ناول نام : جنگِ بقاء
بقلم: ماہ نور اعوان
اعلانیہ
جنگِ بقاء ایک فرضی ناول ہے۔ اس میں شامل تمام کردار، واقعات، مقامات اور تنظیمیں محض تخیل کی پیداوار ہیں۔ اگر کسی حقیقی شخص، ادارے یا واقعے سے کوئی مماثلت محسوس ہو تو اسے محض اتفاق سمجھا جائے۔
یہ ناول مسلم اور غیر مسلم دونوں کرداروں کی زندگیوں پر مبنی ہے، جو اپنی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس کا مقصد کسی مذہب، قوم یا فرد کی دل آزاری نہیں، بلکہ ایک فرضی کہانی کے ذریعے مختلف انسانی، سماجی اور فکری پہلوؤں کو پیش کرنا ہے۔
اس ناول میں اسکاٹ لینڈ، خصوصاً ایڈنبرا کے ماحول، رہن سہن، ثقافت اور طرزِ زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے منظر نگاری کی گئی ہے۔ لہٰذا اسے محض ایک ناول کے طور پر پڑھا جائے اور اس کے سفر سے لطف اٹھایا جائے۔
پیش لفظ
جنگِ بقاء میری چوتھی تحریر ہے ۔ اس سے پہلے بھی میں نے کئ کہانیاں شروع کیں، مگر مختلف وجوہات کی بنا پر ادھوری رہ گئیں ۔ آج بھی وہ ادھوری کہانیاں جیسے مجھے آواز دیتی ہیں کہ انہیں مکمل کروں۔ انشاء اللہ اس ناول کی تکمیل کے بعد میں اپنی تمام ادھوری تحریریں ضرور مکمل کروں گی۔ باقی ناول میں غلطیاں اور خامیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ابھی لکھنے کے مراحل میں ہوں۔ امید ہے آپ انہیں محبت سے نظر انداز کرتے ہوئے اپنی قیمتی رائے ضرور دیں گے۔
میری پوری کوشش ہے کہ اس کے ساتھ انصاف کر سکوں۔ ہر کردار یہاں پر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے ۔
کوئئ اپنے ماضی سے نبرد آزما ہے ، تو کوئئ اپنے حال سے ، اور کوئئ اپنے مستقبل کو بچانے کی کوشش میں ہے۔
باقی آخر میں یہی کہنا چاہوں گی کہ اس کو میں نے 21 جون 2026 سے لکھنا شروع کیا ہے اور اس کی ایلفا ریڈنگ سب کچھ خود کیا ہے ۔ آپ پڑھ کر رائے دیجئے گا ۔
باقی کہانی فرضی ہے سب کچھ۔ کسی مما ثلت کی صورت میں اتفاقیہ ہوگا۔
ماہ نور اعوان !
انتساب
میری ہر تحریر
اللہ کے نام
جس نے مجھے لکھنے کی استطاعت دی۔
قسط نمبر : ۱
آغاز
ایڈنبرا، اسکاٹ لینڈ !
” عشاء ہاشمی انسٹیٹیوٹ آف آرٹ “
انسٹیٹیوٹ شہر کے پرسکون گوشے میں قائم تھا ۔ سیاہ اور سرمئ کا رنگوں کے امتزاج سے بڑا آہنی دروازہ دور سے ہی اپنی شان کا احساس یاد دلاتا تھا، جہاں مستعد گاڑڈ آنے جانے والے پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔
عمارت دو منزلوں پر مشتمل تھی۔ چاروں جانب بلند دیواریں تھیں جن کے اوپر کانٹے دارحفاظتی جالی نصب تھی ۔
عمارت کی اندرونی دیواریں شفاف شیشیے کی بنی ہوئی تھیں، جن سے باہر پھیلا سرسبزہ، بلند دیواریں اور دھند میں لپٹا ایڈنبرا صاف دکھائی دیتا تھا ۔
باہرکی یخ بستہ ہوا اور گھنی دھند کے برعکس،اندرکا درجہ حرارت نہایت معتدل اور خوشگوارتھا۔
آڈیٹوریم ہال میں نیچے سےاوپر تک قطار در قطار نشستوں پر طلبه وطالبات بیٹھےتھے۔ سب کے ہاتھوں میں نوٹس اور قلم تھے، ہرایک پوری توجہ سے ایک ایک لفظ کو کاغذ پر منتقل کررہا تھا ۔
اسٹیج کے دائیں کونے میں بھورے رنگ کا خوبصورت ڈائس رکھا تھا،جبکہ بائیں جانب پانچ کرسیاں موجود تھیں،
جن پرانسٹیٹوٹ کے پروفیسر تشریف فرما تھے۔
آج وہ صرف سامع کی حثیت سےآئےتھے ۔ کیونکہ لیکچر عشاء ہاشمی نےدینا تھا۔
اسٹیج کے بائیں جانب ایک داخلی دروازہ موجود تھا، جبکہ طلبہ کی نشستوں کے درمیان مرکزی داخلی راستہ بنایا گیا تھا۔
پورے ہال میں ایسی خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ قلم کے کاغز پر چلنے کی مدھم آواز بھی سنائی دے رہی تھی، کیونکہ اس وقت وہ شجصیت مخاطب تھی ۔ جسے سننے کیلئے طلبہ دور دور سے اس ادارے کا رخ کرتے تھے۔
” عشا ہاشمی “
“میں آپ سب کوایک بات بتانا چاہتی ہوں۔ آرٹ، ڈیزائن، زیورات ، ملبوسات اور مجسمے صرف خوبصورتی کی علامت نہیں ہوتے، بلکہ یہ انسان کےدرد، احساسات اور خاموش چیخوں کو بھی بیان کرتے ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ آپ ان کے درد کو محسوس کرنا سیکھیں ۔ جب آپ اس درد کو سمجھ جائیں گے، تب ہی اسے اپنے فن کے ذریعےمؤثر انداز میں بیان کر سکیں گے ۔”
وہ چند لمحے خاموش ہوئی، گہرا سانس لیا، پورے ہال پر ایک نظر ڈالی اور دوبارہ بولنا شروع کیا ۔
بالوں کی اونچی پونی ٹیل، گلے میں لپٹا ہوا سیاہ مفلر، گھٹنوں تک آتا ہوا سیاہ کوٹ، سیاہ جینز، لمبے سیاہ بوٹس،اور ہلکے میک اپ نے اس کی باوقار شخصیت میں مزید وقار پیدا کر دیا تھا۔
” میرے نزدیک ‘آرٹ درد کو بیان کرتا ہے’ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ اسی سوچ نے اس ادارے کی بنیاد رکھی ہے۔یہاں آپ صرف مصوری یا ڈیزائن نہیں سیکھیں گے، بلکہ احساسات کو فن میں ڈھالنا بھی سیکھیں گے۔ فلحال آج کیلئے اتنا ہی کافی ہے۔ ان اشاء اللہ اگلے لیکچر میں ہم اس موضوع کومزید تفصیل سے سمجھیں گے۔”
