بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ناول کا نام: جنگِ بقاء
بقلم: ماہ نور اعوان
قسط نمبر تین
حصہ دوم
پہلی ملاقات، پہلا تاثر
آغاز
چند لمحے پہلے
جیکسن اور لیزا چرچ سے نکلے تو اندر کے ماحول کی نسبت باہر کا موسم کہیں زیادہ ٹھنڈا اور سردی کی شدت سے بھرپور تھا۔ لیزا نے دونوں ہاتھوں کو ملتے ہوئے سینے پر باندھ لیا، جبکہ جیکسن نے جیبوں میں ہاتھ ڈال رکھے تھے۔
وہ دونوں چلتے ہوئے کار تک پہنچے تو میخائل نے ان کے لیے دروازہ کھولا۔ لیزا بیٹھ گئی تو میخائل بھاگتا ہوا دوسری طرف گیا اور دروازہ کھول دیا۔
جیکسن نے لیزا کے کان میں آہستہ سے سرگوشی کی:
“لیزو، تم چلی جاؤ اور میں آ جاؤں گا۔ مجھے کہیں جانا ہے جون کے ساتھ۔ وہ آ رہا ہے، میں نے اسے میسج کر دیا تھا۔”
“لیکن بھائی، ڈیڈ۔۔۔” اس نے پریشان ہو کر کہا۔
وہ کار میں بیٹھی ہوئی تھی جبکہ جیکسن ساتھ کھڑا بات کر رہا تھا۔ میخائل کو ان کی گفتگو سنائی تو نہیں دے رہی تھی، لیکن اس کی نظریں ادھر ہی جمی ہوئی تھیں۔
“ڈیڈ کو میں سنبھال لوں گا۔ تم بس پریشان نہ ہو، اوکے۔”
اس نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
“بھائی، میخائل کو کیا کہیں گے آپ؟”
“وہ تم سنبھال لینا۔” جیکسن نے آنکھ مارتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
پھر اس نے موبائل فون جیب سے نکالا اور جون کو کال کی۔ بیل جا رہی تھی۔ وہ چلتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔
جیکسن کو آگے بڑھتے دیکھ کر میخائل نے دروازہ بند کیا اور اس کے پیچھے جانے ہی لگا تھا کہ لیزا نے اسے روک لیا۔
وہ رک گیا اور لیزا کی جانب آیا، لیکن نظریں دور جاتے جیکسن پر ہی جمی ہوئی تھیں۔
“بھائی آ جائیں گے۔ تم پریشان نہ ہو اور کار اسٹارٹ کرواؤ، ہم گھر چلتے ہیں۔” لیزا نے حکم دیتے ہوئے کار کی سیٹ سے ٹیک لگا لی۔
“لیکن میڈم، سر نے کہا تھا کہ جیکسن سر کو اکیلا نہیں چھوڑنا، کسی بھی حال میں۔” اس نے لیزا کی طرف دیکھ کر کہا۔
“میں نے کہا نا، میخائل، چلو گھر چلتے ہیں۔ وہ آ جائیں گے۔ بچے نہیں ہیں وہ۔ آئی سمجھ؟”
مصنوعی غصے سے کہہ کر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
میخائل نے اس سمت نظر ڈالی جہاں سے ابھی جیکسن گیا تھا، لیکن اب وہاں کسی کو نہ پا کر وہ کار کے پیچھے سے گھومتا ہوا آگے آیا۔ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا تو ڈرائیور نے کار اسٹارٹ کر دی اور پھر چرچ کی جگہ سے نکل کر گھر کے راستے پر ڈال لی۔
*****
جیکسن نے انہیں جاتے دیکھا تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
وہ سامنے کی دکان کے پاس، جہاں پھول رکھے ہوئے تھے، اس طرح کھڑا تھا کہ وہ انہیں دیکھ سکے لیکن ان کی نظریں اسے نہ دیکھ سکیں۔
دکاندار باہر نکلا۔ سرخ پھولوں کا بکے اٹھائے باہر آیا اور اسے باقی پھولوں کے ساتھ رکھا، پھر جیکسن کی طرف بڑھا۔
“کچھ لینا ہے آپ نے؟”
جیکسن نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“نہیں۔”
اس نے ایک لفظی جواب دیا۔
“نہیں لینا، لیکن اب لے لو۔”
وہ بھی ٹلنے والا نہیں تھا۔
“کیوں لے لوں؟”
“کسی کو دینے کے لیے لے لو۔”
“کوئی نہیں ہے، پھر لینے کا فائدہ؟”
جیکسن نے ایک نظر موبائل کی اسکرین پر ڈالی اور دوبارہ اس کی طرف دیکھا۔
“آ جائے گی، دیکھ لینا۔”
دکاندار کے لہجے میں عجیب سا اعتماد تھا۔
وہ دونوں دکان کے آگے کھڑے بات کر رہے تھے۔
“بہت معلوم ہے آپ کو کہ آ جائے گی۔” جیکسن نے آبرو اچکاتے ہوئے کہا۔
“بیٹا، سالوں کا تجربہ ہے۔ دیکھ لینا، ایڈنبرا کی فضائیں دیکھیں گی وہ اور تم، جب ملو گے۔”
بوڑھا دکاندار یہ کہہ کر پھولوں کے بکے کی طرف بڑھا جو اس نے ابھی رکھا تھا۔
جیکسن تو اس کی باتیں ہضم کر رہا تھا۔ نجانے کیا بول رہا تھا۔
دکاندار پھولوں کا بکے اٹھائے اس کی طرف آیا اور اس کی جانب بڑھایا۔
“یہ لو، پیسے نہ دینا۔ میری طرف سے تحفہ سمجھ کر قبول کر لو۔”
سرخ گلاب کے پھولوں کا بکے اس کی جانب بڑھایا گیا، لیکن جیکسن نے اسے نہیں تھاما۔
“میں کسی سے یوں تحفے نہیں لیا کرتا، جناب۔”
اس نے پیار سے انکار کیا اور موبائل پر جون کا نمبر نکالتے ہوئے کال کی۔ بیل جا رہی تھی، لیکن وہ اٹھا نہیں رہا تھا۔
“یہ لے لو، میں بھی مفت نہیں دے رہا۔”
“مفت نہیں دے رہے تو تحفہ کہہ کر قبول کیوں کروانا چاہ رہے تھے؟”
جیکسن نے موبائل ہاتھ میں تھام کر کہا۔
ان کے پاس سے لوگ گزر رہے تھے، لیکن وہ دونوں آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔
“تحفہ ہی ہے، لیکن تم مجھے پھر کبھی یہ تحفہ واپس کر دینا، کسی اور طرح سے۔”
درمیانے قد کا دکاندار اس کے سامنے پہیلیاں بچھائے جا رہا تھا، جو جیکسن کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔
“کیا مطلب؟” اس نے پھٹاک سے پوچھا۔
“مطلب سمجھنے کا وقت نہیں ہے۔ جب آئے گا تو سمجھ جاؤ گے۔”
دکاندار نے اس کی طرف پھول زبردستی تھمائے اور پھر واپس دکان کے اندر چلا گیا۔
جیکسن پھول تھامے انہیں دیکھتا جا رہا تھا۔
تبھی پاس سے کسی لڑکی کی آواز آئی تو اس نے چونک کر سر اٹھایا اور ان کی طرف دیکھا، جو اسے ہی مسکرا کر دیکھتے ہوئے اس کے پاس آ رہی تھیں۔
اس نے ماسک نہیں لگایا تھا، تو سب کی نظروں میں آ گیا۔ اس نے جلدی سے پھولوں والا بکے ایک ہاتھ میں تھاما اور ماسک نکالتے ہوئے لگا لیا۔
دونوں لڑکیوں نے اس کی یہ حرکت دیکھی اور پھر کہا
“کوئی فائدہ نہیں ہے۔ جیکسن مائی ہیرو، ہم نے آپ کو دیکھ لیا۔”
اس لڑکی نے کچھ پینٹنگز اٹھائی ہوئی تھیں اور ساتھ کھڑی دوسری لڑکی نے بھی کچھ پینٹنگز تھام رکھی تھیں۔
“میں جیکسن نہیں ہوں، اور ہاں، کوئی بھی لڑکی کسی لڑکے کا راستہ روکے تو اس سے بچ کر بھاگ نکلو، ورنہ وہ آپ کو گھما دے گا۔”
جیکسن نے بات مکمل کرکے جانا ہی چاہا کہ پینٹنگز تھامے جولی راستے میں آ گئی۔
“یہ ڈائیلاگ ‘تکونِ لاء’ فلم کا ہے، جو آسٹریلیا میں بنائی گئی تھی، اور آپ ہیرو تھے اس میں، جیکسن الیگزینڈر۔”
جولی نے مسکراتے ہوئے آبرو اچکائی۔
جولی کی اتنی باریک بینی سے بیان کرنے پر وہ حیران ہوا تھا۔ اتنا دماغ تیز ہے اس کا، وہ دل میں سوچ سکا۔
لیانا خاموشی سے کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔ وہ جولی کو آنکھیں بھی دکھا رہی تھی، جو اس کے آگے ہٹنے کا نام بھی نہیں لے رہی تھی۔
وہ جس جگہ کھڑے ہوئے تھے، وہ چرچ کے سامنے سڑک پار کرکے دوسرے کنارے پر بنی پھولوں کی دکان کے سامنے تھی۔
“جس طرح تم یہ مووی دیکھ کر ڈائیلاگ بول رہی ہو، اسی طرح میں نے بھی یہ دیکھ کر یاد کیا ہوا تھا اور بول دیا۔”
اس نے بات مکمل کی تو کال بج اٹھی۔ اس نے موبائل پر نام پڑھا تو “جون کالنگ” لکھا آ رہا تھا۔
اس نے کال ریسیو کی اور ایک نظر ان دونوں پر ڈالتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
******
اس کے جانے کے بعد لیانا، جو کب سے ان کی باتیں سن رہی تھی، اس نے جولی کو چٹکی کاٹی اور غصے سے بولی:
“یہ سب کیا تھا، جولی؟ اس طرح سے کسی کا راستہ روک لینا اچھی بات نہیں ہے۔”
اسے سمجھاتی ہوئی وہ اسے ساتھ کھینچ کر چل پڑی۔
“یار، اتنے زور سے کون کاٹتا ہے چٹکی؟ اور وہ کوئی نہیں تھا۔ وہ جیکسن الیگزینڈر ہے، میرا خوابوں کا ہیرو۔”
جولی نے باور کرایا۔
“وہ کہہ تو رہا تھا کہ وہ نہیں تھا۔ تم پھر بھی اسے سمجھ بیٹھی ہیرو۔”
آخری الفاظ اس نے نقل اتارتے ہوئے کہے تھے۔
“وہ تھا، میرا دل کہتا ہے۔ اور تم زیادہ دھیان نہ دو اس پر، آئی سمجھ۔”
اس نے لیانا کو گھورتے ہوئے کہا۔
وہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہی تھیں۔ رش بڑھتا جا رہا تھا، لیکن آسمان پر چھاتے بادل دن کو رات کا سماں دے رہے تھے۔
“میں ایسے ہیرو پر دھیان دیتی ہی نہیں جو خود کو کیا سمجھتے ہیں۔”
اس نے ناک سکیڑتے ہوئے کہا۔
“نہ ہی دو تو بہتر ہے اور اپنے کام پر دھیان دو بس۔”
جولی نے بھی بات برائے بات ترخ انداز میں جواب دیا۔
“ویسے تمہیں کیوں لگا وہ جیکسن ہے؟”
“کیونکہ ایڈنبرا جیسے چھوٹے ملک میں کسی کو پا کر کھو دینے کے بعد اسے دوبارہ پا لینا آسان ہے۔”
“اچھا، تم نے پہلے پایا، پھر کھویا اور اب دوبارہ پا لیا؟ مطلب؟”
وہ نہ جانے کیا جاننا چاہ رہی تھی۔
جولی کی آنکھوں کے سامنے کئی سال پہلے کا منظر گھوم گیا، لیکن اس نے دوبارہ اپنے تاثرات چھپا کر خود کو نارمل کر لیا اور بات کو ٹالتے ہوئے کہا:
“ابھی تک تو نہیں، لیکن آگے ضرور پا لوں گی۔”
اس نے عزم سے کہا۔
“لیکن تم نے تو۔۔۔”
جولی نے اس کی بات کاٹ دی۔
“بس، کچھ نہیں۔ ویسے ہی بول دیا۔ مووی کا ڈائیلاگ تھا یہ بھی۔ اب چلو، صبح سے نکلے ہوئے ہیں، دیر ہو رہی ہے۔”
کہتے ساتھ ہی وہ آگے بڑھ گئی۔ لیانا بھی تیز قدموں سے چلتے ہوئے اس کے پاس پہنچ گئی۔
لیانا نے اسے دیکھا جو مسکرا رہی تھی۔ لیانا نے بے ساختہ اس کی دعا کی قبولیت کے لیے خداوند سے دعا کی۔
جبکہ جولی جیکسن کو پانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔
تقدیر سے بے خبر، وہ اپنے لیے اور کئی لوگوں کے لیے بہت کچھ بدل دینے والی تھی۔ اپنی خواہش کی خاطر۔
******
عشاء قبرستان سے نکلی تو باہر کھڑی کار تک جیسے ہی پہنچی، سامنے سڑک پر سیاہ کار میں ایک لڑکے کو لڑکی سے لڑتے ہوئے دیکھا۔ لڑکی اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
لڑکا اس سے اپنا دامن چھڑاتا کار میں بیٹھا اور چلا گیا، جبکہ وہ لڑکی سڑک پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگی۔
عشاء نے افسوس کے ساتھ سر ہلایا اور کار کا دروازہ بند کرکے اس کی جانب بڑھی۔ اس کے پاس آتے ہی رک گئی۔
لڑکی نے روتے روتے سر اٹھایا تو عشاء اس کے ساتھ کھڑی تھی، اس کی جانب ہاتھ بڑھائے ہوئے۔
“تھام لو ہاتھ اور کھڑی ہو جاؤ۔”
لڑکی نے تردد کے ساتھ اس کا ہاتھ تھام لیا اور کھڑی ہو گئی۔
عشاء نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سامنے درخت کے نیچے پڑے پتھر پر بیٹھنے کو کہا اور خود بھی بیٹھ گئی۔
قبرستان کے سامنے، سڑک کے دوسرے کنارے پر، وہ دونوں درخت کے نیچے پتھر پر بیٹھی تھیں۔
“میں یہ نہیں پوچھوں گی کہ کیا ہوا، لیکن میں تمہیں کچھ بتاؤں گی۔”
عشاء نے اس پر نظر ڈالی جو رو رہی تھی۔
“لیکن میں بتانا چاہتی ہوں۔”
آنسوؤں سے تر چہرے اور گیلی، زکام زدہ سی آواز میں وہ بولی۔
“بتا دو، دل ہلکا ہو جائے گا۔”
“میں اس سے محبت کرتی ہوں، خود سے بھی زیادہ۔ اور اس کے علاوہ کسی کے بارے میں سوچا بھی نہیں۔ وہ میرا سب کچھ ہے۔ وہ بہت پیارا ہے، چاند سا چہرہ ہے اس کا۔ مجھے وہ بہت پیارا ہے، بہت۔ لیکن۔۔۔”
وہ بولتے بولتے رونے لگی۔
عشاء نے اس کے بولنے کا انتظار کیا۔
“لیکن اس نے مجھے ٹھکرا دیا، یہ کہہ کر کہ یہ سب فضول باتیں ہیں اور میں انہیں چھوڑ کر اپنے کیریئر پر فوکس کروں۔ اس کی بہت منتیں کیں، لیکن اس نے مجھے ٹھکرا دیا۔”
وہ رو رہی تھی۔
عشاء نے اسے رونے دیا تاکہ وہ دل کا بوجھ ہلکا کر لے، پھر جو وہ بولے گی اسے سن سکے۔
کچھ دیر بعد، جب وہ رو چکی تو عشاء نے بات شروع کی۔
“پہلے یہ بتاؤ، نام کیا ہے تمہارا؟”
“بیلا یوسف۔”
“بیلا، پیارا نام ہے۔”
عشاء نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
بیلا نے اس کی جانب چہرہ کیا، جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“یہ بتاؤ بیلا کہ تم نے کیا پڑھ رکھا ہے؟”
“لاء۔”
ایک لفظی جواب دیا گیا۔
“ہممم، لاء۔ یہ تو اچھی بات ہے۔ لیکن تم نے لاء پڑھ کر بھی اپنے لیے اسٹینڈ نہیں لیا۔”
“کیا مطلب؟ وہ کیسے؟”
بیلا نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“وہ ایسے، پیاری بیلا، کہ تم خود ہی خود کو تکلیف دے رہی ہو۔ جب ایک انسان آپ میں دلچسپی نہیں رکھتا تو آپ اس کے پیچھے خود کو بے مول کیوں کر رہی ہو؟”
“وہ مجھ سے محبت کرتا ہے، میں اسے جانتی ہوں۔ وہ میرے میسیجز پڑھتا ہے اور میرے نمبر کو بلاک نہیں کیا اس نے۔”
اس نے وضاحت دی۔
عشاء ہلکی سی مسکرائی، یوں کہ بیلا کو برا نہ لگے۔ پھر اس نے بیلا کو دیکھتے ہوئے کہا:
“بیلا، یہ سب باتیں نارمل ہیں۔ اگر ایک انسان آپ کے میسیجز پڑھ رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ اگر اس نے آپ کا نمبر بلاک نہیں کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ آپ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ اس نے نمبر بلاک نہ کرکے اور میسیجز پڑھ کر جواب نہیں دیا تو وہ اس سب سے بتانا چاہتا ہے کہ آپ اسے چھوڑ دو، نہیں تو اسی طرح بے مول ہوتی رہو گی۔”
“مگر۔۔۔”
“مگر چھوڑو اور میری بات سنو۔ دیکھو بیلا، تم یک طرفہ محبت میں مبتلا ہو، جو انسان کو کچھ نہیں دیتی سوائے ذہنی اذیت اور تکلیف کے۔ یہ انسان کو ذہنی طور پر بیمار کر دیتی ہے اور یہ بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔
اس لیے تم چاہے جو بھی کرو، جو تمہارا ہوگا تمہیں مل جائے گا۔ جو نہیں ہے، نہیں ملے گا۔ سو تم صرف خود پر توجہ دو اور یہ سب چھوڑو۔
ابھی بہت کچھ زندگی میں ہے جو تم نے دیکھنا اور اس سے سیکھنا ہے۔ اس لیے اس کے پیچھے جانے کے بجائے خود کو اتنا مضبوط بناؤ کہ لوگ تمہارے پیچھے آئیں اور تمہیں حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔”
اس نے بات مکمل کرکے بیلا کو دیکھا، جو جھکے سر کے ساتھ زمین کو گھورتی ناخن چبا رہی تھی۔
عشاء نے گھڑی پر وقت دیکھا۔ دس بجنے والے تھے۔ اسے انسٹیٹیوٹ بھی جانا تھا۔
وہ اٹھ کھڑی ہوئی، البتہ بیلا نے اسے نہیں دیکھا۔
“اوکے، میں چلتی ہوں۔ خیال رکھنا۔”
وہ کہتے ہی آگے کار کی طرف جانے لگی تو پیچھے سے بیلا کی آواز آئی
“آپ کی باتوں پر عمل کروں گی۔ لیکن یقین سے نہیں کہہ سکتی، کوشش کروں گی۔”
عشاء نے اس کی بات سنی اور کار کی طرف چلی گئی۔
وہ جانتی تھی، یک طرفہ محبت کا آسیب اسے اتنی جلدی نہیں چھوڑے گا۔ کافی وقت لگے گا، لیکن وہ سمجھ جائے گی۔
******
یہ ایک پرانا سا بار تھا، جہاں ایک طرف کاٹھ کباڑ اور دوسری طرف چار کرسیاں اور ایک چھوٹی گول میز رکھی ہوئی تھی، جس پر اس وقت دو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔
اندھیرا ہونے اور صرف ایک لیمپ جلنے کی وجہ سے ان کے چہرے واضح نظر نہیں آ رہے تھے۔ صرف باتیں سنائی دے رہی تھیں۔
“دیکھیے، الیگزینڈر صاحب، ہر کام کا ایک معاوضہ ہوتا ہے اور معاوضہ ملتے ہی کام شروع ہوتا ہے۔ نہیں تو کام مفت میں نہیں ہوا کرتا۔”
اس آدمی کی پشت ان کی طرف تھی، اس لیے اس کا چہرہ واضح دکھائی نہیں دیا۔
“مل جائے گا تمہیں تمہارا معاوضہ۔ تم جلدی سے کام شروع کرو۔ جو کہا ہے، زیادہ باتیں نہ بناؤ۔”
الیگزینڈر صاحب غصے سے بولے۔
“کام شروع ہو چکا ہے، لیکن آپ کے اس کام کی وجہ سے میں پھنس چکا ہوں۔ وہ انسٹیٹیوٹ کی اونر عشاء مجھے نہیں چھوڑے گی۔ وہ بہت الٹے دماغ کی لڑکی ہے۔”
اس نے جھنجھلا کر کہا۔
“تم اسے خود پر شک کرنے کا موقع مت دو اور اس کا یقین جیتو۔ ساتھ میں اپنے کام پر توجہ دو۔”
“الیگزینڈر صاحب، وہ تو ہو ہی جائے گا، لیکن ایک بات مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آپ کی اس عشاء سے کیا دشمنی ہے؟”
“میری اس سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ جس سے ہے، اس سے عشاء کا گہرا تعلق ہے اور شاید وہ اس کی کمزوری ہے، یہ عشاء۔ مجھے اسے گرانے کے لیے عشاء کو مہرہ بنا کر استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ اور میں اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے کچھ بھی کروں گا۔ کچھ بھی۔”
الیگزینڈر صاحب کی آنکھوں میں نفرت کی چمک تھی۔
“عشاء ہاشمی، وہ اتنی آسانی سے ہاتھ نہیں آئے گی۔ وہ لڑکی بہت چالاک ہے، بہت زیادہ۔ اس کی نظروں میں ایک بار کچھ کھٹک جائے تو جان کر دم لیتی ہے۔”
“تم یہ سب چھوڑو، براق، اور بس کام پر توجہ دو۔ اگلا لائحہ عمل جلد شروع کرنا ہوگا، ورنہ دشمن ہمیں کمزور سمجھ لے گا۔ اور میں یہ بالکل نہیں چاہتا کہ وہ ہمیں کمزور سمجھے۔”
انہوں نے اگلے لائحہ عمل پر عمل کرنے کا کہا۔
براق نے سر ہلا دیا۔
وہ پچھلے دو دنوں سے انسٹیٹیوٹ نہیں جا سکا تھا اور کل جانا تھا۔ عشاء یقیناً اسے اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گی۔ کچھ تو کرنا پڑے گا۔
وہ دل میں سوچ سکا۔
بار میں بیٹھے وہ دو لوگ بہت سی زندگیوں میں انقلاب لانے والے تھے۔
بار میں پھیلا اندھیرا اور شراب کی بو ماحول کو مزید پراسرار بنا رہی تھی۔ کالے کاموں کے لیے بنا وہ بار ملاقاتوں اور منصوبوں کو پورا کرنے کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔
*******
جیکسن کے چہرے پر بیزاری واضح تھی، جیسے اسے زبردستی یہاں لا کر بٹھا دیا گیا ہو۔
“تم یہ سب کیوں چھوڑنا چاہتے ہو؟”
“میں نے اپنی زندگی کے کئی سال اس کام کو دیے ہیں، لیکن اب بس۔ اب مجھے صرف اپنے لیے جینا ہے اور یہ سب مجھے اب نہیں پسند، بس۔”
“صرف اسی وجہ سے تم یہ سب ٹھکرا دینا چاہتے ہو؟”
عصر کے لہجے میں حیرانگی واضح تھی۔
“کیا مطلب؟ اسی وجہ سے میں نے ہمیشہ وہ کیا جو دوسروں نے کہا، لیکن اب وہ کرنا ہے جو میں چاہتا ہوں اور جس میں میری مرضی ہو۔”
اس نے صاف انداز میں جواب دے کر بات ختم کر دی۔
“تم یہ سب ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔ تم جانتے ہو کہ تم معاہدے پر ہو اور جب تک تمہارے یہاں دس سال نہیں ہو جاتے، کہیں پر نہیں جا سکتے۔”
وہ کوشش کر رہی تھی کہ جیکسن رک جائے۔
“معاہدے میرے نزدیک اہمیت نہیں رکھتے اور کوئی بھی مجھے مجبور نہیں کر سکتا۔ اور یہاں تک کہ آپ کو میرے چہرے سے پیسے مل رہے ہیں۔ ویوز، ٹی آر پی، ریٹ۔۔۔ وہ سب آپ کو نہیں مل پائیں گے اور آپ کی سلطنت صرف ایک خالی ڈھانچہ ہوگی۔”
وہ کہتے ساتھ ہی اٹھا اور عصر کے چہرے کی طرف دیکھا، جو سرخ ہو رہا تھا۔
لیکن وہ ضبط کیے ڈھیٹ انداز میں مسکرا دی۔
وہ باہر نکلا تو عصر کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ اس نے زور سے مٹھی میز پر ماری۔
“تمہیں میں چھوڑوں گی نہیں، اتنی آسانی سے، جیکسن۔”
********
جیکسن عصر کے آفس سے نکل کر سیدھا شوٹنگ روم آیا، جہاں پر سب کچھ تیار تھا اور رینا ہیروئن بیٹھی جیکسن کا انتظار کر رہی تھی۔
پروڈیوسر اور کاسٹنگ موجود تھی۔
آخری تین قسطوں کے سین رہتے تھے۔ وہی شوٹ ہونے تھے۔
“آؤ یار، تمہارا ہی انتظار ہو رہا ہے۔ بس یہ کچھ سین ہیں کرنے ہیں، پھر یہ سیریل ختم ہو جائے گا۔ جلدی سے تیار ہو جاؤ، پھر شروع کرتے ہیں۔”
پروڈیوسر نے ہدایات دیتے ہوئے کہا۔
“نو، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔ اور جلدی سے یہ سب ختم کرو، پھر مجھے کہیں اور جانا ہے۔”
وہ بے زار نظر آ رہا تھا۔
رینا نے ٹاپ اور جینز پہن رکھی تھی، سین کی ڈیمانڈ کے مطابق۔
وہ جیکسن کو دیکھتے ہی اس کے پاس آئی، لیکن اس نے رینا کو نظر انداز کر دیا۔
رینا کو خود کو نظر انداز کیا جانا پسند نہیں آیا۔
وہ دونوں پروڈیوسر کے کہنے پر چلتے ہوئے اسٹیج پر گئے۔
اتنے میں عصر ہاشمی اندر داخل ہوئی۔ اس نے سب کی جانب نظریں گھمائیں، مسکرا کر دیکھا، کرسی پر بیٹھی اور انگلی کے اشارے سے شروع کرنے کا کہا۔
“کٹ!”
“میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی، رومیو۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔”
“تمہیں رہنا ہوگا میرے بغیر، روسا۔ اب ہم ساتھ نہیں رہ سکتے۔”
روما بار بار اس کے قریب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔
عصر ہاشمی کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے لاسٹ وقت میں یہ سین تبدیل کروائے تھے۔
“مجھے دیکھو! دیکھتے ہی نہیں میری طرف۔”
رینا کے جذبات ابھر رہے تھے۔ وہ خود پر قابو کھو رہی تھی۔
“میڈم، یہ سب سین کا حصہ نہیں ہے۔ یہ تو۔۔۔”
پروڈیوسر نے آگے کہنا چاہا، لیکن عصر نے انگلی کے اشارے سے روک دیا۔
پروڈیوسر خاموش ہو گیا۔
“مجھے تمہارے ساتھ نہیں رہنا اور تم کسی اور کو دیکھ لو۔”
وہ دونوں ایک خوب صورت سی رات کے وقت بنائی گئی ڈیٹ پر تھے۔
“کیوں کسی اور کو دیکھوں؟ تم جو ہو۔”
روسا چلتی ہوئی آئی اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتی، جیکسن نے خود ہی اسے دھکا دے دیا۔
وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور گر گئی۔
پورے سیٹ پر خاموشی چھا گئی۔ سانپ سونگھ جانے جیسی۔
لائٹس آن ہو گئیں۔
جیکسن نے غصے سے نیچے بے یقینی سے دیکھتی رینا کو دیکھا اور پھر عصر کی طرف دیکھا۔
اس کی مسکراہٹ دیکھ کر جیکسن کو اور زیادہ غصہ آیا اور وہ پاؤں پٹختا ہوا شوٹنگ روم سے نکلتا چلا گیا۔
پروڈیوسر نے روکنے کی کوشش کی، لیکن وہ نہیں رکا۔
پیچھے عصر نے رینا کو دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں اور عصر نے “چچ چچ” کرتے ہوئے سر دائیں بائیں ہلایا۔
پھر وہ بھی چلی گئی۔
رینا کی یوں سب کے سامنے بے عزتی ہوئی تھی۔ جس شخص سے وہ محبت کرتی تھی، اسی سے ہوئی تھی، تو وہ سیٹ پر گری پڑی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
پروڈیوسر بھاگتا ہوا اس کے پاس بیٹھ کر اسے خاموش کروانے لگا، لیکن دل ٹوٹ گیا تھا تو اتنی آسانی سے کیسے بھرتا۔
******
ادیب ہاشمی اور توصیف ہاشمی دونوں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے مالک تھے۔
وسیع و عریض رقبے پر پھیلی قدیم سی یونیورسٹی لاکھوں طلبہ سے بھری ہوئی تھی۔
سمنان اور میرب بھی یونیورسٹی میں پروفیسرز کا کردار ادا کر رہے تھے۔
آج ویک اینڈ تھا، تو وہ چاروں یونیورسٹی کے میٹنگ روم میں موجود گفتگو کر رہے تھے۔
“ڈیڈ، اس بار عشاء نے فنڈ کی رقم نہیں بھجوائی۔”
سمنان نے اپنے والد توصیف ہاشمی کو بتایا، جو فائل دیکھ رہے تھے۔
“عشاء نے نہیں بھجوایا؟ یہ ہو نہیں سکتا۔ وہ ہمیشہ پہلے یونیورسٹی کے لیے فنڈ بھجواتی ہے۔”
ادیب ہاشمی نے حیران ہوتے ہوئے کہا۔
“نہیں، تایا ابو، اس نے اس بار نہیں بھجوایا۔”
سمنان نے بتایا۔
“ویسے ماموں جان، پتے کی بات ہے۔ وہ اب پہلی جیسی نہیں رہی۔ وہ بس اب خود غرض سی ہو گئی ہے۔ بہت بدل گئی ہے۔”
میرب نے طنزیہ انداز میں بولتے ہوئے کہا۔
“یہ سب چھوڑو اور اس بار جن طلبہ کو اسکالرشپ پر ایڈمیشن دینا ہے، ان کی لسٹ چیک کر لی تھی؟”
ادیب ہاشمی نے عینک لگاتے ہوئے توصیف ہاشمی کو دیکھا۔
“جی، سب چیک کر لیا ہے اور جن کمپنیز کی طرف سے رقم آتی ہے، سب نے بھجوا دی اور دیان نے بھی بھجوا دی ہے۔”
“اچھا۔۔۔ صحیح ہے۔ لیکن اس بار اسکالرشپ کے لیے اصول مختلف ہوں گے۔ اس بار اسکالرشپ نئے انداز سے دیں گے۔”
ادیب ہاشمی نے سب کو بتاتے ہوئے کہا۔
“وہ تو ٹھیک ہے، لیکن ان طلبہ کا کیا جو دوسرے ملک سے آتے ہیں، فیس افورڈ نہیں کر سکتے اور وہ ان اصولوں پر عمل نہ کر سکے تو۔۔۔؟”
توصیف ہاشمی نے سب پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا۔
“یہ تو ان پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہمیں جلد ہی اس پر کام شروع کرنا ہوگا۔”
“جی، ٹھیک ہے۔”
“اور سمنان، تم اور میرب مل کر لسٹ چیک کر لو اور پھر مجھے سینڈ کر دینا، میں دیکھ لوں گا۔ باقی کچھ پروفیسرز کو بھی ہائر کرنا ہوگا۔ طلبہ کی لاکھوں میں تعداد ہے تو ان کو اچھا ماحول اور اچھے پروفیسرز کی ضرورت ہوگی۔”
ادیب ہاشمی ایک کے بعد ایک مسئلہ سامنے رکھتے جا رہے تھے۔
“جی، ہم دیکھ لیں گے، پھر آپ کو بتا دیں گے۔”
سمنان اور میرب دونوں نے ایک ساتھ سر ہلایا۔
وہ اب اگلے فیصلے کر رہے تھے، جو اس قدیم یونیورسٹی کے لیے اہم تھے۔
*******
ہاشمی ولا
لاؤنج میں موجود دونوں عورتیں باتوں میں مصروف تھیں۔
گل مہر ہاشمی اور ان کی ماڈرن دوست ٹینا۔
میز پر طرح طرح کے لوازمات پڑے تھے۔ ہر طرح کے کھانے اور مشروبات۔
وہ دونوں باتوں میں مصروف چائے کے کپ تھامے ہوئے تھیں۔
“تم نے عشاء سے بات کی، مہر؟”
ٹینا بیگم نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔
“ابھی تو نہیں کی، لیکن جلد ہی کروں گی۔”
“کب کرو گی؟ جب دیر ہو جائے گی؟”
“نہیں ٹینا، وہ عشاء مصروف ہے۔ جیسے ہی وقت ملتا ہے، بات کر لوں گی۔”
گل مہر نے چائے کا سپ لیتے ہوئے کہا۔ اس کے اندر بہت کچھ ہلچل مچا ہوا تھا۔
لاؤنج میں بیٹھی وہ دونوں باتوں میں مصروف تھیں۔ کبھی کبھار نظر باہر کے موسم پر بھی ڈال لیتیں، جہاں بادل چھاتے جا رہے تھے۔
“جلد ہی اس سے بات کرو، پھر مجھے بتانا۔ میں پھر ان سے بات کروں گی۔”
چائے کا خالی کپ واپس میز پر رکھتے ہوئے ٹینا نے کہا۔
“ضرور کروں گی۔ ویسے عشاء اتنی آسانی سے مانے گی نہیں۔ اسے جانتی ہوں، وہ بہت ضدی ہے۔”
گل مہر کے لہجے میں اب بھی ڈر تھا کہ وہ غصہ نہ ہو جائے۔
“ویسے عصر سے چھوٹی ہے، پھر پہلے تم عصر کی کرتی، لیکن تم عشاء کی کرنا چاہتی ہو، ایسا کیوں؟”
ٹینا بیگم نے اچنبھے سے سوال پوچھا۔
“وہ اس لیے کہ عشاء کسی اور کی منگ تھی۔ لیکن اب جو ہو رہا ہے تو میں چاہتی ہوں یہ لڑکی جلد ہی اپنے گھر کی ہو جائے اور ایک ڈر جو ہے، وہ ہمارے سر سے ہٹے۔”
انہوں نے لفظوں میں بیان کرکے اپنی پریشانی کی بات ختم کردی۔
“چلو، یہ بھی اچھا ہے۔ اور ویسے تم اس سے بات کرو، میں پھر ان کو بلاؤں گی۔”
ٹینا بیگم نے باہر جھولے پر نظر ڈالی، جو چنبیلی کے درختوں کے بیچ لٹکا ہوا تھا۔
گل مہر اب پارٹی کی معلومات لے رہی تھی، جو ان لوگوں نے گریس کے گھر منعقد کی تھی۔
ان کا ارادہ وہاں جانے کا تھا۔
*******
ڈین ولیج گاؤں
جولی لیانا کے ساتھ ہی اس کے ڈین ولیج گاؤں میں کرائے کی جگہ پر آ گئی تھی، جہاں وہ رہتی تھی۔
وہ دونوں کمرے میں پینٹنگز رکھ کر اب بستر پر آڑی ترچھی لیٹی ہوئی چھت کو گھور رہی تھیں۔
“لیانا، ابھی جو لڑکا تمہیں آپیا کہہ کر بلا رہا تھا، کون ہے وہ؟”
“وہ لڑکا میڈی ہے۔ اسی گھر میں رہتا ہے، لونا آپا کا بیٹا۔ بڑا پیارا لڑکا ہے، سب کام کر دیتا ہے۔”
لیانا کے لہجے میں بہن جیسا پیار تھا۔
“وہ تو دیکھا ہے، کیسے ہمیں پینٹنگز تھامے دیکھ کر بھاگا بھاگا آیا اور لے کر تمہارے کمرے میں لے آیا۔”
جولی کی آنکھوں کے آگے چند لمحے پہلے کا منظر گھوم گیا۔
جولی نے کروٹ لی، کہنی سر کے نیچے رکھی اور لیانا کی طرف رخ کرکے بولی:
“یہ دونوں اکیلے رہتے ہیں، لیا؟”
“نہیں، پہلے تو ان کے ساتھ میڈی کے والد بھی تھے۔ لیکن ان کو کینسر تھا تو وہ سروائیو نہیں کر سکے اور مر گئے۔ پھر میڈی نے تعلیم چھوڑ کر پھولوں کے اسٹال پر کھڑا ہونا شروع کردیا۔ اس کے علاوہ اور بھی ساتھ کام کرتا رہتا ہے، جس سے ان کا گزارہ ہو جاتا ہے اور ان کو فلاحی ادارے والوں سے سامان بھی ملتا ہے۔
لیکن اب کچھ عرصے سے یہاں پر بہت زیادہ لوٹ مار ہو رہی ہے۔ جو سامان ملتا ہے وہ سارا چور چھین کر لے جاتے ہیں۔”
لیانا نے تفصیل بتاتے ہوئے وضاحت کی۔
“اوہ۔”
جولی کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔ اسے واقعی افسوس ہوا تھا یہ سب جان کر۔
“پھر یہ کسی کو بتاتے کیوں نہیں کہ ان کے ساتھ سب کچھ ہو رہا ہے؟”
“بتایا ہے۔ میڈی نے فلاحی ادارے والوں کے کسی بندے کو بتایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ دیکھ لیں گے۔”
“چلو، وہ ان کو پکڑ لیں تو ٹھیک ہے، نہیں تو غریبوں کا بڑا حال ہو جائے گا۔”
جولی کے چہرے پر دکھ تھا۔
“یہ پینٹنگز اتنی ساری کون اٹھا کر لے جائے گا انسٹیٹیوٹ؟”
لیانا تو انہیں دیکھ کر سر چکرا رہا تھا۔
“میں کیا بات کر رہی ہوں اور تمہیں پروفیسر گریگر کی یہ سزا یاد آ گئی؟ ویسے حد ہے، اتنی ساری پینٹنگز بنانے کی سزا دے دی۔ کون کرتا ہے ایسے؟”
جولی کو تو غصہ آ رہا تھا۔
“پروفیسر گریگر یہ سب کرتے ہیں اور تم اس سب کو اٹھانا، مجھ میں ہمت نہیں ہے۔”
لیانا نے سر تکیے پر گرا دیا۔
“اٹھا لوں گی۔ میرے بازوؤں میں بہت طاقت ہے۔”
اسے اپنے بازوؤں پر بڑا ناز تھا۔
“اچھا، اچھا۔۔۔”
لیانا نے پچکارتے ہوئے کہا۔
باہر سے پانی بہنے کی آواز آ رہی تھی۔
ٹھنڈ کے باعث موسم جو پہلے ہی سرد تھا، وہ بارش سے مزید سرد ہونے والا تھا۔
********
جیکسن اور جون کار میں بیٹھے ہوئے اسٹوڈیو سے نکل آئے تھے۔
جیکسن کار تیز رفتاری سے ڈرائیو کر رہا تھا۔ جون کے تو چھکے چھوٹے ہوئے تھے۔
“آہستہ چلا گاڑی! مارے گا کیا؟”
جون نے ڈرتے ہوئے کہا۔
“چپ کر کے بیٹھ، نہیں مرتا۔”
جیکسن نے جھڑک دیا۔
وہ سامنے دیکھتے ہوئے کار چلا رہا تھا۔ چہرے پر غصہ صاف نظر آ رہا تھا۔
“تجھے بڑا معلوم ہے، نہیں مرتا۔”
“اگر چپ نہ کرکے بیٹھا تو سچ میں ماروں گا۔”
جیکسن نے کار کی رفتار مزید تیز کردی۔
جون چپ کرکے بیٹھ گیا کہ کہیں جیکسن سچ میں نہ مار دے۔
اس کی آنکھیں بند تھیں۔ لب مسلسل خداوند کی مالا الاپ رہے تھے۔
کچھ دیر بعد اسے کار رکنے کا احساس ہوا تو اس نے آنکھیں کھولیں کہ سچ میں زندہ بھی ہوں یا مر گیا۔
لیکن یہ کیا؟
وہ زندہ تھا۔
جیکسن نے لمبے لمبے سانس فضا کے سپرد کیے اور اسٹیئرنگ پر ہاتھ ڈھیلے چھوڑ دیے۔ خود کو کمپوز کیا اور پھر کار کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔
ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑے اس کے چہرے سے ٹکرائے تو اس کے اندر تک سکون پھیل گیا۔
“اندر بیٹھو اور چلو۔ دیر ہو رہی ہے۔ معلوم نہیں کہاں لے آئے ہو، سنسان جگہ پر۔”
جون نے کار کے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ لوگ بس اسٹینڈ کے پاس رکے ہوئے تھے۔
“تم چلے جاؤ اور پھر کچھ دیر تک آ جانا۔ میں آ جاؤں گا۔”
جیکسن مڑ کر شیشے پر جھکتے ہوئے بولا۔
“لیکن۔۔۔”
جون کچھ کہنا چاہتا تھا، لیکن جیکسن نے انگلی اٹھا کر روک دیا۔
“تم جاؤ، میں کچھ دیر تک تمہیں کال کرکے بلا لوں گا۔”
جیکسن نے کہہ کر پیچھے ہٹ گیا۔
جون نے کار کے اندر ہی بیٹھے بیٹھے جگہ تبدیل کی، اسٹیئرنگ پر ہاتھ رکھا، ایک نظر جیکسن پر ڈالی اور کار چلاتے ہوئے چلا گیا۔
جیکسن اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر چلتے ہوئے شیڈ کے نیچے رکھے بینچ پر بیٹھ گیا۔
اردگرد دیکھ کر موبائل نکالتے ہوئے اس پر لگ گیا۔
لیزا کا میسج آیا ہوا تھا:
“بھائی، کہاں ہو؟”
جیکسن اسے جواب دینے لگا۔
ٹھنڈی ہوا بارش سے پہلے آنے کی نوید سنا رہی تھی۔
********
جولی اولڈ ٹاؤن میں رہتی تھی۔
وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوئی تو اس کی نظر پورچ میں کھڑی سائیکل کی جگہ پر پڑی، جو موجود نہیں تھی۔
اس نے آس پاس دیکھتے ہوئے متلاشی نگاہوں سے ماں کو آواز دی، جو اندر سے بھاگتے ہوئے باہر آئی اور جولی کی طرف دیکھا۔
“جولی، کیا ہوا ہے؟”
“ماں، میری بلبل کدھر گئی؟”
وہ ماں کے سامنے کھڑی پوچھ رہی تھی۔
“بیٹا، وہ تو تیرا باپ لے گیا۔”
ماں نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
“کہاں لے گیا وہ؟”
اس نے بے تابی سے پوچھا۔
“وہ۔۔۔ وہ بیچنے لے گیا۔”
“کہاں بیچنے لے گیا؟”
جولی نے چیختے ہوئے کہا۔
“وہ چور بازار گیا ہے۔ اب تک تو بیچ چکا ہوگا۔”
جولی نے الفاظ جذب کیے اور پھر ماں کی طرف دیکھے بغیر مڑی اور بھاگتی ہوئی دروازے سے باہر نکل گئی۔
“رک جا جولو، میری بیٹی! بارش آنے والی ہے، مت جا۔”
لیکن وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے دیوانہ وار بھاگتی جا رہی تھی۔
******
حال میں واپس
عشاء ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں سے بے نیاز کھڑی جیکسن کی طرف دیکھ رہی تھی۔
جیکسن کی نظریں بھی اسی پر جمی ہوئی تھیں۔
دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔
عشاء نے وہ جملہ سالوں پہلے یونہی سنا تھا، اور اب سالوں بعد وہی جملہ۔
“آپ نے یہ جملہ پہلے کب کہا تھا؟”
عشاء اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلی۔ وہیں کھڑے کھڑے پوچھا۔
“کیا مطلب، کب کہا تھا؟ ابھی دل میں آیا تو کہہ دیا۔ اور آپ اتنے صدمے میں کیوں چلی گئیں؟”
جیکسن شیڈ کے نیچے سے نکل کر اس کے سامنے دو قدم کے فاصلے پر آ کھڑا ہوا۔
“میں صدمے میں نہیں گئی اور ویسے ہی پوچھ رہی تھی۔ دل میں آیا تو۔۔۔ اسی کا جملہ اسی پر الٹا دیا۔ “
وہ خود کو سرزنش کرتی خاموش ہو گئی۔
“میرے الفاظ کیوں چراتی ہیں؟”
“میں الفاظ چراتی نہیں، بلکہ ان کو سنوار کر نئے انداز میں پیش کرتی ہوں۔”
“لگتا تو نہیں، کیونکہ ابھی آپ نے میرے الفاظ چرائے تھے۔”
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، دور سے کسی گاڑی کی ہیڈ لائٹس روشن ہوتی نظر آئیں۔
اتنے میں وہ گاڑی ان کے پاس رکی اور براک، ڈرائیور، باہر نکلا تھا۔
عشاء اس کی لائی ہوئی گاڑی کی طرف بڑھی، البتہ اپنی کار کو لاک لگا دیا تھا۔
“یہ لو میری کار کی چابی اور میں جا رہی ہوں۔ آپ اس کو چیک کرا کے لے آئیے گا۔”
چابی براق کے حوالے کرتی وہ اس کی لائی ہوئی گاڑی میں بیٹھی اور جیکسن کی طرف دیکھا، جو کب سے نظر انداز ہوا کھڑا تھا۔
سیاہ اور سنہری آنکھیں ملی تھیں۔
ان آنکھوں سے نکلتی چمک فضا میں آپس میں ملی تھی۔
پھر عشاء کار اسٹارٹ کرتی وہاں سے چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعد جیکسن نے جون کو کال کردی اور اسے خود کو لے جانے کا کہہ دیا۔
ڈرائیور براق اب کار کا معائنہ کرتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
گہرے ہوتے سائے اور سردی کی شدت میں ہوتا اضافہ ہڈیوں کو جما رہا تھا۔
اسٹریٹ لائٹ کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
******
جہانزیب ہیڈ کوارٹرز
دیان پوری عمارت کا جائزہ لے کر، ورکرز کے کام چیک کرکے اب واپس آفس میں آیا تھا۔
فائل کھولے اس کے صفحات ایک کے بعد ایک پلٹ رہا تھا۔
مینوئل اور جوف دونوں اندر داخل ہوئے تھے۔
دیان نے ذرا سا انہیں دیکھا اور پھر فائل پر نظریں جھکا دیں۔
مینوئل اس کے سامنے کی کرسی پر بیٹھ گیا، جبکہ جوف کھڑا ہی رہا۔
“دیان، تم نے گریس صاحب کو دھوکا دیا۔ مجھے بالکل پسند نہیں آیا۔”
مینوئل کے لہجے میں مصنوعی دکھ تھا۔
“میں ابھی مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں، اس لیے چپ رہو، ورنہ نکل جاؤ باہر۔”
“تم مجھے نکالو گے، اپنے دوست کو؟”
مینوئل تو بے یقین سا تھا۔
“کام کے دوران دوست، بھائی، کچھ نہیں ہوتا۔ صرف باس اور ملازم کا رشتہ ہوتا ہے۔”
وہ اب فائل پر پین سے کچھ الفاظ انڈر لائن کر رہا تھا۔
مینوئل تو خود کو ملازم کہنے پر ہی صدمے میں چلا گیا۔
جوف ان کی نوک جھونک سنتا مسکرا رہا تھا۔
اتنے میں اس کے موبائل کی میسج ٹون بجی تو اس نے موبائل نکال کر لاک کھولا۔
کچھ تصاویر آئی ہوئی تھیں۔
اس نے ان پر کلک کیا اور تصویر کھل گئی۔
تصویر دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔
اس نے بے اختیار دیان کو اور پھر مینوئل کو دیکھا۔
ان دونوں میں سے کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔
وہ دیان کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا، لیکن عشاء میم سے جڑی ہر ایک بات دیان کے علم میں ہونا ضروری تھی۔
اس نے دیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
“باس، مجھے آپ کو کچھ دکھانا ہے۔”
موبائل ہاتھ میں تھام رکھا تھا۔
“بولو، جوف۔”
دیان نے فائل فولڈ کرکے رکھی اور جوف کی طرف دیکھا۔ مینوئل نے بھی اس کی جانب رخ کیا۔
“باس، میں آپ کو اسکرین پر کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔”
“کیا؟”
جوف بائیں جانب لگی ایل سی ڈی کی جانب بڑھا۔ اسے آن کیا، بٹن پریس کیا اور موبائل کو ساتھ کنیکٹ کیا۔
اس میں موجود تصویر کو کلک کیا اور لمحوں میں وہ تصویر اسکرین پر شو ہو رہی تھی۔
مینوئل اور دیان اسے سب کچھ کرتے دیکھتے رہے۔
ان کی سمجھ سے باہر تھا کہ جوف کر کیا رہا ہے۔
لیکن پھر وہ وہاں سے ہٹ کر ان کے پاس آ کھڑا ہوا۔
پھر دیان کی آنکھوں نے جو دیکھا، اس سے اس کے پورے جسم میں غصے کی سرد لہر دوڑ گئی۔
جوف روبوٹ کی طرح کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا، جبکہ مینوئل تو منہ کھولے دیکھ رہا تھا۔
اسکرین پر عشاء اور جیکسن کی تصویر تھی۔
وہی تصویر جو درخت کے نیچے کھڑے شخص نے لی تھی۔
عشاء اور اسے گرنے سے بچانے کے لیے ہاتھ تھامے کھڑا جیکسن۔
“جوف، یہ بند کرو ابھی۔”
مینوئل نے اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔
جوف اسکرین کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ دیان کی آواز آنے پر رک گیا۔
“رک جاؤ، جوف، اور خبردار جو یہ بند کی تو۔”
غصے سے پھنکارتی آواز آئی تو جوف وہیں رک گیا، جبکہ مینوئل تو اس کے غصے سے ہی سہم گیا۔
“جس ہاتھ کو تھامنے کے لیے میں سالوں سے تڑپ رہا ہوں، وہ چند لمحوں میں ہی کسی نے تھام لیا۔”
اس نے پانی کا گلاس ہاتھ میں اٹھا کر اتنے زور سے بھینچا کہ ہاتھ میں ٹوٹ گیا۔
کانچ کے ٹکڑے اس کے ہاتھ میں چبھ گئے۔
خون بھل بھل گرنے لگا۔
“دیان، یہ کیا کردیا؟”
مینوئل بھاگتا ہوا اٹھا اور اس کی جانب بڑھا، لیکن دیان نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
“تم دونوں نکل جاؤ اور جب تک میں نہ کہوں، نہیں آنا۔ جاؤ۔”
اس کی شدت بھری دھار پر وہ دونوں آفس سے باہر نکل گئے۔
اور وہ کرسی پر بیٹھا، زخمی ہاتھ کے ساتھ، اس تصویر میں موجود اس چہرے کو دیکھتا رہا۔
******
اگلی قسط
چند دنوں بعد
ہاشمی ولاء
عشاء ہاشمی انسٹیٹیوٹ آف آرٹ
جہانزیب ہیڈ کوارٹرز
ڈین ولیج گاؤں
چرچ St Mary’s Cathedral
Morningside Cemetery, Edinburgh قبرستان
Pizza Pilgrims, Edinburgh” پیزا شاپ
فریش فلاور شاپ ( جیکسن پھولوں کی دوکان پر کھڑے دوکاندار سے بات کرتے ہوئے)
مون لائٹ اسٹوڈیو ( عصر ہاشمی کی سلطنت)
دیان جہانزیب کا عالیشان گھر
” The sheep hide inn _ inside view “
جون اور جیکسن کی جگہ جہاں وہ اکثر ملا کرتے تھے ۔
( کچھ مصروفیات کی وجہ سے قسط لیٹ ہوگئ اور زیادہ دن لگا دیئے لیکن تھوڑی سی لکھ پائی آئندہ کوشش کروں گی ۔ کہ ایک ہفتے میں ہی دے دوں ۔ انشا ء اللہ)
