ہمم اب بتاؤ کیا کہنا ہے تمھیں مجھ سے ۔امامہ زویا کے بیڈ پر بیٹھ گئ ۔وہ۔۔وہ مجھے ۔۔مجھے تم سے یہ پوچھنا تھا کہ میں شام کو ان میں سے کیا پہنوں ۔زویا اپنی الماری کی طرف بڑھی اور اس میں سے کچھ عمدہ اور خوبصورت جوڑے نکال کر امامہ کے آگے رکھ دئیے ۔
کیا؟اتنی چھوٹی سی بات کے لیے تم مجھے وہاں سے یہاں کے کر آئی ہو۔
چھوٹی سی بات؟امامہ کی بات پر زویا زور سے چلائی ۔
کیا ہو گیا ہے زوئی آہستہ ۔امامہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کا اشارہ نیچے کی طرف کیا ۔
سوری وہ میں صبح والی بات سے ابھی تک ڈسٹرب ہوں نا بس اس لیے ایسی باتیں اور حرکتیں کر رہی ہوں۔زویا نے بری سی شکل بنائی اور امامہ کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی۔
وہ دراصل میں پریشان اس لیے بھی ہوں کیونکہ امی نے تھوڑی دیر پہلے مجھے اپنے پاس بلایا تھا اؤر یہ تاکید کی تھی کہ جو بھی ہو جائے مجھے آج اچھے سے تیار ہونا ہے۔اور امی کی اس بات پر میں خاصی حیران ہوئی ۔
ہمم۔۔زوئی مجھے بھی کچھ خاص ہی لگ رہا ہے۔امامہ نے زویا سے یہ بات ابھی کہی ہی تھی کہ تبھی دروازے پر دستک ہوئی ۔ساحل تم یہاں پر کیا کر رہے ہو؟امامہ نے ساحل کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر پوچھا۔
وہ تایا ابو کہہ رہے ہیں کہ شام کو اپ اپ بھی زوئی کے ساتھ ہی رہیں گی۔
ہمم۔کیا ؟کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا۔امامہ نے اپنے ائی برو اچکائے ۔
اس بات کا مطلب تو مجھے بھی نہیں پتا ۔لیکن تایا ابو نے جو حکم مجھے دیا ہے میں وہیں اپ کو دے رہا ہوں ۔
کیا تم اب مجھے حکم دو گے۔رکو بچو میں تمہیں بھی بتاتی ہوں۔
وہ خوبصورت تین منزلہ گھر کے سب سے اوپر والے پورشن میں تھے۔اس لیے جب وہ امامہ اسے پکڑنے کے لیے بھاگی تو وہ جلدی جلدی نیچے انے والی سیڑھیوں کی طرف بھاگا۔
زویا میں نیچے جا رہی ہوں ابھی مجھے بھی اپنے کپڑے نکالنے ہیں۔
ارے رکو تم جس کام کے لیے ائی تھی وہ تو کر دو۔
امم ایسا کرو یہ نیوی بلو والا جوڑا پہن لو تم پربہت سوٹ کرے گا۔امامہ زویا سے یہ کہتے ہی فوراً سیڑھیوں سے نیچے چلی گئی۔
امامہ بیٹا۔امامہ ابھی اپنے پورشن میں ائی ہی تھی کہ امامہ کے والد طارق نے اسے اواز دی۔
جی ابو۔امامہ ڈرائنگ روم کی طرف بڑھی جہاں پر سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔
السلام علیکم۔امامہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا۔
وعلیکم السلام۔وہ بیٹا مجھے پوچھنا تھا کہ کھانا تیار ہے کہ نہیں۔طارق نے امامہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے پوچھا۔
جی ابو بس تیار ہی ہے۔
امامہ بیٹا تم ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئی۔فریحہ نے امامہ سے پوچھا ۔
جی پھوپھوبس میں تیار ہونے کے لئے ہی جا رہی تھی۔امامہ بات کرنے کے دوران مسلسل عیان اور اضلان کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔ جو کہ مسلسل اسے ہی دیکھے جا رہے تھے۔
ابو میں جاؤں۔ ہمم – – – جاؤ۔ جلدی تیار ہو جانا۔ میرا ایک دوست پہلی بار ہمارے گھر آرہا ہے تو مجھے تم سب کو اس سے ملوانا ہے۔ فرقان نے طارق کی بات مکمل ہوتے ہی کہا ۔
جی تایا۔ امبر ذرا میرے ساتھ آنا ۔ امامہ نے امبرکو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔میں۔ امبر نے انگلی کا اشارہ اپنی طرف کیا اور مبین کی طرف دیکھا۔
جاؤ بیٹا۔
کیا ہوا سب اتنے سیریس کیوں ہیں؟امامہ نے کبڈ سے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے اور امبر کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
۔مم۔۔مم۔۔مجھے نہیں پتہ کیوں۔
کیا مطلب؟تمہیں پتہ ہے اور تم مجھے نہیں بتا رہی ہے ناں ۔امامہ نے غصے سے اپنے بھورے رنگ کی انکھوں کو گھمایا۔ایک سیکنڈ کہیں۔کہیں زوئی کی منگنی تو نہیں۔امامہ نے فورا اپنا منہ امبر کی طرف گھمایا۔
کک۔۔کک۔یہ کیا کہہ رہی ہو تم۔میں جا رہی ہوں۔امامہ کی یہ بات سن کر امبر ہڑبڑا گئی اور فورا کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی۔
ارے رکو میری بات تو سنو۔اس سے پہلے امامہ امبر کو روکتی وہ کمرے سے جا چکی تھی۔
جلدی سے تیار ہو کر زوئی کے پاس جاتی ہوں کیا پتہ اسے اس بارے میں کچھ علم ہو۔امامہ نے جلدی سے بیڈ سے لائٹ پنک کلر کا جوڑا اٹھایا جو اس نے امبر سے باتوں کے دوران نکالا تھا اور واش روم میں تیار ہونے کے لیےچلی گئ۔ وہ ہلکے گلابی رنگ کے جوڑے میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اس نے زیادہ میک اپ نہیں کیا ہوا تھا اس لیے وہ جلدی تیار ہو گئی۔
زوئی۔زوئی۔کہاں ہو تم۔امامہ زویا کے کمرےمیں تیزی سے داخل ہوئی۔زوئی کہاں گئی۔امامہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ تبھی اسے واش روم سے پانی گرنے کی اواز ائی۔لگتا ہے زوئی واش روم میں ہے چلو تب تک میں بیٹھ کر اس کا انتظار کر لیتی ہوں۔امامہ نے بیڈ پر پڑی ہوئی میگزین پکڑی اور اسے دیکھنے لگ گئی۔
ارے۔۔ امامہ تم کب ائی۔زویا نے اپنے بالوں کو تولیے میں باندھا۔
بس ابھی۔خیریت تو ہے تھوڑی دیر پہلے تو واپس گئی تھی اب ا بھی گئی۔لگتا ہے میرے بغیر دل نہیں لگا۔زویا مسکراتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
ارے نہیں نہیں۔وہ تایا نے مجھ سے کہا تھا کہ مجھے اج تمہارے ساتھ ہی رہنا ہے بس اسی لیے میں جلدی سے تیار ہو کر آ گئی۔ تا کہ میں تیار ہونے میں تمھاری مدد کر سکوں ۔
۔ہمم۔۔شکریہ۔زویا نے بالوں کوجھاڑا۔امامہ ذرا میری مدد کرنا۔زویا کی اواز سن کر امامہ فورا اٹھ کر اس کی طرف چلی گئی۔
زویا کو تیار کرتے ہی امامہ اسے لے کر نیچے والے پورشن میں چلی گئی جہاں پر دعوت کا انتظام کیا گیا تھا۔