عشاء نے مسکرا تے ہوئے بات مکمل کی اور طلبہ کوسوالات کرنے کی اجازت دی ۔
دوسری قطار میں بیٹھی طلبہ نے ہاتھ بلند کیا۔ عشاء نے مسکراتے ہوئے ” جی ” کہا کرتو وہ اپنی نشست سے
کھڑی ہو گئی ۔
” میڈم! آپ نے جو موضوع منتخب کیا ہے، ” آرٹ درد کو بیان کرتا ہے، ‘ اس پر پہلے بھی تحقیق ہو چکی ہے اور اسے مختلف انداز سے سمجھایا جا چکا ہے۔ پھر آپ نےیہی موضوع دوبارہ کیوں منتخب کیا؟”
پورے ہال کی نظریں اس طالبہ سے ہٹ کرعشاء کی جانب اٹھ گئیں ۔
عشاء ہلکا سا مسکرائی ۔
” آپ نے بالکل درست کہا۔ لیکن میں آپ سب سے ایک سوال پوچھتی ہوں۔ اگر کسی دیوار پررنگ کیا جائےتو کچھ عرصے بعد وہ اپنی اصل چمک کھو دیتا ہے۔ پھر اسی دیوار پر دوبارہ رنگ کیا جاتا ہے تو وہ ایک نئے انداز اور نئی تازگئ کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
وہ چند لمحے رکی، پھر بولی،
” بالکل اسی طرح آرٹ بھی ایک ایسا موضوع ہےجو کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ موضوع ایک ہی رہتا ہے ، مگر اسے بیان کرنے کا انداز ہر فنکار کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
ہر نئی سوچ، ہر نیا احساس، اور ہر نیا تجربہ اسے نئی زندگی عطا کرتا ہے ۔ آرٹ سیکھتے رہنے کا نام ہے، اور اسے سمجھنے کیلئے صرف مہارت نہیں بلکہ ہمت ، صبر اور احساس کی گہرائی بھی درکار ہوتی ہے۔ جب تک آپ درد کی گہرائی میں نہیں پہنچیں گے، تب تک اپنے فن کے ذریعے اسے سچائی کے ساتھ پیش نہیں کر سکیں گے ۔ “
” شکریہ، میڈم! اب بات مجھے بات اچھی طرح سے سمجھ آگئ ۔ طالبہ مسکرا تے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھ گئ۔
” انشاء اللہ! اگلے لیکچر میں دوبارہ ملاقات ہوگی۔ تب تک ا آپ لوگوں نے اہم پوائنٹ لازما نوٹ کر لیجئے گا۔ اللہ حافظ!
عشاء نے مسکراتے ہوئے طلبہ کو رخصت کیا اور اسٹیج کے بائیں جانب موجود دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ اوراس کے پیچھے تمام پروفیسرز بھی خاموشی سے روانہ ہو گئے۔
⭐⭐⭐
ہال کے دروازے سے طلبہ وطلبات آہستہ آہستہ باہر نکل رہے تھے ۔ اُن ہی میں جولی اور اس کی قریبی دوست لیانا بھی شامل تھیں ۔
دونوں ہال سے نکل کردائیں جانب جاتی لمبی راہداری کی طرف بڑھ گئیں ۔ ہاتھوں میں نوٹس تھامے وہ آپس میں گفتگو میں مصروف تھیں ۔
” ویسے لیانا، مجھے بالکل اُمید نہیں تھی کہ تم عشاء میم سے سوال پوچھ لوگی۔ ” جولی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
” سچ کہوں تو مجھے بھی اُمید نہیں تھی، لیکن پھرہمت کر ہی لی۔ ویسے بھی ، سوال پوچھ کر میں نے صرف اپنی نہیں بکلہ تم سب کی الجھن بھی دور کر دی۔ ” لیانا نے اپنے کوٹ کا کالردرست کرتے ہوئے جواب دیا ۔
” اتنا بھی ہوا میں مت اڑو۔ اور ویسے بھی، میں نے سنا ہے کہ عشاء میم کو فضول باتیں اور کام چوری بلکل پسند نہیں ۔” جولی نے لیانا کے کندھے پر ہلکی چپت لگاتے ہوئے کہا ۔
” تمہیں یہ سب کس نے بتایا ؟” لیانا نے تجسس سے پوچھا۔
جولی کے ہونٹوں پر شرارتی مسکرا ہٹ آگئ۔
” میرے اپنے ذرائع ابلاغ ہیں، جو مجھے وقتا فوقتا رپورٹ دیتے رہتے ہیں ۔”
” اچھا۔۔۔! ذرا مجھے بھی تو پتا چلے کہ یہ کون سے ذرائع ابلاغ ہیں؟ ” لیانا نے بھنویں اچکاتے ہوئے کہا ۔
دونوں لمبی راہداری میں مسلسل آگے بڑھتی جارہی تھیں ۔
” ہربات سب کو نہیں بتائی جاتی۔ تمہیں صرف اس لئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کچھ بھی بولنے اور سوال کرنے سے پہلے سوچو لیا کرو۔ ” جولی کا لہجہ بظاہر مزاقیہ تھا، مگر اس کے پیچھے غیر مصنوعی سنجیدہ سنجیدگی بھی چھپی ہوئئ تھی۔
لیانا چند لمحے خاموش رہی، پھر آہستہ سے بولی،
” ایک بات مجھے کھٹک رہی ہے۔ انسٹیٹیوٹ کی عمارت سیاہ اور سرمئ رنگوں کے امتزاج میں ڈوبی ہوئی ہے ، عشاءمیم ہمیشہ سیاہ لباس پہنتی ہیں، اور تقریبا تمام طلبہ بھی سیاہ کپڑوں میں نظر آتے ہیں ۔ تمہیں یہ سب عجیب نہیں لگتا؟ مجھے تو کچھ عجیب سی وائب آرہی ہیں ۔”
جولی نے فورا بات کا رخ بدل دیا ۔
” اپنے ننھے دماغ پر اتنا زور مت ڈالو، اور خاموشی سے تیز چلو۔ ہم دیر سے پہنچے تو پروفیسر گریگر نے ہماری بینڈ بجا دینی ہے ۔”
یہ کہہ کر وہ تیزی سے آگے بڑھ گئی ۔ لیانا سوچوں کو ذہن کے خانوں میں دھکیلتی اس کے پیچھے لپکی۔
وہ دونوں راہداری میں چلتے ہوئے آخر میں بنے ایک بڑے دروازے کے سامنے رکیں اور اوپر لگے بورڈ پر سنہری حروف میں ” آرٹ نمونے ” لکھا ہوا تھا ۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، دروازہ کھولا اور خاموشی سے اندر داخل ہو گیئں ۔
⭐⭐⭐
انہوں نے سٹوڈنٹ آئی ڈی کے ذریعے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئیں تو بے شمار روشنی سے ان کی آنکھیں چند لمحوں کے لئے چمک اٹھیں۔ انسٹیٹیوٹ میں ہر دروازے پر ڈیجیٹل لاک لگا تھا، جو طلبہ اور اساتذہ کی آئی ڈی سے کھل جاتا تھا۔
دیواروں پر بے شمار آرٹ کی خوبصورت تصویریں لگی ہوئی تھیں۔ ایک لمبی میز پر بے شمار پینٹنگز اور رنگ پڑے تھے۔ کینوس پر بنی کچھ پینٹنگز آدھی ادھوری تھیں، جبکہ کچھ اختتامی مراحل میں تھیں ۔
پروفیسر گریگر سٹوڈنٹس کے ساتھ کھڑے تھے اور انھیں آرٹ کے حوالے ہدایات دے رہے تھے۔
جولی اور لیانا جیسے ہی اندر داخل ہوئیں، آہٹ پر پروفیسر گریگر کے ساتھ کھڑے طلبہ نےبھی سر موڑ کر انہیں دیکھا ۔ وہ دونوں کلاس کے وسط میں کھڑی تھیں ۔
جولی اور لیانا نے سب کو اپنی طرف متوجہ پاکر پہلے تو گھبراہٹ محسوس کی، لیکن جلد ہی خود پر قابوپالیا۔ جولی نے دانتوں کی بتیسی دکھائی، جبکہ لیانا پریشانی سے بار بار تھوک نگل رہی تھی۔
” آپ لوگ کہاں تھیں ؟ پورے بیس منٹ لیٹ ہو!” پروفیسر گریگر کی بھاری، غصے بھری آواز کلاس میں گونج گئ ۔
” سر، وہ۔۔۔ ہم آرہے تھے، راستے میں پروفیسر احتشام مل گئے تھے ۔ ان کو کوئئ فائل میڈم عشاء کو دینی تھی، تو انہوں نے بولا آپ دے آؤ۔” جولی نے وضاحتی انداز میں جھوٹ بولا۔
جبکہ پروفیسر گریگر کی جانتی نگاہیں بد ستور ان پر جمی تھیں ۔
باقی طلبہ توان کی دھلائی کا انتظار کررہے تھے۔
لیانا پکڑے جانے کے خوف سے نظریں جھکاے کھڑی تھی ۔
” پروفیسر احتشام نے؟” لہجہ جانچتا ہوا تھا ۔
” جی۔۔ جی سر، وہ انہوں نے ہی کہا تھا۔ ” جولی ہکلانے لگی۔
“لیکن پروفیسر احتشام تو میڈم عشاء کے آفس میں فائل تو دے آئے ہیں اور وہ تو نئی رپورٹ بھی تیار کرکے دینے چلے گئے ہوں گے ۔ “
جولی کے چہرہ کا رنگ اڑ گیا، جبکہ لیانا کا تو جیسے بدن میں لہو ہی نہیں رہا تھا ۔
پروفیسر گریگر سٹوڈنٹس کے جھرمٹ سے نکل کر ان کے پاس چند قدموں کے فاصلے پر آکھڑے ہوئے ۔
” نہیں سر، وہ والے پروفیسر نہیں۔۔۔ بلکہ وہ جوعینک لگاتے ہیں ۔۔۔ کون سے ۔۔” وہ رک گئی۔
دماغ میں یاد ہی نہیں آرہا تھا کہ کون سے پروفیسر عینک لگاتے ہیں ۔
” پروفیسر براق؟ ان کی بات کر رہی ہیں آپ ؟”
” جی سر، جی! وہی، وہی ۔” جولی نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
” لیکن وہ تو آج چھٹی پر ہیں۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، اس لئے وہ نہیں آئے ۔ “
آہ ۔۔۔ کھٹاک !
جولی کے چہرے کا رنگ مزید بدل گیا ، جبکہ لیانا دل ہی دل میں جولی کواس کے جھوٹ بولنے پر کوس رہی تھی ۔
” ایک تو پورے بیس منٹ لیٹ، اوپر سے جھوٹ بولا ۔ اس کی سزا یہ ہے کہ پورے دو دن کے اندر مجھے بیس پینٹنگز بنی ہوئی تیار چاہیئں ۔” پروفیسر سزا سناتے ہوئے دوبارہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے ۔
طلبہ کی دبی دبی ہنسی کی آواز کلاس میں گونج گئ۔
جولی کا تو منہ ہی کھل گیا، جبکہ لیانا تو بیس پینٹنگز کا سوچ کر ہی ہلکان ہوگئ ۔
اچانک جولی کے دماغ میں ایک خیال آیا۔ اس نے لیانا کے کان میں سرگوشی کی۔ لیانا غصے سے اسے گھور رہی تھی۔
” فکر نہ کر، تیری دوست ہےنہ۔۔۔ جُگاڑ لگا لے لگی ۔ ” جولی نے لیانا کو آنکھ ماری اور اسے پکڑ کر پروفیسر گریگر کی طرف بڑھ گئی۔ جہاں وہ انتہائی سنجیدگی سے پینٹنگ بنانے کے اہم نکات سمجھا رہے تھے۔
⭐⭐⭐⭐
کچھ لمحے قبل
پروفیسر احتشام فائل عشاء کو دینے اس کے آفس گئے تھے۔
آرٹ نمونے کلاس سے نکل کر دوبارہ راہداری میں جائیں، پھر راہداری سے نکل کےدرمیان میں موجود ہال کے پاس پہنچیں اور وہاں سے بائیں جانب جاتی راہداری میں چلتے جائیں تو بلکل آخر میں کونے پر ایک آفس موجود تھا۔
اس کے اوپر بورڈ پر جلی حروف میں لکھا تھا:
” عشاء آفس “
انتہائی سلیقے سے سجا آفس اپنی مثال آپ تھا۔ سامنے ایک میز، میز کے پیچھے رکھی کرسی ، اور میز پر مختلف فائلیں رکھی ہوئی تھیں ۔ ایک طرف کونے میں چ پاکستان کاچھوٹا سا پرچم لہرا رہا تھا ۔ دیوار پر قائداعظم اور علامہ اقبال کے پورٹریٹ آویزاں تھے۔
دائیں جانب بڑی سی کھڑکی تھی، جو سردی کے باعث بند تھی۔
میز کے آگے دو کرسیاں موجود تھیں، جبکہ بائیں جانب ایک صوفہ بھی رکھا ہوا تھا۔
عشاء کرسی پر بیٹھی میز پر رکھی فائل پر جھکی ہوئی تھی ۔ وہ ابھی لیکچر دے کر آئی تھی اور آتے ہی کام میں مصروف ہو گئئ تھی ۔
مفلر گردن سے نکال کر پیچھے کرسی پر ڈال رکھا تھا۔
دروازہ پر دستک ہوئی ۔
اس نے جھکے سر کے ساتھ ہی کہا:
” Yes, come in. “
اجازت ملتے ہی پروفیسر احتشام فائل تھامے اندر داخل ہوئے اور میز کے پاس آکر کھڑے ہوگئے ۔
عشاء نے فائل سے نظر ہٹا کر پروفیسر احتشام کو دیکھا تو انہوں نے کہنا شروع کیا:
” میڈم، یہ فائل میں نے تیار کرلی ہے۔ کچھ اہم پوائنٹس بھی انڈر لائن کر دیے ہیں۔ ایک بار آپ چیک کرلیں۔ کچھ ایڈ کرنا ہو تو بتا دیجئے گا ، میں کرلوں گا ۔
عشاء نے سر اثبات میں ہلایا۔
پروفیسر احتشام نے فائل اس کی جانب برھائئ ، جسے عشاء نے ہاتھ لگانےصرف ایک نظر دیکھا۔
” جی، احتشام! چیریٹی کیلئے جو رقم دینی تھی، وہ دے دی ؟” اس نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔
پروفیسر احتشام ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔
چوالیس سال کی عمر میں بھی ان کا چہرہ جوانی کی طرح تروتازہ تھا۔ نیوی بلیو شرٹ پر سیاہ جینز، اوپر سیاہ لمبا کوٹ ، بالوں کو سلیقے سے جمائے ہوئے تھے۔ شخصیت میں ایک خاص وقار تھا۔
کھڑکی سے باہر دھند پھیلی ہوئی تھی ۔ دھند میں نمی کے باعث کھڑکی کے شیشے پر پانی کی ننھی ننھی بوندیں جم گئی تھیں ۔
” جی میڈم ، وہ بھی دے دی ہے، اور اولڈ ٹاؤن میں جن گھروں کو رقم بجھوانی تھی، وہ بھی بجھوادی ہے ۔” پروفیسر احتشام نے معلومات دیتے ہوئے تفصیل بتائئ۔
” اوکے، اور عبدالعزی آرگنائزیشن کو چیک دے دیا تھا؟”
عشاء نے میز پر دونوں ہاتھ کی انگلیاں آپس میں پھنسائیں اور آگے کو جھک کر پوچھا۔
پروفیسر احتشام نے سر اثبات میں ہلا یا۔
کچھ دیر بعد وہ فائل کے حوالے سے ضروری باتیں مکمل کرکے دروازے کی طرف بڑھے ۔
اجازت ملتے ہی مڑے اور دروازے کھولنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ رک گئے، البتہ مڑے نہیں۔
عشاء نے فائل پر جھکے ہی پوچھا :
” کچھ کہنا ہے آپ کو ؟”
پروفیسر احتشام مڑے اور عشاءکو دیکھتے ہوئے بولے:
” نہیں میڈم، کچھ نہیں کہنا ۔”
” اچھا۔۔۔۔ مجھے محسوس ہوا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں، لیکن کہنے سے ہچکچا رہے ہیں ۔”
عشاء نے فائل سے نظر ہٹا کر پروفیسر احتشام کو دیکھا۔
اس کی نظریں جیسے ان کے اندر تک پڑھ ڈالنا چاہتی تھیں ۔
” نہیں، نہیں۔۔ ایسی بات نہیں ہے، وہ بس میں ایسے ہی رک گیا تھا۔ سوری میڈم “۔
وہ کچھ شرمندہ سے ہوگئے ۔
” کوئی بات نہیں۔ آپ جائیں، اپنا کام کریں ۔ “
پروفیسر احتشام نے سر ہلایا، دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے ۔
ان کے نکلتے ہی عشاء نے فائل پرے دھکیلی اور کھڑکی کی طرف رخ کرلیا۔
اس کی نظریں شیشے کے پار کے منظر کو دیکھنا چاہ رہی تھیں،مگر نمی کے باعث سب کچھ دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔
ذہن میں ابھی احتشام سے ہوئی گفتگو چل رہی تھی ۔ کچھ تو تھا جو احتشام بتانا چاہ رہا تھا۔ لیکن کیا ؟
کوئئ بات تھی جو اسے کھٹک رہی تھی، لیکن وہ سمجھ نہ پائئ۔
⭐⭐⭐⭐
پروفیسر احتشام آفس سے نکلتے ہی راہداری میں چلتے جارہے تھے ۔
انہوں نے بروقت خود کو سنبھال لیا تھا، ورنہ میڈم عشاء جن نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھیں، یقیننا وہ پکڑے جاتے۔ ان کے ذہن میں مختلف سوچیں چل رہی تھیں ۔
وہ چاہ کر بھی عشاء کو کچھ نہیں بتاسکے، کیونکہ وہ بات اگر غلط ثابت ہو جاتی، تو ان کیلئے مسئلہ بن سکتی تھی۔
اور وہ جو بات بتانا چاہ رہے تھے، وہ معمولی بات نہیں تھی ۔
ایک سنگین مسئلہ تھا۔
وہ سوچ رہے تھے کہ اس کو کس طرح بیان کیا جائے اور اگلہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے ۔
ان کا رخ اپنے آفس کی طرف تھا، جہاں ان کے کام ان کا انتظار کررہے تھے۔
⭐⭐⭐⭐
ہاشمی ولاء
انسٹیٹیوٹ کی عمارت سے نکل کر کچھ فاصلے پر ، ایڈنبرا کے نیو ٹاؤن کے علاقے میں ” ہاشمی ولاء ” ایک باثر اور جدید دور کی خوبصورت دو منزلہ عمارت تھی، جہاں معمولِ زندگی انسٹیٹیوٹ سے بالکل مختلف تھی ۔
ہاشمی ولاء ایڈنبرا کی قدیم عمارتوں کے درمیان جدیدیت کا ایک منفرد نمونہ تھا۔ جو برسوں سے قائم تھا۔ دو منزلہ اس عمارت میں ہاشمی خاندان رہتا تھا۔
ولاء کے اندر بڑا سا لاؤنج موجود تھا، جس میں صوفے اور شیشے کی میز رکھی تھی۔
کانچ کی دیواریں باہر کے منظر کو کسی فلم کی طرح دیکھاتی تھیں ۔
باہر بڑا سا لانتھا، جہاں درختوں کے جھنڈ کے درمیان ایک جھولا لٹکایا گیا تھا ۔ دو چیری بلاسم کے درختوں کے درمیان لٹکتا وہ جھولا اس جگہ کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتا تھا۔
ہر طرف بکھرےپھول ہوا کے جھونکوں سے جھوم رہے تھے ۔
ولاء کے لان میں کھڑے ہو کر دور پہاڑی پر بنا قلعہ، اسکاٹ مونو منٹ اور ایڈنبرا کیسل نظر آتے تھے ۔
اولڈ ٹاؤن کے قدیم گھر بھی دکھائئ دیتے تھے ۔ جیسے بلکہ کسی فلم کا منظر ہو۔
” دیکھو،ٹینا !میں کیا کروں؟ میں اس لڑکی کو سمجھا سمجھا کر تھک گئ ہوں، لیکن وہ سمجھتی ہی نہیں ہے؟” ریحام ہاشمی اپنی دوست ٹینا سے بات کرتے ہوئے لاؤنج میں ادھر ادھر چل رہی تھیں ۔
وہ رکیں اور دوسری جانب سے آنے والی آواز سنی اور پھر سرد آہ بھرتے ہوئے بولیں :
” سالوں پہلے وہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا تو آج سب اپنی اپنی زندگی میں خوش ہوتے، لیکن اب جو ہونا تھا، ہو گیا۔ سب کو آگے بڑھ جانا چاہیے، لیکن سب کچھ رک سا گیا ہے۔”
نیلی جینز پر سفید شرٹ پہنے، دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں قیمتی ہیرے کی انگوٹھیاں سجائے، میک اپ سے سجے چہرے اور کھلے بالوں کے ساتھ وہ پچاس سال کی عمر میں بھی خود کو اسمارٹ رکھے ہوئے تھیں ۔
دوسری جانب سے کچھ کہا گیا۔
وہ چند لمحے اسے سننے کیلئے خاموش رہیں، پھر بولیں:
” کاش میری بیٹی عشاء آج اپنے گھر کی ہو جاتی، لیکن وہ اب بہت بدل گئئ ہے ۔ حادثے نے اسے بدل کر رکھ دیا ہے۔
( ان کی آنکھوں کے سامنے عشا ء کا چہرہ گھوم گیا) ۔
ان کے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔
” میں کچھ کرتی ہوں ۔ پھر تمہیں آگاہ کردوں گی۔ انہوں نے کال ختم کی، موبائل کان سے ہٹایا اورلاونج کی شیشے کی دیوار کے پاس کھڑے ہوکر باہر دیکھنے لگیں۔
ان کی آنکھوں میں سوچ کی پرچھایاں واضح تھیں ۔
⭐⭐⭐
یہ تھیں عشاء، عصراور یغوث کی والدہ ۔ گل مہر ہاشمی، ادیب ہاشمی کی بیوی۔
ادیب ہاشمی اور توصیف ہاشمی ، سلطان ہاشمی کے بیٹے تھے۔
ان کی ایک بہن بھی تھیں۔ نوشہ ہاشمی ۔
یہ تینوں سلطان اور رافعہ ہاشمی کی اولاد تھے۔
⭐⭐⭐
The sheep Hied inn __ inside view”
ہماری کہانی ہاشمی ولاء سے نکل کر اولڈ ٹاون کے علاقے میں چلتی ہے ۔
یہ ایک پرانا پب تھا، جو اولڈ ٹاؤن کے علاقے سے کچھ ہٹ کر ( Holyroad پارک ) کے کنارے پر واقع تھا۔ کہا جاتا تھا کہ اس کی بنیاد 1360 ء میں رکھی گئی تھی ۔ تب سے لے کر اب تک یہ اپنی منفرد قدامت اور ماحول کی وجہ سے مشہور تھا۔ پب کی عمارت قدیم پتھروں سے بنی ہوئی تھی ۔ پب کے باہر بائیں جانب دیوار کے ساتھ بھوری گول میزیں اوران کے ساتھ دو کرسیاں موجود تھیں ۔
باہر کی جانب لالٹینین جل رہی تھیں ۔
اندر جھانکیں تو چھت نسبتا نیچی تھی۔ سیاہ لکڑی کے شہتیروں سے پیتل کی لالٹین نما روشنیاں لٹک رہی تھیں۔
گول پینل والا بات موجود تھا ۔ جس کے پیچھے بار کاؤنٹر مصروفیت سے کام کر رہا تھا۔ اس کے پیچھے شیلف میں مختلف رنگوں کی مشروبات کئ بوتلیں سجی ہوئی تھیں ۔
پب میں لکڑی کی مخصوص خوشبو رچی ہوئی تھی ۔ باہر نومبر کی سردی کی نسبت اندر گرم ماحول تھا۔
دیواریں کھدرے پتھروں کی تھیں،جن پر ماضی کی مختلف تصاویر اور فریم آویزاں تھے۔ ایک سینگ لگا بھیڑ کا سر بھی دیوار پر نصب تھا۔ جو پب کے نام کی مناسبت سے وہاں موجود تھا۔
تاریخی حوالوں کے مطابق کئ معروف شخصیات بھی یہاں آچکی تھیں ۔
ہم چلتے ہیں کہانی کی طرف:
” جیکسن،اور بتاؤ! تمہارا نیا پراجیکٹ کیسا جارہا ہے؟” جون اپنے دوست جیکسن کو دیکھتے ہوئے بولا ۔
” سپر ہٹ جا رہا ہے۔ بس کچھ اقساط رہتی ہیں، پھر ایک لمبی بریک۔”
اس نے سرپر سیاہ پی کیپ پہن رکھی تھی، جسے آگے کی طرف چہرے پر جھکا رکھا تھا تاکہ کوئئ اسے پہچان نہ سکے۔ آخر وہ آج کل جتنا مشہور تھا۔ اس کی فین فالونگ لاکھوں میں تھی۔
سفید شرٹ پر سرمئ کوٹ اور بلیو جینز پہنے وہ خوش شکل نوجوان تھا ۔
” نہ کر یار! تم ایسے کیسے یہ سب چھوڑ سکتے ہو ؟” جون کو واقعی پریشانی ہوئئ۔
” پانچ سالوں سے کام کر رہا ہوں۔ اب بس تھک گیا ہوں۔ آزادی سے سانس بھی نہیں لے سکتا ۔ جدھر جاؤ، ساتھ سیکورٹی لے کر جاؤ ۔ اس کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ “
بار ٹینڈر گلاس میں سرخ ااور سیاہ رنگ کا مشروب انڈیل رہا تھا۔
کبھی کوئئ آرہا تھا، کوئئ جارہا تھا، جس سے لکڑی کے فرش کے چرچرانے کی آواز گونج جاتی۔
” تمہارا کیرئیر ختم ہو جائے گا یار۔ لاکھوں میں کماتے ہو اور اس طرح سے چھوڑ دو گے؟ تم تو پھر سوچا ہے کیا کرو گے؟”
” میں جیکسن الیگزینڈر ہوں۔ میں کامیابیوں کے پیچھے نہیں بھاگتا، بلکہ کامیابی سے بھری منزلیں خود مجھ تک پہنچنے کے راستے ڈھونڈتی ہیں ۔”
اس کے لہجے میں اعتماد تھا۔
” وہ تو ٹھیک ہے، لیکن تم یہ سب کس طرح چھوڑو گے؟” کچھ سوچا ہے اس کے بارے میں؟” جون کو واقعی اس کی فکر تھی۔
” بس سوچنا کیا ہے؟ وقت آنے پر دیکھ لوں گا ۔ “
اس نے اردگرد دیکھا اور ایک نظر کھڑکی سے باہر ڈالی، جہاں سڑک دھند کے باعث گیلی ہو چکی تھی ۔
” اوکے، لیکن وہ عصر ہاشمی جو تمہارے پراجیکٹ کی ڈائریکٹر ہے اور تمہاری دیوانی رینا ۔۔۔۔۔ اس کا ؟”
بات ادھوری چھوڑ دی ۔
” مجھے اس سے کوئئ غرض نہیں ہے، لیکن وہ ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے ۔ اس سے پیچھا چھڑا لوں گا ۔ “
” بس کرو یہ سب باتیں اور سناؤ، کہیں گھومنے چلیں؟” جیکسن کو گھومنے اور ملک ملک سفر کرنے کا بہت شوق تھا ۔
” میں تیرے جتنا امیر نہیں ہوں اور ویسے بھی میں ابھی یہ سب افورڈ نہیں کرسکتا۔ ” جون نے ناک بھوں چڑھائی۔
” اچھا، میں تمہیں کہہ بھی ہی نہیں رہا کہ تم سب کچھ افورڈ کرو۔ میں ہوں نا ، تم کیوں پریشان ہوتے ہو۔”
” بس کر میرے بھائی! تیرا مونسٹر باپ مجھے ویسے بھی پسند نہیں کرتا اور پھر مجھے اس بات پر تو کچا چبا جائے گا ۔ ”
جون نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے ۔
جیکسن کا قہقہ بے ساختہ تھا، جس سے آس پاس بیٹھے لوگوں نے مڑ کر گھورا، البتہ کیپ چہرے پر ہونے کی وجہ سے اسے پہچان نہ سکے ۔
” یار، تو میرے باپ سے ڈرتا کیوں ہے اتنا؟”
” وہ اس لیے، جب سے تم مجھے ہر جگہ اپنے ساتھ گھوماتے پھرتے ہو ، انہیں لگتا ہے میں تیری دولت کے پیچھے ہوں ۔”
اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ شاید وہ نہ چاہتے ہوئے بھی شکوہ کر گیا۔
جیکسن نے جون کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور اس کو دیکھتے ہوئے بولا:
” تم میرے دوست ہو اور تم مجھے بہت پیارے ہو۔ جہاں تک بات ڈیڈ کی ہے، ان کو چھوڑو۔ ان کا ہمیشہ سے یہی مسئلہ رہا ہے کہ دوست بھی ان کی مرضی سے بناؤ۔ ورنہ سب انہیں برے لگتے ہیں ۔ “
جون نے مسکرا کرا اس کی طرف دیکھا اور پھر بات بدلنے کی خاطر بولا:
” پھر بتاؤ،اپنے اس منیجر اور سکیورٹی کو کس طرح چکمہ دے کر بھاگے ہو ؟” جون جاننے کیلئے بے تاب تھا۔
جیکسن نے مسکرا کرا اردگرد دیکھا اور پھر روداد سنانا شروع کردی۔
پب میں لوگوں کا رش بڑھتا ہی جارہا تھا۔ دونوں اندر کھڑکی کے ساتھ بیٹھے باتوں میں مصروف تھے ۔ باہر کا موسم اندر کی نسبت کہیں زیادہ سرد تھا۔ ہڈیوں کو جما دینے والی سردی اور دھند میں لپٹی سڑک اس پب کو ایک عجیب امتزاج بخش رہی تھی۔
اس منظر کو یہی چھوڑتے ہیں اور چلتے ہیں شہر کے
بیچ، جہاں دوسرے کردار ہمارا انتظار کر رہے ہیں ۔
⭐⭐⭐
مون لائٹ اسٹوڈیو
مون لائٹ اسٹوڈیو شوبز کی دنیا کا مشہور اور جانا مانا نام تھا، جہاں سے لاکھوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے ہنر کو آزمانے آتے تھے ۔ لیکن موقع صرف انہی کو ملتا تھا جو واقعی اپنے ہنر سے دوسروں کو سحر زدہ کر دیتے۔
مون لائٹ اسٹوڈیو ایک بہت بڑی عمارت تھی۔ جتنی باہر سے شاندار، اندر سے اتنی ہی عمدہ۔
باہر پارکنگ میں کھڑی گاڑیاں اور مستعد کھڑے گارڈز یہاں کی اعلی ترین عکاسی کرتے تھے ۔
اندر مختلف کمرے موجود تھے۔ ورکرز اپنے کام میں مصروف تھے ۔ کوئئ صفائی پر لگا تھا تو کوئئ نئے پراجیکٹ کے لئے آنے والوں کو مطلوبہ کمرے تک لے جارہا تھا ۔
ایسے میں بلکل سیدھا چلتے جائیں تو بائیں جانب ایک پر تعیش آفس موجود تھا، جس کے دروازے پر لکھا تھا ” ” ڈائریکٹر عصر ہاشمی “
دروازہ کھول کر اندر داخل ہوں تو منظر کچھ یوں تھا۔
سامنے میز کے پیچھے پاور چئر پر عصر ہاشمی ٹانگ پر ٹانگ رکھےبیٹھی تھی۔ بالوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ زیتونی رنگ کا لمبا اوور سائز ٹرینچ کوٹ ، کالر اوپر تک، اندر کریم کلر کا ٹرٹل نیک سویٹر ، کمر پر ٹائٹ بیلٹ، گلے میں بڑا چیک والا وولن مفلر، سیاہ اسکنی جینز، گھٹنوں تک آتے سیاہ بوٹس، میک اپ سے سجا چہرہ اس کی خوبصورتی کو نمایاں کر رہا تھا۔
” جی، الیگزینڈر صاحب! بتایئے، کس سلسلے میں آپ مجھ سے ملنا چاہتے تھے؟” کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے شاہانہ انداز میں بیٹھی وہ پروفیشنل لہجے میں بولی۔
الیگزینڈر صاحب، جو کہ اس کے ساتھ پارٹنر شپ میں بھی تھے، سامنے والی کرسی پر بیٹھےتھے۔
بالوں کو جیل سے جمائے، سرمئ ڈریس کوٹ پہنے ہوئے تھے۔ بالوں میں ہلکی ہلکی سفیدی نمایاں تھی۔
” تم جانتی ہو کہ میں نے یہاں پر پچاس فیصد سرمایہ لگایا ہے ۔ تمہارے ساتھ اس عمارت میں اور اسے مشہور کرنے کیلئے ۔ “
” اوکے، مجھے معلوم ہے، کچھ اور بتایئے۔ ” وہ ان کی بات کاٹ کر بولی ۔
الیگزینڈر صاحب بات کانٹے جانے پر غصے کو پیتے ہوئے بولے:
” پھر یہ کہ عصر، کچھ مسئلہ پیدا ہونے والا ہے۔ میرا مطلب ہے، کوئئ مشکل ۔”
وہ نپے تلے لہجے میں بولے ۔
” کیسی مشکل؟” وہ ناسمجھی سے بولی ۔
” کچھ خاص نہیں، لیکن جیکسن ۔۔۔۔” وہ بات چاہ کر بھی مکمل نہ کر پائے۔
” جیکسن کیا ؟ ” وہ چونکتےہوئے بولی۔
” جیکسن یہ پراجیکٹ ختم ہوتے ہی شوبز کو الوداع کہنے والا ہے۔ ” الیگزینڈر صاحب کے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔
” ایسے کیسے وہ سب ختم کرسکتا ہے؟ اس پر جو اتنی محنت کی گئی ہے، اس لئے کہ وہ بیچ راستے میں سب چھوڑ دے۔” عصر کے لہجے میں حیرت کے ساتھ غصہ بھی عود آیا۔
” میرے بہت سمجھانے کے باوجود وہ اپنی مرضی کرے گا۔ میں جانتا ہوں، وہ کبھی نہیں مانے گا۔ ” انھوں نے سر جھٹکتے ہوئے کہا ۔
” میں اس طرح اپنی اس عمارت اور کامیابیوں کو دور جاتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ میں اسے اتنی آسانی سے اب کچھ نہیں چھوڑنے دوں گی۔ ” عصر کے لہجے میں کچھ الگ سا تھا، جس سے الیگزینڈر صاحب بھی چونک گئے۔
” کیا کرو گی تم ؟” لہجہ جانچتا ہوا تھا ۔
” میں پہلے کرتی ہوں، بعد میں بتاتی ہوں ۔” آپ انتظار کریں اور پھر دیکھیں ۔”
” میں یہاں چیف ہوں اور تم ڈائریکٹر ۔ اس لئے مجھے بتائے بغیر تم کچھ نہیں کر سکتیں ۔ “
” اوہ، اچھا ! لیکن آپ شاید بھول گئے ہیں کہ میں بھی پچاس فیصد مالک ہوں یہاں پر، اور اس دنیا کو میں نے یہاں تک پہنچایا ہے ۔ اس لئے کسی کو اس کو خراب نہیں کرنے دوں گی ۔”
” جیکسن کی وجہ سے یہاں تک پہنچی ہو، اور اس کے علاوہ مارکیٹ میں پہچان تمہیں میرے نام سے ملی ہے۔ میں اس دنیا کا واحد بادشاہ ہوں جس نے تمہیں یہاں تک پہنچایا ، ورنہ تم کچھ نہیں تھیں ۔ ” لہجے میں فخرو غرور عود آگیا۔
عصر نے مسکرا کرا کہا:
” آپ نے کہانی سنی ہے، بادشاہ ہمیشہ عورت کے عشق میں مارا جاتا ہے ۔ لیکن یہاں پر میں ملکہ ہوں، تو بادشاہ کوئئ اور ۔ مجھے یقین ہے کہ بادشاہ ملکہ کے جال میں خود داخل ہوگا۔ “وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے پرسرار انداز میں بولی ۔
” کیا مطلب ؟ تمہارا اشارہ میرے بیٹے کی طرف ہے، عصر ہاشمی ۔”
عصر نے گہری سانس خارج کی، کانچ کی دیوار سے باہر نظر آنے والے منظر کو دیکھااور پھر دوبارہ الیگزینڈر صاحب کی طرف متوجہ ہوئی۔
آگے کو جھک کر بیٹھی، ہاتھوں کی انگیلیاں ایک دوسرے میں پھنسائیں اور سنجیدگی سے بولی:
” یا یوں کہیے کہ آپ کو خطرہ ہو رہا ہے کہ آپ کے بیٹے جیکسن کو عیسائیت کے مذہب سے نکال کر مسلم مذہب میں نہ لے آؤں۔۔۔۔ ہیں نا؟” رازدانہ انداز میں کہہ کر اس نے انہیں مزید بھڑکا دیا۔
“تم ایسا کچھ نہیں کر سکتیں، آئی سمجھ؟”
وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتے ہوئے بولے۔
” ارے ،ارے! میں تو صرف مذاق کر رہی تھی ۔ اور آپ تو بڑے ہی ناراض ہو گئے۔” عصر کا قہقہ بے ساختہ تھا ۔
” تم شاید بن رہی ہو یا مجھے بنا رہی ہو، جو بھی ہو، لیکن تم جو کرو گی سوچ سمجھ کر کرنا “۔
” میں جو بھی کروں گی، اپنی دنیا کے لئے کروں گی ۔ اپنی سلطنت قائم رکھنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہوں ۔”
” میں تمہارے ساتھ ہوں، لیکن جیکسن کو آسانی سے راضی کرنا مشکل ہے ۔ ” وہ کہتے ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے ۔
” ہوجائے گا راضی ۔ میگا پراجیکٹ اور اتنی بڑی بین الاقوامی کمپینوں کی آفرز میں جیکسن کی وجہ سے ہاتھ سے جانے نہیں دوں گی۔ “
الیگزینڈر صاحب نے سر ہلایا اور اس کے آفس کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئے ۔
پیچھے عصر ایسے ہی بیٹھی دائیں جانب کی کھڑکی سے باہر نیچے پھیلے ایڈنبرا کو دیکھتی رہی ۔آنکھوں میں سوچ کی پرچھائیاں واضح تھیں ۔
کیونکہ وہ کہیں نہ کہیں جانتی تھی۔ جیکسن کے یوں کامیابیوں کے قریب آکر پیچھے ہٹ جانے کے پیچھے کوئئ وجہ ضرور تھی۔
⭐⭐⭐⭐
الیگزینڈر صاحب اس کے آفس سے نکل کر کچھ ہی آگے آئے تھے کہ ان کے موبائل فون پر کال آنے لگی۔ وہ رک گئے۔ انھوں نے موبائل کوٹ کی جیب سے نکالا اور نمبر دیکھتے ہی موبائل کان سے لگایا ۔
” ہیلو۔”
دوسری جانب سے سے جو الفاظ بولے گئے، ان کے چہرے پر پریشانی کے ساتھ غصہ بھی چھانے لگا ۔ جب بولے تو صرف مختصر سے الفاظ تھے۔
” تم فورا اسے ڈھونڈو۔۔۔ اور جلدی۔ “
یہ کہتے ساتھ ہی کال کاٹ کر موبائل ہاتھ میں پکڑے لمبے لمبے قدم لیتے آگے بڑھ گئے۔
⭐⭐⭐
انسٹیٹیوٹ عشاء ہاشمی “
کلاسز ختم ہونے کے بعد وہ دونوں اس وقت کینٹین میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس وقت اور بھی اسٹوڈنٹس کینٹین میں موجود تھے۔ جولی اور لیانا درمیان والی میز پر بیٹھی باتوں میں مصروف تھیں ۔ ان کے سامنے چائے اور سینڈوچ پڑے تھے۔ جنہیں وہ رغبت سے کھا رہی تھیں۔
” ویسے لیانا، میں تو پوچھنا ہی بھول گئ۔ روسیا آنٹی کی طبیعت کیسی ہے اب؟” جولی نے چائے کے کپ کو لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا۔
” امی کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے ۔ “
” اور تمہاری ان سے بات ہوئی ؟”
” ہاں ہوئی،لیکن؟” وہ بات ادھوری چھوڑ گئ۔
” لیکن کیا؟” جولی نے کپ نیچے رکھ دیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔
” کچھ نہیں، بس چھوڑو۔” وہ بے نیازی سے بولی۔
” بتاؤ مجھے لیانا پلیز ۔”جولی کا لہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی التجائیہ ہوگیا ۔
” وہ چاہتی ہیں میں واپس آجاؤں ان کے پاس ۔”
” مطلب تم۔۔۔ “جولی نے انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا۔
” جی، میں۔ اور ویسے بھی، مجھے کب سے کہہ رہی ہیں، لیکن میں ٹالتی رہی۔ لیکن اب ان کا اصرار بڑھتا ہی جارہا ہے اور مجھے واپس جانا ہوگا، جولی۔”
” مجھے چھوڑ کر تم واپس چلی جاؤ گی تو میں کیا کروں گی، لیانا ؟” وہ دبی دبی چیخی۔
لیانا نے اردگرد دیکھا۔ کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔
” جولی، یہ میرا ملک نہیں ہے۔ میرا ملک روس ہے اور میں یہاں اسکالرشپ لے کر آئی تھی، پڑھنے اور ساتھ ہی جاب کرکے اپنے پیچھے گھر والوں کو سپورٹ کرنے۔ اپنی ماں اور چھوٹے بھائی کےلئے ۔ “
” جب ان کو تمہاری ضرورت تھی تب تک تمہیں نہیں بلایا، اور اب سالوں بعد تمہیں بلا رہی ہیں واپس آجاؤ، کیونکہ اب ان کا بیٹا بڑا ہوگیا ہے، اس لئے انہیں تمہاری کمائی کی ضرورت نہیں رہی۔” جولی تلخ انداز میں بولی۔
” جولی! وہ میری ماں اور بھائی ہیں۔ جو بھی ہو، ان کے بارے میں ایک لفظ نہیں سنوں گی۔ ویسے بھی میرے چار سال مکمل ہوچکے ہیں ۔ صرف تمہارے کہنے پر میں نے یہاں پر داخلہ لیا تھا ۔ اب یہ سال مکمل ہوتے ہی واپس جاؤں گی، کیونکہ اب غیر ملک میں زیادہ رہنا مجھے پسند نہیں ۔ میں اپنے روس، اپنے گھر جانا چاہتی ہوں ۔ اس لئے تم مجھے دباؤ نہ دو ۔ میرا فیصلہ نہیں بدلے گا ۔ لیانا تلخ حقیقت بیان کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ سینڈوچ ادھورا چھوڑ کر چلی گئ۔
جبکہ جولی پیچھے اپنی جگہ سن بیٹھی رہ گئ۔
⭐⭐⭐
لیانا کینٹین سے نکلتے ہی آنکھوں میں آئے آنسو پونچھتی راہداری میں چلتی جارہی تھی ۔ لیکن دل جولی سے اس طرح بات کرنے پراسے ملامت کررہا تھا ۔اس نے جان بوجھ کر تلخ بات کیں تھیں تاکہ جولی اس سے خود ہی فاصلہ کر لے۔ کیونکہ وہ کسی کو روتا چھوڑ نہیں جا سکتی تھی۔
⭐⭐⭐
وہ جولی سے بے حد محبت کرتی تھی۔ ان کی دوستی کی مثال ہر کوئی دیتا تھا۔ روس سے تعلق رکھنے کے باوجود لیانا کو اگر ایڈنبرا اپنا وطن محسوس ہوتا تھا، تو اس کی واحد وجہ جولی کی بے لوث محبت اور سچی دوستی تھی۔
یونیورسٹی کے پہلے دن سے لے کر آج تک ان دونوں نے جتنے بھی لمحے ساتھ گزارے تھے، یادگار، خوبصورت اور خوشیوں سے بھرپور تھے۔
مگر اب ان کی دوستی ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی تھی جہاں آگے کیا ہونے والا تھا، اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا۔
⭐⭐⭐
عشاء اس وقت راؤنڈ لے رہی تھی۔ جب وہ باقی کلاسز کا راؤنڈ لے کر کینٹین کے قریب پہنچی تو اس نے کانچ کی دیوار سے پار نظر آتے تمام اسٹوڈنٹس کو دیکھا۔
لیکن اس کی نظریں جس منظرپر رکیں، وہ جولی اور لیانا کی گفتگو اور ان کے چہروں کے تاثرات تھے۔
اس کے ساتھ پروفیسر احتشام بھی تھے، جو کچھ فاصلے پر کھڑے
تھے ۔
عشاء چند لمحے رکی۔
اس نے دیکھا، لیانا اٹھی اورکینٹین سے باہر نکل گئی۔ وہ عشاء کی طرف پشت کیے ہوئے تھی،اس لئے اسے دیکھ نہ پائی ۔
جبکہ جولی وہیں پر دم سادھے بیٹھی تھی۔
” میڈم ،میں معلوم کرواؤں کیا مسئلہ ہے ؟”
” نہیں۔ انھیں چھوڑ دو۔ وہ خود حل کر لیں گی۔ ” وہ ان پر ایک نظر ڈالتی آگے بڑھ گئی ۔
⭐⭐⭐⭐
عشاء اور پروفیسر احتشام ڈائنگ ایریا میں چلے گئے، جہاں درمیان میں ایک لمبی میز موجود تھی۔ اور اس کے گرد کرسیاں پڑی ہوئی تھیں ۔ کانچ کی دیواریں باہر کے منظر کو دکھا رہی تھیں، لیکن اندر کا منظر باہرسے نظر نہیں آتا تھا ۔ عشاء سربراہی کرسی پر بیٹھی، جبکہ باقی پروفیسرز نے اپنی اپنی جگہ سنبھال لی ۔
باتوں کے ساتھ لنچ کیا جا رہا تھا۔
عشاء خاموشی سے بیٹھی مچھلی کے سوپ کے گھونٹ لے رہی تھی۔
” میڈم عشاء، مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی۔ ”
پروفیسر گریگر کی آواز گونجی۔
تو عشاء نے ان کی طرف دیکھا اور کہا
” جی، کہیں۔”
” میڈم، جو نئے اسٹوڈنٹس آئے ہیں، ان میں سے کچھ ورک کو سنجیدہ ہی نہیں لے رہے۔” پروفیسر گریگر کھانے سے ہاتھ روک کر بیٹھے بتا رہے تھے۔ باقی پروفیسر کھانے کے ساتھ بات سن رہے تھے ۔
” مثلا کون؟”
” میڈم ! لیانا اور جولی۔ پچھلے ایک ہفتے سے ان کی پرفارمنس کچھ اچھی نہیں جارہی۔”
” ہمم۔۔۔اور کچھ ؟”اس کے انداز میں سوچ تھی۔
” نہیں، اور کچھ خاص نہیں ۔” پروفیسر گریگر نے بات مکمل کی اور عشاء کی طرف دیکھنے لگے۔
” اچھا ۔۔۔ میں دیکھ لوں گی اور انھیں اپنے طریقے سے ڈیل کروں گی۔ ابھی کچھ دن انہیں کرنے دیں جو کررہی ہیں ۔ پھر یہاں کے اصول جب ان پر واضح ہوں گے تو خود ہی سمجھ جائیں گی ۔ “
بات مکمل کرکے اس نے ابھی مچھلی کے سوپ کا گھونٹ لیا ہی تھا کہ اچانک اس کے موبائل پر کال آنے لگی۔
اس نے سب سے کہا:
” جاری رکھیں۔”
اور ڈائننگ ایریا کا دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
⭐⭐⭐
جاری ہے ۔
انشا ء اللہ
اگلی قسط پندرہ دنوں بعد
