JUNG E BAQA BY MAHNOOR AWAN EPISODE 2.

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ناول : جنگ بقاء
بقلم: ماہ نور اعوان
قسط نمبر: 2
پہلی ملاقات، پہلا تاثر
⭐⭐⭐
کبھی کبھی لمحے وہیں رک جاتے ہیں جہاں انہیں چھوڑ دیا گیا ہوتا ہے۔ کبھی صدیوں لگ جاتی ہیں لمحوں کو مکمل ہونے میں، اور کبھی ایک لمحہ ہی سب کچھ بدل دینے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
کہانی بھی وہیں رک جاتی ہے جہاں قصہ گو کا قلم اسے روک دیتا ہے، اور جب قصہ گو دوبارہ قلم کاغذ پر چلاتا ہے تو کہانی آگے بڑھنے لگتی ہے۔
آہستہ آہستہ جب پردے سرکتے ہیں تو حقیقت کھلتی چلی جاتی ہے۔ قصہ گو ایک ہی لمحے میں پوری کہانی نہیں کھولتا، بلکہ وہیں سے آغاز کرتا ہے جہاں قصہ رک سا جاتا ہے۔
⭐⭐⭐
ہماری کہانی بھی وہیں سے شروع ہوگی جہاں پر رک گئی تھی۔
کبھی کبھی ایک غیر متوقع فون کال
پرانے زخموں کو کرید دیتی ہے،
اور ماضی کا درد پھر سے
نئے انداز میں تازہ ہو جاتا ہے۔
کبھی کبھی چاہ کر بھی
ہم ماضی کو نہیں بھول سکتے،
کیونکہ کچھ زخم
نئے انداز میں پھر سے رونما ہوتے ہیں۔
⭐⭐⭐
عشاء کو کال آئی تھی۔
منظر وہیں سے شروع ہوگا۔
اس کا رخ اپنے آفس کی طرف تھا۔ آفس میں داخل ہو کر اس نے کال ریسیو کی، موبائل کان سے لگایا اور کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی نظریں باہر کے منظر پر جمی تھیں۔
موبائل کے اسپیکر سے ایک بھاری اور گھمبیر آواز گونجی، جس میں عجیب سی مٹھاس تھی۔
“کیسی ہو، گلاب؟”
عشاء کا چہرہ سپاٹ ہو گیا۔ اس نے ہاتھ کی مٹھی اتنی زور سے بھینچی کہ ناخن ہتھیلیوں میں پیوست ہونے لگے۔
“کیوں کال کی ہے؟”
اس کے لہجے میں غصہ صاف محسوس ہو رہا تھا۔
“ہر بار ایک ہی سوال کرتی ہو، گلاب۔ اتنی جلدی بھول کیوں جاتی ہو؟”
دوسری طرف موجود شخص کے لہجے میں جذبات امڈ آئے تھے۔
“میں کیوں یاد رکھوں گی؟”
“تم ہی تو یاد رکھو گی۔”
عشاء نے صرف ایک جملہ کہا، مگر اس کے لہجے میں غصے کے ساتھ ایسی کاٹ تھی جو سامنے والے کے دل تک اتر گئی۔
“میں، عشاء ہاشمی، قاتلوں سے جڑی چیزیں یاد نہیں رکھتی۔ مسٹر دیان جہانزیب۔”
دوسری طرف چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی، جیسے الفاظ کو جذب کیا جا رہا ہو۔
پھر کچھ دیر بعد آواز دوبارہ ابھری۔
“تم باقی کسی سے جڑی چیزیں یاد نہ رکھتی ہو، لیکن دیان جہانزیب سے جڑی چیزیں یاد رکھتی ہو۔”
“خوش فہمیوں سے نکل آئیں، جہانزیب صاحب۔”
اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔
“خوش فہمیوں میں نہیں، یقین ہے کہ گلاب، تم مجھے یاد رکھتی ہو۔ کیونکہ تم مجھے کبھی بھولی ہی نہیں ہو۔”
عشاء نے ایک ایک لفظ چبا کر ادا کیا۔
“عشاء ہاشمی میرا نام ہے۔ کوئی گلاب نہیں۔”
اس نے دوسری طرف سے جواب سنے بغیر ہی کال کاٹ دی۔
“تم میری زندگی سے نکل کیوں نہیں جاتے، دیان جہانزیب؟ کیوں؟”
وہ بے بسی سے کہتے ہوئے کھڑکی کے باہر دیکھتی رہی۔
⭐⭐⭐
یہ اس وقت کی بات ہے جب عشاء ڈائننگ ایریا سے نکل چکی تھی اور پیچھے پروفیسرز کی گفتگو کا رخ بدل گیا۔
“ویسے گریگر، آپ کو یہ بات یا تو پہلے بتا دینی چاہیے تھی یا بتاتے ہی نہیں۔”
پروفیسر ہوکین نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
“کیوں؟ ایسا کیوں کرتا میں؟”
پروفیسر گریگر نے الٹا سوال کر دیا۔
“وہ اس لیے کہ میڈم عشاء اصولوں پر کسی صورت سمجھوتا نہیں کرتیں۔ اور آپ نے اصول فالو نہیں کیے۔ اب آگے خداوند جانے کیا ہوگا۔”
“کیا مطلب؟”
پروفیسر گریگر تو اب پریشان ہو گئے تھے۔
“دیکھیں پروفیسر گریگر، آپ کو یہاں آئے ابھی کچھ عرصہ ہوا ہے، اور آپ کو میڈم کچھ نہیں کہیں گی۔ اس لیے پریشان نہ ہوں۔”
پروفیسر احتشام کے ساتھ پروفیسر احمد نے بھی انہیں تسلی دی۔
پروفیسر ہوکین نے فوراً وضاحت کی۔
“اصولوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ کسی بھی اسٹوڈنٹ کی خراب کارکردگی یا کام نہ کرنے کی صورت میں سب سے پہلے ادارے کو اطلاع دینی ہے۔”
“یہ تو مجھے معلوم ہے، لیکن مجھے خیال نہیں تھا کہ اتنی چھوٹی سی بات پر اتنا سب کچھ ہوگا۔”
پروفیسر گریگر نے ہاتھ گھماتے ہوئے کہا۔
“نہیں پروفیسر، آپ کو خیال نہیں بلکہ یاد ہی نہیں تھا۔ میں نے یاد دلایا تو آپ کو یاد آیا، ورنہ ابھی تھوڑی دیر پہلے تک آپ سب کچھ بھولے ہوئے تھے۔ خیر، کوئی بات نہیں، بڑھتی عمر کا تقاضا ہے۔”
پروفیسر ہوکین مسکراتے ہوئے انہیں چڑانے لگے۔
پروفیسر احتشام اور پروفیسر احمد نے بھی اپنی مسکراہٹوں کو قابو کرنے کی کوشش کی۔
جبکہ پروفیسر گریگر، پروفیسر ہوکین کو ایسے غصے سے دیکھ رہے تھے جیسے کچا چبا ڈالیں گے۔
⭐⭐⭐
الیگزینڈر ہاؤس
قدیم عمارتوں کے بیچ کھڑی ایک اور قدیم عمارت۔
ایڈنبرا کے علاقے اولڈ ٹاؤن میں موجود یہ گھر اپنے منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے نمایاں تھا۔
جیکسن جیسے ہی اپنے عالیشان گھر میں داخل ہوا، لاؤنج میں موجود صوفے پر بیٹھے الیگزینڈر صاحب اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑے ہوئے۔
جیکسن چلتا ہوا ان کے قریب آیا تو وہ غصے سے گویا ہوئے۔
“کہاں سے آ رہے ہو؟”
“میں جہاں سے بھی آ رہا ہوں، آپ کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، ڈیڈ۔”
جیکسن نے پرسکون لہجے میں کہا، مگر اس کے الفاظ نے الیگزینڈر صاحب کے غصے کو مزید بھڑکا دیا۔
“مجھے مسئلہ ہے، سمجھے؟”
“کیوں ہے آپ کو مسئلہ؟ مجھے بھی تو بتائیں۔”
“کیونکہ تمہاری فکر ہے مجھے۔”
الیگزینڈر صاحب نے آنکھوں سے اسے یقین دلانے کی کوشش کی۔
جیکسن طنزیہ انداز میں ہنسا۔
چند لمحے ہنسنے کے بعد جب وہ بولا تو اس کے الفاظ ایڈنبرا کی فضاؤں میں تلخی گھول گئے۔
“آپ کو میری فکر نہیں ہے، بلکہ مجھ سے جڑی اپنی شہرت کی فکر ہے، جس کی وجہ سے لوگ آپ کو پہچانتے اور عزت دیتے ہیں۔ ورنہ آپ کو کوئی پہچانے بھی نہ۔”
تلخ الفاظ، لیکن کڑوا سچ۔
جیکسن کے یہ الفاظ الیگزینڈر صاحب کے چہرے پر چابک کی طرح لگے۔
اگلے ہی لمحے ان کا ہاتھ اٹھا اور جیکسن کے چہرے پر اپنا نشان چھوڑ گیا۔
تھپڑ کی آواز اتنی زور دار تھی کہ لیزا الیگزینڈر، جیکسن کی چھوٹی بہن، زینے پھلانگتے ہوئے نیچے آئی تو بے اختیار اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ڈیڈ نے بھائی کو مارا ہے۔
جیکسن نے چہرہ ان کی طرف موڑا، پھر چند قدم ان کے قریب ہوا اور ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا:
“ڈیڈ، یو نو واٹ؟ جون بالکل صحیح کہتا ہے۔ آپ مونسٹر ہیں، مونسٹر۔”
“اوہ! تو تمہیں یہ سب وہ نکما، بیکار جون کہتا ہے؟ اور پھر تم اپنے ڈیڈ سے لڑتے ہو؟”
“جون نہیں کہتا، بلکہ آپ اپنے رویے سے خود ہی ہمیں یہ سب سمجھا دیتے ہیں۔”
“میں اس جون کا بندوبست کرتا ہوں۔ بہت جلد۔”
“آپ جون کو کچھ نہیں کہیں گے، ورنہ۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ گیا۔
“پلیززز! بس کریں آپ دونوں۔ کیوں لڑتے ہیں آپ لوگ اس طرح؟”
لیزا روتے ہوئے بولی۔
الیگزینڈر صاحب نے جیکسن کو گھورتے ہوئے کہا:
“میں تمہیں یوں اتنی آسانی سے سب چھوڑنے یا میری مخالفت کی صورت میں کچھ غلط کرنے نہیں دوں گا۔”
وہ وارننگ دیتے ہوئے وہاں سے واک آؤٹ کر گئے۔
جیکسن نے زخمی لہجے میں مسکرا کر ان کی طرف دیکھا، پھر لیزا کی طرف بڑھا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
“روتے نہیں ہیں، بچے۔ آؤ اوپر چلتے ہیں۔ میرے کوٹ کی جیب میں تمہارے لیے تازہ پاپ کارن ہے، مل کر کھاتے ہیں۔”
جیکسن، لیزا کو ساتھ لگائے زینوں کی طرف بڑھ گیا۔
⭐⭐⭐
جیکسن اپنے ساتھ لیزا کو لیے کمرے میں داخل ہوا تو اس نے لیزا کو کارپٹ پر بیٹھنے کا کہا اور خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
اس نے کوٹ کی جیب سے پاپ کارن کا پیکٹ نکالا، اسے کھول کر لیزا کے سامنے کیا تو وہ خوشی سے بھائی کے ساتھ مل کر کھانے لگی۔
“بھائی پلیزز، آپ اور ڈیڈ نہ لڑا کریں، میرے لیے۔”
وہ التجائیہ انداز میں بولی۔
جیکسن نے اس کے بالوں میں ہلکا سا ہاتھ پھیرا اور پیار سے مسکراتے ہوئے اس کی طرف رخ کیا۔
“میں وعدہ نہیں کر سکتا، کیونکہ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔”
لیزا نے پاپ کارن کا پیکٹ اپنی گود میں رکھا اور بھائی کی طرف رخ کرکے بولی:
“بھائی، ڈیڈ جو کہتے ہیں، وہ آپ مان لیں۔”
جیکسن چند لمحے خاموش رہا، پھر گہری سانس لیتے ہوئے بولا:
“نہیں، لیزا۔ اب تک میں نے ڈیڈ کی ہر بات مانی ہے۔ جو وہ کہتے رہے، سب کیا۔ صرف اس لیے کہ وہ ناراض نہ ہوں۔ ان کی ہر بات مانتا گیا، لیکن میں کیا چاہتا ہوں، یہ سب نظر انداز کر دیا۔”
اس کے لہجے میں برسوں کی تھکن محسوس ہو رہی تھی۔
“لیکن اب بس! انہیں ہماری کوئی فکر نہیں، بلکہ ہم سے جڑی جھوٹی شان و شوکت کی فکر ہے۔”
اس نے گہری سانس لی، جیسے یہ الفاظ کہتے ہوئے بھی اس کا دل ساتھ نہ دے رہا ہو۔
“بھائی، آپ دکھی نہ ہوں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ڈیڈ آپ کی بات سمجھ لیں گے، آپ بس بھروسہ رکھیں۔”
لیزا نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
“نہیں، کب تک، لیزا؟ وہ نہیں سمجھیں گے۔ میں جانتا ہوں انہیں۔ ان کی سوچ نہیں بدل سکتی۔”
بے بسی سے کہتے ہوئے وہ بیڈ کی پشت سے ٹیک لگا گیا۔
“بھائی، میں ہوں نا آپ کے ساتھ۔ ہم دونوں ڈیڈ کو منا لیں گے۔”
لیزا نے اس کے بازو پر سر رکھ دیا۔
جیکسن نے بھی اپنے بازو اس کے گرد حمائل کر دیے۔
دونوں بہن بھائی کی محبت ایک دوسرے کے لیے خالص تھی۔ انتہا کی محبت تھی انہیں ایک دوسرے سے۔
کمرے میں لگی کھڑکی سے باہر ایڈنبرا کی فضاؤں میں عجیب سی اداسی گھل گئی تھی۔
⭐⭐⭐
ایڈنبرا، اسکاٹ لینڈ
ایڈنبرا، اسکاٹ لینڈ کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر بنیادی طور پر دو تاریخی حصوں، اولڈ ٹاؤن اور نیو ٹاؤن، کے لیے مشہور ہے۔
اولڈ ٹاؤن میں قدیم طرز پر بنے گھر، پرانی گلیاں اور تاریخی عمارتیں اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں، جبکہ نیو ٹاؤن میں کشادہ گلیاں اور نسبتاً جدید طرزِ تعمیر کے گھر نظر آتے ہیں۔
ایڈنبرا میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ دور دراز ممالک سے طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، جبکہ دنیا بھر سے سیاح بھی اس شہر کی قدیم عمارتیں اور تاریخی مقامات دیکھنے پہنچتے ہیں۔
ہماری کہانی بھی اسی شہر کے دو مختلف حصوں میں تقسیم ہے۔
اولڈ ٹاؤن اور نیو ٹاؤن۔
⭐⭐⭐
جہانزیب ہیڈ کوارٹرز
جہانزیب ہیڈ کوارٹرز اولڈ ٹاؤن میں بنی ایک منفرد عمارت تھی۔
قدیم عمارتوں کے بیچ کھڑی یہ عمارت اپنے پراسرار رنگ و انداز کی وجہ سے دور سے ہی اپنی شان و شوکت کا احساس دلاتی تھی۔
عمارت کے باہر مستعد گارڈز ہمہ تن چوکس کھڑے تھے۔ پارکنگ میں کئی گاڑیاں موجود تھیں، اور اگر پارکنگ کی جانب سے دیکھا جائے تو کچھ فاصلے پر قدیم عمارتوں کے درمیان قلعہ بھی دکھائی دیتا تھا۔
جہانزیب ہیڈ کوارٹرز کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوں تو ورکرز اپنے کام میں مصروف نظر آتے تھے۔ کی بورڈز کی کھٹ کھٹ پورے ماحول میں گونج رہی تھی۔
بالکل سامنے سی ای او کا آفس موجود تھا، جس کے باہر بڑے حروف میں لکھا تھا:
دیان جہانزیب
آفس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوں تو وہاں ایک الگ ہی منظر تھا۔
بڑی سی میز کے پیچھے چمڑے کی پاور چیئر موجود تھی۔ سامنے دو کرسیاں رکھی تھیں۔ پاور چیئر کے پیچھے ایک بڑی ایل سی ڈی لگی ہوئی تھی، جس پر اس وقت ایک نقشہ کھلا ہوا تھا۔
ایل سی ڈی کے دونوں اطراف بکس ریکس تھے، جن میں موٹی موٹی کتابیں سجی ہوئی تھیں۔ بائیں جانب ایک بڑی کھڑکی تھی، جہاں سے باہر کا منظر آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔
“سر، آپ کا ڈریم پراجیکٹ کیا ہے؟”
پرسنل، وفادار اور اس کے رازوں کا امین، اس کا بایاں بازو براق سامنے بیٹھا تھا۔
پاور چیئر پر بیٹھا دیان جہانزیب گرے ڈریس کوٹ پہنے سگار سلگا رہا تھا۔
“بہت جلد جان لو گے۔”
اس نے سگار انگلیوں میں گھماتے ہوئے کہا۔
“دیان، تم مجھ سے شیئر کر سکتے ہو۔”
براق نے تجسس سے کہا۔