السلام علیکم۔زویا نے ہال میں داخل ہوتے ہی سب کو سلام کیا کہ تبھی کس کی نظر ہال میں بیٹھے ایک شخص پر پڑی جسے دیکھ کر وہ پوری طرح حیران ہو گئی۔
کیا ہوا زوئی؟امامہ نے زویا کے ایک اندھے پر ہاتھ رکھا اور اس کے برابر میں کھڑی ہو گئی۔
کک۔۔کک۔۔کچھ بھی تو نہیں ۔
زویا بیٹا ذرا یہاں اؤ ۔اس سے پہلے امامہ زویا سے کچھ اور پوچھتی اسے فریحہ نے اپنے پاس بلا لیا ۔
جی پھوپھو ۔ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو اؤ میرے پاس بیٹھو۔جی پھوپھو ۔زویا فریحہ کے پاس بیٹھ کر بھی اپنی نظر ادھر ادھر دوڑا رہی تھی جیسے وہ کسی کو ڈھونڈ رہی ہو ۔لیکن شاید تب تک وہ شخص وہاں سے جا چکا تھا۔اور تو اور اب امامہ بھی وہاں سے کہیں جا چکی تھی۔اپی۔ابرش اور عدنان نے زویا کو اواز دی۔ہمم۔۔اپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔ہمم شکریہ۔زویا زبردستی مسکرا رہی تھی۔ابھی وہ کسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے ہال کی تمام لائٹس اف کر دیں۔
کیا ہوا ؟کیسے ہوا؟کس نے کیا؟ان اوازوں سے تمام ہال گونجنے لگا ۔
کہ اچانک تبھی کسی نے زویا کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا اور اسے سٹیج کی طرف لے گیا۔چھوڑو مجھے کون ہو تم۔وہ چلانے لگی۔اب اس شخص نے اس کا ہاتھ سٹیج پر لا کر چھوڑ دیا تھا۔اچانک سارا حال روشنیوں سے دوبارہ جگمگا اٹھا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔اس کے کانوں میں اواز پڑی تو اس نے مڑ کر اپنے پیچھے دیکھا۔وہاں پر ہیپی برتھ ڈے زویا لکھا ہوا تھا۔اور اس کے نیچے ہی کانگریچولیشن ان کمپلیٹنگ گریجویشن بھی لکھا ہوا تھا۔امامہ اور ابرش اب اس پر فوک پھینک رہی تھی۔
ہا۔۔۔یہ کب کیا تم دونوں نے۔زویا نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے ہوئے تھے۔
بس دیکھ لو تمہاری خوشی کے لیے کیا۔زویا اب اگے بڑھی اور زور سے امامہ کو اپنے گلے لگا لیا۔
امامہ ابرش بہت بہت شکریہ۔زویا نے ان دونوں کے ہاتھ پکڑ کر دوبارہ ان سے کہا۔
ارے آپی اب آپ ہمیں شرمندہ کر رہی ہیں۔ابرش نے زویا سے کہا۔اس کے بعد انہوں نے کیک سرمنی کی۔اس دعوت کو سب نے بھرپور انجوائے کیا۔رات کے 12 بج چکے تھے اور سب لوگ تھک چکے تھے۔اس لیے وہ سب اپنے اپنے رومز میں چلے گئے۔
تم لوگ کل شام اتنے غصے میں کیوں تھے۔امامہ نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے اضلان اور ایان سے پوچھا۔
ہم۔امامہ کی بات سن کر ایان نے انگلی کا اشارہ اپنی طرف کیا۔نہیں تو تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔
لیکن۔میں نے کہا نا نہیں تو اس کا مطلب نہیں۔اب اضلان نے غصے سے اسے دیکھا۔
اس سے پہلے کہ وہ ان سے کچھ اور کہتی فرقان اور طارق بھی ناشتے کی ٹیبل پر ا چکے تھے۔
انشاء اللہ باقی آئندہ میں شمار رہے گا ۔
