تھا۔
اُس کے بعد نِہات کا کمرہ تھا۔
پھر زرقان کا۔ اُس کے دو کمرے بعد امن کا کمرہ تھا۔
اور امن کے کمرے سے ایک کمرہ چھوڑ کر امل کا کمرہ تھا۔
دوسری طرف دادا دادی کے کمرے نیچے تھے۔
سنان کچھ دور تک چل کر آیا۔
پھر اچانک رکا۔
سامنے راہداری کچھ زیادہ ہی خاموش تھی،
پھر سنان اچانک ایک دیوار کی اوٹ میں ہوگیا۔۔۔
اور دیوار کی اوٹ میں ہو کر ہی جھکا۔۔۔ اُس کی نظریں امل کے کمرے کے باہر موجود دو ملازماؤں پر پڑیں۔
دونوں دروازے کے آس پاس ہی چکر لگا رہی تھیں۔
سنان نے حیرت سے اُنہیں دیکھا۔
پھر آہستہ سے بولا،
یہ کیا چکر ہے بابو بھائی؟
ایک لمحے کے لیے وہ خود ہی رکا۔
پھر شرارت سے اپنے سینے پر ہاتھ مارا۔
لیکن ایک منٹ… میں کیوں چھپ رہا ہوں؟
میں؟ میں تو سنان ہوں۔ سنان کسی سے نہیں چھپتا…
سنان سے سب چھپتے ہیں۔
یہ کہتے ہوئے اُس نے بڑے فخر سے سینہ پھلایا اور پوری شان سے  دیوار کی اوٹ سے نکل اور  آگے بڑھ گیا۔
مگر ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ اچانک کو زرقان کے کمرے کے اندر گھس گیا۔
دروازہ فوراً بند کیا۔ پھر چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔
جیسے کسی نے دیکھ لیا تو عزت کا جنازہ نکل جائے گا۔
پھر اُس نے آہستہ سے دروازہ ذرا سا کھولا۔
اور باہر جھانکا۔
اور پھر… اُس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
اُس نے امل کے کمرے کی طرف دیکھا۔
دروازہ کھلا تھا۔ اور وہاں سے ایک شخص باہر نکلا۔
وہ شخص تیزی سے راہداری عبور کرتا ہوا…
امن کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
سنان کی نظریں اُس کے پیچھے جم گئیں۔
یہ کون تھا؟
اُس نے فوراً ذہن پر زور دیا۔
امن بھائی…؟
پھر اُس نے اپنے پیچھے دیکھا۔ زرقان گہری نیند میں پڑا ہوا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سو نہیں رہا… مر چکا ہو۔
سنان نے اُسے گھورا۔
سالا نالّا!
پھر دوبارہ دروازے کی طرف مڑا۔ اُس نے ایک بار پھر باہر جھانکا۔ مگر راہداری خالی تھی۔ اچانک اُس کے ذہن میں چند لمحے پہلے دیکھا ہوا منظر دوبارہ تازہ ہو گیا۔
امل کے کمرے سے نکلتا ہوا وہ شخص… امن کے کمرے کی طرف جاتا ہوا…
سنان نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
تیری یادداشت کو سلام ہے میرے بھائی۔۔۔
وہ فوراً دروازے سے باہر نکلا۔
اب اُس کے چہرے سے ساری شرارت غائب ہو چکی تھی۔
وہ سیدھا اُن دونوں ملازماؤں کے سامنے جا کر رک گیا جو ابھی تک امل کے کمرے کے باہر موجود تھیں۔
دونوں نے چونک کر اُسے دیکھا۔
سنان نے ایک نظر امل کے بند دروازے پر ڈالی…
پھر اُن دونوں پر۔
اور اُس کے چہرے پر پہلی بار سنجیدگی صاف دکھائی دی۔
کچھ تو ضرور ہوا تھا۔
اور اب… سینان یہ جان کر ہی دم لینے والا تھا۔۔۔