“نہیں، ابھی نہیں۔ صحیح وقت آنے پر۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ دیان جہانزیب اپنے راز پورے ہونے سے پہلے ہی بتاتا پھرے۔”
اس کی آواز بھاری مگر اٹل تھی۔
“تم مجھ سے چھپا رہے ہو۔ میں پوچھ سکتا ہوں کیوں؟”
براق کا خود کو یوں نظر انداز کیا جانا اسے اچھا نہیں لگا۔
“اوہ، کم آن براق! میں اپنے سائے سے بھی چھپا رہا ہوں اور تم پتا نہیں کیا سوچ رہے ہو؟”
دیان نے سگار سے دھواں ہوا میں خارج کرتے ہوئے کہا۔
براق چند لمحے اسے دیکھتا رہا اور جیسے ہی کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، دیان نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“بس براق! میرے دوست ہو، اس لیے میں کچھ نہیں کہتا، ورنہ میرے آگے کسی کو یوں بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔”
اس نے جس انداز میں یہ کہا تھا، براق کو تو صحیح معنوں میں کرنٹ لگا۔
چند لمحوں بعد دیان کی آواز دوبارہ ابھری۔
“براق، عرصہ ہوا اس کی آواز سنے مجھے۔ ایک بار اس کی آواز سنی ہے۔ کال ملاؤ۔”
“دیان، تم اس کی آواز نہ ہی سنو تو بہتر ہے۔ ورنہ اس کی آواز تمہیں صرف اذیت دے گی، اور کچھ نہیں۔”
براق نے اسے حقیقت دکھاتے ہوئے کہا۔
اسے اپنے دوست کی فکر تھی، جو جانتے بوجھتے خود کو تکلیف دیتا تھا۔
“اس کی آواز تکلیف دیتی ہے تو سکون بھی دیتی ہے۔ اس لیے کال ملاؤ، براق۔”
لہجے میں تنبیہ تھی۔
براق نے منہ بنایا، پھر میز سے موبائل اٹھایا۔ لاک کھولا، کانٹیکٹس میں نمبر نکالا اور کال ملا دی۔
پھر موبائل دیان کی جانب بڑھا دیا۔
کال جا رہی تھی۔
دیان نے موبائل کان سے لگایا اور مسکرا کر پورے دل سے بات شروع کی، مگر دوسری طرف سے بات کرنے والے کے لہجے میں غصے سے زیادہ نفرت تھی۔
مگر جو آخری بات اس نے کی، اور جو جواب اسے ملا، وہ سیدھا اس کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔
پھر کال کٹ گئی۔
مگر کسی کے دل کو توڑ کر اسے اذیت میں مبتلا کرنے کے بعد۔
دیان جہانزیب دل کے ہاتھوں جان بوجھ کر ہارنا چاہتا تھا۔
اس نے یہ اذیت خود ہی اپنے حصے میں لکھوائی تھی۔
اور اب اسی کے ساتھ جینا تھا اسے۔
⭐⭐⭐
مینوئل آفس سے باہر نکلا تو سامنے سے سیکیورٹی انچارج حدید یوسف عرف جوف آتا دکھائی دیا۔
سیاہ ڈریس میں ملبوس، بالوں کو جیل سے جمائے، چوکس اور پھرتیلا جوف مینوئل کی طرف قدم بہ قدم بڑھتا ہوا آیا اور سامنے آ کر رک گیا۔
چند لمحے دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے کھڑے رہے۔
پھر مینوئل نے بات کا آغاز کیا۔
“کیا اپڈیٹس ہیں؟”
لہجہ سنجیدہ اور پروفیشنل تھا۔ دیان سے بات کرتے وقت کے انداز سے بالکل مختلف۔
“میں صرف باس کو بتاؤں گا، مینوئل ۔”
جوف انتہا کی حد تک سنجیدہ تھا۔
“تم شاید بھول رہے ہو کہ میں تمہارا سینئر ہوں، جوف۔”
“مجھے سب یاد رہتا ہے، اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ آج اگر تم اس طرح میرا راستہ روک کر کھڑے ہو تو یقیناً تمہیں کچھ کہنا ہے اور تم اپنا کارڈ گھر بھول آئے ہو۔”
آخر میں اس کا لہجہ مزاحیہ ہو گیا۔
مینوئل کی ہنسی چھوٹ گئی اور وہ دونوں ہنسنے لگے۔
چند ورکرز نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا، پھر واپس اپنے کام کی طرف متوجہ ہو گئے۔
“اور بتاؤ، کام کیسا جا رہا ہے؟”
مینوئل نے پوچھا۔
دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مینوئل کے آفس کی طرف بڑھنے لگے۔
“اچھا جا رہا ہے۔ سب ایک دم پرفیکٹ۔”
جوف نے اطلاع دی۔
“باقی سیکیورٹی انچارج کی جاب مشکل تو نہیں ہے؟”
دونوں راہداری کا موڑ مڑے اور مینوئل کے آفس کا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہو گئے۔
اندر آتے ہی دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔
“یہ میرا خواب تھا جو پورا ہو گیا۔ اور ویسے بھی مجھے مشکل کام پسند ہیں۔ اپنی پسند کی جاب ملنے سے میں بہت خوش ہوں۔”
جوف نے مسکرا کر بات مکمل کی۔
“اوکے، اچھی بات ہے۔ اور بتاؤ، کوئی نئی اپڈیٹ ہے تو؟”
“بظاہر تو کچھ خاص نہیں، البتہ جو آسٹریلیا، سڈنی کی برانچ ہے، وہاں سسٹم میں پچھلے چند دنوں سے کچھ خرابی ہو رہی ہے۔ ٹھیک کرنے پر بھی دوبارہ وہی ایرر آ جاتا ہے۔”
مینوئل چونکا۔
پھر انتہائی دھیمے لہجے میں بولا:
“کیا مطلب؟ کیسی خرابی؟”
“مجھے لگتا ہے سسٹم میں شاید جان بوجھ کر خرابی کی جا رہی ہے۔ یہ کسی پروفیشنل ہیکر کا کام لگتا ہے۔ لیکن خیر، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ میں، حدید یوسف، اس کی جڑوں میں گھس کر اسے باہر نکال کر لے آؤں گا۔”
اس نے لفظ چبا چبا کر ادا کیے۔
“اب کون ہے جو دیان سے دشمنی پال رہا ہے؟”
مینوئل نے سوچتے ہوئے کہا۔
“جو بھی ہے، اس کا مقصد صرف دشمنی نہیں بلکہ باس کی ساکھ کو خراب کرنا ہے۔ اور ویسے بھی جب کامیابیاں آپ کا مقدر بن جائیں تو دشمن خود بخود بنتے جاتے ہیں۔”
حدید نے تلخ حقیقت بیان کی۔
“یہ بھی ہے۔ مجھے دیان کو انفارم کرنا ہوگا۔ اور یہاں پر سب سیٹ ہے؟”
“یس، ادھر تو سب سیٹ ہے۔ ایک ایک چیز پر میری نظر ہوتی ہے۔ عقاب کی نظر سے ایک ایک چیز کو دیکھتا ہوں۔”
سیکیورٹی پر مامور تمام ورکرز پر اچھا خاصا پریشر تھا کہ اگر کوئی غلطی ہوئی تو حدید یوسف اسے معاف نہیں کرے گا، بلکہ سیدھا۔۔۔
بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اوکے، بس تم ہر چیز کا خیال رکھو۔ باقی پھر دیان جو کہے گا، وہی کرنا ہوگا۔”
“اچھا۔۔۔ یار، کوئی کافی تو منگواؤ۔”
حدید نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
مینوئل اٹھ کر ٹیلی فون کی جانب بڑھ گیا اور کال پر کافی منگوانے لگا، جبکہ حدید نے موبائل نکالا اور آسٹریلیا کی برانچ میں موجود ورکرز کو ضروری ہدایات دینے لگا۔
⭐⭐⭐
واپس دیان کے آفس کی طرف آئیں تو پورے آفس میں سگار کا دھواں ہی دھواں تھا۔
وہ اپنے اندر پھیلی اذیت کو کم کرنے کے لیے سگار سلگا رہا تھا۔
اس کا رخ شیشے کی کھڑکی کی جانب تھا۔ کچھ دیر پہلے ہونے والی گفتگو کے الفاظ کے تیر اسے اندر سے گھائل کیے جا رہے تھے، اور پھر بھی وہ انہی الفاظ کو سوچے جا رہا تھا۔
⭐⭐⭐
“یغوث کالنگ۔”
لیزا نے موبائل اٹھایا تو اسکرین پر یغوث کا نام جگمگا رہا تھا۔ اس نے اردگرد دیکھا، تسلی کی کہ کوئی موجود نہیں، پھر اپنے کمرے کی بالکونی میں آکر ریلنگ کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔
اونی سوئٹر پہنے اور سر پر ٹوپی جمائے اس نے موبائل کان سے لگایا۔
“ہیلو۔”
اس نے دھیمے اور محتاط انداز میں کہا۔
دوسری جانب سے مسکراتی ہوئی آواز ابھری۔
“ہائے، کیسی ہو لیزا؟”
“کیسی ہو سکتی ہوں؟ تم بتاؤ۔”
اس کا لہجہ شرارتی ہوگیا۔
“تمہاری چہکتی آواز ہی تمہاری خیریت کی خبر دے دیتی ہے، لیزا۔”
اس نے مٹھاس بھرے لہجے میں کہا۔
لیزا کی مدھر ہنسی بالکونی میں گونج گئی۔ پھر اچانک اسے جیسے کچھ یاد آیا۔ اس نے گھبرا کر کمرے کے دروازے کی طرف دیکھا اور بالکونی میں ٹہلتے ہوئے بولی۔
“ویسے اب کون سی مووی کا ڈائیلاگ چرا لیا تم نے؟”
“یہ میرے اپنے الفاظ ہیں، میڈم، اور میرے دل سے نکلے ہیں۔ اس لیے شک مت کرنا۔”
وہ مصنوعی تنبیہ کرتے ہوئے بولا۔
“اوہ، اچھا! ویسے کون سی مووی تھی یہ، جس کے ڈائیلاگ تم نے چرائے ہیں؟”
اس نے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا۔
“تم بتاؤ، کس کے ہیں؟ مجھے بھی تو پتا چلے۔”
“آہ! نہیں، مجھے بھول گیا۔”
وہ بات ٹالتے ہوئے بولی۔
“بھول گئی یا پھر میرا۔۔۔”
وہ اپنی بات مکمل کرتا، اس سے پہلے ہی لیزا تیزی سے بول پڑی۔
“اچھا، مجھے کچھ کام ہے۔ وہ کرتی ہوں۔ بعد میں کال کرتی ہوں۔”
تیزی سے کہہ کر اس نے کال کاٹ دی۔
موبائل کو سینے سے لگائے وہ چند لمحے مسکراتی رہی۔
پھر اچانک اس کے ذہن کے نہاں خانے میں ایک خیال نے جنم لیا۔
“یغوث میرے لیے اپنا مذہب چھوڑے گا یا میں؟ نہیں، میں تو نہیں چھوڑوں گی۔ یغوث میرے لیے اپنا مذہب چھوڑے گا۔۔۔ ہاں، بالکل۔”
وہ اپنے خیالات کو جھٹکتے ہوئے کمرے میں چلی گئی۔
پیچھے دور کہیں دھند میں لپٹی وادیوں میں کاتبِ تقدیر نے مسکرا کر قصہ گو کی طرف دیکھا تھا۔
⭐⭐⭐
“Rose Street, Edinburgh”
نیو ٹاؤن میں موجود یہ گلی پتھروں سے بنائی گئی تھی۔ دونوں اطراف کیفے، ریسٹورنٹس اور شاپس موجود تھیں، جبکہ جگہ جگہ اسٹریٹ لیمپس نصب تھے۔
مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاحوں کا بھی خاصا رش تھا۔
ایسے میں آئیے، چلتے ہیں اپنی کہانی کی طرف۔
“Pizza Pilgrims, Edinburgh”
یغوث اپنے دوست پیٹرو کے ساتھ پیزا کھانے میں مصروف تھا۔ وہ ابھی لیزا سے بات کرکے موبائل رکھ چکا تھا اور اب پیٹرو کے ساتھ گفتگو میں مشغول تھا۔
“ویسے یغوث، کچھ پوچھ سکتا ہوں؟”
پیٹرو نے پیزا کا سلائس کھاتے ہوئے پوچھا۔
“پوچھو۔”
یغوث نے ایک لفظی جواب دیا۔
سیاہ بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے۔ سفید شرٹ پر سرمئی کوٹ اور بلیو جینز پہنے وہ ایک پُرکشش نوجوان لگ رہا تھا۔
“ویسے تمہیں نہیں لگتا کہ تمہارا اور لیزا کا ریلیشن زیادہ دیر نہیں چل سکے گا؟”
یغوث نے آنکھیں سکیڑیں اور بھنویں سمیٹتے ہوئے کہا۔
“اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہمارا ریلیشن زیادہ نہیں چل پائے گا؟”
سوال کا جواب دینے کے بجائے اس نے الٹا سوال کر دیا۔
“وہ اس لیے کہ تم ایک مسلمان ہو اور وہ غیر مسلم ہے۔ اور تمہیں کیا لگتا ہے، کون اپنی محبت کے لیے اپنے مذہب کو قربان کرے گا؟”
پیٹرو نے تلخ مگر کڑوا سچ بیان کیا۔
پیزا کا آدھا سلائس پلیٹ میں پڑا ان دونوں کی گفتگو کا گواہ بنا ہوا تھا۔
وہ دونوں میز پر قدرے جھکے ہوئے آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے، کیونکہ اردگرد لوگوں کی موجودگی میں اتنی حساس بات اونچی آواز میں کرنا انہیں مناسب نہیں لگ رہا تھا۔
“لیزا دے گی میرے لیے اپنے مذہب کی قربانی۔”
یغوث کے لہجے میں اٹل یقین تھا۔
“اوہ، کم آن یغوث! وہ کیوں دے گی؟ تم بھی تو دے سکتے ہو۔”
“میں کیوں دوں قربانی؟”
وہ اکھڑے ہوئے لہجے میں بولا۔
“کیوں نہیں دے سکتے تم؟”
“میں نے اگر قربانی دے دی تو ڈیڈ مجھے گھر سے کیا، اس دنیا سے ہی نکال دیں گے۔ اور ویسے بھی لیزا کو دینی ہوگی، کیونکہ اگر وہ میرے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہے تو اسے سمجھوتہ کرنا ہوگا۔”
وہ خودپسندی سے بولا۔
پیٹرو نے ایک لمبی سانس خارج کی اور پھر اردگرد نظر ڈال کر دوبارہ یغوث کی طرف دیکھا، جو بے فکری سے پیزا کھانے میں مصروف تھا۔
“تم ایک لڑکے ہو کر نہیں دے سکتے اور وہ ایک لڑکی ہو کر دے گی؟ ویسے تمہاری بھی کیا بات ہے، یار۔”
اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔
یغوث نے جھکی نظریں اٹھائیں اور پیٹرو کی جانب دیکھ کر چبا چبا کر کہا۔
“اگر نہ بھی دے سکی وہ، تو پھر میں کوئی درمیان کا راستہ اختیار کروں گا۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ پھر منع نہیں کر سکے گی۔”
اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ ایک پل کے لیے پیٹرو کے دل میں بھی خوف پیدا ہوا، لیکن اگلے ہی لمحے اس نے خود کو سنبھالا اور دوبارہ پیزا کھانے لگا۔
جبکہ یغوث کے دل و دماغ میں اب صحیح معنوں میں جنگ چھڑ چکی تھی۔
پیزا شاپ میں آنے جانے والوں کا رش بڑھتا ہی جا رہا تھا۔
⭐⭐⭐
یغوث، لیزا اور پیٹرو تینوں ایک ہی یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس تھے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی ان کے پیپرز ختم ہوئے تھے، اس لیے وہ چند دنوں کے لیے فارغ تھے۔
اسی وجہ سے ان کا زیادہ تر وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزر رہا تھا۔ گھومنا پھرنا، پارٹی کرنا اور زندگی کو انجوائے کرنا، فی الحال ان کا یہی معمول تھا۔
جبکہ لیزا صبح کے وقت زیادہ تر گھر کے باغیچے میں باغبانی کرتی اور دوسرے وقت انسٹی ٹیوٹ جاتی تھی۔
⭐⭐⭐
“تم یہ کیا کر رہی ہو؟ اس طرح سے نہیں کی جاتی اداکاری، جس طرح سے تم کر رہی ہو۔”
عصر آفس میں چیئر پر بیٹھی ایکٹریس رینا سے غصے میں کہہ رہی تھی۔
“میڈم، سوری، مگر میں کرلوں گی۔”
رینا نے یقین دلاتے ہوئے کہا۔
عصر نے آنکھیں چھوٹی کیے رینا کو بغور دیکھا۔
“میں بتاؤں؟ تم پھر بھی نہیں کر سکو گی۔ جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ پچھلے تین دنوں سے ایک ہی سین بار بار کروایا جا رہا ہے، لیکن تم خود کو اداکاری کے اسٹیج سے زیادہ حقیقت کے اسٹیج پر سمجھ رہی ہو۔”
عصر کے معنی خیز جملے رینا کو اندر تک ہلا گئے۔
وہ ایک سینیئر اداکارہ تھی اور کئی پراجیکٹس میں جیکسن کی ہیروئن کا کردار ادا کر چکی تھی۔
رینا نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
“آپ غلط سوچ رہی ہیں، میڈم۔ آپ جانتی ہیں کہ جب بھی کوئی جذباتی سین آتا ہے تو اسے کرنے کے لیے خود کو حقیقت کے قریب لے جانا پڑتا ہے۔ اور یہ سب فطری ہے۔”
ایک اسٹائلش اور ٹاپ ہیروئن رینا نے کریم بلاؤز اور نیوی سوئٹر پہنا ہوا تھا۔ بالوں کو کرل کرکے آگے ڈالا ہوا تھا۔ بازو میں پتلی سی گھڑی اور ساتھ والی چیئر پر رکھا برانڈڈ بیگ اس کی شخصیت کو مزید نمایاں کر رہا تھا۔
گہرا میک اپ کیے وہ ایک جاذبِ نظر شخصیت لگ رہی تھی۔
عصر کے لبوں پر ایسی مسکراہٹ پھیلی جسے رینا سمجھ نہ سکی۔
“آپ مسکرا کیوں رہی ہیں؟”
اس نے جانتے ہوئے پوچھا۔
“میرے مسکرانے پر پابندی ہے کیا؟”
عصر نے الٹا سوال کر دیا۔
“نہیں، آپ مسکرا سکتی ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔”
لیکن رینا کو وہ مسکراہٹ زہر جیسی لگی۔
اسے عصر کبھی پسند نہیں تھی۔ وہ صرف اسے برداشت کرتی تھی، اور اس کی بھی ایک وجہ تھی۔ ورنہ وہ کبھی اسے منہ نہ لگاتی۔
“تم جانتی ہو، رینا، تم نے جو بات ابھی کہی ہے، اس میں ایک جھول ہے۔”
عصر آگے کو جھکی اور رینا کے چہرے کے تاثرات بغور دیکھنے لگی۔
“کیا مطلب؟ مجھے بھی تو پتا چلے کہ ایسا کون سا جھول ہے؟”
رینا مزے سے پوچھتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔
“ابھی تم نے کہا کہ خود کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے جذباتی ہونا پڑتا ہے۔”
“تو؟”
رینا نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“تو یہ کہ اداکاری میں اگر خود کو حقیقت کے قریب لانے کے لیے جذباتی ہونا پڑے تو اس کا وقتی اثر ہوتا ہے، جو سین ختم ہونے کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن تم پر جذبات کا اثر کچھ زیادہ ہی ہوجاتا ہے۔”
رینا کے گال پر ایک ہلکی سی لکیر ابھری۔ اس نے لبوں پر زبان پھیری اور پھر مسکرا کر بولی۔
“لگتا ہے آپ نے مجھ پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ کافی زیادہ جانتی ہیں؟”
عصر بھی عصر تھی۔ لفظوں سے مات دینا جانتی تھی۔
اگلے الفاظ جو اس نے کہے، وہ رینا کے لیے خاصے بھاری تھے۔
“تم جانتی ہو، تم کیا تھی اور اب کیا بن گئی ہو؟”
اس کا اشارہ رینا کے ڈریس سے لے کر برانڈڈ بیگ تک تھا۔
“کیا مطلب؟ کیا تھی میں؟”
“تم مجھ سے بہتر جانتی ہو کہ تم کیا تھی۔”
وہ رینا کی پچھلی زندگی پر طنز کرتے ہوئے اسے چبھ گئی۔
رینا نے ہاتھ کی مٹھی بھینچی۔ آنکھوں میں چھلکتے غصے کے ساتھ وہ بولی۔
“آپ شاید بھول گئیں کہ آپ ایک ایسی ڈائریکٹر تھیں جس کو کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ آپ کو یہ پہچان اور شہرت صرف میری اور جیکسن کی وجہ سے ملی۔ ورنہ آپ کی کوئی پہچان نہیں تھی۔”
لفظوں کے تیر برساتی ہوئی رینا نے بیگ اٹھایا اور جیسے ہی اٹھنے لگی، عصر کی آواز گونجی۔
“تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہیں یہاں تک پہنچانے والی میں ہوں، عصر ہاشمی۔ اور ایک بات یاد رکھو، اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ تم بھی جیکسن کی طرح یہ انڈسٹری چھوڑ کر جانا چاہتی ہو تو مت بھولو کہ میں تمہارا کیریئر پانچ منٹ کے اندر ختم کروا سکتی ہوں۔ اور تم سوائے ایک کیڑے کے اور کچھ نہیں رہو گی۔ اور۔۔۔”
اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“اور؟”
رینا نے ادھوری بات پکڑ لی۔
وہ بھی سننا چاہتی تھی کہ عصر کے دماغ میں کیا کچھ زہریلا بھرا ہوا تھا۔
“اور یہ کہ میری سلطنت تم اور جیکسن تباہ نہیں کر سکتے۔ تم دونوں نے یہاں تک پہنچایا ہے، تو اس کا حساب سود سمیت لوں گی۔”
اس نے وارننگ دیتے ہوئے کہا۔
“چاہتی کیا ہیں آپ مجھ سے؟”
“بس یہی کہ تم اپنے کام پر دھیان دو۔ اس انڈسٹری کو تمہارے اور جیکسن جیسے چہروں کی ضرورت ہے، اور تمہاری کامیابیاں اسی سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے حقیقت سے نکلو اور اپنے کام پر دھیان دو۔”
رینا نے مسکرا کر ایک نظر شیشے کی کھڑکی سے باہر نیچے پھیلے ایڈنبرا پر ڈالی اور پھر سینے پر ہاتھ باندھ کر عصر کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“اگر میں یہ نہ کروں تو؟”
“تو پھر آگے تم خود سمجھدار ہو، رینا ڈارلنگ۔”
“اوکے، چلتی ہوں۔”
وہ مختصر سا جواب دیتی ہوئی جیسے ہی دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھنے لگی، پیچھے سے عصر کی آواز آئی۔
“زندگی میں محبت کے علاوہ اور بھی بہت سے کام ہیں۔ اس لیے محبت سے زیادہ ان پر دھیان دو تو کامیاب کہلاؤ گی۔ اور ویسے بھی تمہاری توجہ کام پر نہ ہونے کی وجہ جانتی ہوں میں۔ اس لیے تمہارے فائدے کی بات ہے، یہ سب چھوڑو اور اپنے کیریئر پر فوکس کرو۔ یہ سب تمہارے لیے نہیں ہے۔”
آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو پیچھے دھکیلتی رینا دروازہ کھول کر باہر چلی گئی۔
اور عصر ہاشمی اپنے ہونٹوں پر پھیلی زہریلی مسکراہٹ کو ضبط کرتی ہوئی آگے کا لائحۂ عمل سوچنے لگی۔
رینا کو تو اس نے کنٹرول کر لیا تھا، لیکن وہ جیکسن الیگزینڈر کا کیا کرے؟
⭐⭐⭐
انسٹی ٹیوٹ سے چھٹی دو بجے ہوجاتی تھی اور اس کے بعد سیکنڈ ٹائم کی کلاسز لگتی تھیں، جو صرف چار بجے تک ہوتی تھیں۔
لیانا اور جولی دونوں ایک ساتھ ہی طلبہ کے جھرمٹ میں باہر نکلیں۔ دونوں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں، لیکن بولنے سے کتراتی رہی تھیں۔
پھر چلتے ہوئے جولی نے ہمت کرکے کہا۔
“سوری، لیانا۔ مجھے وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا۔”
اس نے لیانا کی طرف دیکھا، جو سامنے دیکھ رہی تھی۔
“سوری مت بولو، جولی۔ مجھے کہنا چاہیے تھا۔ غلطی میری ہے۔ مجھے تم سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔”
وہ دونوں تھوڑا آگے آکر رک گئی تھیں۔ آمنے سامنے کھڑے ہوکر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگیں۔
“نہیں یار، اگر میں تمہیں تنگ نہیں کرتی تو تم کبھی اس طرح ری ایکٹ نہیں کرتیں۔ میرے ہی اس طرح تمہیں تنگ کرنے پر تم نے اس طرح بات کی۔”
جولی شرمندہ ہوکر بولی۔
لیانا نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور محبت بھرے لہجے میں کہا۔
“وہ دوستی ہی کیا جس میں لڑائی جھگڑے کے بعد ایک دوسرے سے ناراضگی رکھی جائے۔”
“بالکل ٹھیک کہا تم نے، لیو۔”
جولی اسے پیار سے لیو کہتی تھی۔ خاص طور پر جب اسے اس پر زیادہ پیار آتا۔
دونوں مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے گلے ملیں اور پھر ساتھ چل دیں۔
جولی نے ڈرتے ہوئے پوچھا، مبادا پھر سے لیانا ناراض نہ ہوجائے۔
“لیانا، تم سچ میں واپس چلی جاؤ گی؟”
“مجھے واپس تو جانا ہی ہے، جولی۔ اور میری والدہ کا اصرار بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ میرا دل تمہیں چھوڑ کر جانے کا تو نہیں ہے، لیکن ایک دن مجھے جانا ہی ہے۔”
لیانا کا لہجہ دکھی ہوگیا۔
“اچھا، اداس نہ ہو۔ ابھی تو تم یہیں پر ہو، کہیں واپس نہیں جا رہیں۔ اور ویسے بھی ایک سال ہے۔ بہت کچھ ہوجاتا ہے ایک دن میں، یہ تو ایک سال کی بات ہے۔ ابھی بس یہ لمحے خوشی سے گزارتے ہیں۔”
جولی نے شاید اس سے زیادہ خود کو تسلی دی تھی۔
لیانا نے ماحول کی اداسی کم کرنے کے لیے بات بدلتے ہوئے کہا۔
“ویسے جولی، ہم کیسے کریں گے بیس پینٹنگز کا انتظام دو دن میں؟”
“میں ہوں نا۔ کچھ نہ کچھ ہوجائے گا۔ تم کل تیار رہنا۔ کل ویک اینڈ ہے تو چلیں گے بازار، پینٹنگز لینے۔ اوکے؟”
وہ دونوں چلتے ہوئے بس اسٹینڈ پر پہنچیں۔ وہاں پہلے سے ہی کئی طلبہ بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔
یہ بس عشاء نے طلبہ کی سہولت کے لیے لگوائی تھی، جس کا کرایہ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔
وہ دونوں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوگئیں۔
“کون سے بازار سے مل جائیں گی؟ مجھے بھی تو بتاؤ۔”
لیانا کے اصرار پر جولی نے اردگرد دیکھا، پھر اس کی طرف جھک کر کان میں دھیرے سے بولی۔
“چور بازار سے۔”
لیانا نے اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے جولی ہی چور بازار کی سردار ہو۔
“حیران مت ہو۔ میرے ساتھ رہ کر سب سیکھ جاؤ گی۔”
“تم نے مجھے یہ سب کیوں نہیں بتایا؟”
“اس لیے کہ تمہارے اندر جو انسانیت سے بھرپور روح ہے، وہ مجھے یہ سب نہیں کرنے دیتی۔ اس لیے نہیں بتایا۔”
جولی کی بھی اپنی منطق تھی۔
“اچھا۔۔۔ اور کب سے جاری ہے یہ سب کچھ؟”
“کافی عرصے سے۔ تمہیں یاد ہے، تم نے مجھ سے میرے نئے جوتوں کا پوچھا تھا اور میں نے کہا تھا کہ برانڈڈ ہیں، آرڈر کیے ہیں؟ دراصل وہ بھی اسی بازار سے لیے تھے۔”
“بدتمیز! مجھ سے جھوٹ بولا؟ دوست سے جھوٹ بولتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی؟”
لیانا نے اس کو بیگ مارا۔
“یار، اتنے زور سے نہ مارو۔ سب بتاؤں گی۔ اور تم کل تیار رہنا، ساتھ چلیں گے۔”
جولی کندھے کو سہلاتے ہوئے بولی۔
اتنے میں بس آگئی تھی اور پھر وہ دونوں جانے کے لیے قدم بڑھانے لگیں۔
⭐⭐⭐
الیگزینڈر صاحب اپنے کمرے میں موجود تھے۔ دروازہ بند کیے فون کان سے لگائے دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے، مبادا کوئی سن نہ لے۔
“میری بات کان کھول کر سنو۔ ابھی جو ہو رہا ہے، ہونے دو۔ بعد میں ہم مل کر اسے ٹھیک کر دیں گے۔”
وہ رکے، دوسری جانب کی آواز سنی اور دوبارہ بولے۔
“تمہاری بات ٹھیک ہے، لیکن کبھی کبھی بازی کھیلنے کے لیے جلدی نہیں کرتے، بلکہ دوسری جانب سے کھیل کھیلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ اور اپنا داؤ کھیل کر بازی الٹ دیتے ہیں۔”
انہوں نے گہری منطق پیش کی۔
وہ بار بار دروازے کی طرف محتاط نظروں سے دیکھ رہے تھے، مبادا کوئی آ نہ جائے۔
“وقت آنے پر تمہیں سب بتاؤں گا، لیکن ابھی کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ باقی اگلا لائحۂ عمل میں تمہیں بتا دوں گا۔ تم انتظار کرو۔”
یہ کہتے ساتھ ہی انہوں نے کال کاٹ دی۔
پھر پرسوچ نظروں سے موبائل کی بجھی ہوئی اسکرین کو دیکھتے رہے۔ صوفے پر بیٹھ گئے اور ان کے لبوں سے دھیمی آواز نکلی۔
“میں تمہارا بدلہ لوں گا، اور تمہاری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔”
ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
⭐⭐⭐
یہ اس وقت کی بات ہے جب جیکسن، لیزا سے چند دیر باتیں کرنے کے بعد اپنے کمرے میں واپس آگیا تھا۔
کمرے میں اسے گھٹن سی محسوس ہونے لگی تو وہ باہر لان میں چلا گیا۔ ٹہلتے ہوئے اس کے ذہن میں ڈیڈ کی باتیں گردش کر رہی تھیں۔
جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا، تب سے اس کی زندگی کی ڈور الیگزینڈر صاحب کے ہاتھ میں تھی۔ لیکن اب اس کی ہمت جواب دے چکی تھی۔ وہ اپنی مرضی سے جینا چاہتا تھا، اپنے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔
انہی سوچوں میں گم وہ لان میں ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر سامنے پورچ میں کھڑی کار کے پاس موجود میخائل، مینجر پر پڑی۔
اس کے چہرے پر غصہ نمودار ہوا۔ وہ تیز قدموں سے چلتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور کہا:
“اگر میں کہیں چلا جاتا ہوں تو اس کی خبر ڈیڈ کو نہ دیا کرو۔ آئندہ دی تو اچھا نہیں ہوگا۔”
اس نے ایک ایک لفظ باور کراتے ہوئے کہا۔
“سوری سر، مگر یہ میری ڈیوٹی ہے۔ اور آپ کی ہر بات ان تک پہنچانا میرے فرائض میں شامل ہے۔”
میخائل نے روبوٹک انداز میں جواب دیا۔
“اچھا۔۔۔ اگر اتنا ہی شوق ہے انہیں بتانے کا تو بتاتے رہنا۔ مگر یہاں سے نوکری سے فارغ ہونے کے بعد سڑکوں کی خاک چھانتے ہوئے ہر بات سے آگاہ کرتے رہنا۔”
جیکسن نے انگلی اٹھا کر وارننگ دی۔
“سر، آپ مجھے جاب سے نہیں نکلوا سکتے، کیونکہ مجھے انڈسٹری اور الیگزینڈر صاحب کی طرف سے ہائر کیا گیا ہے۔”
میخائل نے سنجیدگی سے بات مکمل کی۔
جیکسن نے دانت کچکچاتے ہوئے اسے دیکھا، پھر غصے سے بولا:
“تم نے آئندہ میری کوئی بھی معلومات ڈیڈ یا عصر ہاشمی کو دی تو یاد رکھنا، تمہاری گردن ہوگی اور میرے ہاتھ۔”
غصے سے کہہ کر وہ وہاں سے چلا گیا۔
پیچھے میخائل اسی طرح کھڑا اس کی پشت کو دیکھتا رہا۔
جیکسن غصے سے پھولے ناک کے ساتھ لان کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظریں بالکونی میں کھڑی لیزا پر پڑیں، جو موبائل پر مسکراتے ہوئے کسی سے بات کر رہی تھی۔
جیکسن نے چند لمحے اس کی مسکراہٹ کو دیکھا، پھر موبائل نکالا اور جون کو کال ملانے لگا۔
البتہ لیزا نے اسے نہیں دیکھا تھا۔
⭐⭐⭐
ہاشمی ولاء
“بھابی، آپ آج کچن میں کیا کر رہی ہیں؟”
گل مہر ہاشمی کچن میں کھڑی مکس سبزیاں پکا رہی تھیں۔
“کچھ خاص نہیں۔ بس عشاء کا ابھی کچھ دیر پہلے فون آیا تھا کہ اسے مکس سبزیاں کھانی ہیں، وہ بھی میرے ہاتھ کی بنی ہوئی۔ تو وہی بنا رہی ہوں۔”
انہوں نے مسکرا کر چمچ ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
توصیف ہاشمی کی بیوی، فردوس ہاشمی، کچن میں ملازمہ کو کچھ ضروری کام بتانے آئی تھیں۔ سامنے گل مہر ہاشمی کو دیکھا تو ان سے گفتگو میں مصروف ہوگئیں۔
کچن خاصا خوبصورت اور بڑا تھا، جس میں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔
“اچھا۔۔۔ آج وہ جلدی گھر آرہی ہے کیا؟”
نہ جانے وہ کیا جاننا چاہ رہی تھیں۔
فردوس بھی شخصیت میں ان سے کم نہ تھیں۔ کھلے ٹراؤزر اور سوئٹر میں کافی فیشن ایبل لگ رہی تھیں اور خود کو سنوار کر رکھنے والی خاتون تھیں۔
“یہ تو نہیں معلوم۔ لیکن میری عشاء نے کافی عرصے بعد کسی چیز کی خواہش کی ہے، تو اسے پورا کرنا تو بنتا ہے۔”
گل مہر نے سبزیاں چلاتے ہوئے کہا۔
“بھابھی، آپ بےکار ہی محنت کر رہی ہیں۔ وہ نہیں کھائے گی۔ ہمیشہ کی طرح سب کے ساتھ بیٹھ کر آپ دیکھ لیجیے گا۔”
فردوس نے کہا۔
“وہ کھائے گی۔ میں جانتی ہوں۔ اور سب کو اس کی پرواہ نہ ہو، لیکن مجھے ہے، بھابھی۔”
گل مہر نے یقین سے کہا۔
“ویسے بھابھی، کوئی پابندی تو نہیں تھی۔ اس نے خود ہی سب سے منہ موڑ لیا، تو باقی کوئی کیا کرسکتا ہے؟”
فردوس نے ٹوکری میں سے ایک سیب اٹھایا اور ایک بائٹ لیتے ہوئے کہا۔
“فردوس، تم جانتی ہو اس پر کیا گزری ہے، بلکہ ہم سب پر کیا گزری ہے۔ اور تم پھر بھی اس طرح بات کر رہی ہو جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔”
گل مہر ہاشمی نہ چاہتے ہوئے بھی شکوہ کر گئیں۔
سبزیاں تیار ہوچکی تھیں۔ انہوں نے برتن ڈھانپا اور فردوس کے پاس آکر کرسی پر بیٹھ گئیں۔ پھر جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا اور پینے لگیں۔
“بھابی، سو آنے کی ایک بات ہے۔ اس حادثے کو کافی عرصہ گزر چکا ہے، لیکن عشاء خود ہی اس سب سے نہیں نکلنا چاہتی تو باقیوں کا قصور نہیں ہے۔ اور ویسے بھی آپ کی دو اولادیں اور بھی ہیں۔ ان پر بھی دھیان دے دیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں پچھتاتی پھریں۔”
فردوس نے بات مکمل کی اور اٹھنے لگیں تو گل مہر نے انہیں روک لیا۔
“تمہاری اس بات سے کیا مطلب ہے، فردوس؟ کہ میں اپنی اولاد پر توجہ نہیں دیتی؟ اگر میں نہیں دیتی تو تم کتنی توجہ دیتی ہو اپنے بچوں پر؟ کبھی ان پر غور کرو کہ وہ کیا کچھ کر رہے ہیں، جسے ڈھانپنے کے لیے ادیب اور توصیف بھائی خوار ہوتے پھر رہے ہیں۔”
وہ بھی گل مہر ہاشمی تھیں۔ لفظوں سے مات دینا جانتی تھیں۔
فردوس کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی۔ وہ لال بھبھوکا چہرہ لیے غصے سے گل مہر کو گھورتی ہوئی وہاں سے نکل گئیں۔
جبکہ پیچھے گل مہر ہاشمی کرسی پر بیٹھی آج رات عشاء سے شادی کے موضوع پر بات کرنے کا سوچنے لگیں۔
لیکن دماغ میں ابھی تازہ ہوئی دیورانی سے بحث بھی چل رہی تھی۔
وہ جانتی تھیں کہ فردوس ان کے بچوں کو پسند نہیں کرتی تھیں، خاص طور پر عشاء کو۔
⭐⭐⭐
روز اسٹریٹ، ایڈنبرا
جہاں ابھی کچھ دیر پہلے ہمارے دو کردار پیزا کھا کر جا چکے تھے۔
جولی انسٹی ٹیوٹ سے واپسی پر سیدھی گھر چلی گئی تھی، جبکہ لیانا پیزا شاپ پر آگئی تھی۔
وہ پہلے ایک چائے خانے میں جاب کرتی تھی، لیکن پچھلے کچھ عرصے سے اس کی جاب یہاں لگ گئی تھی۔
وہ یہاں ویٹریس کی حیثیت سے کام کرتی تھی، جس سے اپنا خرچا اور گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتی تھی۔
لیانا یونیفارم تبدیل کرکے ویٹریس کا لباس پہن چکی تھی اور اب آرڈرز سرو کر رہی تھی۔
ایک میز پر شادی شدہ جوڑا بیٹھا تھا۔ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے جا رہے تھے۔
لیانا ان کی ٹیبل تک پہنچی اور ایک نظر ان دونوں پر ڈالنے کے بعد پیزا اور ڈرنکس رکھنے لگی۔
دونوں نے اسے نظر انداز کیے رکھا اور اپنی ہی دنیا میں مصروف رہے۔
جیسے ہی لیانا نے ڈرنکس کے گلاس درمیان میں رکھے، غلطی سے اس کے ہاتھ سے ایک گلاس چھلک گیا اور سرخ مائع ٹیبل پر پھیل گیا۔
وہ دونوں گلاس کے ٹکرانے کی آواز سے چونکے۔
لڑکی نے ٹیبل پر پھیلا ہوا سرخ مائع دیکھا جو اس کے ڈریس پر بھی گر چکا تھا، تو وہ غصے سے کھول اٹھی۔
لیانا تو ڈر کے مارے فوراً ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر میز صاف کرنے لگی تھی کہ اچانک وہ لڑکی اٹھ کھڑی ہوئی اور لیانا کے چہرے پر زور سے تھپڑ مار دیا۔
پورے پیزا شاپ میں یکدم خاموشی چھا گئی۔
لڑکا فوراً اسے کنٹرول کرنے لگا، جبکہ وہ اپنا برانڈڈ ڈریس خراب ہونے پر غصے سے بے قابو ہو رہی تھی۔
“یو لٹل گھٹیا لڑکی! تم نے میرا سارا ڈریس خراب کر دیا!”
لیانا لبوں پر ہاتھ رکھے سسکی دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔ سب کے سامنے اپنی بےعزتی پر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
اتنے میں مینجر آگیا اور معاملہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا:
“سوری میڈم، ہمارے ورکر سے غلطی ہوگئی۔ ہم معذرت خواہ ہیں۔”
“اٹس اوکے، مینجر صاحب، کوئی بات نہیں۔”
لڑکے نے معاملہ سنبھالتے ہوئے کہا۔
“کیسے کوئی بات نہیں، سمنان؟ تم جانتے ہو اس نے ہمارا اتنا پیارا لمحہ خراب کر دیا!”
وہ اب بھی سنبھلنے کو تیار نہیں تھی۔
“دیکھو میرب، تم غصہ مت کرو۔ بات ایک ڈریس کی ہے، وہ میں تمہیں لے دوں گا۔ ابھی چلو اور ختم کرو یہ سب۔”
اس نے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے سمجھایا۔
مینجر نے لیانا کو غصے سے گھورا اور اشارہ کیا کہ وہ معذرت کرے۔
لیانا نے سسکی دباتے ہوئے ہمت مجتمع کی اور لب کھولے۔
“سوری سر اور میڈم۔ غلطی سے ہوگیا یہ سب۔ جان بوجھ کر نہیں کیا میں نے۔ مجھ سے غلطی ہوگئی، معاف کردیں۔”
“کوئی بات نہیں۔ آئندہ خیال رکھیے گا۔”
سمنان نے نرمی سے جواب دیا۔
پھر اس نے میرب کا بیگ اٹھایا، مینجر سے مختصر سی بات کی اور دونوں وہاں سے چلے گئے۔
ان کے جانے کے بعد مینجر نے لیانا کو خوب سنائیں اور تلقین کی کہ آئندہ ایسا ہوا تو اسے جاب سے نکال دیا جائے گا۔
لیانا دونوں ہاتھ لبوں پر جمائے کاؤنٹر کے پیچھے بنے روم میں چلی گئی۔
⭐⭐⭐
جس وقت یہ سب چل رہا تھا، پیٹرو جو ساتھ والی شاپ پر جاب کرتا تھا، کچھ ضروری سامان دینے کی غرض سے وہاں آیا تھا۔
اس نے یہ سب دیکھا۔
پھول جیسے چہرے پر پھیلے آنسو دیکھ کر اس کا دل ایک بار پھر ان نم آنکھوں میں اٹک گیا۔
وہ یہاں جاب صرف لیانا کی وجہ سے کر رہا تھا، ورنہ اسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔
یغوث کے ساتھ لیزا سے ملنے کے بعد جب وہ وہاں سے نکلا تھا تو اپنی جاب پر چلا گیا تھا۔
اور اب شاپ کے دروازے کے باہر کھڑے ہوکر جب اس نے لیانا کو روتے دیکھا تو اس کا دل پھر اس کے لیے بےچین ہوگیا۔
چند لمحے وہ وہیں کھڑا رہا۔
پھر سامان دیے بغیر واپس چلا گیا۔
⭐⭐⭐
جب وہ دونوں پیزا ریسٹورنٹ سے نکلے اور اپنی کار کی طرف بڑھنے لگے تو میرب نے کہا:
“سمنان، تم ایسے کیسے کر سکتے ہو؟”
“کیا کیا ہے میں نے؟ مجھے بتاؤ ذرا۔”
اس نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کر دیا۔
“تم نے اس لڑکی کو کچھ کہا کیوں نہیں؟ اس نے میرا سارا ڈریس خراب کر دیا اور تم نے اتنی آسانی سے اسے جانے دیا۔”
وہ دونوں ہجوم کو چیرتے ہوئے کار کی طرف بڑھ رہے تھے، جو چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی تھی۔
“ارے یار، چھوڑو۔ اس جیسے ہزاروں ڈریسز دلا سکتا ہوں میں تمہیں۔”
اس کا لہجہ محبت بھرا ہوگیا۔
“میں ابھی مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں، تو یہ سب بند کرو۔ آئی سمجھ؟”
دونوں کار تک پہنچے۔ سمنان نے پہلے میرب کے لیے دروازہ کھولا۔ میرب کے بیٹھنے کے بعد وہ دوسری جانب سے گھوم کر آیا اور خود بھی گاڑی میں بیٹھ گیا۔
پھر میرب کی طرف مڑ کر اس کے سفید مخملی ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا:
“میں جانتا ہوں، غصہ تمہیں اس بات کا نہیں ہے کہ اس نے تمہارا ڈریس خراب کر دیا، بلکہ اس بات کا ہے کہ اس نے ہمارا لمحہ خراب کر دیا۔”
وہ میرب کی طرف دیکھتے ہوئے بات مکمل کر چکا تھا۔
میرب جو سامنے دیکھ رہی تھی، سمنان کے اس طرح اس کا دل پڑھ لینے پر نظریں جھکا گئی۔
اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی کہ اتنی بولڈ مائنڈ لڑکی بھی شرما گئی تھی۔
“شرما رہی ہو؟ میری محبوب بیوی، میرب ہاشمی۔”
“میں کوئی شرماتی نہیں ہوں، سمنان۔”
وہ اس کی طرف دیکھ کر نخرے سے بولی۔
“اچھا۔۔۔ تو ابھی کیا تھا یہ سب؟”
“وہ تو میں سوچ رہی تھی کہ تم میرے دل کا حال کیسے پڑھ لیتے ہو؟”
“جن سے محبت ہو، ان کے دل کا حال پڑھ لیتے ہیں۔ اور تم تو میری من چاہی بیوی ہو۔ پھر تمہارے دل کا حال تم سے پہلے میں جان لیتا ہوں۔”
“مجھے بہت فخر ہے کہ تم میرے شوہر ہو، اور میرے مرد ہو۔ میں بہت خوش قسمت ہوں، سمنان۔”
وہ دھیرے سے کہتے ہوئے اس کے کندھے پر سر رکھ گئی۔
سمنان نے اس کا ہاتھ تھاما اور اس کے کھلے ریشمی بالوں پر چہرہ رکھ دیا۔
“ویسے سمنان، تم نے اس لڑکی کو ڈانٹا ہوتا تو اسے سبق مل جاتا۔”
ابھی بھی اس کی سوچ وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
سمنان نے چہرہ اٹھایا تو میرب نے بھی سر اٹھا لیا اور اس کی طرف دیکھنے لگی۔
“دیکھو، اس سے غلطی سے جو بھی ہوا، ہوا۔ ویسے بھی اس نے سوری بول دیا تو بات ختم۔ اور وہ غریب ہے۔ اگر اس کی جاب چلی جاتی تو مشکل سے اسے دوسری جاب ملتی۔ تم غصہ تھوک دو اور بس ہم پر فوکس کرو۔”
آخر میں اس کا لہجہ شرارتی ہوگیا۔
میرب نے مسکراہٹ اچھالی تو سمنان نے محبت سے اس کے گال پر ہاتھ رکھا۔
پھر گاڑی اسٹارٹ کی اور دونوں وہاں سے روانہ ہوگئے۔
⭐⭐⭐
سیکنڈ ٹائم انسٹی ٹیوٹ میں کلاس لینے آنے والے طلبہ میں لیزا الیگزینڈر بھی تھی۔
صبح کے حلیے سے یکسر مختلف، وہ سیاہ یونیفارم میں ملبوس تھی اور بالوں کو جوڑے میں باندھے ہوئے تھی۔
وہ اپنا کام مکمل کرنے اور آرٹ کلاسز لینے کے بعد عشاء کے آفس کی طرف آئی تھی۔
عشاء نے اسے بلوایا تھا۔
اس نے دروازے پر ناک کیا، اندر سے اجازت ملنے پر داخل ہوئی تو عشاء کرسی پر بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی۔
“آؤ، لیزا۔ بیٹھو۔”
عشاء نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
لیزا نے مسکراتے ہوئے کرسی سنبھال لی۔
“جی میڈم، آپ نے بلوایا تھا۔ کوئی کام تھا آپ کو مجھ سے؟”
“یس، کام تو ہے، لیکن کچھ باتیں ہیں جو تم سے کرنی ہیں مجھے۔”
لیزا نے ناسمجھی سے بھنویں سکیڑیں۔
“جی، کیا باتیں کرنی تھیں آپ کو مجھ سے؟”
“لیزا، پریشان مت ہو۔ کوئی زیادہ سنجیدہ بات نہیں ہے۔ بس تمہاری آرٹ کے بارے میں تھا۔”
عشاء نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے پرسکون انداز میں کہا۔
“لیزا، تم نے جو پینٹنگ بنائی ہے، رنگوں کے امتزاج سے ایک روتی ہوئی لڑکی اور اسے بےدردی اور غصے سے دیکھتا ہوا ایک لڑکا۔۔۔ بہت عمدہ طریقے سے بیان کیے گئے ہیں۔ درد کی واضح عکاسی ہوتی ہے۔”
وہ ایک لمحے کے لیے رکی، لیزا کے چہرے پر بدلتے تاثرات کو غور سے دیکھا اور پھر بولی:
“یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب انسان خود اس درد کو محسوس کرے۔ تم نے بہت گہرائی اور باریک بینی سے اس کیفیت کو بیان کیا ہے۔ کیا میں جان سکتی ہوں کہ تم نے اتنی گہرائی سے اس غم کو کیسے محسوس کیا؟”
“جی میڈم، بس میں نے ایک مووی دیکھی تھی۔ اس میں یہی سین تھا، تو میں نے اس لڑکی کا درد دل پر محسوس کر لیا اور پھر بس اسے پینٹ کر دیا۔”
اس نے بات مکمل کرکے عشاء کے بولنے کا انتظار کیا۔
عشاء کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
“لیزا، مووی دیکھ کر اور اپنے ساتھ ہوئے درد کو محسوس کرکے اسے بیان کرنا بہت مختلف ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح تم نے یہ سب بیان کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو تم نے اس مووی کے درد کو اپنے ساتھ ملا کر محسوس کیا ہے، یا پھر سچ میں تم اس سین میں کھو گئی تھیں۔”
لیزا کے دل کے حال تک عشاء کا اس طرح پہنچ جانا اسے حیران کر گیا تھا۔
وہ دل کا حال کیسے پڑھ لیتی تھی؟
کیا وہ کوئی جادوگرنی تھی؟
لیزا نے دل ہی دل میں سوچا، پھر خود ہی اپنے خیال پر اسے جھٹک دیا۔
“نہیں میڈم، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بس مجھے خود نہیں پتا کہ میں نے وہ سب اتنی شدت سے کیسے محسوس کر لیا۔ سمجھ نہیں آئی، اور پھر اس طرح پینٹنگ میں اتار لیا۔”
“اوکے، ہوتا ہے کبھی کبھی۔ اور ہاں، بس اسی طرح اپنے کام پر فوکس رکھو تو ایک دن کامیاب ہوجاؤ گی۔”
عشاء نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا، پھر سنجیدگی سے بولی:
“لیکن ایک بات یاد رکھنا، کبھی جذبات کو خود پر زیادہ حاوی مت ہونے دینا۔ ورنہ بعد میں پہلے جیسا کچھ نہیں رہتا۔”
عشاء نے بات سمجھاتے ہوئے اسے جانے کا اشارہ کیا تو لیزا اٹھ کھڑی ہوئی۔
“جی میڈم، میں آپ کی بات پر عمل کروں گی۔”
وہ آفس کا دروازہ کھول کر باہر چلی گئی۔
عشاء نے ایک نظر گھڑی پر ڈالی۔ چھٹی ہونے میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی تھا۔
باہر ایڈنبرا میں سردی کے موسم کے باعث شام کے سائے پھیلنے لگے تھے۔
⭐⭐⭐
لیانا پیزا ریسٹورنٹ سے باہر نکلی اور تھوڑا سا آگے گئی تھی کہ پیچھے دائیں جانب سے پیٹرو نے اسے آواز دی۔ وہ پلٹی اور ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔ وہ اسے پہلے بھی کئی بار دیکھ چکی تھی، لیکن آج اس طرح اس کے آواز دینے پر وہ رک گئی۔
پیٹرو چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور دو قدموں کے فاصلے پر رک گیا۔
“جی، آپ نے مجھے آواز کیوں دی؟” لیانا نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“وہ… میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا تھا۔”
“کیا بات کرنی تھی مجھ سے آپ کو؟” وہ جاننا چاہتی تھی کہ وہ کیا بات کرنا چاہ رہا تھا۔
“آپ اگر چاہیں تو میں آپ کو اپنے کافی شاپ میں جاب دلوا سکتا ہوں۔” اس نے دھیرے سے لیانا کو دیکھتے ہوئے بات مکمل کی۔
شام کے سائے آہستہ آہستہ گہرے ہو رہے تھے۔ لوگوں کا رش کم ہو رہا تھا، البتہ اب پولس اسٹریٹ روشن ہو گئی تھی۔ دکانوں میں لائٹس بھی آن کر دی گئی تھیں۔
“میں آپ کی فیور کیوں لوں گی؟” اس نے تیکھے انداز میں جواب دیا۔
“وہ اس لیے کہ آج آپ کے ساتھ ریسٹورنٹ میں جو کچھ ہوا، وہ میں نے دیکھا تھا۔”
“آج کوئی منحوس دن تھا، جو صبح سے بے عزتی ہو رہی ہے۔” وہ بس دل ہی میں سوچ سکی۔
خود کو سنبھالا اور جواب دیا:
“کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ اس طرح کی جاب میں یہ سب ہوتا رہتا ہے۔ آپ اپنے کام سے کام رکھیے اور میری فکر مت کریں، آئی سمجھ؟”
“میں تو بس آپ کی مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔” اس نے جلدی سے وضاحت دی۔
“میں نے مانگی آپ سے مدد؟ نہیں نا! تو پھر آپ کو کیا ضرورت پڑی ہے میری مدد کرنے کی؟ اور ہاں، آئندہ مجھے اس طرح مت بلانا، ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔”
انگلی اٹھا کر وارن کرتی ہوئی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتی آگے بڑھ گئی۔
پیٹرو اسے جاتا دیکھتا رہا۔
“کاش تم سمجھ پاتی، پیٹرو کے دل کا حال۔”
⭐⭐⭐
جہانزیب ہیڈکوارٹرز
دیان آفس میں بیٹھا سوچوں میں گم سگار سلگائے جا رہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے ایک ہی چہرہ تھا، اور اس چہرے کے لبوں سے نکلے الفاظ زخم خوردہ بھی تھے تو مرہم بھی۔
ورکر جا چکے تھے۔ صرف جوف اور مینوئل موجود تھے۔
وہ دونوں باہر کا جائزہ لے کر آفس میں داخل ہوئے تو اندر دھواں ہی دھواں تھا۔ مینوئل نے جلدی سے آگے بڑھ کر کھڑکی کے پٹ کھول دیے اور گھوم کر دیان کی طرف آیا۔ اس کے ہاتھ سے سگار لے کر ایش ٹرے میں ڈال دیا۔
جبکہ جوف خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
“یہ کیا کر رہے ہو تم؟” مینوئل غصے سے بولا۔
“کچھ نہیں، دل کیا تو سلگا لی۔” اس نے مزے سے جواب دے کر مینوئل کا پارہ مزید چڑھا دیا۔
“آخر تم اسے دل سے نکال کیوں نہیں دیتے؟”
“دل ہے ہی کہاں میرے پاس؟ یہ تو ایک پتھر ہے جو بس سینے میں ہے۔ یہ نہیں ٹوٹے گا۔”
“دیان، تم کب سنجیدہ ہوگے؟ ہاں؟ تم اتنے بڑے ہیڈکوارٹرز کے مالک ہو۔ اس طرح یہ سب تمہیں زیب نہیں دیتا۔” اس کا انداز سمجھانے والا تھا۔
جوف ہاتھ باندھے روبوٹ کی طرح ایک طرف کھڑا تھا۔
“میں جانتا ہوں۔ کچھ اور بتاؤ؟” اس کا انداز پرسکون اور چبھنے والا تھا۔
مینوئل نے خود پر ضبط کیا اور کہا:
“دیکھو دیان، تم اس سب سے نکلو اور میری بات سنو۔ ہمارے سسٹم میں کچھ خرابی کر دی گئی ہے، آسٹریلیا والی برانچ میں۔۔۔”
دیان نے اس کی بات کاٹ دی۔
“جانتا ہوں، اور سب چیزوں پر میری عقاب جیسی نظر ہوتی ہے۔ مجھے یہ سب تم سے پہلے ہی پتا چل جاتا ہے۔”
“اچھا؟ اور پھر بھی اتنے مزے سے بیٹھے فضول چیزیں سوچ رہے ہو؟” اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔
“میں دل سے نہیں، دماغ سے سوچتا ہوں۔ اور میں دیان جہانزیب ہوں، جو وقت آنے پر بازی اپنے ہاتھ میں لے کر اسے الٹ دیتا ہے۔ میں پہلے ہی کچھ لائحۂ عمل بنا چکا ہوں۔ تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔”
مینوئل نے سرسری نظروں سے جوف کی طرف دیکھا، جس نے کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
جوف کی نظروں کے آگے ابھی دو گھنٹے پہلے کا منظر چھا گیا اور مینوئل جیسے اس کے سامنے سے غائب ہو گیا۔
دو گھنٹے پہلے
“سر، مجھے آپ کو انفارم کرنا تھا کہ ہماری آسٹریلیا کی برانچ میں سسٹم ہیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔”
“یہ چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ تم نے کیا لیا ہے اب تک؟” دیان نے سوال پوچھتے ہوئے کہا۔
“سر، ابھی میں نے اور میری ٹیم نے کچھ نہیں کیا۔ ہم اس کے اگلے وار کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر اس کے بعد وار کریں گے۔” سیدھا اور کھرا جواب تھا۔
“عمدہ، لیکن تم ایک بات بھول گئے ہو کہ دشمن کو پہلے وار کرنے دیتے ہیں۔ جب اسے لگے کہ وہ جیت گیا تو پھر بازی پلٹتی ہے۔ مطلب میدان بھی ہمارا اور جیت بھی ہماری۔” وہ کھڑکی کے پاس کھڑا باہر دیکھتے ہوئے بولا۔
جوف میز کے پاس کھڑا لیپ ٹاپ پر کچھ ویڈیوز دیکھ رہا تھا۔ گاہے بگاہے وہ بھی ان کی طرف دیکھ لیتا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے، جوف؟ کون ہوگا جو دیان جہانزیب کے تخت کو گرانا چاہتا ہے؟”
“سر، کوئی ایسا شخص جو آپ کو کامیاب دیکھ کر اپنے اس تخت کو، جو پہلے ہی گرا ہوا ہے، مزید گرتے ہوئے نہیں دیکھ پا رہا۔”
دیان مسکرا کر پلٹا اور جوف کو دیکھا، جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“مجھے تمہاری یہی بات بہت پسند ہے، جوف، کہ تم ہمیشہ وہ کرتے ہو جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔ تمہارے ہوتے ہوئے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔”
“شکریہ باس، آپ کے لیے تو جان بھی قربان۔”
“ہمم۔ تم صرف ابھی اس چھپے دشمن کو وار کرنے دو۔ پھر جب اسے لگے کہ میدان اس کا ہے تو بازی پلٹ کر اسے بے نقاب کر دینا ہے۔ ابھی بس اس کی کمزوری کو پکڑو، پھر کھیل کھیلنے میں مزہ آئے گا۔”
اس کے لہجے میں ایک انوکھی پراسراریت تھی، جسے جوف سمجھ نہیں پایا۔
منظر ختم
“دیان، تم میرے دوست ہو یا اس کل کے آئے بچے کے؟” مینوئل کے لہجے میں شکوہ در آیا۔
“اوہ، کم آن مینوئل! تم بچوں جیسی باتیں نہ کرو، اور جو اس وقت سنجیدہ مسئلہ ہے، اس پر فوکس کرو بس۔”
دوٹوک انداز میں کہہ کر اس نے حکم صادر کیا۔
“میں چاہتا ہوں، دیان، کہ یہ جو کوئی بھی ہے، اسے پیغام دیتے ہیں کہ سامنے سے۔۔۔”
ابھی وہ بات مکمل نہیں کر پایا تھا کہ دیان نے اس کی بات کاٹ دی۔
“ہم اسے پیغام دیں اور وہ سمجھے کہ ہم اس سے ڈر گئے ہیں اور وہ ہمیں بزدل سمجھے؟”
“میں یہ نہیں کہہ رہا۔ میں کہہ رہا ہوں کہ اسے ایک پیغام دے کر واضح کریں کہ وہ یہ گیم نہ کھیلے، ورنہ یہ اس کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔”
“بالکل نہیں۔ دشمن کو بتا کر نہیں، بلکہ اسے یقین دلاتے ہیں کہ وہ جیت گیا ہے۔ تب اس کے کھیل کو اسی پر پلٹتے ہیں، مینوئل۔”
مینوئل خاموش ہو گیا۔ اسے دیان کی بات سمجھ آ گئی تھی۔
اس نے ایک نظر جوف پر ڈالی، جو روبوٹ کی طرح میز پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔
دیان کرسی سے اٹھا اور کھڑکی سے باہر نیچے پھیلے ایڈنبرا کے اندھیرے کو دیکھنے لگا۔
⭐⭐⭐
عشاء انسٹیٹوٹ سے گھر کی طرف آئی تو راستے میں اسے کئی بار محسوس ہوا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ لیکن پھر اس نے کار ایک جگہ روک کر اردگرد دیکھا۔ کوئی بھی نہیں تھا۔
وہ واپس کار چلا کر چل پڑی، لیکن دل و دماغ میں یہی بات اٹک گئی کہ کوئی تو تھا۔ لیکن کون؟
پھر اس نے اسے وہم سمجھ کر جھٹک دیا۔
⭐⭐⭐
اس سے پیچھے ایک کار میں ایک شخص ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا، سیاہ لباس میں، عشاء کا پیچھا کر رہا تھا۔ جب اسے لگا کہ عشاء سمجھ چکی ہے کہ کوئی اس کے پیچھے ہے تو اس نے کار روک دی اور اسے جاتا دیکھتا رہا، یہاں تک کہ اس کی کار نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
اس کی سیاہ نقاب میں لپٹی سیاہ آنکھیں واضح تھیں۔
“کاش۔۔۔ کاش ہم تمہیں بتا سکتے، بارش میں روتی لڑکی۔”
لہجہ سنجیدہ اور ٹوٹا ہوا تھا۔
اس نے کار اسٹارٹ کی اور چلتا بنا۔
⭐⭐⭐
ہاشمی ولاء
جس وقت وہ گھر پہنچی، تب اندھیرا پھیل چکا تھا۔
اس نے کار کا دروازہ کھولتے ہی اسے اندر پورچ میں پارک کیا۔ سیٹ بیلٹ کھولی، بیگ کار میں ہی چھوڑا اور باہر نکل آئی۔ موبائل کوٹ کی جیب میں ڈال رکھا تھا۔
ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی تو اس نے چہرہ اوپر اٹھایا۔ وہ محسوس کرنا چاہتی تھی ہوا کو۔
لیکن اس کی نظریں اوپری منزل پر شیشے کے پار کھڑے سمنان اور اس کی بیوی میرب پر جا ٹھہریں۔
وہ چند لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر میرب نے نفرت سے منہ موڑ لیا، جبکہ سمنان نے دھیمی سی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی۔
عشاء نے بھی پھیکی سی مسکراہٹ دی اور دو قدم چلتے ہوئے میری بلاسم کے درخت کے نیچے لگے جھولے پر بیٹھ گئی۔
جھولے پر بیٹھتے ہی اس نے گردن کو دائیں بائیں دونوں جانب تھوڑا سا گھمایا اور دونوں ہاتھوں سے دبانے لگی۔ سارا دن کام کرنے کی وجہ سے گردن اکڑ سی گئی تھی۔
اچانک گھر کا اندرونی دروازہ کھلا اور ایک لڑکی باہر نکلی، جس نے خود کو سردی سے بچانے کے لیے اچھی طرح ڈھانپا ہوا تھا۔
عشاء نے اسے نہیں دیکھا تھا۔ وہ چلتی ہوئی آئی اور اس کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔
عشاء نے اس کی موجودگی محسوس کرکے سر اٹھایا تو وہ لڑکی مسکرائی۔
عشاء نے اسے دیکھ کر خاص ردِعمل نہیں دیا۔
وہ چلتی ہوئی اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی۔
“تھک گئی ہیں؟” اس نے عشاء کی طرف دیکھ کر نرم لہجے میں کہا۔
“وقتی تھکن ہے، اتر جائے گی۔” مختصر جواب تھا۔
“آپ برا نہ مانیں تو دبا دوں؟” اس نے مدد کرنی چاہی۔
“نو، تھینک یو۔” دوٹوک انداز میں جواب دیا۔
ٹھنڈی ہوا ان کے چہروں سے ٹکرا رہی تھی۔ اس لڑکی نے مفلر کو چہرے کے گرد لپیٹ لیا۔
“آپ مجھ سے ناراض ہیں؟”
“شائل، تم بس زیادہ سوال نہ پوچھا کرو۔” اس نے بیزاری سے جواب دیا۔
“میں سوال پوچھ نہیں رہی، صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ آپ کی مدد کر دوں، گردن دبانے میں۔”
“نہیں، اور میں خود کے لیے خود کافی ہوں۔”
عشاء کا چہرہ سپاٹ تھا۔
شائل خاموش ہو گئی۔ پھر آہستہ سے بولی:
“آپ مجھ سے ناراض ہیں، میں جانتی ہوں۔ میں نے آپ سے بدتمیزی کی تھی، اور بہت زیادہ کی تھی۔ آئی ایم سوری، آپی۔”
اس کے لہجے میں ندامت تھی۔
عشاء نے گہری سانس لی۔ چند لمحوں بعد وہ بولی:
“ایک بات یاد رکھنا، شائل! میں رویے اور نفرت سے بھرے لہجے نہیں بھولا کرتی۔ میں جب ناراض ہو جاؤں تو منایا نہیں کرتی اور نہ ہی اتنی آسانی سے معاف کرتی ہوں، کیونکہ مجھے غلط باتیں بالکل پسند نہیں۔”
سنجیدگی سے کہہ کر اس نے شائل کو خاموش کرا دیا۔
شائل خاموش ہو گئی اور پھر اٹھ کر اندر کی جانب چلی گئی۔
پیچھے عشاء اسے جاتا دیکھتی رہی۔ پھر جھولے پر سر پیچھے کی جانب گرائے، آنکھیں بند کیے جھولا جھولنے لگی۔
⭐⭐⭐
اوپری منزل پر شیشے کے پار کھڑے سمنان اور اس کی بیوی میرب چائے کے کپ تھامے باتیں کر رہے تھے۔
جب عشاء کی کار اندر داخل ہوئی تو ان کی نظریں اس کی جانب اٹھیں۔ وہ کار سے باہر نکلی اور جب اس نے یونہی چہرہ موڑا تو اس کی نظریں میرب سے ٹکرا گئیں۔
ان نظروں میں میرب کو چاہ کر بھی کوئی جذبہ نظر نہ آیا، پھر میرب نے نفرت سے منہ موڑ لیا۔
سمنان نے دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ میرب کی طرف دیکھا، جو اپنا غصہ ضبط کر رہی تھی۔
“میرو، تم یہ غصہ تھوک دو اور چائے پیو۔”
“تم بتاؤ سمنان، کیسے میں چائے پیوں جبکہ میں نے اس انسان کو دیکھ لیا جسے دیکھ کر مجھے چائے بھی کڑوی لگ رہی ہے۔”
میرب نے چائے کا کپ زور سے میز پر پٹخا، جس سے کچھ چائے کے قطرے کپ سے چھلک کر میز پر گر گئے۔
سمنان نے اپنا کپ میز پر رکھا اور اسے دونوں کندھوں سے تھام کر صوفے پر بٹھایا۔ پھر اس کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔
“دیکھو، میرو، نفرت کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ انسان خود کو ہی جلاتا رہتا ہے۔ اور وہ تو تمہاری دوست ہے نا؟” آخر میں تصدیق چاہی۔
میرب کی نظریں لان میں گئیں، جہاں اب شائل عشاء کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ پھر اس کی نظریں سمنان کی جانب اٹھیں۔
“وہ میری دوست نہیں ہے۔ وہ صرف رومی کی دوست تھی۔” میرب نے باور کرایا۔
“وہ تمہارے ساتھ بچپن میں ہوتی تھی۔ وہ تمہاری دوست تو بچپن سے تھی نا؟”
“نہیں، کبھی نہیں تھی وہ میری دوست۔ جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ مجھے اس کے ساتھ دوستی رکھنی پڑی، کیونکہ مجھے اس سے آگے جانا تھا، ہر چیز میں۔ لیکن یہ مجھ سے آگے رہ کر سب کے دل جیت لیتی تھی اور مجھے ڈی گریڈ کر دیا اس نے۔ ہمیشہ مجھے عشاء کے ساتھ ملایا گیا اور مجھے اس کی وجہ سے بچپن سے اب تک اس کی مثالیں سننی پڑیں۔”
اس کی آواز میں برسوں کا غصہ تھا۔
“میں اس سے نفرت کرتی ہوں۔ میرے ساتھ جو کچھ ہوا اور اب میرے بھائی دیان کے ساتھ جو کچھ کیا اس نے۔۔۔ میرے بھائی کا دل توڑ کر، رومی کو ہم سے الگ کر کے۔”
سالوں کا غبار تھا جو لاوا بن کر بہہ رہا تھا۔
سمنان نے اس کی ہر ایک بات تحمل سے سنی۔ پھر اس کے دونوں ہاتھ تھام کر بولا:
“تمہارے اندر جو بھی نفرت ہے، غصہ ہے، نکال دو۔ مجھ پر، کسی پر بھی۔ لیکن ایک بات یاد رکھو کہ غصہ انسان سے بہت کچھ غلط کروا دیتا ہے۔ اور تم، میرو، میں نہیں چاہتا کہ تم اس سب سے ہمارے خوب صورت رشتے کو خراب کرو۔ اس لیے چھوڑو یہ سب اور صرف ہمارے رشتے پر دھیان دو۔”
“نہیں چھوڑ سکتی، سمنان، کیونکہ یہ اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگی۔”
“میرو، تم نے یہ سب پہلے مجھے کیوں نہیں بتایا اور دل میں کیوں رکھا؟” سوال پوچھتے ہوئے اس کی نظریں میرب کے چہرے پر تھیں۔
“کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی۔”
“کیوں نہیں چاہتی تھی؟”
“کیونکہ مجھے وقت صحیح نہیں لگا۔”
“وہ کیوں؟”
“بس، میرب جب چاہتی ہے، یہ ہو تو وہ کرتی ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو وہ نہیں ہو سکتا۔”
اس کے لہجے میں غرور در آیا۔
سمنان نے مسکرا کر اس کے بالوں کی لٹ کو کان کے پیچھے کیا اور کہا:
“جو تم چاہو۔”
میرب کی نظریں لان میں بیٹھی عشاء پر گئیں، جہاں وہ اکیلی بیٹھی ہوئی تھی۔
⭐⭐⭐
دیان جہانزیب اپنے عالیشان گھر میں داخل ہوا تو لاؤنج میں موجود صوفے پر بیٹھی اس کی والدہ، نوشہ جہانزیب، اسی کا انتظار کر رہی تھیں۔
اس کی آہٹ محسوس کرکے انہوں نے سر موڑا تو نظریں دیان جہانزیب سے ملیں۔
وہ چلتا ہوا آیا اور ان کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔
“آ گئے تم۔” دھیمے لہجے میں محبت لبریز تھی۔
“جی، اور ابھی تک سوئی نہیں آپ؟”
لاؤنج میں خاموشی تھی۔ گھر میں ان کے علاوہ صرف اس کا چھوٹا بھائی حاد تھا، جو باہر گیا ہوا تھا۔
“تمہارا انتظار کر رہی تھی۔”
انہوں نے دیان کے ہاتھ کو دیکھا۔ خوب صورت مگر سخت ہاتھ۔
“میں نے کتنی بار کہا ہے کہ میرا انتظار نہ کیا کریں؟”
“لیکن مجھے تمہارا انتظار کرنا پسند ہے، میرے بیٹے۔”
دیان نے ان کی جانب دیکھا اور پھر سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا۔ ٹانگیں میز پر رکھ دیں۔
“آپ میرا انتظار نہ کیا کریں، کیونکہ اگر میں کبھی لوٹ کر نہیں آیا تو آپ کی امید ٹوٹ جائے گی۔”
لہجہ جذبات سے عاری تھا، جس میں سخت الفاظ کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
نوشہ جہانزیب کا دل دہل گیا۔ پہلے انہوں نے رومی کو کھویا تھا، اب دیان کو نہیں کھونا چاہتی تھیں۔
“ایسی باتیں میرا دل چھلنی کر دیتی ہیں۔ ایسی باتیں نہ کیا کرو۔” انہوں نے ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر کہا۔
“ایسی باتیں کرنی آتی ہیں مجھے، اور آپ کو عادی ہو جانا چاہیے تھا اب تک۔”
“دیان، تم مجھ سے اس طرح کب تک بات کرتے رہو گے، بیٹے؟”
اس نے سر ان کی جانب گھمایا اور پھر کہا:
“جب تک مجھے یہ نہیں بھول جاتا کہ آپ نے اپنی بیٹی کی وجہ سے میرے بابا کو قبر تک پہنچایا، تب تک۔”
لہجہ سخت تھا، نفرت چھلک رہی تھی۔
نوشہ جہانزیب نے لب بھینچ لیے اور دل پر ہاتھ رکھ لیا۔ انہیں یہ الفاظ جذب کرنے میں چند لمحے لگے۔
“وہ تمہاری بہن تھی، دیان۔”
“بہن نہیں تھی وہ۔ وہ ہوتی تو اس طرح کبھی نہیں کرتی اور میرے بابا کو نہیں مارتی۔ میرے بابا کو مار دیا تو بہن نہیں، وہ دشمن تھی۔ دشمن۔”
چبا چبا کر بولتا ہوا وہ اٹھا اور زینوں کی جانب بڑھا ہی تھا کہ پیچھے سے ماں کی آواز آئی:
“شادی کر لو، بیٹے۔ زندگی میں آگے بڑھ جاؤ، آسانی ہوگی۔”
انہوں نے اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“شادی دیان جہانزیب کا مقصد نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف اور صرف کامیابی کی عظیم منزلوں کو چھونا ہے۔”
یہ کہہ کر وہ زینے پھلانگتا اوپر کی جانب بڑھ گیا۔
نوشہ جہانزیب لاؤنج میں بیٹھی رہیں۔ آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ نکلے اور ان کے لبوں سے ایک بات نکلی:
“کاش، رومی، تم یہ نہ کرتی تو آج سب ٹھیک ہوتا اور عشاء اس گھر کی بہو ہوتی، مگر۔۔۔”
آگے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
⭐⭐⭐
وہ زینے پھلانگتا لمبی راہداری میں چلتا ہوا دائیں جانب بنے کمرے میں داخل ہوا۔ دروازہ بند کرنے کے بعد کمرے میں بنی اسٹڈی روم میں داخل ہوا۔
لائٹ آن کی اور سفید دیوار پر لگی تصویر کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
چند لمحے وہ اس تصویر کو دیکھتا رہا، جس میں ایک لڑکی کی تصویر بنی تھی۔
سفید کپڑوں والی رومی مسکراتی ہوئی پیاری لگ رہی تھی۔
“تم جانتی ہو یہ تصویر یہاں کیوں لگی ہے؟ وہ اس لیے کہ جب بھی میں ماضی بھولنے لگوں تو تمہاری تصویر دیکھ کر مجھے وہ سارے زخم یاد آ جائیں جو تمہاری وجہ سے مجھے اور سب کو ملے۔
میں نے تمہاری وجہ سے بابا کو کھو دیا اور ماں کو تو کبھی پایا ہی نہیں تھا۔
رومیصہ جہانزیب، میں تم سے نفرت کرتا ہوں اور تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا، جو ہم سب نے تمہاری وجہ سے جھیلا۔
میری اسٹڈی میں تمہاری تصویر کو لگنے کا شرف اس لیے حاصل ہے کہ دیان جہانزیب ماضی میں تمہاری طرف سے ملی اذیت کبھی بھولے نہیں۔”
وہ نفرت سے رومی کی تصویر کو دیکھتے ہوئے بولا۔
اس کے الفاظ اسٹڈی میں کتابوں سے بھرے شیلف نے اداس ہو کر سنے، جبکہ تصویر میں مسکراتی ہوئی لڑکی اپنے بھائی کو مسکرا کر دیکھتی رہی۔
⭐⭐⭐
جہاں رات کا وقت کچھ لوگوں کے لیے سکون کا باعث تھا، وہیں کچھ لوگوں کے لیے ماضی کے زخموں کو کریدنے کا بہترین موقع تھا۔
“گلاب، تم پھولوں سے بنی ہوئی کتنی پیاری ہو۔”
وہ ایک لڑکا تھا، تقریباً سولہ سال کا۔
اس کے سامنے دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ایک گلابی کپڑوں والی اور ایک سفید کپڑوں والی۔
“تم کانٹے ہو، جو پودے پر لگے ہوئے چبھ جاتے ہیں۔” گلابی کپڑوں والی عشاء نے چڑاتے ہوئے کہا۔
“کانٹا ہوں، لیکن گلاب کے پھول پر لگا ہوں، تاکہ اسے توڑنے آئے تو محافظ اسے کاٹ لے۔”
کرسی پر بیٹھے، ٹانگ پر ٹانگ رکھے، اس نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔
سفید کپڑوں والی رومی نے مسکرا کر ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔
“کانٹے کے ہوتے ہوئے بھی گلاب کو کوئی اور لے ہی جائے گا۔” وہ بھی عشاء تھی۔ آبرو اچکاتے ہوئے بولی۔
“میرے ہوتے ہوئے گلاب کو کوئی لے کر نہیں جا سکتا۔ جب تک میں ہوں، اس کے ساتھ گلاب میرا ہے۔”
دیان کے لہجے میں یقین سا تھا۔
“اگر بھائی، گلاب کو سچ میں کوئی لے گیا تو کانٹا کیا کرے گا؟” رومی نے جانتے ہوئے کہا۔
“کانٹا اس کے اندر اتنا زہر اتارے گا کہ وہ تڑپتا رہے گا اور گلاب کو دوبارہ نہیں چھین سکے گا۔”
اس کے الفاظ ایڈنبرا کی فضاؤں میں جذب ہو گئے۔
وہ دونوں ساکت و جامد بیٹھی اس کی باتیں سن رہی تھیں۔
منظر ختم ہوا اور عشاء ہاشمی ریلنگ چیئر پر بیٹھی حال میں لوٹی۔ ایک آنسو جو دنیا والوں سے چھپا ہوا تھا، آنکھوں سے بہہ کر رخسار پر ڈھلک گیا۔
“تم نے میرے ہی اندر زہر اتار دیا، کانٹے۔”
اس کی گیلی آواز میں درد بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
کمرے میں سائیڈ لیمپ کی روشنی واضح تھی۔
اس نے کپڑے تبدیل کرکے سیاہ نائٹ ڈریس پہن لیا تھا۔ کمرے کی دیواریں اور ہر چیز سیاہ اور سرمئی امتزاج کی تھی، جو اندھیرے میں ہیبت ناک لگ رہی تھی۔
⭐⭐⭐
ہاشمی ولا کے ڈائننگ ایریا میں بیٹھے سب لوگ کھانا لگ جانے کے بعد صرف ایک ہی فرد کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ عشاء کا۔
ملازمہ ماریہ کے آ کر اطلاع دینے پر وہ واپس آئی تو عشاء کی والدہ، گل مہر ہاشمی، نے اس سے پوچھا:
“ماریہ، عشاء آ رہی ہے کیا؟”
“نہیں میڈم، انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ کافی دیر کھٹکھٹایا۔”
“اچھا، ٹھیک ہے۔ تم جاؤ۔”
ادیب ہاشمی نے ملازمہ ماریہ کو جانے کا کہا اور پھر گل مہر ہاشمی کی طرف دیکھا۔
“میں اسے بلا کر لاتی ہوں۔”
وہ اٹھنے ہی لگی تھیں کہ ادیب ہاشمی نے روک دیا۔
“رہنے دو، اور آپ سب کھانا شروع کریں۔”
میز پر تقریباً گھر کے سب ہی افراد بیٹھے ہوئے تھے۔
توصیف ہاشمی، ان کی بیوی فردوس، بیٹا سمنان اور میرب، شائل، ادیب ہاشمی اور ان کی بیوی گل مہر ہاشمی، اور بیٹا یغوث۔
عشاء رات کو دیر سے آتی تھی۔
“ایسے، بھائی صاحب، اب عشاء ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی نہیں کھا سکتی کیا؟” فردوس ہاشمی نے کباب کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
“عشاء کا دل نہیں تھا، اس لیے وہ نہیں آئی، ورنہ وہ ایسی نہیں ہے۔” گل مہر ہاشمی نے اس کا دفاع کیا۔
“نہیں بھابھی، وہ بدل گئی ہے۔ کافی پہلے جیسی نہیں رہی۔ اب گھر پر بھی کبھی کبھی نظر آتی ہے۔”
میرب طنزیہ مسکرا رہی تھی۔
توصیف ہاشمی خاموش بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، البتہ یغوث کو غصہ آ رہا تھا۔ سمنان بھی ان کی باتیں سن رہا تھا۔
“اس کے ساتھ جو حادثہ ہوا ہے، اس کا بدل جانا قدرتی ہے۔ اس لیے اسے چھوڑیں اور اپنے کھانے پر توجہ دیں، سب۔”
ادیب ہاشمی نے روکتے ہوئے کہا تو فردوس ناک سکوڑ کر کھانے لگیں۔
جبکہ گل مہر کے دل کو سکون سا ہوا کہ سالوں بعد ادیب نے عشاء کا درد سمجھ ہی لیا تھا۔
لیکن ان کی آنکھیں مکس سبزی پر جمی ہوئی تھیں، جو اپنے کھانے والے کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ جو آج بھی نہیں آئی تھی۔
⭐⭐⭐
نیو ٹاؤن کے علاقے سے تھوڑا آگے، تقریباً بیس سے پچیس منٹ کی مسافت پر ڈین ولیج نامی گاؤں دریا کے کنارے ایک گہری وادی میں بسا ہوا تھا۔
کوبل اسٹون سے بنی گلیاں، پرانے پتھر کے گھر، قدیم طرز کے کاٹیجز اور شہر سے دور ایک پُرسکون گوشے میں قائم یہ گاؤں اپنی الگ ہی دنیا معلوم ہوتا تھا۔
گاؤں کے بیچوں بیچ دریا بہتا تھا اور اس پر بنا پل دونوں اطراف کو آپس میں ملاتا تھا۔
ایسے میں ہماری کہانی قدیم کاٹیجز میں چلے گی۔
“امی، میں جلد آ جاؤں گی۔”
لیانا فون پر بات کرتی ہوئی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔
خاموش رات میں اندھیرے کے ساتھ دریا کے بہنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔
دوسری جانب سے آواز سن کر اس نے کہا:
“امی، آپ میرا یقین کریں، میں یہ سال ختم ہوتے ہی آؤں گی۔ آپ فکر مت کریں۔”
اس کے چہرے پر پریشانی واضح تھی۔
“جی… کیا کہا؟ شادی؟”
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔
“امی، آپ میری شادی ایسے کیسے کر سکتی ہیں؟ اور وہ بھی چاچو کے بیٹے سے، مجھ سے پوچھے بغیر۔”
لیانا کے لہجے میں بے یقینی تھی۔ اسے اپنی والدہ سے یہ امید نہیں تھی۔
دوسری جانب سے کچھ کہا گیا اور پھر کال کٹ گئی۔
لیانا کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کی والدہ اس کا رشتہ اپنے چچا کے بیٹے سے طے کر دیں گی، جو معذور تھا۔
صرف پیسوں کی خاطر اس کی ماں نے…
اس نے اپنے آپ کو مار کر، اپنی والدہ اور بھائی کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر اپنی خوشیوں کو قربان کیا تھا، اور اب آگے کی سوچ نے اس کے حواس منجمد کر دیے۔
وہ کھڑکی کھولے باہر بہتے دریا کی آواز سنتی رہی اور آنسوؤں کو بہنے دیتی رہی۔
⭐⭐⭐
ہاشمی ولاء
صبح کی روشنی نمودار ہوئی تو ہر طرف پھیلی دھند اور سردی کی شدت نے سب کو گھروں میں دبکے رہنے پر مجبور کر دیا۔
آج ویک اینڈ تھا، اس لیے لوگوں کا رش نہ ہونے کے برابر تھا۔
ایسے میں ہاشمی ولا میں جہاں کچھ لوگ سو رہے تھے، وہیں کچھ جاگ چکے تھے۔
عشاء تھکی تھکی سی نیچے آئی تو سامنے ڈائننگ ہال میں کرسی پر بیٹھی عصر ناشتہ کر رہی تھی۔
عشاء نے اسے دیکھ کر نظر انداز کیا اور ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔
ملازمہ ماریہ نے اس کے سامنے مکس سبزیاں لا کر رکھیں تو اس نے خاموشی سے کھانا شروع کر دیا۔
“عشاء، کیسی ہو؟”
عصر نے کافی کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے پوچھا۔
“ٹھیک ہوں۔”
مختصر جواب آیا۔
“چلو، اچھی بات ہے۔ اور آج کل کیا کر رہی ہو؟”
“اپنا کام کر رہی ہوں۔”
ملازمہ ماریہ نے اب عشاء کے آگے سٹرونگ چائے کا کپ لا کر رکھ دیا تھا۔
گھر والوں کے ناشتے کی تیاری اب ہو رہی تھی۔ دوسری ملازمہ کے چھٹی پر ہونے کی وجہ سے سارا کام ماریہ نے اکیلے سنبھالا ہوا تھا۔
“اچھا… کہیں جا رہی ہو؟”
عصر کا اشارہ اس کے تیار ہونے کی طرف تھا۔
“ہاں، ضروری کام ہے۔ کچھ انسٹیٹیوٹ میں۔ وہیں جا رہی ہوں۔”
اس نے سبزیوں کی پلیٹ ایک طرف کی اور چائے کا کپ اٹھا لیا۔
عصر گھونٹ گھونٹ کافی پیتی اسے بغور دیکھ رہی تھی۔
وہ ابھی نائٹ ڈریس میں تھی۔
“ایک بات مجھے تم سے کرنی تھی۔”
“بولو۔”
عشاء کی نظریں عصر کے چہرے پر تھیں۔
“مجھے اپنی سلطنت کے لیے کچھ نئے چہروں کی ضرورت ہے۔”
عشاء نے اس کے الفاظ سنے اور پھر مسکرا کر بولی:
“تو پوسٹر لگوا لو، مل جائیں گے۔”
“دیکھو عشاء، تم چاہو تو میری مدد کر سکتی ہو۔”
“وہ کیسے؟”
“تمہارے انسٹیٹیوٹ میں بہت سے ایسے چہرے ہوں گے جو صرف میری سلطنت کے لیے بنے ہیں۔ مجھے وہ چہرے چاہئیں۔”
اس نے اپنی بات ایک ہی سانس میں زور دے کر مکمل کی۔
عشاء نے چائے کا کپ نیچے رکھا اور عصر کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی:
“وہ میرے اسٹوڈنٹس ہیں اور میرا انسٹیٹیوٹ کوئی بازار یا منڈی نہیں ہے کہ تمہیں نئے چہرے چاہئیں اور ادھر مل جائیں گے۔”
“نہیں عشاء، تمہیں میری مدد کرنی ہوگی۔”
“میں کوئی مدد نہیں کروں گی۔ اس لیے آئندہ مجھ سے اس طرح بات مت کرنا، عصر۔”
وہ غصے سے کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک گہری نظر عصر پر ڈال کر پلٹی ہی تھی کہ عصر کی آواز گونجی:
“تم، عشاء، میرے مقصد میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ میں اپنا کام نکلوا کر رہوں گی، یاد رکھنا۔”
عشاء طنزیہ مسکرائی، پلٹی اور دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر بولی:
“کیوں؟ وہ تمہاری سلطنت کے چہرے کدھر گئے جن کے تم گن گاتی پھرتی ہو، عصر؟”
“عشاء، شاید تم بھول رہی ہو کہ ہمیشہ نئے چہروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک ہی چہرے بار بار دکھانے سے چارم ختم ہو جاتا ہے۔”
“اچھا… چارم ختم ہوتا ہے ایک ہی چہرے بار بار دکھانے سے نہیں، بلکہ تمہارے ساتھ کام کرنے سے ختم ہو جاتا ہے۔”
وہ کہتی ہوئی چل پڑی۔
عصر نے غصے سے اس کی پشت کو دیکھا اور پھر بولی:
“تمہیں میری بات ماننی ہوگی، عشاء۔ ماننی ہوگی، ضرور۔”
⭐⭐⭐
چور بازار
لیانا اور جولی دونوں چور بازار کی دکانوں کے بیچ چلتی ہوئی جا رہی تھیں۔
لیانا نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ رات والی بات کا شائبہ تک نہیں تھا۔
جس بات کے ہونے میں ابھی ایک سال باقی تھا، اسے سوچ کر ابھی کیوں پریشان ہونا؟
اپنے درد کو پیچھے دھکیلتے ہوئے وہ خود کو جولی کی خاطر خوش رکھ رہی تھی۔
گرد و پیش دونوں اطراف میں دکانیں ہی دکانیں تھیں۔ یہ جگہ ڈین ولیج گاؤں کے تھوڑا سا قریب تھی۔
“جولی، مل تو جائیں گی نا پینٹنگز؟”
لیانا کو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنی آسانی سے پینٹنگز مل جائیں گی۔
“مل جائیں گی۔ ذرا انتظار کر۔ یہاں سے تھوڑا آگے بائیں جانب ایک دکان ہے۔ ایک بار دیکھی تھی۔”
جولی آس پاس متلاشی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولی۔
“تم پہلے بھی آ چکی ہو یہاں؟”
“ہاں، اور کئی بار آ چکی ہوں۔ بلکہ بچپن سے آ رہی ہوں۔”
لیانا کا تو منہ کھل گیا۔
اس نے جولی کے کندھے پر زور سے ہاتھ مارا اور بولی:
“مجھے کیوں نہیں بتایا تم نے؟”
“یار، مجھے لگا شاید تم ناراض نہ ہو جاؤ کہ تمہاری دوست چور بازار کی گاہک ہے۔”
اس نے اپنا کندھا سہلاتے ہوئے کہا۔
بازار میں رش کم تھا۔ ابھی صبح کے نو بج رہے تھے، جس کی وجہ سے ادھر رش نہ ہونے کے برابر تھا۔
“اب ناراض نہیں ہو گی کیا؟”
“نہیں۔”
جولی نے اس کے گال کو پیار سے کھینچا۔
“تمہیں کیسے معلوم کہ نہیں ہوں گی؟”
“وہ اس لیے کہ تم بھی کافی عرصے سے اسی چور بازار کی گاہک ہو۔”
جولی نے مسکرا کر آبرو اچکاتے ہوئے کہا۔
لیانا تو اپنی چوری پکڑے جانے کی وجہ سے شرمندہ ہو گئی، لیکن پھر دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور ہنسنے لگیں۔
چلتے ہوئے وہ دونوں ایک دکان میں داخل ہوئیں، جہاں پرانی پینٹنگز رکھی ہوئی تھیں۔
جولی نے انتہائی پروفیشنل انداز میں پینٹنگز منتخب کیں اور دکاندار سے بحث کر کے کم قیمت پر خرید لیں۔
کچھ پینٹنگز اس نے لیانا کو پکڑائیں اور کچھ خود اٹھا لیں۔
“چلو، کام ہو گیا۔ اب پروفیسر گریگر بھی ہماری تعریف کیے بنا رہ نہیں پائیں گے۔”
جولی کی اس بات پر لیانا نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔
وہ دونوں پینٹنگز تھامے چلتی ہوئی چور بازار کی رونقیں پیچھے چھوڑ گئیں۔
⭐⭐⭐
Morningside Cemetery, Edinburgh
یہ جدید وکٹورین دور کا قبرستان تھا۔
شہر کے بیچوں بیچ موجود یہ قبرستان مشرق سے مغرب کی طرف ہلکا سا خم دار تھا۔ اس کا ڈھلوانی راستہ اوپر سے نیچے، جنوب سے شمال کی طرف جاتا تھا۔
بیچ میں درختوں کی لمبی قطار تھی اور شمال کی طرف کم قبریں تھیں، جبکہ جنوب مغرب کی طرف زیادہ قبریں اور یادگاری مجسمے بھی موجود تھے۔
عشاء مفلر کو سر پر لپیٹے، ہاتھوں میں پھولوں کے بکے لیے درختوں کے بیچ چلتی ہوئی جا رہی تھی۔
ہر طرف پھول بکھرے ہوئے تھے۔
قبرستان میں گہری، پُرسکون خاموشی تھی۔
وہ بائیں جانب مڑی اور قبروں کے بیچ چلتی ہوئی آگے بڑھی۔ ایک قبر کے سامنے جا کر رک گئی۔
اس نے جھک کر سرخ و سفید پھولوں کا بکے قبر پر رکھا اور سیدھی کھڑی ہو گئی۔
سردی اور دھند کے باعث زمین گیلی ہو چکی تھی۔
عشاء کی نظریں اپنے بکے سے آگے رکھے دوسرے بکے پر پڑیں۔
وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی، پھر اس کی نظریں کتبے پر جا ٹھہریں۔
کتبے پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا:
“رومیصہ جہانزیب”
اس نام کو پڑھتے ہوئے اس کے ہونٹ کپکپائے اور پھر اس کی زکام زدہ آواز نکلی۔
آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔
“رومی… میری عزیز از جان دوست، میری نیلی آنکھوں والی دوست۔”
وہ چند لمحے خاموش رہی۔
“کاش تم مجھے چھوڑ کر نہ جاتی۔ کاش تم آج میرے ساتھ ہوتی اور ہم دونوں اچھے لمحے ساتھ گزار رہے ہوتے۔ لیکن تم چلی گئی اور مجھے اکیلا چھوڑ گئی۔”
وہ رکی، جیسے الفاظ ساتھ نہ دے رہے ہوں۔
چند لمحے آنکھیں بند کیے وہ اپنے درد کو محسوس کرتی رہی۔
پھر آنکھیں کھول کر بولی:
“میں تم سے وعدہ کرتی ہوں، رومی۔ میں تمہارے قاتل سے بدلہ ضرور لوں گی۔ میں اسے وہی سزا دوں گی جو اس نے تمہیں دی۔ وعدہ ہے میرا۔”
یہ کہہ کر اس نے آنسو پونچھے اور ایک نظر آس پاس ڈال کر اس دوسرے بکے پر ڈالی جو کوئی اور رکھ گیا تھا۔
پھر وہ قبروں کے بیچ سے نکلتی چلی گئی۔
لیکن دل و دماغ میں سوال لیے وہ واپس جا رہی تھی۔
وہ جب بھی یہاں آتی تھی، یہی الفاظ بولتی تھی، لیکن آج تک یہ نہیں سمجھ پائی تھی کہ دوسرا پھولوں کا بکے کون رکھ جاتا تھا۔
سوچوں میں گم وہ قبرستان سے نکلتی چلی گئی۔
پیچھے رومیصہ جہانزیب کی قبر خاموشی سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔
⭐⭐⭐⭐
St Mary’s Cathedral
ایڈنبرا کا ایک معروف جدید دور کا چرچ، جس کے باہر بلند مینار دور سے بھی نظر آتے تھے۔
اس کے اندر اونچی چھت اور رنگین شیشے لگے ہوئے تھے، جن سے روشنی چھن کر اندر آتی تھی۔
اندر لکڑی کے بینچ تھے اور ماحول میں خاموشی اور سکون تھا۔
لیزا اور جیکسن دونوں ہر اتوار اپنے والد کے ساتھ یہاں آتے تھے، لیکن آج وہ دونوں اکیلے آئے ہوئے تھے۔
دائیں جانب بیٹھے وہ دونوں پادری کے خطبے کے بعد دھیمی آواز میں باتیں کر رہے تھے۔
لوگ آ جا رہے تھے اور دعا کروا رہے تھے۔
پادری سرخ اور سنہری چغہ پہنے ہوئے تھا۔
“بھائی، ایک بات پوچھوں؟”
لیزا نے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی۔
گلابی سویٹر اور سر پر اونی ٹوپی پہنے ہوئے وہ پیاری لگ رہی تھی۔
“پوچھو۔”
جیکسن نے سامنے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، جہاں اب ایک بچی پادری سے کچھ کہہ رہی تھی۔
“بھائی، آپ نے کیا دعا کروائی؟”
لیزا کو جاننے کا تجسس تھا۔
“میں نے تمہارے لیے دعا کروائی کہ تمہیں عقل آ جائے۔”
شرارت سے کہہ کر جیکسن نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا۔
لیزا نے اسے چٹکی کاٹی اور دوبارہ پوچھا:
“پلیز، بتائیں کہ آپ نے ایسی کیا بات بولی کہ پادری ٹیری جونز بھی ایک لمحے کو حیران رہ گئے تھے؟”
“لیزا، بتاؤں گا، لیکن ابھی نہیں۔ بعد میں۔”
“بعد میں نہیں، ابھی بتائیں۔ آپ ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں اور نہیں بتاتے۔”
وہ بھی لیزا تھی، پیچھے نہ ہٹنے والی۔
“میں نے کہا کہ خداوند مجھے تم جیسی بہن سے نہ نوازتا تو میں اکیلا عیش کرتا۔”
مسکرا کر کہتے ہوئے اس نے اسے چھیڑا۔
لیزا کی آنکھیں پوری کھل گئیں اور اس نے بے ساختہ چیخ ماری:
“بھائی۔۔۔!”
جیکسن نے گھبرا کر اردگرد دیکھا۔ کئی لوگوں نے ناگواری سے مڑ کر دیکھا اور پادری نے بھی تنبیہ کی۔
لیزا کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس نے لب دانتوں تلے دبا لیے۔
“مرواؤ گی کیا، لیزو؟”
جیکسن نے اسے آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔
“سوری بھائی، غلطی ہو گئی۔ کیا کرتی، آپ نے بات ہی ایسی کی۔”
وہ منہ بسور کر سامنے دیکھنے لگی۔
“اب چپ کرکے بیٹھو اور سامنے توجہ دو۔”
شیشوں سے روشنی چھن کر اندر آ رہی تھی۔
پرسکون اور خاموش ماحول میں جیکسن نے آنکھیں بند کیں تو اس کے ذہن میں ایک منظر ابھرا۔
دو آنکھیں…
سنہری اور نیلے امتزاج کی آنکھیں۔
اس کا دل اس منظر کو دیکھ کر ایک لمحے کو بے ترتیب ہوا۔
لیزا نے چور نظروں سے مڑ کر اپنے بھائی کی طرف دیکھا، جس کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ تھی۔
“میں اگلی بار ضرور کروں گی آپ سے۔”
دل میں سوچ کر اس نے تہیہ کر لیا۔
اور پھر اس نے خود بھی دعا کی:
“خداوند، یغوث میرے لیے اپنی محبت کی خاطر میرے مذہب کو اپنا لے۔ وہ مجھے چن لے اور اپنے مذہب کو قربان کر دے۔”
اس نے دل میں کہہ کر آنکھیں بند کر لیں۔
چرچ میں لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا اور وہ دونوں لکڑی کے بینچوں پر بیٹھے، شیشوں سے چھن کر آتی روشنی میں سنہری ہالے میں گھرے معلوم ہوتے تھے۔
⭐⭐⭐
ایڈنبرا
ایڈنبرا میں آج دھند نہیں تھی، بلکہ آسمان سرمئی تھا۔
بادلوں سے بھرا آسمان برسنے کو بے تاب تھا۔
سردی کی شدت میں بارش کے باعث مزید اضافہ ہونے والا تھا۔
ایڈنبرا میں سردی کے باعث شام کے سائے چار بجے ہی گہرے ہونے لگتے تھے۔
سڑک پر لگے اسٹریٹ پول روشن تھے۔
بارش جہاں کچھ دلوں کے لیے خوشی کا باعث تھی، وہیں کچھ دلوں کے لیے بارش پرانے زخموں کی وجہ تھی۔
عشاء انسٹیٹیوٹ کے آہنی دروازے سے اپنی کار میں نکلی تو اس نے ایک نظر شیشے کے پار نظر آنے والے آسمان پر ڈالی اور پھر سامنے سڑک پر نظریں جما دیں۔
بارش برسنے کو بے تاب تھی۔
لگتا تھا آسمان کسی کا دل ٹوٹتا دیکھ کر آنسو برسانا چاہتا تھا۔
سالوں پہلے بھی ایسی ہی بارش ہوئی تھی، جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے گئی تھی۔
عشاء مناسب رفتار سے کار چلاتی ہوئی جا رہی تھی۔
اس کا ارادہ جلدی گھر پہنچ کر خود کو کمرے میں بند کرنے کا تھا، کیونکہ بارش پرانے زخم تازہ کر دیتی تھی، اور اس سے فرار صرف اپنے خول میں بند ہو جانے کا تھا۔
انسٹیٹیوٹ سے کچھ ہی آگے آئی تھی کہ اس کی کار اچانک رک گئی۔
اس نے اسٹیئرنگ پر زور سے ہاتھ مارا اور جھنجھلا کر کار سے اتری۔
دروازہ بند کیا، کار کے سامنے آئی اور بونٹ اٹھا کر انجن دیکھنے لگی۔
ساتھ ساتھ ایک نظر آسمان پر بھی ڈال لیتی۔
بادل سیاہ ہوتے جا رہے تھے اور بارش کے قطرے گرنے والے تھے۔
جہاں کار رکی تھی، اس کے ساتھ فٹ پاتھ پر ایک بینچ رکھا ہوا تھا اور اوپر شیڈ بنا ہوا تھا۔
بینچ پر سیاہ جینز جیکٹ پہنے، سر پر پی کیپ رکھے ایک شخص موبائل میں مصروف تھا۔
شام کے اندھیرے میں اس کا چہرہ واضح نظر نہیں آ رہا تھا۔
یہ سڑک قدیم پتھروں سے بنی ہوئی تھی۔ دور سے کوئی کار زن سے گزرتی تو کھرکھراہٹ کی آواز پیدا ہوتی۔
عشاء کار کے انجن پر جھکی خرابی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک بارش شروع ہو گئی۔
زوردار گھن گرج کے ساتھ بارش برسنے لگی۔
عشاء نے بونٹ زور سے بند کیا اور شیڈ کے نیچے جا کر کھڑی ہو گئی۔
اس نے ایک نظر بینچ پر بیٹھے شخص پر ڈالی اور ہاتھوں کو ملتے ہوئے جیب سے موبائل نکالا۔
اسکرین آن کی، کال لاگ کھولی اور گھر کے ڈرائیور براک کا نمبر ملانے ہی لگی تھی کہ پیچھے بیٹھے شخص کی آواز آئی:
“میں مدد کر دوں، آپ چاہیں تو؟”
سنجیدگی سے کہتے ہوئے اس نے سر اٹھایا۔
عشاء نے پیچھے مڑے بغیر جواب دیا:
“نہیں، میں خود کر لوں گی۔”
دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔
بارش تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
سڑک پر پانی کی ننھی ننھی بوندیں گر رہی تھیں اور بلبلے کی صورت بن کر ختم ہو جاتی تھیں۔
عشاء کی نظریں سامنے قدیم پتھروں سے بنی سڑک پر جمع بارش کے پانی پر جمی ہوئی تھیں۔
“آپ نہیں چاہتیں تو میں مدد نہیں کرتا۔ لیکن مدد لے لینی چاہیے۔”
موبائل جیب میں ڈالتے ہوئے، بازو سینے پر باندھے اور بینچ کی پشت سے ٹیک لگائے پرسکون انداز میں بیٹھا جیکسن الیگزینڈر عشاء کی پشت پر نظریں جمائے بولا۔
“میں خود ہی کافی ہوں، خود کے لیے۔”
اس نے سخت انداز میں کہا۔
اور دل ہی دل میں اس اجنبی کے اس طرح سوال کرنے پر جھنجھلانے لگی۔
اوپر سے بارش نہیں رک رہی تھی اور اس اجنبی کی مانگے بغیر مدد کرنے کی پیشکش اسے بیزار کر رہی تھی۔
جبکہ جیکسن دل ہی دل میں اس لڑکی کو مدد آفر کرنے پر خود کو سرزنش کر رہا تھا۔
“اوکے، کوئی مسئلہ نہیں۔ اگر آپ کر سکتی ہیں تو کر لیں۔”
اس نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔
عشاء نے موبائل پر نو سگنل دیکھے اور غصے کو ضبط کرتے ہوئے خاموشی سے کھڑی ہو گئی، کیونکہ بارش اسے پسند نہیں تھی اور وہ اپنے خول کے ٹوٹنے پر ضبط کیے کھڑی تھی۔
جیکسن بینچ سے اٹھا، پی کیپ ہاتھ میں پکڑی اور اس کے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا۔
بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس نے ایک نظر عشاء پر ڈالی۔
وہ اس کے ساتھ آ کر کھڑا ہوا تو عشاء نے درمیان میں دو قدموں کا فاصلہ رکھتے ہوئے خود کو کچھ دور کر لیا۔
جیکسن کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
دونوں کی نظریں سامنے سڑک پر جمی ہوئی تھیں، لیکن دھیان ایک دوسرے کی طرف لگا ہوا تھا۔
چند لمحے یونہی گزرے۔
پھر عشاء کی آواز گونجی:
“آپ مجھے کہیں ٹریپ تو نہیں کر رہے، مسٹر؟”
اس نے دھیمے مگر محتاط لہجے میں کہا۔
جیکسن کا تو حیرت کے مارے منہ کھل گیا۔
اس نے مڑ کر عشاء کی طرف دیکھا۔
“منہ بند کر لیں، کہیں مکھی نہ چلی جائے۔”
عشاء کی نظریں سامنے دوسرے کنارے پر موجود درخت پر تھیں، جس پر ایک چڑیا پر پھیلائے اپنے گھونسلے میں شاید اپنے بچے کو محفوظ کر رہی تھی۔
جیکسن نے فوراً منہ بند کیا اور آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا:
“کیا پتا آپ مجھے ٹریپ کر رہی ہوں؟”
“عشاء ہاشمی ایسے کام نہیں کرتی۔ وہ جو کرتی ہے، سامنے سے کرتی ہے۔”
مختصر مگر سنجیدہ لہجہ تھا۔
“میں بھی جو کرتا ہوں، بتا کر کرتا ہوں۔ مس، جو بھی ہو۔ شاید آپ مجھے جانتی نہیں ہیں کہ میں کون ہوں؟”
عشاء نے گہری سانس خارج کی اور اپنے انداز میں جواب دیا:
“مجھے جاننے میں دلچسپی بھی نہیں ہے، مسٹر۔”
جیکسن کو اس کا جملہ خاص پسند نہیں آیا۔
کیونکہ اس کے دل میں جو بات چل رہی تھی وہ یہ تھی:
لڑکیاں تو میرے پیچھے مرتی ہیں، اور ایک یہ ہے جو مجھے جانتی بھی نہیں۔ دلچسپ۔
چند لمحے یونہی گزرے۔
بارش آہستہ ہونے لگی تھی۔ عشاء کی کار بارش کے پانی سے بالکل صاف ہو چکی تھی۔
“ویسے آپ نہیں پوچھیں گی، لیکن میں جیکسن الیگزینڈر ہوں۔ اور۔۔۔”
وہ اس کی طرف گھومی اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی:
“مون لائٹ اسٹوڈیو کی ڈائریکٹر عصر ہاشمی کے پسندیدہ ہیرو۔”
وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔
آسمان سے گرتے بارش کے قطرے، آہستہ چلتی ہوا، ایڈنبرا کی سردی اور شیڈ کے نیچے کھڑے عشاء اور جیکسن کو دیکھ کر کاتبِ تقدیر مسکرایا تھا۔
جیکسن کے لب “اوہ” کی صورت میں سکڑے۔
مطلب، وہ اتنی بھی انجان نہیں تھی۔
“مطلب تم مجھے جانتی ہو، لیکن جان بوجھ کر انجان بن رہی ہو؟”
جیکسن نے مسکرا کر اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔
“عصر سے کافی تمہاری تعریف سنی ہے اور۔۔۔”
وہ بات ادھوری چھوڑ گئی۔
عشاء نے رخ موڑ لیا تھا۔
موبائل پر ڈرائیور کو میسج کرکے اپنی کار کی خرابی اور اسے لے جانے کے لیے کہہ دیا تھا۔
“عصر ہاشمی… وہ عورت ایک پوری چڑیل ہے۔ ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ خداوند، اس کو دریا میں بہا لے جائے۔ میری خواہش ہے۔”
اس نے بیزاری سے کہا۔
عشاء دھیمے سے مسکرائی۔ اس کی مسکراہٹ جیکسن نے بھی نوٹ کر لی تھی۔
“آپ مسکراتے ہوئے پیاری لگیں۔”
بے ساختہ زبان سے نکلی بات عشاء کے کانوں تک پہنچی تو اس نے لب بھینچ لیے۔
چہرہ سپاٹ ہو گیا۔
“آپ۔۔۔”
عشاء نے اس کی بات کاٹ دی۔
“ایک بات میری سن لیں آپ۔ آئندہ کسی لڑکی کو دیکھ کر فلرٹ کرنے کی کوشش مت کرنا۔ اور دوسری بات، عصر میری بہن ہے۔”
آخری بات نے جیکسن کے صحیح معنوں میں چھکے چھڑا دیے۔
جیکسن تو چونک گیا۔
پھر اپنے الفاظ یاد آنے پر خود کو ملامت کی کہ اسے سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے تھا۔
بارش تھم چکی تھی۔
عشاء نے اس پر کٹیلی نگاہ ڈالی اور جیسے ہی وہ شیڈ کے نیچے سے نکل کر آگے کار کی طرف جانے لگی، اس کا پاؤں پھسلا۔
وہ گرنے ہی والی تھی کہ جیکسن نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گرنے سے بچا لیا۔
پی کیپ نیچے گر چکی تھی۔
پیچھے کی طرف جھکی عشاء اور شیڈ کے نیچے کھڑا جیکسن، اس کا ہاتھ پکڑے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
جیکسن نے اس کی سنہری آنکھوں پر نظریں جمائے اسے گرنے سے بچانے کے لیے ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔
وہ ان سنہری آنکھوں میں الجھ گیا۔
چاہ کر بھی نظریں نہیں ہٹا پایا۔
ایڈنبرا کی سرزمین پر نئی کہانی شروع ہو چکی تھی۔
ان سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ایک شخص نے، جس نے برساتی لباس پہن رکھا تھا، درخت کے پاس کھڑے ہو کر ان کی تصویر کھینچ لی۔
اس نے موبائل پر واٹس ایپ کھولا اور ایک نمبر نکال کر تصویر اسے بھیج دی۔
اگر ہم اسکرین پر جھک کر دیکھیں تو نمبر کے نام کے ساتھ لکھا تھا:
“باس جوف”
جیکسن نے عشاء کو اپنی طرف کھینچا، تو عشاء اس کے سینے سے لگتے لگتے بچی کیونکہ جیکسن نے فوراً اسے چھوڑ دیا۔
عشاء پیچھے ہوئی۔
چند لمحے یونہی گزرے اور پھر وہ اپنی کار کی طرف بڑھ گئی۔
جیسے ہی وہ کار کی طرف بڑھی، پیچھے سے جیکسن کی آواز آئی:
“خداوند ہمیں دوبارہ ملائے۔”
یہ جملہ اس کے کانوں تک پہنچا تو عشاء کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔
یہ جملہ…
ہاں، یہ جملہ سالوں پہلے کسی نے کہا تھا۔
اور اب۔۔۔
وہ جلدی سے مڑی اور اس کی طرف دیکھنے لگی۔
کار کے آگے کھڑی عشاء اور شیڈ کے نیچے کھڑا جیکسن، دونوں کی نظریں ایک دوسرے پر جمی ہوئی تھیں۔
قدیم پتھریلی سڑک، شام کے گہرے ہو چکے سائے اور تھم چکی بارش کے درمیان وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
⭐⭐⭐⭐
انسٹیٹیوٹ شہر کے پُرسکون کنارے پر تھا۔ اور اس اسٹیشن سے بیس سے پچیس منٹ کی ڈرائیو پر شہر شروع ہو جاتا تھا۔
قدیم شہر اور پھر آگے نیو ٹاؤن۔
⭐⭐⭐
ان شاء اللہ
اگلی قسط
چند دنوں بعد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *