ناول کا نام: میرا مقدر میرا اثاثہ
قلم از : ملائکہ مقبول احمد
جب عکاشہ نے باسط کو دیکھا تو فٹافٹ دوپٹہ سر پرے کر اس کا ایک کو نا فوراً اپنے چہرے پر ٹکا لیا ۔
ہاں بولو بیٹا آنٹی وہ ولیم آپ کو اور کنیز کو نیچے بلا رہا ہے ۔ اُس نے عکاشہ کی طرف دیکھ کرکہا۔
ہمم ٹھیک ہے لیکن بیٹا جی ۔۔یوں بغیر بتائے یا دروازہ کھٹکھٹائے بغیر کسی بھی کے گھر یا کمرے میں داخل نہیں ہوتے۔۔رخسار نے اُسے کان سے پکڑ کر کہا۔
. آہہہ ۔۔۔آنٹی مجھے درد ہو رہا ہے چھوڑ دیں ۔۔برائے مہربانی –
باسط نے درد سے کراہ کر رخسار سے التجاکی-
ہمم آئندہ سے یاد رکھنا اور عکاشہ بیٹے تم کنیز کو بلا دینا –
رخسار نے باسط کا کان چھوڑ کر آگے بڑھ کر کہا۔
جی چچی۔ یہ کہہ کر عکا شہ جیسے ہی دوسر ے کمرے میں جانے کے لئے آگے بڑھی تو باسط اس کے راستے میں آگیا ۔
اہممم۔۔۔ ہیلو مِسں مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔۔
لیکن مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی اور نہ ہی کچھ نہیں سنناہے۔
عکاشہ نے اپنی ہیزل بھوری آنکھیں اُس کی طرف کر کے اپنے لہجے کو سخت اور مضبوط کر کے کہا
اور باسط کی دوسری طرف سے آگے بڑھ گئی ۔
ہمم – لگتا ہے لڑکوں کے معاملے میں سخت ہے۔
باسط نے اُسے کمرے میں جاتے دیکھ کہا ۔
شام کے وقت اُن کا اور اُن کے دونوں چچاؤں کا گھر روشنیوں اور برقی قمقوں سے چمک رہا تھا ۔
چونکہ ولیم اُن سب کزنز میں سے سب سے بڑا تھا اور اس کی شادی اُن کی پھوپھو سدرہ کی بیٹی عمل سے ہو رہی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ شادی پوری دھوم دھام سے ہونی چاہیے پتہ بھی تو چلے کہ حسین شاہ کے پوتے اور پوتی کی شادی ہو رہی ہے ۔
شام کو مہندی کے فکشن کی تیاری ان کے چچار شید کے گھر کیا گیا تھا کیونکہ ان کے گھر کا صحن کافی حد تک کھلا اور بڑا بھی تھا ۔
زے اور عکاشہ دونوں نے ایک جیسے لہنگےپہنے تھے۔
دونوں نے ڈارک پنک کلر کے لہنگے اور ساتھ میں زنک کلر کے دوپٹے ،سفید رنگ کھسے اور آنکھوں پر لائٹ شیڈ لگائے تھے ۔
وہ دونوں اپنی جگہ پر اپ کی خوبصورت دکھائی دے رہی تھیں ۔
ابلاج اور زائشان نے سفید رنگ کے کرتے اور کھیڑھی پہنی تھی ۔
چونکہ رسم جلد ہی شروع کردی گئی تھی تاکہ بعد میں باقی بچے مل کر ہلہ گلہ کرسکیں۔
رسم تقریبا سات بجے ختم ہو گئی تھی اور صحن میں صرف لڑکیاں ہی بچی تھیں۔
باقی لڑکے بڑے اور دوسرے محلے کے لوگ نعیم کے گھر جا چکے تھے ۔
زے تمھارے پاس اس رنگ کا دو پٹہ ہے کیا ؟ اس کی دوسری پھوپھو کی بیٹی ابیہا نے زے کو اپنے لہنگے کا رنگ دکھا کر پوچھا۔
کیوں ؟زے جو کہ صحن میں موجود کرسیوں میں سے ایک کرسی پرخود اور دوسری سب سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اور اس کے پوچھنے پر سیدھی ہوئی تھی۔
وہ دراصل میرا یہ دوپٹہ کندھے پر سیٹ نہیں ہو رہا اور بعد میں ہم نے ڈانس وغیرہ بھی کرنا تو یہ بعد میں لے لوں گی۔
ابیہا نے اُس کے ساتھ موجود کرسی پر بیٹھ کر اُس سے پوچھا ۔
ہممم۔۔ دے تو میں دوں لیکن دو پٹہ میرا گھر پر ہے اور ہم اس وقت ۔۔۔
اب یہ مت کہنا کہ جا نہیں سکتی منع کرنا ہے تو سیدھا سیدھا کہہ دو۔
نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔وہ دراصل چابی … میرا مطلب یہ بابا کے پاس چابی ہوں گے شاید۔
اُن سے لے لو زے نے کندھے اچکا کر ابیہا سے کہا۔
ہمم۔۔ماموں سے۔ٹھیک ہے میں لے اتی ہوں اور پھر تم مجھے دوپٹہ لا کر دو گی ٹھیک ہے۔
ابیہا نے اپنی گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا۔
ہاں بابا۔۔ لا دوں گی زے نے ابیہا کی طرف دیکھ کر کہا۔
ابھی ابیہا کو وہاں سے گئے ہوئے پانچ سے دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ وہ چابیاں لے کر واپس اگئی۔
یہ لو زے۔۔۔میں لے ائی ہوں چابیاں اب جاؤ اور دوپٹہ لے اؤ۔
ابیہا نے چابیوں کا گچھا اس کے ہاتھوں میں دے کر کہا۔
میں اکیلی۔۔۔زے ہڑبڑ ائی۔
ہاں ہاں تم اکیلی یا پھر عکاشہ کو لے جاؤ کیونکہ میں تو نہیں جا رہی ہوں کیونکہ تم نے مجھے ماموں سے چابی لینے کے لیے اکیلے ہی بھیجا تھا ناں۔
ابیہا نے کرسی پر بیٹھ کر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر اسے دیکھ کر کہا۔
امم۔۔ٹھیک ہے میں لا دیتی ہوں۔زے نے اپنے دونوں ہاتھوں سے لہنگے کو اوپر کر کے چلتے ہوئے کہا۔
اکیلی جاؤ گی۔۔۔ابیہا نے اسے گیٹ کی طرف بڑھتے دیکھ پوچھا۔۔
ہمم۔۔۔اس نے بس اتنا ہی جواب دیا۔
رکو میں بھی اتی ہوں یہ وہی رکھ دوں گی اور وہ لے آؤں گی ۔
ابیہا جس نے بھی لہنگا ہی پہنا ہوں تھا اُسے دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر اُس کے پیچھے بھاگتے ہوئےہوئے زے سے کہا۔
ہمم چلو۔۔ زے نے گیٹ سے باہر جھانک کر دیکھا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔شکر ہے۔
اُس نے باہر قدم رکھ کر کہا ۔
کبیر تم نہ ایسا کرو کہ میرا فون لے اؤ تاکہ میں بھی گھر فون کردو۔
باسط نے کبیر سے کہا جو کہ پچھلے آدھے گھنٹے سے نجانے موبائل فون میں کیا دیکھے جا رہا تھا۔
ہمم۔۔لادیتا ہوں۔ کبیر وہاں سے کھڑا ہوا ۔۔۔
ہیں تو ایک بار میں ہی مان گیا۔۔ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تیری ۔
باسط نے کھڑے ہو کر اُس کے ماتھے پرہاتھ رکھ کر پوچھا ۔
یہ بات وہ تب کہہ رہا تھا جب وہ سب تیسری منزل پر بیٹھے اپس میں گپ شپ لگا رہے تھے اور ولیم کے کہنے پر اج رات وہیں رکنے والے تھے۔
جاؤ پھر خود لے آؤ میں نہیں جا رہا۔کبیر نے اُس کی بات کو کاٹ کر کہا ۔
ارے نہیں نہیں میں تو مذاق کر رہا تھا ۔
نیں نیں لے آ۔ میں تو کبھی تیری بات مانتا ہی نہیں ۔ باسط کے اس طرح کہنے پر کبیر نے واپس ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کر کہا۔
ایک تو نہ بابا سے کہابھی ہے کہ اسے ٹھیک کروا لیں ۔زے نے دروازے کا لاک کھولتے ہوئے خود کو کو سا ۔
۔جو کہ پچھلے پانچ منٹ سے اٹکا ہواتھا ۔
کھلا کہ نہیں ابیہا نے ادھر ادھر دیکھ کر ز ےسے پوچھا۔
کے تبھی اُس کی نظر اُس کے چچا کے دروازے کے آگے کھڑے ان کے ایک کزن پر پڑی جو کہ تقریبا چودہ پندرہ سال کا تھا۔
اوے ادھر آؤ ا ابیہا نے بڑوں والا رعوب اس پر جمایا۔ جی آپی ا س نے ایبہا کو دیکھا اور پھرزے کو جو کہ ابھی بھی دوازے سے کُشتِی لڑرہی تھی۔
جاؤ اُدھر سے ولیم بھائی یاں پھر زے آپی کے بھائیوں میں سے کسی کو بلا کر لاؤ۔
پر کیوں آپی؟ بچے نے زے کو نظر انداز کر کے ابیہا سے پوچھا ۔
اندھے ہو یا پھر آنکھیں نہیں ہیں۔
جاؤ جا کر ابلاج یا پھر زائشان بھائی کو بلا کر اؤ –
زے نے اپنی بھوری آنکھیں اُس بچے کی طرف نکالی۔
اچھا جا رہا ہوں وہ گرنا خود بلا لائیں۔ بچے نے واپس گیٹ کی طرف جاتے ہوئے زےسے کہا۔
استغفر الله زبان تو دیکھو اس کی ۔ زے نے اُسے جاتے دیکھ پیچھے سے کہا ۔
کوئی بات نہیں آج کل بڑے بات کرنے وقت نہیں سوچتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں تو چھوٹوں کا کیا ہے۔ ابیہا نے اُسے جاتے دیکھ زےسےکہا –
ہمم کہہ تو تم ٹھیک ہی رہی ہو۔ زے نے دروازے میں لٹکی چابی کو دیکھ کر کہا جو کہ اپنی ہی دھن میں ہلے جارہی تھی ۔
کیا میں آپ کی کوئی مدد کر سکتا ہوں ؟ ابیہا اور زے کارخ دروازے کی طرف تھا جب پیچھے سے کسی نے کہا۔
جی وہ ابیہا اور ز ےنے بیک وقت پیچھے مڑی ۔
ابلاج بھائی آپ کو ابیہا آپی بلا رہی ہیں۔
اُس بچے نے ابلاج سے یہ بات تب کہی جب وہ اپنے باقی دوستوں کے ساتھ چھت پر بیٹھا تھا۔
ابیہا ؟ پر مجھے کیوں؟ ابلاج نے خود سے سوال پوچھا۔
اچھا میں پوچھ کر آتا ہوں۔ابلاج نے تیزی سے کھڑے ہو کر کہا اور بغیر کسی کی طرف دیکھے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ وہاں رکا تو باقی سب سے وہاں رکنے نہیں دیں گے۔
باسط بھائی اپ۔ابیہا نے پیچھے کھڑے باسط سے پوچھا۔
ہاں میں۔۔ کوئی مسئلہ ہے کیا اپ دونوں یہاں کیوں کھڑی ہیں؟باسط نے انہیں وہاں کھڑے دیکھا توپوچھا۔
آف وائٹ شلوار اور کالے کُرتے میں کھڑا باسط پُر کشش لک رہا تھا اور ابیہا نے بمشکل ہی اُس سے اپنی آنکھیں ہٹائی تھیں ۔
جی وہ دروازے کا لاک نہیں کھل رہا ابیہا نے ادھر ادھر دیکھ کر کہا ۔
امممم لاو میں مدد کر دیتا ہوں اُس نے آگے بڑھ کر کہا۔
نہیں ضرورت نہیں ہے ہم نے ابلاج بھائی کو بلا لیا ہے وہ آہی رہے ہوں گے ۔
زےجو کہ دوپٹے کا ایک کونا منہ پر ٹکائے اور دوسرے ہاتھ سے لہنگے کو سنبھال رہی تھی ۔ اس نے باسط کو دیکھ کر کہا۔
زے کرنے دو مدد۔اپ کھول دیں ابیہا نے زے کو گھورا اور پھر باسط کی طرف متوجہ ہوئی ۔
تو باسط نے چابی لینے کے لئے ہاتھ بڑھایاتو زے نے چابی ابیہا کے ہاتھ میں تھما دی لو تم خود ہی دے دو ۔
یہ کہہ کر وہ دروازے سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہو گی ۔ باسط نے زے کی طرف دیکھا ۔
ارے کہاں رہ گئے ہو باسط کبیر جو کہ اسےڈ ھونڈتے ہوئے اُس کے پیچھے آگیا تھا اُن دونوں کو وہاں دیکھ ٹھٹکا ۔ کیا ہوا ؟ اس نے باسط سے پوچھا ۔
کچھ نہیں بس لاک اٹک گیا تھا ۔
کھلا کے نہیں۔ ۔۔کبیر جو کہ زے کے تقریباً پیچھے کھڑا تھا اب آگے بڑھا۔
لاؤ مجھے دکھاؤ میں کھولتا ہوں وہ اگے بڑھا۔
کالے رنگ کا واسکوٹ ،اف وائٹ شلوار قمیض پہنیے اس شخص میں نہ جانے ایسا کیا تھا جسے دیکھ کر زے کادل زور سے دھڑکا اور دھڑکن تیز ہو گئ ۔
بولو کیا بات ؟ ابلاج اس سے پہلے کچھ اور کہتا ان چاروں کو وہاں دیکھ ٹھٹکا۔
تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو؟ اس نے ابیہا اور ز ےسے پوچھا۔
اممم۔۔وہ ہمیں کچھ کام تھا تو کھر آئی تھیں اور دروازہ کھولنے لگیں تو کھلا ہی نہیں اور پھر باسط اور کبیرنے ہمیں یہاں دیکھا تو وہ ہماری مدد کے لیے اگئے۔
ابیہا نے زے کی طرف دیکھے بغیرکہا اور وہ وہی زے کی جان نکلے جا رہی تھی ۔
کھل گیا دروازہ اب آپ اندر جا سکتیں ہیں۔
کبیر نے ابیہا سے کہا اور پھر ایک نظرزے پر ڈالی جو کہ وہیں ٹھہر گئی۔
زے جو کہ ڈر کے مارے وہاں سے جانے کا سوچ رہی تھی اب گھر کے دروازے کو کھلا دیکھ تھوڑا سکون میں آئی تھی ۔
اُس نے محسوس کیا کہ کوئی مسلسل اُسے دیکھ رہا ہے اور یہ بات ابیہا کو بھی محسوس ہوئی جب انھوں نے ادھر اُدھر دیکھا تو وہ کبیر تھا جو کہ ابھی تک اُس کی آنکھوں کی طرف ہی دیکھے جا رہا تھا۔
باقی آئندہ شمارے میں شمار رہے گا ۔ شکریہ ۔