+++++++++++

ریپر نے امل کو وہیں چھوڑا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل آیا۔
اُس کے قدموں میں عجیب سی بےچینی تھی۔
وہ تقریباً بھاگتا ہوا امن کے کمرے کی طرف گیا۔
دروازہ کھولتے ہی اُس کی نظر اندر موجود یسریٰ پر پڑی۔
ریپر نے بغیر کسی تمہید کے کہا،
اٹھاؤ اسے!
یسریٰ نے چونک کر اُسے دیکھا۔
کیا اٹھاؤں؟ وہ تو سو رہے ہیں۔
ریپر نے بےصبری سے کہا،
ارے اُسے اٹھاؤ! اُس کی بہن کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔
یسریٰ نے امن کی طرف دیکھا، پھر پرسکون لہجے میں بولی،
لیکن یہ ابھی سوئے ہیں… اتنی جلدی نہیں اٹھیں گے۔
ریپر کا صبر جواب دے گیا۔
کیا بکواس ہے؟ سویا ہیں نا! مرا تو نہیں، جلدی اُٹھاؤ اسے،
یسریٰ نے اُسے دیکھا  ارے… بھول گئے کیا؟ اُسے نیند کی گولیاں دی ہوئی ہیں۔ ایسے ویسے تھوڑی اٹھیں گے یہ۔ اب یہ ڈائریکٹ صبح ہی اٹھتے گے۔۔۔
ریپر کے چہرے پر ناگواری ابھری۔
وہ فوراً امن کے پاس پہنچا اور دونوں ہاتھوں سے اُس کے بازو پکڑ کر اُسے ہلانے لگا۔
امن! اٹھو! امن، اٹھو!
دیکھو…
تمہاری بہن تمہیں بلا رہی ہے۔۔۔۔
مگر امن نے کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
اُس کا سر ایک طرف ڈھلک گیا اور وہ بدستور گہری نیند میں ڈوبا رہا۔
یسریٰ نے سکون سے کہا، وہ نہیں اٹھنے والے۔
ریپر نے پلٹ کر اُسے گھورا۔ خودغرض لڑکی۔۔۔۔
کسی بھی طرح اِسے اٹھاؤ۔۔۔
یسریٰ نے جیسے بےفکری سے جواب دیا، وہ سو ہی نہیں رہے تھے۔ میں نے اُسے دو نیند کی گولیاں دی تھیں۔
ایک کھانے میں… اور ایک کافی میں بھی۔
ریپر ایک لمحے کے لیے حیران رہ گیا۔۔۔
پھر اُس نے یسریٰ کو ایسی نظروں سے دیکھا جیسے ابھی اُس کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
خودغرض لڑکی۔۔
تم اسے مار کر ہی چھوڑو گی…۔تمہیں ذرا پروا نہیں ہے اُس کی؟ کیسی محبت ہے تمہاری؟ خودغرض لڑکی۔۔۔۔
وہ غصے سے امن کی طرف پلٹا۔
اٹھاؤ اسے۔۔۔
وہاں اُس کی بہن اسے بلا رہی ہے، اس کی بہن کو اس کی ضرورت ہے، وہ تڑپ رہی ہے۔۔۔
مجھے سے اُس کی حالت دیکھی نہیں جا رہی۔۔۔
ریپر کی آواز میں پہلی بار غصے سے زیادہ بےبسی تھی۔
وہ دوبارہ امن کو جھنجھوڑنے لگا۔
اُسے صرف اِس کی آواز سنائی دے گی تو ہوش میں آئے گی۔۔۔
اٹھاؤ اسے۔۔۔
امن۔۔۔
اُس نے پوری طاقت سے اُس کا کندھا ہلایا۔
امن، اٹھ۔۔۔
اٹھ جا۔۔۔
وہاں تیری بہن مر رہی ہے۔۔۔
اُٹھ۔۔
اُس کی آواز بےاختیار بلند ہوتی چلی گئی۔
اٹھ جا میرے باپ۔۔
تیری بہن کو تیری ضرورت ہے۔۔۔
مگر امن… وہ بدستور گہری نیند میں تھا۔
اور ریپر پہلی بار اُس شخص کے سامنے کھڑا تھا جسے وہ اپنا دشمن سمجھتا تھا…
مگر آج اُسے جگانے کے لیے اُسی دشمن کی آواز کی ضرورت تھی۔
کیا ہی تقدیر سے بازی ہار بیٹھا تھا وہ اپنا…
جو اب تک اُسی لڑکی کو خوف زدہ کرنا چاہتا رہا تھا، آج اُسی کا خوف اُس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
اور جہاں وہ اُسے موت کے گھاٹ اتارنا چاہتا تھا، وہیں اب اُسے ہوش میں لانے کے جتن کر رہا تھا۔
شاید تقدیر بھی کبھی کبھی انسان کو اُسی مقام پر لا کھڑا کرتی ہے، جہاں وہ دوسروں کے لیے جو درد چنتا ہے، آخرکار اُسی درد کا تماشائی نہیں… خود شکار بن جاتا ہے۔

جسے ڈرانے کی قسم کھائی تھی،
آج اُس کے خوف سے ڈر گیا کوئی۔
جسے آنکھوں میں آنسو دیکھنے کی چاہ تھی،
اُسی کے آنسوؤں پہ مر گیا کوئی۔
جس کو دشمن سمجھ کے مٹانا تھا،
اُسی کے بھائی کو پکارنے لگا کوئی۔
عجیب تھا یہ کھیل بھی تقدیر کا،
قاتل تھا… مگر آج خود بےبس تھا۔
جس ہاتھ میں موت کی خواہش لیے پھرتا تھا،
اُسی ہاتھ سے زندگی جگانے لگا کوئی۔
جسے امن کی موت کا انتظار تھا،
آج امن کی ایک آواز کا محتاج تھا۔
وہ جو خوف بانٹتا تھا زمانے بھر میں،
آج ایک معصوم کے خوف سے ہار گیا۔ کوئی

++++++++++++++++

سنان نے دونوں ملازماؤں کو چند لمحے غور سے دیکھا۔
پھر اچانک اُس کے چہرے پر وہی لاپرواہ سی مسکراہٹ آ گئی۔
مجھے بھوک لگی ہے۔
اُس نے ایسے کہا جیسے ابھی ابھی اسے دنیا کا سب سے اہم مسئلہ یاد آیا ہو۔
جاؤ، کچھ بنا کے لے کر آؤ۔
ایک ملازمہ فوراً وہاں سے جانے لگی۔
سنان نے دوسری کو دیکھا، پھر جیسے اچانک کچھ یاد آیا ہو، بولا،
اور تم.. میرے لیے کولڈ ڈرنک لے کر آؤ۔
ملازمہ نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ بھی وہاں سے چلی گئی۔ سنان کو شک نہ ہو اسی لیے وہ دونوں ملازمہ خاموشی سے سنان کے حکم پر یہاں سے نکل گئی۔۔۔
سنان نے اُن دونوں کو جاتے ہوئے دیکھا۔
دونوں کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی اُس کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔
بس یہی چاہیے تھا۔ اُس نے ایک لمحے کے لیے راہداری کے دونوں طرف دیکھا۔ کوئی بھی نہیں تھا۔ پوری راہداری خالی پڑی تھی،
سنان نے فوراً امل کے کمرے کے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔ ہینڈل گھمایا۔ دروازہ کھولا…
اور اگلے ہی لمحے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اندر داخل ہو گیا۔
دروازہ اُس کے پیچھے آہستہ سے بند ہو گیا۔
سنان جیسے ہی اندر داخل ہوا، اگلے ہی لمحے اُس کے قدم وہیں رک گئے۔
امل بستر پر بےچینی سے تڑپ رہی تھی۔
اُس کی آنکھیں اب بھی سختی سے بند تھیں اور وہ مسلسل چیخ رہی تھی۔
امن بھائی…! امن بھائی…۔
اُس کی آواز میں خوف تھا، امل کا پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا۔ بال ماتھے سے چپکے ہوئے تھے، سانس بےترتیب چل رہی تھی اور بند آنکھوں کے باوجود اُس کے چہرے پر خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔
وہ جیسے کسی ایسے منظر میں پھنسی ہوئی تھی جہاں سے جاگ کر بھی نکل نہیں پا رہی تھی۔
سنان چند لمحے خاموش کھڑا اُسے دیکھتا رہا۔
یہ… یہ وہ امل نہیں تھی جسے وہ جانتا تھا۔
وہ تو ہر مشکل کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی تھی۔
پھر آج کیا ہوا تھا؟ سنان کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔
وہ آہستہ سے آگے بڑھا۔
امل…
مگر اُس کی آواز سنتے ہی امل کی چیخ اور بلند ہو گئی۔
امن بھائییی…! سنان ایک دم رک گیا۔
اب اُسے سمجھ آ گیا تھا… بات صرف ڈر کی نہیں تھی۔
امل کسی چیز سے نہیں… کسی شخص سے خوف زدہ تھی۔
سنان نے چند لمحے اُسے دیکھا۔
پھر اُس کی نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے پانی کے جگ پر پڑی۔
اُس نے فوراً جگ اٹھایا۔
ایک لمحے کی بھی دیر کیے بغیر اُس نے پورا پانی امل کے اوپر ڈال دیا۔
اچانک ٹھنڈا پانی اُس کے چہرے اور بالوں پر گرا تو امل کا پورا جسم ایک جھٹکے سے ہلا۔
اُس کی چیخ وہیں رک گئی۔
سانس جیسے ایک لمحے کے لیے سینے میں اٹک گئی۔
سنان نے فوراً جگ نیچے رکھا۔
اُٹھ جاؤ صبح ہوگئی۔۔۔
اُس نے آگے بڑھ کر اُس کے کندھے تھامے۔
امل نے ہانپتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔
مگر اگلے ہی لمحے اُس کی نظریں بےترتیب انداز میں کمرے میں دوڑنے لگیں۔
جیسے وہ ابھی تک پوری طرح حقیقت میں واپس نہ آئی ہو۔
سنان نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔
اُٹھ جاؤ… نہیں تو اب کولڈ ڈرنک ڈالوں گا۔
امل نے چند لمحے اُسے خالی نظروں سے دیکھا۔
پھر دھیمی سی آواز میں بولی، آپ…؟
سنان نے بھنویں اٹھائیں۔ ہاں، میں سنان۔
امل نے الجھن سے اُسے دیکھا۔ حیدر…
سنان نے فوراً سر ہلایا۔ ایک ہی بات ہے۔
امل نے چند لمحے خاموش رہ کر اِدھر اُدھر دیکھا۔
پھر جیسے اچانک اُسے احساس ہوا کہ وہ کہاں ہے، اُس نے بےیقینی سے پوچھا،
میں کہاں ہوں…؟
سنان نے ایک نظر پورے کمرے پر ڈالی، پھر دوبارہ اُسے دیکھا۔
اپنے ہی کمرے میں ہو، میڈم۔

+++++++++++++

یسریٰ چند قدم کے فاصلے پر کھڑی خاموشی سے ریپر کو دیکھ رہی تھی۔
اُس نے ریپر کو غصے میں دیکھا تھا، دھمکاتے ہوئے دیکھا تھا، دوسروں کو خوف زدہ کرتے ہوئے دیکھا تھا…
مگر آج پہلی بار وہ اُسے بےبس دیکھ رہی تھی۔
اُس کے چہرے پر وہ غرور نہیں تھا جو ہمیشہ نظر آتا تھا۔
آنکھوں میں وہ سختی بھی نہیں تھی۔
بس ایک عجیب سی پریشانی تھی…
جیسے پہلی بار اُسے سمجھ نہ آ رہا ہو کہ کیا کرے۔
ریپر مسلسل امن کو جگانے کی کوشش کر رہا تھا۔
امن کی پلک تک نہیں ہل رہی تھی۔
یسریٰ کی نظریں ایک لمحے کے لیے ریپر پر ٹھہر گئیں۔
شاید وہ پہلی بار سمجھ رہی تھی کہ بات صرف امل کے ڈر جانے تک محدود نہیں تھی۔
معاملہ کہیں زیادہ سنگین ہو چکا تھا۔
اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ…
جو شخص دوسروں کے خوف کی وجہ بنتا تھا، آج اُسی خوف کے سامنے خود ٹوٹتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
ریپر نے آخرکار بےبسی سے امن کو دیکھا۔
پھر جھنجھلا کر بولا،
چھوڑ دو اس منحوس کو۔
یہ نہیں اٹھنے والا۔
وہ ایک لمحے کو رکا، پھر جیسے فیصلہ کر چکا ہو، بولا،
میں امل کو ہسپتال لے جاتا ہوں۔
وہ امن کو چھوڑ کر پلٹا ہی تھا کہ یسریٰ فوراً اُس کے سامنے آ گئی۔
لیکن ہسپتال ایسے کیسے…؟
اُس کی آواز میں واضح پریشانی تھی۔
اگر وہ امل کو ہسپتال لے گیا تو بات صرف امل تک نہیں رہے گی۔ وہاں سوال ہوں گے… لوگ ہوں گے… اور شاید سب کچھ سامنے آ جائے۔
یسریٰ نے ریپر کو روکنے کے لیے ایک قدم آگے بڑھایا۔
مگر ریپر نے اُسے ایسی نظر سے دیکھا کہ یسریٰ کے قدم وہیں رک گئے۔
خاموشی کے ساتھ یہیں بیٹھی رہو۔
لہجے میں غصہ تھا۔ حکم تھا۔
اور ایسی سختی تھی کہ یسریٰ نے مزید کچھ کہنے کی ہمت نہیں کی۔
ریپر پلٹا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اُس کے قدموں کی آواز راہداری میں گونجتی ہوئی امل کے کمرے کی طرف بڑھنے لگی۔۔
چند ہی لمحوں بعد اُس نے دروازہ کھولا۔
مگر اگلے ہی لمحے… وہیں رک گیا۔
اُس کے سامنے کا منظر اُس کے اندازے سے بالکل مختلف تھا۔
بستر پر امل بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ ہوش میں تھی۔
بالکل ٹھیک۔ زندہ، محفوظ۔
اور بیڈ کے ساتھ ہی اُس کے سامنے… سنان کھڑا تھا۔
بالکل اطمینان سے۔ جیسے یہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
سنان نے ریپر کو دیکھا۔ پھر اُس کے چہرے پر ایک بڑی سی، انتہائی سادہ اور بےفکری بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔
سرپرائز۔۔۔ وہ بڑے آرام سے بولا۔
ریپر چند لمحے اُسے گھورتا رہا۔
پھر اُس کی نظریں امل کی طرف اٹھیں۔
وہ واقعی ہوش میں تھی۔
ریپر کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے جیسے یقین ہی نہیں آیا۔
امل واقعی ٹھیک تھی۔.اور سب سے عجیب بات….اُس کے چہرے پر اب وہ خوف نہیں تھا۔ وہی خوف جس نے کچھ دیر پہلے ریپر کو اندر تک ہلا دیا تھا۔
اب امل اُسے دیکھ رہی تھی۔ غصے سے۔ ایسے غصے سے جیسے ابھی چند لمحے پہلے جو کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
ریپر نے اُسے غور سے دیکھا۔
ہاں… اب یہ اُس کی امل تھی۔ وہ خوف زدہ لڑکی تو کوئی اور ہی تھی۔ یہ… یہ تو اُس کی گریملن تھی۔.وہی آنکھوں میں غصہ لیے، اُسی انداز میں اُسے گھورنے والی۔
ریپر کے لبوں پر بےاختیار ایک انتہائی ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
پھر اُس نے نظریں سنان کی طرف اٹھائیں۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو؟
سنان نے بڑی معصومیت سے کندھے اچکائے۔
بس… کولڈ ڈرنک لینے نکلا تھا۔
ریپر کی آنکھیں مزید سکڑ گئیں۔
اور راستے میں امل کے کمرے میں گھس گئے؟
سنان نے امل کی طرف دیکھا۔ پھر ریپر کی طرف۔
راستہ ذرا غلط ہو گیا تھا۔
ریپر نے اُسے چند لمحے گھورا۔
پھر اُس کی نظریں دوبارہ امل کی طرف گئیں۔
سنان نے بھی امل کو دیکھا۔ پھر بڑی سنجیدگی سے بولا،
اچھا… پھر آپ کے مہمان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟
امل نے ایک لفظ بھی جواب میں نہیں کہا۔
بس اُس کی نظریں سیدھی بیڈ کے ساتھ والی میز کے دراز پر گئیں۔ اگلے ہی لمحے اُس نے دراز کھولی۔ اور اندر سے ایک گن نکال لی۔ امل نے گن سنان کی طرف بڑھایا اور انتہائی سکون سے بولی،
مار دیا جائے۔
ریپر کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
گن…؟ اُس نے فوراً دراز کی طرف دیکھا۔
اُسے یقین ہی نہیں آیا۔ دراز کے اندر گن تھی؟
امل اپنے دراز میں گن رکھتی ہے۔۔؟
اور اُسے یہ بات پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔
سنان نے امل کے ہاتھ سے گن لے لی۔
اگلے ہی لمحے اُس نے بڑی بےفکری سے گن کا رُخ ریپر کی طرف کر دیا۔
ریپر کی آنکھیں ایک دم سنجیدہ ہو گئیں۔
وہاں ریپر کے قدم بےاختیار پیچھے ہلے۔۔
گولی چلنے کی آواز پورے کمرے میں گونج اٹھی۔

+++++++++++++

جاری ہے۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *